حضرت مصلح موعودؓ کی بیان فرمودہ اہم نصائح

خطبہ جمعہ 18؍ مارچ 2016ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

ماں باپ بعض دفعہ تو بچوں کو کسی کام کے کرنے پر سختی سے سرزنش کرتے ہیں، بے انتہا سختی کرتے ہیں اور بعض لوگ بچوں کی غلطیوں پر اتنی زیادہ صَرفِ نظر کرتے ہیں کہ بچے کو اچھے اور برے کی تمیز مٹ جاتی ہے اور یہ دونوں باتیں بچوں کی تربیت پر بُرا اثر ڈالتی ہیں۔ زیادہ سختی، بات بات پر بلا وجہ اور بغیر دلیل کے روکنا ٹوکنا بچوں کو باغی بنا دیتا ہے اور پھر وہ ایک عمر کے بعد جائز بات کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ اسی طرح بچے کی ہر معاملے میں ناجائز طرفداری بھی جیسا کہ مَیں نے کہا بچوں کی تربیت پر بُرا اثر ڈالتی ہے۔ خاص طور پر ایسی عمر کے بچے جو بچپن سے نکل کر نوجوانی میں قدم رکھ رہے ہوں ان کو والدین کے یہ رویے جو ہیں خراب کرتے ہیں خاص طور پر باپوں کے۔ پس ایسی عمر میں بچوں کو سمجھانے کے لئے دلیل سے بات کرنی چاہئے اور خاص طور پر اس زمانے میں جبکہ بچوں پر صرف اپنے محدود ماحول کا ہی اثر نہیں ہے بلکہ پورے ملک بلکہ اس سے بھی بڑھ کر پوری دنیا کے ماحول کا اثر ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں باپوں کو خاص طور پر بچوں کی تربیت میں ان باتوں کا خیال رکھنا چاہئے کہ کہاں نرمی کرنی ہے، کہاں سختی کرنی ہے، کس طرح سمجھانا ہے، یہ باپوں کی ذمہ داری ہے صرف ماؤں پہ نہ چھوڑیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کس طرح تربیت فرمایا کرتے تھے اس کا ایک واقعہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں۔ ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اس کی تفصیل بیان کر رہے ہیں کہ کون سی چیزیں حلال ہیں اور کونسی طیب ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف جانور مختلف کاموں کے لئے پیدا کئے ہیں۔ کوئی خوبصورتی کے لئے کہ دیکھنے میں خوبصورت معلوم ہوتاہے۔ کوئی آواز کے لئے کہ اس کی آواز بہت عمدہ ہے۔ کوئی کھانے کے لئے کہ اس کا گوشت اچھا ہے۔ کوئی دوائی کے لئے کہ اس کے گوشت میں کسی مرض سے صحت دینے کی طاقت ہے۔ صرف جانور اور حلال دیکھ کر اسے نہیں کھانا چاہئے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک جانور کا گوشت صحت کے لئے مضر نہ ہو مگر وہ مثلاً بعض فصلوں یا انسانوں میں بیماری پیدا کرنے والے کیڑوں کو کھاتا ہو۔ (اسی لئے بعض قسم کے پرندے ہیں گو وہ حلال ہیں لیکن حکومتوں کی طرف سے بھی ان کو مارنے کی پابندی ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی پابندی ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ فصلوں کے کیڑے کھا رہے ہوتے ہیں۔ تو فرمایا کہ کیڑے کھانے والے ہیں۔) گوشت کے لحاظ سے اس کا گوشت حلال بھی ہو گا اور طیّب بھی مگر پھر بھی بنی نوع انسان کا عام فائدہ دیکھتے ہوئے اس کا گوشت طیّب نہ رہے گا۔ (پس بیشک حلال بھی ہے طیب بھی ہے لیکن پھر دیکھنے والی چیز یہ ہو گی کہ زیادہ فائدہ کس کا ہے۔ اپنے فائدے پر بنی نوع کے فائدے کو ختم کرنا ہو گا یا بنی نوع کے فائدے کو اپنے فائدے پر ترجیح دینی ہو گی) کیونکہ ان کے کھانے کی وجہ سے انسان بعض اور فوائد سے محروم رہ جائیں گے۔ (حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ) مجھے بچپن ہی میں یہ سبق سکھایا گیا تھا۔ میں بچپن میں ایک دفعہ ایک طوطا شکار کر کے لایا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے دیکھ کر کہا کہ محمود! اس کا گوشت حرام تو نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ہر جانور کھانے کے لئے ہی پیدا نہیں کیا۔ بعض خوبصورت جانور دیکھنے کے لئے ہیں کہ انہیں دیکھ کر آنکھیں راحت پائیں۔ بعض جانوروں کو عمدہ آواز دی ہے کہ ان کی آواز سن کر کان لذّت حاصل کریں۔ پس اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہر حس کے لئے نعمتیں پیدا کی ہیں وہ سب کی سب چھین کر زبان ہی کو نہ دے دینی چاہئیں۔ (یعنی اپنی زبان کے مزے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر جانور کو مارا جائے اور کھایا جائے اس کے دوسرے جو فوائد ہیں وہ دیکھنا چاہئیں۔ صرف اپنے کھانے کا مزا نہیں لینا چاہئے۔ تو پھر فرمایا کہ) دیکھو یہ طوطا کیسا خوبصورت جانور ہے۔ حضرت مسیح موعودنے حضرت مصلح موعود کو فرمایا کہ دیکھو یہ طوطا کیسا خوبصورت جانور ہے۔ درخت پر بیٹھا ہوا دیکھنے والوں کو کیسا بھلا معلوم ہوتا ہوگا۔ (ماخوذ ازتفسیر کبیر جلد 4 صفحہ 263)

پس یہ خوبصورت انداز جو تربیت کا ہے نہ صرف دل پر اثر کرنے والا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو بھی ذہن میں بٹھانے والا ہے کہ حلال اور طیب توکھاؤ لیکن اس میں بھی احتیاط ہونی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے حلال کا بھی حکم دیا، طیب کا بھی حکم دیا لیکن طیب کی تعریف بعض جگہ بدل بھی جاتی ہے۔ پس جو جانور یا پرندے دوسرے مفید کاموں میں استعمال ہو رہے ہوں یا دوسری جگہ فائدہ پہنچا رہے ہوں ان میں سے بعض حلال ہونے کے باوجود طیب نہیں رہتے کیونکہ ان کا فائدہ ان کے گوشت کھانے سے دوسری جگہ پر بہرحال زیادہ ہے۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیان کردہ بعض اَور واقعات بھی پیش کرتا ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا سے بدعات کو دُور کرنے اور اسلام کی خوبصورت تعلیم دکھانے آئے تھے۔ پس جب آپ کا یہ مشن تھا تو کس طرح یہ ممکن ہے کہ آپ کی اپنی ذات سے کسی قسم کی بدعت کے پھیلنے کا احتمال ہو یا بدعت پھیلانے والے ہوں (نعوذ باللہ)۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود اپنی تصویر کھنچوائی لیکن جب ایک کارڈ آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا (پوسٹ کارڈ تھا) جس پر آپ کی تصویر تھی تو آپ نے فرمایا کہ اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور جماعت کو ہدایت فرمائی کہ کوئی شخص ایسے کارڈ نہ خریدے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آئندہ کسی نے ایسا کرنے کی جرأت نہ کی۔ (ماخوذ ازخطباتِ محمود جلد 14 صفحہ 214)

لیکن آجکل پھر بعض جگہوں پر بعض ٹویٹس (Tweets) میں، واٹس ایپ (WhatsApp) پہ میں نے دیکھا ہے کہ لوگ کہیں سے یہ پرانے کارڈ نکال کر یا پھر انہوں نے اپنے بزرگوں سے لئے یا بعضوں نے پرانی کتابوں کی دوکانوں سے خریدے۔ اور پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تو یہ غلط طریق ہے اس کو بند کرنا چاہئے۔ تصویر آپ نے اس لئے کھنچوائی تھی کہ دور دراز کے لوگ اور خاص طور پر یورپین لوگ جو چہرہ شناس ہوتے ہیں وہ آپ کی تصویر دیکھ کر سچائی کی تلاش کریں گے، اس کی جستجو کریں گے لیکن جب آپ نے دیکھا کہ لوگ کارڈ پر تصویر شائع کرکے یہ کاروبار کا ذریعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں یا کہیں بنا نہ لیں اور جب آپ نے محسوس کیا کہ اس سے بدعت نہ پھیلنی شروع ہو جائے، یہ بدعت پھیلنے کا ذریعہ نہ بن جائے تو آپ نے سختی سے اس کو روک دیا بلکہ بعض جگہ آپ نے فرمایا کہ ان کو ضائع کروا دیا جائے۔ پس وہ بعض لوگ جو تصویروں کا کاروبار کرتے ہیں، جنہوں نے تصویروں کو کاروبار کا ذریعہ بنایا ہوا ہے اور بے انتہا قیمتیں اس کی وصول کرتے ہیں ان کو توجہ کرنی چاہئے۔ پھر بعض ایسے بھی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر میں بعض رنگ بھر دیتے ہیں حالانکہ کوئی coloured تصویر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نہیں ہے۔ یہ بھی بالکل غلط چیز ہے اس سے بھی احتیاط کرنی چاہئے۔ اسی طرح خلفاء کی تصویروں کے غلط استعمال ہیں ان سے بھی بچنا چاہئے۔

ایک دفعہ سینما اور بائی سکوپ کے بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے ایک شوریٰ میں بحث چل گئی تو اس پر آپ نے فرمایا کہ ’’یہ کہنا کہ سینما یا بائی سکوپ یا فونو گراف اپنی ذات میں بُرا ہے، صحیح نہیں۔ فونو گراف خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سنا ہے بلکہ اس کے لئے آپ نے خود ایک نظم لکھی اور پڑھوائی اور پھر یہاں کے ہندوؤں کو بلوا کر وہ نظم سنائی۔ یہ وہ نظم ہے جس کا ایک شعر یہ ہے کہ

آواز آ رہی ہے یہ فونو گراف سے

ڈھونڈو خدا کو دل سے، نہ لاف و گزاف سے

پس سینما اپنی ذات میں برا نہیں۔ (لوگ بڑا سوال کرتے ہیں کہ وہاں جانا گناہ تو نہیں ہے۔ یہ اپنی ذات میں برا نہیں ہے) بلکہ اس زمانے میں اس کی جو صورتیں ہیں وہ مخرب اخلاق ہیں۔ اگر کوئی فلم کلّی طور پر تبلیغی یا تعلیمی ہو اور اس میں کوئی حصہ تماشا وغیرہ کا نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔‘‘ (کوئی ڈرامے بازی نہ ہو۔) حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ’’میری یہی رائے ہے کہ تماشا تبلیغی بھی ناجائز ہے۔‘‘ غلط طریق ہے۔ (ماخوذ ازرپورٹ مجلس مشاورت سال 1939ء صفحہ 86)

پس اس بات سے ان لوگوں پر واضح ہو جانا چاہئے جو یہ کہتے ہیں کہ ایم ٹی اے پر اگر پروگراموں میں بعض دفعہ میوزک آ جائے تو کوئی حرج نہیں یا وائس آف اسلام ریڈیو شروع ہوا ہے اس پر بھی آ جائے تو کوئی حرج نہیں۔ ان باتوں اور ان بدعات کو ختم کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئے تھے۔ ہمیں اپنی سوچوں کو اس طرف ڈھالنا ہو گا جو آپ علیہ السلام کا مقصد تھا۔ نئی ایجادات سے فائدہ اٹھانا حرام نہیں، نہ یہ بدعات ہیں۔ لیکن ان کا غلط استعمال بدعت بنا دیتا ہے۔ بعض لوگ یہ تجویزیں بھی دیتے ہیں کہ ڈرامے کے رنگ میں تبلیغی پروگرام یا تربیتی پروگرام بنائے جائیں تو ان کا اثر ہو گا۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اگر آپ ایک غلط بات میں داخل ہوں گے یا کوئی بھی غلط بات اپنے پروگراموں میں داخل کریں گے تو کچھ عرصے بعد سو قسم کی بدعات خود بخود داخل ہو جائیں گی۔ غیروں کے نزدیک تو شاید قرآن کریم بھی میوزک سے پڑھنا جائز ہے لیکن ایک احمدی نے بدعات کے خلاف جہاد کرنا ہے اس لئے ہمیں ان باتوں سے بچنا چاہئے اور بچنے کی بہت کوشش کرنی چاہئے۔

ایک غیر احمدی نے ایک اخبار میں مضمون لکھا جو ایک لطیفہ تو ہے۔ اس سے ایک مولوی صاحب کی جہالت بھی ظاہر ہوتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ان کی سوچوں کا بھی پتا لگتا ہے کہ یہ اس چیز کو جائز سمجھتے ہیں۔ یہ لکھنے والا لکھتا ہے کہ ایک جگہ ایک عرب گلوکارہ عربی میں میوزک کے ساتھ گانا گا رہی تھی۔ مولوی صاحب کو بھی وہاں لے گئے۔ وہ بڑے جھوم جھوم کر وہ سن رہے تھے۔ تو انہوں نے پوچھا کہ مولوی صاحب آپ اس عربی پہ اتنا جھوم کیوں رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ سبحان اللہ اور ساتھ ساتھ سبحان اللہ اور ماشاء اللہ اور اللہ اکبر بھی پڑھتے جائیں۔ انہوں نے کہا جھوم کیوں رہے ہیں؟ کہتا ہے دیکھو۔ دیکھ نہیں رہے تم کتنی خوبصورت آواز میں قرآن کریم پڑھ رہی ہے۔ اس گانے کو انہوں نے کیونکہ وہ عربی میں تھا قرآن کریم بنا دیا۔ تو جب یہ بدعات پھیلتی ہیں تو سوچیں بھی اسی طرح تبدیل ہو جاتی ہیں۔ ڈاکٹروں کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ ڈاکٹر خاص طور پر ہندوستان میں مریض کا علاج کرتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ اپنے مریض کا ہم ہی علاج کر سکتے ہیں اور کسی اَور کو دکھانے کی ضرورت نہیں۔ اور کسی مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس بات کو مزید بیان فرماتے ہیں کہ ’’ہندوستانی ڈاکٹروں میں سے ننانوے فیصدایسے ہیں جو دوسرے سے مشورے کو بھی اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں اس میں شک نہیں کہ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب (جو آپ کے معالج تھے) تجربے میں باقی جتنے سب اسسٹنٹ سرجن میں نے دیکھے ہیں ان سے اچھے ہیں مگر باوجود اس کے یہ معنی نہیں کہ انہیں مشورے کی ضرورت نہیں۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قاعدہ تھا اور خود میں بھی جب 1918ء میں بیمار ہوا ہوں تو میں نے بھی ایسا ہی کیا کہ طبیب اور ڈاکٹر سب جمع کر لئے۔ ڈاکٹروں کی دوائی بھی کھاتا تھا اور طبیبوں کی بھی۔ کیا معلوم اللہ تعالیٰ کس سے فائدہ دے دے۔ اگر کوئی ڈاکٹر اپنے آپ کو خدا سمجھتا ہے تو سمجھے۔ ہم تو اسے بندہ ہی سمجھتے ہیں۔‘‘ (ماخوذ ازخطباتِ محمود جلد 14 صفحہ 129)

اسی طرح آجکل بھی بعض ڈاکٹر ناراض ہو جاتے ہیں اور یہ غلط طریقہ ہے کہ دوسرے سے علاج کیوں کروایا۔ بعض دفعہ عام جڑی بوٹیوں کا علاج کرنے والے لوگ جو باقاعدہ طبیب بھی نہیں ان کے پاس بعض نسخے آ جاتے ہیں اور وہ علاج کرتے ہیں اور مریض کے بہترین علاج کرتے ہیں۔ جہاں بعض دفعہ ڈاکٹر فیل ہو جاتے ہیں، کوئی علاج کارگر نہیں ہوتا وہاں ان کے یہ علاج یا ٹونے ٹوٹکے کام آ جاتے ہیں۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ’’سید احمدنور صاحب کابلی کے ناک پر زخم تھا۔ انہوں نے کئی علاج کروائے۔ لاہور کے میوہسپتال بھی گئے۔ ایکسرے کرا کر علاج کرایا کہ پتا لگے کیا وجہ ہے مگر زخم اور بھی خراب ہوتا گیا۔ آخر وہ پشاور گئے وہاں ایک نائی سے علاج کرایا۔ اس نے صرف تین روز دوائی استعمال کروائی اور زخم اچھا ہو گیا۔ تو آپ فرماتے ہیں کہ اب ایسے ماہرین موجود ہیں جن کو ایسے ایسے پیشے آتے ہیں کہ اگر انہیں زندہ رکھا جائے تو اس سے آگے کئی نئے پیشے جاری ہو سکتے ہیں۔ زندہ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں ریسرچ کروائی جائے، ان کو توجہ دلائی جائے کہ وہ اپنے نسخے آگے جاری رکھیں۔ لیکن ہوتا کیا ہے؟ تیسری دنیا کے ملکوں میں ان کے جاننے والے چونکہ انہیں زندہ رکھنے کی کوشش نہیں کرتے اس لئے وہ ترقی نہیں کر رہے۔ اگر ان کی طرف لوگوں کی توجہ ہو تو ان سے آگے کئی فنون نکل سکتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہی ہڈیوں کا ٹھیک کرنا ہے۔ پہلوان اور نائی اسے جانتے ہیں اور اس سے پرانی دردوں اور ٹیڑھی ہڈیوں کو درست کیا جا سکتا ہے۔ بعض اس میں بڑے ماہر ہوتے ہیں۔ بعض تو بنے ہوئے ہیں جو صحیح ہڈیاں بھی توڑ دیتے ہیں۔ لیکن بعض بڑے ماہرین ہیں۔ تو اسے سیکھ کر پھیلانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ آپ فرماتے ہیں کہ پرانے زمانے میں لوگ ان پیشوں کے اظہار میں بہت بخل سے کام لیتے تھے اور کوئی کسی کو بتاتا نہ تھا۔ اس لئے وہ مٹ گئے۔ بہت ساری چیزیں، باتیں جو پرانے لوگوں میں تھیں، بعض نسخے تھے کیونکہ آگے بتاتے نہیں تھے کہ کسی کو پتا نہ لگ جائے اس لئے ختم ہو گئے۔ یورپ والے ایسا نہیں کرتے بلکہ اپنے فن کو عام کر دیتے ہیں اور اس سے وہ روپیہ بھی زیادہ کما سکتے ہیں۔ (بعض دوائیاں بھی پیٹنٹ ہوتی ہیں کچھ عرصہ کے بعد عام ہو جاتی ہیں۔)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ ایک نائی تھا جسے ایسی مرہم کا علم تھا جس سے بڑے بڑے زخم، خراب زخم بھی اچھے ہو جاتے تھے۔ لوگ دُور دُور سے اس کے پاس علاج کروانے کے لئے آتے تھے۔ اس کا بیٹا اس کا نسخہ پوچھتا تو وہ جواب دیتا کہ اس کے جاننے والے دنیا میں دو نہیں ہونے چاہئیں۔ پس میرے پاس ہے علم، یہیں رہے گا بیٹے کو بھی نہیں بتانا۔ آخر وہ بوڑھا ہو گیا اور سخت بیمار ہوا تو اس کے بیٹے نے کہا کہ اب تو بتا دیں۔ زندگی کا پتا کچھ نہیں۔ وہ کہنے لگا کہ اچھا اگر تم سمجھتے ہو کہ میں مرنے لگا ہوں تو بتا دیتا ہوں۔ مگر پھر کہنے لگا کہ کیا پتا میں اچھا ہی ہو جاؤں۔ اس لئے پھر بتانے سے رک گیا اور چند گھنٹوں کے بعد اس کی جان نکل گئی اور اس کا بیٹا بیچارہ پوچھتا رہ گیا۔ فن سے محروم رہ گیا۔ اس کا تو یہ خیال تھا کہ فن حاصل کر لوں گا لیکن بہرحال اپنے باپ کی ضد کی وجہ سے جاہل کا جاہل ہی رہ گیا۔ اور اس کا باپ اس کے کوئی کام نہ آ سکا، نہ اس کا فن اس کے کام آ سکا۔ تو آپ فرماتے ہیں کہ بخل ترقی کا نہیں بلکہ ذلت و رسوائی کا موجب بنتا ہے اس لئے ایسے معاملوں میں، علم کے معاملے میں بخل نہیں کرنا چاہئے۔ اس کو پھیلانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ آپ فرماتے ہیں بعض دفعہ یہ خاندانوں کی تباہی کا موجب ہو جاتا ہے تو ان پیشوں اور فنون کا سکھانا مضر نہیں بلکہ مفید ہے۔ اس سے علم ترقی کرتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ یہ فنون خصوصاً مردہ فنون کو ترقی دی جائے۔‘‘ (ماخوذ از روزنامہ الفضل 29 اپریل 1939ء جلد 27 نمبر 98 صفحہ 4)

پس کہیں ڈاکٹر تکبر کا باعث بن رہے ہوتے ہیں اور اس تکبر کی وجہ سے دوسرے کے لئے تکلیف کا باعث بن رہے ہوتے ہیں اور کبھی جہالت جو ہے وہ علم کا خاتمہ کر دیتی ہے اور پھر وہ فائدہ جو دنیا کو پہنچ رہا ہوتا ہے اس سے دنیا محروم رہ جاتی ہے۔ تو یہ غیر ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ملکوں میں عام چیز ہے۔ وہاں جماعت احمدیہ کو خاص طور پر اس طرف توجہ دینی چاہئے کہ اس جہالت کو دُور کریں۔ انسان کی مختلف طبائع ہوتی ہیں بعض اخلاص میں بڑھے ہوئے ہوتے ہیں اور ہر بات کو شرح صدر سے مانتے ہیں۔ بعض جلد باز ہوتے ہیں۔ نیت بدنہ بھی ہو تب بھی اعتراض کر دیتے ہیں یا ایسے رنگ میں بات کرتے ہیں جس میں اعتراض کا رنگ ہو۔ ایسے ہی لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں ایک دفعہ ایسی ہی دو مختلف طبیعتوں کا اجتماع ہو گیا (یعنی ایک جگہ اکٹھے ہو گئے۔) 4؍اپریل 1905ء کو جو خطر ناک زلزلہ آیا اس موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو زلازل کے متعلق کثرت سے الہامات ہوئے۔ (بہت کثرت سے الہامات ہوئے کہ اب زلزلے آئیں گے) تو آپ خدا تعالیٰ کے کلام کا ادب اور احترام کرتے ہوئے اپنے باغ میں تشریف لے گئے۔ کئی بیوقوف (اُس وقت بھی یہ) کہہ دیا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام طاعون سے ڈر کر باغ میں چلے گئے ہیں۔ اس زمانے میں طاعون بھی تھا اور زلزلے بھی آ رہے تھے۔ حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ عجیب بات ہے کہ میں نے بعض احمدیوں کے منہ سے بھی یہ بات سنی ہے حالانکہ طاعون کے ڈر سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کبھی اپنا گھر نہیں چھوڑا۔ اس وقت چونکہ زلازل کے متعلق آپ کو کثرت سے الہامات ہو رہے تھے اس لئے آپ نے یہی مناسب خیال فرمایا کہ کچھ عرصہ باغ میں رہیں۔ باقی دوستوں کو بھی آپ نے وہیں رہنے کی تحریک کی اور چونکہ جلدی تھی اس لئے کچھ تو خیموں کا انتظام کیا گیا اور کچھ لوگوں نے اینٹوں پر چٹائیاں وغیرہ ڈال کر رہنے کے لئے جھونپڑیاں بنا لیں‘‘ اور سب کو آپ نے اپنے ساتھ رکھا۔ (ماخوذ از خطباتِ محمود جلد 14 صفحہ 113-114)۔ پس جلد باز طبیعت بعض دفعہ بغیر سوچے سمجھے اعتراض کی بات کر دیتی ہے اور اس سے دوستوں کو بچنا چاہئے۔

خطبہ الہامیہ کے دوران حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جس طرح دیکھا اسے بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ آپ عربی میں عید کا خطبہ پڑھیں آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے علم دیا جائے گا۔ آپ نے اس سے پہلے کبھی عربی میں تقریر نہ کی تھی لیکن جب تقریر کرنے کے لئے آئے اور تقریر شروع کی تو حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ مجھے خوب یاد ہے گو مَیں چھوٹی عمر میں ہونے کی وجہ سے عربی نہ سمجھ سکتا تھا مگر آپ کی ایسی خوبصورت اور نورانی حالت بنی ہوئی تھی کہ مَیں اول سے آخر تک برابر تقریر سنتا رہا حالانکہ ایک لفظ بھی نہ سمجھ سکتا تھا۔ (ماخوذ ازحقیقۃ الرؤیاء، انوار العلوم جلد 4 صفحہ 187-188)

مسجد مبارک قادیان کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودنے یہ واقعہ بیان فرمایا جس کا ذکر الفضل میں ایک رپورٹ میں یوں ملتا ہے کہ ’’بعض دوستوں نے عرض کیا کہ خطبہ الہامیہ کے ساتھ حضرت مسیح موعود کا جو اشتہار شامل ہے اس سے معلوم نہیں ہوتا کہ مسجد مبارک کون سی ہے۔ (حضرت مصلح موعود سے لوگوں نے یہ سوال پوچھا۔ ) اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے خطبہ الہامیہ منگوا کر وہ اشتہار پڑھا اور سمجھایا کہ اس سے مراد یہی مسجد ہے جو حضرت مسیح موعودؑ نے بنائی ہے اور پھر حسب ذیل روایت آپ نے بیان فرمائی کہ ایک دفعہ اُمُّ المومنین بیمار ہو گئیں اور قریباً 40روز تک بیمار رہیں۔ ایک دن حضرت صاحب نے فرمایا کہ اس مسجد کے متعلق الہام ہے۔ (آپ نے تو اس کے مختصر الفاظ بیان کئے ہیں اصل الہام اس طرح ہے کہ) مُبارِکٌ وَ مُبَارَکٌ وَ کُلُّ اَمْرٍمُبَارَکٍ یُجْعَلُ فِیْہِ۔ کہ آپ نے فرمایا کہ کیونکہ یہ اس مسجد کے بارے میں الہام ہے تو چلو اس میں چل کر دوائی دیتے ہیں۔ (حضرت اماں جان کو وہاں مسجد میں جا کر دوائی دیتے ہیں )۔ تو آپ نے وہاں آ کر دوا پلائی اور دو گھنٹے کے اندر اُمّ المومنین اچھی ہو گئیں۔‘‘ (ماخوذ از روزنامہ الفضل 14 فروری 1921ء جلد 8 نمبر 61صفحہ 6)

ڈاکٹروں کو ایک نصیحت کہ انہیں دین کی خدمت کرنے کا حق ادا کرنا چاہئے اور اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔ اس بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ ’’بیماروں پر حق اور صداقت کا اثر بہت جلدی ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک طبیب نے پوچھا، (ڈاکٹر نے پوچھا کہ) مَیں دین کی کیا خدمت کر سکتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ آپ بیماروں کو تبلیغ کیا کریں۔ یہ بہت اچھا موقع ہوتا ہے کیونکہ بیمار کا دل نرم ہوتا ہے۔‘‘ (اہم اور ضروری امور، انوار العلوم جلد 13 صفحہ 338)

پس یہ سوچ اس زمانے کے ڈاکٹروں کو بھی رکھنی چاہئے اور یہی سوچ اور عمل پھر دنیا کمانے کے ساتھ دین کی خدمت کا موقع دے کر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والا بھی بنائے گا۔

پردے کا مسئلہ آجکل یہاں مغربی ممالک میں عورت کے حقوق کے نام پر یا دہشت گردی کو ختم کرنے کے نام پر یا بلا وجہ اسلام پر اعتراض کرنے کی وجہ سے بڑے زور و شور سے اٹھایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا ہے کہ کس طرح کاپردہ کرنا چاہئے۔ کن حالات میں کرنا چاہئے۔ اس میں عورت کی زینت کے ظاہر ہونے کے بارے میں بھی یہ فرمایا ہے کہ اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا (النور: 32) اس کی وضاحت کرتے ہوئے اور اس حوالے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو ارشاد ہے وہ پیش کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ’’اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا کے یہ معنی ہیں کہ وہ حصہ جو آپ ہی آپ ظاہر ہو اور جسے کسی مجبوری کی وجہ سے چھپایا نہ جا سکے خواہ یہ مجبوری بناوٹ کے لحاظ سے ہو۔ (یعنی بناوٹ یہ نہیں کہ ظاہری بناوٹ بلکہ جسم کی بناوٹ) جیسے قد ہے کہ یہ بھی ایک زینت ہے مگر اس کو چھپانا ناممکن ہے۔ اس لئے اس کو ظاہر کرنے سے شریعت نہیں روکتی۔ یا بیماری کے لحاظ سے ہو کہ کوئی حصہ جسم علاج کے لئے ڈاکٹر کو دکھانا پڑے (تو قرآن کریم کے مطابق وہ بھی ظاہر کیا جا سکتا ہے) بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تو یہاں تک فرمایا کرتے تھے کہ ہوسکتا ہے ڈاکٹر کسی عورت کے متعلق تجویز کرے کہ وہ منہ نہ ڈھانپے۔ (اپنے چہرے کو کور(cover) نہ کرے۔) اگر ڈھانپے گی تو اس کی صحت خراب ہو جائے گی اور اِدھر اُدھر چلنے پھرنے کے لئے کہے۔ (یعنی اگر ڈاکٹر عورت کو کہے کہ منہ نہ ڈھانپے اور پھر باہر جا کے پھرے، نہیں تو تمہاری صحت خراب ہو جائے گی) تو ایسی صورت میں اگر وہ عورت منہ ننگا کر کے چلتی ہے تو بھی جائز ہے۔ بلکہ بعض فقہاء کے نزدیک اگر عورت حاملہ ہو اور کوئی اچھی دایہ میسر نہ ہو اور ڈاکٹر یہ کہے کہ اگر یہ کسی قابل ڈاکٹر سے اپنا بچہ نہیں جنوائے گی تو اس کی جان خطرے میں ہے تو ایسی صورت میں اگر وہ کسی مرد سے بچہ جنوائے تو یہ بھی جائز ہو گا۔ بلکہ اگر کوئی عورت مرد ڈاکٹر سے بچہ نہ جنوائے اور مر جائے تو خدا تعالیٰ کے حضور وہ ایسی ہی گناہگار سمجھی جائے گی جیسے اس نے خودکشی کی ہے۔ پھر یہ مجبوری کام کے لحاظ سے بھی ہو سکتی ہے جیسے زمیندار گھرانوں کی عورتوں کی میں نے مثال دی ہے۔ (پہلے مصلح موعود مثال دے چکے ہیں ) کہ ان کے گزارے ہی نہیں ہو سکتے (اگر وہ کام نہ کریں۔) جب تک کہ وہ کاروبار میں اپنے مردوں کی امدادنہ کریں۔ یہ تمام چیزیں اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا میں ہی شامل ہیں۔‘‘ (ماخوذ ازتفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 299)

پس اسلام نے آزادی بھی قائم کی ہے اور حدود بھی قائم کی ہیں۔ کھلی چھٹی نہیں دے دی۔ بعض مجبوریوں کی وجہ سے اجازت ہے کہ پردے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ کم معیار کا کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی بلا وجہ ناجائز طور پر اسلامی حکموں کو چھوڑنا اس سے بھی منع فرمایا ہے۔ اسلام نے آزادی کے نام پر بے حیائی نہیں رکھی۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تَفَقُّہ فی الدین کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ’’اسلامی مسائل کی بنیاد تَفَقُّہ پر ہے۔ ان کے اندر باریک حکمتیں ہوتی ہیں اور جب تک ان کو نہ سمجھا جائے انسان دھوکہ کھا کر بعض دفعہ گمراہی کی طرف نکل جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک دفعہ کسی مجلس میں بیان فرمایا کہ انسان اگر تقویٰ سے کام لے تو چاہے سو شادیاں کر لے۔ یہ بات سلسلے کے اخباروں میں سے ایک میں شائع ہو ئی جس پر یہ چرچا شروع ہو گیا کہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مذہب یہی ہے کہ چار کی حدنہیں۔ (مرد تو بڑے خوش ہوئے ہوں گے کہ چار کی حدنہیں۔) شادیاں کوئی جتنی چاہے کر لے۔ حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم نے اس بحث اور جھگڑے کو جو باہر ہوتا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پہنچایا اور پوچھا کہ اس سے آپ کا کیا مطلب تھا۔ آپ نے فرمایا میرا مطلب یہ تھا کہ اگر ایک بیوی مر جائے یا کسی وجہ سے طلاق دی جائے تو انسان اس کی بجائے اور شادی کر سکتا ہے۔ اسی طرح خواہ سو شادیاں کر لے۔ اس سے آپ نے اس خیال کی تردید فرمائی جو بعض مذاہب نے پیش کیا ہے۔ (یہ بات جو چل رہی ہے کسی اور حوالے سے چل رہی ہے۔ بعض دفعہ لوگ کہتے ہیں کہ جی فیصلہ ہو گیا۔ سیاق و سباق دیکھے بغیر بات کر دیتے ہیں۔ آپ نے جو اس بات کا اظہار فرمایا تھا تو اس کی وجہ یہ بنی۔) اس خیال کی آپ نے تردید فرمائی جو بعض مذاہب نے پیش کیا ہے کہ عمر بھر انسان کو دوسری شادی نہیں کرنی چاہئے (چاہے بیوی مر جائے یا طلاق ہو جائے۔ جب ایک شادی ہو گئی تو ختم ہو گیا اور خاص طور پر جب بیوی مر جائے تو آپ نے اس خیال کی تردید فرمائی تھی۔ اس حوالے سے بات ہو رہی تھی۔) حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ اب اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ قول تشریح کے بغیر رہ جاتا تو کچھ عرصے کے بعد یہی سمجھا جاتا کہ آپ کا مذہب یہی تھا کہ جتنی شادیاں چاہو کر سکتے ہو، صرف تقویٰ کی شرط ہے۔ (آجکل تو مرد دوسری تیسری شادیاں بھی کرتے ہیں تو اس تقویٰ کی شرط کو بھی سامنے نہیں رکھتے۔ تقویٰ کی شرط ضروری ہے۔ ) اسی بارے میں حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں مجھے یاد آیا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا اعتقاد ایک عرصے تک یہی تھا کہ چار سے زیادہ شادیاں جائز ہیں۔ ان دنوں چونکہ چھوٹی جماعت تھی اور دوست اکثر باہم ملتے تھے۔ (قادیان میں تھوڑے سے لوگ تھے۔) ایسے مسائل پر بڑی لمبی بحثیں ہوتی رہتی تھیں۔ انہی دنوں ایک زمانے میں یہ مسئلہ بھی زیر بحث آیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے فرمایا چار بیویوں کی حد بندی شریعت سے ثابت نہیں اور ابوداؤد کی ایک روایت بھی پیش کی جس میں لکھا تھا کہ حضرت امام حسن کے اٹھارہ یا انیس نکاح ہوئے۔ اسی مجلس میں کسی نے یہ بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ عقیدہ نہیں ہے۔ اس پر حضرت خلیفۃ اول نے یہ خیال کیا کہ ممکن ہے آپ کے پاس یہ معاملہ پوری طرح پیش نہ کیا گیا ہو۔ اس لئے کسی سے یہ کہا کہ یہ کتاب لے جاؤ۔ (یہ جو حضرت امام حسن کے بارے میں ابوداؤد کی روایت ہے) اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ حوالہ دکھا کے آؤ۔ حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ کتاب لانے والا کتاب لے کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جا رہا تھا مجھے بھی راستہ میں ملا۔ بغل میں کتاب دبائی ہوئی تھی نہایت شوق سے جا رہا تھا۔ تو میں نے دریافت کیا کہ کیا بات ہے؟ اس نے بتایا کہ حضرت مولوی صاحب نے یہ حوالہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دکھانے کے لئے بھیجا ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ اس کا شوق جوش دیکھ کے اور ویسے بھی یہ مسئلہ ایسا تھا کہ میں بھی جواب کے شوق میں اس کی واپسی کا منتظر رہا۔ (وہیں کھڑا ہو گیا جہاں میں نے پوچھا تھا۔) تھوڑی دیر کے بعد وہ واپس آیا۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں مَیں نے دیکھا کہ جاتے وقت تو وہ بہت خوش خوش گیا تھا مگر واپس آتے وقت سر جھکائے ہوئے آ رہا تھا۔ تو مَیں نے پوچھا کیا بات ہے۔ اس نے بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ مولوی صاحب سے جا کر پوچھو کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ یہ ساری بیویاں ایک ہی وقت میں تھیں۔‘‘ (ماخوذ از خطباتِ محمود جلد 13 صفحہ 35-36)۔ پھر یہ مسئلہ بھی ختم ہو گیا ہے کہ چار سے زیادہ شادیاں بہرحال نہیں ہوسکتیں۔ اور اس میں بھی شرائط ہیں اور تقویٰ سب سے بڑی شرط ہے۔

امام کی آواز پر لبیک کہنا، اس کے بارے میں حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں۔ ’’امام کی آواز کے مقابلے میں افراد کی آواز کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ تمہارا فرض ہے کہ جب بھی تمہارے کانوں میں خدا تعالیٰ کے رسول کی آواز آئے تم فوراً اس پر لبیک کہو اور اس کی تعمیل کے لئے دوڑ پڑو کہ اسی میں تمہاری ترقی کا راز مضمر ہے بلکہ اگر انسان اس وقت نماز پڑھ رہا ہو تب بھی اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ نماز توڑ کر خدا تعالیٰ کے رسول کی آواز کا جواب دے۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ہمارے ہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے اس قسم کی مثالیں بھی پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دفعہ ایسا ہی کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آواز دینے پر فوراً نماز توڑ دی اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور غالباً میر مہدی حسین صاحبؓ اور میاں عبداللہ صاحب سنوریؓ نے بھی ایسا ہی کیا۔ (یہ دو آدمی تھے انہوں نے بھی مختلف وقتوں میں ایسا کیا۔ بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ آیت پڑھی کہ لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا قَدْ یَعْلَمُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْکُمْ لِوَاذًا فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖٓ اَنْ تُصِیْبَھُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ یُصِیْبَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(النور: 64) کہ تمہارے درمیان رسول کا تمہیں بلانا اس طرح نہ بناؤ جیسے تم ایک دوسرے کو (اونچی آوازوں میں ) بلاتے ہو (یا سمجھتے ہو کہ بلایا، آواز دی تو جواب دے دیا یا نہ دیا۔ ) اللہ تعالیٰ یقینا ان لوگوں کو جانتا ہے جو تم میں سے نظر بچا کر چپکے سے نکل جاتے ہیں۔ پس وہ لوگ جو اس کے حکم کی مخالفت کرنے والے ہیں وہ اس بات سے ڈریں کہ انہیں کوئی ابتلا آجائے یا دردناک عذاب آ پہنچے۔ تو اسی طرح ایک دوسری جگہ آیا ہے کہ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ (الانفال: 25)کہ اے مومنو! تم اللہ اور اس کے رسول کی بات سننے کے لئے فوراً حاضر ہو جایا کرو جبکہ وہ تمہیں زندہ کرنے کے لئے پکارے۔

بہرحال نبی کی آواز پر فوراً لبیک کہنا ایک ضروری امر ہے بلکہ ایمان کی علامتوں میں سے ایک بڑی بھاری علامت ہے۔ (ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 408-409)

اس لئے جب یہ ان بزرگوں نے کیا تو بالکل جائز تھا۔ نماز اصل مقصودنہیں ہے یا کوئی اور نیکی نبی کی موجودگی میں اصل مقصودنہیں ہے بلکہ ہمیشہ ہی اصل مقصود اللہ تعالیٰ تک پہنچنا ہے اور اس کی بات ماننا ہے جس کی مثال اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ سے ہمیں ملتی ہے۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے بھی ملتی ہے۔

ایک اہم بات جس کی طرف حضرت مصلح موعودنے توجہ دلائی تھی اور ہمیشہ سے اہم ہے، اب بھی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ مومن درحقیقت زیادہ ترغیب کا منتظر نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے صرف اشارہ ہی کافی ہوتا ہے اور اس اشارے کو سمجھ کر وہ ایسے جوش سے کام کرتا ہے کہ بعض لوگوں کو دیوانگی کا شبہ ہونے لگتا ہے۔ اسی لئے جتنے کامل مومن دنیا میں ہوئے انہیں لوگوں نے پاگل کہا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مغفرت کرے میرے استاد ہوا کرتے تھے مولوی یار محمد صاحب ان کا نام تھا۔ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابی تھے۔ ان کے دماغ میں کچھ ایسا نقص تھا یا ان کا نقص اس رنگ کا تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنا محبوب اور اپنے آپ کو عاشق سمجھتے تھے۔ اسی عشق کی وجہ سے وہ خیال کرنے لگے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے پسرِ موعود اور مصلح موعود بنا دیا ہے۔ (اس محبت کی وجہ سے جو ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تھی ان کا خیال تھا کہ وہی پسر موعود اور مصلح موعود ہیں۔) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی کہ بات کرتے کرتے بعض دفعہ جوش میں اپنی رانوں کی طرف یوں ہاتھ لاتے جیسے کسی کو بلا رہے ہوں یا جس طرح بلایا جاتا ہے تو ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی رنگ میں جوش سے کچھ کلمات فرما رہے تھے کہ مولوی یار محمد صاحب کود کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جا بیٹھے۔ بعد میں کسی نے پوچھا کہ آپ نے یہ کیا کیا ہے۔ تو وہ کہنے لگے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یوں اشارہ کیا تھا اور یہ اشارہ میری طرف تھا کہ تم آگے آ جاؤ۔ چنانچہ مَیں کود کے آ گے آ گیا۔ تو یہ دیوانگی تھی۔ مگر بعض رنگ کی دیوانگی بھی اچھی ہوتی ہے۔ آخر ان کی یہ دیوانگی بغض کی طرف نہیں گئی بلکہ محبت کی طرف گئی۔ پس محبت کا دیوانہ غیر اشارے کو بھی اپنے لئے اشارہ سمجھتا ہے۔ (جو اشارہ اس کو نہ بھی کیا جائے اس کو بھی اپنے لئے سمجھتا ہے۔) تو آپ جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جو قوم خدا تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ کرنے والی ہو وہ صحیح اشارے کو کیوں نہیں سمجھتی کہ اس کے لئے کیا گیا ہے۔ کیا ہماری جماعت کے دیوانوں کی وہ محبت جو وہ سلسلے سے رکھتے ہیں مولوی یار محمد جتنی بھی نہیں ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رانوں پر آہستگی سے ہاتھ مارا اور انہوں نے سمجھا کہ مجھے بلا رہے ہیں۔‘‘ اور یہاں اللہ تعالیٰ بڑے واضح طور پر احکامات دیتا ہے اور آپ کا مسیح احکامات دیتا ہے اور اس پر توجہ نہیں دیتے۔ (ماخوذ از خطباتِ محمود جلد 17 صفحہ 733-734)۔

پس ہمیں اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جائزہ لیں کہ کس حد تک اللہ تعالیٰ کے حکموں اور اس کے اشاروں کو ہم سمجھتے ہیں۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں اور ہر کام اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے حکموں پر چلتے ہوئے کریں۔ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے کام نہیں کرنا چاہئے۔ آپ فرماتے ہیں کہ مولوی غلام علی صاحب ایک کٹر وہابی ہوا کرتے تھے۔ وہابیوں کا یہ فتویٰ تھا کہ ہندوستان میں جمعہ کی نماز ہو سکتی ہے لیکن حنفیوں کے نزدیک ہندوستان میں جمعہ کی نماز جائز نہیں تھی۔ (اس زمانے میں عجیب عجیب ان کے مسئلے تھے) کیونکہ وہ کہتے تھے کہ جمعہ پڑھنا تب جائز ہو سکتا ہے جب مسلمان سلطان ہو۔ (بادشاہ مسلمان ہو تب ٹھیک ہے۔) جمعہ پڑھانے والا مسلمان قاضی ہو اور جہاں جمعہ پڑھا جائے وہ شہر ہو۔ ہندوستان میں انگریزی حکومت کی وجہ سے چونکہ نہ مسلمان سلطان رہا تھا نہ قاضی۔ اس لئے وہ جمعہ کی نماز پڑھنا جائز نہیں سمجھتے تھے۔ (یہ مسئلہ پیدا ہو گیا تھا۔) ادھر چونکہ قرآن کریم میں وہ لکھا ہوا پاتے تھے کہ جب تمہیں جمعہ کے لئے بلایا جائے تو فوراً تمام کام چھوڑتے ہوئے جمعہ کی نماز کے لئے چل پڑو اس لئے ان کے دلوں کو اطمینان نہ تھا۔ ایک طرف ان کا جی چاہتا تھا کہ وہ جمعہ پڑھیں اور دوسری طرف وہ ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی حنفی مولوی ہمارے خلاف فتویٰ نہ دے دے۔ اس مشکل کی وجہ سے ان کا دستور تھا کہ جمعہ کے روز گاؤں میں پہلے جمعہ پڑھتے تھے اور پھرظہر کی نماز ادا کر لیتے تھے اور وہ خیال کرتے تھے کہ اگر جمعہ والا مسئلہ درست ہے تب بھی ہم بچ گئے اور اگر ظہر پڑھنے والا مسئلہ صحیح ہے تب بھی ہم بچ گئے۔ اس لئے وہ ظہر کا نام ظہر کی بجائے احتیاطی رکھا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ خدا نے اگر ہمارے جمعہ کی نماز کو الگ پھینک دیا تو ہم ظہر کو اٹھا کر اس کے سامنے رکھ دیں گے اور اگر اس نے ظہر کو ردّ کر دیا تو ہم جمعہ اس کے سامنے پیش کر دیں گے اور اگر کوئی ’’احتیاطی‘‘ نہ پڑھتا تھا تو سمجھا جاتا تھا کہ وہ وہابی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ہم مولوی غلام علی صاحب کے ساتھ گورداسپور گئے۔ راستے میں جمعہ کا وقت آ گیا۔ ہم نماز پڑھنے کے لئے ایک مسجد میں چلے گئے۔ آپ کا عام طریق وہابیوں سے ملتا جلتا تھا کیونکہ وہابی حدیثوں کے مطابق عمل کرنا اپنے لئے ضروری جانتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا ہی انسان کی نجات کے لئے ضروری ہے۔ غرض آپ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام) بھی مولوی غلام علی صاحب کے ساتھ گئے اور جمعہ کی نماز پڑھی۔ جب مولوی غلام علی صاحب جمعہ کی نماز سے فارغ ہو گئے تو انہوں نے چار رکعت ظہر کی نماز پڑھ لی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ میں نے ان سے کہا کہ مولوی صاحب یہ جمعہ کی نماز کے بعد چار رکعتیں کیسی ہیں۔ وہ کہنے لگے یہ احتیاطی ہیں۔ تو میں نے کہا مولوی صاحب آپ تو وہابی ہیں اور عقیدۃً اس کے مخالف ہیں۔ پھر احتیاطی کے کیا معنی ہوئے۔ تو کہنے لگے یہ احتیاطی ان معنوں میں نہیں کہ خدا کے سامنے ہمارا جمعہ قبول ہوتا ہے یا ظہر۔ بلکہ یہ ان معنوں میں ہے کہ لوگ مخالفت نہ کریں۔ لوگوں کا ڈر ہے۔ تو کئی لوگ اس طرح بھی کام کر لیتے ہیں جیسے مولوی غلام علی صاحب نے کیا کہ وہ اپنے دل میں تو اس بات سے خوش رہے کہ انہوں نے جمعہ پڑھا ہے اور ادھر لوگوں کو خوش کرنے کے لئے چار رکعت ظہر کی نماز بھی پڑھ لی۔‘‘ (ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 382-383)

’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک دفعہ ایک مجلس میں کسی نے عرض کیا کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگ داڑھیاں منڈواتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اصل چیز تو محبت الٰہی ہے۔ جب ان لوگوں کے دلوں میں محبت الٰہی پیدا ہو جائے گی تب خود بخود یہ لوگ ہماری نقل کرنے لگ جائیں گے۔‘‘ (ماخوذ از ہمارے ذمہ تمام دنیا کی فتح کرنے کا کام ہے، انوار العلوم جلد 18 صفحہ 465)

اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم حقیقی طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتوں کو سمجھنے والے ہوں اور حقیقی محبت الٰہی ہم میں پیدا ہو جائے اور ہمارا ہر عمل اور فعل خدا تعالیٰ کے حکموں کے مطابق ہو۔

نمازوں کے بعد مَیں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔ یہ مکرم عبدالنورجابی صاحب سیریا کا ہے 1989ء کی ان کی پیدائش ہے۔ غالباً ان کو وہاں کی حکومت نے گرفتار کر لیا۔ صحیح طرح پورے کوائف بھی نہیں لکھے۔ بہرحال جو کوائف موجود ہیں اس کے مطابق چند ماہ قبل انہوں نے بزنس مینجمنٹ کی یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کی تھی۔ 31؍دسمبر 2013ء کو ہاں حکومتی کارندوں نے ہی آپ کو گرفتار کیا تھا اور گرفتاری کی وجہ یہ تھی کہ کسی نے ان کا موبائل فون عاریتاً لے کر وہاں کے باغیوں کو فون کیا تھا۔ یہ سیریا میں حالات خراب ہونے کے ابتدائی ایام کی بات ہے۔ جب کسی کو ضرورت کے وقت عاریتاً فون دینا اس وقت کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہوتی تھی تو بہرحال باغیوں میں سے کسی نے ان کا فون لے کر اپنے ساتھیوں سے مالی لین دین کی بات کی اور اس بارے میں فون کو تو حکومت کی ایجنسیاں انٹرسیپٹ (intercept) بھی کرتی ہیں، چیک کرتی ہیں۔ انہوں نے پکڑ لیا، تحقیق کے دوران یہ ثابت ہوا کہ آپ کے فون سے کال ہوئی تھی اور آپ کا باغیوں کے ساتھ رابطہ ہے۔ اس وجہ سے آپ کو گرفتار کر لیا گیا اور پھر شہید بھی کر دیا گیا۔ طبی رپورٹ کے مطابق مرحوم گرفتاری کے تیسرے روز ہی سر پر شدید چوٹ آنے کی وجہ سے فوت ہو گئے تھے کیونکہ یہ حکومتی پولیس والے بھی بڑا ٹارچر دیتے ہیں۔ جو باغیوں کا حال ہے وہی حکومت کے کارندوں کا بھی حال ہے۔ تاہم ان کی وفات کی خبر ان کے گھر والوں کو 22؍فروری 2016ء کو ملی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

یہ سلیم الجابی صاحب کے پوتے تھے جو بہت پرانے احمدی ہیں۔ سلیم جابی صاحب حضرت مصلح موعود کے زمانے میں ربوہ بھی گئے تھے۔ اردو زبان بھی ان کو اچھی آتی ہے۔ یہ اپنے ماحول اور جاننے والوں میں بہت خوش اخلاق اور شریف الطبع اور نرم خو اور ملنسار مشہور تھے۔ طبیعت میں سختی بالکل نہیں تھی۔ صحت مند اور مضبوط جسم کے مالک تھے۔ آپ کی بہن مکرمہ ھبۃ الرحمن جابی بیان کرتی ہیں کہ میرے بھائی کی پیدائش سے پہلے والدہ محترمہ نے خواب میں دیکھا تھا کہ ان کا بیٹا ہوا ہے اور انہیں کہا گیا ہے کہ آپ نے نور کو جنم دیا ہے۔ بعد میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبدالنور نام ان کو عطا ہوا۔ کہتی ہیں کہ میرا بھائی بہت فرمانبردار اور لائق تھا اور سب اس کی لیاقت اور ذہانت کی تعریف کیا کرتے تھے۔ میری اس سے جو آخری بات فون پر ہوئی تو مختلف لہجہ میں کہا کہ اگر میں سچا احمدی ہوں تو مجھے دوسروں سے درگذر کرنا سیکھنا چاہئے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے لواحقین، والدہ، بہن بھائی، دادا بھی ہیں ان سب کو صبر عطا فرمائے۔

سیریا کے حالات کے لئے بھی دعا کرنی چاہئے۔ وہاں حکومت کے ظلم کی وجہ سے ہی باغی گروپ کھڑا ہوا اور اب دونوں اپنے ظلموں میں بڑھے ہوئے ہیں۔ اور تیسرا گروپ داعش کا ہے جو اسلام کے نام پر ایک اور ظلم و بربریت کی مثالیں قائم کر رہا ہے۔ اور وہاں رہنے والے جتنے شریف الطبع لوگ ہیں۔ وہ شرفاء اور وہ احمدی بھی جو کسی بھی گروپ کے ساتھ شامل نہیں اس میں پِس رہے ہیں اور نہ وہ حکومت سے محفوظ ہیں۔ حکومت بھی اتنی ہی ظالم ہے حکومت کا باغی گروپ بھی اتنا ہی ظالم ہے اور اسلام کے نام پر حکومت کا دعویٰ کرنے والے بھی اتنے ہی ظالم ہیں۔ اللہ تعالیٰ رحم کرے اور اس ملک پر بھی رحم کرے اور ظالموں سے اس ملک کو جلد چھٹکارا دلوائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 18؍ مارچ 2016ء شہ سرخیاں

    ماں باپ بعض دفعہ تو بچوں کو کسی کام کے کرنے پر سختی سے سرزنش کرتے ہیں، بے انتہا سختی کرتے ہیں اور بعض لوگ بچوں کی غلطیوں پر اتنی زیادہ صَرفِ نظر کرتے ہیں کہ بچے کو اچھے اور برے کی تمیز مٹ جاتی ہے اور یہ دونوں باتیں بچوں کی تربیت پر بُرا اثر ڈالتی ہیں۔ باپوں کو خاص طور پر بچوں کی تربیت میں ان باتوں کا خیال رکھنا چاہئے کہ کہاں نرمی کرنی ہے، کہاں سختی کرنی ہے، کس طرح سمجھانا ہے، یہ باپوں کی ذمہ داری ہے صرف ماؤں پہ نہ چھوڑیں۔

    حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کرام کی تصاویر کے استعمال سے متعلق ضروری احتیاطوں کے اختیار کرنے کی تاکید حضرت مسیح موعود علیہ السلام بدعات کو دُور کرنے کے لئے تشریف لائے تھے۔

    ایک احمدی کو بدعات کے خلاف جہاد کرنا چاہئے۔

    علم کے معاملہ میں بخل نہیں کرنا چاہئے۔ اس کو پھیلانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

    جلد باز طبیعت بعض دفعہ بغیر سوچے سمجھے اعتراض کی بات کر دیتی ہے اور اس سے دوستوں کو بچنا چاہئے۔

    بیماروں پر حق اور صداقت کا اثر بہت جلدی ہوتا ہے۔ ڈاکٹر بیماروں کو تبلیغ کیا کریں۔ اس طرح سے وہ دین کی خدمت کر سکتے ہیں۔

    امام کی آواز کے مقابلے میں افراد کی آواز کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ تمہارا فرض ہے کہ جب بھی تمہارے کانوں میں خدا تعالیٰ کے رسول کی آواز آئے تم فوراً اس پر لبیک کہو اور اس کی تعمیل کے لئے دوڑ پڑو کہ اسی میں تمہاری ترقی کا راز مضمر ہے۔

    اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے کام نہیں کرنا چاہئے۔

    مکرم عبدالنور جابی صاحب آف سیریا کی وفات۔ مرحوم کا ذکرِ خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 18؍مارچ 2016ء بمطابق18؍امان 1395 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن۔ لندن۔

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور