In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » تاریخِ احمدیت »

مقدمہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک

پروفیسر سعود احمد خان ۔ ربوہ
+ فہرست مضامین

سو سال پہلے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام پر پادری ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کی طرف سے اقدام قتل کا ایک جھوٹا مقدمہ دائر کیا گیا ۔ مسلمان مولویوں بالخصوص محمد حسین بٹالوی صاحب اور آریوں نے عیسائیوں کی طرف سے اس مقدمہ میں جھوٹی گواہیاں دیں۔ حضر ت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی بذریعہ الہام اس مقدمہ اور حکام کی طرف سے تہدید سے متعلق خبر دے دی تھی اور آپ کی باعزت بریت اور معاندین کی ذلت و اہانت کے متعلق بتا دیا تھا چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آیا ۔ اس مقدمہ سے متعلق حضور علیہ السلام نے اپنی تصنیف ’’ کتاب البریہ‘‘ میں تفصیل سے ذکر فرمایا ہے اور فرمایا کہ :۔ ’’ یہ حکم بری کرنے کا جو ۲۳ ؍ اگست ۱۸۹۷ ؁ء کو مجسٹریٹ ضلع کی قلم سے نکلا اور یہ نوٹس جو بطور تہدید لکھا گیا یہ دونوں باتیں ایسی ہیں جن سے ہماری جماعت کو فائدہ اٹھانا چاہئے کیونکہ ان کو ایک مدت پہلے خدا تعالیٰ سے الہام پاکر ان دونوں باتوں کی خبر دی گئی تھی۔ اب انہیں سوچنا چاہئے کہ کیونکر ہمار ے خدا نے یہ دونو ں غیب کی باتیں پیش از وقت اپنے بندہ پر ظاہر کردیں۔ جن لوگوں نے یہ نشان بچشم خود دیکھ لیا ہے چاہئے کہ وہ ایمان اور تقویٰ میں ترقی کریں اور خدا کے نشانوں کو دیکھ کر پھر غفلت میں زندگی بسر نہ کریں‘‘۔( کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳صفحہ ۳۰۱)

سو سال ہوئے کہ یکم اگست ۱۸۹۷ ؁ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف ایک پادری ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک نے امرتسر (ہندوستان) کے ڈپٹی کمشنر جو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بھی کہلاتا تھا ،کی عدالت میں ایک فوجداری مقدمہ دائر کیا کہ (نعوذباللہ ) آپ نے ایک شخص عبدالحمید کو ا س کے قتل کرنے کے لئے قادیان سے امرتسر بھیجا۔ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک عیسائیت کے اینگلیکن فرقہ کی چرچ مشنری سوسائٹی کی طرف سے ضلع امرتسر کے ایک گاؤں جنڈیالہ میں میڈیکل مشن کے انچارج تھے۔ وہ ایک پٹھان عورت کے بیٹے تھے جس نے ان کو پشاور کے مشن ہسپتال میں جنا تھا۔ انہو ں نے عدالت کو بتایا کہ ان کو اپنے باپ کے نام کا علم نہیں۔ایک بڑے پادری رابرٹ مارٹن کلارک نے لے پالک بنا کر ان کی پرورش کی اور ان کو اپنے نام مارٹن کلارک کے ساتھ ہنری نام دیا۔ انگریز بچوں کی طرح پرورش کی اور اعلیٰ تعلیم دلائی اور وہ ڈاکٹر ہو کر مشن کے ہسپتال کے انچارج بنا دئے گئے۔ مقدمہ انتہائی سنگین نوعیت کا تھا کیونکہ اقدام قتل کا کیس تھا جس کی انتہائی سزا پھانسی بھی ہو سکتی تھی۔ ایک عیسائی پادری نے الزام لگا یا ، انگریز پادری کا لے پالک ہونے کی وجہ سے انگریزی حکومت میں اعلیٰ حلقوں میں رسوخ حاصل تھا اس لئے ان کو زعم تھا کہ حکومت بھی ان کا ساتھ دے گی اور ایسے شواہد بھی موجود تھے جو آگے بیان کئے جائیں گے کہ واقعی حکومت کے ذمہ دار لوگ ذاتی حیثیت میں مقدمہ میں دلچسپی لے رہے تھے ۔

پس منظر

اس مقدمہ کا پس منظر یہ تھا کہ ۱۸۹۳ ؁ء میں جنڈیالہ میں پادری ہنری مارٹن کلارک نے مسلمانوں کو مناظرہ کا چیلنج دیا ۔ وہا ں احمدی کوئی نمایاں حیثیت میں تو نہ تھے لیکن مسلمانوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے درخواست کی کہ آپ اس چیلنج کو قبول فرمائیں۔ مختصر یہ کہ یہ مناظرہ ہوا اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ایک شرط یہ بھی چاہی کہ دونوں مذاہب اپنے زندہ مذہب ہونے کے ثبوت میں نشان نمائی کریں ۔ عیسائیوں نے پرانے نشانات پیش کرنا کافی سمجھا البتہ آپ کو اجازت دی کہ اگرآپ کوئی نیا نشان دکھائیں تو ان کو اعتراض نہ ہوگا۔ چونکہ جنڈیالہ ایک چھوٹا سا گاؤں ہے اس لئے تجویز ہوئی کہ مناظرہ کسی بڑے شہر میں ہو ۔ چنانچہ فریقین کی رضامندی سے مناظرہ امرتسر میں ہونا قرار پایا۔ مئی کے مہینہ میں مناظرہ دو ہفتے تک جاری رہا۔ دونوں طرف سے تحریری پرچے پیش ہوتے جو مقرر ہ محدود تعداد میں حاضرین میں سنا دئے جاتے ۔ عیسائیوں نے نشانات الٰہیہ کا تمسخر بھی اڑایا اور حضور سے سنت اللہ کے خلاف نشان کا مطالبہ کیا ۔ حضور ؑ نے سنت اللہ کے مطابق نشان کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور آخری پرچے میں حضور نے پیش گوئی فرمائی کہ دونوں فریقوں میں سے جو فریق حق کو جھٹلا رہا ہے وہ پندر ہ مہینے کے اندرہلاک ہو گا۔ بشرطیکہ وہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔ ساتھ ہی آپ نے یہ بھی فرمایا کہ فریق مخالف کے مناظر عبداللہ آتھم اب آنحضرت ﷺ کی صداقت کا نشان دیکھیں گے کیونکہ انہوں نے آنحضور ﷺ کو اپنی کتاب اندرونہ بائبل میں دجال لکھا ہے۔ اس لئے وہ اللہ کی قہری تجلی کا نشان بنیں گے۔ تو اسی وقت جائے مناظرہ میں عبداللہ آتھم نے اپنے کانوں کوہاتھ لگائے اور کہا کہ میں نے جان بوجھ کر نبء اسلام کی شان میں گستاخی نہیں کی ۔جو کچھ لکھا گیا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ان کی شان میں گستاخی کروں اور پھر وہ پندرہ مہینے بالکل خاموش رہے اور اسلام اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے خلاف ایک لفظ منہ سے نہ نکالا۔ بلکہ وہ یہی کہتے تھے کہ ان کو ہتھیار بند لوگ گھوڑوں پر سوار نظر آتے ہیں جو ان کو مارڈالیں گے ۔حالانکہ وہ سخت پہرے میں رہتے تھے اور کوئی آدمی ان کے قریب نہیں جا سکتا تھا۔ آخری دو مہینے تو باقاعدہ پولیس کا پہرہ بھی رہا لیکن چونکہ ان کا ضمیر ان کو ملامت کرتا تھا اس لئے وہ نفسیاتی مریض ہو گئے۔ یہی ان کا رجوع بحق تھا ورنہ ہر ایک غیر مسلم پر عذاب نہیں آتا ۔ اس لئے وہ پندر ہ ماہ میں فوت نہ ہوئے۔ عیسائیوں اور مخالفین نے شورمچایا کہ پیش گوئی جھوٹی نکلی۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اعلان فرمایا کہ اگر عبداللہ آتھم قسم کھا کر کہہ دیں کہ انہوں نے مخالفت سے توبہ نہیں کی اور اب بھی اسلام کو جھوٹا مذہب اور آنحضرت ﷺ کو دجال سمجھتے ہیں تو وہ ایک سال میں مر جائیں گے۔ انہوں نے قسم نہ کھائی اور اس طرح ان کا رجوع حق ثابت ہوگیا۔ آخر ۲۷؍ جولائی ۱۸۹۶ ؁ء کو وہ فوت ہو گئے ا ور ایک پہلو سے پیشگوئی پوری ہوئی کہ فریقین میں سے حق کو جھٹلانے والا سچے کے سامنے فوت ہو جائیگا۔ ا س طرح مناظرہ کو کو عیسائیوں کا دیا ہوا نام ’’ جنگ مقدس‘‘ اسلام کے حق میں سچا ثابت ہوا۔

اس مناظرہ اور اس سارے مخاصمہ کے بانی مبانی ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک تھے ۔ انہوں نے مسلمانوں کو چیلنج کیا ۔ ان کا خیال تھا کہ کوئی مقابلہ پر نہیں آئے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے چیلنج کو قبو ل فرما کر ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ عیسائی مناظر پندرہ روز ہ مناظرہ میں عیسائیت کو اسلام کے مقابلہ میں سچا مذہب ثابت نہ کر سکے۔ چنانچہ اس زمانہ میں ایک عیسائی امریکن مشنری نے اس مناظرہ کے بارے میں رپورٹ کرتے ہوئے ایک اخبار میں لکھا: The replies of the Christian debater had been inadequate کہ عیسائی مناظر کے جوابات بالکل ناکارہ تھے

علمی لحاظ سے بھی ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کو مایوسی ہوئی ۔ ادھر ۶؍ مارچ ۱۸۹۷ ؁ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشگوئی کے مطابق آریہ سماجی ہندو لیڈر پنڈت لیکھرام کی موت بذریعہ قتل واقع ہوئی اور قاتل پکڑا نہ گیا۔ آریوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر الزام لگایا کہ آپ نے قاتل بھیج کر لیکھرام کو قتل کروایا ہے۔ اس پر پولیس نے پوری کارروائی کی اور حضور کے مکانات کی اور قادیان میں خوب تلاشی ہوئی۔ آریوں کی نشاندہی پر مشکوک لوگوں کی پوچھ گچھ کی گئی، کوئی سراغ نہ ملا اور معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا اور حکومت نے مزید کوشش ترک کر دی۔ لیکن ڈاکٹر مارٹن کلارک پھر بھی پیچ و تاب میں رہے اور آخر انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف اقدام قتل کا الزام لگایا اور اس سازش میں اپنے ساتھ آریوں کو بھی ملا لیا حتیٰ کہ مولوی محمد حسین بٹالوی بھی اس میں شامل ہوگئے۔

عبدالحمید

اس سازش کا مزعومہ قاتل عبدالحمید جہلم کا رہنے والا نوجوان تھا۔ وہ ایک دفعہ قادیان حضرت مولانا نورالدین صاحب (خلیفۃ المسیح الاول) رضی اللہ عنہ کے پاس بغرض علاج آیا ۔ اس نے بتایا کہ وہ حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی کا بھتیجا ہے اس لئے حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے اس کے ساتھ شفقت کا سلوک کیا اور آپ کے علاج سے وہ ٹھیک بھی ہوگیا تو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بیعت کی خواہش ظاہر کی جو حضور نے نامنظور فرمائی۔ یوں بھی اکثر اوقات حضور ہر بیعت کنندہ کی بیعت پہلی درخواست پر قبول نہ فرماتے تھے بلکہ مزید تحقیق کا موقع دیا کرتے تھے لیکن یہاں یہ تصرف الٰہی کا کرشمہ تھا کیونکہ درخواست حضو ر کے ایک مقرب مرید صحابی مولوی برہان الدین کے بھتیجے نے کی اور سفارش حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے کی تھی۔ لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں ڈالا کہ بیعت قبول نہ کی جائے۔ کچھ عرصہ کے بعد وہ پھر قادیان آیا ۔ اس دفعہ اس کے تایا حضرت مولوی برہان الدین صاحبؓ بھی وہا ں موجود تھے ۔ انہوں نے اس کو وہاں دیکھ کر فرمایا کہ یہ یہاں کیوں آیا ہے اور پھر سب کو اس کے لچھن بتائے کہ بڑا لا ابالی قسم کا نوجوان ہے۔ کوئی کام نہیں کرتا ، آوارہ پھرتا رہتا ہے۔ کبھی کسی فرقے میں کبھی کسی فرقے میں جاتا ہے۔ حتی کہ ہندو اور عیسائی بھی بن چکا ہے ۔ اس کو اپنے حلوے مانڈے سے غرض ہے۔ جس کے پاس جاتا ہے وہاں اس کی نئے ہونے کی وجہ سے خاطر مدارات کی جاتی ہے۔ جب اس میں کمی آ جاتی ہے تو پھرکہیں جا کر کچھ اور بن جاتا ہے۔ اس کا ذکر غالباً حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی کیا اس لئے حضور نے اندر سے بذریعہ تحریر ارشاد فرمایا کہ اس کو یہاں نہ رکھا جائے ۔ چنانچہ اس کو جلد چلتا کیا گیا۔

عبدالحمید قادیان سے امرتسر میں امریکن مشن آیا ۔ وہاں پادری نورالدین اور انچارج پادری گرے سے ملا۔ اس نے کہا کہ میں ہندو پیدا ہوا تھا ، رلیا رام نام تھا پھرمسلمان ہوگیا اب قادیان سے آیا ہوں عیسائی ہونا چاہتاہوں۔ پادری گرے کو اس کی باتوں پر یقین نہ آیا تو پادری نورالدین کو کہا کہ اس کو کہو تمہاری مالی مدد نہیں کریں گے۔ اس پر نورالدین نے کہا کہ ا س کو پادری ہنری مارٹن کلارک کے پاس اینگلیکن مشن میں بھیج دیتے ہیں۔ یہ بات بہت معنی خیز ہے کہ پادری ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کا خیال کیوں آیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کوہنری مارٹن کلارک کے خیال کا پتہ تھا کہ وہ کسی شخص کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہتا تھا جو یہ کہے کہ اس کو مرزا صاحب نے ہنری کو قتل کرنے کے لئے بھیجا ہے۔ چونکہ یہ ایک لالچی شخص تھا اس لئے یہ لالچ میں آ کر ایسا کردار ادا کرنے پر راضی ہو جائے گا۔ چنانچہ وہ پادری ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے پاس چلا گیا۔

یہاں وہ تو یہ کہتا رہا کہ پہلے ہندو تھا پھر مسلمان ہوا اور اب قادیان سے یہاں عیسائی ہونے آیا ہے اور ہنری مارٹن کلارک کے ساتھ کے پادری عبدالرحیم وارث دین اور بھگت پریم داس اس کو یہی کہتے رہے کہ نہیں تم یہاں خون کرنے آئے ہو کیونکہ تم کہتے ہو کہ تم قادیان سے آئے ہو اس لئے ضرور تم کو مرزا صاحب نے ہنری مارٹن کلارک کو قتل کرنے کے لئے بھیجا ہے۔ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک نے اس کو اپنے ان ماتحت پادریوں کے ساتھ بیاس بھجوا دیا اور وہ اس کو ا س بات پر آمادہ کرتے رہے اسی عرصہ میں ڈاکٹر کلارک خود بھی بیاس آئے اور اپنے کیمرہ سے اس کی تصویر کھینچی۔ پھروہ امرتسر آیا یہاں بھی اس کی تصویریں فوٹو گرافر سے کھنچوائیں۔ فوٹو کیوں کھینچا اور اس کو کس طرح مزعومہ قتل کی سازش میں شر یک کیا گیا آگے مضمون میں بیان ہوگا۔ لیکن اس کے بہلانے پھسلانے ،ڈرانے دھمکانے میں کئی دن گذر گئے۔ اس عرصہ میں ڈاکٹر کلارک نے عبدالرحیم کو قادیان بھیجا۔ وہ حضر ت مسیح موعود علیہ السلام سے ملا اور آپ نے اس کو بتایا کہ عبدالحمید قادیان آیا تھا مگر لالچی آدمی ہے تم اس کو روٹی کپڑا دو تو وہ عیسائی ہو جائے گا۔ اور آپ نے بتایا کہ وہ مسلمان پیدا ہوا۔ پیدائشی نام رلیا رام نہ تھا۔

صفحہ نمبر: 1 (کل صفحات: 3)
پچھلا صفحہ