حضرت مسیح موعود ؑ کی آمد کے بعدآفات ارضی وسماوی کی کثرت پیشگوئیوں کے عین مطابق ہے

خطبہ جمعہ 27؍ جنوری 2006ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے درج ذیل آیت قرآنی کی تلاوت فرمائی:

{وَمَا کَانَ رَبُّکَ لِیُھْلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَّاَھْلُھَا مُصْلِحُوْنَ} (ہود آیت: 118)

قادیان کے سفر پر جانے سے پہلے مجھے ایک احمدی کا خط ملا کہ آپ جلسے پر قادیان جا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ یہ سفر ہر لحاظ سے مبارک کرے لیکن یہ دعا بھی کریں کہ اس سال ان دنوں میں کوئی آسمانی آفت کوئی تباہی یا زلزلہ وغیرہ نہ آئے۔ یہ ڈر شاید لکھنے والے کا اس لئے تھا کہ گزشتہ دو سالوں میں یعنی 2003ء میں بھی اور 2004ء میں بھی عین انہیں دنوں میں جب قادیان کا جلسہ ہو رہا ہوتا ہے اس کی گہماگہمی ہوتی ہے دو مسلمان ملکوں میں زلزلے کی وجہ سے بڑی تباہی آئی۔ ایک جگہ ہزاروں اور دوسری جگہ لاکھوں لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور وہ لقمہ اجل بنے۔ 2003ء میں ایران میں زلزلہ آیا تھا اور 2004ء میں انہیں دنوں میں انڈونیشیا میں جو سب سے بڑا اسلامی ملک سونامی (Tsunami)آیا جس نے بہت زیادہ نقصان کیا۔ اس کانقصان کئی اور ملکوں اور ساتھ کے ہمسایہ جزیروں میں بھی ہوا۔ پھر 8؍ اکتوبر 2005ء کو پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں اور خاص طور پرکشمیر میں انتہائی خوفناک زلزلے کی وجہ سے تباہی پھیلی۔ اس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً 87ہزار بتائی جاتی ہے۔ لیکن بعض کہتے ہیں اس سے بھی زیادہ تھی۔ خبروں سے پتہ لگتا ہے کہ صحیح اندازے، صحیح اعداد و شمار تو ابھی تک معلوم نہیں ہوئے، یا بتانا نہیں چاہتے۔ بہرحال جو بھی تعداد ہے ایک بڑے وسیع علاقے میں بڑی تباہی آئی تھی اور کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ جہاں جہاں تباہی آئی ہے، جو بچے ان کی آباد کاری کے لئے بھی ایک بڑالمبا عرصہ درکار ہے۔ حکومتوں کی انٹرنیشنل ایجنسیز جو مدد کرتی ہیں، ان کے علاوہ کئی این جی اوز بھی کام کر رہے ہیں۔ شروع میں انہوں نے بہت کام کیا لیکن کیونکہ لمبا عرصہ کام کرنا پڑ رہا تھا، اپنے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کئی تو بیچ میں چھوڑ کر چلی گئیں اور لوگ بیچارے موسم کی شدت کی وجہ سے اور عارضی رہائش، خیموں وغیرہ کی وجہ سے سردی کا شکار بھی ہو رہے ہیں، بیماری کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایک خبر کے مطابق برف باری اور بارشوں کی وجہ سے اب مزید ہزاروں موتوں کا خطرہ ہے۔ ہم تو دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔

جماعت ہیومینیٹی فرسٹ (Humanity First) کے ذریعہ سے جو ایک مدد کرنے کا ادارہ ہے جس میں بہت بڑا بلکہ 99فیصد حصہ جماعت کے افراد کا ہے۔ جو مدد تھی چاہے وہ رقم کی تھی یا کپڑوں لباس یا دوسروی اشیاء کی مدد تھی اس علاقے میں انسانیت کی خدمت کر رہی ہے۔ پہلے حکومت نے ان کو تھوڑا سا کام دیا تھالیکن اب حکومت کی وہاں خواہش تھی اور انہوں نے زیادہ ذمہ داری ڈال دی ہے کہ ایک نیورو سینٹر قائم کیا جائے جس میں ہیومینیٹی فرسٹ ان کی مدد کرے۔ بہرحال اپنے وسائل کے لحاظ سے جس حد تک ہو سکتا ہے کریں گے کیونکہ زلزلے میں جو نقصان پہنچا، جو صدمے لوگوں کو پہنچے اس کی وجہ سے اعصابی بیماریوں کے افراد بھی بہت زیادہ ہیں۔ پھر 2005ء میں ہی امریکہ میں سمندری طوفان کی وجہ سے ایک بہت بڑی تباہی آئی، پھر اور ملکوں میں سیلابوں وغیرہ کے ذریعہ سے تباہیاں آئیں، ویانا وغیرہ میں بھی، ان جگہوں پر بھی ہیومینیٹی فرسٹ نے بہت کام کیا ہے۔ اور جہاں بھی کام کیا احمدی کیونکہ بڑا لگ کر کام کرتا ہے ان کے کام کو سراہا گیا تو بہرحال انسانیت کے رشتے کے ناطے یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ خدمت انسانیت کریں اور اس کے لئے کسی سے ہمیں اجر نہیں لینا یہ تو ہمارے فرائض سے تعلق رکھنے والی بات ہے، فرائض میں شامل ہے۔

کئی احمدی ان تباہیوں اور زلزلوں کو دیکھ کر یہ بھی سوال کرتے ہیں، لکھتے ہیں کہ اس زلزلے میں توکئی معصوم جانیں بھی ضائع ہو گئیں اور بعض احمدی کہتے ہیں اگر یہ عذاب تھا تو جو لوگ شرارتی تھے، ظالم تھے ان پر آنا چاہئے تھامعصوم بچے عورتیں کیوں اس کا شکار ہو گئیں۔ اس قسم کے سوالات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بھی اُس زمانے میں کئے گئے تھے جب زلزلے آئے تھے۔ خاص طور پر جب 1905ء میں کانگڑہ کا زلزلہ آیا یا اور دوسری آفات دوسرے ملکوں میں آئیں، امریکہ وغیرہ میں بھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان آفات پر اٹھنے والے سوالات کے جواب دیئے ہوئے ہیں۔ لیکن حضرت مسیح موعود ؑ کے حوالے سے جواب دینے سے پہلے گزشتہ سال جو زلزلہ پاکستان اور کشمیر میں آیا اس پر مختلف پاکستانی اخباروں میں علماء کی جو آراء اور بیانات آئے ہیں اور وہ مجھے اکٹھے کر کے دئے گئے ہیں (پہلے بھی مختلف قسم کی ملک میں آفات آتی رہی ہیں ان پر لوگ لکھتے رہے ہیں ) و ہ مَیں آپ کو بتاؤں گا۔ اس سے پتہ چل جائے گا کہ عام طور پر مسلمانوں کی اور ملک کی جو حالت ہے اس پر یہ علماء کیا رائے دیتے ہیں، قطع نظر اس کے کہ ان کے اپنے عمل کیا ہیں۔ اس حالیہ زلزلے کے بارے میں بعض سوال جیسا کہ مَیں نے کہا اخباروں نے اٹھائے اور ملک کے غیر از جماعت علماء کے سامنے رکھے۔

روزنامہ پاکستان کی ایک خصوصی اشاعت شائع ہوئی تھی اس میں وہ لکھتا ہے کہ ’’حالیہ تباہ کن زلزلے نے ہر طرف تباہی پھیلا دی ہے، ہر طرف سے چیخوں اور سسکیوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔ ہنستے بستے گھرانے نیست و نابود ہو گئے ہیں۔ جہاں کل تک قہقہے بلند ہوتے تھے وہاں موت کا گھمبیر سناٹا طاری ہو چکا ہے۔ انسانیت بلبلا رہی ہے، آدمیت ماتم کر رہی ہے، الفاظ مرثیوں کا روپ دھار چکے ہیں۔ آنکھوں کے آنسو تمام تر بہہ چکے اور چہروں کے رنگ اڑ چکے ہیں۔ لکھتا ہے کہ شدید ترین زلزلے نے جہاں بہت جانی اور مالی نقصان کیا وہاں بہت سے سوالات بھی پیدا کر دئیے ہیں۔ کیا سوال پیدا کئے؟ کہتے ہیں کہ کیا یہ ہمارے اعمال کی سزا ہے؟ کیایہ ہماری آزمائش ہے، اگر یہ آزمائش تھی تو پھر ایک ہی علاقے میں کیوں، اعمال کی سزا ہے تو معصوم لوگ کیوں ہلاک ہوئے؟ کیا یہ زلزلہ حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد کی نشانی ہے؟تو انہوں نے مختلف علماء کو دعوت دی کہ ان کے جواب دیں تو اس فورم میں جو لوگ آئے اور جو بیان دئیے ان میں سے چند ایک مَیں یہاں رکھتا ہوں۔ سابق صوبائی وزیر مذہبی امور اوقاف زکوٰۃ و عشر، ڈاکٹر مفتی غلام سرورقادری، ایک معروف اسلامی سکالر ہیں، افسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حالیہ زلزلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عبرتناک، بہت بڑی تنبیہ، ایک بہت بڑا سبق ہے۔ عوام، سیاستدان علماء و حکمران اس سے سبق سیکھیں۔ عوام کے لئے تو اس لئے کہ ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو مسلمان ہو کر کلمہ پڑھ کر اپنی حرکتوں سے اسلام اور کلمہ کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ نہ حقوق اللہ کی فکر کرتے ہیں اور نہ ہی انسانی حقوق کا احساس کرتے ہیں، اور جو کلمہ پڑھنے والے اور اس کو سمجھنے والے اور اس کا فہم و ادراک رکھنے والے ہیں ان کو تو انہوں نے ویسے ہی خارج کر دیا ہے۔

پھر آگے لکھتے ہیں کہ علماء کے لئے زلزلہ لمحہ فکریہ ہے کہ جوآپس میں اتحاد و اتفاق کی فضا پیدا کرکے ملک کو قرآن و سنت کے نظام کا گہوارہ بنانے کی بجائے فرقہ وارانہ تعصب پھیلاتے، ایک دوسرے کو کافر و مشرک قرار دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان میں بعض فرقوں کے لوگ مذہبی جنون میں اس حد تک مبتلا ہو جاتے ہیں کہ مخالف فرقے کے افراد کے قتل جیسے بدترین گناہ کو بھی ثواب تک ٹھہرا لیتے ہیں۔ حکمرانوں کے لئے یہ ناگہانی آفت عبرت و لمحہ فکریہ ہے کہ حکمرانوں نے حصول پاکستان کامقصد بھلا ڈالا اور انہیں عوام کی تکلیفوں کا احساس تک نہیں رہا۔ انہیں اقتدار کا تحفظ تو عزیز ہے مگر عوام کی جان و مال، عزت و آبرو کا تحفظ عزیز نہیں ہے۔

پھر ایک اور سکالر، شرعی عدالت کے مشیر خصوصی حافظ صلاح الدین یوسف کہتے ہیں کہ زلزلہ تازیانہ عبرت تھا ہمیں اس سے اپنی اصلاح کرلینی چاہئے۔ جب کفر و طغیان بڑھ جائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ ضرور آتی ہے۔ باقی یہ کہنا کہ معصوم لوگ کیوں ہلاک ہوئے تو حدیث میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کی گرفت آئے گی تو سبھی پکڑے جائیں گے، سبھی تباہ ہوں گے۔ صحابہ کرام ؓ نے پوچھا نیک لوگ بھی تباہ ہوں گے؟ تو آپؐ نے فرمایا ہاں نیک لوگ بھی۔ ان کے ہوتے ہوئے بھی عذاب آ سکتا ہے۔ البتہ قیامت کے دن ان کی نیتوں اور اعمال کے مطابق بدلہ ملے گا۔ اللہ تعالیٰ مالک ہے وہ کبھی دے کرآزماتا ہے کبھی واپس لے کر آزماتا ہے، زندہ کرنا اور مارنا اس کی قدرت میں ایک نظام ہے اس تباہ کن زلزلے نے بھی جسے چاہا ہلاک کردیا اور جس کو چاہا بچا دیا۔ ہمیں اس کی خوشنودی کی خواہش رکھنی چاہئے اور اس کے احکامات کی تعمیل میں لگے رہنا چاہئے۔ اس زلزلے کو حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد کی نشا نی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

بہرحال اتنا ہی کافی ہے کہ ہر طبقے کی بد اعمالیوں کو تسلیم کر لیا اور خود بھی ان میں شامل ہیں۔ حکومت میں شامل جو ہوئے۔ باقی یہ نشانی ہے یا نہیں یہ تو مَیں آگے جا کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالوں سے بتاؤں گا۔ پھر آگے لکھتے ہیں ہمیں اس ناگہانی آفت میں اپنے مالک کی طرف لوٹنا چاہئے اور متاثرین کی امداد میں بھی سرگرم ہونا چاہئے۔ اور سرگرم اگر ہے تو وہ آج بھی جماعت احمدیہ ہے ان میں سے تو اکثریت چھوڑکر چلے گئے ہیں۔ پھر ان کے ایک سکالر حافظ محمد ادریس صاحب ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مال غنیمت کو ذاتی سرمایہ بنا لیا جائے، امانتوں کو مال غنیمت جان کر ہضم کر لیا جائے، گانے بجانے والیوں کی تعداد میں اضافہ ہوجائے، شراب اور جو ٔا عام ہو جائے، امانتیں نااہل لوگوں کے سپرد کر دی جائیں، مسجدوں سے آوازیں اونچی ہونے لگیں، (یعنی ان کی مسجدوں سے ہی آوازیں اونچی ہوتی ہیں جو لڑائی، جھگڑے، فساد، قتل و غارت کرتے ہیں )۔ تو لوگوں کو زلزلوں کا انتظار کرنا چاہئے۔ کہتے ہیں کہ یہ زلزلہ بھی ہماری کوتاہیوں اور نافرمانیوں کی وجہ سے آیا ہے ہمیں اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔ اور پھر وہی کہ حضرت عیسیٰ ؑ سے کوئی تعلق نہیں۔ کہتے ہیں کہ زلزلہ قدرت کی طرف سے ایک وارننگ ہے تاکہ ہم اپنے رویے تبدیل کر لیں اور اپنے مالک کی طرف رجوع کر لیں۔ تو اگر حقیقت میں خالص ہو کرمالک کی طرف رجوع کریں گے اور رویے تبدیل کریں گے، ہر قسم کے تعصب سے پاک ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف جھکیں گے تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خود بتا دے گا اور جس کا اعلان بھی ہو چکاہے کہ ’’یارو جو مرد آنے کو تھا وہ تو آچکا‘‘۔

پھر یہ لکھتے ہیں کہ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ؐ سے دوری کی زندگی بن چکی ہے۔ تو تب بھی نہیں سمجھ رہے۔ باتیں تو صحیح کر رہے ہیں لیکن نتیجے غلط نکال رہے ہیں۔ اگر مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ نہیں چمٹیں گے آنے والے مسیح کے ساتھ نہیں چمٹیں گے تو یہ دوری تو بڑھتی جائے گی کیونکہ اللہ کے رسول کے حکم کی پابندی نہیں کر رہے۔ پھر کہتے ہیں کہ وہ تمام علامات جو زلزلوں کی آمد کی بتائی گئی ہیں وہ آج ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔ پھر عبدالغفار روپڑی صاحب ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب قومیں نافرمانی میں حد سے بڑھ جائیں اور ظلم و فسق کی انتہا ہو جائے تو سزا ملتی ہے۔

پھر ایک پروفیسرعبدالرحمان صاحب لودھیانوی ہیں، کہتے ہیں کہ ارشادباری ہے ہم ان لوگوں کو بڑے عذاب یعنی قیامت کے آنے سے پہلے چھوٹے چھوٹے عذابوں میں مبتلاکریں گے تاکہ یہ دین کی طرف لوٹ آئیں۔ اس فرمان الٰہی کی روشنی میں کہہ سکتے ہیں کہ یہ زلزلہ ایک تنبیہ اور ایک وارننگ ہے کہ اپنے اعمال ٹھیک کرلو۔ عذاب اسی وقت آتا ہے جب قوم شرک و بدعت، کفر و طغیان میں بے حیائی اور خود غرضی کاشکار ہو جائے۔ جس مقام پر سونامی آیا وہاں بھی لوگ حدوں سے گزر چکے تھے۔ اس زلزلے کو قیامت کی دیگر علامات کی طرح علامت تو قرار دیا جا سکتا ہے مگر اس کو حتمی طور پر نزول عیسیٰ کا پیش خیمہ قرار نہیں دیا جا سکتا، یعنی علامت تو ہے لیکن حتمی بات نہیں ہو سکتی، ابھی انتظارہے۔

پھر کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں قیامت کی بعض علامات بیان فرمائی ہیں ان کے ظہور کا مطلب یہ نہیں کہ قیامت عنقریب آنے والی ہے۔ ان میں سے بعض ظاہر ہو چکی ہیں، مثلاً والدین کی نافرمانی، بلند وبالا عمارات کی تعمیر وغیرہ۔ پھر کہتے ہیں کہ زلزلے کے اسباب میں حکومت کی نام نہاد روشن خیالی کی تعلیم اور عوام کی اسلامی تعلیمات سے رو گردانی ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ زلزلے میں مبتلا ہونے کے اسباب کا اندازہ ہم بنی اسرائیل پر آنے والے عذابوں سے لگا سکتے ہیں یا رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے مطابق کہ جب تباہی ہوگی تو بُروں کے ساتھ سبھی ہلاک ہوں گے مگر قیامت کے روز ان کی نیتوں یا اعمال کے مطابق سلوک ہو گا۔ ہمیں اس زلزلے پر غور و فکر کے ساتھ ساتھ اس کے متاثرین کی امداد پر توجہ دینی چاہئے۔

پھر ایک شیعہ عالم ہیں حافظ کاظم رضا، وہ کہتے ہیں کہ آج پاکستان کا ہر فرد اس زلزلے سے متاثر ہو چکاہے یہ سانحہ مسلمانوں کے لئے تنبیہ ہے تاکہ بندے اپنے خالق کے راستے پر چل پڑیں۔ سب سے پہلے ہدایت کا راستہ اپنائیں جس مقصد کے لئے مخلوق کوخلق کیا۔ انسان کو انسانیت کی منزل پر فائز رکھنے کے لئے اچھے راستے کی ہدایت کی۔ فطرت طبع کے مطابق انسان خواہشات کی پیروی کرتا ہے۔ چنانچہ انسان کو سیدھی راہ پر چلانے کے لئے انبیاء و صحائف بھیجے گئے۔ جب بھی انسان راہ ہدایت سے ہٹنے لگا تو وہ تباہ ہو گیا۔ قوم عاد، قوم ثمود اور قوم لوط کے قصے قرآن پاک میں موجود ہیں کہ کس کس طرح قوموں کو نیست و نابودکر دیا گیا۔ ظلم کرنا ہی ظلم نہیں، ظلم پر خاموشی بھی ظلم ہے۔ برائی کو دیکھ کر برائی سے نہ روکنا بھی جرم ہے۔ ہم اسلامی تعلیمات سے دور ہو رہے ہیں۔ فتنہ فساد عام ہے۔ چنانچہ قدرت کی طرف سے وارننگ اور آزمائش کے طور پر زلزلے آفات وغیرہ آتی ہیں۔ معصوم لوگوں کی ہلاکت قدرت کی طرف سے ظلم نہیں۔ یہ زلزلہ انسان کے لئے تنبیہ تھا تاکہ مسلمان راہ ہدایت پر قائم رہیں۔ اس کے بعد پھر وہی حضرت عیسیٰ کاذکر اور وہی باتیں۔ پھر کہتے ہیں امام مہدی کے ظہور کی علامتوں میں بھی برائی کا زور و شور ہے۔ یعنی برائی پھیلے گی یہ بھی علامت ہے۔ اس لئے اس زلزلے کو بھی ان کی آمد کی نشانیوں میں سے ایک قرار دے سکتے ہیں۔ تنبیہ اور وارننگ کے باوجود لوگوں میں برائی پھیلتی چلی گئی۔ تو پھر جب حد ہو جائے گی تو امام مہدی کا ظہور ہوگا۔ گویاابھی حد نہیں ہوئی۔

پھر حافظ عبدالمنان صاحب کہتے ہیں کہ یہ ہماری کوتاہیوں اور غفلتوں کا نتیجہ تھا۔ اس میں ہلاک ہونے والے معصوم لوگوں کی وفات پر ہمیں افسوس ہے مگر ان کی ہلاکت ہمارے لئے ایک سبق ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے وقت آ جاتا ہے تو پھر کسی کو بھی بچنے کی مہلت نہیں ملتی۔ ہمیں اس زلزلے کے بعد اپنے رویوں کو تبدیل کرنا چاہئے اور اپنے مالک کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔ (روزنامہ پاکستان اشاعت خاص 14اکتوبر2005ء)

اس کے علاوہ بھی بہت سارے علماء کے بیانات اس سپیشل نمبر میں آئے تھے۔

تو بہرحال یہ سب تسلیم کرتے ہیں کہ یہ برائیاں تھیں اور ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ وارننگ دی یا عذاب آیا۔ لیکن اتنا ہی تسلیم کر لینا کافی نہیں ہے۔ مسیح و مہدی کا ظہور تو ہو چکاہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کو ماننے کا حکم بھی ہے دعویٰ کرنے والا بھی موجود ہے۔ خداتعالیٰ نے زمینی اور آسمانی نشان بھی ظاہر فرما دئیے ہیں۔ اب بھی اگرآنکھیں بند رکھنی ہیں تو پھر اللہ ہی لوگوں کوسمجھائے گا۔ اور خود جو عالم بنے ہوئے ہیں، قوم کو تویہ سمجھارہے ہیں، ان کو خود بھی تو سمجھناچاہئے۔ قرآن کریم نے جو پیشگوئیاں فرمائیں وہ پوری ہو گئیں پھر چاند اور سورج نے بھی گواہی دے دی۔ تو اب اور مزید انتظار کے لئے رہ کیا گیا ہے۔ اور پھر یہیں تک نہیں جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ 1905ء سے یہ نشانات ظاہر ہو رہے ہیں اور دنیا کے کونے کونے میں ہو رہے ہیں۔ 1905ء میں کانگڑہ میں (ہندوستان میں ایک جگہ ہے) وہاں بڑا زبردست زلزلہ آیا تھا۔ قادیان تک بھی اس کا اثر آیا تھا۔ تو یہ جو نشانات ظاہر ہو رہے ہیں یہ مسلمانوں کے لئے بھی وارننگ ہے اور غیر مسلموں کے لئے بھی وارننگ ہے۔ سیلابوں کے ذریعہ سے، سمندری طوفانوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ بار بار توجہ دلا رہا ہے۔

اس بارہ میں جو اعداد و شمار پیش کئے گئے ہیں۔ اس کے مطابق دنیا میں گزشتہ گیارہ سو سال میں جو بڑے بڑے زلزلے آئے ہیں، ان کی تعداد گیارہ ہے۔ اور گزشتہ سو سال میں جو زلزلے آئے ہیں، بشمول 1905ء کا کانگڑہ کا زلزلہ(جوان اعداد میں شامل نہیں کیا گیا) لیکن مَیں نے اس کو شامل کیا ہے انکی تعداد13بنتی ہے۔ یہ وہ زلزلے ہیں جن میں 50ہزار یا اس سے زائد اموات ہوئیں۔ کانگڑہ کے زلزلے کو شامل نہیں کرتے کیونکہ وہ انکے لحاظ سے 25-20ہزار ہیں۔ لیکن بعض پرانے اخباروں نے اس وقت 60-50ہزار بھی لکھا تھا۔ بہرحال جو بھی اعداد تھے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں تھا اس لئے مَیں نے اس کو شامل کیا ہے۔ کیونکہ بعض اخباروں نے اس وقت 60-50ہزار تعداد لکھی تھی۔

مَیں نے ایک او ر زاویے سے بھی دیکھا ہے کہ دنیا اپنے پیدا کرنے والے کو بھول رہی ہے اور اب جو نئی صدی میں داخل ہوئے ہیں یہ بھی بڑے دعووں سے داخل ہوئے ہیں۔ دنیاوی ترقی کی ہی باتیں ہیں، خدا کی طرف رجوع کرنے کی باتیں نہیں ہیں۔ یہ کر دیں گے، وہ کر دیں گے اور پچھلی صدی کو جو الوداع کہا گیا ہے وہ امیر ملکوں نے بڑے شور شرابے سے ہا ہو کرکے اس کو الوداع کیا۔ بے تحاشا رقمیں خرچ کیں، کسی کو یہ احساس نہیں ہوا کہ غریب ملکوں کو کسی طرح پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کریں۔ بڑی بڑی نشانیاں بتا دیں کروڑوں روپے خرچ کر لئے، پاؤنڈز خرچ کر لئے۔ کروڑوں کیا بعض جگہ تو اربوں۔ جیسا کہ مَیں نے کہا نئی صدی کا استقبال بھی اس طرح ہوا کہ خداتعالیٰ کا خانہ بالکل خالی ہے۔ اور جوانسانی ہاتھوں سے دنیا میں بے چینی اور تباہی گزشتہ سالوں میں آئی ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔ ایک جگہ کوائف ملے تھے پچھلے سو سال میں، تقریباً 33ممالک میں مختلف تباہیوں میں 9کروڑ 50لاکھ آدمی موت کے شکار ہوئے۔ 1900ء سے لے کر 2000ء تک۔

تو بہرحال جیسا کہ مَیں نے کہا کہ گزشتہ صدی کوبھی انہوں نے نہیں سمجھا۔ ساڑھے 9کروڑ اموات کی کوئی قدر ان کے نزدیک نہیں تھی، ان کو کسی نے نہیں دیکھا۔ پھر بھی ان کے لئے امن پیدا کرنے کی کوشش، اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنے کی کوشش نہیں کی اور اگلی صدی کے استقبال میں بھی وہ خانہ بالکل خالی رکھا۔ تو یہ جو زلزلے ہیں یہ تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں جھنجھوڑا ہے۔ قوموں کو جھنجھوڑا ہے، دنیا کو جھنجھوڑا ہے کہ ابھی بھی باز آ جاؤ۔

مَیں نے ایک جائزہ لیا تھا کہ اس نئی صدی میں جب ہم داخل ہوئے ہیں تو کیا صورت حال ہوئی ہے۔ تو جنوری 2001ء میں یعنی پہلے سال میں ہی انڈیا میں ایک بڑا زلزلہ آیا۔ تقریباً 7.9 ریکٹر (Rechter) سکیل پر اس کا میگنی چیوڈ (Magnitude) تھا اور اس میں تقریباً 20ہزار سے زائدآدمی مرے۔ پھر 2003ء میں ایران کازلزلہ آیا۔ پھرسونامی آیا جس میں کہتے ہیں 2لاکھ 83ہزار موتیں ہوئیں۔ پھر پاکستان میں آیا(ساری مَیں نہیں گن رہا) تو یہ پانچ بڑی بڑی تباہیاں نئی صدی کے پہلے پانچ سالوں میں آئی ہیں اور اندازہ ہے، مَیں جائزہ لے رہاہوں کہ احمدیت کے سو سال پورے ہونے کے بعد 1989ء کے بعد بھی ان میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اگر انسان سوچے تو یہ جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہے۔ یہ لوگوں کو، قوموں کو یاد دلانے کے لئے ہے کہ خدا کو پہچانو، آنے والے کی آواز پر کان دھرو۔ ان گزشتہ 10-8سالوں میں یا ہم کہہ سکتے ہیں احمدیت کے 100سال پورے ہونے کے بعد سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آواز تقریباً ہر جگہ پہنچ چکی ہے۔ پھر مَیں نے ایک جائزہ لیا تھا کہ احمدیت کے 100سال 1989ء میں جو پورے ہوئے، پورے کوائف تو نہیں ملے، مثلاً انڈیا کے ملے تھے۔ صرف انڈیا میں 1990ء سے لے کر اب تک 6بڑے زلزلے آئے ہیں جبکہ اس سے پہلے 1897ء سے لے کر 1988ء تک یہ تقریباً 91سال بنتے ہیں، 12 زلزلے آئے تھے۔ اور دنیا کے دوسرے ممالک اس کے علاوہ ہیں۔ اب یہ سوچنے کا مقام ہے کہ کیا یہ اتفاقات ہیں یا تقدیر الٰہی ہے؟ یا لوگوں کو جھنجھوڑنے کے لئے تنبیہ ہے؟۔

امریکہ میں جو سمندری طوفان قطرینہ آیا، بہت سے لکھنے والوں نے لکھا ہے کہ یہ ہمارے گناہوں کی سزا ہے۔ اس چیز کو وہ لوگ بھی تسلیم کرتے ہیں۔ ایک چرچ کے ممبر نے لکھا کہ یہ طوفان ہمیں بتاتا ہے کہ خدا کی ذات حقیقت ہے۔ اب ایک خدا کی طرف بھی لوٹ رہے ہیں۔ اور ہمیں یہ تسلیم کر لیناچاہئے کہ گناہوں کے یہی نتائج ہیں۔ اور بعض نے یہ بھی لکھا کہ ان گناہوں کی جگہوں پر یہ تو ایک طوفان آیا ہے بلکہ ان کے نیچے سے زلزلے بھی آ سکتے ہیں، ان کے نیچے سے آتش فشاں بھی پھٹ سکتے ہیں۔ یہ تو سب تسلیم کرتے ہیں کہ گناہوں کی سزا ہے اور ایک خدا کی پہچان کرنی چاہئے۔ لیکن پھر چند دنوں بعد بھول جاتے ہیں کہ خدا کوئی چیز ہے بھی یا نہیں خدا سب طاقتوں کا مالک ہے بھی یا نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کے لئے مبعوث ہوئے تھے اور اسی طرح آپؐ کا مسیح بھی تمام دنیا کے لئے آیا ہے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے۔ اس لئے یہ طوفان، یہ زلزلے، یہ سیلاب، صرف ایک علاقے کے لئے نہیں ہیں بلکہ تمام دنیا پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ہر قوم کو، ہر ملک کو یہ وارننگ دی جا رہی ہے تو اس لحاظ سے ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ دنیا کو بتائیں کہ ان آفات سے نجات کا اب صرف ایک ہی ذریعہ ہے کہ خدا کو پہچانواور ظلم اور ناانصافیوں کو ختم کرو۔

پاکستان کے دو کالم نگار لکھتے ہیں، ایک نے نوائے وقت میں 1992ء میں لکھا تھا، پرانا حوالہ ہے کہ ’’ہمارے عقیدہ کے مطابق مختلف ادوار میں مختلف قوموں اور قبیلوں پر ان کی سرکشی اور گمراہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوتا رہا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔ یہ عذاب زلزلے کی صورت میں ہو یا سیلاب یا طوفان کی شکل میں یا پھر پلیگ (Plague) یا جنگ کے انداز میں۔ عذاب بہرحال عذاب ہوتا ہے۔ پیغمبروں کا براہ راست اللہ تعالیٰ سے رابطہ اور واسطہ تھا۔ وہ لوگوں کو خوشخبریاں بھی سناتے تھے اور آنے والے عذاب سے بھی ڈراتے تھے۔ کچھ لوگ راہ ہدایت اختیار کر کے دنیوی اور اخروی عذاب سے بچ جاتے تھے اور نافرمان اور سرکش لوگ زمین کے پیٹ کی آگ کا ایندھن بن جاتے تھے‘‘۔ (اثرچوہان۔ روزنامہ نوائے وقت 16ستمبر1992ء ص4)

پھر ایک لکھنے والے اثر چوہان صاحب ہیں، پھر ایک مجیب الرحمن شامی صاحب ہیں۔ کالم لکھتے ہیں گو کہ ہمارے خلاف بھی لکھتے ہیں، بہرحال انہوں نے یہ بھی لکھا کہ’’ پورا ملک سیلاب کی لپیٹ میں ہے پانی ہے کہ بستیوں کو ویران کرتا چلا جا رہا ہے۔ (یہ بھی 1992ء کا ہی ہے پرانا لکھا ہوا ہے لیکن اس سے ذرا صورت واضح ہوتی ہے) آزاد کشمیر اور پنجاب میں قیامت کا سماں ہے۔ ہزاروں دیہات ڈوب چکے ہیں۔ لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصل تباہ ہو چکی ہے۔ ہزاروں مکانات کھنڈر بن گئے ہیں۔ جانی نقصان بھی ہزاروں میں ہے، ملکی معیشت کواربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یہ سب تباہی پانی کی پیدا کردہ ہے اس کا سبب پانی ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ پیدا کرنے والا اپنے فرائض سے سبکدوش نہیں ہوا۔ اس نے ریٹائر منٹ نہیں لی۔ اس نے آنکھیں بندنہیں کیں۔ اسے اونگھ نہیں آتی۔ بے خبری کی چادر اس نے نہیں اوڑھی۔ اس نے تو صرف یہ کیا ہے کہ وقت کی چند مٹھیاں چند انسانوں کو دے ڈالی ہیں۔ ان کو عمل کی مہلت دے دی ہے اور دیکھ رہا ہے کہ وہ اس مہلت کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ ایک باغی کے طور پر یا ایک فرمانبردار کے انداز میں۔ ایک خلیفہ کے طریقے سے یا ایک مطلق العنان بادشاہ کے لہجے میں۔ دیکھنے والا دیکھتا ہے، دیکھ رہا ہے کہ اس کے پانی، اس کی ہواؤں، اس کی روشنی اور اس کی زمین کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے۔ اللہ کی نعمتوں کو ذاتی جائیداد بنا کرجھگڑا کرنے والے اس کے پیغام کو اس کی ہدایت کو جھٹلاتے ہیں۔ اس کی طرف بلانے والے کو جھوٹا قرار دیتے ہیں (ذرا غور کریں ) اس کے راستے پر چلنے کو ناممکن اور محال بتاتے ہیں۔ اس زمانے میں بلانے والا کون ہے اور اپنے آپ کوان بے لگام خواہشات کو اپنا رب بناتے ہیں تو پھرآواز گونجتی ہے کہ انہوں نے ہمارے بندہ کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ یہ دیوانہ ہے اور وہ بری طرح جھڑکا گیا آخر کار اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مَیں مغلوب ہو چکا اب تو ان سے انتقام لے۔ تب ہم نے موسلا دھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دئیے اور زمین کو پھاڑکر چشموں میں تبدیل کر دیا۔ اور یہ سارا پانی اس کام یعنی تباہی کو پورا کرنے کے لئے مل گیا، جو مقدر ہو چکا تھا‘‘۔ (یہ قرآن شریف کی سورۃ القمر کی آیت کا حوالہ ہے) کہتے ہیں کہ یہ پانی جو ہماری زمینوں پر مل رہا ہے، زمین کے اوپر رہنے والے لاکھوں افراد زمین کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں، یہ کوئی پیغام دے رہا ہے، کچھ کہہ رہا ہے، کسی کی موجودگی کا احساس دلا رہا ہے‘‘۔ (روزنانہ جنگ 16ستمبر1992ء صفحہ 4)

لیکن ان کو خود احساس نہیں ہو رہا۔ تو یہ بھی ایک آسمانی آفت کی نشان دہی کر رہے ہیں۔ اس کے بارے میں بتا رہے ہیں، بڑی اچھی بات کی جیسا کہ آیت انہوں نے لکھی ہے، کوٹ (quote)کی ہے۔ تو اس زمانے میں ہمیں تو ایک شخص ہی ایسا نظر آتا ہے جس نے اپنے رب سے دعا کی کہ مَیں مغلوب ہو گیا میری مدد کر اور اللہ تعالیٰ نے مدد کے وعدے کئے۔ اور پھر دیکھیں خداتعالیٰ کی قہری تجلی، 1905ء سے ظاہر ہونی شروع ہوئی ہے۔ تو یہ کالم لکھنے والے بھی اور یہ کالم پڑھنے والے بھی اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر نظر رکھیں جس کو انہوں نے Quote کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سب مسلمان کہلانے والے ہیں ` اس بات کو جانتے ہیں، علم رکھنے والے بھی ہیں، اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ {فَاعْتَبِرُوْا یَااُوْلِی الْاَ بْصَار}کہ پس اے سمجھ بوجھ رکھنے والو! عبرت حاصل کرو۔ تو اللہ کرے کہ اس بات کو یہ لوگ سمجھنے والے بھی بن جائیں۔ اس آنے والے نے تو دنیا کو سمجھایا اور آج بھی اس کی جماعت اللہ کے فضل سے دنیامیں پیغام پہنچا رہی ہے کہ ظلموں اور ناانصافیوں کو بند کرو، لہو و لعب میں پڑنے کی بجائے اپنے خدا کو پہچانو کیونکہ اللہ نے تو واضح فرما دیا ہے کہ فساد پھیلانے والے سرکش ہیں اور انہیں سزا ملتی ہے اور ملے گی۔ پہلے بھی ملتی رہی ہے۔ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا بند کرو ورنہ پہلوں کا انجام بھی تمہارے سامنے ہے۔ اپنے ماپ تول صحیح کرو، ایک دوسرے سے صحیح سلوک کرو، تعلقات کو ٹھیک کرو، دنیا کے امن کو برباد نہ کرو۔ اگر تم اپنے پیدا کرنے والے کو نہیں پہچانو گے اور زمین میں ظلم اور فساد بند نہیں کرو گے تو پھر یہ آفات سامنے ہیں، نظر آ رہی ہیں اور آتی رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو یونہی بستیاں تباہ نہیں کرتا۔ یہ آیت جو مَیں نے پہلے پڑھی تھی اس میں تو اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے خود بھی اس بات کا بہت سارے مسلمان علماء ذکر کر چکے ہیں۔ آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ اور تیرا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو ازراہ ظلم ہلاک کر دے جبکہ ان کے رہنے والے اصلاح کر رہے ہوں۔ پس خاص طور پر مسلمانوں کے لئے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ جس نبی کے ماننے کا دعویٰ ہے کیا اس کی تعلیم اور سنت پر عمل کر رہے ہیں ؟۔ یہ علماء بھی جو اخباروں میں قوم کو توجہ دلا رہے ہیں کہ یہ ظلم و فساد پیدا نہ کرو خود اپنے گریبان میں بھی جھانکیں۔ کہیں ان کے قول و فعل میں تضاد تو نہیں۔ بلکہ تضاد ہے، دنیا کو نظر آتا ہے اگر تضا د نہ ہوتا تو امام وقت کو ان کو ماننے کی توفیق ملتی۔

اور ایسے ہی علماء جن کو ماننے کی توفیق نہیں مل رہی اور جو فساد پید اکرتے ہیں ان کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عنقریب ایسا زمانے آئے گا کہ نام کے سوا اسلام کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔ الفاظ کے سوا قرآن کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔ اس زمانے کے لوگوں کی مسجدیں بظاہر تو آباد نظر آئیں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے بسنے والی مخلوق میں سے بدترین مخلوق ہوں گے۔ ان میں سے ہی فتنے اٹھیں گے اور ان میں ہی لوٹ جائیں گے۔ الفاظ یہ ہیں کہ عُلَمَآءُ ھُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ اَدِیْمِ السَّمَآءِ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ وفِیْھِمْ تَعُوْدُ۔ (کنزالعمال، جلداول، کتاب الفتن قسم الاول ص20حدیث نمبر31133دارلکتب العلمیہ بیروت)

بدترین مخلوق ہوں گے اور ان میں سے بھی فتنے اٹھیں گے۔ اور ان میں ہی لوٹ جائیں گے۔ یعنی تمام خرابیوں کے یہی سر چشمے ہوں گے۔

تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے کہ اپنے علماء کوبھی دیکھیں، ان کے قول و فعل کو دیکھیں اپنی اصلاح کی طرف توجہ کریں۔ بہرحال جیسا کہ مَیں نے کہا تھا کہ ہمارے احمدیوں میں بھی بہت سارے لکھنے والے یہ کہتے ہیں کہ معصوم جانیں کیوں ضائع ہوتی ہیں۔ کچھ تو آپ نے سن لیا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حوالے پیش کرتا ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:

’’مکّہ میں جب قحط پڑا تو اس میں بھی اوّل غریب لوگ ہی مرے۔ لوگوں نے اعتراض کیا کہ ابو جہل جو اس قدر مخالف ہے وہ کیوں نہیں مرا‘‘۔ فرمایا: ’’حالانکہ اس نے تو جنگ بدر میں مرنا تھا‘‘۔ اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک وقت رکھا ہوا تھا کس طرح اس نے مرنا ہے تاکہ لوگوں کے لئے نشان بنے۔ فرماتے ہیں کہ:’’ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ابتلاء ہوا کرتا ہے۔ اور یہ اس کی عادت ہے اور پھر اس کے علاوہ یہ اس کی مخلوق ہے۔ اس کو ہر ایک نیک اور بد کا علم ہے۔ سزا ہمیشہ مجرم کے واسطے ہوا کرتی ہے۔ غیرمجرم کے واسطے نہیں ہوتی۔ بعض نیک بھی اس سے مرتے ہیں۔ مگر وہ شہید ہوتے ہیں اور ان کو بشارت ہوتی ہے اور رفتہ رفتہ سب کی نوبت آجاتی ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 650جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

پھر ایک سوال ہوا کہ سان فرانسسکو میں جو زلزلہ آیا ہے، یہ بھی آپ کا نشان ہے۔ آپ کی باتوں سے لگتا ہے تو اس پر حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا تھا کہ میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ یہ تمام زلزلے جو سان فرانسسکو وغیرہ مقامات میں آئے ہیں یہ محض میری تکذیب کی وجہ سے آئے ہیں۔ کیونکہ اس زمانے میں بعض جگہوں پر پیغام تو نہیں پہنچا ہو گا۔ فرمایا کہ مَیں نے یہ نہیں کہا کہ یہ میری تکذیب کی وجہ سے آئے ہیں، کسی اور امر کا اس میں دخل نہیں۔ ہاں مَیں کہتا ہوں کہ میری تکذیب ان زلزلوں کے ظہور کا باعث ہوئی ہے۔ بات یہ ہے کہ خداتعالیٰ کے تمام نبی اس بات پر متفق ہیں کہ عادت اللہ ہمیشہ سے اس طرح پرجاری ہے کہ جب دنیا ہر ایک قسم کے گناہ کرتی ہے اور بہت سے گناہ ان کے جمع ہو جاتے ہیں۔ تب اس زمانے میں خدا اپنی طرف سے کسی کو مبعوث فرماتا ہے اور کوئی حصہ دنیا کا اس کی تکذیب کرتا ہے تب اس کا مبعوث ہونا دوسرے شریر لوگوں کو سزا دینے کے لئے بھی جو پہلے مجرم ہو چکے ہیں ایک محرک ہو جاتا ہے۔ اور جو شخص اپنے گزشتہ گناہوں کی سزا پاتا ہے اس کے لئے اس بات کا علم ضروری نہیں کہ اس زمانہ میں خدا کی طرف سے کوئی نبی یا رسول بھی موجود ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے {وَمَاکُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا}(بنی اسرائیل:16) ‘‘کہ ہم کسی قوم پر عذاب نہیں بھیجتے جب تک ان کی طرف کوئی رسول نہ بھیج دیں۔ تو یہ علماء جو بحث کر رہے ہیں کہ عذاب تو آیا ہے لیکن یہ کہنا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد سے اس کا کوئی تعلق ہے یہ غلط ہے۔ ایک حصے کو تو تسلیم کر رہے ہیں، دلیل تو قرآن و حدیث سے بڑی اچھی دے رہے ہیں لیکن قرآن کریم کی اگلی بات کو ماننے کو تیار نہیں۔ وہاں ان کی روٹی پر اثر پڑتا ہے۔

تو فرمایا کہ اس سے زیادہ میرامطلب نہ تھا کہ ان زلزلوں کا موجب میری تکذیب ہو سکتی ہے۔ ’’ یہی قدیم سنت اللہ ہے جس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا سو سان فرانسسکووغیرہ مقامات کے رہنے والے جو زلزلہ اور دوسری آفات سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ ا گرچہ اصل سبب ان پر عذاب نازل ہونے کا ان کے گزشتہ گناہ تھے مگر یہ زلزلے ان کو ہلاک کرنے والے میری سچائی کا ایک نشان تھے کیونکہ قدیم سنت اللہ کے موافق شریر لوگ کسی رسول کے آنے کے وقت ہلاک کئے جاتے ہیں۔ اور نیزاس وجہ سے کہ مَیں نے براہین احمدیہ اور بہت سی کتابوں میں یہ خبر دی تھی کہ میرے زمانہ میں دنیا میں بہت سے غیر معمولی زلزلے آئیں گے‘‘ اور وہ اعداد جو مَیں نے دئیے ہیں اس سے ثابت ہو گیا’’ اور دوسری آفات بھی آئیں گی اور ایک دنیا ان سے ہلاک ہو جائے گی۔ پس اس میں کیاشک ہے کہ میری پیشگوئیوں کے بعد دنیا میں زلزلوں اور دوسری آفات کا سلسلہ شروع ہو جانا میری سچائی کے لئے ایک نشان ہے۔ یاد رہے کہ خدا کے رسول کی خواہ کسی حصہ زمین میں تکذیب ہو مگر اس تکذیب کے وقت دوسرے مجرم بھی پکڑے جاتے ہیں جو اور ملکوں کے رہنے والے ہیں جن کو اس رسول کی خبر بھی نہیں ‘‘۔ تو اب تو خبر بھی دنیا میں ہر جگہ پہنچ چکی ہے عموماً۔ ’’ جیسا کہ نوح کے وقت میں ہوا کہ ایک قوم کی تکذیب سے دنیا پر عذاب آیا بلکہ پرند چرند وغیرہ بھی اس عذاب سے باہر نہ رہے۔ غرض عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جب کسی صادق کی حد سے زیادہ تکذیب کی جائے یا اس کو ستایا جائے تو دنیا میں طرح طرح کی بلائیں آتی ہیں۔ خداتعالیٰ کی تمام کتابیں یہی بیان فرماتی ہیں اور قرآن شریف بھی یہی فرماتا ہے۔ …… خلاصہ کلام یہ کہ سنت اللہ اسی طرح پہ جاری ہے کہ جب کوئی خدا کی طرف سے آتا ہے اور اس کی تکذیب کی جاتی ہے تو طرح طرح کی آفتیں آسمان سے نازل ہوتی ہیں جن میں اکثر ایسے لوگ پکڑے جاتے ہیں جن کا اس تکذیب سے کچھ تعلق نہیں۔ پھر رفتہ رفتہ ائمۃ الکفر پکڑے جاتے ہیں اور سب سے آخر پر بڑے شریروں کا وقت آتا ہے۔ اس لئے باہر کوئی نہیں رہے گا‘‘۔ فرمایا کہ’’ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے{اَنَّا نَاْتِی الْا َرْضَ نَنْقُصُھَا مِنْ اَطْرَافِھَا} (الرعد:42) یعنی ہم آہستہ آہستہ زمین کی طرف آتے جاتے ہیں۔ اس میرے بیان میں ان بعض نادانوں کے اعتراضات کا جواب آ گیا ہے جو کہتے ہیں کہ تکفیر تو مولویوں نے کی تھی اور غریب آدمی طاعون سے مارے گئے۔ اور کانگڑہ اور بھاگسو کے پہاڑ کے صدہا آدمی زلزلے سے ہلاک ہو گئے۔ ان کا کیا قصور تھا، انہوں نے کونسی تکذیب کی تھی۔ سو یاد رہے کہ جب خدا کے کسی مرسل کی تکذیب کی جاتی ہے خواہ وہ تکذیب کوئی خاص قوم کرے یا کسی خاص حصہ زمین میں ہو مگر خداتعالیٰ کی غیرت عام عذاب نازل کرتی ہے اور آسمان سے عام طور پر بلائیں نازل ہوتی ہیں اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اصل شریر پیچھے سے پکڑے جاتے ہیں جو اصل مبدء فساد ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ان قہری نشانوں سے جو موسیٰ نے فرعون کے سامنے دکھلائے، فرعون کا کچھ نقصان نہ ہوا۔ صرف غریب مارے گئے‘‘۔ یعنی 9 نشان تھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے۔ ’’ لیکن آخر کار خدا نے فرعون کو مع اس کے لشکر کو ختم کر دیا۔ یہ سنت اللہ ہے جس سے کوئی واقف کار انکار نہیں کر سکتا‘‘۔ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد22صفحہ 164-167)

پس یہ جو علماء کہتے ہیں کہ عذاب تو ہے لیکن مسیح کی آمد سے اس کا تعلق نہیں جیسا کہ مَیں نے پہلے کہا قرآن کریم تو ان کی بات کو رد کرتا ہے۔ قیامت کے روز قوم اللہ تعالیٰ سے سوال کرے گی کہ بگڑنے کی پیشگوئیاں تو پوری ہو گئیں اور ہم انتظار میں رہے کہ مسیح و مہدی آئیں، یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور ہمارے علماء بھی انتظار کرواتے رہے اور بغیر مسیح و مہدی کو بھیجے توُ نے ہم پر عذاب بھیج دیا۔ یہ بھی تو سوال اٹھنا چاہئے۔ پس قوم کے لئے بھی سوچنے کا مقام ہے اور اگر علماء کی نیت نیک ہے تو ان کے لئے بھی سوچنے کا مقام ہے۔

پس اب چاہے مسلمان ممالک ہوں یا ایشیا کا کوئی ملک ہو یا افریقہ ہو یا جزائر ہوں یا یورپ ہے یا امریکہ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے دعوے کے بعد اگر اپنی حالتوں کو نہیں بدلیں گے تو کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔

اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرما چکے ہیں کہ: ’’اے یورپ!تو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا !تو بھی محفوظ نہیں۔ اور اے جزائر کے رہنے والو !کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔ مَیں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔ وہ واحد یگانہ ایک مدت تک خاموش رہا اور اس کی آنکھوں کے سامنے مکروہ کام کئے گئے اور وہ چپ رہا مگر اب وہ ہیبت کے ساتھ اپنے چہرہ دکھلائے گا۔ جس کے کان سننے کے ہوں سنے کہ وہ وقت دور نہیں ‘‘۔ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22صفحہ269)

پس جہاں یہ دنیا کے لئے انذار ہے ہمارے لئے بھی فکر کا مقام ہے کہ اپنے دلوں کو پاک کریں ہم بھی کہیں ان لوگوں میں شامل نہ ہو جائیں اور ان لوگوں میں شامل ہو کر خدا کے حضور حاضر نہ ہوں جن کے دامن پر کسی بھی قسم کا داغ ہو۔ اور جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی کہا تھا یہ بھی ہماری ذمہ داری ہے کہ خدا کے پیغام کو لوگوں تک پہنچائیں۔ اگر اب بھی ہم نے ہر ایک تک پیغام پہنچانے کی کوشش نہ کی تو علماء یا دوسرے لوگ تو پرے ہٹ رہے ہیں یا علماء بگاڑ رہے ہیں یا لیڈر بگاڑ رہے ہیں۔ انسانیت کے ساتھ ان کو کوئی ہمدردی نہیں لیکن ہمارا بھی جوانسانیت کے ساتھ محبت اور ہمدردی کا دعویٰ ہے یہ صرف زبانی دعویٰ ہوگا۔ پس دنیا کے ہرکونے میں، ہر احمدی کو، ہر شخص تک، ہر بگڑے ہوئے تک، یہ پیغام پہنچاناچاہئے کہ اپنے پیدا کرنے والے خدا کے آگے جھکے اور اس کے حکموں پر عمل کرے۔ اللہ سب کو اس کی توفیق دے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کا ایک اور اقتباس پڑھتاہوں۔ آپ کہتے ہیں کہ:

’’اخبار میں چھاپ دو اور سب کواطلاع کردوکہ یہ بھی خدا تعالیٰ کے غضب کے دن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کئی بار مجھے بذریعہ وحی فرمایاہے کہ غَضِبْتُ غَضَبًا شَدِیْدًا۔ آجکل طاعون بہت بڑھتا جاتا ہے اور چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہے۔ مَیں اپنی جماعت کے واسطے خداتعالیٰ سے بہت دعا کرتا ہوں کہ وہ اس کو بچائے رکھے۔ مگر قرآن شریف سے یہ ثابت ہے کہ جب قہر الٰہی نازل ہوتا ہے تو بدوں کے ساتھ نیک بھی لپیٹے جاتے ہیں اور پھر ان کا حشر اپنے اپنے اعمال کے مطابق ہو گا۔ دیکھو حضرت نوح ؑ کا طوفان سب پر پڑا اور ظاہر ہے کہ ہر ایک مرد عورت اور بچے کو اس سے پورے طور پر خبر نہ تھی کہ نوح کا دعویٰ اور ان کے دلائل کیا ہیں۔ جہاد میں جو فتوحات ہوئیں یہ سب اسلام کی صداقت کے واسطے نشان تھیں۔ لیکن ہر ایک میں کفار کے ساتھ مسلمان بھی مارے گئے۔ کافر جہنم کو گیا اور مسلمان شہید کہلایا۔ ایسا ہی طاعون ہماری صداقت کے واسطے ایک نشان ہے اور ممکن ہے اس میں ہماری جماعت کے بعض آدمی بھی شہید ہوں۔ ہم خداتعالیٰ کے حضور دعا میں بہت مصروف ہیں کہ وہ اُن میں اور غیروں میں تمیز قائم رکھے۔ لیکن جماعت کے آدمیوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ صرف ہاتھ پر ہاتھ رکھنے سے کچھ نہیں بنتا جب تک کہ ہماری تعلیم پر عمل نہ کیا جاوے۔ سب سے اوّل حقوق اللہ کو ادا کرو، اپنے نفس کو جذبات سے پاک رکھو۔ اس کے بعد حقوقِ عباد کو ادا کرو اور اعمال صالحہ کو پورا کرو۔ خداتعالیٰ پر سچا ایمان لاؤ اور تضرع کے ساتھ خداتعالیٰ کے حضور میں دعا کرتے رہو اور کوئی دن ایسا نہ ہو جس دن تم نے خداتعالیٰ کے حضور رو کر دعا نہ کی ہو۔ اس کے بعد اسباب ظاہری کی رعایت رکھو‘‘۔ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 195-194 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

اللہ کرے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعاؤں سے حصہ پاتے ہوئے آپؑ کی دعاؤں کے طفیل ہم بھی اور ہماری آئندہ نسلوں میں بھی وہ تمیز قائم رہے جس سے ہمارے اور غیر میں فرق ظاہر ہوتا رہے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا خلاصہ
  • خطبہ کا مکمل متن
  • English اور دوسری زبانیں

  • 27؍ جنوری 2006ء شہ سرخیاں

    حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی آمد اور جماعت کے قیام کے بعد زلازل اور طوفانوں اور آفات ارضی وسماوی کی کثرت پیشگوئیوں کے عین مطابق ہے

    فرمودہ مورخہ27؍ جنوری 2006ء (27؍صلح 1385ھش) بیت الفتوح، لندن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور