توحید خالص کے قیام کے لئے آنحضرت ﷺ کی بے نظیر قربانیاں
خطبہ جمعہ 13؍ مارچ 2026ء
فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے حوالے سے دو جمعہ پہلے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے ایک پہلو ’’توحید کے لیے تڑپ‘‘ کا ذکر کیا تھا ۔
یہ وہ مقصد تھا جس کے قیام کے لیے آپؐ آئے اور اس کے لیے نہ صرف آپؐ کے اپنے قول و فعل سے تڑپ کا اظہار ہوتا ہے بلکہ آپؐ نے اپنے صحابہؓ میں ،اپنے ماننے والوں میں بھی توحید کی خاطر ہر قربانی دینے کے لیے تیار رہنے کی ایسی روح پھونکی جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
بہرحال آج بھی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے اسی پہلو پر ذکر کروں گا اور اس حوالے سے بعض صحابہؓ کی قربانیوں کا بھی ذکر آ جائے گا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی نمونہ اور تڑپ اور دعا کا ہی نتیجہ تھا کہ صحابہ ؓکو بھی یہ معیار حاصل ہوئے کہ وہ ہر قربانی کے لیے تیار ہوئے۔
توحید کے قیام کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سختیاں برداشت کرنے کا ایک روایت میں یوں ذکر آتا ہے۔
ایک دفعہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ کیا تم ہمارے معبودوں کے بارے میں یہ بات نہیں کہتے۔ آپؐ نے فرمایا :ہاں ۔اس پر وہ آپؐ کے گرد جمع ہو گئے۔ اس وقت کسی نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا کہ اپنے دوست کی خبر لو۔ حضرت ابوبکرؓ نکلے اور مسجد حرام میں پہنچے۔ آپؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ لوگ آپؐ کے گرد اکٹھے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا تم لوگوں کا بُرا ہو۔ پھر قرآن کریم میں آیا ہے آپؓ نے فرمایا کہ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ وَقَدْ جَآءَکُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّکُمْ(المؤمن:29) کیا تم محض اس لیے ایک شخص کو قتل کرو گے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا ربّ اللہ ہے اور وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے کھلے کھلے نشان لے کر آیا ہے۔ اس پر انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو چھوڑ دیا اور حضرت ابوبکر ؓکی طرف لپکے اور ان کو مارنے لگے۔ حضرت ابوبکرؓ کی بیٹی حضرت اسماء ؓکہتی ہیں کہ آپؓ ہمارے پاس اس حالت میں آئے کہ آپؓ اپنے بالوں کو ہاتھ لگاتے تھے تو وہ آپؓ کے ہاتھ میں آ جاتے تھے۔ اتنی زور سے بال کھینچے کہ وہ جڑ سے اکھڑ گئے تھے اور آپ ،حضرت ابوبکرؓ یہ کہتے جاتے تھے کہ تَبَارَکْتَ یَا ذَاالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ۔ اے جلال اور عزت والے !تُو بابرکت ہے۔
ایک روایت میں آتا ہے کہ ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک اور آپؐ کی ریش مبارک کو اس زور سے کھینچا کہ آپؐ کے اکثر بال گر گئے۔ اس پر حضرت ابوبکر ؓآپؐ کو بچانے کے لیے کھڑے ہوئے اور وہ کہہ رہے تھے اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّہ ۔کیا تم محض اس لیے ایک شخص کو قتل کرو گے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا ربّ اللہ ہے ۔اور حضرت ابوبکرؓرو بھی رہے تھے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر !ان کو چھوڑ دو۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے !مَیں ان کی طرف بھیجا گیا ہوں تاکہ میں قربان ہو جاؤں۔ اس پر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیا ۔ (السیرة الحلبیة جلد اول صفحہ 417 باب استخفائہﷺ و اصحابہ فی دار الارقم بن ابی الارقم۔ دار الکتب العلمیۃ بیروت 2002ء)
یعنی اس وقت جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم کر رہے تھے، مار رہے تھے اس وقت جب ابوبکرؓ بیچ میں آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا کہ چھوڑو تم ان کو۔
اسی طرح ایک راوی حارث بن حارث غامدی نے قریش کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم کرتے دیکھا تو آپ نے اپنے والد سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ یہ ایک واقعہ نہیں ہے۔ بےشمار واقعات اس طرح کے ہوتے رہتے ہیں۔ یہ ملتے جلتے واقعات ہیں لیکن کئی لوگوں نے دیکھے، کئیوں نے بیان کیے۔مختلف راوی ہیں۔ بعضوں کی تفصیل ہے بعضوں کی کم ہے۔ بہرحال جب انہوں نے دیکھا اور اپنے والد سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں جو ظلم کر رہے ہیں؟ انہوں نے، ان کے والدنے کہا کہ یہ لوگ اپنے صابی کے ارد گرد جمع ہیں۔ مکہ والے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو طنزاً صابی کہتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم بھی سواری سے اترے تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اللہ عزّوجلّ کی توحید اور اس پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے تھے اور وہ آپؐ کا انکار کر رہے تھے اور آپؐ کو تکلیف دے رہے تھے یہاں تک کہ نصف النہار کا وقت ہو گیا اور لوگ آپؐ کے ارد گرد سے ہٹ گئے۔ (المعجم الکبیر جلد 3 صفحہ304’’الحارث بن الحارث الغامدی‘‘ حدیث 3373، مکتبہ ابن تیمیہ القاھرۃ)
آپؐ پر ظلم کا ذکر مختلف تاریخوں کی کتابوں میں ملتا ہے۔ انہی سےاخذ کر کے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی بیان فرمایا ہوا ہے۔ دیباچہ تفسیر القرآن میں ایک جگہ آپؓ نے لکھا کہ
’’ایک دفعہ آپؐ بازار سے گزر رہے تھے تو مکہ کے اوباشوں کی ایک جماعت آپؐ کے گرد ہو گئی اور رستہ بھر آپؐ کی گردن پر یہ کہہ کر تھپڑ مارتی چلی گئی کہ لوگو ! یہ وہ شخص ہے جو کہتا ہے مَیں نبی ہوں۔ آپؐ کے گھر میں ارد گرد کے گھروں سے متواتر پتھر پھینکے جاتے تھے۔‘‘ آپؐ کے گھر میں گندی چیزیں پھینکی جاتی تھیں۔ ’’باورچی خانہ میں گندی چیزیں پھینکی جاتی تھیں جن میں بکروں اور اونٹوں کی انتڑیاں بھی شامل ہوتی تھیں۔ جب آپؐ نماز پڑھتے تو آپؐ پر خاک دھول ڈالی جاتی۔ ‘‘مٹی ڈالی جاتی تھی ’’حتّٰی کہ مجبور ہو کر آپؐ کو چٹان میں سے نکلے ہوئے ایک پتھر کے نیچے چھپ کر نماز پڑھنی پڑتی تھی ۔‘‘ (دیباچہ تفسیر القرآن، انوارالعلوم جلد20 صفحہ198)
لیکن
ہزاروں ہزار درود ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات پر کہ توحید کے قیام کے لیے جو تڑپ آپؐ کے سینے میں موجزن تھی وہ کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی کم نہ ہوئی اور ان ساری تکالیف کو گویا قلبی بشاشت کے ساتھ ،بڑی خوشی کے ساتھ قبول کیا اور پھر بھی بنی نوع انسان سے شفقت و محبت میں ذرّا برابر بھی کمی نہیں ہوئی۔
حضرت مصلح موعودؓ نے ہی لکھا ہے کہ ’’جب ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے واقعات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ دعویٰ ایک حقیقت بن کر نظر آتا ہے اور ہمیں قدم قدم پر ایسے واقعات دکھائی دیتے ہیں جو آپؐ کی اس عظیم الشان محبت اور شفقت کا ثبوت ہیں جو آپؐ کو بنی نوع انسان سے تھی ۔چنانچہ
آپؐ کو خدائے واحد کا پیغام پہنچانے کے لیے سالہا سال تک ایسی تکالیف میں سے گزرنا پڑا کہ جن کی کوئی حد ہی نہیں ۔
ایک دفعہ خانہ کعبہ میں کفار نے آپؐ کے گلے میں پٹکا ڈال کر اتنا گھونٹا کہ آپؐ کی آنکھیں سرخ ہو کر باہر نکل پڑیں۔ حضرت ابوبکر ؓنے سنا تو وہ دوڑے ہوئے آئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس تکلیف کی حالت میں دیکھ کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپؓ نے ان کفار کو ہٹاتے ہوئے کہا۔ خدا کا خوف کرو۔ کیا تم ایک شخص پر اس لیے ظلم کر رہے ہو کہ وہ کہتا ہےکہ خدا میرا رب ہے۔‘‘ (تفسیر کبیر جلد 9 صفحہ316، ایڈیشن 2023ء)
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں کھڑے ہوئے اور مشرکین مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تم کہو :لا الٰہ الا اللّٰہ ۔یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اگر یہ کہوگے تو کامیاب ہو جاؤ گے۔ اس بات پر قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ٹوٹ پڑے۔ ایک شخص اونچی آواز میں چیختے ہوئے آیا یعنی آپؐ پر حملہ کرنے کے لیے تو حارث بن ابی ہالہ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے۔ آپؓ نے ان لوگوں سے لڑنا شروع کر دیا یعنی حارث نے اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدہ کر دیا۔ پھر وہ سارے ان پر ٹوٹ پڑے یہاں تک کہ انہیں، حارث کو شہید کر دیا۔ (امتاع الاسماع جلد 6 صفحہ 297دارالکتب العلمیۃ بیروت 1999ء)
توحید کی منادی کے جرم کی پاداش میں کفار مکہ نے تین سال تک آپؐ کو اور آپؐ کے خاندان والوں کو شعب ابی طالب میں بھی اس طرح قید رکھا کہ ہر قسم کا سوشل بائیکاٹ کر دیا گیا ۔اور جب یہ مقاطعہ ختم ہوا تو ایک طرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کا پرچارپھر سے پورے مکہ میں پہلے سے عزم و ہمت کے ساتھ عام کر دیا۔توحید کا پرچارپہلے سے بڑھ کے عام کر دیا اور دوسری طرف قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دوبارہ مظالم شروع کر دیے۔
آپؐ کے سفر طائف کا بھی مشہور واقعہ ہے
کئی دفعہ پہلے بھی بیان ہوا ہے۔ وہاں پر آپؐ پر جو ظلم ہوا وہ بھی تاریخ میں مختلف رنگ میں بیان ہوا ہے۔ اسی حوالے سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے بھی لکھا ہے ایک جگہ اس واقعہ کو یوں بیان کیا ہے کہ ’’جب محاصرہ اٹھ گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کواپنی حرکات و سکنات میں ایک گونہ آزادی نصیب ہوئی تو آپؐ نے ارادہ فرمایا کہ طائف میں جا کر وہاں کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں۔‘‘ پہلے بھی بیان ہوا ہے لیکن اس میںتفصیل سے کچھ اَور طرح ہے ’’طائف ایک مشہور مقام ہے جو مکہ سے جنوب مشرق کی طرف چالیس میل کے فاصلے پر واقع ہے اور اس زمانہ میں قبیلہ بنو ثقیف سے آباد تھا۔کعبہ کی خصوصیت کو الگ رکھ کر طائف گویا مکہ کا ہم پلّہ تھا اور اس میں بڑے بڑے صاحب اثر اور دولت مند لوگ آباد تھے اور طائف کی اس اہمیت کا خود مکہ والوں کو بھی اقرار تھا ۔چنانچہ یہ مکہ والوں کا ہی قول ہے ‘‘جو قرآن شریف میں آیا ہے ’’کہ لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرَاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ۔‘‘یعنی اگر یہ قرآن خدا کی طرف سے ہے تو مکہ یا طائف کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا۔‘‘ غرض شوال 10نبوی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم طائف اکیلے تشریف لے گئے یا بعض روایتوں کی رو سے زید بن حارثہؓ بھی ساتھ تھے۔ وہاں پہنچ کر آپؐ نے دس دن قیام کیا اور شہر کے بہت سے رؤساء سے یکے بعد دیگرے ملاقات کی مگر اس شہر کی قسمت میں بھی مکہ کی طرح اس وقت اسلام لانا مقدر نہ تھا ۔چنانچہ سب نے انکار کیا بلکہ ہنسی اڑائی۔ آخر آپؐ نے طائف کے رئیس اعظم عبدِ یَالِیل کے پاس جا کر اسلام کی دعوت دی مگر اس نے بھی صاف انکار کیا بلکہ تمسخر کے رنگ میں کہا کہ ’’اگر آپؐ سچے ہیں تو مجھے آپؐ کے ساتھ گفتگو کی مجال نہیں اور اگر جھوٹے ہیں تو گفتگو لا حاصل ہے۔‘‘ یہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیا‘‘اور پھر اس خیال سے کہ کہیں آپؐ کی باتوں کا شہر کے نوجوانوں پر اثر نہ ہو جائے آپؐ سے کہنے لگا بہتر ہوگا کہ آپؐ یہاں سے چلے جائیں کیونکہ یہاں کوئی شخص آپؐ کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس کے بعد اس بدبخت نے شہر کے آوارہ آدمی آپؐ کے پیچھے لگا دیے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شہر سے نکلے تو یہ لوگ شور کرتے ہوئے آپؐ کے پیچھے ہو لیے اور آپؐ پر پتھر برسانے شروع کیے جس سے آپؐ کا سارا بدن خون سے تر بتر ہو گیا۔ برابر تین میل تک یہ لوگ آپؐ کے ساتھ ساتھ گالیاں دیتے اور پتھر برساتے چلے آئے۔ طائف سے تین میل کے فاصلہ پر مکہ کے رئیس عُتبہ بن رَبِیعہ کا ایک باغ تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں آکر پناہ لی اور ظالم لوگ تھک کر واپس لوٹ گئے۔ یہاں ایک سایہ میں کھڑے ہو کر آپؐ نے اللہ کے حضور یوں دعا کی اللّٰھُمَّ اِلَیْکَ اَشْکُوْ ضُعْفَ قُوَّ تِیْ وَ قِلَّۃَ حِیْلَتِیْ وَھَوَانِیْ عَلَی النَّاسِ۔ اَللّٰھُمَّ یَااَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ اَنْتَ رَبُّ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ وَاَنْتَ رَبِّیْ۔الخ یعنی’’اے میرے ربّ !مَیں اپنے ضعف قوّت اور قلت تدبیر اور لوگوں کے مقابلہ میں اپنی بے بسی کی شکایت تیرے ہی پاس کرتا ہوں۔ اے میرے خدا! تُو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے اور کمزوروں اور بے کسوں کا تو ہی نگہبان و محافظ ہے اور تُو ہی میرا پروردگار ہے…‘‘پھر اس میں آگے یہ بھی فرمایا اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ’’مَیں تیرے ہی منہ کی روشنی میں پناہ کا خواستگار ہوتا ہوں کیونکہ تُو ہی ہے جو ظلمتوں کو دور کرتا اور انسان کو دنیا و آخرت کے حسنات کا وارث بناتا ہے۔‘‘عتبہ و شیبہ اس وقت اپنے اس باغ میں موجود تھے۔ جب انہوں نے آپؐ کو اس حالت میں دیکھا تو دور و نزدیک کی رشتہ داری یا قومی احساس یا نامعلوم کس خیال سے اپنے عیسائی غلام عدّاس نامی کے ہاتھ ایک کشتی میں کچھ انگور لگا کر آپؐ کے پاس بھجوائے۔ آپؐ نے لے لیے اور عدّاس سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ’’ تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ اور کس مذہب کے پابند ہو۔‘‘ اس نے کہا ’’میں نینوا کاہوں اور مذہباً عیسائی ہوں۔‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’کیا وہی نینوا جو خدا کے صالح بندے یونس بن متٰی کا مسکن تھا۔ ‘‘عدّاس نے کہا ’’ہاں مگر آپؐ کو یونس کا حال کیسے معلوم ہوا؟‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’وہ میرا بھائی تھا کیونکہ وہ بھی اللہ کا نبی تھا اور میں بھی اللہ کا نبی ہوں۔‘‘ پھر آپؐ نے اسے اسلام کی تبلیغ فرمائی جس کا اس پر بہت اثر ہوا اور اس نے آگے بڑھ کر جوش اخلاص میں آپؐ کے ہاتھ چوم لیے۔ اس نظّارے کو دور سے کھڑے کھڑے عتبہ اور شیبہ نے بھی دیکھ لیا ۔چنانچہ جب عدّاس ان کے پاس واپس گیا تو انہوں نے کہا عدّاس !’’یہ تجھے کیا ہوا تھا کہ اس شخص کے ہاتھ چومنے لگا۔ یہ شخص تو تیرے دین کو خراب کر دے گا حالانکہ تیرا دین اس کے دین سے بہتر ہے۔‘‘ تھوڑی دیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باغ میں آرام فرمایا اور پھر وہاں سے روانہ ہوئے اور نخلہ میں پہنچے جو مکہ سے ایک منزل کے فاصلے پر واقع ہے۔ وہاں کچھ دن قیام کیا۔ اس کے بعد نخلہ سے روانہ ہو کر آپؐ کوہ حیرہ پر آئے اور چونکہ سفر طائف کی بظاہر ناکامی کی وجہ سے مکہ والوں کے زیادہ دلیر ہو جانے کا اندیشہ تھا’’ اور خیال تھا کہ اس طرح وہ اَور زیادہ ظلم کریں گے‘‘ اس لیے یہاں سے آپؐ نے کسی شخص کو زبانی مُطْعِمْ بن عَدِی کو کہلا بھیجا کہ مَیں مکہ میں داخل ہونا چاہتا ہوں کیا تم مجھے اس کام میں مدد دے سکتے ہو؟ مطعم پکا کافر تھا مگر طبیعت میں شرافت تھی اور ایسے حالات میں انکار کرنا شرفاء عرب کی فطرت کے خلاف تھا۔ اس لیے اس نے اپنے بیٹوں اور رشتہ داروں کو ساتھ لیا اور سب مسلح ہو کر کعبہ کے پاس کھڑے ہو گئے اور آپؐ کو کہلا بھیجا کہ آ جائیں۔ آپؐ آئے اور کعبہ کا طواف کیا اور وہاں سے مطعم اور اس کی اولاد کے ساتھ تلواروں کے سایہ میں اپنے گھر میں داخل ہو گئے۔ راستہ میں ابوجہل نے مطعم کو اس حالت میں دیکھا تو حیران ہو کر کہنے لگا کہ ’’اَمُجِیْرٌ اَمْ تَابِعٌ‘‘یعنی ’’کیا تم نے محمد کو صرف پناہ دی ہے یا اس کے تابع ہو گئے ہو؟‘‘ مطعم نے کہا ’’مَیں صرف پناہ دینے والا ہوں۔تابع نہیں ہوں۔‘‘ اس پر ابوجہل نے کہا ’’اچھا پھر کوئی حرج نہیں۔‘‘ مطعم کفر کی حالت میں ہی فوت ہوا…‘‘ یہ ایک نیکی تو اس نے کی تھی۔
’’حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت عائشہؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا آپؐ کو کبھی جنگِ اُحد والے دن سے بھی زیادہ تکلیف پہنچی ہے؟ آپؐ نے فرمایا:’’عائشہ !تیری قوم کی طرف سے مجھے بڑی بڑی سخت گھڑیاں دیکھنی پڑی ہیں۔‘‘ پھر آپؐ نے سفر طائف کے حالات سنائے اور فرمایا کہ اس سفر سے واپسی پر میرے پاس پہاڑوں کا فرشتہ آیا اور کہنے لگا کہ’’ مجھے خدا نے آپؐ کے پاس بھیجا ہے تاکہ اگر ارشاد ہو تو مَیں یہ پہلو کے دونوں پہاڑ ان لوگوں پر پیوست کر کے ان کا خاتمہ کر دوں‘‘’’جو پہلو میں دائیں بائیں پہاڑ ہیں ان کو ان لوگوں پر گرا دوں اور ان کا خاتمہ کر دوں۔ ‘‘آپؐ نے فرمایا:’’ نہیں نہیں! مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں میں سے وہ لوگ پیدا کردے گا جو خدائے واحد کی پرستش کریں گے۔ ‘‘‘‘ (سیرت خاتم النبیینؐ صفحہ 203تا206 نیو ایڈیشن)
لوگوں کی ہمدردی بھی غالب آگئی اور ساتھ اس بات پر بھی یقین کامل تھا کہ ایک روز ان کی نسلیں اسلام قبول کریں گی اور توحید پر قائم ہو جائیں گی۔
آپؐ کے توحید کی خاطر سختیاں برداشت کرنے کے واقعات
کو ایک جگہ حضرت مصلح موعوؓنے یوں بیان فرمایا ہے کہ
’’ آپؐ کو دشمنوں کی طرف سے تمام تکلیفیں توحید کی اشاعت کی وجہ سے دی گئیں۔ آپؐ کو مارا جاتا، کتّے اور لڑکے آپؐ کے پیچھے ڈالے جاتے۔ ایک دفعہ آپؐ طائف گئے تو وہاں کے لوگوں نے اس قدر مارا کہ آپؐ سر سے لے کر پاؤں تک لہو لہان ہو گئے۔‘‘یہ تفصیل مَیں نے ابھی بتائی ہے۔’’آپؐ تکلیف کی وجہ سے گر پڑتے لیکن جب اٹھتے تو وہ لوگ پھر آپؐ پر پتھر پھینکتے۔ ایسی حالت میں بھی آپؐ کے منہ سے یہی نکلتا خدایا! ان لوگوں کو معاف کر دے کہ یہ حقیقت سے بے خبر ہیں۔
ان تمام حالات میں سے گزرتے ہوئے آپؐ نے توحید کی تبلیغ کو نہیں چھوڑا اور یہی کہتے رہے کہ خواہ یہ کچھ کریں مَیں توحید کی تبلیغ نہیں چھوڑ سکتا۔
پھر جب آپؐ کے وصال کا وقت قریب آیا تو اس وقت بھی یہی کہتے فوت ہوئے۔‘‘ یعنی ساری زندگی آپؐ کی توحید پر تھی کہ آپؐ نے یہی فرمایا کہ’’میرے بعد شرک نہ کرنا ‘‘لکھتے ہیں کہ ’’اور مَیں تو سمجھتا ہوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے وقت بھی خدا تعالیٰ نے اپنی توحید کا ثبوت آپؐ کے والد کو قبل از ولادت اور والدہ کو جلد بعد از ولادت فوت کر کے دیا ‘‘ آپؐ کے والدین کے فوت ہونے میں بھی اصل میں اللہ تعالیٰ کی یہ منشاء تھی کہ اپنی توحید کا ثبوت دے۔
’’آپ کی بے کسی کی ابتداء‘‘ جب کہ نہ والد تھا نہ والدہ’’ اور شاندار انجام خود خدا تعالیٰ کی توحید کا بڑا ثبوت تھا۔ ‘‘ (سیرۃ النبی ﷺ جلد 3 صفحہ 188)
اس بات سے ہی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کی توحید کا آپؐ پرچار کرتے رہے اسی نے آپؐ کو بچپن سے لے کے آخر تک سنبھالا۔
آپؐ کا
عرب کے بازاروں میں بھی تبلیغ کا ذکر ملتا ہے ۔
چنانچہ لکھا ہے کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم توحید کے قیام کے لیے مکہ میں انفرادی اور اجتماعی تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے تھے اور اس کے علاوہ عرب کے بعض بازاروں میں چلے جایا کرتے اور وہاں خدائے واحد لا شریک کی طرف آنے کا پیغام دیتے۔
مکے سے باہر مختلف جگہوں پر لوگ اکٹھےہوا کرتے تھے جہاں خرید و فروخت بھی ہوتی اور لوگوں کا اجتماع بھی ہوتا۔ انہیں اسواق العرب کہا جاتا تھا ۔عرب کے بازار۔ ہندو پاک کی تہذیب میں میلہ کہتے ہیں۔ اس طرح میلہ لگتا تھا۔ عُکَاظ، مَجَنَّہ اور ذوالمجَاز قریش اور عرب کے بازار تھے۔ ان میں سب سے بڑا بازار عکاظ کا تھا جو مکہ سے تین رات کی مسافت پر تھا۔ عکاظ کے بازار میں عرب پورا شوّال کا مہینہ قیام کرتے۔ پھر مَجَنَّہ کے بازار کی طرف منتقل ہو جاتے تھے جو مکہ سے چند میل پر مرّالظہران میں تھا اور وہاں بیس(20) ذی قعدہ تک قیام کرتے۔ پھر ذوالمجاز کے بازار کی طرف منتقل ہو جاتے جو میدان عرفات سے تین میل کے فاصلے پر تھا اور وہاں ایام حج تک قیام کرتے تھے ۔اور ان سب جگہوں پہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جا کے تبلیغ کیا کرتے تھے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دس سال تک ٹھہرے رہے۔ ایام حج میں آپؐ عکاظ اور مجنہ کے میلوں میں جاتے اور لوگوں کو گھروں اور قیام گاہوں پر جا جا کر انہیں دعوت دیتے۔ آپؐ فرماتے: کون ہے جو مجھے پناہ دے گا، کون ہے جو میری مدد کرے گا تاکہ میں اپنے ربّ کا پیغام پہنچا دوں اور اس کے لیے جنت ہو۔ (السیرۃ النبویہ ابن کثیر الجزء الثانی صفحہ194دارالمعرفۃ بیروت 1976ء)(امتاع الاسماء جلد8صفحہ309 مکتبہ دارالکتب العلمیۃ بیروت)(فرہنگ سیرت صفحہ 205، 259)
حضرت رَبِیعہ بن عِبَادؓ بیان کرتے ہیں جنہوں نے زمانہ جاہلیت بھی پایا ۔بعد میں مسلمان ہو گئے کہ مَیں نے بازار ذو المجاز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے فرمارہے تھے اے لوگو !کہو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تم کامیاب ہو جاؤ گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بازار کی گلیوں میں آگے بڑھتے جاتے اور لوگ آپؐ پر شور مچاتے مگر میں نے کسی کو یہ کہتے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لی جائے۔ اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش نہ ہوتے اور برابر فرماتے جاتے تھے کہ اے لوگو!کہو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تم فلاح پا جاؤ گے۔ (مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحہ 499 ’’مسند ربیعۃ بن عباد‘‘ حدیث 16119 ،عالم الکتب بیروت 1998ء)
اپنوں اور غیروں دونوں کی طرف سے آپؐ کو اس توحید کے پیغام پہنچانے کی وجہ سے تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کھل کر عبادت بھی نہیں کر سکتے تھے۔
باوجود اس کے پیغام پہنچاتے تھے کہ عبادت میں تو یہ لوگ مخل نہ ہوں۔ حملے نہ کر دیں۔ جو مسلمان ہوتے تھے ان پر بھی ظلم ہوتا تھا ۔چنانچہ نمازوں اور ادائیگی کی عبادت کے بارے میں ایک روایت میں ذکر ہے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی ؓمکہ کے پہاڑ کی کسی گھاٹی میں جا کر لوگوں سے پوشیدہ نماز پڑھتے اور ایک عرصہ تک اس طرح کرتے رہے۔ پھر حضرت ابو طالب کو اس کی اطلاع ہو گئی اور انہوں نے دونوں کو نماز پڑھتے دیکھ لیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اے میرے بھتیجے! یہ کیا دین ہے جو تو نے اختیار کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا اے چچا !یہ دین خدا ،اس کے فرشتوں ،اس کے رسولوں اور ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام کا ہے ۔اور فرمایا :خدا نے مجھ کو اس دین کے ساتھ رسول بنا کر بندوں کی طرف بھیجا ہے اور اے چچا !تم اس بات کے زیادہ مستحق ہو کہ مَیں تمہیں نصیحت کروں اور تمہیں ہدایت کی طرف بلاؤں اور تم اس کے قبول کرنے اور میری امداد میں شریک ہونے کے حقدار ہو۔ حضرت ابوطالب نے کہا :اے بھتیجے!مَیں اپنے باپ دادا کے دین کو ترک نہیں کر سکتا مگر جب تک مَیں زندہ ہوں تم کو کوئی برائی دشمنوں سے نہیں پہنچ سکتی۔ مَیں بہرحال تمہاری مدد کروں گا۔ حضرت ابوطالب نے اپنے بیٹے حضرت علیؓ سے بھی دریافت کیا کہ تم نے یہ کیا دین اختیار کیا ہے؟تو انہوں نے کہا کہ میں خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا ہوں اور جو آپؐ لے کر آئے ہیں اس کی مَیں نے تصدیق کی ہے اور مَیں ان کے ساتھ خدا کی نماز پڑھتا ہوں۔ اس پر حضرت ابو طالب نے کہا کہ بےشک یہ تمہیں بھلائی کی طرف ہی بلائیں گے ۔پس تم ان کے ساتھ رہو۔ اپنے بیٹے کو کہا کہ ساتھ ہی رہنا۔ (تاریخ الطبری جلد1 صفحہ539 دارالکتب العلمیۃ بیروت 1987ء)
صحابہؓ پر بھی جیسا کہ میں نے کہا توحید کے قبول کرنے پر بہت ظلم ہوئے۔
قریش مکہ ایک طرف تو اپنی طاقت اور سیادت کے داؤ پیچ لڑا کر سفارتی اور دھمکی آمیز رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نہ کسی طریق سے تبلیغ اسلام سے روکنے کی کوشش کرتے رہے اور دوسری طرف اسلام قبول کرنے والوں پر ظلم و بربریت کا وہ بازار گرم کیا اور ایسا وحشیانہ سلوک کیا کہ نہ تفصیل لکھنے کی قلم میں طاقت ہے اور نہ بیان کرنے کا کسی کو حوصلہ ہو سکتا ہے۔
بہرحال پھر بھی جو کچھ بیان ہوا وہ بھی بہت سا ایسا ہے کہ انسان کو ہلا کے رکھ دیتاہے۔
حضرت بلالؓ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تو ان کو طرح طرح کا عذاب دیا جاتا تھا۔ جب لوگ حضرت بلالؓ کوعذاب دینے میں سختی کرتے تو حضرت بلالؓ احد احد کہتے۔ وہ لوگ کہتے اس طرح کہو جس طرح ہم کہتے ہیں تو حضرت بلالؓ جواباً کہتے کہ میری زبان اسےاچھی طرح ادا نہیں کر سکتی جو تم کہہ رہے ہو۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت بلال ؓکو جب ایذاپہنچائی جاتی اور مشرکین یہ ارادہ کرتے کہ ان کو اپنی طرف مائل کر لیں تو حضرت بلالؓ کہتے :اللہ اللہ۔
ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت بلالؓ ایمان لائے تو حضرت بلال ؓکو ان کے مالکوں نے پکڑ کر زمین پر لٹا دیا اور ان پر سنگریزے اور گائے کی کھال ڈال دی اور کہنے لگے کہ تمہارا ربّ لات اور عزّیٰ ہے مگر آپؓ احد احد ہی کہتے تھے۔ان کے مالکوں کے پاس حضرت ابوبکر ؓآئے اور کہا کہ کب تک تم اس شخص کو تکلیف دیتے رہو گے؟ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت بلالؓ کو سات اوقیہ میں خرید کر انہیں آزاد کر دیا۔ اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے یعنی دو سو اسّی درہم میں آپؓ نے ان کو خرید کے آزاد کیا۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزء الثالث صفحہ 175 ۔176’’بلال بن رباح‘‘،دار الکتب العلمیۃ بیروت 1990ء)(اسد الغابہ جلد 1 صفحہ 416 ’’بلال بن رباح‘‘ دار الکتب العلمیۃ بیروت )(شرح زرقانی جلد11 صفحہ197 مکتبہ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
ان کے علاوہ حضرت سُمَیَّہؓ، حضرت عمار بن یاسرؓ، حضرت خبابؓ اور
بیسیوں غلام اور آزاد مرد اور عورتیں تھیں کہ جو توحید پر ایمان لانے کے نتیجے میں کفار مکہ کے شرمناک اور دردناک مظالم کا نشانہ بنے۔ کفار مکہ کمزور مسلمانوں پر تو ظلم کرتے ہی تھے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک بھی ان سے محفوظ نہ تھی۔ جیسے ابھی پہلے بیان بھی ہو چکا ہے۔ اور اگر دیکھا جائے تو سب سے زیادہ اذیت اور دکھ اور تکلیف کا سامنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی کرنا پڑا۔
یہ بھی تکلیف اور دکھ کم نہ تھا کہ جس کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھا یعنی سب سے زیادہ تعریف کیا گیا اس کے نام کو بگاڑ کر پکارا جاتا اور مذمم کہا جاتا یعنی سب سے زیادہ مذمت کیا جانے والا۔ نعوذ باللہ۔ جو اس بستی میں سب سے سچا انسان تھا اس کو کذاب اور جھوٹا کہا جاتا تھا۔ جو اس قوم کا سب سے زیادہ خیر خواہ تھا اس کو فریبی، لالچی اور دھوکے باز کہا جاتا تھا۔ جو اپنی جوانی اور صحت و تندرستی کو اور اپنے شب و روز کو اس قوم کی ہدایت و اصلاح اور فلاح و بہبود کے لیے وقف کیے ہوئے تھا اس کو مجنون، پاگل اور بیمار کہا جانے لگا اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن میں کپڑا ڈال کر اس طرح کھینچا جاتا کہ قریب ہوتا کہ سانس بند ہو جائے اور کبھی پتھر مارے جاتے اور کبھی گندگی آپ پر ڈالی جاتی۔
عروہ بن زبیرؓ نے بیان کیا میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے پوچھا وہ بدترین سلوک مجھے بتائیں جو مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا۔ انہوں نے کہا ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام کے حطیم (خانہ کعبہ کے ساتھ خالی جگہ جو تھی اس کے گرد چھوٹی دیوار ہے۔ اس علاقے کو حطیم کہتے ہیں) اس میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور اس نے کپڑا آپ کی گردن میں ڈال کر آپؐ کا گلا زور سے گھونٹا۔ اتنے میں حضرت ابوبکرؓ پہنچ گئے اور آ کر انہوں نے عقبہ کا کندھا پکڑا اور اسے دھکیل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہٹا دیا اور کہا:اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ۔ کیا تم ایسے شخص کو مارتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا ربّ اللہ ہے۔ (ماخوذ ازصحیح البخاری مترجم جلد 7 صفحہ332 کتاب مناقب الانصار باب ما لقی النبی ﷺ واصحابہ من المشرکین بمکۃ حدیث 3856، نظارت اشاعت)
پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں ،کئی دفعہ بیان بھی ہوا ہے کہ
جنگوں میں بھی آپؐ نے توحید کے لیے ہمیشہ غیرت کا مظاہرہ کیا ہے۔
جنگِ اُحد کا مشہور واقعہ ہے۔ ہم سنتے ہیں کہ جب ابوسفیان نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ،حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام لے کر کہا کہ کہاں ہیں یہ لوگ؟ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو کہا کہ جواب نہیں دینا کیونکہ اس وقت جواب دینا مسلمانوں کی کمزور حالت کی وجہ سے انہیں خطرے میں ڈال سکتا تھا اس لیے آپؐ نے خاموشی کاکہا۔ اس پر ابو سفیان نے کہا کہ ھُبَلکا بول بالا ہو۔ جب اس نے یہ کہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بے تاب ہو کر فرمایا :تم اس کو جواب دو۔تو صحابہؓ نے کہا :ہم کیا جواب دیں؟ آپؐ نے فرمایا:کہو اللہ سب سے بلند اور سب سے بزرگ ہے۔ ابو سفیان نے کہا ہمارے لیے عزّٰی ہے اور تمہارے لیے کوئی عزّٰی نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو جواب دو۔ انہوں نے کہا کہ ہم کیا کہیں؟ فرمایا: کہو اللہ ہمارا مددگار ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں۔ جہاں اللہ تعالیٰ کی ذات اور توحید کا سوال آیا وہاں آپؐ نے کسی خطرے کی پرواہ نہیں کی۔
پس
یہ اس وقت توحید کی غیرت تھی کہ آپؐ نے صحابہ ؓکو فرمایا کہ کہو: اللّٰہ اعلیٰ و اجل، اللّٰہ اعلیٰ و اجل۔ تم جھوٹ بولتے ہو۔ ھُبَل کی شان بلند نہیں۔ اللہ وحدہ لا شریک ہے ،معزز ہے اور اس کی شان بالا ہے۔ (صحیح البخاری کتاب المغازی باب غزوة أحد حدیث4043)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کا اقتباس میں پڑھتا ہوں۔ بار بار پڑھنے اور سننے والا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توحید کے قیام کے لیے مقام اور مرتبہ کا ہمیں پتہ دیتا ہے اور ہمارے لیے راہنما ہے کہ کس طرح ہم نے اس کا صحیح علم اور ادراک حاصل کرنا ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں :
’’میں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے( ہزار ہزار درود اور سلام اس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ افسوس کہ جیساحق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔ اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی۔ اِس لیے خدانے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اوّلین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔ ‘‘یہ خوبصورتی ہے اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کی بھی انتہا کی اور مخلوق سے ہمدردی کی بھی انتہا کی اور اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قریب آئیں ،توحید پر قائم ہوں اور اپنی دنیا و عاقبت سنواریں۔ آپؑ فرماتے ہیں:
’’وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریّتِ شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کیا گیا ہے۔ جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم ازلی ہے۔ ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔
ہم کافر نعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اِسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اِسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اِسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے۔ اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں۔‘‘
پس
خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے لیے توحید حقیقی کی پہچان کرنے کے لیے اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ایک وسیلہ ہیں۔
آپؑ فرماتے ہیں:
’’وہ لوگ جو اس غلط خیال پر جمے ہوئے ہیں کہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لاوے یا مرتد ہو جائے اور توحید پر قائم ہو اور خدا کو واحد لا شریک جانتا ہو وہ بھی نجات پا جائے گا اور ایمان نہ لانے یا مرتد ہونے سے اس کا کچھ بھی حرج نہ ہوگا… ایسے لوگ درحقیقت توحید کی حقیقت سے ہی بے خبر ہیں… مگر صرف واحد سمجھنے سے نجات نہیں ہو سکتی بلکہ نجات تو دو امر پر موقوف ہے۔(1) ایک یہ کہ یقین کامل کے ساتھ خداتعالیٰ کی ہستی اور وحدانیت پر ایمان لاوے۔(2) دوسرے یہ کہ ایسی کامل محبت حضرت احدیت جلّ شانہ کی اس کے دل میں جاگزین ہو کہ جس کے استیلاء اور غلبہ کا یہ نتیجہ ہو کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت عین اس کی راحتِ جان ہو جس کے بغیر وہ جی ہی نہ سکے۔‘‘ اتنا غلبہ ہو اس حالت میں۔’’اور اس کی محبت تمام اغیار کی محبتوں کو پامال اور معدوم کر دے۔ یہی توحید حقیقی ہے کہ بجز متابعت ہمارے سید ومولیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حاصل ہی نہیں ہوسکتی۔ کیوں حاصل نہیں ہو سکتی؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ خدا کی ذات غَیبُ الغیب اور وَراءُ الوراء اور نہایت مخفی واقع ہوئی ہے جس کو عقولِ انسانیہ محض اپنی طاقت سے دریافت نہیں کر سکتیں اور کوئی برہان عقلی اس کے وجود پر قطعی دلیل نہیں ہو سکتی کیونکہ عقل کی دوڑ اور سعی صرف اِس حد تک ہے کہ اس عالم کی صنعتوں پر نظر کرکے صانع کی ضرورت محسوس کرے مگر ضرورت کا محسوس کرنا اور شئے ہے اور اس درجہ عین الیقین تک پہنچنا کہ جس خدا کی ضرورت تسلیم کی گئی ہے وہ درحقیقت موجود بھی ہے یہ اَور بات ہے۔ ‘‘صرف کہنا کہ اس کا کوئی صانع ہونا چاہیے یہ کافی نہیں ہے بلکہ وہ ہے ،کون ہے اور زندہ خدا ہے۔ یہ اگر پتہ کرنا ہے تو پھراس کا علم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جڑنے سے ہی ملے گا۔ اور فرمایا:’’اور چونکہ عقل کا طریق ناقص اور ناتمام اور مشتبہ ہے اس لیے ہر ایک فلسفی محض عقل کے ذریعہ سے خدا کوشناخت نہیں کر سکتا بلکہ اکثر ایسے لوگ جو محض عقل کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کا پتہ لگانا چاہتے ہیں آخر کار دہریہ بن جاتے ہیں اور مصنوعا ت زمین و آسمان پر غور کرنا کچھ بھی ان کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔‘‘ یہی ہم آجکل دیکھتے ہیں۔مسلمانوں میں سے بہت سارے پڑھے لکھے لوگ ہیں جو دہریہ بن رہے ہیں۔ خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں اس لیے کہ ان کو سمجھ ہی نہیں آتی۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جڑ کے ان باتوں پر غور نہیں کیا جو آپؐ نے تعلیم دی ہے۔
فرمایا کہ ’’اور خدا تعالیٰ کے کاملوں پر ٹھٹھا اور ہنسی کرتے ہیں اور ان کی یہ حجت ہے کہ دنیا میں ہزارہا ایسی چیزیں پائی جاتی ہیں جن کے وجود کا ہم کوئی فائدہ نہیں دیکھتے اور جن میں ہماری عقلی تحقیق سے کوئی ایسی صنعت ثابت نہیں ہوتی جو صانع پر دلالت کرے بلکہ محض لغو اور باطل طور پر ان چیزوں کا وجود پایا جاتا ہے۔‘‘ افسوس وہ نادان نہیں جانتے۔ دلیل یہ دیتے ہیں کہ کوئی صانع نہیں۔ ہر چیز کا فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ ان کو پتہ ہی نہیں ہے کہ فائدہ ہے کہ نہیں کیونکہ علم نہیں ہے اس لیے وہ ایسی باتیں کر جاتے ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ’’ افسوس وہ نادان نہیں جانتے کہ عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا۔‘‘یہ نہیں ہے کہ اگر کسی بات کا علم نہ ہو تو اس چیز کا وجود نہیں ہوتا۔ ’’اِس قسم کے لوگ کئی لاکھ اِس زمانہ میں پائے جاتے ہیں جو اپنے تئیں اوّل درجہ کے عقلمند اور فلسفی سمجھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے وجود سے سخت منکر ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ اگر کوئی عقلی دلیل زبر دست ان کو ملتی تو وہ خداتعالیٰ کے وجود کا انکار نہ کرتے اور اگر وجود باری جلّ شانہ پر کوئی برہان یقینی عقلی ان کو ملزم کرتی۔ ‘‘یعنی منہ بند کرا دیتی ان کا۔ ’’تو وہ سخت بے حیائی اور ٹھٹھے اور ہنسی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے وجود سے منکر نہ ہو جاتے۔ پس کوئی شخص فلسفیوں کی کشتی پر بیٹھ کر طوفان شبہات سے نجات نہیں پا سکتا بلکہ ضرور غرق ہوگا اور ہر گز ہرگز شربت توحید خالص اس کو میسر نہیں آئے گا۔ اب سوچو کہ یہ خیال کس قدر باطل اور بدبودار ہے کہ بغیر وسیلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے توحید میسر آسکتی ہے اور اس سے انسان نجات پا سکتا ہے۔
اے نادانو !جب تک خدا کی ہستی پر یقین کامل نہ ہو اس کی توحید پر کیونکر یقین ہو سکے۔ پس یقیناًسمجھو کہ توحید یقینی محض نبی کے ذریعہ سے ہی مل سکتی ہے جیساکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے دہریوں اور بد مذہبوں کو ہزار ہا آسمانی نشان دکھلا کر خدا تعالیٰ کے وجودکا قائل کر دیا اور اب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور کامل پیروی کرنے والے ان نشانوں کو دہریوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ‘‘
آج بھی ہم نشان پیش کرتے ہیں۔’’بات یہی سچ ہے کہ جب تک زندہ خدا کی زندہ طاقتیں انسان مشاہدہ نہیں کرتا شیطان اس کے دل میں سے نہیں نکلتا اور نہ سچی توحید اس کے دل میں داخل ہوتی ہے اور نہ یقینی طور پر خداکی ہستی کا قائل ہو سکتا ہے۔ اور
یہ پاک اور کامل توحید صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعہ سے ملتی ہے۔ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 118تا121)
پس
یہ سچی توحید ہے جس کی تلاش کی ہمیں کوشش کرنی چاہیے ،جستجو کرنی چاہیے۔ اپنے ایمان کو اس معیار تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے جہاں ہر قربانی کے لیے ہم تیار ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی سچا عشق اپنے اندر پیدا کریں۔
اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کو توحید کے قیام کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے بھیجا ہے اور اس کے لیے ہم نے آپؑ کی بیعت کی ہے اس کے لیے اور پھر اس کے لیے ہمیں بھرپور کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اس کا حق ادا کرنے والے ہوں اور اس کے لیے دعا بھی کرنی چاہیے۔
رمضان کے ان بقایا دنوں میں خاص طور پر ہمیں یہ دعا کرنی چاہیے کہ توحید کے قیام اور اس کی غیرت کے لیے ہم سب سے آگے ہوں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے اور ہماری کمزوریوں کو دور فرمائے۔
اُمّتِ مسلمہ کے لیے گذشتہ جمعہ بھی میں نے کہا تھا دعا کریں۔ یہ بھی حقیقی توحید کے سمجھنے والے ہوں اور اس پر عمل کرنے والے ہوں۔ تبھی ان کی بقاہے۔ تبھی یہ دشمنوں کی دجالی چالوں سے بچ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو بھی یہ توفیق دے۔
نماز کے بعدمَیں آج بھی ایک
جنازہ غائب
پڑھاؤں گا جو
مکرم ذکر اللہ تائیو ایوب صاحب مربی سلسلہ
کا ہے جو گذشتہ دنوں اسّی (80)سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ ان کا تعلق نائیجیریاسے تھا۔ 1965ء میں ایک رؤیا کے ذریعہ احمدیت قبول کی۔ 1966ء میں مشنری ٹریننگ کالج گھانا میں داخلہ لیا وہاں سے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1969ء میں نائیجیریا واپس آئے۔ ایک سال تک خدمت سرانجام دینے کے بعد 1970ء میں شاہد کی ڈگری کے لیے جامعہ احمدیہ ربوہ میں داخلہ لیا۔ 1977ء میں آپ نے مولوی فاضل کا امتحان بھی پاس کیا۔ 1979ء میں شاہد کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد نائیجیریا آئے اور خدمت کا آغاز کیا اور وفات تک وہیں رہے۔ آپ نے تقریبا ً47؍سال تک خدمت کی توفیق پائی۔ نائیجیریا کے مختلف مقامات پر ان کو خدمت کی توفیق ملی۔ نائیجیریا میں نائب امیر کے طور پر بھی خدمت بجا لاتے رہے۔ صحافت ، جرنلزم میں پوسٹ گریجوایٹ کی ڈگری بھی انہوں نے حاصل کی ہوئی تھی۔ اس لیے اس حوالے سے بھی وہ کام کرتے رہے۔ جامعة المبشرین نائیجیریا کے پرنسپل بھی مقرر ہوئے۔ پہلے قائمقام پھر تین چار سال باقاعدہ پرنسپل رہے۔ بہترین کھلاڑی بھی تھے۔ کھیلوں سے بھی بڑا شغف تھا ان کا لیکن کبھی کھیلوں کو اپنی عبادتوں میں روک بننے نہیں دیا۔ ایک اچھے مصنف بھی تھے۔ماہر لسانیات اور شاعر بھی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔ سب سے چھوٹے بیٹے ان کے عبدالمجیب صاحب اس وقت نائیجیریا میں مبلغ سلسلہ کے علاوہ ریویو آف ریلیجنز نائیجیریا کے کوآرڈی نیٹر کے طور پر خدمت بجا لا رہے ہیں۔ واقف زندگی ہیں۔
مشنری انچارج طاہر عدنان صاحب کہتے ہیں کہ مرحوم بہت پرہیزگار، فرمانبردار اور جماعتی خدمت کے لیے ہر وقت تیار رہنے والے وجود تھے۔ کہتے ہیں مجھے 20؍سال سے زائد عرصہ تک انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے اور اس دوران آپ کے اعلیٰ کردار ،عاجزی ،انکساری ،خلافت اور نظام جماعت کے ساتھ غیرمعمولی وفاداری اور اطاعت کے بہت سے نمونے مشاہدہ کیے۔ کہتے ہیں جب میں مشنری انچارج بنا ہوں تو میرے سے وہ عمر میں بڑے تھے لیکن اس کے بعد انہوں نے کامل وفا اور ذمہ داری اور اطاعت کے ساتھ میری بات کو مانا اور اس پہ عمل کیا ۔
اسی طرح یوسف خالق صاحب مربی سلسلہ کہتے ہیں کہ بطور پرنسپل طلبہ کی تربیت پر غیر معمولی توجہ دیتے تھے۔ طلبہ میں ذمہ داری کا احساس پیدا کیا اور ہمیشہ اس بات کی تلقین کی کہ کسی بھی کام کے لیے عذر پیش نہ کریں۔ خلیفہ وقت کی ہدایات پر فوری عمل کرنے پر خاص زور دیتے تھے۔ عملی تربیت کے لیے آپ طلبہ کو تبلیغی مہمات پر بھی بھیجتے تھے۔ ہر کام کے لیے ہمیشہ اپنا ذاتی نمونہ پیش کیا جس نے طلبہ کی زندگیوں پر ایک گہرا اثر چھوڑا۔
مَیں نے ان کو دیکھا ہے۔ نہایت مخلص اور وفادار تھے اور بڑے عاجز انسان تھے۔
اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے ۔ان کے درجات بلند کرے۔
’’ہم کافر نعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اِسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اِسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اِسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے۔ اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)
توحید وہ مقصد تھا جس کے قیام کے لیے آپؐ آئے اور اس کے لیے نہ صرف آپؐ کے اپنے قول و فعل سے تڑپ کا اظہار ہوتا ہے بلکہ آپؐ نے اپنے صحابہؓ میں ،اپنے ماننے والوں میں بھی توحید کی خاطر ہر قربانی دینے کے لیے تیار رہنے کی ایسی روح پھونکی جس کی کوئی مثال نہیں ملتی
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی نمونہ اور تڑپ اور دعا کا ہی نتیجہ تھا کہ صحابہ ؓکو بھی یہ معیار حاصل ہوئے کہ وہ ہر قربانی کے لیے تیار ہوئے
ہزاروں ہزار درود ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات پر کہ توحید کے قیام کے لیے جو تڑپ آپؐ کے سینے میں موجزن تھی وہ کبھی بھی ایک لمحہ کے لیے کم نہ ہوئی اور ان ساری تکالیف کو گویا قلبی بشاشت کے ساتھ ،بڑی خوشی کے ساتھ قبول کیا اور پھر بھی بنی نوع انسان سے شفقت و محبت میں ذرّا برابر بھی کمی نہیں ہوئی
آپؐ کو خدائے واحد کا پیغام پہنچانے کے لیے سالہا سال تک ایسی تکالیف میں سے گزرنا پڑا کہ جن کی کوئی حد ہی نہیں (حضرت مصلح موعودؓ)
توحید کی منادی کے جرم کی پاداش میں کفار مکہ نے تین سال تک آپؐ کو اور آپؐ کے خاندان والوں کو شعب ابی طالب میں بھی اس طرح قید رکھا کہ ہر قسم کا سوشل بائیکاٹ کر دیا گیا ۔اور جب یہ مقاطعہ ختم ہوا تو ایک طرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کا پرچارپھر سے پورے مکہ میں پہلے سے عزم و ہمت کے ساتھ عام کر دیا۔توحید کا پرچارپہلے سے بڑھ کے عام کر دیا اور دوسری طرف قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دوبارہ مظالم شروع کر دیے
آپؐ کی بے کسی کی ابتداءاور شاندار انجام خود خدا تعالیٰ کی توحید کا بڑا ثبوت تھا (حضرت مصلح موعودؓ)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم توحید کے قیام کے لیے مکہ میں انفرادی اور اجتماعی تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے تھے اور اس کے علاوہ عرب کے بعض بازاروں میں چلے جایا کرتے اور وہاں خدائے واحد لا شریک کی طرف آنے کا پیغام دیتے
اپنوں اور غیروں دونوں کی طرف سے آپؐ کو توحید کا پیغام پہنچانے کی وجہ سے تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کھل کر عبادت بھی نہیں کر سکتے تھے
قریش مکہ ایک طرف تو اپنی طاقت اور سیادت کے داؤ پیچ لڑا کر سفارتی اور دھمکی آمیز رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نہ کسی طریق سے تبلیغ اسلام سے روکنے کی کوشش کرتے رہے اور دوسری طرف اسلام قبول کرنے والوں پر ظلم و بربریت کا وہ بازار گرم کیا اور ایسا وحشیانہ سلوک کیا کہ نہ تفصیل لکھنے کی قلم میں طاقت ہے اور نہ بیان کرنے کا کسی کو حوصلہ ہو سکتا ہے
بیسیوں غلام اور آزاد مرد اور عورتیں تھیں کہ جو توحید پر ایمان لانے کے نتیجے میں کفار مکہ کے شرمناک اور دردناک مظالم کا نشانہ بنے۔ کفار مکہ کمزور مسلمانوں پر تو ظلم کرتے ہی تھے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک بھی ان سے محفوظ نہ تھی … اگر دیکھا جائے تو سب سے زیادہ اذیت اور دکھ اور تکلیف کا سامنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی کرنا پڑا
اے نادانو !جب تک خدا کی ہستی پر یقین کامل نہ ہو اس کی توحید پر کیونکر یقین ہو سکے۔ پس یقیناًسمجھو کہ توحید یقینی محض نبی کے ذریعہ سے ہی مل سکتی ہے جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے دہریوں اور بد مذہبوں کو ہزار ہا آسمانی نشان دکھلا کر خدا تعالیٰ کے وجودکا قائل کر دیا اور اب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور کامل پیروی کرنے والے ان نشانوں کو دہریوں کے سامنے پیش کرتے ہیں(حضرت مسیح موعودؑ)
یہ سچی توحید ہے جس کی تلاش کی ہمیں کوشش کرنی چاہیے ،جستجو کرنی چاہیے۔ اپنے ایمان کو اس معیار تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے جہاں ہر قربانی کے لیے ہم تیار ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی سچا عشق اپنے اندر پیدا کریں
رمضان کے ان بقایا دنوں میں خاص طور پر ہمیں یہ دعا کرنی چاہیے کہ توحید کے قیام اور اس کی غیرت کے لیے ہم سب سے آگے ہوں
اُمّتِ مسلمہ کے لیے بھی دعا کریں۔ یہ بھی حقیقی توحید کے سمجھنے والے ہوں اور اس پر عمل کرنے والے ہوں۔ تبھی ان کی بقاہے۔ تبھی یہ دشمنوں کی دجالی چالوں سے بچ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو بھی یہ توفیق دے
توحیدِ الٰہی کی تڑپ میں سیرت نبویﷺ کا ایمان افروز تذکرہ
نیز امتِ مسلمہ کوحقیقی توحید سمجھنے اور اس پر عمل کرنےکے حوالے سے دعا کی تحریک
مکرم ذکر اللہ تائیو ایوب صاحب مربی سلسلہ نائیجیریا کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب
فرمودہ 13؍مارچ 2026ء بمطابق 13؍امان1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔
