اسلام کو بدنام کرنے اور قرآن اور آنحضرتﷺ کے خلاف مغرب کی ایک مہم

خطبہ جمعہ 29؍ فروری 2008ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے دوبارہ کھل کر اسلام پر حملے کئے جا رہے ہیں، آنحضرتﷺ کی ذات مبارک پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ قرآن کریم پر، اس کی تعلیم پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ کوشش یہ ہے کہ اسلام کو بدنام کیا جائے۔ وجہ کیا ہے؟ کیوں بدنام کیا جائے؟ اس لئے کہ یہ ایک ایسا مذہب ہے جو زمانے کی ضروریات پوری کرنے والا ہے اور قرآن کریم کی تعلیم کو دیکھ کر لوگوں کا رخ اسلام کی طرف ہو رہا ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ بعض جگہ بعض مسلمانوں کے عمل دیکھ کر لوگوں میں نفرت کے جذبات بھی ابھرتے ہیں لیکن یہ جو اسلام مخالف مہم شروع ہوئی ہے یا کوششیں ہو رہی ہیں، یہ کوششیں مذہب سے دلچسپی رکھنے والوں کو اسلام کی تعلیم دیکھنے اور سمجھنے کی طرف بھی مائل کر رہی ہیں، اس تعلیم کو جو قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے اتاری ہے۔ یہ تعلیم حقیقت پسندانہ اور فطرت کے مطابق ہے۔ ایسے لوگوں نے جو مذہب میں دلچسپی رکھتے ہیں جو خالی الذہن ہوتے ہیں، انہوں نے قرآن کریم کو پڑھ کر اس پر غور بھی کیا ہے۔ گو کہ صرف ترجمہ سے اس کی گہرائی کا علم نہیں ہوتا۔ ان پیغاموں کا پتہ نہیں چلتا جو قرآن کریم میں ہیں لیکن پھر بھی یہ ان کی کوشش ہوتی ہے۔ بعض جو سعید فطرت ہیں ان کو سمجھ بھی آجاتی ہے۔

گزشتہ دنوں اخبار میں ایک کالم تھا یہاں کی ایک خاتون ہیں رڈلی۔ اگر کوئی نام میں غلطی ہو توکیونکہ یہ اردو میں چھپا ہواتھا اس لئے غلطی کا امکان ہے۔ بہرحال وہ خاتون پیشے کے لحاظ سے صحافی ہیں اور اسی پیشے کی وجہ سے وہ افغانستان گئیں۔ وہاں عورتوں کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ بہرحال برقعہ پہن کر بھیس بدل کر وہاں گئیں۔ کچھ عرصہ کام کیا، پکڑی گئیں، آخر اس وعدے پر رہا ہوئیں کہ قرآن کریم پڑھیں گی۔ یہاں واپس آ گئیں، بھول گئیں لیکن پھر جو اسلام کے خلاف یہاں مہم شروع ہوئی، اس نے ان کو یاد کرایا کہ میں نے طالبان سے وعدہ کیا تھا کہ قرآن کریم پڑھوں گی۔ خیر اس خاتون نے قرآن کریم خریدا اور اس کو پڑھا اور اسے اس بات سے سخت دھچکا لگا کہ عورتوں سے سلوک کے بارے میں قرآن کریم کی جو تعلیم ہے اس میں، اور جو طالبان یا وہ لوگ جو اپنے آپ کو بہت اسلام پسند ظاہر کرتے ہیں ان کا عورتوں کے بارے میں جو سلوک ہے، اس میں بڑا فرق ہے۔ بہرحال قرآن کریم کو پڑ ھ کر، اس تعلیم کو پڑھ کر یہ مسلمان ہو گئیں اور مسلمان ہونے کی وجہ سے جب ان کو بڑا اچھا لا گیاتو ایک مسلمان ملک شاید قطر کے ایک میڈیا کے مالک نے ان کو اپنے پاس ملازم رکھ لیا۔ یہ یورپ کی پلی بڑھی تھیں، دنیاوی تعلیم بھی تھی تو انہوں نے جرنلزم میں، اپنی صحافت کے پیشے میں وہاں یہ پالیسی رکھی کہ حق کو حق کہنا ہے اور سچائی کو ظاہر کرنا ہے۔ کوئی بڑے سے بڑا بھی ہو تو اس کے خلاف حق بولنے سے نہیں رکنا۔ اس بات سے مالکان اور ان کے درمیان اختلاف ہو گیا اور ان کو فارغ کیا گیا۔ لیکن انہوں نے وہیں ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ کیا اور اپنے حق کے لئے لڑیں کہ عورت کے یہ یہ حقوق ہیں اور انصاف کا یہ یہ تقاضا ہے۔ آخروہ مقدمہ جیت گئیں۔ پھر ایک اور جگہ ملازم ہوئیں۔ وہاں سے بھی اسی بات پر نکالا گیا۔ وہاں بھی کیس لڑا۔ مقدمہ جیت گئیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مسلمان عورت کے جو حقوق ہیں اور ایک مسلمان کے جو حقوق ہیں، مسلمان حکومت کو اس کو ادا کرنا چاہئے۔ بہرحال یہ کیس وہ جیتتی رہیں اور اس بات پر ان کا ایمان جو بھی تھا، مزید مضبوط ہوتا رہا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کو پڑھ کر اس خاتون کا قرآن کریم پر ایمان بڑھا، باوجود اس کے کہ جو بہت سارے تجربات ان کے سامنے آئے وہ اس کے بالکل خلاف تھے۔ لیکن انہوں نے قرآن کریم کی تعلیم کو برا نہیں کہا۔ ان لوگوں کے خلاف جہاد کیا جو اس تعلیم کے خلاف جا رہے تھے۔ اس طرح کی مثالیں جب اسلام مخالف طبقے کے سامنے آتی ہیں تو ان کو فکر ہوتی ہے۔ اپنے مذہب سے انہیں لگاؤ ہو یا نہ ہو لیکن اسلام سے دشمنی انہیں ہر گھٹیا سے گھٹیا حرکت کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انبیاء کی جماعتوں سے اسی طرح ہوتا ہے اور اسلام کیونکہ عالمی مذہب ہے اس لئے سب سے بڑ ھ کر اس کے ساتھ ہوتا ہے۔

مکہ میں جب آنحضرتﷺ کے ساتھ چند لوگ تھے تو کفار مذاق اڑایا کرتے تھے۔ پھر جب قرآن کریم کی تعلیم نے ان میں سے سعید روحوں کے دلوں پر قبضہ کرنا شروع کیا تو پھر انہیں فکر پڑنی شروع ہوئی، پھر مخالفت شروع ہوئی۔ وہی عمر ؓ جو آنحضرتﷺ کے قتل کے درپہ تھے وہی عمرؓ قرآن کریم کی ایک آیت سن کر ہی اس قدر گھائل ہوئے کہ اپنا سر آنحضرتﷺ کے پاؤں میں رکھ دیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں وہ مقام عطا فرمایا کہ خلفاء راشدین میں سے دوسرے خلیفہ ہوئے۔ پس یہ چیزیں دیکھ کر کفار کی مخالفت بجا تھی۔ ان کو بھی نظر آ رہا تھا کہ یہ تھوڑے عرصہ میں ہمارے شہر پر قابض ہو جائیں گے۔ مکہ کی وجہ سے ان کی جو انفرادیت تھی وہ ختم ہو جائے گی۔ یہ تو ہماری نسلوں کو بھی اپنے اندر جذب کر لیں گے۔ پھراسلام کا پیغام مزید پھیلا۔ اس خوف کی وجہ سے مخالفت بھی شروع ہوئی۔ ہجرت کرنی پڑی۔ اسلام کا پیغام مزید دنیامیں پھیلتا چلا گیا۔ آنحضرتﷺ مدینہ گئے وہاں پیغام پھیلا تو یہودیوں نے اس بات کو محسوس کیا اور سمجھا کہ ہماری تو نسلیں بھی اب ان کی لپیٹ میں آتی چلی جائیں گی۔ پھر مزید وسعت ہوئی تو قیصر وکسریٰ کی حکومتیں بھی پریشان ہونے لگیں۔ وہ بھی سب اسلام کے خلاف صف آراء ہو گئیں۔ اور آج تمام دنیا کے مذاہب کے سرکردہ اس خوف سے کہ کہیں اسلام غلبہ حاصل نہ کر لے اسلام کے خلاف ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں کہ خود ان کے اندر رہنے والے اپنے شریف الطبع لوگوں نے ایسے ہتھکنڈوں کے خلاف آوازیں اٹھانی شروع کر دی ہیں۔ ہم یورپ میں اسلام کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو یورپ میں بسنے والے ہر شخص کی آواز سمجھ لیتے ہیں جبکہ یہ صورتحال نہیں ہے۔ ہر یور پین اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ لیکن ہمارا ردعمل بہت سخت ہوتا ہے۔ ا ن میں بھی ایسی تعداد ہے اور خاصی تعداد ہے جو ایسی حرکتوں کو پسند نہیں کرتی۔ مثلاً گزشتہ دنوں جو آنحضرتﷺ کی ذات مبارک پر حملے کئے گئے تھے اس کے خلاف ڈنمارک میں ہی وہاں کے مقامی غیر مسلموں نے آواز اٹھائی کہ یہ سب غیر اخلاقی اور انتہائی گری ہوئی حرکتیں ہیں جو کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اسی سوال کو اٹھایا جو میں گزشتہ خطبہ میں بیان کر چکا ہوں کہ جب قاتل پکڑے گئے تو پھر کارٹونوں کی اشاعت کا کیا مطلب تھا؟ اور پھر یہ کہ بغیر مقدمہ چلائے دو کو ملک بدر کرنے، ملک سے نکالنے کا حکم دے دیا اور ایک کو بری کر دیا۔ یہ کون سا انصاف ہے؟اس کا مطلب ہے کہ اندر کوئی بات تھی ہی نہیں۔ بہرحال ان میں سے آوازیں اٹھ رہی ہیں مثلاً ٹی وی چینلز نے ہمارے مشنریز کے انٹرویو ز لئے اور اس پہ اپنا اظہار بھی کیا۔ مثلاً ایک ڈینش خاتون جوٹی وی کے انٹرویو کے وقت مشن ہاؤس میں موجود تھیں، انہوں نے ٹی وی جرنلسٹ کے سامنے کھل کر کارٹونوں کی اشاعت پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ کارٹونوں کی اشاعت سے پہلے وہ بیرون ملک وزٹ کے دوران بڑے فخر اور خوشی سے بتایا کرتی تھیں کہ وہ ڈینش ہیں مگر اب وہ اپنے آپ کو ڈینش بتاتے ہوئے شرمندگی محسوس کریں گی۔ میں نے یہ رپورٹ وہاں سے منگوائی تھی۔ انہوں نے لکھا ہے کہ کارٹونوں کی دوبارہ اشاعت کے نتیجے میں بالعموم ڈینش عوام میں ایک مثبت سوچ بیدار ہو رہی ہے اور اس بات کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ کارٹونوں کی اشاعت محض پر وووکیشن (Provocation) ہے۔ اخبارات اور انٹرنیٹ میں اگر چہ مثبت اور منفی ملے جلے جذبات کا اظہار ہے تاہم انٹرنیٹ پر ایک مشہور گروپ ہے جس کا نام فیس بک (FaceBook) ہے۔ انہوں نے Sorry Muhammadکے نام سے آنحضرتﷺ سے معذرت کا سلسلہ شروع کیا ہے جس میں اب تک چھ ہزار سے زائد افراد شامل ہو چکے ہیں اور بڑی تعداد ہے جنہوں نے اپنی معذرت کا اظہار کیا ہے۔ گو اس کے مقابلے پہ دوسرے گروپ بھی ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔ ایک صاحب نے ایک تبصرے میں لکھا ہے کہ ڈنمارک کہاں ہے؟ ایک طرف تو ہم عراق اور افغانستان میں مسلمانوں کی مد د کے نام پر فوج بھیج رہے ہیں اور دوسری طرف یہاں کارٹون شائع کر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح کر رہے ہیں۔ پھر ایک نے طنزیہ انداز میں لکھا ہے کہ Moral اچھی بات ہے لیکن ڈبل Moral یقینا اور بھی اچھا ہونا چاہئے۔ پھر لکھتے ہیں کہ: میں ان دنوں اپنے ڈینش ہونے پر شرمندہ ہوں اور میں محسوس کرتا ہوں کہ اکثریت جو اس گروپ میں ہے وہ میری طرح جذبات رکھتے ہیں۔ پھر ایک نے لکھا ہے کہ میں امید کرتا ہوں کہ ڈینش جرنلسٹ آزادی رائے کے صحیح مفہوم کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ سے کاغذ، قلم اور دوات کو سوچ سمجھ کر استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔

ایک نے لکھا کہ یہ جو کچھ بھی ہے یہ آزادی اظہار کا غلط استعمال ہے۔

سب سے زیادہ شائع ہونے والے ایک اخبار ایویسن ڈی کے (Avisen D K) نے اپنی اشاعت 25فروری میں ایک صاحب کا یہ تبصرہ لکھا ہے کہ مجھے محمدؐ کے کارٹون کے مسئلہ پر اظہار کی اجازت دیجئے۔ میرے خیال میں یہ ایک وحشیانہ اور خبیثانہ حرکت ہے کہ اپنے کسی ہمسائے کے کارٹون بنا کر اپنے گھر کے سامنے لٹکائے جائیں جہاں وہ اسے دیکھ بھی سکتا ہو اور پھر منافقانہ طور پر یہ دعویٰ بھی کیا جائے کہ میں اپنے ہمسائے سے اچھا ہوں کیونکہ میں اس سے اپنے ہمسایہ کے طور پر محبت کرتا ہوں۔ پھر ایک تبصرہ ہے کہ اپنے ہمسائے کو دکھ دینے کی بات ہمیشہ بری ہے۔ اگر اسلام کے بارے میں کوئی تنقیدی بات کی جائے تو یہ تو بجا ہے مگر اس طرح خاکوں کی اشاعت تو محض کسی کو دکھ دینا ہے۔

پھر Kristelig Dagblad ایک مذہبی اخبار میں ایک ڈینش کا تبصرہ شائع ہوا ہے کہ آزادی ضمیر کو خطرہ مسلمانوں کی طرف سے نہیں بلکہ پریس ‘ منسٹرز اور سیاستدانوں کی طرف سے ہے کیونکہ وہ اس کے ردعمل کے طور پر مسلمانوں کو آزادی رائے کا حق دینے کو تیار نہیں۔ پھر ایک صاحب جو عیسائی کمیونٹی کی ورکنگ کمیٹی کے ممبر ہیں، انہوں نے بائبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کارٹون کی اشاعت عیسائیت کی تعلیم کے بھی سراسر منافی ہے۔ نیز لکھا کہ: ایسی حرکات کو محض حماقت کے نام سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ ڈینش محاور ہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ کوئی عہدہ دیتا ہے تو اس کو عقل بھی دیتا ہے۔ یہ لکھنے کے بعد کہتے ہیں : اس قسم کی حرکات کو دیکھ کر اہل حل و عقد میں عقل کی کمی نظر آتی ہے۔

اس طرح کے بے شمار تبصرے ہیں جو انہوں نے کئے۔ یہ جو اسلام کے خلاف مہم ہے اس میں جیسا کہ ان تراشوں سے پتہ چلتا ہے بہت سے شرفاء شامل نہیں۔ یہ ایک بہت بڑی مہم ہے اس میں صرف ایک آدھ کارٹونسٹ یا چند ممبر پارلیمنٹ یا سیاسی لیڈر بننے کا شوق رکھنے والوں کا ہاتھ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک گہری سازش ہے اور اس کے پیچھے بڑی طاقتیں ہیں جو اسلام کی تعلیم سے خوفزدہ ہیں۔ جو اپنے عوام کو یہ سمجھنے ہی نہیں دینا چاہتیں کہ اسلام کی تعلیم کیا ہے۔ جو مذہب کے نام پر اصل میں اپنی برتری قائم کرنا چاہتی ہیں۔ جو اسلام سے پندرہ سوسال پرانی دشمنی کا اظہار بڑے منصوبے سے کر رہی ہیں۔ جو عاجز بندے کو خدا کے مقابلے پر کھڑا کر کے شرک کو دنیا میں قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس میں ہر طرح کے لوگ شامل ہیں۔ اور اسی وجہ سے پھر دباؤ ڈالا گیا۔ ہمارا جو عربی چینل بند کیا گیا تھا، اس کے پیچھے عیسائیوں کا بہت بڑا ہاتھ تھا جنہوں نے بڑی حکومتوں کے ذریعہ سے دباؤ ڈلوایا تھا۔ تو ایسے جو لوگ ہیں وہ بھلا اسلام کی شرک سے پاک تعلیم اور عین فطرت انسانی کے مطابق تعلیم کو کس طرح پنپنے دے سکتے ہیں۔ جبکہ یہ لوگ چاہے وہ مذہب کی آڑ میں کریں یا سیاست کی آڑ میں کریں، آجکل دنیا کا اِلٰہ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دنیا کا معبود بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ د نیا کا مالک بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دنیا کا رب بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پس یہ بڑے دماغ اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ جنہیں خطرہ ہے کہ اسلام اگر پھیل گیا تو دوسرے مذاہب کی حیثیت معمولی رہ جائے گی۔ لیکن یہ ان کی سوچیں ہیں، جو چاہیں کر لیں۔ اسلام کا مقدر تو اب پھیلنا ہے اور انشاء اللہ اس نے پھیلنا ہے لیکن نہ کسی قسم کی دہشت گردی سے، نہ کسی قسم کی عسکریت سے بلکہ مسیح و مہدی کے ذریعہ سے، اس پیغام کے ذریعہ سے جو قرآن کریم میں پیار و محبت پھیلانے کیلئے دیا گیا ہے اور دین فطرت کے اظہار کے ذریعہ سے۔ پس چاہئے کہ ہم میں سے ہر ایک کوشش کرے کہ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں۔ یہ اخبار جتنی چاہے کوششیں کرلیں یا ان کے ممبر پارلیمنٹ جتنی چاہے کوششیں کر لیں یا حکومتیں جتنی چاہے کوششیں کر لیں یا دوسرے مذاہب کے جو رہنما ہیں وہ بھی جتنی چاہے کوششیں کر لیں، اللہ تعالیٰ نے جو مقدرکر دیا ہے وہ اب رک نہیں سکتا۔

گزشتہ دنوں ہالینڈ کے ممبر پارلیمنٹ جو اپنی پارٹی بنا رہے ہیں، ان کو ان کی پارٹی سے صرف اس وجہ سے نکال دیا گیا کہ ان میں مسلمانوں کے خلاف بڑی شدت پسندی تھی۔ اور اسلام کے خلاف یہ بڑے گرمجوش ہیں۔ انہوں نے پھر ایک بیان دیا جو آنحضرتﷺ کی ذات مبارک کے بارے میں تھا۔ بڑا توہین آمیز بیان تھا۔ دوہرانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم کے بارے میں نہایت نامناسب اور توہین آمیز بیان دیا۔ اور یہ اسلام دشمنی میں اس حد تک بڑھے ہوئے ہیں کہ جو ڈنمارک کے کارٹون چھپے ان کو اپنی ویب سائٹ پر لگایا اور پھر اس کی بڑی تعریف کی۔ بہرحال اللہ تعالیٰ خود ان سے نپٹے گا۔ قرآن کریم کے بارے میں جو بیان ہے اس میں لکھتے ہیں کہ (رپورٹ جو منگوائی تھی یہ اس کا ترجمہ ہے) قرآن مجید دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے۔ اس لئے اس پر پابندی لگانی چاہئے اور نعوذ باللہ آدھا قرآن پھاڑ کر پھینک دینا چاہئے۔ اس وقت یہ شخص قرآن کے خلاف فلم بھی بنا رہا ہے۔ پہلے ان کا ریلیز کرنے کا ارادہ تھا فی الحال نہیں کر سکے۔ بہت ساری مسلمان تنظیمیں حکومت کو لکھ بھی رہی ہیں اور جماعت بھی لکھ رہی ہے۔ فلم کا نام انہوں نے ’’فتنہ‘‘ رکھا ہے۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ تم اس میں دکھاؤ گے کیا ؟ تو کہتے ہیں کہ قرآن کا یہ حکم دکھاؤں گا کہ جب کافروں سے میدان جنگ میں ملو تو گردنیں کاٹو۔ اب جو حملہ آور ہو گا تو بہرحال دفاع کے لئے جنگ تو ہو گی۔ اور پھر یہ کہتے ہیں کہ دکھاؤں گا کہ عراق اور افغانستان میں اغوا کے بعد سر قلم کئے جاتے ہیں۔ بہرحال اس کے پیچھے بھی ایک بہت بڑا ہاتھ لگتا ہے۔ یہ ایک بڑی تنظیم کی سازش ہے لیکن وہاں بھی ردعمل ہو رہا ہے اور حکومت نے تمام مسلمانوں کے اماموں کے ساتھ، میئرزکے ذریعہ سے میٹنگیں بھی کی ہیں۔ جماعت نے بھی خط لکھے تھے اور ملکہ کویہاں سے خط لکھا تھا، کابینہ کے ممبران کو بھی خط لکھے تھے اور بڑا واضح طور پر لکھا تھا کہ جو ایسی منفی اور بے بنیاد حرکتیں ہیں اس سے ہمارا پر امن معاشرہ متاثر ہو گا۔ نیز خطوں کے ساتھ میرا پیس کانفرنس (Peace Conference) کا ایک ایڈریس بھی دیا ہے۔ بہرحال ممبر پارلیمنٹ اور کافی لوگوں نے اس پہ مثبت ردعمل ظاہرکیا ہے۔ سپیکر نے لکھا ہے کہ میں نے آپ کا خط تمام ممبران پارلیمنٹ کو تقسیم کروا دیا ہے اور ملکہ نے بھی اپنے کرسمس کے پیغام میں اس بات کا اظہار کیا کہ معاشرے میں بدامنی پھیلانے والے منفی بیانات سے جن سے کسی کی دلآزاری ہو، پرہیز کرنا چاہئے۔ اور اس نے یہ وزیر اعظم کو بھی پیغام بھجوایا۔ ولڈرز (Wilders)جس نے یہ مہم شروع کی تھی، اس نے یہ ملکہ کے خلاف بھی اب پارلیمنٹ میں بھیجا ہے کہ ملکہ نے میری طرف اشارہ کیا ہے اور ملکہ کا حکومت میں دخل بند ہونا چاہئے۔

بہرحال یہ ان کی کوششیں ہیں اللہ تعالیٰ انہی میں سے لوگ بھی پیدا کر رہا ہے جو رد بھی کرتے ہیں۔ بعض نیک فطرت ہیں بلکہ بہت ساری تعداد ہے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ نیک فطرتوں کی تعداد بڑھتی چلی جائے اور یہ باز آ جائیں ورنہ خدا کی تقدیر جب چاہتی ہے تو پھر اپنا کام کرتی ہے اور پھر کسی کو چھوڑتی نہیں۔ قرآن کریم پر حملہ کرتے ہوئے ایک کینیڈین عیسائی مشنری ڈان رچررڈسن (Don Richardson)نے ایک کتاب تین چارسال پہلے لکھی ہے جس کا نام ہے دی سیکرٹس آف قرآن (The Secrets of the Quran)۔ یہ بھی دل کے کینوں اور بغضوں سے بھری ہوئی کتاب ہے۔ قرآن کریم کی مختلف آیات کا ترجمہ لکھ کر پھر تبصرہ کیا ہے اور ہوشیاری یہ کی ہے کہ چند ایک آیات لے کرہر جگہ مختلف جوسات آٹھ ترجمے اس کو انگلش میں ملے وہ بیان کئے ہیں۔ چوہدری ظفراللہ خان صاحب کا جو ترجمہ قرآن ہے اس کا بھی کچھ حصہ لیا گیا ہے اور چوہدری صاحب کے ترجمہ پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ بائبل کے کرداروں کو عربی کی بجائے انگلش طرز پر بیان کیا گیاہے۔ لیکن حیرت ہے کہ طالوت کو بائبل کے لفظ کی بجائے عربی طرز پر لکھا ہے۔ یعنی طالوت کو طالوت ہی لکھا ہے اور نتیجہ اس کے بعد یہ نکالتا ہے کہ یہ اس لئے کیا ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرتﷺ کی غلطیوں کو غیر عرب لوگوں سے چھپایا جائے۔ یہ تو ہمارے ترجمے کا طریق ہے۔ اگر یہ اتنا ہی ایماندار ہے تو جو Five Volume Commentary ہے اس میں Foot Notes دئیے گئے ہیں اس کو بھی دیکھتا۔ چوہدری ظفراللہ خان صاحب کا ترجمہ تو میں نہیں دیکھ سکا لیکن جو کمنٹری ہے اس میں سورۃ البقرہ میں جہاں یہ آیت، حضرت داؤدؑ کے ضمن میں آتی ہے، وہاں نیچے Foot Notes میں بائبل کے جو الفاظ ہیں وہ بھی استعمال کئے گئے ہیں۔ کتاب پوری نہیں تھی کسی نے نوٹس بھیجے تھے اس لئے پورا تبصرہ تو نہیں ہو سکتا۔ بہرحال وہ کتاب میں نے منگوائی ہے۔ لیکن بظاہر اس سے جو بھی میں نے چند ایک صفحے دیکھے ہیں یا کچھ کچھ اس میں پیرے دیکھے ہیں، اسلام کے خلاف کینہ اور بغض صاف جھلکتا ہے۔ پھر ایک جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ بہت سے آزاد خیال امریکن سمجھتے ہیں کہ 1.3بلین (Billion) مسلمان جو قرآن پر ایمان رکھتے ہیں تو یقینا اس میں پیغام صحیح اور سچا ہو گا۔ تبھی تو ایمان رکھتے ہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ یہ ان امریکنوں کی بھول ہے اسلام میں کوئی سچائی نہیں، قرآن میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ پھرصدر بش کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے آگے لکھتا ہے کہ صدر بش اچھے آدمی ہیں لیکن بہت سے مغربی لوگوں کی طرح اسلام کے بارے میں بالکل لا علم ہیں کیونکہ 9/11کے بعد انہوں نے کھلے عام دہشت گردوں کے خلاف جنگ کو کرو سیڈ (Crusade) کا نام دے دیا تھا۔ مذہبی جنگ کا نام دے دیا تھا۔ یہ ان کی سادگی ہے اور ان کے کسی مشیر نے ان کو مشورہ بھی نہیں دیا۔ خلاصہ آگے اس کا یہ بنتا ہے کہ بے شک یہ Crusade ہی سمجھتے لیکن کھلے عام نہ کہتے۔ کیونکہ اس سے پھر عیسائیت کا اس سے برا اثر پڑتا ہے۔

تو یہاں تک ان لوگوں کا اسلام کے خلاف اور قرآن کے خلاف بغض اور کینہ بھرا ہوا ہے لیکن ان سب اسلام دشمنوں اور قرآن کے مخالفین کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہی وہ تعلیم ہے جس کے بارے میں خدا تعالیٰ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غالب آنا ہے انشاء اللہ۔ یہ الٰہی تقدیر ہے اور اس کو ان کے دجل یا طاقت یا روپیہ یا پیسہ روک نہیں سکتے۔

لیکن افسوس ہوتا ہے بعض مسلمان حکومتوں پر بھی جو بظاہر مسلمان ہیں لیکن اپنے مقصد کو بھولی ہوئی ہیں، اپنی ظاہری شان وشوکت کی وجہ سے انجانے میں یا جان بوجھ کر اسلام کو کمزور کر رہی ہیں۔ صرف اس لئے کہ اپنی ظاہری شان وشوکت قائم رہے۔

ایک امریکن نے ایک کتاب میں اس کا ذکر کیا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس میں اسلامی ملکوں کے جو بعض سربراہ ہیں ان کا بھی ہاتھ ہے تاکہ جو دولت ہے وہ مغرب کے ہاتھ میں آ جائے اور اس میں سے اسلامی حکومتیں اپنا حصہ لیتی رہیں۔ یعنی وہ افراد حصہ لیتے رہیں۔ عوام کو تو پتہ ہی نہیں۔ ایسے لوگ جن کے دل کینوں سے پُر ہیں جو قرآن اس لئے کھولتے اور دیکھتے ہیں کہ اس میں اعتراض تلاش کئے جائیں۔ جن کے دل پتھروں کی طرح سخت ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ ان کو یہ تعلیم جو قرآن کی تعلیم ہے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ جن کے دل خود کینوں اور بغضوں سے بھرے ہوں، گند میں رہنے کے عادی ہوں اور اس گند میں رہنے پر پھر اصرار بھی ہو، وہ بھلا اس پاک چشمے سے کس طرح فیض پا سکتے ہیں۔ قرآن کریم میں تو خد اتعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّہٗ لَقُرْاٰنٌ کَرِیْمٌ۔ فِیْ کِتَابٍ مَّکْنُوْنٍ۔ لَایَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ (الواقعۃ : 78-80)کہ یقینا یہ ایک عزت والا قرآن ہے۔ ایک چھپی ہوئی کتاب میں محفوظ ہے۔ کوئی اسے چھو نہیں سکتا سوائے پاک کئے ہوئے لوگوں کے۔ ان آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَا اُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُوْمِ(الواقعہ:76)پس میں ستاروں کے جھرمٹ کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں۔ اس آیت کو بھی شامل کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان آیات کی وضاحت فرمائی ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ:

’’ میں مَوَاقِعِ النُّجُوْم کی قسم کھاتا ہوں‘‘ یعنی ستاروں کے جھرمٹ کی قسم کھاتا ہوں ’’اور یہ بڑی قسم ہے اگر تمہیں علم ہو۔ اور قسم اس بات پر ہے کہ یہ قرآن عظیم الشان کتاب ہے اور اس کی تعلیمات سنت اللہ کے مخالف نہیں۔ بلکہ اس کی تمام تعلیمات کتاب مکنون یعنی صحیفہ فطرت میں لکھی ہوئی ہیں ‘‘۔ ہر ایک انسان کی فطرت میں چھپی ہوئی ہیں۔ ’’اور اس کے دقائق کو وہی لوگ معلوم کرتے ہیں جو پاک کئے گئے ہیں‘‘۔ اگر اس کا علم ہے، اس کی گہرائی ہے تواس کو وہی لوگ معلوم کر سکتے ہیں جن کے دل پاک ہیں۔ ’’(اس جگہ اللہ جلّشانہ نے مَوَاقِعِ النُّجُوْم کی قسم کھا کر اس طرف اشارہ کیا کہ جیسے ستارے نہایت بلندی کی وجہ سے نقطوں کی طرح نظر آتے ہیں مگروہ اصل میں نقطوں کی طرح نہیں بلکہ بہت بڑے ہیں ایسا ہی قرآن کریم اپنی نہایت بلندی اور علو شان کی وجہ سے کم نظروں کے آنکھوں سے مخفی ہے اور جن کی غباردور ہو جاوے وہ ان کو دیکھتے ہیں اور اس آیت میں اللہ جلشانہ نے قرآن کریم کے دقائق عالیہ‘‘ یعنی بہت اعلیٰ قسم کے جو گہرے نکات ہیں ان ’’کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے جو خد اتعالیٰ کے خاص بندوں سے مخصوص ہیں جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے پاک کرتا ہے اور یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ اگر علم قرآن مخصوص بندوں سے خاص کیا گیا ہے تو دوسروں سے نافرمانی کی حالت میں کیونکر مواخذہ ہو گاکیونکہ قرآن کریم کی وہ تعلیم جو مدار ایمان ہے وہ عام فہم ہے جس کو ایک کافر بھی سمجھ سکتا ہے‘‘۔ گہرائی بھی ہے اور عام فہم بھی ہے جس کو اگر سمجھنا چاہے تو سمجھ سکتا ہے۔ ’’اور ایسی نہیں ہے کہ کسی پڑھنے والے سے مخفی رہ سکے اور اگروہ عام فہم نہ ہوتی تو کار خانہ تبلیغ ناقص رہ جاتا‘‘۔ اگر یہ ہوتا کہ قرآن کریم کی تعلیم عام فہم نہیں ہے، ہر ایک کو سمجھ نہیں آ سکتی گو اس کے بہت گہرے مطالب بھی ہیں لیکن اس کے ظاہری مطلب اس کی تعلیم میں ایسی چیزیں ہیں جو عام فہم ہیں، سمجھ آ جاتی ہے۔ اگر اس میں یہ نہ ہوتا تو فرمایا کہ’ ’’کارخانہ تبلیغ ناقص رہ جاتا‘‘۔ پھر تبلیغ کس طرح ہوتی؟ لوگوں کو سمجھاتے کس طرح؟ ہر ایک تو قرآن کریم کے علم کے اتنے گہرے معارف نہیں رکھتا۔ تو یہ ہر آدمی کو سمجھ بھی آتی ہے ’’مگر حقایقِ معارف چونکہ مدارِ ایمان نہیں صرف زیادتِ عرفان کے موجب ہیں اس لئے صرف خواص کو اس کوچہ میں راہ دیا ‘‘۔ جو خاص خاص باتیں ہیں، جومعرفت کی بہت گہری باتیں ہیں ان پرصرف مدار ایمان نہیں ہے۔ یا یہ کہ صرف ان کی وجہ سے ایمان مضبوط نہیں ہوتا۔ یہ تو صرف قرآن کریم کی تعلیم کا جو عرفان ہے اس میں زیادت کا موجب ہے۔ اس لئے صرف خواص کو اس کوچہ میں راہ دیا۔ صرف خاص خاص لوگوں کو اس کی باتیں سمجھائی گئی ہیں ’’کیونکہ وہ دراصل مواہب اور روحانی نعمتیں ہیں جو ایمان کے بعد کامل الایمان لوگوں کو ملا کرتی ہیں۔ ‘‘ (کرامات الصادقین۔ روحانی خزائن جلد7 صفحہ52-53)

فرماتے ہیں :

’’دنیاوی علوم کی تحصیل اور ان کی باریکیوں پر واقف ہونے کے لئے تقویٰ و طہارت کی ضرورت نہیں ہے ایک پلید سے پلید انسان خواہ کیسا ہی فاسق و فاجر ہو، ظالم ہو، وہ ان کو حاصل کر سکتا ہے۔ چوڑھے چمار بھی ڈگریاں پالیتے ہیں لیکن دینی علوم اس قسم کے نہیں ہیں کہ ہر ایک ان کو حاصل کر سکے۔ ان کی تحصیل کیلئے تقویٰ وطہارت کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَایَمَسُّہٗٓ اِلَّاالْمُطَہَّرُوْنَ(الواقعہ: 80)۔ پس جس شخص کو دینی علوم حاصل کرنے کی خواہش ہے اسے لازم ہے کہ تقویٰ میں ترقی کرے جس قدر وہ ترقی کرے گا اسی قدر لطیف دقائق اور حقائق اس پر کھلیں گے۔ ‘‘ (البدر جلد3نمبر2مورخہ8 جنوری 1904ء صفحہ3)

پہلی بات توایمان کی ہے۔ ایمان کی باتیں تو ثابت ہو جاتی ہیں۔ پھر اگر مزید معرفت حاصل کرنی ہے تو تقویٰ میں ترقی کرنی ہو گی۔ جوں جوں تقویٰ میں ترقی کرتا جائے گا مزید پاک ہو تا چلا جائے گا۔ قرآن کریم کا عرفان حاصل ہوتا چلا جائے گا۔ پس قرآن کریم ان لوگوں کو جو دور کھڑے اس تعلیم کو دیکھ رہے ہیں اور اپنے بغضوں اور کینوں کی وجہ سے قریب آنا بھی نہیں چاہتے۔ بلکہ دوسروں کو ورغلانے پر بھی تلے ہوئے ہیں۔ شیطان کا کردار جو اس نے کہاتھا کہ میں ہر راہ سے آؤں گا، ان لوگوں نے تووہ اختیار کیا ہوا ہے۔

پس قرآن کو سمجھنے کے لئے پہلے پاک دل ہونے کی بھی ضرورت ہے اور اس پاکی میں پھر انسان آگے بڑھتا جاتا ہے۔ اگر پاک دل ہوں گے تو پھر کچھ سمجھ آئے گی۔ پھر مزید عرفان حاصل کرنے کے لئے مزید تقویٰ میں ترقی کرنے کی ضرورت ہے۔ تو ایک انسان کا قرآن کریم سمجھنے کے لئے یہ معیار ہے۔ اب دیکھیں وہ خاتون بھی تھیں جس کا میں نے ذکر کیا ہے کہ قرآن کا ترجمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئیں۔ پتہ نہیں اس نے ترجمہ کس کا پڑھا تھا۔ کس حد تک وہ صحیح تھا لیکن بہرحال اس کے دل پر اثر ہوا۔ پس قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے پاک دل ہونا اور اس میں چھپے ہوئے موتیوں کو تلاش کرنا ضروری ہے۔ قریب آ کر دیکھنا بھی ضروری ہے لیکن اگر ان پادری صاحب کی طرح صرف اعتراض کے رنگ میں دیکھے گا تو پھر اسے کچھ نظر نہیں آئے گا۔ و ہ اس جاہل کی طرح ہے جو ستاروں کو دور سے دیکھ کر انہیں چھوٹا سا چمکتا ہوا نقطہ سمجھتا ہے۔ ایسے بے عقل لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادیا ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم ایسے حاسدوں، بغضوں اور کینوں سے بھرے ہوؤں اور ظالموں کو سوائے گھاٹے کے کسی چیز میں نہیں بڑھاتی۔ اس میں اگر شفاہے تو مومنین کے لئے ہے۔ اگر اس میں کوئی تعلیم ہے اور سبق ہے تو مومنین کے لئے ہے۔ اگر ان سے کوئی فیض پاتا ہے تو پاک دل مومن فیض پاتا ہے یا وہ فیض پانے کی کوشش کرتا ہے جو خالی الذہن ہو کر پھر اس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اگر اس سے کوئی اپنی روحانی میل دور کرتا ہے تو پاک دل مومن کرتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ{وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ھُوَ شِفَآئٌ وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَلَا یَزِیْدُالظّٰلِمِیْنَ اِلَّاخَسَارًا} (بنی اسرائیل:83) اور ہم قرآن میں سے وہ نازل کرتے ہیں جو شفا ہے اور مومنوں کے لئے رحمت ہے اور وہ ظالموں کو گھاٹے کے سوا کسی چیز میں نہیں بڑھاتا۔ پس یہ باتیں یعنی اسلام کی مخالف باتیں، جب ہم مخالفین اسلام اور مخالفین قرآن کے منہ سے سنتے ہیں تو یہ ہمارے ایمان میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ خد اتعالیٰ نے تو قرآن کریم میں پہلے ہی درج فرما دیا ہے۔ اگر پہلے انبیاء کے ذکر میں بعض باتیں بیان کی ہیں تو اس لئے کہ یہ ان انسانوں کی فطرت ہے جوشیطانوں کے چیلے ہیں وہی اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی فطرت ہے جو شیطان کے چیلے بنتے ہوئے قرآن میں نقص نکالتے ہیں۔ اگر کفار کے ذکر میں بیان ہے تو یہ پیشگوئی ہے کہ آئندہ بھی اس قسم کے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جو اپنی مخالفت میں اتنے اندھے ہو جائیں گے کہ بظاہر پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے اور ترقی یافتہ ملکوں کا شہری کہلانے کے اور مذہبی راہنما کہلانے کے باوجود، امن کے علمبردار کہلانے کے باوجود ایسی حرکتیں ضرور کریں گے جن سے یہ ظاہر ہو جائے کہ ان کی ظاہری حالتیں محض دھوکہ ہیں۔ یہ لوگ تو خود ایسے بیمار ہیں جن کی بیماریاں بڑھتی ہیں۔ یہ لوگ تو ایسے ہیں جو کبھی محسن انسانیت ؐ کی لائی ہوئی تعلیم سے فیضیاب نہیں ہو سکتے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کَمَا اَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ۔ الَّذِیْنَ جَعَلُواالْقُرْآنَ عِضِیْنَ۔ فَوَرَبِّکَ لَنَسْئَلَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ۔ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔ (الحجر:91-94) کہ اس عذاب سے جیسا ہم نے باہم بٹ جانے والوں پر نازل کیا تھا۔ کَمَا اَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ۔ جیسا ہم نے باہم بٹ جانے والوں پر نازل کیا تھا۔ جنہوں نے قرآن کو جھوٹی باتوں کا مجموعہ قرار دیا۔ فَوَرَبِّک لَنَسْئَلَنَّھُمْ اَجْمَعِیْن۔ پس تیرے رب کی قسم ہم یقینا ان سب سے ضرور پوچھیں گے۔ عَمَّاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔ اس کے متعلق جووہ کیا کرتے تھے۔ پس یہ اصول ہمیشہ کے لئے ہے صرف ان مکہ والوں کے لئے نہیں تھا جو آنحضرتﷺ کو تنگ کرنے میں ایک دوسرے سے بڑھ کر تھے۔ یہ نبیﷺ تمام زمانوں کے لئے ہے۔ پس آپؐ کو تکلیف پہنچانے والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک بھی ہمیشہ کے لئے ہے۔ کیا آج آنحضرتﷺ کی زندگی پراستہزاء کرنے والے یا قرآن کریم کی تعلیم کو نعوذباللہ جھوٹا کہنے والے اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچ جائیں گے جس کا اظہار اللہ تعالیٰ نے اپنے پیاروں کی غیرت رکھتے ہوئے ہمیشہ کیا ہے اور کرتا ہے؟ آج بھی دشمنوں کے اس گروہ نے آنحضرتﷺ کی ذات پر حملے کرنے کے لئے اپنے کام بانٹے ہوئے ہیں۔ ا ن کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے تاکہ مختلف صورتوں میں آپﷺ کو اور قرآن کریم کو تضحیک کا نشانہ بنایا جائے۔ کتابوں کے ذریعہ، اخباروں کے ذریعے، ٹی وی پروگراموں کے ذریعہ، اور اب جیسا کہ میں نے بتایا فلم کے ذریعہ سے یہ کوشش کی جا رہی ہے۔ تو انہوں نے آج یہ کام تقسیم کئے ہوئے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ قرآن کریم کی تعلیم جھوٹی ہے۔ کینیڈین پادری جس کا میں نے ذکر کیا ہے، اس کی کوشش اپنی کتاب میں یہی تھی اور یہی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ ان حرکتوں کی وجہ سے تم چھوڑے جاؤ گے۔ اس کے لئے تمہیں جوابدہ ہونا ہو گا۔ سزا کے لئے تیار ہونا ہو گا اگر اپنے رویے نہ بدلے۔ اور یہ سزا اللہ تعالیٰ کس طرح دے گا ؟وہ مالک ہے، اس کے اپنے طریقے ہیں۔ لیکن یہ اصولی بات ہے کہ وہ اپنے پیاروں کے لئے غیرت رکھتا ہے۔ اپنی شریعت کے لئے غیرت رکھتا ہے اور غیرت دکھاتا ہے۔ پس ان کے جو یہ عمل ہیں بغیر سزا کے چھوڑے نہیں جائیں گے اور جب سزا کا وقت آئے گا تو کوئی جھوٹا خدا ان کو نہیں بچا سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں لوگوں کو نصیحت کرنے کی طرف بار بار توجہ دلائی ہے۔ بار بار یہ اعلان کیا ہے کہ یہ قرآن آخری شرعی کتاب ہے اور یہ رسولﷺ آخری شرعی نبی ہیں اور تمام سابقہ انبیاء کی تعلیم کے اہم حصے اس قرآن میں سمو دئیے گئے ہیں۔ بلکہ بہت سی ایسی باتیں بھی اس میں شامل کر دی گئی ہیں جن کا پہلی کتابوں میں ذکر تک نہیں تھا۔ پس پھر بھی تم لوگوں کو یہ عقل نہیں آتی کہ اس پر غور کرو۔ اپنے دلوں کو پاک کرو، سوچو، دیکھو کہ اس کے گہرے مضامین کیا ہیں ؟ بجائے یہ کہنے کے کہ 1.3بلین مسلمانوں کو دیکھ کر کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ قرآن کریم کی تعلیم حقیقی اور سچی ہے۔ سوچنا چاہئے۔ سوچو اور غور کرو کہ یہ ایک واحد کتاب ہے جو اپنی اصلی حالت میں محفوظ ہے اور اللہ تعالیٰ کا اس کے ساتھ یہ وعدہ ہے کہ یہ محفوظ رہے گی۔

گزشتہ دنوں ایک خبریہ بھی آئی تھی کہ اب بعض جگہ لوگوں نے ایک نئی طرز پہ تحقیق شروع کی ہے۔ یہ لوگ ثابت کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں کہ قرآن کریم بھی اپنی اصلی حالت میں نہیں ہے۔ تو جتنی چاہے یہ کوششیں کرلیں اللہ تعالیٰ کے وعدے کو کبھی جھوٹا نہیں کر سکتے۔ اس لئے غلط راستوں پر چلنے کی بجائے اس نصیحت کی طرف توجہ دیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے{وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِفَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ} (القمر:18) اور یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت کی خاطر آسان بنا دیا۔ پس کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا ؟اس آیت کا سورۃ القمر میں ذکر ہے اور چار دفعہ ذکر آیا ہے اور ہر دفعہ کے ذکر کے بعد کسی قوم کی تباہی کی خبر دی گئی ہے۔ پہلی مثال عاد کی دی گئی۔ دوسری مثال ثمود کی دی گئی۔ پھر لوط کی قوم کی دی گئی۔ پھر فرعون کی دی گئی۔ ان سب نے انبیاء کاانکار کیا، انہیں جھٹلایا۔ آخر اللہ تعالیٰ کی پکڑ کا سامنا کرنا پڑا۔ پس اللہ کے رحم کی جو نظر ہے اس سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ حد سے نہ بڑھیں۔ استہزاء میں بڑھنا اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑکاتا ہے۔ پس ہم ان لوگوں سے ہمدردی کے جذبات کے تحت کہتے ہیں کہ خدا کا خوف کریں۔ قرآن کی تعلیم تو تمام قسم کی تعلیموں اور ضابطۂ حیات کا مجموعہ ہے۔ روحانیت کے اعلیٰ معیاروں کی یہ تعلیم دیتی ہے۔ اخلاق کے اعلیٰ معیاروں کی تعلیم دیتی ہے۔ ہر معمولی عقل رکھنے والے اور اعلیٰ فہم و ادراک رکھنے والے کے لئے اس میں بیان ہے۔ پس اس میں ایک یہ بھی بات ہے کہ اگر تمہیں سمجھ نہیں آتی تو اعتراض کرنے کی بجائے اپنی عقلوں پر روؤ، نہ کہ قرآن پر اعتراض کرو۔ قرآن کی تعلیم تو انسانی فطرت کے عین مطابق ہے لیکن اس کو سمجھنے کے لئے پاک دل ہونا ضروری ہے اور ایک مزکی کی ضرورت ہے۔ آج جماعت احمدیہ ہے جو اس کا فہم و ادراک اس مُزکّی سے حاصل کر کے آگے پہنچاتی ہے۔ آؤ اس سے یہ فہم وادراک حاصل کر و۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عقل دے اور اس انجام سے محفوظ رکھے جس کی خدا تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی ہے۔ آجکل بہت دعاؤں کی ضرورت ہے۔ ا مت مسلمہ کے لئے بھی دعائیں کریں کہ اگر یہ اپنی رنجشیں چھوڑ کر ایک بڑے مقصد کے حصول کے لئے ایک ہو جائیں، اللہ تعالیٰ کے اشارے کو سمجھیں تو بہت سارے شر سے محفوظ رہیں گے۔ یہی چیز ہے جو ان حملہ آوروں کے حملوں سے ان کو محفوظ رکھے گی۔ اللہ تعالیٰ انہیں توفیق دے۔

ایک افسوسناک خبر کا بھی میں ذکر کرنا چاہتا ہوں مکرم بشارت احمد صاحب مغل جو کراچی کے رہنے والے تھے ان کو 24فروری کو کچھ افراد نے گولی مار کر شہید کر دیا۔ اِنَّا لِلِّٰہِ وَ ِانَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ پچاس سال ان کی عمر تھی۔ صبح چھ بجے یہ نماز فجر کے لئے جا رہے تھے مسجد نہیں پہنچے توتھوڑی دیر کے بعد ان کے بیٹے نے آ کر بتایا کہ میرے والد کو کسی نے گولی مار دی ہے۔ وہاں جو سڑک کی صفائی کرنے والے تھے اس نے بتایا کہ موٹر سائیکل پہ کچھ لوگ آئے تھے اور فائر کر کے، ان کو مار کر موٹر سائیکل پر بیٹھ کر دوڑ گئے۔ چار پانچ گولیاں ان کو لگیں۔ ا یک گولی گردن کے آر پار گزر گئی، دوسری چھاتی میں دل کے پاس لگی۔ ہسپتال لے جایا گیا لیکن بہرحال جانبر نہیں ہو سکے۔ مرحوم نے 1988ء میں اپنے خاندان، اپنی فیملی (بیوی بچوں ) سمیت بیعت کی تھی۔ وہیں کراچی میں کام کیا کرتے تھے۔ بڑے نڈر اور دلیر آدمی تھے۔ لوگوں کی ہر وقت بڑی مدد کرتے تھے۔ نمازوں کے بڑے پابند تھے۔ نمازوں پر لوگوں کو لے کر جایا کرتے تھے۔ نماز کے لئے، صبح فجر کی نماز پر خاص طور پر جاتے وقت ہر ایک کا دروازہ کھٹکھٹایا کرتے تھے۔ انہوں نے بڑی محنت سے وہاں منظور کالونی میں ایک خوبصورت مسجد بھی بنوائی ہے۔ ویسے یہ رہنے والے لاٹھیانوالہ فیصل آباد کے تھے۔ لیکن آجکل کراچی میں آباد تھے۔ موصی تھے۔ جنازہ ربوہ میں ہوا ہے۔ وہیں تدفین ہوئی ہے۔ ان کی اہلیہ کے علاوہ دو بیٹیاں او رپانچ بیٹے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند سے بلند تر کرتا چلا جائے اور ان کے بیوی بچوں کو صبر کی توفیق دے اور ان کے نیک نمونے قائم رکھنے کی توفیق دے۔ دشمنوں کو اپنی پکڑ میں لے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ ثانیہ کے درمیان میں فرمایا :

ایک بات رہ گئی تھی۔ ابھی نماز جمعہ کے بعد انشاء اللہ میں ان شہید کی نماز جنازہ پڑھاؤں گا۔

(الفضل انٹرنیشنل جلد نمبر 15 شمارہ نمبر 12 مورخہ 21 مارچ تا 27 مارچ 2008ء صفحہ 5 تا 8)


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا خلاصہ
  • English اور دوسری زبانیں

  • 29؍ فروری 2008ء شہ سرخیاں

     ’’فتنہ ‘‘نامی فلم، دعاؤں کی تحریک

    فرمودہ مورخہ 29فروری 2008ء بمطابق29 تبلیغ 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لند ن (برطانیہ)

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور