حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اور حضرت قدامہ بن مظعون ؓ کی سیرت کا بیان

خطبہ جمعہ 5؍ اکتوبر 2018ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

گزشتہ خطبہ میں مَیں صحابہ کے ذکر میں حضرت عبداللہ بن مسعود کے بارے میں بیان کر رہا تھا اور ان کی کیونکہ کافی روایات ہیں ان کی اپنی بھی، ان کے بارے میں دوسروں کی بھی کچھ روایات رہ گئی تھیں جو اَب میں بیان کروں گا۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے بارے میں بزرگ صحابہ کہا کرتے تھے کہ عبداللہ بن مسعود اللہ تعالیٰ سے قرب اور تعلق میں غیر معمولی مقام رکھتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جن صحابہ کے نمونے کو مشعل راہ بنانے کے لئے بطور خاص ہدایت فرماتے تھے ان میں حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ کے علاوہ عبداللہ بن مسعودؓ کا نام بھی شامل ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ عبداللہ بن مسعود کا طریق مضبوطی سے پکڑو۔(جامع الترمذی ابواب المناقب باب مناقب عبد اللہ بن مسعودؓ حدیث3805) ایک روایت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خاص اعتماد تھا آپ پر اور عبداللہ بن مسعودؓ کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ایک غیر معمولی عشق تھا۔ ان کے بعض واقعات میں نے بیان بھی کئے تھے۔ اَور بھی واقعات ہیں ، بعض دفعہ ملتے جلتے واقعات ہیں لیکن مختلف زاویوں سے بیان کئے گئے ہیں ۔

ان کے بارے میں لکھا ہے کہ باطنی لحاظ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نے حضرت ابن مسعود یعنی عبداللہ بن مسعود کو ایک متقی، پرہیز گار اور عبادت گزار انسان بنا دیا تھا۔ عبادت اور نوافل سے ایسی رغبت تھی کہ فرض نمازوں اور تہجد کے علاوہ چاشت کے وقت کی نماز کا بھی اہتمام فرماتے تھے۔ اسی طرح ہر سوموار اور جمعرات کو نفلی روزہ رکھتے تھے اور پھر بھی یہ احساس غالب رہتا تھا کہ وہ کم روزے رکھتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرمایا کرتے تھے کہ تہجد وغیرہ کی ادائیگی کے لئے بدن میں کمزوری محسوس ہونے لگتی ہے۔ (تہجد بھی بڑی لمبی اور غیر معمولی پڑھنے والے تھے اور اگر حقیقت میں حق ادا کرتے ہوئے نوافل اور تہجد اد اکی جائے تو انسان بڑی کمزوری محسوس کرتا ہے۔) اس لئے فرماتے تھے کہ نماز کو روزے پر ترجیح دیتے ہوئے نسبتاً کم نفلی روزوں کا اہتمام کرتا ہوں ۔(سیرت صحابہ رسول ﷺاز حافظ مظفر احمد صفحہ283 نظارت اشاعت ربوہ 2009ء)

ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختصر خطاب کے بعد حضرت ابو بکرؓ سے فرمایا کہ اب وہ لوگوں سے وعظ کریں ، یعنی حضرت ابوبکر وعظ کریں ۔ حضرت ابوبکر نے مختصر وعظ کیا پھر حضرت عمر سے فرمایا۔ انہوں نے حضرت ابوبکر سے بھی مختصر وعظ کیا۔ پھر کسی اور شخص سے فرمایا تو اس نے لمبی تقریر شروع کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ یا فرمایا خاموش ہو جاؤ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعودؓ سے تقریر کے لئے فرمایا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا کی اس کے بعد صرف یہ کہا کہ اے لوگو! اللہ ہمارا رب ہے، قرآن ہمارا رہنما ہے، بیت اللہ ہمارا قبلہ ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے نبی ہیں ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم اللہ کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہیں اور مجھے تمہارے لئے وہ پسند ہے جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ ابن مسعود نے درست کہا اور مجھے بھی اپنی امت کے لئے وہ پسند ہے جو ابن مسعود نے پسند کیا۔(سیرت صحابہ رسول ﷺاز حافظ مظفر احمد صفحہ284-285 نظارت اشاعت ربوہ 2009)

حضرت علی جب کوفہ میں تشریف لے گئے تو آپ کی مجلس میں حضرت عبداللہ بن مسعود کا کچھ تذکرہ ہوا۔ یہ وہاں پہلےرہ چکے تھے۔ لوگوں نے ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اے امیر المؤمنین! ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے بڑھ کر اعلیٰ اخلاق والا اور نرمی سے تعلیم دینے والا اور بہترین صحبت اور مجلس کرنے والا اور انتہائی خداترس اور کوئی نہیں دیکھا۔ حضرت علی نے بغرض آزمائش ان سب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ سچ سچ بتاؤ کہ عبداللہ بن مسعود کے متعلق یہ گواہی صدق دل سے دیتے ہو۔ سب نے کہا ہاں ۔ اس پر حضرت علی نے فرمایا کہ اے اللہ! گواہ رہنا۔ اے اللہ! میں بھی عبداللہ بن مسعود کے بارے میں یہی رائے رکھتا ہوں جو ان لوگوں کی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ بہتر رائے رکھتا ہوں ۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد3صفحہ115 ومن حلفاء بنی زھرہ بن کلاب… ’’عبد اللہ بن مسعود‘‘ دار الکتب العلمیۃ بیروت1990ء)

حضرت عبداللہ بن مسعود نے اپنے دینی بھائی حضرت زبیر بن العوام کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم فرمودہ مؤاخات کا حق بھی خوب ادا کیا۔ ان پر کامل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے یہ وصیت فرمائی کہ میرے جملہ مالی امور کی نگرانی اور سپردداری، یعنی تمام کام جو ہیں ان کو سنبھالنا جومیری جائیداد پیچھے رہ جائے گی، حضرت زبیر بن العوام اور ان کے صاحبزادے عبداللہ بن زبیر کے ذمہ ہو گی اور خاندانی معاملات میں ان کے فیصلے قطعی اور نافذ العمل ہوں گے۔ (الطبقات الکبریٰ جلد3صفحہ118 ومن حلفاءبنی زھرہ بن کلاب… ’’عبد اللہ بن مسعود‘‘ دار الکتب العلمیۃ بیروت1990ء)

ابووائل سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے ایک شخص کی تہہ بند ٹخنوں سے نیچے دیکھی تو اسے ٹخنوں سے اوپر کرنے کا کہا۔ اس پر اس شخص نے جواباً آپ سے کہا کہ آپ بھی اپنی تہہ بندٹخنوں سے اوپرکریں ۔ آپ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں ۔ میری پنڈلیاں باریک ہیں اور میں دبلا بھی ہوں ۔ حضرت عمرؓ کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو انہوں نے اس شخص کو حضرت ابن مسعود سے اس طرح مخاطب ہونے اور جواب دینے کے سبب سزا بھی دی۔(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ جلد4صفحہ201 ’’عبد اللہ بن مسعود‘‘ دار الکتب العلمیۃ بیروت1995ء) یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس شخص میں تکبر ہو اور اس زمانے میں تکبر کی وجہ سے کپڑے لمبے رکھنے کا رواج تھا تو اس پر انہوں نے اس کو سمجھایا ہو اور اس نے بغیر دیکھے کہ یہ کتنے عاجز شخص ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر کتنا عمل کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی کس قدر خشیت ہے آگے سے یہ جواب دیا اور حضرت عمر کو جب پتہ لگا تو آپ نے اس کی سرزنش کی۔

حضرت عبداللہ بن مسعود کی اطاعتِ رسول کے بارے میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے ایک جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ حدیثوں میں ایک واقعہ آتا ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ اُن میں کس قدر فرمانبرداری کی روح پائی جاتی تھی۔ بظاہر وہ ایک ایسی بات ہے جسے سن کر کوئی انسان کہہ سکتا ہے یہ کیسی بیوقوفی کی بات ہے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا( حضرت خلیفۃ ثانی کہتے ہیں ) کہ ان کی ترقی کا راز اسی میں مضمر تھا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے جب کوئی حکم سنتے تو اسی وقت اس پر عمل کرنے کے لئے آمادہ ہو جاتے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی اس کو بیان کر رہے ہیں کہ احادیث میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کی طرف آ رہے تھے تو آپ ابھی گلی میں ہی تھے کہ آپ کے کانوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ آواز آئی کہ بیٹھ جاؤ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہجوم زیادہ ہو گا اور کچھ لوگ کناروں پر کھڑے ہوں گے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ جو ابھی مجلس میں نہیں پہنچے تھے اور گلی میں انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ آواز سنی تو وہیں بیٹھ گئے اور بیٹھے بیٹھے جیسے بچے چلتے ہیں گھسٹ گھسٹ کر مسجد میں پہنچے۔ کسی شخص نے جو اس راز کو نہیں سمجھتا تھا کہ اطاعت اور فرمانبرداری کی روح ہی دنیا میں قوموں کو کس طرح کامیاب کرتی ہے جب حضرت عبداللہ بن مسعود کو اس طرح چلتے دیکھا تو اس نے اعتراض کیا اور کہا کہ یہ کیسی بیوقوفی کی بات ہے۔ وہ اس کو بیوقوفی سمجھ رہا تھا۔ اس کو یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ قوموں کی ترقی کے لئے اصل چیز اطاعت ہے۔ بہرحال اس نے اس کو کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب تو یہ تھا کہ مسجد میں جو لوگ کناروں پر کھڑے ہیں وہ بیٹھ جائیں مگر آپ گلی میں ہی بیٹھ گئے ہیں اور گھسٹتے ہوئے مسجد میں آئے ہیں ۔ آپ کو چاہئے تھا کہ جب مسجد پہنچتے تو اس وقت بیٹھتے، گلی میں بیٹھ جانے کا کیا فائدہ تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے جواب دیا ہاں ہو تو سکتا تھا لیکن اگر مسجد پہنچنے سے پہلے ہی میں مر جاتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم میرے عمل میں نہ آتا اور کم سے کم ایک بات ایسی ضرور رہ جاتی جس پر میں نے عمل نہ کیا ہوتا۔ اب یہ شوق تھا ان لوگوں کا کہ کوئی بات جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے یہ نہ ہو کہ ہم اس پر عمل نہ کریں ۔ اس پر انہوں نے کہا میں نے یہ بات سنی اور مجھے یہ فکر پیدا ہوئی کہ اگر میں اس دوران مر جاتا تو پھر میرے نامہ اعمال میں کہیں یہ نہ لکھا جائے کہ یہ ایک آخری بات تھی جس پر تم نے سننے کے باوجود عمل نہیں کیا۔ تو بہرحال انہوں نے اس سے کہا کہ اس لئے میں نے مناسب نہ سمجھا کہ میں چلتا ہوا آؤں اور پھر مسجد میں آ کر بیٹھوں ۔ میں نے خیال کیا کہ زندگی کا کیا اعتبار ہے شاید میں مسجد میں پہنچوں یا نہ پہنچوں اس لئے ابھی بیٹھ جانا چاہئے تا کہ اس حکم پر بھی عمل ہو جائے۔ یہ لوگ اتنی باریکی سے چیزوں کو دیکھنے والے تھے۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ مزید لکھتے ہیں کہ انہی عبداللہ بن مسعودؓ کا واقعہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں ایک دفعہ حج کے ایام میں مکّہ مکرمہ میں چار رکعتیں پڑھیں ۔ حج پر گئے ہوئے تھے، قیام تھوڑا تھا، وہاں چار رکعتیں پڑھیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حج کے لئے تشریف لائے تھے تو آپ نے وہاں دو رکعتیں پڑھی تھیں کیونکہ مسافر کو دو رکعت نماز پڑھنے کا ہی حکم ہے۔ پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے زمانہ خلافت میں تشریف لائے تو آپ نے بھی دو ہی رکعتیں پڑھیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ حج کے لئے تشریف لائے تو انہوں نے بھی دو ہی پڑھیں یعنی قصرنماز کا جہاں حکم ہے وہاں قصر کی مگر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چار رکعتیں پڑھا دیں ۔ اس پر لوگوں میں ایک شور برپا ہو گیا، بڑا شور مچایا لوگوں نے اور انہوں نے کہا کہ حضرت عثمانؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو بدل دیا ہے۔ چنانچہ حضرت عثمانؓ کے پاس لوگ آئے اور انہوں نے دریافت کیا کہ آپ نے چار رکعتیں کیوں پڑھی ہیں ؟ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ میں نے ایک اجتہاد کیا اور وہ یہ اجتہاد تھا کہ اب دور دور کے لوگ مسلمان ہو گئے ہیں ۔ بہت سے لوگ دور دور سے حج کے لئے بھی آنے لگ گئے ہیں اور ان میں سے اکثر کو اب اسلامی مسائل اتنے معلوم نہیں جتنے پہلے لوگوں کو معلوم ہوا کرتے تھے۔ اب وہ صرف ہمارے افعال کو دیکھتے ہیں ۔ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ہم پرانے مسلمان کیا کر رہے ہیں ، اور جس رنگ میں وہ ہمیں کوئی کام کرتا دیکھتے ہیں اسی رنگ میں خود کرنے لگ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہی اسلام کا حکم ہے۔ یہ لوگ چونکہ مدینہ میں بہت کم آتے ہیں اور انہیں وہاں رہ کر ہماری نمازیں دیکھنے کا موقع نہیں ملتا تو اس لئے میں نے یہی خیال کیا کہ اب حج کے موقع پر انہوں نے مجھےدو رکعت نماز پڑھتے دیکھا، قصر کرتے دیکھا تو اپنے علاقے میں جاتے ہی کہنے لگ جائیں گے کہ خلیفہ کو ہم نے دو رکعت نماز پڑھاتے دیکھا ہے اس لئے اسلام کا اصل حکم یہی ہے کہ دو رکعت نماز پڑھی جائے۔حضرت عثمانؓ نے کہا کہ جب یہ اپنے علاقے میں جا کے بتائیں گے تو لوگ چونکہ اس بات سے ناواقف ہوں گے کہ دو رکعت نماز سفر کی وجہ سے پڑھی گئی ہے اس لئے اسلام میں اختلاف پیدا ہو جائے گا اور لوگوں کو ٹھوکر لگے گی۔ یہ حضرت عثمانؓ نے اجتہاد کیا۔ تو حضرت عثمانؓ نے کہا پس میں نے مناسب سمجھاکہ چار رکعت نماز پڑھا دوں تا کہ نماز کی چار رکعت انہیں نہ بھولیں ۔ باقی رہا یہ کہ میرے لئے چار رکعت پڑھنا جائز کس طرح ہو گیا۔ اس کا بھی حضرت عثمانؓ نے جواب دیا کہ میں نے کیوں چار رکعت پڑھیں اور کیوں میرے لئے یہ جائز ہے۔ آپ نے اس کا جواب دیا کہ میں نے یہاں شادی کی ہوئی ہے، مکہ میں میری شادی ہوئی ہوئی ہے اور بیوی کا سارا خاندان وہاں تھا ،سسرال وہیں تھا۔ چونکہ بیوی کا وطن بھی اپنا ہی وطن ہوتا ہے، اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ مسافر نہیں ہوں اور مجھے پوری نماز پڑھنی چاہئے۔

اپنے اجتہاد کی یہ ایک اور دلیل انہوں نے دی۔ غرض حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چار رکعت نماز پڑھانے کی یہ وجہ بیان فرمائی اور اس توجیہہ کا مقصد آپ نے یہ بتایا کہ باہر کے لوگوں کو دھوکہ نہ لگے اور وہ اسلام کی صحیح تعلیم کو سمجھنے میں ٹھوکر نہ کھائیں ۔ ان کی یہ بات بھی بڑی لطیف تھی، بڑی باریک گہری بات تھی اور جب صحابہ نے سنی تو اکثر لوگ سمجھ گئے اور بعض نہ سمجھے مگر خاموش رہے۔ مگر دوسرے لوگوں نے جو فتنہ پیدا کرنے والے تھے انہوں نے شور مچا دیا اور کہنا شروع کر دیا کہ حضرت عثمانؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف عمل کیا ہے۔ چنانچہ جو لوگ شور مچانے والے تھے، فتنہ پرداز تھے انہی میں سے کچھ لوگ حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس بھی پہنچے اور کہنے لگے آپ نے دیکھا کہ آج کیا ہوا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کیا کرتے تھے اور عثمان ؓنے آج کیا کیا۔ ان لوگوں نے عبداللہ بن مسعودؓکوکہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو حج کے دنوں میں مکہ آکر صرف دو رکعتیں پڑھایا کرتے تھے مگر حضرت عثمانؓ نے چار رکعتیں پڑھائیں ۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے یہ سن کر کہا کہ دیکھو ہمارا کام یہ نہیں کہ ہم فتنہ اٹھائیں کیونکہ خلیفہ وقت نے کسی حکمت کے ماتحت ہی ایسا کام کیا ہو گا، کوئی حکمت ہو گی جو ہمیں سمجھ نہیں آئی۔ پس تم فتنہ نہ اٹھاؤ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا کہ مَیں نے بھی ان کی اقتداء میں چار رکعتیں ہی پڑھی ہیں ۔ مَیں بھی نماز پڑھنے والوں میں شامل تھا اور میں نے بھی چار رکعتیں ہی پڑھی ہیں مگر نماز کے بعد میں نے ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ لی کہ خدایا تو ان چار رکعتوں میں سے میری وہی دو رکعتیں قبول فرمانا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم پڑھا کرتے تھے اور باقی دو رکعتوں کو میری نماز نہ سمجھنا۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں یہ کیسا عشق کا رنگ ہے جو حضرت عبداللہ بن مسعود میں پایا جاتا تھا کہ انہوں نے چار رکعتیں پڑھ تو لیں مگر انہیں وہ ثواب بھی پسند نہ آیا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پڑھی ہوئی دو رکعتوں سے زیادہ تھا اور دعا مانگی کہ الٰہی دو رکعتیں ہی قبول فرمانا چار نہ قبول کرنا۔ اب جو مقتدی تھے انہوں نے تو خلیفہ وقت کے پیچھے چار رکعتیں پڑھیں اور اطاعت میں پڑھ لیں ۔ نماز کا بھی ثواب ہے، اطاعت کا بھی ثواب ہے لیکن عبداللہ بن مسعود کا اپنا ایک نظریہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اطاعت میں نے کر لی لیکن اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ میں یہ نہیں چاہتا کہ اس سے زیادہ ثواب لوں جتنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے نمازیں پڑھ کے، ہمیں حاصل کرنے والا بنایا اور اس لئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ دو رکعتوں کا قبول کرنا۔

اور پھر حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ پھر خلافت کی اطاعت کا بھی اس میں کیسا عمدہ نمونہ پایا جاتا ہے۔ ان کو معلوم نہ تھا کہ حضرت عثمانؓ نے کس وجہ سے دو کی بجائے چار رکعتیں پڑھی ہیں حالانکہ یہ وجہ ایسی ہے جسے بہت سے لوگ صحیح قرار دیتے ہیں ۔ وہ بیوی کے گھر جاتے ہیں تو اسے سفر نہیں سمجھتے، بیٹے کے گھر جاتے ہیں تو اسے سفر نہیں سمجھتے، ماں باپ کے گھر جاتے ہیں تو اسے سفر نہیں سمجھتے پس یہ مسئلہ ٹھیک تھا۔ اور پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ احتیاط کہ باہر کے لوگوں کو دھوکہ نہ لگے اور اسلام میں کوئی رخنہ نہ پڑ جائے ان کے اعلیٰ درجہ کے تقویٰ کا ثبوت تھا۔ حضرت عثمانؓ کا بھی یہ بڑا اعلیٰ درجہ کا تقویٰ تھا، نیت تھی کہ ٹھوکر نہ لگے مگر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو اس وقت تک اس حکمت کا علم نہیں تھا کہ کیا وجہ تھی حضرت عثمانؓ کی چار رکعتیں پڑھنے کی لیکن انہوں نے یہ نہیں کیا کہ نماز چھوڑ دی ہو۔ بلکہ انہوں نے نماز بھی پڑھ لی اور خلافت کی اطاعت بھی کر لی اور بعد میں خدا تعالیٰ کے حضور عرض کر دیا کہ یا اللہ! میری دو رکعتیں ہی قبول ہوں چار نہ ہوں ۔ یہ کیسی فرمانبرداری اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم بہ قدم چلنے کی روح تھی جو ان میں پائی جاتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ باوجود اس بات کے کہ صحابہ بالکل اَن پڑھ تھے، سارے مکہ میں کہا جاتا ہے کل سات آدمی پڑھے لکھے تھے لیکن ساری دنیا پہ یہ لوگ چھا گئے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد22 صفحہ106تا 109) پس یہ اطاعت تھی جس سے وہ مقام ان کو حاصل ہوا اور فتحیاب ہوئے۔ پس یہ خاص نکتہ بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کے اس عمل سے خلیفہ وقت کی اطاعت کا بھی اظہار ہو گیا اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ مقام کا بھی اظہار ہو گیا۔ اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر حضرت عبداللہ بن مسعود کے طریق کی ہمیشہ تعریف فرمائی اور یہی حقیقی طریقہ ہے فتنوں سے بچنے کا۔ پس یہ وہ اسوہ ہے جو ہر احمدی کے لئے مشعل راہ ہے۔

ایک دفعہ حضرت عمرؓ رات کے وقت ایک قافلہ سے ملے۔ اندھیرے کی وجہ سے اہل قافلہ کو دیکھنا ممکن نہ تھا۔ اس قافلہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود بھی موجود تھے۔ حضرت عمرؓ نے ایک آدمی کو قافلہ والوں سے پوچھنے کے لئے بھیجا کہ وہ کہاں سے آئے ہیں ؟ اس آدمی کے استفسار پر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے جواب دیا۔ فَجُّ الْعَمِیْق۔ یعنی دور کے راستے سے۔ پھر پوچھا کہاں جا رہے ہو تو جواب انہوں نے دنیا کہ بَیْت الْعَتِیْق۔ یعنی خانہ کعبہ جا رہے ہیں ۔ حضرت عمر نے پوچھا کہ ان لوگوں میں کوئی عالم ہے؟ پھر ایک آدمی کو حکم دیا کہ ان کو آواز دیکر پوچھو کہ قرآن کریم کی سب سے عظیم آیت کون سی ہے۔ اس قافلے میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ تھے انہوں نے ہی اس شخص کو جواب دیا، حضرت عمرؓ کے پوچھوانے پر کہ کونسی آیت عظیم آیت ہے کہ اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ۔لَا تَأْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ(البقرۃ:256)۔ (آیت الکرسی)۔پھر پوچھا کہ قرآن کریم کی محکم ترین آیت کون سی ہے۔ تو یہ روایت میں آتا ہے کہ عبداللہ بن مسعودؓ نے جواب دیا اِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَآیِٔ ذِی الْقُرْبیٰ(النحل:91) حضرت عمرؓ نے اس آدمی سے یہ پوچھنے کا کہا کہ قرآن کی جامع ترین آیت کون سی ہے؟ اس پر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے یہ جواب دیا۔ فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ۔ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ۔(الزلزال:9-8) پھر پوچھو کہ قرآن کریم کی خوفناک ترین آیت کون سی ہے ۔ اس پر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے یہ آیت بتائی کہ لَیْسَ بِاَمَانِیِّکُمْ وَ لَآ اَمَانِیِّ اَہْلِ الْکِتٰبِ۔ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِہٖ۔ وَ لَا یَجِدْ لَہٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا(النساء:124) حضرت عمرؓ فاروق نے کہا کہ ان سے پوچھو کہ قرآن کریم کی سب سے امید افزا آیت کون سی ہے؟ جس پر عبداللہ بن مسعودؓ نے جواب دیا کہ قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ ۔ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا۔ اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔ (الزّمر:54)یہ ساری باتیں سننے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ کیا تمہارے درمیان عبداللہ بن مسعودؓ ہیں ؟ قافلہ کے لوگوں نے کہا کیوں نہیں ! اللہ کی قسم ہمارے درمیان موجود ہیں ۔ حضرت عمرؓ کو اس بات کا علم تھا کہ آپ علم فقہ سے لبریز ہیں (ماخوذ از نقوش صحابہ از خالد محمد خالد ترجمہ وتہذیب ارشاد الرحمن صفحہ68-69 مطبع عرفان افضل پریس بند روڈ لاہور)اور یہ سارے جواب سن کے حضرت عمرؓ کو یقینا ًپتہ لگ گیا ہو گاکہ عبداللہ بن مسعودؓ ہی ایسے عالمانہ جواب دے سکتے ہیں ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ بدر کے دن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا کہ تم ان قیدیوں کے بارے میں کیاکہتے ہو؟ حضرت ابوبکر نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لوگ آپ کی قوم اور آپ کے خاندان سے ہیں ۔ ان کو معاف فرما کر نرمی کا معاملہ فرمائیں شاید اللہ تعالیٰ ان کو توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔ پھر حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں نے آپ کو جھٹلایا اور تنگ کیا ہے آپ ان کی گردنیں اڑا دیں ۔ پھر حضرت عبداللہ بن رواحہ نے رائے پیش کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ گھنے درختوں والا جنگل تلاش کریں اور ان کو اس میں داخل کر کے آگ لگا دیں ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کی رائے سنی مگر کوئی فیصلہ نہ فرمایا اور اپنے خیمے میں تشریف لے گئے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ لوگ آپس میں باتیں کرنے لگ گئے کہ اب دیکھیں کس کی رائے پر عمل ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم خیمہ سے باہر تشریف لائے اور فرمانے لگے اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے دلوں کو اتنا نرم فرما دیتا ہے کہ وہ دودھ سے بھی زیادہ نرم ہو جاتے ہیں اور بعض لوگوں کے دلوں کو اتنا سخت کر دیتا ہے کہ وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو جاتے ہیں اور اے ابوبکر! تمہاری مثال حضرت ابراہیم جیسی ہے انہوں نے فرمایا تھا کہ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (ابراھیم:37) کہ پس جس نے میری پیروی کی تو وہ یقیناً مجھ سے ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو یقیناً تُو بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ ابوبکر تمہاری مثال حضرت عیسیٰؓ جیسی ہے انہوں نے فرمایا تھا کہ اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ ۔ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ(المائدۃ:119)کہ اگر تو انہیں عذاب دے تو آخر یہ تیرے بندے ہیں ، اگر تُو انہیں معاف کر دے تو یقیناً تُو کامل غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔ اور حضرت عمرؓ کو کہا کہ تمہاری مثال حضرت نوح علیہ السلام جیسی ہے جیسے انہوں نے فرمایا تھا رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا۔(نوح:27)کہ اے میرے رب! کافروں میں سے کسی کو زمین میں بستا ہوا نہ رکھ اور پھر حضرت عمرؓ کو یہ بھی فرمایا کہ تمہاری حضرت موسیٰ ؑجیسی مثال ہے جنہوں نے فرمایا تھا کہ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰٓی اَمْوَالِہِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ(یونس:89) کہ اے ہمارے رب ان کے اموال برباد کر دے اور ان کے دلوں پر سختی کر پس وہ ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چونکہ تم ضرورت مند ہو اس وجہ سے قیدیوں میں سے ہر قیدی یا تو فدیہ دے گا یا پھر اس کی گردن اڑا دی جائے گی۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حکم کی تعمیل سے سہل بن بیضاء کو مستثنیٰ قرار دیا جائے کیونکہ میں نے ان کو اسلام کا بھلائی کے ساتھ تذکرۃ کرتے ہوئے سنا ہے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ اس دن جتنا مجھے اپنے اوپر آسمان سے پتھروں کے برسنے کا ڈر لگا اتنا مجھے کبھی نہیں لگا۔ آخر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما ہی دیا کہ اس کو مستثنیٰ کیا جاتا ہے۔(ماخوذ از چار عبد اللہؓ از علامہ مفتی محمد فیاض چشتی صفحہ34-36 شاکر پبلیکیشنز اردو بازار لاہور2017ء) آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خاموش رہنا انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی پر محمول کیا اور اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کے خوف سے اور اللہ تعالیٰ کی سزا کے ڈر سے ان کی حالت غیر ہو گئی۔ عجیب مقام تھا ان کا خشیت اللہ کا۔ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق حضرت ابن مسعود صرف جمعرات کے روز وعظ فرمایا کرتے تھے جو بہت ہی مختصر اور جامع ہوتا تھا اور ان کا بیان ایسا دلچسپ اور شیریں ہوتا تھا کہ حضرت عبداللہ بن مِرداس بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ جب تقریر ختم کرتے تھے تو ہماری خواہش ہوتی تھی کہ کاش ابھی وہ کچھ اور بیان کرتے۔ شام کے وقت اس وعظ میں بالعموم آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں سے صرف ایک حدیث سنایا کرتے تھے اور حدیث بیان کرتے وقت آپ کے جذب و شوق اور عشق رسولؓ کا منظر دیدنی ہوتا تھا۔ آپ کے شاگرد مسروق کہتے ہیں کہ ایک روز آپ نے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سنائی اور جب ان الفاظ پر پہنچے کہ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ… کہ میں نے خدا کے رسول سے سنا تو مارے خوف اور خشیت سے آپ کے بدن پر ایک لرزہ طاری ہو گیا۔ یہانتک کہ آپ کے لباس سے بھی جنبش محسوس ہونے لگی۔ اس کے بعد احتیاط کی خاطر یہ بھی فرمایا کہ شاید حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاط فرمائے تھے یا اس سے ملتے جلتے الفاظ۔ حدیث بیان کرتے وقت آپ کمال درجہ احتیاط برتتے تھے۔ یہ اس وعید اور گرفت کی وجہ سے معلوم ہوتی ہے جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ غلط احادیث بیان کرنے والوں کی پکڑ ہو گی۔

ایک اور روایت سے بھی اس احتیاط کا اندازہ ہوتا ہے۔ عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ میں ایک سال تک حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے پاس آتا جاتا رہا۔ وہ حدیث بیان کرنے میں بہت احتیاط سے کام لیتے۔ ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی اللہ کے رسول نے فرمایا کے الفاظ کہہ کر آپ پر ایک عجیب کرب کی کیفیت طاری ہو گئی اور پیشانی سے پسینہ گرنے لگا پھر فرمانے لگے کہ اسی قسم کے الفاظ اور اس سے ملتے جلتے الفاظ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے تھے۔(سیرت صحابہ رسول ﷺاز حافظ مظفر احمد صفحہ283-284 نظارت اشاعت ربوہ 2009ء) آپ کی خدا خوفی کا یہ عالم تھا کہ فرمایا کرتے تھے کہ میں چاہتا ہوں کہ مرنے کے بعد اٹھایا نہ جاؤں اور حساب کتاب سے بچ جاؤں ۔

حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن مسعود بیمار ہوئے تو سخت خوفزدہ ہو گئے۔ ہم نے پوچھا کہ آپ کو کبھی کسی بیماری میں اتنا پریشان نہیں دیکھا جتنا اس میں ہیں ۔ فرمانے لگے یہ بیماری مجھے اچانک آ لگی ہے۔ مَیں ابھی خود کو آخرت کے سفر کے لئے تیار نہیں پاتا اس لئے پریشان ہوں ۔ آپ نے اپنی موت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ دن میرے لئے آسان نہیں ہو گا۔ میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو اٹھایا نہ جاؤں ۔ ابن مسعود سے مروی ہے کہ آپ نے یہ وصیت کی اور اس وصیت میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا۔(الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد3صفحہ117 ومن حلفاء بنی زھرہ بن کلاب… ’’عبد اللہ بن مسعود‘‘ دار الکتب العلمیۃ بیروت1990ء) اب بسم اللہ الرحمن الرحیم آجکل ہر ایک لکھتا ہے تو یہ خاص طور پر جو اس کا یہاں ذکر ہوا اس لئے کہ ان کوحقیقی ادراک تھا ، اللہ تعالیٰ کے رحمٰن اور رحیم ہونے کا ادراک تھا اس لئے اللہ تعالیٰ کی صفات کا واسطہ دے کر یہ بات شروع کی ، اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع کی تا کہ اس وصیت میں کوئی بھی ایسی بات ہو جو اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آ سکتی ہو تو رحمان اور رحیم خدا اس سے بچائے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود کے مالی حالات خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنے اچھے ہو گئے تھے کہ آخری عمر میں آپ نے اپنا وظیفہ لینا چھوڑ دیا تھا۔(اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ جلد3صفحہ387 دار الکتب العلمیۃ بیروت) اس فارغ البالی کی حالت میں جبکہ نوّے ہزار درہم آپ کا ترکہ تھا(الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد3صفحہ119 ومن حلفاء بنی زھرہ بن کلاب… ’’عبد اللہ بن مسعود‘‘ دار الکتب العلمیۃ بیروت1990ء) اپنے کفن کے بارے میں یہی وصیت کی کہ وہ سادہ چادروں کا ہو اور دو سو درہم کا ہو اور وفات کے بعد حضرت عثمان بن مظعون کی قبر کے ساتھ دفن کیا جائے۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے حضرت عثمانؓ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کی تدفین جنت البقیع میں ہوئی۔آپ کو رات کو دفن کیا گیا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کی تدفین کے بعد صبح ان کی قبر پر سے ایک راوی گزرے تو دیکھا کہ اس پر پانی چھڑکا ہوا تھا۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد3صفحہ118 ومن حلفاء بنی زھرہ بن کلاب… ’’عبد اللہ بن مسعود‘‘ دار الکتب العلمیۃ بیروت1990ء) عقیدت کا یہ حال تھا کہ لوگوں نے رات کو ہی اس قبر کی مضبوطی کے لئے پانی چھڑکا ہو گا۔

ابوالأحوَص بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی وفات کے بعد مَیں حضرت ابو موسیٰ اور حضرت ابو مسعود کے پاس حاضر ہوا۔ ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا کہ کیا ابن مسعود نے اپنے بعد کوئی مثل چھوڑا ہے، ان جیسا ہے کوئی اور؟ تو انہوں نے کہا کہ ایسا ہمارے جانے کے بعد تو شاید ممکن ہو، اس وقت ہمیں ایسا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ ابھی ہمارے درمیان اس وقت کوئی نہیں ، شاید بعد میں کوئی پیدا ہو جائے۔(الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد3صفحہ119 ومن حلفاء بنی زھرہ بن کلاب… ’’عبد اللہ بن مسعود‘‘ دار الکتب العلمیۃ بیروت1990ء) حضرت تمیم بن حرام بیان کرتے ہیں کہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ کی مجالس میں بیٹھا ہوں مگر حضرت عبداللہ بن مسعود سے زیادہ دنیا سے بے رغبت اور آخرت سے رغبت رکھنے والا کسی اور کو نہیں پایا۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ جلد4صفحہ201 ’’عبد اللہ بن مسعود‘‘ دار الکتب العلمیۃ بیروت1995ء)

دوسرے جن صحابی کا آج میں ذکر کروں گا ان کا نام حضرت قدامہ بن مظعون ہے۔ حضرت قدامہ بن مظعون حضرت عثمان بن مظعون کے بھائی ہیں اور حضرت عمرؓ کی بہن حضرت صفیہ آپ کے عقد میں تھیں ۔(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ  جلد 5 صفحہ 322- 323  قدامہ بن مظعون دار الکتب العلمیۃ بیروت1995ء) حضرت قدامہ بن مظعون کی ایک سے زائد شادیاں تھیں ۔ ایک اہلیہ ہند بنت ولید تھیں جن سے عمر اور فاطمہ پیدا ہوئے۔ ایک بیوی فاطمہ بنت ابو سفیان تھیں جن سے آپ کی بیٹی عائشہ پیدا ہوئیں ۔ اسی طرح ام ولد کے بطن سے حفصہ اور حضرت صفیہ بن خطاب کے بطن سے حضرت رملہ پیدا ہوئیں ۔(الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد3صفحہ306 ومن بنی جمح بن عمرو… ’’قدامۃ بن مظعون‘‘ دار الکتب العلمیۃ بیروت1990ء)قبول اسلام کے وقت ان کی عمر انیس برس کی تھی، گویا عین جوانی میں ہی انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور ہجرت مدینہ کے وقت آپ کا سارا خاندان مکّہ میں اپنے مکانوں کو بالکل خالی چھوڑ کر مدینہ چلا گیا۔ مدینہ میں حضرت عبداللہ بن سلمہ عجلانی نے اس خاندان کو اپنا مہمان بنایا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو آپ نے حضرت قدامہ اور ان کے بھائیوں کو مستقل رہائش کے لئے قطعات زمین مرحمت فرمائے۔(ستر ستارے از طالب الہاشمی صفحہ66-67 البدر پبلی کیشنز لاہور) حضرت قدامہؓ ابتدائی ایمان لانے والوں میں سے تھے۔ دونوں ہجرتوں یعنی ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ میں شامل ہوئے۔ ان کو غزوہ بدر اور احد سمیت تمام غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شامل ہونے کی توفیق ملی۔(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ جلد5صفحہ322 قدامہ بن مظعون دار الکتب العلمیۃ بیروت1995ء)،(الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد3صفحہ306 ومن بنی جمح بن عمرو… ’’قدامۃ بن مظعون‘‘ دار الکتب العلمیۃ بیروت1990ء)

جب حضرت عثمان بن مظعون کی وفات ہوئی تو آپ نے اپنے پیچھے ایک بیٹی چھوڑی جس کے متعلق آپ نے اپنے بھائی حضرت قدامہ کو تاکیدی نصیحت فرمائی۔ اس کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بن مظعون اور حضرت قدامہ دونوں میرے ماموں تھے۔ پس میں حضرت قدامہ کے پاس گیا اور ان سے درخواست کی کہ حضرت عثمان بن مظعون کی بیٹی کا نکاح مجھ سے کر دیں تو آپ نے مجھ سے بات پکی کر دی، رشتہ ہو گیا۔ مغیرہ بن شعبہ اس لڑکی کی والدہ کے پاس گئے اور انہیں مالی لحاظ سے رغبت دلائی اور لڑکی کی رائے بھی اپنی والدہ کے حق میں تھی، ایک اور رشتہ آیا اور لڑکی کی والدہ اور لڑکی کی رغبت یا رشتہ کرنے کارجحان دوسری طرف تھا۔ یہ معاملہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت قدامہ کو بلا بھیجا اور اس رشتہ کے بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے۔ مَیں اس کے لئے رشتہ چننے میں کوئی کوتاہی نہیں کروں گا۔ میرے بھائی کی بیٹی ہے اوروہ فوت ہو گیاہے ،مَیں اس کے رشتے کے لئے جو بہترین ہو گا وہی کروں گا چنانچہ میں نے جو پہلے ہاں کر دی ہے اس کو بہتر سمجھ کے کی ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ یتیم بچی ہے اس کی شادی اس کی مرضی سے ہو گی۔ اس کا باپ نہیں ہے، ٹھیک ہے تم نے بہترین کیا ہو گا لیکن اس بچی کی مرضی بھی پوچھو۔ دونوں رشتوں میں سےجہاں بچی کہے گی وہاں شادی ہو گی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد یہ فیصلہ کیا۔ یہ راوی جنہوں نے پہلے خود پیغام بھیجا تھا، رشتہ دار تھے، بھانجے تھے بیان کرتے ہیں کہ میرے بجائے اس کا نکاح مغیرۃ سے کر دیا،(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ جلد5صفحہ323 قدامہ بن مظعون دار الکتب العلمیۃ بیروت1995ء) دوسرا رشتہ جو پسند تھا اس کی ماں کو اورلڑکی کو اس سے رشتہ ہو گیا۔ تو یہ عورت کی آزادی رائے تھی جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا اور جو یتیم ہے اس کا خاص طور پر خیال رکھنے کو کہا کہ باپ کا سایہ اس پر نہیں ہے تو زیادتی نہ ہو جائے اس لئے لڑکی مرضی بہرحال دیکھی جانی چاہئے۔

حضرت قدامہ نے 36 ہجری میں 68 سال کی عمر میں وفات پائی۔ (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ جلد4 صفحہ376قدامۃ بن مظعون، دار الکتب العلمیۃ بیروت)

اللہ تعالیٰ یہ دین کا فہم و ادراک اور اطاعت ووفا کے حقیقی نمونے اور عشق رسولؐ کے اعلیٰ معیار ان صحابہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہمیں بھی حاصل کرنے، اپنانے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر قسم کے فتنوں کا حصہ بننے سے ہمیں ہمیشہ بچائے۔

نماز کے بعد میں دو جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔ پہلا مکرمہ امۃ الحفیظ بھٹی صاحبہ اہلیہ محمود بھٹی صاحب کراچی کا ہے۔یہ بڑا لمبا عرصہ صدر لجنہ ضلع کراچی رہی ہیں ۔ 27؍ستمبر کو 93 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔ اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ان کے والد کا نام ڈاکٹر غلام علی تھا اور ان کے والد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں شامل تھے۔ آپ کے والد فوج میں ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے اکثر مختلف شہروں میں رہتے تھے، تبادلے ہوتے رہتے تھے۔ جہاں بھی رہتے دینی ماحول بنا لیتے۔ یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کا بڑا عجیب طریق تھا۔ دینی ماحول بنا لیتے اور چند مہینوں کی تبلیغ سے آپ کے زیر اثر لوگ احمدی ہو جاتے اور پھر وہاں جماعت قائم کر کے اپنے گھر کو ہی ڈاکٹر صاحب جماعتی کاموں کے لئے سینٹر بنا لیتے۔ اور اس طرح انہوں نے بہت سی جماعتیں قائم کیں ۔ ان کی خواہش تھی کہ ان کی فیملی قادیان کے دینی ماحول میں رہے اس لئے اپنی فیملی کوقادیان میں رکھا۔ ڈاکٹر امۃ الحفیظ صاحبہ کی والدہ نے بھی اپنی تمام عمر جماعت کے لئے وقف کر دی۔ 1936ء سے قادیان کے دینی ماحول میں رہیں ۔ امۃ الحفیظ بھٹی صاحبہ نے قادیان میں میٹرک کے بعد دینیات کلاس میں درجہ رابعہ تک تعلیم پائی۔ اس دوران یہ سعادت بھی حاصل ہوئی کہ حضرت مصلح موعودؓ کے درس القرآن میں باقاعدگی سے شامل ہوتی رہیں ۔ جب سے ہوش سنبھالا جماعتی خدمت کی توفیق پائی۔ ان کی شادی ان کے خالہ زاد محمود بھٹی صاحب سے ہوئی اور اس رشتہ کا بھی یہ لمبا واقعہ ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھا ہے کہ میں نے کشفاً دیکھا تھا کہ کس طرح لڑکی کی والدہ نے ایک خط مجھے بھیجا ہے لڑکی کے ہاتھ اور ایک رشتے کے بارے میں پوچھا ہے اور اس کا نام بتایا ہے۔ چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد ہی وہ لڑکی آئی، خط آیا اور وہ ساری باتیں اسی طرح ہوئیں تو حضرت مصلح موعودؓ نے اس رشتہ کو بھی منظور فرمایا کہ یہ نظارہ سارا میں کشفاً ابھی تھوڑی دیر پہلے دیکھ چکا ہوں اورتھوڑی دیر بعدبعینہٖ اسی طرح ہوا جس طرح آپ نے دیکھا تھا چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ رشتہ منظور فرمایا۔ 1948ء میں شادی کے بعد کراچی میں رہائش پذیر ہونے کے ساتھ ہی لجنہ اماء اللہ کراچی میں ان کا خدمات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی اپنی تعلیم بھی انہوں نے جاری رکھی اور پھر بڑی عمر میں 1972ء میں سندھ یونیورسٹی سے ایم۔اے عربی کی ڈگری حاصل کی، بڑی اچھی فرسٹ کلاس کے ساتھ۔ 1975ء میں امۃ الحفیظ صاحبہ کے شوہر افریقہ ملازمت کے لئے گئے تو وقفے وقفے سے افریقہ جاتی رہیں ۔ لائبیریا ویسٹ افریقہ میں نیشنل صدر کی حیثیت سے کام کیا۔ پھر جنگ کی وجہ سے ملک چھوڑنا پڑا، واپس کراچی شفٹ ہو گئے۔ تحریک جدید کی پانچ ہزاری مجاہدین میں شامل تھیں ۔ 1991ء میں نائب صدر اور سیکرٹری تعلیم ضلع منتخب ہوئیں اور لجنہ مرکزیہ کی طرف سے پندرہ سالہ خدمات پرجو صد سالہ جشن تشکر میں سندات دی گئیں آپ کو بھی وہ سند ملی۔ 1997ء سے مئی 2018ء تک صدر لجنہ ضلع کراچی کی توفیق پائی اورا س عرصہ میں کراچی جو بہت بڑا شہر ہے اس کے طول و عرض میں انہوں نے دورے کئے، اجتماعات کئے اور شعبہ جات کی میٹنگز کیں ۔ انتظامی لحاظ سے اس کو مضبوط کیا اوراڑتالیس سے لے کر اٹھارہ تک تقریبا ستر سال کا عرصہ پر ان کی خدمات پھیلی ہوئی ہیں ۔

امۃ النور صاحبہ جو اس وقت ضلع کراچی کی صدر لجنہ ہیں وہ کہتی ہیں انہوں نے ستر سال میں بھر پور خدمات انجام دیں ۔ دل کی بہت نرم تھیں ۔ مسکراتے چہرے سے دوسروں کو ملنا، دھیمے لہجے میں بات سمجھانا آپ کی فطرت کا ایک حصہ تھا۔ پابندی وقت آپ کا اصول تھا۔ جو کام ذمہ لیتیں اسے فوراً ڈائری میں نوٹ کر لیتیں اس خیال سے کہ بھول نہ جائیں ۔ پھر کام ہونے پر متعلقہ شعبہ کو فوری فون کر کے بتاتیں مرکز سے جو ہدایت یا پیغام آتا کوشش ہوتی کہ اسی وقت متعلقہ شعبہ کو بتا دیں اور دفتر کھلنے کا انتظار نہ کریں اور ہمیشہ وفا کے ساتھ انہوں نے اپنے کام کو بھی نبھایا اور خلافت سے بھی کامل وفا اور اطاعت کا نمونہ دکھایا۔

امۃ الباری ناصر صاحبہ نے بھی ان کے ساتھ کام کیا انہوں نے یہی لکھا ہے کہ بڑی محبت سے کام لیتی تھیں ۔ کوئی افسرانہ انداز نہیں تھا۔ ان کے زمانے میں کراچی کی طرف سے پچاس کتب کی اشاعت ہوئی اور فارسی کتاب، جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فارسی کلام کا مجموعہ ہے وہ بھی کراچی کی لجنہ کو ان کی صدارت میں ہی شائع کرنے کا موقع ملا۔ بڑی تحمل مزاج تھیں اور امۃ الباری صاحبہ کہتی ہیں کہ میرے خیال میں ان کی سب سے بڑی خوبی ان کا صبر اور تحمل تھا۔ بہت معاملہ فہم تھیں خاص طور پر عائلی جھگڑوں کو سلجھانے میں دونوں طرف کی بات سن کر مناسب نصیحت کرتیں اور کوشش کرتیں کہ معاملات سلجھ جائیں اور یہی آجکل کے مسائل ہیں ہماری جماعت میں بھی۔ عائلی جھگڑے بہت زیادہ ہو گئے ہیں اللہ تعالیٰ فریقین کو بھی عقل دے کہ آپس میں سلجھا لیا کریں اور عہدیداروں کو بھی عقل دے کہ ان کو سلجھانے میں حقیقی کردار ادا کرنے والے ہوں ۔

ان کی بہو لکھتی ہیں کہ ہم بہوؤں کو بیٹیوں کی طرح رکھا اور ہم بلا جھجک آپ سے اپنے مسائل کی بات کر لیا کرتی تھیں ۔ اسی طرح وہاں لجنہ کی جنرل سیکرٹری صاحبہ بھی لکھ رہی ہیں کہ دفتر چلاتے ہوئے بالکل ایک برابری کے ساتھ ہمارے ساتھ کام کرتیں اور بڑی رہنمائی کرتیں ۔ پھر ان کی بہو لکھتی ہیں کہ قرآن کریم پڑھانے کی طرف خاص توجہ تھی۔ اپنے پوتے پوتیوں کو قرآن کریم پڑھایا، دینی تعلیم سے آراستہ کیا۔ ملازمین سے، غریبوں سے بھی حسن سلوک رکھتی تھیں بلکہ ان کے مرنے کے بعد ان کے گھر والوں کا بھی خیال رکھتیں اور ہمیشہ ان کے حق اداکرنے کی کوشش کرتیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے درجات بلند کرے ان کی اولاد کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

دوسرا جنازہ ہے عدنان وینڈن بروک(Adnan Vandenbroeck) صاحب کا جو بیلجیم کے نیشنل سیکرٹری امور خارجہ تھے۔ 29؍ستمبر کو وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ان کے والد رضوان وینڈن بروک صاحب بیلجیم جماعت کے پہلے بیلج احمدی تھے جنہوں نے ساٹھ کی دہائی میں بیعت کی تھی۔ عدنان صاحب نے اپنے باپ کی وجہ سے احمدیت قبول نہیں کی بلکہ تحقیق کی اور انہوں نے کہا مَیں تحقیق کرنا چاہتا ہوں اور تحقیق کے بعد 1994ء میں بیعت کی اور احمدی ہونے کے بعد عدنان صاحب بہت ایکٹو ہو گئے تھے، تبلیغ کے میدان میں بھی خاص طور پر بہت آگے آ گئے تھے۔ 1998ء میں ایک دفعہ بیلجیم میں تبلیغی مجلس ہوئی تو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے ان کا ذکر کرتے ہوئے حاضرین کو کہا تھا کہ میرے پاس یہ ایسا ٹرانسلیٹر ہے جو انگریزی سے فرانسیسی میں بھی ترجمہ کر سکتا ہے اور ڈَچ میں بھی ترجمہ کر سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت ایسی مجالس میں یہ کافی مددگار ہوتے تھے۔ ڈاکٹر ادریس صاحب بیلجیم کے امیر جماعت لکھتے ہیں کہ ان کو کینسر کا مرض لاحق تھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے پھر اس میں بہتری آنی شروع ہوئی۔ دوبارہ انہوں نے مشن ہاؤس آنا شروع کر دیا اور یہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کی وجہ سے میں بہتر ہو گیا ہوں کیونکہ اس مرض کے جو دوسرے مریض تھے ان میں سے تقریباً سب ہی فوت ہو گئے۔

جو بیلجیم کی پبلک ریلیشن کی ٹیم تھی اس کے شروع سے ہی ممبر تھے۔ بعد میں پھر 2016ء میں مَیں نے ان کو نیشنل سیکرٹری امور خارجہ مقرر کیا اور بڑی مستعدی سے یہ خدمات بجا لاتے رہے۔ جماعت کو حکومتی لیول پر متعارف کرانے میں ان کا بڑا کردار تھا۔ امیر صاحب لکھتے ہیں کہ بیماری کے باوجود میرے ساتھ حکومتی اداروں میں جایا کرتے تھے اور امور خارجہ کے حوالے سے جو خط و کتابت ہوتی تھی اسے باوجود بیماری کے ہسپتال سے بھی کرتے رہتے تھے۔ آخری وقت میں بھی بیلجیم میں ترجمانی کی ڈَچ ٹیم کے بھی انچارج تھے۔ بڑی محنت سے انہوں نے بعض کتب کے ترجمے بھی کئے، خطبات کے ڈچ ترجمے کو بھی فائنل ریویو کیا کرتے تھے اسی طرح تمام پریس ریلیزز کے ڈَچ ترجمے کو بھی ریویو کیا کرتے تھے۔ اور پھر یہ لکھتے ہیں کہ میرے مختلف سفروں کے دوران عدنان صاحب اس بات کا اظہار کیا کرتے تھے کہ یہ بیماری میرے لئے رحمت ثابت ہوئی ہے کیونکہ اس دوران مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب اور جماعتی لٹریچر پڑھنے کی توفیق ملی ہے اور خدا تعالیٰ کی ہستی پر میرے ایمان میں بہت ترقی ہوئی ہے۔ بیماری میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی تھے۔ آخری ایام میں اپنے بڑے بھائی کو تلقین کرتے رہے کہ تم دنیاداری کم کرو اور جماعت کو زیادہ وقت دیا کرو اور امیر صاحب کہتے ہیں مجھے بھی کہتے تھے کہ میرا بھائی شعبہ امور خارجہ میں کافی مفید ہو سکتا ہے اس حوالے سے اس سے خدمات لیا کریں ۔ ان کی والدہ بتاتی ہیں کہ ان کے خاندان میں احمدیت عدنان صاحب کے والد کی وجہ سے آئی جو سات سال عراق میں رہے جہاں انہیں قرآن کریم پڑھنے کا موقع ملا اور وہیں انہوں نے اسلام قبول کیا۔ جب وہ ہالینڈ آئے تو ان کی ملاقات امام بشیر صاحب سے ہوئی اور اس تبلیغ کے نتیجہ میں موصوف احمدیت میں شامل ہوئے۔ ایک دفعہ بیلجیم میں جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ہمیشہ ثابت قدم رکھے۔ عدنان صاحب کی والدہ کہتی ہیں کہ ان کے والد کو دنیاوی چیزوں سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ میرا بیٹا عدنان بھی والد کے نقش قدم پر چلنے والا تھا۔ نماز کا پابند، جماعت کی خدمت کرنے والا، خلافت سے وفا کا تعلق رکھنے والا اور خطبہ جمعہ ہر ہفتہ خود سنتا اور اپنے بچوں کو بھی سنواتا تھا۔ آپ جماعت کی خدمت کے لئے ہر وقت تیار رہتے۔ خلافت سے ان کابہت گہرا تعلق تھا۔

اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے، مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور جماعت کو اور ایسے جانثار عطا فرماتا چلا جائے۔ ان کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور بیٹی ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بھی دین پر قائم رکھے اور ایمان میں مضبوطی دے اور اپنے باپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 5؍ اکتوبر 2018ء شہ سرخیاں

    آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے دو جلیل القدر صحابہ، اطاعت و وفا کے پیکر حضرت عبد اللہ بن مسعود اور حضرت قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہما کی سیرت سے ایمان افروز پہلوؤں کا بصیرت انگیز بیان۔

    ’’مجھے بھی اپنی امت کے لئے وہ پسند ہے جو ابن مسعود نے پسند کیا۔‘‘

    باوجود اس بات کے کہ صحابہ بالکل اَن پڑھ تھے، سارے مکہ میں کہا جاتا ہے کل سات آدمی پڑھے لکھے تھے لیکن ساری دنیا پہ یہ لوگ چھا گئے۔ پس یہ اطاعت تھی جس سے وہ مقام ان کو حاصل ہوا اور فتحیاب ہوئے۔ پس یہ خاص نکتہ بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔

    ’’قوموں کی ترقی کے لئے اصل چیز اطاعت ہے‘‘۔

    آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مختلف مواقع پر حضرت عبد اللہ بن مسعود کے طریق کی ہمیشہ تعریف فرمائی۔

    سنت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے مطابق حضرت ابن مسعود صرف جمعرات کے روز وعظ فرمایا کرتے تھے جو بہت ہی مختصر اور جامع ہوتا تھا۔

    ’’یہ یتیم بچی ہے اس کی شادی اس کی مرضی سے ہوگی۔‘‘

    محترمہ امۃالحفیظ بھٹی صاحبہ سابق صدر لجنہ اماء اللہ کراچی اور محترم عدنان وینڈن بروک صاحب نیشنل سیکرٹری امور خارجہ جماعت احمدیہ بیلجیم کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

    فرمودہ مورخہ 05؍ اکتوبر 2018ء بمطابق05؍اخاء 1397 ہجری شمسی

    (بمقام مسجدبیت الفتوح،مورڈن،لندن، یوکے)

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور