جلسہ سالانہ پر ڈیوٹی دینے والے رضاکاران کے فرائض اور مہمان نوازی کے اعلیٰ تقاضے

خطبہ جمعہ 21؍ جولائی 2006ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

آجکل یہاں احمدی ماحول میں جلسہ سالانہ کی رونقیں شروع ہو چکی ہیں، الحمدللہ۔ اللہ تعالیٰ اگلے جمعہ کو ایک اور جلسہ کی برکات دکھانے کے سامان پیدا فرما رہا ہے انشاء اللہ تعالیٰ۔ اور برطانیہ کے مردوزن اس جلسے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ایک بہت بڑی تعداد تو ایسی ہے جو جلسے کی برکات سے فیضیاب ہونے کے لئے تیاریاں کر رہی ہے اور بڑی بے چین ہے اور ایک تعداد کارکنان کی ہے وہ بھی اب خاصی تعداد ہو چکی ہے، عورتیں، مرد اور بچے ملاکر تقریباً پانچ ہزار کارکنان ہیں۔ تو یہ وہ لوگ ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنے والے ہیں اور بے چین ہیں کہ جلد جلسے کی ڈیوٹیاں شروع ہوں اور وہ اس خدمت کو بجا لا سکیں اور ثواب حاصل کرنے والے بنیں جو مہمان نوازی کرنے سے ملتا ہے۔ اور پھر یہ مہمان نوازی تو ایسے مہمانوں کی مہمان نوازی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مہمان ہیں جو اپنے روحانی، علمی اور اخلاقی معیاروں میں بہتری کے لئے جمع ہو رہے ہیں۔ جو خداتعالیٰ کے دین کی باتیں سننے کے لئے جمع ہو رہے ہیں۔ بہرحال یہ جو خدمت کرنے والے ہیں ان میں بچے بھی ہیں، جیسا کہ میں نے کہا جوان بھی ہیں، عورتیں بھی ہیں، بڑی عمر کے لوگ بھی اور تجربہ کار لوگ بھی شامل ہیں اور ہر ایک اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان دنوں میں ایک ہی طرح پر جوش نظر آتا ہے۔

نئی جلسہ گاہ پر وقار عمل شروع ہیں۔ وہاں بڑے جوش سے کام ہو رہے ہیں اور پھر یہ ڈیوٹیاں دینے والے اس انتظار میں ہیں کہ جلد وہ دن آئیں جب جلسہ شروع ہو اور ہم اپنی ڈیوٹیاں شروع کریں کیونکہ بعض ڈیوٹیاں جلسے کے ساتھ ہی شروع ہوتی ہیں۔ اور اس طرح پھر خدمت کرکے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنیں۔ گو بعض قسم کی ڈیوٹیاں جیسا کہ میں نے کہا شروع ہو چکی ہیں۔ جلسہ گاہ کی تیاری کے لئے پہلے سے تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں اور کچھ انشاء اللہ تعالیٰ پرسوں جب معائنہ ہو گا تواس کے بعد سے کافی حد تک شروع ہو جائیں گی اور مکمل طور پر 100فیصد ڈیوٹیاں تو جلسہ کے دن سے ہی شروع ہوتی ہیں۔ اس خطبے میں جو جلسے سے ایک جمعہ پہلے کا خطبہ ہے عموماً برطانیہ کے رہنے والوں، خاص طور پر ان کارکنان کو جو ڈیوٹیاں دینے کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں، ان کو ان کی ڈیوٹیوں کے بارے میں یاددہانی کروائی جاتی ہے کہ آپ نے اپنے فرائض کس طرح ادا کرنے ہیں، کس طرح مہمان نوازی کرنی ہے، کس طرح ان لوگوں کی خدمت کرنی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس نیک مقصد کے لئے جمع ہو رہے ہیں جو ان کو روحانی اور اخلاقی ترقی کی طرف لے جانے والا مقصد ہے۔ گو کہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ تمام کارکنان جن کو کسی بھی ڈیوٹی کے لئے مقرر کیا گیا ہے، بڑے پر جوش ہیں اور ان میں سے بہت سارے خط لکھ کر دعا کے لئے بھی کہتے ہیں اور اگر ملاقات ہو تو زبانی بھی دعا کے لئے کہتے ہیں کہ دعا کریں کہ ہمارے سپرد جو کام ہوا ہے ہم احسن رنگ میں اسے سر انجام دے سکیں اور کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جو مہمانوں کے لئے تکلیف کا باعث ہو یا جلسے کے انتظام میں خرابی کا باعث ہو یا انتظامیہ کے لئے پریشانی کا موجب بنے یا مجھے لکھتے ہیں کہ آپ کے لئے کسی قسم کی تکلیف کا باعث ہو۔ ظاہر ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مہمانوں کی مہمان نوازی میں کوئی بھی خلل یا کوئی بھی خرابی یا ان کے کسی بھی قسم کی تکلیف میں مبتلا ہونے سے مجھے سب سے زیادہ تکلیف کا احساس ہو گا اور ہونا چاہئے کیونکہ U.K کے جلسے کا تصور خود بخود غیر محسوس طور پر مرکزی جلسے کا ہو گیا ہے۔ کیونکہ پاکستان سے ہجرت کے بعد یہی ایک جلسہ ہے جس میں باقاعدگی سے خلیفہ ٔوقت کی شمولیت ہوتی ہے اور جب لوگ اس سوچ اور اس نظریہ کے ساتھ دور دراز ملکوں سے اس جلسے میں شمولیت کے لئے آتے ہیں کہ غیر اعلانیہ طور پر ہی سہی لیکن ہے یہ مرکزی جلسہ، کیونکہ خلیفہ ٔوقت اس میں موجود ہو گا اور خلیفہ ٔوقت کی اس جلسہ میں موجودگی میں وقت گزارنے کا زیادہ سے زیادہ ہمیں موقع ملے گا تو ظاہر ہے پھر مجھے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ان پیارے مہمانوں کی مہمان نوازی کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہئے اور ان کی تکلیف پر تکلیف پہنچنی چاہئے۔

اس لئے اپنی فکر کو دور کرنے کے لئے اس خطبے میں جو جلسے سے ایک ہفتے پہلے کا خطبہ ہے، جیسا کہ میں نے کہا کارکنان کوان کی ڈیوٹیوں کے بارے میں توجہ دلائی جاتی ہے تاکہ وہ مہمانوں کی زیادہ سے زیادہ خدمت کر سکیں۔ یہ توجہ اس لئے بھی دلائی جاتی ہے کہ عموماً تو ہر کارکن بڑے جوش سے اس انتظار میں ہے کہ ہم ڈیوٹیاں دیں لیکن کارکنان کی یاددہانی کے لئے کہ ان کو جو کام پہلے کرنے والے ہیں ان کی یاددہانی ہو جائے اور پھر بہت سارے نئے بھی شامل ہو رہے ہوتے ہیں، ان کو بھی پتہ لگ جائے۔ ان نئے شامل ہونے والوں میں بچے بھی ہوتے ہیں جو بچپن کی عمر سے اطفال کی ڈیوٹیوں میں شامل ہو رہے ہوتے ہیں یا اطفال کی عمر سے خدام کی ڈیوٹیوں میں جو زیادہ ذمہ داری کا کام ہے اس میں شامل ہو رہے ہوتے ہیں، ان کو توجہ دلائی جائے اور نوجوانوں کو بھی اس طرف توجہ ہو جائے، ان کو بھی مہمان نوازی کی اہمیت کا پتہ لگ جائے۔ تو جیسا کہ میں نے کہا ہے عمومی طور پر تو سب جوان، بچے، بچیاں، لڑکے، مرد اپنے فرائض ادا کرنے کے لئے بڑے پر جوش ہیں اور انتظار میں ہیں کہ کب ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ان مہمانوں کی خدمت کا موقع ملے، لیکن یاددہانی معیار کو مزید بہتر کرنے اور خامیوں پر نظر رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

سو اس لئے مختصراً ایک بات کی طرف میں توجہ دلاؤں گا۔ باتیں تو بہت ساری ہیں لیکن اسی بات میں باقی باتیں آ جائیں گی۔ اس ضمن میں جو بڑی ضروری بات ہے، ہمیشہ میں کہا کرتا ہوں کہ مجھے بعض مہمانوں کا علم ہے کہ جب وہ آتے ہیں تو یاتو بڑی توقعات رکھتے ہیں یا طبعاً اتنے حسّاس ہوتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے لئے کسی بھی کارکن یا میزبان کی طرف سے ذرا سی بھی اونچ نیچ نہیں ہونی چاہئے۔ بعض مہمان غلطی پر ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ایک کارکن کا، ایک میزبان کا کام یہ ہے کہ اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھتے ہوئے ہرحال میں مہمان کا خیال رکھے اور اسے کسی بھی قسم کی ناراضگی کا موقع نہ دے، گو کہ بعض صورتوں میں یہ بڑا مشکل کام ہے لیکن جب آپ نے جلسے کے مہمانوں کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا تو پھر ظاہر ہے کہ قربانی بھی کرنی پڑے گی اور جب اپنے جذبات کی قربانی کرتے ہوئے اس مشکل کام کو سر انجام دیں گے تو تبھی اللہ تعالیٰ کے حضور زیادہ ثواب کے حقدار ٹھہریں گے۔

ہم تو اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہیں جس نے مہمان نوازی کے ایسے اعلیٰ معیار قائم فرمائے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ کیااعلیٰ معیار تھے۔ آپؐ کی برداشت اور بلند حوصلگی کا مقابلہ ہی نہیں ہے لیکن وہ ہمارے لئے اسوہ ٔحسنہ ہیں۔ جب آپؐ اپنی امت کو نصیحت کرتے تھے یا اپنے ماننے والوں یا صحابہ کو نصیحت کرتے تھے یا جو نصیحت ہمیں آپؐ نے کی ہے، اس کے اعلیٰ نمونے بھی آپؐ نے دکھائے ہیں۔ دیکھیں جب ایک مہمان آتا ہے، غیر مسلم ہے، سوتا ہے اور زیادہ کھانے کی وجہ سے یا کسی وجہ سے رات کو اپنے پر کنٹرول نہیں رہا یا شرارتاً بستر گندہ کرکے چلا گیا توآپؐ نے برا نہیں منایا بلکہ صبح جب جا کے دیکھا تو خود ہی اس کو دھونے لگے۔

تو جیسا کہ میں نے کہا وہ تو ایک غیر تھا اور پتہ نہیں کس نیت سے یہ خراب کرکے گیا تھا۔ لیکن آپؐ نے اس کی غیر حاضری میں بھی اسے یہ نہیں کہا کہ یہ کیا کر گیا ہے۔ بلکہ صحابہؓ کہتے ہیں کہ باوجود ہمارے کہنے کے کہ ہمیں موقع دیں خود ہی بستر دھوتے رہے کہ نہیں وہ میرا مہمان تھا۔ آپؐ کی یہ بلند حوصلگی اور یہ نمونہ آپؐ نے اس لئے ہمارے سامنے قائم فرمایا ہے کہ آپؐ فرماتے تھے کہ جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے وہ اپنے مہمان کا احترام کرے۔

پس آپ کے مہمان جن کی مہمان نوازی آپ کے سپرد کی گئی ہے، جن کی مہمان نوازی کرنے کا انشاء اللہ تعالیٰ اب موقع مل رہا ہے، یہ تو وہ مہمان ہیں جو اللہ تعالیٰ کی خاطر یہاں جمع ہو رہے ہیں، اس لئے جمع ہو رہے ہیں کہ اللہ کے دین کی باتیں سنیں، اس لئے جمع ہو رہے ہیں کہ خدا کے مسیح نے انہیں بلایا ہے جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے۔ اور اس لئے بلایا ہے کہ سال میں ایک دفعہ جمع ہو اور اپنی تربیت کرو، اپنی روحانیت کو بہتر بناؤ۔ ان سے کسی ایسے انتہائی فعل کی تو توقع نہیں کی جاسکتی جیسا کہ اس کافر نے اس قسم کا گھٹیا کام کیا تھا لیکن اگر کسی مہمان کی طبیعت کی تیزی کی وجہ سے اس کے منہ سے کوئی سخت قسم کے الفاظ نکل جاتے ہیں یا وہ سخت الفاظ استعمال کر لیتا ہے تو کارکنان کو ہمیشہ درگزر سے کام لینا چاہئے اور درگزر سے کام لیتے ہوئے ان کی باتوں کا برا نہیں منانا چاہئے کیونکہ اس سے پھر مزید بدمزگی پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ ہر احمدی سے ہونا چاہئے، چاہے وہ مہمان ہو یا میزبان ہو، مرد ہو یا عورت ہو لیکن ہر دوسرے کا فعل اس کے ساتھ ہے۔ آپ جو کارکنان ہیں، میں آپ سے اس وقت مخاطب ہوں۔ مہمانوں کو تو نصیحت میں بعد میں کروں گا کہ آپ لوگوں کو ان دنوں میں بہت زیادہ وسیع حوصلے کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور اچھے اخلاق کی ایک اعلیٰ مثال قائم کرنی چاہئے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ہمیں فرماتا ہے قُوْلُوْالِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرہ: 84) یعنی لوگوں سے نرمی سے بات کیا کرو۔ تو یہ بات جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتائی ہے، اخلاق کو قائم کرنے کا ایک گُر ہے۔ یہ صرف خاص حالات کے لئے ہی نہیں ہے اور صرف خاص لوگوں سے ہی متعلق نہیں ہے بلکہ ہر وقت ہر ایک سے اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔ جب ایسی حالت پیدا ہو گی تو جہاں معاشرے میں آپس کا تعلق بڑھے گا، وہاں ایمان میں بھی ترقی ہو گی۔ عمومی طور پر جب یہ حکم ہے تو ان دنوں میں خاص طور پر اس حکم کی بہت زیادہ پابندی کرنی چاہئے۔ پس کارکنوں کو چاہئے کہ ہمیشہ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے رہیں۔ جہاں وہ ان اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے مہمان نوازی کا حق ادا کرتے ہوئے ثواب کما رہے ہوں گے اور پھر نتیجۃً یہ بات ان کے ایمان میں ترقی کا باعث بن رہی ہو گی، وہاں اس وجہ سے کہ انہوں نے دوسرے کی غلط بات پر ویسا ہی ردّ عمل ظاہرنہیں کیا، ایسے کارکنان دوسرے شخص کو بھی یہ احساس دلانے کا باعث بنیں گے کہ احمدی معاشرہ نرمی، پیار، محبت اور بھائی چارے کا معاشرہ ہے۔ ہم یہاں اپنی تربیت کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں اور یہ سختی کی باتیں تو اس مقصد سے مکمل طور پر تضاد رکھتی ہیں۔ اتنا تضاد ہے کہ جس طرح بُعد المشرقین ہوتا ہے۔ پس آپ کا، کارکنان کا خاموش رہنا اور سختی کی بات پر بھی نرمی سے جواب دینا بلکہ اپنی طبیعت پر جبر کرتے ہوئے انتہائی خوش خلقی سے جواب دینا دوسرے کو اس کی غلطی کا احساس دلانے کا اور اصلاح کرنے کا ایک عملی جواب ہو گا۔ اور سب سے بڑھ کریہ کہ اعلیٰ اخلاق دکھاتے ہوئے خوش خلقی کا مظاہرہ کرنے والے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میزان میں حسن خلق سے زیادہ وزن رکھنے والی کوئی چیز نہیں ہے

مَا مِنْ شَیْئٍ یُوْضَعُ فِی الْمِیْزَانِ اَثْقَلَ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ۔ (سنن ترمذی کتاب البرّ و الصلہ بابماجاء فی حسن الخلق حدیث نمبر2002)

کہ میزان میں حسن خُلق سے زیادہ وزن رکھنے والی کوئی چیز نہیں ہے اور اچھے اخلاق کا مالک ان کی وجہ سے صوم و صلوٰۃ کے پابند کا مقام حاصل کر لیتا ہے۔ اچھے اخلاق ایک نمازی کا درجہ دے جاتے ہیں، نیکیوں کی توفیق ملتی ہے، پھر اللہ کا خیال آتا ہے اور عملاً پھر ہر نیکی دوسری نیکی کی طرف لے کر جاتی ہے۔ انسان کی نیکیوں کا جو پلڑا ہے اس میں سب سے زیادہ وزن والی چیز حسن خلق ہے۔ ایک ترازو میں اگر نیکیاں رکھی جائیں تو جب نیکیوں کا وزن بڑھتا جائے گا تو سب سے زیادہ وزن ڈالنے والی جو چیز ہو گی وہ اچھے اخلاق ہیں اور نرمی سے مسکراتے ہوئے بات کرنا ہے۔ پس ان دنوں میں باوجود ڈیوٹیوں کے بوجھ کے، باوجود ناقابل برداشت چیزوں کا سامنے کرنے کے، ہمیشہ مسکراتے رہنے کی کوشش کریں اور یہ جو خوش خلقی کی ظاہری حالت کارکنان اپنے پر طاری کریں گے، چاہے دل نہ بھی چاہ رہاہو تب بھی کرنی ہے، تواس سے آپ کے بعض جو فوری رد عمل ہیں وہ بھی کنٹرو ل میں رہیں گے۔

دیکھیں ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مشکلات میں گھرا ہوا تو کوئی شخص نہیں تھا۔ کبھی کوئی پریشانی ہے، کبھی دشمنوں کی پریشانی ہے، کبھی جنگ کی پریشانیاں ہیں، کبھی کسی قسم کی تکلیفیں ہیں اور آپؐ سے زیادہ تو کسی کو تکلیفیں نہیں آئیں، سوچا بھی نہیں جا سکتا اور پھر یہ فکر کہ اللہ تعالیٰ نے جو کام سپرد کیا ہے اس کو مکمل کرنے کی ذمہ داری بھی ادا کرنی ہے۔ اگر دنیاوی لحاظ سے دیکھا جائے تو ہمہ وقت پریشانیوں میں گھرا ہوا انسان ہے اور اُمّت کی فکر اس قدر کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا اور یہ فکر اس لئے ہے کہ ان کی اصلاح کی جو ذمہ واری اللہ تعالیٰ نے ڈالی ہے، وہ کس طرح پوری ہو گی۔ اور جس قدر تقویٰ آپؐ میں تھا و ہ تو کسی اور میں ہو نہیں سکتا اور اس وجہ سے جتنا تقویٰ زیادہ ہو اللہ تعالیٰ کے خوف کا معیار بھی اتنا بڑھ جاتا ہے، وہ بھی اتنا ہی اونچا تھا۔ اس اُمّت کے لئے اپنی فکر کا اظہارکرتے ہوئے اتنی پریشانی تھی کہ آپ خود فرماتے ہیں کہ مجھے تو سورۃ ھود نے بوڑھا کر دیا ہے۔ کیونکہ اسی سورۃ میں ان ذمہ داریوں کا حکم ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اپنی ذمہ داری تو کوئی لے لیتا ہے کہ میں اصلاح کر لوں گا، دوسرے کی ذمہ داری لینا بہت مشکل کام ہے۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (اللہ تعالیٰ کا حکم تھا) یہ ذمہ واری لی اور اس فکر میں لی اور دعاؤں میں وقت گزارتے ہوئے اس کام کو پھر باحسن سرانجام بھی دیا۔ لیکن بہرحال ایک فکر ہمیشہ آپ کو رہی اور پھر اپنے زمانے کے مسلمانوں کی ہی نہیں بلکہ تاقیامت آنے والے مسلمانوں کی فکر بھی آپؐ کو رہی۔

اتنی ذمہ داریوں کے باوجود اور ایسی حالت کے باوجود آپ کے حسن خلق کا معیار کیا تھا کہ ایک صحابی عبداللہؓ بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو تبسم فرمانے والا نہیں پایا۔

کسی کا اتنا ہنستا مسکراتا چہرہ نہیں دیکھاجتنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا۔ تو یہ ہیں معیار ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ پھر آپؐ نے ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص نرمی سے محروم کیا گیا وہ خیر سے بھی محروم کیا گیا۔

پس نیکیاں کمانے اور خیر سمیٹنے کا یہ موقع ہے جو سال کے بعد ہمیں مل رہا ہے، اس میں ہر احمدی کو اور خاص طورپر کارکنان کو کوشش کرنی چاہئے کیونکہ مہمان نوازی کے ساتھ اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مہمانوں کی مہمان نوازی کے ساتھ، مہمان کی سخت بات پر درگزر کرنا اور اپنے آپ کو کنٹرول کرنا بھی حسن خلق ہے، یہ باتیں یقینا آپ کو خیر وبرکت سے بھر دیں گی بلکہ بے شمار خیراور برکتیں اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں دے گا۔

مہمانوں کے نازک جذبات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ’’مہمان کا دل مثل آئینہ کے نازک ہوتا ہے اور ذرا سی ٹھیس لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔ ‘‘ (ملفوظات جلد3صفحہ292جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

پس یہ بھی ایک سبق ہے مہمانوں کی خدمت کرنے والوں کے لئے کہ ایک تو مہمان سے سختی نہیں کرنی۔ دوسرے اگر مہمان میں کوئی کمزوری ہے تو وہ آپ کے اعلیٰ اخلاق کو دیکھ کر اپنی حالت بدلنے کی کوشش کرے گا اور اس طرح آپ کسی کی اصلاح کا باعث بھی بن جائیں گے۔

پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک موقع پر فرمایا کہ’’ دیکھو بہت سے مہمان آئے ہوئے ہیں ان میں سے بعض کو تم شناخت کرتے ہواور بعض کو نہیں۔ اس لئے مناسب ہے کہ سب کو واجب الاکرام جان کر تواضع کرو۔ ‘‘ (ملفوظات جلد 3صفحہ492جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

پس یہ اصول ہمیشہ یاد رکھیں خاص طور پر شعبہ مہمان نوازی اور خوراک والے یہ بات پلّے باندھ لیں کہ کسی مہمان کو یہ احساس نہ ہونے دیں کہ فلاں مہمان کو زیادہ پوچھا گیا اور فلاں کو کم یا فلاں کے لئے بیٹھنے کے لئے زیادہ بہتر جگہیں تھیں اور فلاں کے لئے کم۔ ٹھیک ہے بعض جگہیں بنائی جاتی ہیں، بعضوں کا تقاضا ہے، مریضوں کے لئے، بیماروں کے لئے یا ایسے مہمانوں کے لئے جو کسی خاص ملک کے نمائندے ہیں اور ان کو وہاں زبان کی وجہ سے بٹھانا پڑتا ہے یا پھر ایسے ہیں جو غیر ہیں وہ آتے ہیں لیکن عمومی طور پر جو مہمان نوازی کا اصول ہے، سب مہمانوں سے ایک جیسا سلوک ہونا چاہئے۔

اس دفعہ پاکستان سے اور دوسرے ملکوں سے بھی بہت سے مہمان آئے ہیں اور آ رہے ہیں، جوپہلی دفعہ ملک سے باہر نکلے ہیں۔ تعلیم بھی معمولی ہے یا نہ ہونے کے برابر ہے۔ کئی ایسے ہیں جو مجھے ملے ہیں اور بڑے جذباتی رنگ میں بتایا کہ ہم جلسے میں شامل ہونے کے لئے اور آپ کو ملنے کے لئے آئے ہیں اس لئے ایسے لوگوں کا خاص طور پر خیال رکھیں۔ یہ نہ سمجھیں کہ غریب آدمی ہے تو اس کا خیال نہیں رکھنا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ کسی کے پھٹے ہوئے کپڑے دیکھ کر یہ نہ سمجھو کہ اس کو مہمان نوازی کی ضرورت نہیں، مہمان مہمان ہے۔ کچھ تو آنے والے لوگ اپنے عزیزوں کے پاس ٹھہرے ہوئے ہیں لیکن بعض جماعتی نظام کے تحت بھی ٹھہرے ہوئے ہیں اور جلسے کے تین دنوں میں تو ان سب نے جماعتی مہمان ہی ہونا ہے۔ یہاں کی جو بعض چیزیں ہیں ان سے بعضوں کو ناواقفیت ہو گی، ان کے لئے بالکل نئی ہوں گی تو ان کا خیال رکھیں اور بغیر ان کو کسی قسم کا احساس دلائے ان کی خدمت کریں۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے پاس ان کے عزیز یا دوست مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں وہ شروع میں توبڑے جوش سے گھر میں مہمان لے جاتے ہیں، دعوت بھی دیتے ہیں لیکن بعد میں بدمزگی پیدا ہو جاتی ہے۔ اپنے بہت ہی قریبی عزیزوں اور رشتہ داروں کی خدمت تو کر رہے ہوتے ہیں لیکن جو واقف کار یاکسی حوالے سے کسی دوسرے عزیز سے تعلق رکھنے والا اگر مہمان بن کر ٹھہرا ہوا ہے تو اس سے وہ ان قریبیوں والا سلوک نہیں ہوتا۔ تو یاد رکھیں کہ ان کا بھی اسی طرح خیال رکھیں۔ جب مہمان نوازی کی ذمہ داری اپنے سپرد لی ہے تو ان کا بھی اسی طرح خیال رکھنا ہو گا جس طرح اپنے قریبیوں کا رکھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دوسروں کی تکلیف کا کتنا احساس تھا، ایک روایت میں اس کاذکر آتا ہے کہ گورداسپور کے سفر میں، جو مقدمے کے لئے کیا گیا تھا(کچھ جمعے پہلے میں نے اس سفر کی تفصیل بتائی تھی) بہت سے احباب بھی آپ ؑ کے ساتھ تھے اور اس مقدمے کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے آنے کو حضور علیہ السلام یہ سمجھتے تھے کہ یہ میری وجہ سے آئے ہیں اور اس لحاظ سے میرے مہمان ہیں۔ بابو غلام محمد صاحب آپؑ کے ایک صحابی تھے وہ کہتے ہیں کہ جب ہم گورداسپور پہنچے، سردی کے دن تھے تو رات کو کھانے کے بعد حضورؑ نے ہم سب کو حکم دیا کہ تھکے ہوئے ہو سو جاؤ۔ کہتے ہیں ہم سب اپنے اپنے بستر بچھا کر لیٹ گئے تو کچھ دیر بعد ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام خاموشی سے اٹھے اور لالٹین ہاتھ میں لے کر ہاتھ سے ٹٹول ٹٹول کر جو سوئے ہوئے لوگ تھے ہر ایک کے بستر کا جائزہ لینے لگے اور جس کے بستر کو بھی ہلکا دیکھا(ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، باہر سردی تھی) اس پر اپنے بستر سے کوئی نہ کوئی چادر یا کمبل یا موٹا کپڑا لا کر ڈال دیتے تھے۔ کہتے ہیں کہ اس طرح چھ سات لوگوں کو اپنے بستر کی مختلف چیزیں دے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ڈھانکا۔ تو آپؑ کو یہ فکر اس لئے تھی کہ یہ لوگ آپؑ کی خاطر آئے ہوئے ہیں۔ (تاریخ احمدیت لاہور صفحہ210)

پس آج ہمارا فرض ہے کہ اس سنت کو قائم رکھتے ہوئے آپؑ کی خاطر، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خاطر آئے ہوئے لوگوں کی بھرپور مہمان نوازی کریں۔ اس دفعہ پاکستان میں تو برٹش ایمبیسی نے کافی کھلے دل کا مظاہرہ کیا ہے اور کافی لوگوں کو ویزے دئیے ہیں، اللہ ان کو جزا دے۔ اب ہمارے مہمان نوازی کے نظام کا بھی اور یہاں کے لوگوں کا بھی یہ فرض ہے کہ جہاں بھی آنے والے مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں ان کی مہمان نوازی کے اعلیٰ نمونے قائم کریں۔ ہمارے دیہاتوں کے لوگ آج بھی بہت مہمان نواز ہیں۔ شہروں سے رابطوں کی وجہ سے بعض برائیاں بھی ان میں آگئی ہیں، بعض اچھی باتیں ختم بھی ہو گئی ہیں لیکن ابھی بھی مہمان نوازی کا جو وصف ہے دیہاتوں میں قائم ہے اور یہ دنیا میں تقریباً ہر جگہ ہے۔ اس لئے ان آنے والے مہمانوں کو اپنی مہمان نوازی کے نمونوں سے بتائیں کہ اعلیٰ اخلاق اور مہمان نوازی کا جو خُلق ہے صرف پاکستان یا دوسرے غریب ملکوں کے دیہاتوں کے رہنے والوں کا خُلق نہیں ہے بلکہ اس زمانے کے امام کو ماننے کے بعد یہ خلق ہر احمدی کا خاصہ ہے، چاہے وہ یورپ میں رہتا ہو یا امریکہ میں رہتا ہو یا دنیا کے کسی بھی ملک میں رہتا ہو اور اخلاقی قدریں باوجود معاشرتی روایات اور معیار زندگی مختلف ہونے کے وہی ہیں جو اسلام نے ہمیں سکھائی ہیں، جس کے نمونے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور پھر آپؐ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں دکھائے ہیں۔ پس اعلیٰ اخلاق اور مہمانوں کے ساتھ مسکراتے ہوئے اور خوش خلقی سے بات کرنا یہ ان دنوں میں خاص طور پر آپ کی ایک پہچان ہونی چاہئے۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ اس دفعہ انشاء اللہ یہ جلسہ نئی جگہ حدیقۃ المہدی میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس علاقے کے لوگوں کو بعض فکریں تھیں، جب زمین لی گئی تو بہت زیادہ اس طرف سے اپوزیشن بھی ہوئی تھی، جو جماعتی رابطوں کی وجہ سے دور کرنے کی کوشش کی گئی اور تقریباً دور ہو گئیں اور پھر انصاراللہ کی اس علاقے میں جو چیریٹی واک ہوئی ہے اس نے بھی کافی اثر کیا اور اس علاقے کے لوگوں کے شبہات کو دور کر دیا ہے۔ پس اس کو مزید مضبوط کرنا بھی آپ لوگوں کا، خاص طور پر ڈیوٹی دینے والوں کا کام ہے۔ یہ خیال رکھیں کہ ٹریفک بھی صحیح طرح کنٹرول ہو رہا ہو، لوگوں کی صحیح رہنمائی بھی ہو رہی ہو، علاقے کے لوگ بھی اگر آئیں تو ان پر بھی نیک اور اچھا اثر قائم ہو، تاکہ وہ آئندہ وقت میں بھی کسی قسم کے مسائل کھڑے نہ کریں۔ اس لئے بعض دفعہ ڈیوٹی دینے والے اوورایکسائیٹڈ (Over excited) ہو جاتے ہیں، دیکھتے ہی نہیں کہ سامنے کون ہے۔ کسی وجہ سے ٹریفک کنٹرول کرتے کرتے بعضوں سے زیادتی ہو بھی جاتی ہے تو اس بارے میں بڑی احتیاط کریں اور پہلے سے بڑھ کر اپنے نمونے دکھائیں۔ عموماً تو اللہ کے فضل سے سارے ہی بڑے ٹرینڈ (Trained) ہیں اور اچھی ڈیوٹیاں دینے والے ہیں۔ اس دفعہ بعض ڈیوٹیاں تقسیم بھی ہوئی ہیں۔ گزشتہ سال بھی، رشمور (Rushmore) میں جلسے کی وجہ سے ہوئی تھیں۔ کچھ رہائش کا اور کچھ کھانے کے انتظامات کا انتظام اسلام آباد میں بھی ہو گا۔ اس لئے اس بات کا خیال رکھیں کہ اسلام آباد کے ماحول میں بھی اپنی ان روایات کو قائم رکھنا ہے جو ہمیشہ سے ہمارے کارکنان کا خاصّہ رہی ہیں۔ وہاں کے لوگوں کو بھی کسی قسم کی شکایت نہ ہو۔ عموماً وہاں لمبے عرصے تک بعض لوگوں کو شکایتیں ہوتی رہتی ہیں، کچھ تو تنگ کرنے کے لئے بھی کرتے ہیں لیکن ہمیں کسی کو بھی موقع نہیں دینا چاہئے۔ ہو سکتا ہے کہ دو جگہوں پر تقسیم ہونے کی وجہ سے بعض صیغوں کے جو افسران ہوں ان سے ہر وقت رابطہ نہ ہو سکے کہ وہ اسلام آباد میں نہ ہوں، تو اس صورت میں ہر کارکن کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ وہ ذمہ دار ہے اور پہلے سے بڑھ کر اپنے فرائض ادا کرنے کی کوشش کرے۔

اللہ تعالیٰ آپ سب کو توفیق دے کہ سب احسن رنگ میں جلسہ کی ڈیوٹیاں ادا کر سکیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس جلسے پر آنے والے مہمانوں کو آپ لوگوں میں سے کسی سے بھی کسی قسم کی کوئی شکایت نہ ہو۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہمارا سب سے بڑا ہتھیار دعا ہے اس لئے ہمیشہ ہر وقت اپنے آپ کو دعا میں مصروف رکھیں اور اپنے کسی اچھے کام کو اپنے تجربے یا علم پر محمول نہ کریں کہ یہ کام میرے تجربے یا علم کی وجہ سے ہوا ہے بلکہ ہر اچھا کام جو ہم میں سے کوئی بھی انجام دیتا ہے یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے ہے۔ اس لئے اس کے فضلوں کو سمیٹنے کے لئے اس کے حضور جھکنا بہت ضروری ہے۔

پس ان دنوں میں جہاں آنے والوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ بھی دعاؤں میں وقت گزاریں وہاں کارکنان کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اپنے اس خدا کو کبھی نہ بھولیں جو ہمیشہ ہماری مدد فرماتا رہا ہے۔ افسران صیغہ جات بھی یاد رکھیں کہ وہ اس افسری کے ذریعہ سے قوم کی خدمت پر مامور کئے گئے ہیں۔ جہاں انہوں نے اپنے کام کا جائزہ لینا ہے وہاں تربیتی لحاظ سے اپنے کارکنان کا بھی جائزہ لیتے رہنا ہے اور ہر وقت یہ کوشش کرنی ہے کہ مہمانوں کے لئے زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیدا کرنے والے ہوں اور دعاؤں پر زور دیتے ہوئے اپنے کام انجام دینے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔

اس وقت ہمارے پاس ایک معزز مہمان ہیں۔ مہمانوں کی مہمان نوازی کا ذکر چل رہا ہے تو اللہ تعالیٰ نے آج ایک معزز مہمان دئیے ہیں، یہ الحاج ڈاکٹر احمدتیجان کابا صاحب ہیں جو سیرالیون کے صدر مملکت ہیں۔ وہ یہاں دورے پر آئے ہوئے تھے تو انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ جمعہ ہمارے ساتھ مسجد میں پڑھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی نیک خواہشات کو پورا کرے اور ان کو جزا دے اور ان کے ملک میں امن اور سلامتی کے مستقل حالات پیدا کرے۔ اور ان دنوں میں یہ بھی دعا کریں، دعائیں تو اب شروع ہو جانی چاہئیں، جلسے کے دنوں میں بھی ہوتی رہیں گی، اللہ تعالیٰ تمام دنیا کو اپنی پہچان کرواتے ہوئے اور ایک دوسرے کی پہچان کرواتے ہوئے امن اور آشتی اور صلح کے ساتھ رہنے کی توفیق عطا کرے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا خلاصہ
  • English اور دوسری زبانیں

  • 21؍ جولائی 2006ء شہ سرخیاں

    جلسہ کے دنوں میں باوجود ڈیوٹیوں کے بوجھ کے اور باوجود ناقابل برداشت چیزوں کا سامنا کرنے کے ہمیشہ مسکراتے رہنے کی کوشش کریں۔

    فرمودہ مؤرخہ 21؍ جولائی 2006ء (21؍ وفا 1385ھش) مسجد بیت الفتوح، لندن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور