جس سے بیعت اور محبت کا دعویٰ ہے اس کے ہر حکم کی تعمیل کی جائے

خطبہ جمعہ 26؍ مئی 2006ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں سے کسی ناراضگی یا کسی غلط فہمی یا بدظنی کی وجہ سے اس حد تک اپنے دلوں میں کینے پالنے لگ جاتے ہیں کہ دوسرے شخص کا مقام اَوروں کی نظر میں گرانے کے لئے، معاشرے میں انہیں ذلیل کرنے کے لئے، رسوا کرنے کے لئے۔ ان کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرکے پھر اس کی تشہیر شروع کر دیتے ہیں اور اس بات سے بھی دریغ نہیں کرتے کہ یہ من گھڑت اور جھوٹی باتیں مجھے پہنچائیں تاکہ اگر کوئی کارکن یا اچھا کام کرنے والا ہے تو اس کو میری نظروں میں گرا سکیں۔ اور پھر یہی نہیں بلکہ بڑے اعتماد سے بعض لوگوں کے نام گواہوں کے طور پر بھی پیش کر دیتے ہیں اور جب ان گواہوں سے پوچھو، گواہی لو، تحقیق کرو تو پتہ چلتا ہے کہ گواہ بیچارے کے فرشتوں کو بھی علم نہیں کہ کوئی ایسا واقعہ ہوا بھی ہے یا نہیں جس کی گواہی ڈلوانے کے لئے کوشش کی جا رہی ہے۔

اور پھر اس سے بڑھ کر یہ کہ مجھے مجبور کیا جاتا ہے کہ مَیں ان جھوٹی باتوں پر یقین کرکے جس کے خلاف شکایت کی گئی ہے ضرور اسے سزا بھی دوں۔ گویا یہ شکایت نہیں ہوتی ایک طرح کا حکم ہوتا ہے۔ بہت سی شکایات درست بھی ہوتی ہیں۔ لیکن اکثر جو ذاتی نوعیت کی شکایات ہوتی ہیں وہ اس بات پر زور دیتے ہوئے آتی ہیں کہ فلاں فلاں شخص مجرم ہے اور اس کو فوری پکڑیں۔ ان باتوں پرمَیں خود بھی کھٹکتا ہوں کہ یہ شکایت کرنے والے خود ہی کہیں غلطی کرنے والے تو نہیں، اس کے پیچھے دوسرے شخص کے خلاف کہیں حسد تو کام نہیں کر رہا۔ اور اکثر یہی ہوتا ہے کہ حسد کی وجہ سے یہ کوشش کی جا رہی ہوتی ہے کہ دوسرے کو نقصان پہنچا یا جائے۔ یہ حسد بھی اکثر احساس کمتری کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق نہ رکھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس خیال کے دل میں نہ رکھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ خدا جھوٹے اور حاسد کی مدد نہیں کرتا۔ اور حسد کی وجہ سے یا بدظنی کی وجہ سے دوسرے پر الزام لگانے میں بعض لوگ اس حد تک گر جاتے ہیں کہ اپنی عزت کا بھی خیال نہیں رکھتے۔ آج کل کے معاشرے میں یہ چیزیں عام ہیں اور خاص طور پر ہمارے برصغیر پاک و ہند کے معاشرے میں تو یہ اور بھی زیادہ عام چیز ہے۔ اور اس بات پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ پڑھے لکھے لوگ بھی بعض دفعہ ایسی گھٹیا سوچ رکھ رہے ہوتے ہیں اور دنیا میں یہ لوگ کہیں بھی چلے جائیں اپنے اس گندے کریکٹر کی کبھی اصلاح نہیں کر سکتے یا کرنا نہیں چاہتے۔

اور آج کل کے اس معاشرے میں جبکہ ایک دوسرے سے ملنا جلنا بھی بہت زیادہ ہو گیا ہے، غیروں سے گھلنے ملنے کی وجہ سے ان برائیوں میں جن کو ہمارے بڑوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں آ کر ترک کیا تھا بعضوں کی اولادیں اس سے متاثر ہو رہی ہیں۔ ہمارے احمدی معاشرہ میں ہر سطح پر یہ کوشش ہونی چاہئے کہ احمدی نسل میں پاک اور صاف سوچ پیدا کی جائے۔ اس لئے ہر سطح پر جماعتی نظام کو بھی اور ذیلی تنظیموں کے نظام کو بھی یہ کوشش کرنی چاہئے کہ خاص طور پر یہ برائیاں، حسد ہے، بدگمانی ہے، بدظنی ہے، دوسرے پر عیب لگانا ہے اور جھوٹ ہے اس برائی کو ختم کرنے کے لئے کوشش کی جائے، ایک مہم چلائی جائے۔

کچھ عرصہ ہوا ہربرائی کو لے کرمَیں نے ایک ایک خطبہ بڑی تفصیل سے اس بارے میں دیا تھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے اچھے نتائج بھی نکلے تھے لیکن انسان کی فطرت ہے کہ اگر بار بار یاددہانی نہ کرائی جائے تو بھول جاتا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں فَذَکِّرْ کا حکم دیا ہے۔ اس یاددہانی سے جگالی کرنے کا بھی موقع ملتا رہتا ہے اور بہت سے ایسے ہیں جن کو اگر اصلاح کے لئے ذرا سی توجہ دلا دی جائے تو اصلاح کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ ان کو صرف ہلکی سی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہاں بعض ایسے بھی ہیں جو کوئی نصیحت سن کریا کوئی خطبہ سن کر جو کبھی مَیں نے کسی خاص موضوع پر دیا یہ کہتے ہیں کہ ہمارے بارے میں نہیں بلکہ فلاں کے بارے میں ہے اور پھر بڑی ڈھٹائی سے خطبے کا حوالہ دے کر مجھے بھی لکھتے ہیں کہ آپ نے فلاں خطبہ دیا تھا اس کے حوالے سے مَیں آپ کو لکھ رہا ہوں کہ فلاں عہدیدار یا فلاں احمدی ان حرکتوں میں ملوث ہے، ان برائیوں میں گھرا ہوا ہے اس کی اصلاح کی طرف آپ توجہ دیں۔ اور جیسا کہ مَیں نے کہا اگر تحقیق کرو تو پتہ چلتا ہے کہ سب سے زیادہ اس برائی میں وہ شکایت کنندہ خود گرفتار ہے۔ پس ہر احمدی کو چاہئے کہ جب بھی کوئی نصیحت سنے یا خلیفہ وقت کی طرف سے کسی معاملے میں توجہ دلائی جائے تو سب سے پہلا مخاطب اپنے آپ کو سمجھے۔ اگر اپنی اصلاح کرنی چاہتے ہیں، اگر معاشرے سے گند ختم کرنا چاہتے ہیں، اگر خداتعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنا چاہتے ہیں تو یہ تمام برائیاں ایسی ہیں۔ ان کو اپنے دلوں سے نکالیں۔ اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی ہمیں توجہ دلائی ہے۔ پس یہ اہم بیماریاں ہیں جو انسان کے اپنے اندر سے بھی روحانیت ختم کرتی ہیں اور پھر شیطانیت کی دلدل میں دھکیل دیتی ہیں اور معاشرے کا امن و سکون بھی برباد کرتی ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی پاکیزہ کتاب میں ان سے بچنے کی طرف توجہ دلائی ہے تاکہ ایک مومن ہر لمحہ پاکیزگی اور روحانیت میں ترقی کرتا چلا جائے۔

اس مقصد کے لئے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مبعوث ہوئے تاکہ روحانیت میں ترقی کی طرف ہمیں لے کر چلیں اور ایک احمدی نے آپؑ سے عہد بیعت باندھا ہے۔ اگر اس عہد بیعت کے بعد بھی برائیوں میں مبتلا رہے اور معاشرے میں فتنہ و فساد پیدا کرتے رہے تو پھر اس عہد بیعت کا کیا فائدہ ہے۔ پس ہر ایک کو پہلے اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہئے، نیکی کے جو احکامات ہیں انکی جگالی کرتے رہنا چاہئے اور جب اپنے آپ کو ہر طرح سے پاک و صاف پائیں تو پھر دوسرے پر الزام لگانا چاہئے۔

اب ان برائیوں کے بارے میں ذرا تفصیل سے کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلے مَیں حسد کو لیتا ہوں۔ ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح بھسم کر دیتا ہے جس طرح آگ ایندھن کو اور گھاس کو بھسم کر دیتی ہے۔ (ابو داؤد کتاب الادب باب فی الحسد و حدیث نمبر 4903)

تو اگر انسان کے دل میں خدا کا خوف ہو تو وہ یہ دعویٰ کر ہی نہیں سکتا کہ میرے اندر بڑی نیکی ہے اور یہ کہ یہ نیکی ہمیشہ میرے اندر قائم بھی رہنی ہے۔ پس اگر کسی سے کوئی نیکی کی بات ہوتی ہے تو اللہ کا خوف رکھنے والے اور حقیقت میں نیک بندے اس پر ہمیشہ قائم رہنے کی دعا کرتے ہیں۔ اور ہر احمدی کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے نیکیوں کو اپنے اندر قائم رکھنے کی کوشش کرے اور سب سے زیادہ جونیکیوں کو جلا کر خاک کرنے والی چیز ہے اس سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں اور جیسا کہ اس حدیث میں جو مَیں نے پڑھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ حسد ہے۔ پس اس حسد کی بیماری کو کوئی معمولی چیز نہ سمجھیں۔ تمام زندگی کی نیکیاں حسد کے ایک عمل سے ضائع ہو سکتی ہیں۔ ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ مسلمان آگ میں داخل نہیں ہو گا جس نے کسی کافر کومارا ہو گا اور پھر میانہ روی اختیار کی ہو اور مومن کے پیٹ میں اللہ کی راہ میں پڑی ہوئی غبار اور جہنم کی پیپ دونوں جمع نہیں ہوں گے اور نہ کسی شخص میں ایمان اور حسد جمع ہو سکتا ہے۔ ‘‘ (سنن نسائی، کتاب الجہاد باب فضل من عمل فی سبیل اللہ علی قدمہ حدیث نمبر3109)

یعنی اس موجودہ زمانے کے لئے اصل میں بعد والی دونوں چیزیں ہیں۔ یعنی حسد کرنے والے کی حالت ایسی ہے جیسے جہنم کی پیپ پینے والے کی۔ اللہ تعالیٰ پر جو ایک مومن کا ایمان ہے، حسداس کو ضائع کرنے کا بھی باعث بنتا ہے۔ یا حسد کرنا جو ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جہنم میں لے جانے والی چیز ہے۔ پس یہ انتہائی خوف کا مقام ہے۔ یہ حسد کرنے والے دوسرے کوعارضی اور وقتی طور پر جو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اس کا تو مداوا ہو جاتا ہے لیکن یہ اس حسد کی وجہ سے اپنے ایمان کو ضائع کرکے پھر جہنم اپنے اوپر سہیٹر رہے ہوتے ہیں۔ اس لئے کسی کی ترقی دیکھ کر، کسی کا خلافت کے ساتھ زیادہ قرب دیکھ کر، کسی پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش دیکھ کر حسد کرنے کی بجائے اس پر رشک کرنا چاہئے اور خودوہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

پھر ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی کہ لوگوں میں سے کون افضل ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مغموم القلب اور صدوق اللسان۔ اس پر صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی ہمیں صدوق اللسان کا تو علم ہے۔ یہ مغموم القلب کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پاک و صاف دل جس میں کوئی گناہ، کوئی کجی اور کوئی بغض، کینہ اور حسد نہ ہو۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب الورع و التقویٰ حدیث نمبر 4216)

پس ایک سچے مسلمان کی نشانی، ایک سچے احمدی کی نشانی اور اس کا مقام یہ ہے کہ مغموم القلب بننے کی کوشش کرے۔ گناہوں سے بچے، اپنے دل کے ٹیڑھے پن کو دور کرے، بغض، کینہ اور حسد سے بچتے ہوئے اپنے پر جہنم حرام کرے اور اس دنیامیں بھی پُرسکون زندگی کی وجہ سے جنت حاصل کرنے والا ہو اور آخرت میں بھی جنت کا وارث بنے۔

پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں گزشتہ اقوام کی حسد اور بغض کی بیماری راہ پا گئی ہے اور یہ مونڈھ کر رکھ دینے والی ہوتی ہے۔ مَیں یہ نہیں کہتا کہ یہ بالوں کو مونڈھتی ہے بلکہ یہ دین کو مونڈھ دیتی ہے، مجھے قسم ہے اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ تم جنت میں ہرگز داخل نہیں ہو سکتے جب تک کہ ایمان نہ لاؤ اور تم کامل مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپس میں باہمی محبت پیدا نہ کرو اور میں تمہیں اس کا گُر بتاتا ہوں وہ یہ کہ تم آپس میں سلام کو رواج دو۔ (مسند احمد بن حنبل، مسند الزبیر بن العوام، جلد نمبر 1حدیث نمبر 1412صفحہ نمبر450-451 عالم الکتب ایڈیشن 1998ء بیروت)

پس یہ بات بھی ہر احمدی کو اپنے ذہن میں رکھنی چاہئے۔ آپس کے سلام محبت پیدا کرنے کے لئے ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ اوپر سے تو سلام کر رہے ہوں اور اندر سے بغض اور کینے اور حسد کی وجہ سے دوسروں کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ شکایت کے جھوٹے پلندوں کی بھرمار ہو رہی ہو۔ اگر دل اس دو عملی سے پاک اور صاف نہیں ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق وہ دل پاک نہیں ہے اور اس میں کامل ایمان بھی نہیں ہے۔

پھر بغیر سوچے سمجھے دوسرے پر عیب لگانے کی عادت ہے، الزام لگانے کی عادت ہے۔ ایسے لوگوں کو جو دوسرے پر عیب لگاتے ہیں خداتعالیٰ نے فاسق اور ظالم کہا ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے کہ{وَلَا تَلْمِزُوْآ اَنْفُسَکُمْ ولَاَ تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ بِئْسَ الْاِسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ وَمَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ} (الحجرات:12) اور اپنے لوگوں پر عیب مت لگایا کرو اور ایک دوسرے کو نام بگاڑ کر نہ پکارا کرو، ایمان کے بعدفسوق کا داغ لگ جانا بہت بری بات ہے۔ اور جس نے توبہ نہ کی تو یہی وہ لوگ ہیں جو ظالم ہیں۔ پس ہراحمدی کو جس نے اس زمانے کے امام کو مانا ہے اس کو اپنے ایمان کی حفاظت کرنی چاہئے اور اپنے آپ کو اس بُرے نام یعنی فاسق ہونے سے بچانا چاہئے۔ فاسق وہ شخص ہے جو نیکی سے ہٹا ہوا ہو اور بدکار ہو۔ پس کسی دوسرے پر بدکاری کا یا کوئی اور الزام لگانے یا عیب تلاش کرنے کی بجائے، اس کے پیچھے پڑ جانے کی بجائے اور اس وجہ سے خود اللہ تعالیٰ کی نظر میں اس بات کا مجرم ٹھہرنے کی بجائے، ہر ایک کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے اور اس ظلم سے باز آنا چاہئے۔

ایک حدیث میں آتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کی آنکھ کا تنکا تو انسان کو نظر آتا ہے لیکن اپنی آنکھ میں پڑا ہوا شہتیر وہ بھول جاتا ہے۔ (الترغیب و الترھیب باب الترھیب من ان یامر بمعروف و ینھی عن المنکرجلد نمبر 3حدیث نمبر 3455 صفحہ 242 دارالحدیث قاھرہ ایڈیشن 1994ء)

پس اگر اس سنہری اصول کو ہر ایک یاد رکھے اور اپنے ایمان پر نظر رکھے اور ہر بات اور ہر عمل کرنے سے پہلے یہ سوچ لے کہ خداتعالیٰ مجھے جو ہر وقت دیکھنے والا ہے، غیب کا بھی علم رکھتا ہے اور موجود کا بھی علم رکھنے والاہے، دل کابھی حال جاننے والا ہے، تو بجائے دوسروں کے عیب تلاش کرنے کے انسان اپنی عاقبت کی فکر میں انسان لگا رہے گا۔ بشرطیکہ جیسا مَیں نے کہا اللہ کی ذات پر یقین ہو۔ اور مجھے امید ہے کہ ایک احمدی کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین ہے اور مَیں نے دیکھا ہے جیسا کہ پہلے بھی مَیں نے کہا کہ یاددہانی کرانے پر کئی لوگوں میں انقلابی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں اور اللہ کرے کہ یہ سب ہوتی رہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، بدظنی سے بچو، کیونکہ بدظنی سخت قسم کا جھوٹ ہے، ایک دوسرے کے عیب کی ٹوہ میں نہ رہو۔ اپنے بھائی کے خلاف تجسس نہ کرو۔ اچھی چیز ہتھیانے کی حرص نہ کرو۔ حسد نہ کرو، دشمنی نہ رکھو، بے رخی نہ برتو جس طرح اس نے حکم دیا ہے اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو۔ (مسلم کتاب البر وا لصلۃ باب تحریم الظن حدیث نمبر 6431)

مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور وہ اس پر ظلم نہیں کرتا۔ اسے رسوا نہیں کرتا، اسے حقیر نہیں جانتا، اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپؐ نے فرمایا کہ تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے۔ یعنی مقام تقویٰ دل ہے اور سب سے بڑا تقویٰ کا مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دل ہے فرمایا ایک انسان کے لئے یہی برائی کافی ہے کہ وہ مسلمان بھائی کی تحقیر کرے، ہر مسلمان کی تین چیزیں، دوسرے مسلمان پر حرام ہیں۔ اس کا خون، اس کی آبرو اور اس کا مال۔ (مسلم کتاب البر وا لصلۃ باب تحریم ظلم المسلم و خذلہ… حدیث نمبر6436)

اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کی خوبصورتی کو نہیں دیکھتا، نہ تمہاری صورتوں کو اور نہ تمہارے اموال کو بلکہ اس کی نظر تمہارے دلوں پر ہے۔ (مسلم کتاب البر وا لصلۃ باب تحریم ظلم المسلم و خذلہ… حدیث نمبر6438-6437)

اور ایک روایت میں ہے کہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اپنے بھائی کے خلاف جاسوسی نہ کرو، دوسروں کے عیبوں کی ٹوہ میں نہ لگے رہو، ایک دوسرے کے سودے نہ بگاڑو۔ اور اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو۔ (مسلم کتاب البر وا لصلۃ باب تحریم ظلم المسلم و خذلہ… حدیث نمبر6436)

پس یہ وہ معیار ہے جو ایک احمدی کو حاصل ہونا چاہئے کہ تقویٰ سے کام لینا ہے، جس کی اعلیٰ مثال ہمارے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمائی ہے۔ فرمایا کہ عیبوں کی ٹوہ میں نہ لگے رہو۔ یعنی عیب تلاش کروں پھر اس کی مشہوری کروں اور پھر اس کو بدنام کروں اس معاملے میں نہ لگے رہو کیونکہ اس سے معاشرے میں فساد پیدا ہوتا ہے، بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ پس ان چیزوں سے بچنا چاہئے۔

یہاں فرمایا کسی عیب کی ٹوہ میں نہ لگے رہو۔ اگر کسی میں برائی بھی ہے تب بھی اس کو تلاش نہ کرو۔ کجا یہ کہ جو برائی ہو بھی نہ وہ بھی کسی کی طرف منسوب کرکے پھر اس کو معاشرے میں بدنام کیا جائے۔ ایک احمدی کا تو کام ہے کہ ایک دوسرے کی عزت کی حفاظت کرے جو ایک مسلمان کا فرض ہے نہ کہ اس کو بدنام اور رسوا کرے۔

ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت ابو درداءؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے بھائی کی عزت کی حفاظت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز آگ سے اس کے چہرے کی حفاظت فرمائے گا۔ (ترمذی۔ کتاب البر و الصلہ باب ماجاء فی الذب عن عرض المسلم حدیث نمبر 1931)

پس ہر وقت اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے کتنے گناہ انسان سے سرزد ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی کو اگر پکڑنے لگے تو انسان کا تو کچھ بھی نہیں رہتا۔ اس لئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے اس سلوک سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے کہ دوسرے کی عزت کی حفاظت کرے تاکہ اپنے چہرے کو آگ سے بچا سکے ورنہ پتہ نہیں اپنے اعمال اس قابل ہیں بھی کہ نہیں کہ کسی کو جہنم کی آگ سے بچا بھی سکیں گے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:’’اپنے بھائیوں اور بہنوں پر تہمتیں لگانے والا جو اپنے افعال شنیعہ سے توبہ نہیں کرتا اور خراب مجلسوں کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ‘‘۔ (کشتی نوح۔ روحانی خزائن جلد 19صفحہ19)

پس ایسی تہمتیں لگانے والوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تو اپنی جماعت سے خارج کر دیا ہے۔ اگر خدا کے خوف کی کوئی رمق بھی ایسے لوگوں کے دل میں ہے جو دوسروں پر تہمتیں لگا کر ان کا امن و سکون برباد کرتے رہتے ہیں تووہ توبہ کریں، اللہ تعالیٰ سے استغفار کریں۔ اور پھر سچے دل کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے آپ کی جماعت میں شامل ہونے کی کوشش کریں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:’’بعض گناہ ایسے باریک ہوتے ہیں کہ انسان ان میں مبتلا ہوتا ہے اور سمجھتا ہی نہیں۔ جو ان سے بوڑھا ہو جاتا ہے مگر اسے پتہ نہیں لگتا کہ گناہ کرتا ہے مثلاً گلہ کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ ایسے لوگ اس کو بالکل ایک معمولی اور چھوٹی سی بات سمجھتے ہیں۔ حالانکہ قرآن شریف نے اس کو بہت ہی برا قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے

{اَ یُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّاْکُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ} (الحجرات: 13) خداتعالیٰ اس سے ناراض ہوتا ہے کہ انسان ایسا کلمہ زبان پر لاوے جس سے اس کے بھائی کی تحقیر ہو اور ایسی کارروائی کرے جس سے اس کو حرج پہنچے۔ ایک بھائی کی نسبت ایسا بیان کرنا جس سے اس کا جاہل اور نادان ہونا ثابت ہو یا اس کی عادت کے متعلق خفیہ طور پر بے غیرتی یادشمنی پیدا ہو یہ سب برے کام ہیں۔ (بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود ؑ جلد چہارم صفحہ 219 زیر سورۃ الحجرات)

پھر ایک برائی بدگمانی ہے، بدظنی ہے، خود ہی کسی کے بارے میں فرض کر لیا جاتا ہے کہ فلاں دو آدمی فلاں جگہ بیٹھے تھے اس لئے وہ ضرور کسی سازش کی پلاننگ کر رہے ہوں گے یا کسی برائی میں مبتلا ہوں گے۔ اور پھر اس پر ایک ایسی کہانی گھڑ لی جاتی ہے جس کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ اور پھر اس سے رشتوں میں بھی دراڑیں پڑتی ہیں۔ دوستوں کے تعلقات میں بھی دراڑیں پڑتی ہیں۔ معاشرے میں بھی فساد پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے قرآن کریم میں ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس برائی سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔ فرمایا {یٰٓاَیُھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ۔ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوْا} (الحجرات :13) کہ اے ایمان والوں بہت سے گمانوں سے بچتے رہا کرو، کیونکہ بعض گمان گناہ بن جاتے ہیں اور تجسس سے کام نہ لیا کرو۔ پس اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے اسی سے ذاتی تعلقات میں بہتری کی بنیاد قائم رہے گی اور اسی سے معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ ہو گا۔ بعض لوگ بعض کے بارے میں بدظنیاں صرف اس لئے کرتے ہیں کہ ذلیل کیا جائے اور دوسروں کی نظروں سے گرایاجائے اور اگر کسی جماعتی عہدیدار سے یا خلیفہ ٔوقت سے اس کا خاص تعلق ہے تو اس تعلق میں دُوری پیدا کی جائے اور اکثر پیچھے ذاتی عناد ہوتا ہے۔ جب بدظنیاں شروع ہوتی ہیں تو پھر تجسس بھی بڑھتا ہے اور پھر ہر وقت یہ بدظنیاں کرنے والے اس ٹوہ میں رہتے ہیں کہ کسی طرح دوسرے کے نقائص پکڑیں اور اسکی بدنامی کریں۔ ایک واقعہ آتا ہے کہ ایک بادشاہ محمود غزنوی کا ایک خاص جرنیل تھا۔ بڑا قریبی آدمی تھا۔ اس کا نام ایاز تھا۔ انتہائی و فادار تھا اور اپنی اوقات بھی یاد رکھنے والا تھا۔ اس کو پتہ تھا کہ مَیں کہاں سے اٹھ کر کہاں پہنچا ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو یاد کرنے والا تھا اور بادشاہ کے احسانوں کو بھی یاد رکھنے والا تھا۔ ایک دفعہ ایک معرکے سے واپسی پر جب بادشاہ اپنے لشکر کے ساتھ جا رہا تھا تو اس نے ایک جگہ پڑاؤ کے بعد دیکھا کہ ایاز اپنے دستے کے ساتھ غائب ہے۔ تو اس نے باقی جرنیلوں سے پوچھا کہ وہ کہاں گیا ہے تو ارد گرد کے جود وسرے لوگ خوشامد پسند تھے اور ہر وقت اس کوشش میں رہتے تھے کہ کسی طرح اس کوبادشاہ کی نظروں سے گرایا جائے اور ایاز کے عیب تلاش کرتے رہتے تھے تو انہوں نے اس موقع کو غنیمت سمجھا کہ بادشاہ کو اس سے بدظن کریں۔ اپنی بدظنی کے گناہ میں بادشاہ کو بھی شامل کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے فوراً ایسی باتیں کرنا شروع کر دیں جس سے بادشاہ کے دل میں بدظنی پیدا ہو۔ بادشاہ کو بہرحال اپنے وفادار خادم کا پتہ تھا۔ بدظن نہیں ہوا۔ اس نے کہا ٹھیک ہے تھوڑی دیر دیکھتے ہیں۔ آ جائے گا تو پھر پوچھ لیں گے کہ کہاں گیا تھا۔ اتنے میں دیکھا تو وہ کمانڈر اپنے دستے کے ساتھ واپس آ رہا ہے اور اس کے ساتھ ایک قیدی بھی ہے۔ تو بادشاہ نے پوچھا کہ تم کہاں گئے تھے۔ اس نے بتایا کہ مَیں نے دیکھا کہ آپ کی نظر بار بار سامنے والے پہاڑ کی طرف اٹھ رہی تھی تو مجھے خیال آیا ضرور کوئی بات ہو گی مجھے چیک کر لینا چاہئے، جائزہ لینا چاہئے، تو جب مَیں گیا تو مَیں نے دیکھا کہ یہ شخص جس کو میں قیدی بنا کر لایا ہوں ایک پتھر کی اوٹ میں چھپا بیٹھا تھا اور اس کے ہاتھ میں تیرکمان تھی تاکہ جب بادشاہ کا وہاں سے گزر ہو تو وہ تیرا کا وار آپ پر چلائے۔ تو جو سب باقی سردار وہاں بیٹھے تھے جو بدظنیاں کر رہے تھے اور بادشاہ کے دل میں بدظنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے وہ سب اس بات پر شرمندہ ہوئے۔

تو اس واقعہ سے ایک سبق بدظنی کے علاوہ بھی ملتا ہے کہ ایاز ہروقت بادشاہ پر نظر رکھتا تھا۔ ہر اشارے کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ پس یہ بھی ضروری ہے کہ جس سے بیعت اور محبت کا دعویٰ ہے اس کے ہر حکم کی تعمیل کی جائے اور اس کے ہر اشارے اور حکم پر عمل کرنے کے لئے ہر احمدی کو ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہر حکم کو ماننے کے لئے بلکہ ہر اشارے کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے۔ خلیفہ وقت کی بیعت میں شامل ہوئے ہیں تو ان باتوں پر بھی عمل کرنے کی کوشش کریں جن کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے تو تبھی بیعت کا حق ادا ہو سکتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اسی طرح کے ایک بدظنی کے بارے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ’’دوسرے کے باطن میں ہم تصرف نہیں کر سکتے اور اس طرح کا تصرف کرنا گناہ ہے۔ انسان ایک آدمی کو بدخیال کرتا ہے اور آپ اس سے بدتر ہو جاتا ہے‘‘۔ فرمایا’’کتابوں میں مَیں نے ایک قصہ پڑھا ہے کہ ایک بزرگ اہل اللہ تھے انہوں نے ایک دفعہ عہد کیا کہ مَیں اپنے آپ کو کسی سے اچھا نہ سمجھوں گا۔ ایک دفعہ ایک دریا کے کنارے پہنچے(دیکھا)کہ ایک شخص ایک جوان عورت کے ساتھ کنارے پر بیٹھا روٹیاں کھا رہا ہے اور ایک بوتل پاس ہے اس میں سے گلاس بھر بھر کر پی رہا ہے ان کو دُور سے دیکھ کر اس نے کہا کہ مَیں نے عہد تو کیا ہے کہ اپنے کو کسی سے اچھا نہ خیال کروں مگر ان دونوں سے تو مَیں اچھا ہی ہوں۔ اتنے میں زور سے ہوا چلی اور دریا میں طوفان آیا ایک کشتی آ رہی تھی وہ غرق ہو گئی وہ مرد جو کہ عورت کے ساتھ روٹی کھا رہا تھا اٹھا اور غوطہ لگا کر چھ آدمیوں کو نکال لایا اور انکی جان بچ گئی۔ پھر اس نے اس بزرگ کو مخاطب کرکے کہا کہ تم اپنے آپ کو مجھ سے اچھا خیال کرتے ہومَیں نے تو چھ کی جان بچائی ہے۔ اب ایک باقی ہے اسے تم نکالو۔ یہ سن کر وہ بہت حیران ہوا اور اس سے پوچھا کہ تم نے یہ میرا ضمیر کیسے پڑھ لیا اور یہ معاملہ کیا ہے؟ تب اس جوان نے بتلایا کہ اس بوتل میں اسی دریا کا پانی ہے۔ شراب نہیں ہے اور یہ عورت میری ماں ہے اور مَیں ایک ہی اس کی اولاد ہوں۔ قویٰ اس کے بڑے مضبوط ہیں اس لئے جوان نظرآتی ہے۔ خدا نے مجھے مامور کیا تھا کہ میں اسی طرح کروں تا کہ تجھے سبق حاصل ہو‘‘۔

پھر حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا کہ:’’خضر کا قصہ بھی اسی بنا ء پر معلوم ہوتا ہے۔ سوء ظن جلدی سے کرنا اچھا نہیں ہوتا ‘‘یعنی بدظنی جلدی سے نہیں کرنی چاہئے’’تصرف فی العباد ایک نازک امر ہے اس نے بہت سی قوموں کو تباہ کر دیا کہ انہوں نے انبیاء اور ان کے اہل بیت پر بدظنیاں کیں ‘‘۔ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 568,569جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں : ’’اکثر لوگوں میں بدظنی کا مرض بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ وہ اپنے بھائی سے نیک ظنی نہیں رکھتے اور ادنیٰ ادنیٰ سی بات پر اپنے دوسرے بھائی کی نسبت بُرے بُرے خیالات کرنے لگتے ہیں۔ اور ایسے عیوب اس کی طرف منسوب کرنے لگتے ہیں کہ اگر وہی عیب اس کی طرف منسوب ہوں تو اس کو سخت ناگوار معلوم ہو۔ اس لئے اوّل ضروری ہے کہ حتی الوسع اپنے بھائیوں پر بدظنی نہ کی جاوے اور ہمیشہ نیک ظن رکھا جاوے کیونکہ اس سے محبت بڑھتی ہے۔ اور انس پیدا ہوتا ہے۔ اور آپس میں قوت پیدا ہوتی ہے اور اس کے باعث انسان بعض دوسرے عیوب مثلاً کینہ بغض حسد وغیرہ سے بچا رہتا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد 4صفحہ 215,214جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

اور پھر یہ ہے کہ یہ نیک ظن ہے جس سے عبادتوں میں حسن پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا قرب بھی حاصل ہوتا ہے۔

اس بارے میں ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نصرنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کیا کہ آپؐ نے فرمایا حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ العِبَادَۃ کہ حسن ظن تو حسن عبادت ہے‘‘۔ (سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی حسن الظن حدیث نمبر 6094)

پس جہاں بدظنیاں جہنم میں دھکیلتی ہیں تو حسن ظن عبادت میں شمار ہوتا ہے اور اس معیار کو حاصل کرنے کے لئے ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے۔ بدظنیاں جب پیدا ہوتی ہیں تو اپنی خود ساختہ کہانیوں میں زور پیدا کرنے کے لئے پھر انسان جھوٹ کا بھی سہارا لیتا ہے اور اپنی باتوں میں اس کی بے تحاشا ملونی کر دیتا ہے۔ اور جھوٹ ایک ایسی چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے شرک قرار دیا ہے، شرک کے برابر ٹھہرایا ہے۔ پس ہر احمدی کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ وہ احمدی اس وقت کہلا سکتا ہے جب سچائی پر قائم ہو گا اور ہر قسم کے شرک سے اپنے آپ کو پاک رکھے گا۔

ایک روایت میں آتا ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سچائی فرمانبرداری کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور فرمانبرداری جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور ایک شخص مسلسل سچ بولتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صدیق ہو جاتا ہے۔ اور جھوٹ نافرمانی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نافرمانی دوزخ میں لے جاتی ہے۔ اور ایک شخص مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضو ر کذّاب لکھا جاتا ہے۔ (بخاری کتاب الادب باب قول اللہ تعالیٰ یا ایھا الذین امنو ااتقو اللہ و کونوا۔ ۔ حدیث6094)

اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے بھی کبھی بھی جھوٹ کا سہارا لے کر کوئی کذّاب بننے والا نہ ہو۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :’’قرآن نے جھوٹوں پر لعنت کی ہے اور نیز فرمایا ہے کہ جھوٹے شیطان کے مصاحب ہوتے ہیں۔ اور جھوٹے بے ایمان ہوتے ہیں اور جھوٹوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور صرف یہی نہیں فرمایا کہ تم جھوٹ مت بولو بلکہ یہ بھی فرمایا ہے کہ تم جھوٹوں کی صحبت بھی چھوڑ دو اور ان کو اپنا یار، دوست مت بناؤ اور خدا سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔ اور ایک جگہ فرماتا ہے کہ جب تو کوئی کلام کرے تو تیری کلام محض صدق ہو، ٹھٹھے کے طور پر بھی اس میں جھوٹ نہ ہو‘‘۔ (نور القرآن، روحانی خزائن جلد 9صفحہ 408)

کبھی مذاق کے طور پر بھی جھوٹ نہ ہو۔ پس یہ جو الزام تراشیاں کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ ان کو بھی اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنی چاہئے۔ اپنے ایمان کی بھی حفاظت کریں اور دوسروں کے ایمان کی بھی۔ ان کو ابتلاء میں ڈال کر ان کو ٹھوکر سے بچائیں اور اس جھوٹ کی وجہ سے شیطانوں کو اپنے اوپر نازل ہونے سے بچائیں۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اس بات کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے ایمان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا خلاصہ
  • English اور دوسری زبانیں

  • 26؍ مئی 2006ء شہ سرخیاں

    یہ بھی ضروری ہے کہ جس سے بیعت اور محبت کا دعویٰ ہے اس کے ہر حکم کی تعمیل کی جائے اور اس کے ہر اشارے اور حکم پر عمل کرنے کے لئے ہر احمدی کو ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔

    ہمارے احمدی معاشرہ میں ہر سطح پر یہ کوشش ہونی چاہئے کہ احمدی نسل میں پاک اور صاف سوچ پیدا کی جائے۔ جماعتی نظام کو بھی اور ذیلی تنظیموں کے نظام کو بھی یہ کوشش کرنی چاہئے کہ حسد، بدگمانی، بد ظنی اور دوسرے پر عیب لگانے اور جھوٹ ایسی برائیوں کو ختم کرنے کے لئے مہم چلائی جائے۔

    فرمودہ مورخہ 26؍مئی 2006ء(26؍ہجرت 1385ھش) مسجد بیت الفتوح، لندن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور