نمازکی اہمیت اور افادیت

خطبہ جمعہ 22؍ فروری 2008ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی:

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ؕ وَ اِنۡ تَدۡعُ مُثۡقَلَۃٌ اِلٰی حِمۡلِہَا لَا یُحۡمَلۡ مِنۡہُ شَیۡءٌ وَّ لَوۡ کَانَ ذَا قُرۡبٰی ؕ اِنَّمَا تُنۡذِرُ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَیۡبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ؕ وَ مَنۡ تَزَکّٰی فَاِنَّمَا یَتَزَکّٰی لِنَفۡسِہٖ ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ الۡمَصِیۡرُ (فاطر:19)

آج کا خطبہ بھی گزشتہ خطبہ کے تسلسل میں ہی ہے، یعنی نماز کا مضمون۔ پہلے خیال تھا کہ دوسرا مضمون شروع کروں گا لیکن پھر غور کرنے سے احساس ہوا کہ آج بھی یہی جاری رکھاجائے۔ کچھ اقتباسات پیچھے رہ گئے تھے جو پیش کرنے ضروری ہیں۔ نماز کا حکم بھی ایک ایسا حکم ہے جوایک بنیادی حکم ہے اور ایک ایسی بنیادی چیز ہے جس کے بغیر دین کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن کریم میں اس کی اہمیت پر بہت زور دیا گیا ہے بلکہ قرآن مجید کی ابتداء میں سورۃ بقرہ میں ایمان بالغیب کے بعد جو دوسراا ہم حکم ہے وہ نماز کے قیام کا ہے۔ بلکہ اس سے پہلے سورۃ فاتحہ میں بھی اِیَّاکَ نَعْبُدُ کہہ کر عبادت کی دعا مانگی گئی ہے کہ اے اللہ! ہم تیری عبادت کرتے ہیں۔ اس لئے ہمیں ہمیشہ توفیق دیتا رہ کہ ہم تیری عبادت کرتے رہیں اور اس عہد پر قائم رہیں جو ایک مومن مسلمان کا ہے اور اس مقصد کو پورا کرنے والے بنیں جو ایک انسان کی پیدائش کا مقصد ہے۔ اسی لئے آنحضرتﷺ نے بھی اس اہم حکم پر بہت زور دیا ہے۔ فرمایا ’’نماز دین کا ستون ہے‘‘۔ عمارتوں کی مضبوطی ستونوں سے ہی قائم ہوتی ہے۔ پس جن نمازوں کے ستونوں پر ہمارا دین قائم ہے اس کی حفاظت انتہائی اہم ہے ورنہ دین میں دراڑیں پڑنے کا خدشہ ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نمازوں کے بارے میں ارشادات بھی قرآن کریم اور احادیث کی وضاحت کرتے ہوئے اس وضاحت سے ہمارے سامنے آئے ہیں کہ جن کا پڑھنا اور سننا ہر احمدی کے لئے انتہائی اہم اور ضروری ہے۔ ان کو پڑھ کر ہی اندازہ ہوتا ہے کہ اس انسان کامل کے شاگرد کامل کے علم کلام کی حسن و خوبی کیا ہے لہٰذا ان سب باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے نیز گزشتہ خطبہ کے بعد مجھے کسی نے اس اہم مضمون پر ابھی اور توجہ دلانے کی طرف بھی لکھا۔ پھر UK کے سیکرٹری تربیت کی رپورٹ، اسی طرح امریکہ کی صدر لجنہ نے بھی جو رپورٹ دی اس سے جو حقائق سامنے آئے، اس سے قابل فکر صورتحال کی تصویر ابھری ہے۔ یوکے یا امریکہ کے ذکر سے یہ نہ سمجھیں کہ باقی جو دوسرے ملک ہیں وہاں مکمل طورپر اس پر عمل ہو رہا ہے اور بڑا اعلیٰ معیار ہے۔ وہ اعلیٰ معیار جو ہمارا مطمح نظر ہیں اور ہونے چاہئیں وہ ابھی کسی جگہ کی رپورٹ میں بھی نظر نہیں آتے۔ اس سلسلے میں اور کوشش کی ضرورت ہے۔ بعض عہدیداران آنکھیں بند کرکے جتنی بھی رپورٹ آتی ہے اس پر خوش فہمی کا اظہار کرتے ہیں۔ نماز ایک ایسی چیز ہے، وہ ایسی بنیادی بات ہے جس پہ ہمیں کسی بھی قسم کی خوش فہمی کا اظہار نہیں کرنا چاہئے اور زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہر احمدی، ہر وہ شخص جو اپنے آپ کو احمدی کہلاتاہے، سو فیصد اس بات پر قائم ہو کہ وہ نمازوں کے قیام کی کوشش کر رہا ہے۔ بہرحال ان وجوہات کی وجہ سے میں نے مناسب سمجھا کہ آج پھر آیات اور احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشادات کی روشنی میں نمازوں کے بارے میں توجہ دلاؤں۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ ایک اہم اور بنیادی رکن ہے جس پر ہر احمدی کو سو فیصد عمل کرنا چاہئے ورنہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ہمارے ایمان کی عمارتوں میں دراڑیں پڑ جائیں گی۔

آج جب ہم خلافت احمدیہ کے سوسال پورے ہونے پر شکر کے جذبات سے لبریز ہیں اور خوشی منا رہے ہیں، دین کے اس سب سے اہم رکن کی طرف خاص طور پر ہر احمدی کی توجہ ہونی چاہئے کیونکہ خلافت کاو عدہ ان ایمان والوں کے ساتھ ہے جو نمازوں کے قیام کی طرف توجہ دینے والے ہیں۔ پس اگر حقیقی رنگ میں خلافت کے انعام پر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بنناہے تاکہ اس انعام سے ہمیشہ فیض پاتے رہیں تو اپنی نمازوں کے قیام کی طرف خاص توجہ دینا ہر احمدی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ پس دوبارہ میں کہتا ہوں کہ ہر احمدی اپنے جائزے لے کہ کیا ہم اپنی نمازوں کی حفاظت اس کا حق ادا کرتے ہوئے کر رہے ہیں ؟ کیا ہم نے اپنی نمازوں کے وہ معیار حاصل کر لئے ہیں جو اللہ اور اس کے رسولﷺ ہم میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے مقابلے پر تم جس کو بھی کھڑا کرو گے کہ وہ تمہاری ضروریات پوری کر دے، وہ پوری نہیں کر سکتا۔

یہ جو آیت میں نے تلاوت کی ہے اس سے پہلے اللہ تعالیٰ مشرکوں کو کہتا ہے کہ تمہارے معبود تو نہ سن سکتے ہیں نہ تمہاری ضروریات پوری کر سکتے ہیں بلکہ قیامت کے دن تمہارے اس شرک سے بھی انکار کر دیں گے۔ اگر کوئی مالک کُل ہے تو وہ خداتعالیٰ کی ذات ہے اور بندے اس کے محتاج ہیں۔ یہ ساری باتیں بندوں کو اس طرح توجہ دلانے والی ہونی چاہئیں کہ اس خدا کے آگے جھکیں جو مالک کائنات ہے۔ اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ہوشیار کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے جو اپنے رب سے غیب میں ڈرتے ہیں اور اس ڈر کی وجہ سے نماز قائم کرتے ہیں اور پھر ان نمازوں کی وجہ سے، اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے اپنے نفسوں کو پاک رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسی کو بھی یہ خیال نہیں آنا چاہئے کہ نمازوں میں سستیاں کرنی شروع کر دیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہر ایک نے اپنے اعمال کے ساتھ جانا ہے، کوئی قریبی بھی کسی کے کام نہیں آ سکتا۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کا یہ کہنا کہ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا چاہے کوئی قریبی ہی کیوں نہ ہو، پھر ایمان بالغیب اور نماز کا ذکر اور نفس کی پاکیزگی کا ذکر اور پھر یہ کہ آخری ٹھکانہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہی ہے، یہ سب باتیں ہم کمزوروں کو توجہ دلانے کے لئے ہیں کہ آخرت کا خوف ہمیشہ تمہارے سامنے رہے۔ اور جب یہ یقین ہو گا کہ اللہ تعالیٰ مالک یوم الدین ہے اور اس کی طرف لوٹنا ہے تو پھر نفس کی پاکیزگی کی طرف بھی خیال رہے گا۔ اور نفس کی پاکیزگی کے لئے سب سے اہم ذریعہ قیام نماز ہے اور یہ نماز کا قیام کرنے والے ہی وہ لوگ ہیں جن کا غیب پر بھی ایمان مضبوط ہوتا ہے اور جو غیب میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔ ان کے ہی تقویٰ کے معیار بھی اونچے ہوتے ہیں۔ پس ہر احمدی کو یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ صرف منہ سے کہہ دینا کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں۔ اللہ کے آخری نبیﷺ پر ایمان لاتے ہیں اور آخری زمانے میں آنے والے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مانتے ہیں، یہ کافی نہیں ہو گاجب تک کہ اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں ہو گا۔ جب اللہ تعالیٰ کا خوف ہو گا، ایسا خوف جو ایک قریبی تعلق والے کو دوسرے کا ہوتا ہے کہ کہیں ناراض نہ ہو جائے تو اس سے پھر محبت میں اضافہ ہو گا۔ اور جب محبت میں اضافہ ہو گا تو یہ خوف مزید بڑھے گا اور اس کی وجہ سے نیک اعمال سرزد ہوں گے۔ ان کے کرنے کی طرف توجہ پیدا ہو گی۔ نمازوں میں باقاعدگی کی طرف توجہ پیدا ہو گی۔ نمازوں کو اس کے حق کے ساتھ ادا کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوگی، ورنہ نری بیعت جوہے وہ بخشش کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔

ایک روایت میں آتا ہے، یونس کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ نبیﷺ نے فرمایا:لوگوں کے اعمال میں سے قیامت کے دن سب سے پہلے جس بات کا محاسبہ کیا جائے گا وہ نماز ہے۔ آنحضورﷺ نے فرمایا: ہمارا رب عزّوجل فرشتوں سے فرمائے گا، حالانکہ وہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے، کہ میرے بندے کی نماز کو دیکھ کہ کیا اس نے اسے مکمل طور پر ادا کیا تھا یا نامکمل چھوڑ دیا؟پس اگر اس کی نماز مکمل ہو گی تو اس کے نامۂ اعمال میں مکمل نماز لکھی جائے گی اور اگر اس نماز میں کچھ کمی رہ گئی ہو گی تو فرمائے گا کہ دیکھیں کیا میرے بندے نے کوئی نفلی عبادت کی ہو ئی ہے؟ پس اگر اس نے کوئی نفلی عبادت کی ہو گی تو فرمائے گا کہ میرے بندے کی فرض نماز میں جو کمی رہ گئی تھی وہ اس کے نفل سے پوری کر دو۔ پھر تمام اعمال کا اسی طرح مؤاخذہ کیاجائے گا۔ (سنن نسائی۔ کتاب الصلوہ باب المحاسبۃ علی الصلوٰۃ حدیث 466)

پس جب مرنے کے بعد سب سے پہلا امتحان جس میں سے ایک انسان کوگزرنا ہے وہ نمازہے، تو کس قدر اس کی تیاری ہونی چاہئے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر مہربان بھی ہے۔ فرمایا کہ بندے کے نفل دیکھو اگر اس کے نفل ہیں تو اس کے فرضوں کے پلڑے میں ڈال دو تاکہ فرضوں کی کمی پوری ہو جائے۔ پس صرف نمازوں کی ادائیگی نہیں بلکہ انسان جو کہ کمزور واقع ہوا ہے اسے یہ دیکھنا اور سوچنا چاہئے کہ کسی وقت ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ میرے فرض صحیح حق کے ساتھ ادا نہ ہوئے ہوں تو کوشش کرکے نفل بھی ادا کرنے کی کوشش کرے۔ یہ ایک مومن کا اعلیٰ معیار ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کے پیار کو جذب کرنے والا بنے۔ اپنے پیارے خدا کا جس کے بے شمار احسانات اور انعامات ہیں شکر ادا کرے۔

ہم احمدی مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا کس قدر احسان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مان کر ہم ایک جماعت ہیں۔ ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ ہم ایک ہاتھ پر اٹھنے بیٹھنے کے نظارے دیکھتے ہیں۔ جب ہماری یہ صورت حال ہے تو جو سب سے زیادہ تنظیم پیدا کرنے والی چیز ہے اس کا ہمیں کس قدر خیال کرنا چاہئے۔ اورپھر صرف اس دنیا میں ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی ہم اس سے فائدہ اٹھا رہے ہوں گے۔ سب سے پہلے جو جائزہ ہو گا وہ نماز کے بارے میں ہو گا جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ پس ایک احمدی مسلمان صرف اپنی فرض نمازوں کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ نوافل بھی ادا کرتا ہے تاکہ کمزوریوں کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نظارے نظر آتے رہیں۔ اس کی رحمت کی نظر پڑتی رہے اور یہی غیب میں ڈرنا ہے۔ نوافل ادا کرتے ہوئے تو ایک انسان بالکل علیحدگی میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوتا ہے۔ یہ صورتحال ایک احمدی مسلمان کی ہونی چاہئے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نماز کی اہمیت کے ضمن میں فرماتے ہیں کہ:

’’ نماز ہر ایک مسلمان پر فرض ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرتﷺ کے پاس ایک قوم اسلام لائی اور عرض کی یا رسول اللہ! ہمیں نماز معاف فرما دی جاوے کیونکہ ہم کاروباری آدمی ہیں ‘‘۔ آجکل کے بعض کاروباری بھی یہی بہانے کرتے ہیں۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ ہمیں نماز معاف فرما دی جائے کیونکہ ہم کاروبار ی آدمی ہیں۔ ’’مویشی وغیرہ کے سبب سے کپڑوں کا کوئی اعتماد نہیں ہوتا‘‘ کہ صاف ہیں کہ نہیں۔ ’’ اور نہ ہمیں فرصت ہوتی ہے‘‘۔ دو بہانے ہیں، ایک کیونکہ جانور پالنے والے ہیں اس لئے پتہ نہیں کپڑے صاف بھی ہیں کہ نہیں اور نماز کے لئے حکم ہے کہ صاف کپڑے پہنو اور دوسرے کاروبار بھی ہے۔ دونوں صورتوں کی وجہ سے وقت نہیں ملتا۔ ’’تو آپؐ نے(آنحضرتﷺ نے) اس کے جواب میں فرمایاکہ دیکھو جب نماز نہیں تو ہے ہی کیا؟وہ دین ہی نہیں جس میں نماز نہیں۔ نماز کیا ہے؟ یہی کہ اپنے عجزو نیاز اور کمروزریوں کو خدا کے سامنے پیش کرنا اور اسی سے اپنی حاجت روائی چاہنا۔ کبھی اس کی عظمت اور اس کے احکام کی بجا آوری کے واسطے دست بستہ کھڑا ہونا اور کبھی کمال مذلّت اور فروتنی سے اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔ اس سے اپنی حاجات کا مانگنا، یہی نماز ہے۔ ایک سائل کی طرح کبھی اس مسؤل کی تعریف کرنا کہ تو ایسا ہے‘‘ یعنی جس سے مانگا جا رہا ہے، اس کی تعریف کرنا کہ تو ایسا ہے۔ ’’اس کی عظمت اور جلال کا اظہار کرکے اس کی رحمت کو جنبش دلانا پھر اس سے مانگنا، پس جس دین میں یہ نہیں وہ دین ہی کیا ہے۔ انسان ہر وقت محتاج ہے اس سے اس کی رضا کی راہیں مانگتا رہے اور اس کے فضل کا اسی سے خواستگار ہو کیونکہ اس کی دی ہوئی توفیق سے کچھ کیا جا سکتا ہے۔ اے خدا ہم کو توفیق دے کہ ہم تیرے ہو جائیں اور تیری رضا پر کار بند ہوکر تجھے راضی کر لیں۔ خداتعالیٰ کی محبت، اسی کا خوف، اسی کی یادمیں دل لگا رہنے کا نام نماز ہے اور یہی دین ہے‘‘۔

پھر فرماتے ہیں کہ:’’ پھر جوشخص نماز ہی سے فراغت حاصل کرنی چاہتا ہے، اس نے حیوانوں سے بڑھ کر کیاکیا؟ وہی کھانا پینا اور حیوانوں کی طرح سو رہنا۔ یہ تو دین ہرگز نہیں۔ یہ سیرتِ کفار ہے بلکہ جو دم غافل وہ دم کافر والی بات بالکل راست اور صحیح ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد3 صفحہ189 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

پس نماز مومن کے لئے ایک ایسی چیز ہے جس کا خیال رکھنا، اس میں باقاعدگی رکھنا، یہی وہ باتیں ہیں جو ایک مومن اور غیرمومن میں فرق کرنے والی ہیں۔ بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایاکہ اگر عبادت نہیں تو جانور اور انسان میں کیا فرق ہوا۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں غیر مومنوں کی برائیوں کا جہاں ذکر فرماتا ہے وہاں مومنوں کو ان کمزوریوں سے پاک اس لئے قرار دیتا ہے کہ وہ نمازیں پڑھتے ہیں۔ فرمایا اِلَّاالْمُصَلِّیْنَ۔ اَلَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَاتِھِمْ دَآئِمُوْنَ(المعارج:23-24) ہاں نماز پڑھنے والوں کا معاملہ الگ ہے۔ وہ لوگ جو اپنی نماز پر دوام اختیار کرنے والے ہیں۔ پہلے ان کا ذکر ہوا جن میں برائیاں ہیں اس کے بعد فرمایا جو نمازیں پڑھنے والے ہیں اور اس میں باقاعدگی اختیار کرنے والے ہیں وہ مومن ہیں۔ ان کا معاملہ بالکل علیحدہ ہے۔ دنیاوی کاموں کے حرج ان کی راہ میں حائل نہیں ہوتے۔ اور پھراعلیٰ اخلاق کے مالک بھی یہ لوگ ہیں۔ یوم آخرت پر ایمان لانے والے ہیں اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ پس حقیقی نمازیوں کی یہی نشانی ہے کہ ان کے اخلاق بھی اعلیٰ ہوں، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے والے بھی ہوں اور اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والے بھی ہوں۔ پس نمازیں بھی خداتعالیٰ وہ قبول کرتا ہے جو حقیقی نمازیں ہوں۔ مسلمانوں میں بعض بڑی باقاعدگی سے نمازیں پڑھنے والے ہیں لیکن ماحول ان سے پناہ مانگتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی بھی نشاندہی فرما دی کہ نمازیں بہت ضروری ہیں لیکن وہ نمازیں پڑھو جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والی ہوں۔ صرف دکھاوے کی نمازیں نہ ہوں۔ ایسی نمازیں نہ ہوں جن پر دنیاوی کام حاوی ہو جائیں بلکہ نمازیں ہر دنیاوی کام پر مقدم ہیں۔ اور پھر ان میں باقاعدگی بھی ہو اور پھر اللہ تعالیٰ کے خوف سے ہوں۔ ان نمازوں کا اثر مومنین کے معاشرے اور اس ماحول میں جو تعلقات ہیں ان میں بھی نظر آئے۔ اور پھر یہ بھی دل میں خیال نہ ہو کہ لوگ مجھے دیکھ کر کہیں کہ بڑا نمازی ہے۔ بعض نمازی ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا قرآن کریم میں ذکر آیا ہے کہ وہ لوگوں کے دکھاوے کے لئے نمازیں پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ یا پھر خواہش ہوتی ہے کہ لوگ دیکھ کر کہیں کہ بڑانمازی ہے۔

یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مان کر اس زمانے میں اس حقیقی اسلام سے آشنا ہوئے، اس حقیقی اسلام کو سمجھا جو آنحضرتﷺ نے ہمیں دیا۔ اللہ تعالیٰ نے خالص صورت میں آنحضرتﷺ پر وہ تعلیم اتاری۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلَاتِھِمْ سَاھُوْنَ۔ الَّذِیْنَ ھُمْ یُرَآءُ وْنَ(الماعون:5-6) پس ان نماز پڑھنے والوں پر ہلاکت ہو جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں۔ وہ لوگ جو دکھاوا کرتے ہیں۔ تین چیزیں ہیں۔ نماز پڑھنے والے بھی ہیں۔ ہلاکت ان نماز پڑھنے والوں پر ہو جو نمازیں بھی پڑھتے ہیں اور غافل بھی رہتے ہیں اور دکھاوا کرتے ہیں۔ پس ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو نمازیں تو پڑھتے ہیں لیکن نمازیں خدا کے لئے نہیں بلکہ معاشرے کے زیر اثر پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ لوگوں کو دکھانے کے لئے پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ ان میں اخلاقی برائیاں بھی ہیں اس کی طرف وہ توجہ نہیں دے رہے ہوتے۔ نماز پڑھنے والے کی یہ نشانی ہے کہ اس کے اخلاق بھی اچھے ہوں اور وہ اپنی اخلاقی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش بھی کرے۔

ان آیات میں بعد میں آنے والوں کے لئے ایک انذار بھی ہے۔ صحابہ تو ایسے نہیں تھے جو ان کی نمازیں ایسی تھیں کہ جن میں غفلت تھی یا جن کے اخلاق ایسے نہیں تھے جو ایک صحیح حقیقی مومن کے ہونے چاہئیں۔ آنحضرتﷺ کے زمانے میں اگر دیکھیں تو منافقین تھے جو دھوکہ دینے والے تھے۔ جن کے بارے میں فرمایاکہ وَاِذَا قَامُوْا اِلَی الصَّلٰوۃِ قَامُوْا کُسَالٰی (النساء:143) یعنی جب وہ نماز کو جانے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی سے کھڑے ہوتے ہیں اور ان میں اخلاقی برائیاں بھی ہیں۔ یا پھر اس آخری زمانے کے مسلمانوں کی حالت کے بارے میں آنحضورﷺ نے فرمایا تھا کہ مَسَاجِدُھُمْ عَامِرَۃٌ وَّھِیَ خَرَابٌ مِّنَ الْھُدٰی یعنی اس زمانے کے لوگوں کی مساجدبظاہر تو آباد نظر آئیں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی۔ پس یہ ہدایت سے خالی مسجدوں میں نمازیں پڑھنے والے وہ لوگ ہیں جن کی نمازیں ان پر لعنت بن جاتی ہیں۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ آخرین کے اس گروہ میں شامل ہیں جس کی عظیم رسول اور مزکّی اعظم نے اپنے زمانے کے ساتھ ملنے کی خبر دی تھی۔ جن کے بارے میں خداتعالیٰ نے بھی فرمایا ہے کہ وہ پہلوں سے ملے ہوئے ہیں۔ پس اتنے بڑے انعام کے بعد ہماری کتنی بڑی ذمہ داری ہے کہ اپنی نمازوں میں کبھی سستی نہ آنے دیں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کبھی کمی نہ آنے دیں۔ اپنا پہلو ہر وقت ان باتوں سے بچا کر رکھیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے انذار فرمایا ہے۔ جب ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور احسان سے ان لوگوں سے علیحدہ کر دیا جن کی مسجدیں ہدایت سے خالی ہیں توپھرہمیں کس قدر شکر گزاری کے جذبات سے خالص ہو کراس خدا کے آگے جھکنے کی ضرورت ہے، تاکہ اس کے مزید انعامات کے وارث بنیں۔ پس ہماری نمازیں باقاعدہ اور خالص خدا تعالیٰ کی خاطرہوں گی تو ہم اس انذاری صورت سے اپنے آپ کو بچانے والے ہوں گے۔ بہت خوف کا مقام ہے۔ ہم میں سے کسی ایک میں بھی کبھی ایسی سستی نہ ہو جو اسے دین سے دور لے جائے، خدا سے دور لے جائے۔ پس خدا کے قرب کو پانے کے لئے خالص ہو کر اس کے بتائے ہوئے راستے پر ایک خاص فکر سے چلنے کی ضرورت ہے۔ اپنی نمازوں کی ادائیگی میں ایک خاص فکر کی ضرورت ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:

’’مفہوم لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہ کے بعد نماز کی طرف توجہ کرو جس کی پابندی کے واسطے بار بار قرآن شریف میں تاکید کی گئی ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس کے یہ فرمایا گیا ہے کہ وَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلَاتِھِمْ سَاھُوْنَ (الماعون:5) وَیل ہے ان نمازیوں کے واسطے جو کہ نماز کی حقیقت سے بے خبر ہیں۔ سو سمجھنا چاہئے کہ نماز ایک سوال ہے جو کہ انسان جدائی کے وقت درد اور حرقت کے ساتھ اپنے خدا کے حضور کرتا ہے کہ اس کو لِقاء اور وصال ہوکیونکہ جب تک خدا کسی کو پاک نہ کرے کوئی پاک نہیں ہو سکتا اور جب تک وہ خود وصال عطا نہ کرے کوئی وصال کو حاصل نہیں کر سکتا‘‘۔ یعنی جب تک وہ خود کسی بندے سے نہ ملائے یا اپنے ملنے کے راستے نہ کھولے کوئی بندہ خداتعالیٰ کو نہیں مل سکتا۔ ’’طرح طرح کے طَوق اور قسماقسم کے زنجیر انسان کے گردن میں پڑے ہوتے ہیں اور وہ بہتیرا چاہتا ہے کہ دور ہو جاویں پر وہ دور نہیں ہوتے۔ باوجود اس خواہش کے کہ وہ پاک ہو جاوے، نفس لوامہ کی لغزشیں ہو ہی جاتی ہیں۔ گناہوں سے پاک کرنا خدا کاکام ہے اس کے سوا ئے کوئی طاقت نہیں جو زور کے ساتھ تمہیں پاک کر دے۔ پاک جذبات کے پیدا کرنے کے واسطے خداتعالیٰ نے نماز رکھی ہے۔ نماز کیا ہے؟ ایک دعا جو درد، سوزش اور حرقت کے ساتھ خداتعالیٰ سے طلب کی جاتی ہے تاکہ یہ بدخیالات اور برے ارادے دفع ہو جاویں اور پاک محبت اور پاک تعلق حاصل ہو جائے اور خداتعالیٰ کے احکام کے ماتحت چلنا نصیب ہو۔ صلوٰۃ کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ د عا صرف زبان سے نہیں بلکہ اس کے ساتھ سوزش اور جلن اور رِقّت کا ہونا بھی ضروری ہے‘‘۔ (بدر جلد6نمبر1,2مورخہ 10جنوری 1907ء صفحہ12)

اللہ تعالیٰ ایک تڑپ کے ساتھ ہمیں اپنی نمازوں میں خوبصورتی پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ نماز کے مقابلے میں ہر قسم کے دنیاوی لالچ اور شغل سے ہم بچنے والے ہوں اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا نہ ہی ہم اپنی کوشش سے دنیاوی لالچوں اور شغلوں سے بچ سکتے ہیں، نہ ہی ہم اپنی کوشش سے اپنے آپ کو پاک کر سکتے ہیں، نہ ہی ہم کسی طرح خداتعالیٰ کی رضا کو حاصل کر سکتے ہیں مگر صرف ایک ذریعہ ہے جو نماز کا ذریعہ ہے۔ پس اگر ان لوگوں میں شمار ہونا ہے جو خدا کا قرب پانے والے لوگ ہیں تو پھر نمازوں میں باقاعدگی اور بغیر ریاء کے، بغیر دکھاوے کے ان کی ادائیگی کی ضرورت ہے اور یہی چیز ہمیں دوسروں سے ممتاز کرنے والی ہو گی اور یہی چیز ہمیں خداتعالیٰ کا قرب دلانے والے ہوگی۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلَاتِھِمْ خٰشِعُوْنَ (المومنون:2-3) یقینا مومن کامیاب ہو گئے۔ وہ لوگ جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فلاح پانے والے مومنوں کی بہت سی خصوصیات ان آیات کے بعد بیان فرمائی ہیں۔ لیکن سب سے پہلی بات یہی ہے کہ نمازیں پڑھتے ہیں اور خالص اللہ تعالیٰ کے ہو کر عاجزی دکھاتے ہوئے نمازیں پڑھتے ہیں۔ پس کامیا بی کی پہلی سیڑھی، دنیاو آخرت کے افضال سے فیضیاب ہونے کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ اپنی نمازیں خالص اللہ کے لئے پڑھیں۔ اور جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے یہ نمازیں اللہ تعالیٰ کا خوف، اس کی محبت حاصل کرنے کے لئے اور پھر اس کی محبت میں بڑھنے، اس کے انعامات اور اس کی رضا کے حصول کے لئے پڑھی جائیں۔ اور یہی ایک انسان کی زندگی کا مقصودہے اور جس کو یہ مل جائے اسے اور کیاچاہئے؟

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:

’’اول مرتبہ مومن کے روحانی وجود کا وہ خشوع اور رقّت اور سوز وگداز کی حالت ہے جو نماز اور یاد الٰہی میں مومن کو میسر آتی ہے۔ یعنی گُدازش اور ِ قّت اور فروتنی اور عجز و نیازاورروح کا انکسار اور ایک تڑپ اور قلق اور تپش اپنے اندرپیدا کرنا اور ایک خوف کی حالت اپنے پر وارد کرکے خدائے عزوجل کی طرف دل کو جھکانا جیسا کہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلَاتِھِمْ خٰشِعُوْنَ (المومنون:2-3) یعنی وہ مومن مراد پا گئے جو اپنی نماز میں اور ہر ایک طور کی یادالٰہی میں فروتنی اور عجز و نیاز اختیار کرتے ہیں اور رقت اور سوز وگداز اور قلق اور کرب اور دلی جوش سے اپنے رب کے ذکر میں مشغول ہوتے ہیں۔ یہ خشوع کی حالت جس کی تعریف کا اوپر اشارہ کیا گیا ہے روحانی وجود کی طیاری کے لئے پہلا مرتبہ ہے یا یوں کہوکہ وہ پہلا تخم ہے جو عبودیت کی زمین میں بویا جاتا ہے‘‘۔ (تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد سوم صفحہ351)

یعنی روحانی وجود کی تیاری کے لئے پہلا مرتبہ یہ ہے یاوہ ایسا بیج ہے جو ایک بندے کے صحیح عابد بننے کے لئے اس زمین میں بویا جاتا ہے۔ پھرآپ ؑ فرماتے ہیں کہ:

’’نماز جو کہ پانچ وقت ادا کی جاتی ہے اس میں بھی یہی اشارہ ہے کہ اگر وہ نفسانی جذبات اور خیالات سے اسے محفوظ نہ رکھے گا تب تک وہ سچی نماز ہرگز نہ ہو گی۔ نماز کے معنے ٹکریں مار لینے اور رسم اور عادت کے طور پر ادا کرنے کے ہرگز نہیں۔ نماز وہ شے ہے جسے دل بھی محسوس کرے کہ روح پگھل کر خوفناک حالت میں آستانہ ٔالوہیت پر گر پڑے۔ جہاں تک طاقت ہے وہاں تک رقت کے پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ اور تضرع سے دعا مانگے کہ شوخی اور گناہ جو اندر نفس میں ہیں وہ دور ہوں۔ اسی قسم کی نماز بابرکت ہوتی ہے۔ اور اگر وہ اس پر استقامت اختیار کرے گا تو دیکھے گا کہ رات کو یاد ن کو ایک نور اس کے قلب پر گرا ہے اور نفس امّارہ کی شوخی کم ہو گئی ہے۔ جیسے اژدہا میں ایک سمِّ قاتل ہے اسی طرح نفس امّارہ میں بھی سمِّ قاتل ہوتا ہے اور جس نے اسے پیدا کیا اسی کے پاس اس کا علاج ہے‘‘۔ (البدر جلد 3نمبر34 مورخہ8 ستمبر1904ء صفحہ3)

پس عاجزی سے اللہ تعالیٰ کے حضور گرنا اور اس میں استقامت دکھانا، ثابت قدم رہنا، یہ نہیں کہ کبھی نمازیں پڑھ لیں اور کبھی نہیں، اگر یہ دونوں چیزیں قائم رہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ پھر برائیوں پر ابھارنے والے جذبات ایک دن ختم ہو جائیں گے کیونکہ برائیوں کو مارنے کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنا ضروری ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاْمُرْاَھْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَاصْطَبِرْعَلَیْھَا۔ لَا نَسْئَلُکَ رِزْقًا۔ نَحْنُ نَرْزُقُکَ۔ وَالْعَاقِبَۃُ لِلتَّقْوٰی (طٰہٰ :133) اور اپنے گھر والوں کو نماز کی تلقین کرتارہ اور اس پر ہمیشہ قائم رہ۔ ہم تجھ سے کسی قسم کا رزق طلب نہیں کرتے، ہم ہی تو تجھے رزق عطا کرتے ہیں اور نیک انجام تقویٰ ہی کا ہوتا ہے۔ پس یہ ہے اللہ تعالیٰ کا اعلان، حکم، ہدایت کہ تم خود بھی نمازوں کی طرف توجہ کرو اور اپنے گھر والوں کو بھی توجہ دلاؤ۔ کیونکہ یہ تمہارے ہی فائدہ کے لئے ہے۔ اس دنیا میں بھی اس کے پھل ہیں اور آخرت میں بھی متقی ہی ہے جو فلاح پانے والا ہو گا۔ اس دنیا میں بھی متقی ہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ ایسے ایسے ذرائع سے رزق دیتا ہے جہاں تک اس کا خیال بھی نہیں جاتا۔ پس اللہ تعالیٰ یہ نمازیں فرض کرکے تم پر کوئی ٹیکس نہیں لگا رہا بلکہ اپنے مقصد پیدائش کو پورا کرنے والے انسان کو انعامات سے نواز رہا ہے۔ انعامات کے لئے کوشش کرنی پڑتی ہے۔ انسان دنیا میں بھی انعامات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر روحانی انعامات حاصل کرنے کے لئے کیوں نہیں۔ جب ایسا پیار کرنے والا خدا ہو تو پھر کیا وجہ ہے کہ انسان اس کی عبادت نہ کرے، اس کا شکر گزار نہ ہو۔ آنحضرتﷺ کو کسی نے کہا کہ آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے انعامات دینے کا اعلان کر دیا ہے پھر آپ اتنی لمبی لمبی نمازیں کیوں پڑھتے ہیں؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ کیا میں خداتعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟

پس یہ اسوہ ہے جس پر چل کرہم اللہ تعالیٰ کے انعاموں کے حقیقی شکر گزار ہو سکتے ہیں۔ ہماری نمازوں کی کیفیت کیا ہونی چاہئے؟ نماز کی حرکات، اس کی مختلف حالتیں جو ہیں ان کی حکمت کیا ہے اور کس طرح ان حکمتوں کو سمجھتے ہوئے ان کو ادا کرنا چاہئے۔ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:

’’صَلی جلنے کوکہتے ہیں۔ جیسے کباب کو بھونا جاتا ہے اسی طرح نماز میں سوزش لازمی ہے۔ جب تک دل بریان نہ ہو نماز میں لذت اور سرور پیدا نہیں ہوتا اور اصل تو یہ ہے کہ نماز ہی اپنے سچے معنوں میں اس وقت ہوتی ہے‘‘۔ جب ایسی حالت پیدا ہو جائے۔ ’’ نماز میں یہ شرط ہے کہ وہ بجمیع شرائط ادا ہو۔ جب تک وہ ادا نہ ہو وہ نماز نہیں ہے اور نہ وہ کیفیت جو صلوٰۃ میں میل نما کی ہے حاصل ہوتی ہے۔ یاد رکھو صلوٰۃ میں حال اور قال دونوں کا جمع ہونا صروری ہے‘‘۔ یعنی پہلے تو یہ کہاکہ وہ کیفیت جو صحیح راستے دکھانے والی ہے، جہاں سے بنیاد شروع ہونی چاہئے وہ نہیں مل سکتی جب تک ساری شرائط پوری نہ ہوں۔ پھر فرمایا کہ ’’یادرکھو صلوٰۃ میں حال اور قال‘‘ یعنی تمہاری اپنی حالت اور جو تم کہہ رہے ہو’’ دونوں کا جمع ہونا ضروری ہے۔ بعض وقت اعلام تصویری ہوتا ہے۔ ایسی تصویر دکھائی جاتی ہے جس سے دیکھنے والے کو پتہ ملتا ہے کہ اس کامنشاء یہ ہے۔ ایسا ہی صلوۃ میں منشاء الٰہی کی تصویر ہے‘‘۔ یہ شکل جو اس کی بنتی ہے، تصویر دکھائی جاتی ہے اس سے صحیح صورت حال پتہ لگتی ہے اور حالتوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی جو مرضی ہے اس کی تصویر نماز میں ہے۔ ’’ نماز میں جیسے زبان سے کچھ پڑھاجاتاہے ویسے ہی اعضاء اور جوارح کی حرکات سے کچھ دکھایا بھی جاتا ہے‘‘۔ زبان سے جب نماز پڑھتے ہیں اسی طرح جو جسم کے اعضاء ہیں، حرکات ہیں، وہ ان سے دکھایا جاتا ہے۔ ’’جب انسان کھڑا ہوتا ہے تو تحمید اور تسبیح کرتا ہے اس کا نام قیام رکھا ہے۔ اب ہر ایک شخص جانتا ہے کہ حمد و ثناء کے مناسب حال قیام ہی ہے۔ بادشاہوں کے سامنے جب قصائد سنائے جاتے ہیں تو آخر کھڑے ہو کر ہی پیش کرتے ہیں۔ ادھر تو ظاہری طور پر قیام رکھا ہی ہے اور زبان سے حمدوثناء بھی رکھی ہے۔ مطلب اس کا یہی ہے کہ روحانی طور پر بھی اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہو۔ حمد ایک بات پر قائم ہو کر کی جاتی ہے۔ جو شخص مصدق ہو کر کسی کی تعریف کرتا ہے تو ایک رائے پر قائم ہو جاتا ہے‘‘۔ جب تعریف کی جاتی ہے تو کسی رائے پر قائم ہو کر کی جاتی ہے۔ فرمایا کہ جب کسی کی تصدیق کر رہے ہو، تصدیق کرتے ہوئے تعریف کر رہے ہو تو وہ کسی رائے پر قائم ہونے کے بعد ہوتی ہے۔ ’’اس الحمد للہ کہنے والے کے واسطے یہ ضروری ہوا کہ وہ سچے طورپر الحمدللہ اسی وقت کہہ سکتا ہے کہ پورے طور پر اس کو یقین ہو جائے کہ جمیع اقسام محامد کے اللہ تعالیٰ کے ہی لئے ہیں ‘‘۔ تمام قسم کی جو تعریفیں ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں۔ تبھی الحمدللہ صحیح طرح کہہ سکتا ہے۔ ’’ جب یہ بات دل میں انشراح کے ساتھ پیدا ہو گئی تو یہ روحانی قیام ہے کیونکہ دل اس پر قائم ہو جاتا ہے اور وہ سمجھا جاتا ہے کہ کھڑا ہے۔ حال کے موافق کھڑا ہو گیا تا کہ روحانی قیام نصیب ہو‘‘۔ دل بھی اس حالت کے مطابق کھڑا ہو گیا اور یہ روحانی قیام ہے، روحانیت کا کھڑا ہونا ہے۔ ’’پھر رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم کہتا ہے تو قاعدہ کی بات ہے کہ جب کسی کی عظمت مان لیتے ہیں تو اس کے حضور جھکتے ہیں۔ عظمت کا تقاضا ہے کہ اس کے لئے رکوع کرے۔ پس سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم زبان سے کہا اور حال سے جھکنا دکھایا‘‘۔ اللہ تعالیٰ کی زبان سے عظمت بیان کی، اور اپنی ظاہری حالت میں جھک کراس کا اظہار کیا۔ ’’ یہ اس قول کے ساتھ حال دکھایا۔ پھر تیسرا قول ہے کہ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی۔ اَعْلٰی اَفْعَلُ التَّفْضِیْل ہے، یہ بالذات سجدہ کو چاہتا ہے‘‘۔ اعلیٰ جو ہے وہ سب سے بڑی چیزہے اور یہ اپنی ذات میں سجدے کو چاہتا ہے۔ جو اعلیٰ چیز ہو اس کے سامنے سجدہ کیا جاتا ہے۔ ’’ اس لئے اس کے ساتھ حالی تصویر سجدہ میں گرے گا‘‘۔ یعنی اس وقت اپنا حال یہ ہو گا کہ زبان سیسُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہا ہے تو سجدہ میں بھی ساتھ ہی گر جائے کہ اللہ تعالیٰ سب سے اعلیٰ ہے اور میں اس اعلیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہوں۔ ’’اور اس اقرار کے مناسب حال ہیئت فی الفور اختیار کر لی‘‘ یعنی سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کا جو اقرار کیا وہی حالت اپنی اختیار کر لی۔ ’’اس قال کے ساتھ تین حال جسمانی ہیں‘‘۔ یعنی یہ جو باتیں کی گئیں، زبان سے الفاظ ادا کئے گئے ان کے ساتھ تین جسمانی حالتیں بھی ہیں۔ ’’ایک تصویر اس کے آگے پیش کی ہے۔ ہر ایک قسم کا قیام بھی کرتا ہے۔ زبان جو جسم کا ٹکڑا ہے، اس نے بھی کہا اور وہ شامل ہو گئی۔ تیسری چیز اور ہے‘‘۔ فرماتے ہیں، یہ دو چیزیں تو ہو گئیں۔ زبان بھی شامل ہو گئی۔ دعا کی اور اپنی ظاہری حالت جسم کی بھی وہ بنالی۔ کھڑے ہوئے تعریف کی، عظمت بیان کی، رکوع کیا، اللہ تعالیٰ کا اعلیٰ ہونا، ا فضل ترین ہونا بیان کیا تو سجدہ کیا، لیکن تیسری چیز ایک اور ہے اور وہ ہے، فرمایا کہ’’تیسری چیز اور ہے وہ اگر شامل نہ ہو تو نماز نہیں ہوتی۔ وہ کیا ہے؟‘‘ فرمایا: ’’وہ قلب ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ قلب کا قیام ہو اور اللہ تعالیٰ اس پر نظر کرکے دیکھے کہ درحقیقت وہ حمد بھی کرتا ہے اور کھڑا بھی ہے‘‘۔ تیسری چیزجو ہے وہ دل ہے۔ یہ ساری حرکتیں جب ہو رہی ہوں، زبان بھی اقرار کر رہی ہو، جسم بھی اظہار کر رہا ہو، تو دل میں بھی وہی کیفیت ہواور یہ جو کیفیت ہے وہ اللہ تعالیٰ کو نظرآرہی ہو۔ وہ دیکھے کہ درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کر رہاہے۔ اور کھڑاہے اسی طرح تعریف کرنے کے انداز میں۔ ’’اور روح بھی کھڑاہواحمدکرتاہے‘‘۔ دل بھی کھڑاہے، روح بھی کھڑا حمد کرتا ہے۔ ’’جسم ہی نہیں بلکہ روح بھی کھڑا ہے اور جب سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم کہتا ہے تو دیکھے کہ اتنا ہی نہیں کہ صرف عظمت کا اقرار ہی کیا ہے۔ نہیں، بلکہ ساتھ ہی جھکا بھی ہے‘‘۔ ظاہری حالت ہو گئی۔ ’’اور اس کے ساتھ ہی روح بھی جھک گیا ہے‘‘۔ روح میں بھی محسوس ہو کہ میں جھک گیا ہوں۔ ’’پھر تیسری نظر میں خدا کے حضور سجدے میں گرا ہے اس کی علو شان کو ملاحظہ میں لا کر اس کے ساتھ ہی دیکھے کہ روح بھی الوہیت کے آستانہ پر گرا ہوا ہے‘‘۔ زبان بھی الفاظ ادا کررہی ہے، جسم بھی اس طرح جھکا ہوا ہے اور دل کی بھی وہی کیفیت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے آگے بالکل سجدہ ریز ہوگیا ہے۔ ’’غرض یہ حالت جب تک پیدا نہ ہولے اس وقت تک مطمئن نہ ہو کیونکہ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ کے یہی معنی ہیں ‘‘۔ یہ ہر مومن کا کام ہے کہ یہ تین حالتیں اپنے اندر پیدا کرے۔ زبان جب بول رہی ہے توجسم سے اس کا اظہار ہو اور دل میں اس کو احساس ہو اور ایسا احساس کہ جس کو خداتعالیٰ پہچان سکے۔ تو فرمایا اگر یہ حالت نہیں ہے تواس وقت تک مطمئن نہیں ہونا اور یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ کے یہی معنی ہیں۔ ’’اگر یہ سوال ہو کہ یہ حالت پیدا کیونکر ہو؟‘‘ اب یہ سوال ہوگا کہ یہ حالت کس طرح پیدا ہو ’’تو اس کا جواب اتنا ہی ہے کہ نماز پر مداومت کی جائے اور وساوس اور شبہات سے پریشان نہ ہو‘‘۔ یعنی یہ حالت کس طرح اختیار کی جائے کہ نماز میں باقاعدگی ہو۔ پانچ نمازیں ہیں۔ پوری طرح نمازیں ادا کرنے کاجو حق ہے اس طرح ادا کی جائیں، کسی قسم کے وسوسے اور شبہات جو دل میں پیدا ہوتے ہیں ان سے پریشان نہ ہو۔ ’’ابتدائی حالت میں شکوک و شبہات سے ایک جنگ ضرور ہوتی ہے اس کا علاج یہی ہے کہ نہ تھکنے والے استقلال اور صبر کے ساتھ لگا رہے اور خداتعالیٰ سے دعائیں مانگتا رہے، آخر وہ حالت پیدا ہوجاتی ہے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے‘‘۔ (الحکم جلدنمبر14۔ 17اپریل 1901ء صفحہ1)

شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ وسوسے پیدا ہوتے ہیں۔ دل کی کیفیت وہ پیدا نہیں ہوتی۔ ظاہری حالت اور زبان تو چل رہی ہوتی ہے لیکن دل میں وہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ فرمایا لیکن صبر سے، مستقل مزاجی سے دعاؤں میں لگا رہے، اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا رہے، اس سے نماز میں لذت و سرور حاصل کرنے کے لئے مانگتا رہے تو آخرکار ایک وقت آئے گا جب ایسی حالت پیدا ہو جائے گی۔

پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ:

’’نماز سے بڑھ کراور کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمد الٰہی ہے، استغفار ہے اور درود شریف۔ تمام وظائف اور اور اد کا مجموعہ یہی نماز ہے‘‘۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ کوئی وظیفہ۔ فرمایا سب سے بڑا وظیفہ نماز ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حمد بھی بیان ہوتی ہے، انسان استغفار بھی کرتا ہے، درود شریف بھی پڑھتا ہے اور یہی چیزیں ایسی ہیں جو دعاؤں کی قبولیت کا نشان دکھانے والی ہیں، وجہ بننے والی ہیں۔ فرمایا: ’’اور اس سے ہر قسم کے غم و ہم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتے ہیں۔ آنحضرتﷺ کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپ نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اور اسی لئے فرمایا اَ لَابِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ (الرعد: آیت 29) اطمینان، سکینت قلب کے لئے نماز سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں ‘‘۔ (الحکم جلد نمبر7۔ مورخہ31 مئی1903 ء صفحہ9)

پس یہ ہیں وہ معیار جو ہم نے حاصل کرنے ہیں کہ نہ صرف نمازوں میں باقاعدگی ہو بلکہ ہمارے جسم کا ہر ذرہ اور ہماری روح بھی اس کے آگے جھک جائے۔ ہمارے سینے سے ابل ابل کر وہ دعائیں نکلیں جو ہمیں خدا کا مقرب بنادیں۔ ہم اپنی ذات میں وہ انقلاب برپا ہوتا دیکھیں جس میں صرف اور صرف خدائے واحد کی رضا نظر آتی ہو۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم میں سے ہر ایک یہ نظارے دیکھنے والا ہو۔ آمین(الفضل انٹرنیشنل جلد نمبر 15 شمارہ نمبر 11 مورخہ 14 مارچ تا 20 مارچ 2008ء صفحہ 5 تا صفحہ 8)


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا خلاصہ
  • English اور دوسری زبانیں

  • 22؍ فروری 2008ء شہ سرخیاں

    فرمودہ مورخہ 22فروری 2008ء بمطابق22 تبلیغ 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لند ن (برطانیہ)

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور