توبہ واستغفار۔ شرائط اور برکات

خطبہ جمعہ 20؍ مئی 2005ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت قرآنی کی تلاوت کی:

وَّ اَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ یُمَتِّعۡکُمۡ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّ یُؤۡتِ کُلَّ ذِیۡ فَضۡلٍ فَضۡلَہٗ ؕ وَ اِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ کَبِیۡرٍ ۔ (ھود: ۴)

پھر فرمایا:

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کے مقصدِ پیدائش کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ دنیا اور اس کے کھیل کود اور اس کی چکا چوند تمہیں تمہارے اس دنیا میں آنے کے مقصد سے غافل نہ کر دے بلکہ ہر وقت تمہارے پیش نظر یہ رہنا چاہئے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنا ہے، اس کی عبادت کرنی ہے۔ اگر یہ مقصد تمہارے پیش نظر رہے تو یاد رکھو یہ دنیا خود بخود تمہاری غلام بن جائے گی۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اِس دنیا میں جہاں بھی ہم نظر ڈالتے ہیں شیطان بازو پھیلائے کھڑا ہے۔ اس کے حملے اور اس کے لالچ اس قدر شدید ہیں کہ سمجھ نہیں آتی اُن سے کیسے بچا جائے۔ ہر کونے پر، ہرسڑک پر، ہر محلے میں، ہر شہر میں شیطانی چرخے کام کر رہے ہیں۔ اور سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہو ان شیطانی حملوں سے بچنا مشکل ہے۔ جدھر دیکھو کوئی نہ کوئی بلا منہ پھاڑے کھڑی ہے۔ دنیا کی چیزوں کی اتنی اٹریکشن (Attraction) ہے، وہ اتنی زیادہ اپنی طرف کھینچتی ہیں اور سمجھ نہیں آتی کہ انسان کس طرح اپنے مقصد پیدائش کو سمجھے اور اس کی عبادت کرے۔ لیکن ہم پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص احسان ہے کہ اُس نے خود ہی ان چیزوں سے بچنے کے لئے راستہ دکھا دیا ہے کہ مستقل مزاجی اور مضبوط ارادے کے ساتھ استغفار کرو تو شیطان جتنی بار بھی حملہ کرے گا منہ کی کھائے گا اور اس کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو گی۔

یہ آیت جو مَیں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:

اور یہ کہ تم اپنے رب سے استغفار کرو، پھر اس کی طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو تو وہ تمہیں ایک مقررہ مدت تک بہترین معیشت عطا کرے گا۔ اور وہ ہر صاحبِ فضیلت کو اس کے شایان شان فضل عطا کرے گا۔ اور اگر تم پھر جاؤ تو یقینا مَیں تمہارے بارے میں ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ تو دیکھیں فرمایا کہ استغفار کرو اور جو استغفار نیک نیتی سے کی جائے، جو توبہ اس کے حضور جھکتے ہوئے کی جائے کہ اے اللہ! یہ دنیاوی گند، یہ معاشرے کے گند، ہر کونے پر پڑے ہیں۔ اگر تیرا فضل نہ ہو، اگر تو نے مجھے مغفرت کی چادر میں نہ ڈھانپا تو مَیں بھی اِن میں گر جاؤں گا۔ مَیں اس گند میں گرنا نہیں چاہتا۔ میری پچھلی غلطیاں، کوتاہیاں معاف فرما، آئندہ کے لئے میری توبہ قبول فرما۔ تو جب اس طرح استغفار کریں گے تو اللہ تعالیٰ پچھلے گناہوں کو معاف کرتے ہوئے، توبہ قبول کرتے ہوئے، اپنی چادر میں ڈھانپ لے گا۔ اور پھر اپنی جناب سے اپنی نعمتوں سے حصہ بھی دے گا۔ دنیا سمجھتی ہے کہ دنیا کے گند میں ہی پڑ کر یہ دنیاوی چیزیں ملتی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو توبہ کرنے والے ہیں، جو استغفار کرنے والے ہیں، ان کومَیں ہمیشہ کے لئے دین و دنیا کی نعمتوں سے نوازتا رہوں گا۔ اُن کی زندگی میں بھی ان کے لئے اس دنیا کے دنیاوی سامان ہوں گے اور ان پر فضلوں کی بارش ہو گی۔ اور اُن کے یہ استغفار اور اُن کے نیک عمل آئندہ زندگی میں بھی اُن کے کام آئیں گے۔ اور یہی استغفار ہے جس سے شیطان کے تمام حربے فنا ہو جائیں گے۔

استغفار کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل اور قُرب کی چادر میں لپٹنے کی دُعا مانگی جائے۔ جب انسان اس طرح دعا مانگ رہا ہو تو کس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ دُعا نہ سنے اور انسان کی دنیا و آخرت نہ سنورے۔ اللہ تعالیٰ نے تو خود فرمایا ہے کہ{ اُدْعُوْ نِیٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ} (المُؤْمن :61) کہ اللہ تعالیٰ سچے وعدوں والا ہے، وہ تو اس انتظار میں ہوتا ہے کہ کب میرا بندہ مجھ سے دعا مانگے۔ خود فرماتا ہے کہ تم مجھ سے مانگو مَیں دعا قبول کروں گا۔ اللہ تعالیٰ تو یہ کہتا ہے کہ کب میرا بندہ مجھ سے استغفار کرے، کب وہ سچے طور پر توبہ کرتے ہوئے میری طرف رجوع کرے اور مَیں اس کی دُعا سنوں۔ حدیث میں آتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ اپنے بندے کی توبہ پر اللہ تعالیٰ اتنا خوش ہوتا ہے کہ اتنی خوشی اس آدمی کو بھی نہیں ہوتی جسے جنگل بیابان میں کھانے پینے کی چیزوں سے لدا ہوا اس کا گم ہونے والا اونٹ اچانک مل جائے۔ ‘‘ (صحیح بخاری – کتاب الدعوات – باب التوبۃ)

تو دیکھیں اللہ تعالیٰ تو اس انتظار میں ہوتا ہے کہ کب میرا بندہ توبہ کرے، استغفار کرے اور مَیں اس کے گزشتہ گناہ بخشوں اور آئندہ سے اسے اپنی چادر میں ڈھانپ لوں تاکہ وہ شیطان کے حملوں سے محفوظ رہے۔ لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مستقل مزاجی سے اس پر قائم رہو۔ ورنہ اگر ایک دفعہ استغفار کی، دوبارہ گند میں پڑ گئے اور موت اس صورت میں آئی کہ شیطان کے پنجے میں گرفتار ہو تو پھر اس دن سے بھی ڈرو جس میں گناہوں میں گرفتار لوگوں کے لئے عذاب بھی بہت بڑا ہو گا۔

پس ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے کہ استغفار کرتے ہوئے اپنے گزشتہ گناہوں کی بخشش مانگتے ہوئے اور آئندہ کے لئے ان سے بچنے کا عہد کرتے ہوئے مستقل خدا کے سامنے جھکا رہے۔ اور جب اِس طرح عمل ہو رہے ہوں گے تو خداتعالیٰ اپنی پناہ میں لے لے گا۔ اور جو خداتعالیٰ کی پناہ میں آ جائے تو اسے جیسا کہ مَیں نے پہلے بتایا شیطان کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ کیونکہ اب اس سے وہی عمل سرزد ہو رہے ہوں گے جو خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والے عمل ہوں گے۔ وہ تمام برائیاں ختم ہو جائیں گی جو خداتعالیٰ کا قرب حاصل کرنے میں روک ہیں۔ پس ہر احمدی ہر وقت سچے دل سے استغفار کرتے ہوئے، توبہ کرتے ہوئے، خداتعالیٰ کے حضور جھکے تاکہ اس کا پیار حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ تو اپنے بندے کو اپنا پیار اور قرب دینے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے بلکہ بے چین رہتا ہے۔ بلکہ بندے کی اس بارے میں ذرا سی کوشش کو بے حد نوازتا ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص مجھ سے بالشت بھر قریب ہوتا ہے میں اس سے گز بھر قریب ہوتا ہوں۔ اور جب وہ میری طرف چل کر آتا ہے میں اُس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔ (صحیح مسلم -کتاب التوبۃ – باب فی الحض علی التوبۃ- والفرح بھا)

تو دیکھیں جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ قبول کرنے کے لئے اس قد ر توجہ فرماتا ہے تو بندے کو کس قدر بے چینی سے اس کی طرف بڑھنا چاہئے۔

ایک حدیث میں آتا ہے حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ گناہ سے سچی توبہ کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں۔ (رسالہ قشیریۃ باب التوبۃ)

جب اللہ تعالیٰ کسی انسان سے محبت کرتا ہے تو گناہ اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گناہ کے محرکات اُسے بدی کی طرف مائل نہیں کر سکتے۔ واضح ہو کہ یہ مطلب نہیں کہ گناہ کرتے چلے جاؤ، جان بوجھ کر گند میں گرتے چلے جاؤاور سمجھو کہ مَیں نے استغفار کر لی ہے اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ گناہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے خلاف ہے۔ مطلب یہی ہے کہ اس کو بدی کی طرف، برائی کی طرف، کوئی رغبت نہیں ہوتی۔ پھر حضورؐ نے یہ آیت پڑھی کہ {اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ}۔ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ! توبہ کی علامت کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا ندامت اور پشیمانی علامتِ توبہ ہے۔ تو دیکھیں علامت یہ بتائی کہ ندامت ہو، پشیمانی ہو اور اس کی و جہ سے پھر آئندہ ان سے بچتا بھی رہے۔ کیونکہ جس بات کی ندامت ہو اور پشیمانی ہو اس بات کو انسان دوبارہ جان بوجھ کرنہیں کرتا۔

توبہ کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :۔

’’یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ توبہ کے تین شرائط ہیں۔ بدوں اُن کی تکمیل کے سچی توبہ جسے توبۃ النّصوح کہتے ہیں، حاصل نہیں ہوتی۔ ان ہرسہ شرائط میں سے پہلی شرط جسے عربی زبان میں اِقْلَاع کہتے ہیں۔ یعنی ان خیالات فاسدہ کو دور کر دیا جاوے جو اِن خصائل ردیّہ کے محرک ہیں۔ (یعنی جن کی وجہ سے ردّی خیالات دل میں پیدا ہوتے ہیں ) اصل بات یہ ہے کہ تصورات کا بڑا بھاری اثر پڑتا ہے۔ کیونکہ حیطۂ عمل میں آنے سے پیشتر ہر ایک فعل ایک تصوّری صورت رکھتا ہے۔ پس توبہ کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ اُن خیالات فاسد ہ و تصوّرات بد کو چھوڑ دے۔ مثلاً اگر ایک شخص کسی عورت سے کوئی ناجائز تعلق رکھتا ہے تو اُسے توبہ کرنے کے لئے پہلے ضروری ہے کہ اس کی شکل کو بدصورت قرار دے۔ اور اس کی تمام خصائلِ رذیلہ کو اپنے دل میں مستحضر کرے (یعنی گھٹیا اور ذلیل باتوں کو ذہن میں لائے) کیونکہ جیسا مَیں نے ابھی کہا ہے تصوّرات کا اثر بہت زبردست اثر ہے۔ ……پس جو خیالات بدلذات کا موجب سمجھے جاتے تھے ان کا قلع قمع کرے۔ یہ پہلی شرط ہے۔

دوسری شرط نَدَم ہے۔ یعنی پشیمانی اور ندامت ظاہر کرنا۔ ہر ایک انسان کا کانشنس اپنے اندر یہ قوت رکھتا ہے کہ وہ اس کو ہر برائی پر متنبہ کرتاہے۔ مگر بدبخت انسان اس کو معطّل چھوڑ دیتا ہے۔ پس گناہ اور بدی کے ارتکاب پرپشیمانی ظاہر کرے اور یہ خیال کرے کہ یہ لذّات عارضی اور چند روزہ ہیں۔ اور پھر یہ بھی سوچے کہ ہر مرتبہ اس لذّت اور حظّ میں کمی ہوتی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ بڑھاپے میں آکر جبکہ قویٰ بیکار اور کمزور ہو جائیں گے۔ آخر ان سب لذّاتِ دنیا کو چھوڑنا ہو گا۔ پس جبکہ خود زندگی ہی میں یہ سب لذّات چھوٹ جانے والی ہیں تو پھر ان کے ارتکاب سے کیا حاصل؟ بڑا ہی خوش قسمت ہے وہ انسان جو توبہ کی طرف رجوع کرے۔ اور جس میں اوّل اِقْلَاع کا خیا ل پیدا ہو یعنی خیالاتِ فاسدہ و تصورات بیہودہ کا قلع قمع کرے۔ جب یہ نجاست اور ناپاکی نکل جاوے تو پھر نادم ہو اور اپنے کئے پر پشیمان ہو۔

تیسری شرط عزم ہے۔ یعنی آئندہ کے لئے مصمّم ارادہ کر لے کہ پھر ان برائیوں کی طرف رجوع نہ کرے گا اور جب وہ مداومت کرے گا(باقاعدگی کرے گا) تو خداتعالیٰ اسے سچی توبہ کی توفیق عطا کرے گا۔ یہاں تک کہ وہ سیّئات اس سے قطعاً زائل ہو کر اخلاق حسنہ اور افعال حمیدہ اس کی جگہ لے لیں گے۔ اور یہ فتح ہے اخلاق پر۔ اس پر قوت اور طاقت بخشنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے کیونکہ تمام طاقتوں اور قوتوں کا مالک وہی ہے جیسے فرمایا {اَنَّ الْقُوَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا}(البقرۃ: 166) (ملفوظات جلد 1صفحہ 88`87 جدید ایڈیشن- رپورٹ جلسہ سالانہ 1897ء صفحہ 158)

پس یہ اس حدیث کی وضاحت ہے کہ کس طرح ندامت اور پشیمانی کا اظہار ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ہر وقت استغفار کرتے ہوئے اس کے حضور جھکے رہیں اور اس دنیا کے گند سے بچتے رہیں اور اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق اس کی محبت حاصل کرنے والے ہوں۔ اور جب ہم اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کر لیں گے تو کبھی کوئی شیطان ہمیں دنیا کے گناہوں کی دلدل میں دھکیل نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچی توبہ کی توفیق دے۔ آمین


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا خلاصہ
  • English اور دوسری زبانیں

  • قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور