صفت جبار، اصلاح اور اس کے متعلق ارشادات

خطبہ جمعہ 23؍ مئی 2008ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:

گزشتہ خطبہ میں مَیں نے لفظ جَبَّار کے حوالے سے اس لفظ کی وضاحت خداتعالیٰ کی ذات کے تعلق میں اور بندے کے تعلق میں کی تھی کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہو، اللہ تعالیٰ کی صفت کے طورپر استعمال ہوتو اس کا مطلب اصلاح کرنے والا ہوتا ہے۔ آنحضرتﷺ نے ہمیں یہ دعا بھی اِسی وجہ سے سکھائی ہے جو ہر مسلمان نماز پڑھتے ہوئے دو سجدوں کے درمیان پڑھتا ہے۔ ایک حدیث میں آتا ہے:۔ حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ دو سجدوں کے درمیان دعا کیا کرتے تھے کہ رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاجْبُرْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَارْفَعْنِیْ کہ اے میرے رب مجھے بخش دے۔ مجھ پر رحم فرما۔ وَاجْبُرْنِیْ اور میرے بگڑے کام سنوار دے۔ اور مجھے رزق عطا فرما۔ اور میرے درجات بلند فرما۔ (سنن ابن ماجہ۔ کتاب الصلوٰۃ باب مایقول بین السجدتین حدیث نمبر 898)

یعنی وَاجْبُرْنِی کے حوالے سے میرے روحانی، جسمانی، مادی، جتنے بھی معاملات ہیں ان کی اصلاح فرما اور میرے سب کام اس حوالے سے سنوارتا چلا جا۔ یہ دعا یقینا اس لئے آنحضرت ؐ نے ہمیں سکھائی تاکہ اللہ تعالیٰ کی اس صفت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی اصلاح کی بھیک خداتعالیٰ سے مانگیں اور اُس حالت سے بچنے کی کوشش کریں جب یہ خدا کو بھولنے والے انسان کو اس لفظ کے ان معانی کا حامل بنا دیتا ہے جس کے نتیجے میں انسان حد سے زیادہ بڑھنے والا، سختی کرنے والا، باغی اور سرکش ہو جاتا ہے۔ اور خاص طورپر نبیوں کی مخالفت کرنے والے اس زمرہ میں شمار ہوتے ہیں۔ اس وقت مَیں اصلاح کے حوالے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے چندالہامات اور اقتباسات پیش کروں گا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک الہام ہے کہ ’’تُوْبُوْا وَاَصْلِحُوْا وَاِلَی اللّٰہِ تَوَجَّہُوْا‘‘۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود اس کا ترجمہ فرمایا ہے’’توبہ کرو اور فسق و فجور اور کفر اور معصیت سے باز آؤ اور اپنے حال کی اصلاح کرواور خدا کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔ (تذکرہ صفحہ 63ایڈیشن چہارم مطبوعہ ربوہ)

یہ الہام 1883ء کا ہے۔ یعنی جب آپؑ نے پہلی بیعت لی ہے اس سے تقریباً چھ سال پہلے کا۔ اس میں زمانے کی حالت کا نقشہ بیان ہوتا ہے کہ اپنی اصلاح کے لئے خدا کی طرف توجہ کرو۔ اُس زمانے میں بھی جو دین کے ہمدرد تھے وہ اس بات سے فکر مند تھے کہ اسلام کی کیا حالت ہو رہی ہے۔ تو اس جری اللہ کے ذریعہ سے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ سے جسے اللہ تعالیٰ نے زمانے کی اصلاح کے لئے بھیجنا تھا یہ پیغام دیا کہ خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو۔ خداتعالیٰ کی رحمت جوش میں آ چکی ہے۔ جس مصلح کی پیشگوئی تھی جس مسیح و مہدی کے آنے کی پیشگوئی تھی وہ دعویٰ کرنے والا ہے اس کے آنے پر کفر نہ کرنا۔ آج بھی مسلمان فکر مندی کا اظہار کرتے ہیں۔ اس طرف توجہ کریں تو اللہ تعالیٰ کی راہنمائی حاصل ہو۔ آج مسلمانوں کی حالت اور زلزلوں اور آسمانی آفات پر صرف جوفکر ہے وہ کوئی فائدہ نہیں دے سکتی، اگر عملی حالتیں نہ بدلیں۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یہ خبر بھی اللہ تعالیٰ نے دی تھی کہ ’’اَ لَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا اُوْلٰٓئِکَ اَتُوْبُ عَلَیْھِمْ وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْم‘‘۔ جو لوگ توبہ کریں گے اور اپنی حالت کو درست کر لیں گے تب میں بھی ان کی طرف رجوع کروں گا اور میں توّاباور رحیم ہوں۔ (تذکرہ صفحہ 151-150 ایڈیشن چہارم۔ مطبوعہ ربوہ)

پس یہ مخالفین احمدیت کے لئے بھی قابل غور ہے کہ خداتعالیٰ کا وعدہ ہے۔ خداتعالیٰ سے کوئی لڑ نہیں سکتا۔ جماعت احمدیہ کی تاریخ اور جماعت کی ترقی اب ان مخالفین کے لئے کافی ہونی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی آنکھیں کھولے اور اب اس مخالفت سے باز آتے ہوئے اس مسیح و مہدی کے ہاتھ مضبوط کرنے کی اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کے ہر فرد کو توفیق دے تاکہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحم کی چادر میں آتے ہوئے اپنی دنیا و آخرت سنوارنے والے بنیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو امت محمدیہ کی حالت کی ایسی فکر تھی کہ ہر وقت اس راہ میں لگے ہوئے تھے۔ آنحضرتﷺ کے نام کی عزت و حرمت قائم کرنا آپؑ کی زندگی کا مقصد تھا اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایک یہ دعا بھی الہاماً آپؑ کو سکھائی رَبِّ اَصْلِحْ اُمَّۃَ مُحَمَّدٍ ؐ کہ اے میرے رب امت محمدیہ کی اصلاح کر۔ (تذکرہ صفحہ 37ایڈیشن چہارم۔ مطبوعہ ربوہ)

یقینا اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ جو آپؑ سے کیا، یہ دعا جو آپؑ کو سکھائی وہ اس لئے سکھائی کہ اس کی قبولیت ہو اور انشاء اللہ تعالیٰ ہم مایوس نہیں کہ امت محمدیہ بھی تمام کی تمام یا اکثریت اس مسیح محمدی کے جھنڈے تلے جمع ہو گی۔ قرائن بتا رہے ہیں کہ اب وہ وقت قریب ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے انشاء اللہ تعالیٰ یہ ہونے والا ہے۔ لیکن وہ علماء اور راہنما جو عوام الناس کی غلط راہنمائی کر رہے ہیں اُن کو فکر کرنی چاہئے کہ اگر وہ لوگ اپنی اصلاح نہ کریں تو اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آ سکتے ہیں۔ ایک طرف تو خود کہتے ہیں کہ زمانہ مسیح کی آمد کا منتظر ہے بلکہ بے چین ہے۔ لیکن جس کا دعویٰ ہے اسے نہ صرف خود قبول نہیں کر رہے بلکہ دوسروں کی غلط راہنمائی کررہے ہیں، ان کو بھی ورغلاتے اور ڈراتے ہیں۔ پاکستان کے ایک بہت بڑے عالم جو جماعت کی مخالفت میں بھی بڑھے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد اُن کا نام ہے وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ

’’اصل اور محکم اساس گزشتہ چار سو سال کی تاریخ پر قائم ہے جو گواہی دیتی ہے کہ پچھلی چار صدیوں کے دوران میں تجدید دین کا سارا کام برعظیم پاک و ہند میں ہوا اور اس عرصے میں تمام مجددین اعظم اس خطہ میں پیدا ہوئے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مشیت ایزدی اور حکمت خداوندی کا کوئی طویل المیعاد منصوبہ اس خطہ کے ساتھ وابستہ ہے۔ (مضمون ’’پاکستان کا مستقبل‘‘مطبوعہ نوائے وقت 16-07-1993)

انہوں نے بات کھل کر تو نہیں کی لیکن اس بیان سے صاف واضح ہے کہ ان کے نزدیک بھی خاتم الخلفاء اور مسیح موعود اس خطہ میں آنے کے آثار نظر آتے ہیں۔ اور یہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت جب ایک دعویٰ کرنے والے نے دعویٰ کر دیا ہے۔ آسمانی اور زمینی نشانات اس کی تائید میں کھڑے ہیں تو پھر آنکھیں بند کرکے اس کی مخالفت پر کیوں تلے ہوئے ہیں۔ اصل میں دنیاداری نے ان لوگوں کی آنکھوں پر پردے ڈالے ہوئے ہیں۔ اصل میں یہ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے پڑھ لکھ کر گنوایا ہے۔ بظاہر عالم ہیں لیکن خدا ئی اشاروں کو نہیں سمجھتے بلکہ دیکھنے کے باوجود انکار کرتے ہیں۔ اپنی آنکھوں سے یہ لوگ پردے اٹھانا نہیں چاہتے۔ یہ لوگ صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ (البقرۃ:19)کے مصداق بنے ہوئے ہیں۔ بہرے گونگے اور اندھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بظاہر علم کی روشنی دی ہے لیکن اس علم نے ان کو روشنی کا مینار بنانے کی بجائے مسیح موعود کی مخالفت کی وجہ سے بدترین مخلوق بنا دیا ہوا ہے۔ جیسا کہ اس زمانے کے بعض علماء کے بارہ میں حدیث بھی ہے۔ پس اگر ان کے دل صاف ہیں، اگر واقعی امت مسلمہ کا درد رکھتے ہیں تو خالص ہو کر اللہ تعالیٰ سے اپنی اصلاح اور راہنمائی کی دعامانگیں۔ ورنہ یہ خود بھی یونہی بھٹکتے رہیں گے اور اپنے پیچھے چلنے والوں کو بھی بھٹکاتے رہیں گے اور کوئی مسیح ان کی مسیحائی کے لئے نہیں آئے گا۔ اِن کو ان پریشانیوں سے نجات دلانے کے لئے نہیں آئے گا۔ اللہ تعالیٰ قوم کی بھی اصلاح کرے اور یہ سچے اور جھوٹے کا فرق پہچان سکیں۔ جیسا کہ مَیں نے کہا۔ اللہ تعالیٰ کی تائیدات واضح طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ نظر آرہی ہیں اور یہ خداتعالیٰ نے پہلے ہی آپ کو بتا دیا تھا اور آپؑ کو فتح و کامیابی کی خوشخبری دی تھی اور بے شمار دفعہ دی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی ایک خواب اور الہام کا ذکرکرتے ہوئے(یہ 1893ء کا ہے) فرماتے ہیں :

’’مَیں نے خواب میں دیکھا کہ اوّل گویا کوئی شخص مجھ کو کہتا ہے کہ میرا نام فتح اور ظفر ہے اور پھر یہ الفاظ زبان پر جاری ہوئے اَصْلَحَ اللّٰہُ اَمْرِیْ کُلَّہ‘‘۔ (ترجمہ از مرتب) یعنی خدا تعالیٰ میرے تمام کام درست کر دے۔ (تذکرہ صفحہ 202۔ ایڈیشن چہارم۔ مطبوعہ ربوہ)

کیاآپؑ کا یہ دعویٰ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے فتح و ظفر کی نوید سنائی ہے اور آپؑ کی وفات کے 100 سال کے بعد تک بھی اللہ تعالیٰ کا آپؑ کی جماعت کے ساتھ یہ سلوک کہ ترقی کی طرف جو منزلیں طے ہو رہی ہیں، اس بات کا کافی ثبوت نہیں ہے؟ یہ کافی دلیل نہیں ہے؟ کہ آپؑ ہی اس زمانے میں خداتعالیٰ کے سچے فرستادہ ہیں۔ اللہ دُنیا کی آنکھیں کھولے اور وہ کسی تباہی کو آواز دینے کی بجائے جلد قبول کرنے والوں میں شامل ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک الہام ہے کہ اَصْلِحْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ اِخْوَتِیْ۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ: یہ الہام کہ اَصْلِحْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ اِخْوَتِیْ اس کے یہ معنے ہیں کہ اے میرے خدا مجھ میں اور میر ے بھائیوں میں اصلاح کر۔ یہ الہام درحقیقت تتمّہ اُن الہامات کا معلوم ہوتا ہے جن میں خداتعالیٰ نے اُس مخالفت کا انجام بتلایا ہے۔ وہ الہام ہے۔ خَرُّوْاعَلَی الْا َذْقَانِ سُجَّدًا۔ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا اِنَّا کُنَّا خَاطِئِیْنَ۔ تَاللّٰہِ لَقَدْ آثَرَکَ اللّٰہُ عَلَیْنَا وَاِنْ کُنَّا لَخَاطِئِیْنَ۔ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُاللّٰہُ لَکُمْ وَھُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ۔

آپ ؑ خود لکھتے ہیں کہ: ’’یعنی بعض سخت مخالفوں کا یہ انجام ہو گا کہ وہ بعض نشان دیکھ کر خدا تعالیٰ کے سامنے سجدہ میں گریں گے کہ اے ہمارے خدا! ہمارے گناہ بخش۔ ہم خطا پر تھے۔ اور مجھے مخاطب کرکے کہیں گے (حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ مجھے مخاطب کرکے کہیں گے) کہ بخدا !خدا نے ہم پر تجھے فضیلت دی او رتجھے چن لیا اور ہم غلطی پر تھے کہ تیری مخالفت کی۔ اس کا جواب یہ ہو گا کہ آج تم پر کوئی سرزنش نہیں۔ خدا تمہیں بخش دے گا وہ ارحم الراحمین ہے۔ یہ اُس وقت ہو گا کہ جب بڑے بڑے نشان ظاہر ہوں گے۔ آخر سعید لوگوں کے دل کھل جائیں گے اور وہ دل میں کہیں گے کہ کیا کوئی سچا مسیح اس سے زیادہ نشان دکھلا سکتا ہے یا اس سے زیادہ اس کی نصرت اور تائید ہو سکتی تھی۔ تب یک دفعہ غیب سے قبول کے لئے ان میں طاقت پیدا ہوجائے گی اور وہ حق کو قبول کرلیں گے۔ (تذکرہ صفحہ 605۔ ایڈیشن چہارم۔ مطبوعہ ربوہ)

ہم تو یہی دعا کرتے ہیں کہ خداتعالیٰ کسی کو بھی سخت نشان دکھانے سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پہچاننے کی عقل عطا فرمائے۔ آپؑ کو ماننے کی توفیق عطا فرمائے اور وہ حق کو قبول کرنے والے بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ (ابراھیم:16) اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے فتح مانگی اور ہر جابر دشمن ہلاک ہو گیا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ’’یہ سنت اللہ ہے کہ مامور من اللہ ستائے جاتے ہیں، دکھ دئیے جاتے ہیں۔ مشکل پر مشکل ان کے سامنے آتی ہے۔ نہ اس لئے کہ وہ ہلاک ہو جائیں بلکہ اس لئے کہ نصرت الٰہی کو جذب کریں۔ یہی وجہ تھی کہ آپؐ کی مکّی زندگی مدنی زندگی کے بالمقابل دراز ہے‘‘۔ یعنی لمبی ہے۔ ’’چنانچہ مکّہ میں تیرہ برس گزرے اور مدینہ میں دس برس۔ جیسا کہ اس آیت سے پایاجاتا ہے ہر نبی اور مامور من اللہ کے ساتھ یہی حال ہوا ہے کہ اوائل میں دکھ دیا گیا ہے۔ مکاّر، فریبی، دکاندار اور کیا کیا کہا گیا ہے‘‘۔ یہی کچھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کہا گیا اور کہا جاتا ہے۔ ’’کوئی برانام نہیں ہوتا جو ان کا نہیں رکھا جاتا۔ وہ نبی اور مامور ہر ایک بات کی برداشت کرتے اور ہر دکھ کو سہہ لیتے ہیں۔ لیکن جب انتہا ہو جاتی ہے توپھر بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لئے دوسری قوت ظہور پکڑتی ہے۔ اسی طرح پر رسول اللہﷺ کو ہر قسم کا دکھ دیا گیا ہے اور ہر قسم کا برا نام آپؐ کا رکھا گیا ہے۔ آخر آپؐ کی توجہ نے زور مارا اور وہ انتہا تک پہنچی جیسا اِسْتَفْتَحُوْاسے پایا جاتا ہے اور نتیجہ یہ ہوا وَخَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ(ابراھیم:15) تمام شریروں اور شرارتوں کے منصوبے کرنے والوں کا خاتمہ ہو گیا۔ یہ توجہ مخالفوں کی شرارتوں کے انتہاء پر ہوتی ہے کیونکہ اگر اوّل ہی ہو تو پھر خاتمہ ہو جاتا ہے۔ مکّہ کی زندگی میں حضرت احدیت کے حضور گرنا اور چلاّنا تھا جو اس حالت تک پہنچ چکا تھا کہ دیکھنے والوں اور سننے والوں کے بدن پر لرزہ پڑ جاتا ہے۔ مگر آخر مدنی زندگی کے جلال کو دیکھو کہ وہ جو شرارتوں میں سرگرم اور قتل اور اخراج کے منصوبوں میں مصروف رہتے تھے سب کے سب ہلاک ہوئے اور باقیوں کو اس کے حضور عاجزی اور منت کے ساتھ اپنی خطاؤں کا اقرار کرکے معافی مانگنی پڑی۔ (ملفوظات جلد 1صفحہ424۔ جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

اللہ تعالیٰ امت مسلمہ پر بھی رحم کرے جس کی اکثریت اپنی اس تاریخ کو دیکھتے ہوئے، اپنے ان واقعات کو دیکھتے ہوئے مظلوم بننے کی بجائے ظالم بنتے ہوئے ظلم کے قریب جا رہی ہے اور امام وقت کو بھی نہیں پہچانتی۔ یہ مثال حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس لئے دی ہے کہ اس زمانے میں بھی یہی حال ہو رہا ہے۔ مسلمان مسیح و مہدی کو نہیں مان رہے۔ غیر مسلم آنحضرتﷺ کے متعلق جس طرح کر رہے ہیں یہ ساری چیزیں اگر اصلاح نہ ہو توہر مذہب اور ہر قوم کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :۔

’’خداتعالیٰ جانتا ہے کہ میں نہایت خیر خواہی سے کہہ رہاہوں۔ خواہ کوئی میری باتوں کو نیک ظنی سے سنے یا بدظنی سے، مگر مَیں کہوں گا کہ جو شخص مصلح بننا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ پہلے خود ر وشن ہو اور اپنی اصلاح کرے …‘‘۔ یہ جو آجکل اصلاح کرنے والے بنے ہوئے ہیں ان کو یاد رکھنا چاہئے۔

’’……دیکھو یہ سورج جو روشن ہے پہلے اس نے خود روشنی حاصل کی ہے۔ مَیں یقینا سمجھتا ہوں کہ ہر ایک قوم کے معلم نے یہی تعلیم دی ہے لیکن اب دوسرے پر لاٹھی مارنا آسان ہے لیکن اپنی قربانی دینا مشکل ہو گیا ہے۔ پس جو چاہتا ہے کہ قوم کی اصلاح کرے اور خیر خواہی کرے وہ اس کو اپنی اصلاح سے شروع کرے۔ قدیم زمانے کے رِشی اور اَوتار جنگلوں اور بَنوں میں جا کر اپنی اصلاح کیوں کرتے تھے۔ وہ آجکل کے لیکچراروں کی طرح زبان نہ کھولتے تھے جب تک خود عمل نہ کر لیتے تھے۔ یہی خداتعالیٰ کے قُرب اور محبت کی راہ ہے۔ جو شخص دل میں کچھ نہیں رکھتا اس کا بیان کرنا پرنالہ کے پانی کی طرح ہے جو جھگڑے پیدا کرتا ہے۔ اور جو نور معرفت اور عمل سے بھر کر بولتا ہے وہ بارش کی طرح ہے جو رحمت سمجھی جاتی ہے……۔ ‘‘

فرماتے ہیں کہ: ’’……میری نصیحت پر عمل کرو جو شخص خود زہر کھا چکا ہے وہ دوسروں کی زہر کا کیا علاج کرے گا۔ اگر علاج کرتا ہے تو خود بھی مرے گا اور دوسروں کو بھی ہلاک کرے گاکیونکہ زہر اس میں اثر کر چکا ہے۔ اور اس کے خواص چونکہ قائم نہیں رہے اس لئے اس کا علاج بجائے مفید ہونے کے مضر ہو گا۔ غرض جس قدر تفرقہ بڑھتا جاتا ہے اس کا باعث وہی لوگ ہیں جنہوں نے زبانوں کو تیز کرنا ہی سیکھا ہے۔ ‘‘ (ملفوظات جلد 4صفحہ 163-162۔ جدید ایڈیشن۔ مطبوعہ ربوہ)

پھر آپ فرماتے ہیں کہ:

’’میرے نزدیک پاک ہونے کا یہ عمدہ طریق ہے اور ممکن نہیں کہ اس سے بہتر کوئی اور طریق مل سکے کہ انسان کسی قسم کا تکبر اور فخر نہ کرے۔ نہ علمی، نہ خاندانی، نہ مالی۔ جب خداتعالیٰ کسی کو آنکھ عطا کرتا ہے تو دیکھ لیتا ہے کہ ہر ایک روشنی جو ان ظلمتوں سے نجات دے سکتی ہے وہ آسمان سے ہی آتی ہے اور انسان ہر وقت آسمانی روشنی کامحتاج ہے۔ آنکھ بھی دیکھ نہیں سکتی جب تک سورج کی روشنی جو آسمان سے آتی ہے نہ آئے۔ اسی طرح باطنی روشنی جو ہر ایک قسم کی ظلمت کو دُور کرتی ہے اور اس کی بجائے تقویٰ اور طہارت کا نور پیدا کرتی ہے آسمان ہی سے آتی ہے۔ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کاتقویٰ ایمان، عبادت، طہارت سب کچھ آسمان سے آتا ہے اور یہ خداتعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے۔ وہ چاہے تو اس کو قائم رکھے اور چاہے تو دور کر دے۔

پس سچی معرفت اسی کا نام ہے کہ انسان اپنے نفس کو مسلوب اور لاشی ٔ محض سمجھے (یعنی کچھ بھی نہ سمجھے)۔ اور آستانۂ الوہیت پر گر کر انکسار اور عجز کے ساتھ خداتعالیٰ کے فضل کو طلب کرے اور اس نور معرفت کو مانگے جو جذبات نفس کو جلا دیتا ہے اور اندر ایک روشنی اور نیکیوں کے لئے قوت اور حرارت پیدا کرتا ہے۔ پھر اگر اس کے فضل سے اس کو حصہ مل جاوے اور کسی وقت کسی قسم کا بسط اور شرحِ صدر حاصل ہو جاوے‘‘۔ (دل کی تسلی ہو جاوے) ’’تو اس پر تکبر اور ناز نہ کرے بلکہ اس کی فروتنی اور انکسار میں اور بھی ترقی ہو۔ کیونکہ جس قدر وہ اپنے آپ کو لاشئی سمجھے گا اسی قدر کیفیات اور انوار خدا تعالیٰ سے اتریں گے جو اس کو روشنی اور قوت پہنچائیں گے۔ اگر انسان یہ عقیدہ رکھے گا تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی اخلاقی حالت عمدہ ہو جائے گی۔ دنیا میں اپنے آپ کو کچھ سمجھنا بھی تکبر ہے اور یہی حالت بنا دیتا ہے۔ پھر انسان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ دوسرے پر لعنت کرتا ہے اور اسے حقیر سمجھتا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد 4صفحہ213۔ جدید ایڈیشن۔ مطبوعہ ربوہ)

آجکل کے جو علماء ہیں ان کا یہی حال ہے۔ پس اپنی اصلاح کے لئے وہی طریق اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتائے گئے ہیں اور عاجزی اور انکساری کو اختیار کرتے ہوئے اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے ورنہ اگر اپنے زور بازو پر بھروسہ ہے اور اپنے علم کو ہی سب کچھ سمجھا جائے تو ایسے شخص پھر جابر اور سرکش تو کہلا سکتے ہیں، اصلاح یافتہ یا اللہ تعالیٰ کی صفت سے فیض نہیں پا سکتے۔

پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں :۔

’’اصلاح کا طریق ہمیشہ وہی مفید اور نتیجہ خیز ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کے اذن اور ایماء سے ہو۔ اگر ہر شخص کی خیالی تجویزوں اور منصوبوں سے بگڑی ہوئی قوموں کی اصلاح ہو سکتی تو پھر دنیا میں انبیاء علیہم السلام کے وجود کی کچھ حاجت نہ رہتی۔ جب تک کامل طور پر ایک مرض کی تشخیص نہ ہو اور پھر پورے وثوق کے ساتھ اس کا علاج معلوم نہ ہو لے کامیابی علاج میں نہیں ہو سکتی۔ اسلام کی جو حالت نازک ہو رہی ہے وہ ایسے ہی طبیبوں کی وجہ سے ہو رہی ہے جنہوں نے اس کی مرض کو تو تشخیص نہیں کیا اور جو علاج اپنے خیال میں گزرا اپنے مفاد کو مدنظر رکھ کر شروع کر دیا۔ مگر یقینا یاد رکھو کہ اس مرض اور علاج سے یہ لوگ محض ناواقف ہیں۔ اس کو وہی شناخت کرتا ہے جس کو خداتعالیٰ نے اسی غرض کے لئے بھیجا ہے اور وہ مَیں ہوں‘‘۔ (ملفوظات جلد2 صفحہ 343-344 مطبوعہ ربوہ)

آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’اس کو وہی شناخت کرتا ہے جس کو خداتعالیٰ نے اسی غرض کے لئے بھیجا ہے اور وہ مَیں ہوں‘‘۔

پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ:۔

’’خوب یاد رکھو کہ قلوب کی اصلاح اسی کا کام ہے جس نے قلوب کو پیدا کیا ہے۔ ‘‘ دلوں کی اصلاح اسی کا کام ہے جس نے دلوں کو پیدا کیا ہے۔ ’’نرے کلمات اور چرب زبانیاں اصلاح نہیں کر سکتیں بلکہ ان کلمات کے اندر ایک روح ہونی چاہئے۔ پس جس شخص نے قرآن شریف کو پڑھا اور اس نے اتنا بھی نہیں سمجھا کہ ہدایت آسمان سے آتی ہے تو اس نے کیا سمجھا؟ اَلَمْ یَاْ تِکُمْ نَذِیْرٌ (یعنی کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا) کا جب سوال ہو گا تو پتہ لگے گا۔ اصل بات یہ ہے کہ (فارسی کا ایک مصرعہ لکھا ہے کہ) ’’خدا را بخدا تواں شناخت‘‘ کہ خدا کو خدا کے ذریعہ ہی پہچانا جا سکتا ہے۔

آپؑ فرماتے ہیں :۔

’’اور یہ ذریعہ بغیر امام کے نہیں مل سکتا کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے تازہ بتازہ نشانوں کا مظہر اور اس کی تجلیات کا مورد ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ مَنْ لَمْ یَعْرِفْ اِمَامَ زَمَانِہٖ فَقَدْ مَاتَ مِیْتَۃَ الْجَاہِلِیَّۃِ۔ یعنی جس نے زمانے کے امام کو شناخت نہیں کیا وہ جہالت کی موت مر گیا۔ (الحکم جلد 9نمبر 18صفحہ 10مورخہ 24؍ مئی 1905ء)

اللہ تعالیٰ دنیاکو بھی اس امام کو ماننے کی توفیق دے تاکہ اللہ تعالیٰ کے انذار سے یہ لوگ بچ سکیں۔ بہت سے غیر از جماعت لوگ ہیں جو خطبہ سنتے ہیں اور اس کے بعد لکھتے بھی ہیں۔ بعض متأثر ہوتے ہیں لیکن خوف کی وجہ سے قبول نہیں کرسکتے۔ کئی ایسے ہیں جن کو ہمارے ایم ٹی اے کے ذریعہ سے بہت سے پروگرام سننے کی وجہ سے قبولیت کا اللہ تعالیٰ موقع بھی دے رہا ہے، فضل فرما رہا ہے۔ تو ان کو دنیا کے خوف کی بجائے اب زمانے کی آواز کو دیکھنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کی اس پکار کو سننا چاہئے جو مسیح و مہدی کے ذریعہ سے ان تک پہنچ رہی ہے۔ ہمیں بھی جو اس زمانے کے امام کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حقیقت میں اپنی اصلاح کی کوشش کرنے کی توفیق دے۔ عاجزی سے خداتعالیٰ کے حضور جھکنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے اس نور سے فیض پانے والے ہوں جو ہمارے دلوں کو ہمیشہ روشن رکھے۔

(الفضل انٹرنیشنل جلد نمبر 15 شمارہ نمبر24 مورخہ 13جون تا 19 جون2008ء صفحہ 5 تا صفحہ 7)


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا خلاصہ
  • خطبہ کا مکمل متن
  • English اور دوسری زبانیں

  • 23؍ مئی 2008ء شہ سرخیاں

    فرمودہ مورخہ 23؍مئی 2008ء بمطابق23؍ ہجرت 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ)

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور