رمضان اور تقویٰ

خطبہ جمعہ 10؍ جون 2016ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (البقرۃ: 184) اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو تم پر روزے اسی طرح فرض کر دئیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی بات کی طرف توجہ دلائی ہے جو ہماری دنیا و عاقبت سنوارنے والی ہے اور وہ بات ہے فرمایا لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔ پس روزوں کی فرضیت کی اس لئے اہمیت نہیں ہے کہ اسلام سے پہلے مذاہب میں بھی روزے مقرر کئے گئے تھے بلکہ اہمیت اس بات کی ہے کہ تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو، تا کہ تم برائیوں سے بچ جاؤ۔

روزہ کیا ہے؟ یہ ایک مہینہ خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنے آپ کو ان جائز باتوں سے بھی روکنا ہے جن کی عام حالات میں اجازت ہے۔ پس جب اس مہینہ میں انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر جائز باتوں سے رُکنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ایک انسان ناجائز باتوں اور برائیوں کو کرے۔ اگر کوئی اس روح کو سامنے رکھتے ہوئے روزے نہیں رکھتا کہ میں نے یہ دن اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھتے ہوئے گزارنے ہیں اور ہر اس بات سے بچنا ہے جس سے بچنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور ہر اس بات کو کرنا ہے جس کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اگر یہ روح مدنظر نہیں، ہر وقت ہمارے سامنے نہیں اور اس کے مطابق عمل کی کوشش نہیں تو یہ روزے بے فائدہ ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کو تمہیں صرف بھوکا رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ (بخاری کتاب الصوم باب من لم یدع قول الزور … الخ حدیث 1903)

روزے کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ تم تقویٰ میں ترقی کرو۔ ایک مہینہ تربیت کا مہیا کیا گیا ہے، اس میں اپنے تقویٰ کے معیار بڑھاؤ۔ یہ تقویٰ تمہارے نیکیوں کے معیار بھی بلند کرے گا۔ یہ تمہیں مستقل نیکیوں پر قائم بھی کرے گا اور اللہ تعالیٰ کا قرب بھی دلائے گا اور اسی طرح گزشتہ گناہ بھی معاف ہوں گے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ جس شخص نے رمضان کے روزے ایمان کی حالت میں رکھے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہوئے رکھے اس کے گذشتہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ (بخاری کتاب الصوم باب من صام رمضان ایماناً واحتساباً و نیۃ حدیث 1901)

پس جب گزشتہ گناہ معاف ہو جائیں اور پھر تقویٰ کو اختیار کر کے انسان اس پر قائم ہو جائے تو ایسا انسان یقینا رمضان میں سے گزرنے کے مقصد میں کامیاب ہو گیا بلکہ اس نے اپنی زندگی کا مقصد پا لیا۔

تقویٰ کے فوائد جو ہمیں قرآن کریم میں ملتے ہیں اس میں ایک فائدہ اللہ تعالیٰ نے خود یہ بیان فرمایا ہے کہ فَاتَّقُوا اللّٰہَ یٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ (المائدۃ: 101) پس اے عقلمندو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم فلاح پاؤ، بامراد ہو جاؤ۔ پس کون ہے جو کامیابی حاصل نہیں کرنا چاہتا۔ دنیا کی کامیابیاں تو یہیں رہ جانی ہیں۔ اصل کامیابی تو وہ ہے جو اس دنیا کی بھی کامیابی ہے اور اگلے جہان کی بھی کامیابی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تمہارے میں عقل ہے تو سن لو کہ وہ کامیابی تقویٰ پر قائم ہونے سے ہی ملے گی۔ آج جہاں دین کے نام پر نام نہاد علماء مسلمانوں سے ایسے کام کروا رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے سراسر خلاف ہیں اور تقویٰ سے دُور ہیں وہاں احمدی خوش قسمت ہیں کہ انہیں زمانے کے امام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو ماننے کی توفیق ملی جنہوں نے ہمیں اسلام کی تعلیم کی ہر باریکی سے آگاہ فرمایا ہے۔

تقویٰ کیا ہے؟ اور تقویٰ کا حصول کن کن چیزوں سے ہوتا ہے؟ اور اپنی جماعت کے افراد سے اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کیا توقع رکھتے ہیں؟ ان باتوں کو جاننے اور سمجھنے کے لئے مَیں نے آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض حوالے لئے ہیں جو اس وقت مَیں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ یہ وہ رہنما باتیں ہیں جو ہمیں ایمان میں بڑھاتے ہوئے تقویٰ پر قائم کرتی ہیں اور جس تربیت کے مہینے سے ہم تقویٰ کے حصول کے لئے گزر رہے ہیں ان کے لئے لائحہ عمل بھی مقرر کرتی ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

’’تقویٰ کوئی چھوٹی چیز نہیں۔ اس کے ذریعہ سے ان تمام شیطانوں کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے جو انسان کی ہر ایک اندرونی طاقت و قوت پر غلبہ پائے ہوئے ہیں۔ یہ تمام قوتیں نفس امّارہ کی حالت میں انسان کے اندر شیطان ہیں۔‘‘ (یعنی بدی کی رغبت دلانے والی جو طاقتیں ہیں یا بدی کی طرف جانے کے لئے اور نیکیوں سے روکنے کے لئے جو خیالات انسان کے اندر آتے ہیں یہ انسان کے اندر کا شیطان ہے۔) فرمایا کہ ’’اگر اصلاح نہ پائیں گی تو‘‘ (ان طاقتوں کو جو تمہارے اندر نفس امارہ کی صورت میں ہیں جو شیطان کی شکل میں ہیں اگر ان کی اصلاح نہیں کرو گے یا یہ قوتیں اصلاح نہیں پاتیں تو پھر کیا نتیجہ ہو گا کہ) ’’انسان کو غلام کر لیں گی۔‘‘ فرمایا کہ ’’علم و عقل ہی برے طور پر استعمال ہو کر شیطان ہوجاتے ہیں۔‘‘ (علم ہے، بڑی اچھی چیز ہے۔ انسان کی عقل ہے، انسان عقلمند ہو تو بڑے بڑے کام کرتا ہے۔ لیکن اگر یہ علم اور انسان کی عقل جس پر انسان فخر کرنے لگ جائے، ان کو غلط کاموں کے لئے استعمال کرنے لگ جائے یا ان کو نیکیوں کے مقابلے پر کھڑا کر دے تو یہ شیطان ہو جاتی ہیں۔) فرمایا کہ متقی کا کام ان کی اور ایسا ہی اور دیگر کُل قویٰ کی تعدیل کرنا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ 33۔ ایڈیشن1985ء مطبوعہ انگلستان)

متقی کون ہے؟ اس کا ایسے موقع پر کیا کام ہے۔ یہ چیزیں جو ہیں، علم ہے، عقل ہے یا دوسری چیزیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہوئی ہیں، قویٰ دئیے ہوئے ہیں ان کو صحیح موقع پر استعمال کرنا، یہ متقی کا اصل کام ہے۔ ورنہ اگر صحیح موقع پر استعمال نہیں ہو رہیں تو یہی چیزیں انسان کو نقصان پہنچا دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دُور لے جاتی ہیں، شیطان کے قریب کر دیتی ہیں۔ پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’تقویٰ کا مضمون باریک ہے۔ اس کو حاصل کرو۔ خدا کی عظمت دل میں بٹھاؤ۔ جس کے اعمال میں کچھ بھی ریا کاری ہو خدا اس کے عمل کو واپس الٹا کر اس کے منہ پر مارتا ہے‘‘۔ (کسی بھی عمل میں دکھاوا نہ ہو۔ ریا کاری نہ ہو، بناوٹ نہ ہو اگر یہ ہے تو وہ عمل اللہ تعالیٰ کے لئے نہیں، چاہے وہ عبادت ہے، چاہے وہ قرآن کریم کی تلاوت ہے، چاہے وہ روزہ رکھنا ہے یا کوئی اور نیکی کا کام ہے۔) فرمایا ’’مُتقی ہونا مشکل ہے۔ مثلاً اگر کوئی تجھے کہے کہ تو نے قلم چرایا ہے تو تُو کیوں غصہ کرتا ہے‘‘۔ (کوئی اگر تمہیں کہے کہ میرا قلم یہاں پڑا ہوا تھا تم نے اس کو چرایا ہے، اٹھا لیا ہے تو تم اس وقت غصہ میں آ جاتے ہو۔ کیوں؟) ’’تیرا پرہیز تو محض خدا کے لئے ہے۔‘‘ (اگر نیکی ہے، اگر تقویٰ ہے تو پھر اس غصہ سے بچنا خدا کے لئے ہونا چاہئے۔ ذرا سی بات پر اپنی اَنا کو سامنے نہ لے آؤ بلکہ اپنے عمل کو خدا کی رضا کے مطابق ڈھالو۔) فرمایا کہ ’’یہ طیش اس واسطے ہوا کہ رُو بحق نہ تھا۔‘‘ (یہ غصہ کیوں آیا؟ اس لئے کہ تمہارا اصل مقصد خدا کی رضا نہیں تھی بلکہ تم اپنی اَنا کی طرف چل رہے تھے۔)’’جب تک واقعی طور پر انسان پر بہت سی موتیں نہ آ جائیں وہ متقی نہیں بنتا۔‘‘ فرمایا کہ ’’معجزات اور الہامات بھی تقویٰ کی فرع ہیں۔ اصل تقویٰ ہے۔‘‘ (کوئی کہہ دے مجھے الہامات ہوتے ہیں یا معجزے دکھاتا ہوں۔ تو یہ تقویٰ کی وجہ سے ایک ضمنی چیزیں ہیں۔ اصل چیز تقویٰ ہے۔) ’’اس واسطے تم الہامات اور رؤیا کے پیچھے نہ پڑو بلکہ حصول تقویٰ کے پیچھے لگو۔ جو متقی ہے اسی کے الہامات بھی صحیح ہیں اور اگر تقویٰ نہیں تو الہامات بھی قابل اعتبار نہیں۔ اُن میں شیطان کا حصّہ ہو سکتا ہے۔ کسی کے تقویٰ کو اس کے ملہَم ہونے سے نہ پہچانو‘‘ (یہ نہ سمجھو کہ وہ بڑا متقی ہے۔ اس کو بڑی خوابیں آتی ہیں۔ بڑا نیک ہے۔ الہامات ہوتے ہیں۔ کشف ہوتے ہیں۔ نہیں، بلکہ اس کے الہاموں کو اس کی حالت تقویٰ سے جانچو۔ اگر اس کو جانچنا ہے کہ وہ الہامات یا خوابیں صحیح ہیں تو یہ دیکھو کہ اس میں تقویٰ بھی ہے کہ نہیں۔ بعض چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں مثلاً یہ مثال دی کہ کسی نے کہا کہ تم نے میری فلاں چیز اٹھا لی تو اس کو غصہ آگیا۔ یہ طیش میں آنا، غصہ میں آنا اپنے حق کی خاطر دوسروں کو نقصان پہنچانا یہ چیزیں تقویٰ نہیں ہیں اور اگر یہ چیزیں نہیں ہیں اور پھر لاکھ کوئی کہتا رہے مَیں بڑی سچی خوابیں دیکھتا ہوں مجھے بڑے کشف ہوتے ہیں تو وہ سب غلط ہیں۔) فرمایا کہ ’’ملہم ہونے سے نہ پہچانو بلکہ اس کے الہاموں کو اس کی حالت تقویٰ سے جانچو اور اندازہ کرو۔ سب طرف سے آنکھیں بند کر کے پہلے تقویٰ کے منازل کو طے کرو۔ انبیاءؑ کے نمونہ کو قائم رکھو۔ جتنے نبی آئے سب کا مدّعا یہی تھا کہ تقویٰ کا راہ سکھلائیں۔ اِنْ اَوْلِیَآءُ ہٗ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ (الانفال: 35) مگر قرآن شریف نے تقویٰ کی باریک راہوں کو سکھلایا ہے۔ کمال نبی کا کمال امّت کو چاہتا ہے۔‘‘ فرمایا ’’چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین تھے۔ صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے آنحضرتؐ پر کمالات نبوّت ختم ہوئے۔ کمالات نبوت ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم ِنبوّت ہوا۔ جو اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا چاہے اور معجزات دیکھنا چاہے اور خوار ق عادت دیکھنا منظور ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگی بھی خارق عادت بنا لے۔‘‘ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 301-302۔ ایڈیشن1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس یہ انقلاب ہمیں لانے کی ضرورت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والے ہیں، آپ کی اُمّت میں سے ہیں تو آپ کا اُسوۂ حسنہ ہمارے لئے ہے اور اس کے لئے یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھے اور حقیقی تقویٰ پیدا ہو۔

پھر اس بات کی طرف بھی وضاحت فرماتے ہوئے کہ ہر ایک نیکی کی جڑ تقویٰ ہے فرمایا کہ ’’تقویٰ اختیار کرو۔ تقویٰ ہر چیز کی جڑ ہے۔ تقویٰ کے معنی ہیں ہر ایک باریک در باریک رگِ گناہ سے بچنا۔ تقویٰ اس کو کہتے ہیں کہ جس امر میں بدی کا شبہ بھی ہو اس سے بھی کنارہ کرے۔‘‘ (یہ نہیں کہ ظاہری بدی ظاہر ہو رہی ہے بلکہ اگر کوئی شک بھی ہے کہ اس میں کوئی بدی ہو سکتی ہے تو اس سے بچو۔) فرمایا ’’دل کی مثال ایک بڑی نہر کی سی ہے جس میں سے اور چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں جن کوسُؤا کہتے ہیں یا راجباہا کہتے ہیں۔‘‘ (پنجاب میں، ہندوستان میں، پاکستان میں چھوٹی نہریں جو ہیں ان کوا ن کی مقامی زبان میں سُوا ٓیا راجباہا کہتے ہیں۔ فرمایا کہ ’’دل کی نہر میں سے بھی چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں۔ مثلاً زبان وغیرہ۔‘‘(زبان ہے، ہاتھ ہے یا جو دوسرے سارے کام ہیں جن کا دل کے اوپر اثر ہوتا ہے) فرمایا کہ ’’دل کی نہر میں سے بھی چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں مثلاً زبان وغیرہ۔ اگر چھوٹی نہر یا سوئے کا پانی خراب اور گندہ اور میلا ہو تو قیاس کیا جاتا ہے کہ بڑی نہر کا پانی خراب ہے۔ پس اگر کسی کو دیکھو کہ اُس کی زبان یا دست و پا وغیرہ میں سے کوئی عضو ناپاک ہے تو سمجھو کہ اس کا دل بھی ایسا ہی ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد دوئم صفحہ321۔ ایڈیشن1985ء مطبوعہ انگلستان)۔ اگر کسی کی زبان گندی ہے، روزے رکھنے کے باوجود لڑائی جھگڑوں اور گالم گلوچ سے باز نہیں آتا یا اس کے ہاتھوں سے غلط کام ہو رہے ہیں تو سمجھ لو کہ اس کا دل بھی صاف نہیں ہے اور یہ تقویٰ سے دُور ہے۔

پھر اس طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کرنی چاہئے، آپ فرماتے ہیں کہ: ’’اہل تقویٰ کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کریں۔ یہ تقویٰ کی ایک شاخ ہے جس کے ذریعہ سے ہمیں ناجائز غضب کا مقابلہ کرنا ہے۔‘‘ (بلاوجہ کا غصہ جو ہے اس کا مقابلہ کرنا ہے۔ غصہ اگر صحیح موقع اور محل کے حساب سے ہو تو جائز ہے لیکن ناجائز غصہ، چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ اور لڑائی جھگڑے ان سے بچو۔) فرمایا کہ ’’بڑے بڑے عارف اور صدّیقوں کے لئے آخری اور کڑی منزل غضب سے بچنا ہی ہے۔‘‘ (سب سے بڑا مشکل کام جو ہے وہ غضب سے بچنا، غصہ سے بچنا، اپنے جذبات کو کنٹرول کرنا ہے۔) فرمایا ’’عُجب و پندار غضب سے پیدا ہوتا ہے‘‘ (یعنی تکبر اور غرور جو ہیں وہ غصہ میں سے پیدا ہوتے ہیں) ’’اور ایسا ہی کبھی خود غضب عُجب و پندار کا نتیجہ ہوتا ہے۔‘‘ (اور غصہ بھی اس لئے آتا ہے کہ انسان میں تکبر پایا جاتا ہے۔ غرور ہے۔ اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے۔ عاجزی نہیں ہے، مسکینی نہیں ہے اس لئے غصہ کی حالت پیدا ہوتی ہے اور یہ غصہ ہی ہے آجکل دنیا میں ہر جگہ گھروں سے لے کے بڑی سطح تک ہر جگہ اس نے فساد پیدا کیا ہوا ہے۔) فرمایا کہ ’’کیونکہ غضب اس وقت ہو گا جب انسان اپنے نفس کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے۔‘‘ فرمایا کہ ’’میں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے آپس میں ایک دوسرے کو چھوٹا یا بڑا سمجھیں۔ یا ایک دوسرے پر غرور کریں یا نظر استخفاف سے دیکھیں۔ خدا جانتا ہے کہ بڑا کون ہے یا چھوٹا کون ہے۔ یہ ایک قسم کی تحقیر ہے۔ جس کے اندر حقارت ہے، ڈر ہے کہ یہ حقارت بیج کی طرح بڑھے اور اس کی ہلاکت کا باعث ہو جاوے۔‘‘ (اگر کسی کو حقیر سمجھتے ہو، چھوٹا سمجھتے ہو، کم تر سمجھتے ہو، کسی قسم کا استہزاء کرتے ہو، کسی کو کم نظر سے دیکھتے ہو تو یہ چیزیں حقارت کے زُمرہ میں آتی ہیں اور یہ حقارت کا بیج جب دل میں قائم ہو جائے تو وہ بڑھتی ہے اور پھر نتیجہ کیا نکلتا ہے کہ انسان کو ہلاک کر دیتی ہے۔ فرمایا اس سے بچو۔) فرمایاکہ ’’بعض آدمی بڑوں کو مل کر بڑے ادب سے پیش آتے ہیں لیکن بڑا وہ ہے جو مسکین کی بات کو مسکینی سے سنے، اس کی دلجوئی کرے، اس کی بات کی عزت کرے۔ کوئی چِڑ کی بات منہ پر نہ لاوے کہ جس سے دکھ پہنچے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ بِئْسَ الْاِسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ وَمَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ  (الحجرات: 12)‘‘فرمایا کہ ’’تم ایک دوسرے کا چِڑ کے نام نہ لو۔ یہ فعل فُسّاق و فُجّار کا ہے۔‘‘ (یعنی اس طرح چڑ کے نام لینا یہ فعل کس کا ہے، کون لوگ یہ کام کرتے ہیں؟ جو دین سے دُور ہٹے ہوئے ہیں، جو صحیح راہ سے ہٹے ہوئے ہیں۔ فاجر کون ہے صحیح راہ سے ہٹنے والا۔ جھوٹا، گنہگار، بداخلاق، اطاعت سے باہر نکلا ہوا۔ ایسے لوگ جو ہیں یہ فاجر کہلاتے ہیں۔) فرمایا ’’یہ فعل فسّاق و فجّار کا ہے۔ جو شخص کسی کو چڑاتا ہے وہ نہ مرے گا جب تک وہ خود اسی طرح مبتلا نہ ہوگا۔ اپنے بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو۔ جب ایک ہی چشمہ سے کُل پانی پیتے ہو تو کون جانتا ہے کہ کس کی قسمت میں زیادہ پانی پینا ہے۔ مکرم و معظّم کوئی دنیاوی اصولوں سے نہیں ہو سکتا۔ خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متقی ہے۔ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ (الحجرات: 14)‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ36۔ ایڈیشن1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر اس بات کو فرماتے ہوئے کہ متقی کون ہے؟ آپ فرماتے ہیں کہ:

’’خدا کے کلام سے پایا جاتا ہے کہ متقی وہ ہوتے ہیں جو حلیمی اور مسکینی سے چلتے ہیں۔ وہ مغرورانہ گفتگو نہیں کرتے۔ ان کی گفتگو ایسی ہوتی ہے جیسے چھوٹا بڑے سے گفتگو کرے۔‘‘ (متقی کون ہے؟ وہ جو ہر ایک سے اس طرح گفتگو کرتے ہیں جس طرح چھوٹا شخص، بچّہ بڑے سے بات کرتا ہے یا غریب، امیر سے بات کرتا ہے۔ اس طرح گفتگو کرتے ہیں۔ باوجود امیر ہونے کے، باوجود بڑے ہونے کے ان میں یہ صفت پائی جاتی ہے کہ وہ انتہائی عاجزی سے بات کرتے ہیں۔) فرمایا کہ ’’ہم کو ہر حال میں وہ کرنا چاہئے جس سے ہماری فلاح ہو۔ اللہ تعالیٰ کسی کا اجارہ دار نہیں۔ وہ خاص تقویٰ کو چاہتا ہے۔ جو تقویٰ کرے گا وہ مقام اعلیٰ کو پہنچے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت ابراہیم علیہ السلام میں سے کسی نے وراثت سے تو عزت نہیں پائی۔‘‘آپ فرماتے ہیں کہ ’’گو ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد عبداللہ مشرک نہ تھے لیکن اس نے نبوت تو نہیں دی۔ یہ تو فضل الٰہی تھا ان صدقوں کے باعث جو اُن کی فطرت میں تھے۔ یہی فضل کے محرک تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جو ابوالانبیاء تھے انہوں نے اپنے صدق و تقویٰ سے ہی بیٹے کو قربان کرنے میں دریغ نہ کیا۔ خود آگ میں ڈالے گئے۔ ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی صدق و وفا دیکھئے۔ آپؐ نے ہر ایک قسم کی بدتحریک کا مقابلہ کیا۔ طرح طرح کے مصائب اور تکالیف اٹھائے لیکن پروا نہ کی۔ یہی صدق و وفا تھا جس کے باعث اللہ تعالیٰ نے فضل کیا۔‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ37۔ ایڈیشن1985ء مطبوعہ انگلستان)۔ پس یہ اُسوۂ حسنہ ہے جو ہمارے لئے بھی ہے۔

پھر آپ فرماتے ہیں کہ کس طرح سچی فراست اور سچی دانش حاصل کی جائے؟ فرمایا کہ ’’سچی فراست اور سچی (عقل یا) دانش اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کئے بغیر حاصل ہی نہیں ہو سکتی۔ اسی واسطے تو کہا گیا ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ نُور الٰہی سے دیکھتا ہے۔ صحیح فراست اور حقیقی دانش… کبھی نصیب نہیں ہو سکتی جب تک تقویٰ میسر نہ ہو۔‘‘ فرمایا ’’اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو عقل سے کام لو۔ فکر کرو۔ سوچو۔ تدبّر اور فکر کے لئے قرآن کریم میں بار بار تاکیدیں موجود ہیں۔‘‘ (اب ایک طرف اگر کوئی شخص اپنے علم اور عقل کو غلط رنگ میں استعمال کرتا ہے تو اس کی ہلاکت کا باعث بن جاتا ہے۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عقل سے بھی کام لو۔ علم سے بھی کام لو اور سوچو اور تدبر بھی کرو اور آپ اسی بارے میں تاکید فرما رہے ہیں کہ قرآن کریم نے بار بار تاکیدیں فرمائی ہیں جو اس میں موجود ہیں۔) فرمایا کہ ’’کتاب مکنون اور قرآن کریم میں فکر کرو۔‘‘ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اس کی پوشیدہ باتوں کو جاننے کی کوشش کرو، ترجمہ پڑھو، تفسیر پڑھو۔ رمضان کے دنوں میں قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے اس کے ساتھ ساتھ درس بھی ہیں اس کی طرف توجہ دو، ) فرمایا ’’اور پارسا طبع ہو جاؤ۔ جب تمہارے دل پاک ہو جائیں گے اور ادھر عقل سلیم سے کام لو گے اور تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے پھر ان دونوں کے جوڑ سے وہ حالت پیدا ہو جائے گی کہ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ  (آل عمران: 192)‘‘ فرمایا ’’تمہارے دل سے نکلے گا۔ اُس وقت سمجھ میں آ جائے گا کہ یہ مخلوق عبث نہیں بلکہ صانع حقیقی کی حقانیت اور اثبات پر دلالت کرتی ہے تا کہ طرح طرح کے علوم و فنون جو دین کو مدد دیتے ہیں ظاہر ہوں۔‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ66۔ ایڈیشن1985ء مطبوعہ انگلستان)

ایک طرف علم اور عقل آجکل کے جدید لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے دُور لے جا رہی ہے۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس عقل اور علم سے کام لو گے تو اللہ تعالیٰ کے وجود کا پتا لگے گا۔ اللہ تعالیٰ کی صنّاعی کا پتا لگے گا۔ آجکل لوگ کہتے ہیں کہ خدا نہیں۔ خدا اس لئے نظر نہیں آتا کہ ان کے دین کی آنکھ اندھی ہے۔ اپنی عقل اور علم کو صرف دنیاوی معیار پر پرکھتے ہیں۔ صرف دنیا کی طرف توجہ ہے۔ اور دین سے اس لئے ہٹ گئے ہیں کہ ان کے دین فرسودہ اور پرانے ہو چکے ہیں۔ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی رہنمائی نہیں رہی۔ اس لئے اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے، عقل بھی نہیں کر سکتے۔ ہمارے دین میں تو ہمارے لئے قرآن کریم ہی کتاب ہے اور وہ ہمیشہ کے لئے علم و معرفت سے پُر کتاب ہے۔ قرآن کریم پر غور اور تدبر پھر تقویٰ میں بڑھاتا ہے اللہ تعالیٰ کی صنّاعی کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ اور تقویٰ میں جب انسان بڑھتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کو دیکھتا ہے۔ یعنی تقویٰ خدا تعالیٰ کو دکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وجود پھر غور کرنے والے کو، تقویٰ میں ترقی کرنے والے کو پہاڑوں کی بلندی میں بھی نظر آتا ہے اور گہری گھاٹیوں میں بھی نظر آتا ہے۔ دریاؤں میں بھی اللہ تعالیٰ کا وجودنظر آتا ہے اور سمندروں میں بھی نظر آتا ہے۔ چاند اور ستاروں میں بھی نظر آتا ہے۔ کائنات کے مختلف سیّاروں میں نظر آتا ہے۔ ایک حقیقی مومن صرف خشک عقل اور منطق پر نہیں چلتا بلکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ سے نور حاصل کرتا ہے۔ پس روزوں میں اس نور کی بھی ہمیں تلاش کرنی چاہئے کہ رمضان کا مقصد مادی چیزوں میں کمی کر کے، ظاہری غذا کوکم کر کے روحانی چیزوں کی تلاش ہے اور اس میں بھی ہمیں بڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ہر انسان تزکیۂ نفس کی کوشش کرے۔ اپنے نفس کو پاک کرنے کی کوشش کرے اور اپنے قویٰ اور طاقتوں کو پاکیزہ کرنے کی کوشش کرے۔ اگر اپنے قویٰ اور طاقتوں کا صحیح استعمال کرنا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ان کی تطہیر کرو۔ ان کو پاک صاف کرو۔ اور یہی وہ تقویٰ ہے جو اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے۔

پھر اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ اگر جماعت میں شامل ہوئے ہو، اسلام کی خدمت کرنا چاہتے ہو تو پھر پہلے خود تقویٰ اور طہارت اختیار کرو۔ اسلام کی خدمت صرف باتوں سے نہیں ہو گی بلکہ ہمیں تقویٰ و طہارت اختیار کرنی پڑے گی۔ یہ جو مضمون چل رہا ہے اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ: ’’اب مَیں پھر اپنے پہلے مقصد کی طرف رجوع کرتا ہوں یعنی صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا(آل عمران: 201) جس طرح دشمن کے مقابلہ پر سرحد پر گھوڑا ہونا ضروری ہے تا کہ دشمن حد سے نہ نکلنے پاوے۔ اسی طرح تم بھی تیار رہو۔‘‘ (صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ سرحدوں پر گھوڑے کھڑے کئے جاتے ہیں۔ دشمن سے بچاؤ کے لئے فوج کھڑی کی جاتی ہے تا کہ دشمن ہماری سرحدوں میں داخل نہ ہو۔ فرمایا اسی طرح تم بھی فوجیوں کی طرح تیار رہو۔) ’’ایسا نہ ہو کہ دشمن سرحد سے گزر کر اسلام کو صدمہ پہنچائے۔‘‘ فرمایا کہ ’’مَیں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ اگر تم اسلام کی حمایت اور خدمت کرنا چاہتے ہو تو پہلے خود تقویٰ اور طہارت اختیار کرو جس سے خود تم خدا تعالیٰ کی پناہ کے حصن حصین میں آ سکو‘‘ (اللہ تعالیٰ کی پناہ کے مضبوط قلعہ میں آ سکو)’’اور پھرتم کو اس خدمت کا شرف اور استحقاق حاصل ہو۔‘‘ (جب اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آ جاؤ گے تو پھر اس خدمت کا جو اسلام کی حفاظت کی خدمت ہے اس کا تمہیں موقع بھی ملے گا اور تمہارا حق بھی قائم ہو جائے گا کیونکہ تم نے اپنی اصلاح کی۔ تقویٰ پہ قائم ہوئے۔) فرمایا ’’تم دیکھتے ہو کہ مسلمانوں کی بیرونی طاقت کیسی کمزور ہو گئی ہے۔ قومیں ان کو نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ اگر تمہاری اندرونی اور قلبی طاقت بھی کمزور اور پست ہو گئی تو بس پھر تو خاتمہ ہی سمجھو۔ تم اپنے نفسوں کو ایسے پاک کرو کہ قدسی قوت ان میں سرایت کرے اور وہ سرحد کے گھوڑوں کی طرح مضبوط اور محافظ ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہمیشہ متقیوں اور راستبازوں ہی کے شامل حال ہؤا کرتا ہے۔ اپنے اخلاق اور اطوار ایسے نہ بناؤ جن سے اسلام کو داغ لگ جاوے۔ بدکاروں اور اسلام کی تعلیم پر عمل نہ کرنے والے مسلمانوں سے اسلام کو داغ لگتا ہے۔ کوئی مسلمان شراب پی لیتا ہے تو کہیں قَے کرتا پھرتا ہے۔ پگڑی گلے میں ہوتی ہے۔ موریوں اور گندی نالیوں میں گرتا پھرتا ہے۔ پولیس کے جوتے پڑتے ہیں۔ ہندو اور عیسائی اس پر ہنستے ہیں۔ اس کا ایسا خلاف شرع فعل اس کی ہی تضحیک کا موجب نہیں ہوتا بلکہ درپردہ اس کا اثر نفسِ اسلام تک پہنچتا ہے۔‘‘ (اسلام بدنام ہو رہا ہے۔)

اب آجکل چاہے ایک محدود گروپ ہی ہے بعض دہشتگرد یا غلط کام کرنے والے ہیں یہ کوئی نہیں کہتا کہ وہ چند آدمی ہیں یا چند گروپ ہیں، اسلام کو بدنام کیا جاتا ہے۔ اسلام پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اسلام کی ایسی تعلیم ہے۔ تو کسی کی اسلام کی طرف منسوب ہونے والی کوئی بھی حرکت بہرحال مخالفین کو، دشمنوں کو اسلام پر انگلی اٹھانے کا موقع دے گی۔) فرمایا کہ ’’مجھے ایسی خبریں یا جیل خانوں کی رپورٹیں پڑھ کر سخت رنج ہوتا ہے جب مَیں دیکھتا ہوں کہ اس قدر مسلمان بد عملیوں کی وجہ سے مورد عتاب ہوئے۔ دل بیقرار ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ جو صراط مستقیم رکھتے ہیں اپنی بداعتدالیوں سے صرف اپنے آپ کو نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ اسلام پر ہنسی کراتے ہیں۔‘‘ فرمایا کہ ’’میری غرض اس سے یہ ہے کہ مسلمان لوگ مسلمان کہلا کر ان ممنوعات اور منہیات میں مبتلا ہوتے ہیں جو نہ صرف ان کو بلکہ اسلام کو مشکوک کر دیتے ہیں۔‘‘ فرمایا ’’پس اپنے چال چلن اور اطوار ایسے بنا لو کہ کفار کو بھی تم پر (جو دراصل اسلام پر ہوتی ہے) نکتہ چینی کرنے کا موقع نہ ملے۔‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ 77-78۔ ایڈیشن1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر تقویٰ کے اجزاء کے بارے میں مزید وضاحت فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا: ’’تقویٰ کے بہت سے اجزاء ہیں۔‘‘ (عُجب ہے۔ یعنی رعونت تکبر وغیرہ ہے۔ خود پسندی ہے۔ اپنی تعریفیں آپ کرنا۔ اپنی پروجیکشن کرنا۔ مال حرام ہے۔ فرمایا تقویٰ جو ہے اس میں ) ’’عجب، خود پسندی، مال حرام سے پرہیز اور بداخلاقی سے بچنا بھی تقویٰ ہے۔‘‘ (غرور اور تکبر خود پسندی مال حرام کھانے سے بچنا اور بداخلاقی سے بچنا یہ سب تقویٰ ہے۔) ’’جو شخص اچھے اخلاق ظاہر کرتا ہے اس کے دشمن بھی دوست ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَن (المؤمنون: 97)۔ اب خیال کرو کہ یہ ہدایت کیا تعلیم دیتی ہے؟ اس ہدایت میں اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ اگر مخالف گالی بھی دے تو اس کا جواب گالی سے نہ دیا جائے بلکہ اس پر صبر کیا جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ مخالف تمہاری فضیلت کا قائل ہو کر خود ہی نادم اور شرمندہ ہو گا اور یہ سزا اس سزا سے بہت بڑھ کر ہو گی جو انتقامی طورپر تم اس کو دے سکتے ہو۔‘‘ فرمایا ’’یوں تو ایک ذرا سا آدمی اقدام قتل تک نوبت پہنچا سکتا ہے لیکن انسانیت کا تقاضا اور تقویٰ کا منشاء یہ نہیں ہے۔ خوش اخلاقی ایک ایسا جوہر ہے کہ موذی سے انسان پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔ کسی نے کیا اچھا کہا ہے کہ

لُطف کُن لُطف کہ بیگانہ شود حلقہ بگوش‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ 81۔ ایڈیشن1985ء مطبوعہ انگلستان)

کہ مہربانی سے پیش آؤ کہ بیگانے بھی تمہارے حلقۂ احباب میں اس سے شامل ہو جاتے ہیں۔ پھر اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ انسان کو نیک بختی اور تقویٰ کی طرف توجہ کرنی چاہئے آپ فرماتے ہیں کہ ’’اصل بات جو قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ انسان کو نیک بختی اور تقویٰ کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور سعادت کی راہیں اختیار کرنی چاہئیں تب ہی کچھ بنتا ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ خدا تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ خود وہ اپنی حالت کو تبدیل نہ کرے۔ خواہ مخواہ کے ظنّ فاسد کرنے اور بات کو انتہا تک پہنچانا بالکل بیہودہ امر ہے۔ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ لوگوں کو چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، نمازیں پڑھیں، زکوٰۃ دیں، اتلافِ حقوق اور بدکاریوں سے باز آئیں۔‘‘ (دوسروں کے حق مارنے سے اور غلط کام کرنے سے، گندے کام کرنے سے، بدکاریاں کرنے سے باز آئیں۔) فرمایا کہ ’’یہ امر بخوبی ثابت ہے کہ بعض وقت جب صرف ایک شخص ہی بدی کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ سارے گھر اور سارے شہر کی ہلاکت کا موجب ہو جاتی ہے۔ پس بدیوں کو چھوڑ دو کہ وہ ہلاکت کا موجب ہیں۔ … اگر تمہارا ہمسایہ بدگمانی کرتا ہے تو اس کی بدگمانی رفع کرنے کی کوشش کرو اور اسے سمجھاؤ۔ انسان کہاں تک غفلت کرتا جائے گا۔‘‘ فرمایا کہ ’’حدیث شریف میں آیا ہے کہ مصیبت کے وارد ہونے سے پہلے جو دعا کی جائے وہ قبول ہوتی ہے کیونکہ خوف و خطر میں مبتلا ہونے کے وقت تو ہر شخص دعا اور رجوع الی اللہ کر سکتا ہے۔‘‘ فرمایا کہ ’’سعادت مندی یہی ہے کہ امن کے وقت دعا کی جائے۔‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ 262، 263۔ ایڈیشن1985ء مطبوعہ انگلستان)۔ پس اس طرف ہمیں توجہ دینی چاہئے۔

پھر آپ بیان فرماتے ہیں کہ ’’اصل بات یہ ہے کہ تقویٰ کا رعب دوسروں پر بھی پڑتا ہے اور خدا تعالیٰ متقیوں کو ضائع نہیں کرتا۔‘‘ فرمایا کہ ’’میں نے ایک کتاب میں پڑھا ہے کہ حضرت سید عبدالقادر صاحب جیلانی رحمۃ اللہ علیہ جو بڑے اکابر میں سے ہوئے ہیں۔ ان کا نفس بڑا مطہّر تھا۔ ایک بار انہوں نے اپنی والدہ سے کہا کہ میرا دل دنیا سے برداشتہ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی پیشو اتلاش کروں جومجھے سکینت اور اطمینان کی راہیں دکھلائے۔ والدہ نے جب دیکھا کہ یہ اب ہمارے کام کا نہیں رہا تو ان کی بات کو مان لیا اور کہا کہ اچھا میں تجھے رخصت کرتی ہوں۔ یہ کہہ کر اندر گئی اور اسّی مہریں جو اس نے جمع کی ہوئی تھیں، اٹھا لائی اور کہا کہ ان مہروں سے حصہ شرعی کے موافق چالیس مہریں تیری ہیں اور چالیس تیرے بڑے بھائی کی۔ اس لئے چالیس مہریں تجھے بحصہ رسدی دیتی ہوں۔ یہ کہہ کر وہ چالیس مہریں ان کی بغل کے نیچے پیراہن میں سی دیں‘‘ (قمیض کے اندر جو لباس پہنا ہوا تھا اس کے نیچے سی دیں ) ’’اور کہا کہ امن کی جگہ پہنچ کر نکال لینا اور عند الضرورت اپنے صَرف میں لانا۔ سید عبدالقادر صاحبؒ نے اپنی والدہ سے عرض کی کہ مجھے کوئی نصیحت فرما ویں۔‘‘ (سفر پہ جا رہا ہوں کوئی نصیحت فرما دیں۔) ’’انہوں نے کہا کہ بیٹا جھوٹ کبھی نہ بولنا۔‘‘ (یہ نصیحت ہے اور ہمیشہ یاد رکھنا) ’’اس سے بڑی برکت ہوگی۔ اتنا سن کر آپ رخصت ہوئے۔ اتفاق ایسا ہوا کہ جس جنگل میں سے ہو کر آپؒ گزرے اس میں چند رہزن قزّاق رہتے تھے جو مسافروں کو لُوٹ لیا کرتے تھے۔ دور سے سید عبد القادر صاحبؒ پر بھی اُن کی نظر پڑی۔ قریب آئے تو انہوں نے ایک کمبل پوش فقیر سا دیکھا۔ ایک نے ہنسی سے دریافت کیا کہ تیرے پاس کچھ ہے؟ آپؒ ابھی اپنی والدہ سے تازہ نصیحت سن کر آئے تھے کہ جھوٹ نہ بولنا۔ فی الفور جواب دیا کہ ہاں چالیس مہریں میری بغل کے نیچے ہیں جو میری والدہ صاحبہ نے کیسہ کی طرح سی دی ہیں۔‘‘ (جیب کی طرح اندر سی دی ہیں۔) ’’اُس قزاق نے سمجھا کہ یہ ٹھٹھا کرتا ہے۔ دوسرے قزاق نے جب پوچھا تو اس کو بھی یہی جواب دیا۔ الغرض ہر ایک چور کو یہی جواب دیا۔ وہ ان کو اپنے امیر قزاقاں کے پاس لے گئے کہ بار بار یہی کہتا ہے۔‘‘ (کہ میرے پاس اتنی مہریں ہیں۔) ’’امیر نے کہا اچھا اس کا کپڑا دیکھو تو سہی۔ جب تلاشی لی گئی تو واقعی چالیس مہریں برآمد ہوئیں۔ وہ حیران ہوئے کہ یہ عجیب آدمی ہے۔ ہم نے ایسا آدمی کبھی نہیں دیکھا۔ امیر نے آپؒ سے دریافت کیا کہ کیا وجہ ہے کہ تُو نے اس طرح پر اپنے مال کا پتہ بتا دیا؟ آپؒ نے فرمایا کہ میں خدا کے دین کی تلاش میں جاتا ہوں۔ روانگی پر والدہ صاحبہ نے نصیحت فرمائی تھی کہ جھوٹ کبھی نہ بولنا۔ یہ پہلا امتحان تھا۔ مَیں جھوٹ کیوں بولتا۔ یہ سن کر‘‘ (امیر جو تھا ڈاکوؤں کا) ’’امیرقزاقاں رو پڑا اور کہا کہ آہ! میں نے ایک بار بھی خدا تعالیٰ کا حکم نہ مانا۔ چوروں سے مخاطب ہو کر کہا کہ اس کلمہ اور اس شخص کی استقامت نے میرا تو کام تمام کر دیا ہے۔ میں اب تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتا اور توبہ کرتا ہوں۔ اس کے کہنے کے ساتھ ہی باقی چوروں نے بھی توبہ کر لی۔‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ 79-80۔ ایڈیشن1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس یہ بات ہمیں بھی اپنے جائزے لینے کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ ہم نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس لئے مانا ہے کہ دین بگڑ گیا اور اسلام کی صحیح تعلیم پر کوئی نہیں چل رہا تھا۔ اگر اسلام کی صحیح تعلیم پر ہم نے چلنا ہے تو مسیح موعود کو مانو۔ ہم نے اس لئے مانا ہے۔ اس کے بعد پھر کیا ہم نے اپنی برائیاں چھوڑ دی ہیں؟ جھوٹ ایک ایسی برائی ہے جو بظاہر معمولی لگتی ہے لیکن بہت بڑی ہے اور اگر اس واقعہ کے معیار پر پرکھیں تو اکثر شاید اس برائی میں مبتلا ہوں۔ پس بیعت اور تقویٰ کا یہ تقاضا ہے کہ ہم اس برائی سے بچیں اور یہاں باہر کے ممالک میں جو آرہے ہیں ان میں بہت سارے ایسے ہیں جو آئے بھی اس لئے ہیں کہ دین کی وجہ سے باہر نکلے ہیں۔ اپنے ملک میں ان کو دین پر عمل کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ آزادی سے اپنے دین کے اظہار کی اجازت نہیں تھی۔ تو ہمیں خاص طور پر مغربی ممالک میں رہنے والوں کو بہت زیادہ احتیاط کرنی چاہئے کہ ہمارا ہلکا سا بھی کوئی فعل ایسا نہ ہو جس سے یہ اظہار ہوتا ہو یا ہماری زبان سے کوئی ایسا لفظ نہ نکلے جس سے یہ اظہار ہوتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے یا اپنی اس غلط بیانی کرنے کی وجہ سے ہم غلط قسم کے فائدے اٹھا رہے ہیں۔ پس تقویٰ کے معیار کو سامنے رکھتے ہوئے ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔

پھر اس طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ خدا تعالیٰ کے عطا کردہ قویٰ کو کس طرح انصاف سے استعمال کیا جائے اور ان کو استعمال کرنے سے ہی انسان کی نشوونما ہوتی ہے آپ فرماتے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ نے جس قدر قویٰ عطا فرمائے ہیں وہ ضائع کرنے کے لئے نہیں دئیے گئے۔ ان کی تعدیل اور جائز استعمال کرنا ہی ان کی نشوونما ہے۔‘‘ (ان کو انصاف سے استعمال کرنا اور جائز استعمال کرنا ہی ان کی نشوونما ہے۔ ان کو بڑھانا ہے۔ ان سے فائدہ اٹھانا ہے۔ ان کو صحیح رکھنا ہے تو ان کا جائز استعمال ضروری ہے۔) فرمایا ’’اسی لئے اسلام نے قوائے رجولیت یا آنکھ کے نکالنے کی تعلیم نہیں دی بلکہ ان کا جائز استعمال اور تزکیۂ نفس کرایا جیسے فرمایا قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنََ (المؤمنون: 2)‘‘ فرمایا کہ ’’متقی کی زندگی کا نقشہ کھینچ کر آخر میں بطور نتیجہ یہ کہا کہ وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (البقرۃ: 6)  یعنی وہ لوگ جو تقویٰ پر قدم مارتے ہیں ایمان بالغیب لاتے ہیں۔ نماز ڈگمگاتی ہے پھر اُسے کھڑا کرتے ہیں۔ خدا کے دئیے ہوئے سے دیتے ہیں۔‘‘ راتوں کو عبادتیں کر رہے ہیں۔ نمازمیں اگر خیالات آتے ہیں تو دوبارہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ پھیرتے ہیں۔ ان خیالات کو جھٹک دیتے ہیں۔ یا کبھی نمازوں کی طرف توجہ نہیں رہتی کہ نمازیں وقت پر پڑھنی ہیں تو پھر اپنی اصلاح کرتے ہیں اور نمازیں وقت پر ادا کرنے کی طرف توجہ کرتے ہیں تو ایسے لوگ ہی پھر فلاح پانے والے ہوتے ہیں اور خدا کے دئیے ہوئے سے دیتے ہیں۔ جو مال اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔) فرمایا ’’باوجود خطراتِ نفس بلا سوچے گزشتہ اور موجودہ کتاب اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور آخر کار وہ یقین تک پہنچ جاتے ہیں۔‘‘ (جب ایمان بالغیب ہوتا ہے تو پھر یقین بھی ہو جاتا ہے۔ ایسا ایمان ہو جاتا ہے جو یقین تک پہنچ جاتا ہے۔) فرمایا ’’یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت کے سر پر ہیں۔ وہ ایک ایسی سڑک پر ہیں جو برابر آگے کو جا رہی ہے اور جس سے آدمی فلاح تک پہنچتا ہے۔ پس یہی لوگ فلاح یاب ہیں جو منزل مقصود تک پہنچ جائیں گے اور راہ کے خطرات سے نجات پاچکے ہیں۔ اس لئے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے ہم کو تقویٰ کی تعلیم دے کر ایک ایسی کتاب ہم کو عطا کی جس میں تقویٰ کے وصایا بھی دئیے۔‘‘ (یعنی تقویٰ کے بارے میں ساری جو متعلقہ نصیحتیں تھیں وہ بھی دے دیں۔) ’’سو ہماری جماعت یہ غم کُل دنیوی غموں سے بڑھ کر اپنی جان پر لگائے کہ ان میں تقویٰ ہے یا نہیں‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ 35۔ ایڈیشن1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر اللہ تعالیٰ کے خوف کے بارے میں آپ بتاتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ:

’’اللہ کا خوف اسی میں ہے کہ انسان دیکھے کہ اس کا قول و فعل کہاں تک ایک دوسرے سے مطابقت رکھتا ہے۔‘‘ (باتیں وہ کیا کر رہا ہے عمل کیا کر رہا ہے۔ آپس میں مطابقت ہے؟ ایک دوسرے سے ملتے ہیں یا مختلف ہیں؟) ’’پھر جب دیکھے کہ اس کا قول و فعل برابر نہیں تو سمجھ لے کہ وہ مورد غضب ِالٰہی ہو گا۔ جو دل ناپاک ہے خواہ قول کتنا ہی پاک ہو وہ دل خدا کی نگاہ میں قیمت نہیں پاتا۔‘‘ (اگر دل گندہ ہے۔ اپنا عمل اس کے مطابق نہیں ہے پھر چاہے جتنی مرضی ہم نیک باتیں کرتے رہیں اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اس کی کوئی قیمت نہیں ) ’’بلکہ خدا کا غضب مشتعل ہو گا۔‘‘ (اللہ تعالیٰ سب کو اس سے بچائے۔) فرمایا ’’پس میری جماعت سمجھ لے کہ وہ میرے پاس آئے ہیں اسی لئے کہ تخم ریزی کی جاوے جس سے وہ پھلدار درخت ہو جاوے۔ پس ہر ایک اپنے اندر غور کرے کہ اس کا اندرونہ کیسا ہے اور اس کی باطنی حالت کیسی ہے۔ اگر ہماری جماعت بھی خدانخواستہ ایسی ہے کہ اس کی زبان پر کچھ ہے اور دل میں کچھ ہے تو پھر خاتمہ بالخیر نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ جب دیکھتا ہے کہ ایک جماعت جو دل سے خالی ہے اور زبانی دعوے کرتی ہے وہ غنی ہے وہ پرواہ نہیں کرتا۔‘‘ فرمایا کہ ’’بدر کی فتح کی پیشگوئی ہو چکی تھی۔‘‘(جنگ بدر میں ) ہر طرح فتح کی امید تھی‘‘ (اب وہ پیشگوئی تھی اللہ تعالیٰ نے کہا تھا فتح دوں گا) ’’لیکن پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رو رو کر دعا مانگتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ جب ہر طرح فتح کا وعدہ ہے تو پھر ضرورت ِالحاح کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ذات غنی ہے۔ یعنی ممکن ہے کہ وعدۂ ِالٰہی میں کوئی مخفی شرائط ہوں۔‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ 11۔ ایڈیشن1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس یہ ہمارے لئے بھی بڑے خوف کا مقام ہے۔ بیشک حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی اللہ تعالیٰ نے ترقی کے وعدے کئے ہیں، کامیابی کے وعدے کئے ہیں، غلبے کے وعدے کئے ہیں لیکن ہمیں اس کا حصہ بننے کے لئے اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ ’’ہماری جماعت کے لئے خاص کر تقویٰ کی ضرورت ہے۔ خصوصاً اس خیال سے بھی کہ وہ ایک ایسے شخص سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کے سلسلۂ بیعت میں ہیں جس کا دعویٰ ماموریت کا ہے تا وہ لوگ جو خواہ کسی قسم کے بغضوں کینوں یا شرکوں میں مبتلا تھے یا کیسے ہی رُو بہ دنیا تھے ان تمام آفات سے نجات پاویں۔‘‘ (پرانی بیماریاں تھیں لیکن اب ایسے شخص سے منسوب ہو گئے ہیں جس کا ماموریت کا دعویٰ ہے۔ اب جب اس کی طرف منسوب ہو گئے تو اس لئے منسوب ہوئے تا کہ ان چیزوں سے اور مصیبتوں سے نجات پائیں۔) آپ فرماتے ہیں ’’آپ جانتے ہیں کہ اگر کوئی بیمار ہو جاوے خواہ اس کی بیماری چھوٹی ہو یا بڑی اگر اس بیماری کے لئے دوا نہ کی جاوے اور علاج کے لئے دکھ نہ اٹھایا جاوے بیمار اچھا نہیں ہو سکتا۔ ایک سیاہ داغ منہ پر نکل کر ایک بڑا فکر پیدا کر دیتا ہے کہ کہیں یہ داغ بڑھتا بڑھتا کُل منہ کو کالا نہ کر دے۔ اسی طرح معصیت کا بھی ایک‘‘ (داغ ہے۔ گناہ کا بھی ایک داغ ہے۔ اپنی کمزوری اور گناہ کا ایک) ’’سیاہ داغ دل پر ہوتا ہے۔‘‘ فرمایا کہ ’’صغائر سہل انگاری سے کبائر ہو جاتے ہیں۔ (اگر چھوٹی چھوٹی غلطیاں ہیں، گناہ ہیں۔ انسان سمجھتا ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں۔ کوئی پرواہ نہیں کی، سستی دکھائی۔ ان کو ٹھیک کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکموں پر پوری طرح عمل نہ کیا اور ان سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار نہ کیا تو کیا ہوگا؟ یہ سستیاں پھر بڑے گناہ بن جاتے ہیں )۔ فرمایا ’’صغائر وہی داغ چھوٹا ہے جو بڑھ کر آخر کار کُل منہ کو سیاہ کر دیتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ 10۔ ایڈیشن1985ء مطبوعہ انگلستان)۔ یہ چھوٹے گناہ ہی ہیں جو بڑے گناہ بنتے ہیں اور پھر انسان کو سیاہ کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کے اس خاص ماحول میں اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق تقویٰ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے وہ افراد بنیں جو ہر قسم کی برائیوں سے بچنے والے اور خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے اپنے ہر عمل کو ڈھالنے والے ہوں اور اس مہینے سے ایسے پاک ہو کر نکلیں اور نیکیوں پر ایسے قائم ہوں کہ ہماری چھوڑی ہوئی برائیاں یا چھوٹی ہوئی برائیاں پھر دوبارہ کبھی عود کر کے نہ آئیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔

نماز کے بعد میں دو جنازے بھی پڑھاؤں گا۔ ایک جنازہ حاضر ہے جو مکرمہ طاہرہ حمید صاحبہ اہلیہ مکرم عبدالحمید صاحب مرحوم کاونٹری یوکے کا ہے۔ 8؍جون کو ایک لمبی علالت کے بعد 60سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ان کا تعلق جہلم پاکستان سے تھا۔ 2001ء میں یوکے آئیں۔ نیک خاتون تھیں۔ نمازوں کی پابند، خلافت سے عقیدت کا تعلق تھا۔ بچوں کی بھی صحیح رنگ میں تربیت کی۔ جماعت سے وابستہ رکھا۔ اور خاص طور پر نمازوں کا خیال رکھنے والی تھیں۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے موصیہ بھی تھیں۔ ان کے لواحقین میں ان کی والدہ کے علاوہ ایک بیٹا اور پانچ بیٹیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور لواحقین کو بھی صبر عطا فرمائے۔

دوسرا جنازہ غائب ہے جو مکرم حمید احمد صاحب شہید ابن مکرم شریف احمد صاحب ضلع اٹک کا ہے۔ مکرم حمید احمد صاحب ابن مکرم شریف احمد صاحب کی عمر 63سال تھی۔ اٹک میں رہتے تھے۔ ان کو مخالفین احمدیت نے 4؍جون کو دوپہر اڑہائی بجے ان کے گھر کے باہر فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ تفصیلات کے مطابق 4؍جون کو مکرم حمید صاحب نماز ظہر ادا کرنے کے بعد مسجد سے گھر واپس آئے اور گھر کے گیٹ پر آ کر موٹر سائیکل کا ہارن بجایا۔ ان کی بیٹی گھر کا دروازہ، باہر کا گیٹ کھولنے کے لئے آ رہی تھیں کہ اس دوران نامعلوم حملہ آور آئے اور حمید صاحب پر انتہائی قریب سے فائرنگ کر دی اور موقع سے فرار ہو گئے۔ حمید صاحب کو ایک گولی لگی جو چہرے کے دائیں جانب سے لگی اور سر کے پیچھے سے باہر نکل گئی۔ گولی لگنے کے نتیجہ میں حمید صاحب موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

ان کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ ان کے دادا مکرم میاں محمد علی صاحب آف لویری والا ضلع گوجرانوالہ کے ذریعہ سے ہوا تھا جنہوں نے 1923ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دست مبارک پر بیعت کی تھی اور شہید مرحوم 15؍مئی 1953ء کو لویری والا ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ پھر ایف اے تک تعلیم وہیں انہوں نے حاصل کی۔ پھر سنجوال فیکٹری اٹک میں ملازمت اختیار کی۔ دوران ملازمت شہیدنے گریجوایشن مکمل کیا اور ساتھ ساتھ DHMS کا کورس بھی کیا۔ ہومیو پیتھی کی پریکٹس بھی کرتے تھے۔ 26سال سروس کرنے کے بعد شہید مرحوم نے ریٹائرمنٹ لے لی اور پھر اٹک شہر میں ہومیو پیتھک کلینک کھولا۔ مرحوم کی شادی 1982ء میں محترم امۃ الکریم صاحبہ بنت مکرم بشیر احمد صاحب سے ہوئی تھی جو ربوہ کے تھے۔ ان کی دوکان ربوہ کلاتھ سٹور کے نام سے مشہور تھی۔ ان کی بھی وفات چار سال قبل ہو گئی تھی۔ بیمار تھیں۔ مرحومہ گورنمنٹ کالج اٹک میں بطور لیکچرر کام کر رہی تھیں۔ شہید مرحوم بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔ دعوۃ الی اللہ، مہمان نوازی، ہمدردی، غریبوں کی مدد، عہدیداران کی اطاعت بڑے نمایاں وصف تھے۔ بڑے فعّال داعی الی اللہ تھے۔ لازمی چندہ جات کی ادائیگی اور دیگر تمام مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ سنجوال فیکٹری میں ملازمت کے دوران اپنے ایک ساتھی کی بیعت کروائی جس کے بعد اس شخص کی ساری فیملی بھی جماعت میں شامل ہو گئی۔ اس طرح ایک خاندان کے نو افرادنے بیعت کی جس پر فیکٹری میں ان کی مخالفت بھی شروع ہو گئی۔ شہید مرحوم گورنمنٹ کی طرف سے الاٹ شدہ کوارٹر میں رہتے تھے۔ مخالفین نے ان کے گھر پر پتھراؤ پر بھی کیا۔ آخرکار فیکٹری کی انتظامیہ نے حمید صاحب اور ان کے ساتھی نومبائع کا سنجوال فیکٹری سے واہ فیکٹری ضلع راولپنڈی تبادلہ کر دیا۔ شہید مرحوم کو کچھ عرصہ سے مخالفت کا سامنا تھا۔ جنوری 2015ء میں ایک شر پسندنے مسجد اٹک اور ان کے کلینک کو آگ لگانے کی کوشش کی تھی۔ بہرحال چوکیدار کے بروقت آ جانے پر وہ شخص بھاگ گیا۔ اس واقعہ کے دو روز بعد اس شر پسندنے دوبارہ ان کے کلینک کو آگ لگانے کی کوشش کی اور موقع پر پکڑا گیا۔ بعد میں پولیس کے حوالہ کر دیا گیا۔

ان کے بیٹے نوید احمد صاحب یہاں ہیں۔ وہ والد کے جنازے پہ جا نہیں سکے۔ کہتے ہیں کہ میرے والد خلافت کی اطاعت کرنے والے انسان تھے۔ بڑے دلیر انسان تھے۔ دعوت الی اللہ کرنے والے تھے۔ پنجوقتہ نمازوں کو خود بھی پڑھتے تھے اور ہمیں بھی تلقین کرتے تھے۔ قرآن کریم کی تلاوت روزانہ کرتے اور اس کی تلقین کرتے۔ یہاں بھی کئی دفعہ جلسہ پر آ چکے تھے اور ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ مسجد فضل میں آ کے اپنی نمازیں باجماعت ادا کریں۔ ان کی چھوٹی بیٹی سلمہ نزہت کہتی ہیں کہ والد صاحب دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے تھے اور ہر تحریک پر لبیک کہتے تھے۔ شہادت سے تقریباً ہفتہ پہلے یہی کہتے تھے کہ بیٹی زندگی کاکوئی بھروسہ نہیں ہے اور پھر ساتھ ہی نیکیوں کی تلقین بھی کیا کرتے تھے۔ اور ان کی ایک بیٹی فصاحت حمید صاحبہ ہیں وہ کہتی ہیں ایک خوبی یہ تھی کہ جمعہ کا خطبہ جو یہاں سے لائیو سنا جاتا تھا اس کی ریکارڈنگ کر کے، آڈیو ریکارڈنگ کر کے واٹس ایپ (WhatsApp) پر پھر دوستوں کو بھجوایا کرتے تھے۔

ان کے دوسرے بیٹے سعید احمد صاحب ہیں ان کا بھی یہی کہنا ہے۔ وہی خصوصیات ساروں نے لکھی ہیں انتہائی نیک اور نیکیوں کی تلقین کرنے والے، جرأت مند اور دعوت الی اللہ کرنے والے تھے۔ پاکستان کے حالات میں دعوت الی اللہ بڑا مشکل کام ہے۔ ظہور احمد صاحب جو ہمارے پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر میں ہیں، مربی ہیں ان کے یہ بہنوئی تھے اور یہ بھی یہی لکھتے ہیں کہ جماعتی ذمہ داریوں کو بڑی محنت اور دیانت داری سے اداکرتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ وقت نکال کر جماعت کی خدمت کی کوشش کرتے تھے۔ ہر تحریک پر حصہ لینے والے، بچوں کو بھی خلافت اور جماعت کے ساتھ پختہ تعلق رکھنے کی تلقین کرنے والے تہجد گزار، نیک، لمبی دعائیں کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے بچوں کا بھی حافظ و ناصرہو۔ وہاں بہرحال ان کے بچوں کو بھی خطرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی حفاظت میں رکھے اور اپنے باپ کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 10؍ جون 2016ء شہ سرخیاں

    روزوں کی فرضیت کی اس لئے اہمیت نہیں ہے کہ اسلام سے پہلے مذاہب میں بھی روزے مقرر کئے گئے تھے بلکہ اہمیت اس بات کی ہے کہ تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو، تا کہ تم برائیوں سے بچ جاؤ۔

    روزے کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ تم تقویٰ میں ترقی کرو۔ ایک مہینہ تربیت کا مہیا کیا گیا ہے، اس میں اپنے تقویٰ کے معیار بڑھاؤ۔ یہ تقویٰ تمہارے نیکیوں کے معیار بھی بلند کرے گا۔ یہ تمہیں مستقل نیکیوں پر قائم بھی کرے گا اور اللہ تعالیٰ کا قرب بھی دلائے گا اور اسی طرح گزشتہ گناہ بھی معاف ہوں گے۔

    آج جہاں دین کے نام پر نام نہاد علماء مسلمانوں سے ایسے کام کروا رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے سراسر خلاف ہیں اور تقویٰ سے دُور ہیں وہاں احمدی خوش قسمت ہیں کہ انہیں زمانے کے امام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو ماننے کی توفیق ملی جنہوں نے ہمیں اسلام کی تعلیم کی ہر باریکی سے آگاہ فرمایا ہے۔ تقویٰ کیا ہے؟ اور تقویٰ کا حصول کن کن چیزوں سے ہوتا ہے؟ اور اپنی جماعت کے افراد سے اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کیا توقع رکھتے ہیں؟ ان باتوں کو جاننے اور سمجھنے کے لئے مَیں نے آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض حوالے لئے ہیں جو اس وقت مَیں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ یہ وہ رہنما باتیں ہیں جو ہمیں ایمان میں بڑھاتے ہوئے تقویٰ پر قائم کرتی ہیں اور جس تربیت کے مہینے سے ہم تقویٰ کے حصول کے لئے گزر رہے ہیں ان کے لئے لائحہ عمل بھی مقرر کرتی ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی تقویٰ کے موضوع پر مختلف تحریرات و ارشادات کا تذکرہ اور ان کے حوالہ سے احباب کو اہم نصائح۔

    مکرمہ طاہرہ حمید صاحبہ اہلیہ مکرم عبد الحمید صاحب مرحوم کاونٹری (یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور مکرم حمید احمد صاحب ابن مکرم شریف احمد صاحب ضلع اٹک کی شہادت پر ان کا ذکرِ خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 10؍جون 2016ء بمطابق10احسان 1395 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن۔ لندن۔

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور