مَردوں کو نہایت اہم زرّیں نصائح

خطبہ جمعہ 19؍ مئی 2017ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

اسلام کی تعلیم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری ہر معاملے میں ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ اگر ہم میں سے ہر ایک اس رہنمائی پر عمل کرنے والا بن جائے تو ایک حسین معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔ آج غیر مسلم دنیا جو اسلام پر اور مسلمانوں کے عمل پر اعتراض کرتی ہے اس اعتراض کے بجائے یہ لوگ اسلام کی تعلیم پر صحیح رنگ میں عمل کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کے نمونوں کی مثال دے کر اسلام کے معتقد ہو جاتے۔ قرآن کریم میں بےشمار احکامات ہیں لیکن ان سب کو ایک جگہ ایک فقرے میں اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر جمع کر دیا کہ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الاحزاب:22) کہ یقینا ًتمہارے لئے اللہ کے رسول میں نیک نمونہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام تر زندگی گھر سے لے کر وسیع معاشرتی تعلقات تک قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرنے والی تھی۔ مگر بدقسمتی سے مسلمانوں کی اکثریت اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو پڑھتی تو ہے، اس بات کو بڑے احترام کی نظر سے بھی دیکھتی ہے لیکن اس پر عمل کے وقت اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ پس حقیقی کامیابی اسی وقت ہو سکتی ہے جب ہم ہر معاملے میں اس اُسوہ کو اپنے سامنے رکھیں۔ بعض دفعہ انسان بڑے بڑے معاملات میں تو بڑے اچھے نمونے دکھا رہا ہوتا ہے لیکن بظاہر چھوٹی نظر آنے والی باتوں کو اس طرح نظر انداز کر دیا جاتا ہے جیسے ان کی اہمیت ہی کوئی نہ ہو۔ جبکہ اس کے برعکس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان باتوں کی طرف بہت توجہ اپنے ارشادات میں بھی اور اپنے نمونے میں بھی دلوائی ہے۔

پس اگر اپنی زندگیوں کو ہم پُرسکون بنانا چاہتے ہیں، اگر ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں انہی اخلاق کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے جو ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر معاملے میں ہمارے سامنے پیش فرمائے اور پھر اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق نے ان کو کھول کر ہمارے سامنے رکھا اور اس پر عمل کی طرف توجہ دلوائی۔

اِس وقت میں اِس حوالے سے مَردوں کی مختلف حیثیتوں سے ذمہ داریوں کے معاملے میں کچھ کہوں گا۔ مرد کی گھر کے سربراہ کی حیثیت سے بھی ذمہ داری ہے۔ مرد کی خاوند کی حیثیت سے بھی ذمہ داری ہے۔ مرد کی بحیثیت والد کے بھی ذمہ داری ہے۔ پھر اولاد کی حیثیت سے بھی ذمہ داری ہے۔ اگر ہر مرد اِن ذمہ داریوں کو سمجھ لے اور انہیں ادا کرنے کی کوشش کرے تو یہی معاشرے کے وسیع تر امن کے قیام اور محبت اور بھائی چارے کے قائم کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ یہی باتیں اولاد کی تربیت کا ذریعہ بن کر پر امن اور حقوق انسانی کو قائم کرنے و الی نسل کے پھیلنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ گھروں کے سکون انہی باتوں سے قائم ہو جاتے ہیں۔ آجکل کئی گھروں کے مسائل اور شکایات سامنے آتی ہیں جہاں مرد اپنے آپ کو گھر کا سربراہ سمجھ کر، یہ سمجھتے ہوئے کہ مَیں گھر کا سربراہ ہوں اور بڑا ہوں اور میرے سارے اختیارات ہیں، نہ اپنی بیوی کا احترام کرتا ہے اور اسے جائز حق دیتا ہے، نہ ہی اولاد کی تربیت کا حق ادا کرتا ہے۔ صرف نام کی سربراہی ہے۔ بلکہ ایسی شکایات بھی ہندوستان سے بھی اور پاکستان کی بعض عورتوں کی طرف سے بھی ہیں کہ خاوندوں نے بیویوں کو مار مار کر جسم پر نیل ڈال دئیے یا زخمی کر دیا۔ منہ سُوجا دئیے۔ بلکہ بعض لوگ تو اِن ملکوں میں رہتے ہوئے بھی ایسی حرکتیں کر جاتے ہیں۔ پھر بچوں اور بچیوں پر ظلم کی حد تک بعض باپ سلوک کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کے بعد بھی جاہل لوگوں کی طرح ہی رہنا ہے، ان مسلمانوں کی طرح رہنا ہے جن کو دین کا بالکل علم نہیں ہے، اپنے بیوی بچوں سے ویسا ہی سلوک کرنا ہے جو جاہل لوگ کرتے ہیں تو پھر اپنی حالتوں کے بدلنے کا عہد کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیا مرد جو خدا کا حق ادا کرنے کی ان پر ذمہ داری ہے اور جو عملی حالت کے معیار بلند کرنے کی ان پر ذمہ داری ہے اسے ادا کر رہے ہیں؟ اگر وہ اسے ادا کر رہے ہوں تو پھر یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کبھی ان کے گھروں میں ظلم ہو۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سب سے پہلے گھر کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے توحید کے قیام کی اہمیت اپنے بیوی بچوں پر واضح فرما کر اس پر عمل کروایا لیکن یہ کام بھی پیار اور محبت سے کروایا۔ ڈنڈے کے زور پر نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو گھر کے سربراہ ہونے اور دنیا کی اصلاح اور شریعت کے قیام کی تمام تر مصروفیات ہونے کے باوجود اپنے گھر والوں کے حق ادا کئے اور پیار اور نرمی اور محبت سے یہ حق ادا کئے۔ گھر کا سربراہ ہونے کا حق اس طرح ادا کیا کہ پہلے یہ احساس دلوایا کہ تمہاری ذمہ داری توحید کا قیام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نفل کے لئے اٹھتے تھے اور پھر صبح نماز سے کچھ پہلے ہمیں پانی کے چھینٹے مار کر اٹھاتے تھے کہ نفل پڑھو۔ عبادت کرو۔ اللہ تعالیٰ کے وہ حق ادا کرو جو اللہ تعالیٰ کے حق ہیں۔ (بخاری کتاب الوتر باب ایقاظ النبیﷺ اھلہ بالوتر حدیث 997) (سنن ابی داؤد کتاب الصلوٰۃ باب قیام اللیل حدیث 1308)

پھر آپ اپنے گھر والوں کے حق ادا کس طرح فرماتے تھے؟ وہ کام جو بیویوں کے کرنے والے تھے ان میں بھی آپ ان کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ ہی فرماتی ہیں کہ جتنا وقت آپ گھر پر ہوتے تھے گھر والوں کی مدد اور خدمت میں مصروف رہتے تھے یہاں تک کہ آپ کو نماز کا بلاوا آتا اور آپ مسجد تشریف لے جاتے۔ (صحیح البخاری کتاب الاذان باب من کان فی حاجۃ اھلہ … الخ حدیث 676)

پس یہ ہے وہ اُسوہ جو ہم نے اپنانا ہے اور ہمیں اپنانا چاہئے۔ نہ کہ بیویوں سے ایسا سلوک جو ظلم کے مترادف ہو۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کے گھریلو کاموں کی تفصیل بیان فرماتے ہوئے مزید فرماتی ہیں کہ اسی طرح آپ اپنے کپڑے بھی خود سی لیتے تھے۔ جوتے ٹانک لیا کرتے تھے۔ گھر کا ڈول وغیرہ مرمت کر لیا کرتے تھے۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب مواقیت الصلاۃ باب من کان فی حاجۃ اھلہ … الخ حدیث 676جلد 5 صفحہ 298 مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت)

پس ان نمونوں کو سامنے رکھتے ہوئے بہت سے خاوندوں کو اپنا محاسبہ کرنا چاہئے اور اس پر توجہ دینی چاہئے کہ کیا ان کے گھروں میں یہ سلوک ہیں؟ یہ رویّے ہیں؟

اپنے صحابہ کو خاوند کے فرائض اور اس کے رویّے کے معیار کے بارے میں ایک موقع پر فرمایا جو حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مومنوں میں سے کامل الایمان وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں اور تم میں سے خُلق کے لحاظ سے بہترین وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لئے بہتر ہے۔ (سنن الترمذی ابواب الرضاع باب ما جاء فی حق المرأۃ علی زوجھا حدیث 1162)

پس ہر اس شخص کو جس کا اپنی بیویوں سے اچھا سلوک نہیں ہے جائزہ لینا چاہئے کہ اچھے اخلاق اور بیویوں سے اچھے سلوک کا مظاہرہ صرف ظاہری اچھا خُلق نہیں ہے۔ بلکہ آپؐ نے فرمایا کہ ایمان کے معیار کی بلندی کی بھی نشانی ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام خاوند کے فرائض اور بیویوں سے حسن سلوک کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ’’فحشاء کے سوا باقی تمام کج خُلقیاں اور تلخیاں عورتوں کی برداشت کرنی چاہئیں‘‘ اور فرمایا کہ ’’ہمیں تو کمال بے شرمی معلوم ہوتی ہے کہ مرد ہو کر عورت سے جنگ کریں۔ ہم کو خدا نے مرد بنایا ہے۔ درحقیقت ہم پر اِتمام نعمت ہے۔ اس کا شکر یّہ یہ ہے کہ ہم عورتوں سے لطف اور نرمی کا برتاؤ کریں۔ ایک دفعہ ایک دوست کی درشت مزاجی اور بدزبانی کا ذکر ہوا کہ وہ اپنی بیوی سے (بڑا) سختی سے پیش آتا ہے۔ حضور علیہ السلام اس بات سے (بہت رنجیدہ ہوئے) بہت کبیدہ خاطر ہوئے۔ اور فرمایا ’’ہمارے احباب کو ایسا نہ ہونا چاہئے‘‘۔ پھر تحریر کرنے والے لکھتے ہیں کہ اس کے بعد حضور علیہ السلام بہت دیر تک معاشرت نسواں کے بارے (میں ) گفتگو فرماتے رہے۔ اور آخر پر فرمایا کہ ’’میرا یہ حال ہے کہ ایک دفعہ مَیں نے اپنی بیوی پر آوازہ کسا تھا۔‘‘ (اونچی آواز سے بولے تھے) ’’اور مَیں محسوس کرتا تھا کہ وہ بانگِ بلند دل کے رنج سے ملی ہوئی ہے‘‘۔ (اونچی آواز میں بولے تھے اور خیال کیا کہ شاید اس میں دل کا کوئی رنج بھی شامل ہے) ’’اور بایں ہمہ کوئی دلآزار اور درشت کلمہ منہ سے نہیں نکالا تھا‘‘۔ (اس کے علاوہ کوئی سختی کا کلمہ منہ سے نہیں نکالا تھا لیکن اس کے باوجود بھی) آپ فرماتے ہیں کہ’’اس کے بعد مَیں بہت دیر تک استغفار کرتا رہا اور بڑے خشوع و خضوع سے نفلیں پڑھیں اور کچھ صدقہ بھی دیا کہ یہ درشتی زوجہ پر کسی پنہانی معصیتِ الٰہی کا نتیجہ ہے۔‘‘ (ماخوذ از ملفوظات جلد دوم صفحہ 1-2۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس یہ ہے نمونہ آپ کا۔ اور پھر کسی دوست کے سختی سے پیش آنے پر آپ نے بڑی فکر اور درد کا اظہار کیا اور یہ نصیحت بھی فرمائی کہ ’’وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ذرا ذرا سی بات پر لڑتے جھگڑتے ہیں، ہاتھ اٹھاتے ہیں ان کو کچھ ہوش کرنی چاہئے۔ یہ ہاتھ اٹھانا تو خیر علیحدہ رہا جیسا کہ مَیں نے کہا کہ زخمی بھی کر دیتے ہیں۔ ان کے لئے تو بہت ہی فکر کا لمحہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق تو ان لوگوں کا پھر ایمان بھی کامل نہیں ہے۔ ان کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو ارشاد تھا اسی کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی فکر ہوئی کہ جس کے ایمان کا وہ اعلیٰ معیار نہیں ہے پھر تو وہ کئی جگہ ٹھوکر کھا سکتا ہے۔

پس جیسا کہ مَیں نے کہا کہ یہ بظاہر چھوٹی نظر آنے والی باتیں ہیں لیکن یہ چھوٹی نہیں ہیں۔ ان ملکوں میں تو پولیس تک معاملے چلے جاتے ہیں اور پھر جماعت کی بدنامی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ پھر دنیاوی سزا بھی بھگتتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی بھی مول لیتے ہیں۔ بعض مرد کہہ دیتے ہیں کہ عورت میں فلاں فلاں برائی ہے جس کی وجہ سے ہمیں سختی کرنی پڑی۔ اس پہلو سے مَردوں کو پہلے اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ کیا وہ دین کے معیار پر پورا اترنے والے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایسے ہی مَردوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ’’مرد اگر پارسا طبع نہ ہو تو عورت کب صالحہ ہو سکتی ہے۔‘‘ (پہلی شرط تو یہی ہے کہ مردنیک ہو تبھی اس کی بیوی بھی صالحہ ہو گی۔) فرمایا کہ ’’ہاں اگر مرد خود صالح بنے تو عورت بھی صالحہ بن سکتی ہے‘‘۔ فرمایا کہ ’’قول سے عورت کو نصیحت نہ دینی چاہئے بلکہ فعل سے اگر نصیحت دی جاوے تو اُس کا اثر ہوتا ہے‘‘۔ صرف باتوں کی نصیحت نہ کرو۔ صرف ڈانٹ پھٹک نہ کرو بلکہ اپنے عمل سے یہ ثابت کرو کہ تم نیک ہو اور تمہارا ہر قدم خدا تعالیٰ کے حکموں پر چلنے والا ہے۔ ایسی نصیحت جو عمل سے ہوگی تو فرمایا کہ اس کا اثر ہوتا ہے۔ فرمایا کہ ’’عورت تو درکنار اَور بھی کون ہے جو صرف قول سے کسی کی مانتا ہے۔‘‘ (کوئی نہیں مانتا جب تک عمل نہ ہو۔)’’اگر مرد کوئی کجی یا خامی اپنے اندر رکھے گا تو عورت ہر وقت کی اُس پر گواہ ہے‘‘۔ فرمایا کہ ’’……جو شخص خدا سے خودنہیں ڈرتا تو عورت اس سے کیسے ڈرے؟ نہ ایسے مولویوں کا وعظ اثر کرتا ہے نہ خاوند کا۔ ہر حال میں عملی نمونہ اثر کیا کرتا ہے‘‘۔ فرماتے ہیں کہ’’بھلا جب خاوند رات کو اٹھ اٹھ کر دعا کرتا ہے، روتا ہے، تو عورت ایک دو دن تک دیکھے گی آخر ایک دن اسے بھی خیال آوے گا اور ضرور متأثر ہو گی۔‘‘ فرماتے ہیں کہ ’’عورت میں متأثر ہونے کا مادہ بہت ہوتا ہے۔ ……ان کی درستی کے واسطے کوئی مدرسہ بھی کفایت نہیں کر سکتا‘‘۔ (عورتوں کو درست کرنے کے لئے کسی سکول کی ضرورت نہیں ہے، کسی ادارے کی ضرورت نہیں ہے۔) ’’جتنا خاوند کا عملی نمونہ کفایت کرتا ہے۔‘‘ (اگر اصلاح کرنی ہے تو خاوند اپنی اصلاح کر لیں۔ اپنے عملی نمونے دکھائیں تو ان کی اصلاح ہو جائے گی۔) آپ فرماتے ہیں ’’…… خدا نے مرد عورت دونو کا ایک ہی وجود فرمایا ہے۔ یہ مَردوں کا ظلم ہے کہ وہ اپنی عورتوں کو ایسا موقع دیتے ہیں کہ وہ ان کا نقص پکڑیں۔ ان کو چاہئے کہ عورتوں کو ہرگز ایسا موقع نہ دیں کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ تُو فلاں بدی کرتا ہے۔‘‘ (کبھی ایسا موقع مردوں کو نہیں دینا چاہئے کہ عورت یہ کہے کہ تم میں فلاں بدی ہے۔ تم تو یہ بدیاں کرتے ہو۔ بلکہ فرماتے ہیں کہ انسان کو اتنا پاک صاف ہونا چاہئے کہ) ’’بلکہ عورت ٹکّریں مار مار کر تھک جاوے اور کسی بدی کا اسے پتہ مل ہی نہ سکے تو اس وقت اس کو دینداری کا خیال ہوتا ہے اور وہ دین کو سمجھتی ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 207-208۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

جب ایسی صورت ہو کہ تلاش کرنے کے باوجود مرد میں کوئی برائی نظر نہ آئے تو تب پھر عورت اگر دیندار نہیں بھی ہے تو دین کی طرف اس کی توجہ پیدا ہو گی۔ یہاں تو مَیں نے دیکھا ہے کہ عورتیں زیادہ دیندار ہیں۔ بعض دفعہ یہ شکایت کرتی ہیں کہ ہمارے خاوند کی دین کی طرف توجہ نہیں۔ ایک طرف تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان مَردوں سے یہ توقعات ہیں جو آپ کی بیعت میں آئے اور دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے مَرد ہیں جیسا کہ مَیں نے کہا کہ جن کی شکایتیں عورتیں لے کر آتی ہیں کہ یہ مردنماز میں سست ہیں۔ باجماعت نماز تو علیحدہ رہی گھر میں بھی نماز نہیں پڑھتے۔ دین کا علم مَردوں کا کمزور ہے۔ چندوں میں کئی گھروں کے مرد کمزور ہیں۔ ٹی وی پر لغو اور بیہودہ پروگرام دیکھنے کی مردوں کی شکایات ہیں۔ بچوں کی تربیت میں عدم توجہگی کی شکایت مردوں کے بارے میں ہے۔ اور اگر کبھی گھر کا سربراہ بننے کی کوشش کریں گے بھی، باپ بننے کی کوشش کریں گے تو سوائے ڈانٹ ڈپٹ اور مار دھاڑ کے کچھ نہیں ہوتا۔ عورتیں مردوں سے سیکھنے کے بجائے بہت سے گھروں میں عورتیں مردوں کو سکھا رہی ہوتی ہیں یا ان کو توجہ دلا رہی ہوتی ہیں تا کہ بچے بگڑ نہ جائیں۔ جن گھروں میں بھی بچے عدم تربیت کا شکار ہیں وہاں عموماً وجہ مردوں کی عدم توجہ یا بیوی اور بچوں پر بے جا سختی ہے۔ کئی بچے بھی بعض دفعہ آ کے مجھے شکایت کر جاتے ہیں کہ ہمارے باپ کا ہماری ماں سے یا ہم سے سلوک اچھا نہیں ہے۔

پس اگر گھروں کو پُرامن بنانا ہے، اگر اگلی نسلوں کی تربیت کرنی ہے اور ان کو دین سے منسلک رکھنا ہے تو مَردوں کو اپنی حالتوں کی طرف توجہ دینی ہو گی۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام مَردوں کو توجہ دلاتے ہوئے مزید فرماتے ہیں کہ ’’مَرد اپنے گھر کا امام ہوتا ہے۔ پس اگر وہی بداثر قائم کرتا ہے تو کس قدر بداثر پڑنے کی امید ہے‘‘۔ (اس کے عمل سے بداثر قائم ہو رہا ہے تو پھر آگے نسلوں میں بھی بداثر پڑتا چلا جائے گا۔) فرمایا کہ ’’مرد کو چاہئے کہ اپنے قویٰ کو برمحل اور حلال موقع پر استعمال کرے مثلاً ایک قوت غضبی ہے۔‘‘ (غصہ ہے) ’’جب وہ اعتدال سے زیادہ ہو تو جنون کا پیش خیمہ ہوتی ہے‘‘۔ (غصہ فطرت میں ہے۔ ایک انسان میں ہوتا ہے۔ لیکن جب حد سے زیادہ بڑھ جائے تو پھر وہ جنون یا پاگل پنے کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔ فرمایا کہ)’’جنون میں اور اس میں بہت تھوڑا فرق ہے۔ جو آدمی شدید الغضب ہوتا ہے اس سے حکمت کا چشمہ چھین لیا جاتا ہے۔ بلکہ اگر کوئی مخالف ہو تو اس سے بھی مغلوب الغضب ہو کر گفتگو نہ کرے‘‘۔ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 208۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)۔ گھر والوں کی بات تو علیحدہ رہی۔ مخالفوں سے بھی اس طرح غضبناک ہو کے باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ پس یہ ہے معیار کہ گھر میں بیوی بچوں پر غصہ نہیں کرنا اور یہ غصہ تو علیحدہ رہا، اگر کوئی مخالف ہے تو اس سے بھی غضبناک ہو کر اور عقل سے عاری ہو کر بات نہیں کرنی۔ مخالف کی بات کو ردّ کرنے کے لئے بھی مومن کے منہ سے غلیظ اور غضب سے بھرے ہوئے الفاظ نہیں نکلنے چاہئیں۔ جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہندوستان یا پاکستان سے بھی عورتیں اپنے خاوندوں کے ظلموں کے بارے میں لکھتی ہیں۔ دونوں جگہ، قادیان میں بھی اور پاکستان میں بھی نظارت اصلاح و ارشاد اور ذیلی تنظیموں کو اس طرف توجہ دینی چاہئے اور باقی دنیا میں بھی اپنی تربیت کے پروگرام کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہئے۔ تبلیغ کر رہے ہیں اور دینی مسائل سیکھ رہے ہیں لیکن گھروں میں بے چینیاں ہیں تو اس سب علم اور تبلیغ کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

عورت کی نفسیات اور وہ کس طرح مرد کو دیکھ رہی ہوتی ہے، اس کے بارے میں بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

’’مرد کی ان تمام باتوں اور اوصاف کو عورت دیکھتی ہے۔ وہ دیکھتی ہے کہ میرے خاوند میں فلاں فلاں اوصاف تقویٰ کے ہیں جیسے سخاوت، حلم، صبر اور جیسے اُسے (یعنی عورت کو) پرکھنے کا موقع ملتا ہے وہ کسی دوسرے کو نہیں مل سکتا‘‘۔ (گھر میں ہر روز دیکھ رہی ہوتی ہے۔) فرمایا کہ’’اسی لئے عورت کو سارِق بھی کہا ہے کیونکہ یہ اندر ہی اندر اخلاق کی چوری کرتی رہتی ہے حتی کہ آخرکار ایک وقت پورا اخلاق حاصل کر لیتی ہے‘‘۔ فرماتے ہیں کہ ’’ایک شخص کا ذکر ہے کہ وہ ایک دفعہ عیسائی ہوا‘‘۔ (اسلام چھوڑ کر) ’’تو عورت بھی اس کے ساتھ عیسائی ہو گئی۔ شراب وغیرہ اوّل شروع کی پھر پردہ بھی چھوڑ دیا۔ غیر لوگوں سے بھی (وہ عورت) ملنے لگی‘‘(اس کی بیوی)۔ ’’خاوندنے پھر (دوبارہ) اسلام کی طرف رجوع کیا‘‘۔ (کچھ عرصہ بعد خاوند کو خیال آیا کہ میں نے اسلام کو چھوڑ کے غلطی کی تھی۔ دوبارہ اسلام کی طرف رجوع کیا) ’’تو اس نے بیوی کو (بھی) کہا کہ (اب) تُو بھی میرے ساتھ مسلمان ہو۔ اس نے کہا کہ اب میرا مسلمان ہونا مشکل ہے۔ یہ عادتیں جو شراب وغیرہ اور آزادی کی پڑ گئی ہیں یہ نہیں چھوٹ سکتیں‘‘۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 5 صفحہ 208-209۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)۔ یہ تو ایک انتہا ہے کہ مرد اسلام سے بھی دور ہٹ گیا اور دور ہو کر عیسائیت اختیار کر لی لیکن بہت سے مرد ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اسلام کو تو نہیں چھوڑتے۔ نام کی حد تک اسلام سے منسلک رہتے ہیں۔ اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے ہیں لیکن آزادی کے نام پر بہت سی غلط حرکتوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے بھی مَیں ذکر کر کے آیا ہوں اور پھر ان کی دیکھا دیکھی یا مرد کے کہنے پر عورتیں بھی آزادی کے نام پر اسی ماحول میں ڈھل جاتی ہیں۔ پھر کچھ عرصہ بعد مردوں کو خیال آتا ہے کہ بیوی زیادہ آزاد ہو گئی ہے اور جب اس کو اس آزادی سے واپس لانے کی کوشش کرتا ہے تو پھر لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ پھر مار دھاڑ بھی یہاں ہوتی ہے۔ یہاں بھی یہی قصے اور واقعات ہوتے ہیں۔ اور جیسا کہ مَیں نے کہا کہ پھر ان ممالک میں پولیس فوراً بیچ میں آ جاتی ہے۔ عورتوں اور بچوں کے حقوق کے ادارے جو ہیں وہ بیچ میں آ جاتے ہیں اور پھر گھر بھی ٹوٹتے ہیں اور بچے بھی برباد ہوتے ہیں۔ پس اس سے پہلے کہ گھر ٹوٹیں اور بچے برباد ہوں ایسے مَردوں کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہئے جو ان پر اپنے بیوی بچوں کے بارے میں دین ڈالتا ہے اور جو اسلام نے ان کی ذمہ داریاں مقرر کی ہیں۔ عورتوں کے حق اور ان سے سلوک کے بارے میں ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’عورتوں کے حقوق کی جیسی حفاظت اسلام نے کی ہے ویسی دوسرے مذہب نے قطعاً نہیں کی۔ مختصر الفاظ میں فرما دیا ہے۔ وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ(البقرۃ: 229) کہ جیسے مَردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں، ویسے ہی عورتوں کے مَردوں پر (حقوق) ہیں‘‘۔ فرمایا کہ’’بعض لوگوں کا حال سنا جاتا ہے کہ ان بیچاریوں کو پاؤں کی جوتی کی طرح جانتے ہیں اور ذلیل ترین خدمات ان سے لیتے ہیں۔ گالیاں دیتے ہیں۔ حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پردہ کے حکم ایسے ناجائز طریق سے برتتے ہیں کہ ان کو زندہ درگور کر دیتے ہیں۔‘‘ یعنی ایسی سختی ہے ہاتھ منہ کے پردے کی اس طرح سختی ہے کہ عورت کے لئے سانس لینا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ اس طرح کی سختی نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن اسلام بڑا سمویا ہوا مذہب ہے۔ دوسری طرف عورتوں کو بھی اعتدال کرنا چاہئے کہ پردے کی سہولت کے نام پر ضرورت سے زیادہ ہی آزادی حاصل نہ کر لیں اور یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض ضرورت سے زیادہ آزاد ہو گئی ہیں اور برائے نام پردہ رہ گیا ہے۔ یہ بھی غلط ہے۔ پس عورتیں بھی یاد رکھیں کہ سر اور جسم کو حیا کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ڈھانپنا ضروری ہے۔ یہی اللہ کا حکم ہے۔ اس کا خیال رکھنا چاہئے۔

میاں بیوی کے تعلق کا معیار کیا ہونا چاہئے؟ اس بات کو بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’چاہئے کہ بیویوں سے خاوندوں کا ایسا تعلق ہو جیسے دو سچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے۔ انسان کے اخلاق فاضلہ اور خدا تعالیٰ سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں۔ اگر ان ہی سے اُس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ سے صلح ہو‘‘۔ (گھر میں ہی تعلقات ٹھیک نہیں تو پھر یہ بھی مشکل ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بھی صلح ہو اور اللہ کے احکامات پر عمل ہو۔) فرمایا کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہٖ۔ تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل کے لئے اچھا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 417-418۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) پس یہ ہے وہ معیار جو ہر مرد کو اپنانا چاہئے۔

پھر مردوں کی بحیثیت باپ جو ذمہ داری ہے اسے بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ صرف یہ نہ سمجھ لیں کہ یہ صرف ماں کی ذمہ داری ہے کہ بچے کی تربیت کرے۔ بیشک ایک عمر تک بچے کا وقت ماں کے ساتھ گزرتا ہے اور انتہائی بچپن کی ماؤں کی تربیت بچے کی تربیت کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے لیکن اس سے مرد اپنے فرائض سے بری الذّمہ نہیں ہو جاتے۔ باپوں کو بھی بچوں کی تربیت میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ خاص طور پر لڑکے جب سات آٹھ سال کی عمر کو پہنچتے ہیں تو اس کے بعد پھر وہ باپوں کی توجہ اور نظر کے محتاج ہوتے ہیں، ورنہ خاص طور پر اس مغربی ماحول میں بچوں کے بگڑنے کے زیادہ امکان ہو جاتے ہیں۔ یہاں بھی وہی اصول لاگو ہو گا جس کا عورتوں کے ضمن میں پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ مَردوں کو، باپوں کو اپنے نمونے دکھانے اور قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ باپوں کو جہاں بچوں کی عزت و احترام کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ان کے اخلاق اچھے ہوں وہاں ان پر گہری نظر رکھنے کی بھی ضرورت ہے تا کہ وہ ماحول کے بداثرات سے بچ کر رہیں۔ پھر باپوں کا بچوں سے تعلق بچوں کو ایک تحفّظ کا بھی احساس دلاتا ہے۔ بہت سے باپ بچوں کے رویّوں کے بارے میں شکایت کرتے ہیں کہ ان میں جھجھک پیدا ہو گئی ہے یا اعتماد کی کمی پیدا ہو گئی ہے یا غلط بیانی زیادہ کرنے لگ گئے ہیں۔ اور جب باپوں کو کہا جائے کہ بچوں کے زیادہ قریب ہوں اور ان سے ذاتی تعلق پیدا کریں، دوستانہ تعلق پیدا کریں تو عموماً دیکھنے میں آیا ہے پھر اس کے نتیجہ میں بچے کی جو کمزوریاں ہیں یہ دُور ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ پس بچوں میں باہر کے ماحول سے تحفّظ کا احساس دلانے کے لئے ضروری ہے کہ باپ کچھ وقت بچوں کے ساتھ باہر گزار آئے۔

پھر باپوں کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ دینی تربیت کی طرف توجہ دیں۔ جہاں بچوں کی تربیت کی طرف عملی توجہ دیں وہاں ان کے لئے دعاؤں کی طرف بھی توجہ دیں۔ یہ بھی ضروری چیز ہے۔ تربیت کے اصل پھل تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے لگتے ہیں لیکن جو اپنی کوشش ہے وہ انسان کو ضرور کرنی چاہئے۔

تربیت کے طریق اور بچوں کے لئے دعاؤں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: ’’ہدایت اور تربیتِ حقیقی خدا تعالیٰ کا فعل ہے‘‘۔ (حقیقی تربیت جو ہے اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔) ’’سخت پیچھا کرنا اور ایک امر پر اصرار کو حد سے گزار دینا یعنی بات بات پر بچوں کو روکنا اور ٹوکنایہ ظاہر کرتا ہے کہ گویا ہم ہی ہدایت کے مالک ہیں اور ہم اس کو اپنی مرضی کے مطابق ایک راہ پر لے آئیں گے۔ یہ ایک قسم کا شرک خفی ہے۔ اس سے ہماری جماعت کو پرہیز کرنا چاہئے‘‘۔ اپنے بارے میں فرمایا کہ ’’ہم تو اپنے بچوں کے لئے دعا کرتے ہیں اور سرسری طور پر قواعد اور آدابِ تعلیم کی پابندی کراتے ہیں۔‘‘ (تعلیم ہماری کیا ہے؟ اس کے آداب کیا ہیں؟ کیا قواعد ہیں؟ اس کی پابندی کی طرف توجہ دلاتے رہیں۔) ’’بس اس سے زیادہ نہیں اور پھر اپنا پورا بھروسہ اللہ تعالیٰ پر رکھتے ہیں۔ جیسا کسی میں سعادت کا تخم ہو گا وقت پر سرسبز ہو جائے گا۔‘‘ (ملفوظات جلد 2 صفحہ 5۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب فرماتے ہیں کہ ہم دعا کرتے ہیں تو ان دعاؤں کے معیار بھی بہت بلند ہیں۔ اس بات کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے۔ اور دعا کے یہ معیار حاصل کرنے کے لئے ہمیں تو بہت زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اس لئے اس طرف باپوں کو توجہ دینی چاہئے۔

بحیثیت باپ بچوں کی تربیت کی طرف کس طرح اور کس قدر توجہ دینی چاہئے اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑی تفصیل سے ایک جگہ بیان فرماتے ہیں کہ: ’’بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ اولاد کے لئے کچھ مال چھوڑنا چاہئے۔ مجھے حیرت آتی ہے کہ مال چھوڑنے کا تو ان کو خیال آتا ہے مگر یہ خیال ان کو نہیں آتا کہ اس کا فکر کریں کہ اولاد صالح ہو۔ طالح نہ ہو۔‘‘ (یعنی بدکار اور بدنہ ہو بلکہ صالح اور نیک ہو۔) فرمایا کہ ’’مگر یہ وہم بھی نہیں آتا اور نہ اس کی پروا کی جاتی ہے۔ بعض اوقات ایسے لوگ اولاد کے لئے مال جمع کرتے ہیں اور اولاد کی صلاحیت کی فکر اور پروا نہیں کرتے۔ وہ اپنی زندگی ہی میں اولاد کے ہاتھ سے نالاں ہوتے ہیں اور اس کی بداطواریوں سے مشکلات میں پڑ جاتے ہیں اور وہ مال جو انہوں نے خدا جانے کن کن حیلوں اور طریقوں سے جمع کیا تھا آخر بدکاری اور شراب خوری میں صَرف ہوتا ہے اور وہ اولاد ایسے ماں باپ کے لئے شرارت اور بدمعاشی کی وارث ہوتی ہے‘‘۔ فرمایا کہ ’’اولاد کا ابتلا بھی بہت بڑا ابتلا ہے۔ اگر اولاد صالح ہو تو پھر کس بات کی پروا ہو سکتی ہے۔ خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے وَھُوَ یَتَوَلَّی الصَّالِحِیْنَ(الاعراف: 197)۔ یعنی اللہ تعالیٰ آپ صالحین کا متولّی اور متکفل ہوتا ہے۔ اگر بدبخت ہے تو خواہ لاکھوں روپے اس کے لئے چھوڑ جاؤ وہ بدکاریوں میں تباہ کر کے پھر قلّاش ہو جائے گی اور ان مصائب اور مشکلات میں پڑے گی جو اس کے لئے لازمی ہیں‘‘۔ فرمایا ’’جو شخص اپنی رائے کو خدا تعالیٰ کی رائے اور منشاء سے متفق کرتا ہے وہ اولاد کی طرف سے مطمئن ہو جاتا ہے اور وہ اسی طرح پر ہے کہ اس کی صلاحیت کے لئے کوشش کرے اور دعائیں کرے۔ اس صورت میں خود اللہ تعالیٰ اس کا تکفّل کرے گا‘‘۔ اس کو سنبھال لے گا۔ اس کا کفیل ہو جائے گا۔ صلاحیت کے لئے کوشش کرے یعنی اس کی تربیت کی طرف بہت زیادہ توجہ دے۔ فرمایاکہ ’’…..حضرت داؤد علیہ السلام کا ایک قول ہے کہ مَیں بچہ تھا۔ جوان ہوا۔ اب بوڑھا ہو گیا۔ میں نے متقی کو کبھی ایسی حالت میں نہیں دیکھا کہ اسے رزق کی مار ہو۔ اور نہ اس کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے دیکھا۔ اللہ تعالیٰ تو کئی پشت تک رعایت رکھتا ہے۔ پس خودنیک بنو اور اپنی اولاد کے لئے ایک عمدہ نمونہ نیکی اور تقویٰ کا ہو جاؤ‘‘۔ (بات وہی ہے کہ اولاد کا حق ادا کرنے کے لئے بھی اپنی حالت کو اس کے مطابق ڈھالنا ہو گا جس کی اسلام تعلیم دیتا ہے اور تبھی اگلی نسل جو ہے وہ صحیح رستوں پر چلنے والی ہو گی اور والدین کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث بنے گی۔) آپ فرماتے ہیں ’’خودنیک بنو اور اپنی اولاد کے لئے عمدہ نمونہ نیکی اور تقویٰ کا ہو جاؤ اور اس کو متقی اور دیندار بنانے کے لئے سعی اور دعا کرو۔ جس قدر کوشش تم ان کے لئے مال جمع کرنے کی کرتے ہو اسی قدر کوشش اس امر میں کرو‘‘۔ فرمایا کہ ’’…….پس وہ کام کرو جو اولاد کے لئے بہترین نمونہ اور سبق ہو اور اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے اوّل خود اپنی اصلاح کرو۔ اگر تم اعلیٰ درجہ کے متقی اور پرہیز گار بن جاؤ گے اور خدا تعالیٰ کو راضی کر لو گے تو یقین کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے ساتھ بھی اچھا معاملہ کرے گا‘‘۔ (ملفوظات جلد 8 صفحہ 108 تا 110۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

جہاں اسلام باپ کو یہ کہتا ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دو اور ان کے لئے دعائیں کرو وہاں بچوں کو بھی حکم دیتا ہے کہ تمہارا بھی کچھ فرض ہے۔ جب تم بالغ ہو جاؤ تو ماں باپ کے بھی تم پر کچھ حقوق ہیں۔ ان کو تم نے ادا کرنا ہے۔ یہ رشتوں کے حقوق کی کڑیاں ہی ہیں جو ایک دوسرے سے جڑنے سے پُرامن معاشرہ پیدا کرتی ہیں۔ ماں باپ کے حق ادا کرنے کی کتنی بڑی ذمہ داری ہے اور اس کی کتنی اہمیت ہے۔ اس بات کا اِدراک ہر مومن کو ہونا چاہئے۔ ایک لڑکا جب بالغ ہوتا ہے تو اس نے کس طرح ماں باپ کا حق ادا کرنا ہے اِس بات کو سمجھاتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا۔ عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ میں جہاد پر جانا چاہتا ہوں۔ فرمایا: کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں؟ اس نے کہا ہاں زندہ ہیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ ان دونوں کی خدمت کرو یہی تمہارا جہاد ہے۔ (صحیح البخاری کتاب الجہاد والسیر باب الجہاد باذن الابوین حدیث 3004)

پس والدین کی خدمت کی اہمیت کا اس سے اندازہ ہو سکتا ہے۔

پھر یہی نہیں بلکہ آپس میں محبت اور پیار کو پھیلانے کے لئے والد کے دوستوں سے بھی حسنِ سلوک کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ چنانچہ ایک موقع پر آپؐ نے فرمایا کہ انسان کی بہترین نیکی یہ ہے کہ اپنے والد کے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرے جبکہ اس کا والد فوت ہو چکا ہو۔ (سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی برالوالدین حدیث 5143)

پھر اس بات کو مزید کھول کر ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا روایت میں یوں ذکر ملتا ہے۔ حضرت ابو اسید الساعدیؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرتھے کہ بنی سلمہ کا ایک شخص حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، والدین کی وفات کے بعد کوئی ایسی نیکی ہے جو میں ان کے لئے کر سکوں۔ آپ نے فرمایا: ہاں کیوں نہیں۔ تم ان کے لئے دعائیں کرو۔ ان کے لئے بخشش طلب کرو۔ انہوں نے جو وعدے کسی سے کر رکھے تھے انہیں پورا کرو۔ ان کے عزیز و اقارب سے اسی طرح صلہ رحمی اور حسن سلوک کرو جس طرح وہ اپنی زندگی میں ان کے ساتھ کیا کرتے تھے اور ان کے دوستوں کے ساتھ عزت و اکرام کے ساتھ پیش آؤ۔ (سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی بر الوالدین حدیث 5142)

پھر ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کی خواہش ہو کہ اس کی عمر لمبی ہو اور اس کا رزق بڑھا دیا جائے تو اس کو چاہئے کہ اپنے والدین سے حسن سلوک کرے اور صلہ رحمی کی عادت ڈالے۔ (الجامع لشعب الایمان جلد 10 صفحہ 264-265 باب بر الوالدین حدیث 7471 مکتبۃ الرشدناشرون الریاض 2004ء)

پس بچے صرف نخرے اٹھانے کے لئے نہیں ہیں بلکہ بلوغت کو پہنچ کر ان کے بھی کچھ فرائض ہیں اور ماں باپ کے بھی کچھ حقوق ہیں جو انہوں نے ادا کرنے ہیں۔ شادیوں کے بعد خاص طور پر ان فرائض کی طرف توجہ دینی ضروری ہے اور اگر انسان بیوی کے بھی فرائض ادا کر رہا ہو اور والدین کی بھی خدمت کر رہا ہو اور بیوی کو بھی حکمت سے یہ احساس دلائے کہ ساس سسر کی کیا اہمیت ہے اور خود بھی اپنے ساس سسر کی خدمت اور اس کی اہمیت کو جانتا ہو تو گھروں میں جو بعض دفعہ جھگڑے پیدا ہو رہے ہوتے ہیں کبھی پیدا نہ ہوں۔ بعض دفعہ دینی اختلاف کی وجہ سے باپ بیٹوں میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ بعض نومبائعین اب بھی یہ سوال کرتے ہیں۔ اس صورت میں بیٹوں کو باپوں سے نیک سلوک بھی کرنا ہے اور ان کی خدمت بھی کرنی ہے۔ ایک مرتبہ بٹالہ کے سفر کے دوران حضرت مسیح موعود علیہ السلام شیخ عبدالرحمن صاحب سے ان کے والد صاحب کے بارے میں حالات دریافت فرما رہے تھے اور اس کے بعد آپ نے انہیں نصیحت فرمائی کہ ’’ان کے حق میں دعا کیا کرو‘‘۔ (وہ احمدی نہیں تھے۔ غیر مسلم تھے۔)’’ہر طرح اور حتی الوسع والدین کی دلجوئی کرنی چاہئے اور ان کو پہلے سے ہزار چند زیادہ اخلاق اور اپنا پاکیزہ نمونہ دکھلا کر اسلام کی صداقت کا قائل کرو۔ اخلاقی نمونہ ایسا معجزہ ہے کہ جس کی دوسرے معجزے برابری نہیں کر سکتے۔ سچے اسلام کا یہ معیار ہے کہ اس سے انسان اعلیٰ درجے کے اخلاق پر ہو جاتا ہے اور وہ ایک ممیّز شخص ہو تا ہے۔ شاید خدا تعالیٰ تمہارے ذریعہ ان کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دے۔ اسلام والدین کی خدمت سے نہیں روکتا۔ دنیوی امور جن سے دین کا حرج نہیں ہوتا ان کی ہر طرح سے پوری فرمانبرداری کرنی چاہئے۔ دل و جان سے ان کی خدمت بجا لاؤ‘‘۔ (ملفوظات جلد 4 صفحہ175حاشیہ۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)۔

پس یہ عمومی اصول بھی ہے تبلیغ میں کہ نرم زبان ہمیشہ استعمال ہونی چاہئے اعلیٰ اخلاق دکھلانے چاہئیں۔ پھر ایک اور واقعہ ہے۔ یہاں باپ بھی مسلمان ہے۔ اس کا تفصیلی جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیا: ’’ایک شخص نے سوال کیا کہ یا حضرت! والدین کی خدمت اور ان کی فرمانبرداری اللہ تعالیٰ نے انسان پر فرض کی ہے مگر میرے والدین حضور کے سلسلۂ بیعت میں داخل ہونے کی وجہ سے مجھ سے سخت بیزار ہیں اور میری شکل تک دیکھنا پسندنہیں کرتے۔ چنانچہ جب مَیں حضور کی بیعت کے واسطے آنے کو تھا تو انہوں نے مجھے کہا کہ ہم سے خط و کتابت بھی نہ کرنا اور اب ہم تمہاری شکل بھی دیکھنا پسندنہیں کرتے۔ اب میں اس فرض الٰہی کی تعمیل سے کس طرح سبکدوش ہوسکتا ہوں‘‘۔ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ والدین کی خدمت کرو اور وہ میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے۔ تعلق نہیں رکھنا چاہتے تو مَیں اس خدمت کو، اس فرض کو کس طرح پورا کروں )۔ آپ نے فرمایا کہ ’’قرآن شریف جہاں والدین کی فرمانبرداری اور خدمت گزاری کا حکم دیتا ہے وہاں یہ بھی فرماتا ہے کہ رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِکُمْ اِنْ تَکُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّہٗ کَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا (بنی اسرائیل:26) کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے۔ اگر تم صالح ہو تو وہ اپنی طرف جھکنے والوں کے واسطے غفور ہے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی ایسے مشکلات پیش آ گئے تھے کہ دینی مجبوریوں کی وجہ سے ان کی ان کے والدین سے نزاع ہو گئی تھی۔ بہرحال تم اپنی طرف سے ان کی خیریت اور خبرگیری کے واسطے ہر وقت تیار رہو۔ جب کوئی موقع ملے اسے ہاتھ سے نہ دو۔ تمہاری نیّت کا ثواب تم کو مل کے رہے گا۔ اگر محض دین کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم کرنے کے واسطے والدین سے الگ ہونا پڑا ہے تو یہ ایک مجبوری ہے۔ اصلاح کو مدّنظر رکھو اور نیّت کی صحت کا لحاظ رکھو اور ان کے حق میں دعا کرتے رہو۔ یہ معاملہ کوئی آج نیا نہیں پیش آیا۔ حضرت ابراہیمؑ کو بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔ بہرحال خدا کا حق مقدّم ہے۔ پس خدا تعالیٰ کو مقدم کرو اور اپنی طرف سے والدین کے حقوق ادا کرنے کی کوشش میں لگے رہو اور ان کے حق میں دعا کرتے رہو اور صحت نیّت کا خیال رکھو‘‘۔ (ملفوظات جلد 10 صفحہ 130-131۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)۔ نیت صحیح ہونی چاہئے۔ پس بہت سے لوگ جو آج بھی یہ سوال پوچھتے ہیں کہ والدین کے بھی فرائض ہیں۔ ان کو ایسے حالات میں ہم کیسے ادا کریں؟ تو ان کے لئے یہ جواب کافی ہے۔

بہرحال ایک مرد کی مختلف حیثیتوں سے جو ذمہ داریاں ہیں انہیں اسے ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اپنے گھروں کو ایک ایسا نمونہ بنانا چاہئے جہاں محبت اور پیار کی فضا ہر وقت قائم رہے۔ ایک مرد خاوند بھی ہے، باپ بھی ہے، بیٹا بھی ہے۔ اس لحاظ سے اسے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہئے اور مَردوں کی بہت ساری حیثیتیں اَور بھی ہیں لیکن یہ تین حیثیتیں مَیں نے بیان کی ہیں تا کہ گھر کی جو بنیادی اِکائی ہے جب اس بنیادی اِکائی میں امن قائم ہو اور اس میں زیادہ سے زیادہ حسن پیدا کرنے کی کوشش کی جائے تو تبھی معاشرے کے امن کا ضامن بنا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 19؍ مئی 2017ء شہ سرخیاں

    اسلام کی تعلیم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری ہر معاملے میں ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ اگر ہم میں سے ہر ایک اس رہنمائی پر عمل کرنے والا بن جائے تو ایک حسین معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔

    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام تر زندگی گھر سے لے کر وسیع معاشرتی تعلقات تک قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرنے والی تھی۔ پس حقیقی کامیابی اسی وقت ہو سکتی ہے جب ہم ہر معاملے میں اس اُسوہ کو اپنے سامنے رکھیں۔ بعض دفعہ انسان بڑے بڑے معاملات میں تو بڑے اچھے نمونے دکھا رہا ہوتا ہے لیکن بظاہر چھوٹی نظر آنے والی باتوں کو اس طرح نظر انداز کر دیا جاتا ہے جیسے ان کی اہمیت ہی کوئی نہ ہو۔

    پس اگر اپنی زندگیوں کو ہم پُرسکون بنانا چاہتے ہیں، اگر ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں انہی اخلاق کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے جو ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر معاملے میں ہمارے سامنے پیش فرمائے اور پھر اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق نے ان کو کھول کر ہمارے سامنے رکھا اور اس پر عمل کی طرف توجہ دلوائی۔

    اِس وقت میں اِس حوالے سے مَردوں کی مختلف حیثیتوں سے ذمہ داریوں کے معاملے میں کچھ کہوں گا۔ مرد کی گھر کے سربراہ کی حیثیت سے بھی ذمہ داری ہے۔ مرد کی خاوند کی حیثیت سے بھی ذمہ داری ہے۔ مرد کی بحیثیت والد کے بھی ذمہ داری ہے۔ پھر اولاد کی حیثیت سے بھی ذمہ داری ہے۔ اگر ہر مرد اِن ذمہ داریوں کو سمجھ لے اور انہیں ادا کرنے کی کوشش کرے تو یہی معاشرے کے وسیع تر امن کے قیام کی اور محبت اور بھائی چارے کے قائم کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ یہی باتیں اولاد کی تربیت کا ذریعہ بن کر پُر امن اور حقوق انسانی کے قائم کرنے و الی نسل کے پھیلنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ گھروں کے سکون انہی باتوں سے قائم ہو جاتے ہیں۔ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے کے بعد بھی جاہل لوگوں کی طرح ہی رہنا ہے، ان مسلمانوں کی طرح رہنا ہے جن کو دین کا بالکل علم نہیں ہے، اپنے بیوی بچوں سے ویسا ہی سلوک کرنا ہے جو جاہل لوگ کرتے ہیں تو پھر اپنی حالتوں کے بدلنے کا عہد کر کے حضرت مسیح موعود

    علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں آنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر گھروں کو پُرامن بنانا ہے، اگر اگلی نسلوں کی تربیت کرنی ہے اور ان کو دین سے منسلک رکھنا ہے تو مَردوں کو اپنی حالتوں کی طرف توجہ دینی ہو گی۔

    ہندوستان یا پاکستان سے بھی عورتیں اپنے خاوندوں کے ظلموں کے بارے میں لکھتی ہیں۔ دونوں جگہ، قادیان میں بھی اور پاکستان میں بھی نظارت اصلاح و ارشاد اور ذیلی تنظیموں کو اس طرف توجہ دینی چاہئے اور باقی دنیا میں بھی اپنی تربیت کے پروگرام کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہئے۔ تبلیغ کر رہے ہیں اور دینی مسائل سیکھ رہے ہیں لیکن گھروں میں بے چینیاں ہیں تو اس سب علم اور تبلیغ کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

    مردوں کی بحیثیت باپ جو ذمہ داری ہے اسے بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ صرف یہ نہ سمجھ لیں کہ یہ صرف ماں کی ذمہ داری ہے کہ بچے کی تربیت کرے۔ باپوں کو بھی بچوں کی تربیت میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

    باپوں کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ دینی تربیت کی طرف توجہ دیں۔ جہاں بچوں کی تربیت کی طرف عملی توجہ دیں وہاں ان کے لئے دعاؤں کی طرف بھی توجہ دیں۔ یہ بھی ضروری چیز ہے۔

    جہاں اسلام باپ کو یہ کہتا ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دو اور ان کے لئے دعائیں کرو وہاں بچوں کو بھی حکم دیتا ہے کہ تمہارا بھی کچھ فرض ہے۔ جب تم بالغ ہو جاؤ تو ماں باپ کے بھی تم پر کچھ حقوق ہیں ان کو تم نے ادا کرنا ہے۔ یہ رشتوں کے حقوق کی کڑیاں ہی ہیں جو ایک دوسرے سے جڑنے سے پُرامن معاشرہ پیدا کرتی ہیں۔ بہرحال ایک مرد کی مختلف حیثیتوں سے جو ذمہ داریاں ہیں اسے انہیں ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اپنے گھروں کو ایک ایسا نمونہ بنانا چاہئے جہاں محبت اور پیار کی فضا ہر وقت قائم رہے۔ ایک مرد خاوند بھی ہے، باپ بھی ہے، بیٹا بھی ہے۔ اس لحاظ سے اسے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہئے اور مَردوں کی بہت ساری حیثیتیں اَور بھی ہیں لیکن یہ تین حیثیتیں مَیں نے بیان کی ہیں۔

    (قرآن مجید، احادیث نبوی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃو السلام کے ارشادات اور اسوہ کی روشنی میں مَردوں کو نہایت اہم زرّیں نصائح)

    فرمودہ مورخہ 19؍مئی 2017ء بمطابق19؍ہجرت 1396 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور