اللہ تعالیٰ کی صفت الرافع۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے جسمانی رفع کا رد

خطبہ جمعہ 3؍ جولائی 2009ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:

رَفَعْ ایک لفظ ہے، گزشتہ دو تین خطبوں سے یہ ہی بیان کر رہا ہوں اس کے معنی اٹھانے اور بلند کرنے کے ہیں۔ یہ مادی چیزوں کی بلندی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور ناموری اور شہرت کا ذکر بلند کرنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور جیسا کہ ہمارا ایمان ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو اَلرَّافِع ہے جو ہر قسم کی بلندیوں کو عطا کرتی ہے۔ اس بات کا، اس صفت کا، مَیں گزشتہ خطبوں میں ذکر بھی کر چکا ہوں۔ اللہ تعالیٰ جہاں رَافِع ہے جو بلندیاں عطا فرماتا ہے وہاں وہ خود بھی اُن بلندیوں پر ہے جن کا احاطہ انسانی عقل نہیں کر سکتی۔ وہ باجود قریب ہونے کے دُور ہے اور باوجود ہر جگہ موجود ہونے کے بہت بلند ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے رَفِیْعُ الدَّرَجَات کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا قدر و مرتبت اور ہر لحاظ سے بہت بلندشان ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے درجات کی بلندی سب صفات کا وہ اعلیٰ ترین مقام ہے جن کا نہ صرف یہ کہ انسانی سوچ احاطہ نہیں کر سکتی بلکہ اس سے اَور بلند مقام کوئی ہو ہی نہیں سکتا اور اس وجہ سے وہ ربّ العرش بھی ہے۔ ایک انتہائی بلند مقام پر بیٹھاہوا ہے لیکن صرف عرش پر بیٹھ کر معاملات حل نہیں کر رہا۔ بلکہ ہر جگہ موجود بھی ہے جیسا کہ مَیں نے کہا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ’’عرش الٰہی ایک وراء الورٰی مخلوق ہے۔ (یعنی بہت دُور اور بلندی پہ چیز ہے جہاں تک نظر نہیں پہنچ سکتی۔ ) جو زمین سے اور آسمان سے بلکہ تمام جہات سے برابر ہے۔ یہ نہیں کہ نعوذ باللہ عرش الٰہی آسمان سے قریب ہے اور زمین سے دور ہے۔ (فرمایا) لعنتی ہے وہ شخص جو ایسا اعتقاد رکھتا ہے (کہ ایسا عرش ہے جو آسمان سے بھی قریب ہے اور زمین سے بھی قریب ہے۔ فرمایا کہ) عرش مقام تنزیہیہ ہے۔ (یعنی ہر ایک سے پاک چیز ہے) اور اسی لئے خدا ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے ھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ (الحدید: 5) (کہ تم جہاں بھی جاؤ وہ تمہارے ساتھ رہتا ہے) اور (پھر فرماتا ہے) مَا یَکُوْنُ مِنْ نَّجْوٰی ثَلٰـثَۃٍ اِلَّا ھُوَ رَابِعُھُمْ (المجادلہ: 8) (کوئی تین آدمی علیحدہ مشورہ کرنے والے نہیں ہوتے جبکہ ان میں وہ چوتھا ہوتا ہے۔ )اور (پھر) فرماتا ہے کہ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ (ق: 17) (اور ہم اس سے یعنی انسان سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ ) (ملفوظات جلد پنجم صفحہ491 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

پس جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے کلام سے ظاہر ہے جس کا بیان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے اس اقتباس میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ باوجود دُور ہونے کے انسان کے ہر وقت ساتھ ہے باوجود عرش پر بیٹھنے کے انتہائی قریب ہے۔ کوئی جگہ نہیں جہاں خدا موجودنہ ہو۔ بلکہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تو انسان کے شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور جو اس کے مقرب ہیں ان میں اس کی صفات زیادہ روشن نظر آتی ہیں اور ان میں ترقی ہوتی رہتی ہے۔ وہ ان کو اپنی قربت کا احساس دلاتا رہتا ہے۔ اپنی قربت کا پتہ دیتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہر دشمنوں سے بھی بچاتا ہے اور ان کے درجات بھی بلند فرماتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود جیسا کہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا عرش بہت بلند ہے جس تک کسی انسان کی پہنچ نہیں۔ اس مضمون کو ایک د وسری جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ:

’’اَللّٰہُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَہَا ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ (الرعد: 3)۔ تمہارا خد اوہ خدا ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستون کے بلند کیا جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو اور پھر اس نے عرش پر قرار پکڑا۔ اس آیت کے ظاہری معنی کی رو سے اس جگہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پہلے خدا کا عرش پر قرار نہ تھا اس کا یہی جواب ہے کہ عرش کوئی جسمانی چیز نہیں ہے بلکہ وراء لورٰی ہونے کی ایک حالت ہے جو اس کی صفت ہے پس جبکہ خدا نے زمین و آسمان اور ہر ایک چیز کو پیدا کیا اور ظلی طور پر اپنے نور سے سورج چاند اور ستاروں کو نور بخشا اور انسان کو بھی استعارے کے طور پر اپنی شکل پر پیدا کیا اور اپنے اخلاق کریمہ اس میں پھونک دئیے تو اس طور سے خدا نے اپنے لئے ایک تشبیہ قائم کی مگر چونکہ وہ ہر ایک تشبیہ سے پاک ہے اس لئے عرش پر قرار پکڑنے سے اپنے تنزہ کا ذکر کر دیا‘‘یعنی کہ بہت بلندی اور ہر عیب سے پاک ہونے کا ذکر کر دیا۔ خلاصہ یہ فرمایا ’’خلاصہ یہ کہ وہ سب کچھ پیدا کرکے پھر مخلوق کا عین نہیں بلکہ سب سے الگ اور وراء الورٰی مقام پر ہے۔ (چشمۂ معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 277)

وہ مخلوق کی طرح نہیں ہے وہ باوجود اس کے کہ اس نے صفات بھی دی ہے۔ پیدا بھی کیا انسان کو بہت اپنی صفات سے رنگین کیا بلکہ حکم دیا کہ اللہ کی صفات کا رنگ اختیار کرو۔ لیکن اس کے باوجود وہ بہت بلند مقام پر ہے۔ بلند شان والا ہے۔

پس یہ ہے ہمارا خدا جو تمام صفات کا حامل ہے، رفیع الدرجات ہے۔ عرش کا مالک ہے اور اس کے اس مقام کے باوجود اس کے شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے فرماتا ہے مَیں شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں اور باوجود شہ رگ سے زیادہ قریب ہونے کے انسان کی نظر اس تک نہیں پہنچ سکتی۔ بلکہ وہ خود اپنا جلوہ دکھا تاہے اپنے مقربین کو۔ جیسا وہ فرماتا ہے لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُوَھُوَیُدْرِکُ الْاَبْصَارُ(انعام: 104) یعنی نظریں اس تک نہیں پہنچ سکتیں اور وہ انسان کی نظر تک پہنچتا ہے۔ انسان نہ ہی اپنے علم کے زور سے اور نہ ہی اپنے رتبے اور مقام کی وجہ سے اس کو دیکھ سکتا ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ خود اپنا اظہار فرماتا ہے۔ پس خدا وہ ہے جو پردہ غیب میں ہے اور کبھی بھی کسی رنگ میں بھی اس کے مادی وجود کا تصور قائم نہیں ہو سکتا۔ جبکہ عیسائیوں نے اپنے غلط عقیدے کی وجہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جو خداتعالیٰ کے ایک برگزیدہ نبی تھے خدائی کا مقام دے دیا۔ خداتعالیٰ کا مقام تو بہت بلند اور ہر عیب سے پاک ہے۔ اس کو کسی کی حاجت نہیں جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارہ میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ وہ اور ان کی والدہ کھاناکھایا کرتے تھے۔ جہاں اس بات سے ان دونوں کے فوت ہونے کا پتہ چلتا ہے، وفات کا پتہ چلتا ہے وہاں یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ جس کو کھانے کی حاجت ہو، اپنی زندگی قائم رکھنے کے لئے وہ خدا کس طرح ہو سکتا ہے۔ دوسروں کی حاجات کس طرح پوری کر سکتا ہے اور اس طرح بے شمار باتیں ہیں اور دلیلیں ہیں جو ان کو ایک انسان ثابت کرتی ہیں۔ احمدیوں کے علاوہ یعنی احمدیوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد لاعلمی کی وجہ سے یا اپنے علماء کے پیچھے چل کر جن کو قرآن کریم کا صحیح فہم و ادراک نہیں قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ کے بارے میں جو الفاظ آئے ہیں رَافِعُکَ اِلَیَّ (آل عمران 56: ) یا رَفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ (النساء: 159) یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف ان کا رفع کر لیا۔ اس سے یہ مراد لیتے ہیں کہ گویا حضرت عیسیٰؑ اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے یا خداتعالیٰ نے انہیں اٹھا لیا اسی جسم کے ساتھ اور کسی و قت پھردنیا کی اصلاح کے لئے اتریں گے وہ۔ پہلے چودھویں صدی میں آنا تھا۔ اب وہ گزر گئی تو قیامت کے قریب آنے کا کہا جاتا ہے یا اور بہت ساری کہانیاں بیان کی جاتی ہیں۔ توبہرحال مسلمان نہیں جانتے کہ غیر ارادی طور پر اس غلط استنباط سے وہ عیسائیوں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔ کیونکہ اس بات کو لے کر عیسائی جو ہیں وہ حضرت عیسیٰؑ کی فوقیت آنحضرتﷺ پر ثابت کرتے ہیں۔ گو کہ اب بعض علماء اور بعض پڑھا لکھا طبقہ جو ہے بعض ملکوں میں، مسلمان ملکوں میں اس غلط مطلب کی اصلاح کرتے ہوئے یہ مانتے ہیں کہ ان آیات میں جو نئے الفاظ استعمال ہوئے ہیں سے یہ ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے۔

گزشتہ دنوں ایران کے صدر صاحب نے بھی ایک بیان دیا تھا جس میں انہوں نے عیسائیوں کو مخاطب کرکے جو بیان تھا اس سے یہی لگتا تھا کہ ان کے ذہن میں یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام وفات پا گئے ہیں۔ یا کم از کم وہ یہ سمجھتے ہیں۔ اس بیان میں انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام کی کوئی برائی نہیں بیان کی تھی بلکہ ان کی تعلیم کے حوالے سے عیسائیوں کو نصیحت کی تھی۔ قطع نظر اس کے کہ یہ صدر صاحب خود کس حد تک راہ ہدایت پر قائم ہیں، مَیں صرف اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ ان کے ذہن میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام کے فوت ہونے کا تصور ہے جو ان کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے۔

اسی طرح تُرکی میں ہمارے جو مبلغ ہیں جلال شمس صاحب، یہیں رہتے ہیں انہوں نے بتایا تُرکی میں جو قرآن کریم کے نئے تراجم شائع ہو رہے ہیں ان میں سے کئی قرآن کریم کے تراجم میں اب انہوں نے ان آیات کا ترجمہ حضرت عیسیٰؑ کی وفات بیان کیا ہے۔ لیکن ابھی بھی اُمّت مسلمہ میں رَفَعَ اِلَیَّ کے جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر جانے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

گزشتہ دنوں مجھے کسی نے لکھا تھا۔ یعنی مغربی ممالک سے کہ ایک زیر تبلیغ دوست ہیں وہ کہتے ہیں باقی تو سب کچھ ٹھیک ہے لیکن رَفع کے مسئلے پر ابھی تسلی نہیں ہوئی یہ جو تم لوگ دلیلیں دیتے ہو مجھے سمجھ نہیں آتیں۔ برصغیر اور اکثر مسلمان ممالک جو ہیں ان کا ایک بہت بڑا طبقہ جس کو مذہب سے دلچسپی ہے بشمول بعض عرب ممالک کے وہ مسلمان جو عربی بھی جانتے ہیں، عربی کے الفاظ کا فہم بھی زیادہ ہے۔ ان میں سے بہت سی اکثریت یہی کہتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام زندہ آسمان پر موجود ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا پاکستان سے ہمارے ایک دوست یہاں آئے تھے، غیر از جماعت۔ اکثر مختلف غیر از جماعت دوست ملنے آتے رہتے ہیں جن کے کچھ تعلقات ہیں، تعلق ہے یا کسی ذریعہ سے رابطہ ہوتا ہے۔ تو انہوں نے یہ کہا کہ قرآن کریم سے حضرت عیسیٰؑ کی وفات ثابت نہیں ہوتی۔ تو بہرحال جب مَیں نے ان کو آیات کا حوالہ دیا تو پھر وقت بھی تھوڑا تھا۔ یہ کہہ کر اٹھ کر چلے گئے کہ انشاء اللہ پھر آؤں گا تو بات کریں گے۔ لیکن بہرحال کئی ماہ گزر چکے ہیں ابھی تک تو وہ نہیں آئے۔ تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے لوگوں میں، مسلمانوں میں علماء نے یا غلط مفسرین نے اتنا زیادہ گھوٹ کر یہ پلا دیا ہے اور دلوں میں ڈال دیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعویٰ کے بعد زیادہ شدت سے ذہنوں میں ڈالا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام آسمان پر زندہ ہیں اور انہی کی بعثت ثانی ان کے اپنے وجود میں ہونی ہے۔ لیکن جو سعید فطرت ہیں وہ کسی مذہب کے بھی ہوں اللہ تعالیٰ ان کی راہنمائی فرماتا ہے۔

چند دن ہوئے ایک انگریز عیسائی دوست جو پی۔ ایچ۔ ڈی کر رہے ہیں یا کرلی ہے، سائنس کے مضمون کے سٹوڈنٹ ہیں، وہ ملنے آئے تھے۔ احمدیت سے بہت قریب ہیں، دلچسپی ہے ان کو احمدیت میں۔ انہوں نے یہ بتایا کہ وہ حضرت عیسیٰؑ کے خدا ہونے اور کفارہ والے جو نظریات ہیں ان کو نہیں مانتے اور اسی وجہ سے وہ اسلام کے قریب ہوئے ہیں۔ تو عیسائی جو نیک فطرت ہیں۔ وہ تو اس نظریہ کو، اپنے نظریہ کو غلط کرتے ہوئے اسلام کے قریب ہو رہے ہیں اور جن لوگوں کو اسلام کا دفاع کرنا چاہئے وہ مخالفین کے دلائل کو مضبوط کر رہے ہیں۔ تو اسی طرح جو بے شمار عیسائی ہیں اسلام میں احمدیت کے ذریعہ داخل ہوتے ہیں وہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ایک انسان اور ایک نبی مانتے ہیں۔ جو اپنے وقت میں آیا اور اپنی زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہوا۔

بہرحال جیسا کہ مَیں نے کہا مسلمان اپنے اس عقیدہ کی بنیاد قرآن کریم کی آیات پر رکھتے ہیں۔ یہ دو آیات مَیں پیش کرتا ہوں۔ لیکن اس کے بعد پھر ان کی جو تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلا م نے بیان فرمائی ہے اس میں سے کچھ تھوڑا سا حصہ بیان کروں گا۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسٰٓی اِنِّی مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاَحْکُمُ بَیْنَکُمْ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ(آل عمران: 56) اس کا ترجمہ ہے کہ جب اللہ نے کہا اے عیسیٰ یقینا مَیں تجھے وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف تیر ارفع کرنے والا ہوں اور تجھے ان لوگوں سے نتھار کر الگ کرنے والا ہوں جو کافر ہوئے اور ان لوگوں کو جنہوں نے تیری پیروی کی ہے ان لوگوں پر جنہوں نے انکار کیا ہے قیامت کے دن تک بالادست کرنے والا ہوں۔ فوقیت دینے والا ہوں۔ پھر میری طرف تمہارا لوٹ کر آنا ہے۔ اس کے بعد مَیں تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کروں گا جس میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔ یہ آل عمران کی آیت ہے۔

پھر دوسری جگہ فرمایا وَقَوْلِھِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسٰی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ۔ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَالَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا بَلْ رَفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا (النسآء: 159-158) اور ان کے قول کے سبب سے کہ یقینا مسیح عیسیٰ بن مریم کو جو اللہ کا رسول تھا قتل کر دیا ہے اور یقینا اسے قتل نہیں کر سکے اور نہ اسے صلیب دے کر مار سکے بلکہ ان پر معاملہ مشتبہ کر دیا گیا اور یقینا وہ لوگ جنہوں نے اس بارہ میں اختلاف کیا ہے اس کے متعلق شک میں مبتلا ہیں۔ ان کے پاس اس کا کوئی علم نہیں، سوائے ظن کی پیروی کرنے کے اور وہ یقینی طور پر اسے قتل نہ کر سکے بلکہ اللہ نے اپنی طرف اس کا رفع کر لیا اور یقینا اللہ کامل غلبہ والا اور بہت حکمت والا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس بارہ میں فرماتے ہیں کہ:

’’اس آیت میں خداتعالیٰ نے ترتیب وار اپنے تئیں فاعل ٹھہرا کر چار فعل اپنے یکے بعد دیگرے بیان کئے ہیں‘‘۔ (یعنی خداتعالیٰ نے یہ کام کرنے والا ٹھہرایا ہے اور وہ کام کیا کئے ہیں۔ وہ کون سے فعل تھے؟) فرماتا ہے’’اے عیسیٰ ! میں تجھے وفات دینے والا ہوں (پہلی بات یہ کہ مَیں وفات دینے والا ہوں، دوسری بات) اپنی طرف اٹھانے والا ہوں، (تیسرے) اور کفار کے الزاموں سے پاک کرنے والا ہوں اور (چوتھی بات) تیرے متبعین کو قیامت تک تیرے منکروں پر غلبہ دینے والا ہوں‘‘۔ (یہ بھی بعدمیں کسی وقت وضاحت کروں گا۔ بعضوں کے ذہنوں میں اس کا بھی سوال اٹھتا ہے اور ظاہر ہے)۔ فرماتے ہیں کہ:

’’اور ظاہر ہے کہ یہ ہر چہار فقرے ترتیب طبعی سے بیان کئے گئے ہیں‘‘۔ (جو ایک ترتیب ان کی ہونی چاہئے تھی اسی طرح بیان ہوئے ہیں )۔ ’’کیونکہ اس میں شک نہیں کہ جو شخص خدائے تعالیٰ کی طرف بلایا جاوے اور اِرْجِعِیٓ اِلٰی رَبِّکِ کی خبر اس کو پہنچ جائے پہلے اس کا وفات پا یا جانا ضروری ہے پھر بموجب آیت کریمہ اِرْجِعِیٓ اِلٰی رَبِّکِ اور حدیث صحیح کہ اس کا خدائے تعالیٰ کی طرف رفع ہوتا ہے اور وفات کے بعد مومن کی روح کا خداتعالیٰ کی طرف رفع لازمی ہے(خداتعالیٰ کی طرف رفع لازمی ہے) جس پر قرآن کریم اور احادیث صحیحہ ناطق ہیں‘‘۔ (ان کی تصدیق کرتی ہیں بہت ساری)۔ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 606)

یہ پہلے مَیں بیان کر دوں یہ جو حضرت مسیح موعودؑ نے مثال بیان فرمائی قرآن کریم کی ایک اور آیت اِرْجِعِیٓ اِلٰی رَبِّکِ کی یہ پوری آیت اس طرح سے ہے کہ اِرْجِعِیٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً (الفجر: 29) اور اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اس سے راضی رہتے ہوئے اپنے ربّ کی طرف لوٹ آ۔ اس سے راضی رہتے ہوئے اور اس کی رضا پاتے ہوئے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک دوسری جگہ اس کا مطلب بیان فرماتے ہیں کہ’’خداتعالیٰ نے مسیح کو موت دے کر پھر اپنی طرف اٹھا لیا۔ جیسا کہ عام محاورہ ہے کہ نیک بندوں کی نسبت جب وہ مر جاتے ہیں یہی کہا جاتا ہے کہ فلاں بزرگ کو خدا تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ جیسا کہ آیت اِرْجِعِیٓ اِلٰی رَبِّکِ اسی کی طرف اشارہ کررہی ہے۔ خداتعالیٰ تو ہر جگہ موجود اور حاضر ناظر ہے اور جسم اور جسمانی نہیں اور کوئی جہت نہیں رکھتا پھر کیونکر کہا جائے کہ جوشخص خداتعالیٰ کی طرف اٹھایا گیا ضرور اس کا جسم آسمان میں پہنچ گیا ہو گا۔ یہ بات کس قدر صداقت سے بعید ہے؟ راست باز لوگ روح اور روحانیت کی رو سے خداتعالیٰ کی طرف اٹھائے جا سکتے ہیں نہ یہ کہ ان کا گوشت اور پوست اور ان کی ہڈیاں خداتعالیٰ تک پہنچ جاتی ہیں‘‘۔ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3صفحہ 246-247)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو ہمیں علم کلام دیا ہے اسے مختلف ذریعوں سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ قرآن کریم کی آیات کی جو تفسیر فرمائی ہے وہ ایسی ہے کہ جب تک پاک دل ہو کر اس کو سمجھا نہ جائے غیروں کو سمجھ آ ہی نہیں سکتی۔ بہرحال جس نے سمجھنانہ ہو اور جس کو اللہ تعالیٰ بصیرت نہ عطا فرمائے اس کو وہ بہرحال سمجھ نہیں آئے گی۔ جیساکہ اس نے لکھا ہے سمجھ نہیں آ رہی مجھے۔ اسی اقتباس کو جو پڑھ رہا تھا جاری رکھتا ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پھر فرماتے ہیں کہ’’پھر بعد اس کے جو خداتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو فرمایا جو مَیں تجھے کفار کے الزاموں سے پاک کرنے والاہوں یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہود چاہتے تھے کہ حضرت عیسیٰؑ کو مصلوب کرکے اُس الزام کے نیچے داخل کریں جو توریت باب استثناء میں لکھا ہے جو مصلوب لعنتی اور خداتعالیٰ کی رحمت سے بے نصیب ہے جو عزت کے ساتھ خداتعالیٰ کی طرف اٹھایا نہیں جاتا۔ سو خداتعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ کو اس آیت میں بشارت دی کہ تو اپنی موت طبعی سے فوت ہو گا اور پھر عزت کے ساتھ میری طرف اٹھایا جائے گااور جو تیرے مصلوب کرنے کے لئے(تجھے صلیب دینے کے لئے) تیرے دشمن کوشش کر رہے ہیں ان کوششوں میں وہ ناکام رہیں گے۔ اور جن الزاموں کے قائم کرنے کے لئے وہ فکر میں ہیں ان تمام الزاموں سے مَیں تجھے پاک اور منزّا رکھوں گا۔ یعنی مصلوبیت اور اس کے بدنتائج سے‘‘ (صلیب دینے کا یہودیوں کا جو نظریہ تھا اس کے بدنتائج سے) جو لعنتی ہونا اور نبوت سے محروم ہونا اور رفع سے بے نصیب ہونا ہے (یعنی اپنے درجات بلند ہونا اور اللہ تعالیٰ کا قرب پانا ہے)’’او ر اس جگہ توفّٰی کے لفظ میں بھی مصلوبیت سے بچانے کے لئے ایک باریک اشارہ ہے کیونکہ توفی کے معنے پر غالب یہی بات ہے کہ موت طبعی سے وفات دی جائے۔ یعنی ایسی موت سے جو محض بیماری کی وجہ سے ہو نہ کسی ضرب سقطہ سے۔ اسی وجہ سے مفسرین صاحب کشوف وغیرہ اِنِّی مُتَوَفِّیْکَ کی یہ تفسیر لکھتے ہیں کہ اِنِّی مُمِیْتُکَ حَتْفَ اَنْفِکَ کسی چوٹ سے یا گرنے سے یا کسی وجہ سے جو وفات ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں ’’وہ وفات اس کے توفی کا لفظ نہیں آتا۔ بلکہ جو وفات طبعی موت سے وفات دی ہو وہی موت ہے جہاں یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ فرمایا ہاں یہ اشارہ آیت کے تیسرے فقرہ میں کہ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ہے اور بھی زیادہ ہے۔ غرض فقرہ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا جیسا کہ تیسرے مرتبہ پر بیان کیا گیا ہے ایسا ہی ترتیب طبعی کے لحاظ سے بھی تیسری مرتبہ پر ہے۔ (یعنی مَیں تجھے پاک کروں گا۔ بچاؤں گا ان لوگوں سے)۔ ’’کیونکہ جب کہ حضرت عیسیٰؑ کا موت طبعی کے بعدنبیوں او ر مقدسوں کے طور پر خداتعالیٰ کی طرف رفع ہو گیا تو بلاشبہ وہ کفار کے منصوبوں اور الزاموں سے بچائے گئے اور چوتھا فقرہ وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ جیسا کہ ترتیباً چوتھی جگہ قرآن کریم میں واقع ہے ایسا ہی طبعاً بھی چوتھی جگہ ہے کیونکہ حضرت عیسیٰؑ کے متبعین کا غلبہ ان سب امور کے بعد ہوا ہے سو یہ چار فقرے آیت موصوفہ بالا میں ترتیب طبعی سے واقع ہیں‘‘۔ (یہ قدرتی ترتیب ہے)’’اور یہی قرآن کریم کی شان بلاغت سے مناسب حال ہے۔ کیونکہ امور قابل بیان کا ترتیب طبعی سے بیان کرنا کمال بلاغت میں داخل ہے اور عین حکمت ہے‘‘۔ (قرآن کریم کی یہی شان ہے اور یہی اس کی بلاغت ہے اور یہی اس کا حکیم ہونا ہے یہ حکمت کی باتیں کرنا ہے کہ اس میں ترتیب پائی جاتی ہے ہر چیز میں )۔ ’’اسی وجہ سے ترتیب طبعی کا التزام تمام قرآن کریم میں پایا جاتا ہے۔ سورۃ فاتحہ میں ہی دیکھوکہ کیونکر پہلے ربّ العَالَمِیْن کا ذکر کیا پھر رحمن، پھر رحیم پھر مالِکِ یَوْمِ الدِّیْن اور کیونکر فیض کے سلسلے کو ترتیب وار عام فیض سے لے کراخصّ فیض تک پہنچایا‘‘۔ (ایک عام فیض ہے جو ہر ایک کے لئے ہے اور ایک خاص فیض ہے جو خاص لوگوں کے لئے ہے)۔ فرمایا’’غرض موافق عام طریق کامل البلاغہ قرآن کریم کی آیت موصوفہ بالا میں ہر چہار فقرے ترتیب طبعی سے بیان کئے گئے ہیں‘‘۔ (قرآن کریم جو ہے جو ایسی کامل کتاب ہے، فصاحت و بلاغت کا منبع ہے وہ اس کا جو عام طریق ہے اس کے مطابق ہی یہ ترتیب بھی بیان ہوئی ہے)۔ فرمایا کہ’’آیت موصوفہ بالا میں ہر چہار فقرے ترتیب طبعی سے بیان کئے گئے ہیں لیکن حال کے متعصب مُلّا جن کو یہودیوں کی طرز پر یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِہٖ‘‘ (یعنی الفاظ کو اپنی جگہ سے ادل بدل دیتے ہیں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) ’’کی عادت ہے اور جو مسیح ابن مریم کی حیات ثابت کرنے کے لئے بے طرح ہاتھ پیر مار رہے ہیں اور کلام الٰہی کی تحریف و تبدیل پر کمر باندھ لی ہے وہ نہایت تکلّف سے خدائے تعالیٰ کی ان چار ترتیب وار فقروں میں سے دو فقروں کی ترتیب طبعی سے منکر ہو کر بیٹھے ہیں یعنی کہتے ہیں کہ اگرچہ فقرہ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اور فقرہ وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکََ بترتیب طبعی واقعہ ہیں لیکن فقرہ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ اور فقرہ رَافِعُکَ اِلَیَّ ترتیب طبعی پر واقعہ نہیں‘‘۔ (پہلے دو فقرے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اور پھر فرمایا وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْق … جو آخر میں فرمایا۔ یہ تو فقرے کہتے ہیں ترتیب کے لحاظ سے ٹھیک ہیں۔ لیکن مُتَوَفِّیْکَ اور رَافِعُکَ اِلَیَّ یہ تو ترتیب صحیح نہیں ہے۔ بلکہ دراصل فقرہ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْک موخر اور فقرہ رَافِعُکَ اِلَیَّ مقدم ہے۔ یعنی مُتَوَفِّیْکَ بعد میں آنا چاہئے تھا یا ہے ان کے خیال میں اور رَافِعُکَ اِلَیَّ وہ پہلے ہونا چاہئے تھا اور ہے)۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ’’افسوس کہ ان لوگوں نے باوجود اس کے کہ کلام بلاغت نظام حضرت ذات اَحْسَنُ الْمُتَکَلِّمِیْن جل شانہ کو اپنی اصل وضع اور صورت اور ترتیب سے بدلا کر‘‘(یعنی یہ جو کلام ہے بلاغت بلیغ کلام جو اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو سب کلام کرنے والوں سے زیادہ خوبصورت کلام کرتا ہے اور جو بڑی شان والا ہے۔ اس کے بارہ میں فرماتے ہیں )کہ’’اس کو اپنی اصل وضع اور صورت اور ترتیب سے بدلا کر مسخ کر دیا (ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام کو تو مسخ کر دیا) اور چار فقروں میں سے دو فقروں کی ترتیب طبعی کو مسلّم رکھا اور دو فقروں کو دائرہ بلاغت اور فصاحت سے (خارج کر دیا۔ دو کے بارہ میں تو کہہ دیا کہ بڑی ٹھیک ٹھاک ہے ترتیب ان کی۔ اور جہاں چونکہ اپنی دلیل نہیں بنتی تھی اس لئے ان کی ترتیب بدل دی۔ ) خارج سمجھ کر اپنی طرف سے ان کی اصلاح کی۔ یعنی مقدم کو موخر کیا اور موخر کو مقدم کیا۔ (جو پہلے تھا اس کو بعد میں کر دیا اور جو بعد میں تھا اس کو پہلے کر دیا) ’’مگر باوجود اس قدر یہود یا نہ تحریف کے پھر بھی کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ اگرفرض کیا جائے کہ فقرہ اِنِّیْ رَافِعُکَ اِلَیَّ فقرہ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ پر مقدم سمجھنا چاہئے۔ تو پھر بھی اس سے محرفین کا مطلب نہیں نکلتا۔ کیونکہ اس صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گا کہ اے عیسیٰ میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور وفات دینے والا ہوں اور یہ معنی سراسر غلط ہیں۔ کیونکہ اس سے لازم آتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی آسمان پر ہی وفات ہو۔ وجہ یہ ہے کہ جب رفع کے بعد وفات دینے کا ذکر ہے اور نزول کا درمیان میں کہیں ذکر نہیں۔ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ آسمان پر ہی حضرت عیسیٰؑ وفات پائیں گے ہاں اگر ایک تیسرا فقرہ اپنی طرف سے گھڑا جائے اور ان دونوں فقروں کے بیچ میں رکھا جائے اور یوں کہا جائے کہ یَا عِیْسٰی اِنِّی رَافِعُکَ وَمُنَزِّلُکَ وَمُتَوَفِّیْکَ تو پھر معنی درست ہو جائیں گے۔ مگر ان تمام تحریفات کے بعد فقرات مذکورہ بالا خدائے تعالیٰ کا کلام نہیں رہیں گے بلکہ بباعث دخل انسان (جو انسان نے اس میں دخل دیاہے اس کی وجہ سے) اور صریح تغیر و تبدیل و تحریف کے اسی محرف کا کلام متصور ہوں گے جس نے بے حیائی اور شوخی کی راہ سے ایسی تحریف کی ہے اور کچھ شبہ نہیں کہ ایسی کارروائی سراسر الحاد اور صریح بے ایمانی میں داخل ہو گی‘‘۔ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 606-609)

پھر آپ ابن عباسؓ کی تفسیر کو سامنے رکھ کر دلیل دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تفسیر معالم کے صفحہ 162میں زیر تفسیر آیت یَا عِیْسٰی اِنِّی مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ لکھا ہے کہ علی بن طلحہ بن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ اِنِّی مُمِتْیُکَ یعنی مَیں تجھ کو مارنے والا ہوں۔ اس پر دوسرے اقوال اللہ تعالیٰ کے دلالت کرتے ہیں۔ (یعنی یہ جو بات ہے اس کی تشریح اللہ تعالیٰ کے اپنے جو قول ہیں قرآن میں بیان ہوئے وہ ان پر دلیل ہیں ) جیسا کہ فرمایا قُلْ یَتَوَفّٰکُمْ مََلَکُ الْمَوْتِ (السجدہ12) (یعنی تو کہہ دے کہ موت کا جو فرشتہ تم پر مقرر کیا گیاہے تمہیں وفات دے گا۔ ) اور پھر فرمایا اَلَّذِیْنَ تَتَوَفّٰھُمُ الْمَلٰئِکَۃُ طَیِّبِیْنَ (النحل: 33) یعنی (وہ لوگ جن کو فرشتے اس حالت میں وفات دیتے ہیں کہ وہ پاک ہوتے ہیں۔ ) اور پھر فرمایا اَلَّذِیْنَ تَتَوَفّٰھُمُ الْمَلٰئِکَۃُ ظَالِمِیْ اَنْفُسِھِمْ (النحل: 29) (جن کو فرشتے اس حال میں وفات دیتے ہیں کہ وہ لوگ اپنے نفسوں پر ظلم کر رہے ہوتے ہیں۔ ) غرض حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اعتقاد یہی تھا کہ حضرت عیسیٰؑ فوت ہو چکے ہیں اور ناظرین پر واضح ہو گا کہ حضرت ابن عباس قرآن کریم کے سمجھنے میں۔ آپ فرماتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کہ ناظرین پر واضح ہو گا کہ حضرت ابن عباس قرآن کریم کے سمجھنے میں اوّل نمبر والوں میں سے ہیں اور اس بارہ میں ان کے حق میں آنحضرتﷺ کی ایک دعا بھی ہے‘‘(ان کی تفسیر قرآن کے بارے میں۔ ) (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 224-225)

یہ صرف تین آیات نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ اعلان کیا ہے کہ قرآن شریف میں اول سے آخر تک جس جس جگہ تَوَفِّیْ کا لفظ آیا ہے ان تمام مقامات پر تَوَفِّیْ کے معنی موت ہی لئے گئے ہیں۔ پھر ایک جگہ آپؑ بڑے زور دارا لفاظ میں حضرت عیسیٰؑ کی وفات کا قرآن شریف سے ثابت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ’’اگر حضرت عیسیٰؑ حقیقت میں موت کے بعد پھر جسم کے ساتھ اٹھائے گئے تھے تو قرآن شریف میں عبارت یوں ہونی چاہئے تھی کہ یَاعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ ثُمَّ مُحْیِیْکَ ثُمَّ رَافِعُکَ مَع جَسَدِکَ اِلَی السَّمَآءِ  یعنی اے عیسیٰ !میں تجھے وفات دوں گا پھر زندہ کروں گا، پھر تجھے تیرے جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھا لوں گا۔ لیکن اب بجز مجرد رَافِعُکَ کے جو مُتَوَفِّیْکَ کے بعد ہے کوئی دوسر الفظ رَافِعُکَ کا تمام قرآن مجید میں نظر نہیں آتا۔ جو ثُمَّ مُحْیِیْکَ کے بعد ہو۔ اگر کسی جگہ ہے تو وہ دکھلانا چاہئے۔ فرمایا مَیں بدعویٰ کہتا ہوں کہ اس ثبوت کے بعد کہ حضرت عیسیٰ فی الحقیقت فوت ہو گئے تھے یقینی طور پر یہی ماننا پڑے گا کہ جہاں جہاں رافِعُکَ یا بَلْ رَفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہ ہے اس سے مراد ان کی روح کا اٹھایا جانا ہے۔ جو ہر یک مومن کے لئے ضروری ہے۔ ضروری کو چھوڑ کر غیر ضروری کا خیال دل میں لانا سراسر جہل ہے۔ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 235)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جیسا کہ مَیں نے کہا فرمایا کہ قرآن کریم اول سے آخر تک اسی بات سے بھرا پڑا ہے۔ تئیس (23) آیات درج فرمائی ہیں۔ جہاں توفی کا لفظ استعمال ہوا ہے اور وہاں وفات ہی مرادلی گئی ہے۔

پھر ازالہ اوہام میں ہی ایک جگہ آپ نے 30 آیات سے ثابت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام وفات پا گئے ہیں۔ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 423-438)

غرض کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک وسیع لٹریچر چھوڑا ہے جس میں قرآن و حدیث سے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات ثابت کی ہے۔ سو یہ مسلمانوں کے لئے بڑے کھلے کھلے اور واضح ثبوت ہیں۔ دلیل کے ساتھ۔ اور عیسائیوں کے لئے ان کی کتاب سے حضرت عیسیٰؑ کا انسان ثابت کرکے اللہ تعالیٰ کا مقرب بندہ ہونے کی حیثیت سے ان کے رفع روحانی کو ثابت کیا ہے، نہ کہ خدا یا خداکا بیٹا ہونا۔ جس نے عیسائیت کو شرک میں مبتلا کر دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بھی عقل دے کہ حضرت عیسیٰؑ کے زندہ آسمان پر ہونے اور کسی وقت نازل ہونے کا ان کا جو باطل اور جھوٹا نظریہ ہے اس سے توبہ کرکے، مسیح محمدی جو عین اپنے وقت پہ مبعوث ہوا اس کی پیروی کریں اور آنحضرتﷺ کی بات کو پورا کرتے ہوئے اس تک آپ کا سلام پہنچائیں اور اس کی وجہ سے پھر وہ اپنی دنیا و عاقبت سنوارنے والے بنیں گے۔

احمدی بھی یاد رکھیں کہ اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب ہی ہیں جو حق و باطل کے معرکے میں دلائل و براہین سے دشمن کا منہ بندکرنے والی ہیں۔ یہ اقتباسات جومَیں نے پڑھے ہیں اس معاملے میں چند ایک ہیں۔ بے شمار ہیں، کئی گھنٹے لگ جائیں گے اگر ان کو پڑھنا شروع کیا جائے تو۔ اس میں حضرت عیسیٰؑ کی وفات اور روحانی رفع کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے علاوہ اور مضامین کے۔ بعض لوگوں کے ذہنوں میں یہ خیال ہوتا ہے۔ یہاں جو اٹھان اٹھی ہوئی ہے اس ماحول میں زیادہ رچ بس گئے ہیں کہ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب بہت مشکل ہیں اس لئے اس کی بجائے اپنے طور پر اپنے لوگوں کے لئے جو یہاں پڑھے لکھے لوگ ہیں ان کے لئے لٹریچر بنانا چاہئے۔ بے شک اپنا لٹریچرپیدا کرناچاہئے لیکن اس کی بنیاد بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب واقوال پر ہی ہو گی اور کلام پر ہی ہو گی۔ لیکن یہ کہنا کہ یہ مشکل ہے اس لئے براہ راست یہاں ان ملکوں کے لوگ جوہیں یا بچے جو ہیں یا نوجوان جو ہیں و ہ لٹریچر یا کتب پڑھ نہیں سکتے یہ صرف پاکستان یا ہندوستان کے لئے کتب لکھی گئی تھیں۔ یہ غلط سوچ ہے۔ نوجوانوں اور بچوں کو بھی اس کے پڑھنے کی ترغیب دی جانی چاہئے اور یہ بڑوں کا کام ہے کہ دیں۔ اور اسی طرح ذیلی تنظیمیں اور جماعتی نظاموں کا بھی کام ہے کہ اس طرف توجہ دلائیں یہ بات غلط ہے کہ کیونکہ یہ مشکل ہے اس لئے ہم نہ پڑھیں۔ آہستہ آہستہ پھر بالکل دور ہٹتے چلے جائیں گے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اپنے الفاظ میں جو عظمت و شوکت ہے وہ ان کا خلاصہ بیان کرکے یا اس میں سے اخذ کرکے نہیں پیدا کی جا سکتی۔

مختلف عناوین کے تحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جو کتب ہیں ان کے اقتباسات انگلش میں بھی ٹرانسلیشن ہو گئے ہیں۔ Essence of Islam کے نام سے پانچ والیومز (Volumes) میں اور مزیدہو بھی رہے ہیں ان کو انگریزی دان طبقے کو پڑھنا چاہئے۔ گو کہ جو اصل الفاظ میں اور ترجمہ میں بھی بڑا فرق ہو جاتا ہے لیکن پھر بھی اصل الفاظ کے قریب ترین رہتا ہے ترجمہ اور جن کتب کے مکمل ترجمے ہو چکے ہیں وہ بھی ہر احمدی گھر میں ہونی چاہئیں وہ کتب اور انشاء اللہ تعالیٰ مجھے امید ہے کہ جلد ہی براہین احمدیہ کا بھی ترجمہ ہو کے آ جائے گا۔ تو جو انگریزی میں پڑھنے والے ہیں وہ لوگ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب کو خریدیں اور پڑھیں اور ان سے دلیلیں لیں اور اپنے مخالفین کو دلائل سے قائل کریں اور اُردو پڑھنے والے جتنے ہیں ان کو تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مکمل کتب کا سیٹ رکھنا چاہئے۔ اب نئی کتب چھپ رہی ہیں جو نئی کمپوز ہو رہی ہیں کمپیوٹر پہ تو انشاء اللہ جلسہ تک کچھ جلدیں آبھی جا ئیں گی تو ان کو بھی احمدیوں کو جن کے گھروں میں کتب نہیں ہیں وہ خریدنا چاہئے۔ مَیں نے گزشتہ ایک خطبہ میں بیان کیا تھا کہ ایک خاتون نے لکھا مجھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب پڑھ کر یا بعض صفات پر آپ کے بیان کردہ جو تفسیریں تھیں ان پر غور کرکے اب مجھے قرآن کریم کی سمجھ آنی شروع ہوئی ہے۔ تو قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب پڑھناضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔

(الفضل انٹرنیشنل جلد 16 شمارہ 30-31 مورخہ 24 جولائی تا 6 اگست 2009ء صفحہ 5تا صفحہ 8)


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • English اور دوسری زبانیں

  • 3؍ جولائی 2009ء شہ سرخیاں

    ارشادات حضرت اقدسؑ کی روشنی میں عرش الٰہی کی حقیقت۔ ایک انگریز عیسائی کا کفارہ اور الوہیت مسیح کے عقیدہ کا انکار اور اسلام کی طرف میلان کا اظہار۔ قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں حضرت عیسیٰ ؑ کے جسمانی رفع کا رد اور وفات کا ثبوت۔ کتب حضرت مسیح موعودؑ کے مطالعہ کی اہمیت کا ذکر۔ ہر گھر میں کتب حضرت اقدسؑ رکھنے کی ہدایت۔

    فرمودہ مورخہ 03؍جولائی 2009ء بمطابق03؍وفا 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ)

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور