ماریشس، قادیان،انڈیا کے دورہ کے حالات و واقعات

خطبہ جمعہ 20؍ جنوری 2006ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

گزشتہ تقریباً پونے دو ماہ سے مَیں لندن (یو کے) سے باہر رہا، جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں اور ایم ٹی اے پر بھی دیکھتے اور سنتے رہے ہوں گے یہ عرصہ دو ہفتے ماریشس میں اور پھر قادیان، انڈیا میں گزرا۔ اس دوران قادیان اور ماریشس کے جلسے بھی ہوئے جن کو ایم ٹی اے کے ذریعہ آپ لوگوں نے دیکھا ہو گا۔ 2005ء میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے تقریباً 10ملکوں کے جلسوں میں شمولیت کی توفیق ملی جن میں پہلا جلسہ سپین کا تھا اور آخری قادیان کا۔

الحمدللہ اس سال میں بھی جو گزرا ہے ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش دیکھی، ہر رو زجو جماعت احمدیہ پر طلوع ہوتا ہے اس میں ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نظارے نئی شان سے دیکھتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کئے گئے وعدوں کے مطابق ہے۔ سال میں ایک دفعہ تو ان کا ذکر ممکن ہی نہیں جیسا کہ مَیں پہلے بتا چکا ہوں۔ بلکہ وقفے وقفے سے بھی اگر ذکر کیا جائے تب بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے سب نظارے نہیں دکھائے جا سکتے۔ بہرحال عام طورپر سفر کے بعد لوگوں کی جو خواہش ہوتی ہے اس کے مطابق سفر کے کچھ حالات بیان کرتا ہوں۔ یعنی یہ جو سفر پیچھے گزرا اس کے بارے میں کچھ بتاؤں گا۔ سفر کے حالات کے دوران ہی مختصراً بعض واقعات کا بھی ذکر ہو جائے گا۔

اس دورے کا پہلا سفر تقریباً دو ہفتے کا ماریشس کا تھا۔ ماریشس ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جس کی آبادی تقریباً 13-12لاکھ ہے۔ اس ملک کی اکثریت مذہبی لحاظ سے ہندو ہے، مسلمانوں کی آبادی تقریباً 17-16 فیصد ہے اور اس ملک میں احمدی چند ہزار ہیں۔ لیکن یہ چند ہزار احمدی بھی ماشاء اللہ جوش اور جذبے اور اخلاص اور وفا سے بھرے ہوئے ہیں اس لئے نمایاں نظر آتے ہیں۔ جب مَیں ائرپورٹ پر اترا ہوں تو بہت بڑی تعداد عورتوں، بچوں، مردوں کی استقبال کے لئے کھڑی تھی۔ اور جیسا کہ عموماً ہر جگہ، ہر ملک میں، احمدیوں کے چہروں سے نظر آتا ہے، سب کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔ یہ کیفیت دیکھ کر بے اختیار اللہ تعالیٰ کی حمد کی طرف توجہ ہوتی ہے کہ کس طرح وہ اپنے وعدوں کے مطابق جو اس نے اپنے مسیح پاک علیہ السلام سے کئے دُور دراز کے ملکوں میں بھی اس کے نظارے ہمیں دکھاتا ہے۔

ماریشس کی جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی قربانی کرنے والی جماعت ہے۔ پہلے مَیں وہاں بھی ذکر کر چکاہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مساجد بنانے کی طرف ان کی بہت توجہ ہے اور اچھی خوبصورت مسجدیں بناتے ہیں۔ صفائی کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹے گاؤں میں بھی آپ چلے جائیں جہاں چند ایک احمدی موجود ہیں تو وہاں بھی جماعت کی مسجد ہے۔ اور محض ایک چھوٹی سی مسجد ہی نہیں بلکہ اچھی اور خوبصورت مسجد انہوں نے بنائی ہوئی ہوتی ہے اور اس مسجد میں تمام سہولتیں مہیا ہیں۔ روزہل، جہاں ہماری پرانی اور مرکزی مسجد، بہت بڑی مسجد ہے، اس کے ساتھ جماعت کے دفاتر وغیرہ بھی ہیں۔ اس کے ارد گرد تین چار کلو میٹر کے ایریا میں جماعت کی تین چار مساجد ہیں۔ جس طرح ربوہ یا قادیان میں ہر محلے میں مسجد بنی ہوئی ہے یہاں بھی چھوٹی چھوٹی جگہوں پر جہاں بھی احمدیوں کی تھوڑی سی آبادی ہے وہاں مسجد بنی ہوئی ہے۔ اب تک جن ملکوں میں مَیں گیا ہوں بلکہ جہاں نہیں بھی گیا وہاں بھی میرے خیال میں اس طرح مساجد بنانے کی طرف توجہ نہیں ہے جس طرح ماریشس میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہمیشہ مساجد کو آباد رکھنے کی بھی توفیق عطا فرماتا چلا جائے۔

قربانی کرنے میں جہاں غریب اور کم آمدنی والے لوگ اخلاص و وفا میں بڑھے ہوئے ہیں وہاں امیر آدمی بھی، پڑھے لکھے اور دنیاوی لحاظ سے اچھی پوزیشن کے احمدی لوگ بھی ہیں جو بہت سادہ مزاج ہیں اور قربانی کے اچھے معیار قائم کرنے والے ہیں۔ روپے پیسے نے، مالی کشائش نے انہیں دین سے دور لے جانے کی بجائے اکثریت کو اخلاص و وفا میں بڑھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں بھی ہمیشہ اخلاص و وفا میں بڑھاتا چلا جائے۔ کبھی ان لوگوں میں تکبر نہ آئے کیونکہ یہ تکبر ہی ہے جو دین سے دُور لے جانے والا اور دنیا کے قریب کرنے والا ہوتا ہے۔ ان لوگوں کو بھی مَیں یہ کہتا ہوں کہ اپنے لئے دعائیں کرتے رہیں کبھی دماغ میں تکبر کا کیڑا نہ آئے۔ کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں نہ ہو اور اس کا فضل شامل حال نہ ہو تو جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح دوڑ رہا ہے جس طرح جب جسم کمزور ہو تو بعض چھپی ہوئی بیماریاں حملہ کر دیتی ہیں اسی طرح اگراللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو، اس کے آگے جھکنے والے نہ ہوں، تو شیطان بھی فوری طور پر حملہ کرتا ہے۔ پس جتنے اللہ تعالیٰ کے فضل زیادہ ہوں اتنی ہی زیادہ استغفار کی ضرورت ہے، اس کے آگے جھکنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اپنے فضلوں کے سائے میں رکھے۔ جیسا کہ مَیں نے کہا تھا کہ مسلمانوں کی آبادی وہاں تقریباً 17-16فیصد ہے لیکن وہاں برصغیر پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش والے مُلّاؤں والے حالات ہیں اور جماعت کے بارے میں جو غلط سلط مُلّاں وہاں کہتے ہیں لوگ ان کو سن لیتے ہیں اور ان باتوں پر یقین کر لیتے ہیں، جوش میں آجاتے ہیں۔ شاید اس کے لئے بعض مسلمان ملکوں سے انہیں ایڈ (Aid)بھی ملتی ہو۔

آجکل ان نام نہاد علماء کو جہاں بھی موقع ملتا ہے، جس ملک میں بھی موقع ملتا ہے، ان کا کام صرف احمدیوں کے خلاف فتنہ پیدا کرنا ہے۔ بہرحال ماریشس میں بھی احمدیوں کی کافی مخالفت ہے احمدیوں کے خلاف اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف جب بھی ان کو موقع ملتا ہے کافی بدزبانی کرتے ہیں۔ کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح فساد ہو۔ میرے دورے کی خبرجب اخبارمیں اور ٹی وی وغیرہ پر آئی تو انہوں نے بڑا سخت احتجاج کیا کہ کیوں یہ خبر دی گئی ہے۔ پھر جب ہمارا جہاں جلسہ ہو رہا تھا، جلسے کے آخری دن گیٹ کے سامنے بہت ہلڑ بازی کی، شور مچایا، نعرے لگائے، گالیاں نکالیں، میرے خلاف، جماعت کے خلاف، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف جو کچھ بک سکتے تھے بکتے رہے۔ جو مغلظات کہہ سکتے تھے کہتے رہے۔ جلسہ کے آخری دن جیسا کہ مَیں نے کہا کہ میرے جلسے پہ جانے سے پہلے اس گیٹ کے سامنے کافی لوگ اکٹھے ہوئے تھے اور جلوس تھا اور فتنہ پیدا کرنے کا خیال تھا۔ وہاں کے امیر صاحب اور انتظامیہ بڑی پریشان تھی کہ کہیں کوئی احمدی اس ہلڑ بازی اور گالی گلوچ کی وجہ سے جوش میں آ کر جواب نہ دے دے اور کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھے جس سے پھر فساد مزید بھڑکے۔ یا جب مَیں گزروں گا تو اس وقت کوئی احمدی ری ایکٹ(React)کرے اور پھر فساد کا خطرہ پیدا ہو۔ تو بہرحال اس کے سدّباب کے لئے انہوں نے میرے جانے کا راستہ بدل دیا اور مجھے آخری وقت میں بتایا کہ ہم نے اس لئے راستہ بدلا ہے۔ ان کے فساد کی وجہ سے پولیس بھی وہاں کافی تھی، تو یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوا کہ ان کے شور اور گالی گلوچ کے باوجود احمدیوں نے انتہائی صبرکا مظاہرہ کیا۔ اور حقیقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم پر عمل کرکے دکھایا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں بھی اسی طرح ایک موقع پر مخالفین نے بہت زیادہ فساد پیدا کرنے کی کوشش کی تھی اور احمدیوں نے بڑے صبر کا نمونہ دکھایا تھا۔ اس پرحضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کے افراد کو بڑے تعریفی کلمات سے نوازا تھا کہ یہی لوگ ہیں جو صبر کرتے ہیں، نہیں تو فساد بڑھ سکتا تھا۔ آج بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم کے مطابق دنیا کے ان دور دراز ملکوں میں بھی اللہ تعالیٰ جماعت کے افراد کو صبر کے نمونے دکھانے کی توفیق عطا فرما رہا ہے۔ بہرحال وہاں اگر کسی احمدی کی طرف سے ہلکا سا بھی رد ّ عمل ظاہر ہوتا تو فساد بڑھ جانے کا خطرہ تھا اور پھر یہ جماعت پر بہت بڑا داغ ہونا تھا کیونکہ ہم تو ہمیشہ امن، صلح اور پیار اور محبت کا نعرہ لگانے والے لوگ ہیں اور اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہیں جس نے ظلم کا عفو سے انتقام لیا تھا۔ ہم نے تو انشاء اللہ تعالیٰ دنیا کے ہر کونے میں، ہر ملک میں ان زیادتی کرنے والوں کو معاف کرتے رہنا ہے اور یہ معافی ہم کسی کمزوری کی وجہ سے نہیں کرتے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلام کی جو صحیح تعلیم ہمیں دی ہے اس پر عمل کرتے ہوئے کرتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے جو اُسوہ رکھا ہے اس کے مطابق کرتے ہیں۔ اگر نظر آ سکے، یہ مخالفین کبھی احمدیوں کا دل چیر کر دیکھیں کہ کس طرح احمدی ایسے حالات میں صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں۔ پس ہمیشہ ہر احمدی کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ صبر کا نمونہ انہوں نے دکھانا ہے اور دکھاتے چلے جانا ہے اور ہمیشہ یہ آپ کا طرہ امتیاز ہونا چاہئے کہ قانون کو کبھی اپنے ہاتھ میں نہیں لینا۔ لیکن اگر قانون لاگو کرنے والے کبھی یہ کہیں کہ خود سنبھال لو تو احمدی اللہ کے فضل سے ان فتنوں کو ایک منٹ میں ختم بھی کر سکتا ہے۔ تو یہ غلط فہمی نہ ہمارے دل میں ہے اور نہ کبھی مخالفین کے دل میں ہونی چاہئے کہ ہم کسی کمزوری کی وجہ سے صبر کرتے ہیں۔ بہرحال یہ مولوی لاؤڈ سپیکر پر گندے نعرے لگاتے رہے، گالیاں بکتے رہے۔ جس جگہ یہ لوگ گیٹ کے باہرسڑک پر کھڑے ہو کر نعرے لگا رہے تھے، وہاں سے بعض سرکاری افسران جن کو جلسے پر مدعو کیا گیا تھا، بلایا گیا تھا وہ بھی گزر کر آ رہے تھے دوسرے معزز لوگ بھی آ رہے تھے جن میں غیر مسلم بھی تھے۔ تو بہرحال یہ بھی ان کی جرأت ہے کہ باوجود اس ہنگامے کے انہوں نے پرواہ نہیں کی اور اس جگہ سے گزر کر جلسے میں شامل ہوئے۔ یہ مولوی میرے آنے کا کافی دیر تک انتظار کرتے رہے لیکن جب کافی دیر ہو گئی تو نعرہ لگا دیا کہ احمدیوں کا خلیفہ ڈر گیا ہے اب اس نے نہیں آنا چلو واپس۔ بہرحال کیونکہ اس وقت نماز کا وقت بھی تھا کچھ خاموشی بھی تھوڑی دیر کے لئے ہو گئی۔ لیکن اتفاق سے یا یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر تھی کہ جب انہوں نے یہ نعرہ لگایا ہے، اسی وقت چند آدمی بیعت کے لئے آئے ہوئے تھے تو بیعت شروع ہو گئی۔ جب لاؤڈ سپیکر پر آواز باہر نکلی تو کافی شرمندہ ہوئے ہوں گے۔ ان کے لئے لفظ شرمندہ تواستعمال نہیں ہو سکتا، کچھ اور لفظ ہونا چاہئے۔ ان کو یہ تسلی ہو گئی کہ مَیں اندر ہوں۔ اب یہ بڑے پریشان تھے کہ یہ آیا کس طرح؟ بہرحال تھوڑی دیر بعدان کی یہ گالیاں بند ہو گئیں۔ تو امیر صاحب کہنے لگے کہ یہ بول بول کر تھک گئے ہیں کیونکہ جب جواب نہ دیا جائے تو آخر انہوں نے کسی وقت تو تھکنا ہے ناں، بہرحال شرمندہ ہو کر چلے گئے۔ پھر جب جلسہ کی کارروائی شروع ہوئی اور مَیں نے اپنی تقریر میں محبت، پیار اور بھائی چارے کی باتیں کیں تو جو غیر مہمان آئے ہوئے تھے ان کے چہروں سے صاف لگ رہا تھا کہ یہ تو بالکل اور دنیا ہے، باہر ہم کیا سن کر آ رہے تھے اور یہ کیا کہہ رہے ہیں۔ بلکہ یہی سوچ رہے ہوں گے کہ ان باتوں کا ذکر تک نہیں کیا کہ باہر کوئی شور بھی پڑ رہا ہے یا نہیں۔ تقریر کے بعد کئی مہمان میرے پاس آئے اور انہوں نے شکریہ ادا کیا کہ آپ بڑی خوبصورت تعلیم دیتے ہیں۔ مولویوں کے نعروں کے باوجود بھی بعض غیر احمدی مسلمان شرفاء وہاں شامل ہوئے تھے اور مجھے جلسے کے بعد ملے بھی اور بڑی تعریف کی۔ ایک صاحب تو جوحُلیے سے بہت کٹر قسم کے مولوی لگ رہے تھے، میں سمجھا شاید یہ شرارت کی نیت سے آئے ہیں لیکن بڑی شرافت سے باتیں کیں اور شکریہ ادا کرکے گئے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے تو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کا وعدہ ہے۔ یہ لوگ جتنا مرضی دوسروں کو ڈرانے کی کوشش کریں یا ہمیں ڈرانے کی کوشش کریں اللہ تعالیٰ اپنے کام کرتا چلا جاتا ہے۔ اس کو ان لوگوں کی کوڑی کی بھی پرواہ نہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کے منصوبے ہیں اُن میں کوئی انسانی کوشش روک نہیں ڈال سکتی۔ اور اپنے وقت پر انشاء اللہ تعالیٰ اس کے نتیجے بھی ظاہر ہوتے چلے جائیں گے۔

پھر وہاں کے ملک کے صدر صاحب ہندو ہیں، بڑے شریف آدمی ہیں، ان سے بھی ملاقات ہوئی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے جب دورہ فرمایا تھا اس وقت وہ ملک کے وزیراعظم تھے۔ اس دورے کا بھی ذکر کرتے رہے اور انہوں نے بتایا بلکہ ان کی بیوی نے بتایا کہ اس دوران ہم نے جو تصویریں کھنچوائی تھیں وہ ہم نے اپنے گھر میں نمایاں کرکے لگائی ہوئی ہیں تاکہ ہم ان برکات سے فیض حاصل کریں جو ایسے نیک آدمیوں کی وجہ سے پہنچ سکتا ہے۔ بہرحال ان کا اپنا ایک نظریہ ہے اور انہوں نے بڑا محبت اور پیارکا اظہار کیا۔ اللہ تعالیٰ ایسے شریف النفس لوگوں کے سینے بھی کھولے۔

وہاں کے نائب صدر بھی جو مسلمان ہیں ان سے بھی بڑے اچھے ماحول میں احمدیت اور اسلام کے بارے میں باتیں ہوتی رہیں۔ زیادہ تر مسلمانوں کے بارے میں باتیں کرتے رہے۔ تو یہ شریف لوگ ہیں۔ یہ شرپسندمولویوں کی حرکات سے شرمندہ بھی ہوتے ہوں گے اور بہرحال مصلحتاً یا کسی وجہ سے خاموش رہتے ہیں۔ حالانکہ ان لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ مولوی جو ہیں اگر ان کو کھلی چھٹی دی تو یہ پیر تسمہ پا کی طرح ان کی گردنوں کو قابو کر لیں گے اور پھر جان چھڑانی مشکل ہو جائے گی۔ صرف پاکستان میں ہی نہیں، ایسے نمونے ہمارے سامنے ہیں کہ جہاں بھی ان کو کھلی چھٹی دی گئی ہے وہاں یہ اس طرح کی کوششیں کرتے ہیں اور کریں گے اور اپنی فطرت دکھائیں گے۔ ہمارے ساتھ تو اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں، ہمارا تو یہ کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ جماعت تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مخالفت کے باوجود دنیا میں ہر جگہ بڑھ رہی ہے لیکن جن حکومتوں نے بھی ان کی پشت پناہی کی ہے یا ان سے انہیں مدد ملی ہے ان کے لئے ہمیشہ ابتلا ہی آیا ہے۔ جس طرح حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ اگر پاکستان کی حکومت نے ان سے جان نہ چھڑائی تو یہ پھر کبھی نہیں چھوڑیں گے آجکل وہی ہو رہا ہے۔ اب حکومت بھی مشکل میں ہے اور وہ مغربی ممالک جو اپنے مفاد کے لئے ان کو آگے لائے تھے وہ بھی اب پریشانی کا اظہار کرتے ہیں۔ اب ان کو اپنی پڑی ہوئی ہے۔ لیکن اب ان سے جان چھٹتی نظر نہیں آ رہی۔ اگر گہرائی میں جائزہ لیں تو ان لوگوں کی وجہ سے ہی ملک کی ترقی کئی سال پیچھے ہو چکی ہے۔ اسی طرح اب دوسری مسلمان دنیا میں ہو رہا ہے۔ جس طرح مَیں نے پہلے بھی کہا، اگر ان ملکوں نے اپنے ذہنوں کو روشن نہ کیا اور مُلّائیت کو سیاست اور حکومت سے علیحدہ نہ کیا تو ان تمام ملکوں کے امن برباد ہو جائیں گے اور یہ پھر کبھی ترقی نہیں کر سکیں گے بلکہ اب یہ عمل شروع بھی ہو چکا ہے اور دنیا کو نظر آ رہا ہے۔ ابھی بھی مسلمان ملکوں کو، حکومتوں کو عقل کے ناخن لینے چاہئیں۔ بہرحال جیسا کہ میں نے کہا کہ ہم پر تو، جماعت احمدیہ پر تو مخالفت کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور نہ انشاء اللہ ہو گا۔ اس کے باوجود کہ مخالفت تھی، دو تین وہیں کے تھے اور ایک دو باہر کے جزیروں سے مختلف جگہوں سے آئے ہوئے تھے، چند افراد نے بیعت بھی کی۔ بیعت کے بعد ملاقاتیں بھی تھیں۔ ایک غیر از جماعت لڑکا اپنے ایک احمدی دوست کے ساتھ ملاقات کے لئے آیا تو مَیں نے اس سے پوچھا کہ تم نے بیعت نہیں کی۔ کہنے لگا ابھی بعض باتوں کی وجہ سے میرے دل میں انقباض ہے، کچھ ڈانواں ڈول ہوں۔ مَیں نے اس سے مذاقاً کہا کہ آج مولویوں کا عمل بھی تم نے دیکھ لیا ہے، ہماری باتیں بھی سن لی ہیں تو ابھی بھی تمہاری تسلی نہیں ہوئی۔ تو بڑا شرمندہ ہوا، بہرحال مَیں نے اس سے کہا کہ تم نیک فطرت نظر آتے ہو، ان باتوں کے بارے میں جن میں تم تسلی نہیں پاتے اس کا اب ایک ہی علاج ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرو اور چند دن دعاکرو پھر فیصلہ کرو۔ مَیں نے کہا مجھے امید ہے کہ تمہارا دل کھل جائے گا۔ چنانچہ وہ دو دن کے بعد ہی آ گیا کہ جو انقباض تھا وہ دُور ہو گیا ہے اب میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ تو جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار۔ اس نے تو انشاء اللہ آنا ہی آنا ہے چاہے مولوی جتنا مرضی زور لگا لیں۔ لیکن ان بدفطرتوں کا انجام بھی بہت بھیانک ہونے والا ہے۔ انشاء اللہ۔

پھر ماریشس کے ساتھ ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے، روڈرگس، یہ تقریباً چھوٹے جہاز کی ڈیڑھ گھنٹے کی فلائیٹ ہے۔ وہاں صبح سے شام تک کا دورہ تھا۔ چھوٹی سی نئی جماعت ہے۔ آرام کے لئے اور کھانوں وغیرہ کے لئے ہوٹل میں انتظام تھا۔ نمازوں کے لئے مسجد گئے تھے۔ وہاں ہوٹل میں ہی ہمارے ساتھیوں کو ایک مصری جو بڑا پڑھا لکھا ہے ملا، وہ وہاں ٹھہرا ہوا تھا۔ اس نے خود ہی میرے بارے میں ہمارے ساتھیوں سے بات کرنی شروع کر دی۔ اس کو کچھ تعارف تھا۔ جب ہمارے آدمیوں نے پوچھا کہ تمہیں کس طرح تعارف ہوا، بتایا کہ اخبار اور ٹیلی ویژن سے ہوا۔ بہرحال اس کو ایم ٹی اے اور ویب سائیٹ (Alislam) کا پتہ دیا۔ تو اس طرح دوروں میں اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی طرح احمدیت کا تعارف کرانے کا، دوسروں تک پیغام پہنچانے کے موقع مہیا فرماتا رہتا ہے۔

پھر اس جزیرے کے گورنر جوپہلے پادری تھے لیکن بعدمیں سیاست میں آ گئے ان سے بھی جماعت کے بارے میں بڑی تفصیل سے باتیں ہوتی رہیں۔ پیغام پہنچایا۔ پھر مختلف جگہوں پر ماریشس میں جہاں بھی(چھوٹا سا جزیرہ ہے) سیر کا پروگرام بنایا وہاں مختلف ملکوں سے ٹورسٹ (Tourists) آئے ہوتے ہیں، وہ بھی تعارف حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ان کی توجہ اس طرف پھیرتا تھا۔ خود آتے تھے، تعارف حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے، بعد میں تصویر کھنچوانے کی خواہش ظاہر کرتے تھے۔ مختصراً یہ کہ احمدیت کا پیغام پہنچانے کی بھی وہاں تو فیق مجھے یا وفد کے افراد کو کسی نہ کسی طرح ملتی رہی۔ وہ چھوٹا سا جزیرہ جس کا مَیں نے ذکر کیا ہے، یہاں بالکل نئی جماعت ہے۔ ایک مسجد ہے اور وہاں اب مَیں نے ایک نئی مسجد کی بنیاد رکھی ہے۔ بالکل چھوٹا سا جزیرہ ہے۔ تقریباً 36ہزار کی آبادی ہے اور یہاں احمدی ہونے والوں کی اکثریت غریب لوگوں کی ہے، یہ پہلے پورا جزیرہ عیسائیوں کا تھا اب وہاں کچھ احمدی بھی آ گئے ہیں۔ گو تربیتی لحاظ سے ابھی وہ کمزور ہیں۔ ان کا جائزہ بھی لینے کی توفیق ملی، پروگرام بنے۔ کس طرح ان کو بہتر کرنا ہے۔ بہرحال یہ لوگ بیعت کرنے کے بعد اخلاص میں بڑھ رہے ہیں۔ وہاں جا کر شدید خواہش پیدا ہوئی اور دعا بھی ہوئی کہ یہ چھوٹا سا جزیرہ ہے، اس پورے جزیرے کو جلد سے جلد احمدیت کی آغوش میں لانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ بہرحال چھوٹے جزیرے ہوں یا بڑے ہوں، چھوٹے ملک ہوں یا بڑے ملک ہوں ان کی اکثریت نے انشاء اللہ تعالیٰ احمدیت اور حقیقی اسلام کی آغوش میں آنا ہی آنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگیوں میں وہ نظارے دکھائے جب ہم احمدیت کا غلبہ دیکھیں۔ ماریشس میں جماعت نے ایک ہوٹل میں ایک ریسیپشن (Reception) کا انتظام کیا ہوا تھا جس میں وہاں کے معززین اور سرکاری افسران آئے ہوئے تھے۔ نائب وزیراعظم بھی آئے ہوئے تھے۔ میرا خیال ہے ان کے آباؤ اجدادآئر لینڈیا سکاٹ لینڈ سے، 4نسلیں پہلے وہاں گئے ہوئے ہیں۔ وہیں آباد ہیں۔ وہاں بھی ریسیپشن میں اسلام کی پیار و محبت کی تعلیم بتانے کی توفیق ملی۔ نائب وزیراعظم بڑی دلچسپی سے بعد میں کافی دیر آدھا پونا گھنٹہ اسلام کے بارے میں، جماعت کی تعلیم کے بارے میں، احمدیوں اور غیر احمدیوں کے فرق کے بارے میں سوال کرتے رہے۔ اور ان سے اچھی گفتگو چلتی رہی۔ تو دوروں میں جیسا کہ مَیں نے کہا ہے کہ ہر طبقہ کو پیغام پہنچانے کا موقع مل جاتا ہے۔ ویسے اگرروٹین کے مطابق یہ پیغام پہنچانے کا کام چل رہا ہو تو شاید ایک عرصہ لگے۔ میڈیا بھی بہت کوریج دے رہا ہوتا ہے۔ اس طرح بہت سارے لوگوں کو لاکھوں کی تعداد میں پیغام پہنچ جاتا ہے۔

ماریشس دنیاکا کنارہ بھی کہلاتا ہے۔ اس لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان بہم پہنچائے کہ اس جزیرے کے لوگوں کو بھی اور دوسری دنیا سے آئے ہوئے لوگوں کو بھی اس کنارے میں پہنچ کر پیغام پہنچانے کی توفیق ملی۔ ہمارا کام تو آواز دینا ہے اللہ تعالیٰ سب کے سینے کھولے کہ اسلام کی خوبصورت تعلیم کو پہچان سکیں۔ بہرحال ماریشس کا دورہ بھی اور جلسہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا کامیاب رہا۔ بعض باتیں یاد بھی نہیں رہتیں، ریکارڈ میں ہوں گی۔ بہرحال آہستہ آہستہ وہ باتیں یاد آتی ہیں۔ ماریشس جماعت کے ہر فرد کو اللہ تعالیٰ جزا دے۔ انہوں نے بڑے اخلاص اور وفا کا مظاہرہ کیا کئی ڈیوٹی دینے والے، کئی دن تک معمولی نیند لیتے تھے شاید ایک دو گھنٹے سوتے ہوں۔ جس دن میں نے واپس آنا تھا وہ فلائیٹ رات کو اڑھائی بجے تھی۔ تو نماز مغرب اور عشاء کے بعد مَیں نے وہیں مسجد میں ہی لوگوں کو خدا حافظ کہہ دیا کہ رات کو لیٹ تو بہرحال کوئی نہیں آئے گا۔ لیکن میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب میں دو بجے ائرپورٹ پر پہنچا ہوں تو اس طرح لوگ اکٹھے تھے جس طرح دن کے وقت اکٹھے ہوتے ہیں۔ بچے بھی، عورتیں بھی، بوڑھے اور مرد بھی، جوان بھی۔ مجھے بتایا گیا کہ رات ایک بجے سے یہ لوگ آنا شروع ہو گئے تھے اور بچے بھی بالکل فریش (Fresh) تھے، کوئی اثر نہیں تھا کہ رات کا وقت ہے اور نیند آئی ہوئی ہے۔ سب نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے انتہائی اخلاص و وفا کامظاہرہ کیا اور جذبات سے پُر دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔ اللہ سب کو جزا دے اور جلدسے جلد احمدیت کے پیغام کو اس پورے جزیرے میں پھیلا دے۔

ماریشس سے روانہ ہوکر ہم صبح 11بجے دہلی پہنچے۔ یہاں پہنچ کر جذبات کا ایک نیا رخ تھا کہ قادیان کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ دہلی میں دو تین دن قیام رہا۔ اس دوران میں مختلف جگہوں سے آئے ہوئے ایسے احمدی جو جلسے پر نہیں آسکتے تھے ان سے ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ اسی طرح کچھ تاریخی جگہوں کی سیر کابھی موقع مل گیا۔ آگرہ میں تاج محل اور دہلی کے کچھ تاریخی مقامات، مینار، قلعے جو چندایک محفوظ ہیں، کچھ تو کھنڈر بھی بن چکے ہیں، دیکھنے کا موقع ملا۔

ہم جب قطب مینار دیکھنے کے لئے گئے تو وہ دیکھنے کے بعد انتظامیہ کا خیال تھا کہ یہاں سے واپس گھر ہی جانا ہے۔ لیکن میرے دل میں یہ تھاکہ حضرت بختیارکاکی ؒ کے مزار پر بھی جانا ہے۔ میرے یہ کہنے پر انتظامیہ والے ایک دوسرے کے چہرے دیکھنے لگ گئے۔ انتظامیہ کا خیال تھا کہ سیکیورٹی کے لحاظ سے ٹھیک نہیں ہے کیونکہ چھوٹی چھوٹی گلیاں مزار پہ جانے کے لئے ہیں اور ارد گرد د کانیں ہیں اور آبادی بہت زیادہ ہے۔ پھر مزار سے کم و بیش سو گزپہلے ان کا طریقہ ہے کہ جوتے بھی اتروا دیتے ہیں۔ تو بہرحال مَیں نے کہا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا وہاں چلتے ہیں۔ خیر گلیوں میں سے گزر کر ہم وہاں پہنچے۔ جوتے اتروائے کچھ گھر کی خواتین بھی ہمارے ساتھ تھیں لیکن ایک جگہ آ کے انہوں نے عورتوں کوروک دیا کہ اس سے آگے عورتوں کو جانے کی اجازت نہیں۔ جب ہم نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے تو کہا کہ بزرگ یہی ہمیں کہتے آئے ہیں کہ اس سے آگے عورتیں نہیں جا سکتیں۔ بہرحال کہاں سے روایت چلی ؟کیوں نہیں جا سکتی ہیں ؟ یہ پتہ نہیں۔ مرد بہرحال آگے مزار تک چلے گئے وہاں جا کے کچھ لوگ دعا کر رہے تھے دوسرے بھی پہلے وہاں دعا میں لگے ہوئے تھے۔ جالی کے ساتھ مَیں نے دیکھا کچھ عورتوں کو جو مسلمان نظر نہیں آ رہی تھیں اور اس طرح قبر پہ دعا کرنے والوں کو دیکھ کر یہ لگتا تھا کہ بجائے ان بزرگ کے لئے دعا مانگنے اور اپنے لئے دعا مانگنے کے یہ تو اس بزرگ سے مانگ رہے ہیں، یہاں تو شرک چل رہا ہے۔ تو بہرحال وہاں دیکھ کر یہی دعا کی، یہی خیال آیا کہ اے اللہ جو شخص تیرا عبد بنا، تیرا بندہ بننے کی کوشش کرتا رہا، اسے یہ لوگ شرک کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔ ان مسلمانوں کو عقل اور سمجھ دے تاکہ تیری پہچان کر سکیں۔ بہت سے اور نظارے بھی سامنے آ گئے کہ کس طرح لوگوں نے ان جگہوں پرجا کر شرک پھیلایا ہوا ہے اور مسلمان کہلاتے ہیں، حالانکہ یہ سب بزرگ توحید پر قائم تھے اور توحید کو پھیلانے کی کوشش کرتے رہے۔

وہاں سے واپسی پر میرے ذہن میں یہ نہیں تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام 1905ء میں یہاں آئے تھے باوجود اس کے کہ شاید کسی نے ذکر بھی کیا تھا۔ لیکن پھر بھی مجھے بعد میں واپسی پر خیال آیا کہ دیکھوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کن تاریخوں میں اور کس سال میں آئے تھے۔ میرے ذہن میں قریب کی تاریخیں تھیں۔ تو چیک کرنے پر یہ خوشی ہوئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی 1905ء کے نومبر میں گئے تھے۔ تو اس طرح پورے 100سال کے بعد حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی اتباع میں وہاں مزار پر جانے کا موقع ملا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور مزاروں پربھی گئے تھے لیکن حضرت بختیار کاکی ؒ کے مزار پر جب گئے ہیں تو ملفوظات میں اس طرح واقعہ درج ہے کہ آج حضرت بختیار کاکی ؒ کے مزار پر حضور علیہ السلام نے دعا کی اور دعا کو لمبا کیا۔ واپس آتے ہوئے حضرت نے راستہ میں فرمایا کہ بعض مقامات نزول برکات کے ہوتے ہیں اور یہ بزرگ چونکہ اولیاء اللہ تھے اس واسطے ان کے مزار پر ہم گئے۔ ان کے واسطے بھی ہم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اپنے واسطے بھی اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی۔ اور دیگر بہت دعائیں کیں لیکن یہ دو چار بزرگوں کے مقامات تھے جو جلد ختم ہو گئے اور دہلی کے لوگ تو سخت دل ہیں۔ یہی خیال تھا کہ واپس آتے ہوئے گاڑی میں بیٹھے ہوئے الہام ہوا(یعنی یہ سوچتے ہوئے آ رہے تھے تو گاڑی میں بیٹھے ہوئے یہ الہام ہوا) کہ:’’ دست تو، دعائے تو، ترحّم ز خدا ‘‘۔ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ529-528 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

کہ تیرا ہاتھ ہے، اور تیری دعا اور خدا کی طرف سے رحم۔ تو اللہ کرے کہ دہلی والوں کے بھی اور دنیا کی دوسری آبادیوں کے بھی دل نرم ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعائیں قبول ہوں اور دنیا کو آپ ؑ کو ماننے کی توفیق ملے۔

پھر اسی قسم کے سفر کا ذکرہے، ملفوظات کا ہی ایک اور حوالہ ہے، ’’ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کو مخاطب کرکے فرمایا کہ آج کہاں کہاں کی سیر کی؟ انہوں نے عرض کی فیروز شاہ کی لاٹ، پراناکوٹ، مہابت خان کی مسجد، لال قلعہ وغیرہ مقامات دیکھے۔ فرمایا ہم تو بختیار کاکی، نظام الدین صاحب اولیاء، حضرت شاہ ولی اللہ صاحب وغیرہ اصحاب کی قبروں پر جانا چاہتے ہیں (یہ اس سے پہلے بتایا، بعد میں تو آپ ؑ ہو آئے تھے) دہلی کے یہ لوگ جو سطح زمین کے اوپر ہیں نہ ملاقات کرتے ہیں، اور نہ ملاقات کے قابل ہیں اس لئے جو اہل دل لوگ اِن میں سے گزر چکے ہیں اور زمین کے اندر مدفون ہیں، ان سے ہی ہم ملاقات کر لیں تاکہ بدوں ملاقات واپس نہ جائیں۔ مَیں ان بزرگوں کی یہ کرامت سمجھتا ہوں کہ انہوں نے قسی القلب لوگوں کے درمیان بسر کی۔ اس شہر میں ہمارے حصہ میں ابھی وہ قبولیت نہیں آئی جو ان لوگوں کو نصیب ہوئی۔ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ499 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

جیسا کہ مَیں نے ذکر کیا کہ دہلی میں بعض تاریخی جگہیں بھی دیکھنے کا موقع ملا جہاں مسلمان بادشاہوں کے عروج و زوال کی داستانیں رقم ہیں، ان میں دہلی کا لال قلعہ بھی ہے اور تغلق آباد کا قلعہ بھی ہے۔ تغلق آباد کا قلعہ وہ جگہ ہے جس کے ایک اونچے مقام پرحضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کھڑے ہوکر (جب ایک دفعہ سیر پہ وہاں گئے تھے تو اس مقام پر کھڑے ہو کر) دہلی کا نظارہ کر رہے تھے تو اس دوران اس نظارے میں اتنے محو ہو گئے کہ آپ ؓ ایک اور عالَم میں چلے گئے۔ ، کسی اور دنیا میں چلے گئے۔ پھر آپ ؓ کی ایک بیٹی کے کہنے پر آپ ؓ کی وہاں سے واپس روانگی ہوئی اور اپنے خیالات سے واپس آئے۔ تو اس وقت آپ ؓ کی زبان سے نکلا تھا کہ مَیں نے پا لیا، مَیں نے پا لیا‘‘۔ تو اس کی تفصیل کہ کیا پا لیا ؟اور ان قلعوں اور کھنڈروں اور ویرانوں کی روحانی دنیا سے مثالیں دیتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تقاریر کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا جو تقریباً 20سال کے عرصے پر پھیلا ہوا ہے۔ جلسہ پر کچھ سال لگا تار اور پھر بیچ میں کچھ وقفہ دے کر جلسوں میں تقریر فرمایا کرتے تھے۔ ان تقاریر میں آپؓ نے ہمیں روحانی دنیا کی سیر کروائی ہے۔ اور پھر ہماری ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ یہ مجموعۂ تقاریر’’سیر روحانی‘‘ کے نام سے اب تو ایک جلد میں شائع ہو چکا ہے۔ ہر پڑھے لکھے احمدی کو جو اردو پڑھ سکتا ہے اس کو پڑھنا چاہئے۔ جو پڑھ نہیں سکتے، سن سکتے ہیں، سنیں۔ اس میں دنیاوی بادشاہوں کا بھی نقشہ کھینچا گیا ہے اس میں عبرت کے سبق بھی ہیں۔ اس کو پڑھ کر خوف بھی آتا ہے اور ساتھ ہی عالَم روحانیت کی سیر کرکے اس بات کی خوشی بھی ہے کہ اگر ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے رہے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونے کی جو توفیق عطا فرمائی ہے اس سے ہم فیض پاتے رہیں گے اور اس سے دائمی بادشاہت حاصل کرنے والوں میں شامل بھی ہوں گے۔ لیکن جیسا کہ مَیں نے کہا ہے کہ یہ تب ہو گا جب ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں گے، اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے والے ہوں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلنے والے ہوں گے، آپؐ سے محبت کرنے والے ہوں گے۔

بہرحال پھر دہلی کا یہ سفر ختم ہوا تو آگے ہم قادیان کی طرف ٹرین پر روانہ ہوئے، قادیان پہنچے، آپ سب نے رپورٹس پڑھ لی ہوں گی، ایم ٹی اے پر بھی اہل قادیان کے استقبال کے نظارے دیکھ لئے ہوں گے۔ اس بستی میں پہنچ کر ایک عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ مینارۃ المسیح دُور سے ہی ایک عجیب شان سے کھڑا نظر آتا ہے۔ بہشتی مقبرہ ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مزار ہے، دعا کرکے عجیب سکون ملتا ہے۔ سب جانے والے تجربہ رکھتے ہیں۔ الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا۔ قادیان میں تقریباً ایک ماہ قیام رہا۔ لیکن پتہ نہیں چلا کہ ایک ماہ کس طرح گزر گیا۔ مَیں تو پوری تفصیل سے قادیان پھر بھی نہیں سکا حالانکہ چھوٹی سی جگہ ہے۔

اس خطبے میں جیسا کہ مَیں نے شروع میں کہا تھا کہ عموماً لوگ امید رکھتے ہیں کہ سفر کے حالات و واقعات سنائے جائیں لیکن قادیان کے سفر کے حالات تو ایک حالِ دل کی کہانی ہے جو سنائی نہیں جا سکتی۔ بہرحال مختصر یہ کہ اب تک مَیں نے جو دورے کئے ہیں، سفر کئے ہیں، ان میں پہلا سفر ہے جس کی یاد ابھی تک بے چین کرتی ہے اور باقی ہے۔ عجیب نشہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس بستی کا۔ اس سے زیادہ کہنا کچھ مشکل ہے۔

بہرحال شہر کا حال بھی سن لیں کچھ مختصراً بتا دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے 1991ء کے بعد سے جب سے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے دورہ فرمایا تھا قادیان میں عمارتوں کے لحاظ سے کافی ترقی ہوئی ہے، کچھ پرائیویٹ لوگوں نے بھی گھر بنائے وہاں کی آبادی نے بھی گھر بنائے، جماعت کی بھی عمارات بنیں۔ شہرکافی پھیل گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہاں کے رہنے والے احمدیوں کی اکثریت میں حالات کی بہتری کے باوجود ابھی تک سادگی پائی جاتی ہے اس لئے مَیں انہیں یہی زور دیتا رہا ہوں کہ اس سادگی اور سکون کو جو ابھی تک اُن درویشوں کے اثر سے قائم ہے جنہوں نے شعائر اللہ کی حفاظت کی خاطر اپنے گھر بار، جائیدادیں رشتہ داریاں چھوڑی ہیں، ان کے بچے اسے یاد رکھیں اور اس کی جگالی کرتے رہیں۔ اور پھر نئے آنے والے بھی جو اب وہاں آکر آباد ہو رہے ہیں اس بستی کے تقدس کو قائم رکھنے کی کوشش کریں۔ کئی نو مسلم نومبائع ہیں بعض معلمین کلاس میں بھی داخل ہوئے ہیں، جامعہ میں بھی داخل ہوئے ہیں لیکن باوجود اس کے کہ دینی تعلیم وغیرہ بھی حاصل کر رہے ہیں، جماعتی روایات کا ان کو پوری طرح علم نہیں ہے اور تعلیم کا بھی پوری طرح علم نہیں ہے۔ تو اُن کو چاہئے کہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ جماعتی روایات اور قادیان کے تقدس سے پوری طرح واقف ہوں اور اس کو اپنے اندر جذب کریں یا اپنے آپ کو اس ماحول میں جذب کرنے کی کوشش کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس بستی کا ہونا چاہئے۔ بہرحال اکثریت جیسا کہ مَیں نے کہا تھا سادہ ہے، سادگی پر قائم ہے اور سکون اور امن قائم کرنے والے ہیں، اخلاص و وفا میں بڑھے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں بڑھاتا چلا جائے۔

وہاں کی غیر مسلم آبادی نے بھی مہمان نوازی اور تعلق کا حق ادا کیا ہے۔ جس گلی کوچے میں سے بھی گزرے احمدیوں کے ساتھ غیر مسلموں کے چہروں سے بھی پیار اور تعلق کا بھی اظہار ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔

وہاں قیام کے دوران جلسے کے تین دن ہی نہیں جو تقریروں کے تین دن تھے۔ یوں لگ رہا تھا کہ پورا مہینہ ہی جلسے کا سا سماں ہے۔ اور ہر وقت رونق۔ کسی نے جو یورپ سے خود جلسے قادیان پر گئے ہوئے تھے مجھے خط لکھاکہ گلیوں اور سڑکوں پہ جتنا رش تھا اور جو نظارے تھے ایم ٹی اے کے کیمرے اس طرح وہ دکھا نہیں سکے۔ ان کی بات ٹھیک ہے۔ رش کا تو یہ حال تھا کہ گو سڑکیں چھوٹی ہیں لیکن اس کے باوجود یہ آبادی اتنی نہیں لگتی تھی جتنا وہاں سڑکوں میں پھنسی ہوئی نظر آتی تھی۔ بعض دفعہ ٹریفک یا لوگوں کا چلنا رک جاتا تھا۔ گلیوں میں Pack Jam- تھا۔ بعض لوگوں نے مجھے بتایا کہ بعض دفعہ اتنا رش تھا کہ سڑکوں پر چلتے چلتے ایک دم اگر کوئی روک آ جاتی تھی تو ہلنے کی بھی گنجائش نہیں ہوتی تھی۔ تو بہرحال بچے، بوڑھے، مرد، عورتیں، قادیان کے مقامی یا ہندوستان کے دوسرے شہروں سے آئے ہوئے یا باہر کے ملکوں سے آئے ہوئے مہمان جو بھی احمدی تھے اور احمدیت جن کے دلوں میں بیٹھ چکی ہے ہر ایک کے چہرے سے لگتا تھا کہ ان دنوں میں کسی اور دنیا کی مخلوق بنے ہوئے ہیں۔ کسی اور دنیا کے رہنے والوں کے چہرے ہیں۔ جلسے پر بعض دوسرے جزیروں سے، ساتھ کے چھوٹے جزیروں سے لمبا سفر کرتے ہوئے غریب لوگ پہنچے تھے۔ بعضوں کا چھ سات دن کا سفرتھا۔ ایک دن سمندر میں سفر کیا پھر انتظار کیا پھر کئی دن ٹرین پہ سفرکیا اور پھر قادیان پہنچے` قادیان میں سردی بھی زیادہ ہوتی ہے جبکہ یہ گرم علاقوں کے لوگ تھے۔ ان کو سردی کی عادت نہیں تھی۔ لیکن ایمان کی گرمی کی شدت نے اس کا شاید اُن کو احساس نہیں ہونے دیا۔ انتہائی صبر سے انہوں نے یہ دن گزارے ہیں۔ یہ نظارے صرف وہیں نظر آ سکتے ہیں جہاں خدا کی خاطر یہ سب کچھ ہو۔ دنیا دار تو اس قربانی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ بعض دُور دراز سے آئے ہوئے غریب لوگوں سے آنے کے بارے میں جو پوچھو تو یہی جواب دیتے تھے کہ آپ کی موجودگی میں کیونکہ جلسہ ہو رہا تھا اس لئے ہم آ گئے ہیں۔ مختلف قومیتوں کے، علاقوں کے لوگ، قبیلوں کے لوگ آئے ہوئے تھے۔ مالی لحاظ سے اکثریت غریب ہے۔ ہندوستان بہت بڑا وسیع ملک ہے اور موسموں کا بھی بڑا فرق ہے، کہیں گرم علاقے ہیں کہیں بہت ٹھنڈے علاقے ہیں۔ جو گرم علاقے والے ہیں ان کو گرم کپڑوں کا تصور بھی نہیں ہے نہ ان کے پاس ہوتے ہیں۔ لیکن مسیح محمدی کے یہ متوالے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعاؤں سے جھولیاں بھرنے کے لئے کھنچے چلے آئے۔ ایم ٹی اے پر بھی آپ لوگوں نے دیکھا ہو گا، رپورٹس بھی پڑھی ہوں گی۔ آنے والوں سے سنا بھی ہو گا۔ لیکن وہاں جو کیفیت تھی وہ دیکھنے والے ہی محسوس کر سکتے ہیں۔ بلکہ ملاقات کے وقت بعضوں کا جو حال ہوتا تھا وہ صرف مَیں ہی محسوس کر سکتا ہوں۔ پس اخلاص و وفا اور نیکی میں بڑھنے کی یہ کیفیت اگرجماعت کے افراد اپنے اندر قائم رکھے رہے اور رکھیں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ جماعت بھی ترقی کرتی جائے گی اور جماعت کے لوگ بھی کامیاب ہوتے چلے جائیں گے۔

قادیان کے جلسے پر پاکستان سے آنے والوں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ گو کہ زیادہ نہیں آ سکے لیکن 5ہزار سے زائد وہاں سے بھی آئے تھے۔ ان لوگوں کے احساس محرومی اور جدائی کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ بعض نہ آنے والوں نے خطوں میں بھی اور بعض جن کو شعر و شاعری سے لگاؤ ہے انہوں نے شعروں میں اپنی بے بسی کا اظہار کیا جنہیں پڑھ کر دل کی عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ گو کہ آنے والوں سے وقت کی کمی وجہ سے صرف مصافحے ہوئے یا ایک آدھ لفظ کسی نے بات کہہ دی لیکن یہ چند سیکنڈ بھی جو ان لوگوں سے ملاقات کے ملے تھے وہ برسوں کی کہانی سنا جاتے تھے۔

اللہ تعالیٰ یہ دوریاں اور پابندیاں جلد ختم فرمائے۔ قادیان والے اور مہمان آتے جاتے سڑکوں پر نظر آتے تھے۔ جس وقت بھی جاؤ یوں لگتا تھا جس طرح ان کو پہلے سے ہی پتہ ہے کہ کس وقت مَیں نے سڑک پر آنا ہے۔ کھڑے ہوتے تھے سڑکوں پر۔ سلام ہو رہے ہیں، دعائیں مل رہی ہیں، نعرے بلند ہو رہے ہیں۔ پھر مختلف اوقات میں مَیں دیکھتا رہا ہوں، بیت الدعا میں، بیت الفکر میں، مسجدمبارک میں لوگ یا نفل پڑھ رہے ہوتے تھے یا نفل پڑھنے کے لئے اپنی بار ی کا انتظار کر رہے ہوتے تھے۔

اللہ کرے کہ یہ دعاؤں اور نوافل کی عادت ان کی زندگی کا مستقل حصہ بن جائے بلکہ ہر احمدی کی زندگی کا مستقل حصہ بن جائیں۔ یاد رکھیں کہ خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور کی گئی دعائیں ہی ہیں جو ربوہ کے راستے بھی کھولیں گی اور قادیان کے راستے بھی کھولیں گی اور مدینہ اور مکہ کے راستے بھی کھولیں گی، انشاء اللہ تعالیٰ۔

اس سفر میں ہوشیار پور جانے کا بھی موقع ملا اور اس گھرمیں بھی جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے چلّہ کاٹا تھا اور آپ ؑ کو موعود بیٹے کی بشارت ملی تھی یعنی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی۔ ایک عرصے سے اس عمارت کی جماعتی تاریخی حیثیت ہونے کے لحاظ سے کوشش تھی کہ جماعت اس کو خرید لے۔ تو چندسال پہلے جماعت کو خریدنے کی توفیق ملی اس کو ٹھیک ٹھاک کرایا گیا۔ اس کمرے میں بھی دعا کی توفیق ملی، مجھے بھی اور جو میرے ساتھی تھے ان کو اور قافلے کے لوگوں کو بھی۔ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعاؤں سے ہمیں ہمیشہ فیضیاب فرماتا رہے۔

جب قادیان پہنچا ہوں تو وہاں کے رہنے والوں کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو نکل رہے تھے۔ جب واپس آ رہا تھا تو جدائی کے غم کے آنسو تھے۔ پس قادیان والوں سے بھی مَیں کہتا ہوں کہ اس جدائی کے غم کو دور کرنے کے لئے اور دوبارہ اور بغیر کسی روک کے ملنے کے لئے ان آنسوؤں کو ہمیشہ بہنے والا بنا لیں۔ اور اہل پاکستان بھی اور اہل ربوہ بھی ہمیشہ اپنے آنسوؤں کو اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے بہنے والا بنالیں۔ اپنی عبادتوں کو ہمیشہ زندہ رکھیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور اتنا گڑ گڑائیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت فرماتے ہوئے ہماری کامیابی کی منزلیں نزدیک تر کر دے۔ آمین۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا خلاصہ
  • English اور دوسری زبانیں

  • 20؍ جنوری 2006ء شہ سرخیاں

    اخلاص، محبت و فدائیت اور غیر مسلم شرفاء ومعززین کے حسن سلوک کا ایمان افروز اور رُوح پرورتذکرہ

    فرمودہ مورخہ 20؍ جنوری 2006ء (20؍صلح 1385ھش) بیت الفتوح، لندن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور