مساجد کی تعمیر، اتحاد اور یکجہتی

خطبہ جمعہ 5؍ اپریل 2013ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعاً وَّلاََ تَفَرَّقُوْا وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا۔ وَکُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْہَا۔ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ آیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْن۔ وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ۔ وَ اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْن۔ (سورۃ آل عمران 104-105)

اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِالْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ۔ اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ وَھُوْ اَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِیْنَ۔ (النحل: 126)

یہ آیات سورۃ آل عمران اور سورۃ نحل کی ہیں۔ پہلی دو آیات سورۃ آل عمران کی ہیں، ان کا مطلب ہے کہ: اور اللہ کی رسّی کو سب کے سب مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ نہ کرو اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں کو آپس میں باندھ دیا اور پھر اس کی نعمت سے تم بھائی بھائی ہو گئے۔ اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ شاید تم ہدایت پا جاؤ۔ اور چاہئے کہ تم میں سے ایک جماعت ہو۔ وہ بھلائی کی طرف بلاتے رہیں اور اچھی باتوں کی تعلیم دیں اور بری باتوں سے روکیں۔ اور یہی ہیں وہ جو کامیاب ہونے والے ہیں۔ سورۃ نحل کی جو آیت ہے اس کا ترجمہ یہ ہے۔ اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت کے ساتھ اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دے اور ان سے ایسی دلیل کے ساتھ بحث کر جو بہترین ہو۔ یقینا تیرا رب ہی اسے، جو اس کے راستے سے بھٹک چکا ہو، سب سے زیادہ جانتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کا بھی سب سے زیادہ علم رکھتا ہے۔

گزشتہ جمعہ کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سپین کی اس دوسری مسجد کاافتتاح ہوا۔ جماعت ساری بڑی خوش تھی بلکہ ہے۔ اور میں نے اس کے حوالے سے کچھ باتیں آپ سے کہی تھیں۔ اسی حوالے سے بعض امور کی طرف اب مَیں مزید توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ جیسا کہ ہم دنیا میں ہر جگہ دیکھتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ:

’’اس وقت ہماری جماعت کو مساجد کی بڑی ضرورت ہے۔ یہ خانۂ خدا ہوتا ہے۔ جس گاؤں یا شہر میں ہماری جماعت کی مسجد قائم ہو گئی تو سمجھو کہ جماعت کی ترقی کی بنیاد پڑ گئی۔ اگر کوئی ایسا گاؤں ہو یا شہر جہاں مسلمان کم ہوں یا نہ ہوں اور وہاں اسلام کی ترقی کرنی ہو تو ایک مسجد بنادینی چاہیے۔ پھر خد اخود مسلمانوں کو کھینچ لاوے گا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ قیامِ مسجد میں نیت بہ اخلاص ہو۔ محض لِلّٰہ اُسے کیا جاوے۔ نفسانی اغراض یا کسی شرکو ہرگز دخل نہ ہو۔ تب خد ابرکت دے گا‘‘۔ (ملفوظات جلد4صفحہ 93ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

یہ اقتباس مَیں پہلے بھی کئی دفعہ پیش کر چکا ہوں لیکن اس میں بیان کردہ باتیں اتنی اہم ہیں کہ ہر احمدی کو بار بار اُنہیں سامنے رکھنا چاہئے۔ پہلی بات یہ کہ یہ خانۂ خدا ہے۔ خانۂ خدا کے لئے جو باتیں ہمیں پیشِ نظر رکھنی چاہئیں ان کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔ اگر یہ یقین ہے کہ خدا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر احمدی اس یقین پر قائم ہے کہ خدا ہے تو پھر اُس کے گھر کے احترام، عزت اور اُسے آباد کرنے کی طرف بھی توجہ دینی ہو گی۔ اور جب خدا تعالیٰ کی خاطر اُس کے گھر کو آباد کرنے کی طرف توجہ ہو گی تو پھر عبادت کے ساتھ ساتھ خدا تعالیٰ کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف بھی توجہ ہو گی۔ آپس میں پیارو محبت سے رہنے کی طرف بھی توجہ کرنی ہو گی۔

اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مسجد کے حوالے سے ہی فرماتے ہیں کہ:

’’جماعت کے لوگوں کو چاہئے کہ سب مل کر اسی مسجد میں نماز با جماعت ادا کیا کریں‘‘۔ فرمایا ’’جماعت اور اتفاق میں بڑی برکت ہے۔ پراگند گی سے پھوٹ پید اہوتی ہے اور یہ وقت ہے کہ اس وقت اتحاد اور اتفاق کو بہت ترقی دینی چاہئے اور ادنیٰ ادنیٰ باتوں کو نظر انداز کر دینا چاہیے جو کہ پھوٹ کا باعث ہوتی ہیں‘‘۔ (ملفوظات جلد4صفحہ 93ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

پس پہلی بات جو خانۂ خدا کے حوالے سے یاد رکھنی چاہئے کہ یہ خانۂ خدا ہے اور ہر احمدی نے جو اس علاقے میں رہتا ہے، اس میں باجماعت نمازوں کی طرف توجہ کر کے اس کا حق ادا کرنا ہے۔ اور باجماعت عبادت کا حق پھر اس طرف توجہ دلانے والا ہو کہ ہم نے محبت اور پیار اور اتفاق سے رہنا ہے۔

فرمایا کہ’’اس وقت اتحاد اور اتفاق کو بہت ترقی دینی چاہئے‘‘۔ یہ بات آج سے تقریباً ایک سو آٹھ سال پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمائی۔ اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابہ کی تربیت جس طرح ساتھ ساتھ ہو رہی تھی اور اُن کا تقویٰ جس معیار پر تھا وہ آج سے انتہائی بلند تھا۔ خدا کا خوف اُن میں زیادہ تھا۔ نمازوں کی توجہ اُن میں بہت بڑھ کر تھی۔ بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے والے وہ لوگ تھے جن کا خدا تعالیٰ سے ایک خاص تعلق تھا۔ لیکن نبی کا کام ہے کہ تقویٰ کی تمام باریکیوں کو اپنے ماننے والوں کے سامنے رکھ کراُن کو اعلیٰ معیار کی طرف رہنمائی کرے۔ اس لئے آپ نے ہر امکان کو کھول کر اپنے ماننے والوں کے سامنے رکھ کر نصیحت فرمائی کہ اس طرف بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ آپ علیہ السلام کو فکر تھی کہ یہ ابتدائی دور ہے۔ اگر اس میں معیارِ تقویٰ بلندنہ ہوا تو آئندہ آنے والوں کے سامنے ایسے نمونے نہیں ہوں گے جس سے وہ تقویٰ کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ میں نے صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے واقعات کا جو سلسلہ شروع کیا تھا، اس میں بہت زیادہ تشنگی رہ گئی ہے کیونکہ تمام صحابہ کے واقعات ہمارے سامنے نہیں آئے اور جو آئے وہ بھی بہت کم اور مختصر تھے۔ لیکن جو سامنے آئے وہی ایسے معیار کے ہیں جو صحابہ کے لئے دعاؤں کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ اور اُن صحابہ کی نسل میں سے جو بعض شاید یہاں سپین میں بھی رہنے والے ہوں، اُن کو خاص طور پر اپنے بزرگوں کے لئے دعاؤں اور اُن کے نمونوں پر چلنے کی طرف متوجہ ہونا چاہئے اور یہاں اس ملک میں توہم نے ابھی بے انتہا کام کرنا ہے۔ اُس کھوئی ہوئی ساکھ کو دوبارہ قائم کرنا ہے جو آج سے کئی صدیاں پہلے کھوئی گئی۔ یہاں رہنے والوں کو دوبارہ دینِ اسلام کی خوبیاں بتا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانا ہے اور اس کے لئے سب سے اہم چیز اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنا، اُس سے مدد مانگنا اور ایک اکائی بن کر تبلیغ کا کام کرنا ہے۔

پس صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وقت ہی اتحاد اور اتفاق کو ترقی دینے کا وقت نہیں تھا بلکہ آج بھی جبکہ ہم بہت بڑا دعویٰ لے کر کھڑے ہوئے ہیں کہ اس ملک کو اسلام کے جھنڈے تلے لائیں گے، سب سے پہلے اپنے اندر اتفاق و اتحاد کو ترقی دینے اور اُس کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر تمام عہدیداروں اور ہر فردِ جماعت نے اکائی بننے میں اپنا کردار ادا نہ کیا تو مسجد اور خانۂ خدا کا حق ادا کرنے والے نہیں بن سکتے۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ مسجد کی خوبصورتی اُس وقت کام آ سکتی ہے جب اس کے اندر آنے والوں کی روح کی خوبصورتی نظر آئے۔ جب ہر احمدی کے قول و فعل میں عبادت کے ساتھ ایک دوسرے کے لئے محبت اور پیار کے جذبات نظر آئیں۔ اس بات کو قرآنِ کریم نے بھی کھول کر ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔ میں نے جو آیت شروع میں تلاوت کی۔ اس کا ترجمہ بھی آپ نے سن لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپس میں محبت اور پیار پیدا کرو۔ پس اگر یہ پیدا نہیں ہوگا تو خدا تعالیٰ کے بِنا گمراہی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا انعام اور احسان ہے کہ تمہیں اُس نے ایک کر دیا۔ پس خدا تعالیٰ کے ہر ارشاد پر، ہر حکم پر، ہر ہدایت پر ایک سچے مومن کو غور کرنا چاہئے۔ ان حکموں سے نہ مَیں باہر ہوں، نہ آپ باہر ہیں، نہ کوئی عہدیدار باہر ہے، نہ کوئی مربی یا مبلغ باہر ہے، نہ ہی کوئی فردِ جماعت باہر ہے، چاہے وہ مرد ہے یا عورت ہے۔ جب تک اللہ تعالیٰ کی رسی کو ہم مضبوطی سے پکڑے رکھیں گے، جب تک ہم قرآنِ کریم کی تعلیم پر عمل کرنے والے بنے رہیں گے، جب تک ہم اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو یاد رکھیں گے کہ اُس نے ہمیں احمدی ہونے اور احمدیت پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائی، ہم اللہ تعالیٰ کا بھی حق ادا کرنے والے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے گھر کا بھی حق ادا کرنے والے ہوں گے۔ جب تک ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے غلامِ صادق اور زمانے کے امام کی باتوں کو مضبوطی سے تھامے رکھیں گے، ہم اللہ تعالیٰ کی نعمت کا حق ادا کرنے والے اور اُس کے انعاموں اور احسانوں کا شکر ادا کرنے والے ہوں گے۔ جب تک ہم میں سے ہر ایک جو خلیفہ وقت سے عہدِ بیعت باندھتا ہے، خلیفہ وقت کی باتوں کو نہ صرف سنے گا بلکہ اُن پر عمل کرنے کی کوشش کرے گا، وہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کی قدر کرنے والا کہلائے گا۔

پس ہمیشہ یاد رکھیں کہ قرآنِ کریم، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور خلافتِ احمدیہ یہ سب حبل اللہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی رسّی ہیں۔ اُن میں سے ایک کڑی بھی اگر ایک احمدی نظر انداز کرے گا تو وہ اُن لوگوں میں شمار ہو گا جو دوبارہ آگ کے گڑھے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پس ہر احمدی کو یہ بات اپنے پیشِ نظر رکھنی چاہئے کہ حبل اللہ کو پکڑنا اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد رکھنا اور اُس کا شکر گزار ہونا تب حقیقت کا روپ دھارے گا، تب یہ قول سے نکل کر عمل کی شکل اختیار کرے گا جب آپس کی محبت ہو گی۔ جب ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے والے بھائیوں جیسا سلوک ہو گا تب ہی ایک احمدی حقیقت میں ہدایت یافتہ اور آگ کے گڑھے میں گرنے سے بچایا جانے والا کہلائے گا۔ جب ہر قسم کے تفرقہ سے اپنے آپ کو پاک رکھے گا تبھی ایک احمدی حقیقی احمدی کہلائے گا۔ جب ہر قسم کی ذاتی اَناؤں سے ہر احمدی اپنے آپ کو بچائے گا، جب خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ایک دوسرے سے محبت ہو گی تب ہی ایک احمدی حقیقی احمدی بنتا ہے۔

پس خوش قسمت ہیں وہ جو اس نہج پر اپنی سوچوں کو ڈالیں، اپنے قول کو اس طرح ڈھالیں، اپنے عمل کو اس کے مطابق ڈھالیں۔ اور جب یہ معیار ہم حاصل کر لیں گے تو پھر ہی دوسروں کو بھی ہم دعوت دے سکتے ہیں اور پکار پکار کر اعلان کر سکتے ہیں کہ ’’آؤ لوگو کہ یہیں نورِ خدا پاؤ گے‘‘۔ (آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5صفحہ 225)

آج بیشک ایک طبقہ دین سے ہٹا ہوا ہے بلکہ بہت بڑی تعداد دنیا میں دین سے ہٹ گئی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر خاص طور پر مغربی ممالک میں تو خدا تعالیٰ کے وجود سے بھی انکاری ہیں۔ لیکن سپین ایک ایسا ملک ہے جہاں اب بھی ایک اچھی خاصی تعداد ہے، ایسا طبقہ ہے جس کا مذہب کی طرف رجحان ہے۔ یہاں دو دن پہلے جو سپینش لوگوں کے ساتھ ریسپشن (Reception) تھی تو میرے ساتھ یہاں ویلنسیا کی پارلیمنٹ کے صدر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ باتوں میں مجھے یہ اظہار کرنے لگے اور بڑی فکر سے یہ اظہار تھا کہ اب لوگ دین سے دور جارہے ہیں، ہمیں اُن لوگوں کو دین کی طرف لانے کی طرف کوشش کرنی چاہئے۔ ابھی تک جن لوگوں سے بھی مغرب میں میرا واسطہ پڑا ہے تو عموماً اس لیول کے آدمی دین سے ہٹے ہوئے ہی ہوتے ہیں اور دنیا داری کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں اس سطح پر بھی مَیں نے دیکھا ہے کہ دین کی طرف رجحان ہے۔ مذہبی آدمی ہیں تو یہ فکر ایسے لوگوں کو بھی ہے۔

دین جو حقیقی دین ہے، وہ تو اب خدا تعالیٰ نے واضح طور پر فرما دیا ہے کہ اسلام ہے۔ اس لئے کوئی اور دین نہ تو بندے کو خدا تعالیٰ کے قریب لا سکتا ہے اور نہ ہی اُس میں اتنی سکت ہے۔ اب صرف دینِ اسلام ہی ہے جو بندے کو خدا کے قریب کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ لیکن اسلام کو پھیلانے کی بھی جن لوگوں کی ذمہ داری ہے اور جن کو اللہ تعالیٰ نے احسان کرتے ہوئے حبل اللہ کا سرا پکڑا دیا ہے، وہ احمدی ہیں۔ پس اگر ہمارے قول و فعل میں تضاد ہو گا۔ اگر ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر اختلاف کرنے بیٹھ جائیں گے، ایسے اختلاف جو ہماری اکائی کو نقصان پہنچانے والے ہوں، جو ہمارے ذمّہ کاموں کو بجا لانے اور اُن کے اعلیٰ نتائج نکالنے میں روک بننے والے ہوں تو یقینا ہم خدا تعالیٰ کے آگے جوابدہ ہوں گے۔

جیسا کہ میں نے پچھلے خطبہ میں بھی بتایا تھا کہ صدیوں پہلے ہزاروں سپینش جن کی بنیاد اسلام تھی، ان میں سے ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو اسلام میں دوبارہ داخل ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں لیکن حقیقی اسلام کا ابھی ان کو پتہ نہیں تو حقیقی اسلام سے ہم نے اُنہیں آگاہ کرنا ہے۔ یورپ اور دوسرے مغربی ممالک میں وہاں کے مقامی کئی ایسے احمدی ہیں جو روحانیت کی تلاش میں مسلمان ہوئے لیکن مسلمان لیڈروں یا علماء نے اُنہیں اُس روحانی مقام کی طرف رہنمائی نہیں کی جس کی اُن کو تلاش تھی تو پھر مزید جستجو اُن میں پیدا ہوئی اور پھر وہ احمدیت کے قریب لے آئی۔ تو یہ بات ہر احمدی کے لئے باعثِ توجہ ہے کہ نئے آنے والوں کو احمدیت کی آغوش میں روحانی سکون ملتا ہے اور اس کے لئے ہمیں جو پرانے احمدی ہیں اُن کو بھی اپنے اوپر نظر رکھنی ہوگی۔ اگر پرانے احمدیوں نے اور خاص طور پر پاکستانی احمدی جو باہر آباد ہیں، اُنہوں نے اپنی ذمہ داری کو ادا نہ کیا تو ان سچ کے متلاشیوں کو وہ دین سے دور کرنے والے ہوں گے اور وہ کردار ادا کر رہے ہوں گے کہ ان کو دین سے دور کریں۔ پس ہر احمدی کو اپنی ذمہ داری کو سمجھنا چاہئے۔ ریسپشن کا میں نے ذکر کیا ہے۔ اس میں مَیں نے اسلامی تعلیمات کے حوالے سے مختصراً مختلف پہلو بیان کئے تھے تو ایک خاتون جو مجھے سپینش لگیں، کھانے کے بعد ملنے آئیں، سکارف وغیرہ باندھا ہوا تھا تو انہوں نے بتایا کہ مَیں مسلمان ہوں۔ میں نے اُنہیں کہا آپ شکل سے تو سپینش لگتی ہیں اور یہ بھی بتایا کہ میں فلاں مسلمان تنظیم کی عہدیدار ہوں اور مجھے کہنے لگیں کہ اسلام کی خوبصورت تعلیم بڑے اچھے رنگ میں تم نے بیان کی ہے اور مجھے اس کی بڑی خوشی ہوئی ہے۔ جب میں نے اُنہیں یہ کہا کہ آپ سپینش لگتی ہیں تو مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر جو پرانے مبلغ تھے، ا ُن کے ایک بیٹے جو میرے ساتھ کھڑے تھے، اُنہوں نے کہا کہ سپینش ہی ہیں اور اب انہوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ انہوں نے لفظ convert ہوئی ہیں، استعمال کیا تھا۔ تو وہ خاتون فوراً بولیں کہ نہیں، مَیں convert نہیں ہوئی بلکہ مَیں اپنے دین میں، اپنے باپ دادا کے دین میں دوبارہ واپس آئی ہوں۔ تو یہاں ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کو اپنے آباؤ اجداد کے دین اور اپنی بنیادوں اور اپنی روٹس (Roots) کی تلاش ہے۔ پس ہمیں ایسے علاقوں میں، ایسے لوگوں میں بہت کوشش سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن بار بار مَیں کہہ رہا ہوں کہ اگر اس کام میں برکت ڈالنی ہے تو اپنی حالتوں کو خدا تعالیٰ کے حکموں کے مطابق ہمیں ڈھالنا ہو گا۔ حقیقی اسلام کی تلاش کی پیاس ہم ہی بجھا سکتے ہیں۔ ایک احمدی ہی بجھا سکتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو یہ فرمایا کہ سمجھو کہ اسلام کی ترقی کی بنیاد مسجد بنانے سے پڑ گئی تو ساتھ ہی یہ شرط بھی لگا دی کہ قیامِ مسجد میں نیت بہ اخلاص ہو، تب فائدہ ہوگا۔ پس مسجد کے قیام اور مسجد کی آبادی میں اخلاص ہی کام آئے گا۔ نہ کہ کوئی چالاکی، نہ ہوشیاری، نہ علم، نہ عقل۔ گو یہ چیزیں بھی ساتھ ساتھ کام کرتی ہیں لیکن اخلاص پہلی اور بنیادی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول پہلی اور بنیادی چیز ہے۔ اور جب ذاتی مفادات اور عُہدوں اور اَناؤں سے اونچا ہو کر سوچیں گے تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ مسجد بشارت پیدروآباد کی برکت بھی ہمیں نظر آئے گی اور مسجد بیت الرحمن ویلنسیا کی تعمیر کے خوش کن نتائج بھی ہم دیکھیں گے۔

اس مسجد کے افتتاح میں جیسا کہ میں نے بتایا، پھر ریسپشن ہوئی، اور اتنے بڑے پیمانے پر یہ پہلی ریسپشن جماعت احمدیہ سپین نے آرگنائز کی تھی جس میں ہمسایوں کے علاوہ پڑھے لکھے لوگ اور سرکاری افسران اور سیاستدان بھی آئے۔ ہر طبقے کے لوگ تھے اور بڑا اچھا اثر لے کر گئے ہیں۔ اکثر نے یہ کہا کہ اسلام کی خوبصورت تعلیم آج ہم نے پہلی دفعہ سنی ہے۔ بعض نے کہا ہم بڑے جذباتی ہو رہے تھے بلکہ بعض تو خدا تعالیٰ کا انکار کرنے والے ہیں، جنہیں ایتھی اسٹ (atheist) کہتے ہیں، انہوں نے بھی کہا کہ ہمیں بہت کچھ مذہب کے بارے میں پتہ چلا بلکہ ڈاکٹر منصور صاحب کہہ رہے تھے کہ ان کے ایک واقف کار ڈاکٹر ہیں وہ کافی جذباتی تھے۔

پس آج خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین اور مذہب کی خوبصورتی اگر کوئی بتا سکتا ہے تو جماعت احمدیہ ہے۔ وہ لوگ ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے والے ہیں۔ وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہیں، جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے حبل اللہ کو پکڑنے کے سامان کئے ہوئے ہیں۔ یہ آپ لوگ بعد میں پروگراموں میں بھی دیکھ لیں گے، رپورٹس میں بھی شائع ہو جائے گا۔ ایم ٹی اے نے بھی ریسپشن میں آنے والے بہت سارے لوگوں کے انٹرویو ریکارڈ کئے ہیں جنہوں نے مسجد کے بارے میں بھی، اسلام کے بارے میں بھی اپنے تاثرات بیان کئے ہیں۔ ان میں جیسا کہ مَیں نے کہا کہ ویلنسیا کی اسمبلی کے سپیکر بھی تھے۔ یہ کہیں گئے ہوئے تھے، شاید میڈرڈ گئے ہوئے تھے۔ یہاں رہنے والے جانتے ہی ہیں کہ کتنا فاصلہ ہے۔ ٹرین پر بھی تقریباًدو گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ اُن کو آنے میں دیر ہو گئی تو اُن کے سٹاف نے یہ کہہ دیا کہ وہ نہیں آسکتے۔ لیکن وہ پروگرام سے ایک گھنٹہ پہلے یہاں سٹیشن پر پہنچے اور اپنے ڈرائیور کو کہا کہ سیدھے مسجد چلو۔ اپنے کسی سرکاری کام سے گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ آج وزیرِ خارجہ کے ساتھ کوئی میٹنگ تھی، مَیں دوپہر وہاں گزار کے آیا ہوں۔ لیکن پھر بھی انہوں نے مسجد کے پروگرام کواہمیت دی اور سیدھے یہاں تشریف لائے۔ پہلے ان کا خیال تھا کہ یہاں آدھا گھنٹہ بیٹھوں گا اور پھر چلا جاؤں گا۔ لیکن پھر کافی دیر بیٹھے، بڑی دلچسپی سے باتیں سنیں، باتیں کیں اور کہنے لگے کہ اسلام کی تعلیم بڑی خوبصورت ہے جو تم نے بیان کی ہے۔ اسی طرح کئی اور لوگ بھی تھے جو یہاں آئے ہوئے تھے۔ سیاست دان تھے، وکیل تھے، ڈاکٹر تھے، ممبر آف پارلیمنٹ تھے تو سب نے بڑا اچھا تأثر لیا۔

جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ پہلا فنکشن تھا جو سپین کی جماعت نے اس پیمانے پر آرگنائز کیا اور 108 کے قریب یہ سپینش افراد تھے جو یہاں آئے ہوئے تھے۔ ہمسائے جو پہلے یہاں مسجد بنانے کے مخالف تھے، اُن میں سے بھی کئی آئے ہوئے تھے۔ اُن میں بعض کو اگر کوئی شبہات تھے جن کا اُس وقت انہوں نے اظہار بھی کیا تو میری تقریر کے بعد وہ دُور ہو گئے۔ میں نے ہمسایوں کے حقوق اور اسلام میں اس کی اہمیت سے بھی بات شروع کی تھی۔ تو بہرحال اس مسجد کے بننے کے بعد دنیا کی اب اس طرف نظر ہے۔ اب یہ بن گئی ہے اور افتتاح کے بعد اخباروں میں آنے کے بعد مزیدنظر ہو گی۔ ہم نے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ پس اس ذمہ داری کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ان تلاوت کردہ آیات میں سے آل عمران کی پہلی آیت میں تو اتفاق و اتحاد کی طرف زور دیا ہے تا کہ ہدایت پر قائم رہو اور گمراہی سے بچو اور اللہ تعالیٰ کے انعامات سے حصہ لیتے چلے جاؤ۔ تو دوسری آیت میں فرمایا کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو جو یَدْعُوْنَ اِلٰی الْخَیْرِ کرنے والی ہو، جو بھلائی کی طرف بلانے والی ہو۔

پس یہ ایک جماعت ایسی ہو جو بھلائی کی طرف بلائے اور نیکیوں کی تلقین کرے اور برائیوں سے روکے اور یہ جماعت سب سے پہلے مبلغین اور مربیان کی جماعت ہے۔ وہ پہلے مخاطب ہیں۔ کیونکہ آپ مربیان کو خلیفۂ وقت نے تربیت کے لئے اور تبلیغ کے لئے اپنا نمائندہ بنا کر یہاں بھی اور دنیا میں بھی بھیجا ہے۔ آپ وہ واعظ ہیں جو نصیحت کرتے ہیں، جو یہ بات دنیا کو بتا رہے ہیں کہ اگر نجات چاہتے ہو تو حبل اللہ کو پکڑ لو۔ اگر دنیا و آخرت سنوارنا چاہتے ہو تومحبت، پیار اور بھائی چارے کو فروغ دو۔ اگر خود مربیان اور مبلغین اعلیٰ معیار قائم نہیں کریں گے تو دنیا کو کس طرح نصیحت کریں گے۔ مربیان کا کام جماعت کی تربیت بھی ہے اور تبلیغ بھی۔

پس دونوں کاموں کے لئے بلند حوصلہ ہونا اور بلند حوصلہ دکھانا بہت ضروری ہے۔ صبر کے اعلیٰ معیار قائم کرنے بہت ضروری ہیں۔ اطاعت کے اعلیٰ معیار قائم کرنا اور کروانا بہت ضروری ہے۔ اپنے قول و فعل میں مطابقت رکھنا بہت ضروری ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا، مربیان جماعت کی دینی اور روحانی ترقی کے لئے خلیفہ وقت کے نمائندے ہیں۔ پس اس نمائندگی کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔ سخت حالات بھی آئیں گے۔ بعض لوگوں اور عہدیداران کے رویے ایسے بھی ہوں گے جو پریشان کریں گے۔ بعض موقعوں پر صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو گا۔ آخر انسان انسان ہے لیکن فوراً دعا اور استغفار اور اس سوچ کو سامنے لائیں کہ ہم نے خدا تعالیٰ کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کی ہیں۔ ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ جماعت کی تربیت کے اعلیٰ معیار بھی قائم کرنے ہیں اور بھٹکی ہوئی دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے بھی لے کر آنا ہے۔ جب یہ سوچ ہو گی تو کسی کی بات آپ کو اپنے مقصد کے حصول سے یا حصول کی کوشش سے ہٹا نہیں سکے گی۔ اَلْعِزَّۃُ لِلّٰہ ہر وقت آپ کے سامنے رہے گا۔ آپ نے اپنی زندگیاں وقف کرنے کا جو ایک عہد کیا ہے وہ آپ کے سامنے رہے گا۔ اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور عزت ہی آپ کے سامنے رہے گی نہ کہ اپنی، تو عہدیداران کے غلط رویّوں کی برداشت آپ کو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا بنا رہی ہوگی۔ کیونکہ ہر قسم کے حالات میں آپ یَأمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ پر عمل کر رہے ہوں گے۔

پس مربی کا کام صرف اپنے آپ کو تفرقہ سے بچانا اور آگ کے گڑھے سے دور کرنا نہیں ہے بلکہ دنیا کو بھی تفرقہ سے بچانا ہے اور آگ کے گڑھے سے دُور کرنا ہے اور یہ کام جیسا کہ میں نے کہا، قربانی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔

پھر دوسرے نمبر پر اس آیت کے تحت وہ گروہ بھی آتا ہے جو جماعتی عہدیدار ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو جماعت کی خدمت کے لئے پیش کیا۔ جماعتی عہدیداروں کے سپرد بھی ایک امانت ہے اور امانت کا حق ادا نہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آ سکتے ہیں۔ یہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ تم پوچھے جاؤ گے اور امانت کا حق تبھی ادا ہو گا یا ہو سکتا ہے جب اپنے قول و فعل میں مطابقت پیدا کی جائے۔ عُہدے صرف عُہدے لینے کے لئے نہ ہوں بلکہ خدمت کے جذبے اور اخلاص و وفا کے نمونے قائم کرنے اور کروانے کے لئے ہوں۔ سَیِّدُ الْقَوْمِ خِادِمُھُمْ کا ارشاد ہمیشہ پیشِ نظر ہو۔ (کنزالعمال جلد6صفحہ302کتاب السفر، قسم الاقوال، الفصل الثانی آداب متفرقۃ حدیث نمبر 17513 دارالکتب العلمیۃ بیروت ایڈیشن2004ء)۔

عہدیداران کے اپنے نمونے افرادِ جماعت کو بھی نیکیوں پر قائم کرنے والے ہوں۔ اگر خود اپنے قول و فعل میں تضاد ہے تو دوسرے کو کیا اور کس منہ سے نصیحت کر سکتے ہیں۔ دوسرا تو پھر آپ کو منہ پر کہے گا کہ پہلے اپنی برائیاں درست کرو، اپنی زبان کو شستہ کرو، اپنے اخلاق کو بہتر کرو، اپنی دینی حالت کو سنوارو، اپنی روحانی حالت کو بہتر کرنے کی کوشش کرو، اپنی نمازوں کو درست کرو، اپنے دنیاوی معاملات میں بھی انصاف قائم کرو، اپنی ایمانداری کے معیار بھی بڑھاؤ، جماعت کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے کے لئے ایک درد پہلے اپنے اندر پیدا کرو، یہ ہر عہدیدار کی ذمہ داری بھی ہے۔ مربیان جو خلیفہ وقت کے دینی تربیت کے لئے نمائندے ہیں، اُن کا احترام کرو۔ یہ بھی عہدیداروں کا سب سے بڑا کام ہے کہ مربیان کا احترام کریں۔ غرض اپنی ظاہری اور باطنی حالت کو اسلام کی تعلیم کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرو۔ تب ہی تم یہ کہہ سکتے ہو کہ تم اُن لوگوں میں شامل ہو جو نیکیوں کو قائم کرنے والے اور برائیوں سے روکنے کا حق رکھتے ہیں۔ پس اس لحاظ سے ہر سطح پر جماعت کے، ہر عہدیدار کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر صدر جماعت اور امیر جماعت کو، جو جو جہاں جہاں ہے ورنہ یہ لوگ جماعت میں تفرقہ کا موجب بن رہے ہیں۔ مربیان اور مبلغین کا سب سے زیادہ احترام، صدر جماعت اور امیر جماعت کو کرنا چاہئے اور اس احترام کی وجہ سے مربیان یہ نہ سمجھیں کہ یہ ہمارا حق ہے بلکہ اس سے اُن میں مزید عاجزی پیدا ہونی چاہئے۔ اپنے نفس کی اصلاح کی طرف مزید توجہ پیدا ہونی چاہئے۔ اور جب ہم ہر سطح پر اس کے معیار حاصل کر لیں گے تو پھر دیکھیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کی تربیت کے مسائل بھی حل ہوں گے، بہتر ہوں گے اور تبلیغ کے میدان میں بھی ہم غیر معمولی فتوحات دیکھیں گے۔ یہ اکائی اور احترام اور اتفاق ہمارے ہر کام میں برکت ڈالے گا۔ یہ بھی واضح کر دوں کہ عہدیداران کا آپس کا رویہ اور سلوک بھی ایک دوسرے کے ساتھ بہت اچھا ہونا چاہئے، معیاری ہونا چاہئے۔ یہ بھی بہت ضروری ہے اور یہ کاموں میں برکت ڈالنے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ اگر پھوٹ پڑی رہے، ایک دوسرے سے اختلافات بڑھتے چلے جائیں، عزتوں اور اَناؤں کا سوال پیدا ہوتا چلا جائے، صبر اور حوصلہ کم ہوتا جائے تو پھر نتیجے بہت منفی قسم کے نکلتے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک آیت کی تفسیر میں ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک رئیس تھا، اُس کے پاس کسی شخص نے شکایت کی کہ آپ کا جو فلاں عزیز ہے یا امیر زادہ ہے اُس نے مجھے بڑی گالیاں دی ہیں۔ اُس رئیس نے اُس کو (دوسرے شخص کو، امیرزادے کو) بلایا اور اُس کو بے انتہا گالیاں دیں اور وہ خاموشی سے سنتا رہا۔ اُس کے بعد رئیس نے اُسے کہا کہ تم نے اس شخص کو کیوں گالیاں دیں؟ تو وہ امیر زادہ کہنے لگا کہ اس شخص نے پہلے مجھے برا بھلا کہا تھا اور مجھ سے صبر نہیں ہو سکا اس لئے میں نے اس کو گالیاں دیں۔ تو اُس رئیس نے اُسے کہا کہ مَیں نے تمہیں گالیاں دیں اور تم خاموشی سے سنتے رہے۔ اس کا مطلب ہے یہ بات نہیں کہ تم میں صبر نہیں تھا۔ تم میں صبر تھا تو تم میری باتیں سنتے رہے۔ صرف اس لئے تم نے اس کو گالیاں دیں اور ضرورت سے زیادہ برا بھلا کہہ دیا کہ وہ تمہارے سے کم تر تھا یا تم اُس کو کمتر سمجھتے تھے اور اگر تم صبر دکھاتے، جو دکھا سکتے تھے اور یہی تم نے میرے سامنے دکھایا جب مَیں نے تمہارے صبر کا ٹیسٹ لیا۔ (ماخوذ از حقائق الفرقان جلد اول صفحہ454سورۃ آل عمران زیر آیت نمبر18)

پس صبر دکھانے کے یہ ہمارے معیار ہیں کہ جس طرح ہم اونچے کے سامنے صبر کرتے ہیں، اپنی حیثیت سے بڑے کے سامنے یا طاقتور کے سامنے ہم صبر کرتے ہیں، کمزور یا اپنے برابر والے سے بھی اتنا ہی صبر دکھائیں تو تبھی ہم ہر قسم کے فتنے اور فساد ختم کر سکتے ہیں۔ دنیا کو ہم نصیحت کرتے ہیں، اسلام کی خوبصورت تعلیم بتاتے ہیں، لیکن وقت آنے پر ہم میں سے وہ اکثریت ہے جو صبر کا دامن چھوڑ دیتی ہے۔ اگر ہم یہ معیار حاصل کر لیں تو ہماری تبلیغ کے میدان بھی مزید کھلتے چلے جائیں گے۔

عام افرادِ جماعت یہ نہ سمجھیں کہ یہ ساری واقفینِ زندگی اور عہدیداران کی ذمہ داریاں ہیں، آپس میں محبت و پیار کو بڑھانا، صلح اور صفائی کو قائم رکھنا، اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا، اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو سننا اور اُن پر عمل کرنا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم کے مطابق اپنے تقویٰ کے معیار بڑھانا، خلیفہ وقت کی باتوں پر لبیک کہنا یہ ہر احمدی کی ذمہ داری ہے اور یہی چیز جماعت کی اکائی کو بھی قائم رکھ سکتی ہے۔ عہدیداران کی عزت و احترام کرنا اور جماعتی معاملات میں اُن کی اطاعت کرنا یہ ہر فردِ جماعت پر فرض ہے۔ آپس کے تعلقات میں گھروں میں بھی اور باہر بھی اپنے اعلیٰ اخلاق کے نمونے قائم کرنا، ہر احمدی کی ذمہ داری ہے۔ تبھی آگ کے گڑھے میں گرنے سے بچائے جائیں گے اور پھر صرف خدا تعالیٰ نے یہی نہیں کہا کہ تبلیغ صرف مبلغین کا کام ہے یا چند اُن لوگوں کا کام ہے جو اپنے آپ کو دعوتِ الی اللہ کے لئے پیش کر دیتے ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے ایک گروہ کا ذکر کیا ہے لیکن دعوتِ الی اللہ کے بارے میں عام حکم ہے۔ اگر ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر حکم کے پیروی کرنے اور اسوہ پر چلنے کا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تو تبلیغ کے کام میں بھی پیروی کرنی ہو گی۔

مَیں نے جو تیسری آیت سورۃ نحل کی پڑھی، اُس میں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے اور یہ ذمہ داری ہم پر ڈالی ہے۔ یہ ہر ایک کی ذمہ داری ہے، ہر مربی کی، ہر عہدیدار کی، ہر فردِ جماعت کی، مرد کی اور عورت کی کہ خدا کے راستے کی طرف بلائیں اور پھر بلانے کا طریق بھی بتا دیا۔ فرمایا کہ حکمت سے خدا تعالیٰ کی طرف بلاؤ۔

اب جو تمہارا تعارف دنیا میں پھیل رہا ہے، لوگ تمہاری طرف متوجہ ہو رہے ہیں، مسجد کے بننے کے ساتھ مزید راستے تبلیغ کے کھل رہے ہیں، اخباروں نے بھی لکھنا شروع کر دیا ہے تو اللہ یہ فرماتا ہے کہ اس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے تبلیغ کی حکمت کو سمجھ کر پھر اس فریضے کو ادا کرو۔

اللہ تعالیٰ نے جو حکمت کا لفظ تبلیغ کے لئے استعمال کیا ہے تو اس کے بہت سے معنی ہیں، مختلف حالات اور مختلف لوگوں کے لئے راستوں کی طرف نشاندہی کر دی، کس طرح کن لوگوں سے تم نے واسطہ رکھنا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ دین کا علم حاصل کرنا بہت ضروری ہے جو قرآنِ کریم کے پڑھنے، اُس کی تفاسیر کے پڑھنے سے حاصل ہو سکتا ہے۔ اس سے اپنی دلیلوں کو مضبوط کرو۔ پھر بعض باتیں جن کی مزید وضاحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں فرمائی ہوئی ہے، اُن کے ذریعہ سے دلیلوں کو مضبوط کرو۔ اسلام کے ساتھ ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر بعض اعتراض کئے جاتے ہیں تو ان کے بارے میں بھی مضبوط دلیلیں قائم کرو اور مزید حاصل کرنے کی کوشش کرو۔

پھر حکمت کے معنی عدل کے بھی ہیں۔ بحث میں ایسی باتیں اور ایسی دلیلیں کبھی نہیں لانی چاہئیں جو اعتراض پر مبنی ہوں اور بجائے اس کے کہ اسلام کی اس تعلیم کے ہر موقع پر ایک مسلمان سے انصاف کے تقاضے پورے ہونے چاہئیں، بعض ایسی باتیں ہو جائیں جو اچھے اثر کے بجائے غلط اثر ڈالیں، جو انصاف کے بجائے ظلم پر مبنی ہوں۔ غیر احمدیوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں علمی لحاظ سے مار کھانے لگتے ہیں، فوراً ظلم اور گالی گلوچ اور ایسی باتوں پر اتر آتے ہیں جو بجائے خدا کے کلام کی حکمت ظاہر کرنے کے اُن کا گند ظاہر کر رہی ہوتی ہے۔ ہمیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے علم کلام سے اس قدر لَیس فرما دیا ہے کہ ہمارے کسی قول سے تبلیغ کے دوران ناانصافی اور ظلم کا اظہار ہو ہی نہیں سکتا۔

پس حکمت سے تبلیغ کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کلام کا مطالعہ بھی ضروری ہے اور یہ صرف تبلیغ میں ہی مددنہیں دے گا بلکہ یہ ہر احمدی کی تربیت میں بھی ایک کردار ادا کر رہا ہو گا۔ اسی طرح حکمت نرمی اور بردباری کو بھی کہتے ہیں۔ اس میں صبر بھی شامل ہے۔ تبلیغ میں نرمی اور صبر بہت ضروری چیز ہے۔ بہت نئے آنے والے جو ہیں خاص طور پر پوچھتے ہیں کہ ہم اپنے رشتہ داروں کو کس طرح تبلیغ کریں؟ بعض قریبیوں کے لئے اُن کے دل میں بڑا درد ہوتا ہے۔ ان کی ایک بے چینی کی کیفیت ہوتی ہے۔ خاص طور پر جب وہ اپنے عزیزوں کو احمدیت کے بارے میں بتاتے ہیں تو بجائے باتیں سننے کے آگ بگولہ ہو جاتے ہیں اور سختی سے کلام کرتے ہیں تو اُس وقت ہر احمدی کا کام ہے کہ نرمی اور صبر کا مظاہرہ کرے۔ یہ حکمت ہے اور یہ بہت ضروری چیز ہے۔ بہت سوں کے دل جو ہیں وہ حکمت سے نرم ہو جاتے ہیں۔ صبر اور نرمی سے نرم ہو جاتے ہیں۔ کئی لوگ اپنے واقعات لکھتے ہیں کہ ہمارے صبر اور حوصلہ ایسا تھا کہ لگتا تھا کہ دامن چھوٹ رہا ہے لیکن ہم صبر کرتے رہے اور ہمارا صبر رنگ لایا اور ہمارا فلاں عزیز اب بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گیا۔

پھر جو حکمت کا قرآنِ کریم میں لفظ آیا، لغت میں اس کے یہ بھی معنی ہیں کہ جو چیز جہالت سے روکے۔ یعنی تبلیغ کرنے والے کو ایسی بات کہنی چاہئے جو دوسرے کو جاہلانہ باتیں کرنے سے روکے۔ اُس کے مزاج کے مطابق باتیں ہوں۔ ایسی بات نہ ہو کہ ایسی باتیں تمہارے منہ سے نکل جائیں جو اُس کو مزید جہالت پر ابھارنے والی ہوں۔ بیشک مولویوں کا طبقہ یا بعض ایسے لوگوں کا طبقہ جن کے دل پتھر ہو چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے اُن کے لئے جہالت کی موت ہی مقدر کر دی ہے، اگر حکمت سے ان میں سے ہر ایک کی طبیعت اور علم کی حالت کو سمجھتے ہوئے بات کی جائے تو وہاں دل نرم ہونے شروع ہو جاتے ہیں یا کم از کم اگر انسان مانتا نہیں تو خاموش ضرور ہو جاتا ہے۔ بلکہ خدا تعالیٰ کو نہ ماننے والے اور مذہب کے خلاف جو لوگ ہیں اُن کے بھی دل نرم ہو جاتے ہیں اور وہ غلط اور جاہلانہ اعتراضات کرنے سے باز آ جاتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا ریسپشن کی مثال دیتا ہوں، یہاں آنے والوں میں بہت سارے لا مذہب لوگ بھی تھے۔ اُن میں سے ایک جوڑے نے جو ڈاکٹر تھے جب قرآن اور حدیث کے حوالے سے میری باتیں سنیں، تو کہنے لگے کہ یہ مذہب کی باتیں دل کو ایسی لگ رہی ہیں کہ دل چاہتا ہے سنتے چلے جائیں۔ وہ مجھے ملے بھی تھے۔ پس اسلام کی تعلیم تو ایسی پُر حکمت تعلیم ہے کہ اگر ماحول کے مطابق دنیا کے سامنے پیش کی جائے تو دل پر اثر کرتی ہے۔

مَیں دوبارہ کہتا ہوں کہ اب یہ میدان جو صاف ہو رہے ہیں اور یہ تعارف جو بڑھ رہے ہیں انہیں آپ نے سنبھالنا ہو گا۔ اور انہیں سنبھالنا آپ میں سے ہر ایک کا کام ہے۔

پھر حکمت یہ بھی تقاضا کرتی ہے کہ کبھی کوئی غلط بات نہ ہوبلکہ سچی اور صاف بات ہو اور اسلام نے تو ایسی خوبصورت اور سچی تعلیم دی ہے، اسلام ایسا خوبصورت اور سچا مذہب ہے کہ اس کے لئے کوئی ضرورت ہی نہیں ہے کہ کوئی گول مول بات کی جائے۔ ہم اُن علماء کی طرح نہیں جو کہتے ہیں کہ حکمت کے تقاضے پورے کرنے کے لئے اگر جھوٹ بھی بولنا ہو تو بول دو اور یہ اُن کی تفسیروں کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔ وہ حکمت کیسی ہے جس میں جھوٹ ہے؟ جہاں جھوٹ آیا وہاں انصاف، عدل اور امن ختم ہوا۔ اور جہاں یہ چیزیں ختم ہوئیں وہاں فتنہ و فساد پیدا ہوا اور یہی چیز آجکل ہم پاکستان میں اور دوسرے اسلامی ملکوں میں دیکھ رہے ہیں اور جب فتنہ پیدا ہو تو پھر وہاں اسلام نہیں رہتا۔

پس اسلام کی حقیقی تعلیم اگر کوئی پھیلا سکتا ہے، اگر کوئی بتا سکتا ہے تو وہ احمدی ہے جس کی ہر بات صداقت، عدل اور علم پر منحصر ہے۔ پس یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے ہر احمدی کی جو ہم نے ادا کرنی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اسی طرح حکمت کے تقاضے پورے کرو۔ یعنی اپنے علم کو بڑھاؤ، اپنے صبر کے معیار کو بڑھاؤ، اپنے عدل کے معیار کو بڑھاؤ، اپنی روزمرہ زندگی میں جس چیز کا اظہار ہوتا ہو، وہ کرو۔ اپنے اندر مزاج شناسی پیدا کروکیونکہ مزاج شناسی کے بغیر بھی تبلیغ نہیں ہو سکتی۔ مزاج شناسی بھی تبلیغ کے لئے ایک اہم گُر ہے۔ تو پھر تمہارا وعظ جو ہے وہ اعلیٰ ہو سکتا ہے، تمہاری جو تبلیغ ہے وہ پُر حکمت ہو سکتی ہے۔ تب تم موعظہ حسنہ پر عمل کرنے والے ہو سکتے ہو۔ موعظہ حسنہ کاکا مطلب یہ ہے کہ ایسی بات جو دل کو نرم کرے۔

پس حکمت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے جو بات ہو وہ دلوں کو نرم کرتی ہے۔ یہاں مختلف قومیں آباد ہیں ان کے لئے مختلف طریق سوچنے ہوں گے کہ کس طرح ان کو احسن رنگ میں تبلیغ کی جائے۔ اس کی طرف بھی اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرما دی ہے کہ جَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَن۔ یعنی تبلیغ ایسی احسن دلیل اور حکمت کے ساتھ ہو، تمہاری نصیحت ایسی دل کو لگنے والی ہو کہ دل نرم ہونے شروع ہو جائیں۔ تبلیغ کرنا ہر احمدی کا کام ہے۔ باقی اسے پھل لگانا خدا تعالیٰ کا کام ہے۔ ہدایت فرمانا خدا تعالیٰ کا کام ہے لیکن اس کام کے لئے جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا اپنی حالتوں کو بدلنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ تبھی بات اثر کرتی ہے۔ تبھی دلیلیں کارگر ہوتی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک موقع پر نصیحت کرنے کے طریق کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ:

’’جسے نصیحت کرنی ہو اُسے زبان سے کرو۔ ایک ہی بات ہوتی ہے وہ ایک پیرایہ میں ادا کرنے سے ایک شخص کو دشمن بنا سکتی ہے اور دوسرے پیرایہ میں دوست بنا دیتی ہے۔ پس جَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ (النحل: 126) کے موافق اپنا عمل درآمد رکھو۔ اسی طرزِ کلام ہی کا نام خدا نے حکمت رکھا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد3صفحہ104ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

پس یہ حکمت سے بات کرنا آپس میں بھی ضروری ہے اور تبلیغ کے لئے بھی ضروری ہے۔ تربیت کے لئے بھی ضروری ہے اور دنیا کو خدا تعالیٰ کی طرف بلانے کے لئے بھی ضروری ہے۔ تبلیغ کے راستے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کھول دئیے۔ اس سے فائدہ اُٹھانا اور ایک ہو کر ایک مہم کی صورت میں تبلیغ کے میدان میں اترنا اب افرادِ جماعت کا کام ہے۔ آپ پر منحصر ہے کہ کس حد تک اس کو بجا لاتے ہیں۔ اخباروں نے تو مسجد کے حوالے سے خبریں لگا دیں کہ اسلام نے جھنڈے گاڑ دئیے۔ خلیفہ نے کہا کہ سترھویں صدی میں مسلمانوں کو یہاں سے نکالا گیا تھا اب ہم نے واپس یہاں آنا ہے۔ لیکن صرف ان خبروں سے تو ہمارا مقصد حاصل نہیں ہو گا۔ اس سے ملتی جلتی خبریں تو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے حوالے سے بھی اخباروں میں شائع ہوئی تھیں جب مسجد بشارت پیدروآباد کا افتتاح ہوا تھا۔ لیکن جائزہ لیں۔ کیا گزشتہ تیس سال میں ہم نے کچھ حاصل کیا۔ پس ترقی کرنے والی قومیں اخباری خبروں سے خوش نہیں ہوتیں۔ مقصد حاصل کرنے والی قومیں ریسپشن میں یا دوستوں کی مجالس میں مہمانوں کے جذباتی اظہار سے خوش نہیں ہو جایا کرتیں بلکہ اپنے جائزے لیتی ہیں۔ نئے نئے پروگرام بناتی ہیں۔ آپس میں ایک اکائی بن کر نئے عزم کے ساتھ اپنے پروگراموں کو عملی جامہ پہناتی ہیں۔ اور اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتیں جب تک اپنے مقصد کو حاصل نہ کر لیں۔ چھوٹی چھوٹی باتیں اُن کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ اس ٹوہ میں نہیں رہتیں کہ امیر جماعت نے یا صدر جماعت نے میرے متعلق کیا بات کی تھی بلکہ ایسی باتیں پہنچانے والوں کو ترقی کرنے والے لوگ یہ کہتے ہیں کہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی میرے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہے۔ مَیں نے تو زمانے کے امام کے ساتھ عہدِ بیعت باندھا ہوا ہے اور اُسے میں نے پورا کرنا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنا ہے۔ ان باتوں کی طرف توجہ تو میرے خیالات کو منتشر کر دے گی اور مَیں اپنے مقصد کو بھول جاؤں گا۔ اپنے ہم وطنوں کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانے میں یہ باتیں آپس کی چپقلشیں روک بن جائیں گی۔ میرے سے تفرقہ کا اظہار ہوگا۔ اس طرح میں اپنی دنیا و عاقبت برباد کرنے والا بن جاؤں گا۔ پس اگر تمہیں میرے سے ہمدردی ہے، اگر تمہیں جماعت سے ہمدردی ہے تو یہ باتیں مجھ تک نہ پہنچاؤ بلکہ کسی شخص کو بھی ان کے بارے میں جو باتیں تم سنو، وہ نہ بتاؤ کیونکہ یہ چغلی کے زمرہ میں آتی ہیں۔ اگر یہ سوچ ہر احمدی کی، ہر مبلغ کی، ہر عہدیدار کی ہو جائے گی تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ انقلاب کے راستے کھلتے چلے جائیں گے۔ پس ہر سطح پر یہ عزم کریں، چاہے وہ خادم ہیں یا انصار ہیں یا لجنہ کے ممبر ہیں کہ میں نے اسلام کی سربلندی کی خاطر ہر قسم کے تفرقے کو ختم کرنا ہے اور ہر قسم کی رنجشوں اور فتنوں کو جڑ سے اکھیڑنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔

گزشتہ جمعہ میں نے مسجد کی تعداد کے لحاظ سے ذکر کیا تھا۔ ٹیکنیکلی تو اتنا ہی ہے جو مَیں نے بتایا تھا لیکن مختلف ہالز میں جو capicity ہے، اس کے مطابق کم از کم چھ سو سے اوپر نمازی یہاں نماز پڑھ سکتے ہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ اس مسجد کو ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے۔

خطبہ ثانیہ کے دوران حضور انور نے فرمایا:

ایک دعا کی تحریک بھی کرنی چاہتا ہوں۔ نوابشاہ کے ہمارے ایک مخلص احمدی دوست، جو پیشہ کے لحاظ سے وکیل بھی ہیں، دو دن پہلے وہ اپنی دوکان سے آ رہے تھے تو مخالفین نے گولیوں کے فائر کر کے ان کو شدید زخمی کر دیا۔ وہ criticalحالت میں ہیں۔ ابھی کراچی میں ہسپتال میں ہیں۔ ڈاکٹر کچھ عرصہ، آئندہ چند دن اور دیکھیں گے تب بتایا جا سکتا ہے کہ خطرے سے باہر ہیں کہ نہیں ہیں۔ اُن کے لئے دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ اُن کو شفائے کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • English اور دوسری زبانیں

  • 5؍ اپریل 2013ء شہ سرخیاں

    گزشتہ جمعہ کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سپین کی اس دوسری مسجد کاافتتاح ہوا۔

    اس ملک میں توہم نے ابھی بے انتہا کام کرنا ہے۔ اُس کھوئی ہوئی ساکھ کو دوبارہ قائم کرنا ہے جو آج سے کئی صدیاں پہلے کھوئی گئی۔ یہاں رہنے والوں کو دوبارہ دینِ اسلام کی خوبیاں بتا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانا ہے۔ اور اس کے لئے سب سے اہم چیز اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنا، اُس سے مدد مانگنا اور ایک اکائی بن کر تبلیغ کا کام کرنا ہے۔

    مسجد کی خوبصورتی اُس وقت کام آ سکتی ہے جب اس کے اندر آنے والوں کی روح کی خوبصورتی نظر آئے۔ جب ہر احمدی کے قول و فعل میں عبادت کے ساتھ ایک دوسرے کے لئے محبت اور پیار کے جذبات نظر آئیں۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ قرآنِ کریم، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور خلافتِ احمدیہ یہ سب حبل اللہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی رسّی ہیں۔ اُن میں سے ایک کڑی بھی اگر ایک احمدی نظر انداز کرے گا تو وہ اُن لوگوں میں شمار ہو گا جو دوبارہ آگ کے گڑھے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پس ہر احمدی کو یہ بات اپنے پیشِ نظر رکھنی چاہئے کہ حبل اللہ کو پکڑنا اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد رکھنا اور اُس کا شکر گزار ہونا تب حقیقت کا روپ دھارے گا، تب یہ قول سے نکل کر عمل کی شکل اختیار کرے گا، جب آپس کی محبت ہو گی، جب ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے والے بھائیوں جیسا سلوک ہو گا۔

    آج خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین اور مذہب کی خوبصورتی اگر کوئی بتا سکتا ہے تو جماعت احمدیہ ہے۔ وہ لوگ ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے والے ہیں، وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہیں، جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے حبل اللہ کو پکڑنے کے سامان کئے ہوئے ہیں۔ مربیان کو خلیفۂ وقت نے تربیت کے لئے اور تبلیغ کے لئے اپنا نمائندہ بنا کر یہاں بھی اور دنیا میں بھی بھیجا ہے۔ آپ وہ واعظ ہیں جو نصیحت کرتے ہیں، جو یہ بات دنیا کو بتا رہے ہیں کہ اگر نجات چاہتے ہو تو حبل اللہ کو پکڑ لو۔ اگر دنیا و آخرت سنوارنا چاہتے ہو تومحبت، پیار اور بھائی چارے کو فروغ دو۔ اگر مربیان اور مبلغین خود اعلیٰ معیار قائم نہیں کریں گے تو دنیا کو کس طرح نصیحت کریں گے۔

    مربیان اور مبلغین کا سب سے زیادہ احترام، صدر جماعت اور امیر جماعت کو کرنا چاہئے اور اس احترام کی وجہ سے مربیان یہ نہ سمجھیں کہ یہ ہمارا حق ہے بلکہ اُن میں مزید عاجزی پیدا ہونی چاہئے۔ مزید اپنے نفس کی اصلاح کی طرف توجہ پیدا ہونی چاہئے۔

    عہدیداران کا آپس کا رویہ اور ایک دوسرے کے ساتھ سلوک بھی بہت اچھا ہونا چاہئے۔

    عام افرادِ جماعت یہ نہ سمجھیں کہ یہ ساری واقفینِ زندگی اور عہدیداران کی ذمہ داریاں ہیں۔ آپس میں محبت و پیار کو بڑھانا، صلح اور صفائی کو قائم رکھنا، اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا، اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو سننا اور اُن پر عمل کرنا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم کے مطابق اپنے تقویٰ کے معیار بڑھانا، خلیفہ وقت کی باتوں پر لبیک کہنا یہ ہر احمدی کی ذمہ داری ہے۔ اور یہی چیز جماعت کی اکائی کو بھی قائم رکھ سکتی ہے۔

    تبلیغ کے راستے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کھول دئیے۔ اس سے فائدہ اُٹھانا اور ایک ہو کر ایک مہم کی صورت میں تبلیغ کے میدان میں اترنا اب افرادِ جماعت کا کام ہے۔

    فرمودہ مورخہ 05اپریل 2013ء بمطابق 05 شہادت 1392 ہجری شمسی،  بمقام مسجد بیت الرحمن، ویلنسیا (سپین)

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور