نماز کی اہمیت اور نماز با جماعت کے قیام کی طرف خصوصی توجہ

خطبہ جمعہ 20؍ جنوری 2017ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ مسلمانوں پر نماز فرض ہے۔ قرآن کریم میں متعدد جگہ نماز کی اہمیت مختلف حوالوں سے بیان کر کے اس طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ نماز عبادت کا مغز ہے۔ (ماخوذ ازسنن الترمذی کتاب الدعوات باب ماجاء فی فضل الدعاء حدیث3371)

بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرمایا کہ نماز کو چھوڑنا انسان کو کفر اور شرک کے قریب کر دیتا ہے۔ (صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان اطلاق اسم الکفرعلی من ترک الصلاۃ حدیث149)

پھر آپؐ نے نماز کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا بندوں سے حساب لیاجائے گا وہ نماز ہے۔ اگر تو یہ حساب ٹھیک رہا تو کامیاب ہو گیا اور نجات پا لی ورنہ گھاٹا پایا، نقصان اٹھایا۔ (سنن الترمذی ابواب الصلاۃ باب ماجاء ان اول ما یحاسب… حدیث 413)

پھر بچوں کو بھی نماز کا پابند بنانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اور فرمایا کہ سات سال کی عمر کو پہنچنے پر بچے کو نماز کی تلقین کرو اور دس سال کی عمر میں اس کو نماز کا پابند کرنے کے لئے کوئی سختی بھی کرنی پڑے تو کرو۔ (سنن ابی داؤد کتاب الصلوٰۃ باب متی یؤمر الغلام بالصلاۃ حدیث495)

اگر ماں باپ ہی نمازوں کے پابندنہ ہوں گے تو بچوں کو کس طرح کہہ سکتے ہیں یا اگر بچے اپنے اجلاسوں یا مختلف ذریعوں سے یہ حدیث سن لیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سن لیں لیکن گھر میں وہ اپنے باپوں کو نمازوں کا پابندنہ دیکھیں تو ان پر کیا اثر ہو گا؟ یقینا ایسے باپوں کے بچے یہ خیال کریں گے کہ اس حکم کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ بلکہ ایک حکم کی اہمیت کو نظر انداز کرنے سے بچے کے دل پر ہر اسلامی حکم کی اہمیت کا اثر ختم ہو جائے گا۔ ایسے لوگ نہ صرف پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق خود گھاٹا پانے والوں میں شامل ہو رہے ہوتے ہیں بلکہ اپنی اولاد کو بھی گھاٹا پانے والوں میں شامل کروا رہے ہوتے ہیں۔ دنیاوی خواہشات کے پورا کرنے کے لئے بچوں کی دنیاوی ترقی کے لئے تو ماں باپ فکر کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں لیکن جو اصل فکر کا مقام ہے اس کی پرواہ بھی نہیں ہوتی۔

پھر ایک حقیقی مومن کے لئے صرف نماز ہی ضروری نہیں ہے جس سے اس کا روحانی میل کچیل دُور ہوتا ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر کسی کے دروازے کے پاس سے نہر گزر رہی ہو اور وہ اس میں پانچ بار روزانہ نہائے تو اس کے جسم پر کوئی میل رہ جائے گی؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! یقینا کوئی میل نہیں رہے گی۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ گناہ معاف کرتا اور کمزوریاں دور کرتا ہے۔ (صحیح البخاری کتاب مواقیت الصلاۃ باب الصلوات الخمس کفارۃحدیث528)۔ پانچ نمازیں پڑھنے والے کی روح پر کوئی میل نہیں رہتی۔

پس یہ ہے نماز کی اہمیت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خوبصورت مثال کے ذریعہ بیان فرمائی ہے۔ لیکن جیسا کہ مَیں نے کہا صرف نماز پڑھنے کا ہی حکم نہیں ہے بلکہ حقیقی مومن مردوں کو اس روح کی میل اتارنے کے لئے مزید وضاحت فرمائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے گھر سے وضو کیا پھر وہ اللہ تعالیٰ کے گھر یعنی مسجد کی طرف گیا تا کہ وہاں فرض نماز ادا کرے تو مسجد کی طرف جاتے ہوئے جتنے قدم اس نے اٹھائے ان میں سے اگر ایک قدم سے اس کا ایک گناہ معاف ہو گا تو دوسرے قدم سے اس کا ایک درجہ بلند ہوگا۔ یعنی ہر قدم ہی اسے ثواب دینے والا ہے۔ (صحیح مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ باب المشی الیٰ الصلاۃ … حدیث1406)

پھر ایک موقع پر باجماعت نماز کی اہمیت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح بیان فرمایا کہ کیا مَیں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جس سے اللہ تعالیٰ گناہ مٹا دیتا ہے اور درجات بلند کرتا ہے؟ صحابہ رضوان اللہ علیہم نے جو ہر وقت اس بات کے لئے بے چین تھے کہ ہمیں کب کوئی موقع ملے اور ہم اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوشش کریں، اس کو راضی کرنے کے طریقے سیکھیں، اس کا قرب حاصل کریں، اپنے گناہوں سے دوریاں پیدا کریں، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ضرور بتائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دل نہ چاہنے کے باوجود خوب اچھی طرح وضو کرنا اور مسجد میں دُور سے چل کر آنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہ گناہوں سے دُوریاں پیدا کرتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اتنا ہی نہیں یہ ایک قسم کا رباط ہے۔ (صحیح مسلم کتاب الطھارۃ باب فضل اسباغ الوضوء علی المکارہ حدیث475)۔ یعنی سرحد پر چھاؤنیاں قائم کرنے کے برابر ہے۔ جس طرح ملک اپنی حفاظت کے لئے سرحدوں پر چھاؤنیاں بناتے ہیں، فوجیں رکھتے ہیں یہ اسی طرح ہے۔

سرحدوں پر چھاؤنیاں کیوں قائم کی جاتی ہیں؟ جیسا کہ مَیں نے کہا اپنے ملک کی حفاظت کے لئے۔ اس لئے تا کہ دشمن کے حملے سے محفوظ رہا جائے اور حملے کی صورت میں فوراً مقابلے کے لئے تیار ہوا جا سکے۔

پس ایک مومن کو سب سے بڑا خطرہ جس سے بچنے کے لئے اس کو ضرورت ہے، جس کے بچنے کے لئے چھاؤنی قائم کرنے کی ضرورت ہے وہ خطرہ شیطان کا ہے۔ دنیاوی خواہشات کا خطرہ ہے جو شیطان دل میں پیدا کرتا ہے۔ ان کے ذریعہ سے شیطان حملہ کرتا ہے۔ پس ان سے بچنے کے لئے نماز باجماعت کی چھاؤنی ہے۔ یہی محافظوں کا دستہ ہے جو شیطان کے حملوں سے بچائے گا۔ گناہوں سے انسان بچے گا اور نیکیوں کی طرف توجہ پیدا ہو گی۔

اسی طرح نماز باجماعت میں اکیلے نماز پڑھنے کی نسبت 27گنا زیادہ ثواب ہے۔ اس کے بارے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ (صحیح البخاری کتاب الاذان باب فضل صلاۃ الجماعۃ… حدیث645)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام باجماعت نماز کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

’’نماز میں جو جماعت کا زیادہ ثواب رکھا ہے‘‘ (یعنی نماز باجماعت میں جو زیادہ ثواب رکھا ہے) ’’اس میں یہی غرض ہے کہ وحدت پیدا ہوتی ہے۔ اور پھر اس وحدت کو عملی رنگ میں لانے کی یہاں تک ہدایت اور تاکید ہے کہ باہم پاؤں بھی مساوی ہوں۔‘‘ (یعنی پاؤں بھی جب سیدھے صف میں کھڑے ہوں تو برابر ہوں۔ اس کے لئے ایڑھیاں برابر کی جاتی ہیں۔) ’’اور صف سیدھی ہو اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں۔ اس سے مطلب یہ ہے کہ گویا ایک ہی انسان کا حکم رکھیں‘‘۔ (صف بندی ہو گی تو ایک انسان کی طرح بن جائیں گی۔ یعنی اس میں طاقت پیدا ہو گی۔ ’’اور ایک کے انوار دوسرے میں سرایت کر سکیں‘‘۔ فرمایا ’’وہ تمیز جس سے خودی اور خود غرضی پیدا ہوتی ہے نہ رہے‘‘۔ (یعنی امیر بھی، غریب بھی سب ایک صف میں کھڑے ہوں گے۔ بعض لوگوں کے دماغوں میں خودی ہوتی ہے یا خود غرضی ہوتی ہے اس کو باجماعت نماز ختم کرتی ہے۔) فرمایا کہ ’’یہ خوب یاد رکھو کہ انسان میں یہ قوت ہے کہ وہ دوسرے کے انوار کو جذب کرتا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد 8صفحہ 247-248۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) (کسی میں نیکی کا زیادہ اثر ہے۔ نیکیوں کے اچھے اونچے مقام پر ہے تو دوسرا بھی اس اثر کو قبول کرے گا)

پس نیکیوں کے اثر کو قبول کرنے کے لئے باجماعت نماز بھی فائدہ دیتی ہے۔ پس نماز باجماعت سے جہاں ایک وحدت کا اظہار ہے جو اللہ تعالیٰ اُمّت میں پیدا کرنا چاہتا ہے وہاں ایک دوسرے کی نیکیوں کا بھی اثر ہوتا ہے۔ جب ایک ہی صف میں زیادہ نیکیاں بجا لانے والے اور روحانی لحاظ سے بڑھے ہوئے اور اسی طرح کمزور لوگ جو ہیں وہ بھی کھڑے ہوں گے تو کمزوروں پر نیکیوں کا اثر پڑے گا اور ان میں بھی نیکیوں میں بڑھنے اور ترقی کرنے اور روحانیت کے بڑھانے کی قوت بڑھے گی اور جب یہ وحدت پیدا ہوتی ہے اور جب روحانیت بڑھتی ہے تو پھر شیطانی طاقتیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کو بھیجا جنہوں نے ہمیں عبادتوں اور نمازوں کا صحیح اِدراک پیدا کرنے کی طرف رہنمائی فرمائی۔ پس اگر ہم ایک طرف تو یہ دعویٰ کریں کہ ہم نے اپنی روحانی حالت کی بہتری اور وحدت کے قیام کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق اور مسیح موعود اور مہدی معہود کو مان لیا ہے اور دوسری طرف ہمارے عملوں اور خاص طور پر بنیادی اسلامی حکم کے بجا لانے میں کمزوری ہو۔ جو بنیادی فرض ہے اس میں کمزوری ہو۔ اس چیز میں کمزوری ہو جو ہماری پیدائش کا مقصد ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو کم از کم معیار مقرر فرمایا ہے اس چیز میں کمزوری ہو تو ہم کس طرح دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہم نے اپنی روحانی حالت کی ترقی اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر چلنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مانا ہے۔

جیسا کہ مَیں نے بتایا کہ قرآن کریم میں بھی متعدد جگہ پانچ نمازوں کی فرضیت بیان ہوئی ہے، اہمیت بیان ہوئی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات بھی بڑے واضح ہیں جو میں نے بیان کئے ہیں۔ یہ نمازیں تو ہر احمدی کے لئے ضروری ہیں ہی لیکن ساتھ ہی جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے باجماعت نماز کی اہمیت بیان فرمائی ہے ہر عاقل (عقل رکھنے والے) بالغ مرد پر باجماعت نماز فرض ہے۔ لیکن اس کی طرف ہم دیکھتے ہیں کہ پوری توجہ نہیں ہے اور کمزوری ہے۔ بیشک ایک حقیقی مومن پر نماز فرض ہے اور اس بات کا اسے خود خیال رکھنا چاہئے لیکن جماعت میں ایک نظام بھی قائم ہے اس نظام کو بھی اس طرف توجہ دلاتے رہنا چاہئے۔ اس کی حقیقت واضح کرتے رہنا چاہئے۔ مَیں اکثر خطبات میں اس طرف توجہ دلاتا رہتا ہوں۔ کسی نہ کسی حوالے سے نمازوں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔ لیکن پھر اسے آگے پھیلانا مربیان اور نظام جماعت کا کام ہے کہ توجہ دلائیں۔ ہر فرد جماعت تک نماز کی اہمیت کا پیغام بار بار پہنچائیں۔ حقیقت میں تو ہم احمدی ہونے کا حق اس وقت ادا کر سکیں گے جب ہم اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہوئے ان سے روحانی حظّ اٹھانے والے ہوں گے اور جب یہ روحانی سرور اور حظّ حاصل ہونا شروع ہو جائے گا تو پھر نمازوں کی ادائیگی کی طرف خود بخود توجہ پیدا ہو جائے گی۔

پس اس طرف جیسا کہ مَیں نے کہا ہر احمدی کو خود توجہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح ہم نے اپنی نماز پڑھنی ہے۔ ایسی نماز پڑھنی ہے جو ہمیں دلی سرور دلوا سکے، جو ہمیں لذّت عطا کرے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نماز کی ادائیگی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ کس طرح یہ سرور حاصل ہو سکتا ہے۔ آپ نے مثال دی فرمایا کہ ’’مَیں دیکھتا ہوں کہ ایک شرابی اور نشہ باز انسان کو جب سرور نہیں آتا تو وہ پَے در پَے پیتا جاتا ہے۔‘‘(نشہ حاصل کرنے کے لئے شراب پیتا چلا جاتا ہے) ’’یہاں تک کہ اس کو ایک قسم کا نشہ آجاتا ہے۔‘‘ فرمایا کہ ’’دانشمند اور زِیرک انسان اِس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔‘‘ (یعنی اس مثال سے اگر کوئی عقلمند انسان ہے تو وہ فائدہ اٹھا سکتا ہے) ’’اور وہ یہ‘‘ (کس طرح فائدہ اٹھانا ہے اپنی روحانیت کو تیز کرنے کے لئے نمازوں کی طرف توجہ دینے کے لئے) ’’کہ نماز پر دوام کرے۔‘‘ (نماز میں باقاعدگی اختیار کرے اور کبھی نہ چھوڑے۔) فرمایا ’’اور پڑھتا جاوے یہاں تک کہ اس کو سرور آ جائے۔ اور جیسے شرابی کے ذہن میں ایک لذت ہوتی ہے جس کا حاصل کرنا اُس کا مقصود بالذات ہوتا ہے۔‘‘ شرابی جب شراب پیتا ہے تو اس نے ذہن میں اپنا کوئی ایک معیار مقرر کیا ہوتا ہے کہ میں نے یہ لذت حاصل کرنی ہے۔ فرمایا کہ جو معیار وہ اپنے نشے کے لئے حاصل کرتا ہے تو ایک روحانی شخص کو، ایک مومن کو بھی اپنا کوئی مقصود بنانا چاہئے جس کو اس نے نماز کے لئے حاصل کرنا ہے اور اسی طرح بار بار مستقل مزاجی سے کوشش ہو گی تو تبھی سرور حاصل ہو سکتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’اسی طرح سے ذہن میں اور ساری طاقتوں کا رجحان نماز میں اسی سرور کو حاصل کرنا ہو۔‘‘ ایک نمازی جب نماز پڑھے تو ذہن میں یہ بات رکھے اور اپنی جو بھی توجہ ہے اور جتنی طاقتیں ہیں ان کو نماز پڑھتے ہوئے استعمال کرے کہ میں نے یہ سرور حاصل کرنا ہے اور اس کے لئے قوت ارادی کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اگر قوت ارادی ہوگی تو پھر ہی مستقل مزاجی بھی رہ سکے گی۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’اور پھر ایک خلوص اور جوش کے ساتھ کم از کم اس نشہ باز کے اضطراب اور قلق اور کرب کی مانند ہی ایک دعا پیدا ہو کر وہ لذت حاصل ہو تو مَیں کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں … کہ یقینا یقینا وہ لذت حاصل ہو جائے گی‘‘۔ پھر ایک درد اور فکر ہو گی۔ ایک کرب ہو گا۔ ایک بے چینی ہو گی کہ کاش مجھے نماز میں سرور حاصل ہو۔ نماز پڑھتے ہوئے اس بے چینی کا بار بار اللہ تعالیٰ کے آگے اظہار ہو تو آپ فرماتے ہیں کہ یقینا پھر وہ سرور حاصل ہو جائے گا، لذت حاصل ہو جائے گی۔ (ملفوظات جلد 9صفحہ7-8۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس مستقل مزاجی کے ساتھ نماز میں اس کا مزہ لینے کی کوشش آخر ایک وقت میں دل کو پگھلا کر وہ مزہ دے دیتی ہے۔ آپ نے اس بات کی بھی تاکید فرمائی اور وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نماز فواحش اور برائیوں سے بچاتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں، لوگ سوال بھی کرتے ہیں کہ باوجودنماز پڑھنے کے لوگ بدیاں کرتے ہیں، برائیاں کرتے ہیں۔ تو آپ فرماتے ہیں کہ اس کا جواب یہ ہے کہ روح اور سچائی کے ساتھ نمازیں نہیں پڑھتے بلکہ صرف رسم اور عادت کے طور پر ٹکّریں مارتے ہیں۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 9صفحہ8۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ نماز برائیوں سے بچاتی ہے تو یقینا یہ سچ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کلام جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ جن لوگوں میں نمازیں پڑھنے کے باوجود برائیاں قائم رہتی ہیں ان کی نمازیں صرف ظاہری نمازیں ہوتی ہیں وہ اس کی روح کو نہیں سمجھتے۔ پس یہ بہت ہی قابل فکر بات ہے جس پر ہم میں سے ہر ایک کو اپنی حالت کا جائزہ لینا چاہئے۔ اگر ہمیں لذت و سرور آ رہا ہو یا یہ پکا ارادہ ہو کہ میں نے لذت اور سرور حاصل کرنا ہے تو کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے کوئی اپنی نمازوں میں باقاعدگی اختیار نہ کرے۔ ہر ایک کو کبھی نہ کبھی اس لذت و سرور کا تجربہ ہو جاتا ہے اور ہوا ہو گا۔ مشکل اور پریشانی میں جب کوئی ہوتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ نمازوں میں بہت سے ایسے ہیں جو بڑے روتے ہیں، گڑگڑاتے ہیں۔ چلتے پھرتے بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں۔ اس کی طرف توجہ رہتی ہے اور اسی وجہ سے پھر عبادت کی طرف بھی توجہ رہتی ہے تو کوئی نہ کوئی ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے اور کچھ نہ کچھ توجہ پیدا ہو رہی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ تکلیف کی صورت میں مستقل دعاؤں میں لگے رہتے ہیں۔ لیکن جب اپنی خواہشات پوری ہو جائیں، جب مشکلات سے نکل جائیں تو پھر بہت سارے ایسے ہیں جن کی نمازوں میں، عاجزانہ دعاؤں میں سستی پیدا ہو جاتی ہے۔ پس جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ ہمیں مسلسل کوشش سے اپنے سامنے یہ ٹارگٹ رکھنا ہے کہ چاہے حالات اچھے ہوں یا برے، تنگی میں بھی اور کشائش میں بھی اس لذت و سرور کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے جو نشہ کی کیفیت طاری کر دے اور صرف ذاتی حالات ہی نہیں ایک مومن کو تو معاشرے کے عمومی حالات بھی جو ہیں وہ بھی درد پیدا کرنے والے ہونے چاہئیں اور جب یہ درد کی کیفیت ہوتی ہے تو پھر درد سے دعائیں بھی نکلتی ہیں۔ پاکستان میں مثلاً جماعتی حالات بہت خراب ہیں۔ ہر طرف سے افراد جماعت کے خلاف نفرتوں کے تیر برسائے جا رہے ہیں۔ بغضوں اور کینوں کے اظہار ہو رہے ہیں۔ مُلّاؤں کے خوف سے یا ان کی باتوں سے غلط فہمی پیدا ہونے کی وجہ سے پرانے تعلق والے غیر از جماعت بھی بعض جگہ مخالفتوں میں بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ عمومی طور پر بھی دیکھیں تو ان ظلموں کی انتہا ہو چکی ہے۔ ایسے میں پاکستان میں تو ہر احمدی کو جہاں لذت و سرور والی نمازیں پڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے وہاں مسجدوں کو آباد کرنے کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔

گزشتہ دنوں خدام الاحمدیہ پاکستان کی طرف سے شوریٰ کے فیصلہ جات کی تعمیل کی ایک رپورٹ آئی جس میں انہوں نے لکھا کہ تعداد کے لحاظ سے تربیتی فیصلہ جات میں ہم نے یہ یہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ بڑی اچھی بات ہے۔ ترقی کی طرف قدم بڑھے ہیں۔ ان تربیتی امور کی بہت سی باتوں میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ میرا خطبہ جمعہ سننے کی طرف اتنے ہزار خدّام کی توجہ پیدا ہوئی ہے۔ لیکن جو قابل فکر بات ہے وہ یہ کہ نماز باجماعت کے عادی جمعہ کا خطبہ سننے والوں کا قریباً تیسرا حصہ تھے یا اس سے تھوڑا سا زیادہ تھے۔ اسی طرح نمازوں کے عادی خدّام کی تعداد بھی خطبہ سننے والوں سے کافی کم تھی۔ ایسا خطبہ سننے کا کیا فائدہ جس سے ہماری توجہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف نہ ہو اور اس بنیادی فرض کی طرف نہ ہو جو انتہائی ضروری ہے۔

جیسا کہ میں نے کہا کہ میں تو ہر دوسرے تیسرے خطبہ میں نماز باجماعت یا عبادت کے بارے میں بات کرتا ہوں۔ اگر اس کا اثر ہی نہیں ہونا تو صرف تعداد کی خانہ پوری کرنے کا تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ پاکستان میں جیسے احمدیوں کے حالات مَیں نے بیان کئے ہیں اگر اس کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ پیدا نہیں ہوگی تو پھر کب ہو گی؟ کیا ہم اللہ تعالیٰ کا نعوذ باللہ امتحان لینا چاہتے ہیں کہ ہم نے تو ایسے ہی رہنا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے کہ ہمارے حالات بدلے۔ اگر یہی اظہار ہونے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ سے شکوے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کہیں نہیں فرمایا کہ تم جو چاہے کرتے رہو، میرے حق ادا کرو یا نہ کرو کیونکہ تم نے مسیح موعود کو مان لیا ہے اس لئے مَیں تمہیں کامیابیاں دوں گا۔ کامیابیاں حاصل کرنے کے لئے اپنی حالتوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔

خدّام کی رپورٹ کا مَیں نے ذکر کیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ کمزوری صرف خدام الاحمدیہ میں ہے۔ انصار کا بھی یہی حال ہے۔ پس پاکستان کے ہر احمدی کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کامیابیاں سونے سے نہیں ملیں گی۔ کامیابیاں لا پرواہی سے نہیں ملیں گی۔ کامیابیاں سرحدوں پر گھوڑے باندھنے اور چھاؤنیاں قائم کرنے سے ملیں گی۔ پاکستان سے نکل کے جو لوگ باہر آئے ہوئے ہیں یا عمومی طور پر ہر جگہ جماعت میں ان ترقی یافتہ ممالک میں بھی اور باقی دنیا میں بھی ان کی حالت بھی یہی ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ باہر آ کر بڑے نمازی ہو گئے یا ہر جگہ نمازی ہیں۔ جماعتوں کا جائزہ لیں تو نمازوں کے معاملہ میں بہت ساری کمزوریاں نظر آئیں گی۔ انصاف سے اگر ہر ملک میں ہر تنظیم اپنے جائزے لے تو نتائج خود بخود سامنے آ جائیں گے۔ لیکن پاکستان سے باہر آئے ہوئے لوگ جو ہیں ان کو خاص طور پر یہ خیال رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر جو فضل کئے ہیں اس کا شکریہ بھی ادا کرنا ہے۔ اس کا اظہار کس طرح کرنا ہے۔

بعض جماعتوں میں نمازوں کی اچھی حاضری ہوتی ہے لیکن پھر بھی کوئی نہ کوئی نماز کسی نہ کسی کی ضائع ہو رہی ہوتی ہے اور کئی ایسے ہیں جو بعض دفعہ ایک آدھ نماز نہیں بھی پڑھتے۔ اور اس کی ایک وجہ جیسا کہ میں نے کہا یہ بھی ہے کہ نظام اس کی طرف توجہ نہیں دلاتا اور نظام کی بھی دوسری ترجیحات ہیں۔ میرے خطبات اوّل تو ہر ایک سنتا ہی نہیں۔ یہ کہنا کہ سو فیصد لوگ سنتے ہیں یہ بھی غلط ہے۔ اور اگر سن بھی لیں تو پھر بھی مستقل یاددہانی کروانا نظام جماعت کا کام ہے۔ اس لئے نظام قائم کیا گیا ہے کہ تربیت کی طرف توجہ ہو۔

گزشتہ دنوں یہاں کی ایک جماعت کی مجلس عاملہ سے ملاقات تھی تو صدر صاحب نے بتایا کہ جب سے مَیں صدر بنا ہوں مالی نظام کی طرف میں نے بہت توجہ کی ہے اور اب ہم اس میں بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ تو مَیں نے انہیں کہا کہ ٹھیک ہے یہ کوشش تو آپ نے کی لیکن ایک مومن کے لئے جو بنیادی چیز ہے اور فرض ہے یعنی نماز۔ اس کے لئے آپ نے کیا کوشش کی؟ تو اس بارہ میں خاموشی تھی۔ گو فجر اور عشاء کی نماز کی حاضری کے بارے میں مَیں نے جو استفسار کیا اور جائزہ لیا تو اس میں جو اعداد و شمار سامنے آئے کافی بہتر تھے۔ لیکن نظام کی اس میں کوئی کوشش نہیں تھی۔ اگر لذّت و سرور پیدا کرنے والے نمازی پیدا ہو جائیں گے تو مالی نظام خود بخود ٹھیک ہو جائے گا کیونکہ تقویٰ کا معیار بڑھنے سے ہی مالی قربانی کی طرف بھی توجہ پیدا ہوتی ہے۔ اور یہی نہیں بلکہ امور عامہ اور قضا کے جو مسائل ہیں وہ بھی بہت حد تک حل ہو جائیں گے بلکہ اگر سارے نمازیں صحیح طرح ادا کرنی شروع کر دیں تو باقی شعبہ جات بھی ایکٹو (active) ہو جائیں گے۔

اور آجکل تو صرف پاکستان ہی نہیں دنیا کے عمومی حالات ایسے ہیں کہ جنگ اور تباہی کا خطرہ بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ حکومتوں نے بھی اب اس کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے اور اس کے لئے کچھ نہ کچھ حد تک کارروائیاں بھی شروع کر دی ہیں۔ ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ کی پناہ ہی ہے جو بچائے گی۔

بہت سے لوگ لکھتے ہیں کہ جنگ شروع ہو گی تو کیا ہو گا؟ ہم کیا کریں؟ تو ان کو یہی جواب ہے کہ اگر ان خطروں سے بچنا ہے تو پھر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے خدائے ذوالعجائب سے پیار کرنا ہو گا۔ اور اس پیار کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اپنی نمازوں اور اپنی عبادتوں کو اس کے حکم کے مطابق ڈھالتے ہوئے ہم لذّت و سرور پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اکثر لوگ ان ممالک میں آ کر دنیاوی کشائش دیکھ کر خدا تعالیٰ کو بھلا دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ کشائش انہیں ان ملکوں کی ترقی کی وجہ سے ملی ہے۔ اور یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ اتنے ترقی یافتہ ہیں لیکن ان کے کون سے ایسے عمل ہیں، کونسی عبادتیں کر رہے ہیں کہ اس کے باوجود یہ ترقی کر رہے ہیں اور پھر بعض یہ بھی سوچتے ہیں کہ ہم ان سے تو بہتر ہیں کہ اگر پانچ نمازیں فرض ہیں تو پانچ میں سے دو تین نمازیں تو پڑھ ہی لیتے ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ خدا کو بھولنے والوں کے لئے آخر میں عذاب مقدر ہے تو ان لوگوں کے پیچھے نہ چلیں۔ ہم نے اگر اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچنا ہے اور اپنی نسلوں کو بچانا ہے تو ان کی یہ ظاہری حالت نہ دیکھیں بلکہ اس تعلیم کے مطابق عمل کریں جو خدا تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پر ایمان کے بعد قیام نماز کا حکم دیا ہے۔ پس ہر احمدی مرد کو بھی، عورت کو بھی، اپنی نمازوں کی حفاظت اور مردوں کو خاص طور پر باجماعت نماز کی ادائیگی کی طرف بہت توجہ دینی چاہئے۔

اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نمازوں کی اہمیت، اس کے پڑھنے کے طریق، اس کے فلسفہ کے بارے میں بہت کھول کھول کر بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل فرماتے ہوئے ہمیں آپؑ کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی لیکن اس کے باوجود اگر ہم بنیادی چیز پر عمل نہیں کریں گے جیسا کہ مَیں نے کہا اور غیروں کی طرح دو تین نمازوں پر ہی اکتفا کریں گے جس طرح کہ اکثر غیراحمدی بھی اسی طرح کرتے ہیں تو پھر اس بیعت کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

نمازوں کے حوالے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں کس معیار پر دیکھنا چاہتے ہیں؟ اس بارے میں کس کس طریق سے آپ نے ہمیں سمجھایا ہے؟ اس کے لئے آپ کے کچھ ارشادات پیش کرتا ہوں۔ ایک مومن لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کا کلمہ پڑھ کر توحید کا اعلان کرتا ہے۔ اور توحید کیا ہے؟ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

’’پس خوب یاد رکھو اور پھر یاد رکھو کہ غیر اللہ کی طرف جھکنا خدا سے کاٹنا ہے‘‘ (اللہ تعالیٰ سے تعلق ختم کرنا ہے) فرمایا ’’نماز اور توحید کچھ ہی ہو‘‘ (خود فرماتے ہیں کہ توحید کے عملی اظہار کا نام ہی نماز ہے۔ توحید کا منہ سے دعویٰ تو کر دیا لیکن توحید کے عملی اظہار کا نام نماز ہے۔) فرمایا ’’نماز اور توحید کچھ ہی ہو…، اسی وقت بے برکت اور بے سُود ہوتی ہے جب اس میں نیستی اور تذلّل کی روح اور حنیف دل نہ ہو‘‘۔ فرمایا ’’سنو وہ دعا جس کے لئے اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ فرمایا ہے۔ (یعنی مجھے پکارو میں تمہیں جواب دوں گا۔) ’’اس کے لئے یہی سچی روح مطلوب ہے۔‘‘ (اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ کے لئے یہ سچی روح مطلوب ہے۔) ’’اگر اس تضرع اور خشوع میں حقیقت کی روح نہیں تو وہ ٹیں ٹیں سے کم نہیں ہے۔ (ملفوظات جلد9 صفحہ12۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) (یعنی طوطا جس طرح بولتا ہے اسی طرح ہے) سچی روح پیدا کرنی چاہئے۔ تضرع اور خشوع پیدا کرنا چاہئے اگر وہ نہیں تو کوئی فائدہ نہیں۔ پس جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ دعا میں عاجزی اور تضرع ہو تو پھر اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔ پھر آپ نے یہ وضاحت فرمائی کہ نماز کی مختلف حالتیں جیسے قیام ہے، رکوع ہے، سجدہ ہے۔ یہ سب حالتیں جو ہیں یہ ایک اضطراری حالت کو ظاہر کرتی ہیں۔ ایک بے چینی انسان کی ظاہر کرتی ہیں۔ انسان کبھی اٹھتا ہے کبھی بیٹھتا ہے۔ کبھی سجدے میں جاتا ہے اور ان حالتوں کی وجہ سے جو ظاہری اضطراری حالت ہے فرمایا کہ ان حالتوں کی وجہ سے دل میں سوزش اور اضطراب پیدا ہونا چاہئے۔ دل میں بھی سوزش اور اضطراب پیدا ہونا چاہئے اور جب ایسی حالت ہو گی تو پھر حالت سجدہ میں بھی، قیام میں بھی، رکوع میں بھی پھر لذت اور سرور حاصل ہو گا۔

پھر عبودیت کے مقام اور حقیقی عاجزی اور گناہوں کو جلا کر ختم کرنے والی نماز کی وضاحت فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ:

’’انسان کی روح جب ہمہ نیستی ہو جاتی ہے‘‘ (ہر وقت عاجزی اور اپنے آپ کو کچھ نہ سمجھنا ہو جاتی ہے) ’’تو وہ خدا کی طرف ایک چشمے کی طرح بہتی ہے‘‘ (عاجزی پیدا ہو گی تو تبھی خدا کی طرف بہے گی) ’’اور ماسوی اللہ سے اسے انقطاع ہو جاتا ہے۔ اس وقت خدائے تعالیٰ کی محبت اس پر گرتی ہے۔‘‘ انسان جب کوشش کر کے اور اللہ تعالیٰ سے فضل مانگتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز سے تعلق توڑتا ہے تو اس وقت خدا تعالیٰ کی محبت اس پر گرتی ہے اور جب خدا تعالیٰ کی یہ محبت انسان پر گرے تو پھر آپ نے فرمایا کہ گناہ جل کر ختم ہو جاتے ہیں اور پھر نمازوں میں مستقل سرور کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد9 صفحہ10۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس بجائے یہ شکوہ کرنے کے یا دل میں یہ خیال لانے کے کہ ہماری نمازیں ہمیں مزہ نہیں دیتیں، ہمیں اللہ تعالیٰ سے اس خاص تعلق کو پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اپنی حالتوں کو دیکھیں کہ ہم صرف ٹکریں مار رہے ہیں یا نماز کا حق ادا کر رہے ہیں۔ پھر نماز میں نور اور لذت پانے کے طریق کے بارے میں مزید بیان فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ:

’’نماز کا التزام اور پابندی بڑی ضروری چیز ہے تا کہ اوّلاً وہ ایک عادتِ راسخہ کی طرح قائم ہو۔‘‘ (ایک ایسی عادت بن جائے جو پکی ہو جائے۔) ’’اور رجوع اِلی اللہ کا خیال ہو۔‘‘ (اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کا خیال دل میں ہو۔ جب یہ چیزیں ہو جائیں گی، جب پکی عادت ہو جائے گی تو) ’’پھر رفتہ رفتہ وہ وقت آ جاتا ہے کہ انقطاع کُلّی کی حالت میں انسان ایک نور اور ایک لذت کا وارث ہو جاتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد9 صفحہ11۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر انسان دنیا سے کٹ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ پیدا ہو جاتی ہے اور پھر نمازوں میں وہ لذت اور سرور آنی شروع ہوجاتی ہے۔

پس پہلے نماز کی عادت ضروری ہے۔ اپنے آپ کو نمازوں کا پابند کرنا ضروری ہے۔ چاہے نمازوں کا فائدہ انسان کو ظاہری حالت میں نظر آتا ہو یا نہ لیکن نمازیں بہرحال پڑھنی ہیں کیونکہ یہ فرض ہیں اور یہ سمجھ کر عادت ڈالنی ضروری ہے کہ میں نے ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کی طرف ہی رجوع کرنا ہے۔ اس کے پاس ہی جانا ہے۔ ہر ضرورت کے لئے اسی سے مانگنا ہے۔ یہ مستقل مزاجی اگر رہے گی تو پھر ایک وقت آئے گا کہ نمازوں کے حق بھی ادا ہونے شروع ہو جائیں گے۔ نمازوں میں لذت بھی آنی شروع ہو جائے گی۔ اور پھر بعض لوگ جس طرح پوچھنے پر جواب دیتے ہیں ان کا یہ جواب نہیں ہو گا کہ میں کوشش کرتا ہوں کہ نماز پڑھوں لیکن سستی ہو جاتی ہے۔ آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ سستی ہوتی ہی اس وقت ہے جب نماز کی اہمیت نہیں ہوتی (ماخوذ از ملفوظات جلد9 صفحہ6-7۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) اور غیر اللہ کو انسان زیادہ اہم سمجھ رہا ہوتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ پر کامل یقین ہے تو کس طرح ہو سکتا ہے کہ سستی ہو۔ پس آج دنیا کے جو حالات ہو رہے ہیں ان کے بداثرات سے اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف خالص ہو کر جھکنا بہت ضروری ہے اور اس جھکنے کا بہترین ذریعہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہی بتایا ہے کہ اپنی نمازوں کی ادائیگی اور حفاظت کی طرف ہم توجہ دیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

’’یاد رکھو کہ اس سلسلہ میں داخل ہونے سے دنیا مقصودنہ ہو بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا مقصود ہو کیونکہ دنیا تو گزرنے کی جگہ ہے وہ تو کسی نہ کسی رنگ میں گزر جائے گی۔‘‘ فارسی کا مصرعہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ

’’شب تنور گذشت و شب سمور گذشت‘‘ (کہ رات ٹھنڈی ہو یا گرم ہو گزر ہی جاتی ہے۔ حالات اچھے ہوں یا برے ہوں گزر ہی جاتے ہیں۔) فرمایا کہ ’’دنیا اور اس کے اغراض اور مقاصد کو بالکل الگ رکھو۔ ان کو دین کے ساتھ ہرگز نہ ملاؤ کیونکہ دنیا فنا ہونے والی چیز ہے اور دین اور اس کے ثمرات باقی رہنے والے۔ دنیا کی عمر بہت تھوڑی ہوتی ہے۔ تم دیکھتے ہو کہ ہر آن اور ہر دم میں ہزاروں موتیں ہوتی ہیں۔ مختلف قسم کی وبائیں اور امراض دنیا کا خاتمہ کر رہی ہیں۔ کبھی ہیضہ تباہ کرتا ہے۔ اب طاعون ہلاک کر رہی ہے‘‘ (اُس زمانے میں طاعون پھیلا ہوا تھا)’’کسی کو کیا معلوم ہے کہ کون کب تک زندہ رہے گا۔ جب موت کا پتا نہیں کہ کس وقت آ جائے گی پھر کیسی غلطی اور بیہودگی ہے کہ اس سے غافل رہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ آخرت کی فکر کرو۔ جو آخرت کی فکر کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا میں اس پر رحم کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جب انسان مومن کامل بنتا ہے تو وہ اس کے اور اس کے غیر میں فرق رکھ دیتا ہے۔ اس لئے پہلے مومن بنو اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ بیعت کی خالص اغراض کے ساتھ جو خدا ترسی اور تقویٰ پر مبنی ہیں دنیا کے اغراض کو ہرگز نہ ملاؤ۔ نمازوں کی پابندی کرو اور توبہ و استغفار میں مصروف رہو۔ نوع انسان کے حقوق کی حفاظت کرو اور کسی کو دکھ نہ دو۔ راستبازی اور پاکیزگی میں ترقی کرو تو اللہ تعالیٰ ہر قسم کا فضل کر دے گا۔ عورتوں کو بھی اپنے گھروں میں نصیحت کرو کہ وہ نماز کی پابندی کریں اور ان کو گلہ، شکوہ اور غیبت سے روکو۔ پاکبازی اور راستبازی ان کو سکھاؤ۔ ہماری طرف سے صرف سمجھانا شرط ہے اس پر عمل درآمد کرنا تمہارا کام ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد6 صفحہ145-146۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

غیروں کو سمجھائیں، عورتوں کو سمجھائیں یا بچوں کو سمجھائیں تو اس کے لئے خود بھی پاکبازی اور راستبازی کے نمونے دکھانے ہوں گے۔

پھر فرمایا کہ ’’پانچ وقت اپنی نمازوں میں دعا کرو۔ اپنی زبان میں بھی دعاکرنی منع نہیں ہے۔ نماز کا مزا نہیں آتا ہے جب تک حضور نہ ہو۔‘‘ (یعنی خاص توجہ پیدا نہ ہو) ’’اور حضورِ قلب نہیں ہوتا ہے جب تک عاجزی نہ ہو۔ عاجزی جب پیدا ہوتی ہے جو یہ سمجھ آ جائے کہ کیا پڑھتا ہے۔ اس لئے اپنی زبان میں اپنے مطالب پیش کرنے کے لئے جوش اور اضطراب پیدا ہو سکتا ہے۔ مگر اس سے یہ ہرگز نہیں سمجھنا چاہئے کہ نماز کو اپنی زبان ہی میں پڑھو۔ نہیں، میرا یہ مطلب ہے کہ مسنون اَدعیہ اور اَذکار کے بعد اپنی زبان میں بھی دعا کیاکرو۔ ورنہ نماز کے ان الفاظ میں خدا نے ایک برکت رکھی ہوئی ہے۔ نماز دعا ہی کا نام ہے اس لئے اس میں دعا کرو کہ وہ تم کو دنیا اور آخرت کی آفتوں سے بچاوے اور خاتمہ بالخیر ہو۔ اور تمام کام تمہارے اس کی مرضی کے موافق ہوں۔ اپنی بیوی بچوں کے لئے بھی دعا کرو۔ نیک انسان بنو۔ اور ہر قسم کی بدی سے بچتے رہو۔‘‘ (ملفوظات جلد6 صفحہ 145-146۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

اللہ تعالیٰ ہمیں نمازوں کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ان میں باقاعدگی رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اپنی نمازوں کو خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہماری نمازوں میں لذت و سرور پیدا فرمائے۔ کبھی ہم اس میں سستی دکھانے والے نہ ہوں اور اس بات کی حقیقت کو ہم سمجھنے والے ہوں کہ آج دنیا کی آفات اور مصیبتوں سے ہم اسی وقت نجات پا سکتے ہیں جب ہم اللہ تعالیٰ کی عبودیت کا حق ادا کرنے والے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 20؍ جنوری 2017ء شہ سرخیاں

    ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ مسلمانوں پر نماز فرض ہے۔ قرآن کریم میں متعدد جگہ نماز کی اہمیت مختلف حوالوں سے بیان کر کے اس طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ نماز عبادت کا مغز ہے۔ پھر بچوں کو بھی نماز کا پابند بنانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ اگر ماں باپ ہی نمازوں کے پابندنہ ہوں گے تو بچوں کو کس طرح کہہ سکتے ہیں یا اگر بچے اپنے اجلاسوں یا مختلف ذریعوں سے یہ حدیث سن لیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سن لیں لیکن گھر میں وہ اپنے باپوں کو نمازوں کا پابندنہ دیکھیں تو ان پر کیا اثر ہو گا؟

    اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کو بھیجا جنہوں نے ہمیں عبادتوں اور نمازوں کا صحیح اِدراک پیدا کرنے کی طرف رہنمائی فرمائی۔

    بیشک ایک حقیقی مومن پر نماز فرض ہے اور اس بات کا اسے خود خیال رکھنا چاہئے لیکن جماعت میں ایک نظام بھی قائم ہے اس نظام کو بھی اس طرف توجہ دلاتے رہنا چاہئے۔ اس کی حقیقت واضح کرتے رہنا چاہئے۔ مَیں اکثر خطبات میں اس طرف توجہ دلاتا رہتا ہوں۔ کسی نہ کسی حوالے سے نمازوں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔ لیکن پھر اسے آگے پھیلانا مربیان اور نظام جماعت کا کام ہے کہ توجہ دلائیں۔ ہر فرد جماعت تک نماز کی اہمیت کا پیغام بار بار پہنچائیں۔ حقیقت میں تو ہم احمدی ہونے کا حق اس وقت ادا کر سکیں گے جب ہم اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہوئے ان سے روحانی حظّ اٹھانے والے ہوں گے۔

    جب اپنی خواہشات پوری ہو جائیں جب مشکلات سے نکل جائیں تو پھر بہت سارے ایسے ہیں جن کی نمازوں میں، عاجزانہ دعاؤں میں سستی پیدا ہو جاتی ہے۔

    ایک مومن کو تو معاشرے کے عمومی حالات بھی جو ہیں وہ بھی درد پیدا کرنے والے ہونے چاہئیں اور جب یہ درد کی کیفیت ہوتی ہے تو پھر درد سے دعائیں بھی نکلتی ہیں۔ پاکستان میں مثلاً جماعتی حالات بہت خراب ہیں۔ ہر طرف سے افراد جماعت کے خلاف نفرتوں کے تیر برسائے جا رہے ہیں۔ بغضوں اور کینوں کے اظہار ہو رہے ہیں۔ مُلّاؤں کے خوف سے یا ان کی باتوں سے غلط فہمی پیدا ہونے کی وجہ سے پرانے تعلق والے غیر از جماعت بھی بعض جگہ مخالفتوں میں بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ عمومی طور پر بھی دیکھیں تو ان ظلموں کی انتہا ہو چکی ہے۔ ایسے میں پاکستان میں تو ہر احمدی کو جہاں لذت و سرور والی نمازیں پڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے وہاں مسجدوں کو آباد کرنے کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔

    ایسا خطبہ سننے کا کیا فائدہ جس سے ہماری توجہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف نہ ہو اور اس بنیادی فرض کی طرف نہ ہو جو انتہائی ضروری ہے۔ میں تو ہر دوسرے تیسرے خطبہ میں نماز باجماعت یا عبادت کے بارے میں بات کرتا ہوں۔ اگر اس کا اثر ہی نہیں ہونا تو صرف تعداد کی خانہ پوری کرنے کا تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔

    پاکستان میں جیسے احمدیوں کے حالات مَیں نے بیان کئے ہیں اگر اس کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ پیدا نہیں ہوگی تو پھر کب ہو گی؟ کیا ہم اللہ تعالیٰ کا نعوذ باللہ امتحان لینا چاہتے ہیں کہ ہم نے تو ایسے ہی رہنا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے کہ ہمارے حالات بدلے۔ پس پاکستان کے ہر احمدی کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کامیابیاں سونے سے نہیں ملیں گی۔ کامیابیاں لا پرواہی سے نہیں ملیں گی۔ کامیابیاں سرحدوں پر گھوڑے باندھنے اور چھاؤنیاں قائم کرنے سے ملیں گی۔

    بعض جماعتوں میں نمازوں کی اچھی حاضری ہوتی ہے لیکن پھر بھی کوئی نہ کوئی نماز کسی نہ کسی کی ضائع ہو رہی ہوتی ہے اور کئی ایسے ہیں جو بعض دفعہ ایک آدھ نماز نہیں بھی پڑھتے۔ اور اس کی ایک وجہ جیسا کہ میں نے کہا یہ بھی ہے کہ نظام اس کی طرف توجہ نہیں دلاتا اور نظام کی بھی دوسری ترجیحات ہیں۔ اگر لذت و سرور پیدا کرنے والے نمازی پیدا ہو جائیں گے تو مالی نظام خود بخود ٹھیک ہو جائے گا کیونکہ تقویٰ کا معیار بڑھنے سے ہی مالی قربانی کی طرف بھی توجہ پیدا ہوتی ہے۔ اور یہی نہیں بلکہ امور عامہ اور قضا کے جو مسائل ہیں وہ بھی بہت حد تک حل ہو جائیں گے بلکہ اگر سارے نمازیں صحیح طرح ادا کرنی شروع کر دیں تو باقی شعبہ جات بھی ایکٹو (active) ہو جائیں گے۔

    اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پر ایمان کے بعد قیام نماز کا حکم دیا ہے۔ پس ہر احمدی مرد کو بھی، عورت کو بھی اپنی نمازوں کی حفاظت اور مردوں کو خاص طور پر باجماعت نماز کی ادائیگی کی طرف بہت توجہ دینی چاہئے۔

    اگر اللہ تعالیٰ پر کامل یقین ہے تو کس طرح ہو سکتا ہے کہ سستی ہو۔ پس آج دنیا کے جو حالات ہو رہے ہیں ان کے بداثرات سے اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف خالص ہو کر جھکنا بہت ضروری ہے اور اس جھکنے کا بہترین ذریعہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہی بتایا ہے کہ اپنی نمازوں کی ادائیگی اور حفاظت کی طرف ہم توجہ دیں۔

    قرآن مجید، احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ و سلم اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے ارشادات کے حوالہ سے نماز کی اہمیت اور مَردوں کے لئے بالخصوص نماز با جماعت کے قیام کی طرف خصوصی توجہ دینے کے لئے افراد جماعت اور نظام جماعت کو تاکیدی ہدایات۔

    فرمودہ مورخہ 20جنوری 2017ء بمطابق 20صلح 1396 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور