دہشتگردی، شدت پسندی اور احمدیوں پر ظلم

خطبہ جمعہ 17؍ مارچ 2017ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

آجکل ہم دیکھتے ہیں کہ مغربی اور ترقی یافتہ دنیا میں انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں یا Far-rights جسے کہتے ہیں یا نسل پرست یا قوم پرست سیاستدانوں کی اور پارٹیوں کی پذیرائی بڑی بڑھتی جا رہی ہے۔ ان کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ تجزیہ نگار بھی اس بارے میں بہت کچھ لکھتے ہیں کہ جو موجودہ حکومتیں ہیں جو بائیں بازو کی حکومتیں کہلاتی ہیں یا امیگریشن پالیسیز میں اتنی زیادہ سخت نہیں ہیں ان حکومتوں کی امیگریشن پالیسیز کی وجہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور اس کے علاوہ بھی کچھ وجوہات ہیں۔ لیکن ان سب باتوں کی تان آ کر مسلمانوں پر ٹوٹتی ہے کہ مسلمانوں کو ان ممالک میں آنے پر Ban ہونا چاہئے۔ ان کو روکا جانا چاہئے کیونکہ یہ ہمارے اندر جذب نہیں ہوتے اور علیحدہ رہتے ہیں اور اپنے مذہب اسلام پر عمل کرتے ہیں جو کہ اُن کے خیال میں شدت پسندی کا مذہب ہے۔ یا پھر یہ کہا جاتا ہے کہ اگر یہاں ہمارے میں رہنا ہے تو ان کو اپنا مذہب اور اپنی روایات کو چھوڑ کر ہمارے طریقوں اور ہمارے رہن سہن کو اپنانا ہو گا۔ اگر اس طرح نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ہمارے اندر جذب ہونا نہیں چاہتے اور جب اپنی انفرادیت یا مذہبی حیثیت قائم رکھتے ہیں یا رکھنا چاہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ملک کے لئے خطرناک ہو سکتے ہیں۔ عجیب جاہلانہ باتیں ہیں کہ مسلمانوں کی مسجد کے مینار ہمارے لئے خطرہ ہیں۔ ان کی عورتوں کے حجاب ہمارے لئے خطرہ ہیں۔ ان کی عورتوں کا مردوں سے مصافحہ نہ کرنا یا مردوں کا عورتوں سے مصافحہ نہ کرنا ہمارے لئے خطرہ ہے۔ یہاں یو۔ کے میں تو اِکّا دُکّا سیاستدان ہی شاید اس قسم کی باتیں کرتے ہوں لیکن دوسرے ممالک میں اس بارے میں بہت شور ہے اور پھر ہر روز سیاستدانوں کے اس بارے میں بیان آ رہے ہیں۔ اور پھر یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ دیکھو مسلمانوں کا ہمارے لئے خطرہ ہونا اس بات سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان ممالک میں شدت پسندی اور لاقانونیت انتہا کو پہنچی ہوئی ہے اور یہاں ہمارے ملک میں بھی شدت پسندوں کے حملے مسلمانوں کی طرف سے ہی زیادہ تر ہو رہے ہیں۔ ان کی باقی باتیں تو اسلام کی مخالفت میں ہیں لیکن بدقسمتی سے یہ بات ان کی صحیح ہے کہ مسلمان ممالک میں شدت پسندی ہے اور یہاں حملے بھی ہو رہے ہیں اور یہ بات جو ہے، یہ اعتراض جو ہے یہ بھی، جیسا کہ میں نے کہا، مسلمانوں کی طرف سے ان کے ہاتھ میں دیا گیا ہے کیونکہ مسلمان ممالک میں دہشتگردی بھی بہت زیادہ ہے، شدت پسندی بھی ہے اور یہاں حملے بھی ہو رہے ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ شدت پسند گروہوں اور مسلمان ممالک میں باغی گروہوں کو ہتھیار مغربی ممالک سے ہی ملتے ہیں اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے اور اسلام کے خلاف جو بغض ہے اس کے اظہار کے لئے بعض طاقتوں نے بڑی ہوشیاری سے ان گروہوں کو منظم کیا ہے۔ ایک طرف حکومتوں کو ظاہری اور خفیہ مدد دی جا رہی ہے اور دوسری طرف باغیوں کی اور اسی طرح شدت پسند گروہوں کی کسی نہ کسی طریقے سے مدد کی جاتی ہے۔ اگر یہ مددنہ ہو تو کوئی گروہ یا حکومت اتنا لمبا عرصہ لڑائی نہیں لڑ سکتے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ مسلمانوں کو جب بھی نقصان پہنچا ہے مسلمانوں کے اپنے عمل اور سازشوں اور بغاوتوں اور ایک دوسرے کے حق ادا نہ کرنے اور ذاتی مفادات کو قومی اور ملّی مفادات پر ترجیح دینے سے ہی پہنچا ہے۔ اسلام کی تعلیم کو بھولنے اور اپنے مقصد کو نظر انداز کرنے سے ہی پہنچا ہے۔ بجائے اس کے کہ اپنی روحانی حالت کو بہتر کرتے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں کی پیروی کرتے دنیا کے لالچ اور دنیاوی وجاہت اور مقاصد حکمرانوں کے بھی، دوسرے سیاستدانوں کے بھی اور علماء کی بھی ترجیح بن گئے ہیں اور علماء نے اُمّت کو مزید ظلمت کی گہرائیوں میں دھکیلنے میں اپنا کردار مذہب کی آڑ میں ادا کیا ہے اور کر رہے ہیں۔ بجائے اس کے کہ زمانے کی حالت کو دیکھتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو سامنے رکھتے ہوئے ان حالات کا جو تقاضا تھا ان پر غور کرتے اور یہ دیکھتے کہ ہم ایسے حالات میں اس شخص کی تلاش کریں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ایسے حالات میں وہ ایمان کو ثریّا سے واپس لائے گا اور اسلام کی ساخت کو اور مسلمانوں کے ایمان کو دوبارہ قائم کرے گا۔ یہ لوگ نہ صرف اس بات سے لاپرواہ ہو گئے بلکہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کی مخالفت میں اس قدر بڑھ گئے کہ دنیا کے ہر مسلمان ملک میں جا جا کر بلکہ غیر مسلموں میں بھی جا جا کر اس کے خلاف بغض و عناد اور دشمنی کی ایسی انتہا کی جس کی کوئی حدنہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق جس کو بھیجا تھا اس کے ماننے والوں پر بھی ظلم و تعدی کی انتہا کر دی۔ پاکستان میں تو قانون کی آڑ میں یہ ظلم و تعدی کے بازار گرم ہیں۔ وہاں تو کئی سالوں سے، بلکہ کئی دہائیوں سے کہنا چاہئے، ہو ہی رہا ہے۔ بعض اور اسلامی ممالک میں بھی مُلّاں کے خوف اور ظالم افسروں کی وجہ سے احمدی مشکلات کا شکار رہے اور ہو رہے ہیں یا ان کو گزرنا پڑا۔ بعض جگہ اب نسبتاً حالات بہتر بھی ہو رہے ہیں۔ کتنا عرصہ رہتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ فضل کرے اور ہمیشہ رہیں اور احمدی محفوظ رہیں لیکن آجکل الجزائر میں یہ ظلم بڑھ رہا ہے۔ پولیس احمدیوں کو ہراساں کر رہی ہے۔ عدالتیں اپنی مرضی کے فیصلے کر کے احمدیوں کو جیلوں میں ڈال رہی ہیں اور بعض کو ایک سال سے تین سال تک کی جیل کی سزا ملی ہے صرف اس لئے کہ انہوں نے یہ کہا کہ ہم نے آنے والے امام کو مان لیا ہے اور اس لئے مان لیا ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی ارشاد ہے۔ یہ لوگ جو جیل میں ہیں یا جن کو سزا دی گئی ہے یا سزا کا انتظار کر رہے ہیں اور پولیس کسٹڈی (Custody) میں ہیں یا جن کو ہراساں کیا گیا ان کی تعداد بھی دو سو سے اوپر ہے اور سب نے باوجود ان سختیوں کے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ جو بھی سختی ہم پر کر لیں ہم اپنے ایمان سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ پس احمدی تو جب اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ مَیں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر بات پر ترجیح دینی ہے ہر دوسری چیز پر ترجیح دینی ہے، اور اس کے لئے بڑی سے بڑی قربانی بھی کرنی پڑی تو کرنی ہے تو پھر اس کے ایمان سے اس کو کوئی نہیں ہلا سکتا۔ لیکن یہ لوگ جو ظلم کر رہے ہیں اور اسلام کے نام پر اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نام پر ظلم ہو رہے ہیں وہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ مظلوم کو دیکھ رہا ہے اور مظلوم کی دعائیں اللہ تعالیٰ کے عرش پر پہنچ رہی ہیں اور پہنچتی ہیں۔ اس کی عدالت نے جب فیصلہ کیا تو ان ظالموں کی نہ دنیا رہے گی نہ آخرت۔ پس ان کو اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے بھی ڈرنا چاہئے اور بجائے احمدیوں پر مظالم ڈھانے کے اپنی حالتوں کو دیکھیں۔ یہ لوگ اسلام کی خوبصورت تعلیم کی بدنامی کا جو باعث بن رہے ہیں، یہ دیکھیں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان کی زندگیوں کا یہ مقصد بتایا تھا؟

یہ علماء جن کے فتووں کے پیچھے حکمرانوں اور دوسرے عدالتوں کے قاضی اور جج چل رہے ہیں اگر اسلام کا درد رکھنے والے ہوتے تو پھر اسلام کی ایسی حالت میں جب ہر طرف سے اسلام پر اعتراض ہو رہے ہیں سب علماء ایک ہو کے سوچتے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے تو اسلام کے تمام دنیا میں پھیلنے کے ہیں لیکن یہاں تو الٹا اسلام ان حرکتوں سے بدنام ہو رہا ہے۔ یہ کیا وجہ ہے؟ کیا دہشتگرد اور شدت پسند تنظیموں کے ذریعہ غلبہ ہو گا۔ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ قتل و غارت کر کے اسلام کو پھیلاؤ؟ کیا اسلام کے پاس براہین اور دلائل نہیں ہیں جن سے یہ پھیلایا جائے؟ کیا صرف تلوار سے مخالف فرقوں کے لوگوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں اور معصوم عورتوں اور بچوں کو قتل کر کے اور بوڑھوں کو قتل کر کے اسلام کی خدمت ہو گی؟ اگر یہ ان کی سوچ ہے اور اکثر علماء کے جو متشددانہ عمل ہیں ان سے یہی نظر آتا ہے کہ یہی ان کی سوچ ہے تو پھر یہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے نافرمان ہیں۔ ایسے عمل اللہ تعالیٰ کی پکڑ کے ضرور مورد بنا سکتے ہیں۔ احمدیوں پر ظلم کر کے اور اسلام کے نام پر غلط کام کر کے ان کو کامیابی تو ملنی نہیں۔ اپنی حکومت اور طاقت کے بل بوتے پر جسے یہ اپنی کامیابی سمجھ رہے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ایک دن اللہ تعالیٰ کے حضور بھی حاضر ہونا ہے اور وہاں ان ظلموں کا جواب بھی دینا ہو گا۔

مسلمانوں کی حالت بھی اس وقت عجیب ہوئی ہوئی ہے۔ ایک طرف تو نام نہاد مولویوں کا طبقہ ہے یا شدت پسند لوگوں کا طبقہ ہے جس نے جیسا کہ میں نے کہا ہر طرف اسلام کے نام پر اپنوں اور غیروں کے خلاف فساد برپا کیا ہوا ہے۔ اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اُن کے ردّ عمل کے طور پر یا مغربی اور دنیاداری کے اثر کے تحت مذہب سے لاتعلق ہیں۔ اعتماد سے اسلامی تعلیم کی خوبیوں کو بیان کرنے کے بجائے یا لا تعلق ہیں یا خوفزدہ ہیں۔ بعض چیزوں میں اسلامی تعلیم کی خوبیوں کو بیان کرنے کے بجائے اور دنیاداروں کی باتوں کو غلط کہنے کی بجائے ان کی ہاں میں ہاں ملا دیتے ہیں اور اسلامی تعلیم کی غلط توجیہیں اور وضاحتیں پیش کرتے ہیں کہ یہ نہیں، اس کا مطلب تو یہ تھا یا یہ تھا۔ ان لوگوں پر دنیا کا خوف اللہ تعالیٰ کے خوف پر غالب ہے۔ اسی طرح بعض سیاستدان حکمران ہیں۔ دین سے ان کا لوگوں کا کچھ واسطہ نہیں ہے۔ وہ اگر مولوی سے متفق نہ بھی ہوں تو اپنی کرسی کے چِھن جانے کے خوف سے کہ کہیں مولوی لوگوں کوہمارے خلاف نہ بھڑکا دے یہ بزدلی اور اپنی دنیاوی اغراض کی وجہ سے جو اُن پر غالب آ جاتی ہیں، خاموش ہیں۔ گویا کہ مسلمانوں میں سے ہر وہ طبقہ جس نے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کا انکار کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں سے دُور چلا گیا ہے۔ چاہے وہ مذہب کے نام پر اپنی دوکان چمکانے والے مولوی ہیں۔ الزام تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ نے مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ کر کے دوکانداری بنائی ہوئی ہے لیکن حقیقت میں ان لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت کو آسان کمائی اور دکان چمکانے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ دلیل ان کے پاس ہے کوئی نہیں جس کی وجہ سے آپ اکثر دیکھیں گے کہ گالیاں ہی دیتے ہیں۔ بہرحال مذہب کے نام پر یہ دوکانداری کرنے والا طبقہ ہے یا دنیاداری کی خاطر مذہب کو ثانوی حیثیت دینے والا طبقہ ہے یہ سب لوگ نام کے مسلمان ہیں۔ اسلام کی حقیقی تعلیم سے ان کا کوئی بھی واسطہ نہیں ہے۔

ایسے حالات میں احمدیوں کو سوچنا چاہئے کہ جب انہوں نے زمانے کے امام کو مانا ہے تو ان پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ مخالفین نے ان پر ظلم تو کرنے ہی ہیں اور اسی طرح مذہب سے دور ہٹے ہوئے جو لوگ ہیں اور خدا تعالیٰ کا انکار کرنے والے جو ہیں انہوں نے بھی اس وقت ہماری مخالفت کرنی ہے جب ہم ان کی ان باتوں کے خلاف بات کریں گے جو وہ آزادی کے نام پر غلط باتیں کرتے ہیں یا قوانین بناتے ہیں، تب ان لوگوں نے ہمارے خلاف ہونا ہے۔ پس کیا ایسے میں ہم خوفزدہ ہو کر چپ ہو جائیں یا ایمانی کمزوری دکھاتے ہوئے ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگ جائیں۔ اگر ہم نے بھی ایسا ہی کرنا ہے تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کا کیا فائدہ؟ ہمیں تو آپ نے آ کر یہ بتایا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق چلنا ہے اور اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنی ہے۔ اپنے ایمان کو بھی ضائع نہیں کرنا اور فساد کو بھی پیدا نہیں ہونے دینا۔ اور ساتھ ہی یہ چیز بھی سامنے رکھنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو دنیا تک پہنچانا بھی ہے تا کہ توحید کا قیام ہو اور اسلام کی خوبصورت تعلیم کو دنیا میں پھیلایا جائے اور دنیا کی اکثریت اس تعلیم کی قائل ہو۔ آپ نے فرمایا کہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو ہماری رہنمائی فرمائی ہے اس کے مطابق چلو اور وہ یہ ہے کہ اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحسَنَۃِ وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ  (النحل126: )یعنی اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت کے ساتھ اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلا اور ان کے ساتھ ایسی دلیل کے ساتھ بحث کر جو بہترین ہو۔

پس تبلیغ کے لئے، اسلام کی خوبصورت تعلیم پھیلانے کے لئے، اسلامی احکامات کی حکمت بتانے کے لئے دلیل کے ساتھ بات کی ضرورت ہے نہ کہ اُس طرح جس طرح یہ آجکل کے نام نہاد علماء یا شدت پسند گروہ کر رہے ہیں۔ تلوار کے ساتھ اسلام پھیلانے کا اللہ تعالیٰ نے کہیں حکم نہیں دیا۔ پھر جو دنیا دار ممالک ہیں اور جو حکومتیں ہیں ان میں بھی بعض ایسی باتیں رائج ہو گئی ہیں یا ایسی باتوں کو قانون تحفظ دیتا ہے جن کی مذہب اجازت نہیں دیتا اور مذہب کے نزدیک وہ نہ صرف اخلاق سے گری ہوئی باتیں ہیں بلکہ گناہ بھی ہیں ان کے بارے میں اگر ہم نے بات کرنی ہے اور اگر دوسرا فریق اس پر غصہ میں آتا ہے تو عارضی طور پر اس بات کو ٹالا جا سکتا ہے، وہاں سے سلام کر کے اٹھا جا سکتا ہے۔ یہی اس وقت حکمت کا تقاضا ہو گا لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم اس لئے کہ یہ قانون بن گیا یا دوسرا فریق غصہ میں آگیا ہم ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگ جائیں۔ اگر خوفزدہ ہو کر یا دنیاداری سے متاثر ہو کر ہاں میں ہاں ملاتے ہیں تو یہ غلط ہے اور پھر ہم اس گناہ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ’’آیت جَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ کا یہ منشاء نہیں ہے کہ ہم اس قدر نرمی کریں کہ مداہنہ کر کے خلاف واقعہ بات کی تصدیق کر لیں‘‘۔ (تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 305 حاشیہ)

پس حکمت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بزدلی دکھائی جائے بلکہ حکمت حق بات کو بغیر فساد کے کہنے میں ہے یا ایسے طریقے سے بات کی جائے کہ جس سے فساد پیدا نہ ہو اور جو اس بات کے کرنے کا حق ہے وہ بھی ادا ہو جائے۔

پس ایک مومن کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ بزدلی اور حکمت میں کیا فرق ہے۔ جو اسلام کے واضح حکم ہیں اور جن کو اسلام غلط کہتا ہے اس کو ہم نے نہیں کرنا اور غلط ہی کہنا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لے کر لڑائی بھی نہیں کرنی۔

پھر ایک جگہ اس بارے میں مزید وضاحت فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

’’جب تُو کسی …… کے ساتھ بحث کرے تو حکمت اور نیک نصیحتوں کے ساتھ بحث کر جو نرمی اور تہذیب سے ہو۔ ہاں یہ سچ ہے کہ بہتیرے اس زمانے کے جاہل اور نادان مولوی اپنی حماقت سے یہی خیال رکھتے ہیں کہ جہاد اور تلوار سے دین کو پھیلانا نہایت ثواب کی بات ہے اور وہ درپردہ اور نفاق سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ لیکن وہ ایسے خیال میں سخت غلطی پر ہیں اور ان کی غلط فہمی سے الٰہی کتاب پر الزام نہیں آ سکتا۔‘‘ (اگر وہ ایسی باتیں کرتے ہیں تو ان کی غلطی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب پر الزام آئے۔) فرمایا کہ ’’واقعی سچائیاں اور حقیقی صداقتیں کسی جبر کی محتاج نہیں ہوتیں بلکہ جبر اس بات پر دلیل ٹھہرتا ہے کہ روحانی دلائل کمزور ہیں۔ کیا وہ خدا جس نے اپنے پاک رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر یہ وحی نازل کی کہ فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوالْعَزْمِ(الاحقاف36: ) یعنی تُو ایسا صبر کر کہ جو تمام اولوالعزم رسولوں کے صبر کے برابر ہو۔ یعنی اگر تمام نبیوں کا صبر اکٹھا کر دیا جائے تو وہ تیرے صبر سے زیادہ نہ ہو۔ اور پھر فرمایا کہ لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْن (البقرۃ: 257) یعنی دین میں جبر نہیں چاہئے اور پھر فرمایا کہ اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحسَنَۃِ۔ یعنی ……. حکمت اور نیک وعظوں کے ساتھ مباحثہ کر، نہ سختی سے۔ اور پھر فرمایا وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ (آل عمران: 135) یعنی مومن وہی ہیں جو غصہ کو کھا جاتے ہیں اور یاوہ گو اور ظالم طبع لوگوں کے حملوں کو معاف کر دیتے ہیں اور بیہودگی کا بیہودگی سے جواب نہیں دیتے‘‘۔ فرمایا کہ ’’کیا ایسا خدا یہ تعلیم دے سکتا تھا کہ تم اپنے دین کے منکروں کو قتل کر دو اور ان کے مال لوٹ لو اور ان کے گھروں کو ویران کر دو۔ بلکہ اسلام کی ابتدائی کارروائی جو حکم الٰہی کے موافق تھی صرف اتنی تھی کہ جنہوں نے ظالمانہ طور سے تلوار اٹھائی وہ تلوار ہی سے مارے گئے اور جیسا کیا ویسا اپنا پاداش پا لیا۔‘‘ فرمایا کہ ’’یہ کہاں لکھا ہے کہ تلوار کے ساتھ منکروں کو قتل کرتے پھرو۔ یہ تو جاہل مولویوں اور نادان پادریوں کا خیال ہے جس کی کچھ بھی اصلیت نہیں‘‘۔ (تبلیغ رسالت (مجموعہ اشتہارات) جلد 3 صفحہ 194 تا 196 حاشیہ بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام زیر سورۃالنحل آیت 126)

جو مولوی ہیں اسلام کے پھیلانے کے نام نہاد علمبردار بنے پھرتے ہیں یا وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں یا جو اسلام کے مخالف لوگ ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ اسلام کہتا ہے کہ منکروں کو قتل کرو۔ (حالانکہ یہ) کہیں نہیں لکھا۔

پس یہ ہے اسلام کی تعلیم جس پر دوسرے مسلمان تو عمل نہیں کرتے یا اس لئے کہ ان کو اسلام کا پیغام پہنچانے سے دلچسپی نہیں ہے یا اس لئے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: نادان اور جاہل مولوی ہیں۔ لیکن ہم نے مسلمانوں میں بھی اور غیر مسلموں میں بھی یہ تعلیم عام کرنی ہے۔ اس لئے اپنے اپنے حلقے میں، اپنے اپنے دائرے میں ہر احمدی کو اس طرف توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ پہلے اگر یہ لوگ چھپے ہوئے تھے اور نفاق کی زندگی گزار رہے تھے لیکن اسلام کی شدت پسند تعلیم کا نظریہ رکھتے تھے تو اب ایسے گروہ ہیں جو کھلے عام ایسی باتیں کرتے ہیں اور پھر غیروں کو ہی نہیں بلکہ مسلمان مسلمان کی گردن کاٹ رہا ہے اور اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ احمدیوں کے خلاف تو یہ سب ہیں ہی۔ ایک فرقہ دوسرے فرقے کے خلاف اور ایک گروپ دوسرے گروپ کے خلاف بھی قتل و غارت گری کر رہا ہے۔ ایسے میں احمدیوں کا کام بہت بڑھ گیا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ’’یاد رکھو جو شخص سختی کرتا اور غضب میں آ جاتا ہے اس کی زبان سے معارف اور حکمت کی باتیں ہرگز نہیں نکل سکتیں۔ وہ دل حکمت کی باتوں سے محروم کیا جاتا ہے جو اپنے مقابل کے سامنے جلدی طیش میں آ کر آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ گندہ دہن اور بے لگام کے ہونٹ لطائف کے چشمے سے بے نصیب اور محروم کئے جاتے ہیں۔ غضب اور حکمت دونو جمع نہیں ہو سکتے۔‘‘ فرمایا ’’جو مغضوب الغضب ہوتا ہے۔ اس کی عقل موٹی اور فہم کند ہوتا ہے۔ اس کو کبھی کسی میدان میں غلبہ اور نصرت نہیں دئیے جاتے۔ غضب نصف جنون ہے۔ جب یہ زیادہ بھڑکتا ہے تو پورا جنون ہو سکتا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 126-127۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس جب غضب اور جنون ہو جائے تو انسان پھر عقل کی باتیں نہیں کرتا اور یہی ہم غیروں میں دیکھتے ہیں۔ ہمارے خلاف تو مولوی ہر جگہ یہ عمل دکھا رہا ہے اور اس کا یہ عمل صرف ہمارے خلاف ہی نہیں ہے، اسلام کو بھی بدنام کر رہا ہے۔ جب ہم تبلیغ کرتے ہیں اور اسلام کی پُرامن تعلیم دنیا کو بتاتے ہیں تو اسلام مخالف طاقتیں جو ہیں ہمیں ہمیشہ یہی جواب دیتی ہیں کہ ٹھیک ہے تم پُرامن ہو گے لیکن تمہیں تو مسلمان اکثریت مسلمان ہی نہیں سمجھتی لہٰذا تم اسلام کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔

پس ان حالات میں ہمارے چیلنج مزید بڑھ جاتے ہیں اور ہر احمدی کو اس بارے میں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا ہر فعل اور عمل اسلام کا نمونہ ہو۔ اگر تبلیغ نہیں بھی کر رہا تو پھر بھی اس کا قول و فعل اسلام کا پیغام پہنچانے والا ہو۔ پھر تبلیغ کے لئے ہمیں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حکمت کی اس بات کو بھی سامنے رکھنا چاہئے۔ آپ نے فرمایا کہ ’’دلوں کی کچھ خواہشیں اور میلان ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ کسی وقت بات سننے کے لئے تیار رہتے ہیں اور کسی وقت اس کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ (کبھی انسان کوئی بات سننے کے لئے تیار ہوتا ہے کبھی نہیں ہوتا) اس لئے لوگوں کے دلوں میں ان میلانات کے تحت داخل ہوا کرو۔ (یہ دیکھا کرو کہ اس وقت کیا صورتحال ہے اور پھر اس کے مطابق بات کرو) اور اس وقت اپنی بات کہا کرو جب وہ بات سننے کے لئے تیار ہوں۔‘‘ (ماخوذ از نہج البلاغہ جزء 4 صفحہ 470 روایت نمبر 506 مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت 2005ء)۔ پس اس حکمت کو ہمیں اختیار کرنا چاہئے۔

پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ رہنمائی فرمائی کہ: ’’چاہئے کہ جب کلام کرے تو سوچ کر اور مختصر کام کی بات کرے۔ بہت بحثیں کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا‘‘۔ فرمایا کہ ’’بس چھوٹا سا چٹکلہ کسی وقت چھوڑ دیا جو سیدھا کان کے اندر چلا جائے۔ پھر کبھی اتفاق ہوا تو پھر سہی‘‘۔ (ملفوظات جلد 10 صفحہ 119۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

اب یہ باتیں اسی وقت ہو سکتی ہیں جب مستقل رابطے ہوں۔ آزادی کے نام پر خدا تعالیٰ کے قانون سے ٹکرانے اور آزادی کے نام پر غیر اخلاقی باتوں کو اخلاق کے زمرہ میں لانے کی جو مذہب مخالف طاقتیں ہیں کوشش کر رہی ہیں۔ ہم حکمت کی باتوں اور مستقل رابطوں اور کوشش سے ہی ان کے ردّ کر سکتے ہیں۔ ان کا توڑ کر سکتے ہیں۔ اب آسٹریلیا میں اگر ایک طبقہ اسلام دشمنی میں یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ اگر مسلمان مرد عورتوں سے یا عورتیں مردوں سے مصافحہ نہیں کرتے تو انہیں ملک سے نکال دینا چاہئے۔ یا حجاب کے کچھ لوگ خلاف ہیں یا بعض ملکوں میں مسجدوں اور میناروں کے خلاف ہیں۔ یا ہالینڈ کے ایک سیاستدان کا بیان ہے کہ تمام مسلمانوں کو ہی ملک سے نکال دو۔ یا ایک مخصوص ملک کے مسلمانوں کو ملک سے نکال دو۔ یا امریکہ کے صدر بعض مسلمان ممالک کے لوگوں پر پابندیاں لگانا چاہتا ہے تو یہ بیشک اسلام مخالف سوچ کا نتیجہ ہے۔ یہ ساری باتیں اور بعض مسلمان گروہوں کے عمل اس کو ہوا دینے والے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی اسلام کی تعلیم کی حقیقت بھی ان لوگوں کی اکثریت کو معلوم نہیں۔ اس لئے اس بارے میں حکمت سے اپنے اپنے دائرے میں ہر احمدی کو کام کرنا چاہئے۔ ہر جگہ جہاں جماعت کی تعداد اتنی ہے کہ ہم مؤثر پیغام پہنچانے کا کام کر سکیں وہاں ہمیں اپنے روایتی پروگراموں کے ساتھ جو تبلیغی پروگرام ہیں اسلام کے امن اور سلامتی کے پیغام کو پہنچانے کے لئے مؤثر پروگرام بھی بنانے چاہئیں۔ ان ملکوں میں جہاں اسلام کے خلاف قوتیں زور پکڑ رہی ہیں ان کے زور کو توڑنے کے لئے اگر کوئی منظم کوشش کر سکتا ہے تو وہ جماعت احمدیہ ہی کر سکتی ہے۔ دوسرے مسلمان اسلام کی خوبصورتی کو ظاہر کرنے اور اس کا پیغام پہنچانے کا کام کر ہی نہیں سکتے۔ ان میں وہ تنظیم ہی نہیں ہے نہ ان کے پاس علم ہے۔ یہ کام اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ منسلک ہونے والوں کے ذریعہ مقدر ہے۔ پس اس بات کی اہمیت کو ہمیں سمجھنا چاہئے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں: ’’جس قدر زور سے باطل حق کی مخالفت کرتا ہے اسی قدر حق کی طاقت اور قوت تیز ہوتی ہے‘‘۔ فرمایا ’’…… یہ ایک قدرتی نظارہ ہے۔ حق کی جس قدر زور سے مخالفت ہو اسی قدر وہ چمکتا اور اپنی شوکت دکھاتا ہے‘‘۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’ہم نے خود آزما کر دیکھا ہے جہاں جہاں ہماری نسبت زیادہ شور و غُل ہوا ہے وہاں ایک جماعت تیار ہو گئی اور جہاں لوگ ….. سن کر خاموش ہوجاتے ہیں وہاں زیادہ ترقی نہیں ہوتی۔‘‘ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 310-311۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس اس مخالفت میں جہاں مسلمانوں کی طرف سے مخالفت ہے وہاں ہم دیکھتے ہیں کہ احمدیت کا تعارف ہو رہا ہے اور ترقی بھی ہو رہی ہے۔ الجزائر میں بھی ہماری تبلیغ سے شاید جماعت کا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اتنا تعارف نہ ہوتا جتنا ان مقدمات اور ہمارے خلاف اخباروں میں لکھنے کی وجہ سے ہوا ہے اور سعید فطرتوں پر اس کا نیک اثر بھی ہو رہا ہے۔ اسی طرح غیر مسلم ممالک میں بھی جب اسلام کے خلاف فضا ہے ہمیں زیادہ سے زیادہ احمدیت اور حقیقی اسلام کو متعارف کروانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ جیسا کہ مَیں نے کہا کہ پر امن تعلیم کو پھیلانا چاہئے اس سے شاید ایک طبقہ میں ہماری مخالفت بھی بڑھے گی۔ بعض جگہ ایسے نمونے سامنے آ بھی رہے ہیں کہ غیروں میں بھی عیسائیوں میں بھی مخالفت بڑھتی ہے مثلاً مشرقی جرمنی میں جماعت کے خلاف قوم پرست بہت کچھ کہتے ہیں لیکن نیک فطرت دلوں پر اس کا مثبت اثر بھی ہو رہا ہے۔ جماعت کا تعارف ہو رہا ہے۔ پس اس سے ہمیں خوفزدہ ہونے کی بجائے خوش ہو کر اپنے کام کو تیز کرنا چاہئے اور ہر احمدی کو اپنے نمونے اور اپنے اظہار سے تبلیغ کا حصہ بننا چاہئے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:  ’’اسلام کی حفاظت اور سچائی کے ظاہر کرنے کے لئے سب سے اوّل تو وہ پہلو ہے کہ تم سچے مسلمانوں کا نمونہ بن کر دکھاؤ۔ اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کی خوبیوں اور کمالات کو دنیا میں پھیلاؤ۔‘‘ (ملفوظات جلد 8 صفحہ 323۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق گزارنے والے ہوں۔ سچے مسلمانوں کا نمونہ بننے والے ہوں اور تمام تر مخالفتوں کے باوجود اسلام کی خوبیوں اور کمالات کو دنیا میں پھیلانے والے بنیں اور ہم میں سے ہر ایک حقیقی اسلام کی حفاظت اور سچائی ظاہر کرنے والوں میں سے بن جائے۔

نمازوں کے بعد مَیں کچھ جنازے غائب پڑھاؤں گا۔ پہلا جنازہ غائب مکرم و محترم مولانا حکیم محمد دین صاحب قادیان کا ہے جو محترم محمد عزیز الدین صاحب کے بیٹے تھے۔ 15؍مارچ 2017ء کو ستانوے سال کی عمر میں ان کی وفات ہو گئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ان کے دادا حضرت حکیم مولوی وزیر الدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے اور تین سو تیرہ صحابہ کی فہرست میں ان کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی دو کتب آئینہ کمالات اسلام اور ضمیمہ انجام آتھم میں درج فرمایا ہوا ہے۔ حضرت حکیم مولوی وزیر الدین صاحب کانگڑہ میں ایک مدرسہ کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق 1905ء میں کانگڑہ میں جو خوفناک زلزلہ آیا تھا اس میں آپ اور مدرسے کے طلباء معجزانہ طور پر بچ گئے۔ حکیم محمد دین صاحب مرحوم جون 1920ء کو مکیریاں ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ میٹرک کا امتحان لاہور سے اور انٹر کا امتحان قادیان سے پاس کیا۔ منشی فاضل کی ڈگری حاصل کی۔ دو سال طبیہ کالج لاہور میں تعلیم حاصل کی۔ وہاں سے حکیم حاذق کی ڈگری حاصل کی۔ 1939ء سے 1944ء تک محکمہ ریلوے میں اسسٹنٹ سٹیشن ماسٹر کے طور پر کام کیا۔ پھر 1943ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تحریک پر وقف زندگی کی درخواست دی۔ اس وقت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے یہ ارشاد فرمایا کہ اپنا کام جاری رکھیں اور تبلیغ کرتے رہیں۔ لیکن حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خطبہ کو سن کر ان کی خواہش یہی تھی کہ وقف کریں اور باقاعدہ مبلغ کے طور پر کام کریں اور آخر پھر اسی خواہش کی وجہ سے اور مسلسل حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو لکھتے رہنے کی وجہ سے ایک وقت آیا جب ان کو بطور مبلغ لے لیا گیا اور بمبئی میں ان کو مبلغ انچارج بنا دیا گیا۔ پہلے انہوں نے مولانا عبدالرحیم نیر صاحب کے تحت معاون کے طور پر کام کیا۔ پھر خود ان کو مبلغ انچارج بنایا گیا۔ مجموعی طور پر 25 سال تبلیغ کے میدان میں خدمت بجا لانے کی توفیق پائی۔ 1972ء کے آخر میں قادیان مرکز بلا لیا گیا۔ یہاں مدرسہ احمدیہ میں پہلے استاد مقرر ہوئے۔ پھر بارہ سال بطور ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ خدمت بجا لانے کی توفیق ملی۔ بحیثیت ناظم دارالقضاء، صدر مجلس انصار اللہ بھارت اور ممبر اور پھر صدر مجلس کارپرداز کے طور پر خدمت کی توفیق ملی۔ ناظم وقف جدید بھی بنائے گئے۔ اور 2011ء میں ان کو صدر صدر انجمن احمدیہ بنایا تھا اور 2014ء تک یہ صدر صدر انجمن احمدیہ کی خدمت بجا لاتے رہے۔ اس لحاظ سے ان کا جو خدمت کا عرصہ ہے بہت وسیع ہے۔ کئی سالوں پر پھیلا ہوا ہے۔ ان کو حج بدل کے طور پر حج بیت اللہ کی بھی توفیق ملی۔ قرآن کریم کی تلاوت بڑی عمدہ کیا کرتے تھے۔ آواز بھی بڑی اونچی تھی۔ ان کی وصیت پہلے 1/10 تھی پھر انہوں نے 1/7کی اور پھر 1/5 کے موصی تھے۔ بڑے بے نفس انسان تھے۔ بڑی عاجزی سے اور بے نفس ہو کر انہوں نے ہمیشہ خدمت کی۔ اپنے سے بہت جونیئر کے بھی ماتحت رہے تو کامل اطاعت کے ساتھ انہوں نے اپنے جونیئر مربیان کے تحت بھی کام کیا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند کرے۔ ان کی اولاد اس وقت تین بیٹیاں پاکستان میں ہیں۔ تین بھارت میں ہی ہیں۔ دو بیٹے ہیں جو جماعت کی خدمت کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو بھی وفا اور اخلاص سے اپنے عہد بیعت کو نبھانے اور خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

دوسرا جنازہ مکرم فضل الٰہی انوری صاحب ابن مکرم ماسٹر امام علی صاحب کا ہے جو 4؍مارچ 2017ء کو 90 سال کی عمر میں جرمنی میں وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ 16؍اپریل 1927ء کو یہ بھیرہ میں پیدا ہوئے اور 1946ء میں تعلیم الاسلام کالج قادیان سے ایف۔ ایس۔ سی کا امتحان پاس کیا۔ 1947ء میں اپنے آپ کو وقف کے لئے پیش کیا۔ پھر اس کے بعد انہوں نے بی۔ ایس۔ سی میں داخلہ لیا اور 1950ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے بی۔ ایس۔ سی کی۔ 1951ء میں جامعۃ المبشرین میں داخل ہوئے اور پھر اس کے بعد آپ کی خدمات کا سلسلہ کافی لمبا ہے۔ 1956ء میں بطور مبلغ گھانا بھجوایا گیا۔ 1960ء تک آپ وہاں رہے۔ 1960ء سے 1964ء تک جامعہ احمدیہ ربوہ میں استاد رہے۔ 64ء سے 67ء تک مغربی جرمنی کے مبلغ رہے۔ پھر 68ء میں افریقہ میں نائیجیریا بھیجے گئے۔ 1972ء تک وہاں رہے۔ 1972ء میں پھر جرمنی آئے اور 1977ء تک وہاں خدمات انجام دیں۔ 1979ء میں حدیقۃ المبشرین میں بطور سیکرٹری کام کیا۔ ایڈیشنل ناظر اصلاح و ارشاد تعلیم القرآن بھی مقرر ہوئے۔ اور 1982ء میں گیمبیا مبلغ کے طور پر گئے۔ 1983ء تک پھر وہاں رہے۔ پھر بطور مبلغ ان کا نائیجیریا تبادلہ ہو گیا اور 1986ء تک وہاں رہے۔ 1986ء میں پاکستان واپس گئے تو جامعہ احمدیہ میں بطور استاد خدمت کی توفیق پائی اور پھر 1988ء میں آپ کا تقرر وکالت تصنیف میں ہوا۔ 1988ء تک خدمت سلسلہ کی توفیق پائی۔ اس کے بعد آپ کی ریٹائرمنٹ ہوئی۔ اس کے بعد سے آپ جرمنی میں ہی تھے۔ 1974ء کے حالات کے بعد آپ نے جرمنی میں احمدیوں کو وہاں منگوانے کا اور امیگریشن دلوانے کا بڑا کام کیا جس کو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے بڑا سراہا اور وہاں رہنے والے جو بعض پرانے احمدی ہیں انہوں نے مثلاً عرفان خان صاحب نے مجھے لکھا کہ باپ کی طرح انہوں نےہمیں وہاں رکھا اس وقت جماعت کے مالی حالات بھی ایسے نہیں تھے تو یہاں تک احتیاط کرتے تھے کہ ہم پانی نہ ضائع کریں اور وضو کرتے ہوئے ہمارے پیچھے کھڑے ہو جایا کرتے تھے کہ پانی تو ضائع نہیں کر رہے۔ اس وقت وہاں اکثریت نوجوانوں کی ہی آئی تھی تو ان کو آپ نے باقاعدہ جماعت کے ساتھ منسلک رکھا اور ان کی تربیت بھی کرتے رہے۔ بڑے قناعت پسند تھے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ انہوں نے درویشان کی مختلف خصوصیات پہ بعض کتب بھی لکھی ہیں۔

تیسرا جنازہ مراکش سے ابراہیم بن عبداللہ اغزول صاحب کا ہے۔ جو جمال اغزول صاحب کے والد ہیں۔ 10؍مارچ 2017ء کو 81 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ انہوں نے سن 2000ء میں بیعت کی تھی۔ ان کی اہلیہ نے ان سے پہلے بیعت کی تھی اور ان کی اہلیہ نے ہی انہیں بیعت کے لئے تیار کیا تھا۔ اکثر ایم ٹی اے دیکھتے رہتے تھے۔ نمازوں کے پابند اور قرآن کریم سے خاص محبت رکھنے والے تھے۔ سب افراد خانہ سے بہت شفقت کرتے بہت نرم خُو تھے۔ اولاد کی تربیت میں کبھی سختی نہیں کی۔ اپنے کنبے کو، خاندان کو ہمیشہ متحد رکھا۔ سخاوت اور صلہ رحمی میں بہت نمایاں تھے۔ مالی لحاظ سے کمزور بھائیوں کو اچھے دنوں میں اپنی تجارت میں شریک کر کے ان کے مالی حالات بہتر کرنے کی کوشش کرتے۔ مہمان نوازی ان کا خاص وصف تھا۔ جماعتی مہمانوں کے آنے پر بڑے خوش ہوتے تھے۔ جوانی سے ہی ایمانداری میں مشہور تھے حتی کہ جس شخص کے پاس کام کرتے تھے وہ اپنا سارا سامان تجارت اور اموال ان کے حوالے کر دیتا تھا جس پر ان کے ساتھی تاجر حیران ہو جاتے تھے۔ آخری عمر میں بیماری کی حالت میں باربار نماز کی بابت دریافت کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے لواحقین کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے اور خلافت اور جماعت سے وابستہ رکھے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 17؍ مارچ 2017ء شہ سرخیاں

    مسلمان ممالک میں دہشتگردی بھی بہت زیادہ ہے، شدت پسندی بھی ہے اور یہاں حملے بھی ہو رہے ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ شدت پسند گروہوں اور مسلمان ممالک میں باغی گروہوں کو ہتھیار مغربی ممالک سے ہی ملتے ہیں اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے اور اسلام کے خلاف جو بغض ہے اس کے اظہار کے لئے بعض طاقتوں نے بڑی ہوشیاری سے ان گروہوں کو منظم کیا ہے۔ ایک طرف حکومتوں کو ظاہری اور خفیہ مدد دی جا رہی ہے اور دوسری طرف باغیوں کی اور اسی طرح شدت پسند گروہوں کی کسی نہ کسی طریقے سے مدد کی جاتی ہے۔ اگر یہ مددنہ ہو تو کوئی گروہ یا حکومت اتنا لمبا عرصہ لڑائی نہیں لڑ سکتے۔

    بدقسمتی یہ ہے کہ مسلمانوں کو جب بھی نقصان پہنچا ہے مسلمانوں کے اپنے عمل اور سازشوں اور بغاوتوں اور ایک دوسرے کے حق نہ ادا کرنے اور ذاتی مفادات کو قومی اور ملّی مفادات پر ترجیح دینے سے ہی پہنچا ہے۔ اسلام کی تعلیم کو بھولنے اور اپنے مقصد کو نظر انداز کرنے سے ہی پہنچا ہے۔

    آجکل الجزائر میں یہ ظلم بڑھ رہا ہے۔ پولیس احمدیوں کو ہراساں کر رہی ہے۔ عدالتیں اپنی مرضی کے فیصلے کر کے احمدیوں کو جیلوں میں ڈال رہیں ہیں اور بعض کو ایک سال سے تین سال تک کی جیل کی سزا ملی ہے صرف اس لئے کہ انہوں نے یہ کہا کہ ہم نے آنے والے امام کو مان لیا ہے اور اس لئے مان لیا ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی ارشاد ہے۔

    یہ لوگ جو ظلم کر رہے ہیں اور اسلام کے نام پر اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نام پر ظلم ہو رہے ہیں وہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ مظلوم کو دیکھ رہا ہے اور مظلوم کی دعائیں اللہ تعالیٰ کے عرش پر پہنچ رہی ہیں اور پہنچتی ہیں۔ اس کی عدالت نے جب فیصلہ کیا تو ان ظالموں کی نہ دنیا رہے گی نہ آخرت۔ پس ان کو اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے بھی ڈرنا چاہئے۔

    تبلیغ کے لئے، اسلام کی خوبصورت تعلیم پھیلانے کے لئے، اسلامی احکامات کی حکمت بتانے کے لئے دلیل کے ساتھ بات کی ضرورت ہے نہ کہ اس طرح جس طرح یہ آجکل کے نام نہاد علماء یا شدت پسند گروہ کر رہے ہیں۔ تلوار کے ساتھ اسلام پھیلانے کا اللہ تعالیٰ نے کہیں حکم نہیں دیا۔

    جب ہم تبلیغ کرتے ہیں اور اسلام کی پُرامن تعلیم دنیا کو بتاتے ہیں تو اسلام مخالف طاقتیں جو ہیں ہمیں ہمیشہ یہی جواب دیتی ہیں کہ ٹھیک ہے تم پُرامن ہو گے لیکن تمہیں تو مسلمان اکثریت مسلمان ہی نہیں سمجھتی لہٰذا تم اسلام کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔ پس ان حالات میں ہمارے چیلنج مزید بڑھ جاتے ہیں اور ہر احمدی کو اس بارے میں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا ہر فعل اور عمل اسلام کا نمونہ ہو۔ اگر تبلیغ نہیں بھی کر رہا تو پھر بھی اس کا قول و فعل اسلام کا پیغام پہنچانے والا ہو۔ اس بارے میں حکمت سے اپنے اپنے دائرے میں ہر احمدی کو کام کرنا چاہئے۔

    اسلام کی تعلیم کی حقیقت بھی ان لوگوں کی اکثریت کو معلوم نہیں۔ اس لئے ہر جگہ جہاں جماعت کی تعداد اتنی ہے کہ ہم مؤثر پیغام پہنچانے کا کام کر سکیں وہاں ہمیں اپنے روایتی پروگراموں کے ساتھ جو تبلیغی پروگرام ہیں اسلام کے امن اور سلامتی کے پیغام کو پہنچانے کے لئے بھی مؤثر پروگرام بنانے چاہئیں۔ ان ملکوں میں جہاں اسلام کے خلاف قوتیں زور پکڑ رہی ہیں ان کے زور کو توڑنے کے لئے اگر کوئی منظم کوشش کر سکتا ہے تو وہ جماعت احمدیہ ہی کر سکتی ہے۔ دوسرے مسلمان اسلام کی خوبصورتی کو ظاہر کرنے اور اس کا پیغام پہنچانے کا کام کر ہی نہیں سکتے ان میں وہ تنظیم ہی نہیں ہے نہ ان کے پاس علم ہے۔ یہ کام اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ منسلک ہونے والوں کے ذریعہ مقدر ہے۔ پس اس بات کی اہمیت کو ہمیں سمجھنا چاہئے۔

    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’اسلام کی حفاظت اور سچائی کو ظاہر کرنے کے لئے سب سے اوّل تو وہ پہلو ہے کہ تم سچے مسلمانوں کا نمونہ بن کر دکھاؤ۔ اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کی خوبیوں اور کمالات کو دنیا میں پھیلاؤ۔‘‘

    اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق گزارنے والے ہوں۔ سچے مسلمانوں کا نمونہ بننے والے ہوں اور تمام تر مخالفتوں کے باوجود اسلام کی خوبیوں اور کمالات کو دنیا میں پھیلانے والے بنیں اور ہم میں سے ہر ایک حقیقی اسلام کی حفاظت اور سچائی ظاہر کرنے والوں میں سے بن جائے۔

    مکرم مولانا حکیم محمد دین صاحب (قادیان) مکرم فضل الٰہی انوری صاحب (جرمنی) اور مکرم ابراہیم بن عبد اللہ اغزول صاحب (مراکش) کی وفات۔ مرحومین کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 17مارچ 2017ء بمطابق17؍امان 1396 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور