جلسہ سالانہ قادیان ۲۰۱۵ء

خطبہ جمعہ 25؍ دسمبر 2015ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

یہ دن قادیان میں جلسہ سالانہ کے دن ہیں۔ کل سے انشاء اللہ تعالیٰ قادیان کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے۔ اسی طرح آج آسٹریلیا کا جلسہ سالانہ بھی شروع ہو چکا ہو گا اور امریکہ کے ویسٹ کوسٹ کا جلسہ بھی شروع ہونے والا ہے۔ وقت کا فرق ہے اس لئے کچھ دیر بعد شاید شروع ہو۔ اور شاید بعض اور ملکوں میں بھی ان دنوں میں جلسے ہو رہے ہوں گے یا ہونے والے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام جلسوں کو ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے۔ اشرار کی شرارتوں اور ان کے شر سے محفوظ رکھے۔

قادیان کے جلسہ سالانہ کی خاص طور پر اس لحاظ سے بھی اہمیت ہے کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بستی میں ہو رہا ہے اور یہیں آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے اِذن پا کر جلسے شروع کروائے تھے۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مختلف خطابات اور خطبات میں جلسہ سالانہ کے حوالے سے ہمیں اس زمانے سے بھی آگاہی دی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا زمانہ تھا اور جماعت کی ابتدا تھی۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جلسوں کا نقشہ کھینچا ہے کہ شروع کے جلسے کیسے ہوتے تھے وہاں بعض الہامات کا بھی ذکر فرمایا کہ کس طرح بعض الہامات کو اللہ تعالیٰ نے ان دنوں میں پورا ہوتا دکھایا اور دکھا رہا ہے۔ بعض الہامات آئندہ زمانوں کے متعلق ہوں گے یا ایک دفعہ پورے ہو چکے اور دوبارہ بھی پورے ہوں گے۔ اِس وقت میں اِس حوالے سے حضرت مصلح موعود کے بعض حوالے پیش کرتا ہوں۔ ابتدائی جلسوں میں سے ایک کا ذکر فرماتے ہوئے حضرت مصلح موعوداپنے بچپن کا تاثر اور جماعت کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ یہ 1936ء کی بات ہے جب آپ فرما رہے ہیں کہ قریباً چالیس سال پہلے اس جگہ پر جہاں اب مدرسہ احمدیہ کے لڑکے پڑھتے ہیں (قادیان میں جو جگہ ہے) ایک ٹوٹی پھوٹی فصیل ہوا کرتی تھی۔ ایک فصیل تھی جس نے پورے قادیان کی آبادی کو گھیرا ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد کے زمانے میں قادیان کی حفاظت کے لئے وہ کچی فصیل بنی ہوئی تھی۔ وہ خاصی چوڑی تھی اور ایک گڈّا اس پر چل سکتا تھا (یعنی بیل گاڑی)۔ پھر انگریزی حکومت نے جب اسے تڑوا کر نیلام کر دیا تو اس کا کچھ ٹکڑا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مہمان خانہ بنانے کی نیت سے لے لیا۔ وہ ایک زمین لمبی سی چلی جاتی تھی۔ ایک لمبا ٹکڑا پلاٹ تھا۔ کہتے ہیں کہ مَیں نہیں کہہ سکتا کہ اس وقت 93ء تھا یا 94ء یا 95ء قریباً اسی قسم کا زمانہ تھا۔ یہی دسمبر کے دن تھے۔ یہی موسم تھا، یہی مہینہ تھا کچھ لوگ جو ابھی احمدی نہیں کہلاتے تھے کیونکہ ابھی احمدی نام سے جماعت یادنہیں کی جاتی تھی۔ (احمدی نام جو ہے یہ 1901ء میں رکھا گیا۔ اس سے پہلے احمدی کی باقاعدہ ایک نشانی نہیں تھی۔ احمدی کہلاتے تو نہیں تھے مگر یہی مقاصد اور یہی مدعا لے کر وہ قادیان میں جمع ہوئے۔ کہتے ہیں کہ مَیں نہیں کہہ سکتا آیا وہ ساری کارروائی اسی جگہ ہوئی یا کارروائی کا بعض حصہ اس جگہ ہوا (جہاں ذکر فرما رہے ہیں) اور بعض مسجد میں ہوا کیونکہ میری (حضرت مصلح موعود کی) عمر اس وقت سات آٹھ سال کی ہو گی۔ اس لئے میں زیادہ تفصیلی طور پر اس بات کو یادنہیں رکھ سکا۔ میں اس وقت اس اجتماع کی اہمیت کو نہیں سمجھتا تھا۔ مجھے اتنا یاد ہے کہ میں وہاں جمع ہونے والے لوگوں کے ارد گرد دوڑتا اور کھیلتا پھرتا تھا۔ میرے لئے اس زمانے کے لحاظ سے یہ اچھنبے کی بات تھی کہ کچھ لوگ جمع ہیں۔ اس فصیل پر ایک دری بچھی ہوئی تھی جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیٹھے ہوئے تھے اور ارد گرد دوست تھے جو جلسہ سالانہ کے اجتماع کے نام سے جمع تھے۔ (کہتے ہیں) ممکن ہے میرا حافظہ غلطی کرتا ہو اور دری ایک نہ ہو، دو ہوں لیکن جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ایک ہی دری تھی۔ اس ایک دری پر کچھ لوگ بیٹھے تھے۔ ڈیڑھ سو ہوں گے یا دو سو اور بچے ملا کر ان کی فہرست اڑھائی سو کی تعداد میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شائع بھی کی تھی۔ کہتے ہیں مَیں خیال کرتا ہوں کہ وہ ایک دری تھی یا دو دَریاں۔ بہرحال ان کے لئے اتنی ہی جگہ تھی جتنی اس جلسہ گاہ (جس پہ یہ ذکر فرما رہے ہیں اس) کے سٹیج کی جگہ ہے۔ (بلکہ آجکل ہمارے جلسوں کے سٹیج تو اور بھی بڑے ہوتے ہیں۔) کہتے ہیں مَیں نہیں کہہ سکتا کیوں؟ مگر مَیں اتنا جانتا ہوں کہ وہ دری تین جگہ بدلی گئی۔ (ایک جگہ سے اٹھائی، پھر دوسری جگہ سے، اور پھر تیسری جگہ سے۔) پہلے ایک جگہ بچھائی گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد وہاں سے اٹھا کر اسے کچھ دُور بچھایا گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہاں سے تبدیل کر کے ایک اور جگہ بچھایا گیا۔ اور پھر تیسری جگہ اس جگہ سے بھی اٹھا کر کچھ اور دور وہ بچھائی گئی۔ کہتے ہیں کہ اپنے بچپن کی عمر کے لحاظ سے مَیں نہیں سکتا کہ آیا ان جمع ہونے والوں کو لوگ روکتے تھے اور کہتے تھے کہ تمہارا حق نہیں کہ اس جگہ دری بچھاؤ یا کوئی اور وجہ تھی۔ بہرحال مجھے یاد ہے کہ دو تین دفعہ اس دری کی جگہ بدلی گئی۔‘‘ (ماخوذ ازجماعت احمدیہ کی عظیم الشان ترقی آستانہ رب العزت پر گریہ و بکا کرنے کا نتیجہ ہے… انوارالعلوم جلد14 صفحہ321تا323)

آج جو لوگ قادیان میں اس وقت جلسے کی غرض سے گئے ہوئے ہیں وہ شاید اس وقت کی حالت کا اندازہ نہ کر سکتے ہوں۔ اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک وسیع جلسہ گاہ میسر ہے جس کو پکی چار دیواری سے گھیرا گیا ہے اور اس میں بھی کوشش یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ سہولتیں مہیا ہوں۔ 1936ء میں جب حضرت مصلح موعود یہ فرما رہے ہیں اس کے بعد پارٹیشن تک مزید وسیع انتظام ہوتے گئے۔ قادیان پر بعد میں پارٹیشن کے وقت ایسا دور بھی آیا جب صرف دارالمسیح اور ارد گرد کے چند گھروں تک احمدی محدود ہو گئے بلکہ چند سو کے سوا سب کو ہجرت کرنی پڑی اور یہ جو چند ایک احمدی تھے وہ بھی بڑے کمزور تھے۔ لیکن آج پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے قادیان میں وسعت پیدا ہو رہی ہے اور وہاں جانے والے جو پہلی دفعہ گئے ہوں گے، نئی نسلیں ہیں، نوجوان ہیں یا باہر سے آئے ہوئے لوگ ہیں، اب صرف اس وسعت کو دیکھ رہے ہوں گے۔ لیکن تاریخ کے دریچے میں سے جھانک کر ہم دیکھیں تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش نظر آتی ہے۔ آج ربوہ کے رہنے والے بھی ان دنوں بے چین ہوں گے تو انہیں بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ انشاء اللہ تعالیٰ وہاں بھی حالات بدلیں گے اور رونقیں بھی قائم ہوں گی لیکن ربوہ کے رہنے والوں کو دعاؤں کی طرف توجہ دینی ہو گی۔ پاکستان میں رہنے والوں کو دعاؤں کی طرف توجہ دینی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَا تَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ (آل عمران: 140) اور کمزوری نہ دکھاؤ اور غم نہ کرو۔ یقینا تم ہی غالب آنے والے ہو جبکہ تم مومن ہو۔ شرط یہ لگائی جبکہ تم مومن ہو۔ پس ایمان میں زیادتی اور دعاؤں پر زور سے پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کر کے حالات بدلتے ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ اس بارے میں مزید فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جو وہاں جمع تھے (جن کو ایک جگہ سے دوسری جگہ اٹھایا جاتا تھا) اس نیت اور اس ارادے سے کہ اسلام دنیا میں نہایت ہی کمزور حالت میں کر دیا گیا ہے اور وہ ایک ہی نور جس کے بغیر دنیا میں روشنی نہیں ہو سکتی اسے بجھانے کے لئے لوگ اپنا پورا زور لگا رہے ہیں (یعنی اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو نور ہے۔) اسے وہ ظلمت اور تاریکی کے فرزند مٹادینا چاہتے ہیں۔ کہتے ہیں اس ایک ارب اور پچیس تیس کروڑ آدمیوں کی دنیا میں (اُس زمانے میں جو آبادی تھی) دو اڑھائی سو بالغ آدمی جن میں سے اکثر کے لباس غریبانہ تھے جن میں سے بہت ہی کم لوگ تھے جو ہندوستان کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی متوسط درجے کے کہلا سکیں جمع ہوئے تھے۔ اس ارادے سے اور اس نیت سے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا جسے دشمن سرنگوں کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہ اس جھنڈے کو سرنگوں نہیں ہونے دیں گے بلکہ اسے پکڑ کر سیدھا رکھیں گے اور اپنے آپ کو فنا کر دیں گے مگر اسے نیچا نہیں ہونے دیں گے۔ اس ایک ارب پچیس کروڑ آدمیوں کے سمندر کے مقابلے کے لئے دو اڑھائی سو کمزور آدمی اپنی قربانی پیش کرنے کے لئے آئے تھے۔ (اس وقت96۔ 1895ء میں) جن کے چہروں پر وہی کچھ لکھا ہو اتھا جو بدری صحابہ کے چہروں پر لکھا ہوا تھا۔ جیسا کہ بدر کے صحابہ نے حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! بیشک ہم کمزور ہیں اور دشمن طاقتور مگر وہ آپ تک نہیں پہنچ سکتا جبتک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔ ان کے چہرے بتا رہے تھے کہ وہ انسان نہیں بلکہ زندہ موتیں ہیں جو اپنے وجود سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور آپ کے دین کے قیام کے لئے ایک آخری جدو جہد کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ دیکھنے والے اُن پر ہنستے تھے۔ دیکھنے والے ان پر تمسخر کرتے تھے اور حیران تھے کہ یہ لوگ کیا کام کریں گے۔ (کہتے ہیں کہ) مَیں خیال کرتا ہوں کہ وہ ایک دری تھی یا دو دریاں۔ بہرحال ان کے لئے اتنی ہی جگہ تھی جتنی اس سٹیج کی جگہ ہے۔ مَیں نہیں کہہ سکتا کیوں مگر اتنا جانتا ہوں کہ وہ دری تین جگہ بدلی گئی (جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے)۔ حضرت یوسف کے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں جب یوسف مصر کے بازار میں بکنے کے لئے آئے تو ایک بڑھیا بھی دو رُوئی کے گالے لے کر پہنچی۔ (چھوٹے گولے لے کے) کہ شاید میں ہی ان گالوں سے یوسف کو خرید سکوں۔ دنیا دار لوگ اس واقعہ کو سنتے ہیں اور ہنستے ہیں۔ روحانی لوگ اسے سنتے ہیں اور روتے ہیں کیونکہ ان کے قلوب میں فوراً یہ جذبہ پیدا ہو جاتا ہے کہ جہاں کسی چیز کی قدر ہوتی ہے وہاں انسان دنیا کی ہنسی کی پرواہ نہیں کرتا۔ مگر مَیں کہتا ہوں یوسف تو ایک انسان تھا اور اس وقت تک یوسف کی قابلیتیں ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔ (چھوٹی عمر تھی) آخر اس کے بھائیوں نے نہایت ہی قلیل قیمت پر اسے فروخت کر دیا تھا۔ (یہ کہانی اگر سچی بھی مان لی جائے۔) ایسی حالت میں اگر بڑھیا کو یہ خیال آیا ہو کہ شاید روئی کے دو گالوں کے ذریعہ سے میں یوسف کو خرید سکوں تو یہ کوئی بعید بات نہیں۔ خصوصاً جب ہم اس بات کو مدّنظر رکھیں کہ جس ملک سے یہ قافلہ آیا تھا وہاں روئی نہیں ہوا کرتی تھی اور وہ مصر سے ہی روئی لے جایا کرتے تھے تو پھر تو یہ کوئی بھی بعید بات معلوم نہیں ہوتی کہ روئی کی قیمت اس وقت بہت بڑھی ہوئی ہو اور وہ بڑھیا واقعہ میں یہ سمجھتی ہو کہ روئی سے یوسف کو خریدا جا سکتا ہے۔ لیکن جس قیمت کو لے کر وہ لوگ جمع ہوئے تھے وہ یقینا ایسی ہی قلیل تھی (یعنی کہ اس وقت یہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گرد دو اڑھائی سو آدمی بیٹھے تھے۔ جس قیمت کو لے کر یہ لوگ جمع ہوئے تھے وہ یقینا ایسی ہی قلیل تھی) اور یہ یوسف کی خریداری کے واقعہ سے زیادہ نمایاں اور زیادہ واضح مثال اس عشق کی ہے۔ وہ اصل چیز کیا ہے؟ یہ عشق ہے۔ ) جو انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ (وہ بڑھیا تو یہ سمجھی تھی کہ اس کی یہی ’’میری قیمت‘‘ کافی ہے۔ لیکن یہاں ایک اور قیمت لگ رہی ہے جو عشق کی قیمت ہے جو عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے اور پھر یہ عشق) انسان سے ایسی ایسی قربانیاں کراتا ہے جن کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ وہ دو یا اڑھائی سو آدمی جو جمع ہوا ان کے دل سے نکلے ہوئے خون نے خدا تعالیٰ کے عرش کے سامنے فریاد کی۔ بیشک ان میں سے بہتوں کے ماں باپ زندہ ہوں گے، بیشک وہ خود اس وقت ماں باپ یا دادے ہوں گے مگر جب دنیا نے ان پر ہنسی کی، جب دنیا نے انہیں چھوڑ دیا، جب اپنوں اور پرایوں نے انہیں الگ کر دیا اور کہا کہ جاؤ اے مجنونو! ہم سے دُور ہو جاؤ۔ (جب انہوں نے احمدیت قبول کی تو ان کے باوجود بڑے ہونے کے، باپ ہونے کے، دادا ہونے کے، بچے ہونے کے، لوگوں نے ان کو گھروں سے نکال دیا کہ ہم سے دُور ہو جاؤ) تو وہ باوجود بڑے ہونے کے یتیم ہو گئے۔ کیونکہ یتیم ہم اسے ہی کہتے ہیں جو لاوارث ہو اور جس کا کوئی سہارا نہ ہو۔ پس جب دنیا نے انہیں الگ کر دیا تو وہ یتیم ہو گئے اور خدا کے اس وعدے کے مطابق کہ یتیم کی آہ عرش کو ہلا دیتی ہے جب وہ قادیان میں جمع ہوئے اور سب یتیموں نے مل کر آہ و زاری کی تو اس آہ کے نتیجہ میں وہ پیدا ہوا جو آج تم اس میدان میں دیکھ رہے ہو۔‘‘ (ماخوذ ازجماعت احمدیہ کی عظیم الشان ترقی آستانہ رب العزت پر گریہ و بکا کرنے کا نتیجہ ہے۔ انوارالعلوم جلد14 صفحہ322-323)

یعنی اس وقت جو لوگ جلسے میں جمع تھے اور وسیع میدان تھا۔ قادیان تھا۔ پس اس وقت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے چند ہزار لوگوں کو کہا تھا کہ ان دو اڑھائی سو لوگوں کی آہوں کا نتیجہ تم دیکھ رہے ہو۔ یعنی کہ اس میدان میں ان دو اڑھائی سو لوگوں کی آہیں تھیں جس کا نتیجہ تم یہ دیکھ رہے ہو کہ اسی میدان میں قادیان میں تم بیٹھے ہوئے ہو۔

آج جیسا کہ میں نے بتایا کہ قادیان کی جلسہ گاہ اور بھی وسیع ہو چکی ہے۔ مَیں جلسہ میں شامل ہونے والے مرد عورتیں جتنے بھی لوگ ہیں، ان سے کہتا ہوں کہ ایک وسیع میدان جس میں تمام سہولتیں بھی میسر ہیں جہاں ایک زبان کی بجائے (اس زمانے میں تو ایک زبان میں حضرت مصلح موعود تقریر فرما رہے تھے اب وہاں ایک کے بجائے) کئی زبانوں میں آوازیں پہنچائی جا رہی ہیں۔ اس وقت خطبہ بھی وہاں بیٹھ کر سن رہے ہیں۔ سات آٹھ زبانوں میں ان کو خطبہ کا ترجمہ بھی پہنچ رہا ہے۔ جہاں اس وقت مختلف قوموں کے لوگ بیٹھے ہیں، جہاں پاکستان سے آئے ہوئے اپنے حقوق سے محروم لوگ بھی بیٹھے ہیں۔ یہ سب لوگ اپنے آپ میں وہ ایمان اور اخلاص پیدا کریں اور اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کریں، ایک جذبہ پیدا کریں جو اُن دو سو لوگوں میں تھا جس کی مثال حضرت مصلح موعودنے دی ہے۔ اسی طرح آسٹریلیا میں جیسا کہ مَیں نے کہا جلسہ ہو رہا ہے۔ امریکہ کے ویسٹ کوسٹ کا جلسہ ہو رہا ہے۔ ہر جگہ اگر اس نیت سے آپ جمع ہوئے ہیں کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی پیغام کو دنیا تک پہنچانا ہے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق میں بڑھنا ہے تو جس طرح وہ دو اڑھائی سو لوگ اڑھائی سو گٹھلیاں یا بیج بن گئے تھے جن سے پھل دار درخت پیدا ہوئے اور قادیان کی وسعت اور میدان اور ان بزرگوں کی نسلیں اور امریکہ میں جماعت اور اس کی وسعت اور آسٹریلیا میں جماعت اور اس کی وسعت کے نظارے ہم دیکھ رہے ہیں۔ آسٹریلیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ماشاء اللہ نئی نئی جگہیں خریدی جا رہی ہیں۔ ان کی خوبصورتی اگر بڑھانی ہے تو پھر اپنی ایمانی کیفیت میں اضافے سے بڑھائیں ورنہ صرف جلسہ کے لئے جمع ہونا کافی نہیں ہے۔ اگر ان دو اڑھائی سو بیجوں یا گٹھلیوں نے اپنے اثر دکھائے تو آج یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کام کو آگے بڑھانے کے لئے اپنے ایمان میں بڑھیں اور پھر جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے ہمارا غلبہ ہے انشاء اللہ۔ اُس وقت تو ایک ارب کچھ کروڑ کی بات تھی آج دنیا کی آبادی سات ارب سے زیادہ ہے۔ سات ارب تیس کروڑ کہا جاتا ہے۔ اور ہماری تعداد ابھی بھی دنیا کی آبادی کے مقابلے میں اور اپنے وسائل کے لحاظ سے بہت معمولی ہے۔ لیکن ہم نے کام وہی کرنے ہیں جو ہمارے آباؤ اجدادنے کئے۔ پس اس بات کو ہر احمدی کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ ہمارا مقصد بہت بڑا ہے اسے ہم نے حاصل کرنا ہے اور یہ تمام لوگ جو قادیان میں جلسہ میں شامل ہوئے ہیں ان کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان دنوں میں بہت دعائیں کریں۔ حضرت مصلح موعود اس بات کا ذکر فرماتے ہوئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایسے نشان ہزاروں ہیں اور شہادتیں بے اندازہ ہیں جو اپنی خوبصورتی دکھاتی ہیں۔ ایک الہام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپؑ کا ایک الہام ہے کہ یَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَجٍ عَمِیْقٍ اور یَاْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍ عَمِیْقٍ۔ یعنی اور دُور دُور سے لوگ تیرے پاس آئیں گے اور دُور دُور سے تیرے پاس تحائف لائے جائیں گے اور ایسے ایسے سامان کئے جائیں گے جن سے مہمان نوازی کی جائے اور اس کثرت سے لوگ آئیں گے کہ وہ راستے گھِس جائیں گے جن راستوں سے وہ آئیں گے۔ فرماتے ہیں کہ یہ نشان ایک عظیم الشان نشان ہے۔ اس عظیم الشان نشان کی کس وقت خدا تعالیٰ نے خبر دی تھی اس حالت کے دیکھنے والے اب بھی موجود ہیں۔ (جب یہ الہام ہوا اس وقت کیا حالت تھی اس کے دیکھنے والے اب بھی موجود ہیں۔ ) کہتے ہیں میری عمر تو چھوٹی تھی لیکن وہ نظارہ اب بھی یاد ہے جہاں اب مدرسہ ہے وہاں ڈھاب ہوتی تھی اور مَیلے کے ڈھیر لگے ہوئے تھے (یعنی گند اور روڑی کے ڈھیر تھے) اور مدرسے کی جگہ لوگ دن کو نہیں جایا کرتے تھے کہ یہ آسیب زدہ جگہ ہے۔ اوّل تو کوئی وہاں جاتا نہیں تھا اور اگر کوئی جاتا بھی تھا تو اکیلا کوئی نہیں جاتا تھا بلکہ دو تین مل کر جاتے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ یہاں جانے سے جنّ چڑھ جاتا ہے۔ جنّ چڑھتا تھا یا نہیں۔ بہرحال یہ ویران جگہ تھی اور یہ ظاہر ہے کہ ویران جگہوں کے متعلق ہی لوگوں کا خیال ایسا ہوتا ہے کہ وہاں جانے سے جنّ چڑھ جاتا ہے۔ پھر یہ (کہتے ہیں) میرے تجربے سے تو باہر تھا لیکن بہت سے آدمی بیان کرتے ہیں کہ قادیان کی یہ حالت تھی کہ دو تین روپے کا آٹا بھی یہاں سے نہیں ملتا تھا۔ آخر یہ گاؤں تھا۔ زمیندارہ طرز کی یہاں رہائش تھی۔ اپنی اپنی ضرورت کے لئے لوگ خود ہی گندم پِیس لیا کرتے تھے۔ کہتے ہیں یہ تو ہمیں بھی یاد ہے کہ ہمیں جب کسی چیز کی ضرورت پڑتی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کسی آدمی کو لاہور یا امرتسر بھیج کر وہ چیز منگواتے تھے۔ پھر آدمیوں کا یہ حال تھا کہ کوئی ادھر آتا نہ تھا۔ برات وغیرہ پر کوئی مہمان اس گاؤں میں آ جائے تو آجائے لیکن عام طور پر کوئی آتا جاتا نہ تھا۔ مجھے وہ دن بھی یاد ہیں کہ میں چھوٹا سا تھا حضرت صاحب (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) مجھے بھی ساتھ لے جاتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ برسات کا موسم تھا۔ ایک چھوٹے سے گڑھے میں پانی کھڑا تھا۔ میں پھلانگ نہ سکا تو مجھے خود اٹھا کر آگے کیا گیا۔ پھر کبھی شیخ حامد علی صاحب اور کبھی حضرت صاحب خود مجھے اٹھا لیتے۔ اس وقت نہ تو مہمان تھا اور نہ یہ مکان تھے۔ کوئی ترقی نہ تھی مگر ایک رنگ میں یہ بھی ترقی کا زمانہ تھا۔ (اس زمانے میں ایسی ترقی کوئی نہیں تھی لیکن وہ بھی ترقی کا زمانہ تھا) چونکہ اس وقت حافظ حامد علی صاحب آ چکے تھے۔ اس سے بھی پہلے جبکہ قادیان میں کبھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کوئی شخص نہ جانتا تھا خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ دیا کہ تیرے پاس دُور دُور سے لوگ آئیں گے اور دُور دُور سے تحائف لائے جائیں گے۔ اس وقت کی حالت کا اندازہ لگاتے ہوئے خدا تعالیٰ کے اس وعدے کو ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے کہ اے وہ شخص جس کو کہ اس کے محلے کے لوگ بھی نہیں جانتے، جس کو کہ اس کے شہر سے باہر دوسرے شہروں کے انسان نہیں جانتے، جس کی گمنامی کی حالت سے لوگوں کو یہی خیال تھا کہ مرزا غلام قادر صاحب ہی اپنے باپ کے بیٹے ہیں (یعنی صرف ایک بیٹا ہے) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ (میں تجھے یعنی مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو) میں تجھ جیسے شخص کو عزت دوں گا۔ دنیا میں مشہور کروں گا۔ عزت چل کر پاس آئے گی۔ (خطبات محمود جلد10 صفحہ246-247) (یہ غور کرنے والی بات ہے۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ) میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خود سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ اگر غور کر کے دیکھا جائے تو کافر بھی رحمت ہوتے ہیں۔ اگر ابوجہل نہ ہوتا تو اتنا قرآن کہاں اترتا۔ اگر سارے حضرت ابوبکر ہی ہوتے تو صرف لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ ہی نازل ہوتا۔ (خطبات محمود جلد 10صفحہ 299)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں ان کو ہر چیز میں بھلائی نظر آتی ہے۔

پس جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت ہوئی تو اس وقت آپ کو نظر آ رہا تھا کہ اب عزت اور زیادہ بڑھے گی اور بڑھتی چلی جائے گی اور آج ہم بھی قادیان کے یہ نظارے دیکھتے ہیں کہ دنیا کے بیس پچیس ملکوں سے وہاں لوگ پہنچے ہوئے ہیں اور نئی سے نئی عمارتیں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بن رہی ہیں۔ پھر جلسہ سالانہ کی مہمان نوازی کے حوالے سے ایک الہام کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود وہی آخری جلسے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں کل سات سو آدمی تھے۔ اب ایک ایک بلاک میں کئی کئی ہزار بیٹھا ہے۔ (جلسے کے وقت آپ فرما رہے ہیں کہ کئی کئی ہزار لوگ ایک بلاک میں بیٹھے ہیں لیکن اُس وقت کل سات سو آدمی تھے۔ ) اس وقت آپ علیہ السلام کی زندگی کا آخری سال تھا اور کُل سات سو آدمی جلسے پر آیا اور انتظام اتنا خراب ہوا۔ (کُل سات سو آدمی مہمان تھا اور انتظام میں خرابی پیدا ہوگئی) کہ (بعضوں کو) رات کے تین بجے تک کھانا نہ مل سکا۔ اور آپ کو الہام ہوا کہ یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَالْمُعْتَرَّ۔ کہ اے نبی بھوکے اور پریشان حال کو کھانا کھلاؤ۔ چنانچہ صبح معلوم ہوا کہ مہمان تین بجے رات تک لنگر خانے کے سامنے کھڑے رہے اور ان کو کھانا نہیں ملا۔ پھر آپ نے نئے سرے سے فرمایا کہ دیگیں چڑھاؤ اور ان کو کھانا کھلاؤ۔ تو دیکھو سات سو آدمیوں کی یہ حالت ہوئی مگر ان سات سو آدمیوں کا یہ حال تھا کہ جب آپ علیہ السلام سیر کے لئے نکلتے تو سات سو آدمی ساتھ تھا۔ ہجوم بہت تھا۔ آنے والے بیچاروں نے کبھی یہ نظارہ تو دیکھا نہ تھا۔ باہر تو دو سو آدمی بھی لوگوں کو کسی روحانی بزرگ کے گرد جاتا ہوا نظر نہ آتا تھا۔ میلوں میں بیشک جاتے ہوں گے لیکن روحانی نظاروں میں نہیں جاتے۔ (فرماتے ہیں کہ) اس لئے ان کے لئے عجیب چیز تھی۔ یہ لوگ دھکے کھا رہے تھے۔ حضرت صاحب ایک قدم چلتے تو ٹھوکر کھا کر آپ کے پیر سے جوتی نکل جاتی۔ (لوگوں کا اژدہام تھا) پھر کوئی احمدی ٹھہرا لیتا کہ حضور جوتی پہن لیجئے اور آپ علیہ السلام کے پیر میں جوتی ڈال دیتا۔ پھر آپ چلتے تو پھر کسی کا ٹُھڈّا لگتا اور جوتی پرے جا پڑتی۔ پھر وہ کہتا حضور ٹھہر جائیں جوتی پہنا دوں تو اس طرح ہو رہا تھا۔ اس وقت سیر پہ جاتے ہوئے یہ حالت تھی۔ لوگ ساتھ تھے۔ ایک زمیندار دوست نے (جو مخلص احمدی تھا) دوسرے زمیندار دوست سے جو احمدی تھا پنجابی میں کہا کہ ’’او تُوں مسیح موعود دا دست پنجہ لے لیا‘‘۔ یعنی کیا تو نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مصافحہ کر لیا ہے؟ وہ کہنے لگا ’’ایتھے دست پنجہ لین دا کیہڑا ویلا اے۔ نیڑے کوئی نئیں ہون دیندا‘‘۔ یعنی اتنے لوگ ہیں کہ نزدیک بھی کوئی نہیں آنے دیتا مصافحہ کرنے کا موقع ہی کوئی نہیں یہاں تو کوئی قریب بھی نہیں آنے دیتا۔ اس پر وہ جو عاشق زمیندار تھا وہ اس کو دیکھ کر کہنے لگا کہ تجھے یہ موقع پھر کب نصیب ہو گا۔ بیشک تیرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں پھر بھی لوگوں کے درمیان میں سے گزر جا اور مصافحہ کر آ۔ تو کجا وہ وقت ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور کجا یہ وقت ہے کہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ ہزاروں لوگ ہیں۔ (ماخوذ از الفضل 17مارچ 1957صفحہ 4-3جلد 46/11نمبر 66)

پس ایک وقت میں سات سو آدمی کے کھانے کا انتظام بھی مشکل ہو گیا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود کھڑے ہو کر انتظام کروایا۔ مصافحہ کا کرنا مشکل سمجھا جاتا تھا اور آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تائیدات کا یہ نظارہ ہے کہ مختلف قوموں کے ہزاروں لوگ قادیان میں جمع ہیں اور ان کے کھانے بھی پک رہے ہیں اور ان کے مزاج کے مطابق مہمان نوازی بھی ہو رہی ہے اور باقی دنیا کے جلسوں میں بھی اسی طرح ہو رہا ہے۔

پھر اس جلسہ کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اب بہت وسعت پیدا ہو چکی ہے۔ جماعت بہت بڑھ گئی ہے۔ لگتا ہے اب ہمارا کام ختم ہو گیا۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری سال قادیان میں جلسہ سالانہ پر جتنے لوگ جمع ہوئے وہ مجھے یاد ہے۔ جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس وقت بار بار فرماتے تھے کہ خدا نے ہمیں جس کام کے لئے دنیا میں بھیجا تھا وہ ہو گیا ہے اور اب اتنی بڑی جماعت پیدا ہو گئی ہے اور اتنی کثرت سے لوگ ایمان لے آئے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا مقصد جو اس دنیا میں آنے کا تھا وہ پورا ہو گیا ہے۔ اب کجا وہ دن تھا کہ جلسہ سالانہ پر اس قدر اژدہام کو عظیم الشان اژدہام سمجھا جاتا تھا اور کجا یہ وقت ہے (حضرت مصلح موعود کہتے ہیں) کہ لاہور شہر میں ہی ہماری ایک جمعہ کی نماز میں اس کے قریب قریب آدمی جمع ہو جاتے ہیں بلکہ اب تو ہزاروں لوگ مسجدوں میں جمع ہوتے ہیں۔ جیسا کہ مَیں پہلے بھی ایک دفعہ بتا چکا ہوں کہ ہزاروں لوگ یہاں لندن میں اس وقت بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اس کی تائید کا ایک عظیم الشان نشان ہے اور جن جماعتوں کے ساتھ اس کی نصرت ہوتی ہے وہ اس طرح بڑھتی چلی جاتی ہے اور دشمن کی نگاہوں میں پھر کانٹوں کی طرح کھٹکنے بھی لگ جاتی ہیں۔ دشمن دشمنی میں بھی بڑھتے ہیں، حسد میں بڑھتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کی تقدیر پورا ہوئے بغیر نہیں رہتی اور باوجود دشمنوں کی حاسدانہ نگاہوں کے وہ اللہ تعالیٰ اپنی جماعت کو بڑھاتا چلا جاتا ہے اور اسے دنیا میں ترقی دیتا چلا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ چیز اپنی ذات میں ہمارے لئے بہت بڑی خوشی کا موجب ہے۔‘‘ (ماخوذ از خطبات محمودجلد25صفحہ 2)

لیکن ساتھ ہی ہمیں اپنی ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے۔ ہمیں ان مقاصد کی طرف توجہ دلاتی ہے جس کے لئے ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔

اور پھر یہ دیکھیں کہ برصغیر ہندوستان اور پاکستان میں ہی نہیں آج دنیا کے دو سو سے اوپر ممالک میں جماعت بڑھ رہی ہے اور ترقی کر رہی ہے۔ حاسدوں کے حسد کے باوجود بھی اسی طرح بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ یہ دشمنیاں پہلے تو ہندوستان یا پاکستان میں تھیں۔ انڈونیشیا کی دشمنی کا بھی ہم نے ذکر سنا تھا۔

اب دو دن پہلے قرغیزستان میں بھی ہمارے ایک مقامی قرغیز احمدی کو شہید کر دیا گیا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ انشاء اللہ آج ان کا نماز جنازہ بھی پڑھاؤں گا۔ اسی طرح آج ابھی کچھ دیر پہلے بنگلہ دیش میں جمعہ ہو رہا تھا تو وہاں کے ایک شہر میں جمعہ کے وقت ہماری مسجد میں بھی ایک دھماکہ ہوا۔ غالباً خود کش دھماکہ ہی لگتا ہے۔ کچھ احمدی زخمی ہوئے ہیں۔ بہر حال ابھی مکمل رپورٹ آئے گی۔ اللہ تعالیٰ ان زخمیوں کو بھی محفوظ رکھے اور جان لیوا زخم نہ ہوں اور جلد ان سب کو صحت عطا فرمائے۔ بہرحال یہ حسد اور مخالفت احمدیت کی ترقی دیکھ کر بڑھتی چلی جارہی ہے اور دنیا میں پھیلتی چلی جا رہی ہے اور یہ بڑھے گی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ اس نے ہی غالب آنا ہے انشاء اللہ تعالیٰ۔ جماعت ترقی کر رہی ہے اور انشاء اللہ کرتی جائے گی۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام ہے جو ذومعنی ہے۔ ہم اس کے کوئی خاص معنی نہیں کر سکتے اور نہ ہمیں پتا ہے کہ وہ کب اور کس طرح پورا ہو گا اور وہ الہام ہے کہ ’’لنگر اٹھا دو‘‘۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اس لنگر سے اگر کشتیوں والا لنگر مراد لیا جائے (یعنی کشتی میں جب لنگر ڈالا جاتا ہے پانی میں کھڑا کرنے کے لئے) تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ باہر نکل جاؤ اور خدا تعالیٰ کے پیغام کو ہر جگہ پھیلاؤ۔ اور اگر لنگر سے ظاہری لنگر خانہ مراد لیا جائے تو پھر اس کے یہ معنی ہوں گے کہ آنے والوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی ہے کہ اب لنگر خانے کا انتظام نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے لنگر اٹھا دو اور لوگوں سے کہو کہ وہ اپنی رہائش اور خوراک کا خود انتظام کر لیں۔ ان دونوں مفہوم میں سے ہم کسی مفہوم کو بھی متعین نہیں کر سکتے اور نہ وقت متعین کر سکتے ہیں کہ کب ایسا واقعہ ہو گا۔ بہرحال جب تک مہمانوں کو ٹھہرانا انسانی طاقت میں ہے اس وقت تک ہمیں یہی ہدایت ہے کہ وَسِّعْ مَکَانَکَ کہ تم اپنے مکان بڑھاتے جاؤ اور مہمانوں کے لئے گنجائش نکالو۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 35صفحہ 398-397)

پس اس کے لئے کم از کم قادیان میں اور جہاں جہاں دوسری جماعتیں بھی یہ کر سکتی ہیں وہاں رہائش کے لئے عارضی اور مستقل انتظام کرتے رہنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہام وَسِّعْ مَکَانَکَ کے تحت قادیان میں اپنی مکانیت میں بھی اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی وسعت پیدا ہو رہی ہے اور نئے نئے گیسٹ ہاؤس اور جگہیں بن گئی ہیں اور مہمانوں کو جس حد تک سہولت ہو سکتی ہے مہیا کی جاتی ہے لیکن بہرحال گھر والی سہولت تو نہیں۔ اس لئے مہمانوں کو بھی یہ خیال رکھنا چاہئے کہ جتنی سہولت دی گئی ہے اس کے اندر رہتے ہوئے ہی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے جلسے پر آنے کا جو اصل مقصد ہے اس کو پورا کریں اور صرف مہمان نوازی یا رہائش کی سہولتوں کی طرف نہ دیکھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک اور الہام اور خواہش کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خواہش ظاہر فرمائی کہ جماعت کے وہ تمام دوست جن کا جلسے پر آنا ممکن ہو وہ جمع ہوا کریں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے سننے یا سنانے میں شامل ہوا کریں جو ان دنوں یہاں کیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ابھی تک ہمارے ملک میں وسائل سفر اتنے آسان نہیں جتنے کے یورپ میں آسان ہیں اور ہندوستان کے باہر تو کئی ممالک میں ان وسائل میں اَور بھی کمی ہے جیسے کہ افغانستان ہے یا ایران ہے یا ہندوستان کے باہر کے جزائر ہیں۔ پھر ابھی تک ہماری جماعت میں ایسے لوگ شامل نہیں جو مالدار ہوں۔ (اُس زمانے کا ذکر کر رہے ہیں۔ ابھی بھی بہت زیادہ مالدار تو نہیں لیکن بہرحال اچھے صاحب حیثیت لوگ شامل ہوتے جا رہے ہیں۔) جو دور دراز ممالک سے جبکہ ہوائی جہازوں کی آمد و رفت نے سفر کو بہت حد تک آسان کر دیا ہے جلسہ سالانہ کے ایام میں قادیان پہنچ سکیں۔ لیکن اگر ایسے لوگ ہماری جماعت میں شامل ہوں۔ (یہ حضرت مصلح موعود اپنے زمانے کا ذکر کر رہے ہیں) تو ان دُور دراز ممالک کے لوگوں کے لئے بھی جہاں ہر قسم کے وسائل سفر آسانی سے میسر آ سکتے ہیں یہاں پہنچنا کوئی مشکل نہیں رہتا اور زیادہ سے زیادہ ان کے لئے روپیہ کا سوال رہ جاتا ہے مگر ایسے لوگ ابھی ہماری جماعت میں بہت کم ہیں یا حقیقتاً بالکل نہیں۔ آج جب ہم دیکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے دیکھتے ہیں کہ دنیا کے بہت سارے ممالک میں سے لوگ وہاں قادیان پہنچتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ہماری جماعت کا بیشتر حصہ اس وقت ہندوستان میں ہے (اور اب پاکستان اور ہندوستان ملا کے) اور اس میں سے بھی زیادہ تر مَردوں کی ایک تعداد ہے جو جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان پہنچ سکتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ترقی کے شروع ہونے پر سست ہو جاتے ہیں۔ (یہ غور کرنے والی اصل چیز ہے۔) اور سمجھتے ہیں کہ اب جماعت بہت ہو گئی۔ ایسے لوگوں کو میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہر وہ شخص جس کے لئے جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان پہنچنا ممکن ہے اگر یہاں آنے میں کوتاہی کرتا ہے تو اس کا لازمی اثر اس کے ہمسایوں اور اس کی اولاد پر پڑے گا۔ میں نے دیکھا ہے کہ جو دوست سال بھر میں ایک دفعہ بھی جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان آ جاتے ہیں اور اپنے اہل و عیال کو ہمراہ لاتے ہیں ان کی اولادوں میں احمدیت قائم رہتی ہے اور گو ان بچوں کو احمدیت کی تعلیم سے ابھی واقفیت نہیں ہوتی مگر وہ اپنے والدین سے یہ ضرور کہتے رہتے ہیں کہ ابّا ہمیں قادیان کی سیر کے لئے لے چلو۔ اس طرح بچپن میں ہی ان کے قلوب میں احمدیت گھر کرنا شروع کر دیتی ہے اور آخر بڑے ہو کر وہ اپنی احمدیت کا شاندار نمونہ پیش کرنے پر قادر ہو جاتے ہیں۔ پھر بچوں کے ذہن کے لحاظ سے بھی جلسہ سالانہ کا اجتماع ان پر بڑا اثر کرتا ہے۔ بچہ ہمیشہ غیر معمولی چیزوں اور ہجوم سے متاثر ہوتا ہے اور جلسہ سالانہ پر آ کر وہ نہ صرف ایک مذہبی مظاہرہ دیکھتا ہے بلکہ اپنی طبیعت کی جدت پسندی کے لحاظ سے بھی تسلی پاتا ہے اور یہ اجتماع اس کے لئے دلچسپ اور یاد رکھنے والا نظارہ بن جاتا ہے۔ (اب جو قادیان جاسکتے ہیں، afford کر سکتے ہیں، ان کو تو جانا چاہئے۔ لیکن جو اپنے ملکی جلسے ہیں ان میں بھی ضرور شامل ہونا چاہئے۔) فرمایا کہ غرض جو باپ جلسے پر آتے ہیں وہ اپنی اولاد کے دل میں بھی یہاں آنے کی تحریک پیدا کر دیتے ہیں اور کبھی نہ کبھی ان کے بچے کا اصرار بچے کو جلسہ سالانہ پر لانے کا محرک ہو جاتا ہے جس کے بعد دوسرا قدم وہ اٹھتا ہے جس کا میں نے ذکر کیا۔ پس ان ایام میں قادیان آنا کسی ایسے بہانے یا عذر کی وجہ سے ترک کر دینا جسے توڑا جاسکتا ہو یا جس کا علاج کیا جا سکتا ہو صرف ایک حکم کی نافرمانی ہی نہیں بلکہ اپنی اولاد پر بھی ظلم ہے۔ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو حکم ہے کہ جلسے پر آؤ۔ وہ صرف اس کی نافرمانی نہیں کر رہے بلکہ اپنی اولاد پر بھی ظلم کر رہے ہوں گے۔ ہندوستان کے احمدیوں کو خاص طور پر کوشش کرکے قادیان آنا چاہئے۔ آپ نے فرمایا کہ) حقیقت تو یہ ہے کہ جیسا کہ مَیں نے بتایا کہ ہماری جماعت میں ابھی مالدار لوگ داخل نہیں ہوئے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جلدی سے جانے کے لئے جو وسائل سفر ہیں وہ اتنا خرچ چاہتے ہیں کہ بیرونی ممالک کے احمدیوں کے لئے ان ایام میں قادیان پہنچنا مشکل ہے۔ لیکن اگر کسی زمانے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے بڑے مالدار ہماری جماعت میں شامل ہو جائیں یا سفر کے جو اخراجات ہیں ان میں کچھ کمی ہو جائے اور ہر قسم کی سہولت لوگوں کو میسر آ جائے تو دنیا کے ہر گوشے سے لوگ اس موقع پر آئیں گے۔‘‘

آج سے ساٹھ سال پہلے بڑا مشکل لگ رہا تھا کہ دنیا کے غیر ممالک سے لوگ قادیان نہیں آ سکتے لیکن آج جب ہم اس حوالے سے دیکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا کتنا فضل ہے۔

بہرحال آپ کہتے ہیں کہ ’’اگر کسی وقت امریکہ میں ہماری جماعت کے مالدار لوگ ہوں اور وہ آمدو رفت کے لئے روپیہ خرچ کر سکیں تو حج کے علاوہ ان کے لئے یہ امر بھی ضروری ہو گا کہ وہ اپنی عمر میں ایک دو دفعہ قادیان بھی جلسہ سالانہ کے موقع پر آئیں۔‘‘ (یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ نعوذ باللہ احمدی حج پر نہیں جاتے۔ اس کی جگہ قادیان چلے جاتے ہیں۔ تو ’حج کے علاوہ‘، حج پر جائیں جو جا سکتے ہیں، اس کے علاوہ قادیان جانے کی کوشش کریں ) ’’کیونکہ قادیان میں علمی برکات میسر آتی ہیں اور مرکز کے فیوض سے لوگ بہرہ ور ہوتے ہیں۔‘‘ (باوجود اس کے کہ اب وہاں خلافت نہیں ہے لیکن پھر بھی وہاں اس کی ایک روحانی حیثیت ہے جو وہاں جائیں تو جا کے احساس ہوتا ہے۔)

آپ فرماتے ہیں کہ ’’مَیں تو یہ یقین رکھتا ہوں کہ ایک دن آنے والا ہے جبکہ دور دراز ممالک کے لوگ یہاں آئیں گے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک رؤیا ہے جس میں آپ نے دیکھا کہ آپ ہوا میں تیر رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ کہ عیسیٰ تو پانی پر چلتے تھے اور مَیں ہوا پر تیر رہا ہوں اور میرے خدا کا فضل ان سے بڑھ کر مجھ پر ہے۔ (یہ آپ نے خواب دیکھی۔ ) اس رؤیا کے ماتحت مَیں سمجھتا ہوں کہ وہ زمانہ آنے والا ہے کہ جس طرح قادیان کے جلسے پر کبھی یکّے سڑکوں کو گھسا دیتے تھے اور پھر موٹریں چل چل کر سڑکوں میں گڑھے ڈال دیتی تھیں اور اب ریل سواریوں کو کھینچ کھینچ کر قادیان لاتی ہے۔ اسی طرح کسی زمانے میں جلسہ کے ایام میں تھوڑے تھوڑے وقفے پر یہ خبریں بھی ملا کریں گی کہ ابھی ابھی فلاں ملک سے اتنے ہوائی جہاز آئے ہیں۔ یہ باتیں دنیا کی نظروں میں عجیب ہیں مگر خدا تعالیٰ کی نظر میں عجیب نہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب یہ نظارے ہم کثرت سے دیکھ رہے ہیں جیسا کہ مَیں نے کہا دنیا کے بیس پچیس ممالک کے لوگ اس وقت ہوائی جہاز کے ذریعہ سے ہی وہاں قادیان جلسے پر گئے ہوئے ہیں اور بعض ایسے ملکوں کے مقامی لوگ ہیں جن کا کبھی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ وہ وہاں پہنچیں گے۔ اور یہ بھی بعیدنہیں کہ کسی وقت چارٹرڈ فلائٹس چلا کریں اور قادیان کے جلسے میں لوگ شامل ہوا کریں۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’خداتعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ اپنے دین کے لئے مکّہ اور مدینہ کے بعد قادیان کو مرکز بنانا چاہتا ہے۔ مکّہ اور مدینہ وہ دو مقامات ہیں جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا تعلق ہے۔ آپ اسلام کے بانی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آقا اور استاد ہیں۔ اس لحاظ سے ان دونوں مقامات کو قادیان پر فضیلت حاصل ہے لیکن مکہ اور مدینہ کے بعد جس مقام کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہدایت کا مرکز قرار دیا ہے وہ وہی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظل یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہے اور جو اس وقت تبلیغ دین کا واحد مرکز ہے۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آجکل مکّہ اور مدینہ جو کسی وقت بابرکت مقام ہونے کے علاوہ تبلیغی مرکز بھی تھے آج وہاں کے باشندے اس فرض کو بھلائے ہوئے ہیں لیکن یہ حالت ہمیشہ نہیں رہے گی۔ (انشاء اللہ۔ ) مجھے یقین ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان علاقوں میں (یعنی عرب ملکوں میں ) احمدیت کو قائم کرے گا تو پھر یہ مقدس مقامات (مکہ اور مدینہ بھی) اپنی اصل شان و شوکت کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد18 صفحہ615تا618۔ خطبہ جمعہ فرمودہ 10؍دسمبر 1937ء)

ایک نصیحت ہے جو جلسہ پر شامل ہونے والوں کے لئے بڑی قابل غور ہے۔ قادیان میں لوگ بیٹھے سن رہے ہیں اور باقی جگہوں پر بھی سن رہے ہیں۔ آپ (مصلح موعود) فرما رہے ہیں خدا تعالیٰ کے اس شکر کے بعد میں ان تمام دوستوں کو جو یہاں جمع ہیں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ہر اس چیز کے ساتھ جو خوشی کا موجب ہوتی ہے تکلیف بھی ہوتی ہے اور جہاں پھول پائے جاتے ہیں وہاں خار بھی ہوتے ہیں۔ (کانٹے بھی ہوتے ہیں۔ ) اس طرح ترقی کے ساتھ حسد اور بغض اور اقبال کے ساتھ زوال لگا ہوا ہے۔ غرض ہر چیز جو اچھی اور اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے اس کے حاصل کرنے کے راستے میں کچھ مخالف طاقتیں بھی ہوا کرتی ہیں۔ (جیسا کہ پہلے بھی مَیں ذکر کر چکا ہوں۔ ) اور اصل بات یہ ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک اس بات کا مستحق ہی نہیں کہ اسے کامیابی حاصل ہو جب تک وہ مصائب اور تکالیف کو برداشت نہ کرے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء کی جماعتوں کو بھی کچھ نہ کچھ تکالیف اٹھانی پڑتی ہیں۔ کبھی تو ان پر ایسے ایسے ابتلاء آتے ہیں کہ کمزور اور کچے ایمانوں والے لوگ مرتد ہو جاتے ہیں اور کبھی چھوٹی چھوٹی تکالیف پیش آتی ہیں مگر بعض کمزور ایمان والے ان سے بھی ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے (پہلے بھی ایک دفعہ مَیں اس بات کا ذکر کر چکا ہوں۔ ) قادیان میں ایک دفعہ پشاور سے ایک مہمان آیا۔ اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام مغرب کی نماز کے بعد مسجد میں بیٹھتے تھے اور مہمان آپ سے ملتے تھے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ نبیوں سے ان کے متبعین کو خاص محبت اور اخلاص ہوتا ہے اور انہیں نبی کو دیکھ کر اور کچھ نظر ہی نہیں آتا اور وہ کسی اور بات کی پرواہ نہیں کرتے۔ جیسا کہ ہمارے مفتی محمد صادق صاحب کی ایک روایت ہے کہ جلسہ کے ایام میں ایک دفعہ جب حضرت صاحب باہر نکلے تو آپ کے گرد بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ اس ہجوم میں ایک شخص نے حضرت صاحب سے مصافحہ کیا اور وہاں سے باہر نکل کے اپنے ساتھی سے پوچھا کہ تم نے مصافحہ کیا ہے یا نہیں؟ (جو کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔) اتنی بھیڑ میں کہا ں جگہ مل سکتی ہے۔ اس نے کہا جس طرح ہو سکے مصافحہ کرو خواہ تمہارے بدن کی ہڈی ہڈی کیوں نہ جدا ہو جائے۔ یہ موقعے روز روز نہیں ملا کرتے۔ چنانچہ وہ گیا اور مصافحہ کر آیا۔ غرض نبی کو دیکھ کر انسان کے دل میں ایک خاص قسم کا جوش موجزن ہوتا ہے اور وہ جوش اتنا وسیع ہوتا ہے کہ نبی کے خدمتگاروں کو دیکھ کر بھی ابل پڑتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ جب حضرت مسیح موعودنماز کے بعد مسجد میں بیٹھتے تو لوگ آپ کے قریب بیٹھنے کے لئے دوڑتے گو اس وقت تھوڑے ہی لوگ ہوتے تھے تاہم ہر ایک یہ چاہتا تھا کہ میں سب سے قریب بیٹھوں۔ ایک شخص کے مقدر میں چونکہ ابتلاء تھا اس لئے اسے خیال نہ آیا کہ میں کس شخص کی مجلس میں آیا ہوں۔ یہ دوست پشاور سے آیا ہوا تھا۔ اس نے سنتیں پڑھنی شروع کر دیں اور اتنی لمبی کردیں کہ پہلے تو کچھ عرصہ لوگ اس کا انتظار کرتے رہے مگر جب انتظار کرنے والوں نے دیکھا کہ دوسرے لوگ ہم سے آگے بڑھتے جاتے ہیں اور قریب کی جگہ حاصل کر رہے ہیں تو وہ بھی جلدی سے آگے بڑھ کر حضرت صاحب کے پاس جا بیٹھے مگر ان کے جلدی کے ساتھ گزرنے سے کسی کی کہنی اُسے لگی جو سنتیں پڑھ رہا تھا۔ اس پر وہ سخت ناراض ہو کر کہنے لگا کہ اچھا نبی اور مسیح موعود ہے کہ اس کی مجلس کے لوگ نماز پڑھنے والوں کو ٹھوکریں مارتے ہیں۔ وہ اتنی بات پر مرتد ہو کر وہاں سے چلا گیا۔ گویا جو چیز ایمان کی ترقی کا باعث ہے اور ہو سکتی ہے وہ اس کے لئے ٹھوکر کا موجب بن گئی اور اس کی مثال اس جماعت کی سی ہو گئی جس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب روشنی آئے تو ان کا نور جاتا رہتا ہے۔ (ماخوذ از خطبات محمودجلد11صفحہ 544-545۔ خطبہ جمعہ فرمودہ 26؍دسمبر 1919ء)

حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ قادیان آنے والوں کو مَیں نصیحت کرتا ہوں، جلسے پر آنے والوں کو مَیں نصیحت کرتا ہوں کہ کثرت ہجوم اور کام کرنے والوں کی قلّت کی وجہ سے اگر آپ کو کوئی تکلیفیں پہنچیں تو پریشان نہ ہو جائیں، ٹھوکر نہ کھا جائیں۔ اس نصیحت کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔ چاہے یہاں جلسہ ہو یا کہیں اور ہو رہے ہوں۔ بہرحال مہمان نوازی کرنے والے اپنی پوری کوشش کرتے ہیں کہ ہر طرح مہمان نوازی کی جائے لیکن پھر بھی کمیاں رہ جاتی ہیں تو جیسا کہ مَیں نے کہا کہ آج بھی قادیان آنے والے یا کہیں بھی جلسے پر جانے والے یاد رکھیں کہ انتظامی لحاظ سے بعض تکلیفیں اگر پہنچیں تو خوشی سے برداشت کر لیں اور اس کو اپنے ایمان کی ٹھوکر کا باعث نہ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ قادیان کے جلسہ کے بھی اور باقی جلسوں کے بھی یہ تمام دن اپنے فضلوں اور برکتوں سے گزارے اور ان کا اختتام فرمائے اور ہر جلسہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور برکتوں کو سمیٹنے والا ہو اور سب شاملین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کے وارث بھی بنیں اور خود بھی ان دنوں میں بہت دعائیں کریں۔

جیسا کہ میں نے بتایا کہ روس میں قرغیزستان میں جو پہلے روس کی ریاست تھی وہاں ایک ہمارے احمدی کو شہید کر دیا گیا ہے جن کا نام یونس عبدل جلیلوف ہے۔ 22؍دسمبر کو 8: 50منٹ پر قرغیزستان کے مغرب میں واقع گاؤں ہے کاشغرکِشتاک یہاں دو افرادنے فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں موصوف شہید ہو گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ اپنے گھر کے باہر یونس صاحب ایک ہمسائے کے ساتھ کھڑے تھے کہ دو افراد کار میں آئے اور انہوں نے یونس صاحب پر گولیاں چلانی شروع کر دیں۔ بارہ گولیاں چلائیں جن میں سے سات گولیاں یونس صاحب کے جسم سے آر پار ہو گئیں۔ دو گولیاں جسم میں رہ گئیں۔ حملہ آوروں نے یونس صاحب کے ساتھ کھڑے ان کے ہمسائے پر فائرنگ نہیں کی۔ صرف یونس صاحب کو نشانہ بنا کر بھاگ گئے۔ بہرحال ان کو ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہاں ان کی وفات ہو گئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ان کے والد اور بھائی غیر احمدی ہیں۔ ان کے رشتہ داروں نے اپنے کسی جاننے والے مولوی سے ہی جنازہ پڑھایا۔ اس وقت احمدی پہنچ نہیں سکے تھے۔ اس (مولوی) نے یہ بھی کہا کہ یہ موت نہایت ظالمانہ طریق پر ہوئی ہے۔ ہم سب اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس طرح کسی بندے کو قتل کرنا اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ بعد میں احمدی پہنچے تو نماز جنازہ غائب وہاں پر ان کے گھر میں ہی ادا کی گئی۔ کیونکہ کچھ نہ کچھ مخالفت تو تھی۔ اس لئے یہ بھی خطرہ تھا کہ ان کے احمدی ہونے کی وجہ سے مولوی شور مچائیں گے اور قبرستان میں تدفین نہیں ہونے دیں گے۔ لیکن اللہ کے فضل سے امن و امان سے تدفین بھی ہو گئی۔ اب وہاں کی جو کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ ہے وہ پولیس اہلکار آئے اور جماعت کے بعض افراد کو اپنے دفتر لے گئے۔ وہاں ان کو مکمل طور پر معلومات دی گئیں۔ جماعت احمدیہ مسلمہ کے بارے میں بتایا گیا۔ یہ سن کے وہ لوگ بہت حیران ہوئے۔ کہنے لگے کہ ہم نے تو آپ لوگوں کے بارے میں کچھ اور ہی سن رکھا ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ جو کچھ ہو سکا ہم انشاء اللہ اس حقیقت کو سامنے لانے کے لئے کریں گے اور پھر پولیس نے کوشش بھی کی اور بعد میں کچھ دیر کے بعد دو قاتلوں کو انہوں نے پکڑ بھی لیا اور ان کا بھی یہی خیال تھا کہ اس کے بھی ڈانڈے سیریا کے لوگوں سے جا کے ملتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک آدمی جو یہاں سے سیریا گیا ہوا ہے وہ وہاں سے آیا تھا اس نے بتایا کہ وہاں چار احمدی افراد ہیں جن کو تم نے قتل کرنا ہے۔ پہلے ایک احمدی پر ایک حملہ ہوا تھا۔ چاقوؤں سے اس پہ وار کئے گئے تھے اور سلاخوں سے مارا گیا۔ ان کی ہڈیاں بھی ٹوٹیں۔ زخمی بھی ہوئے۔ تقریباً مردہ چھوڑ کر چلے گئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔ یہ دو تین مہینے یا چھ مہینے پہلے کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں صحت دی اور اب وہ ٹھیک ہیں لیکن یہاں ان کو شہید کرنے پر کامیاب ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند کرے۔ بہرحال پولیس اور بھی پکڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اللہ کرے کہ سارے اپنے کیفر کردار تک پہنچیں۔

مقامی احمدیوں کا جو ردّ عمل ہے انہوں نے لکھ کر بھیجا ہے کہ یونس صاحب کے اس طرح ظالمانہ طور پر قتل کئے جانے پر کاشغر کِشْتَاک جماعت کے افراد غمگین بھی ہیں لیکن انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں کسی چیز کا خوف نہیں ہے۔ ہم اس شہادت کے بعد بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق آنے والے مسیح موعود حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کے پیغام کو پھیلاتے چلے جائیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے مضبوط ایمان کے لوگ ہیں۔

یونس عبدل جلیلوف (Yunusjan Abdujalilov) صاحب 1978ء میں پیدا ہوئے تھے۔ 2008ء میں انہوں نے بیعت کی تھی اور ابتدائی احمدیوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ان کے رشتہ داروں کی طرف سے بڑی مخالفت بھی ہوئی لیکن یہ عہد بیعت پر قائم رہے۔ کہتے ہیں بیعت کے بعد ان میں بڑی غیر معمولی روحانی تبدیلی آئی۔ ہر وقت دینی علوم کی تلاش میں رہتے تھے۔ اس حوالے سے مبلغین کے ساتھ بھی ہر وقت رابطے میں رہتے تھے اور جب بھی دین کی کوئی نئی بات سیکھتے تو بہت خوش ہوتے۔ پنجوقتہ نماز باجماعت کے پابند تھے۔ شہادت کے وقت اپنی جماعت کے جنرل سیکرٹری کے طور پر خدمت کر رہے تھے۔ جماعت کے بڑے ایکٹو (active) ممبر تھے۔ اپنے پیچھے انہوں نے اہلیہ، تین بیٹیاں اور ایک بیٹا سوگوار چھوڑے ہیں۔ بڑی بیٹی 9 سال کی۔ دوسری بیٹی چھ سال کی۔ تیسری تین سال کی اور سب سے چھوٹا بیٹا تین ماہ کا ہے۔ ہمارے مبلغ جو وہاں رہ چکے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ یونس صاحب اپنے خاندان میں اکیلے احمدی تھے۔ پھر بعد میں آپ کی اہلیہ نے بھی بیعت کر لی تھی۔ بہت ہی پیارے اور فدائی احمدی تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلافت سے عشق کا تعلق تھا۔ ہمیشہ مسکراتے رہتے۔ بہت خوش مزاج ملنسار تھے۔ دین سیکھنے اور تبلیغ کرنے کا بے حد شوق تھا۔ ان کی نمازوں میں خشوع و خضوع ہوتا تھا۔ قرغیزستان جماعت کی ترقی کے بارے میں اکثر سوچتے رہتے اور اس کے لئے بہت دعائیں بھی کرتے تھے۔ جماعتی نمائندگان اور مبلغین کا بہت احترام کرتے تھے اور سب سے ان کا انتہائی پیار اور محبت کا سلوک تھا۔ بعض مبلغین پہ جب قانونی مجبوریاں ہوئیں اور جانا پڑا تو یہ بڑے دکھی تھے کہ مبلغین کو ملک چھوڑنا پڑا۔ پہلے رشیا تھا اب قرغیزستان تو رشیا کی زمین میں اسلام اور احمدیت کی راہ میں اپنا خون پیش کرنے والے یہ پہلے شہید ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرماتا چلا جائے اور ان کے خون کا ہر قطرہ بے شمار نیک فطرت اور سعید روحوں کو جماعت میں شامل کرنے کا باعث بنے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ ان کی اولاد کا بھی حافظ و ناصر ہو اور ان کے ایمان اور یقین میں ترقی دیتا چلا جائے۔ جیسا کہ میں نے کہا ہے ابھی نماز کے بعد ان کا نماز جنازہ غائب پڑھاؤں گا انشاء اللہ۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 25؍ دسمبر 2015ء شہ سرخیاں

    یہ دن قادیان میں جلسہ سالانہ کے دن ہیں۔ کل سے انشاء اللہ تعالیٰ قادیان کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے۔ اسی طرح آج آسٹریلیا کا جلسہ سالانہ بھی شروع ہو چکا ہو گا اور امریکہ کے ویسٹ کوسٹ کا جلسہ بھی شروع ہونے والا ہے۔ اور شاید بعض اور ملکوں میں بھی ان دنوں میں جلسے ہو رہے ہوں گے یا ہونے والے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام جلسوں کو ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے۔ اشرار کی شرارتوں اور ان کے شر سے محفوظ رکھے۔ قادیان کے جلسہ سالانہ کی خاص طور پر اس لحاظ سے بھی اہمیت ہے کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بستی میں ہو رہا ہے اور یہیں آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے اِذن پا کر جلسے شروع کروائے تھے۔

    حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی بیان فرمودہ روایات کے حوالہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے زمانے کے جلسوں کا اور اللہ تعالیٰ کے بعض الہامات کا تذکرہ جو اُن دنوں میں پورے ہوئے اور آج بھی ہو رہے ہیں اور بعض آئندہ زمانوں میں پورے ہونے والے تھے۔

    ربوہ کے رہنے والے بھی ان دنوں بے چین ہوں گے تو انہیں بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ انشاء اللہ تعالیٰ وہاں بھی حالات بدلیں گے اور رونقیں بھی قائم ہوں گی لیکن ربوہ کے رہنے والوں کو دعاؤں کی طرف توجہ دینی ہو گی۔ پاکستان میں رہنے والوں کو دعاؤں کی طرف توجہ دینی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَا تَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ(آل عمران: 140) اور کمزوری نہ دکھاؤ اور غم نہ کرو۔ یقینا تم ہی غالب آنے والے ہو جبکہ تم مومن ہو۔ شرط یہ لگائی جبکہ تم مومن ہو۔ پس ایمان میں زیادتی اور دعاؤں پر زور سے پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کر کے حالات بدلتے ہیں۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تائیدات کا یہ نظارہ ہے کہ مختلف قوموں کے ہزاروں لوگ قادیان میں جمع ہیں اور ان کے کھانے بھی پک رہے ہیں اور ان کے مزاج کے مطابق مہمان نوازی بھی ہو رہی ہے اور باقی دنیا کے جلسوں میں بھی اسی طرح ہو رہا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اس کی تائید کا ایک عظیم الشان نشان ہے اور جن جماعتوں کے ساتھ اس کی نصرت ہوتی ہے وہ اس طرح بڑھتی چلی جاتی ہیں اور دشمن کی نگاہوں میں پھر کانٹوں کی طرح کھٹکنے بھی لگ جاتی ہیں۔ دشمن دشمنی میں بھی بڑھتے ہیں، حسد میں بڑھتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کی تقدیر پورا ہوئے بغیر نہیں رہتی اور باوجود دشمنوں کی حاسدانہ نگاہوں کے اللہ تعالیٰ اپنی جماعت کو بڑھاتا چلا جاتا ہے اور اسے دنیا میں ترقی دیتا چلا جاتا ہے۔

    دو دن پہلے قرغیزستان میں بھی ہمارے ایک مقامی قرغیز احمدی کو شہید کر دیا گیا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آج ابھی کچھ دیر پہلے بنگلہ دیش میں جمعہ ہو رہا تھا۔ وہاں کے ایک شہر میں جمعہ کے وقت ہماری مسجد میں بھی ایک دھماکہ ہوا۔ غالباً خود کش دھماکہ ہی لگتا ہے۔ کچھ احمدی زخمی ہوئے ہیں۔ بہر حال ابھی مکمل رپورٹ آئے گی۔ اللہ تعالیٰ ان زخمیوں کو بھی محفوظ رکھے اور جان لیوا زخم نہ ہوں اور جلد ان سب کو صحت عطا فرمائے۔ بہرحال یہ حسد اور مخالفت احمدیت کی ترقی دیکھ کر بڑھتی چلی جا رہی ہے اور دنیا میں پھیلتی چلی جارہی ہے اور یہ بڑھے گی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ اس نے ہی غالب آنا ہے

    انشاء اللہ تعالیٰ۔ جماعت ترقی کر رہی ہے اور انشاء اللہ کرتی جائے گی۔

    جو قادیان جا سکتے ہیں، afford کر سکتے ہیں ان کو تو جانا چاہئے۔ لیکن جو اپنے ملکی جلسے ہیں ان میں بھی ضرور شامل ہونا چاہئے۔ ہندوستان کے احمدیوں کو خاص طور پر کوشش کرکے قادیان آنا چاہئے۔

    حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ قادیان آنے والوں کو مَیں نصیحت کرتا ہوں، جلسے پر آنے والوں کو مَیں نصیحت کرتا ہوں کہ کثرت ہجوم اور کام کرنے والوں کی قلّت کی وجہ سے اگر آپ کو کوئی تکلیفیں پہنچیں تو پریشان نہ ہو جائیں، ٹھوکر نہ کھا جائیں۔ اس نصیحت کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے چاہے یہاں جلسہ ہو یا کہیں اور ہو رہے ہوں۔ بہرحال مہمان نوازی کرنے والے اپنی پوری کوشش کرتے ہیں کہ ہر طرح مہمان نوازی کی جائے لیکن پھر بھی کمیاں رہ جاتی ہیں تو جیسا کہ مَیں نے کہا کہ آج بھی قادیان آنے والے یا کہیں بھی جلسے پر جانے والے یاد رکھیں کہ انتظامی لحاظ سے اگر بعض تکلیفیں پہنچیں تو خوشی سے برداشت کر لیں اور اس کو اپنے ایمان کی ٹھوکر کا باعث نہ بنائیں۔ قرغیزستان کی سر زمین میں اسلام اور احمدیت کی راہ میں اپنا خون پیش کرنے والے پہلے شہید مکرم یونس عبدل جلیلوف صاحب کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 25؍دسمبر 2015ء بمطابق 25؍فتح 1394 ہجری شمسی،  بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور