پیشگوئی مصلح موعود اور حضرت مصلح موعودؓ کے خطبات

خطبہ جمعہ 19؍ فروری 2016ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

20؍فروری کا دن جماعت احمدیہ میں پیشگوئی مصلح موعود کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے ایک بیٹے کی پیدائش کی خبر دی گئی تھی جو دین کا خادم ہو گا۔ عمر پائے گا اور بیشمار دوسری خصوصیات کا حامل ہو گا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس پیشگوئی کی اہمیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: ’’یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان نشانِ آسمانی ہے جس کو خدائے کریم جلّ شانہٗ نے ہمارے نبی کریم رؤوف و رحیم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی صداقت و عظمت ظاہر کرنے کے لئے ظاہر فرمایا ہے اور در حقیقت یہ نشان ایک مردہ کے زندہ کرنے سے صدہا درجہ اعلیٰ و اَولیٰ و اکمل و افضل و اَتم ہے کیونکہ مُردہ کے زندہ کرنے کی حقیقت یہی ہے کہ جناب الٰہی میں دعا کر کے ایک روح واپس منگوایا جاوے… جس کے ثبوت میں معترضین کو بہت سی کلام ہے۔ … مگر اس جگہ بفضلہ تعالیٰ و احسانہٖ و بہ برکت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خداوند کریم نے اس عاجز کی دعا کو قبول کر کے ایسی بابرکت روح بھیجنے کا وعدہ فرمایا جس کی ظاہری و باطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔ سو اگرچہ بظاہر یہ نشان احیائے موتی کے برابر معلوم ہوتا ہے مگر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ یہ نشان مُردوں کے زندہ کرنے سے صدہا درجہ بہتر ہے۔ مُردہ کی بھی روح ہی دعا سے واپس آتی ہے اور اس جگہ بھی دعا سے ایک روح ہی منگائی گئی ہے مگر اُن روحوں اور اِس روح میں لاکھوں کوسوں کا فرق ہے‘‘۔ (مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 114-115۔ اشتہار 22 مارچ 1886ء)

پھر اپنوں اور غیروں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو یہ پیشگوئی تھی بڑی شان سے پوری ہوئی۔ اس پیشگوئی کے مصداق جیسا کہ وقت نے ثابت کیا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی تھے۔ جماعت کے علماء اور افراد جماعت تو یقین رکھتے تھے کہ یہ پیشگوئی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے بارے میں ہی ہے لیکن حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے خود کبھی اس بات کا اظہار یا اعلان نہیں کیا تھا کہ پیشگوئی میرے بارے میں ہے اور مَیں ہی مصلح موعود کا مصداق ہوں یہاں تک کہ آپ کی خلافت پر تقریباً تیس سال گزر گئے۔ آخر 1944ء میں آپ نے اس بات کا اعلان فرمایا کہ مَیں مصلح موعود ہوں۔ آج میں حضرت مصلح موعود کے اس بارے میں دو خطبات سے خلاصۃً آپ کے ہی الفاظ میں عموماً کچھ بیان کروں گا۔ حضرت مصلح موعودنے اپنے 28؍جنوری 1944ء کے خطبہ میں فرمایا کہ آج مَیں ایک ایسی بات کہنا چاہتا ہوں جس کا بیان کرنا میری طبیعت کے لحاظ سے مجھ پر گراں گزرتا ہے لیکن چونکہ بعض نبوّتیں اور الٰہی تقدیریں اس بات کے بیان کرنے سے وابستہ ہیں اس لئے مَیں اس کے بیان کرنے سے باوجود اپنی طبیعت کے انقباض کے رک بھی نہیں سکتا۔ پھر آپ نے اپنی ایک لمبی رؤیا کا ذکر فرمایا ہے اور اس کی تعبیر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ’’وہ پیشگوئی جو مصلح موعود کے متعلق تھی خدا تعالیٰ نے میری ہی ذات کے لئے مقدر کی ہوئی تھی‘‘۔ اس سے پہلے کبھی آپ نے اس بارے میں واضح اظہار نہیں فرمایا تھا۔ آپ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا اور بار بار کہا کہ آپ کی ان پیشگوئیوں کے بارے میں کیا رائے ہے؟ مگر میری یہ حالت تھی کہ میں نے کبھی سنجیدگی سے ان پیشگوئیوں کو پڑھنے کی کوشش بھی نہیں کی تھی اس خیال سے کہ میرا نفس مجھے کوئی دھوکہ نہ دے اور میں اپنے متعلق کوئی ایسا خیال نہ کر لوں جو واقعہ کے خلاف ہو۔

پس دیکھیں جو اصل ہے وہ تو اتنی احتیاط کرتا ہے اور دوسرے جن کے دماغ الٹے ہوئے ہیں بغیر نشان کے ہی اس کے اظہار کرتے رہتے ہیں تو سوائے اس کے کہ ان کو پاگل کہا جائے اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ بہرحال اس پیشگوئی کے بارے میں اپنی شرم اور جھجھک کا ایک جگہ آپ نے اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ حضرت خلیفہ اول نے ایک دفعہ مجھے ایک خط دیا اور فرمایا کہ یہ خط جو تمہاری پیدائش کے متعلق ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے لکھا تھا۔ اس خط کو تشحیذ الاذہان میں چھاپ دو۔ یہ رسالہ تشحیذ الاذہان حضرت مصلح موعودنے ہی شروع کیا تھا اور آپ ہی اس کی اشاعت بھی کرتے تھے۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ مَیں نے حضرت خلیفہ اول کے احترام میں وہ خط لے لیا اور شائع بھی کر دیا۔ مگر مَیں نے اس وقت بھی اسے غور سے نہیں پڑھا۔ لوگوں نے اس وقت بھی خط شائع ہونے پر کئی قسم کی باتیں کیں مگر میں خاموش رہا۔ میں یہی کہتا تھا کہ ضروری نہیں کہ جس شخص کے بارے میں یہ باتیں ہیں انہیں اس کے سامنے بھی لایا جائے اور بتایا جائے یا ضروری نہیں کہ جس شخص کے بارے میں یہ پیشگوئیاں ہیں وہ ضرور بتائے بھی کہ میں ان پیشگوئیوں کا مصداق ہوں۔ مثال کے طور پر آپ فرماتے ہیں کہ ریل کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی تھی۔ آپ نے فرمایا تھا ایک زمانے میں ریل شروع ہو جائے گی اور ماننے والے مانتے ہیں کہ یہ پیشگوئی پوری ہو گئی کیونکہ واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ریل خود بھی دعویٰ کرے کہ مَیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کی مصداق ہوں۔ بہرحال آپ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے مختلف پیشگوئیاں میرے بارے میں میرے سامنے رکھیں اور اصرار کیا کہ میں ان کا اپنے آپ کو مصداق قرار دوں۔ مگر میں نے ہمیشہ یہی کہا کہ پیشگوئی اپنے مصداق کو آپ ظاہر کرتی ہے۔ اگر یہ پیشگوئیاں میرے متعلق ہیں تو زمانہ خود بخود دیکھ لے گا کہ مَیں ان کا مصداق ہوں اور اگر میرے متعلق نہیں تو زمانے کی گواہی میرے خلاف ہو گی۔ دونوں صورتوں میں مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر میرے متعلق نہیں تو مَیں کیوں گناہگار بنوں۔ اور اگر میرے متعلق ہیں تو مجھے جلد بازی کی ضرورت نہیں ہے خدا تعالیٰ خود بخود حقیقت ظاہر کر دے گا۔ جیسے الہام میں کہا گیا تھا کہ ’’انہوں نے کہا آنے والا یہی ہے یا ہم دوسروں کی راہ تکیں۔‘‘یہ الہام کے فقرے تھے۔ دنیا نے یہ سوال اتنی دفعہ کیا‘ اتنی دفعہ کیا کہ اس پر ایک لمبا عرصہ گزر گیا۔ اس لمبے عرصے کے متعلق بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں خبر موجود ہے۔ مثلاً حضرت یعقوب علیہ السلام کے متعلق حضرت یوسف کے بھائیوں نے حضرت یعقوب کو کہا تھا کہ تُو اسی طرح یوسف کی باتیں کرتا رہے گا یہاں تک کہ قریب المرگ ہو جائے گا یا ہلاک ہو جائے گا۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ یہی الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی ہوا۔ اسی طرح یہ الہام ہونا کہ یوسف کی خوشبو مجھے آ رہی ہے۔ (آپ کو یہ الہام بھی ہوا۔ آپ نے اس کا ایک شعر میں بھی ذکر کیا ہوا ہے) یہ بتاتا تھا کہ خدا تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت یہ چیز ایک لمبے عرصے کے بعد ظاہر ہو گی کیونکہ حضرت یوسف بھی اپنے باپ کو بڑے لمبے عرصے کے بعد ملے تھے یا وہ پیشگوئی پوری ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ مَیں تو اس یقین پر قائم ہوں کہ اگر موت تک بھی مجھ پر یہ ظاہر نہ کیا جاتا کہ یہ پیشگوئیاں میرے متعلق ہیں تب بھی واقعات خود بخود بتا دیتے کہ یہ پیشگوئیاں میرے ہاتھ سے اور میرے زمانے میں پوری ہوئی ہیں اس لئے میں ہی ان کا مصداق ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت کے تحت اس امر کو ظاہر کر دیا اور مجھے علم بھی دے دیا کہ مصلح موعود سے تعلق رکھنے والی پیشگوئیاں میرے بارے میں ہیں۔ آپ نے بعض پیشگوئیوں کا مختصر ذکر کیا ہے مثلاً ’’وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا‘‘۔ اس کے متعلق آپ یہ فرماتے ہیں کہ ہمیشہ یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ اسی طرح ہے ’’دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ‘‘۔ اس کے متعلق سوال کیا جاتا ہے۔ ان دونوں باتوں کی آپ نے اس طرح وضاحت فرمائی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذہن ’’تین کو چار کرنے والا‘‘ کی پیشگوئی کے بارے میں اس طرف گیا ہے کہ وہ تین بیٹوں کو چار کرنے والا ہو گا۔ اگر یہ مطلب لیا جائے تو چوتھے بیٹے کے لحاظ سے بھی مطلب صاف ہے۔ مجھ سے پہلے مرزا سلطان احمد صاحب، مرزا فضل احمد صاحب اور مرزا بشیر احمد اوّل پیدا ہوئے اور چوتھا میں ہوا۔ اور میرے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تین بیٹے ہوئے اس لحاظ سے بھی مَیں تین کو چار کرنے والا ہوا۔ پھر میری خلافت کے ایام میں اللہ تعالیٰ نے مرزا سلطان احمد صاحب کو احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق دی اس طرح بھی مَیں تین کو چار کرنے والا ہوا۔ اگر یہ اولاد کے لحاظ سے دیکھا جائے تو گویا تین کو چار کرنے والا مَیں تین طرح سے ہوا۔ لیکن فرماتے ہیں کہ میرا ذہن اللہ تعالیٰ نے اس طرف بھی منتقل کیا ہے کہ الہامی طور پر یہ نہیں کہا گیا کہ وہ تین بیٹوں کو چار کرنے والا ہو گا۔ الہام میں صرف یہ بتایا گیا تھا کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا۔ پس میرے نزدیک یہ اس کی پیدائش کی تاریخ بتائی گئی ہے۔ یہ پیشگوئی ابتداء‘‘ 1886ء میں کی گئی تھی۔ مصلح موعود کی جو پیشگوئی ہے یہ ابتداء ’’1886ء میں ہوئی تھی۔ اور آپ نے فرمایا کہ میری پیدائش 1889ء میں (eighteen eighty-nine) میں ہوئی۔ پس تین کو چار کرنے والی پیشگوئی میں یہ خبر دی گئی تھی کہ اس کی پیدائش چوتھے سال میں ہو گی اور ایسا ہی ہوا۔

اور یہ جو آتا ہے ’’دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ‘‘۔ اس کے اَور معنی بھی ہو سکتے ہیں مگر میرے نزدیک اس کی ایک واضح تشریح یہ ہے کہ دوشنبہ ہفتے کا تیسرا دن ہوتا ہے۔ دوسری طرف روحانی سلسلوں میں انبیاء اور ان کے خلفاء کا الگ الگ دور ہوتا ہے اور جس طرح نبی کا زمانہ اپنی ذات میں ایک مستقل حیثیت رکھتا ہے اسی طرح خلیفہ کا زمانہ اپنی ذات میں ایک مستقل حیثیت رکھتا ہے۔ اس لحاظ سے غور کر کے دیکھو۔ پہلا دور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تھا۔ دوسرا دور حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تھا۔ اور آپ فرماتے ہیں کہ تیسرا دَور میرا ہے۔ ادھر اللہ تعالیٰ کا ایک اور الہام بھی اس تشریح کی تصدیق کر رہا ہے۔ حضرت مسیح موعود کو الہام ہوا تھا اور وہ الہام یہ ہے کہ ’فضل عمر‘۔ حضرت عمر بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تیسرے نمبر پر خلیفہ تھے۔ پس ’’دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ‘‘ سے یہ مرادنہیں کہ کوئی خاص دن خاص برکات کا موجب ہو گا بلکہ مراد یہ ہے کہ اس موعود کے زمانے کی مثال احمدیت کے دور میں ایسی ہی ہو گی جیسے دوشنبہ کی ہوتی ہے۔ یعنی اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خدمت دین کے لئے جو آدمی کھڑے کئے جائیں گے ان میں وہ تیسرے نمبر پر ہو گا۔ فضل عمر کے الہامی نام میں بھی اسی طرف اشارہ ہے۔ گویا کلام اللہ میں یُفَسِّرُ بَعْضُہٗ بَعْضًا کے مطابق فضل عمر کے لفظ نے ’’دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ‘‘ کی تفسیر کر دی۔ فرمایا کہ مگر الہام میں ایک اور خبر بھی ہے اور خدا تعالیٰ مبارک دوشنبہ ایک ایسے ذریعہ سے بھی لانے والا ہے جو (فرماتے ہیں کہ) میرے اختیار میں نہیں تھا اور کوئی انسان نہیں کہہ سکتا تھا کہ میں نے اپنے ارادے سے اور جان بوجھ کر اس کا اجراء کیا ہے۔ یعنی تحریک جدید کا اجراء جسے 1934ء میں ایسے حالات میں جاری کیا گیا جو آپ فرماتے ہیں کہ میرے اختیار میں نہیں تھے۔ گورنمنٹ کے ایک فعل نے جس میں جماعت کے خلاف بعض سخت اقدامات کرنے کے منصوبے تھے اور احرار کی فتنہ انگیزی کی وجہ سے آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس تحریک کا میرے دل میں القاء فرمایا تھا اور اس تحریک کے پہلے دَور کے لئے میں نے دس سال مقرر کئے۔ ہر انسان جب قربانی کرتا ہے تو قربانی کے بعد اس پر ایک عید کا دن آتا ہے۔ چنانچہ دیکھ لو رمضان کے روزوں کے بعد عید کا دن ہوتا ہے۔ اسی طرح جب ہماری دس سالہ تحریک جدید ختم ہو گی (اس وقت تک ابھی ختم نہیں ہوئی تھی) تو اس سے اگلا سال (آپ فرماتے ہیں ) ہمارے لئے عید کا سال ہو گا۔ اور یہ سال 1944ء میں ختم ہوئے۔ آپ فرماتے ہیں کہ تحریک جدید کے حوالے سے جو پہلے دس سال کی تاریخ تھی اُسے اگر اس لحاظ سے دیکھا جائے تو عجیب بات ہے کہ 1945ء کا سال گیارھواں سال ہے اور وہ عید کا سال ہے اور یہ سال پیر کے روز سے شروع ہو رہا ہے اور پیر کا دن دوشنبہ کہلاتا ہے۔ (ماخوذ از خطباتِ محمود جلد 25 صفحہ 49 تا 63خطبہ بیان فرمودہ 28 جنوری 1944ء)

پس اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں یہ خبر بھی دی تھی کہ ایک زمانے میں اسلام کی نہایت کمزور حالت میں اس کی اشاعت کے لئے ایک اہم تبلیغی ادارے کی بنیاد رکھی جائے گی اور جب اس کا پہلا دور کامیابی سے مکمل ہو گا تو یہ جماعت کے لئے مبارک وقت ہو گا اور حالات نے اب دیکھیں ثابت بھی کر دیا کہ تحریک جدید کے ذریعہ سے دنیا کے ہر کونے میں اسلام اور احمدیت کی تبلیغ پہنچ رہی ہے۔ اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ تحریک جدید کی تحریک بھی اپنی کئی دہائیاں مکمل کر کے دنیا کے ہر ملک میں جہاں بھی احمدیت کا پودا لگ چکا ہے وہاں قائم ہے۔

پھر اس لمبی رؤیا جس کے بارے میں مَیں نے بتایا کہ اس کے بعد حضرت مصلح موعودنے مصلح موعود ہونے کا اعلان کیا تھا اس کے بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اس رؤیا میں میری زبان پر یہ فقرہ جاری ہوا تھا کہ اَنَا الْمَسِیْحُ الْمَوْعُوْدُ مَثِیْلُہٗ وَخَلِیْفَتُہٗ۔ ان الفاظ کا میری زبان پر جاری ہونا عجوبہ تھا۔ آپ فرماتے ہیں کہ جاگتے ہوئے تو ہونا ہی تھا کہ میرے بارے میں یہ عجیب قسم کے الفاظ ہیں لیکن خواب میں بھی مجھے یہ احساس ہوا کہ یہ عجیب الفاظ میری زبان پر جاری ہوئے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ بعد میں بعض لوگوں نے جب یہ رؤیا سنی تو کہا کہ مسیحی نفس ہونے کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہار 20؍فروری 1886ء میں ہے۔ فرمایا کہ دوسرے دن حضرت مولوی سرور شاہ صاحب نے کہا کہ اشتہار میں یہ الفاظ ہیں کہ ’’وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا‘‘۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے بھی رؤیا میں دیکھا تھا کہ میں نے بت تڑوائے ہیں۔ بہت سارے بت ہیں جو میں نے تڑوا دئیے۔ اس میں بھی یہی اشارہ ہے کہ ’’وہ روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا‘‘۔ روح الحق توحید کی روح کو کہتے ہیں اور آپ نے تبلیغ اسلام کی دنیا میں بنیاد ڈال کر دنیا کے دلوں کو شرک سے پاک کیا۔ فرمایا کہ تیسرے میں نے رؤیا میں دیکھا تھا کہ میں بھاگ رہا ہوں۔ یہی نہیں کہ میں تیزی سے چلتا ہوں بلکہ دوڑتا ہوں اور زمین میرے قدموں تلے سمٹتی چلی جاتی ہے۔

پسرِ موعود کی پیشگوئی میں یہ بات ہے کہ ’’وہ جلد جلد بڑھے گا‘‘۔ اس طرح رؤیا میں دیکھا کہ میں بعض غیر ملکوں کی طرف گیا ہوں اور پھر میں نے وہاں جا کے اپنے کام کو ختم نہیں کر دیا بلکہ میں اَور آگے جانے کا ارادہ کر رہا ہوں۔ میں نے رؤیا میں کہا کہ اے عبد الشکور اب میں آگے جاؤں گا اور جب سفر سے واپس آؤں گا تو دیکھوں گا کہ تو نے توحید کو قائم کر دیا ہے، شرک کو مٹا دیا ہے اور اسلام اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم کو دلوں میں راسخ کر دیاہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جو اللہ تعالیٰ نے کلام نازل فرمایا اس میں اسی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔ یعنی تبلیغ کے کاموں کو آگے بڑھانے والا ہو گا اور ہم دیکھتے ہیں کہ یہ پیشگوئی بھی یقینا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں بڑی شان سے پوری ہوئی ہے۔ اسی طرح آپ کی اس طویل رؤیا میں پیشگوئی مصلح موعود سے ملتی جلتی بہت سی باتیں ہیں جو مختلف پیرائے میں آپ کو رؤیا میں دکھائی گئیں۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 25صفحہ 71)

بہرحال اب میں رؤیا کے حوالے سے بیان کرنے کے بجائے حضرت مصلح موعودنے واقعات کے حوالے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی کا جو تطابق بیان کیا ہے کہ آپ کے زمانے سے اور اب اس پیشگوئی کو پورا کرنے والے جو واقعات ہوئے وہ کس طرح اس سے مطابقت رکھتے ہیں ان کا مختصراً ذکر کروں گا۔

آپ فرماتے ہیں کہ لوگ کہتے تھے یہ بچہ ہے۔ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے خلافت کے مقام پر مجھے کھڑا کیا۔ اس کی طرف بھی پیشگوئی میں اشارہ کیا گیا تھا کہ وہ جلد جلد بڑھے گا۔ پھر آپ نے ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک دفعہ میں حضرت امّاں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے کمرے میں نماز کے انتظار میں ٹہل رہا تھا اور یہ کمرہ مسجد کے ساتھ تھا تو مجھے مسجد سے اونچی اونچی آوازیں بھی آئیں جن میں سے ایک شیخ رحمت اللہ صاحب کی آواز میں نے پہچان لی جو یہ کہہ رہے تھے کہ ایک بچے کو آگے کر کے جماعت کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ ایک بچے کے لئے یہ فساد برپا کیا جا رہا ہے۔ تو آپ فرماتے ہیں کہ مجھے حیرت ہوئی کہ وہ بچہ کون ہے۔ آخر مسجد میں جا کر میں نے ایک دوست سے پوچھا کہ وہ بچہ کون ہے؟ تو وہ دوست ہنس کر کہنے لگے کہ وہ بچے تم ہی ہو۔ فرماتے ہیں کہ مخالفین کا یہ قول حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام کی تصدیق کر رہا تھا کہ وہ جلد جلد بڑھے گا۔ آپ فرماتے ہیں خدا نے مجھے اتنی جلدی بڑھایا کہ دشمن حیران رہ گیا کیونکہ چند ماہ قبل مجھے بچہ کہنے والے چند ماہ کے بعد ہی مجھے ایک شاطر تجربہ کار کہہ کر میری برائی کر رہے تھے۔ بالکل الٹ گئے وہ۔ گویا بچپن میں ہی اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں سے سلسلہ میں رخنہ ڈالنے والوں کو شکست دلوا دی۔ فرماتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ لوگ مجھے بچہ سمجھتے تھے اور باوجود اس کے کہ میں واقعہ میں بچہ ہی تھا اللہ تعالیٰ نے پچیس سال کی عمر میں ایک حکومت پر قائم کر دیا اور حکومت بھی ایسی جو روحانی حکومت تھی۔ جسمانی حکومت میں تو بادشاہ کے پاس تلوار ہوتی ہے، طاقت ہوتی ہے، جتھہ ہوتا ہے، فوجیں ہوتی ہیں، جرنیل ہوتے ہیں، جیل خانے ہوتے ہیں، خزانے ہوتے ہیں وہ جس کو چاہتا ہے پکڑ کر سزا بھی دیتا ہے لیکن روحانی حکومت میں جس کا جی چاہتا ہے مانتا ہے اور جس کا جی چاہتا ہے انکار کرتا ہے اور طاقت کا کوئی سوال ہی نہیں ہوتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حکومت روحانی پر ایسی حالت میں کھڑا کیا جب خزانے میں صرف چند آنے تھے، چند پیسے خزانے میں رہ گئے تھے اور خزانے پر ہزارہا روپیہ کا قرض تھا اور پھر خدا تعالیٰ نے یہ کام ایسی حالت میں سپرد کیا جب جماعت کے ذمہ دار افراد تقریباً سب کے سب مخالف تھے اور یہاں تک مخالف تھے کہ ان میں سے ایک نے مدرسہ ہائی سکول کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ہم تو جاتے ہیں لیکن عنقریب تم دیکھو گے کہ ان عمارتوں پر عیسائیوں کا قبضہ ہو گا۔ پس ایک پچیس برس کا لڑکا جس کے لئے تمام ظاہری اسباب مخالفت میں کھڑے تھے، نہ خزانہ، نہ تجربہ کار کام کرنے والے اور میدان دشمن کے قبضے میں تھا اور وہ خوشیاں منا رہا تھا کہ عنقریب یہاں عیسائیوں کا قبضہ ہو جائے گا اور وہ لوگ یہ کہتے تھے کہ جس کو حکومت دی گئی ہے اس کے دن تنزل اور ادبار میں بدل جائیں گے۔ وہ ذلت و رسوائی دیکھے گا۔ ایک انسان غور کر سکتا ہے کہ ایسے حالات میں قوم کا کیا حال ہو سکتا ہے۔ مگر وہ دن گیا اور آج کا دن آیا۔ دیکھنے والے دیکھ رہے ہیں کہ جماعت کی جو تعداد اس وقت تھی جب وہ میرے سپرد کی گئی آج خدا تعالیٰ کے فضل سے اس سے سینکڑوں گنا زیادہ ہے۔ جن ممالک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام پہنچ چکا تھا آج اس سے بیسیوں گنا زیادہ ممالک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام پہنچ چکا ہے۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ جس خزانے میں صرف اٹھارہ آنے تھے آج لاکھوں روپے اس خزانے میں موجود ہیں۔ فرماتے ہیں کہ آج میں اگر مر بھی جاؤں تب بھی خزانے میں لاکھوں روپے چھوڑ کر جاؤں گا۔ اس سلسلہ کی تائید میں اس سے بہت زیادہ کتابیں چھوڑ کر جاؤں گا جو مجھے ملیں یعنی لٹریچر میں اور مَیں سلسلہ کی خدمت کے لئے اس سے بہت زیادہ علوم چھوڑ کر جاؤں گا جو مجھے اس وقت ملے تھے جب خدا نے مجھے خلافت کے مقام پر کھڑا کیا تھا۔ پس وہ خدا جس نے کہا تھا کہ وہ جلد جلد بڑھے گا اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہو گا اس کی وہ پیشگوئی ایسے عظیم الشان رنگ میں پوری ہوئی ہے کہ دشمن سے دشمن بھی اس کا انکار نہیں کر سکتا۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پیشگوئی کو تو اتنا اہم قرار دیا ہے جیسا کہ میں نے شروع میں بھی اقتباس پیش کیا تھا کہ یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں بلکہ عظیم الشان نشان ہے۔ اس لڑکے کی پیدائش پیشگوئی کے مطابق نو برس میں ہونی تھی۔ یہ بھی اس پیشگوئی میں الفاظ تھے جو اصل پیشگوئی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’نو برس کے عرصے تک تو خود اپنے زندہ رہنے کا ہی حال معلوم نہیں اور نہ ہی یہ معلوم کہ اس عرصہ تک کسی قسم کی اولاد خواہ مخواہ ہو گی چہ جائیکہ لڑکا پیدا ہونے پر کسی اٹکل سے قطع اور یقین کیا جائے۔‘‘ پھر صرف لڑکا ہی پیدا نہیں ہونا تھا بلکہ یہ بھی پیشگوئی تھی کہ وہ لڑکا اسلام کی شان و شوکت کا موجب ہو گا۔ وہ کیا زمانہ تھا جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر دشمن چاروں طرف سے حملے کر رہے تھے محض اس بناء پر کہ آپ نے الہام کا دعویٰ کیا تھا۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مجھے الہام ہوتا ہے۔ مجددیت کا دعویٰ نہیں تھا۔ ماموریت کا دعویٰ بھی نہیں تھا۔ اس وقت ایک لڑکے کی پیشگوئی ان اعلیٰ صفات کے ساتھ آپ نے بیان فرمائی۔

حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ جب کسی کے نائب کی شہرت کا کہا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے آقا و مطاع کی شہرت ہو گی۔ پس جب خدا تعالیٰ نے پیشگوئی میں یہ کہا کہ وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا تو اس کے یہ معنی تھے کہ اس کے ذریعہ سے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام بھی دنیاکے کناروں تک پہنچے گا۔ اب دیکھو لو پیشگوئی کتنی واضح ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں افغانستان صرف ایسا ملک تھا جہاں کسی اہمیت کے ساتھ یا کچھ حد تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچا تھاکیونکہ دو شہداء بھی تھے۔ دوسرے ممالک میں صرف اُڑتی ہوئی خبریں تھیں وہ یا مخالفین کی پھیلائی ہوئی تھیں یا کسی کے ہاتھ کوئی کتاب پہنچی تو اس نے آگے کسی کو دکھا دی۔ باقاعدہ جماعت کسی ملک میں قائم نہیں تھی۔ خواجہ کمال الدین صاحب انگلستان گئے تھے (یہاں آئے تھے) مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور جماعت کا نام لینا، کہتے تھے یہ تو زہر کے برابر ہو گا اس لئے جماعت کا نام نہیں لینا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام نہیں لینا۔ پس اگر انگلستان میں نام پھیلا تو خواجہ صاحب کا نام پھیلا۔ جماعت کا نہیں، نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اور جب حضرت مصلح موعود کو اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنایا تو خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ فرماتے ہیں کہ سماٹرا میں، جاوا میں، سٹریٹس سٹلمنٹ میں، چین میں احمدیت پھیلی۔ ماریشس میں، افریقہ کے دوسرے ممالک میں احمدیت پھیلی۔ مصر میں، فلسطین میں، ایران میں، دوسرے عرب ممالک میں اور یورپ کے کئی ممالک میں احمدیت پھیلی۔ بعض جگہ حضرت مصلح موعود کے وقت بھی جماعت کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی اور افریقہ کے ممالک میں لاکھوں میں بھی تھی۔

پھر اس پیشگوئی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک یہ خبر بھی دی گئی تھی کہ ’’وہ علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا‘‘۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں دعوے کرنے کا عادی نہیں لیکن اس کے باوجود اس حقیقت کو چھپا نہیں سکتا کہ اسلام کے وہ مہتم بالشان مسائل جن پر روشنی ڈالنا اس زمانے کے لحاظ سے نہایت ضروری تھا خدا تعالیٰ نے ان کے متعلق میری زبان اور میری قلم سے ایسے مضامین نکلوائے ہیں کہ مَیں دعویٰ کر کے کہہ سکتا ہوں کہ ان تحریروں کو اگر ایک طرف کر دیا جائے تو اسلام کی تبلیغ دنیا میں نہیں کی جا سکتی۔ قرآن کریم میں بہت سے ایسے امور ہیں جن کو اس زمانے کے لحاظ سے لوگ سمجھ نہیں سکتے تھے جبتک کہ دوسری آیات سے ان کی تشریح نہ کر دی جاتی اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے میرے ذریعہ سے ان مشکلات کو حل کیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ اسلام اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جو ضعف اور کمزوری کا دور ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ پھر اللہ تعالیٰ نے اسلام کی حفاظت کی بنیاد رکھی۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں اسلام پر وہ تمدنی حملہ نہیں ہوا تھا جو آج کیا جا رہا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ آپ کی پیشگوئی کے مطابق اس زمانے میں ایک ایسے شخص کو اپنے کلام سے سرفراز فرمائے جو روح الحق کی برکت اپنے اندر رکھتا ہو یا اپنے ساتھ رکھتا ہو جو علوم ظاہری اور باطنی سے پُر ہو۔ جو دشمن کے ان تمدنی حملوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تشریح اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان فرمودہ تشریح اور قرآن کریم کے منشاء کے مطابق دُور کرے اور اسلام کی حفاظت کا کام سرانجام دے۔ سو خدا تعالیٰ نے اپنا کام کر دیا اور میری تحریروں پر اپنی مہر تصدیق کر دی۔ آپ نے فرمایا کہ جب تک خدا تعالیٰ نے مجھے نہیں کہا میں چُپ رہا اور جب خدا تعالیٰ نے بتا دیا اور نہ صرف بتا دیا بلکہ ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو بھی بتا دوں تو میں بتا رہا ہوں کہ یہ پیشگوئی ہر لحاظ سے مجھ پر پوری ہوتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ نہ صرف خدا تعالیٰ نے مجھے ارشاد کیا کہ بتا دوں بلکہ اپنے فضل سے ایسے حالات پیدا فرمائے جو اس پیشگوئی کی صداقت کے لئے بطور دلیل کے ہیں۔ جس طرح آسمان پر چاند چمکتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ارد گرد ستارے پیدا کر دیتا ہے اسی طرح ان دنوں میں بہت سے لوگوں کو ایسی خوابیں آئی ہیں جن میں اس خواب کا مضمون دہرایا گیا ہے جو میں نے دیکھی تھی۔ چنانچہ میری رؤیا کے بعد ایک دوست ڈاکٹر محمد لطیف صاحب نے مجھے بتایا کہ انہوں نے رؤیا میں دیکھا ہے کہ ایک فرشتہ میرا نام لے کر کہہ رہا ہے کہ انبیاء و رسل کے ساتھ اس کا نام لیا جائے گا۔ انبیاء و رسل کے ساتھ نام لئے جانے کے وہی معنی ہیں جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی میں بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ مثیل مسیح ہو گا۔ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو نبی اور رسول ہیں ان کے ساتھ میرا بھی نام لیا جائے گا۔ اسی طرح ایک اور دوست نے لکھا کہ رؤیا میں میں نے دیکھا کہ مینار پر کھڑے ہو کر آپ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ کا اعلان کر رہے ہیں۔ ’’اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ‘‘ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی الہاموں میں سے الہام ہے۔ اور مینار پر اس الہام کے اعلان کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ تبلیغ احمدیت کو میرے ذریعہ سے اور بھی مضبوط کر دے گا۔ چنانچہ جیسے ابھی پہلے بیان بھی ہوا ہے کہ کس طرح مختلف ممالک میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں تبلیغ کا کام وسیع پیمانے پر شروع ہوا اور وہی بنیادیں ہیں جن پر آج بھی آگے کام چلتا چلا جا رہا ہے۔

پھر آپ نے اپنے بعض رؤیا اور الہامات کا اپنی تائید میں ذکر فرمایا۔ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی وحی سے نوازا اور اس بات کی بھی کہ اس نے اس کام کے لئے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی میں ہے مجھے تیار کیا ہے(شہادت) یہ ہے کہ مجھے ایک رؤیا ہوا جو غالباً زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا ابتدائے خلافت حضرت خلیفہ اول میں مَیں نے دیکھا تھا۔ (یہ رؤیا میں نے اسی وقت میجر سید حبیب اللہ شاہ صاحب حال سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل لاہور کو اور دوسرے احباب کو سنا دی تھی۔ فرماتے ہیں ابھی چند دن ہوئے انہوں نے خود بخود مجھ سے اس رؤیا کا ذکر کیا کہ) میں نے دیکھا تھا کہ میں مدرسہ احمدیہ میں ہوں اور اسی جگہ مولوی محمد علی صاحب بھی کھڑے ہیں۔ اتنے میں شیخ رحمت اللہ صاحب آ گئے اور ہم دونوں کو دیکھ کر کہنے لگے کہ آؤ مقابلہ کریں۔ آپ کا قد لمبا ہے یا مولوی محمد علی صاحب کا۔ میں اس مقابلے سے کچھ ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہوں مگر وہ زبردستی مجھے کھینچ کر اس جگہ پر لے گئے جہاں مولوی محمد علی صاحب کھڑے ہیں۔ یوں تو مولوی محمد علی صاحب قد میں مجھ سے چھوٹے نہیں بلکہ غالباً کچھ لمبے ہی ہیں۔ لیکن جب شیخ صاحب نے مجھے ان کے پاس پاس کھڑا کیا تو وہ بے اختیار کہہ اٹھے (یعنی شیخ صاحب کہہ اٹھے) کہ مَیں تو سمجھتا تھا کہ مولوی صاحب اونچے ہیں لیکن اونچے تو آپ نکلے۔ چنانچہ رؤیا میں مَیں دیکھتا ہوں کہ بمشکل میرے سینے تک ان کا سر پہنچتا ہے۔ پھر شیخ رحمت اللہ صاحب ایک میز لائے اور اس پر ان کو کھڑا کر دیا مگر تب بھی وہ مجھ سے چھوٹے ہی رہے۔ اس کے بعد انہوں نے اس میز پر ایک سٹول رکھا اور اس پر مولوی صاحب کو کھڑا کیا مگر پھر بھی مولوی صاحب مجھ سے چھوٹے ہی رہے۔ اس کے بعد انہوں نے مولوی صاحب کو اٹھا کر میرے سر کے برابر کرنا چاہا لیکن وہ پھر بھی نیچے ہی رہے بلکہ مزید برآں ان کی ٹانگیں اس طرح ہوا میں لٹک گئیں گویا کہ وہ میرے مقابل پر بالکل ایک بچے کی حیثیت رکھتے ہیں اور بمشکل میری کہنیوں تک پاؤں آئے۔ اب دیکھو اس میں کس طرح اس تمام مقابلہ اور پھر اس کے انجام کی بھی خبر دی گئی ہے جو مولوی محمد علی صاحب سے ہونے والا تھا۔ حالانکہ اگر ابتدائے خلافت اولیٰ کے وقت کی رؤیا ہے تو اس وقت جماعت میں خواجہ کمال الدین صاحب سر اٹھا رہے تھے، نہ کہ مولوی محمد علی صاحب۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس میں عجیب طریق پر بعد میں پیدا ہونے والے جھگڑوں کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا۔ چنانچہ دیکھ لو مولوی محمد علی صاحب میرے مقابلے میں اتنے نیچے ہوئے، اتنے نیچے ہوئے کہ اب ان کا سارا زور ہی اس بات کو ثابت کرنے پر صرف ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور وہی لوگ معزز ہوتے ہیں جو چھوٹے ہوں۔ پہلے کہا کرتے تھے کہ ہم پچانوے فیصدی ہیں اور یہ چار پانچ فیصدی ہیں اور جماعت کی اکثریت کبھی ضلالت پر نہیں ہو سکتی۔ (یہ پہلے مولوی صاحب کہا کرتے تھے) مگر اب کہتے ہیں کہ بیشک قادیان کی جماعت زیادہ ہے اور ہم تھوڑے ہیں لیکن ان کا زیادہ ہونا ہی ان کے جھوٹے ہونے کا ثبوت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے حقیقی بندے تو تھوڑے ہوا کرتے ہیں۔ یہ بالکل وہی نقشہ ہے جو اس رؤیا میں بتایا گیا تھا۔ وہ اتنے چھوٹے ہوئے، اتنے چھوٹے ہوئے کہ اب انہیں اپنا چھوٹا ہونا ہی اپنی صداقت کی دلیل نظر آتا ہے۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 25صفحہ 92۔ 93)

پھر ایک اور رؤیا بلکہ الہام کا ذکر ہے۔ فرمایا کہ جس وقت جماعت میں اختلاف پیدا ہوا اللہ تعالیٰ نے مجھے الہاماً بتایا کہ لَنُمَزِّقَنَّھُمْ کہ ہم ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔ اس وقت یہ لوگ اپنے آپ کو پچانوے فیصدی کہا کرتے تھے مگر اب ان کی کیا حالت ہے۔ خدا نے ان کو اس پیشگوئی کے مطابق حقیقت میں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔ چنانچہ خواجہ کمال الدین صاحب نے اپنی وفات سے پہلے لکھا کہ مرزا محمودنے ہمارے متعلق جو الہام شائع کیا تھا وہ بالکل پورا ہو گیا ہے اور ہم واقعہ میں ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو جیسا کہ الہام میں خبر دی گئی تھی میرے مقابلہ میں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔

میں اس کلام الٰہی کی مثالیں جو مجھ پر خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے نازل فرمایا (آپ فرماتے ہیں کہ) اس وقت اسی قدر بیان کرتا ہوں۔ بعض اَور بھی بیان کی ہیں۔ یہاں تو میں نے دو بیان کی ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ میرا ارادہ ہے کہ تحدیث نعمت کے طور پر ایک مختصر رسالہ میں کسی قدر تفصیل کے طور پر اپنے بعض الہاموں اور کشوف اور رؤیا کا ذکر کر دوں۔ (ماخوذ از خطباتِ محمود جلد 25 صفحہ 93) اب تو یہ کتاب کی صورت میں چَھپی ہوئی ہے۔ کافی ضخیم کتاب ہے۔

حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے متعدد مرتبہ مجھ پر اپنے غیب کو ظاہر کر کے اس پیشگوئی کو سچا کر دیا ہے کہ مصلح موعود خدا تعالیٰ کی روح حق سے مشرف ہو گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے نشانات ہیں جو اس نے مجھ پر ظاہر فرمائے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس میں کیا حکمت تھی کہ دوست تو پہلے ہی مجھے ان پیشگوئیوں کا مصداق قرار دیتے رہے اور میں نے اب ان پیشگوئیوں کا مصداق ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ (اس میں کیا حکمت ہے؟) میں کہتا ہوں اس میں حکمت وہی ہے جو قرآن کریم کہتا ہے کہ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ کہ اللہ تعالیٰ جب نبی کی بعثت کے بعد موعود کھڑا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ یہ پسندنہیں کرتا کہ اس کی قائم کردہ جماعت کفر کا شکار ہو جائے اور ان کا ایمان ضائع ہو جائے۔ اس لئے وہ ایسے حالات پیدا کر دیتا ہے کہ اکثریت اسے موعود ماننے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ پس لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں کو مجھ پر پورا ہوتے دیکھا تو ایمان اور یقین میں کامل ہوئے، مزید بڑھے، ان کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان بھی مزید بڑھا۔ آپ فرماتے ہیں کہ میری طرف سے بعد میں اعلان ہونے اور جماعت کی طرف سے پہلے مجھے اس پیشگوئی کا مصداق قرار دینے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو دوسری دفعہ کفر و اسلام کے امتحان میں ڈال کر ان کے ایمان کو ضائع کرنے کے لئے تیار نہ تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ دو موتیں اپنی جماعت پر وارد کرے۔ پہلی موت تو وہ تھی جب انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہ مانا۔ مسیح موعود کو جھٹلایا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی کسی نیکی کی وجہ سے رحم کر کے انہیں زندہ کر دیا۔ اور انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل فرما دیا۔ انہوں نے رشتہ داروں کو چھوڑا۔ تکالیف برداشت کیں لیکن اپنے ایمان کو سلامت رکھا۔ اس کے بعد یہ خیال کرنا کہ اس ابتلاء میں سے گزرنے والے لوگوں کی زندگی میں خدا تعالیٰ ایک ایسا موعود بھیج دے گا جس کی صداقت کے نشان اس کے دعوے کے ایک لمبے عرصے بعد ظاہر ہوں گے اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن کو پھر کفر کے گڑھے میں دھکیل دیا جائے اور صحابہ کو پھر کافر و منکر بنا دیا جائے۔ جماعت ابتلاء میں پڑ جائے۔ یہ خدا تعالیٰ کی سنت کے خلاف ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے مصلح موعود کے متعلق جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تیار کردہ جماعت تھی کی زندگی میں آنے والا تھا(یعنی جس نے صحابہ کے وقت میں آنا تھا) یہ تدبیر اختیار کی کہ پہلے اسے جماعت کا خلیفہ بنا کر ان سے عہد اطاعت لے لیا اور ان پیشگوئیوں کو پورا کرنے کے سامان پیدا کر دئیے جو اس کے متعلق بتائی گئی تھیں اور جب حقیقت جماعت پر روز روشن کی طرح کھل گئی تو پھر اسے بھی یعنی خلیفۃ المسیح کو بھی یا مصلح موعود ہونے والے کو بھی اس حقیقت سے بذریعہ آسمانی اخبار کے علم دے دیا تا آسمان اور زمین دونوں کی گواہی جمع ہو جائے اور مومنوں کی جماعت کفر و انکار کے داغ سے بھی محفوظ کر دی جائے۔ (ماخوذ از خطباتِ محمود جلد 25 صفحہ 69 تا95خطبہ بیان فرمودہ4 فروری 1944ء)

اللہ تعالیٰ اس زمانے میں بھی سب کے ایمان کو سلامت رکھے۔ ہر احمدی کے ایمان کو سلامت رکھے اور کفر و انکار کے داغ سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ احباب جماعت کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علم و معرفت کے کلام سے بھی زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنا چاہئے جو اردو میں بھی ہے اور باقی زبانوں میں بھی کچھ لٹریچر ہے، اس کو پڑھنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ اس کی سب کو توفیق دے۔

ابھی نمازوں کے بعد مَیں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو مکرم صوفی نذیر احمد صاحب ابن مکرم میاں محمد عبداللہ صاحب مرحوم کا ہے۔ آپ 7؍فروری کو جرمنی میں تقریباً 93سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ پارٹیشن سے قبل یہ فوج میں ملازمت کرتے تھے اور پارٹیشن کے بعد پھر حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم پر قائم ہونے والی فرقان فورس میں بھی شامل ہو کر بطور انسٹرکٹر اپنے فرائض بجا لاتے رہے۔ اس کے بعد پھر کراچی میں کچھ عرصہ ملازمت کی۔ پھر آپ نے محمد آباد سٹیٹ سندھ میں رہائش اختیار کر لی اور وہاں اپنا ذاتی کاروبار شروع کر دیا۔ لمبا عرصہ وہاں سیکرٹری مال کے طور پر خدمت کی بھی توفیق پائی۔

اس کے بعد پھر یہ کچھ عرصہ کے لئے ربوہ منتقل ہو گئے۔ کاروبار میں ان کے بھائی بھی شاید ان کے ساتھ ہی تھے۔ جب یہ ربوہ آ گئے تو بھائی کو بعض کاروباری مشکلات پیش آئیں۔ انہوں نے ان کو کہا کہ آپ سندھ آ جائیں لیکن انہوں نے جواب دیا کہ اب میں ربوہ میں رہوں گا۔ یہیں آ گیا ہوں۔ اس پر ان کے بھائی نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی خدمت میں لکھا کہ میرے بھائی کو واپس سندھ آنے کی تلقین فرمائیں۔ چنانچہ حضور، خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلا کر سندھ جانے کی تلقین کی۔ ربوہ میں محلہ کے صدر جماعت بھی اس وقت وہاں موجود تھے۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضور یہ ہمارے بہت مخلص کارکن ہیں۔ تو اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے فرمایا کہ سندھ میں بھی ہمیں مخلص کارکنان کی ضرورت ہے۔ اس طرح پھر صوفی صاحب واپس سندھ چلے گئے اور خود ان کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ صرف خلیفۃ المسیح کے ارشاد پر لبیک کہتے ہوئے انہوں نے اپنا ربوہ کا کاروبار بند کیا۔ فیملی کو بھی وہیں چھوڑا اور سندھ چلے گئے۔ ایک لمبا عرصہ سندھ گزارنے کے بعد آپ دوبارہ ربوہ آئے۔ صدر انجمن احمدیہ کے مختلف شعبہ جات میں اعزازی طور پر کام کرتے رہے۔ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری ربوہ میں بھی لمبا عرصہ خدمت بجا لاتے رہے۔ 1986ء میں جرمنی منتقل ہو گئے اور وفات تک پھر وہیں جرمنی میں رہے۔ جرمنی میں آپ ہائیڈل برگ کی جماعت کے صدر کے طور پر کام کرتے رہے۔ مجلس انصار اللہ کے زیر انتظام جرمنی کے چار ریجنز میں سے ایک ریجن کے ناظم علاقہ کے طور پر خدمت بجا لاتے رہے۔ بحیثیت ناظم علاقہ خلافت رابعہ میں آپ کو اول انعام بھی ملا۔ آپ کے پسماندگان میں دو بیٹیاں اور چار بیٹے ہیں۔ دو بیٹے جلال شمس صاحب اور منیر احمد جاوید صاحب واقف زندگی ہیں۔ ایک داماد حنیف محمود صاحب بھی ربوہ میں مربی سلسلہ ہیں۔ نائب ناظر اصلاح و ارشاد ہیں، واقف زندگی ہیں۔ آپ کے بیٹے ڈاکٹر جلال شمس صاحب جو یہاں ٹرکش ڈیسک کے انچارج ہیں، لکھتے ہیں کہ ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ خلیفہ وقت اگر موجود ہیں یا جب وہ یہاں آئے ہوئے ہیں تو خلیفہ وقت کے پیچھے نماز ادا کریں۔ نہایت عبادت گزار تھے اور انداز دعا بھی بڑا خوبصورت تھا۔ دعا کے وقت اس قدر درد ہوتا تھا اور اتنی آہ و زاری ہوتی تھی کہ یوں لگتا تھا کہ بس ابل ابل کے جذبات باہر آ رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری ہو رہی ہے۔ کہتے ہیں کہ ان کے بھائی منیر جاوید صاحب چھ ماہ کے تھے تو ایک دفعہ ان کو نمونیہ ہو گیا۔ بیمار ہو گئے۔ بچنا مشکل تھا تو ہمارے ڈاکٹر نے جواب دے دیا تھا۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے میری والدہ نے بھی اور والدنے بھی اس وقت بڑی گڑگڑا کر دعائیں کیں کہ اللہ تعالیٰ اس بچے کو وقف کروں گا تو اللہ تعالیٰ نے دعائیں سنیں لیکن ایک وقت میں ایسی حالت آ گئی تھی کہ ان کی والدہ نے کہا کہ بچے کی حالت مجھے تو نزع کی لگ رہی ہے۔ آپ کہاں جا رہے ہیں؟ نماز کا وقت تھا۔ باجماعت نماز پڑھنے مسجد جا رہے تھے۔ کہتے ہیں اسی کے پاس جا رہا ہوں جس کو صحت دینے کی طاقت ہے، اسی سے مانگنے جا رہا ہوں تو ان کو اپنے خدا پر بھی اتنا یقین تھا۔ سندھ میں جو جماعت کی زمینیں ہیں وہاں سے اکاؤنٹنٹ یا جب کوئی کارکن رخصت پر جاتا تو اس کی جگہ آپ رضاکارانہ طور پر خدمت سرانجام دیتے۔ وصیت آپ نے خود بھی بہت شروع میں کر لی تھی اور نوجوانوں کو وصیت کرانے کا بڑا شوق تھا۔ وصیت فارم بھی اپنے پاس رکھتے تھے اور تلقین کیا کرتے تھے کہ رسالہ الوصیت پڑھو اور وصیت کرو۔

یہ لکھتے ہیں کہ اپنی نصف اولاد چار بیٹوں میں سے دو بیٹوں کو وقف کیا اور دو بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کو وقف زندگی کو دیا۔

ان کی بیٹی نے غالباً یہ لکھا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت نہ صرف تمام عمر آپ کی روزانہ روٹین رہی بلکہ تمام بچوں کو بھی اپنے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کو بھی نماز اور تلاوت قرآن کریم کی تلقین کیا کرتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ روزانہ کا معمول تھا۔ آپ کہا کرتے تھے کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا تین بار مطالعہ کیا ہے اور بیٹی کہتی ہیں کہ مجھ سے بھی پوچھا تم بھی پڑھتی ہو کہ نہیں۔ رسم و رواج کے سخت مخالف تھے۔ کہتی ہیں کہ اول تو ہمارے خاندان میں رسم و رواج کا تصور نہیں لیکن اس کا ذرا سا بھی امکان محسوس کرتے تو طبیعت پر ناگوار گزرتا اور وہاں سے ناراض ہو کر اٹھ کر چلے جاتے۔ خدا پر بڑا توکّل تھا۔ ان کی آخری بیماری بھی کافی لمبی تھی، تکلیف دِہ تھی لیکن بڑے صبر اور شکر سے انہوں نے بیماری کو کاٹا ہے۔

ان کی عبادت کے بارے میں تو خاص طور پر ان کے ملنے والوں اور ان کے بچوں، ساروں نے ہی لکھا ہے کہ ایسا نظارہ تھا اور اس طرح عبادت کیا کرتے تھے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی روح پگھل رہی ہو۔ اور خلافت سے بھی ان کا بے انتہا تعلق تھا۔ یہاں بھی جب آیا کرتے تھے تو دفتر میں اس انتظار میں ہوتے تھے کہ کبھی میں دفتر سے باہر آؤں تو سلام کریں اور بعض دفعہ انتظار میں باوجود بڑی عمر کے اور کمزوری کے کافی کافی دیر کھڑے رہا کرتے تھے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت ساری خوبیاں دی تھیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور درجات بلند فرمائے۔ ان کی اولاد کو ان کی دعاؤں کا بھی وارث بنائے اور ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 19؍ فروری 2016ء شہ سرخیاں

    20؍فروری کا دن جماعت احمدیہ میں پیشگوئی مصلح موعود کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے ایک بیٹے کی پیدائش کی خبر دی گئی تھی جو دین کا خادم ہو گا۔ عمر پائے گا اور بیشمار دوسری خصوصیات کا حامل ہو گا۔

    پھر اپنوں اور غیروں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو یہ پیشگوئی تھی بڑی شان سے پوری ہوئی۔ اس پیشگوئی کے مصداق جیسا کہ وقت نے ثابت کیا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی تھے۔

    حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے خطبات کے حوالہ سے پیشگوئی کے پورا ہونے سے متعلق مختلف پہلوؤں کے بارہ میں ایمان افروز تذکرہ۔

    مکرم صوفی نذیر احمد صاحب ابن مکرم میاں محمد عبداللہ صاحب مرحوم کی وفات۔ مرحوم کا ذکرِ خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 19؍فروری 2016ء بمطابق19تبلیغ 1395 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن۔ لندن۔

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور