حضرت مصلح موعودؓ: حضرت مسیح موعودؑ کے بیان فرمودہ بعض سبق آموز واقعات

خطبہ جمعہ 4؍ مارچ 2016ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

گزشتہ کچھ عرصہ میں بعض جمعوں کے خطبات میں مَیں نے بعض کہاوتیں، حکایتیں یا بعض کہانیاں جو سبق آموز ہیں جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے بیان فرمائیں، بیان کیں۔ آج جب میں نے ان حکایتوں کو بیان کرنے کے لئے چنا تو مجھے خیال آیا کہ پاک و ہند کی پرانی کہانیاں اور روایتیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائی ہیں ان روایتوں کا آج تک جاری رہنا بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل سے ہی ہے۔ اگر جماعت کے لٹریچر میں یہ نہ ہوتیں تو کبھی کی یہ کہیں دفن ہو چکی ہوتیں اور اِس جدید زمانے میں ان کو کوئی بھی نہ جانتا۔ آج ان باتوں کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوتا ہے۔ بہرحال جیسا کہ مَیں نے کہا مَیں یہ دیکھ رہا تھا۔ سو ان روایتوں کو آج بیان کروں گا۔ یہ صرف کہانیاں ہی نہیں بلکہ بعض حقیقی واقعات بھی ہیں۔ بعض اَور طرز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نصائح بھی فرمائی ہوئی ہیں۔ بعض جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعض باتوں کی طرف توجہ دلاتے ہیں جو بظاہر تو لطیفے ہیں لیکن ان لطیفوں میں سے بھی آپ اصلاح کا پہلو ہمارے سامنے پیش فرما دیتے ہیں۔ ایسا ہی بظاہر ایک لطیفہ ہے جو پیش کرتا ہوں۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک مالن کی مثال بیان فرمایا کرتے تھے۔ فرماتے کہ اس کی دو لڑکیاں تھیں ایک کمہاروں کے گھر بیاہی ہوئی تھی دوسری مالیوں کے ہاں۔ جب کبھی بادل آتا تو وہ عورت دیوانہ وار گھبرائی ہوئی پھرتی تھی۔ لوگ کہتے تھے اسے کیا ہو گیا ہے؟ وہ کہتیں کہ میری ایک بیٹی نہیں رہی۔ کیوں کہ اگر بارش ہو گئی تو جو کمہاروں کے ہاں بیاہی ہوئی ہے وہ نہیں رہی، ان کا کاروبار ختم ہو جائے گا۔ اور اگر بارش نہ ہوئی تو جو مالیوں کے گھر ہے وہ نہیں رہے گی کیونکہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے ان کی سبزیاں وغیرہ نہیں اُگیں گی۔ تو بہرحال اگر ہو گئی تو کمہارن کے برتن خراب ہو جائیں گے۔ اگر نہ ہوئی تو سبزیوں والوں کی سبزی کا نقصان ہو گا۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد سوم صفحہ 211)

بظاہر تو یہ ہلکی پھلکی بات ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ مثال اس ضمن میں بیان فرمائی کہ قادیان کے دو آدمیوں کا آپس میں اختلاف ہو گیا۔ دوستوں نے سمجھایا لیکن دونوں نے یہی کہا کہ نہیں ہم نے انگریزی عدالت میں جانا ہے وہیں سے فیصلہ کروانا ہے اور ایک دوسرے پر سرکاری عدالت میں نالش کر دی۔ جب مقدمے کی پیشی ہوتی تو وہ خود یا ان کا کوئی نمائندہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں دعا کے لئے کہنے آ جاتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے تھے کہ دونوں میرے مرید ہیں اور ان سے تعلق بھی ہے۔ کس کے لئے دعا کروں کہ وہ ہارے اور وہ جیتے۔ مَیں تو یہی دعا کرتا ہوں کہ جو سچا ہے وہ جیت جائے۔

آجکل بھی یہی حال ہے۔ جب احمدی ایک دوسرے پر قضاء میں یا عدالت میں کیس کرتے ہیں تو دعا کے لئے بھی ساتھ لکھ دیتے ہیں۔ ایسی دعا کے لئے کہنا تو ایسا ہی ہے جیسے بارش ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ ہے۔ یا تو کمہاروں میں بیاہی ہوئی لڑکی کو نقصان پہنچے گا یا مالیوں میں بیاہی ہوئی لڑکی کو نقصان پہنچے گا۔ کسی نہ کسی نے نقصان اٹھانا ہے۔ یہاں یہ بھی واضح کر دوں کہ اس مثال سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں مقدمے بازی ہوتی تھی تو آج بھی اگر ہو رہی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں، یہ جائز ہے۔ یہ جائز تو ہے کہ انصاف کے لئے انسان عدالت میں جائے لیکن اگر آپس میں فیصلے دوستوں کے ذریعہ ہو سکتے ہوں، ثالثی فیصلے ہو سکتے ہوں، مل بیٹھ کے ہو سکتے ہوں تو عدالتوں میں بھی نہیں جانا چاہئے اور پھر ڈھٹائی بھی نہیں دکھانی چاہئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس نمونے کو پسندنہیں فرمایا تھا۔ پس ضد جو ہے یہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ اس لئے اس ضد سے بھی بچنا چاہئے اور پھر دعا کے لئے کہہ کے امام کو بھی مشکل سے بچانا چاہئے۔ کیونکہ اگر دونوں ہی فریق احمدی ہوں تو کس کے لئے دعا کرے اور کس کے لئے نہ کرے۔ اور وہی دعا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میں کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جس کا حق بنتا ہے اسے دے دے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ایک حکم کی طرف، ایک بات کی طرف ہمیں توجہ دلائی اور وہ یہ کہ والدین کا عزت و احترام کرنا چاہئے۔ سوائے دین کے معاملے کے، خدا تعالیٰ کے حکموں کے معاملے کے والدین کی اطاعت کرنی چاہئے۔ ان کے حقوق ادا کرنے چاہئیں۔ جب دین کا معاملہ آئے تو بیشک یہ کہا جا سکتا ہے کہ میں احترام تو آپ کا کرتا ہوں لیکن کیونکہ خدا تعالیٰ کا معاملہ ہے اس لئے یہ بات ماننا میرے لئے مشکل ہے، میری مجبوری ہے۔

حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ہر انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے اور ان کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ کرے۔ لیکن بہت سے نوجوان ایسے ہیں جو اپنے ماں باپ کا مناسب احترام نہیں کرتے اور نہ ان کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں۔ بلکہ اولاد میں سے اگر کسی کو اچھا عہدہ مل جائے تو وہ اپنے غریب والدین سے ملنے میں بھی شرم محسوس کرتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ کسی ہندو نے بڑی تکلیف برداشت کر کے اپنے لڑکے کو بی اے اور ایم اے کروایا اور اس ڈگری کو حاصل کرنے کے بعد وہ ڈپٹی ہو گیا۔ سول سروس پہ چلا گیا۔ اس زمانے میں ڈپٹی ہونا بڑا اعزاز تھا۔ گو آج کے زمانے میں کوئی بڑا اعزاز نہیں سمجھا جاتا۔ اس کے باپ کو ایک دن خیال آیا کہ میرا لڑکا ڈپٹی ہو گیا ہے مَیں بھی اس سے مل آؤں۔ چنانچہ جس وقت وہ ہندو اپنے بیٹے کو ملنے کے لئے مجلس میں پہنچا تو اس وقت اس کے پاس وکیل اور بیرسٹر وغیرہ بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ بھی اپنی گندی دھوتی کے ساتھ ایک طرف بیٹھ گیا۔ باتیں ہوتی رہیں۔ ان میں سے کسی شخص کو اس آدمی کا بیٹھنا برا محسوس ہوا اور اس نے پوچھا کہ ہماری مجلس میں یہ کون بیٹھا ہوا ہے؟ تو ڈپٹی صاحب اس کی بات سن کر جھینپ گئے اور شرمندگی سے بچنے کے لئے کہنے لگے کہ یہ ہمارے ٹہلیا ہیں۔ یعنی کھلانے والے ہیں۔ باپ اپنے بیٹے کی یہ بات سن کر غصے کے ساتھ جل گیا اور اپنی چادر سنبھالتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔ جناب! مَیں ان کا ٹہلیا نہیں ان کی ماں کا ٹہلیا ہوں۔ ساتھ والوں کو جب معلوم ہوا کہ یہ ڈپٹی صاحب کے والد ہیں تو انہوں نے اس کو بڑی لعن طعن کی کہ اگر ہمیں پہلے بتا دیتے تو ہم اس کی مناسب تعظیم و تکریم کرتے۔ ادب کے ساتھ ان کو بٹھاتے۔ بہرحال اس قسم کے نظارے دیکھنے میں آتے ہیں کہ اگر رشتہ دار غریب ہوں تو لوگ رشتہ داروں کے ساتھ ملنے سے جی چراتے ہیں۔ چاہے وہ باپ ہے یا کوئی اور رشتہ دار ہے تا کہ ان کی اعلیٰ پوزیشن میں کوئی کمی نہ آئے۔ گویا ماں باپ کا احترام یا اور دوسرے رشتے جن کا احترام کرنا چاہئے ان سے لوگ بچتے ہیں اور پھر بجائے اس کے کہ ماں باپ کا نام روشن کریں یہ تو الگ رہا ان کے نام کو بٹّہ لگانے والے بن جاتے ہیں۔ (ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 7 صفحہ 593)

ایک دفعہ حضرت مصلح موعود یہ مضمون بیان فرما رہے تھے کہ لوگ بعض علماء یا مقررین کی تقریر صرف وقتی حظ اٹھانے کے لئے عادتاً سنتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس بارے میں یہی فرمایا ہوا ہے کہ مجلسوں میں صرف اس لئے نہ آؤ کہ فلاں مقرر اچھا ہے اس کی تقریر سننی ہے بلکہ یہ دیکھو کہ اس مجلس میں کیا ذکر ہو رہا ہے اور اس سے کیا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ بہرحال بعض لوگ نہ مقرر کی بات کی گہرائی کو، نہ تقریر کو سمجھ رہے ہوتے ہیں، نہ اس کا مقصد ان کو سمجھ آ رہا ہوتا ہے۔ صرف وقتی حظ کے لئے بیٹھے ہوتے ہیں۔ اسی طرح بعض مقررین بھی صرف عارضی جذباتی کیفیت پیدا کرنے کے لئے بڑی زور دار تقریر کرتے ہیں یا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور بڑی مختلف آوازیں نکالتے ہیں۔ بناوٹی قسم کی رقت بھی طاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو ایسے ہی ایک خطیب کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک خطیب کا ذکر سناتے تھے کہ وہ لیکچر کے لئے کھڑا ہوا اور اس کا مضمون بڑا رقّت والا تھا۔ ایک شخص آیا اور کھڑا ہو گیا۔ زمیندار آدمی تھا۔ ہاتھ میں اس کے ترنگڑی تھی۔ (یہ زمینداروں کی ایک چیز ہوتی ہے تین شاخہ سا آلہ ہوتا ہے۔ اس کا دستہ لمبا ہوتا ہے جو بھوسہ وغیرہ اٹھانے کے لئے، تُوڑی اٹھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جب جدید ٹیکنالوجی آئی ہے تو اس سے پہلے پرانے زمانے میں تو یہ یہاں مغربی ممالک میں بھی استعمال ہوتا تھا۔ بہرحال دیہات سے آیا اور تقریر سننے کے لئے کھڑا ہو گیا۔ ) جتنے لوگ وہاں بیٹھے تھے ان پر تو اس تقریر کا اثر نہ ہوا لیکن وہ زمیندار تھوڑی ہی دیر بعد رونے لگ گیا۔ تقریر کرنے والا جو واعظ تھا اس کی جو شامت آئی اور اس کے دل میں ریا پیدا ہوئی تو اس نے خیال کیا کہ یہ میرے وعظ سے متاثر ہوگیا۔ اس نے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا کہ دیکھو انسانوں کے قلوب بھی کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ تم لوگ ہو جو گھنٹوں سے میرا وعظ سن رہے ہو لیکن ان پر مطلق اثر نہیں ہوا۔ مگر یہ ایک اللہ کا بندہ ہے اس پر فوراً اثر ہو گیا۔ تھوڑی دیر کے لئے آیا ہے، کھڑا ہوا ہے اور یہ رو پڑا۔ پھر اس نے لوگوں کو بتانے کے لئے کہ دیکھو کتنا اثر ہوا ہے اس سے پوچھا کہ میاں ! کس بات نے تم پہ اثر کیا ہے کہ تم رو پڑے ہو۔ اس نے کہا، (اس کو صحیح طرح زمیندار لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں جو پرانے ہوں ) کہ کل اسی طرح میری بھینس کا بچہ اَڑا اَڑا کر مر گیا تھا تو جب میں نے آپ کی آواز سنی تو وہ یاد آ گیا اور مَیں رو پڑا۔ تو یہ سن کر خطیب صاحب بہت شرمندہ ہوئے۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 6 صفحہ 137)

گویا اس شخص کے جذبات تو ابھرے لیکن خطیب کے زوردار آواز میں بولنے اور بعض دفعہ رقّت کی کوشش میں اپنے گلے سے عجیب و غریب آوازیں نکالنے کی وجہ سے اس کو اپنی بھینس کا بچہ جو گلے سے عجیب آوازیں نکالتے ہوئے مرا تھا وہ یاد آ گیا۔ تو خطیب بیچارے کو اپنے خطاب کی جو غلط فہمی ہو گئی تھی کہ میری جو رقّت بھری تقریر ہے یہ سن کے شاید یہ رو پڑا ہے تو وہ اس کی رِیا نے، اس کی بناوٹ نے فورًا دُور کر دی۔ ہمارے خلاف جو مولوی بولتے ہیں اگر کبھی ان کی تقریریں سنیں تو بالکل اسی طرح آوازیں آ رہی ہوتی ہیں۔ بہرحال یہ تو اُن لوگوں کا کام ہے۔ خاص طور پر جب ان کو احمدیت کے خلاف بولنے کا جوش آتا ہے تو جو لوگ پاکستان میں رہتے ہیں یا پاکستان سے ان دنوں میں آئے ہیں ان کو پتا ہو گا، جنہوں نے ان کی تقریریں سنی ہوں گی کہ کس طرح کی اور کیسی تقریریں ان کی ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ہم پر یہ احسان ہے کہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کی توفیق ملی ورنہ اسلام کے نام پر پیروں نے جو دوکانداریاں چمکائی ہوئی ہیں ہم بھی شاید انہی کا حصہ ہوتے۔ دعوے تو یہ پیر لوگ کرتے ہیں کہ بڑے پہنچے ہوئے لوگ ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ ہم اپنی دعاؤں سے اپنی ضروریات پوری کر لیتے ہیں۔ ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ سے ہمارابڑا قریبی تعلق ہے اور دنیا سے بالکل بے رغبتی ہے۔ لیکن ان کے عمل کیا ہیں۔ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک شخص کی نسبت فرماتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو خاص درجہ تک پہنچا ہوا سمجھتا تھا مگر ایک دفعہ ایک مرید کے ہاں گیا اور جا کر کہا کہ لاؤ میرا ٹیکس۔ یعنی مجھے نذرانہ دو۔ قحط کا موسم تھا۔ مریدنے کہا کہ کچھ نہیں ہے۔ اس دفعہ معاف کر دو۔ پیر صاحب بہت دیر تک لڑتے جھگڑتے رہے اور آخر کوئی چیز اس کی بِکوائی۔ کوئی چیز اس کو بیچنی پڑی اور پھر روپیہ لے کر اس کی جان چھوڑی۔ تو اس قسم کی کمزوریاں اور گند ان لوگوں میں دیکھے جاتے ہیں جو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں کہ ہم بڑے پہنچے ہوئے ہیں۔ (ماخوذ از ذکرالٰہی۔ انوارالعلوم جلد 3صفحہ 495-494)

اور یہ اُس زمانے کی کوئی پرانی باتیں نہیں بلکہ آج بھی پاکستان وغیرہ ملکوں میں ایسے پِیر موجود ہیں۔ قرآن کریم میں جو علم و معرفت کا بیان ہوا ہے۔ اس نے ہر علم کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ یہ اَور بات ہے کہ اپنی کم علمی اور کم غور و تدبر کی وجہ سے اکثر اس کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکتے۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا طب کے تمام اصول قرآن مجید میں بیان کئے گئے ہیں اور دنیا کی تمام امراض کا علاج قرآن مجید میں موجود ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ہو سکتا ہے مجھے اس طرح قرآن مجید پر غور کرنے کا موقع ہی نہ ملا ہو اور ممکن ہے میرا عرفان ابھی تک اس حد تک نہ پہنچا ہو مگر بہرحال (جتنا بھی عرفان ہے) اپنا عرفان اور اپنے بڑوں کا تجربہ ملا کر مَیں کہہ سکتا ہوں کہ قرآن مجید سے باہر ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 13 صفحہ 503)

پس قرآن کریم پر غور اور تدبر کرنا چاہئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تفاسیر پڑھنی چاہئیں۔ پھر حضرت مصلح موعودنے بھی تفسیریں لکھی ہیں وہ پڑھنی چاہئیں۔ خلفاء کی بعض آیتوں پہ وضاحتیں ہیں، تفسیر ہے ان کو دیکھنا چاہئے۔ خود غور کرنا چاہئے اور قرآن کریم سے ہی علم و معرفت کے نکتے تلاش کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔

بعض لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ ہم نے علم حاصل کر لیا اور یہ بہت ہے اور کسی چیز کی ہمیں ضرورت نہیں۔ کسی تجربے کی ہمیں ضرورت نہیں۔ کسی دوسرے سے مشورہ لینے کی ہمیں ضرورت نہیں۔ لیکن یہ ضروری ہے یہ یاد رکھنے والی بات ہے کہ علم کے ساتھ تجربے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص محض کتاب پڑھ کر طبیب بننا چاہے تو بہت مشکل ہے۔ بڑا محال ہے۔ مثلاً طب کی کتب ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان کے پڑھنے کے ساتھ لائق طبیب کے سامنے مریضوں کی تشخیص اور علاج کیا ہو۔ اگر ایک طبیب ہے جب کتب پڑھ لے تو پھر کسی ماہر کے سامنے مریضوں کی تشخیص اور علاج بھی کرتا ہو۔ اسی لئے ڈاکٹروں کو جب کالجوں میں پڑھایا جاتا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ ماہر ڈاکٹروں کے ساتھ ان کے پریکٹیکل بھی ہو رہے ہوتے ہیں۔ اگر یہ نہ ہو تو تجربہ حاصل نہیں ہوتا اور انسان کچھ سیکھ نہیں سکتا۔ لیکن اس کے بعد بھی تجربات ضروری ہوتے ہیں صرف یہی نہیں کہ پڑھائی کے دوران تجربہ حاصل کر لیا۔ بہرحال کسی طبیب کا طب کا علم تبھی کامل ہو گا جب وہ ساتھ عمل بھی کرے گا۔ بغیر عمل کے علم مفیدنہیں ہوتا۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی علم اور عمل کے متعلق سناتے تھے کہ ایک طبیب تھا جو بہت بڑا عالم تھا۔ اس نے طب کا خوب مطالعہ کیا ہوا تھا۔ علم حاصل کیا ہوا تھا۔ بہت پڑھا ہوا تھا۔ اس نے رنجیت سنگھ کا شہرہ سنا تو دلّی سے اس کے دربار میں پہنچا کہ شاید ترقی حاصل ہو۔ رنجیت سنگھ کا وزیر ایک مسلمان تھا۔ اس نے اس سے ملاقات کی اور اس سے مہاراجہ سے ملنے کے لئے سفارش چاہی۔ یعنی طبیب نے مسلمان وزیر سے ملاقات کی اور کہا کہ میری سفارش کرو کہ میں راجہ سے مل سکوں۔ وزیر کو اندیشہ ہوا کہ اگر اس کا رسوخ ہو گا تو مَیں کہیں گر نہ جاؤں۔ اور طبیب کی سفارش نہ کرنا بھی اس نے مروّت کے خلاف سمجھا۔ کچھ وہ طبیب صاحب کی باتوں سے سمجھ بھی گیا تھا کہ ان کا عملی تجربہ تو کچھ نہیں لیکن بہرحال علم بہت ہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ سے اس نے اس کی سفارش کی اور کہا کہ حضور یہ بہت بڑے عالم ہیں۔ انہوں نے فلاں کتاب پڑھی ہوئی ہے اور اس مسلمان وزیر نے اس طبیب کے علم کی بہت تعریف کی۔ مہاراجہ نے پوچھا کہ یہ بتاؤ کہ انہوں نے علاج بھی کیا ہے، تجربہ حاصل کیا ہے؟ وزیر نے کہا کہ تجربہ بھی حضور کے طفیل ہو جائے گا۔ آپ پہ تجربہ کر لیں گے۔ رنجیت سنگھ بڑا عقل مند آدمی تھا۔ وہ سمجھ گیا کہ علم بغیر عمل کے کچھ نہیں اور کہا کہ تجربے کے لئے کیا غریب رنجیت سنگھ ہی رہ گیا ہے۔ بہتر ہے کہ حکیم صاحب کو انعام دے کر رخصت کر دیا جائے۔ (ماخوذ از خطبات محمود۔ جلد 7 صفحہ 19-18)

پس علم کے ساتھ عملی تجربہ بھی ضروری ہے اور دنیا میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ کسی بھی میدان میں علم حاصل کرنے کے بعد اگر عملی تجربہ حاصل نہ کیا جائے تو بعض موقعے ایسے آتے ہیں جہاں کام کرتے وقت انسان کو پتا نہیں لگتا کہ آگے کیا کرنا ہے۔ ہاتھ پَیر پھول جاتے ہیں اور باوجود علم کے جو مسئلہ سامنے ہوتا ہے، جو روک ہوتی ہے وہ دُور نہیں ہو سکتی۔ پس اگر صرف علم حاصل کر کے انسان اپنے آپ کو کسی میدان کا ماہر سمجھنے لگ جائے تو پھر اسے رنجیت سنگھ والا جواب ملے گا۔

جماعت کی عمومی ترقی کے لئے بھی یہ بہت ضروری ہے اور اس کی بہت اہمیت ہے کہ نوجوان جدید علم جب حاصل کرتے ہیں تو اس کا مزید تجربہ بھی حاصل کریں اور اپنے علم کو تجربہ کار لوگوں کے ساتھ ملا کر پھر جماعت کی ترقی کے لئے بھی استعمال کریں۔ بہت سے مشورے لوگ دیتے ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی ہے اس کو استعمال کرنا ہے تو بعض دفعہ علم کی حد تک تو ٹھیک ہوتا ہے لیکن بعض مسائل ایسے ہوتے ہیں جنہیں دور کرنا ضروری ہے اور یا پھر ایسی روکیں سامنے آ سکتی ہیں جن پر غور کرنا ضروری ہوتا ہے اور تجربہ کار لوگ یہ بتا سکتے ہیں۔ ایک احمدی ہو کر ایمان کی ایسی صورت میں حفاظت ہو سکتی ہے جب نظام جماعت اور خلافت سے مضبوط تعلق ہو اور باقاعدہ تعلق ہو اور اس تعلق کے لئے ان ذرائع کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے جن سے دُور بیٹھ کر بھی وہ تعلق قائم رہے۔ حضرت مصلح موعود اس بات کو بیان کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ جماعتی معاملات میں افراد کبھی ترقی نہیں کر سکتے بلکہ کبھی زندہ نہیں رہ سکتے جب تک ان کا جڑ سے تعلق نہ ہو اور اس زمانے میں یہ تعلق پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ اخبارات ہیں۔ انسان کسی جگہ بھی بیٹھا ہوا ہو اگر اسے سلسلہ کے اخبارات پہنچتے رہیں تو ایسا ہی ہوتا ہے جیسے پاس بیٹھا ہے۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے مَیں اب بول رہا ہوں۔ اس وقت آپ بیان فرماتے ہیں کہ اب عورتوں کا جلسہ ہو رہا ہے، جلسے کی تقریر ہے۔ عورتیں لاؤڈ سپیکر پر تقریر سن رہی ہیں۔ اگر لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ سے ان تک آواز نہ جا رہی ہوتی تو ان کو کچھ علم نہ ہو تا کہ کیا بول رہے ہیں۔ پس لاؤڈ سپیکر نے عورتوں کو میری تقریر کے قریب کر دیا ہے۔ یہاں بھی اب لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ سے، عورتوں کے ہال میں بھی آواز جا رہی ہے اور وہ بھی سُن رہی ہیں۔ یہ بھی ایک قربت ہے۔

اسی طرح اخبارات دُور رہنے والوں کو قوم سے وابستہ رکھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ الحکم اور بدر ہمارے دو بازو ہیں۔ گو بعض دفعہ یہ اخبارات ایسی خبریں بھی شائع کر دیتے تھے جو ضرر رساں ہوتی تھیں مگر چونکہ ان کے فوائد ان کے ضرر سے زیادہ تھے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ہم ایسا محسوس کرتے ہیں جیسے یہ دو اخبارات ہمارے دو بازو ہیں۔ دو بازو ہونے کے یہی معنی ہیں کہ ان کے ذریعہ ہمارا جو بازو ہے یعنی جماعت وہ ہم سے ملا ہوا ہے۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ اُس زمانے میں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں، ہمارے اخبارات کی طرف احباب کو بہت توجہ ہوا کرتی تھی۔ حالانکہ جماعت اس وقت آج سے دسواں یا بیسواں حصہ تھی اور اب تو سوواں یا ہزارواں حصہ ہے۔ چنانچہ بدر کی خریداری ایک زمانے میں، اُس زمانے میں چودہ پندرہ سو رہ چکی تھی۔ اس کے بعد پھر کم ہوتی رہی۔ اسی طرح الحکم کی تعداد بھی بڑھی۔ جماعت کے دوست اس زمانے میں کثرت سے اخبارات خریدتے تھے بلکہ جو پڑھے لکھے نہیں تھے بعض دفعہ وہ بھی خریدتے تھے اور دوسروں کو پڑھنے کے لئے دے دیتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ بھی تبلیغ کا ایک ذریعہ ہے۔ (مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر۔ انوارالعلوم جلد 14 صفحہ 545-544) بلکہ ایک احمدی یکّہ چلانے والے تھے۔ پڑھے لکھے نہیں تھے۔ وہ الحکم منگوا کر رکھ لیتے تھے اور اپنی سواریاں جب ٹانگے پر لے کے جاتے تھے تو سواری کی شکل دیکھ کے پہچان لیتے تھے کہ یہ کوئی شریف النفس ہے تو اسے اخبار دے کر کہتے تھے کہ یہ اخبار آیا ہے ذرا مجھے پڑھ کر سنانا اور اس طرح بعض دفعہ جب سواری اپنی منزل پر پہنچ کے اترتی تھی تو اخبار کا نام پتا نوٹ کر لیتے تھے اور اس طرح جماعت کے رابطے میں آتے تھے اور پھر بیعتیں ہوتی تھیں۔ اس وقت لوگ کہا کرتے تھے کہ انہوں نے اپنے علاقے میں باوجود اَن پڑھ ہونے کے اور ٹانگہ چلانے کے سب سے زیادہ بیعتیں کروائیں۔

اِس زمانے میں تو اللہ تعالیٰ نے اور بھی آسانی ہمارے لئے پیدا فرمادی ہے۔ ایک تو اپنی تربیت اور خلافت سے مضبوط تعلق کے لئے ہر احمدی کو ایم ٹی اے سننے کی ضرورت ہے اس کی عادت ڈالنی چاہئے۔ دوسرے تبلیغ کے لئے جو ایم ٹی اے اور ویب سائٹ پر پروگرام ہیں وہ بھی دوسروں کو بتانے چاہئیں۔ اپنے دوستوں کے ساتھ بعض دفعہ موقع ملتا ہے تو بیٹھ کے دیکھنے چاہئیں۔ دوستوں کو ان کا تعارف کروانا چاہئے۔ بہت سارے خط مجھے ابھی بھی آتے ہیں کہ جب سے ہم نے ایم ٹی اے پر کم از کم خطبات ہی باقاعدہ سننے شروع کئے ہیں ہمارا جماعت سے مضبوط تعلق ہو رہا ہے۔ ہمارے ایمانوں میں مضبوطی پیدا ہو رہی ہے۔ پس آجکل ایم ٹی اے اور اسی طرح alislam کی جو ویب سائٹ ہے یہ جماعت کی ویب سائٹ ہے۔ یہ بڑا اچھا ذریعہ ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تبلیغ کو بھی پہنچانے کا ذریعہ ہیں اور ہر احمدی کی تربیت اور خلافت سے جوڑنے اور جماعت سے جوڑنے کا بھی ذریعہ ہیں۔ پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس کے ساتھ جڑنے کی کوشش کریں۔ بعض لوگ سوچ تو یہ رکھتے ہیں کہ ان کی اصلاح ہو اور اسلامی احکامات کی پابندی کرنے والے ہوں۔ خاص طور پر نمازوں کے بارے میں یہ خواہش رکھتے ہیں کہ باقاعدہ نمازپڑھنے والے ہوں لیکن پھر ایسے لوگوں کی صحبت میں چلے جاتے ہیں جو سست ہیں اور نتیجۃً باوجود خواہش کے خود یہ لوگ بھی سست ہو جاتے ہیں۔ یہ اثر لاشعوری طور پر پڑ رہا ہوتا ہے۔ پس تعلقات بنانے کے لئے بھی ایسے لوگوں کو چننا چاہئے جن کی دینی حالت اچھی ہو جو نمازوں کی باقاعدہ ادائیگی کرنے والے ہوں اور پابند ہوں۔ اس حوالے سے خاص طور پر مَیں ربوہ اور قادیان کے احمدیوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں جہاں تھوڑی سی جگہ پر احمدیوں کی بڑی تعداد ہے اور اسی طرح وہاں مساجد بھی تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ہیں کہ مسجدوں کو آباد کریں۔ اسی طرح بہت سے ایسے لوگ جو جماعت کے نظام کے بارے میں غلط خیالات رکھتے ہیں ان سے بھی بچنے کی کوشش کریں۔ باہر سے جو لوگ جاتے ہیں وہ بعض دفعہ اس بارہ میں مجھے لکھتے بھی ہیں، شکایتاً بھی لکھتے ہیں کہ ربوہ میں بھی نمازوں کے اہتمام کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔ پس ربوہ کے شہریوں کو اس طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔ جو کمزور ہیں وہ کمزوروں کا اثر لینے کی بجائے ان لوگوں کا اثر لیں جن کا جماعت سے مضبوط تعلق بھی ہے اور جو نماز میں بھی باقاعدہ ہیں۔ اس کی مثال دیتے ہوئے کہ کس طرح اثر ہوتا ہے اور عقل مند کس طرح سمجھ جاتا ہے کہ مجھ پر دوسرے کا اثر ہو رہا ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ جالینوس ایک جگہ کھڑا تھا۔ ایک دیوانہ دوڑتا ہوا آیا اور آ کر اس سے چمٹ گیا۔ جب جالینوس نے اس کو چھوڑا تو اس نے کہا میرا فصدنکلواؤ۔ یعنی خون نکلواؤ۔ اس پر لوگوں نے پوچھا کہ فصد کیوں کھلواتے ہیں۔ کہنے لگا کہ یہ دیوانہ جو آ کر مجھ کو چمٹ گیا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجھ میں بھی کوئی رَگ جنون کی ہے کہ یہ اَوروں کو چھوڑ کر مجھ سے آ چمٹا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرے اندر جنون کی کوئی رَگ ہے جس سے اس دیوانے کو مناسبت ہوئی اور وہ میری طرف کھچا آیا۔ تو مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے پیچھے جھکنا جو نمازی نہیں ہیں اور ان کے پیچھے چلنا جو نمازوں میں سست ہیں یہ بتاتا ہے کہ انہیں بھی سست لوگوں سے مناسبت ہے۔ (ماخوذ از خطبات محمود۔ جلد 9 صفحہ 349-348)

پس عمومی طور پر ہر جگہ ہی ہر احمدی کو سست لوگوں سے مناسبت رکھنے کی بجائے چست لوگوں سے، active لوگوں سے، جماعت کے فعّال لوگوں سے مناسبت رکھنی چاہئے۔ ان سے تعلق رکھنا چاہئے اور جب یہ مناسبت قائم ہوکر چست لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جائے گا تو سست بھی پھر چست ہو جائیں گے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس میں ایک دفعہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ مَیں معجزہ دیکھنا چاہتا ہوں۔ اگر مجھے فلاں معجزہ دکھا دیا جائے تو میں آپ پر ایمان لانے کے لئے تیار ہوں۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ مداری نہیں۔ وہ کوئی تماشا نہیں دکھاتا بلکہ اس کا ہر کام حکمت سے پُر ہوتا ہے۔ آپ یہ بتائیں کہ جو پہلے معجزے دکھائے گئے تھے ان سے آپ نے کیا فائدہ اٹھایا ہے کہ آپ کے لئے اب کوئی نیا معجزہ دکھایا جائے۔ مگر انسانی فطرت کی کمزوری اس کو بھی ناپسند کرتی ہے بلکہ شاید اسے بدتہذیبی قرار دیتی ہے۔ وہ جائز سمجھتی ہے کہ سستی اور غفلت میں مبتلا چلی جائے بلکہ سستی اور غفلت میں ہمیشہ پڑی رہے اور کوئی اس سے اتنا بھی سوال نہ کرے کہ اس نے اپنی ذمہ داری کو کس حد تک ادا کیا ہے ہاں جب وہ کوئی تماشا دیکھنا چاہے اس وقت اسے وہ تماشا ضرور دکھا دیا جائے۔ (ماخوذ از ’تحریک جدید ایک قطرہ ہے‘۔ انوارالعلوم جلد 14 صفحہ 228-227)

یہ انسانی فطرت ہے۔ یہ عادت ضدی انسانوں کی ہمیشہ سے ہے کہ نہ ماننا ہو تو شیطان کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ تمام انبیاء سے یہی سوال ہوتے رہے ہیں حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی نہ ماننے والوں نے ایسے ہی مطالبے کئے تھے کہ سونے کے گھر کا نشان دکھائیں۔ آسمان پر چڑھنے کا نشان دکھائیں اور پھر یہی نہیں بلکہ آسمان سے ہمارے سامنے کتاب بھی لے کر آئیں۔ اور اس طرح کی بیہودہ باتیں اور اعتراض تھے۔ پس اللہ تعالیٰ ان بیہودہ مطالبوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا اور نہ اس کے انبیاء دیتے ہیں۔ بے شمار نشانات ہیں اگر ماننا ہو تو نیک فطرتوں کے لئے وہی کافی ہوتے ہیں۔ بعض لوگوں نے تحریک جدید پر بعض اعتراض کئے کہ یہ کیا نئی سکیم شروع کر دی ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے حضرت مصلح موعودنے ایک جگہ پر فرمایا کہ درحقیقت میری تحریک کوئی جدید تحریک نہیں بلکہ یہ قدیم تحریک ہے۔ اور اس جدید کے لفظ سے نہ صرف ان ماؤف اور بیمار دماغوں سے تلعّب کیا گیا ہے جو بغیر جدید کے کسی بات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے جس طرح ڈاکٹر جب ایک مریض کا لمبے عرصے تک علاج کرتا رہتا ہے تو بیمار بعض دفعہ کہتا ہے کہ مجھے ان دواؤں سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ تب وہ کہتا ہے اچھا میں آج تمہیں نئی دوا دے دیتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ پہلی دوا میں کچھ اور ملا دیتا ہے۔ مثلاً اس زمانے میں آپ نے مثال دی کہ ٹنکچر کارڈمم (Tincture Cardamom) ملا کر خوشبو دار بنا دیتا ہے اور مریض سمجھتا ہے کہ یہ نئی دوا مجھے مل گئی اور ڈاکٹر بھی اسے نئی دوا کہنے میں حق بجانب ہوتا ہے کیونکہ دوا میں ایک نئی دوا ملائی ہوتی ہے مگر وہ اس لئے اسے جدید بناتا ہے تا مریض دوائی پیتا رہے اور اس کی امیدنہ ٹوٹے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ایک دفعہ ایک بڑھیا آئی۔ اسے ملیریا بخار تھا جو لمبا ہو گیا، اتر نہیں رہا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے فرمایا کہ تم کونین کھایا کرو۔ وہ کہنے لگی کونین؟ میں تو اگر کونین کی گولی کا چوتھا حصہ بھی کھا لوں تو ہفتہ ہفتہ بخار کی تیزی سے پھونکتی رہتی ہوں۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ کونین کھانے کے لئے تیار نہیں تو چونکہ عام طور پر ہمارے ملک میں کونین کو کَونَین کہتے ہیں جس کے معنی دو جہانوں کے ہوتے ہیں یعنی دو جہان۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے کھانے کو تو کونین دی، گولیاں دیں۔ مگر فرمایا یہ دَارین کی گولیاں ہیں انہیں استعمال کرو۔ کونَین اور دَارین دو جہان ہی ہیں۔ واضح ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا تھا یہ کونِین نہیں ہے۔ اس کا نیا نام رکھ دیا۔ دو تین گولیاں ہی اس نے کھائی ہوں گی کہ آ کے کہنے لگی کہ مجھے تو اس دوا سے ٹھنڈک پڑ گئی ہے کچھ اور گولیاں دیں۔ پہلے تو وہ کہتی تھی کہ آدھی گولی کھا لوں، چوتھا حصہ کھا لوں تو بخار نہیں اترتا، گرمی ہو جاتی ہے یا نام بدلنے سے ہی ٹھنڈک پڑ گئی۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرح پرانی تحریک کا نام جدید رکھ دیا۔ اور تم نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ جدید تحریک ہے۔ وہ لوگ جن کے اندر اخلاص تھا وہ چاہتے تھے کہ روحانیت میں ترقی کریں انہوں نے جب ایک تحریک کا نیا نام سنا تو انہوں نے کہا یہ نئی چیز ہے۔ آؤ ہم اس سے فائدہ اٹھائیں اور وہ لوگ جن کے اندر نفاق تھا انہوں نے یہ سمجھ کر کہ یہ نئی چیز ہے، کہنا شروع کر دیا کہ اب یہ نئی نئی باتیں نکال رہے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طریق سے انحراف کر رہے ہیں۔ نہ اِس نے بات سمجھنے کی کوشش کی اور نہ اُس نے فائدہ اٹھایا۔ (ماخوذ از انوارالعلوم جلد 14 صفحہ 230 و 231)

پس یہ ایک قانون ہے جو ہمیشہ سے مقرر ہے آدم کے وقت سے آج تک کہ جب شیطان تم پر حملہ کرے تو تمہیں اس سے بچنے کے لئے ترکیبیں نکالنی پڑیں گی اور شیطان سے بچنے اور دین کے کام میں ترقی کے لئے جب بھی کوئی ترکیب نکالی جائے تو اصل میں وہ اس مقصد کے حصول کے لئے ہوتی ہے جس کے لئے انبیاء آئے اور جس کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور جس کے لئے اس زمانے میں آپ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے۔ کسی بھی مقصد کے حصول کے لئے اور جماعت کی مجموعی ترقی کے لئے ذمہ دار افراد کو مسلسل اور پیچھے پڑ کر کوشش کرنے کی ضرورت ہے چاہے وہ تربیت کا کام ہو یا کوئی اور کام ہو۔

حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں ایک فقیر تھا جو اکثر اس کمرے کے سامنے جہاں پہلے محاسب کا دفتر تھا بیٹھا کرتا تھا۔ جب اسے کوئی آدمی احمدیہ چوک میں سے آتا ہوا نظر آتا تو کہتا کہ ایک روپیہ دے دو۔ جب آنے والا کچھ قدم آگے آ جاتا تو کہتا اٹھنّی ہی سہی۔ جب وہ کچھ اور آگے آتا تو کہتا چونّی ہی سہی۔ جب اس کے مقابلے پر آ جاتا تو کہتا دو آنے ہی دے دو۔ جب اس کے پاس سے گزر کر دو قدم آگے چلا جاتا تو کہتا ایک آنہ ہی سہی۔ جب کچھ اور آگے چلا جاتا تو کہتا ایک پیسہ ہی دے دے۔ جب کچھ اور آگے چلا جاتا تو کہتا دھیلہ ہی سہی۔ جب جانے والا اس موڑ کے قریب پہنچتا جہاں مسجد اقصیٰ کی طرف مڑتے ہیں تو کہتا کہ پکوڑا ہی دے دو۔ جب دیکھتا کہ آخری نکّڑ پر پہنچ گیا ہے تو کہتا مرچ ہی دے دو۔ وہ روپے سے شروع کرتا اور مرچ پر ختم کرتا۔ اسی طرح کام کرنے والوں کو بھی یہی سمجھنا چاہئے کہ کچھ نہ کچھ تو ہمارے ہاتھ آجائے۔ اگر پہلی دفعہ سو میں سے ایک کی طرف توجہ کرے گاتو اگلی دفعہ دو ہو جائیں گے اس سے اگلی دفعہ چار ہوجائیں گے اور اس طرح آہستہ آہستہ بڑھتے جائیں گے۔ پس کام کرو اور پھر نتیجہ دیکھو۔ جب دنیوی کام بے نتیجہ نہیں ہوتے تو کس طرح سمجھ لیا جائے کہ اخلاقی اور روحانی کام بغیر نتیجہ کے ہو سکتے ہیں۔ لیکن جن کے من ٹھیک نہ ہوں وہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم تو کام کرتے ہیں لیکن نتیجہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ ’نتیجہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے‘ کہنے سے ان کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ ہم نے تو اپنی طرف سے پوری محنت کی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم سے دشمنی نکال لی۔ یہ کہنا کس قدر حماقت اور بیوقوفی ہے۔ گویا اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ جو کام ہم کرتے ہیں اس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ مرتب ہوتا ہے۔ لیکن اچھے یا برے نتیجہ کا دارومدار ہمارے اپنے کام پر ہوتا ہے۔ کسی شخص نے 1/10حصے کے لئے محنت کی ہے تو قانون قدرت یہی ہے کہ اس کا 1/10حصہ نتیجہ نکلے گا۔ اب اس کے 1/10حصے نکلنے کے یہ معنی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قانون قدرت کی وجہ سے 1/10 حصہ نتیجہ نکلے گا ورنہ اس نے محنت تو زیادہ کی تھی۔ قانون قدرت کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا لیکن شرارتی نفس یہ کہتا ہے کہ میں نے تو اپنا فرض ادا کر دیا تھا لیکن اللہ میاں نے اپنا فرض ادا نہیں کیا اور بھول گیا۔ اس سے بڑا کفر اور کیا ہو سکتا ہے۔ پس جہاں تک محنت اور کوشش کا سوال ہے نتائج ہمارے ہی اختیار میں ہیں اور اگر نتیجہ اچھا نہیں نکلتا تو سمجھ لو کہ ہمارے کام میں کوئی غلطی رہ گئی ہے۔ کوشش کرنی چاہئے کہ ہر کام کے نتائج کسی معین صورت میں ہمارے سامنے آ سکیں اور جب تک یہ نتائج سامنے نہ آئیں ہمیں آرام سے نہیں بیٹھنا چاہئے۔ (ماخوذ از انوارالعلوم جلد 18 صفحہ 201 و 202)

بعض لوگ لکھتے ہیں کہ ہم نے بڑی عبادت کی، بڑی دعائیں کیں، ہمیں ہمارے مقصدنہیں حاصل ہو سکے۔ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوئیں۔ تو ان کو بھی سمجھ لینا چاہئے کہ یا تو جس حد تک جانا چاہئے وہاں تک نہیں پہنچے یا پھر انہوں نے منزل تو مقرر کر لی لیکن راستہ غلط لے لیا۔ پس اس پر ایک دعا کرنے والے کو غور کرنا چاہئے کہ راستہ بھی صحیح ہو اور جو جتنی محنت چاہئے وہ بھی ضروری ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ کیمیا گر جب ناکام رہتا ہے تو کہتا ہے کہ ایک آنچ کی کسر رہ گئی۔ گویا وہ کیمیا بننے سے ناامیدنہیں ہوتا بلکہ اپنی کوشش کا نقص قرار دیتا ہے حالانکہ کیمیا گری میں امید کی گنجائش ہی نہیں۔ اور خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق بڑھنے اور اس کے قریب ہونے کی تو پوری امید ہے مگر کیمیا گر جس کی ساری عمر ہی ایک آنچ کی کسر میں گزر جاتی ہے وہ تو باوجود ہر دفعہ کی ناکامی کے ناامیدنہیں ہوتا لیکن وہ شخص جو خدا تعالیٰ کے قریب ہونا چاہے کامیاب نہیں ہوتا تو اپنے طریقِ عمل کا نقص قرار نہیں دیتا بلکہ خدا تعالیٰ سے ناامید ہو کر فوراً ناامید ہو جاتا ہے اور اپنی تمام کوششیں چھوڑ بیٹھتا ہے۔ پس کیمیا گر تو غلطی کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور سونا بننے کے خیال کو یقینی سمجھتا ہے لیکن خدا کو پانے کی کوشش کرنے والا اپنی غلطی کو خدا کی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے چھوڑ دیتا ہے۔ (ماخوذ از خطباتِ محمود جلد 11 صفحہ 60)

آجکل کی ریسرچ کرنے والوں کا بھی یہی حال ہے۔ سالوں ایک مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ریسرچ کرتے ہیں۔ سالوں لگاتے ہیں اور پھر سالوں بعد جا کے کہیں کامیابی ملتی ہے اور وہ بھی ضروری نہیں ہے کہ جس طریق کو ایک دفعہ اپنایا ہو اسی کو اختیار کریں۔ مختلف تجربات میں مختلف طریقے بدلتے رہتے ہیں۔ پس روحانیت کے حصول اور خدا تعالیٰ کے قرب اور دعاؤں کی قبولیت کے لئے بھی اپنے طریق کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اپنی اصلاح کی ضرورت ہے اور اس کے جائزے کی ضرورت ہے۔ کس طرح اصلاح کر رہے ہیں۔ اس کے لئے اپنے نفس کو ٹٹولنے کی ضرورت ہے۔ اپنی عبادتوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے ہر قسم کے اعمال کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کس قسم کے ہمارے اعمال ہیں۔ اپنی سوچوں اور عقل کی درستی کی ضرورت ہے۔ جب خدا تعالیٰ نے کہا کہ میں اپنے بندوں کے قریب ہوں اور ان کی دعائیں سنتا ہوں اور پھر اگر وہ قریب نہیں آتا، دعائیں نہیں سنی جاتیں تو کہیں نہ کہیں، کسی جگہ ہماری کوششوں اور حالتوں میں کمی ہے۔

حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ گداگر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک نرگدا اور ایک دوسرا خرگدا۔ نر گدا وہ ہوتا ہے جو کسی کے دروازے پر کر آواز دیتا ہے کہ کچھ دو۔ اگر کسی نے کچھ ڈال دیا تو لے لیا۔ نہیں تو دو تین آوازیں دے کر آگے چلے گئے۔ مگر خرگدا وہ ہوتا ہے کہ جب تک نہ ملے ٹلتا نہیں۔ اس قسم کے گداگر لئے بغیر پیچھا ہی نہیں چھوڑتے اور ایسے گداگر بہت ہی تھوڑے ہوتے ہیں۔ مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس بھی آ کر ایک شخص بیٹھا کرتا تھا۔ وہ نہیں اٹھتا تھا جب تک کچھ لے نہ لیتا۔ وہ بیٹھا رہتا تھا جب تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام باہر نہ نکلتے اور اسے کچھ دے نہ دیتے۔ پھر بعض اوقات وہ رقم مقرر کر دیتا کہ اتنی رقم لینی ہے اور اگر حضرت صاحب اس سے کم دیتے تو وہ ہرگز نہ لیتا۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ مہمان اسے اتنی رقم پوری کر دیتے تھے کہ چلا جائے۔ فرماتے ہیں کہ مَیں نے دیکھا کہ اگر اس کے منہ سے کوئی رقم نکل گئی کہ یہ لینی ہے اور وہ پوری نہ ہوتی تو وہ جاتا نہ تھا جب تک رقم پوری نہ کر دی جاتی اور اگر حضرت صاحب بیمار ہوتے تو تب تک نہ جاتا جب تک صحت یاب ہو کر آپ باہر تشریف نہ لاتے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ دعا کی قبولیت کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان خرگدا بنے اور مانگتا چلا جائے اور خدا کے حضور دھونی رما کر بیٹھ جائے اور ٹلے نہیں جب تک کہ خدا کا فعل یہ ثابت نہ کر دے کہ اب اس کے متعلق دعا نہ کی جائے۔ (ماخوذ از خطباتِ محمود جلد 10 صفحہ 200)

خدا کا فعل کہ اب اس کے متعلق دعا نہ کی جائے کئی طرح سے ہے۔ ایک عورت مثلاً حمل میں ہے۔ آجکل کی سائنس کے مطابق یہ پتا چل جاتا ہے کہ لڑکی پیدا ہو رہی ہے یا لڑکا پیدا ہونا ہے اور آخری وقت میں آ کے بالکل پتا چل جاتا ہے۔ اس وقت یہ کہناکہ اب لڑکا ہی ہو یہ خدا تعالیٰ کے فعل کے خلاف ہے۔ وہ تو پیدائش کا آخری وقت ہے۔ ہاں اگلے حمل کے لئے یہ دعا قبول ہو سکتی ہے کہ آئندہ حمل میں پھر اللہ تعالیٰ لڑکا دے دے یا کبھی خدا کا منشاء کھول دیا جائے اور پھر بھی انسان دعا کرتا رہے تو پھر بھی یہ غلط ہے۔ یہ بے ادبی بن جاتی ہے۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ کبھی تدبیر کو بھی نہیں چھوڑنا۔ تدبیر بھی دعا کے ساتھ ضروری ہے۔ تدبیر اور دعا مستقل مزاجی سے کرتے رہنا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو کھینچتا ہے۔ تدبیر کا دعا کے ساتھ ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے تھے کہ تدبیر کا دعا کے ساتھ نہ ہونا بالکل غلط چیز ہے اور ایسے شخص کی دعا اس کے منہ پر ماری جاتی ہے جو صرف دعا کرتا ہو اور تدبیر نہ کرتا ہو۔ جو تدبیر اور دعا کو ساتھ نہیں رکھتا اس کی دعا نہیں سنی جاتی کیونکہ دعا کے ساتھ تدبیر کا نہ کرنا خدا تعالیٰ کے قانون کو توڑنا اور اس کا امتحان لینا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ بندے اس کا امتحان لیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مستقل مزاجی سے اور اپنی حالتوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق بناتے ہوئے اور تمام ظاہری پہلو اپناتے ہوئے دعاؤں کی توفیق عطا فرمائے۔

نمازوں کے بعد مَیں ایک جنازہ بھی پڑھاؤں گا جو شہید کا جنازہ ہے۔ مکرم قمر الضیاء صاحب ابن مکرم محمد علی صاحب ساکن کوٹ عبدالمالک ضلع شیخو پورہ کو مخالفین نے یکم مارچ 2016ء کو دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے ان کے گھر کے باہر چھریوں کے وار کر کے شہید کر دیا۔ اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ وقوعہ کے روز شہید مرحوم قمرالضیاء صاحب گھر سے ملحقہ اپنی دوکان کو بند کر کے اپنے بچوں کو سکول سے لینے کے لئے گھر سے نکلے ہی تھے کہ دو نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر حملہ کر دیا اور ان کو گھسیٹتے ہوئے گلی میں لے گئے۔ ایک شخص نے قمر الضیاء صاحب کو دبوچ لیا اور دوسرے نے ان پر چھریوں کے ساتھ وار شروع کر دئیے۔ مکرم قمر الضیاء صاحب نے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کی لیکن ان کی چھاتی، کندھے، دل اور گردن پر چھریوں کے زخم آئے۔ ایک حملہ آور نے گردن کے پیچھے چھری سے وار کیا اور چھری جسم میں پیوست چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گئے۔ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی آپ شہید ہو گئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

شہید مرحوم کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ ان کے پڑدادا مکرم دولت خان صاحب کے ذریعہ ہوا تھا جنہوں نے اولکھ بیری ضلع گورداسپور سے قادیان جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وفات کے بعد بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔ شہید مرحوم کے دادا مکرم فتح محمد صاحب بھی بفضلہ تعالیٰ پیدائشی احمدی تھے۔ وہ بھی بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد یہ خاندان ہجرت کر کے کالیکے ناگرے ضلع سیالکوٹ میں آ کر آباد ہوا۔ شہید مرحوم کی پیدائش وہیں کی ہے۔ پھر یہ 1985ء میں کوٹ عبدالمالک آ گئے۔ شہید مرحوم نے بی کام تک تعلیم حاصل کی۔ کچھ عرصہ مختلف ادارہ جات میں ملازمت کی۔ بعد میں اپنے گھر سے ملحقہ ایک دکان کھول لی۔ کاروبار کا آغاز کیا۔ فوٹو سٹیٹ اور موبائل کی دوکان بنائی۔ 2004ء میں ان کی شادی ہوئی۔ بے شمار خوبیوں کے حامل تھے۔ نیک، ایماندار، نیک دل، نیک سیرت، شریف النفس، ملنسار شخصیت کے مالک، نہایت مخلص، فدائی اور دلیر نوجوان تھے۔ مرکزی مہمانان کی خدمت میں پیش پیش رہتے۔ جماعتی خدمات میں بھی ہمیشہ نمایاں رہے۔ ہر ایک سے خوش خلقی سے پیش آتے تھے۔ شہید کے بھائی مظہر علی صاحب بیان کرتے ہیں کہ نمازوں کی ادائیگی کا بالعموم اور نماز جمعہ کی ادائیگی کا بالخصوص انتظام کیا کرتے تھے۔ شہید مرحوم کو باقاعدگی کے ساتھ جمعہ پڑھتے دیکھ کر دیگر غیر از جماعت دوکاندار بھی اپنی دوکانیں بند کر کے جمعہ کی ادائیگی کے لئے جاتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اگر یہ مرزائی جمعہ کے وقت دوکان بند کر کے جا سکتا ہے تو ہمیں بھی جانا چاہئے۔ آپ اس وجہ سے بھی کبھی جمعہ نہیں چھوڑتے تھے کہ میری وجہ سے غیر احمدی لوگ بھی جمعہ کے لئے جاتے ہیں۔ آپ کی اہلیہ نے بتایا کہ گزشتہ ماہ سے شہید مرحوم کے رویے میں نمایاں تبدیلی آئی تھی اور میرا پہلے سے بڑھ کے خیال رکھتے۔ کسی سخت بات کا بھی برا نہیں مناتے تھے۔ شہید مرحوم اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے اور اس وقت سیکرٹری اصلاح و ارشاد کے عہدے پر خدمت کی توفیق پا رہے تھے۔ اس کے علاوہ بھی مختلف خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اس سے پہلے مختلف جماعتی عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔ تمام جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ شہید مرحوم کو جماعتی مخالفت کا سامنا تھا اور اس کے بارے میں پولیس اور انتظامیہ کو تحریری درخواستیں بھی دی جا چکی تھیں۔ 14؍اگست 2012ء کو تقریباً پانچ سو افراد پر مشتمل جلوس پولیس کی نگرانی میں قمر الضیاء صاحب کے گھر کے باہر اکٹھا ہوا۔ مخالفین کے دباؤ پر ایک پولیس والے نے دوکان کے کاؤنٹر پر چڑھ کر تصاویر اتارنی شروع کر دیں۔ دوکان کے شٹر پر لکھے ہوئے۔ وَاللّٰہُ خَیْرُ الرَّازِقِیْن اور کلمہ طیبہ کو سیاہ رنگ پھیر کر مٹا دیا۔ بعد ازاں اس گھر کی دیوار پر آویزاں اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اور مَاشَآءَ اللّٰہ کی تحریرات کو بھی چھَینی ہتھوڑے سے توڑ دیا۔ آخر میں گھر کے باہر لگی نام والی تختی جس پر قمر الضیاء صاحب کے والد صاحب کا نام محمد علی لکھا ہوا تھا اس سے ’محمد‘ بھی چھَینی ہتھوڑے سے توڑ دیا گیا۔ یہ تو ان لوگوں کی حالت ہے سوائے اس کے کہ اس پہ اِنَّا لِلّٰہ پڑھا جائے اور کیا کِیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح 26؍جنوری 2014ء کو چالیس سے پچاس مولویوں کے ایک جلوس نے قمرالضیاء صاحب کو ان کی دوکان سے زبردستی باہر نکال کر تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر کی بے حرمتی کی اور نازیبا الفاظ استعمال کرتے رہے۔ اس دوران پولیس موقع پر پہنچ کر قمر الضیاء صاحب کو تھانے لے گئی لیکن بعد ازاں مخالفین کے خلاف بغیر کسی کارروائی کے معاملہ رفع دفع کروا دیا۔ تویہ مخالفانہ حالات تھے۔ دھمکیاں ان کو مستقل ملتی تھیں۔ اس وجہ سے ان کا خیال تھا کہ شاید بیرون ملک چلے جائیں لیکن اللہ تعالیٰ نے شہادت کا رتبہ عطا فرمایا اور اپنے پاس بلا لیا۔

شہید مرحوم نے پسماندگان میں دو بھائی اور دو ہمشیرگان کے علاوہ والد مکرم محمد علی صاحب، اہلیہ روبی قمر صاحبہ تین بچے حذیفہ احمد عمر دس سال، بیٹی امۃ المتین عمر سات سال اور ایک دوسری بیٹی امۃ الہادی عمر چار سال چھوڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اس شہید بھائی کے درجات بلند فرمائے۔ اپنی رضا کی جنتوں میں ہمیشہ ان کے درجات بلند فرماتا چلا جائے اور نعماء جنت سے نوازتا رہے۔ اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 4؍ مارچ 2016ء شہ سرخیاں

    حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیان فرمودہ بعض سبق آموز واقعات کا تذکرہ۔

    یہ جائز تو ہے کہ انصاف کے لئے انسان عدالت میں جائے لیکن اگر دوستوں کے ذریعہ آپس میں فیصلے ہو سکتے ہوں، ثالثی فیصلے ہو سکتے ہوں، مل بیٹھ کے ہو سکتے ہوں تو عدالتوں میں بھی نہیں جانا چاہئے اور پھر ڈھٹائی بھی نہیں دکھانی چاہئے۔

    ہر انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے اور ان کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ کرے۔ لیکن بہت سے نوجوان ایسے ہیں جو اپنے ماں باپ کا مناسب احترام نہیں کرتے اور نہ ان کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں۔ قرآن کریم پر غور اور تدبر کرنا چاہئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تفاسیر پڑھنی چاہئیں۔ پھر حضرت مصلح موعودنے بھی تفسیریں لکھی ہیں وہ پڑھنی چاہئیں۔ خلفاء کی بعض آیتوں پہ وضاحتیں ہیں، تفسیر ہے ان کو دیکھنا چاہئے۔ خود غور کرنا چاہئے اور قرآن کریم سے ہی علم و معرفت کے نکتے تلاش کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔

    علم کے ساتھ عملی تجربہ بھی ضروری ہے اور دنیا میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔

    ایک احمدی ہو کر ایمان کی ایسی صورت میں حفاظت ہو سکتی ہے جب نظام جماعت اور خلافت سے مضبوط تعلق ہو اور باقاعدہ تعلق ہو اور اس تعلق کے لئے ان ذرائع کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے جن سے دُور بیٹھ کر بھی وہ تعلق قائم رہے۔

    آجکل ایم ٹی اے اور اسی طرح alislam کی جو ویب سائٹ ہے یہ جماعت کی ویب سائٹ ہے یہ بڑا اچھا ذریعہ ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تبلیغ کو بھی پہنچانے کا ذریعہ ہیں اور ہر احمدی کی تربیت اور خلافت سے جوڑنے اور جماعت سے جوڑنے کا بھی ذریعہ ہیں۔ پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس کے ساتھ جڑنے کی کوشش کریں۔ اپنے دوستوں کو بھی ان کا تعارف کروانا چاہئے۔

    تعلقات بنانے کے لئے بھی ایسے لوگوں کو چننا چاہئے جن کی دینی حالت اچھی ہو، جو نمازوں کی باقاعدہ ادائیگی کرنے والے ہوں اور پابند ہوں۔ اس حوالے سے خاص طور پر مَیں ربوہ اور قادیان کے احمدیوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ ربوہ کے شہریوں کو اس طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔ جو کمزور ہیں وہ کمزوروں کا اثر لینے کی بجائے ان لوگوں کا اثر لیں جن کا جماعت سے مضبوط تعلق بھی ہے اور جو نماز میں بھی باقاعدہ ہیں۔

    مکرم قمر الضیاء صاحب ابن مکرم محمد علی صاحب ساکن کوٹ عبد المالک ضلع شیخوپورہ کی شہادت۔ شہید مرحوم کا ذکرِ خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 04؍مارچ 2016ء بمطابق04امان 1395 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن۔ لندن۔

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور