شیطان سے بچنے اور اس کے قدم پر نہ چلنے کی ہدایت

خطبہ جمعہ 20؍ مئی 2016ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ۔ وَمَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّہٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ۔ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ مَا زَکٰی مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا وَّلٰکِنَّ اللّٰہَ یُزَکِّیْ مَنْ یَّشَآءُ۔ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ (النور: 22)

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو شیطان کے قدموں پر مت چلو۔ اور جو کوئی شیطان کے قدموں پر چلتا ہے تو وہ یقینا بے حیائی اور ناپسندیدہ باتوں کا حکم دیتا ہے۔ اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہو تو تم میں سے کوئی ایک بھی کبھی پاک نہ ہو سکتا۔ لیکن اللہ جسے چاہتا ہے پاک کر دیتا ہے اور اللہ بہت سننے والا اور دائمی علم رکھنے والا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے علاوہ بھی بنی آدم اور مومنوں کو شیطان سے بچنے اور اس کے قدم پر نہ چلنے کی ہدایت پر تنبیہ فرمائی ہے۔ یہ حکم اس لئے ہے کہ شیطان خدا تعالیٰ کا نافرمان ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مخالف چلتا ہے۔ ان سے بغاوت کرتا ہے۔ اور ظاہر ہے جو خدا تعالیٰ کا نافرمان اور اس کے حکموں کے خلاف چلنے والا ہو وہ اپنے پیچھے چلنے والوں کو بھی وہی کچھ سکھائے گا جو خود کرتا ہے اور پھر اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ شیطان خود تو جہنم کا ایندھن ہے ہی، اپنے پیچھے چلنے والوں کو بھی جہنم کا ایندھن بنا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو واضح طور پر فرمایا ہے کہ تیرے پیچھے چلنے والوں کو جہنم سے بھروں گا، ان کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔ یہ سب کچھ کھول کر بیان کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا انسانوں کو اس کے بعد بھی سمجھ نہیں آتی کہ شیطان تمہارا کھلا کھلا دشمن ہے۔ پس اس دشمن سے بچو۔

ایک تو وہ لوگ ہیں جن کو نہ دین کی کچھ پرواہ ہے، نہ ان کو یہ پتا ہے کہ جہنم کیا ہے اور جنت کیا ہے؟ نہ ان کو خدا تعالیٰ کی ذات پر یقین ہے۔ وہ نہ تو دین کی باتوں کو سمجھتے ہیں، نہ سمجھنا چاہتے ہیں۔ یا اگر کچھ لوگ ان ملکوں میں اسلام کے بارے میں پڑھتے بھی ہیں تو صرف علم کی حد تک یا یہ بتانے کے لئے کہ ہمیں دین اور اسلام کے بارے میں پتا ہے جبکہ ان کا علم صرف سطحی اور کتابی ہوتا ہے۔ بعض ایسے بھی ہیں جو اعتراض اور تنقید کی نظر سے قرآن کو پڑھتے ہیں اور اسلام کے بارے میں معلومات لیتے ہیں لیکن اس کی تعلیم اور خوبیوں سے کچھ سبق حاصل نہیں کرتے۔ نہ ہی شیطان کے پنجے سے نکلتے ہیں۔ نہ ہی انہیں خدا تعالیٰ کی تلاش ہے۔ اور نہ ہی وہ اس تلاش کا شوق رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ تو شیطان کے پیچھے چلنے والے ہیں ہی لیکن ایسے بھی ہوتے ہیں جو ایمان کا دعویٰ کر کے اپنے آپ کو مومن کہہ کر پھر شیطان کے پیچھے چلنے والے ہیں یا لاشعوری طور پر بعض عمل کر کے یا اللہ تعالیٰ کی آغوش میں آنے کی پوری کوشش نہ کر کے شیطان کے قدموں پر چلنے والے بن جاتے ہیں یا بن سکتے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ اس آیت میں مومنوں کو ہوشیار کر رہا ہے، انہیں فرما رہا ہے کہ شیطان کے قدموں پر نہ چلو۔ مومنوں کو یہ تنبیہ ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ ہم ایمان لے آئے ہیں، ہم نے اسلام قبول کر لیا اس لئے اب ہم بے فکر ہو گئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شیطان کے حملوں سے اور شیطان کی پیروی کرنے سے ہم بے فکرے ہو گئے ہیں۔ نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اب بھی شیطان کا خطرہ اسی طرح ہے۔ ایک مومن بھی شیطان کے پنجے میں گرفتار ہو سکتا ہے جس طرح ایک غیر مومن ہو سکتا ہے۔ اس لئے ہر مومن کا فرض ہے کہ شیطان کے حملوں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ شیطان نے تو روزِ اوّل سے ابن آدم کو نیکی کے راستوں سے ہٹانے کی اجازت اللہ تعالیٰ سے اس دعوے کے ساتھ مانگی تھی کہ مجھے انسانوں کو ورغلانے اور پیچھے چلانے کی چھوٹ مل جائے تو میں ہر راستے پر بیٹھ کر ان کو ورغلاؤں گا اور مختلف حیلوں بہانوں سے انہیں اپنے پیچھے چلاؤں گا اور شیطان نے دعویٰ کیا تھا کہ اکثریت انسانوں کی میرے پیچھے چلے گی۔ پس یہ سب کچھ آجکل ہم دنیا میں ہوتا دیکھ رہے ہیں حتی کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والے بھی شیطان کے پیچھے چل رہے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے وارننگ دی تھی، تنبیہ کی تھی۔ مثلاً قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَھَنَّمُ (النساء: 94) جو شخص کسی مومن کو دانستہ قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہو گی۔ اب آجکل جو کچھ مسلمان دنیا میں ہو رہا ہے یہ کیا ہے؟ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کر کے شیطان کے پیچھے ہی چل رہے ہیں۔ پھر مجموعی طور پر بھی بلا جواز کسی کا قتل جو شدت پسند مختلف حملوں میں کرتے ہیں، کسی کو بھی قتل کر رہے ہوں، یہ سب شیطانی فعل ہیں اور جہنم کی طرف لے جانے والے ہیں جبکہ شیطان کے بہکاوے میں آ کر جنت میں جانے کے نام پر یہ سب کچھ کیا جاتا ہے۔ شیطان تو یہ کہتا ہے یہ کام کرو تم جنت میں جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ کام کرو گے تو جنت میں نہیں جاؤ گے، جہنم میں جاؤ گے کیونکہ تم شیطان کے پیچھے چل رہے ہو۔

پس اللہ تعالیٰ مومنوں کو فرماتا ہے کہ اپنے اوپر ہر وقت نظر رکھو اور دیکھتے رہو کہ تم کہیں شیطان کے قدموں پر تو نہیں چل رہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کا انکار کر کے شیطان کے قدموں پر چل رہے ہو یا بڑے بڑے گناہ کر کے شیطان کے قدموں پر چل رہے ہو۔ ضروری نہیں کہ صرف شدت پسند اور قاتل ہی شیطان کے قدموں پر چلنے والے ہیں جس کی مثال میں نے دی ہے بلکہ انسان جب اللہ تعالیٰ کے بظاہر کسی چھوٹے سے چھوٹے حکم سے بھی دور جاتا ہے تو شیطان کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے پس بہت زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ حقیقی مومن بننے کے لئے بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ شیطان جب حملے کرتا ہے اور جب انسانوں کو ورغلاتا ہے تو اس کا طریق ایسا نہیں ہے کہ انسان آسانی سے سمجھ جائے۔ یا شیطان جب انسانوں کو ورغلاتا ہے، برائیوں کی ترغیب دیتا ہے، اللہ تعالیٰ کے حکموں کی نافرمانی کی طرف لے جاتا ہے تو کھل کر یہ نہیں کہتا کہ یہ کرو، نافرمانی کرو، اللہ تعالیٰ سے دور جاؤ، یہ یہ برائیاں کرو۔ بلکہ نیکی کی آڑ میں برائیوں کی طرف لے جاتا ہے۔ شیطان نے آدم کو بھی جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے دور ہٹایا تھا تو نیکی کے حوالے سے ہی ہٹایا تھا۔

یہ آیت جو مَیں نے تلاوت کی ہے یہ اس بات پر بھی روشنی ڈال رہی ہے کہ برائیاں کس طرح پھیلتی ہیں اور کس طرح برائی ایک سے دوسری جگہ پھیلتے پھیلتے ایک وسیع علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ شیطان کے قدموں پر جب انسان چلتا ہے، ایک قدم کے بعد دوسرے قدم پر جب انسان اپنے قدم جماتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ برائیوں کو پھیلا رہا ہے۔ ابتدا میں ایک برائی بظاہر بہت چھوٹی سی لگتی ہے یا انسان سمجھتا ہے کہ اس برائی نے اسے یا معاشرے کو کیا نقصان پہنچانا ہے۔ لیکن جب یہ وسیع علاقے میں پھیل جاتی ہے یا بڑی تعداد میں لوگ اسے کرنے لگ جاتے ہیں یا اس برائی سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں یا معاشرے کے ڈر سے اس کو برائی کہنے سے ڈرتے ہیں یا احساس کمتری میں آ کر کہ شاید اس کے خلاف اظہار ہمیں معاشرے کی نظر میں گرا نہ دے، وہ خاموش ہو جاتے ہیں یا عمل نہیں کرتے۔ اس معاشرے کی بہت ساری باتیں ہیں جو معاشرے میں آزادی کے نام پر ہوتی ہیں اور حکومتیں بھی اس کو تسلیم کر لیتی ہیں لیکن وہ برائیاں ہیں۔ مثلاً اس معاشرے میں ان لوگوں کی نظر میں بظاہر یہ ایک چھوٹی سی برائی ہے کہ پردہ سے عورت کے حقوق غصب ہوتے ہیں۔ اس معاشرے میں اس پردہ کے خلاف بہت کچھ کہا جاتا ہے اور ان کی نظر میں یہ کوئی برائی نہیں۔ اس لئے اس بارے میں یہ کہتے ہیں کہ شریعت کے حکم کی ضرورت نہیں تھی۔ بعض لڑکیاں احساس کمتری کا شکار ہو کر کہ لوگ کیا کہیں گے یا ان کے دوست اسے پسندنہیں کرتے یا سکول یا کالج میں سٹوڈنٹ یا ٹیچر بعض دفعہ پردہ کا مذاق اڑا دیتے ہیں تو پردہ کرنے میں ڈھیلی ہو جاتی ہیں۔ شیطان کہتا ہے یہ تو معمولی سی چیز ہے۔ تم کون سا اس حکم کو چھوڑ کر اپنے تقدس کو ختم کر رہی ہو۔ معاشرے کی باتوں سے بچنے کے لئے اپنے دوپٹے، سکارف، نقاب اتار دو۔ کچھ نہیں ہو گا۔ باقی کام تو تم اسلام کی تعلیم کے مطابق کر ہی رہی ہو۔ لیکن اس وقت پردہ اتارنے والی لڑکی اور عورت کو یہ خیال نہیں رہتا کہ یہ تو ایسا حکم ہے جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔ عورت کی حیا اس کا حیادار لباس ہے۔ عورت کا تقدس اس کے مردوں سے بلا وجہ کے میل ملاقات سے بچنے میں ہے۔ اس معاشرہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسی، احمدی لڑکیاں بھی ہیں جو اُن کے پردہ پر مردوں کی طرف سے اعتراض پر انہیں منہ توڑ کر جواب دیتی ہیں کہ ہمارا فعل ہے۔ ہم جو پسند کرتی ہیں ہم کر رہی ہیں۔ تم ہمیں پردے اتارنے پر مجبور کر کے ہماری آزادی کیوں چھین رہے ہو؟ ہمیں بھی حق ہے کہ اپنے لباس کو اپنے مطابق پہنیں اور اختیار کریں۔ لیکن بعض ایسی بھی ہیں جو باوجود احمدی ہونے کے یہ کہتی ہیں کہ اس معاشرے میں پردہ کرنا اور سکارف لینا بہت مشکل ہے، ہمیں شرم آتی ہے۔ ماں باپ کو بھی بچپن سے لڑکیوں میں یہ باتیں پیدا کرنی چاہئیں کہ شرم تمہیں اسلامی تعلیم پر عمل نہ کر کے آنی چاہئے نہ کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو مان کر۔

اس طرح لڑکوں میں بھی آزاد معاشرے کی وجہ سے بعض برائیاں ہیں جو خاموشی سے داخل ہو تی ہیں اور پھر جب ایک برائی میں ایسے لڑکے ملوّث ہو جاتے ہیں تو دوسری برائیاں بھی ان میں آنی شروع ہو جاتی ہیں، اس میں بھی ملوّث ہو جاتے ہیں۔ پس شیطان سے بچنے کے لئے تو گھروں میں ہی ایسے مورچے بنانے کی ضرورت ہے کہ اس کے ہر حملے سے نہ صرف بچا جائے بلکہ اس کے حملے کا اسے جواب بھی دیا جائے۔ شیطان کے پیار کو پیار سمجھ کر اسے زندگی میں داخل نہ کریں بلکہ ہر وقت استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے۔ شیطان سے بچنے کی سب سے بڑی پناہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پس اس بگڑے ہوئے زمانے میں استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ استغفار ہی وہ ذریعہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں انسان آ سکتا ہے۔

کوئی انسان بھی جانتے بوجھتے ہوئے کسی برائی کی طرف نہیں جاتا۔ یہ فطرت کے خلاف ہے کہ ایک بات کا پتا ہو کہ اس سے نقصان ہونا ہے تو پھر بھی انسان اس چیز کو کرنے کی کوشش کرے۔ ایک حقیقی مومن کو تو اللہ تعالیٰ نے ویسے بھی کھول کر برائی اور اچھائی کے متعلق بتا دیا ہے۔ پس برائیوں اور اچھائیوں کی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تعلیم کے مطابق تلاش کر کے ان سے بچنے اور کرنے کی کوشش انسان کو کرنی چاہئے۔ شیطان کو علم ہے کہ جب تک انسان خدا تعالیٰ کی پناہ میں ہے، اس کے حصار میں ہے، اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اس لئے شیطان انسان کو اس پناہ سے نکال کر، اس قلعے سے نکال کر جس میں انسان محفوظ ہے پھر اپنے پیچھے چلاتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ سے نکالنے کے لئے پہلے شیطان نیکیوں کا لالچ دے کر ہی انسان کو نکالتا ہے یا نیکیوں کا لالچ دے کر ہی ایک مومن کو اللہ تعالیٰ کی پناہ سے نکالا جا سکتا ہے۔ بعض دفعہ نیکی کے نام پر، انسانی ہمدردی کے نام پر، دوسرے کی مدد کے نام پر، مرد اور عورت کی آپس میں واقفیت پیدا ہوتی ہے جو بعض دفعہ پھر برے نتائج کی حامل بن جاتی ہے۔ اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسی عورتوں کے گھروں میں جانے سے بھی منع فرمایا کرتے تھے جن کے خاوند گھر پر نہ ہوں اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑ رہا ہے۔ (سنن الترمذی کتاب الرضاع باب ما جاء فی کراھیۃ الدخول علی المغیبات حدیث 1172) اسی حکم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اصولی حکم ارشاد فرما دیا کہ نامحرم کبھی آپس میں آزادانہ جمع نہ ہوں کیونکہ اس سے شیطان کو اپنا کام کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

پس اس معاشرے میں احمدیوں کو خاص طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے جہاں آزادی کے نام پر لڑکی لڑکے کا آزادانہ ملنا اور علیحدگی میں ملنا کوئی عار نہیں سمجھا جاتا۔

پھر صرف نادان لڑکے لڑکیوں کی وجہ سے برائیاں نہیں پیدا ہو رہی ہوتیں بلکہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ شادی شدہ لوگوں میں بھی آزادی اور دوستی کے نام پر گھروں میں آناجانا، بلا روک ٹوک آنا جانا مسائل پیدا کرتا ہے اور گھر اجڑتے ہیں۔ اس لئے ہمیں جن پر اللہ تعالیٰ نے یہ احسان فرمایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کی توفیق دی ہے، اسلام کے ہر حکم کی حکمت ہمیں سمجھائی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر بغیر کسی قسم کے سوال اور تردّد کے عمل کرنا چاہئے۔

برائیوں میں سے آجکل ٹی وی، انٹرنیٹ وغیرہ کی بعض برائیاں بھی ہیں۔ اکثر گھروں کے جائزے لے لیں۔ بڑے سے لے کر چھوٹے تک صبح فجر کی نماز اس لئے وقت پر نہیں پڑھتے کہ رات دیر تک یا تو ٹی وی دیکھتے رہے یا انٹرنیٹ پر بیٹھے رہے، اپنے پروگرام دیکھتے رہے، نتیجۃً صبح آنکھ نہیں کھلی۔ بلکہ ایسے لوگوں کی توجہ بھی نہیں ہوتی کہ صبح نماز کے لئے اٹھنا ہے۔ اور یہ دونوں چیزیں اور اس قسم کی فضولیات ایسی ہیں کہ صرف ایک آدھ دفعہ آپ کی نمازیں ضائع نہیں کرتیں بلکہ جن کو عادت پڑ جائے ان کا روزانہ کا یہ معمول ہے کہ رات دیر تک یہ پروگرام دیکھتے رہیں گے یا انٹرنیٹ پر بیٹھے رہیں گے اور صبح نماز کے لئے اٹھنا ان کے لئے مشکل ہو گا بلکہ اٹھیں گے ہی نہیں۔ بلکہ بعض ایسے بھی ہیں جو نماز کو کوئی اہمیت ہی نہیں دیتے۔ نماز جو ایک بنیادی چیز ہے جس کی ادائیگی ہر حالت میں ضروری ہے حتی کہ جنگ اور تکلیف اور بیماری کی حالت میں بھی۔ چاہے انسان بیٹھ کے نماز پڑھے، لیٹ کر پڑھے یا جنگ کی صورت میں یا سفر کی صورت میں قصر کر کے پڑھے لیکن بہرحال پڑھنی ہے۔ اور عام حالات میں تو مردوں کو باجماعت اور عورتوں کو بھی وقت پر پڑھنے کا حکم ہے۔ لیکن شیطان صرف ایک دنیاوی پروگرام کے لالچ میں نماز سے دُور لے جاتا ہے اور اس کے علاوہ انٹرنیٹ بھی ایک ایسی چیز ہے جس میں مختلف قسم کے جو پروگرام ہیں، پھر ایپلی کیشنز (Applications) ہیں، فون وغیرہ کے ذریعہ سے یا آئی پیڈ (iPad) کے ذریعہ سے، ان میں مبتلا کرتا چلا جاتا ہے۔ اس پر پہلے اچھے پروگرام دیکھے جاتے ہیں۔ کس طرح اس کی attraction ہے۔ پہلے اچھے پروگرام دیکھے جاتے ہیں پھر ہر قسم کے گندے اور مخر ّب الاخلاق پروگرام اس سے دیکھے جاتے ہیں۔ کئی گھروں میں اس لئے بے چینی ہے کہ بیوی کے حق بھی ادا نہیں ہو رہے اور بچوں کے حق بھی ادا نہیں ہو رہے اس لئے کہ مرد رات کے وقت ٹی وی اور انٹرنیٹ پر بیہودہ پروگرام دیکھنے میں مصروف رہتے ہیں اور پھر ایسے گھروں کے بچے بھی اسی رنگ میں رنگین ہو جاتے ہیں اور وہ بھی وہی کچھ دیکھتے ہیں۔ پس ایک احمدی گھرانے کو ان تمام بیماریوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مومنین کو شیطان کے حملوں سے بچانے کی کس قدر فکر ہوتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح اپنے صحابہ کو شیطان سے بچنے کی دعائیں سکھاتے تھے اور کیسی جامع دعائیں سکھاتے تھے، اس کا ایک صحابی نے یوں بیان فرمایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھلائی کہ اے اللہ! ہمارے دلوں میں محبت پیدا کر دے۔ ہماری اصلاح کر دے اور ہمیں سلامتی کی راہوں پر چلا۔ اور ہمیں اندھیروں سے نجات دے کر نور کی طرف لے جا۔ اور ہمیں ظاہر اور باطن فواحش سے بچا۔ اور ہمارے لئے ہمارے کانوں میں، ہماری آنکھوں میں، ہماری بیویوں میں اور ہماری اولادوں میں برکت رکھ دے اور ہم پر رجوع برحمت ہو۔ یقینا تُو ہی توبہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ اور ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والا اور ان کا ذکر خیر کرنے والا اور ان کو قبول کرنے والا بنا اور اے اللہ ہم پر نعمتیں مکمل فرما۔ (سنن ابو داؤد کتاب الصلاۃ باب التشہد حدیث 969)

پس یہ دعا ہے جو دنیاوی غلط تفریح سے بھی روکنے کے لئے ہے۔ دوسری ہر قسم کی فضولیات سے روکنے کے لئے ہے۔ شیطان کے حملوں سے روکنے کے لئے ہے۔

آج بھی دنیا میں تفریح کے نام پر مختلف بیہودگیاں ہو رہی ہیں۔ جب انسان کانوں، آنکھوں میں برکت کی دعا کرے گا، جب سلامتی حاصل کرنے اور اندھیروں سے روشنی کی طرف جانے کے لئے دعا کرے گا، جب بیویوں کے حق ادا کرنے کی دعا کرے گا، جب اولاد کے قرّۃ العین ہونے کی دعا کرے گا تو پھر بیہودگیوں اور فواحش کی طرف سے توجہ خود بخود ہٹ جائے گی اور یوں ایک مومن پورے گھر کو شیطان سے بچانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

پس جس دَور میں سے ہم گزر رہے ہیں اور کسی ایک ملک کی بات نہیں بلکہ پوری دنیا کا یہ حال ہے۔ میڈیا نے ہمیں ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے اور بدقسمتی سے نیکیوں میں قریب کرنے کی بجائے شیطان کے پیچھے چلنے میں زیادہ قریب کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں ایک احمدی کو بہت زیادہ بڑھ کر اپنی حالتوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایم ٹی اے عطا فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں جماعت کے روحانی، علمی پروگراموں کے لئے ویب سائٹ بھی عطا فرمائی۔ اگر ہم اپنی زیادہ توجہ اس طرف کریں تو پھر ہی ہماری توجہ اس طرف رہے گی جس سے ہم اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے والے ہوں گے اور شیطان سے بچنے والے ہوں گے۔

تفریح کے لئے اگر دوسرے ٹیلی ویژن چینل دیکھنے بھی ہیں تو پھر اس بات کی احتیاط کرنی چاہئے کہ خود ماں باپ بھی اس کی احتیاط کریں اور بچوں کی بھی نگرانی کریں کہ پھر وہ پروگرام دیکھیں جو شریفانہ ہوں۔ جہاں بھی بیہودگی اور گند ہے اس سے بچیں کہ یہ صرف بے حیائی اور ناپسندیدہ باتوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ اُس طرف لے جاتے ہیں جہاں سے اللہ تعالیٰ سے دوری پیدا ہوتی ہے لیکن اس بات کو ہر احمدی گھر کو یہ لازمی اور ضروری بنانا چاہئے کہ تمام گھر کے افراد مل کر ہر ہفتے کم از کم ایم ٹی اے پر خطبہ ضرور سنا کریں اور اس کے علاوہ کم از کم ایک گھنٹہ روزانہ ایم ٹی اے کے دوسرے پروگرام بھی دیکھیں۔ جن گھروں میں اس پر عمل ہو رہا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے نظر آتا ہے کہ پورا گھرانہ دین کی طرف مائل ہے۔ بچے بھی دین سیکھ رہے ہیں اور بڑے بھی دین سیکھ رہے ہیں۔ جو بھی اس پر عمل کرے گا اس سے یقیناجہاں دینی فائدہ حاصل ہو گا، اس سے شیطان سے بھی دُوری ہو گی۔ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی طرف توجہ ہو گی۔ اس سے گھروں کے سکون بھی ملیں گے اور اس میں برکت بھی پیدا ہو گی جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا میں ہمیں سکھایا۔

ایک ماں نے مجھے لکھا کہ میرا بیٹا سترہ سال تک تو ٹھیک رہا، نمازیں وغیرہ بھی پڑھتا تھا، مجلس کے کاموں میں دلچسپی لیتا تھا لیکن اب بڑے ہو کر جب اس کو تھوڑی آزادی ملی اور اس کے دوست ایسے ہیں جن کی وجہ سے وہ دین سے بالکل دُور ہٹ گیا۔ یہ ٹھیک ہے کہ ایک عمر میں لڑکوں پر ماحول کا اثرہو سکتا ہے، لیکن اگر ماں باپ کے بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں، اچھے بُرے کی تمیز انہیں بتائی جائے، گھر کے ماحول کو دیندار بنایا جائے اور اب تو جیسا کہ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیاوی طور پر اگر تفریح کے سامان دئیے ہوئے ہیں تو انہی تفریح کے سامانوں میں تربیت کے سامان بھی عطا فرما دئیے ہیں۔ یہ سب اگر اکٹھے بیٹھ کر دیکھ رہے ہوں، ان سے فائدہ اٹھا رہے ہوں اور بچوں کو یہ احساس ہو کہ گھر میں ان بچوں کی اہمیت ہے تو پھر وہ باہر نہیں نکلیں گے، بیہودگیوں میں نہیں پڑیں گے، باہر ان کو سکون کی تلاش نہیں ہو گی بلکہ اپنے گھروں میں ہی سکون دیکھیں گے۔

پھر ماں باپ کا یہ بھی فرض ہے کہ بچوں کو مسجد سے جوڑیں، ذیلی تنظیموں کے پروگرام میں شامل کروائیں۔ یہاں مَیں ذیلی تنظیموں سے بھی کہوں گا اور جماعتی نظام سے بھی بلکہ ذیلی تنظیمیں خاص طور پر اس لئے کہ انہوں نے اپنے ممبران کو سنبھالنا ہے۔ ہر ایک مخصوص طبقہ ہے، زیادہ آسانی سے سنبھال سکتے ہیں۔ خدّام نے خدّام کو سنبھالنا ہے۔ لجنہ نے لجنہ کو سنبھالنا ہے۔ خاص طور پر اطفال اور نوجوان خدام کو سنبھالنا ضروری ہے۔ ناصرات اور نوجوان لجنہ کو سنبھالنا ضروری ہے۔ ذیلی تنظیموں کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ انہیں جماعت کے ساتھ مضبوطی سے جوڑیں۔ خدّام اپنی ایسے خدّام کی ٹیمیں بنائیں جو مختلف مزاج کے لوگوں، نوجوانوں کو اپنے ساتھ جوڑنے والے ہوں۔ لیکن زیادہ تر شکایتیں عموماً نوجوان لڑکیوں کو ہوتی ہیں کہ لجنہ کی تنظیم میں پندرہ سال کے بعد سب لڑکیاں جو ہیں وہ لجنہ میں شامل ہوتی ہیں، ایک ہی تنظیم ہے اور بعض بڑی عمر کی عورتیں اور خاص طور پر عہدیدار بچیوں سے جو رویّے رکھتی ہیں وہ بچیوں کو اگر دین سے دُور نہیں تو مجلس کے پروگراموں سے ضرور دُور کر رہی ہوتی ہیں۔ پس عہدیدار اپنے رویّے ایسے رکھیں کہ پیار سے انہیں دین کے ساتھ جوڑیں، مسجد کے ساتھ جوڑیں، اپنی مجلس کے ساتھ جوڑیں، جماعت کے ساتھ جوڑیں ورنہ شیطان تو اس تاک میں ہے کہ کہاں کوئی کمزور ہو، کہاں کسی کو کسی عہدیدار کے خلاف کوئی شکوہ پیدا ہو اور میں حملہ کر کے اسے اپنے قابو میں کروں۔ ہم نے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہے تو اس وجہ سے کہ اس زمانے میں مسیح موعود کے ذریعہ سے شیطان کے ساتھ آخری جنگ ہے۔ لیکن اگر ہم اپنے عمل سے شیطان کو موقع دے رہے ہیں کہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو عہدیداروں کے رویوں کی وجہ سے شیطان ہمدردی جتا کر اپنے قابو میں کر لے تو پھر ایسے عہدیدار چاہے وہ مرد ہیں یا عورتیں، مسیح موعود کے مددگار نہیں ہیں بلکہ شیطان کے مددگار ہیں۔ پس ہر عہدیدار کو خاص طور پر یہ کوشش کرنی ہے کہ اس نے اپنے آپ کو بھی شیطان کے حملوں سے بچانا ہے اور جماعت کے افراد کو بھی بچانا ہے۔

پس اللہ تعالیٰ نے جو فضل کیا ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ہر ذی شعور، عقل والے احمدی کو، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ان پر اللہ تعالیٰ نے فضل فرماتے ہوئے یہ احسان کیا ہے کہ انہیں احمدیت قبول کرنے کی توفیق دی یا احمدی گھرانے میں پیدا کیا۔ مسیح موعود کو ماننے کی توفیق دی جس کے آنے کی خوشخبری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی جس نے اس زمانے میں شیطان کو شکست دینی ہے۔ اس لئے اس نے کسی اپنے سے بڑے یا نام نہاد بزرگ یا عہدیدار کے رویّے کی وجہ سے اپنے آپ کو دین سے دُور نہیں لے جانا بلکہ شیطان کو شکست دینے میں مسیح موعود کا مددگار بننا ہے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں سمیع اور علیم ہوں، سننے والا ہوں اور علم رکھنے والا ہوں۔ جانتا ہوں کہ تم میں شیطان کے حملوں کا کتنا خوف ہے۔ جانتا ہوں کہ تم اس سے بچنے کے لئے کوشش اور دعا کر رہے ہو۔ اس لئے مَیں تمہاری دعاؤں کو سنوں گا۔ تم دعا کرو۔ ایسے ماحول سے بھی محفوظ رہو جو بعض دفعہ ایسے خیالات پیدا کر دیتا ہے۔ اس دعا کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو اس ماحول سے بھی بچاؤ جس سے انسان شیطان کی باتوں میں آ جاتا ہے اور دعا کرو کہ تم شیطان کے حملوں سے ہمیشہ محفوظ رہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیک نیتی سے کی گئی کوشش اور دعائیں اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوں گی اور شیطان سے تم محفوظ رہو گے۔

اسی طرح خاص طور پر وہ جن کے سپرددینی خدمت کا کام کیا گیا ہے، افراد جماعت کی رہنمائی اور تربیت کا کام جن کے سپرد ہے، اپنے قول وفعل کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں اور اللہ تعالیٰ سے خالص ہو کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے کسی کو شیطان کی جھولی میں نہ جانے دے بلکہ کسی طرح بھی کوئی فردِ جماعت بھی شیطان کے پیچھے چلنے والا نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی خالص ہو کر کی گئی دعاؤں کو میں سنوں گا اور تمہاری بھی اور ان لوگوں کی بھی رہنمائی کرتا رہوں گا جن پر شیطان حملے کرتا ہے تا کہ تم ان حملوں سے بچ سکو ورنہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کے آگے جھکے بغیرشیطان کے حملے سے بچنا ممکن نہیں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی مدد تلاش کرو۔

جیسا کہ مَیں نے کہا کہ شیطان نے تو اللہ تعالیٰ سے کہا تھا کہ اگر تُو مجھے زبردستی نہ روکے اور مجھے ڈھیل دے تو میں انسانوں کو ورغلاؤں گا اور اس کے لئے بھرپور کوشش کروں گا۔ اس کوشش میں شیطان کہاں تک جاتا ہے؟ ایک عام مومن تو ایک طرف رہا، شیطان تو اللہ تعالیٰ کے ولیوں کو بھی آخر وقت تک قابو میں کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ مرتے مرتے بھی کوئی ایسا عمل کر جائیں جہاں سے یہ میرے قابو میں آجائیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں کسی شخص نے ایک خواب کا ذکر کیا۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خواب سننے کے بعد اسے فرمایا کہ ’’یہ خواب ایک عجیب بات پر ختم ہوا ہے۔ شیطان انسان کو طرح طرح کے تمثلات سے دھوکہ دینا چاتا ہے مگر معلوم ہوا ہے کہ تمہارا نتیجہ بہت اچھا ہے کیونکہ اس رؤیا کا اختتام اچھی جگہ پر واقع ہوا ہے۔‘‘ جو شخص اپنی خواب سنا رہا تھا اس کی خواب کا جو اختتام تھا اس سے یہ نظر آتا ہے کہ وہاں آخر میں انجام یہ ہوا کہ شیطان سے بچ گیا۔ شیطان نے حملہ کیا تھا۔ پھر حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ اکثر ایسا ہوا کرتا ہے کہ شیطان کے حملوں سے اگر انسان بچنے کی کوشش کرے تو بچتا ہے یا اللہ تعالیٰ کا فضل ہو تو ہوتا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ ’’ایک ولی اللہ کا تذکرہ لکھا ہے کہ جب ان کا انتقال ہوا تو ان کا آخری کلمہ یہ تھا کہ ابھی نہیں، ابھی نہیں‘‘۔ جب وہ ولی اللہ مرنے لگے تو مرتے مرتے جو اُن کی زبان پر تھا وہ یہ الفاظ تھے کہ ابھی نہیں، ابھی نہیں۔ ایک ان کا مرید جوقریب تھا کلمہ سُن کر سخت متعجب ہوا اور ان کی وفات کے بعد رات دن رو رو کر دعائیں مانگنے لگا کہ یہ کیا معاملہ ہے جو یہ ولی اللہ یہ کہتے رہے کہ ابھی نہیں، ابھی نہیں۔ خیر ایک دن خواب میں ان ولی اللہ سے ملاقات ہو گئی۔ ان سے اس نے دریافت کیا کہ یہ آخری الفاظ کیا تھے اور آپ نے یہ کیوں کہا تھا ابھی نہیں ابھی نہیں۔ اس ولی اللہ نے جواب دیا کہ شیطان چونکہ موت کے وقت ہر ایک انسان پر حملہ کرتا ہے تا کہ اس کا نور ایمان اخیر وقت پہ چھین لے اس لئے وہ حسب معمول میرے پاس بھی آیا اور مجھے مرتد کرنا چاہا۔ دین سے دور ہٹانا چاہا اور میں نے جب اس کا کوئی وار چلنے نہیں دیا تو مجھے کہنے لگاکہ تُو میرے ہاتھ سے بچ گیا۔ اس لئے میں نے کہا تھا کہ ابھی نہیں، ابھی نہیں۔ یعنی جب تک مَیں مَر نہ جاؤں مجھے تجھ سے اطمینان حاصل نہیں ہو سکتا۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 5 صفحہ 306ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) بیشک تُو ورغلا رہا ہے اور مَیں ہر طریقے سے بچ رہا ہوں لیکن جب تک جان ہے اس وقت تک تُو ورغلاتا رہے گا اس لئے جب تک میری جان نہیں نکل جاتی اس وقت تک مَیں یہ نہیں کہہ سکتا کہ مَیں تیرے سے بچ گیا۔

پس یہ ہے وہ معیار اولیاء اللہ کا جو نمونے انہوں نے ہمارے سامنے قائم کئے۔ شیطان کی تو یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح اللہ تعالیٰ کے ولیوں کے بھی انجام بد کر کے انہیں جہنم میں ڈلوائے۔ پس ایک مومن کے لئے تو بڑا خوف کا مقام ہے۔ ایک عام آدمی کے لئے لاپرواہی کا کوئی لمحہ جو ہے وہ اسے شیطان کے قبضے میں لے جا سکتا ہے اور اس کے لئے ہمیشہ توبہ اور استغفار بھی کرتے رہنا چاہئے۔

پھر شیطان کے انسان پر حملے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے ایک اور جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

’’شیطان انسان کو گمراہ کرنے کے لئے اور اس کے اعمال کو فاسد بنانے کے واسطے ہمیشہ تاک میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ نیکی کے کاموں میں بھی اس کو گمراہ کرنا چاہتا ہے اور کسی نہ کسی قسم کا فساد ڈالنے کی تدبیریں کرتا ہے۔‘‘ کس طرح؟ مثلاً ’’نماز پڑھتا ہے تو اس میں بھی ریا وغیرہ کوئی شعبہ فساد کا ملانا چاہتا ہے‘‘۔ انسان نماز پڑھ رہا ہے، نیکی کا کام ہے لیکن شیطان اس کے دل میں کوئی نہ کوئی دکھاوے کی بات ڈالنا چاہتا ہے تا کہ فساد پیدا ہو، تا کہ نماز خالص نہ رہے۔ پھر فرمایا کہ ’’ایک امامت کرانے والے کو بھی اس بلا میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ پس اس کے حملہ سے کبھی بے خوف نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس کے حملے فاسقوں، فاجروں پر تو کھلے کھلے ہوتے ہیں‘‘ جو فاسق اور فاجر لوگ ہیں، دنیا میں ڈوبے ہوئے ہیں، بگڑے ہوئے ہیں، دین سے ہٹے ہوئے ہیں ان پر تو کھلے کھلے حملے ہوتے ہیں ’’وہ تو اس کا گویا شکار ہیں۔ لیکن زاہدوں پر بھی حملہ کرنے سے وہ نہیں چوکتا‘‘۔ جو نیک لوگ ہیں، زاہد ہیں ان پر بھی حملے کرنے سے نہیں ہٹتا ’’اور کسی نہ کسی رنگ میں موقع پا کر ان پر حملہ کر بیٹھتا ہے‘‘۔ فرمایا کہ ’’جو لوگ خدا کے فضل کے نیچے ہوتے ہیں اور شیطان کی باریک در باریک شرارتوں سے آگاہ ہوتے ہیں وہ تو بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں لیکن جو ابھی خام اور کمزور ہوتے ہیں وہ کبھی کبھی مبتلا ہو جاتے ہیں‘‘۔ (ملفوظات جلد 6صفحہ 426۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) پس مومن کو ہر وقت اللہ تعالیٰ سے دعا اور استغفار کرنی چاہئے کہ وہ شیطان کی ہر شرارت سے ہمیں بچائے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام استغفار کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

’’اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے استغفار کا التزام کرایا ہے کہ انسان ہر ایک گناہ کے لئے خواہ وہ ظاہر کا ہو یا باطن کا، خواہ اسے علم ہو یا نہ ہو اور ہاتھ اور پاؤں اور زبان اور ناک اور کان اور آنکھ اور سب قسم کے گناہوں سے استغفار کرتا رہے۔‘‘ فرمایا کہ ’’آجکل آدم علیہ السلام کی دعا پڑھنی چاہئے‘‘۔ وہ دعا کیا ہے؟’’رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ(الاعراف: 24)‘‘ (ملفوظات جلد 4 صفحہ 275۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) یعنی کہ اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اگر تُو ہم کو نہ بخشے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

پھر ایک جگہ ہمیں نصیحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ:

’’عزیزو! خداتعالیٰ کے حکموں کو بے قدری سے نہ دیکھو۔ موجودہ فلسفے کی زہر تم پر اثر نہ کرے۔ ایک بچے کی طرح بن کر اس کے حکموں کے نیچے چلو۔ نماز پڑھو، نماز پڑھو کہ وہ تمام طاقتوں کی کنجی ہے۔ اور جب تُو نماز کے لئے کھڑا ہو تو ایسا نہ کر کہ گویا کہ رسم ادا کر رہا ہے بلکہ نماز سے پہلے جیسے ظاہر وضو کرتے ہو ایسے ہی باطنی وضو بھی کرو اور اپنے اعضاء کو غیر اللہ کے خیال سے دھو ڈالو‘‘۔ ظاہری طور پر تو اپنے اعضاء پانی سے دھوتے ہو اپنے دل کو، اپنے اعضاء کو باطنی طور پر بھی ہر قسم کے اللہ کے غیر سے دھو ڈالو۔ ’’تب تم دونوں وضوؤں کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور نماز میں بہت دعا کرو اور رونا اور گڑگڑانا اپنی عادت کرو تا تم پر رحم کیا جائے۔ سچائی اختیار کرو، سچائی اختیار کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔‘‘ ہمیشہ ہر معاملے میں سچائی اختیار کرو۔ ہر معاملے میں یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے۔ ’’وہ تمہیں دیکھ رہا ہے کہ تمہارے دل کیسے ہیں۔ کیا انسان اس کو بھی دھوکہ دے سکتا ہے؟ کیا اس کے سامنے بھی مکّاریاں پیش جاتی ہیں؟ نہایت بدبخت آدمی اپنے فاسدانہ افعال اس حد تک پہنچاتا ہے کہ گویا خدا نہیں۔ تب وہ بہت جلد ہلاک کیا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کو اس کی کچھ بھی پرواہ نہیں ہوتی‘‘۔ فرمایا ’’عزیزو! اس دنیا کی مجرد منطق ایک شیطان ہے اور اس دنیا کا خالی فلسفہ ایک ابلیس ہے۔‘‘ صرف منطق اور Logic اور وجہ، یہ جو چیزیں ہیں یہ سب شیطانی باتیں ہیں۔ صرف یہی چیزیں نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو بھی تلاش کرنا ہو گا۔ فرمایا ’’جو ایمانی نور کو نہایت درجہ گھٹا دیتا ہے‘‘۔ صرف منطق اور فلسفے کے اوپر چلو گے تو پھر ایمانی نور گھٹ جائے گا ’’اور بے باکیاں پیدا کرتا ہے اور قریب قریب دہریت تک پہنچاتا ہے۔ سو تم اس سے اپنے آپ کو بچاؤ اور ایسا دل پیدا کرو جو غریب اور مسکین ہو اور بغیر چون چرا کے حکموں کو ماننے والے ہو جاؤ‘‘۔ بغیر کسی چون چرا کے اللہ تعالیٰ حکموں کو ماننے والے بنو۔ ’’جیسا کہ بچہ اپنی والدہ کی باتوں کو مانتا ہے۔ قرآن کریم کی تعلیمیں تقویٰ کے اعلیٰ درجہ تک پہنچاتی ہیں۔ ان کی طرف کان دھرو اور ان کے موافق اپنے آپ کو بنا ؤ‘‘۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 549)

اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم شیطان کے قدموں پر چلنے سے بچنے والے ہوں۔ خدا تعالیٰ کے آگے جھکتے ہوئے، اس سے مدد مانگتے ہوئے اس کے حکموں پر چلنے والے ہوں۔ قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں اور اس بات پر شکر ادا کرنے والے ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے اس فرستادے کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی جس نے شیطان کو شکست دینی ہے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے ہوئے عہد بیعت کا حق ادا کرتے ہوئے شیطان کے ہر حملے کو ناکام و نامراد کرنے والوں میں شامل ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 20؍ مئی 2016ء شہ سرخیاں

    اللہ تعالیٰ مومنوں کو فرماتا ہے کہ اپنے اوپر ہر وقت نظر رکھو اور دیکھتے رہو کہ تم کہیں شیطان کے قدموں پر تو نہیں چل رہے۔ انسان جب اللہ تعالیٰ کے بظاہر کسی چھوٹے سے چھوٹے حکم سے بھی دور جاتا ہے تو شیطان کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے پس بہت زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔

    شیطان سے بچنے کے لئے تو گھروں میں ہی ایسے مورچے بنانے کی ضرورت ہے کہ اس کے ہر حملے سے نہ صرف بچا جائے بلکہ اس کے حملے کا اسے جواب بھی دیا جائے۔ شیطان سے بچنے کی سب سے بڑی پناہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پس اس بگڑے ہوئے زمانے میں استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ استغفار ہی وہ ذریعہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں انسان آ سکتا ہے۔

    اکثر گھروں کے جائزے لے لیں۔ بڑے سے لے کر چھوٹے تک صبح فجر کی نماز اس لئے وقت پر نہیں پڑھتے کہ رات دیر تک یا تو ٹی وی دیکھتے رہے یا انٹرنیٹ پر بیٹھے رہے، اپنے پروگرام دیکھتے رہے، نتیجۃً صبح آنکھ نہیں کھلی۔ بلکہ ایسے لوگوں کی توجہ بھی نہیں ہوتی کہ صبح نماز کے لئے اٹھنا ہے۔

    شیطان صرف ایک دنیاوی پروگرام کے لالچ میں نماز سے دُور لے جاتا ہے اور اس کے علاوہ بھی انٹرنیٹ ایک ایسی چیز ہے جس میں مختلف قسم کے جو پروگرام ہیں، پھر ایپلی کیشنز (Applications) ہیں، فون وغیرہ کے ذریعہ سے یا آئی پیڈ (iPad) کے ذریعہ سے، ان میں مبتلا کرتا چلا جاتا ہے۔

    غلط تفریح اور ہر قسم کی فضولیات اور شیطان کے حملوں سے بچنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک جامع دعا کا تذکرہ۔

    اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایم ٹی اے عطا فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں جماعت کے روحانی، علمی پروگراموں کے لئے ویب سائٹ بھی عطا فرمائی۔ اگر ہم اپنی زیادہ توجہ اس طرف کریں تو پھر ہی ہماری توجہ اس طرف رہے گی جس سے ہم اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے والے ہوں گے اور شیطان سے بچنے والے ہوں گے۔

    ہر احمدی گھر کو یہ لازمی اور ضروری بنانا چاہئے کہ تمام گھر کے افراد مل کر ہر ہفتے کم از کم ایم ٹی اے پر خطبہ ضرور سنا کریں اور اس کے علاوہ کم از کم ایک گھنٹہ روزانہ ایم ٹی اے کے دوسرے پروگرام بھی دیکھیں۔ جن گھروں میں اس پر عمل ہو رہا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے نظر آتا ہے کہ پورا گھرانہ دین کی طرف مائل ہے۔ بچے بھی دین سیکھ رہے ہیں اور بڑے بھی دین سیکھ رہے ہیں۔ جو بھی اس پر عمل کرے گا اس سے یقیناجہاں دینی فائدہ حاصل ہو گا، اس سے شیطان سے بھی دُوری ہو گی۔

    جماعتی نظام اور بالخصوص ذیلی تنظیموں کو ممبران کو سنبھالنے اور جماعت سے مضبوطی کے ساتھ جوڑنے کے لئے عملی کوشش کرنے کی رہنمائی اور تاکیدی نصائح۔

    عہدیدار اپنے رویّے ایسے رکھیں کہ پیار سے انہیں دین کے ساتھ جوڑیں، مسجد کے ساتھ جوڑیں، اپنی مجلس کے ساتھ جوڑیں، جماعت کے ساتھ جوڑیں ورنہ شیطان تو اس تاک میں ہے کہ کہاں کوئی کمزور ہو، کہاں کسی کو کسی عہدیدار کے خلاف کوئی شکوہ پیدا ہو اور میں حملہ کر کے اسے اپنے قابو میں کروں۔ خاص طور پر وہ جن کے سپرددینی خدمت کا کام کیا گیا ہے، افراد جماعت کی رہنمائی اور تربیت کا کام جن کے سپرد ہے، اپنے قول وفعل کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں اور اللہ تعالیٰ سے خالص ہو کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے کسی کو شیطان کی جھولی میں نہ جانے دے بلکہ کسی طرح بھی کوئی فردِ جماعت بھی شیطان کے پیچھے چلنے والا نہ ہو۔

    فرمودہ مورخہ20مئی 2016ء بمطابق 20 ہجرت 1395 ہجری شمسی،  بمقام مسجدناصر۔ گوٹن برگ۔ سویڈن۔

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور