مالی قربانی اور وقف جدید ۲۰۱۷ء

خطبہ جمعہ 6؍ جنوری 2017ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

دنیا میں انسان ذاتی تسکین کے لئے بھی، ذاتی مقاصد کے حصول کے لئے بھی مال خرچ کرتا ہے اور کبھی صدقہ و خیرات بھی کر دیتا ہے۔ لیکن آج دنیا میں کوئی ایسا گروہ نہیں ہے، کوئی ایسی جماعت نہیں ہے جس کے ممبران اور افراد دنیا کے ہر شہر اور ہر ملک میں ایک مقصد کے لئے ایک ہاتھ پر جمع ہو کر اپنے مال خرچ کرنے کے لئے پیش کر رہے ہوں اور وہ مقصد بھی دین کی اشاعت اور خدمت خلق کا مقصد ہو۔ ہاں صرف ایک جماعت ہے جو یہ کام کر رہی ہے اور وہ وہ جماعت ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اس مقصد کے لئے قائم فرمایا ہے۔ وہ جماعت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق کی جماعت ہے۔ وہ جماعت ہے جو مسیح موعود اور مہدی معہود کی جماعت ہے جس کے سپرد اسلام کے ساری دنیا میں قیام کا کام ہے جو گزشتہ تقریباً 128 سال سے خدمتِ اسلام اور خدمتِ انسانیت کے لئے اپنا مال قربان کر رہی ہے۔ اور یہ اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس جماعت کو قرآنی تعلیم کی روشنی میں مال کے صحیح مَصرف اور مال کی قربانی کا ادراک عطا فرمایا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ

’’مَیں بار بار تاکید کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔ یہ خدا تعالیٰ کے حکم سے ہے‘‘۔ (یہ خدا تعالیٰ کے حکم سے ہے۔) ’’کیونکہ اسلام اِس وقت تنزّل کی حالت میں ہے۔ بیرونی اور اندرونی کمزوریوں کو دیکھ کر طبیعت بے قرار ہو جاتی ہے اور اسلام دوسرے مخالف مذاہب کا شکار بن رہا ہے‘‘۔ فرمایا ’’جب یہ حالت ہو گئی ہے تو کیا اسلام کی ترقی کے لئے ہم قدم نہ اٹھائیں۔ خدا تعالیٰ نے اسی غرض کے لئے تو سلسلے کو قائم کیا ہے۔ پس اس کی ترقی کے لئے سعی کرنا یہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور منشاء کی تعمیل ہے‘‘۔

پھر فرمایا ’’یہ وعدے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے لئے دے گا مَیں اس کو چند گنا برکت دوں گا۔ دنیا میں ہی اسے بہت کچھ ملے گا اور مرنے کے بعد آخرت کی جزا بھی دیکھ لے گا کہ کس قدر آرام میسر آتا ہے۔ غرض اس وقت مَیں اس امر کی طرف تم سب کو توجہ دلاتا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’مَیں اس امر کی طرف تم سب کو توجہ دلاتا ہوں کہ اسلام کی ترقی کے لئے اپنے مالوں کو خرچ کرو‘‘۔ (ملفوظات جلد 8 صفحہ 393-394)

پس آپ کے صحابہ نے اس بات کو سمجھا اور اپنے مال دینی مقاصد کے لئے پیش کئے جس کا ذکر بھی کئی مواقع پر آپ نے فرمایا کہ کس طرح آپ کے ماننے والے مالی قربانیوں میں بڑھنے والے ہیں۔ مثلاً منارۃ المسیح کی تعمیر کے لئے جب تحریک ہوئی۔ آپ بہت ساری تحریکات فرماتے تھے۔ اشاعت لٹریچر کے لئے اور بعض دوسرے مقاصد کے لئے، اسی طرح منارۃ المسیح کے لئے بھی جب آپ نے تحریک کی تو منشی عبدالعزیز صاحب پٹواری نے جو قربانی کی اس کا ذکر کرتے ہوئے بلکہ دو افراد عبدالعزیز صاحب اور شادی خان صاحب کا ذکر فرمایا۔ آپ فرماتے ہیں کہ: ’’میری جماعت میں سے دو ایسے مخلص آدمیوں نے اس کام کے لئے چندہ دیا ہے جو باقی دوستوں کے لئے درحقیقت جائے رشک ہے۔ ایک ان میں سے منشی عبدالعزیز نام ہے۔ ضلع گورداسپور میں پٹواری ہیں جنہوں نے باوجود اپنی کم سرمائیگی کے ایک سو روپیہ اس کام کے لئے چندہ دیا ہے۔ اور مَیں خیال کرتا ہوں کہ یہ سو روپیہ کئی سال کا ان کا اندوختہ ہو گا‘‘۔ فرمایا کہ ’’یہ اس لئے زیادہ قابل تعریف ہیں کہ ابھی وہ ایک اور کام میں بھی ایک سو چندہ دے چکے ہیں‘‘۔ پھر فرمایا کہ ’’دوسرے مخلص جنہوں نے اس وقت بڑی مردانگی دکھلائی ہے میاں شادی خان لکڑی فروش ساکن سیالکوٹ ہیں۔ ابھی وہ ایک کام میں ڈیڑھ سو روپیہ چندہ دے چکے ہیں اور اب اس کام کے لئے دو سو روپیہ چندہ بھیج دیا ہے۔ اور یہ وہ متوکّل شخص ہے کہ اگر اس کے گھر کا تمام اسباب دیکھا جائے تو شاید تمام جائیداد پچاس روپے سے زیادہ نہ ہو۔‘‘ فرمایا کہ ’’انہوں نے لکھا ہے کہ کیونکہ ایام قحط ہیں اور دنیوی تجارت میں صاف تباہی نظر آتی ہے تو بہتر ہے ہم دینی تجارت کر لیں اس لئے جو کچھ اپنے پاس تھا سب بھیج دیا‘‘۔ (ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 314-315)

اسی طرح اور بہت سے لوگوں کی مثالیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتب اور ملفوظات میں بیان فرمائی ہیں جنہوں نے اپنی ضروریات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دینی اغراض کے لئے بڑھ چڑھ کر قربانیاں کیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت کے افراد کو قربانیوں کی یہ جاگ ایسی لگی ہے کہ ایک کے بعد دوسری نسل قربانیاں کرتی چلی جا رہی ہے بلکہ وہ لوگ جو دور دراز ممالک کے رہنے والے ہیں، بعد میں آ کر شامل ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں وہ بھی ان بزرگوں کی قربانیوں کی جب باتیں سنتے ہیں یا پھر یہ سنتے ہیں کہ فلاں مقصد کے لئے قربانی کی ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلام کو سن کر پھر قربانیوں کی روح کو سمجھتے ہیں تو وہ بھی ایسی ایسی مثالیں پیش کرتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ امراء سے زیادہ اوسط درجے کے لوگ اور غرباء ہیں جو قربانیاں پیش کرتے ہیں اور حیرت انگیز نمونے دکھاتے ہیں۔ انہیں یہ خیال نہیں ہوتا کہ ہماری معمولی سی قربانی سے کیا فرق پڑے گا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس کلام کو سمجھتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وَمَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ وَتَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ کَمَثَلِ جَنَّۃٍ بِرَبْوَۃٍ اَصَابَھَاوَابِلٌ فَاٰتَتْ اُکُلَھَا ضِعْفَیْنِ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْھَا وَابِلٌ فَطَلٌّ۔ وَاللّٰہُ بِمَاتَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ-(البقرۃ: 266) اور ان لوگوں کی مثال جو اپنے اموال اللہ کی رضا چاہتے ہوئے اور اپنے نفوس میں سے بعض کو ثبات دینے کے لئے خرچ کرتے ہیں ایسے باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو اور اسے تیز بارش پہنچے تو وہ بڑھ چڑھ کر اپنا پھل لائے اور اگر اسے تیز بارش نہ پہنچے تو شبنم ہی بہت ہو۔ اور اللہ اس پر جو تم کرتے ہو گہری نظر رکھنے والا ہے۔

پس غریب لوگوں کی یہ قربانی طَلْ یعنی شبنم کی طرح ہے۔ یہ ذرا سی نمی جو ان کی معمولی قربانی سے دین کے باغ کو ملتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیشمار پھل لاتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود ہم ایک غریب جماعت ہونے کے دنیا میں ہر جگہ اشاعت اسلام اور خدمت خلق کے کام کو کر رہے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے کاموں میں برکت بھی اللہ تعالیٰ اس قدر ڈالتا ہے کہ دنیا حیران ہوتی ہے کہ اتنے تھوڑے وسائل سے تم اتنا زیادہ کام کس طرح کر لیتے ہو۔ یہ اس لئے ہوتے ہیں کہ یہ قربانیاں کرنے والے وہ لوگ ہیں جو ان لوگوں میں شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں جن کی مثال اللہ تعالیٰ نے اس طرح دی ہے کہ فرمایا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ۔ اپنے اموال اللہ کی رضا چاہتے ہوئے خرچ کرتے ہیں۔ اور جب اللہ تعالیٰ کی رضا مقصد ہو تو پھل بھی بہت لگتے ہیں، برکت بھی بہت پڑتی ہے۔ جیسا کہ مَیں نے کہا ان قربانیوں کی آج بھی مثالیں ہیں بلکہ بیشمار مثالیں ہیں۔ ان میں سے چند پیش کرتا ہوں۔ قادیان سے ہزاروں میل دُور رہنے والی ایک بچی جب احمدیت اور حقیقی اسلام کی آغوش میں آتی ہے تو اس کی سوچ کس طرح تبدیل ہو جاتی ہے اور قربانی کا اسے کیا اِدراک حاصل ہوجاتا ہے۔ اس کا واقعہ اس بچی کی زبانی سن لیں۔ یہ بچی یوگنڈا میں رہنے والی ہے۔ اَن پڑھ نہیں بلکہ یونیورسٹی میں پڑھ رہی ہے۔ کہتی ہے کہ گذشتہ جولائی میں مجھے یونیورسٹی کے داخلہ سے پہلے کچھ چیزیں خریدنی تھیں لیکن اس کے لئے رقم ناکافی تھی اور میرا چندہ بھی بقایا تھاسو میں نے وہ رقم چندے کے لئے دے دی۔ میرا پختہ ایمان تھا کہ اللہ تعالیٰ ضرور میری مدد کرے گا اور میں مطمئن تھی کہ میں نے اپنا چندہ ادا کر دیا۔ ایک مہینے کے بعد جب ابھی یونیورسٹی کھلنے میں تین دن باقی تھے تو میری ایک آنٹی نے میری ماں کو فون کیا کہ میں کب یونیورسٹی جا رہی ہوں اور مجھے اپنے گھر بلایا۔ جب میں شام کو ان کے گھر گئی تو انہوں نے مجھے کچھ رقم پکڑائی جو میری یونیورسٹی کی ضروریات سے کہیں زیادہ تھی۔ اور یہ رقم چندہ میں دی گئی رقم سے دس گنا زیادہ تھی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے میری دعاؤں کو سنا اور ایسی جگہ سے میری مدد کی جہاں سے مجھے امید بھی نہیں تھی۔

پھر انڈیا کے ایک صاحب ہیں ان کے بارے میں وہاں کے انسپکٹر قمر الدین صاحب لکھتے ہیں کہ کیرالہ کی جماعت منجیری سے ایک صاحب تعلق رکھتے ہیں Rexine کا کاروبار ہے۔ کہتے ہیں چندہ وقف جدید کی وصولی کے لئے مَیں ان کی دکان پر گیا تو کہنے لگے ان کا کافی پیسہ پھنسا ہوا ہے اس لئے بہت دقّت پیش آرہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود موصوف نے ایک بھاری رقم کا چیک دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت تو اکاؤنٹ میں اتنے پیسے نہیں ہیں مگر دعا کریں کہ خاکسار جلد جلد اس کی ادائیگی کر سکے۔ کہتے ہیں اگلے روز ہی ان کا فون آیا کہ اللہ کے فضل سے چیک دینے کے بعد میرے اکاؤنٹ میں کافی بڑی رقم آ گئی ہے اس لئے آپ اپنا چیک کیش کرا لیں اور کہنے لگے کہ یہ صرف چندے کی برکت سے ہے کہ اتنی جلدی اللہ تعالیٰ نے یہ سامان پیدا کر دیا۔

پھر مشرقی افریقہ کے ایک ملک تنزانیہ میں رہنے والی ایک بیوہ خاتون کی مثال ہے جس کے بارے میں تنزانیہ کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ اَرِنگا ٹاؤن کے معلم صاحب ایک بیوہ خاتون امینہ کے پاس چندہ وقف جدید کی ادائیگی کے لئے گئے تو انہوں نے بڑے افسردہ دل سے کہا کہ اس وقت پاس کچھ نہیں مگر جونہی کہیں سے انتظام ہوا تو مَیں لے کر خود حاضر ہو جاؤں گی۔ معلم صاحب ابھی گھر بھی نہیں پہنچے تھے کہ وہ خاتون دس ہزار شلنگ لے کر حاضر ہوئی اور بتایا کہ یہ رقم کہیں سے آئی تھی تو سوچا کہ آپ کو دے آؤں۔ پہلے چندہ ادا کر دوں۔ اپنے خرچ بعد میں پورے کروں گی۔ کہنے لگیں میرا وعدہ پچیس ہزار کا ہے باقی پندرہ ہزار بھی جونہی مجھے ملے میں لے کے آ جاؤں گی۔ چنانچہ دس منٹ کے بعد وہ دوبارہ رقم لے کر آ گئیں اور انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا سلوک دیکھیں کہ مَیں دس ہزار جو اس کی راہ میں دے کر گئی تھی ابھی گھر بھی نہیں پہنچی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے پینتیس ہزار بھجوا دئیے اور جس میں سے پندرہ ہزار بقایا چندہ ادا کرنے کے بعد بھی میرے پاس بیس ہزار بچ جاتے ہیں۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور چندے کی برکت ہے اور اس طرح ان کا ایمان بڑھا۔

پھر سینٹرل افریقہ کا ایک ملک کونگو ہے۔ وہاں کے لوگوں میں کس طرح قربانی کی روح قائم ہوئی اور کس قدر قربانی کی روح ہے، اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ وہاں کے مبلغ رمیض صاحب لکھتے ہیں کہ کالومبائی (Kalombayi) جماعت کے ایک داعی الی اللہ سعیدی صاحب ارد گرد کی پانچ جماعتوں کا دورہ کرتے ہیں۔ تبلیغ کرتے ہیں۔ آجکل وہاں ملک کے حالات خراب ہیں اور سکیورٹی کے مخدوش حالات کے باوجود انہوں نے اپنے حلقے کی تمام جماعتوں کا دورہ کیا۔ دورہ کرنے کے لئے باوجود اچھے حالات نہ ہونے کے ثواب کے حصول کے لئے کرایہ بھی اپنی جیب سے ادا کیا۔ اس طرح دورے میں انہوں نے ترپّن ہزار چندہ وقف جدید اکٹھا کیا اور جمع کرایا۔ کہنے لگے کہ میں ایک پرانا احمدی ہوں اور مجھے نوجوانوں کے لئے نمونہ بننا چاہئے۔ اب پرانے احمدی وہاں کتنے پرانے ہوں گے؟ زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس سال؟ ان کی عمر ساٹھ سال سے زائد ہے لیکن بڑی محنت سے ایک تو تبلیغ کا کام کر رہے ہیں دوسرے ساتھ ساتھ چندے کی طرف بھی لوگوں کو توجہ دلاتے ہیں۔ یہ روح ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کے بعد ان لوگوں میں پیدا ہوئی۔ دُور دراز علاقوں میں رہتے ہیں، ان علاقوں میں جہاں سڑکوں کی سہولتیں بھی نہیں ہیں بلکہ وہاں سڑکیں بھی نہیں ہیں۔ زیادہ تر پانی کا علاقہ ہے اس لئے کشتیوں پہ سفر کئے جاتے ہیں اور بڑے لمبے فاصلے ہیں۔ پھر مغربی افریقہ کے ایک ملک بینن کے ایک احمدی کا نمونہ دیکھیں جسے احمدی ہوئے ابھی سال بھی نہیں ہوا لیکن قربانی کی روح کا ادراک کس معیار کا ہے بلکہ یہ تو پرانوں کے لئے بھی نمونہ ہے۔ وہاں کے مبلغ مظفر صاحب لکھتے ہیں کہ کوتونی ریجن کے ایک گاؤں ڈیکامبے (Dekambe) میں امسال جماعت کا قیام عمل میں آیا۔ یہاں کے رہائشی عمومی طور پر مچھلیاں پکڑ کر فروخت کرتے ہیں۔ مچھیرے ہیں اور اسی پر ان کا گزربسر ہے۔ لوکل مشنری نے ان گاؤں والوں کو چندے کی تحریک کی تو ایک احمدی دوست جو مالی لحاظ سے کمزور ہیں انہوں نے فوراً تحریک پر لبیک کہتے ہوئے ایک ہزار فرانک کی رقم قربانی کے لئے پیش کر دی اور کہنے لگے گو کہ میرے حالات اتنے اچھے نہیں ہیں لیکن مَیں نہیں چاہتا کہ جس جماعت میں مَیں نے شمولیت اختیار کی ہے اس کی طرف سے کوئی تحریک ہو اور مَیں اس میں شامل ہونے سے رہ جاؤں۔ پھر خلافت سے تعلق اور خطبہ کا اثر لوگوں پر کس طرح پڑتا ہے اور پھر قربانی کی طرف کس طرح توجہ پیدا ہوتی ہے اس کی مثال مغربی افریقہ کے ملک برکینا فاسو کے بعض نوجوانوں کی ہے۔ دیکھیں ابھی احمدی ہوئے ان کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا لیکن معیار کیا ہیں؟ امین بلوچ صاحب وہاں مربی ہیں۔ لکھتے ہیں کہ 30؍دسمبر 2016ء کو جب گزشتہ سال کا آخری خطبہ تھا۔ اور نئے سال کے آغاز کے حوالے سے جو خطبہ مَیں نے دیا تھا اسے سن کر وہاں کے بنفورا ریجن میں بعض نوجوان جو ابھی نئے احمدی ہوئے ہیں اور بعض پرانے بھی خطبہ کے فوراً بعد گھر گئے اور جو کچھ نئے سال کی تقریبات کے لئے جمع کیا ہوا تھا وہ لا کر وقف جدید میں دے دیا اور کہا کہ چونکہ خلیفہ وقت نے ہمیں نئے سال منانے کا طریق بتا دیا ہے اس لئے ہم یہ رقم چندہ میں دیتے ہیں اور رات کو تہجد ادا کر کے نیا سال منائیں گے۔ اس طرح اس دن انہوں نے تقریباً چھہتّر ہزار فرانک سیفا چندہ دیا۔

پھر مغربی افریقہ کے ہی ایک ملک آئیوری کوسٹ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کی نئی جماعت کے لوگوں کی قربانی دیکھیں۔ وہاں کے ’’بواکے‘‘ ریجن کے معلم مامادو (Mamadou) صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارے ریجن کے ایک گاؤں نیاووگو (Niavogo) کے لوگ اسی سال جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے۔ ایک سال ہوا ہے ابھی۔ کہتے ہیں میں نے ان نومبائعین کو وقف جدید میں شمولیت اور جلسہ سالانہ میں شمولیت کی تحریک کی۔ ان نومبائعین کو بتایا کہ خلیفۂ وقت نے یہ کہا ہے کہ تمام احمدی وقف جدید اور تحریک جدید میں شامل ہوں۔ کہتے ہیں کہ میرا خیال تھا کہ شاید کچھ لوگ تھوڑا سا چندہ ادا کر دیں کیونکہ وہاں غربت بہت زیادہ ہے لیکن صورتحال اس کے بالکل برعکس نکلی۔ اس گاؤں کے تقریباً ہر فردنے اپنا چندہ وقف جدید ادا کیا بلکہ ایک دوست نے نہ صرف چندہ وقف جدید ادا کیا بلکہ چھ سو کلو میٹر سفر کر کے جلسہ سالانہ میں شرکت بھی کی اور آبی جان آئے۔

پھر قربانی کی ایک مثال اور اللہ تعالیٰ کا سلوک دیکھیں۔ تنزانیہ سے یوسف عثمان صاحب مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک احمدی بھائی پاؤں سے معذور ہیں۔ اس معذوری کی وجہ سے کوئی کام وغیرہ نہیں کر سکتے۔ تنزانیہ کے ہر علاقے میں ابھی تک بجلی کی سہولت مہیا نہیں ہے۔ اس لئے بعض لوگ چھوٹے چھوٹے سولر پینل لے کر اپنے گھر پر ایک آدھ بلب جلانے کا انتظام کرتے ہیں۔ ہمارے یہ احمدی بھائی بھی چھوٹا سا سولر پینل لے کر لوگوں کے موبائل چارج کر کے گزارہ کرتے ہیں اور جو بھی تھوڑی بہت آمدن ہو اس کے مطابق باقاعدگی سے چندہ ادا کرتے ہیں۔ ایک دن ہمارے معلم نے انہیں چندہ ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی تو کہنے لگے کہ مجھے گزشتہ دو دن میں دوہزار شلنگ آمدن ہوئی ہے۔ مَیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں یہی ادا کر دیتا ہوں۔ معلم صاحب نے انہیں کہا کہ اگر آپ یہ سب رقم چندے کے طور پر ادا کر دیں گے تو گھر میں بچوں کو کیا کھلائیں گے؟ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ رزاق ہے وہ خود ہی انتظام کر دے گا۔ چنانچہ معلم صاحب کہتے ہیں کہ ابھی میں نے یہ رسید کاٹی ہی تھی کہ بہت سارے لوگ ان کے پاس موبائل چارج کروانے کے لئے آئے اور انہیں اس سے زیادہ آمدن ہوئی جتنا انہوں نے چندہ ادا کیا تھا۔ اس پر احمدی بھائی نے معلم صاحب سے کہا کہ آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے چندہ ادا کرنے میں کتنی برکت عطا کی ہے کہ اِس وقت اُس سے بڑھ کر رقم لوٹا دی ہے۔

پھر کس طرح قربانی کے ساتھ اللہ تعالیٰ قربانی کرنے والوں کو نوازتا ہے اور ان کے ایمان میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کی ایک اور مثال یہ ہے کہ تنزانیہ کے ریجن شیانگا کی ایک جماعت کے ایک دوست کے بیٹے کو شدید ملیریا لاحق ہو گیا اور ان کی جیب میں علاج کے لئے صرف پندرہ سو شلنگ تھے۔ سیکرٹری مال ان کے گھر گئے اور چندے کی طرف توجہ دلائی تو انہوں نے فوراً جیب سے وہی رقم نکال کے سیکرٹری مال کو دے دی۔ یہ دوست کہتے ہیں کہ پہلے تو مجھے خیال آیا کہ بیٹے کی دوائی کے پیسے کہاں سے آئیں گے۔ لیکن پھر میں نے کہا کہ اللہ کی راہ میں دیا ہے تو اللہ تعالیٰ خود ہی انتظام کر دے گا۔ چنانچہ کچھ ہی دیر بعد دوسرے شہر سے ان کے بڑے بیٹے نے فون کیا کہ میں اسّی ہزار شلنگ بھیج رہا ہوں اور یہ پیسے اسی دن ان کو مل گئے۔ بچے کا علاج بھی ہو گیا۔ دوسرے کام بھی ہو گئے اور ان کی ضروریات پوری ہو گئیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے کئی گنا بڑھ کے مجھے عطا کر دیا اور اب یہ واقعہ وہ دوسروں کو بھی اور وہاں کے مقامی لوگوں کو جو احمدی ہیں سناتے ہیں اور چندے کی اہمیت ان پہ واضح کرتے ہیں۔ پھر مغربی افریقہ کے ایک ملک مالی کی ایک شخصی قربانی کا واقعہ ہے۔ وہاں کے مبلغ احمد بلال صاحب لکھتے ہیں کہ سکاسو ریجن کے ایک دوست نے 2013ء میں احمدیت قبول کی تھی اور احمدیت قبول کرنے کے وقت سخت مالی مشکلات کا شکار تھے۔ مقروض ہونے کے علاوہ کئی قسم کی گھریلو پریشانیاں تھیں اور ان کی ریٹائرمنٹ کا وقت بھی قریب آ رہا تھا۔ قبولیت احمدیت کے بعد انہیں جب چندے کی برکت کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے آپ سے عہد کیا کہ وہ چندہ باقاعدگی سے ادا کریں گے۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور مشکل حالات کے باوجود اپنی توفیق کے مطابق چندہ ادا کرتے رہے۔ کہتے ہیں کہ چندے کی برکت سے دیکھتے ہی دیکھتے اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرا تمام قرض اتر گیا۔ گھریلو پریشانیاں ختم ہو گئیں۔ حکومت کی طرف سے میرے عہدے میں ترقی بھی مل گئی۔ میری ریٹائرمنٹ بھی مؤخر کر دی گئی۔ اب موصوف نظام وصیت میں بھی شامل ہو چکے ہیں۔ سیرالیون سے منیر حسین صاحب مبلغ لکھتے ہیں کہ بواجے بو (Boajibu) کی ایک جماعت کی ایک احمدی خاتون نے چار ہزار لیون کا وعدہ کیا۔ ان کی آمد کا کوئی خاص ذریعہ نہیں تھا چھوٹا سا باغیچہ تھا جس میں انہوں نے کساوا لگایا ہوا تھا۔ یہ وہاں ایک پودا ہے جس کی شکرقندی کی طرح لمبی جڑیں ہوتی ہیں۔ وہ کھایا جاتا ہے تو وہی بیچ کر گزارا کرتی ہیں۔ جب چندے کی ادائیگی کا وقت قریب آیا تو سیکرٹری صاحب وصولی کے لئے گئے تو جو پیسے انہوں نے چندے کی غرض سے جمع کئے ہوئے تھے وہ کسی بچے نے وہاں سے اٹھا لئے اور خرچ کر دئیے اس پر وہ بڑی پریشان ہوئیں۔ اب ایمان کی بھی حالت دیکھیں۔ ان کا ایک بیٹا شراب کی دکان پر کام کرتا تھا۔ مجبوری تھی یا صحیح طرح ایمان نہیں لایا ہو گا۔ اس نے کہا کہ میں یہ پیسے دے دیتا ہوں۔ آپ کو قرض دے دیتا ہوں۔ اس پر خاتون نے سختی سے انکار کر دیا کہ یہ پیسے حلال نہیں ہیں۔ اس لئے ان پیسوں سے مَیں چندہ نہیں دے سکتی۔ یہ ہے ایمان کی غیرت۔ لیکن پھر اللہ تعالیٰ کا سلوک بھی دیکھیں۔ اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنا بندے کا مقصد ہے تو پھر اللہ تعالیٰ نے کیا سلوک فرمایا۔ کہتے ہیں اسی دوران ایک نامعلوم شخص آیا جسے یہ بالکل نہیں جانتی تھیں۔ اس نے دس ہزار لیون ان کو دئیے۔ انہوں نے چار ہزار لیون چندے کی بجائے دس ہزار لیون چندے میں دے دئیے اور کہا کہ یہ صرف چندے کی ادائیگی کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے بھجوائے ہیں اور اگلے سال کے لئے پھر انہوں نے دس ہزار لیون چندہ لکھوا دیا۔

سیرالیون سے ہی عقیل صاحب مبلغ کہتے ہیں کہ بو ریجن کے ایک نومبائع دوست کا ایک لمبے عرصے سے زمین کا تقاضا چل رہا تھا اور مخالف فریق کافی اثرورسوخ رکھنے والا تھا۔ بظاہر کیس کو جیتنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا تھا۔ اسی دوران انہوں نے مسجد میں مالی قربانی کی برکات کے بارے میں سنا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب میں نے مالی قربانی کی برکات کے حوالے سے سنا تو سوچا کہ میں بھی چندہ دے دیتا ہوں۔ یہ نومبائع عیسائی سے احمدی ہوئے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ اس چندے کی برکت سے میری زمین کا معاملہ طے ہو جائے۔ چنانچہ انہوں نے حسب استطاعت چندہ ادا کر دیا۔ اس کے کچھ عرصے بعد ہی کیس کا فیصلہ ان کے حق میں ہو گیا جو بظاہر ناممکن لگ رہا تھا۔ یہ دوست کہتے ہیں کہ مجھے یقین ہے کہ یہ سب مالی قربانی کی برکت کی وجہ سے ہوا ہے۔

کانگو کنشاسا سے مبلغ شاہد صاحب لکھتے ہیں کہ ایک خاتون چھوٹے پیمانے پر تجارت کرتی ہیں۔ کہتی ہیں کہ سال کے شروع میں ملکی حالات کی وجہ سے ایسا لگ رہا تھا کہ اس کاروبار میں نفع نہیں ہو گا لیکن میں نے سال کے شروع میں وقف جدید کا چندہ ادا کر دیا اور سوچا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کی گئی تجارت خسارے کا شکار نہیں ہو سکتی۔ بیان کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہیں تجارت میں منافع ہوا اور موجودہ ملکی حالات کے باوجود تجارت میں کوئی خسارہ نہیں ہوا۔

پھر احمدیوں کی قربانیوں کا دوسروں پر کتنا اثر ہوتا ہے اور یہ بھی تبلیغ کے رستے کھولتا ہے۔ اس بارہ میں بنگلہ دیش کے امیر صاحب کہتے ہیں کہ تین دوست زیر تبلیغ ہیں لیکن کافی تبلیغ کے باوجود کوئی بیعت کے لئے آمادہ نہیں ہو رہا تھا۔ گزشتہ جمعہ یہ تینوں دوست مسجد آئے۔ جمعہ کے خطبہ کے دوران وقف جدید کے حوالے سے توجہ دلائی گئی تو جمعہ کے بعد لوگ چندے کی ادائیگی کرنے کیلئے لائنیں بنا کر کھڑے ہو گئے۔ ان زیر تبلیغ دوستوں نے جب یہ منظر دیکھا تو کہنے لگے کہ چندہ لینے کے لئے ہمارے مولویوں کا تو گلا اور زبان دونوں خشک ہو جاتے ہیں اور پھر بھی لوگ چندہ نہیں دیتے۔ یہاں ایک چھوٹا سا اعلان کیا گیا ہے اور لوگ چندہ دینے کے لئے لائنیں بنا کر کھڑے ہو گئے ہیں۔ یہی اصل اسلامی روح ہے۔ چنانچہ ان تینوں دوستوں نے اس منظر کو دیکھنے کے بعد اسی وقت بیعت کر لی اور وقف جدید کی مدّ میں چندہ بھی ادا کر دیا۔

پھر بینن کے ریجن کے معلم عبداللہ صاحب لکھتے ہیں کہ ایک نومبائع جماعت ’’پاپازا‘‘ (Kpakpaza) میں چندے کی وصولی کے لئے دورہ کیا تو وہاں پر موجود ایک نومبائع حاجی ابوبکر صاحب نے پوچھا کہ یہ چندہ کہاں اور کیسے استعمال کیا جائے گا؟ ان کو مالی نظام کا صحیح طرح پتا نہیں تھا۔ انہیں بتایا گیا کہ جماعت احمدیہ انہی چندوں سے مساجد تعمیر کرتی ہے۔ قرآن کریم کے تراجم اور دینی کتب کی اشاعت کرتی ہے۔ اسی طرح انہی چندوں سے ہسپتال سکولز اور یتیم خانے تعمیر کئے جاتے ہیں۔ غرض چندہ میں دیا جانے والا ایک ایک پیسہ خالصۃً دینی کاموں اور فلاحی کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ابوبکر صاحب نے جب یہ سنا تو کہنے لگے مولوی مجھ سے زکوٰۃاور خیرات لینے کے لئے آتے تھے مگر انہوں نے کبھی نہیں بتایا کہ یہ پیسے کہاں خرچ ہوں گے۔ چنانچہ اس کے بعد فوراً انہوں نے چندہ کی ادائیگی کی اور کہا کہ آئندہ سے جماعت کے تمام چندوں میں مَیں بڑھ چڑھ کر حصہ لوں گا۔ غرض کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو ایسے لوگ عطا فرما رہا ہے جو قربانیوں میں بڑھنے والے ہیں۔ نئے احمدی ہوتے ہیں اور دنوں میں ان کے اندر خدا تعالیٰ کے دین کی خاطر قربانی کرنے کی ایک تڑپ پیدا ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ ان لوگوں کے لئے بھی سوچنے کا مقام ہے بلکہ فکر کا مقام ہے جو اچھے حالات میں رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں کشائش بھی دی ہوئی ہے۔ امیر ملکوں میں رہتے ہیں لیکن ان کی قربانیاں معمولی ہوتی ہیں۔ بہرحال گو یہاں بھی بہت سارے ایسے ہیں جو غیر معمولی قربانیاں دینے والے ہیں لیکن دنیا میں ہر جگہ بہت سارے امراء ایسے ہیں جو اس طرف توجہ کم دیتے ہیں۔ ان کو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔

جیسا کہ جنوری کے پہلے جمعہ میں وقف جدید کے نئے سال کے آغاز کے اعلان کا طریق ہے تو ان چند واقعات کے بعد جو کافی واقعات میں سے چند ایک میں نے لئے تھے، یا چندے کی اہمیت بتانے کے بعد اب میں وقف جدید کے ساٹھویں سال کے آغاز کا اعلان کرتا ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ کے گزشتہ سال کے فضلوں کا ذکر بھی کردوں کہ وصولیاں کیا ہیں؟

وقف جدید کا سال 31؍دسمبر کو ختم ہوتا ہے۔ انسٹھواں سال 31؍دسمبر 2016ء کو ختم ہوا۔ اللہ کے فضل سے دنیا کی جماعتوں نے، جو اب تک رپورٹیں آئی ہیں اس کے مطابق، وقف جدید میں اسّی لاکھ بیس ہزار پاؤنڈ کی قربانی پیش کی۔ گزشتہ سال سے یہ گیارہ لاکھ انتیس ہزار پاؤنڈ زیادہ ہے۔ اور اس سال بھی پاکستان دنیا کی جماعتوں میں مجموعی طور پر وصولی کے لحاظ سے سرفہرست ہی ہے۔

مقامی کرنسی کے لحاظ سے گزشتہ سال کے مقابل پر نمایاں اضافہ کرنے والے ملکوں میں غانا سرفہرست ہے۔ مغربی افریقہ کا ملک غانا۔ پھر جرمنی ہے۔ پھر پاکستان۔ پھر کینیڈا۔

افریقن ممالک میں جن ملکوں نے قابل ذکر قربانی کی ہے وہ مالی ہے۔ برکینا فاسو ہے۔ لائبیریا ہے۔ ساؤتھ افریقہ ہے۔ سیرالیون ہے۔ بینن ہے۔

پاکستان کے علاوہ مجموعی وصولی کے لحاظ سے بیرونی ممالک میں پہلی دس جماعتیں۔ نمبر ایک پر یوکے، برطانیہ ہے۔ نمبر دو پہ جرمنی۔ نمبر تین پہ امریکہ۔ چار، کینیڈا۔ پانچ پہ ہندوستان۔ چھ، آسٹریلیا۔ ساتویں نمبر پر مڈل ایسٹ کی ایک جماعت۔ آٹھویں نمبر پر انڈونیشیا ہے۔ نویں نمبر پر پھر مڈل ایسٹ کا ایک ملک ہے۔ دسویں نمبر پر گھانا ہے۔ اور اس کے بعد پھر بیلجیم اور سوئٹزرلینڈ آتے ہیں۔ فی کس ادائیگی کے لحاظ سے امریکہ نمبر ایک پر ہے۔ پھر سوئٹزرلینڈ ہے۔ پھر فن لینڈ ہے۔ پھر آسٹریلیا ہے۔ سنگا پور ہے۔ فرانس ہے۔ پھر جرمنی۔ پھر ٹرینیڈاڈ۔ پھر بیلجیم۔ پھر کینیڈا۔ برطانیہ نمبر ایک پر آنے کے باوجود فی کس ادائیگی میں پیچھے ہے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال وقف جدید میں تیرہ لاکھ چالیس ہزار چندہ دہندگان شامل ہوئے جو گزشتہ سال سے ایک لاکھ پانچ ہزار زیادہ ہیں۔ تعداد میں اضافے کے اعتبار سے کینیڈا، انڈیا اور برطانیہ کے علاوہ افریقہ میں گنی کناکری، کیمرون، گیمبیا، سینیگال، بینن، نائیجر، کونگو کنشاسا، برکینا فاسو اور تنزانیہ نے نمایاں کام کیا ہے۔

نائیجیریا نے اس سال پوری طرح توجہ نہیں دی کیونکہ تعداد کے لحاظ سے ان کی کافی بڑی تعداد گری ہے۔ اگر گزشتہ سال کے مطابق نائیجیریا کی اور ایک دو اور ملکوں کی تعداد ہوتی بلکہ صرف نائیجیریا کی ہی زیادہ ہوتی تو یہ تیرہ لاکھ چالیس ہزار کے بجائے چودہ لاکھ شاملین ہو جانے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں بہت زیادہ سُستی دکھائی گئی ہے یا رپورٹ صحیح نہیں بنی یا رپورٹیں لی نہیں گئیں۔ یا صحیح طرح ان تک اپروچ (approach) نہیں کی گئی اور سیکرٹریان ہی ہیں جن کی عموماً سستی ہوتی ہے۔ افراد جماعت کے اخلاص کا جہاں تک تعلق ہے اس میں کوئی کمی نہیں چاہے وہ افریقہ ہے یا کوئی بھی ملک ہے۔ اب ربوہ سے مجھے ایک شخص نے لکھا کہ صدر محلہ ان کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ آپ کا وعدہ وقف جدید کا نہیں ہے اور ادائیگی بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ مَیں تو بڑی باقاعدگی سے دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس طرح ہو گیا کہ اس سال ہمارا سیکرٹری وقف جدید اتنا سست تھا کہ ہمارے محلّے کے کسی شخص سے وعدہ لیا ہی نہیں گیا اور نہ صحیح طرح وصولی ہوئی ہے۔ اور اس سے پتا لگا کہ سیکرٹریان کی جو سستی ہے اس کی وجہ سے بعض دفعہ لوگ محروم رہ جاتے ہیں اور یہی حال مجھے لگتا ہے نائیجیریا میں ہوا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ میں بھی تعداد میں کمی ہوئی ہے حالانکہ وہاں تعداد کی کمی کا کوئی جواز نہیں، نہ ہی نائیجیریا میں کوئی جواز ہے کیونکہ تعداد تو بڑھنی چاہئے۔ لیکن امریکہ نے جیسا کہ مَیں نے کہا فی کس قربانی کے معیار کو ماشاء اللہ بہت بڑھایا ہے اور نمبر ایک پر ہے۔ اسی طرح وہ تمام ممالک بھی شاملین کی تعداد کی طرف توجہ دیں جن کے گزشتہ سال کے مقابلے میں کمی ہوئی ہے اور اپنی کمزوریوں کا جائزہ لیں۔ لوگوں میں کمزوریاں نہیں، کام کرنے والوں میں کمزوری ہے۔

چندہ بالغان میں یہ بھی ایک وقف جدید کا شعبہ ہوتا ہے۔ اس میں پاکستان کی جماعتوں میں پہلے نمبر پر لاہور ہے۔ پھر ربوہ ہے۔ پھر کراچی ہے۔ اور اس کے علاوہ پھر اضلاع میں اسلام آباد۔ پھر گوجرانوالہ۔ پھر گجرات، ملتان، عمر کوٹ، حیدرآباد، پشاور، میرپورخاص، اوکاڑہ، ڈیرہ غازی خان۔

اطفال کا دفتر یعنی بچوں کی جو قربانی ہے اس میں بھی لاہور نمبر ایک پر ہے۔ پھر ربوہ ہے۔ پھر کراچی ہے۔ اس کے بعد سیالکوٹ، راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، حیدرآباد، ڈیرہ غازی خان، کوٹلی، آزاد کشمیر، میرپور خاص، ملتان اور بہاولنگر۔ مجموعی وصولی کے لحاظ سے برطانیہ کی دس بڑی جماعتیں ووسٹر پارک۔ مسجد فضل۔ نمبر تین پہ برمنگھم ساؤتھ۔ پھر پٹنی۔ پھر رینز پارک۔ بریڈ فورڈ نارتھ۔ پھر نیو مولڈن۔ پھر گلاسگو۔ پھر برمنگھم ویسٹ اور پھر جلنگھم۔

مجموعی وصولی کے لحاظ سے ریجنز میں لندن بی نمبر ایک پر ہے۔ پھر لندن اے۔ پھر مڈ لینڈز۔ پھر نارتھ ایسٹ۔ پھر ساؤتھ۔

اور وصولی کے لحاظ سے جرمنی کی پانچ لوکل امارات یہ ہیں۔ ہیمبرگ نمبر ایک پر ہے۔ پھر فرینکفرٹ ہے۔ پھر ویزبادن ہے۔ پھر مورفلڈن والڈورف۔ پھر ڈیٹسن باخ۔ اور مجموعی وصولی کے لحاظ سے دس جماعتیں ان کی یہ ہیں روئیڈر مارک۔ نوئس۔ فریڈبرگ۔ نیڈا۔ فلورز ہائیم۔ ہاناؤ۔ کولون۔ کوبلنز۔ لانگن اور مہدی آباد۔

امریکہ کی پہلی دس جماعتیں۔ نمبر ایک پہ سلیکون ویلی۔ پھر سیاٹل۔ پھر ڈیٹرائٹ۔ پھر سلور سپرنگ۔ سینٹرل ورجینیا۔ لاس اینجلس ایسٹ۔ پھر ڈیلس۔ پھر بوسٹن۔ پھر فلاڈلفیا۔ پھر لاؤرل۔

وصولی کے لحاظ سے کینیڈا کی امارتیں۔ نمبر ایک پر کیلگری۔ پھر پیس ویلیج۔ پھر وان۔ پھر وینکوور۔ پھر مسی ساگا۔

اب دس بڑی جماعتیں وصولی کے لحاظ سے جو ہیں ان میں ڈرہم نمبر ایک پر۔ ملٹن ایسٹ۔ سسکاٹون ساؤتھ۔ سسکاٹون نارتھ۔ اور ونڈسر۔ پھر لائیڈ منسٹر۔ پھر آٹوا ویسٹ۔ پھر آٹوا ایسٹ۔ پھر بیری۔ پھر ریجائنا۔

دفتر اطفال میں پانچ نمایاں پوزیشنیں ان کی ہیں۔ ڈرہم نمبر ایک پہ۔ پھر بریڈ فورڈ نمبر دو۔ پھر سسکاٹون ساؤتھ۔ سسکاٹون نارتھ۔ پھر لائیڈ منسٹر۔

ریجنز اِن کی ہیں۔ کیلگری نمبر ایک۔ پھر پیس ویلیج۔ پھر برامپٹن۔ پھر وان۔ اور ویسٹن۔

بھارت میں یہ صوبے ہیں۔ نمبر ایک پہ کیرالہ۔ نمبر دو پہ جموں و کشمیر۔ پھر تامل ناڈو۔ پھر کرناٹکا۔ پھر تلنگانا۔ پھر اڑیسہ۔ پھر ویسٹ بنگال۔ پھر پنجاب۔ پھر اُتّر پردیش۔ پھر دہلی۔ پھر مہاراشٹرا۔

بھارت کی دس جماعتیں ہیں۔ کارلائی نمبر ایک پہ۔ پھر کالیکٹ۔ پھر حیدرآباد۔ پاٹھا پریام۔ پھر قادیان۔ پھر کانور ٹاؤن۔ پھر کولکتہ۔ پھر بنگلور۔ پھر سُولُور۔ اور پھر پنگاڈی۔

آسٹریلیا کی جماعتیں ہیں کاسل ہِل نمبر ایک پہ۔ پھر برزبن لوگان۔ مارزڈن پارک۔ بَیروِک۔ پَینرِتھ۔ پھر ایڈیلیڈ ساؤتھ۔ پلمپٹن۔ کینبرا۔ لانگ وارِن۔ ایڈیلیڈ ویسٹ۔

اللہ تعالیٰ ان تمام قربانیاں کرنے والوں کے اموال و نفوس میں بے انتہا برکت ڈالے اور آئندہ سے متعلقہ عہدیداروں کو بھی فعّال کرے کہ وہ اپنے صحیح کام کر سکیں اور جو کمیاں ہیں ان کو پوری کرنے کی کوشش کریں۔ خاص طور پہ شمولیت میں زیادہ اضافہ ہونا چاہئے۔ ٹھیک ہے رقم تو بڑھتی ہے لیکن ہر ایک کو شامل کرنا بھی ضروری ہے، چاہے تھوڑی رقم دے کے شامل ہوں۔

اب مَیں نمازوں کے بعد دو جنازے غائب بھی پڑھاؤں گا۔ پہلا جنازہ مکرمہ محترمہ اسماء طاہرہ صاحبہ کا ہے جو مکرم صاحبزادہ مرزا خلیل احمد صاحب کی اہلیہ تھیں۔ 23؍دسمبر 2016ء کو 79 سال کی عمر میں کینیڈا میں ان کی وفات ہو گئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ جون 1935ء میں بھاگلپور میں یہ پیدا ہوئی تھیں۔ آپ کے والد کا نام مولوی عبدالباقی صاحب تھا اور والدہ صفیہ خاتون صاحبہ۔ ان کے والد لمبا عرصہ جماعت کی کنری میں فیکٹری تھی وہاں رہے، کام کرتے رہے اور لمبا عرصہ کنری جماعت کے صدر بھی رہے۔

ان کے دادا حضرت علی احمد صاحب جو تھے انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔ صحابی تھے۔ ان کی بیعت کا واقعہ مکرمہ امۃ النور صاحبہ بیان کرتی ہیں۔ کہتی ہیں کہ ہم نے سنا ہوا ہے کہ وہ قادیان آئے تو نویں کلاس میں زیر تعلیم تھے۔ قادیان جاتے ہوئے امرتسر ریلوے سٹیشن پر مولوی محمد حسین بٹالوی نے ان کو روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے مولوی صاحب کو جواب دیا کہ میری والدہ نے سورج چاند گرہن کا نشان پورا ہونے پر مجھے تحقیق کے لئے قادیان بھجوایا ہے اور آپ کے اس عمل سے مجھے مرزا صاحب کی صداقت واضح ہوئی ہے کہ آپ جیسا اتنا بڑا مولوی کیوں کسی جھوٹے نبی کے دعویدار کے لئے اتنا وقت ضائع کرے گا۔ آپ کا یہ پھرنا اور وقت ضائع کرنا ہی بتاتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب سچے ہیں۔ 6؍جنوری 1964ء کو اسماء صاحبہ کی شادی مرزا خلیل احمد صاحب سے ہوئی۔ مرزا خلیل احمد صاحب حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے نواسے تھے۔ حضرت صاحبزادی امۃ الحئی صاحبہ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔ مکرمہ اسماء طاہرہ صاحبہ کو جنرل سیکرٹری لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کے طور پر، پھر سیکرٹری ضیافت لجنہ مرکزیہ کے طور پر، پھر ممبر عالمگیر تبلیغ منصوبہ کمیٹی کے طور پر، پھر مقامی لجنہ میں بھی کام کرنے کی توفیق ملی۔

اسماء طاہرہ صاحبہ کے والد 1975ء میں وفات پا گئے تھے۔ اس کے بعد ان کی والدہ ان کے ساتھ رہیں اور اسماء طاہرہ صاحبہ میری ممانی تھیں۔ اس لحاظ سے مجھے بھی ان کے بارہ میں بہرحال پتا ہے کہ سسرال میں اور اپنی نندوں سے اور رشتہ داروں سے اور عزیزوں سے ان کا بہت پیار اور محبت کا تعلق تھا۔ بیماری کے دنوں میں مل کے آیا ہوں آجکل کینیڈا میں تھیں ان کی بیماری کی ایسی حالت تھی کہ جب میں گیا ہوں اور ملا ہوں تو ہل نہیں سکتی تھیں لیکن اس وقت بھی ان کی عاجزی کا یہ حال تھا کہ انہوں نے کہا کہ میرے کپڑے نکال کے رکھو۔ تیاری کرو، اور میرا کہا کہ شاید وہ مجھے ملاقات کے لئے بلا لیں۔ بجائے اس کے کہ مجھے پیغام بھیجتیں کہ ملاقات کے لئے آؤ۔ یہ اس امید پہ تھیں کہ میں ان کو وہاں بلاؤں گا۔ بہرحال میں مل کے آیا۔ اس لحاظ سے بڑی خوش ہوئیں۔ ان کی اولاد کوئی نہیں تھی۔ ان کی بہن کی ایک بیٹی تھی جو انہوں نے پالی جو پانچ سال کی عمر میں آ گئی۔ وہ کہتی ہیں کہ مجھے بالکل اپنے بچوں کی طرح پالا اور شادی کے وقت بھی میرے پورے شادی کے لوازمات پورے کئے۔ میری تربیت میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جب میں پریشان ہوتی مجھے دعا کے لئے کہتیں کہ دعا کرو انشاء اللہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ دعاؤں پر بڑا یقین تھا۔ بچوں سے بڑا پیار تھا۔ ان کی تربیت کا خاص طور پر خیال رکھتی تھیں اور کہا کرتی تھیں کہ بچوں کو مسجد لے کر جایا کرو کیونکہ مسجد میں ان کو مصروف رکھو گی تو بچے کبھی بگڑیں گے نہیں اور ضائع نہیں ہوں گے۔ جماعت سے وابستہ رہنے کی ہمیشہ تلقین کرتی تھیں۔ یہ بچی کہتی ہے کہ مجھے وصیت کرنے کی بھی تلقین کی اور ہمیشہ اس کی تلقین کرتی رہیں کہ جماعت سے ہمیشہ وابستہ رہنا۔ ملازموں سے بھی نہایت نرمی کا سلوک تھا۔ گھر میں ان کی ملازمہ تھی اس کے بارے میں اپنی لے پالک بچی کو کہا تھا کہ میرے بعد اس کا خیال رکھنا اور اس کو جو کوارٹر میں نے گھر میں دیا ہوا ہے وہاں سے نکالنا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔

دوسرا جنازہ مکرم چوہدری حمیدنصر اللہ خان صاحب کا ہے جو 4؍جنوری 2017ء کو لاہور میں 83 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ چوہدری حمیدنصراللہ خان صاحب کے دادا حضرت چوہدری نصر اللہ خان صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے اور ان کے نانا حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال تھے۔ یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ ان کے والد چوہدری محمد عبداللہ خان صاحب ایک لمبے عرصے تک کراچی کی جماعت کے امیر رہے۔ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ان کے تایا بھی تھے اور سسر بھی تھے۔ 1964ء میں حمیدنصر اللہ خان صاحب کی شادی امۃ الحئی صاحبہ بنت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے ساتھ ہوئی اور ان کی اولاد مصطفی نصر اللہ خان اور ابراہیم نصر اللہ خان ہے جو سولہ سال کی عمر میں وفات پا گیا تھا اور عائشہ نصر اللہ ایک بیٹی ہیں۔ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی بیٹی سے چوہدری حمیدنصر اللہ کی جو شادی ہوئی تھی اس کی پہلے بھی ڈاکٹر اعجاز الحق صاحب سے شادی ہوئی تھی جس سے ان کے دو بیٹے تھے۔ محمد فضل الحق اور احمدنصراللہ۔ 5؍فروری 1994ء کو احمدنصر اللہ کو لاہور میں شہید بھی کر دیا گیا تھا تو اِس وقت ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ بیوی کے جو پہلے بچے تھے ان کو بھی بڑے پیار سے اور بچوں کی طرح انہوں نے ہمیشہ اپنے ساتھ رکھا ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے ان کو 1975ء میں جماعت احمدیہ لاہور کا امیر مقرر کیا تھا۔ چونتیس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ جماعت احمدیہ لاہور کی امارت پر فائز رہے۔ 2009ء سے ان کی طبیعت زیادہ ٹھیک نہیں رہتی تھی۔ پھر میرے کہنے پر کہ اپنے آپ کو دیکھ لیں پھر بتائیں تو انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے میں کام سے معذرت کرتا ہوں۔ معذرت اس لحاظ سے کہ صحت اجازت نہیں د یتی کہ امارت کا کام جو بڑا وسیع کام ہے چلا سکوں تو اس کے بعد پھر نئے امیر شیخ منیر صاحب مقرر ہوئے تھے جن کی 2010ء میں شہادت ہوئی۔ 2008ء تک یا تقریباً 2009ء تک یہ امیر رہے ہیں۔ 1974ء کے جو مخالفت کے حالات تھے اس میں بھی یہ گو باقاعدہ امیر تو نہیں تھے لیکن بہت ساری ذمہ داری حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے ان کے سپرد کی ہوئی تھی اور بڑی خوبی سے سرانجام دیتے تھے۔ ہائیکورٹ میں جب 74ء میں جسٹس صمدانی انکوائری کمیشن قائم ہوا ہے تو اس میں بھی آپ کی کافی خدمات تھیں۔ 1984ء کے ابتلاء کے دور میں جو کیس وفاقی شرعی عدالت لاہور میں زیر کارروائی تھا اس میں بھی آپ نے مختلف خدمات سرانجام دیں۔ ان کو یہ بھی اعزاز حاصل تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی پاکستان سے ہجرت کے موقع پر آپ ربوہ سے لندن تک حضور کے ہمراہ تھے بلکہ ربوہ سے کراچی تک جہاں تک میرا علم ہے کار ڈرائیو کرنے والے بھی یہی تھے۔ ان کے دورِ امارت میں دارالذکر لاہور کو مزید وسعت حاصل ہوئی اور وہ تو اب تک جاری ہے لیکن بہرحال کافی کام ہوا۔ دوران امارت لاہور میں بہت سی خوبصورت مساجد کا اضافہ ہوا۔ ان کے دور میں جماعت احمدیہ لاہور کو احسن رنگ میں مالی قربانیوں کی توفیق حاصل ہوئی۔ گزشتہ 32 سال سے یہ فضل عمر فاؤنڈیشن کے صدر کے طور پر بھی خدمات بجا لا رہے تھے۔ 1984ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی پاکستان سے انگلستان ہجرت کے وقت جیسا کہ میں نے کہا ان کو مصاحبت کی توفیق ملی اور Iain Adamson کی جو کتاب ہے اس میں اس نے ان کا ذکر بھی کیا ہوا ہے۔

لاہور کے سیکرٹری امور عامہ چوہدری منور صاحب لکھتے ہیں کہ حمیدنصراللہ خان صاحب اپنے ساتھ کام کرنے والے کارکنان کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے۔ ان کی چھوٹی سے چھوٹی ضروریات کا خیال رکھتے۔ اگر ان سے کوئی مشورہ مانگا جاتا تو بڑی محبت اور پیار سے مشورہ دیتے۔ کہتے ہیں میں نو (9) سال قائد ضلع لاہور رہا مگر کبھی کسی بات پر ناراضگی کا اظہار نہیں کیا۔ خدام الاحمدیہ کے کاموں میں بہت زیادہ تعاون کرتے۔ خدام الاحمدیہ کے پانچ اجتماعات لاہور سے باہر منعقد کروانے کا موقع ملا۔ ان میں انہوں نے ہماری بڑی رہنمائی کی اور ایک ایک چیز کی رہنمائی کرتے تھے۔ چوہدری حمیدنصر اللہ خان صاحب بڑے اچھے منتظم بھی تھے اور کام کو وقت پر، موقع پر کرنے والے تھے۔ تمام جماعتوں کا دورہ کرتے۔ صدران حلقہ کے ساتھ ان کا ذاتی تعلق تھا۔ عاملہ کے ممبران کو اپنا دوست اور دست و بازو سمجھتے تھے۔

حکیم طارق صاحب کہتے ہیں کہ خلافت کی اطاعت آپ میں کُوٹ کُوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ جماعتی کارکنان اور خادموں کے ساتھ انتہائی شفقت اور محبت سے پیش آتے۔ بہت زیادہ اعتماد کرتے۔ ان کو بہت زیادہ عزت دیتے۔ اور پہلے میں ناظر اعلیٰ تھا تو میرے ساتھ بھی جتنا عرصہ انہوں نے بحیثیت امیر کام کیا، وہاں بھی مرکز کے ساتھ مکمل تعاون اور کامل اطاعت کے ساتھ کام کیا تھا۔ بحیثیت ناظر اعلیٰ بھی انہوں نے میرے ساتھ کام کیا اور پھر خلافت کے بعد بھی جب تک یہ لاہور کے امیر رہے انتہائی تعاون سے کام کیا۔ ان میں اطاعت کا جذبہ بڑا تھا۔

کرنل نعیم صدیقی صاحب لاہور کے نائب امیر ضلع ہیں وہ لکھتے ہیں کہ خلافت کے ساتھ اپنے تعلق کے واقعات بیان کرنے شروع کرتے تھے تو پھر بیان کرتے چلے جاتے تھے۔ ایک واقعہ کرنل نعیم صاحب نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ وہ بہاولپور میں کسی کام سے جا رہے تھے تو انہیں رستے میں بلکہ بہاولپور پہنچ گئے تھے کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثالث کا پیغام ملا کہ ربوہ پہنچیں تو اسی وقت وہاں اپنا کام چھوڑ کر فوراً ربوہ آ گئے اور راتوں رات آکر نماز فجر سے پہلے پہنچ گئے اور کہتے ہیں میں نے باہر ٹہلنا شروع کر دیا اور جب انہوں نے دیکھا کہ اب تہجد کا وقت ہے اور تہجد یا نماز کے درمیان کا وقت ہے تو پھر انہوں نے یہ پیغام بھجوایا کہ میں آ گیا ہوں اور حاضر ہوں۔ غرباء کے وظائف جاری کئے ہوئے تھے نہ صرف اپنے نام سے بلکہ اپنی اہلیہ اور والد صاحب اور چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے نام سے بھی وظائف جاری کئے ہوئے تھے۔ جب بھی کسی کی درخواست آتی تو اس کو مارک کر دیتے کہ اس کو میرے کھاتے سے وظیفہ دے دیا جائے یا اہلیہ کے کھاتے سے یا کسی اور کے کھاتے سے۔ اور یہ بھی انہوں نے بڑا صحیح لکھا ہے کہ حمیدنصراللہ خان صاحب جماعت احمدیہ لاہور کی ایک تاریخ تھے۔ ان میں بہرحال اللہ تعالیٰ کی طرف سے لیڈرانہ صلاحیت بھی تھی اور اس کا صحیح استعمال بھی وہ کرتے تھے۔

ناصر شمس صاحب جو فضل عمر فاؤنڈیشن کے سیکرٹری بھی ہیں لکھتے ہیں (جیسا کہ میں نے بتایا کہ بتیس سال صدر بھی تھے) کہ فضل عمر فاؤنڈیشن میں حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی وفات کے بعد 1986ء میں ان کا بطور صدر تقرر ہوا اور تادم آخر تقریباً 32سال تک ان کو بطور صدر فضل عمر فاؤنڈیشن خدمت کی توفیق ملی۔ بہت ہی ہمدرد، غمگسار، شفیق، نرم خُو اور خوش مزاج انسان تھے۔ تعلقات کا دائرہ بہت وسیع تھا اور ان تعلقات کو ہمیشہ جماعتی مفاد کے لئے استعمال کرتے تھے۔ ایک انتہائی مخلص فدائی خادم سلسلہ، خلفاء کے سلطان نصیر، خلافت کے لئے انتہائی غیرت رکھنے والے باوفا انسان تھے۔ باوجود کمزوری اور علالت طبع کے فاؤنڈیشن کے اجلاسات میں شامل ہوتے رہے۔ بہت صائب الرائے اور معاملہ فہم تھے۔ اپنی خداداد صلاحیت سے معاملہ کی تہہ تک پہنچ جاتے اور پھر باہمی مشاورت سے فیصلہ کرتے۔ مرزا ندیم صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے خود سنایا کہ جب انہیں 1975ء میں امیر جماعت مقرر کیا گیا تو بڑی گھبراہٹ میں ربوہ جا کر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ملاقات کا پیغام بھجوایا۔ حضرت خلیفہ ثالث نے ان کو بلایا اور پوچھا کیا وجہ ہے، کس طرح آئے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ میں اس عہدے کے قابل نہیں ہوں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے فرمایا اچھا کھانے کا وقت ہو رہا ہے پہلے کھانا کھاؤ۔ اور چوہدری صاحب اُس وقت بھی اپنی بات دہراتے رہے۔ اس کے بعد پھر کہتے ہیں کہ حضرت خلیفہ ثالث نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ تمہیں خلیفۂ وقت نے امیر بنایا ہے اور خدا کا خلیفہ بہتر جانتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس کے بعد بہت سارے کٹھن سے کٹھن حالات آئے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں کبھی نہیں گھبرایا اور خلافت کی دعاؤں کی وجہ سے میرے ہر کام ہوتے رہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحمت کا سلوک فرمائے۔ ان کے درجات بلند فرمائے۔ ان کی اولاد کو بھی وفا کے ساتھ خلافت اور جماعت سے وابستہ رکھے اور ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • خطبہ کا مکمل متن
  • English اور دوسری زبانیں

  • 6؍ جنوری 2017ء شہ سرخیاں

    آج دنیا میں کوئی ایسا گروہ نہیں ہے، کوئی ایسی جماعت نہیں ہے جس کے ممبران اور افراد دنیا کے ہر شہر اور ہر ملک میں ایک مقصد کے لئے ایک ہاتھ پر جمع ہو کر اپنے مال خرچ کرنے کے لئے پیش کر رہے ہوں اور وہ مقصد بھی دین کی اشاعت اور خدمت خلق کا مقصد ہو۔ ہاں صرف ایک جماعت ہے جو یہ کام کر رہی ہے اور وہ وہ جماعت ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اس مقصد کے لئے قائم فرمایا ہے۔ وہ جماعت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق کی جماعت ہے۔ وہ جماعت ہے جو مسیح موعود اور مہدی معہود کی جماعت ہے جس کے سپرد اسلام کے ساری دنیا میں قیام کا کام ہے جو گزشتہ تقریباً 128 سال سے خدمت اسلام اور خدمت انسانیت کے لئے اپنا مال قربان کر رہی ہے۔ اور یہ اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس جماعت کو قرآنی تعلیم کی روشنی میں مال کے صحیح مَصرف اور مال کی قربانی کا ادراک عطا فرمایا ہے۔

    بہت سے لوگوں کی مثالیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتب اور ملفوظات میں بیان فرمائی ہیں جنہوں نے اپنی ضروریات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دینی اغراض کے لئے بڑھ چڑھ کر قربانیاں کیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت کے افراد کو قربانیوں کی یہ جاگ ایسی لگی ہے کہ ایک کے بعد دوسری نسل قربانیاں کرتی چلی جا رہی ہے بلکہ وہ لوگ جو دور دراز ممالک کے رہنے والے ہیں، بعد میں آ کر شامل ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں وہ بھی ان بزرگوں کی قربانیوں کی جب باتیں سنتے ہیں اور یا پھر یہ سنتے ہیں کہ فلاں مقصد کے لئے قربانی کی ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلام کو سن کر پھر قربانیوں کی روح کو سمجھتے ہیں وہ بھی ایسی ایسی مثالیں پیش کرتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ امراء سے زیادہ اوسط درجے کے لوگ اور غرباء ہیں جو قربانیاں پیش کرتے ہیں اور حیرت انگیز نمونے دکھاتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک کے احمدیوں کی مالی قربانی اور خلیفۂ وقت کی آواز پر لبّیک کہنے کی نہایت درخشندہ اور قابل تقلید مثالوں کا روح پرور تذکرہ

    وقف جدید کے ساٹھویں سال کے آغاز کا اعلان۔

    وقف جدید میں گزشتہ سال عالمگیر جماعت احمدیہ کے افرادنے اسّی لاکھ بیس ہزار پاؤنڈ کی قربانی پیش کی۔

    اس سال بھی پاکستان کی جماعت دنیا کی جماعتوں میں مجموعی طور پر وصولی کے لحاظ سے سر فہرست رہی۔

    مختلف ممالک کی وقف جدید میں قربانی کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ اور نمایاں قربانی کرنے والے ممالک اور جماعتوں کا تذکرہ

    وقف جدید میں شامل ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی طرف خصوصی توجہ دینے کی تاکید۔

    وہ تمام ممالک بھی شاملین کی تعداد کی طرف توجہ دیں جن کے گزشتہ سال کے مقابلے میں کمی ہوئی ہے اور اپنی کمزوریوں کا جائزہ لیں۔ لوگوں میں کمزوریاں نہیں، کام کرنے والوں میں کمزوری ہے۔

    اللہ تعالیٰ ان تمام قربانیاں کرنے والوں کے اموال و نفوس میں بے انتہا برکت ڈالے اور آئندہ سے متعلقہ عہدیداروں کو بھی فعّال کرے کہ وہ اپنے صحیح کام کر سکیں اور جو کمیاں ہیں ان کو پوری کرنے کی کوشش کریں۔ خاص طور پہ شمولیت میں زیادہ اضافہ ہونا چاہئے۔ ٹھیک ہے رقم تو بڑھتی ہے لیکن ہر ایک کو شامل کرنا بھی ضروری ہے چاہے تھوڑی رقم دے کے شامل ہوں۔

    مکرمہ اسماء طاہرہ صاحبہ اہلیہ مکرم صاحبزادہ مرزا خلیل احمد صاحب اور مکرم چوہدری حمیدنصر اللہ خان صاحب سابق امیر ضلع لاہور و صدر فضل عمر فاؤنڈیشن کی وفات۔ مرحومین کا ذکرِ خیر اور نمازِ جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 06جنوری 2017ء بمطابق 06صلح 1396 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور