روزہ صرف اتنا نہیں ہے کہ کچھ عرصہ کے لئے کھانا پینا چھوڑ دیا

خطبہ جمعہ 15؍ اکتوبر 2004ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

تشھدو تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا

{یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ۔ اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍ ؕ فَمَنۡ کَانَ مِنۡکُمۡ مَّرِیۡضًا اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنۡ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ وَ عَلَی الَّذِیۡنَ یُطِیۡقُوۡنَہٗ فِدۡیَۃٌ طَعَامُ مِسۡکِیۡنٍ ؕ فَمَنۡ تَطَوَّعَ خَیۡرًا فَہُوَ خَیۡرٌ لَّہٗ ؕ وَ اَنۡ تَصُوۡمُوۡا خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ۔ شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَ الۡفُرۡقَانِ ۚ فَمَنۡ شَہِدَ مِنۡکُمُ الشَّہۡرَ فَلۡیَصُمۡہُ ؕ وَ مَنۡ کَانَ مَرِیۡضًا اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنۡ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ یُرِیۡدُ اللّٰہُ بِکُمُ الۡیُسۡرَ وَ لَا یُرِیۡدُ بِکُمُ الۡعُسۡرَ ۫ وَ لِتُکۡمِلُوا الۡعِدَّۃَ وَ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰٮکُمۡ وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ }(سورۃ البقرہ آیات 184تا 186)

ان آیات کا یہ ترجمہ ہے کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو تم پر روزے اسی طرح فرض کر دئیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ گنتی کے چند دن ہیں۔ پس جو بھی تم میں سے مریض ہو یا سفر پر ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اتنی مدت کے روزے دوسرے ایام میں پورے کرے۔ اور جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں ان پر فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ پس جو کوئی بھی نفلی نیکی کرے تو یہ اس کے لئے بہت اچھا ہے۔ اور تمہارا روزے رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن انسانوں کے لئے ایک عظیم ہدایت کے طو رپر اتارا گیا اور ایسے کھلے نشانات کے طور پر جن میں ہدایت کی تفصیل اور حق و باطل میں فرق کر دینے والے امور ہیں۔ پس جو بھی تم میں سے اس مہینہ کو دیکھے تو اس کے روزے رکھے اور جو مریض ہو یا سفر پر ہو تو گنتی پوری کرنا دوسرے ایام میں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا اور چاہتا ہے کہ تم سہولت سے گنتی کو پورا کرو اور اس ہدایت کی بنا پر اللہ کی بڑائی بیان کرو جو اس نے تم کو عطا کی تا کہ تم شکر کرو۔

کل سے انشاء اللہ تعالیٰ رمضان شروع ہو رہا ہے، بعض جگہ شروع ہو چکا ہے، میں نے سنا ہے یہاں بھی بعض لوگوں نے روزے رکھنے شروع کر دئیے ہیں۔ بہرحال یہ مہینہ جہاں مومنوں کے لئے، اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والوں کے لئے بے شمار برکتیں لے کر آتا ہے وہاں شیطان کے لئے یا شیطان صفت لوگوں کے لئے تکلیف کا مہینہ بھی بن جاتا ہے کیونکہ ایک حدیث میں ہے کہ شیطان کو اس مہینہ میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ کیونکہ جب مومن اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ تقویٰ پر چلنے کی کوشش کرتا ہے اور شیطان کے حملے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے تو یہی چیز اس کے لئے تکلیف کا باعث بنتی ہے۔ اور شیطان کو جکڑنے کا یہ مطلب ہے کہ ایک اللہ کا بندہ اللہ کی خاطر جب جائز چیزوں سے بھی اپنے آپ کو روک رہا ہوتا ہے تو ناجائز باتوں سے جن کے بارے میں شیطان وقتاً فوقتاً اس کے دل میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے پھر اس سے کس قدر بچنے کی کوشش کرے گا۔ ورنہ تو جو مضبوط ایمان والے نہیں ہیں، جن کے دل میں رمضان میں بھی رمضان کا احترام پیدا نہیں ہوتا وہ تو رمضان میں بھی مکمل طور پر شیطان کے قبضے میں ہوتے ہیں۔ وہ تو رمضان میں بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل ہوتے ہیں۔ وہ تو رمضان میں بھی لوگوں کے حق مارنے کے لئے تیار ہوتے ہیں اور موقع ملے تو حق مارتے ہیں، تکلیفیں پہنچاتے ہیں۔ غرض رمضان برکتوں والا مہینہ ہے ان لوگوں کے لئے جو خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا چاہتے ہیں اور عبادت کرتے ہیں۔ یہ برکتوں والا مہینہ ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے ہر اس نیکی کو بجا لانے کی کوشش کرتے ہیں اور بجا لا رہے ہوتے ہیں جس کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اور ہر اس برائی کو چھوڑ رہے ہوتے ہیں جس کو چھوڑنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ بلکہ بعض جائز چیزوں کو بھی ایک خاص وقت کے لئے اس لئے چھوڑ رہے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ روزوں کی فرضیت اور بعض چیزوں سے بھی پرہیز اس لئے ہے تاکہ تم تقویٰ میں ترقی کرو۔ اور تقویٰ کیا ہے؟ تقویٰ یہ ہے کہ گناہوں سے بچو، گناہوں سے بچنے کی کوشش کرو اور اس طرح بچو جس طرح کسی ڈھال کے پیچھے چھپ کے بچا جاتا ہے۔ اور انسان جب کسی چیز کے پیچھے چھپ کر بچنے کی کوشش کرتا ہے تو اس میں ایک خوف بھی ہوتا ہے۔ جس حملے سے بچ رہاہوتا ہے اس کے خوف کی وجہ سے وہ پیچھے چھپتا ہے۔ تو فرمایا کہ روزے رکھو اور روزے رکھنے کا جو حق ہے اس کوادا کرتے ہوئے رکھو تو تقویٰ میں ترقی کرو گے۔ ورنہ ایک روایت میں آیا ہے کہ خداتعالیٰ کو تمہیں بھوکا رکھنے کا کوئی شوق نہیں ہے، کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ تم نے جو غلطیاں اور گناہ کئے ہیں ان کے بد نتائج سے بچنے کے لئے میں نے ایک راستہ تمہارے لئے بنایا ہے تاکہ تم خالص ہو کر دوبارہ میری طرف آؤ۔ اور ان روزوں میں، رمضان میں روزہ رکھنے کا حق ادا کرتے ہوئے میری خاطر تم جائز باتوں سے بھی پرہیز کر رہے ہوتے ہو اور تمہاری اس کوشش کی وجہ سے مَیں بھی تم پر رحمت کی نظر ڈالتا ہوں اور شیطان کو جکڑ دیتا ہوں۔ تاکہ تم جس خوف کی وجہ سے روزہ رکھتے ہو اور روزہ رکھتے ہوئے اس ڈھال کے پیچھے آتے ہو، تقویٰ اختیار کرتے ہو تاکہ اس میں تم محفوظ رہو، اور تمہیں شیطان کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔ تو فرمایا کہ یہ تقوی جو ہے، یہ ڈھال جو ہے، یہ شیطان کے حملوں سے اور گناہوں سے بچنے کی کوشش جو ہے، یہ تمہارے روزے رکھنے کی وجہ سے تمہاری حفاظت کر رہی ہے۔ اس لئے ایک مجاہدہ کرکے جب تم اس حفاظت کے حصار میں آ گئے ہو تو اب اس میں رہنے کی کوشش بھی کرنی ہے۔ اب اس حصار کو، اس تقویٰ کو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے مضبوط سے مضبوط تر کرنا ہے۔ اور جو پہلے ہی نیکیوں پر قائم ہوتے ہیں وہ روزوں کی وجہ سے تقویٰ کے اور بھی اعلیٰ معیارحاصل کرتے چلے جاتے ہیں اور ترقی کرتے کرتے اللہ تعالیٰ کے انتہائی قرب پانے والے بنتے چلے جاتے ہیں۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ روزہ صرف اتنا نہیں ہے کہ کچھ عرصہ کے لئے کھانا پینا چھوڑ دیا تو تقویٰ کے اعلیٰ معیار قائم ہو جائیں گے۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ روزے کے ساتھ بہت ساری برائیوں کو بھی چھوڑنا ہو گا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی پہلے سے بڑھ کر کرنی ہو گی تبھی تقویٰ بھی حاصل ہو گا اور اس میں ترقی بھی ہو گی۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:’’ روزہ کی حقیقت سے بھی لوگ ناواقف ہیں۔ اصل یہ ہے کہ جس ملک میں انسان جاتا نہیں اور جس عالَم سے واقف نہیں اس کے حالات کیا بیان کرے۔ روزہ اتنا ہی نہیں کہ اس میں انسان بھوکا پیاسا رہتاہے بلکہ اس کی ایک حقیقت اور اس کااثر ہے جو تجربے سے معلوم ہوتا ہے۔ انسانی فطرت میں ہے کہ جس قدر کم کھاتا ہے اسی قدر تزکیۂ نفس ہوتا ہے اور کشفی قوتیں بڑھتی ہیں۔ خداتعالیٰ کا منشاء اس سے یہ ہے کہ ایک غذا کو کم کرو اور دوسری کو بڑھاؤ۔ ہمیشہ روزہ دار کو یہ مدّنظر رکھنا چاہئے کہ اس سے اتنا ہی مطلب نہیں ہے کہ بھوکا رہے بلکہ اسے چاہئے کہ خداتعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے تاکہ تبتّل اور انقطاع حاصل ہو‘‘۔ یعنی خداتعالیٰ سے لَو لگانے کی طرف توجہ پیدا ہو اور دنیا سے بے رغبتی پیدا ہو، دنیا کو چھوڑنے کی طرف توجہ ہو۔ ’’ پس روزہ سے یہی مطلب ہے کہ انسان ایک روٹی کو چھوڑ کر جو جسم کی پرورش کرتی ہے، دوسری روٹی کو حاصل کرے جو روح کی تسلی اور سیری کا باعث ہے۔ اور جو لوگ محض خدا کے لئے روزے رکھتے ہیں اور نرے رسم کے طور پر نہیں رکھتے انہیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح اور تہلیل میں لگے رہیں ‘‘ یعنی حمد بھی کریں اور تسبیح بھی کریں اور اللہ تعالیٰ کی بڑائی بھی بیان کریں اور اسی کو سب کچھ سمجھنے والے ہوں ’’جس سے دوسری غذا انہیں مل جاوے‘‘۔ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ۱۰۲، ۱۷ جنوری ۱۹۰۷)

تو فرمایا کہ روزوں کا تمہیں اس وقت فائدہ ہو گا جب جسمانی خوراک کم کرکے روحانی خوراک میں اضافہ کرو گے۔ صرف دنیا کی بے انتہا مصروفیتوں کے پیچھے نہ پڑے رہو۔ روزہ رکھ کے بھی سوائے یہ کہ صبح سحری کھالی اور پھر دنیاوی کامو ں اور دھندوں میں مصروف ہو گئے۔ ورنہ تو دنیا دار بھی صحت کے خیال سے یافیشن کے طور پر خوراک کم کر دیتے ہیں۔ تمہاری خوراک کی کمی جسم کی خوبصورتی یا صحت کے پیش نظر نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہو۔ اور یہ رضا تبھی حاصل ہو گی جب اللہ تعالیٰ سے تعلق پہلے کی نسبت زیادہ ہو گا۔ اس کی تسبیح اور اس کو تمام قدرتوں کا مالک سمجھتے ہوئے اس کی طرف زیادہ جھکو گے۔ تبھی روزہ شیطان سے بھی بچا کر رکھے گا اور تقویٰ میں بھی بڑھائے گا۔ ورنہ جیسا کہ مَیں نے کہا، بے شمار لوگ ایسے ہیں، مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ ہیں جن کے شیطان کھلے پھرتے ہیں، ان کو جکڑا نہیں جاتا اس لئے کہ وہ تقویٰ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہے ہوتے اور ان کو کوئی خوف اور ڈر نہیں ہوتا۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تقویٰ کے معیار حاصل کرنے کے لئے، نیکیوں میں بڑھنے کے لئے اور شیطان سے بچنے کے لئے، جو یہ ٹریننگ کورس ہے یہ کوئی اتنے لمبے عرصے کے لئے نہیں ہے کہ تم پریشان ہو جاؤ کہ اتنے دن ہم بھوکے پیاسے کس طرح رہیں گے۔ فرمایا کہ سال کے چند دن ہی تو ہیں۔ سال کے 365دنوں میں سے صرف 29یا 30دن ہی تو ہیں۔ اتنی تو قربانی تمہیں کرنی ہو گی اگر تم شیطان سے محفوظ رہنا چاہتے ہو۔ اور نہ صرف شیطان سے محفوظ رہو بلکہ اللہ فرماتا ہے کہ میری رضا بھی حاصل کرو۔ اگر تم چاہتے ہو اور یہ خواہش ہے کہ میری رضا حاصل کرو، میرا قرب پانے والے بنو۔ فرمایا کہ جو لوگ مریض ہوں یا سفر پر ہوں، کیونکہ بیماری بھی انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے، مجبوری کے سفر بھی کرنے پڑ جاتے ہیں توپھر جو روزے چھوٹ جائیں ان کو بعد میں پورا کرو۔ تو یہ سہولت بھی اللہ تعالیٰ نے اس لئے دی کہ فرمایا کیونکہ تم میری طرف آنے کے لئے، میرے سے تعلق پیدا کرنے کے لئے ایک کوشش کر رہے ہو، ایک مجاہدہ کر رہے ہو، اس لئے مَیں نے تمہاری بعض فطری اور ہنگامی مجبوریوں کی وجہ سے تمہیں یہ چھوٹ دے دی ہے کہ سال کے دوران جو چھٹے ہو ئے روزے ہوں وہ کسی اور وقت پورے کر لو۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میں یہ چھوٹ تمہیں تمہاری اس کوشش کی قدر کرتے ہوئے دے رہاہوں جو تم باقی دنوں میں اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالتے ہوئے میرا قرب پانے کے لئے میری خاطر کر رہے ہو۔ فرمایا کیونکہ یہ سب تمہارا عمل میری خاطر ہو رہا ہے اس لئے اگر تم عارضی طورپر بیمار ہو یا بعض سفروں اور مجبوری کی وجہ سے کافی روزے چھوٹ رہے ہیں اور مالی لحاظ سے اچھے بھی ہو تو فدیہ بھی دے دو یہ زائد نیکی ہے۔ اور بعد میں سال کے دوران روزے بھی پورے کر لو۔ اور جو مستقل بیمار ہیں یا عورتیں ہیں مثلاً دودھ پلانے والی ہیں یا جن کے پیدائش ہونے والی ہے وہ کیونکہ روزے نہیں رکھ سکتیں اس لئے ایسے مریضوں کے لئے اپنی حیثیت کے مطابق فدیہ دینا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ :’’ صرف فدیہ تو شیخ فانی یا اس جیسوں کے واسطے ہو سکتا ہے جو روزہ کی طاقت کبھی بھی نہیں رکھتے۔ ورنہ عوام کے واسطے جو صحت پا کے روزہ رکھنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ صرف فدیہ کا خیال اباحت کا دروازہ کھول دیتا ہے ‘‘۔ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ۳۲۲۔ ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۷)

یعنی ایک ایسا اجازت کا رستہ کھل جائے گا اور ہر کوئی اپنی مرضی سے تشریح کرنی شروع کر دے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو ’صرف‘ کا لفظ استعمال کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بعد میں روزے کی طاقت رکھتے ہوں اگر وہ فدیہ دے دیں تو یہ زائد نیکی ہے۔ بعد میں روزے بھی پورے کر لئے اور فدیہ بھی دے دیا۔ اور جو رکھ ہی نہیں سکتے اور رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے ان کے لئے فدیہ ہے۔ کیونکہ اس بارے میں کہ فدیہ کس طرح ہے اس میں مختلف مفسرین نے مختلف تشریحیں کی ہوئی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جو طاقت رکھتے ہیں وہ بہرحال فدیہ دے دیں اور جو عارضی مریض ہیں وہ بھی۔

پھر آپؑ فرماتے ہیں :’’ {وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْن} ایک دفعہ میرے دل میں آیا کہ یہ فدیہ کس لئے مقرر کیا گیا ہے؟ تو معلوم ہوا کہ توفیق کے واسطے ہے تاکہ روزہ کی توفیق اس سے حاصل ہو۔ خداتعالیٰ ہی کی ذات ہے جو توفیق عطا کرتی ہے۔ اور ہر شئے خداتعالیٰ ہی سے طلب کرنی چاہئے۔ خداتعالیٰ تو قادر مطلق ہے وہ اگر چاہے تو ایک مدقوق کو بھی روزہ کی طاقت عطا کر سکتا ہے۔ تو فدیہ سے یہی مقصود ہے کہ وہ طاقت حاصل ہو جائے اور یہ خداتعالیٰ کے فضل سے ہوتا ہے۔ پس میرے نزدیک خوب ہے کہ(انسان) دعاکرے کہ الٰہی! یہ تیرا مبارک مہینہ ہے او رمیں اس سے محروم رہا جاتا ہوں اور کیامعلوم آئندہ سال زندہ رہوں یا نہ، یا ان فوت شدہ روزوں کو ادا کر سکوں یا نہ۔ اور اُس سے توفیق طلب کرے تو مجھے یقین ہے کہ ایسے دل کو خداطاقت بخش دے گا‘‘۔ (ملفوظات جلد دوم صفحہ۵۶۳ البدر ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲)

تو فرمایا جن کو روزہ رکھنے میں عارضی روکیں پیدا ہو رہی ہیں اگر وہ فدیہ دیں تو اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے ہی توفیق بھی دے سکتا ہے۔ فدیہ بھی دیں اور ساتھ دعابھی کریں۔ پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ:’’ اصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف کی رخصتوں پر عمل کرنا بھی تقویٰ ہے۔ خداتعالیٰ نے مسافر اور بیمار کو دوسرے وقت(روزے) رکھنے کی اجازت اور رخصت دی ہے اس لئے اس حکم پر بھی تو عمل رکھنا چاہئے۔ میں نے پڑھا ہے کہ اکثر اکابر اس طرف گئے ہیں کہ اگر کوئی حالت سفر یا بیماری میں روزہ رکھتا ہے تو یہ معصیت ہے‘‘۔ یعنی گناہ ہے’’ کیونکہ غرض تو اللہ تعالیٰ کی رضا ہے، نہ اپنی مرضی۔ اور اللہ تعالیٰ کی رضا فرمانبرداری میں ہے۔ جو حکم وہ دے اس کی اطاعت کی جاوے اور اپنی طرف سے اس پر حاشیہ نہ چڑھا یاجاوے۔ ‘‘یعنی اس کی تشریحیں نہ کی جائیں۔ ’’ اس نے تو یہی حکم دیا ہے کہ{ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ}(سورۃ البقرہ آیت185)۔ اس میں کوئی قیداور نہیں لگائی کہ ایسا سفرہو یا ایسی بیماری ہو‘‘۔ فرمایا کہ:’’مَیں سفر کی حالت میں روزہ نہیں رکھتا اور ایسا ہی بیماری کی حالت میں۔ چنانچہ آج بھی میری طبیعت اچھی نہیں اور میں نے روزہ نہیں رکھا۔ ‘‘(ملفوظات جلد پنجم صفحہ ۶۷، ۶۸۔ الحکم ۳۱ جنوری ۱۹۰۷)

پھر آپؑ فرماتے ہیں :’’ جو شخص مریض اور مسافر ہونے کی حالت میں ماہ رمضان میں روزہ رکھتا ہے وہ خداتعالیٰ کے صریح حکم کی نافرمانی کرتا ہے۔ خداتعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ مریض اور مسافر روزہ نہ رکھے۔ مرض سے صحت پانے اور سفر کے ختم ہونے کے بعد روزے رکھے۔ خداتعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرنا چاہئے۔ کیونکہ نجات فضل سے ہے نہ کہ اپنے اعمال کا زور دکھا کر کوئی نجات حاصل کر سکتا ہے۔ خداتعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ مرض تھوڑی ہو یا بہت اور سفر چھوٹا ہو یا لمبا ہو بلکہ حکم عام ہے اور اس پر عمل کرنا چاہئے۔ مریض اور مسافر اگر روزہ رکھیں گے تو ان پر حکم عدولی کا فتویٰ لازم آئے گا۔ ‘‘(ملفوظات جلد پنجم صفحہ ۳۲۱، بدر ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۷)

بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ضرورت سے زیادہ سختی اپنے اوپر وارد کرتے ہیں یا وارد کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کل کا سفر کوئی سفر نہیں ہے اس لئے روزہ رکھنا جائز ہے۔ آپؑ نے یہی وضاحت فرمائی ہے کہ نیکی یہ نہیں ہے کہ زبردستی اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالا جائے بلکہ نیکی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پابندی کی جائے اور اپنی طرف سے تاویلیں اور تشریحیں نہ بنائی جائیں۔ جو واضح حکم ہیں ان پر عمل کرنا چاہئے۔ اور یہ بڑا واضح حکم ہے کہ مریض اور مسافرروزہ نہ رکھے۔ تو برکت اسی میں ہے کہ تعمیل کی جائے نہ کہ زبردستی اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوشش کی جائے۔

ایک روایت میں آتا ہے:’’ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے رمضان کے مہینے میں سفر کی حالت میں روزہ اور نماز کے بارے میں دریافت کیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایارمضان میں سفر کی حالت میں روزہ نہ رکھو۔ اس پر اس شخص نے کہا یا رسول اللہ! میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا اَنْتَ اَقْوٰی اَمِ اللّٰہ؟ یعنی تو زیادہ طاقتور ہے یا اللہ؟ یقینا اللہ تعالیٰ نے میری امت کے مریضوں اور مسافروں کے لئے رمضان میں سفر کی حالت میں روزہ نہ رکھنے کو بطور صدقہ ایک رعایت قرار دیاہے۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ وہ تم میں سے کسی کوکوئی چیزصدقہ دے پھر وہ اس چیز کو صدقہ دینے والے کو واپس لوٹا دے‘‘۔ (المصنف للحافظ الکبیر ابی ابکرعبدالرزاق بن ھمام الصنعانی الجزء الثانی صفحہ 565 باب الصیام فی السفر)

تویہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے صدقہ مل رہا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ ہدایت دی کہ قرآن جو کہ ایک کامل اور مکمل شرعی کتاب ہے، اس مہینے میں اتاری گئی ہے۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ہر سال جتنا قرآن نازل ہوا ہوتا تھا رمضان میں اس کی دوہرائی کرواتے تھے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے جو رمضان تھا اس میں دو دفعہ دوہرائی کروائی گئی۔ تو بتایا کہ اس میں ایک عظیم ہدایت ہے اس لئے تم بھی اس مہینے میں اس کو غور سے پڑھا کرو۔ ویسے تو پڑھنا ہی ہے لیکن اس مہینے میں خاص طور پر اس طرف توجہ دو، اس کی تلاوت کرو، اس کا ترجمہ پڑھو۔ اور جہاں جہاں درس کا انتظام ہے وہاں لوگ درس بھی سنیں۔ کیونکہ بعض باتوں کا ہر ایک کوپتہ نہیں لگ رہا ہوتا۔ تو تمہیں اس کا گہرا فہم، ادراک اور سمجھ بوجھ حاصل ہو گی۔ اور تمام امور اور تمام احکامات کی وضاحت ہو گی جن کو تم اپنی زندگیوں کا حصہ بنا سکتے ہو۔ دوسری آیت میں بھی دوبارہ تاکید کی گئی ہے کہ روزے رکھو اور مسافر اور مریض ان دنوں میں روزے نہ رکھیں اور بعد میں پورے کریں۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا اور جو تم پر اس کے انعامات ہیں ان کا شکر ادا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکو، اس کے شکرگزار بندے بنو اور یہ شکر گزاری بھی تمہیں نیکیوں میں بڑھائے گی اور تقویٰ میں بڑھائے گی۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں ’’{ شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ}(البقرۃ :186) سے ماہ رمضان کی عظمت معلوم ہوتی ہے۔ صوفیاء نے لکھا ہے کہ یہ ماہ تنویر قلب کے لئے عمدہ مہینہ ہے۔ کثرت سے اس میں مکاشفات ہوتے ہیں۔ صلوٰۃ تزکیہ نفس کرتی ہے اور صوم تجلی قلب کرتا ہے۔ تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ نفس امارہ کی شہوات سے بُعد حاصل ہو جائے‘‘۔ نفس امارہ بدی کی طرف مائل کرنے والا نفس ہے۔ اس سے دوری حاصل ہو جاتی ہے۔ ’’ اور تجلی قلب سے مراد یہ ہے کہ کشف کا دروازہ اس پر کھلے کہ خدا کو دیکھ لے۔ ‘‘(ملفوظات جلد دوم صفحہ ۵۶۱، ۵۶۲ البدر ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲)

فرمایا: پس روزہ رکھنے اور قرآن پڑھنے اور عبادت کرنے سے دل روشن ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے قریبی تعلق پیدا ہوتا ہے۔ نمازیں جو ہیں وہ نفس کو پاک کرتی ہیں۔ ان دنوں میں نمازوں پر بھی خاص طور پر زور دو تاکہ نفس مزید پاک ہوں۔ اور روزے سے دل کو روشنی ملتی ہے۔ اور دلوں کی روشنی یہ ہے(آپؑ نے فرمایا) کہ اللہ تعالیٰ سے ایسا قریبی تعلق پیدا ہو جاتا ہے گویا کہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔

ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم کا ہر عمل اس کی ذات کے لئے ہوتا ہے سوائے روزوں کے۔ پس روزہ میری خاطر رکھا جاتا ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ اور روزے ڈھال ہیں۔ اور جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ شہوانی باتیں اور گالی گلوچ نہ کرے اور اگر اس کو کوئی گالی دے یا اس سے جھگڑا کرے تو اسے جواب میں صرف یہ کہنا چاہئے کہ مَیں توروزہ دار ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد کی جان ہے روزہ داروں کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے زیادہ طیب ہے۔ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں جو اسے خوش کرتی ہیں۔ ایک جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے۔ اور دوسرے جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے کی وجہ سے خوش ہو گا۔ ‘‘(بخاری کتاب الصوم باب فضل الصوم)

تو اس میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں وہ یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ میری خاطر رکھا جاتا ہے۔ تو جو کام اللہ تعالیٰ کی خاطر کیاجائے اس میں دنیا کی ملونی ہو نہیں سکتی۔ اور جو کام اللہ تعالیٰ کی خاطر کیا جائے اس کا اظہار لوگوں کے سامنے یا ان سے تعریف کروانے کے لئے نہیں ہوتا بلکہ کوشش ہوتی ہے کہ نیکی چھپی رہے۔ اور جب وہ لوگوں سے چھپ کر نیکی کر رہا ہوتا ہے تواللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس کی جزا ہو جاتا ہوں۔ پھر فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے۔ حفاظت کا ایک ایسا مضبوط ذریعہ ہے جس کے پیچھے چھپ کر تم اپنے آپ کو شیطان کے حملوں سے محفوظ کر سکتے ہو اور وہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ روزے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی کرو اور برائیوں سے اور لڑائی جھگڑوں سے بھی بچو۔ یہاں تک کہ اگر کوئی تمہیں گالی بھی دے تو غصے میں نہ آؤ، طیش میں نہ آؤ بلکہ کہو کہ میں روزہ دار ہوں۔ رمضان میں ہر احمدی اگر یہ عہد کرے کہ ہر لیول(Level) پر گھروں میں بھی، ماحول میں بھی، باہر بھی اور دوستوں میں بھی اس کے مطابق عمل کرنا ہے تو اسی ایک بات سے کہ گالی کا جواب نہیں دینا، لڑنا جھگڑنا نہیں میں سمجھتا ہوں کہ آدھے سے زیادہ جھگڑے ہمارے معاشرے کے ختم ہو سکتے ہیں۔ تو ایسے لوگوں کو جو خوشیاں ملنی ہیں ان کے ساتھ سب سے بڑی یہ خوشی ہے۔ فرمایا کہ وہ اس روزے کی وجہ سے اپنے ربّ کا قرب حاصل کرے گا۔ تو یہ بھی واضح ہو گیا کہ روزے کے بعد یہ عمل جاری رہیں گے تو اللہ تعالیٰ کا قرب بھی حاصل ہو گا اور ہوتا رہے گا ورنہ تو یہ عارضی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ تو نہیں کہا کہ روزے میں، رمضان میں میرا قرب حاصل کرو اس کے بعد جومرضی کرتے رہو بلکہ جو نیکیاں اختیار کرو ان کو پھر مستقل اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لو۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ اعمال کی کیفیت اللہ تعالیٰ کے حضور سات طرح ہے۔ دو عمل ایسے ہیں جن کے کرنے سے دو چیزیں واجب ہو جاتی ہیں اور دو عمل ایسے ہیں جن کا ان کے برابر ہی اجر ہوتا ہے۔ اور ایک عمل ایسا ہے جس کا دس گنا اجر ہوتا ہے۔ اور ایک عمل ایسا ہے جس کا سات سو گنا اجر ہوتا ہے۔ اور ایک ایسا عمل ہوتا ہے جس کو بجا لانے کا اجر اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو معلوم نہیں ‘‘۔

وہ عمل جن سے دو چیزیں واجب ہو تی ہیں وہ یہ ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے کہ وہ اخلاص کے ساتھ اس کی عبادت کرتا ہواور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو تو اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے کہ وہ اس کا شریک ٹھہراتا ہو تو اس کے لئے جہنم واجب ہو جائے گی۔ اور جو برا عمل کرے گا اس کو اتنی ہی سزا ملے گی۔ اور جس نے نیکی کرنے کا ارادہ کیا مگر وہ اسے کر نہ سکا تو اسے نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملے گا۔ او رجو کوئی نیکی بجا لایا تو اسے دس گنا اجر ملے گا۔ اور جس نے اپنے مال کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا اس کے خرچ کردہ درہم اور دینار سات سو گنا بڑھا دئیے جائیں گے۔ اور فرمایا کہ روزہ ایک ایسا عمل ہے جو اللہ عزو جل کی خاطرکیا جاتا ہے اور روزہ رکھنے والے کا اجر صرف اللہ عزو جل کو ہی معلوم ہے۔ (الترغیب و الترھیب۔ کتاب الصوم۔ الترغیب فی الصوم مطلقا…)

تو جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا اس کی جزا میں خود ہوں جتنا چاہے اللہ تعالیٰ بڑھا دے۔ سات سو گنا بتا کر یہ بتا دیا کہ اس سے بھی زیادہ جزا ہو سکتی ہے۔ کیونکہ روزہ دار اپنے اندر ایک انقلابی تبدیلی پید اکرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس پر جب قائم رہنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر یہ سلسلہ ہے جو جزا کا چلتا چلا جاتا ہے۔

’’حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شعبان کے آخری روز مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :’اے لوگو! تم پر ایک عظیم اور بابرکت مہینہ سایہ فگن ہوا چاہتا ہے۔ اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے رکھنے فرض کئے ہیں۔ اور اس کی راتوں کو قیام کرنا نفل ٹھہرایا ہے…… ھُوَ شَھْرٌ اَوَّلُہٗ رَحْمَۃٌ وَاَوْسَطُہٗ مَغْفِرَۃٌ وَاٰخِرُہٗ عِتْقٌ مِّنَ النَّارِ۔ کہ وہ ایک ایسا مہینہ ہے جس کا ابتدائی عشرہ رحمت ہے اور درمیانی عشرہ مغفرت کا موجب ہے اور آخری عشرہ جہنم سے نجات دلانے والا ہے۔ …اور جس نے اس میں کسی روزہ دار کو سیر کیا اسے اللہ تعالیٰ میرے حوض سے ایسا مشروب پلائے گا کہ اسے جنت میں داخل ہونے سے پہلے کبھی پیاس نہ لگے گی۔ (صحیح ابن خزیمہ کتاب الصیام۔ باب فضائل شھر رمضان)

تو یہاں اس بات کی مزید وضاحت بھی ہو گئی کہ اس مہینے کے روزے ایک توفرض ہیں اس لئے بہانے بازی کوئی نہیں اور دوسرے صرف بھوکے نہیں رہنا بلکہ عبادتوں میں بڑھنا ہے۔ راتوں کو بھی عبادت کے لئے کھڑے ہونا ہے۔ تبھی ان اجروں کے وارث بنیں گے، ان کو حاصل کرنے والے ہوں گے اور اس جنت میں داخل ہونے والے ہوں گے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے شعبان کے آخری روز خطاب فرمایا اور فرمایا(یہ اسی روایت میں مزید باتیں شامل کی ہوئی ہیں اور ان میں زائد باتیں یہ ہیں ) جو شخص کسی بھی اچھی خصلت کو رمضان میں اپناتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہو جاتا ہے جو اس کے علاوہ جملہ فرائض کو ادا کر چکا ہو۔ اور جس شخص نے ایک فریضہ اس مقدس مہینے میں ادا کیا وہ اس شخص کی طرح ہو گا جس نے ستر فرائض رمضان کے علاوہ ادا کئے۔ اور رمضان کا مہینہ صبر کرنے کا مہینہ ہے اور صبر کا اجر جنت ہے اور یہ مواساۃ اور اخوت کا مہینہ ہے۔ اور یہ ایسا مہینہ ہے جس میں مومن کو برکت دی جاتی ہے یعنی بھائی چارے، محبت، ہمدردی، غم خواری کا مہینہ ہے۔ تو صبر ہر لحاظ سے ہونا ضروری ہے۔ یہ صبر کرنے کا مہینہ ہے۔ تو صبر کس طرح ہوا۔ روزہ رکھ کے ہم خوراک کے لحاظ سے بھی صبر کرتے ہیں۔ نفسانی خواہشات کے لحاظ سے بھی صبر کرتے ہیں۔ لوگوں کے رویوں پر خاموش رہنے کے لحاظ سے بھی صبرکرتے ہیں۔ اپنے حق کے مارے جانے پر خاموش رہنے پر بھی صبر کرتے ہیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ لڑنا جھگڑنا نہیں ہے۔ اور اس میں یہ حکم ہے کہ لوگوں سے ہمدردی، غمخواری اور درگزر کا سلوک کرنا ہے تو تبھی اس سے فائدہ اٹھایا جائے گا، تبھی اس سے برکتیں حاصل ہوں گی۔ اور اس وجہ سے اس صبر اور ہمدردی کی وجہ سے، ظلم پر خاموش رہنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ جہاں روحانی ترقی عطا فرمائے گا وہاں فرمایا کہ دنیاوی رزق میں بھی برکت ڈالے گا۔ جو اللہ تعالیٰ کی خاطر کوئی کام کرتا ہے اللہ تعالیٰ ضرور خود اس کا کفیل ہو جاتا ہے۔

حضرت ابو مسعود غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے رمضان کے شروع ہونے کے بعد ایک روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ’’ اگر لوگوں کو رمضان کی فضیلت کا علم ہوتا تو میری امت اس بات کی خواہش کرتی کہ سارا سال ہی رمضان ہو‘‘۔ اس پر بنوخزاعۃ کے ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے نبی! ہمیں رمضان کے فضائل سے آگاہ کریں۔ چنانچہ آپؐ نے فرمایا’’ یقینا جنت کو رمضان کے لئے سال کے آغاز سے آخر تک مزین کیا جاتا ہے پس جب رمضان کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرش الٰہی کے نیچے ہوائیں چلتی ہیں۔ ‘‘(الترغیب و الترھیب، کتاب الصوم، الترغیب فی صیام رمضان۔ ۔ )

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب رمضان کے مہینے کی پہلی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف دیکھتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی طرف دیکھتا ہے تو پھر اسے کبھی بھی عذاب نہیں دیتا۔ اور اللہ تعالیٰ ہر روز ہزاروں لاکھوں افراد کو جہنم سے نجات دیتا ہے۔ پس جب رمضان کی 29ویں رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ رمضان کی گزشتہ 28راتوں کے برابرلوگوں کو بخش دیتا ہے۔ (الترغیب والترھیب۔ کتاب الصوم۔ الترغیب فی صیام رمضان)

یہاں اس حدیث میں ہے وَاِذَا نَظَرَاللّٰہُ اِلَی عَبْدٍ لَمْ یُعَذِّبْہُ اَبَدًا۔ تو یہاں عَبْد کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یعنی جو کامل فرمانبردار ہو، اس کی طرف جھکنے والا ہو، اس کی عبادت کرنے والا ہو۔ فرمایا کہ جب میرے ایسے بندے ہوں گے، جب ایک دفعہ میں ان کو اپنی پیار کی چادر میں لپیٹ لوں گا تو پھر انہیں کوئی دشمن نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ بھی انہیں جنتوں کا وارث ٹھہرائے گا۔ اللہ تعالیٰ سب کو حقیقی عبد بننے کی توفیق عطا فرمائے۔

طبرانی الاوسط میں حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ ؐ فرما رہے تھے: رمضان آ گیاہے اور اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے مقفل کر دئیے جاتے ہیں۔ اور شیاطین کو اس میں زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے۔ ہلاکت ہو اس شخص کے لئے جس نے رمضان کو پایا اور اس سے بخشا نہ گیا۔ اور وہ رمضان میں نہیں بخشا گیا توپھر کب بخشا جائے گا۔ (الترغیب والترھیب۔ کتاب الصوم۔ الترغیب فی صیام رمضان)

تواس سے پہلی حدیث کی بھی مزید وضاحت ہو گئی کہ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام تر ایسے سامان پیدا کر دئیے ہیں جن سے ایک انسان اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بھی بن سکے پھر بھی اگر وہ عبد نہیں بنتا، رمضان سے فیض نہیں اٹھاتا، اس کی عبادت کرنے والا، اس کے احکامات پر عمل کرنے والا، نیکیوں کو پھیلانے والا نہیں بنتا، تو فرمایا کہ پھر اس پر صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ بلکہ اللہ کے رسول نے فرمایا کہ اس پر ہلاکت ہے کہ ان تمام سامانوں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باوجود بھی اپنے آپ کو نہ بخشوا سکا۔ پس اس بخشش کے حصول کے لئے حقوق اللہ اور حقوق العباد کے معیار قائم کرنے ہوں گے، ان کو ادا کرنا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اس کی توفیق دے۔

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ جس شخص نے رمضان کے روزے ایمان کی حالت میں اور اپنا محاسبہ نفس کرتے ہوئے رکھے۔ اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اور اگر تمہیں معلوم ہوتا کہ رمضان کی کیا کیا فضیلتیں ہیں تو تم ضرور اس بات کے خواہشمند ہوتے کہ سار اسال ہی رمضان ہو۔ ‘‘(الجامع الصحیح مسند الامام الربیع بن حبیب، کتاب الصوم باب فی فضل رمضان)

جو پہلی حدیث میں فرمایا تھا کہ ہزاروں اور لاکھوں کو بخش دے گا اس کی یہاں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ روزے ایمان کی حالت میں اگر ہوں گے۔ روزے بھی رکھ رہے ہو گے اور ایمان کی حالت میں رکھ رہے ہو گے، جو رکھنے کا حق ہے وہ ادا کر رہے ہو گے، اپنے نفس کا محاسبہ بھی کر رہے ہو گے، اپنے آپ کو بھی دیکھ رہے ہو گے، یہ نہیں کہ صرف دوسروں کی برائیوں پہ نظر ہو بلکہ اپنا بھی جائزہ لے رہے ہوگے، اللہ تعالیٰ کے خاص بند ے بننے والے ہو گے تو پھر برکتوں سے فیض پانے والے ہو گے۔

نضر بن شیبان کہتے ہیں کہ مَیں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے کہا کہ آپ مجھے ایسی بات بتائیے جو آپ نے اپنے والد سے سنی ہو اور انہوں نے ماہ رمضان کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست سنی ہو۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے کہا کہ ہاں مجھے سے میرے والد نے بیان کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ’’ اللہ تبارک و تعالیٰ نے رمضان کے روز ے رکھنا تم پر فرض کئے اور میں نے تمہارے لئے اس کا قیام جاری کر دیا ہے۔ پس جوکوئی ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے اس میں روزے رکھے وہ گناہوں سے ایسے نکل جاتا ہے جیسے اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہو۔ ‘‘ یعنی بالکل معصوم بچے کی طرح۔ (سنن نسائی۔ کتاب الصیام باب ذکر اختلاف یحی بن ابی کثیر و النضر بن شیبان فیہ)

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ ایک ڈھال اور آگ سے بچانے والا ایک مضبوط قلعہ ہے۔ ‘‘(مسند احمد بن حنبل جلد 2صفحہ 402مطبوعہ بیروت)

یہ قلعہ تو ہے لیکن اس ڈھال کے پیچھے اور اس قلعہ کے اندر کب تک اس قلعے میں حفاظت ہوتی رہے گی، کب تک محفوظ رہو گے اس کی وضاحت ایک اور روایت میں کر دی کہ جب تک اس کو جھوٹ یا غیبت کے ذریعے سے پھاڑ نہیں دیتے۔ تو رمضان میں روزوں کی جو برکتیں ہیں اسی وقت حاصل ہوں گی جب یہ چھوٹی چھوٹی برائیاں بھی جو بعض بظاہر چھوٹی لگ رہی ہوتی ہیں، آدمی معمولی سمجھ رہا ہوتا ہے ہر قسم کی برائیاں بھی ختم نہیں کرتے۔ ان میں بہت بڑی برائی جو ہے جس کو آدمی محسوس نہیں کرتا وہ جھوٹ ہے۔ اگر جھوٹ بول رہے ہو تواس ڈھال کو پھاڑ دیتے ہو۔ لوگوں کی غیبت کر رہے ہو چغلیاں کر رہے ہو، پیچھے بیٹھ کے ان کی باتیں کر رہے ہو تو یہ بھی تمہارے روزے کی ڈھال کو پھاڑنے والی ہیں۔ تو روزہ اگر تمام لوازمات کے ساتھ رکھا جائے تو ڈھال بنے گا۔ ورنہ دوسری جگہ فرمایا پھر تو یہ روزہ صرف بھوک اور پیاس ہی ہے جوآدمی برداشت کر رہا ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں روزے کو تمام شرائط کے ساتھ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور خا لصتہً اللہ تعالیٰ کی خاطر روزے رکھنے والے ہوں نہ کہ دنیا کے دکھاوے کے لئے۔ کوئی نفس کا بہانہ ہمارے روزے رکھنے میں حائل نہ ہو اور اس مہینے میں اپنی عبادتوں کو بھی زندہ کرنے والے ہوں۔ اللہ توفیق دے۔ اور جب نیکیوں کے راستے پر اس رمضان میں چلیں یہ بھی اس رمضان میں دعائیں کرتے رہنا چاہئے کہ نیکیاں رمضان کے ختم ہونے کے ساتھ ختم نہ ہو جائیں بلکہ ہمیشہ ہماری زندگیوں کا حصہ بنی رہیں۔ اور ہم میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کے پیاروں میں شامل ہو، اس کا پیار حاصل کرنے والا ہو اور ہمیشہ اس کی پیار کی نظر ہم پر پڑتی رہے۔ اور یہ رمضان ہمارے لئے، جماعت کے لئے غیرمعمولی فتوحات لانے والا ہو۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔

اب میں یو۔ کے۔ کی جماعت کے لئے چند باتیں مختصراً کہنا چاہتا ہوں۔ گزشتہ دنوں میں مَیں نے چند شہروں کا دورہ کیا تھا جس میں برمنگھم کی مسجد کا افتتاح بھی ہوا۔ بریڈ فورڈ کی مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا، یہ پلاٹ انہوں نے بڑی اچھی جگہ لیا ہے پہاڑی کی چوٹی پہ ہے، نیچے سارا شہر نظرآتا ہے۔ پلاٹ اتنا بڑا نہیں ہے لیکن امید ہے تعمیر کے بعد اس میں کافی نمازیوں کی گنجائش ہو جائے گی۔ Coveredایریا یہ زیادہ کر لیں گے۔ پھر ہارٹلے پول کی مسجد کا سنگ بنیاد رکھا، یہ بھی اچھی خوبصورت جگہ ہے لیکن یہاں جماعت چھوٹی ہے اور اب کچھ تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ بڑے عرصے سے تو چند مقامی لوگ تھے۔ اسائلم لینے ولے بھی اب وہاں گئے ہیں لیکن ان لوگوں کی ابھی کوئی خاص آمدنی نہیں ہے۔ اور انہوں نے انشاء اللہ تعالیٰ مسجد بنانی ہے۔ مسجد کا نقشہ بنیادی پلان بڑا خوبصورت ہے۔ ڈاکٹر حمید خان صاحب مرحوم نے اس بارے میں کافی کوشش کی تھی کہ وہاں مسجد بنے۔ پلاٹ وغیرہ لینے میں ان کی کافی ہمت اور مدد رہی آخر دم تک وہ اس کے لئے کوشش کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے اور درجات بلند فرمائے۔ اب جب مَیں نے وہاں پوچھاکہ مسجد بنا رہے ہیں تورقم کی وجہ سے وہ اس کا نقشہ کچھ چھوٹا کرنا چاہتے تھے۔ مَیں نے انہیں کہا ہے کہ رقم کی وجہ سے نقشہ چھوٹا نہیں کرنا۔ اللہ تعالیٰ مدد فرمائے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔

لیکن مجھے امیر صاحب نے سفر میں بتایا کہ کسی وقت میں انصار اللہ یو۔ کے۔ نے(یادداشت سے ہی بتایا تھا کوئی معین نہیں تھا۔ اب پتہ نہیں ابھی تک معین کیا ہے کہ نہیں )۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع سے یہ وعدہ کیا تھا کہ ہارٹلے پول میں ہم انصاراللہ مسجد بنائیں گے۔ اگر کیا تھا تو ٹھیک ہے اس کو پورا کریں۔ او ر اگر نہیں بھی کیا تو اب میں یہ کام انصاراللہ یو۔ کے۔ کے سپرد کر رہا ہوں کہ انہوں نے وہاں انشاء اللہ مقامی لوگوں کی جس حد تک مدد ہو سکے کرنی ہے اور یہ جو اصل بنیادی نقشہ ہے اس کے مطابق مسجد بنانی ہے۔ اس مسجد پہ تقریباً پانچ لاکھ پونڈ کا اندازہ خرچ ہے۔ تو انصاراللہ نے کس طرح پوراکرنا ہے وہ اپنا پلان کر لیں او رکمر ہمت کس لیں۔ بہرحال ان کو مدد کرنی ہو گی۔ وہاں جماعت بہت چھوٹی سی ہے۔

اور پھر بریڈ فورڈ میں تقریباً جو ان کا اندازہ ہے 1.6ملین یا 16لاکھ پاؤنڈ کا(اگر میں صحیح ہوں اور یادداشت ٹھیک ہے) تو وہاں کافی بڑی مسجد بن جائے گی۔ گو کہ وہاں کاروبار ی لوگ کافی ہیں اور مجھے امید ہے وہ اپنے ذرائع سے کافی حد تک جلدی اکٹھے کرکے مسجد مکمل کر لیں گے لیکن ہو سکتا ہے کچھ سستی ہو جائے۔ بعض وعدے کرتے ہیں پورے نہیں کر سکتے۔ بعض مجبوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ تو ان کی مدد کے لئے خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماء اللہ یو۔ کے۔ کے ذمہ میں ڈالتا ہوں کہ یہ بھی ان کی مدد کریں اور یہ اس علاقے میں ایک بڑا اچھا وسیع جماعت کا منصوبہ ہے جو مجھے امید ہے جماعت کی وسعت کا باعث بنے گا۔ وہاں اس کے لئے وہ بھی ان میں کچھ حصہ ڈالیں۔ اور لجنہ ہمیشہ قربانیاں کرتی رہی ہے۔ یہاں بیت الفضل ہے اس کے لئے بھی لجنہ نے ہی رقم اکٹھی کی تھی جو پہلے برلن مسجد کے لئے تھی پھر بعد میں بیت الفضل میں استعمال ہوئی۔ تو یو۔ کے۔ کی لجنہ کو اس بارے میں کوشش کرنی چاہئے۔ کیونکہ میری خواہش ہے کہ یہ دونوں مساجد ایک سال کے اندر اندر مکمل ہو جائیں، انشاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ توفیق دے تو اس رمضان میں دعاؤں اور قربانی کے جذبے کے ساتھ اس طرف بھی توجہ دیں اور کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ سب کو توفیق دے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا خلاصہ
  • English اور دوسری زبانیں

  • 15؍ اکتوبر 2004ء شہ سرخیاں

    ٭…رمضان کی برکتوں اور عظمتوں کا تذکرہ

    ٭…روزوں کا فائدہ تب ہو گا جب جسمانی خوراک کم کر کے روحانی خوراک میں اضافہ کرو گے

    ٭…قرآن کریم کی رخصتوں پر عمل کرنا بھی تقویٰ ہے

    ٭…اگر لوگوں کو رمضان کی فضیلت کا علم ہوتا تو امت خواہش کرتی کہ سارا سال ہی رمضان ہو۔

    15؍ اکتوبر ۲۰۰۴ء بمطابق15؍ اخاء۱۳۸۳ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن۔ لندن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور