مہمانوں اورمیزبانوں کے آداب وفرائض اورجلسہ

خطبہ جمعہ 28؍ جولائی 2006ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

آج شام سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ برطانیہ کا جلسہ سالانہ باقاعدہ شروع ہو رہا ہے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں جلسہ سالانہ کا آغاز تو عملاً جلسہ کی تیاریوں سے شروع ہو جاتا ہے، جب کارکنوں میں یہ احساس پیدا ہوجائے کہ جلسہ آ رہا ہے اور ہم اس کی تیاری کر رہے ہیں اور پھر مہمانوں کی آمد کے ساتھ یہ احساس بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس دفعہ مہمان کچھ جلدی آنے شروع ہو گئے تھے اس لئے جلسے کی رونقیں بھی جلد نظر آنے لگ گئی تھیں۔ جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبے میں کہا تھا کہ اس دفعہ پاکستان وغیرہ ممالک سے بہت بڑی تعدادایسے مہمانوں کی آئی ہے جو کہ پہلی دفعہ ملک سے باہر نکلے ہیں یا یہاں آئے ہیں اور ایک خاصی تعداد سادہ مزاج اور دیہاتی لوگوں کی ہے اس لئے ان کی مہمان نوازی میں اس سادگی کی وجہ سے فرق نہیں آنا چاہئے۔ لیکن ان آنے والے مہمانوں کو بھی میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ ایک خاص مقصد لے کر اس جلسے میں شامل ہو رہے ہیں، آپ لوگوں کے ذہنوں میں یہ چیز راسخ ہونی چاہئے، یہ بات ہر وقت ہمیشہ رہنی چاہئے کہ آپ کے یہاں آنے کا مقصد کسی دنیاوی میلے میں شامل ہونا نہیں بلکہ اپنی روحانی ترقی کے لئے آئے ہیں۔ آنے والے مہمانوں میں ایک بڑی تعداد اور اکثریت تو یہاں UK میں رہنے والے احمدیوں کی ہے پھر ایک خاصی تعداد جرمنی اور یورپ کے ممالک کے رہنے والے احمدیوں کی ہے جو یہاں آتے ہیں ` پھر اس کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے احمدی ہیں جن میں سے ایک بڑی تعداد، جیسا کہ میں نے کہا، پہلی دفعہ یہاں آئی ہے اور یہاں کے حالات اور بعض طور طریقوں سے ناواقف ہیں۔ کچھ ہر سال آنے والے مہمان بھی ہیں جن کے عزیز رشتہ دار یہاں ہیں۔ پھر دنیا کے مختلف ممالک جن میں افریقہ، ایشیا، روس وغیرہ کے ممالک شامل ہیں، ان میں سے احمدی بھی اور بعض مہمان بھی ہمارے جلسے میں شمولیت کے لئے آئے ہوئے ہیں۔ تو جہاں تک غیر از جماعت مہمانوں کا تعلق ہے ان کی مہمان نوازی کرنا صرف باقاعدہ ڈیوٹی پر مقرر کارکنان کا کام نہیں ہے بلکہ جن کے ساتھ وہ مہمان آئے ہیں وہ بھی ان کی ضروریات کا خیال رکھیں کیونکہ یہ آپ کی ذمہ داری ہے، باقی جو احمدی مہمان ہیں ان کو میں ان کی بعض ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ یہاں UK کے رہنے والے احمدی اور اسی طرح یورپ کے ممالک کے رہنے والے احمدیوں کے بعض رشتہ دار، دوست، واقف کار مختلف شعبہ جات میں ڈیوٹی دے رہے ہوں گے۔ تو آپ لوگ جو اس مقصد کے لئے آئے ہیں کہ اس روحانی ماحول سے فائدہ اٹھائیں اور جلسے کی برکات سے فیضیاب ہوں تو آپ کا یہ کام ہے کہ اپنی توجہ اسی مقصد پر مرکوز رکھیں۔ نہ تو آپ کو ان تین دنوں میں کسی بھی واقف کار کارکن سے غیر ضروری توقعات ہونی چاہئیں کہ وہ آپ کی رائج طریق سے ہٹ کر مہمان نوازی یا خدمت کرے، نہ ہی آپ ان کارکنوں کو مجبور کریں۔ بعض دفعہ دیکھا گیا ہے کہ اپنے واقف کار کارکن سے غلط توقعات وابستہ کر لیتے ہیں اور جب وہ اپنی ڈیوٹی کی مجبوری کی وجہ سے وہ توقعات پوری نہ کر سکیں تو پھر شکوے، شکایتیں شروع ہو جاتی ہیں کہ دیکھیں جی فلاں رشتہ دار نے، فلاں میرے قریبی نے میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ تو جہاں میزبانوں کو، مہمانوں کی مہمان نوازی کرنے والوں کو، مختلف قسم کی ڈیوٹیاں دینے والوں کو یہ حکم ہے کہ مہمان کی عزت اور احترام اور اکرام کریں، انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچائیں، ان سے خوش خلقی سے پیش آئیں، وہاں مہمان کو بھی یہ حکم ہے کہ تم بھی بلاوجہ خدمت کرنے والوں پر، گھر والوں پر جن کے گھر تم ٹھہرے ہوئے ہو، کسی قسم کا بوجھ نہ بنو، ان سے غلط توقعات وابستہ نہ کرو۔ نظام جماعت نے ان ڈیوٹی دینے والوں کی بعض حدود مقرر کی ہوئی ہیں ان حدود سے نکل کر غلط طور پر ان کی حمایت لینے کی کوشش نہ کرو اور ان کام کرنے والوں کے احسانمند ہو ں اور ان سے خوش خلقی سے پیش آنے کی کوشش کریں۔ اسی طرح جو لوگ لندن میں باہر کے ممالک سے آ کر یا یہاں دوسرے شہروں سے آ کر اپنے رشتہ داروں کے پاس، عزیزوں کے پا س ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی ان کے احسان مند ہوں اور ان کی مہمان نوازی پر شکر گزاری کے جذبات رکھیں۔ یہ خوش خلقی، لحاظ اور احسانمندی اور شکر گزاری جب مہمانوں کی طرف سے بھی ہو گی تو تب اس معاشرے کی بنیاد پڑے گی جو خدا کی خاطر ایک دوسرے سے تعلق جوڑنے اور اللہ اور رسول کے احکامات پر عمل کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کا معاشرہ ہوتا ہے جو ان تعلیمات پر عمل کرنے والا ہوتا ہے۔

دیکھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اکرام ضیف یا مہمان نوازی یا مہمان کے عزت و احترام کا اس قدر خیال رکھتے تھے کہ کہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ناراض مہمان کو منانے کے لئے اس کے پیچھے تیز تیز جا رہے ہیں تاکہ اس کو پکڑ کر لائیں اور اسے منائیں۔ کہیں رات کو موسم کی خرابی کے باوجود، شدت کے باوجود، مہمان کے لئے دودھ لے کر آ رہے ہیں۔ کہیں مہمانوں کے لئے اپنے گھر کے تمام بستر بھی دے کر بیوی بچوں سمیت سردی میں رات گزا ر رہے ہیں۔ کہیں مہمانوں کو فرماتے ہیں کہ تکلّف نہ کیا کرو جو ضرورت ہو اس کا اظہار کر دو تاکہ تکلیف نہ ہو۔ کبھی لنگر خانے والوں کو فرما رہے ہیں کہ مختلف علاقے کے لوگوں کے مزاج اور خوراک کی عادات مختلف ہوتی ہیں ان کا خیا ل کیا کرو اور ان سے پوچھ کر ان کے مزاج کے مطابق خوراک تیار کر دیا کرو۔ بعض مہمانوں کے پان وغیرہ تک کاخیال فرما رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ہم خوش ہوتے ہیں جب مہمان تشریف لائیں اس لئے مہمان بھی بوجھ نہ سمجھا کریں۔ اور یہ سب نمونے آپؑ اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ پر چلتے ہوئے دکھاتے ہیں اور آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتی نظام بھی یہی کوشش کرتا ہے کہ مہمان نوازی کی اعلیٰ مثالیں قائم کرے اور انفرادی طور پر جن لوگوں کے گھروں میں مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی یہی جذبہ دکھاتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہاں میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جلسے کے دنوں میں کیونکہ رش بہت زیادہ ہوتا ہے، بہت بڑی تعداد ہوتی ہے اور آجکل تو دنیائے احمدیت کے ہر ملک سے مختلف طبقات سے لوگ آتے ہیں اور نظام جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر ایک کی مہمان نوازی کرتا ہے۔ کوشش یہ ہوتی ہے کہ بعض قوموں کے جو معززین ہوتے ہیں ان کی رہائش اور خوراک کے انتظام کو جس حد تک آرام دہ بنایا جا سکتا ہے بنایا جائے کہ یہ بھی حکم ہے کہ جب تمہارے پاس کسی قوم کے معزز لوگ آئیں تو ان کو عزت دو اور احترام سے پیش آؤ۔ لیکن اس کے علاوہ احمدیوں کی بھی ان کے مزاج کے مطابق مہمان نوازی ہوتی ہے۔

جماعتی نظام کے تحت اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا لنگر اتنا وسیع ہو گیا ہے کہ مختلف طبائع، مزاج اور علاقوں کے رہنے والوں کے لئے ان کی پسند کی خوراک مہیا کرنے کی کوشش کی جا تی ہے لیکن پھر بھی انتظام میں کمیاں رہ سکتی ہیں۔ اگر کسی وقت کسی کی صحیح طور پر مہمان نوازی نہ ہو سکے، کہیں کمی رہ جائے، مزاج کے مطابق کھانا نہ ملے تو مہمان کا کام نہیں ہے کہ برا منائے۔ اگر مزاج کے مطابق نہیں ہے تو پھر بھی صبر شکر کرکے، بغیر انتظامیہ پر یا کام کرنے والے کارکنان پر اعتراض کئے، کھانا کھا لینا چاہئے یا پھر بغیر اعتراض کے وہاں سے آ جائیں اور کسی کارکن کو یہ احساس نہ ہونے دیں کہ تمہارا کھانا میرے پسند یا معیارکے مطابق نہیں ہے اس لئے میں نہیں کھا رہا۔ بازار میں، یہاں جلسے کے دنوں میں بازار لگتے ہیں، مختلف قسم کی چیزیں ملتی ہیں وہاں جا کر اپنی خواہش پوری کر سکتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مہمان کو میزبان کی طرف سے جو کچھ پیش کیا جائے وہ خوشی سے کھائے۔ جیسا کہ میں نے بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کس طرح مہمانوں کا خیال رکھتے تھے لیکن ان دنوں میں جب رش ہوتا تھا، جلسے کے دن ہیں، کسی خاص مقصد کے لئے لوگ آئے ہوتے ہیں، آپؑ فرمایا کرتے تھے کہ تمام مہمانوں سے ایک جیسا سلوک کرو، اگر کسی کی خاص ضرورت ہے تو وہ اس ضرورت کو خود پوری کرے۔

چنانچہ ایک واقعہ کا یوں ذکر ملتا ہے۔ مولوی غلام حسن صاحب پشاوری اور ان کے ہمراہیوں کے لئے خاص طور پر چند کھانوں کا انتظام کرنے پر آپؑ نے فرمایا:’’میرے لئے سب برابرہیں، اس موقع پر امتیاز اور تفریق نہیں ہو سکتی۔ سب کے لئے ایک ہی قسم کا کھانا ہونا چاہئے، یہاں کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہے۔ مولوی صاحب کے لئے الگ انتظام ان کی لڑکی کی طرف سے ہو سکتا ہے اور وہ اس وقت میرے مہمان ہیں اور سب مہمانوں کے ساتھ ہیں۔ اس لئے سب کے لئے ایک ہی قسم کا کھانا تیار کیا جائے۔ خبردار کوئی امتیاز کھانے میں نہ ہو‘‘۔ (سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مرتبہ یعقوب علی عرفانی ؓ جلد اول صفحہ157)

تو ایسے مہمانوں کے لئے یہ نصیحت ہے جو بعض دفعہ کھانے میں کسی قسم کی کمی کا احساس دلاتے ہیں۔ پھر بعض لوگ رہائش پر بھی اعتراض کر دیتے ہیں کہ ہمیں علیحدہ رہنے کی عادت ہے، ہمارے لئے علیحدہ انتظام ہونا چاہئے۔ تو جماعتی نظام کے تحت اگر آپ آئے ہیں تو پھر اس کو بخوشی قبول کرنا چاہئے جو جماعت کا انتظام ہے۔ ہر ایک کے لئے علیحدہ علیحدہ رہائشیں مقرر نہیں کی جا سکتیں۔ کوئی بڑا اور چھوٹا نہیں ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے خبردار کوئی امتیاز نہ ہو۔ تو مہمانوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ انتظامیہ بھی بعض دفعہ مجبور ہوتی ہے۔ اصل مقصد وہ روحانی غذا ہے جوکھانے کے لئے آپ یہاں آتے ہیں اس کی طرف توجہ دیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتی نظام اب اتنا فعال ہے کہ مختلف ذریعوں سے کمیوں اور خامیوں کی نشاندہی ہو رہی ہوتی ہے۔ انتظامیہ خود اس طرف نظر رکھتی ہے اس لئے اگر کبھی کوئی ایسا موقع آ جائے تو ناراض نہ ہوں اور جیسا کہ میں نے کہا خوش خلقی کے مظاہرے کریں۔ ہر وقت ہر احمدی سے ان دنوں میں خوش خلقی کے مظاہرے ہونے چاہئیں۔ یہ جو {قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا} (البقرۃ:84) کا حکم ہے جس کا گزشتہ خطبہ میں میں نے کارکنوں کو توجہ دلاتے ہوئے ذکر کیا تھا، اس کے مخاطب آپ جلسے میں شامل ہونے والے بھی ہیں بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ زیادہ مخاطب ہیں کیونکہ اکثریت تعداد تو شاملین کی ہوتی ہے۔ اگر ان شامل ہونے والوں کے اخلاق کے معیار کم ہو جائیں تو ماحول کا امن زیادہ خراب ہونے کا امکان ہے۔ شامل ہونے والے جہاں اپنے غصے کی وجہ سے یا کسی ایسی بات کی وجہ سے جو چبھنے والی اور کاٹ دار ہو، طنزیہ ہو، کارکنوں کے لئے تکلیف کا باعث بن رہے ہوتے ہیں وہاں ان کارکنوں کی ڈیوٹی دینے کی صلاحیتوں پربھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اور پھر انتظامیہ کے لئے بھی مشکلات کھڑی کرتے ہیں کیونکہ ہر ایک کا مزاج ایک جیسا نہیں ہوتا، باوجود اس کے کہ انتظامیہ بھی کوشش کرتی ہے اور یہی ان کی ہر وقت کوشش ہوتی ہے، میں بھی یاد دہانی کرواتا ہوں کہ کارکن ڈیوٹی دینے والے، یا دینے والیاں، عورتیں بچیاں کسی مہمان کی طرف سے کسی قسم کی بداخلاقی پر اسی طرح کے رد عمل کا اظہار نہ کریں۔ لیکن پھر بھی بعض دفعہ ایسی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ تو جلسہ میں شامل ہونے والے مہمان کی ذرا سی بے احتیاطی اور جذبات پر کنٹرول نہ ہونا پورے ماحول کو خراب کر دیتا ہے۔ پھر ایسے شخص کے، جس نے ڈیوٹی دینے والے سے بدمزگی کی ہوتی ہے، حمایتی بھی پیدا ہوتے ہیں جو بعض دفعہ چھوٹی سی بات کو اور زیادہ بھڑکا دیتے ہیں۔ اس طرح ڈیوٹی دینے والے کے بھی حمایتی پیدا ہو جاتے ہیں اور ایک گروہ بندی کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ پھرشامل ہونے والے بعض ایسے ہوتے ہیں اور اِکّا دُکّا یہ واقعات ہو بھی جاتے ہیں کہ یہاں آپس میں پرانی رنجشوں کے حوالے سے ایک دوسرے پر طنزیہ فقرے چست کرنے سے لڑائی جھگڑے تک نوبت آ جاتی ہے۔ تو ایسے گھٹیا کام کرنے والے چاہے ایک دو گھر ہی ہوں، پورے ماحول کو خراب کر دیتے ہیں۔ اس لئے اس بات کا خیال رکھیں کہ جلسے کے ماحول میں کسی قسم کی ایسی بدمزگی پیدا نہ ہو جو ماحول پر برا اثر ڈالنے والی ہو۔ اگر ایسے ہی جذبات بھڑکے ہوئے ہیں اور کنٹرول نہیں ہے تو بہتر ہے پھر جلسے میں شامل نہ ہوں۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس جلسے کو خالصۃًلِلّہی جلسہ قرار دیا ہے اس لئے ہر آنے والا یہاں اس سوچ کے ساتھ آئے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو سننا اور انہیں اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خواہش کے مطابق اپنی زندگی گزارنی ہے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر رنجشیں کبھی پیدا نہیں ہونے دینی اور اپنی برداشت کو بڑھانا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اسلام کا ایک حسن یہ بھی ہے کہ انسان بیکار اور فضول باتوں کو چھوڑ دے۔ پس ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہم یہاں اسلام سیکھنے اور اسے اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کے عہد کی تجدید کرنے کے لئے آئے ہیں۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدیوں کو مٹانے کے لئے ایک دوسرے سے خوش اخلاقی اور حسن سلوک سے پیش آنا بھی ایک بڑا ذریعہ ہے۔ پس ان دنوں میں کوئی اگر بری بات بھی دیکھیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادکے پیش نظر صبر کریں اور ہمیشہ ہر ایک سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔ اس سے بھی بدیاں دور ہوں گی، اس سے بھی آپ کے اخلاق مزید اَور بہتر ہوں گے۔

بعض دفعہ بعض باتیں تکلیف کا باعث بن جاتی ہیں اور خاص طور پر جب ایسی جگہ ہوں جہاں بہت سے لوگ ہوں تو شرمندگی کی وجہ سے انسان زیادہ غصے میں آ جاتا ہے، زیادہ غصے کا اظہار کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن اس ماحول کو پرامن رکھنے کے لئے ہر ایک کو حوصلے اور صبر سے کام لینا چاہئے کیونکہ بات جتنی بڑھائیں، ماحول کو خراب کرتے چلے جائیں گے۔ اس ضمن میں ایک لطیفہ میں آپ کو سناتا ہوں جس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بعض دفعہ کس طرح اپنے صحابہ ؓ کے اس قسم کے جوش کو جو غصہ کی وجہ سے ہوتا تھا دھیما کیا کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ’’ایک دفعہ قادیان میں آوارہ کتے بہت ہو گئے، ان کی وجہ سے شور و غل رہتا تھا۔ پیرسراج الحق صاحب نے بہت سے کتوں کو زہر دے کر مار ڈالا۔ اس پر بعض لڑکوں نے پیرصاحب کو چڑانے کے واسطے ان کا نام پیر کُتیّ مار رکھ ردیا۔ پیر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں شاکی ہوئے کہ لوگ مجھے کُتیّ مار کہتے ہیں۔ حضرت صاحبؑ نے تبسم کے ساتھ فرمایا کہ اس میں کیا حرج ہے۔ دیکھیں حدیث شریف میں میرا نام(حضرت مسیح موعود ؑ اپنے بارے میں بتاتے ہیں ) سؤر مار لکھاہے، کیونکہ مسیح کی تعریف میں آیا ہے کہ یَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ پیرصاحب اس پربہت خوش ہو کر چلے آئے‘‘۔ اور ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ (ذکرحبیب حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ صفحہ 163-162)

تو دیکھیں کس خوبصورتی سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کے غصے کو دور فرما دیا۔ پس اس ماحول میں جوکہ خالص روحانی ماحول تصور کیا جاتا ہے اگر کوئی غصہ دلانے والی بات سنیں بھی تو ٹال کر ماحول کو خوشگوار بنانے کی کوشش کریں۔ یہاں اس نئی جگہ پر حدیقۃ المہدی میں یہ ہماراپہلا جلسہ ہو رہا ہے انشاء اللہ تعالیٰ۔ اب شروع ہو گیا ہے، اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے کامیاب کرے۔ اور شامل ہونے والے جتنا زیادہ اعلیٰ اخلاق اور قانون اور قواعد کی پابندی کا مظاہرہ کریں گے اُتنا زیادہ انشاء اللہ تعالیٰ ہمارے آئندہ جلسوں کے یہاں انعقاد کے لئے آسانیاں پیدا ہوں گی۔ پس جہاں یہ ایک سچے احمدی مسلمان کی ذاتی ذمہ داری ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کا خیال رکھے وہاں یہ جماعتی ذمہ داری بھی بن گئی ہے کہ آپ کی ذرا سی حرکت، چاہے وہ جلسہ گاہ کے اندر ہو یا اس پورے حدیقہ کے کسی بھی کونے میں ہو یا باہر سڑک پر ہو، وہ صرف آپ کے اخلاق کا عکس نہیں دکھا رہی ہوتی بلکہ اس سے اس علاقے میں جماعتی تصویر ابھر رہی ہو گی۔ پس آپ سب کا یہ فرض ہے کہ کسی بھی رنگ میں کوئی ایسا موقع پیدا نہیں ہونے دینا جس سے علاقے میں کسی قسم کا غلط تصور جماعت کے بارے میں ابھرے، نہ ہی آپس کے معاملات میں، نہ ہی قریب کی آبادیوں کے ساتھ معاملات میں۔ بعض دفعہ ٹریفک وغیرہ کی وجہ سے بدمزگی ہو جاتی ہے، کبھی بھی موقع نہیں دینا کہ رش کی وجہ سے ٹریفک متاثر ہو یا آپ کسی قاعدہ قانون کو توڑنے والے ہوں۔ غلطی اگر دوسرے کی بھی ہو تو تب بھی آپ معافی مانگ لیں۔ یہی بات ہے جو آپ کے اعلیٰ اخلاق کا تصور اس علاقے میں قائم کرے گی۔ اس سال علاقے کے بہت سے لوگوں کی نظریں آپ پر ہیں۔ پس اپنے اعلیٰ اخلاق سے ان لوگوں کے دلوں میں اپنے لئے، جماعت کے لئے اور اسلام کے لئے پیار اور محبت کے جذبات پیدا کردیں۔ ایک اور بات جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں، پاکستان سے یا دوسرے ممالک سے جو احباب آئے ہیں وہ یاد رکھیں کہ سوائے ان کے جو اپنے بچوں یا انتہائی قریبی عزیزوں کے ہاں ٹھہرے ہوئے ہیں باقی جو مہمان بھی ہیں وہ جلسے کے بعد جلد از جلد واپس اپنے وطن جانے کی کوشش کریں۔ جماعتی نظام کے تحت ان کی مہمان نوازی تو ہو رہی ہے لیکن مہمانوں کو بھی یہ حکم ہے کہ بلاوجہ کا بوجھ نہ بنو۔ بعض لوگ اس لئے بھی لمبا ٹھہر جاتے ہیں کہ رہنے کی جگہ تو جماعت نے دے دی ہے، کچھ عرصہ ٹھہر کر کچھ کام وغیرہ کر لیں گے تاکہ کرایہ پورا ہو جائے یا کچھ پیسے کما لئے جائیں۔ یہ سوچ جلسے کی نیت سے آنے والوں کی نہیں ہونی چاہئے۔ اگر یہ سوچ رکھنی ہے تو جماعت کے مہمان نہ ہوں پھر اپنا انتظام خود کریں۔ لیکن اس صورت میں بھی ویزے کی مدت ختم ہونے سے بہت پہلے واپس چلے جانا چاہئے۔ اول تو یہ سوچ ہی غلط ہے، اکثریت نے جو ویزے لئے ہوئے ہیں وہ یہ لکھ کر دے کر آئے ہیں کہ جلسے کے لئے جا رہے ہیں کیونکہ جس سے بھی مَیں نے پوچھا ہے اس نے یہی بتایا ہے۔ ایمبسیی والوں نے آپ لوگوں پر اعتماد کرکے ویزا دیا ہے اور یہ اعتماد اس لئے ہے کہ جماعت کی ایک ساکھ ہے۔ پس اس بات کا بھی آپ لوگوں نے خیال رکھنا ہے کہ آپ کی ایسی حرکت سے جس کی قانون آپ کو اجازت نہیں دیتا جماعت کی بدنامی ہوتی ہے۔ پس کوشش کریں کہ جس للّہی مقصد کے لئے آپ نے سفر اختیار کیا ہے اس کو ہی صرف اور صرف مقصد رہنے دیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے۔ اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے، یہ دعا کریں کہ اے اللہ ہم تجھ سے اس سفر میں بھلائی اور تقویٰ چاہتے ہیں۔ تو ہمیں ایسے نیک عمل کرنے کی توفیق دے جو تجھے پسند ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کی خاطر کئے گئے سفر جب ان دعاؤں سے بھرے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضلوں سے آپ کی جھولیاں بھر دے گا۔ کیونکہ جلسے میں شامل ہونے والوں کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی بے شمار دعائیں کی ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان کا وارث بنائے۔

ان دنوں میں جب آپ اس نیک مقصد کو پیش نظر رکھ کر دعائیں کر رہے ہوں گے اور کوئی دنیاوی لالچ یا خواہش آپ کے پیش نظر نہیں ہو گی اور اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے اور پیچھے رہنے والے سب عزیزوں کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا کر رہے ہوں گے کہ اے ہمارے خدا! میں پناہ مانگتا ہوں سفر کی سختیوں سے، ناپسندیدہ اور بے چین کرنے والے مناظر سے، مال اور اہل و عیال میں برے نتیجے سے اور غیر پسندیدہ تبدیلی سے۔ تو خلوص نیت سے کی گئی یہ دعا آپ کے سفر کو ہمیشہ آسان رکھے گی اور آپ کے گھروں کو بھی خوشیوں سے بھرے گی۔ اور وہ سکون اور چین اور آنکھوں کی ٹھنڈک آپ کو اپنے گھروالوں اور اولاد کی طرف سے عطا کرے گی جو دنیا کمانے کی خواہش سے آپ کو حاصل نہیں ہو سکتی۔ پس ان دنوں میں اپنے آپ کو ہر وقت ہر قسم کی دعاؤں اور نیک خواہشات سے بھرے رکھنے کی کوشش کریں۔ جلسہ کے پروگراموں کو غور سے اور توجہ سے سنیں، نمازوں کے اوقات میں 100فیصد حاضری نمازوں کی ہونی چاہئے کیونکہ اس ماحول کے آداب اور تقدس کا یہی تقاضا ہے۔

جیسا کہ مَیں نے پہلے کہا تھا۔ اب دوبارہ بھی دوہراتا ہوں کہ ان دنوں کو بالخصوص ذکر الٰہی اور درود شریف پڑھتے ہوئے گزاریں کیونکہ آج امت مسلمہ پر مخالفین اسلام طاقتوں کی طرف سے ظالمانہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں، ان کا مداوا آپ کی دعاؤں نے ہی کرنا ہے۔ پس اس لحاظ سے بھی بہت دعائیں کریں۔ کچھ اور بھی بعض ہدایات میں بتاتا ہوں۔ نعروں کے ضمن میں یاد رکھیں کہ ہر کوئی اپنی مرضی سے نعرے نہ لگائے۔ اگر کسی بات پر دل سے کوئی نعرہ پھوٹتا ہے، ایساجوش ظاہر ہوتا ہے تو بے شک لگا لیں لیکن پھر یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ایک آدمی کی دیکھا دیکھی ہر کونے سے، ہر بلاک سے نعروں کی آوازیں آنے لگ جائیں۔ اگر جذبات ہوں جو خود بخود ظاہر ہو رہے ہوں تب تو نعرہ لگانے میں کوئی حرج نہیں لیکن نقل نہیں ہونی چاہئے۔ جماعتی مرکزی انتظام کے تحت نعرے کا انتظام ہوتا ہے۔

جیسا کہ مَیں نے کہا تھا ان ایام میں پورے التزام سے نمازوں کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دیں۔ صرف جلسہ سننے والے ہی نہیں بلکہ کارکنان کو بھی میں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بھی، جہاں بھی وہ ڈیوٹیاں دے رہے ہیں وہاں نماز کی ادائیگی کا انتظام کریں۔ ان کے افسران کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں اور جو جلسے کے نظام کا شعبہ تربیت ہے وہ بھی اس کی نگرانی رکھے۔

پھر بچوں کے لئے علیحدہ مارکی ہے جس میں بچوں والی مائیں اپنے بچوں کو لے کر بیٹھتی ہیں تو اس مارکی میں ہی بچوں کو لے کر بیٹھیں، مین (Main) مارکی میں نہ عورتیں اور نہہی مرد کسی بچے کے ساتھ آئیں۔ کیونکہ بعض اوقات چھوٹے بچے ہیں شرارت کرتے ہیں، شور مچاتے ہیں یا روتے ہیں جس کی وجہ سے دوسروں کی نمازوں میں بھی وہ سکون نہیں رہتا یا جلسے کی کارروائی اگر ہو رہی ہے تو اس میں وہ سکون نہیں ہوتا، صحیح طرح سن نہیں سکتے، تو اس بات کا خیال رکھیں۔ پھر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض دفعہ مین مارکی میں بچوں کی کسی شرارت کی وجہ سے یا شور کی وجہ سے اگر کوئی دوسرا بچوں کو روکے، چاہے آرام سے ہی روک رہا ہو تو ماں باپ کو غصہ آ جاتا ہے۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ ہر قسم کی بدمزگی سے بچنے کے لئے بچوں والے، بچوں کے لئے مختص جگہ میں بیٹھیں۔ یہ بات جلسے پر آنے والے بھی یاد رکھیں۔ بہت سارے جیسا کہ میں نے کہا نئے بھی آئے ہوئے ہیں اور بازار والے بھی یاد رکھیں اور ہمیشہ کی طرح شعبہ تربیت بھی یاد رکھے کہ بازار جلسہ کے دوران بند رہنے چاہئیں اور کوئی کسی چیز کی تلاش میں ادھر ادھر نہ پھرے بلکہ جلسہ کے دوران جلسے کی کارروائی کو مکمل طور پر سنے۔ پھر فضول گفتگو سے اجتناب کریں، یہ پہلے میں بتا چکا ہوں، آپس میں باتیں وقار سے کریں، نرمی سے کریں۔ پھر یہ کہ بعض دفعہ نوجوانوں کی ٹولیاں ہوتی ہیں جو ٹولیاں بنا کر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر بڑی اونچی اونچی باتیں بھی ہو رہی ہوتی ہیں، قہقہے بھی لگ رہے ہوتے ہیں تو خاص طور پر ایسے حالات میں جب قریب ایسے لوگ بیٹھے ہوں جو آپ کی زبان نہ سمجھتے ہوں تو پھر بعض دفعہ بدمزگی کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لئے خیال رکھنا چاہئے۔

پھر گاڑیوں کو پارک کرتے وقت خیال رکھیں۔ اس دفعہ لگتا ہے یورپ سے بھی کافی تعداد آئی ہے۔ اس لئے کاریں بھی کافی ہوں گی تو پارکنگ کا خاص طور پر خیال رکھیں۔ کبھی اپنی گاڑیاں ایسی جگہ پر پارک نہ کریں جہاں منع کیا جائے۔ ٹریفک کے قواعد کو ملحوظ رکھیں یہ میں نے پہلے بھی بتا یا تھا، جلسہ گاہ میں شعبہ پارکنگ کے منتظمین سے مکمل تعاون کریں اور مکمل طور پر جیسا کہ مَیں کہہ چکا ہوں قانون اور قواعد کی پابندی کریں۔ پھر صفائی کا خیال رکھیں، ٹائیلٹس کی صفائی ہے، دوسری صفائی ہے۔ یہ صفائی بھی ایمان کا حصہ ہے۔ یہاں اس جلسہ گاہ میں تو عارضی انتظام ہے اس لئے خاص طور پر اس بات کا خیال رکھیں کیونکہ یہ صفائی بھی اور جتنی ہم ہر بات میں توجہ دیں گے ہمارے لئے آئندہ آسانیاں پیدا کرے گی اور جتنی گندگی پھیلائیں گے اتنی مشکلات پیدا ہوں گی۔

پھر خواتین گھومنے پھرنے کی بھی زیادہ شوقین ہوتی ہیں اس لئے وہ زیادہ احتیاط کریں۔ نہ اپنے علاقے میں، نہ باہر پھریں۔ اگر اس علاقے کو دیکھنے کی خواہش ہے، نیا علاقہ ہے، نئی جگہ ہے، بڑا وسیع رقبہ ہے، سیرکرنے اور پھرنے کو دل چاہتا ہے تو جلسہ کی کارروائی کے بعد جو وقت ہے اس میں بیشک پھریں، جلسے کے دوران نہیں۔ لیکن یہ یاد رکھیں کہ اس دوران بھی جب باہر نکلیں تو پردے کا ضرور خیال رکھیں۔ سوائے اس کے جو احمدی نہیں ہیں، جو کسی احمدی کے ساتھ آئی خواتین ہیں، ان کا تو پردہ نہیں ہوتا۔ احمدی خواتین بہرحال پردے کا خیال رکھیں۔ ان لوگوں کو بھی میں نے دیکھا ہے، غیروں کو بھی اگر اپنے ساتھ لانے والیاں اپنی روایت کے متعلق بتائیں تو وہ ضرور لحاظ رکھتی ہیں۔ اکثر میں نے دیکھا ہے ہمارے فنکشنز میں سکارف، دوپٹہ یا شال وغیرہ اوڑھ کر آتی ہیں۔ تو یہ ان غیروں کی بھی بڑی خوبی ہے۔ صرف ان کو تھوڑا سا بتانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن بہرحال جیسا کہ میں نے کہا ہے احمدی خواتین بہرحال جب باہر نکلتی ہیں تو پردے میں ہونی چاہئیں اور اگر کسی وجہ سے پردہ نہیں کر سکتیں تو پھر ایسی خواتین میک اپ وغیرہ بھی نہ کریں۔ سر بہرحال ڈھانپا ہونا چاہئے کیونکہ یہ خالص دینی ماحول ہے، اس میں حتی الوسع یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ان تمام باتوں پر عمل کریں جس کا ہم سے دین تقاضا کرتا ہے۔

پھر میں دوبارہ کارکنوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ مہمانوں کی عزت کریں، اکرام کریں، خدمت کریں، اس کو اپنا شعار بنائیں، محبت اور خلوص سے ہر قربانی کرتے ہوئے خدمت کریں۔ مہمان بھی جیسا کہ میں نے کہا ہے نظم وضبط کا خیال رکھیں اور منتظمین جلسہ سے پورا پورا تعاون کریں، کبھی کوئی شکایت کا موقعہ نہ دیں، کھانے کا ضیاع نہ کریں۔ کھانے کے آداب میں بھی یہی ہے کہ جتنا کھانا ہو اتنا پلیٹ میں ڈالا جائے، جلسے کے دنوں میں کھانا بہت ضائع ہوتا ہے اور یہاں اس علاقے میں پھر آپ جب کھانا ضائع کریں گے تو ظاہرہے باہر گند ڈالیں گے۔ اکثر کوڈَسٹ بِن میں پھینکنے کی عادت نہیں ہوتی اس سے پھر صفائی متاثر ہوتی ہے۔ تو مہمان اس بات کا خیال رکھیں۔ لیکن جو کارکنان کھانے کی ڈیوٹی پر متعین ہیں وہ بہرحال مہمانوں کو جب سمجھائیں کھانا لیتے ہوئے تو نرمی سے بات کریں، سختی نہ کریں۔ کھانا کھانے والے کوشش یہ کریں کہ جس جگہ کھانے کھاتے ہیں وہیں اپنے برتن نہ پھینک آیا کریں، ڈسپوزایبل (Disposable) برتن اور چیزیں استعمال ہوتی ہیں، ان کو ڈسٹ بن میں پھینک کر آیا کریں تاکہ ساتھ ساتھ صفائی ہوتی رہے۔ کارکنان پر بھی زیادہ بوجھ نہ پڑے۔ مہمان جو آئے ہوئے ہیں وہ خود اپنی صفائی کا خیال رکھیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ جماعتی جلسوں میں شرکت انہیں میلہ سمجھ کر نہیں کرنی چاہئے کہ میل ملاقات اور خرید و فروخت یا فیشن کا اظہار مقصود ہو۔ اور عورتوں کے لئے خاص طور پر، اکٹھی ہوئیں، باتیں کیں اور بس قصہ ختم ہو گیا۔ تو اس بات کا خیال رکھیں اور انتظامیہ بھی خیال رکھے کہ اس جلسے کو کبھی میلے کی صورت نہ اختیارکرنے دیں۔ یہ وہ بات ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جلسے کا ایک خاص مقصد قرار دیتے ہوئے خاص طور پر اس سے روکا ہے۔

پھر یہ ہے کہ بعض دفعہ باہر سے آنے والے اپنے واقف کاروں سے شاپنگ وغیرہ کے لئے قر ض لیتے ہیں، اس قرض لینے سے بھی پرہیز کریں کیونکہ یہ قناعت ختم کرنے والی چیز ہے۔ اور پھر ہاتھ کھلتا چلا جاتا ہے اور یہ احساس ہی نہیں رہتا کہ یہ قرض پھر واپس بھی کرنا ہے اور کس طرح کرنا ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ جس مقصد کے لئے آپ آئے ہیں وہ خزانہ حاصل کرنے کی کوشش کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بانٹنا چاہتے ہیں۔ حفاظتی نقطۂ نگاہ سے نگرانی کرنا اور اپنے ماحول پر گہری نظر رکھنا ہر ایک کا کام ہے بلکہ فرض ہے۔ اجنبی آدمی اگر ہو، کوئی مشتبہ آدمی دیکھیں، کسی پر شک ہو تو نگرانی رکھیں۔ چھیڑ چھاڑ نہ کریں لیکن نگرانی رکھیں اور انتظامیہ کو اگر اطلاع دینے کا وقت ہو تو اطلاع دیں۔ نہیں تو کم از کم اس کے ساتھ رہیں۔ کیونکہ اگر دوسرے کو یہ احساس ہو جائے کہ میری نگرانی ہو رہی ہے تو وہ شرارت نہیں کرتا۔ اور اسی لئے چیکنگ کا انتظام، ٹکٹوں اور کارڈز کا انتظام بڑا سخت کیا گیا ہے۔ اس پر بھی کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے بلکہ بڑی خوش دلی سے اس انتظام کے تحت ہر ایک کو اپنی چیکنگ کروانی چاہئے۔

پھر یہ ہے کہ جلسہ سالانہ کے جو انتظامات ہیں وہاں مختلف جگہوں پر داخلے سے قبل، ایک تو جلسہ گاہ میں آتے ہوئے ہے ناں، جہاں بھی جانا ہے اگر چیکنگ ہوتی ہے تو جو بھی کارکنان ہیں ان سے آرام سے چیکنگ کروا لیا کریں اور کارکنان بھی چیکنگ کرتے ہوئے نرمی سے، پیار سے توجہ دلائیں کہ اپنا کارڈ چیک کروا کر جائیں۔ قیمتی چیزیں جو ساتھ لائے ہوئے ہیں یا کوئی نقدی وغیرہ ہے اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود ہر ایک کی ہے، انتظامیہ ذمہ دار نہیں ہو گی۔ اور سب سے ضروری بات یہ ہے جیسا کہ میں پہلے بھی دو دفعہ کہہ چکا ہوں کہ ہرگز عام دنیاوی جلسوں یا میلوں کی طرح اس جلسہ کو نہ سمجھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ’’یہ جلسہ ایسا تو نہیں ہے کہ دنیا کے میلوں کے طرح خواہ نخواہ التزام اس کا لازم ہے۔ بلکہ اس کا انعقاد صحت نیت اور حسن ثمرات پر موقوف ہے‘‘۔ (شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد6صفحہ395)

پھر فرماتے ہیں کہ’’یہ دنیا کے تماشوں میں سے کوئی تماشا نہیں۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ362جدیدایڈیشن نظارت اشاعت ربوہ)

پھر آپؑ دعا دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ’’بالآخر میں دعا پر ختم کرتا ہوں کہ ہر یک صاحب جو اس للّہی جلسہ کے لئے سفر اختیار کریں، خداتعالیٰ ان کے ساتھ ہو اور ان کو اجر عظیم بخشے اور ان پر رحم کرے اور ان کی مشکلات اور اضطراب کے حالات ان پر آسان کر دیوے اور ان کے ہم ّو غم دور فرما وے اور ان کو ہر یک تکلیف سے مخلصی عنایت کرے اور ان کی مرادات کی راہیں ان پر کھول دیوے اور روز آخرت میں اپنے ان بندوں کے ساتھ ان کو اٹھا وے جن پر اس کا فضل و رحم ہے اور تا اختتام سفر ان کے بعد ان کا خلیفہ ہو۔ اے خدا! اے ذُوالْمَجْدِ وَالْعَطَا اور رحیم اور مشکل کشا یہ تمام دعائیں قبول کر اور ہمیں ہمارے مخالفوں پر روشن نشانوں کے ساتھ غلبہ عطا فرما کہ ہر یک قوت اور طاقت تجھ ہی کو ہے۔ آمین ثم آمین‘‘۔ (مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ282جدید ایڈیشن)

پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعاؤں سے ہر ایک نے حصہ لینا ہے تو ان دنوں کو اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے والے دنوں میں بدل دیں۔ اللہ کرے سب میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہوں جو ہماری اس نئی جگہ حدیقۃ المہدی کے نام کی مناسبت سے ہم میں سے ہر ایک میں یہ روح پیدا کر دے کہ حقیقت میں ہم نے مسیح و مہدی کے خوبصورت باغ کا خوبصورت، خوشبو دار اور خوش رنگ پھول اور پھل بننا ہے۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق دے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا خلاصہ
  • English اور دوسری زبانیں

  • 28؍ جولائی 2006ء شہ سرخیاں

    جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والوں کی ذمہ داریاں اور انکے لئے ضروری ہدایات۔

    حدیقۃ المہدی(برطانیہ) میں پہلا جلسہ سالانہ۔

    فرمودہ مؤرخہ 28؍ جولائی 2006ء (28؍ وفا 1385ھش)حدیقۃ المہدی، ہمپشائر، برطانیہ

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور