آئر لینڈ میں جماعت احمدیہ مسلمہ کی پہلی مسجد: امن اور مذہبی آزادی

خطبہ جمعہ 26؍ ستمبر 2014ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَ وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰٓی اُولٰئِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ(التوبۃ: 18)

اس آیت کا ترجمہ ہے کہ اللہ کی مساجد تو وہی آباد کرتا ہے جو اللہ پر ایمان لائے اور یوم آخرت پر اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور اللہ کے سوا کسی سے خوف نہ کھائے۔ پس قریب ہے کہ یہ لوگ کامیابی کی طرف لے جائے جائیں گے۔

الحمد للہ آج ہمیں آئرلینڈ میں جماعت احمدیہ مسلمہ کی پہلی مسجد میں اللہ تعالیٰ جمعہ پڑھنے کی توفیق عطا فرما رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس مسجد کی تعمیر، اس کا قیام ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے۔ گو یہ چھوٹی سی مسجد ہے لیکن اس بات کا اعلان ہے کہ مسیح محمدی کے ماننے والے یہاں سے خدائے واحد کی وحدانیت کا پانچ وقت اعلان کریں گے اور اس میں حاضر ہو کر خدائے واحد کی پانچ وقت عبادت بجا لائیں گے۔ اس مسجد سے اس آواز کو بلند کریں گے کہ مساجد تو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی جگہ ہیں نہ کہ کسی فتنہ اور فساد کی آماجگاہ۔ یہ مساجد تو اس خدا کی عبادت کے لئے بنائی جاتی ہیں جو ربّ العالمین ہے جس نے تمام زمانوں کے انسانوں کے لئے اپنی ربوبیت کا اظہار کیا۔ جس نے ماضی میں بھی ہر قوم کی مادی اور روحانی ترقی کے لئے اپنی ربوبیت کا اظہار کیا۔ آج بھی اپنی ربوبیت سے دنیا کو فیضیاب کر رہا ہے اور جو آئندہ بھی ہمیشہ نوازتا چلا جائے گا، فیضیاب کرتا چلا جائے گا۔ اس کی ربوبیت کسی خاص قوم کے لئے مخصوص نہیں بلکہ تمام جہانوں اور تمام مخلوق کے لئے ہے۔

پس اس لحاظ سے مسیح محمدی کے ماننے والوں کی مساجد اس بات کا اعلان کرنے کے لئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی روحانی ربوبیت کا ادراک حاصل کرنا ہے تو مسیح محمدی کی جماعت میں شامل ہونے والوں کو ہی یہ حقیقی رنگ میں حاصل ہو سکتا ہے۔ یہ مساجد اس بات کا اعلان کرنے کے لئے ہم تعمیر کرتے ہیں کہ دنیا کے فسادوں کو دُور کرنے کے لئے اسلام کی اس خوبصورت تعلیم پر غور کرو جو محبت، پیار، صلح اور امن کا پیغام دیتی ہے۔ یہ مساجد اس بات کے اعلان کے لئے ہیں کہ دنیا کو محبت پیار اور بھائی چارے کی ضرورت ہے نہ کہ جنگ و جدل کی، نہ کہ تلوار اور توپ کی۔ ہر مسجد جو ہم تعمیر کرتے ہیں اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ اس مسجد میں آنے والے کا دل ہر قسم کے ظلموں اور حقوق غصب کرنے کے خیالات سے پاک ہے۔ یہ ہماری مساجد اس بات کا نشان اور مرکز ہیں کہ یہاں آنے والے دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنے والے ہیں اور ان حقوق کی ادائیگی کے لئے قربانی کرنے کے لئے جہاں اپنوں کے لئے ان کے دل رحم کے جذبات سے پُر ہیں وہاں دشمن کی دشمنی بھی انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے حق کی ادائیگی سے نہیں روکتی۔ یہ مساجد جو ہم تعمیر کرتے ہیں یہ اس بات کا اعلان ہیں کہ مذہبی آزادی کا سب سے بڑا علمبردار اسلام ہے اور اس کے اظہار کے لئے ہماری مسجدوں کے دروازے ہر ایک کے لئے کھلے ہیں۔ ہر شخص جو ایک خدا کی عبادت کرتا ہے اسے مسجد میں عبادت کرنے میں کوئی روک نہیں۔ قطع نظر اس کے کہ وہ مسلمان ہے یا غیر مسلم۔ ہماری مساجد اور اس میں آنے والا ہر احمدی اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ قرآنی تعلیم کے مطابق ہر حقیقی مسلمان پر تمام مذاہب کی عبادتگاہوں کی حفاظت کی ذمہ داری ہے اور فرض ہے اور اس ذمہ داری کا ادا کرنا اس کے لئے اتنا ہی ضروری ہے جتنا اپنی مسجد کی حفاظت کرنا۔ ہماری مساجد ہمیں اس طرف بھی توجہ دلاتی ہیں کہ مومن کے ایمان کا حصہ ملک سے وفاداری بھی ہے۔ ایک مومن اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے ملک و قوم کا وفادار نہ ہو۔

غرض کہ بیشمار باتیں ہیں جو مساجد سے حقیقی رنگ میں وابستہ ہونے والوں سے یہ مطالبہ کرتی ہیں کہ مساجد کا حق اس وقت ادا ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق صحیح رنگ میں ادا ہوں۔ اور یہ تمام باتیں کرنے کا حکم ہمیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں دیا ہے اور ان تمام باتوں کے کرنے کے لئے ہمیں ہمارے آقا ومطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار توجہ دلائی ہے اور اپنے عمل اور اسوہ حسنہ سے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی ہے۔ انسانیت کی قدریں قائم کرنے اور محبت، سلامتی اور امن کے قیام کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نمونے قائم کئے۔ یہ صرف کہنے کی باتیں نہیں ہیں بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ ایک موقع پر آپ نے عیسائیوں کو ان کی عبادت کے وقت اپنی مسجد’مسجدنبوی‘ میں عبادت کرنے کی اجازت دے دی۔ (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام صفحہ 396 امر السید والعاقب و ذکر المباھلۃ (صلاتھم الی المشرق) مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2001ء)۔ اور یہی وہ حقیقی اسلامی تعلیم ہے جس کو اس زمانے میں ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق اور عاشق صادق نے اپنے اوپر لاگو کرنے کا حکم دیا۔ یہی وہ حقیقی اسلامی تعلیم اور عمل ہے جس کی چند مثالیں مَیں نے پیش کیں۔ جن کے کرنے اور پھیلانے کا ہمیں حکم دے کر اور ہم سے توقع کر کے زمانے کے امام مسیح موعود اور مہدی معہود علیہ السلام نے فرمایا کہ اس سوچ کے ساتھ جہاں بھی تم مسجدیں بناؤ گے اسلام کے تعارف اور تبلیغ کے نئے راستے کھولتے چلے جاؤ گے۔ لوگوں کی اسلام کی طرف توجہ ہو گی۔ اس کی خوبصورت تعلیم انہیں اپنا گرویدہ کر لے گی اور یوں تمہاری تعداد بھی بڑھتی چلی جائے گی۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد ہفتم صفحہ 119۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس یہی مقصد ہے جس کے لئے ہمیں اپنی مساجد بنانی چاہئیں اور ہم بناتے ہیں۔ یہی وہ تعلیم ہے جس کو آج میڈیا کے ذریعہ دیکھ کر اور اس کا علم پا کر دنیا ہماری طرف متوجہ ہوتی ہے۔ ایک عام آدمی سے لے کر بڑے بڑے لیڈر اور سیاستدان جب دیکھتے ہیں کہ ایک طرف تو شدت پسند گروہ ہیں جو مار دھاڑ اور بلا امتیاز قتل و غارت میں لگے ہوئے ہیں اور دوسری طرف ایک جماعت ہے جو محبت، پیار، صلح اور امن کے لئے کوشش کر رہی ہے۔ ایک طرف تو ایسے نام نہاد مسلمانوں کی مساجد ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نام پر گالیاں اور غلاظتوں سے بھرے ہوئے جذبات کے اظہار کئے جاتے ہیں اور دوسری طرف صرف امن اور صلح کی بات کی جاتی ہے اور ’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں‘ کے نعرے بلند کئے جاتے ہیں۔ یقینا یہ باتیں اپنی طرف توجہ کھینچتی ہیں۔ لوگوں کو تجسّس پیدا ہوتا ہے کہ ان دو قسموں کے مسلمانوں میں فرق کیوں ہے؟ اور پھر یہ تجسّس آجکل کے جدید میڈیا انٹرنیٹ وغیرہ کے ذریعہ جماعت احمدیہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی طرف مائل کرتا ہے۔

پرسوں ڈبلن پارلیمنٹ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ کچھ ممبران پارلیمنٹ سے ملنے کا بھی موقع ملا۔ ایک ان میں سے کہنے لگے کہ جماعت احمدیہ جس طرح انسانیت کی قدریں قائم کرنے کے لئے اور امن کے قیام کے لئے کوشش کرتی ہے وہ دوسرے مسلمانوں میں نظر نہیں آتیں اور یہ معلومات جماعت کے بارے میں بڑی گہرائی میں جا کر میں نے لی ہیں۔ اور کہنے لگے کہ یہ سب معلومات لے کر مَیں اس بات کا خواہشمند ہوں کہ اب جماعت احمدیہ ڈبلن میں بھی جلد مسجد بنائے تا کہ یہ محبت اور اعلیٰ قدروں کا پیغام اس شہر میں بھی پھیلے جو میرا شہر ہے۔ تو اس طرح اللہ تعالیٰ دنیا کو بتا رہا ہے کہ صرف تصویر کا ایک رخ دیکھ کر اسلام کے بارے میں غلط رائے قائم نہ کرو بلکہ تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھو جو حقیقی رخ ہے جس کو آج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کی جماعت پیش کرتی ہے۔

پس اس بات پر ہمیں خوش نہیں ہو جانا چاہئے کہ ہم نے یہاں مسجد بنا لی اور آج دنیا نے ایم ٹی اے کے ذریعہ سے آپ کی مسجد دیکھ لی۔ آپ بھی دنیا کو کہنے کے قابل ہو گئے کہ ہمارے پاس بھی مسجد ہے۔ ایک فنکشن شام کو بھی ہو جائے گا انشاء اللہ اور اس میں پڑھے لکھے طبقے کو آپ کی مسجد دیکھنے کا موقع ملے گا یا یہ لوگ مسجد کی خوبصورتی کی تعریف کر دیں گے یا تعریف کی جانی شروع بھی ہو گئی ہو گی۔ یا مختلف وقتوں میں شاید مختلف لوگ اس شہر کے بھی اور باہر سے بھی مسجد کا وِزٹ کرنے آئیں اور آپ خوش ہو جائیں کہ اتنے لوگوں یا اتنے گروپوں نے وزٹ کیا ہے اور بس آپ نے سمجھ لیا کہ ہم نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے۔ یہ نہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ بہت سی باتیں ہیں جس کا اعلان آپ اس مسجد کے ساتھ کر رہے ہیں۔ یہ سب باتیں ایک بہت بڑی ذمہ داری آپ پر ڈالنے والی ہونی چاہئیں۔ پس ان ذمہ داریوں کی طرف یہاں کے رہنے والے ہر احمدی کی توجہ ہونی چاہئے کہ کس طرح یہ ذمہ داری ادا کرنی ہے؟

جیسا کہ مَیں بیان کر آیا ہوں کہ مسجد کا کردار کیا ہے اور ہماری مسجدوں سے کیا اعلان ہوتا ہے۔ کس طرح ہم نے حقوق اللہ بھی ادا کرنے ہیں اور حقوق العباد بھی ادا کرنے ہیں۔ اگر ان کی ادائیگی کی طرف توجہ نہیں تو ہمارے دعوے بھی کھوکھلے ہوں گے۔ ہمارے نعرے اور اعلان بھی دنیا کو دھوکہ دینے والے ہوں گے۔ ہم صرف زبانی باتوں اور پراپیگنڈے سے دنیا والوں کو خوش تو کر رہے ہوں گے لیکن جو ہماری زندگی کا مقصد ہے خدا کو راضی کرنا اور اس کی رضا کے مطابق اپنے عملوں کو ڈھالنا، اس طرف ہماری توجہ نہیں ہوگی۔

میں نے شروع میں جو آیت تلاوت کی تھی اس میں بھی خدا تعالیٰ نے مسجدوں کو آباد کرنے والوں کی خصوصیات بیان کی ہیں۔ اس آیت کی وسعت خانہ کعبہ سے نکل کر ہر اس مسجد تک پھیلتی چلی جاتی ہے جو ان خصوصیات کے حامل لوگوں سے آباد ہوتی ہے جن کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ جو ایمان لانے والوں میں شامل ہیں۔ ان مومنوں میں شامل ہیں جن کے ایمان کے معیار اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ اس طرح بیان فرمائے ہیں۔ فرمایا کہ اَشَدُّ حُبًّا لِلّٰہ۔ یعنی مومنوں کی محبت سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ہوتی ہے۔ کوئی دوسری دنیاوی محبت ان پر غالب نہیں ہوتی۔ وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کے لئے اپنی زندگیاں گزارنے کی کوشش کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ نہیں ہوتا کہ دنیاوی مفاد کو حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی محبت کو بھول جائیں۔ اللہ تعالیٰ کی محبت یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس کے احکام پر عمل کیا جائے۔ یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔ یہ نہیں کہ اپنے کام کے بہانے کر کے نمازوں کو انسان بھول جائے۔ مالی مفاد کا فائدہ اٹھانے کے لئے جھوٹ کا سہارا لے لے۔ یہ کام کرتے وقت انسان کو سوچنا چاہئے کہ میری محبت خدا تعالیٰ سے زیادہ ہے یا دنیاوی مفادات سے؟ اگر دنیاوی چیزیں اللہ تعالیٰ کے حکموں سے دُور لے جا رہی ہیں تو دنیا کی محبت غالب آ رہی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

’’جاننا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی غیوری محبت ذاتیہ میں کسی مومن کی اس کے (یعنی اللہ کے) غیر سے شراکت نہیں چاہتی۔ ایمان جو ہمیں سب سے پیارا ہے۔ وہ اسی بات سے محفوظ رہ سکتا ہے کہ ہم محبت میں دوسرے کو اس سے شریک نہ کریں۔‘‘ (مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 534مکتوب نمبر 120مکتوبات بنام حضرت منشی رستم علی صاحبؓ، شائع کردہ نظارت اشارت ربوہ)

پس یہ بڑی قابل غور بات ہے۔ کہنے کو تو ہر مسلمان یہی کہتا ہے کہ مجھے خدا سے محبت ہے، مجھے رسول سے محبت ہے۔ اسی لئے مرنے مارنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ کبھی کسی مسلمان کے منہ سے ہم یہ نہیں سنیں گے کہ مجھے خدا یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہیں ہے۔ لیکن کتنے ہیں جو خدا اور اس کے رسول کے احکام پر عمل کرنے والے ہیں۔ صرف نماز کو ہی لے لیں۔ ہمیں جائزے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم نمازوں کا حق ادا کر کے نمازیں پڑھتے ہیں۔ بہت سے ایسے ہیں جن کے جواب یہ ہیں کہ تین نمازیں یا چار نمازیں پڑھتے ہیں۔ پھر بہت سے ایسے ہیں جو نماز کی ادائیگی میں اتنی جلدی کرتے ہیں کہ جیسے ایک بوجھ گلے سے اتار رہے ہوں۔ نماز جو خداتعالیٰ کے قریب کرنے اور اس سے محبت کے اظہار کا ذریعہ ہے۔ اگر اس کی ادائیگی ہم سنوار کر نہیں کر رہے تو محبت کے تقاضے ہم پورے نہیں کر رہے۔ پھر ایمان لانے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب انہیں اللہ اور رسول کسی فیصلے کے بارے میں بلاتے ہیں، کسی بات کا حکم دیتے ہیں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔

پس ہر ایک کو اس معیار کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خود اپنا جائزہ ہی ہمیں اپنی حالتوں کے بارے میں بتا سکتا ہے۔ قرآن کریم نے بے شمار احکام دئیے ہیں جن کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک جگہ لکھا ہے کہ یہ سات سو حکم ہیں۔ اور جو اُن کو نہیں مانتا، ان پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کرتا وہ مجھ سے دُور ہو رہا ہے اپنا تعلق مجھ سے کاٹ رہا ہے۔ (ماخوذ از کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 26)

پس اللہ تعالیٰ پر ہمارا ایمان تب مکمل ہو گا جب ہم اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کر رہے ہوں گے۔ پھر ہم کہتے تو یہ ہیں کہ ہم آخرت پر ایمان لاتے ہیں لیکن ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ یہ آخرت پر ایمان کا دعویٰ صرف منہ کی باتیں ہیں کیونکہ اگر آخرت پر ایمان کامل ہو تو انسان بہت سے گناہوں اور حقوق کے غصب کرنے سے بچتا ہے۔ ہم دنیاوی قانون کے خوف سے تو بہت سے کام کرنے سے رُک جاتے ہیں کہ پکڑے گئے تو کیا ہو گا اور افسروں کی اطاعت بھی ہم ان کے خوف سے کرتے ہیں۔ لیکن بہت سے غلط کام ہم میں سے بہت سے اس لئے کرتے ہیں کہ آخرت کے بارے میں باوجود دعوے کے ہم سوچتے نہیں۔ بہت سے ہم میں سے اگر کبھی خشوع سے نمازیں پڑھ بھی رہے ہوں گے تو اس لئے پڑھتے ہیں کہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے دعا کریں۔ دنیاوی مقاصد ان میں بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ مسجدوں میں بعض اس لئے بھی آ جاتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے کہ اتنا عرصہ ہوا مسجد میں نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ مسجدوں کو آباد کرنے والے قیام نماز خدا تعالیٰ کے لئے کرتے ہیں۔ باجماعت نمازیں، ان کی پابندی، وقت پر ادائیگی اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کرتے ہیں۔ ان کی عبادتیں خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہوتی ہیں۔ ان کی مالی قربانیاں بھی خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہیں۔ خدا تعالیٰ کے علاوہ انہیں کسی کا خوف نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو صرف ایمان کا دعویٰ کرنے والے نہیں ہیں بلکہ انہیں ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت بھی نظر آتی ہے۔ ہر قدم ان کا ہدایت کے نئے سے نئے راستوں کی طرف اٹھتا ہے۔ ہر راستہ ان کے لئے فلاح کے دروازے کھولتا چلا جاتا ہے۔ کامیابیوں کے دروازے کھولتا چلا جاتا ہے۔ یہ ہدایت انہیں کامیابیوں کی طرف لے جاتی ہے۔ انہیں کامیابیاں نصیب ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا جماعت احمدیہ پر یہ احسان ہے کہ اس نے جماعت کو ایسے مومنین عطا کئے ہیں جن کے ایمان کے دعوے ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ان کا مقصد ہوتا ہے اور یہی راز ہے جس کی وجہ سے جماعت احمدیہ من حیث الجماعت ترقی کی منازل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پس ان فضلوں کا حصہ بننے کے لئے، مسجد کی آبادی کا حق ادا کرنے کے لئے، جیسا کہ مَیں نے کہا ہم میں سے ہر ایک کو ہر وقت اپنے جائزے لیتے رہنے کی ضرورت ہے تا کہ کوئی احمدی مرد عورت ایسا نہ رہے جو اس ترقی کی برکات اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے سے محروم رہے۔ ہمارے خوف دنیاوی خوف نہ ہوں بلکہ اگر کوئی خوف ہو تو اس محبت سے بھرا ہوا ہو کہ ہمارا پیارا خدا ہم سے ناراض نہ ہو جائے۔ پس اس مسجد کے بننے کے بعد جب دنیا کی نظر ہم پر ہو گی تو ایمان کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ہمیں پہلے سے بڑھ کر اپنے جائزے لینے ہوں گے۔ ہمیں اپنے عملوں کو اسلامی تعلیم کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہو گی، تبھی ہم مسجد دیکھ کر اس طرف متوجہ ہونے والوں کی صحیح رہنمائی کر سکیں گے۔

مسجد کے بعد تبلیغ اور احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے تعارف کے نئے راستے کھلیں گے اور کھل بھی رہے ہیں۔ جیسا کہ مَیں نے کہا لوگ آئیں گے، دیکھیں گے۔ دنیا میں ہر جگہ جہاں جماعت کی مسجد بنتی ہے تو لوگ، سکولوں کے بچے بھی اور دوسرے گروپس بھی، آتے ہیں۔ آجکل کیونکہ بعض مسلمانوں کی حرکات کی وجہ سے دنیا کی نظر مسلمانوں کی طرف بہت ہے اس لئے جیسا کہ مَیں نے کہا تجسّس بہت بڑھ گیا ہے۔ جب ہمارے عملوں اور ہماری حالتوں سے وہ اسلام کی تصویر کا حقیقی رخ دیکھیں گے تو یقینا متأثر ہوں گے۔ پس مسجد بنانے کے بعد یہاں کے رہنے والوں کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ میں اس لئے یہ بار بار کہہ رہا ہوں کہ اب آپ چھپے ہوئے نہیں رہے۔ کبھی زمانہ تھا کہ جب آئر لینڈ کی جماعت چھوٹی سی تھی اور کوئی نہیں جانتا تھا۔ اب آپ لوگ ان لوگوں میں نہیں رہے جن کو لوگ جانتے نہیں۔ مسجد کی خوبصورت عمارت اور بلند مینار ہر روز آپ کو دنیا سے متعارف کروا رہے ہیں۔ اور اس کا آج افتتاح اور شام کو جیسا کہ میں نے کہا انشاء اللہ غیر مسلم یا غیر احمدیوں کے ساتھ جو فنکشن ہے اس تعارف کو ہر طبقے میں لے جائے گا۔ اخبارات نے کچھ لکھنا بھی شروع کر دیا ہے۔ مزید خبریں انشاء اللہ آئیں گی جو جماعت احمدیہ کے بارے میں، حقیقی اسلام کے بارے میں اس ملک کے لوگوں کو مزید آگاہ کریں گی اور یہ مسجد صرف گالوےؔ کے لوگوں کے لئے توجہ کا مرکز نہیں رہے گی بلکہ دوسرے شہروں کے لوگ بھی آپ کے بارے میں جانیں گے اور موقع ملا تو یہاں آ کر مسجد دیکھنے کی کوشش بھی کریں گے۔ یہی ہمارا مختلف جگہوں پر تجربہ ہے۔ گویا جیسا کہ مَیں نے کہا آپ کی تبلیغ میں وسعت پیدا ہوتی چلی جائے گی۔ اس کے لئے ہر احمدی کو علمی لحاظ سے بھی تیاری کرنے کی ضرورت ہے تا کہ دینی اور علمی جوابات دے سکیں اور عملی حالتوں کو بھی اس معیار کے مطابق لانے کی ضرورت ہو گی جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور جس کے بارے میں مَیں پہلے بتا چکا ہوں کہ وہ معیار کیا ہے؟ وہ معیار قرآن کریم کے تمام احکامات پر عمل کرنا ہے۔ اپنے ایسے نمونے قائم کرنا ہے کہ یہاں کے رہنے والے خود بخود آپ کی طرف متوجہ ہوں۔ اس ملک میں بھی مذہبی رجحان بہت زیادہ ہے۔ یورپ میں یہ ملک ہے جس میں ابھی تک امیر لوگ بھی، دنیا دار بھی، غریب بھی اپنے عیسائی ہونے کے حوالے دیتے ہیں اور اظہار کرتے ہیں کہ ہم مذہبی ہیں اور حضرت عیسیٰ کے حوالے سے عیسائیت کو اپنا نجات دہندہ مذہب سمجھتے ہیں۔ ان کو ہم نے بتانا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہماری تعلیم کے مطابق اللہ تعالیٰ کے برحق نبی تھے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنے سپرد مفوّضہ کام کو احسن طریق پر سرانجام دے کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اصل طاقتوں کا مالک اور تمام جہانوں کا رب خدائے واحد و یگانہ ہے جس کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی عبادت کی اور آپ کی پاکیزہ والدہ حضرت مریم نے بھی عبادت کی۔ اور پہلے انبیاء کی پیشگوئیوں کے مطابق آخری اور کامل شریعت لے کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں۔ اور یہی شریعت کامل اور نجات دلانے والی ہے۔ خدا تعالیٰ کا قرب دلانے والی ہے اور دنیا و آخرت سنوارنے کا ذریعہ بننے والی ہے لیکن صرف دعویٰ کرنے سے نہیں بلکہ اس شریعت پر عمل کرنے سے۔ ان کو بتانا ہو گا کہ اسلام کے زندہ مذہب ہونے کی دلیل یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں مسیح موعود علیہ السلام آ چکے ہیں جنہوں نے ہمیں خدا تعالیٰ سے ملایا۔ وہ خدا جو ہماری دعاؤں کو سنتا بھی ہے اور قبول بھی کرتا ہے جو اپنے وعدے کے مطابق اپنے نشانات بھی دکھا رہا ہے۔ پس اب دنیا کی بقا اس مسیح موعود کو ماننے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ سے زندہ تعلق اس مسیح موعود کی آغوش میں آنے سے ہی پیدا ہو گا۔ لیکن کیا ہم یہ باتیں دوسروں کو بغیر کسی جھجک کے کہہ سکتے ہیں یا ہمیں رک کر سوچنا پڑے گا کہ کہوں یا نہ کہوں؟ کیا اگر دوسرے نے مجھے قبولیت دعا کا چیلنج دے دیا تو میں اس حالت میں ہوں کہ اسے قبول کروں۔ کیا میرا خدا تعالیٰ سے تعلق ہے۔ کیا میں خدا تعالیٰ کا خوف اور اس کی محبت اپنے دل میں رکھتے ہوئے اپنی زندگی کو اس کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہوں؟ اگر نہیں تو پھر ایک احمدی ہونے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری کا احساس کئے بغیر اور انہیں نبھائے بغیر مَیں کس طرح دنیا کو دعوت دے سکتا ہوں۔ دنیا کو کس طرح بتا سکتا ہوں کہ یارو مسیح جو آنے کو تھا وہ تو آچکا۔

کیالوگ مجھے پوچھیں گے نہیں کہ تمہارے اندر اس مسیح نے کیا تبدیلی پیدا کی ہے جو تم مجھے پاک تبدیلیاں پیدا ہونے کا لالچ دے کر اس مسیح موعود کو ماننے کی طرف توجہ دلا رہے ہو۔ تمہارا اپنا خدا تعالیٰ سے کتنا تعلق پیدا ہو گیا ہے جو تم مجھے خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہونے کا لالچ دے کر مسیح موعود کو قبول کرنے کی دعوت دے رہے ہو۔ تمہارا دین تمہیں کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق اس کی عبادت کر کے ادا کرو بلکہ تمہارے تو قرآن کریم میں یہ لکھا ہوا ہے کہ انسانی زندگی کا مقصد خدا کی عبادت کرنا ہے اور اسی لئے تمہیں پیدا کیا گیا ہے۔ کتنی نمازیں ہیں جو تم باجماعت ادا کرتے ہو؟ تم نے مسجد تو خوبصورت بنا لی لیکن اس کی خوبصورتی تو نمازیوں کی حالت سے ہے۔ ان سے ہی چمک اَور ابھرتی ہے۔ کیا تم لوگ پانچ وقت نمازیں مسجد میں پڑھتے ہو؟ کیا تم اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق ادا کرتے ہو؟ قرآن کریم تو تمہیں کہتا ہے کہ تم خیر اُمّت ہو جو لوگوں کے فائدے کے لئے پیدا کئے گئے ہو کیونکہ تم نیکیوں کی تلقین کرتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو۔ پوچھنے والے ہمیں پوچھیں گے کہ کیا صرف تلقین کرنے سے تمہارا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔ اگر نہیں تو پہلے اپنے جائزے لو کہ کیا تم جو کہہ رہے ہو اس پر تم عمل بھی کر رہے ہو۔ پوچھنے والے پوچھیں گے کہ رشتے داروں اور لوگوں سے حسن سلوک کی تم باتیں کرتے ہو لیکن تمہارے اپنے عمل کیا اس کے مطابق ہیں۔ اپنی امانتوں کی ادائیگی اور عہدوں کے پورا کرنے کی تم باتیں کرتے ہو کیا امانتوں کا حق ادا کرنے اور عہدوں کو پورا کرنے کے تم سو فیصد پابند ہو۔ تم قربانی اور عاجزی کی باتیں کرتے ہو لیکن کیا اس کا اظہار تمہارے ہر قول و فعل سے ہو رہا ہے۔ تم یہ تو کہتے ہو کہ اسلام ہمیں حسن ظنی کی تعلیم دیتا ہے لیکن کیا اس حسن ظنی کو تم نے اپنی روزمرّہ زندگی پر لاگو بھی کیا ہو اہے یا نہیں۔ تم کہتے ہو کہ قرآن کریم ہمیں سچائی پر قائم رہنے کی بڑی تلقین کرتا ہے لیکن کئی مواقع پر تو میں نے دنیاوی فوائد کے حصول کے لئے تمہیں خود جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے دیکھا ہے۔ یہ کوئی بھی ہمیں کہہ سکتا ہے اگر ہمارا عمل اس کے سامنے ہے۔ تم کہتے ہو کہ اسلام تعلیم دیتا ہے کہ اپنے غصے کو دباؤ اور عفو کا سلوک کرو۔ تعلیم تو بڑی اچھی ہے لیکن کیا تم اپنے روزمرّہ کے معاملات میں ان باتوں کا اظہار بھی کرتے ہو۔ تم اسلام کی ایک بڑی خوبصورت تعلیم مجھے بتا رہے ہو کہ عدل و انصاف کو قائم رکھنے کے لئے تمہارا معیار اتنا اونچا ہونا چاہئے کہ دشمن کی دشمنی بھی تمہیں اس سے بے انصافی کرنے اور اس کا حق غصب کرنے پر نہ اکسائے لیکن کیا تم دوسروں کو معاف کرنے اور انصاف کے قیام کے لئے یہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہو اور اس کا حوصلہ رکھتے ہو۔ تمہارے سارے احکامات جو قرآن کریم کے حوالے سے تم بتاتے ہو بڑے اچھے اور خوبصورت ہیں لیکن کیا تم ان پر عمل کر رہے ہو۔ تم دوسرے مسلمانوں کے بارے میں تو کہہ دیتے ہو کہ انہوں نے مسیح موعود کو نہیں مانا اس لئے ان کی یہ حالت ہے کہ وہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ رہے ہیں اور رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ کا اُن سے اظہار نہیں ہوتا اور وہ اس کے الٹ کام کر رہے ہیں۔ لیکن تم نے جو مسیح موعود کو مانا ہے تمہارے تو ہر عمل کو تمہارے کہنے کے مطابق قرآنی تعلیم کے مطابق ہونا چاہئے۔ اگر نہیں تو پھر تم ہمیں کس روحانی اور عملی انقلاب کی طرف بلا رہے ہو۔ جیسے تم ویسے ہم۔ ہمارے میں اور تمہارے میں فرق کیا ہے۔ پس ہمیشہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ جہاں احمدی، احمدی کی حیثیت سے جانا جاتا ہے وہاں اس کی ذمہ داریاں بہت بڑھ جاتی ہیں۔ وہ صرف احمدی نہیں رہتا بلکہ مسیح موعود کا نمائندہ بن جاتا ہے۔ اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ہماری طرف منسوب ہو کر ہمیں بدنام نہ کرو۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 7 صفحہ 188۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس ایک احمدی کے کسی بُرے عمل کا اثر صرف اس کی ذات تک محدودنہیں رہتا بلکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ بہت اہم بات ہے جسے ہر احمدی کو اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے اور جب یہ سب کچھ پیش نظر ہو گا تو ہر احمدی احمدیت کا سفیر بن جائے گا۔ ہر تعارف اس کو دنیا کی نظروں میں اتنا بڑھائے گا کہ وہ آپ کی طرف لپک کر آئے گا۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نمائندہ بن جائیں گے۔ تبلیغ کا حق ادا کرنے والے بن جائیں گے۔ دنیا والوں کی دنیا اور آخرت سنوارنے والے بن جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے بن جائیں گے۔ پس اس کے حصول کے لئے ہمیں بھرپور کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنی پنجوقتہ نمازوں کو باجماعت اور سنوار کر ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ مسجد کا حق ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ فرائض کے ساتھ نوافل کے ذریعہ بھی خدا تعالیٰ سے تعلق جوڑنے کی ضرورت ہے۔ حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہر احمدی مرد اور عورت کو اپنی ذمہ داری سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ہم بڑے شوق سے یہاں کے رہنے والوں کو بتاتے ہیں کہ ہم نے اس مسجد کا نام مسجد مریم رکھا ہے کیونکہ لوگ حضرت مریم کا بڑا احترام کرتے ہیں۔ ہم انہیں یہ کہتے ہیں کہ حضرت مریم تمہیں بھی پیاری ہیں کہ حضرت عیسیٰ کی والدہ ہیں لیکن صرف حضرت عیسیٰ کی ماں ہونے کی وجہ سے وہ ہمیں پیاری نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نیکی اور تقویٰ کے معیار کو بھی دیکھ کر ان پر پیار کی نظر ڈالی اور مومنوں کو کہا کہ تم مریم جیسی خصوصیات پیدا کرو۔ مریم نے اپنی ناموس کی حفاظت کی اور یہ حفاظت خدا تعالیٰ کی محبت اور خوف کی وجہ سے کی۔ وہ خدا تعالیٰ کی کامل فرمانبردار تھیں اور اس کے حکموں پر عمل کرنے والی تھیں۔ وہ راستباز اور سچائی پر قائم رہنے والی تھیں۔ پس ہر حقیقی مسلمان مرد اور عورت کو اللہ تعالیٰ نے ان مومنانہ صفات کو اپنانے کا حکم دیا ہے۔ میں یہاں ان احمدی لڑکیوں اور عورتوں کو بھی کہوں گا کہ اگر یہاں کے لوگ حضرت مریم کی عزت کرتے ہیں اور صرف عزت ہی کرتے ہیں اور ان صفات کو اپنانے کی کوشش نہیں کرتے جو ان میں تھیں تو یہ ان کی کمزوری ہے۔ ایک حقیقی مسلمان مرد اور عورت کو تو حضرت مریم کی طرح اللہ تعالیٰ کا حقیقی فرمانبردار ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے کی کوشش کرنی چاہئے اور ان حکموں میں سے حیا اور پردہ بھی ایک حکم ہے جس کا قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ اپنے حیا دار لباس کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ سب کو اپنی رضا کے مطابق زندگیاں گزارنے اور حقیقی مومن بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ دنیا میں ڈوبنے کی بجائے عبادتوں کا حق ادا کرنے والا بنائے۔ ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کو ادا کرنے والا بنائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ ہمیں نصیحت فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

’’مَیں سچ کہتا ہوں کہ یہ ایک تقریب ہے جو اللہ تعالیٰ نے سعادتمندوں کے لئے پیدا کر دی ہے‘‘ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آنا۔ ’’مبارک وہی ہیں جو اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تم لوگ جنہوں نے میرے ساتھ تعلق پیدا کیا ہے اس بات پر ہرگز ہرگز مغرور نہ ہو جاؤ کہ جو کچھ تم نے پانا تھا پا چکے۔ یہ سچ ہے کہ تم ان منکروں کی نسبت قریب تر بہ سعادت ہو جنہوں نے اپنے شدید انکار اور توہین سے خدا کو ناراض کیا اور یہ بھی سچ ہے کہ تم نے حسن ظن سے کام لے کر خدا تعالیٰ کے غضب سے اپنے آپ کو بچانے کی فکر کی۔ لیکن سچی بات یہی ہے کہ تم اس چشمے کے قریب آ پہنچے ہو جو اس وقت خدا تعالیٰ نے ابدی زندگی کے لئے پیدا کیا ہے۔ ہاں پانی پینا ابھی باقی ہے۔ پس خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے توفیق چاہو کہ وہ تمہیں سیراب کرے کیونکہ خدا تعالیٰ کے بدُوں کچھ بھی نہیں ہو سکتا‘‘۔ خدا تعالیٰ ہی ہے جو توفیق دیتا ہے۔ ’’یہ مَیں یقینا جانتا ہوں کہ جو اس چشمے سے پئے گا وہ ہلاک نہ ہو گا کیونکہ یہ پانی زندگی بخشتا ہے اور ہلاکت سے بچاتا ہے اور شیطان کے حملوں سے محفوظ کرتا ہے۔ اس چشمہ سے سیراب ہونے کا کیا طریق ہے؟ یہی کہ خدا تعالیٰ نے جو دو حق تم پر قائم کئے ہیں ان کو بحال کرو اور پورے طور پر ادا کرو۔ ان میں سے ایک خدا کا حق ہے، دوسرا مخلوق کا۔‘‘ (ملفوظات جلد 3 صفحہ 184-185۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ یہ حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرماتا چلا جائے اور اس چشمے سے زیادہ سے زیادہ ہم فیضیاب ہونے والے بنتے چلے جائیں اور پھر اس فیض سے دنیا کو بھی فیضیاب کرنے والے ہوں۔ مَیں اس مسجد کے کچھ کوائف بھی بتا دوں۔ دنیا میں اس طرف بھی توجہ ہوتی ہے۔ مَیں نے ستمبر 2010ء میں اس کی بنیاد رکھی تھی اور زمین کا کل رقبہ 2400مربع میٹر ہے تقریباً پونہ ایکڑ، پونے ایکڑ سے تھوڑا سا کم۔ بہرحال جو مسجد کا مسقف حصہ ہے وہ 217 مربع میٹر ہے اور یہ جگہ 2009ء میں پانچ لاکھ پندرہ ہزار یورو کی لاگت سے خریدی گئی تھی۔ اس میں ایک مکان بھی بنا ہواتھا۔ پھر اس کی تعمیر پر تقریباً گیارہ لاکھ یورو کے اخراجات آئے ہیں۔ مین ہال اور دوسری جگہوں کو ملا کے ان میں تقریباً دو سو کے قریب لوگ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اس مسجد سے ملحقہ دو دفاتر بھی ہیں۔ جیسا کہ مَیں نے بتایا کہ ایک مکان بھی تھا جو تین کمروں پر مشتمل ہے اور اس میں کچن وغیرہ بھی بنا ہوا ہے۔ سترہ گاڑیوں کی پارکنگ کی بھی گنجائش ہے۔ پھر اس کے ساتھ یہ جو جگہ ہے اس کی لوکیشن (Location) بڑی اچھی ہے۔ قریب ہی یہاں گھوڑ دوڑ ہوتی ہے، ریسنگ گراؤنڈ (Racing ground) ہے جہاں سے یہ مسجد بڑی اچھی طرح نظر آتی ہے۔ مشہور تہوار یہاں ہوتا ہے اور مشہور شخصیات بھی اس گھوڑوں کی دوڑ میں شامل ہونے کے لئے آتی ہیں۔ اس میں یہاں کے تقریباً چالیس ہزار لوگ شامل ہوتے ہیں۔ اور وہاں سے مسجد کا نظارہ بھی بڑا خوبصورت ہے تو اس لحاظ سے بھی مسجد کا تعارف بڑھے گا کیونکہ باہر سے بھی لوگ یہاں آئیں گے۔ اور یہ کافی آباد علاقہ ہے۔ یہاں سے تقریباً روزانہ ہی سینکڑوں کی تعداد میں لوگ گزرتے ہیں۔ سٹوڈنٹس کی ایک رہائشگاہ بھی یہاں قریب ہی ہے۔ گالوے ایئر پورٹ بھی دس منٹ کے فاصلے پر ہے۔ اس کے ساتھ ہی اب بعد میں دو اور مکان بھی خریدے گئے ہیں جو بالکل پیچھے دیوار کے ساتھ لگتے ہیں اور ان کی بھی اچھی اکاموڈیشن (accommodation) ہے۔ بہرحال یہ سارا کمپلیکس جو ہے اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے اور یہاں کے لوگوں کو اس مسجد کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 26؍ ستمبر 2014ء شہ سرخیاں

    گالوے (آئر لینڈ) میں جماعت احمدیہ مسلمہ کی پہلی مسجد ’مسجد مریم‘ کا افتتاح

    الحمد للہ آج ہمیں آئرلینڈ میں جماعت احمدیہ مسلمہ کی پہلی مسجد میں اللہ تعالیٰ جمعہ پڑھنے کی توفیق عطا فرما رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس مسجد کی تعمیر، اس کا قیام ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے۔ گو یہ چھوٹی سی مسجد ہے لیکن اس بات کا اعلان ہے کہ مسیح محمدی کے ماننے والے یہاں سے خدائے واحد کی وحدانیت کا پانچ وقت اعلان کریں گے اور اس میں حاضر ہو کر خدائے واحد کی پانچ وقت عبادت بجا لائیں گے۔ اس مسجد سے اس آواز کو بلند کریں گے کہ مساجد تو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی جگہ ہے نہ کہ کسی فتنہ اور فساد کی آماجگاہ۔

    یہ مساجد جو ہم تعمیر کرتے ہیں یہ اس بات کا اعلان ہیں کہ مذہبی آزادی کا سب سے بڑا علمبردار اسلام ہے اور اس کے اظہار کے لئے ہماری مسجدوں کے دروازے ہر ایک کے لئے کھلے ہیں۔

    ہماری مساجد اور اس میں آنے والا ہر احمدی اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ قرآنی تعلیم کے مطابق ہر حقیقی مسلمان پر تمام مذاہب کی عبادتگاہوں کی حفاظت کی ذمہ داری ہے اور فرض ہے۔

    مساجد کا حق اس وقت ادا ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق صحیح رنگ میں ادا ہوں۔ اور یہ تمام باتیں کرنے کا حکم ہمیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں دیا ہے اور ان تمام باتوں کے کرنے کے لئے ہمیں ہمارے آقا ومطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار توجہ دلائی ہے اور اپنے عمل اور اسوہ حسنہ سے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی ہے۔

    مسجد کے بعد تبلیغ اور احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے تعارف کے نئے راستے کھلیں گے اور کھل بھی رہے ہیں۔ پس مسجد بنانے کے بعد یہاں کے رہنے والوں کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ اس کے لئے ہر احمدی کو علمی لحاظ سے بھی تیاری کرنے کی ضرورت ہے تا کہ دینی اور علمی جوابات دے سکیں اور عملی حالتوں کو بھی اس معیار کے مطابق لانے کی ضرورت ہو گی جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں۔

    اگر یہاں کے لوگ حضرت مریم کی عزت کرتے ہیں اور صرف عزت ہی کرتے ہیں اور ان صفات کو اپنانے کی کوشش نہیں کرتے جو ان میں تھیں تو یہ ان کی کمزوری ہے۔ ایک حقیقی مسلمان مرد اور عورت کو تو حضرت مریم کی طرح اللہ تعالیٰ کا حقیقی فرمانبردار ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے کی کوشش کرنی چاہئے اور ان حکموں میں سے حیا اور پردہ بھی ایک حکم ہے۔

    فرمودہ مورخہ 26؍ستمبر 2014ء بمطابق26 تبوک 1393 ہجری شمسی،  بمقام مسجد مریم۔ گالوے، آئرلینڈ

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور