مسیح ومہدی کی بعثت کایہی زمانہ تھا

خطبہ جمعہ 3؍ فروری 2006ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے درج ذیل آیت قرآنی کی تلاوت فرمائی:

{مَنِ اھْتَدٰی فَاِنَّمَا یَھْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ۔ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْھَا۔ وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی۔ وَمَاکُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا}(بنی اسرائیل:16)

گزشتہ جمعہ کو مَیں نے زلزلوں، تباہیوں اور آفتوں کے حوالے سے بات کی تھی اور بتایا تھا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں جو زلزلہ آیا اس پر لوگوں نے بہت سارے سوال اٹھائے اور اس ضمن میں بعض سوال ایک اخبار نے علماء کے سامنے رکھے۔ ان سوالوں کے جواب میں تقریباً تمام علماء نے، جیسا کہ آپ نے سنا تھا، یہ تو تسلیم کیا کہ جو آفات آ رہی ہیں یہ گناہوں کی زیادتی اور خداتعالیٰ کے حکموں سے دور ہٹنے کی وجہ سے ہیں اور سزا ہیں یا عذاب ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی انہوں نے کہا کہ اس کا حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کیونکہ سوال کرنے والے نے یہ بھی سوال کیا تھا۔ اور علماء اس کے لئے اب عام طور پر یہ دلیل دیتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کا دوبارہ آنا تو قرب قیامت کے وقت ہے اور ابھی تو اس طرف سفر شروع ہوا ہے۔ کوئی کچھ عرصہ بتاتا ہے اور کوئی کچھ۔ اور ایک عالم نے تو بڑے معیّن کرکے سات سو کچھ سال کا عرصہ بتایا ہے کہ ابھی وقت ہے عیسیٰ کے آنے میں۔ منہ سے ہی کہنا ہے نا، کونسی کسی نے ان کی باتوں پر تحقیق کرنی ہے۔

پہلے یہ کہا کرتے تھے کہ گو مسیح و مہدی نے چودہویں صدی میں آنا ہے لیکن ابھی نہیں آیا اور ابھی چودہویں صدی ختم نہیں ہوئی، بڑا عرصہ پڑا ہے اس کے ختم ہونے میں۔ پھر چودہویں صدی بھی ختم ہو گئی۔ بعض جاہل مولویوں نے تو (ویسے تو سارے ہی جاہل ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نہیں مانا) کہا کہ چودہویں صدی لمبی ہو گئی ہے ابھی ختم ہی نہیں ہو رہی۔ پھرشاید کسی نے سمجھایا کہ یہ کیا جہالت کی باتیں کرتے ہو۔ پھر کچھ نام نہاد پروفیسروں اور ڈاکٹر علماء کو بھی اپنی علمیت کے اظہار کرنے کا موقع ملا، لوگوں کو اکٹھا کرنے کا موقع ملا۔ تو انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ مسیح و مہدی کی آمدتو قرب قیامت کی نشانی ہے اس لئے ابھی وقت نہیں آیا جیسا کہ مَیں نے ابھی بتایا۔ اور بعض عرب علماء نے اپنے پہلے نظریہ کے خلاف یہ تو تسلیم کر لیا اور یہ بات مان لی کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات ہو چکی ہے اور ساتھ یہ بھی کہنے لگ گئے کہ مسیح کی آمد ثانی کی جو احادیث ہیں وہ ساری غلط ہیں، اب کسی نے نہیں آنا۔ اور یہ کہ ہم جو علماء ہیں یا بعض ملکوں میں علماء کے ادارے ہیں دین کی تجدید کرنے کے لئے یہی کافی ہیں۔ بہرحال اس کو غلط ثابت کرنے کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی لیکن ہٹ دھرمی ہے۔ اور پھرانہوں نے جماعت کے خلاف جھوٹے فتووں کی بھرمار کر دی۔ بعض فتوے دینے والوں نے تو ہماری طرف ایسی باتیں منسوب کیں، ایسی تعلیم منسوب کی جس کا ہماری تعلیم سے دُورکا بھی واسطہ نہیں ہے، کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ اور یہ فتوے صرف مسلمانوں میں احمدیوں کے خلاف نفرت اور فساد پھیلانے کے لئے جاری کئے گئے ہیں۔ اور ان باتوں پہ جو ہماری طرف منسوب کی گئی ہیں ان پر ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے الفاظ میں صرف اتنا ہی کہتے ہیں بلکہ یہی دعا ہے کہ لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ وَالْفَاسِقِیْن۔ اور ان فتوے دینے والوں کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں دو نئے فتوے بھی جاری ہوئے ہیں۔ لیکن عام مسلمانوں سے ہمارے دل میں جو ہمدردی ہے اور جو پیغام ان تک پہنچانا ہمارے سپرد ہے یا جو کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے مَیں مسیح ومہدی کی بعثت کے بارے میں کچھ کہوں گا کہ آیا آنے کا یہ وقت اور زمانہ ہے یا نہیں۔ جیسا کہ مَیں نے کہا تھا کہ ایک وقت تک تمام علماء اس بات پر متفق تھے کہ مسیح و مہدی کا ظہور چودہویں صدی میں ہو گا یا اس کے قریب ہو گا اور تمام پرانے ائمہ اور اولیاء اور علماء اس بات کی خبر دیتے آئے کہ یہ زمانہ جو آنے والا ہے مسیح و مہدی کے ظہور کا ہو گا اور جو اس زمانے کے لوگ تھے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے کے یا قریب زمانے کے وہ تو مسلمانوں کے حالات دیکھ کر اس یقین پر قائم تھے کہ عنقریب مسیح ومہدی کا ظہور ہو گا۔ اس زمانے میں جن لوگوں کو دین کا درد تھا خدا سے دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اسلام کی اس ڈوبتی کشتی کو سنبھال لے۔ بہرحال ان خبر دینے والوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت سے قبل کے حالات پیش کرنے والوں کے حوالے مَیں پیش کرتا ہوں جو کہ جماعت احمدیہ سو سال سے زائد عرصے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے سے پیش کررہی ہے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہی یہ باتیں پیش کی ہیں، سامنے رکھی ہیں۔ لیکن کیونکہ اب پھر لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں اس لئے میں دوبارہ اس کا ذکرکر رہا ہوں اور ہمیں تو کرتے بھی رہنا چاہئے، پیغام پہنچانے کے لئے ضروری بھی ہے تاکہ جماعت میں بھی پیغام پہنچانے کی طرف تیزی پیدا ہو، اور لوگوں پر بھی واضح ہو، کیونکہ اب خداتعالیٰ نے ہمیں ایسے ذرائع میسر فرما دئیے ہیں جس کے ذریعہ سے غیروں کی بہت بڑی تعداد کسی نہ کسی طریقے سے پیغام سن لیتی ہے۔

تو بہرحال پہلا حوالہ ہے حضرت نعمت اللہ ولی رحمۃ اللہ علیہ کا۔ وہ چھٹی صدی ہجری کے صاحب کرامات بزرگ ہیں، ایک فارسی قصیدے میں فرماتے ہیں۔ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ بارہ سو سال گزرنے کے بعد عجیب نشان ظاہر ہوں گے اور مہدی اور مسیح ظاہرہوں گے۔ (اربعین فی احوال المہدیین قصیدہ فارسی صفحہ2تا4۔ محمد اسماعیل شہید)

پھر’’حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی جن کی وفات 1176ہجری میں ہوئی فرماتے ہیں کہ میرے ربّ نے مجھے بتایا ہے کہ قیامت قریب ہے اور مہدی ظاہر ہونے کو ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ اسی طرح(یہ بات ان کی کتاب تفہیمات الٰہیہ میں چھپی ہوئی ہے) آپ نے امام مہدی کی تاریخ ظہور لفظ چراغ دین میں بیان فرمائی ہے جس کے حروف ابجد 1268 بنتے ہیں ‘‘۔ (حجج الکرامہ صفحہ نمبر 394)

پھر نواب صدیق حسن خان صاحب کے بیٹے نواب نورالحسن خان، گوماننے والے تو نہیں لیکن انہوں نے بھی حضرت امام جعفر صادق ؒ سے مروی یہ بات کی ہے کہ’’امام مہدی سن 200میں نکل کھڑے ہوں گے یعنی بعد 1000ہجری کے‘‘ بارہویں صدی میں۔ پھر خود ہی کہتے ہیں کہ’’مَیں کہتا ہوں کہ اس حساب سے مہدی کا ظہور شروع تیرہویں صدی پر ہونا چاہئے تھا۔ مگر یہ صدی پوری گزر گئی مہدی نہ آئے۔ اب چودہویں صدی ہمارے سر پر آئی ہے اس صدی سے اس کتاب کے لکھنے تک چھ مہینے گزر چکے ہیں۔ شاید اللہ تعالیٰ اپنا فضل و عدل رحم و کرم فرمائے‘‘۔ (اقتراب الساعۃ صفحہ221)

دعا تو یہ کرتے ہیں لیکن مانتے نہیں۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: نواب صدیق الحسن خان نے لکھا ہے کہ نزول مسیح میں کوئی شخص چودہویں صدی سے آگے نہیں بڑھتا۔ یعنی جو تمام باتیں اور خبریں اور مکاشفات اور اخبارہیں وہ تمام چودہویں صدی تک کی خبر دیتی ہیں۔ فرمایا کہ ترقی قمر بھی 14تک ہی معلوم ہوتی ہے جیسے قرآن شریف میں ہے {وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰـہُ مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ} (یٰسٓ:40) (البدر جلد 1نمبر5، 6مورخہ26؍ نومبر) پھر ایک مولانا ہیں سید ابوالحسن علی ندوی معتمد تعلیم دارالعلوم ندوۃ العلماء۔ یہ ماننے والوں میں سے تو نہیں ہیں بلکہ ہمارے خلاف ہی ہیں لیکن حالات کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: ’’مسلمانوں پر عام طور پر یاس و ناامیدی اور حالات و ماحول سے شکست خوردگی کا غلبہ تھا۔ 1857ء کی جدوجہد کے انجام اور مختلف دینی اور عسکری تحریکوں کی ناکامی کو دیکھ کر معتدل اور معمولی ذرائع اور طریقہ کار سے انقلاب حال اور اصلاح سے لو گ مایوس ہو چلے تھے اور عوام کی بڑی تعداد کسی مرد غیب کے ظہور اور کسی ملہم اور مؤید من اللہ کی آمد کی منتظر تھی۔ کہیں کہیں یہ خیال بھی ظاہر کیا جاتا تھا کہ تیرہویں صدی کے اختتام پر مسیح موعود کا ظہور ضروری ہے۔ مجلسوں میں زمانہ آخر کے فتنوں اور واقعات کا چرچا تھا‘‘۔ (قادیانیت صفحہ17از مولانا سید ابوالحسن علی ندوی۔ مکتبہ دینیات 134شاہ عالم مارکیٹ لاہور۔ طبع اول1959)

تو یہ بات ثابت کردی ہے، اپنی باتوں سے کہہ گئے اور لوگ بھی مانتے تھے کہ مسیح موعودؑ کا زمانہ ہے لیکن جب دعویٰ ہوا ماننے کو تیار نہیں تھے۔

پھر یہ لکھتے ہیں کہ:’’عالم اسلام مختلف دینی و اخلاقی بیماریوں اور کمزوریوں کا شکار تھا۔ اس کے چہرے کا سب سے بڑا داغ وہ شرک جلی تھا جو اس کے گوشے گوشے میں پایا جاتا تھا۔ قبریں اور تعزیے بے محابا پج رہے تھے، غیراللہ کے نام کی صاف صاف دہائی دی جاتی تھی۔ بدعات کا گھر گھر چرچا تھا۔ خرافات اور توہمات کا دور دورہ تھا۔ یہ صورتحال ایک ایسے دینی مصلح اور داعی کا تقاضا کر رہی تھی جو اسلامی معاشرے کے اندر جاہلیت کے اثرات کا مقابلہ اور مسلمانوں کے گھروں میں اس کا تعاقب کرے۔ جو پوری وضاحت اور جرأت کے ساتھ توحید و سنت کی دعوت دے اور اپنی پوری قوت کے ساتھ اَلَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ کا نعرہ بلند کرے‘‘۔ (قادیانیت صفحہ218از مولانا سید ابوالحسن علی ندوی۔ مکتبہ دینیات 134شاہ عالم مارکیٹ لاہور۔ طبع اول1959)

یہ سب کچھ ہو رہا تھا اور اس زمانے میں ساروں نے تسلیم کیا اور اب بھی اس قسم کی باتوں کو سارے تسلیم کرتے ہیں لیکن یہ بھی کہتے ہیں مسیح کی ضرورت نہیں اور یہ کہ مہدی یا مسیح کا ابھی وقت نہیں آیا۔ یعنی جس دین کو خداتعالیٰ نے آخری اور مکمل دین بنا کر بھیجا تھا اس کی انتہائی کسمپرسی کی حالت تھی لیکن خداتعالیٰ کو اس کی پرواہ نہیں تھی کہ اس کے دین کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اپنے وعدوں کے خلاف نعوذ باللہ، اللہ تعالیٰ چل رہا تھا اور جس مسیح و مہدی کو اپنے وعدوں کے مطابق اس نے مبعوث کرنا تھا وہ نہیں کر رہا تھا۔

حضرت ابو قتادہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت کی علامات کا ظہور 200سال کے بعد ہو گا۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب الاٰیات حدیث :4057)

ملاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس کا یہ معنٰی بھی ہے کہ ہزار سال کے بعد دو سو سال۔ یعنی 1200سال گزرنے کے بعد علامات مکمل طور پر ظاہر ہوں گے اور وہی زمانہ مہدی کے ظہور کا زمانہ ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الفتن باب اشراط الساعۃ الفصل الثالث روایت نمبر:5460)

تو یہ تو ان ساری باتوں سے ثابت ہو گیا کہ ظہور کا زمانہ وہی تھا جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں نہ کہ وہ جس کی آجکل کے علماء تشریح کرتے ہیں کہ ابھی اتنے سو سال پڑے ہیں یا اتنے سوسال پڑے ہیں۔ ان باتوں سے جو مَیں نے مختلف ائمہ کی پڑھی ہیں اور شاہ ولی اللہ کا اقتباس، اس سے ہم نے دیکھ لیا کہ ان سب نے مسیح و مہدی کے آنے کا وقت12ویں صدی کے بعد کا کوئی زمانہ بتایا ہے۔ یہ نہیں کہا کہ 19ویں صدی میں یا 20ویں صدی میں یا فلاں وقت میں آنا ہے۔ ہر جگہ 12ویں صدی کا ذکرہے۔ اور جب 12ویں صدی کا ذکر ہے تو اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ کم و بیش اسی زمانے میں مبعوث ہونا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی جو 12ویں صدی کے مجدد تھے انہوں نے تو اور بھی معین کر دیا ہے یعنی 1268۔ اور یہ کم و بیش وہی زمانہ بنتا ہے جس زمانے میں مسیح موعود کے ظہورکی توقع کی جا رہی تھی۔

اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آیت{وَاٰ خَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ} (الجمعۃ:4) کے حوالے سے ایک اور نکتہ بیان فرمایا ہے کہ اس کے اعداد 1275بنتے ہیں یعنی جس شخص نے آخرین کو پہلوں سے ملانا ہے یا ملانا تھا اُس کو اسی زمانے میں ہونا چاہئے تھا جس کے بارے میں سب توقع کر رہے تھے اور جس کی ضرورت بھی تھی۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ یہی وہ سال بنتے ہیں جب مَیں روحانی لحاظ سے اپنی بلوغت کی عمر کو تھا اور اللہ تعالیٰ مجھے تیار کر رہا تھا۔

پس یہ ساری باتیں اتفاقی نہیں ہیں۔ ان علماء کو اگر وہ حقیقت میں علماء ہیں غور کرنا چاہئے سوچنا چاہئے کہ یہ پرانے بزرگوں کی بتائی ہوئی خبریں ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ہیں قرآن کریم نے بھی مسیح کے آنے کی کچھ نشانیاں بتائی ہیں۔ ان پر غور کریں اور یہ کہہ کرعوام کو گمراہ نہ کریں کہ ان ساری باتوں کا، ان آفات کا مسیح کی آمد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مسیح کی آمد کے زمانے کے تعین کے بارہ میں حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے قرآن و حدیث سے جوثابت کیا ہے وہ بات مَیں بتاتا ہوں لیکن اس سے پہلے ایک حدیث بیان کرنا چاہتا ہوں جس سے پتہ چلے گا کہ آجکل کے علماء جس قسم کے جواب دے رہے ہیں ان سے یہی توقع کی جا سکتی ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ:اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں سے یکدم نہیں چھینے گا بلکہ عالموں کی وفات کے ذریعے علم ختم ہو گا جب کوئی عالم نہیں رہے گا تو لوگ انتہائی جاہل اشخاص کو اپنا سردار بنا لیں گے۔ اور ان سے جا کر مسائل پوچھیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے۔ پس خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کوبھی گمراہ کریں گے۔ (بخاری کتاب العلم باب کیف یقبض العلم حدیث نمبر : 100)

اس حدیث سے علماء وقت جنہوں نے ابھی تک مسلمانوں کو غلط رہنمائی کرکے مسیح و مہدی کی تلاش سے دور رکھا ہوا ہے، اس کو پہچاننے سے دُور رکھا ہوا ہے یا جو دُور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا حال تو حدیث میں ظاہر ہو گیا۔ لیکن ان کے اس حال کا قرآن کریم میں بھی ذکر ہے۔ پس یہ حال ان علماء کا دیکھ کر ہمیں خاموش نہیں ہو جانا چاہئے بلکہ کوشش کرکے ہر مسلمان کو ان کا یہ حال بتانا چاہئے کہ انہو ں نے تو اللہ و رسول کی بات نہ مان کر اس انجام کو پہنچنا ہے جہاں اللہ کی ناراضگی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ لیکن اے مسلمانو! اگر تم اللہ کی رضا چاہتے ہو، دنیا، دین اور آخرت بچانا چاہتے ہو تو اس وقت اس زمانے کے حالات پر غور کرو اور تلاش کرو کہ یہ زمانہ کہیں مسیح موعود کا زمانہ تو نہیں ہے اور مسلمانوں کی یہ بے چارگی کی حالت اور یہ آفات وغیرہ بے وجہ کی دلوں کی سختی کا نتیجہ تو نہیں ہے۔ بہرحال جیسا کہ مَیں نے کہا تھا اس زمانے میں مسیح موعود کی آمد کے بارے میں حدیث میں اور قرآن میں نشانیاں بھی ملتی ہیں چند ایک کا مَیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے ذکر کروں گا۔ یہ تو ہم نے دیکھ لیا کہ بعد کے علماء نے بھی اور جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قریب کے زمانے کے تھے، انہوں نے بھی، سب نے یہ تسلیم کر لیا کہ اسلام کی اور مسلمانوں کی حالت نہایت ابتر ہے۔ لیکن ہم سے وعدہ تو جیسا کہ مَیں نے کہا، یہ تھا کہ ایمان ثریا پر بھی چلا گیا تو اللہ تعالیٰ ایک شخص کو بھیجے گا جو ایمان کو واپس لے کر آئے گا۔ اس پر ابھی تک عمل نہیں ہوا۔ لیکن بہرحال یہ جو اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر غور نہ کرنے کا نتیجہ ہے کہ ابھی تک یہ خیال کیاجا رہا ہے کہ نہیں آ رہا۔

جب یہ آیت اتری کہ {وَآخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّایَلْحَقُوْا بِھِمْ} (الجمعۃ:5) تو سوال کرنے والے کے سوال پر کہ یہ آخرین کون ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہاکہ اگر ایمان ثریا پر بھی چلا گیا تو ان میں سے ایک شخص اس کو واپس لائے گا۔ (بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورۃ جمعہ زیر آیت واٰخرین منھم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حدیث :4897)

اب ایمان ثریا پر جانے کی باتیں تو یہ لوگ کرتے ہیں۔ لیکن پھر یہ کہتے ہیں کہ ابھی مسیح موعود کا زمانہ نہیں آیا۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اس بات پر ہی بات ختم نہیں کر دی بلکہ اور نشانیاں بھی بتائی ہیں جن سے آخری زمانے اور دجالی زمانے کا پتہ چلتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اس بات کے ثبوت کے لئے یہ دراصل آخری زمانہ ہے۔ جس میں مسیح ظاہر ہونا چاہئے دو طور کے دلائل موجود ہیں، اول وہ آیات قرآنیہ اور آثار نبویہ جو قیامت کے قرب پر دلالت کرتے ہیں اور پورے ہو گئے ہیں۔ جیسا کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پورے ہونے کے چند گھنٹے بعد قیامت آجائے گی مطلب یہ کہ زمانہ اس طرف چل رہا ہے۔ فرمایا کہ جیسا کہ اونٹوں کی سواری کا موقوف ہو جانا جس کی تشریح آیت {وَاِذَالْعِشَارُ عُطِّلَتْ} (التکویر:5) سے ظاہر ہے یعنی جب 10ماہ کی گابھن اونٹنیاں بغیر کسی نگرانی کے چھوڑ دی جائیں گی۔ فرمایا کہ دجالی زمانے کی علامات میں جبکہ ارضی علوم و فنون زمین سے نکالے جائیں گے۔ بعض ایجادات اور صنعات کو بطور نمونہ کے بیان فرمایا ہے۔ وہ ہے اس وقت اونٹنی بیکار ہوجائے گی اور اس کی کچھ قدر و منزلت نہیں رہے گی۔ عِشَارُ حمل دار اونٹنی کوکہتے ہیں جو عربوں کی نگاہ میں بہت عزیز ہے اور ظاہر ہے قیامت کا اس سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ کیونکہ قیامت ایسی جگہ نہیں جہاں اونٹ اونٹنی کو ملے اور حمل ٹھہرے بلکہ یہ ریل کے نکلنے کی طرف اشارہ ہے۔ جس طرح آجکل دوسری سواریاں بھی ہیں۔ فرمایا: اور حمل دار ہونے کی اس لئے قید لگا دی کہ یہ قید دنیا کے واقعہ پر قرینہ ہو اور آخرت کی طرف ذرا بھی وہم نہ جائے۔ یعنی دنیا پر اس کا خیال کیا جائے نہ آخرت کی طرف جانے کا۔

پھر فرمایا: {وَاِذَاالنُّفُوْسُ زُوِّجَتْ} (التکویر:8) اور جس وقت جانیں بہم ملائی جائیں گی۔ یہ تعلقات اقوام اور بلاد کی طرف اشارہ ہے، مطلب یہ ہے کہ آخری زمانے میں بباعث راستوں کے کھلنے اور انتظام ڈاک اور تار برقی کے تعلقات بنی آدم کے بڑھ جائیں گے۔ اب تو اور بھی ذرائع کھل گئے ہیں آمنے سامنے بیٹھ کر تصویروں سے بھی باتیں ہو جاتی ہیں، ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے۔ فرمایا: ایک قوم دوسری قوم کو ملے گی اور دُور دُور کے رشتے اور تجارتی اتحاد ہوں گے اور بلاد بعیدہ کے دوستانہ تعلقات بڑھ جائیں گے۔ تو یہ پیشگوئی اس آخری زمانے کی ہے جو آئے روز ہم پوری ہوتی دیکھ رہے ہیں جو نظر آتی ہے۔

فرمایا کہ:’’{اِذَالشَّمْسُ کُوِّرَتْ} (التکویر:2)۔ جس وقت سورج لپیٹا جائے گا یعنی سخت ظلمت جہالت اور معصیت کی دنیا پر طاری ہوجائے گی۔

{وَاِذَاالنُّفُوْسُ زُوِّجَتْ} (التکویر:8) کے بارے میں فرماتے ہیں کہ’’یہ بھی میرے ہی نشان تھا… پھر یہ بھی جمع ہے کہ خداتعالیٰ نے تبلیغ کے سارے سامان جمع کر دئیے ہیں۔ چنانچہ مطبع کے سامان، کاغذ کی کثرت، ڈاکخانوں، تاراورریل اور دخانی جہازوں کے ذریعے کُل دنیا ایک شہر کا حکم رکھتی ہے۔ اور پھر نت نئی ایجادیں اس جمع کو اور بھی بڑھا رہے ہیں کیونکہ اسباب تبلیغ جمع ہو رہے ہیں۔ اب فونو گراف سے بھی تبلیغ کا کام لے سکتے ہیں اور اس سے بہت عجیب کام نکلتا ہے۔ اخباروں اور رسالوں کا اجراء۔ غرض اس قدر سامان تبلیغ کے جمع ہوئے ہیں کہ اس کی نظیر کسی پہلے زمانہ میں ہم کو نہیں ملتی‘‘۔ (الحکم جلد 6نمبر43 مورخہ 30؍نومبر 1902ء صفحہ2-1)

مَیں {اِذَالشَّمْسُ کُوِّرَتْ} (التکویر:2) پر بات کر رہا تھا کہ فرمایا کہ سخت ظلمت، جہالت اور معصیت دنیا پر طاری ہو جائے گی۔ پھر فرمایا {وَاِذَالنُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ} (التکویر:3) اور جس وقت تارے گدلے ہوجائیں گے۔ یعنی علماء کا اخلاص جاتا رہے گا۔ تو جیسا کہ مَیں نے کہا تھا کہ یہ علماء اس قرآنی پیشگوئی کے مطابق اب نورِ اخلاص پا ہی نہیں سکتے جب تک مسیح و مہدی کے ساتھ تعلق نہ جوڑ لیں اور یہ تعلق یہ لوگ جوڑنا نہیں چاہتے۔ ان سے پہلے بھی اسی طرح انتظار کرتے کرتے خالی ہاتھ چلے گئے اور یہ بھی چلے جائیں گے۔ لیکن مسلم اُمّہ یہ یاد رکھے کہ ان کی ان باتوں میں آکر اپنی دنیا و عاقبت خراب نہ کریں۔ اللہ کے حضور جب حاضر ہوں گے تو یہ جواب کام نہیں آئے گا کہ ہمارے علماء نے غلط رہنمائی کی تھی اس لئے ہمارے گناہ ان کے سر۔ یہ آیت جو مَیں نے تلاوت کی ہے اس میں تو اللہ تعالیٰ نے صاف بتا دیا ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی پس سب کے لئے غور کرنے کا مقام ہے۔ پھر اس زمانے کی ایک قرآنی پیشگوئی ہے۔ فرمایا کہ {وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ} (التکویر:6) اور جس وقت وحشی آدمیوں کے ساتھ اکٹھے جائیں گے۔ مطلب ہے کہ وحشی قومیں تہذیب کی طرف رجوع کریں گی اور ان میں انسانیت اور تہذیب آئے گی۔ دیکھیں یہ سب قرآنی پیشگوئیاں آج کے زمانے میں پوری ہو رہی ہیں۔ پھر فرمایا {وَاِذَاالصُّحُفُ نُشِرَتْ} (التکویر:11) یعنی اس وقت خط و کتابت کے ذریعے عام ہوں گے۔ اور کتب کثرت سے دستیاب ہوں گی۔

پھر ایک نشانی {وَاِذَالْبِحَارُسُجِّرَتْ} (التکویر:7) یعنی اور جب سمندر پھاڑے جائیں گے۔ تو دیکھ لیں آجکل دریا بھی ملائے گئے، سمندر بھی ملائے گئے، نہری نظام قائم کیا گیا۔ تو یہ سب اس زمانے کی جدید ایجادات کی وجہ سے ہے۔ اور مغربی قوموں کی ترقی کے بعد ان سب چیزوں میں اور بھی زیادہ ترقی ہوئی یا دنیا میں پھیلائی گئی ہیں۔ پس یہ چیزیں بتاتی ہیں کہ ظہور امام مہدی آخری زمانے کی نشانی اور دجّال کے آنے سے وابستہ تھا۔ دجّال کے آنے سے ہی مسیح نے بھی آنا تھا۔ تو جب یہ نشانیاں پوری ہو رہی ہیں تو مسیح کی آمد کا ابھی تک کیوں انتظار ہے۔ مسیح کو کیوں قیامت سے ملانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ صرف ایک ضد ہے، ہٹ ہے۔ اللہ ہی ہے جو ان کو عقل دے۔

پھر ایک حدیث ہے مسیح کی آمد کے نشان کے طور پر اور یہ ایسی حدیث ہے کہ اسے جب بھی احمدی پیش کرتے ہیں تو مخالف کے پاس کا اس کوئی رد نہیں ہوتا۔ اور وہ ہے سورج اور چاند گرہن کی۔ اور اس نشان کو ہم حضرت مسیح موعود ؑ کی صداقت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام مسیح موعود نہیں ہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چیلنج کے رنگ میں فرمایا تھا کہ یہ نشان کبھی ظاہر نہیں ہوا۔ تو پھر کسی اور کا دعویٰ دکھا دینا چاہئے کیونکہ نشان تو ظاہر ہو چکا ہے، دو دفعہ ظاہر ہو چکا ہے۔ تو اس نشان کے دیکھنے کے بعد پھر بھی یہ کہتے ہیں کہ مسیح موعو د کا زمانہ نہیں ہے۔

حدیث کے الفاظ یہ ہیں حضرت محمد بن علیؓ یعنی حضرت امام باقر رحمہ اللہ نے فرمایاکہ ہمارے مہدی کی صداقت کے دو نشان ایسے ہیں کہ جب سے زمین و آسمان پیدا ہوئے ہیں وہ کسی کی صداقت کے لئے اس طرح ظاہر نہیں ہوئے۔ اول یہ کہ اس کی بعثت کے وقت رمضان میں پہلی تاریخ کو چاند گرہن لگے گا۔ اور درمیانی تاریخ کو سورج گرہن لگے گا۔ اور یہ دونوں نشان کے طور پرپہلے کبھی ظاہر نہیں ہوئے۔ (سنن دارقطنی کتاب العیدین باب صفۃ صلوٰۃ الخسوف والکسوف وھیئتھما صفحہ188/1 مطبع انصاری دہلی1310ھ حدیث :1777)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:’’مسیح موعود کا یاجوج ماجوج کے وقت میں آنا ضروری ہے اور چونکہ اَجِیْج آگ کو کہتے ہیں جس سے یاجوج ماجوج کا لفظ مشتق ہے۔ اس لئے جیسا کہ خدا نے مجھے سمجھایا ہے یاجوج ماجوج وہ قوم ہے جو تمام قوموں سے زیادہ دنیا میں آگ سے کام لینے میں استاد بلکہ اس کام کی موجد ہے۔ اور ان ناموں میں یہ اشارہ ہے کہ ان کے جہاز، ان کی ریلیں، ان کی کلیں آگ کے ذریعہ سے چلیں گی۔ اور ان کی لڑائیاں آگ کے ساتھ ہوں گی۔ اور وہ آگ سے خدمت لینے کے فن میں تمام دنیا کی قوموں سے فائق ہوں گے۔ اور اسی وجہ سے وہ یاجوج ماجوج کہلائیں گے۔ سو وہ یورپ کی قومیں ہیں جو آگ کے فنوں میں ایسے ماہر اور چابک اور یکتائے روزگار ہیں کہ کچھ بھی ضرور نہیں کہ اس میں زیادہ بیان کئے جائے۔ پہلی کتابوں میں بھی جو بنی اسرائیل کے نبیوں کو دی گئیں یورپ کے لوگوں کو ہی یاجوج ماجوج ٹھہرایا ہے۔ بلکہ ماسکو کا نام بھی لکھا ہے جو قدیم پایہ تخت روس تھا۔ سو مقرر ہو چکا تھا کہ مسیح موعود یاجوج ماجوج کے وقت میں ظاہر ہو گا‘‘۔ (ایام الصلح، روحانی خزائن جلد نمبر14صفحہ424.425)

پس ائمہ نے قرآن و حدیث سے علم پا کربتا دیا کہ مسیح موعود اس زمانے میں ہو گا۔ علماء سابقہ اور موجودہ نے کہا کہ اس زمانے کے حالات بتارہے ہیں، مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ نبی ہونا چاہئے۔ قرآن کریم نے نشانیاں بتا دیں جن میں سے بعض کا مَیں نے ذکرکیا ہے۔ یہ آخری زمانے کی باتیں ہیں، جب یہ باتیں ہو رہی ہوں تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ مسیح موعود کا زمانہ ہی ہے۔

پھر ایک روشن نشان جو چیلنج کے رنگ میں پیش کیا جاتا ہے جس کی تشریح امام باقر نے کی ہے وہ بتایا کہ مسیح موعود کے وقت میں سورج اور چاند کا گرہن لگنا تھا۔ تو پھر یہ کہنا کہ ابھی مسیح موعود کے آنے کا وقت نہیں آیا خد اکے غضب کو آواز دینے والی بات ہے۔ خود تسلیم کرتے ہیں کہ یہ آفات ہماری غلطیوں اور گناہوں کا نتیجہ ہیں۔ جو آیت مَیں نے پڑھی ہے، اس کے آخری حصے کا جو حوالہ گزشتہ خطبہ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباس میں سے مَیں نے دیا تھا، اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے کہ ہم ہرگز عذاب نہیں دیتے یہاں تک کہ کوئی رسول بھیج دیں اور حجت تمام کردیں۔ تو خود ہی یہ کہہ کر کہ یہ عذاب ہیں پھر اس آیت کے اس حصے پربھی غور کریں اور بجائے یہ کہنے کے کہ مسیح موعود کے آنے کا وقت نہیں ہوا یا اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ یا ابھی 726 یا 728 سال باقی ہیں یا 200سال باقی ہیں۔ اور بجائے یہ کہنے کے کہ یہ غلط ہے جھوٹا آدمی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس انذار کو ردّ کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے رہنمائی مانگیں۔ اس سے رہنمائی مانگتے ہوئے اس کی پناہ میں ان لوگوں کو آنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو عقل و شعور دے جو اس انذار کی شدت کو سمجھ نہیں رہے اور نام نہاد علماء یا دنیا کے لہو و لعب کے پیچھے بھٹک رہے ہیں۔ کیونکہ یہ اکٹھے نہیں، مذہب سے کوئی تعلق نہیں ان کی بعض حرکتیں بیہودہ ہیں اسی وجہ سے غیروں کوبھی موقع مل رہا ہے کہ جو اسلام پہ بھی اعتراض کرتے ہیں اور بعض بیہودہ لغو قسم کی باتیں لکھتے اور شائع کرتے ہیں جس طرح پچھلے دنوں میں ایک کارٹون بنا کے شائع کیا گیا جس پر اب شور مچا رہے ہیں۔ تو یہ ان کی اپنی حرکتیں ہی ہیں جن کی وجہ سے غیروں کو موقع مل رہا۔ مخالفین کو موقع مل رہا ہے۔ اور یہ اب جماعت احمدیہ ہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم کے مطابق ان چیزوں کا بھی رد ّکرتی ہے اور اللہ کے فضل سے اس کا اثر بھی ہوتا ہے۔

اب ڈنمارک میں اخبار کے ایڈیٹر یا لکھنے والے نے جو معافی مانگی ہے۔ پہلے تو ضد میں آ گئے تھے۔ اَڑ گئے تھے کہ نہیں جو ہم نے کیا ہے ٹھیک ہے۔ لیکن جب ہمارا وفد ملا، ان کو بتایا، سمجھایا تو ان کے کہنے پہ یہ معافی مانگی گئی ہے نہ کہ ان کے احتجاج پر۔ ان کے سامنے انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ ہاں تمہاری دلیل ٹھیک ہے اس پہ ہم معذرت کرتے ہیں۔ دوسرے یورپین ملکوں میں بھی ہو رہا ہے تو وہاں بھی جماعت کو چاہئے کہ جا کے مل کے ان کو سمجھائیں۔ کیونکہ بعض حرکات اپنوں کی ایسی ہیں جس کی وجہ سے اس طرح کی بیہودہ اور لغو حرکتیں غیروں کو کرنے کا موقع ملتا ہے۔

سورۃ تکویر میں جہاں اس زمانے کے حالات کی پیشگوئیاں ہیں وہاں اسلام کی آئندہ ترقی بھی مسیح موعود کے ذریعہ سے ہی وابستہ کی گئی ہے۔ ان کے ذریعہ سے اکٹھے ہونے کی خبر دی گئی ہے۔ اس لئے ان لوگوں میں سے کسی کو اس خیال میں نہیں رہنا چاہئے کہ مسیح موعود کو مانے بغیر اسلام اپنی کھوئی ہوئی طاقت حاصل کرلے گا۔ یا یہ لوگ اپنی کھوئی ہوئی طاقت حاصل کر لیں گے۔ جس طرح ان کا نظریہ ہے صرف خنزیروں کو مارنا ہی تو نہیں رہ گیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اس کے لئے تو یہ عیسائی قوم ہی کافی ہے، مارتے رہتے ہیں اور کھاتے رہتے ہیں، تو مسیح بیچارے کوآنے کی، اس مشکل میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمان کہلانے والے علماء کو بھی عقل دے اور مسلمان امت کو بھی کہ یہ حق کو پہچان سکیں۔ اللہ تعالیٰ ان کا سینہ کھولے، دماغ کھولے۔ ہمارا کام ان کے لئے دعا بھی کرنا ہے اور ان کو راستہ بھی دکھانا ہے، اور وہ ہمیں کرتے چلے جانا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا خلاصہ
  • English اور دوسری زبانیں

  • 3؍ فروری 2006ء شہ سرخیاں

    قرآن وحدیث اور بزرگان امت کے اقوال اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے تائیدونصرت کے اور دیگرانذاری نشانات کے حوالے سے

    فرمودہ مورخہ 03؍ فروری 2006ء (03؍تبلیغ 1385ھش) مسجد بیت الفتوح، لندن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور