اپنی عبادتوں کو زندہ کریں۔ باجماعت نمازوں کی طرف ابھی بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے

خطبہ جمعہ 22؍ اکتوبر 2004ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

تشھد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:

{وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَ لۡیُؤۡمِنُوۡا بِیۡ لَعَلَّہُمۡ یَرۡشُدُوۡنَ }(سورۃ البقرہ :۔ 187)

اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ’اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقینا میں قریب ہوں۔ میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں ‘۔

رمضان کے شروع ہوتے ہی یہ خیال دل میں فوراً پیدا ہو جاتا ہے کہ کیونکہ یہ برکتوں والا مہینہ ہے اور اس میں دعائیں قبول ہوتی ہیں اس لئے عموماً لوگ مسجدوں کی طرف بھی زیادہ رخ کرتے ہیں۔ مسجدوں کی حاضری بھی بڑھتی ہے۔ فجر کی نماز کی حاضری بھی بعض دنوں سے زیادہ ہو جاتی ہے، جتنی عام دنوں میں مغرب یا عشا کی نماز پر۔ بلکہ مجھے کسی نے لکھا تھا، پہلے یادوسرے روزے کی بات ہے کہ آج مسجد فضل میں فجر کی حاضری اتنی تھی کہ ہال بھرنے کے بعد بھی لوگ اِدھر اُدھر نماز کے لئے جگہ تلاش کرتے پھر رہے تھے۔ دنیا کے اور شہروں اور ملکوں سے بھی یہی اطلاعیں آ رہی ہیں کہ ماشاء اللہ مسجدیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے آجکل بڑی رونق دکھا رہی ہیں۔ دل خوش ہوتا ہے کہ لوگوں کو خیال آیا اور دنیاوی دھندے چھوڑ کر، آرام دہ بستروں کو چھوڑ کر، صبح اٹھنے، تہجد پڑھنے، روزہ رکھنے اور پھر مسجد میں نماز کے لئے آنے، ایک خدا کی عبادت کرنے، اپنی غلطیوں، کوتاہیوں اور گناہوں کو بخشوانے کی طرف توجہ پیدا ہوئی ہے۔ یہ توجہ اللہ تعالیٰ رمضان میں اپنے بندوں پر فضل کرتے ہوئے بخشش کے جو دروازے کھولتا ہے اس کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس سے فائدہ اٹھائے۔ خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :’’جو شخص ایمان کے تقاضے اور ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں اٹھ کر نماز پڑھتا ہے اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ (بخاری کتاب الصوم باب فضل من قام رمضان)

انسان کیونکہ غلطیوں کا پتلا ہے دن میں بھی روزانہ کئی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ کئی گناہ سرزد ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ہر ایک کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جوموقع دیا ہے اس سے فائدہ اٹھایا جائے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کی جائے۔

لیکن یاد رکھیں کہ حدیث کے الفاظ ہیں کہ ایمان کے تقاضے پورے کرتے ہوئے نماز پڑھتا ہے۔ اب دیکھیں ایمان کا تقاضا کیا ہے۔ ایما ن کیا تقاضا کرتا ہے۔ کیا یہ کہ گیارہ مہینے عبادت کی طرف، نمازوں کی طرف حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ نہ ہو اور بارہویں مہینے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ پیدا ہوجائے تاکہ گزشتہ گناہ بخشے جائیں۔ نہیں، ایمان کا تقاضا ہے کہ جو عہد تم نے اللہ سے کیا ہے، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ایک احمدی نے جو عہد کیا ہے ان کو پورا کرے۔ جو تبدیلیاں ایک رمضان میں پیدا کی ہیں ان تبدیلیوں کو اب اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کے جو احکامات ہیں ان پر عمل کرنا ہے۔ اور یہ عہد بھی کرنا ہے کہ آئندہ اب ان برائیوں کو ہم نے اپنے اندر پیدا نہیں ہونے دینا۔ پھر خداتعالیٰ کے پیار کی نظر پڑے گی اور گزشتہ گناہ بخشے جائیں گے۔

یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے یہ رمضان سے، روزے سے متعلق جو احکامات ہیں قرآن کریم میں ان آیات کے بیچ میں رکھی گئی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دنوں اپنے بندوں پر پیار کی نظر ڈالنا چاہتا ہے۔ بھولے بھٹکوں کو واپس لانا چاہتا ہے۔ ان کی عبادتوں کے معیار اونچے کرنا چاہتا ہے تاکہ اس کے صحیح عبد دنیا میں پیدا ہوتے رہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ یہی فرماتا ہے کہ جب میرے بندے میرے متعلق سوال کریں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھا ہے کہ میرے بندے سے یہاں مراد عاشقانِ الٰہی ہیں، اللہ تعالیٰ کے عاشق ہیں۔ اب دیکھیں عاشق کون ہوتے ہیں۔ سچے عاشق تو اپنے محبوب کی ہر بات مانتے ہیں۔ دنیاوی محبوبوں میں توبری بھلی ہر قسم کی بات ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات تو ایسی ہے جس میں سوائے نفع کے اور ہے ہی کچھ نہیں۔ نفع ہی نفع ہے۔ فائدہ ہی فائدہ ہے۔ ہر خیر کا وہ سرچشمہ ہے اور ہر برائی سے وہ بچانے والا ہے۔ ہر تکلیف سے وہ نجات دینے والا ہے۔ وہ کہتا ہے مجھ سے مانگو میں تمہاری دعا کا جواب دوں گا۔ اب سچا عاشق کیا مانگتا ہے۔ سچا عاشق محبوب سے اس کا قرب مانگتا ہے۔ اور جب قرب حاصل ہو جائے، ایک دوسرے پر یقین پیدا ہو جائے تو ایک دوسرے کو فائدہ پہنچانے کی کوشش ہوتی ہے۔ یہاں تو یہ بھی یکطرفہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا قرب ملنا ہے تو فائدہ بھی صرف ہمیں ہونا ہے اور پھریہ جو ہے کہ صرف فائدہ اٹھانے تک بات نہیں رہتی بلکہ یہ کہ جب تم اس کا قرب پا لو گے تو پھر کچھ قربانیاں کرنی پڑیں گی، ان کے لئے تیار ہونا پڑے گا۔

آگے اللہ تعالیٰ مزید کھول کے فرماتا ہے کہ کون میرے بندے ہیں جن کومَیں جواب دیتا ہوں۔ فرمایا وہ میرے بندے ہیں، وہ میرے عاشق ہیں جو میری بات پر لبیک کہتے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ نے جو باتیں کی ہیں جن پر لبیک کہنا ہے وہ کیا ہیں۔ وہ حقوق اللہ ہیں، وہ حقوق العباد ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ہیں، وہ بندوں کے حقوق ہیں۔ مستقل مزاجی سے اس کی عبادت بجا لائیں۔ جن باتوں سے روکا ہے ان سے رک جائیں۔ جن باتوں کے کرنے کا حکم دیا ہے ان کی ادائیگی کرنی ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم میں سات سو حکم ہیں۔ جب رمضان میں قرآن کریم کا مطالعہ کریں گے، گہرائی سے مطالعہ کریں گے، ترجمہ پڑھیں گے تو ان احکامات کا بھی پتہ لگ جائے گا۔ جب پتہ لگ جائے گا تو ان احکامات پر عمل کرنے کی بھی کوشش کرنی ہے۔ اور نیک نیتی سے کی گئی کوشش پھر نیکیوں میں بڑھاتی بھی ہے۔ تو یہی سچے عاشق کی نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو احکامات ہیں ان پر لبیک کہنا، ان پر عمل کرنا اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرنا۔ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں ہے جو ہر عاشق سے ایک جیسے معیار قربانی کا مطالبہ کرے۔ بلکہ ہر ایک کی استعداد کے مطابق، ہر ایک کی طاقت کے مطابق قربانی کا حکم ہے، یا احکامات پر عمل کرنے کا حکم ہے۔ لیکن شرط یہی ہے کہ مستقل مزاجی سے اللہ تعالیٰ کی باتوں پر عمل کرنے اور ان میں ترقی کرنے کی کوشش کرنی ہے۔

پھر فرمایا کہ مجھ پر ایمان لائیں تاکہ ہدایت پائیں۔ اب کامل ایمان بھی یہی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی سچی اطاعت کی جائے۔ پھر یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ ایسی چیزیں ہیں جو ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اس لئے اس آیت میں جو یہ لکھا ہے کہ میری بات پر لبیک کہیں وہ باتیں یہی ہیں کہ اعمال صالحہ بجا لائیں، نیک اعمال بجا لائیں۔ نیکیوں پر قائم ہوں اور پھر عبادت کرتے ہوئے دعائیں مانگیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہارے قریب ہوں۔ فرمایا کہ پھر میں تمہارا دوست بنوں گا۔ جیسا کہ فرماتا ہے۔ {اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا}(البقرۃ:258)کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا دوست ہوتا ہے جو ایمان لاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ دوستی اور ایمان تمہیں اللہ تعالیٰ کا قرب عطا کرے گا۔ اور پھر یہ کہ قرب عطا کرتا چلا جائے گا، اس میں ترقی ہوتی چلی جائے گی۔ یہ قرب ایسا نہیں کہ ایک جگہ رکنے والا ہے۔ وہ دعاؤں کو بھی سنے گا۔

لیکن جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا قرب اس کی قربت اور دعاؤں کی قبولیت کچھ شرائط کے ساتھ ہے۔ پہلی تو یہی کہ اس کا عبد بن کے رہنا ہے۔ خالص اس کا ہونا ہے۔ خالص ہو کر اس کی عبادت کرنی ہو گی۔ اس کو سب طاقتوں کا سرچشمہ سمجھنا ہو گا۔ پھر یہ کہ جب بھی مانگنا ہے اس سے مانگنا ہے۔ یہ نہیں کہ دل میں چھوٹے چھوٹے خدا بنائے ہوں۔ جس سے کوئی فائدہ پہنچ رہا ہو اس کی جھوٹی سچی تعریفیں بھی شروع کر دیں۔ بعضو ں کو افسروں سے فائدہ پہنچتا ہے تو وہ ان کو یا ان کے بچوں کو خوش کرنے کے لئے بعض دفعہ نمازیں تک ضائع کر دیتے ہیں اور ان کے کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ تو فرمایا کہ یہ باتیں قرب حاصل کرنے کے لئے ضروری ہیں کہ جب بھی تم کوئی کام کر رہے ہو، دنیاداری کا بھی کام کر رہے ہو تو تمہاری یہ دنیاداری یہ تمہاری نمازوں میں روک نہ بنے، تمہاری عبادتوں میں روک نہ بنے۔ تمہاری کاروباری مصروفیات تمہیں عبادتوں سے غافل کرنے والی نہ ہوں۔ حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحبؓ کے متعلق آتا ہے کہ ایک دفعہ ان کی ملکہ سے کوئی میٹنگ تھی، گئے ہوئے تھے، تو کچھ دیر کے بعد انہوں نے بڑی بے چینی سے اپنی گھڑی دیکھنی شروع کر دی۔ آخر ملکہ کو پتہ لگا اس نے پوچھا۔ آپ نے کہا ایک خدا ہے جس کی میں عبادت کرتا ہوں، اور اب میرا اس کی عبادت کا وقت ہے۔ تو یہ جرأت ہونی چاہئے کہ کوئی بڑے سے بڑا افسر یا بادشاہ بھی ہو، اس کے سامنے بالکل نہیں جھجکنا۔ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے سامنے کوئی بھی ہستی نہیں ہے۔ یہ تو سب دنیاوی چیزیں ہیں۔ آخر اس کو اپنے عملہ کو بھی کہنا پڑا کہ آئندہ یہ خیال رکھنا کہ ان کے نمازوں کے وقت اگر آئیں توخود ہی بتا دیا کرو۔ تو یہ جرأت ہر احمدی کو دکھانی چاہئے۔

پھر یہ بھی شرط ہے کہ رسول کی اطاعت کرنی ہے، جو احکامات دئیے ہیں جو ارشادات فرمائے ہیں جس طرح ہمیں نصیحت کی ہے جو ہم سے توقعات رکھی ہیں جس طرح کام کرکے دکھائے ہیں اس طرح کرنا ہے۔

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں جو تعلیم دی ہے اس پر عمل کرنا ہو گا۔ پھر یہ بھی یقین رکھنا ہو گا اور ایک مومن کو یہ یقین ہونا چاہئے کہ خداتعالیٰ دعائیں سنتا ہے، اور سننے کی طاقت رکھتا ہے۔ اور اگر اپنے جذبات میں اور دعاؤں میں شدت پیدا ہونے کے باوجود دعاقبول نہیں ہوتی تو پھر یا تو ہمارے دعا مانگنے کے طریق میں کوئی کمی ہے یا ہماری دوسری کمزوریاں اور حقوق کی عدم ادائیگی آڑے آ گئی ہے۔ حقوق ادا نہ کرنے کی وجہ سے، لوگوں کے حق ادا نہ کرنے کی وجہ سے، لوگوں پر ظلم کرنے کی وجہ سے روکیں پڑ رہی ہیں۔ یا اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ کام یا مقصد جس کے لئے ہم دعا کر رہے ہیں ہمارے لئے فائدہ مند نہیں ہے۔ تو یہ اللہ تعالیٰ بعض دفعہ خود بھی فیصلہ کرتا ہے۔ یا اگر دو آدمیوں کے حق کا معاملہ ہے تو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کون زیادہ حقدار ہے اس لئے بہتر حقدار کو حق مل جاتا ہے۔ لیکن نیک نیتی سے اور خالص ہو کر مانگی گئی دعاؤں کو اللہ تعالیٰ کبھی ضائع نہیں کرتا۔ وہ کسی اور وقت کام آ جاتی ہیں اس دنیا میں یا اگلے جہان میں۔ اس لئے دعائیں مانگنے میں کبھی تھکنا نہیں چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد صبر اور دعا کے ساتھ ہی ہے۔ اس لئے ہمیشہ صبر کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ سے مانگتے چلے جاناچاہئے۔

ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی دعائیں سنتا ہے جو بے صبری نہیں دکھاتے اور یہ نہیں کہتے کہ میں نے بہت دعائیں کر لیں اور اللہ تعالیٰ تو سنتا ہی نہیں۔ یہ کفر ہے، ایمان سے دور لے جانے والی باتیں ہیں۔ ایک مومن کو ہمیشہ اس سے بچنا چاہئے ایک احمدی کو ہمیشہ ان چیزوں سے بچنا چاہئے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے دعاؤں کے قبول کرنے یا اس رنگ میں قبول نہ کرنے کے بارے میں جس طرح بندہ مانگتا ہے، فرمایا یہ تو دو دوستوں کی طرح کا معاملہ ہے۔ کبھی دوست اپنے دوست کی مان لیتا ہے کبھی دوست سے اپنی منواتا ہے۔ اسی طرح خدا معاملہ کرتا ہے۔ لیکن بظاہر جو ایک مومن کی دعا خدا ردّ کرتا ہے یہ بھی اصل میں اس کے فائدے کے لئے کر رہا ہوتا ہے۔ (یہ الفاظ میرے ہیں شاید آگے پیچھے اصل الفاظ ہوں ) بہرحال یہی مفہوم ہے۔

تو اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مزید فرماتے ہیں کہ:’’ یعنی جب میر ے بندے میرے بارے میں سوال کریں کہ خدا کے وجود پر دلیل کیا ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ میں بہت نزدیک ہوں۔ یعنی کچھ بڑے دلائل کی حاجت نہیں۔ میرا وجود نہایت اقرب طریق سے سمجھ آ سکتاہے۔ اور نہایت آسانی سے میری ہستی پر دلیل پیدا ہوتی ہے‘‘۔ بڑا آسان طریقہ ہے مجھے سمجھنے کا اور دلیل حاصل کرنے کا۔ ’’ اور وہ دلیل یہ ہے کہ جب کوئی دعا کرنے والا مجھے پکارے تو مَیں اس کی سنتا ہوں اور اپنے الہام سے اس کی کامیابی کی بشارت دیتا ہوں جس سے نہ صرف میری ہستی پر یقین آتا ہے بلکہ میرا قادر ہونا بھی بپایۂ یقین تک پہنچتا ہے‘‘۔ جب اللہ تعالیٰ سنتا ہے تو جواب بھی دیتا ہے نہ صرف اپنی ہستی کا یقین دلواتا ہے بلکہ یہ بھی یقین دلاتا ہے کہ وہ سب قدرتوں کا مالک ہے۔ ’’ لیکن‘‘ شرط ہے کہ’’ چاہئے کہ لوگ ایسی حالت تقویٰ اور خدا ترسی کی پیدا کریں کہ میں ان کی آواز سنوں ‘‘۔ اب یہ خدا ترسی اور تقویٰ کی حالت وہ اللہ تعالیٰ کو آواز سنوانے کے لئے پیدا کرنی ہو گی۔ ’’نیز چاہئے کہ وہ مجھ پر ایمان لاویں اور قبل اس کے جو ان کو معرفت تامہ ملے اس بات کا اقرار کریں کہ خدا موجود ہے اور تمام طاقتیں اور قدرتیں رکھتا ہے۔ کیونکہ جو شخص ایمان لاتا ہے اسی کو عرفان دیاجاتا ہے‘‘۔ (ایام الصلح صفحہ 31 بحوالہ تفسیرحضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد اول صفحہ 649)

تو فرمایا تقویٰ ہو، خدا ترسی ہو اور اللہ کے حقوق بھی ادا کر رہے ہو اور اللہ کے بندوں کے حقوق بھی ادا کر رہے ہو تو پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آواز سنوں گا۔ پھر یہ کہ ایمان ہو۔ میرے پہ ایسا ایمان ہو، یہ یقین ہو کہ خدا ہے اور خدا کی ذات کا یہ یقین پہلے دل میں ہونا چاہئے۔ معرفت تامہ سے یعنی گہرائی میں جا کر تجربہ سے خداتعالیٰ کی ہر صفت کی پہچان ہونے سے پہلے یہ یقین ہو کہ خدا ہے۔ وہ جو آیا ہے کہ{یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ} کہ غیب پر ایمان ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ غیب بھی خدا کا نام ہے۔ تو فرمایا کہ ہر تجربہ سے پہلے یہ یقین ہو کہ خدا ہے اور وہ بے انتہا صفات کا حامل ہے، سب قدرتیں اور طاقتیں رکھتاہے۔ جب اس یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھو گے، اس کے آگے جھکو گے، اس سے دعائیں مانگو گے تو پھر تمہیں اللہ تعالیٰ کی مکمل پہچان ہو گی، عرفان حاصل ہو گا، تجربہ ہو گا، قبولیت دعا کے نشانات دیکھو گے۔ تو یہ چیزیں اور معیار ہیں جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں بتائے اور جو آپ اپنی جماعت میں پیدا کرنا چاہتے تھے۔ اس یقین کے ساتھ جب ہم دعائیں مانگیں گے تو یقینا اللہ تعالیٰ سنے گا۔ یہ نہیں کہ منہ سے تو کہہ دیا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل یقین ہے اور ایمان ہے لیکن جو اس کے احکامات ہیں ان پر عمل نہ ہو۔ نمازیں سال کے سال صرف رمضان میں پڑھنے کی کوشش کی جا رہی ہو یا کی جائیں۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، بہت فضل ہے جماعت پر کہ دوسروں کے مقابلے میں جماعت کی ایک بڑی تعداد نمازیں ادا کرنے والی ہے، نمازیں پڑھنے والی ہے۔ لیکن باجماعت نمازوں کی طرف ابھی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اس میں ابھی بہت کمی ہے۔

تو یہ رمضان ہمیں ایک دفعہ پھر موقع دے رہا ہے کہ ہم خدا کے آگے جھکیں جس طرح جھکنے کا حق ہے۔ اس کی عبادت کریں، جس طرح عبادت کرنے کا حق ہے تو اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کا یقینا جواب دے گا۔ اور یہ عہد کریں کہ آئندہ ہم ان عبادتوں کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔ اگر یہ ہو جائے تو اس سے ہم انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کی سالوں میں ہونے والی ترقیات کو دنوں میں واقع ہوتے دیکھیں گے۔ اس لئے مَیں پھر یہی کہوں گا کہ اپنی عبادتوں کو زندہ کریں۔ دوسروں کے پاس دعائیں کروانے کی بجائے(بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ اپنا اپنا ایک حلقہ بنایا ہوا ہے، وہاں دعائیں کروانے کے لئے جاتے ہیں، اور خود توجہ نہیں ہوتی)۔ خود اللہ تعالیٰ کی ذات کی قدرتوں کا تجربہ حاصل کریں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ:’’ پیر بنیں۔ پیر پرست نہ بنیں ‘‘۔ یہاں یہ بھی بتا دوں کہ بعض رپورٹیں ایسی آتی ہیں، اطلاعیں ملتی رہتی ہیں، پاکستان میں بھی اور دوسری جگہوں میں بھی، بعض جگہ ربوہ میں بھی کہ بعض احمدیوں نے اپنے دعا گو بزرگ بنائے ہوئے ہیں۔ اور وہ بزرگ بھی میرے نزدیک نام نہاد ہیں جو پیسے لے کریا ویسے تعویذ وغیرہ دیتے ہیں یا دعا کرتے ہیں کہ 20دن کی د وائی لے جاؤ، 20دن کا پانی لے جاؤ یا تعویذ لے جاؤ۔ یہ سب فضولیات اور لغویات ہیں۔ میرے نزدیک تو وہ احمدی نہیں ہیں جو اس طرح تعویذ وغیرہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے دعا کروانے والا بھی یہ سمجھتا ہے کہ مَیں جو مرضی کرتا رہوں، لوگوں کے حق مارتا رہوں، مَیں نے اپنے بزرگ سے دعا کروا لی ہے اس لئے بخشا گیا، یا میر ے کام ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ مومن کہلانا ہے تو میری عبادت کرو، اور تم کہتے ہو کہ پیر صاحب کی دعائیں ہمارے لئے کافی ہیں۔ یہ سب شیطانی خیالات ہیں ان سے بچیں۔ عورتوں میں خاص طور پر یہ بیماری زیادہ ہوتی ہے، جہاں جہاں بھی ہیں ہمارے ایشین(Asian) ملکوں میں اس طرح کا زیادہ ہوتا ہے یا جہاں جہاں بھی Asians اکٹھے ہوئے ہوتے ہیں وہاں بھی بعض دفعہ ہو جاتا ہے۔ اس لئے ذیلی تنظیمیں اس بات کا جائزہ لیں اور ایسے جو بدعات پھیلانے والے ہیں اس کا سدباب کرنے کی کوشش کریں۔ اگر چند ایک بھی ایسی سوچ والے لوگ ہیں تو پھر اپنے ماحول پر اثر ڈالتے رہیں گے۔ نہ صرف ذیلی تنظیمیں بلکہ جماعتی نظام بھی جائزہ لے اور جیسا کہ مَیں نے کہا کہ چند ایک بھی اگر لوگ ہوں گے تو اپنا اثر ڈالتے رہیں گے۔ اور شیطان تو حملے کی تاک میں رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بات ماننے والے بننے کی بجائے اس طرح بعض شرک میں پڑنے والے ہو جائیں گے۔

اللہ تعالیٰ سب کو اس سے محفوظ رکھے۔ لیکن مَیں پھر کہتا ہوں کہ یہ بیماری چاہے چند ایک میں ہی ہو، جماعت کے اندر برداشت نہیں کی جا سکتی۔ اللہ تعالیٰ تو یہ دعا سکھاتا ہے کہ اپنے اپنے دائرے میں ہر ایک یہ دعا کرے کہ مجھے متقیوں کا امام بنا۔ خلیفہ ٔوقت بھی یہ دعا کرتا ہے کہ مجھے متقیوں کا امام بنا۔ اور یہ پیر پرست طبقہ کہتا ہے کہ ہم جو مرضی عمل کریں ہمارے پیر صاحب کی دعاؤں سے ہم بخشے جائیں گے۔ اِناَّ لِلّٰہ۔ یہ تو نعوذ باللہ عیسائیوں کے کفارہ والا معاملہ ہی آہستہ آہستہ بن جائے گا۔ وہی نظریہ پیدا ہوتا جائے گا۔ پس اس طرف چاہے یہ چھوٹے ماحول میں ہی ہو، بہت توجہ کی ضرورت ہے۔ ابھی سے اس کو دبانا ہو گا۔ اور ہر احمدی یہ عہد کرے کہ اس رمضان میں اپنے اندر انشاء اللہ تعالیٰ انقلابی تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں۔ ہر احمدی یہ کوشش کرے اور ہر احمدی خود ان دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے مزے چکھے بجائے اس کے کہ دوسروں کے پیچھے جائے۔

ایک روایت میں آتا ہے، حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جس کے لئے باب الدعا کھولا گیا تو گویا اس کے لئے رحمت کے دروازے کھول دئیے گئے۔ اور اللہ تعالیٰ سے جو چیزیں مانگی جاتی ہیں ان میں سے سب سے زیادہ اس سے عافیت مطلوب کرنا محبوب ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دعا اس ابتلا کے مقابلے پر جو آچکا ہے اور اس کے مقابلہ پر بھی جو ابھی نہ آیا ہو، نفع دیتی ہے۔ اے اللہ کے بندو! تم پر لازم ہے کہ تم دعا کرنے کو اختیار کرو۔ (ترمذی کتاب الدعوات۔ باب ما جاء فی عقد التسبیح باللہ)

فرمایا کہ سب سے محبوب عافیت ہے۔ یعنی نیکی، پارسائی، بری باتوں سے رکنا۔ یہی چیزیں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہیں۔ اور دعاؤں میں جب ان نیکی کی راہوں کو اللہ تعالیٰ سے مانگو گے تو گزشتہ ابتلاؤں سے بھی حفاظت میں آنے کے سامان کرو گے اور آئندہ کے ابتلاؤں سے بھی بچتے رہو گے۔ پس یہ دعائیں کرنا بھی ایک مستقل عمل ہے جس سے رحمت کے دروازے کھلتے رہیں گے۔ اور ہم گزشتہ اور آئندہ آنے والی ابتلاؤں سے بھی محفوظ رہیں گے۔

رحمت اور فضل کے دروازوں کا مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے آنے والوں سے بھی تعلق ہے۔ اس لئے مسجد میں آنے اور جانے کی دعا سکھائی گئی ہے جس میں فضل اور رحمت کے دروازے کھولنے کے لئے دعا مانگی گئی ہے تاکہ مسجدوں کے اندر بھی اور باہر بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں، رحمتوں اور برکتوں کا سایہ رہے۔ اور ہمارا کوئی فعل خداتعالیٰ کی رضاکے خلاف نہ ہو۔ اپنے دنیاوی دھندوں میں بھی یا دنیاوی کاروبار بھی کوئی آدمی کر رہا ہو گا تو خداتعالیٰ اس کے عافیت طلب کرنے کی وجہ سے اس پر رحمت برسا رہا ہو گا۔ اس کی نمازوں کی وجہ سے اس کی دعاؤں کی وجہ سے، اس پر رحمت برسا رہا ہو گا۔ او ریہ رحمت کے دروازے ہر وقت کھلے رہیں گے کیونکہ وہ دنیاوی کاموں میں بھی نیکی کو رائج کرنے والا ہو گا، نیک باتوں کو پھیلانے والا ہو گا اور اس کے لئے کوشش کر رہا ہو گا۔ تو یہی چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کا باعث بنتی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا رب ہر رات قریبی آسمان تک نزول فرماتا ہے۔ جب رات کا تیسرا حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کون ہے جو مجھے پکارے تو میں اس کو جواب دوں ؟۔ کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اس کو دوں ؟، کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے تو میں اس کو بخش دوں۔ (ترمذی کتاب الدعوات۔ باب ما جاء فی عقد التسبیح باللہ)

یہ رمضان کے ساتھ کوئی شرط نہیں ہے یہاں تو رمضان کے علاوہ بات ہو رہی ہے کہ جب بھی کوئی بندہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اس کو بخشتا بھی ہوں، میں اس کو دیتا بھی ہوں، اس کی باتوں کا جواب بھی دیتا ہوں۔ تو یہ رمضان تو اللہ تعالیٰ نے ایک موقع دیا ہے عبادتوں کی عادت ڈالنے کا۔ اس لئے اب ہر احمدی کو یہ عادت مستقل ڈالنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر ہمیشہ ہم پر پڑتی رہے۔

پھر ایک روایت میں آتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تکالیف کے وقت اس کی دعاؤں کو قبول کرے تو اسے چاہئے کہ فراخی اور آرام کے وقت بکثرت دعا کرے۔ (ترمذی کتاب الدعوات۔ باب دعوۃ المسلم مستجابۃ)

پس یہ جو مَیں نے کہا کہ مستقل مزاجی سے عام حالات میں بھی توجہ پیدا ہونی چاہئے یہ حدیث بھی ہمیں یہ بتا رہی ہے کہ صرف تکلیف اور ضرورت کے وقت ہی اللہ تعالیٰ کو نہیں پکارنا بلکہ مستقل اس کے آگے جھکے رہنا ہے۔ اس کو پکارتے رہو۔ اس کے احکامات پر عمل کرتے رہو تو اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں کی تکلیف برداشت نہیں کر سکتا تمہاری اس حالت میں تمہیں دیکھ کے تمہاری تکلیف دور کرنے کے لئے تمہاری طرف دوڑتا ہوا آئے گا۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَیں بندے کے گمان کے مطابق سلوک کرتا ہوں۔ جس وقت بندہ مجھے یاد کرتا ہے مَیں اس وقت اس کے ساتھ ہوں۔ اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرے گا تو میں اس کو اپنے دل میں یاد کروں گا۔ اگر وہ میرا ذکر محفل میں کرے گا تو میں اس بندے کا ذکر اس سے بہتر محفل میں کر وں گا۔ اگر وہ میری جانب ایک بالشت بھر آئے گا تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ جاؤں گا۔ اگر وہ میری طرف ایک ہاتھ آئے گا تو میں اس کی طرف دو ہاتھ جاؤں گا۔ اگر وہ میری طرف چل کر آئے گا تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاؤں گا۔ (ترمذی کتاب الدعوات۔ باب فی حسن الظن باللہ عز وجل)

پس ہر احمدی کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اپنی زبانیں تر رکھیں اور یہ کوشش ہونی چاہئے کہ ہمارا ہر فعل اور ہر عمل اور اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھنے والا ہر قدم ایسا ہو جس سے اللہ تعالیٰ دوڑ کر ہمارے پاس آئے اور ہمیں اپنے پیار کی چادر میں لپیٹ لے۔

حضرت ابراہیم بن سعدؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذوالنون یعنی حضرت یونس ؑ نے مچھلی کے پیٹ میں جو دعا کی وہ یہ ہے کہ {لاَاِلٰہ َ اِلَّا اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّی کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ} اس دعا کو جو بھی مسلمان کسی ابتلاء کے وقت کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کی دعا ضرور قبول فرمائے گا۔ (ترمذی کتاب الدعوات۔ باب ما جاء فی عقد التسبیح باللہ)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ’’اس سے ایک سبق ملتا ہے کہ تقدیر کو اللہ بدل دیتا ہے او ررونا دھونا اور صدقات(یہ جو حضرت یونس ؑ کی قوم کا واقعہ ہوا تھا یہ اس بارے میں ہے) فرد قرار داد جرم کو بھی ردّی کر دیتے ہیں ‘‘۔ (ملفوظات جلد اول صفحہ ۱۵۵الحکم ۶ مارچ ۱۸۹۸) یعنی اگر کوئی فیصلہ ہو بھی گیا ہو تب بھی وہ بدلا جاتا ہے۔ پس صدقہ خیرات اور دعا بلاؤں کو دور کر دیتا ہے۔

پھر آپؑ نے فرمایا کہ:’’مَیں تمہیں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ جو لوگ قبل از نزول بلا دعا کرتے ہیں اور استغفار کرتے ہیں اور صدقات دیتے ہیں اللہ تعالیٰ اُن پر رحم کرتا ہے اور عذاب الٰہی سے ان کو بچا لیتا ہے۔ میری ان باتوں کو قصہ کے طور پر نہ سنو۔ مَیں نُصْحًا لِلّٰہ کہتا ہوں اپنے حالات پر غور کرو اور آپ بھی اور اپنے دوستوں کو بھی دعا میں لگ جانے کے لئے کہو۔ استغفار، عذاب الٰہی اور مصائبِ شدیدہ کے لئے سِپر کا کام دیتا ہے۔ (یعنی ڈھال کا کام دیتا ہے)۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ {مَاکَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ}۔ اس لئے اگر تم چاہتے ہو کہ اس عذاب الٰہی سے تم محفوظ رہو تو استغفار کثرت سے پڑھو‘‘۔ (ملفوظات جلد اول صفحہ ۱۳۴ الحکم ۲۴ جولائی ۱۹۰۱ء) اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ اللہ ایسا نہیں کہ انہیں عذاب دے جبکہ وہ بخشش طلب کر رہے ہیں۔ پھر ایک روایت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بڑا حیا والا ہے۔ بڑا کریم اور سخی ہے جب بندہ اس کے حضور دونوں ہاتھ بلند کرتا ہے۔ تو وہ ان کو خالی اور ناکام واپس کرنے سے شرماتا ہے۔ یعنی صدق دل سے مانگی گئی جو دعا ہے اس کو رد نہیں کرتا اس کو قبول کر لیتا ہے۔ (ترمذی کتاب الدعوات باب فی دعاء النبیﷺ)

اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے جو مانگیں صدق دل سے مانگنا چاہئے۔ گزشتہ گناہوں اور غلطیوں کی معافی مانگی جائے اور آئندہ کے لئے نیکیوں پر قائم رہنے کی توفیق اللہ تعالیٰ سے مانگی جائے۔ اور پھر اس کے لئے کوشش بھی کی جائے تو اللہ تعالیٰ مدد کرتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ’’جس طرح خداتعالیٰ کی کتابوں میں نیک انسان اور بد انسان میں فرق کیا گیا ہے اور ان کے جدا جدا مقام ٹھہرائے ہیں اسی طرح خداتعالیٰ کے قانون قدرت میں ان دو انسانوں میں بھی فرق ہے جن میں سے ایک خداتعالیٰ کو چشمۂ فیض سمجھ کر بذریعہ حالی و قالی دعاؤں کے اس سے قوت اور امداد مانگتا اور دوسرا صرف اپنی تدبیر اور قوت پر بھروسہ کرکے دعا کو قابل مضحکہ سمجھتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ سے بے نیاز اور متکبرانہ حالت میں رہتا ہے۔ جوشخص مشکل اور مصیبت کے وقت خداسے دعا کرتا اور اس سے حل مشکلات چاہتا ہے وہ بشرطیکہ دعا کو کمال تک پہنچاوے‘‘۔ یہاں شرط یہ لگائی کہ دعا کو کمال تک پہنچا دے۔ ’’ خداتعالیٰ سے اطمینان اور حقیقی خوشحالی پاتا ہے۔ اور اگر بالفرض وہ مطلب اس کو نہ ملے تب بھی کسی اور قسم کی تسلی اور سکینت خداتعالیٰ کی طرف سے اس کو عنایت ہوتی ہے‘‘۔ اگر دعا قبول نہیں بھی ہوتی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکینت عطا ہو جاتی ہے۔ گو کام اس طرح نہیں ہوتا جس طرح اس کی خواہش ہو۔ ’’ اور وہ ہرگز ہرگز نامراد نہیں رہتا۔ اور علاوہ کامیابی کے ایمانی قوت اس کی ترقی پکڑتی ہے اور یقین بڑھتا ہے‘‘۔ (ایام الصلح، روحانی خزائن جلد نمبر14 صفحہ 237-236)

ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مجلس سے اٹھتے تو آپ دعا کرتے(یہ بڑی جامع دعا ہے) اے میرے اللہ! تو ہمیں اپنا خوف عطا کر، جسے تو ہمارے اور گناہوں کے درمیان روک بنا دے اور ہم سے تیری نافرمانی سرزد نہ ہو۔ اور ہمیں اطاعت کا وہ مقام عطا کر جس کی وجہ سے تو ہمیں جنت میں پہنچا دے اور اتنا یقین بخش جس سے دنیا کے مصائب تو ہم پر آسان کر دے۔ اے میرے اللہ! ہمیں اپنے کانوں، اپنی آنکھوں، اور اپنی طاقتوں سے زندگی بھر صحیح صحیح فائدہ اٹھانے کی توفیق دے اور ہمیں اس بھلائی کا وارث بنا۔ اور جو ہم پر ظلم کرے اس سے تو ہمارا انتقام لے۔ اور جو ہم سے دشمنی رکھتا ہے اس کے برخلاف ہماری مدد فرما۔ اور دین میں کسی بھی ابتلاء کے آنے سے بچا۔ اور ایسا کر کہ دنیا ہمارا سب سے بڑا غم اور فکر نہ ہو اور نہ ہی دنیا ہمارا مبلغ علم ہو۔ (یعنی ہمارے علم کی پہنچ صرف دنیا تک ہی نہ رہے) اور ایسے شخص کو ہم پر مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے اور مہربانی سے پیش نہ آئے۔ (ترمذی کتاب الدعوات باب فی جامع الدعوات)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ’’حصول فضل کا اقرب طریق دعا ہے۔ اور دعا کے کامل لوازمات یہ ہیں کہ اس میں رقت ہو، ا ضطراب ہو اور گدازش ہو۔ جو دعا عاجزی اضطراب اور شکستہ دلی سے بھری ہوئی ہو وہ خداتعالیٰ کے فضل کو کھینچ لاتی ہے۔ اور قبول ہو کر اصل مقصد تک پہنچاتی ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ یہ بھی خداتعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔ اور پھر اس کا علاج یہی ہے کہ دعا کرتا رہے، خواہ کیسی ہی بے دلی اور بے ذوقی ہو لیکن یہ سیرنہ ہو۔ تکلف اور تصنع سے کرتا ہی رہے۔ اصلی اور حقیقی دعا کے واسطے بھی دعا ہی کی ضرورت ہے۔ بہت سے لوگ دعا کرتے ہیں اور ان کا دل سیر ہو جاتا ہے۔ اور وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ کچھ نہیں بنتا۔ مگر ہماری نصیحت یہ ہے کہ اس خاک پیزی میں ہی برکت ہے‘‘۔ یعنی خاک چھاننے میں برکت ہے۔ ایسی کوشش کرنے میں برکت ہے۔ ’’ کیونکہ آخر گوہر مقصود اسی سے نکل آتاہے۔ اور ایک دن آ جاتا ہے کہ جب اس کا وہ دل زبان کے ساتھ متفق ہو جاتا ہے۔ اور پھر خود ہی وہ عاجزی اور رقت جو دعا کے لوازمات ہیں، پیدا ہو جاتے ہیں۔ جو رات کو اٹھتا ہے خواہ کتنی ہی عدم حضوری اور بے صبری ہو، لیکن اگر وہ اس حالت میں بھی دعا کرتا ہے کہ الٰہی دل تیرے ہی قبضہ اور تصرف میں ہے توُ اس کو صاف کر دے اور عین قبض کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے بسط چاہے تو اس قبض میں سے بسط نکل آئے گی اور رقت پیدا ہو جائے گی‘‘۔ یعنی دل کی جو گھٹی ہوئی کیفیت ہے وہ کھل جائے گی اور دعا کرنے کی طرف توجہ پیدا ہو جائے گی۔ اور ’’ یہی وہ وقت ہوتا ہے جو قبولیت کی گھڑی کہلاتا ہے۔ وہ دیکھے گا کہ اس وقت روح آستانہ الوہیت پر بہتی ہے۔ گویا ایک قطرہ ہے جو اوپر سے نیچے کی طرف گرتا ہے‘‘۔ (الحکم جلد نمبر 7 نمبر 31 مورخہ 24؍ اگست 1903ء صفحہ3)

پھر آپؑ فرماتے ہیں : ’’وہ دعا جو معرفت کے بعد اور فضل کے ذریعہ سے پیدا ہوتی ہے وہ اور رنگ اور کیفیت رکھتی ہے۔ وہ فنا کرنے والی چیز ہے۔ وہ گداز کرنے والی آگ ہے۔ وہ رحمت کو کھینچنے والی ایک مقناطیسی کشش ہے۔ وہ موت ہے پر آخر کو زندہ کرتی ہے۔ وہ ایک تُند سیل ہے پر آخر کو کشتی بن جاتی ہے‘‘۔ (یعنی پانی کا طوفان ہے جو کشتی بن جاتا ہے جو بچانے والی ہے)۔ ’’ہر ایک بگڑی ہوئی بات اس سے بن جاتی ہے۔ اور ہر ایک زہر آخر اس سے تریاق ہو جاتا ہے۔ مبارک وہ قیدی جو دعا کرتے ہیں تھکتے نہیں۔ کیونکہ ایک دن رہائی پائیں گے۔ مبارک وہ اندھے جو دعاؤں میں سست نہیں ہوتے کیونکہ ایک دن دیکھنے لگیں گے۔ مبارک وہ جو قبروں میں پڑے ہوئے دعاؤں کے ساتھ خدا کی مدد چاہتے ہیں کیونکہ ایک دن قبروں سے باہر نکالے جائیں گے۔ مبارک تم جبکہ دعا کرنے میں کبھی ماندہ نہیں ہوتے اور تمہاری روح دعا کے لئے پگھلتی اور تمہاری آنکھ آنسو بہاتی اور تمہارے سینے میں ایک آگ پید اکر دیتی ہے اور تمہیں تنہائی کا ذوق اٹھانے کے لئے اندھیری کوٹھڑیوں اور سنسان جنگلوں میں لے جاتی ہے۔ اور تمہیں بے تاب اور دیوانہ اور از خود رفتہ بنا دیتی ہے۔ کیونکہ آخر تم پر فضل کیا جاوے گا۔ وہ خدا جس کی طرف ہم بلاتے ہیں نہایت کریم و رحیم، حیا والا، صادق وفادار، عاجزوں پر رحم کرنے والا ہے۔ پس تم بھی وفادار بن جاؤ اور پورے صدق اور وفا سے دعا کرو کہ وہ تم پر رحم فرمائے گا۔ دنیا کے شور وغوغا سے الگ ہو جاؤ اور نفسانی جھگڑوں کا دین کو رنگ مت دو۔ خدا کے لئے ہار اختیار کرلو۔ اور شکست کو قبول کر لو تا بڑی بڑی فتحوں کے تم وارث بن جاؤ‘‘۔ چھوٹی چھوٹی دنیاوی باتوں اور جھگڑوں سے بچوجو روز مرہ ہر ایک کے ساتھ لگے ہوتے ہیں۔ ’’دعا کرنے والوں کو خدا معجزہ دکھائے گا۔ اور مانگنے والوں کو ایک خارق عادت نعمت دی جائے گی۔ دعا خدا سے آتی ہے اور خدا کی طرف ہی جاتی ہے۔ دعا سے خدا ایسا نزدیک ہو جاتا ہے جیسا کہ تمہاری جان تم سے نزدیک ہے۔ دعا کی پہلی نعمت یہ ہے کہ انسان میں پاک تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ پھر اس تبدیلی سے خدا بھی اپنی صفات میں تبدیلی کرتا ہے۔ اور اس کے صفات غیر متبدل ہیں مگر تبدیلی یافتہ کے لئے اس کی ایک الگ تجلی ہے جس کو دنیا نہیں جانتی۔ گویا وہ اَور خدا ہے حالانکہ اور کوئی خدا نہیں۔ مگر نئی تجلی نئے رنگ میں اس کو ظاہر کرتی ہے۔ تب اس خاص تجلی کے شان میں اس تبدیل یافتہ کے لئے وہ کام کرتا ہے جو دوسروں کے لئے نہیں کرتا یہی وہ خوارق ہے‘‘۔

تو جب تبدیلی پیدا کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ بھی اپنی نئی شان دکھاتا ہے۔ فرمایا خدا تو وہی ہے جو پہلے خدا ہے۔ خدا اب نہیں بدلا بلکہ تم لوگوں کی تبدیلی کی وجہ سے تمہارے ساتھ اس کا سلوک بدل گیا ہے۔

فرمایا:’’ غرض دعا وہ اکسیر ہے جو ایک مشت خاک کو کیمیا کر دیتی ہے۔ اور وہ ایک پانی ہے جو اندرونی غلاظتوں کو دھو دیتا ہے۔ اس دعا کے ساتھ روح پگھلتی ہے اور پانی کی طرح بہہ کر آستانہ حضرت احدیت پر گرتی ہے۔ وہ خدا کے حضور میں کھڑی بھی ہوتی ہے اور رکوع بھی کرتی ہے اور سجدہ بھی کرتی ہے اور اسی کی ظل وہ نماز ہے جو اسلام نے سکھائی ہے‘‘۔ (لیکچر سیالکوٹ، روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ228-222)

تو آخر میں نتیجہ یہ نکالا کہ یہ تمام دعائیں جو ہیں یہ اسی وقت دعاؤں کا رنگ رکھیں گی جب تم نمازوں کی پابندی بھی کرو گے کیونکہ نماز میں یہ ساری باتیں آ جاتی ہیں۔ اللہ کرے کہ ہمیں وہ عرفان حاصل ہو جو کہ خدا کے قریب تر کرنے والا ہو۔ اور ہماری دعاؤں میں وہ کیفیت پیدا ہو جس سے ہماری روح پگھل کر اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر بہہ جائے اور بہتی رہے۔ ہم نمازوں میں باقاعدگی اختیار کرنے والے ہوں اور ہماری مسجدیں ہمیشہ نمازیوں سے بھری رہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان دنوں میں بھری ہوئی ہیں تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کے پیار کو ہمیشہ جذب کرتے چلے جائیں۔ اب کچھ میں اس بارے میں بتانا چاہتا ہوں جو میں نے گزشتہ جمعہ کو تحریک کی تھی یعنی یہاں کی مساجد کے بارے میں۔ ہارٹلے پول اور بریڈ فورڈ کی مساجد کے لئے یو۔ کے کی ذیلی تنظیموں کو توجہ دلائی تھی۔ الحمدللہ کہ انصاراللہ نے سب سے پہلے اطلاع دی کہ انہوں نے اتنے وعدے اکٹھے کر لئے ہیں اور آخری رپورٹ جو انہوں نے کل بھجوائی ہے اس کے مطابق تقریباً تین لاکھ پونڈ کے ان کے وعدے ہیں۔ اور سب سے پہلے مجلس انصاراللہ کی طرف سے وعدے اور وصولیوں کی رپورٹ بھی آئی ہے۔ انہوں نے کچھ وصولیاں بھی کی ہیں اور وہ بھی اچھی تعداد میں ہیں۔ ماشاء اللہ۔ الحمدللہ۔ انصار نے یہ ثابت کر دیا ہے(باقی تنظیموں کو میں کہہ رہا ہوں ) کہ انہیں بوڑھا نہ سمجھیں، وہ جوانوں کے جوان ہیں۔ اور میر اخیال تھا کہ جمعہ پر توجہ دلاؤں گا کیونکہ کل تک باقی تنظیموں کی طرف سے رپورٹ نہیں تھی تو کل خدام الاحمدیہ کی طرف سے بھی رپورٹ ملی ہے۔ انہوں نے بھی 5لاکھ کا وعدہ کیاہے۔ لیکن جس تفصیل سے انصاراللہ نے وعدے لینے کی کوشش کی ہے اس طرح نہیں بلکہ انہوں نے شاید اپنے لئے ایک ٹارگٹ مقرر کر لیا ہے اور وہ کہتے ہیں اتنی ہم وصولی کریں گے انشاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ سب کو جز ادے۔

لیکن لجنہ کی طرف سے ابھی تک کوئی اطلاع نہیں آئی حالانکہ ہمیشہ یہ طریق رہا ہے کہ لجنہ تو چھلانگ مار کر آگے آنے والی ہیں۔ مجھے جو انفرادی طور پر، یہاں سے جب میں دفتر گیاہوں تو وہاں، جو وعدے ملے وہ سب سے پہلے خواتین کے وعدے ہی تھے اور عورتیں اپنے زیور بھی آ کر انفرادی طور پر پیش کر رہی ہیں۔ لیکن بحیثیت تنظیم، لجنہ کی طرف سے ابھی تک کوئی وعدہ نہیں آیا اس لئے وہ بھی آگے بڑھیں، چھلانگ لگائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے لجنہ کبھی بھی مالی قربانیوں میں پیچھے نہیں رہی۔ اور مجھے امید ہے کہ اب بھی نہیں رہے گی۔ لگتا یہ ہے کہ زیادہ تفصیلی رپورٹ بنانے کی کوشش میں پڑی ہوئی ہیں۔ ابتدائی اطلاع کم از کم ان کو کرنی چاہئے تھی جو انہوں نے ابھی تک نہیں کی۔ میں نے پچھلی دفعہ بھی بتایا تھا کہ مسجد فضل بھی ہندوستان کی غریب خواتین کے چندے سے ہی بنی تھی تو اب تو آپ بہت بہتر پوزیشن میں ہیں۔ میرا تو خیال یہ ہے کہ یہاں یو۔ کے۔ کی لجنہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس پوزیشن میں ہے کہ وہ کسی بھی ایک اچھی مسجد کا خرچ خود بھی برداشت کر سکتی ہے۔ اللہ ان کو توفیق دے۔ لیکن یہ جو اتنی ساری رقمیں آ رہی ہیں۔ اس کو سن کر خاص طور پر مَیں بریڈ فورڈ والوں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اب یہ نہ سمجھ لیں کہ ہمیں کافی مدد مل گئی ہے اس لئے ریلیکس(Relax)ہو جائیں اور خود جو جماعت، ریجن یا شہر نے اپنی جو کوشش کرنی تھی جو انہوں نے اصول مقرر کیا تھا اس کے مطابق و ہ کوشش بہرحال جاری رہنی چاہئے۔ اگر زائد رقم ہو بھی جاتی ہے تو آئندہ انشاء اللہ کسی اور مسجد کے کام آ جائے گی۔ مسجدیں تو اب انشااللہ تعالیٰ بنانی ہیں۔ ایک دفعہ مسجدیں بنانے کا کام شروع کیا ہے تو انشاء اللہ تعالیٰ یہ جاری رہے گا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہر شہر میں یہاں ہم مسجد بنا دیں۔ اور ایک اچھی مسجد بنا دیں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دفعہ یہ اظہارفرمایا تھا کہ اگر یورپ میں ہماری اڑھائی ہزار مسجدیں ہوں تو ہماری ترقی کی رفتار کئی گنا ہو سکتی ہے۔ تو اللہ کرے کہ جماعت کو جلد ایسی توفیق ملے کہ ہم اس تعداد میں مسجدیں یہاں بنائیں۔ رمضان میں ان سب لوگوں کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں جنہوں نے مساجد کے لئے قربانیاں کیں اور کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی توفیقوں کو بڑھاتا چلا جائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا خلاصہ
  • English اور دوسری زبانیں

  • 22؍ اکتوبر 2004ء شہ سرخیاں

    ٭… حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ایک احمدی نے جو عہد کیا ہے ان کو پورا کرے۔

    ٭… مستقل مزاجی سے اس کی عبادت بجا لائیں

    22؍ اکتوبر ۲۰۰۴ء بمطابق22؍ اخاء۱۳۸۳ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن۔ لندن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور