برکات رمضان

خطبہ جمعہ 21؍ ستمبر 2007ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


تشہد، تعوذ و سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے ان آیات کی تلاوت فرمائی:

اَیَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ۔ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ۔ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ۔ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَھُوَ خَیْرٌ لَّہٗ۔ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔ شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ۔ فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ۔ وَمَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ۔ یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ۔ وَلِتُکْمِلُوْا الْعِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُوااللّٰہَ عَلٰی مَا ھَدٰکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ۔ (البقرۃ:186-185)

ان آیات کا ترجمہ ہے کہ گنتی کے چند دن ہیں پس جو بھی تم میں سے مریض ہو یا سفر پر ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اتنی مدت کے روزے دوسرے ایّام میں پورے کرے۔ جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں ان پر فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ پس جو کوئی بھی نفلی نیکی کرے تو یہ اس کے لئے بہت اچھا ہے اور تمہارا روزے رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے، اگر تم علم رکھتے ہو۔ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن انسانوں کے لئے ایک عظیم ہدایت کے طور پر اتارا گیا اور ایسے کھلے نشانات کے طور پر جن میں ہدایت کی تفصیل اور حق و باطل میں فرق کر دینے والے امور ہیں۔ پس جو بھی تم میں سے اس مہینے کو دیکھے تو اس کے روزے رکھے اور جو مریض ہویا سفر پر ہو تو گنتی پوری کرنا دوسرے ایّام میں ہو گا۔ اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا، اور چاہتا ہے کہ تم سہولت سے گنتی کو پورا کرو اس ہدایت کی بنا پر اللہ کی بڑائی بیان کرو جو اس نے تمہیں عطا کی اور تاکہ تم شکر کرو۔

گزشتہ خطبہ میں رمضان میں روزوں کی فرضیت کا ذکر کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے روزے فرض قرار دئیے ہیں جو ایک مجاہدہ ہے اور مجاہدہ ہی ہے جس سے تقوٰی میں ترقی ہوتی ہے اور خداتعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اگلی آیات میں جو مَیں نے تلاوت کی ہیں اس کی تفصیلات بھی بیان کی ہیں۔ یہ گنتی کے چند دن جو تمہاری تربیت کے لئے، تمہیں مجاہد بنانے کے لئے رکھے گئے ہیں تمہارے لئے اس لئے فرض کئے گئے ہیں کہ انسان کی زندگی کا جو مقصد ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا عابد بننا، اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر ظلم نہیں کرتا گو کہ روزہ ہر مسلمان پر فرض ہے اور یہ ایک مجاہدہ بھی ہے بعض دفعہ تکلیف بھی اٹھانی پڑتی ہے لیکن ظلم نہیں ہے کہ روزہ تقویٰ کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ لیکن جو طاقت رکھتے ہیں ان کے لئے اور اگر عارضی طور پر بعض مجبوریوں کی وجہ سے تم روزہ نہیں رکھ سکتے مثلاً کوئی ہنگامی سفر آ گیا ہے، کوئی ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے روزے رکھنا مشکل ہے تو فرمایا فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ۔ پھر دوسرے دنوں میں یہ تعداد پوری کرو۔ پس کسی کو یہ خیال نہیں ہونا چاہئے کہ مَیں بیمار ہو گیا ہوں یا سفر آ گیا ہے تو اس رعایت کی وجہ سے کہ ان دنوں میں روزے نہ رکھو ایسی حالت میں روزے معاف ہو گئے ہیں۔ نہیں، اگر ایمان میں ترقی چاہتے ہو، اگر اللہ تعالیٰ کا تقویٰ دل میں ہے، اگر اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہو تو جب صحت ہو جائے یا جو روزے ہنگامی سفر کی وجہ سے ضائع ہوئے ہیں، چھوڑے گئے ہیں، انہیں رمضان کے بعد پورا کرنا ضروری ہے اور یہی ایک متقی کی نشانی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو سہولت دی ہے اس سہولت سے فائدہ کا جواز اس وقت تک ہے جب تک وہ حالت قائم ہے جس کی وجہ سے سہولت ملی ہے۔ لیکن یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ بیماری بھی ایسی ہو، حقیقی تکلیف دہ بیماری ہو جس کی وجہ سے روزہ رکھنا مشکل ہو، بہانے نہ ہوں۔ جس طرح جن لوگوں کا کام ہی سفر ہے مثلاً ڈرائیور ہے یا کاروبار کے لئے یا ملازمت کی وجہ سے دوسری جگہ جانا پڑتا ہے لمبا سفر کرنا پڑتا ہے، تو ان کے لئے سفر نہیں ہے۔ یہ مَیں اس لئے کھول کر بتا رہا ہوں کہ ایک طبقے میں خاص طور پر جن ملکوں میں موسم کی شدت ہوتی ہے بلاوجہ روزے نہ رکھنے کا جواز تلاش کیا جاتا ہے۔

پس اللہ تعالیٰ نے روحانی اور اخلاقی کمزوریوں سے بچانے کا ان دنوں میں ہمیں موقع عطا فرمایا ہے اس لئے اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے حقیقی بندوں کا، اُن بندوں کا جو اس کی رضا کے راستے تلاش کرتے ہیں، خود ہی خیال رہتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی مریض اور مسافر کو سہولت دے دی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ جو روزے کی طاقت نہ رکھتے ہوں ان کے لئے فدیہ ہے، پھر وہ ایک مسکین کو روزہ رکھوائے۔ لیکن جو بعد میں روزے پورے کر سکتے ہیں وہ بھی اگر فدیہ دیں تو ٹھیک ہے، ایک نفل ہے، تمہارے لئے بہتر ہے۔ لیکن جب وہ حالت دوبارہ قائم ہو جائے، صحت بحال ہو جائے یا جو وجہ تھی وہ دور ہو جائے توپھر رمضان کے بعد روزے رکھنا ضروری ہے باوجود اس کے کہ تم نے فدیہ دیا ہے، یہی چیز ثواب کا باعث بنے گی۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ’’وہ لوگ ہیں جن کو کبھی امید نہیں کہ پھر روزہ رکھنے کا موقع مل سکے ‘‘۔ دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ بیمار جن کی عارضی بیماری ہے دور ہو گئی۔ ایک وہ بیمار جن کی بیماری مستقل ہے اور بعد میں ان کو روزہ رکھنے کا موقع نہیں مل سکتا۔ تو فرمایا کہ’’ جن کو کبھی امید نہیں کہ روزہ رکھنے کا موقع مل سکے، مثلاً ایک نہایت بوڑھا، ضعیف انسان یا ایک کمزور حاملہ عورت جو دیکھتی ہے کہ بعد وضع حمل بسبب بچے کو دودھ پلانے کے وہ پھر معذور ہو جائے گی اور سال بھر اسی طرح گزر جائے گا ایسے اشخاص کے واسطے جائز ہو سکتا ہے کہ وہ روزہ نہ رکھیں کیونکہ وہ روزہ رکھ ہی نہیں سکتے اور فدیہ دیں باقی اَور کسی کے واسطے جائز نہیں کہ صرف فدیہ دے کر روزہ کے رکھنے سے معذور سمجھا جا سکے‘‘۔ (بدر جلد6نمبر43 مورخہ 24؍اکتوبر 1907ء صفحہ3)

پس یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ’ صرف فدیہ دے کر‘، اس کا مطلب یہ ہے کہ عام حالات میں، چھوٹی یا عارضی بیماری میں بھی فدیہ دیا جا سکتا ہے اور یہ ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نفل کے طور پر تمہارے لئے بہتر ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے لئے روزہ فرض کیا ہے لیکن اسلام کیونکہ دینِ فطرت ہے اس لئے یہ سختی نہیں کہ کیونکہ تم نے روزہ نہیں رکھا اس لئے تمہارے اندر تقویٰ پیدا نہیں ہو سکتا، تم اللہ تعالیٰ کی رضا کبھی حاصل نہیں کر سکتے۔ فطری مجبوریوں سے فائدہ تو اٹھاؤ لیکن تقویٰ بھی مدِّنظر ہو کہ ایسی حالت ہے جس میں روزہ ایک مشکل امر ہے تو اس لئے روزہ چھوڑا جا رہا ہے، نہ کہ بہانے بنا کر۔ پھر اس کا مداوا اس طرح کرو کہ ایک مسکین کو روزہ رکھواؤ۔ یہ نہیں کہ بہانے بناتے ہوئے کہہ دو کہ مَیں روزہ رکھنے کی ہمت نہیں رکھتا، پیسے میرے پاس کافی موجود ہیں، کشائش ہے، غریب کو روزہ رکھوا دیتا ہوں۔ ثواب بھی مل گیا اور روزے سے جان بھی چھوٹ گئی۔ نہ یہ تقویٰ ہے اور نہ اس سے خداتعالیٰ کی رضا حاصل ہو سکتی ہے۔ اگر نیک نیتی سے ادا نہ کی گئی نمازوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نمازیوں کے منہ پر ماری جاتی ہیں تو جو فدیہ نیک نیتی سے نہ دیا گیا یا بدنیتی سے دیا گیا ہو گا، یہ بھی منہ پر مارا جانے والا ہو گا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ’’ فدیہ تو… اس جیسوں کے واسطے ہو سکتا ہے جو روزہ کی طاقت کبھی بھی نہیں رکھتے۔ ورنہ عوام کے واسطے جو صحت پا کر روزہ رکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں صرف فدیہ کا خیال کرنا اباحت کا دروازہ کھول دینا ہے‘‘ یعنی ایسے خود ہی ایسے راستے کھول دیں گے جہاں جائز ناجائز کی وضاحتیں شروع ہو جائیں گی، تشریحیں شروع ہو جائیں گی، فرمایا کہ’’ جس دین میں مجاہدات نہ ہوں وہ دین ہمارے نزدیک کچھ نہیں۔ اس طرح سے خداتعالیٰ کے بوجھوں کو سر پر سے ٹالنا سخت گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ میری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں ان کو ہی ہدایت دی جاوے گی‘‘۔ (بدر جلد 6 نمبر43مورخہ24؍اکتوبر1907ء صفحہ 3)

پس جب انسان بہانوں سے نرمی اور سہولت کے راستے تلاش کرتا ہے تو دین سے ہٹتا چلا جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَھُوَ خَیْرٌ لَّہٗ۔ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌلَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔ پس جو شخص دلی خوشی سے اور فرمانبرداری کرتے ہوئے کوئی نیک کام کرے گا تویہ اس کے لئے بہتر ہو گا اور اگر تم علم رکھتے ہو تو تم سمجھ سکتے ہو کہ تمہارا روز ے رکھنا، تمہارے لئے بہتر ہے۔

ایک حدیث میں آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ علاوہ روحانی ترقی کے روزہ تمہاری جسمانی صحت کے لئے بھی ضروری ہے اور آجکل کی سائنس اور ڈاکٹرز بھی یہ ہی کہتے ہیں۔ پس ہر مسلمان کا فرض ہے کہ ہمیشہ پہلے اس حکم کو ذہن میں رکھے کہ تقویٰ کے لئے روزہ کی فرضیت کی گئی ہے اور تقویٰ کے لئے مجاہدہ ضروری ہے۔ خدا کی رضا کے حصول کے لئے اس کی راہ میں قربانی ضروری ہے۔ ہاں یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہماری حالتوں اور ہماری مجبوریوں کو دیکھتے ہوئے جو سہولتیں ہمیں مہیا فرمائی ہیں ان سے اس حد تک فائدہ اٹھائیں جو جائز ہے اور اللہ تعالیٰ کی حدو د کو توڑنے والے نہ بنیں۔ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

’’وہ شخص جس کا دل اس بات سے خوش ہے کہ رمضان آگیااور مَیں اس کا منتظر تھا کہ آوے اور روزہ رکھوں اور پھروہ بوجہ بیماری کے روزہ نہیں رکھ سکا تو وہ آسمان پر روزے سے محروم نہیں ہے۔ اس دنیا میں بہت لوگ بہانہ جُو ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جس طرح اہلِ دنیا کو دھوکا دے لیتے ہیں ویسے ہی خدا کو فریب دیتے ہیں۔ بہانہ جُو اپنے وجود سے آپ مسئلہ تراش کرتے ہیں اور تکلّفات شامل کر کے ان مسائل کو صحیح گردانتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ صحیح نہیں۔ تکلّفات کا باب بہت وسیع ہے۔ اگر انسان چاہے تو اس (تکلّف) کی رو سے ساری عمر بیٹھ کرنما ز پڑھتا رہے اور رمضان کے روزے بالکل نہ رکھے۔ مگر خدا اس کی نیت اور ارادہ کو جانتاہے جو صدق اور اخلاص رکھتاہے۔ خداتعالیٰ جانتاہے کہ اس کے دل میں درد ہے اور خدا تعالیٰ اسے ثواب سے زیادہ بھی دیتاہے کیونکہ دردِ دل ایک قابل قدر شے ہے۔ حیلہ جُو انسان تاویلوں پر تکیہ کرتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ تکیہ کوئی شے نہیں ‘‘۔ فرمایا کہ’’ جب مَیں نے چھ ماہ روزے رکھے تھے تو ایک دفعہ ایک طائفہ انبیاء کا مجھے (کشف میں ) ملا اور انہوں نے کہا کہ تُو نے کیوں اپنے نفس کو اس قدر مشقّت میں ڈالا ہوا ہے، اس سے باہر نکل‘‘۔ فرماتے ہیں کہ’’ اسی طرح جب انسان اپنے آپ کو خدا کے واسطے مشقّت میں ڈالتاہے تو وہ خودماں باپ کی طرح رحم کرکے اسے کہتاہے کہ تُو کیوں مشقّت میں پڑا ہوا ہے ‘‘۔ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 564جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

تو یہ ہے اصل روح جس کے تحت روزہ رکھنا چاہئے۔ اور ہر مومن کو، ہراحمدی کو یہ روح اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ یہ جذبہ اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ بہانہ جُوئیوں سے ہمیشہ بچنا چاہئے۔ اللہ کرے کہ ہم سب اس تعلیم اور اس روح کو سمجھنے والے ہوں۔ اس عظیم ہدایت سے فیض پانے والے ہوں جو قرآن کریم کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے اتاری ہے، جس میں ایسی باتیں ہیں جو بغیر کسی مقصد کے بیان نہیں کی گئیں۔ اللہ تعالیٰ کا ہر حکم بڑا بامقصد ہے، ہمارے فائدہ کے لئے ہے بلکہ اس نے ان تمام باتوں کا احاطہ کیا ہوا ہے جو روحانی اور اخلاقی قدریں بڑھانے والی ہیں۔ قرآن کریم میں ایسی باتیں بھی بیان ہوئی ہیں جن کا دنیاوی علوم سے بھی واسطہ ہے۔ ان کے لئے بھی یہ تعلیم ہر قسم کے دلائل اور براہین اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔

قرآن کریم جہاں سابقہ دینوں پر اپنی برتری ثابت کرتا ہے وہاں اس کے علوم و معرفت کے خزانے موجودہ اور آئندہ علوم کا بھی احاطہ کئے ہوئے ہیں۔ کونسا علم ایسا ہے جو اس میں بیان نہ ہوا ہو۔ وہ علوم جن کے متعلق چودہ سو سال پہلے ایک عام مسلمان کو، قرآن کریم پڑھنے والے کو کوئی فہم و ادراک نہیں تھا، وہ اس میں بیان ہوئے ہوئے ہیں جوآج سچ ثابت ہو رہے ہیں۔ تو یہ مختلف خزانے جو قرآن کریم میں بھرے ہوئے ہیں، یہ احکامات جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دئیے ہوئے ہیں، یہ ایک علیحدہ مضمون ہے اس وقت یہاں ان کا ذکر نہیں ہو گا۔ اس وقت رمضان کے حوالے سے مَیں بات کر رہا ہوں۔ جس آیت کا مَیں نے ابھی ذکر کیا ہے اس سے اگلی آیت بھی جو مَیں نے تلاوت کی ہے، اس میں بھی خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ یعنی رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں اور جس کے بارے میں قرآن اتارا گیا ہے۔ پس یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن کے نزول کا آغاز ہوا۔ محدثین تاریخوں کے اختلاف کے ساتھ عموماً قرآن کریم کے نزول کو رمضان کے مہینے میں بتاتے ہیں کہ اس کا آغاز رمضان میں ہوا جس میں آنحضرتﷺ پر پہلی وحی اُتر ی اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَ بِّکَ الَّذِ یْ خَلَقَ (سورۃ العلق: 2) یعنی اپنے ربّ کا نام لے کر پڑھ جس نے پیدا کیا ہے۔ پس اس پہلی وحی سے جو اُتری اس سے اس طرف توجہ دلا دی کہ تمام کائنات اور ہر چیز کو پیدا کرنے والا خداتعالیٰ ہے۔ اس لئے وہی حقدار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔ اس سورۃ کو یعنی سورۃ علق کو اس بات پر ختم کیا گیا ہے کہ اللہ کا قرب پانے کے لئے اس کے حضور سجدہ اور عبادت ہی ایک ذریعہ ہے۔

پس قرآن کریم کا اس مہینے میں نزول سب سے پہلی توجہ اس طرف دلاتا ہے کہ اس شکرانے کے طور پر کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم نازل فرمایا جس کی تعلیم پر عمل کرکے ایک مومن اس کا قرب پانے والا بن سکتا ہے، ہمیں حکم دیا کہ تم عبادتوں کی طرف توجہ دو اور عبادات میں نکھار پیدا کرنے کے لئے، تزکیۂ نفس کے لئے، ایک عبادت جو خداتعالیٰ نے ہمیں بتائی وہ رمضان کے روزے ہیں۔ یہ ایک ایسا مجاہدہ ہے، یہ ایک ایسی عبادت ہے جس کی جزا بھی خداتعالیٰ نے خود اپنے آپ کو بتایا ہے۔ پس تبھی بارباران چند آیات میں روزوں کی تفصیلات اور احکامات دئیے ہیں کہ ایک مومن ان کی اہمیت کو سمجھنے میں کوتاہی نہ کرے۔ پہلی آیت میں بھی فرمایا کہ روزوں کی طاقت اگر کسی وجہ سے نہ ہو تودوسرے دنوں میں پورے کر لو، لیکن روزے فرض ہیں۔ اس سے پہلے فرمایا تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں اس میں پھر قرآن کے نزول کا ذکرکرکے فرمایا اور یہ کہ قرآن تمہارے لئے ہدایت کا باعث ہے۔ اس کا ذکر کرکے پھر اس طرف توجہ دلائی کہ روزے فرض ہیں۔ کسی وجہ سے نہ رکھ سکو تو بعد میں پورے کر لو۔ پس روزوں کی اتنی اہمیت ہے کہ اس کا بار بار ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ یہ عبادت ایسی ہے جو اصلاح عمل کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ اس سے اعمال کی اصلاح بھی ہوتی ہے، بہت سی بُرائیوں سے انسان خدا کی خاطر بچتا ہے، بہت سی جائز باتوں کو وقتی طور پر خدا کی خاطر ترک کرتا ہے۔ تبھی تو اللہ تعالیٰ نے خود اس کی جزا اپنے آپ کو قرار دیا ہے اور یہ سب باتیں یعنی عبادت کی تفصیلات بھی اور نیک اعمال کی تفصیلات بھی اور برے اعمال کی تفصیل بھی، یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرما دی ہیں اور یہ فرما کر کہ شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ فرمایاکہ یہ قرآن جو ہم نے رمضان میں اتارا ہے یا رمضان کی بابت اتارا ہے یہ ایک عظیم کتاب ہے، ھُدًی لِّلنَّاسِ ہے، تمام انسانوں کے لئے ہدایت اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ ہر زمانے کے انسان کے لئے ہدایت ہے۔ اب کسی نئی شریعت کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں شریعت مکمل ہو گئی بشرطیکہ کوئی اس ہدایت کو لینے والا بنے، اس سے فائدہ اٹھانے والا بنے۔ ورنہ جو ظلم پر تُلے ہوئے ہیں، جو اپنی جان پر ظلم کرنا چاہتے ہیں، دین کو تو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے، اپنی جان پر ہی ظلم کر رہے ہیں۔ وہ قرآن کو سن کر بھی خسارے میں رہتے ہیں۔ لیکن جو بھی نیک نیتی سے یہ ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے لئے ہدایت ہے اور ہدایت بھی ایسی کہ فرمایا ِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ یعنی یہ ایسی ہدایت ہے کہ جس میں حق و باطل میں فرق کرنے کے لئے دلائل بھی ہیں اور کھلے نشانات بھی ہیں۔ پس بدقسمت ہے وہ جودلائل اور نشانات کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے لیکن خوش قسمت ہیں ہم جو اس کتاب کو ماننے والے ہیں جو تمام دنیا کے انسانوں کے لئے ہدایت ہے اور ہدایت کا صرف دعویٰ نہیں بلکہ قرآن کریم نے ہمیں ہرہدایت پر عمل کرنے کی جونصیحت کی ہے، جب حکم دیاہے تو اس کی دلیل بھی دی ہے کہ جب عمل کرو گے تو اس کے فوائد کیا ہوں گے۔ اگر عمل نہیں کرتے تو اس کے نقصانات کیا ہیں۔ اگر تم بُرائیاں کر رہے ہو تو ان کے کیا نقصانات ہیں۔ پھر یہ بھی ہماری خوش قسمتی ہے جو ہم اس قرآن کو مانتے ہیں کہ قرآن اپنے حق پر ہونے کی دلیل بھی پیش کرتا ہے۔ اپنے آخری اور کامل دین ہونے کی دلیل بھی پیش کرتا ہے۔ شرعی کتاب ہونے کی دلیل بھی پیش کرتا ہے اور باطل کو صرف باطل کہہ کر ردّ نہیں کرتا بلکہ تمام ادیانِ باطلہ کے باطل ہونے کے دلائل بھی دیتا ہے۔ پس فرمایا کہ جب ایسی کتاب تمہیں مل جائے تو اللہ تعالیٰ کا عبد بننے کے لئے تمہیں اپنی کوشش زیادہ کرنی چاہئے، عبد بننے کے معیار بڑھانے کے لئے تمہیں ان ہدایات پر عمل کرنا چاہئے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دی ہیں اور اُن میں سے ایک یہ ہے کہ رمضان کے روزے رکھو تا کہ اپنے روحانی معیار کو بڑھا سکو۔ اور جب ان روزوں کی وجہ سے روحانی معیار بڑھیں، اللہ کا قرب حاصل ہو تو اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو، اس نے ہم پر جو احسان کیا ہے کہ ہمیں اس گروہ میں شامل کیا جو اس کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے والے ہیں۔ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمایا جنہوں نے اس قرآن کو تخفیف کی نظر سے نہیں دیکھا، اس کے حکموں پر سے اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گزر گئے بلکہ اس کی تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرنے والے بنے۔ اس بات پر شکر کرتے ہوئے جب ہم قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرنے والے ہوں گے، اس ہدایت سے فیض یاب ہونے والے ہوں گے جو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اتاری ہیں، رمضان کے روزوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق پورا کرنے والے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق ہمیں اور زیادہ نیکیوں کی توفیق دے گا۔ ہمیں روزوں کی وہ جزا دے گا جس کی کوئی حد نہیں ہے۔

پس رمضان کے مہینے کو اس لحاظ سے بھی پیشِ نظر رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف قرآن کریم ایک کامل اور مکمل ہدایت کے ساتھ ہم پر اتارا جس سے ہم اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والے بنے۔ بلکہ ہر سال اس بات کی یاد کروا کر کہ یہ ہدایت تمہارے لئے اس ماہ میں اتاری ہے یا جس کا نزول اس ماہ میں شروع ہوا تھا، ہمیں اس طرف توجہ دلائی کہ جہاں شکرگزاری کے طور پر اپنی عبادتوں کے اعلیٰ معیار اس مہینے میں قائم کرو، روزے رکھو جو ایک مجاہدہ بھی ہے، وہاں اخلاقی قدروں کو بھی بلند کرنے والے بنو۔ ان تمام احکامات پر بھی عمل کرنے والے بنو تاکہ نفس کے شر سے دور ہوتے چلے جاؤ اور خداتعالیٰ کا قرب حاصل کرتے رہو۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ سے ’’ماہ رمضان کی عظمت معلوم ہوتی ہے۔ صوفیاء نے لکھا ہے کہ یہ ماہ تنویر قلب کے لئے عمدہ مہینہ ہے، کثرت سے اس میں مکاشفات ہوتے ہیں۔ صلوٰۃ تزکیہ نفس کرتی ہے اور صوم (روزہ)تجلی قلب کرتا ہے۔ تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ نفس امارہ کی شہوات سے بُعد حاصل ہو جاوے‘‘ دُوری حاصل ہو جائے ’’اور تجلی قلب سے مراد یہ ہے کہ کشف کا دروازہ اس پر کھلے کہ خدا کو دیکھ لیوے۔ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 561-562 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

پس یہ جو ماحول اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان دنوں میں مہیا فرمایا ہے اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔ اس مہینے میں ایسی نمازیں ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جس سے حقیقت میں تزکیۂ نفس ہو۔ ہر نماز کے ساتھ اگر نفس کا محاسبہ ہو تو پھر ہی تزکیۂ نفس کی طرف قدم بڑھیں گے۔ ہر نماز خالصتہً اللہ تعالیٰ کے احکامات کے تابع ہو کر غیرُاللہ سے آزاد ہو کر ادا کرنے کی کوشش ہو گی تو تبھی تزکیہ نفس میں ممد ہو گی، ہر نماز اس سوچ سے ادا ہو رہی ہو گی کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں اور وہ مجھے دیکھ رہا ہے تو تزکیہ نفس میں قدم تیزی سے آگے بڑھیں گے۔ تزکیۂ نفس یہ انہی لوگوں کا کرے گا جو غیب میں بھی اپنے خدا سے ڈرتے ہوں اور اس سوچ اور دعا کے ساتھ اس کے حضور حاضر ہوں کہ اے اللہ ! اس رمضان میں جو تُونے مجھے داخل ہونے کا موقع دیا ہے تو تُو اس کی برکات سے مستفید فرما اور مجھے میری نمازیں اپنی رضا حاصل کرنے کے لئے اور میر ے نفس کی غلاظتوں کو مجھ سے دور کرنے والی بنا کر ادا کرنے کی توفیق دے۔

رمضان کا جو ماحول ہے اور اس میں جو نمازوں کی خوبصورت ادائیگی ہو گی یہی ہے جو تزکیۂ نفس کرنے والی ہو گی۔ یہ نفسِ امّارہ جو شیطان کے قبضہ میں ہے ہر انسان کو بُرائیوں کی ترغیب دیتا ہے، اس سے انسان روزوں میں زیادہ سے زیادہ اور جلد سے جلد دُور ہو سکتا ہے کیونکہ شیطان ان دنوں میں جکڑا جاتا ہے۔ پس نمازیں جو خالصتاً شیطان سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے ادا کی جاتی ہیں، یہ جلد انسان کو نفسِ لوّامہ کی منزلوں سے گزارتی ہوئی نفس مطمئنہ کی منزلوں تک پہنچانے کا ذریعہ بنتی چلی جائیں گی۔ اگر ہم اس سوچ سے نمازیں ادا کر رہے ہوں گے اور جب روزوں کا مجاہدہ اس کے ساتھ شامل ہو گا جب نوافل اس میں مضبوطی پیدا کر رہے ہوں گے تو پھر ہر ایک پر اللہ تعالیٰ اپنے آپ کو اس کی استعدادوں کے مطابق ظاہر کرتا ہے۔

اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ گو کہ نزولِ قرآن کی ابتدا (اس کا پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے) اس میں ہوئی اور اس کے بعد سال کے دوسرے مہینوں میں بھی قرآن کریم کا نزول ہوتا رہا لیکن ہر سال رمضان میں جتنا بھی نازل شدہ قرآن تھا اس کا دَور جبریل ؑ آنحضرتﷺ کے ساتھ آکر کرتے تھے۔ قرآن کریم کے نازل ہونے کی رمضان کے مہینے میں یہ خاص برکت ہے یا رمضان کے مہینے کو یہ ایک خاص برکت ہے کہ سال کے دوران یا اس عرصہ میں جتنا بھی قرآن کریم نازل ہوتا تھا، اس کا دور مکمل کیا جاتا تھا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے حضرت فاطمہؓ سے فرمایاکہ آپؐ کی زندگی کا جو آخری رمضان تھا اس میں جبریل نے یہ دَور آپ کے ساتھ دو دفعہ کیا۔ (صحیح بخاری کتاب فضائل القرآن باب کان جبریل یعرض القرآن علی النبیﷺ)

پس اس لحاظ سے بھی ہمیں توجہ کرنی چاہئے کہ اس مہینے میں جہاں ہم رمضان کے روزے رکھ رہے ہوں، جہاں ہم اپنی عبادتوں کو فرض نمازوں اور نوافل کو پہلے سے بڑھ کر توجہ اور خوبصورت انداز سے ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہوں وہاں قرآن کریم کی تلاوت، ترجمہ اور اس کے مطالب پر غور کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہئے۔ یہاں بھی اور دوسری جگہوں پر بھی جماعتی نظام کے تحت درس کا انتظام بھی ہے، درس سننے کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے پھر جیسا کہ پہلے بھی مَیں کہہ چکا ہوں، قرآن کریم کے احکام کو پڑھ کر اپنے اوپر لاگو کرنے کی بھی ہمیں زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہئے۔ تبھی ہم حقیقت میں رمضان سے فیض پانے والے ہوں گے، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرتے ہوئے اس کے شکر گزار بندے کہلانے والے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی تمام برکات سے فیضیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

(مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل لندن مورخہ 12تا18اکتوبر2007ء ص5تا7)


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • English اور دوسری زبانیں

  • 21؍ ستمبر 2007ء شہ سرخیاں

    رمضان میں ایسی نمازیں ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جس سے حقیقت میں تزکیۂ نفس ہو۔

    قرآن کریم کی تلاوت، ترجمہ اور اس کے مطالب پر غور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    فرمودہ مورخہ 21؍ستمبر 2007ء بمطابق21؍ تبوک 1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لند ن (برطانیہ)

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور