اعمال صالحہ کی ضرورت و اہمیت

خطبہ جمعہ 19؍ ستمبر 2014ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

’’قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ عمل صالح بھی رکھا ہے۔ عمل صالح اسے کہتے ہیں جس میں ایک ذرہ بھر فسادنہ ہو۔ یاد رکھو کہ انسان کے عمل پر ہمیشہ چور پڑا کرتے ہیں۔ وہ کیا ہیں؟ ریاکاری (کہ جب انسان دکھاوے کے لئے ایک عمل کرتا ہے۔ عُجب (کہ وہ عمل کر کے اپنے نفس میں خوش ہوتا ہے)۔‘‘ یعنی ایسی خوشی جو خود پسندی کی ہو۔ فرمایا: ’’اور قسم قسم کی بدکاریاں اور گناہ جو اُس سے صادر ہوتے ہیں ان سے اعمال باطل ہو جاتے ہیں۔ عمل صالح وہ ہے جس میں ظلم، عُجب، ریا، تکبّر، حقوق انسانی کے تلف کرنے کا خیال تک نہ ہو۔ جیسے آخرت میں انسان عمل صالح سے بچتا ہے ویسے ہی دنیا میں بھی بچتا ہے۔‘‘ یعنی عمل صالح کی اہمیت دنیا میں بھی ہے اور جس طرح یہاں جو عمل صالح بجا لاتا ہے اس کا حساب آخرت میں ہو گا۔ اسی طرح یہاں بھی اس کا حساب ہو گا یا یہاں کے عمل جو ہیں وہ آخرت میں انسان کے جزا سزا کا ذریعہ بنیں گے۔ اور پھر اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ اگر عمل صالح ہوں تو اس دنیا کی زندگی کو بھی جنت بنا دیتے ہیں۔ فرمایا: ’’اگر ایک آدمی بھی گھربھر میں عمل صالح والا ہو تو سب گھر بچا رہتا ہے۔ سمجھ لو کہ جب تک تم میں عمل صالح نہ ہو صرف ماننا فائدہ نہیں کرتا۔‘‘ (ملفوظات جلد 4 صفحہ 274-275۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

آپ نے فرمایا کہ مصمم عزم اور عہد واثق سے اعمال کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔ پکا اور مضبوط عہد کرو۔ آپ نے ایمان کو ایک درخت سے تشبیہ دے کر فرمایا کہ ایمان جو ہے ایک درخت کی طرح ہے اور اعلیٰ سے اعلیٰ درخت کو بھی فائدہ مند بنانے کے لئے اس کا خیال رکھنا پڑتا ہے تبھی درخت فائدہ مند ہوتا ہے، تبھی زندہ رہتا ہے جب اس کا خیال رکھا جائے۔ اس کی طرف توجہ دینی پڑتی ہے۔ اسی طرح ایمان کو بھی کامل کرنے کے لئے اعمال کی ضرورت ہے اور اپنے ایمان کی اعمال کے ذریعہ سے غور و پرداخت کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے بغیر باوجود ایمان کے یا ایمان کا دعویٰ کرنے کے انسان مومن نہیں کہلا سکتا۔ بغیر عمل کے انسان ایسا درخت ہے جس کی خوبصورت سرسبز شاخیں کاٹ کر اسے بدشکل بنا دیا گیا ہو۔ جس کے پھلوں کو ضائع کر دیا گیا ہو۔ جس کی سایہ دار شاخوں سے خدا تعالیٰ کی مخلوق کو محروم کر دیا ہو۔ ایک درخت جس کی جڑیں چاہے کتنی ہی مضبوط ہوں اور تناور درخت ہو اگر اسے کھاد پانی سے محروم کر دیا جائے، اس کی نکلنے والی کونپلوں اور شاخوں کو ضائع کر دیا جائے تو ایک وقت میں وہ مر جائے گا۔ اس کی مضبوط جڑیں اسے کچھ بھی فائدہ نہیں دیں گی۔ اگر کچھ عرصہ وہ زندہ بھی رہے تو ایسے شاخوں سے محروم اور کسی بھی قسم کا فائدہ دینے سے عاری درخت کی طرف کوئی بھی نہیں دیکھے گا، کسی کی توجہ نہیں ہو گی۔ ایک ٹنڈ منڈ لکڑی کھڑی ہو گی۔ ہر ایک نظر اس خوبصورت پودے اور درخت کو دیکھے گی اور اس کی طرف متوجہ ہو گی جو ہرا بھرا ہو۔ جس کی خوبصورتی نظر آتی ہو۔ جو درخت وقت پر پھولوں اور پھلوں سے لد جائے۔ جو گرمی میں سایہ دینے والا ہو۔ اسی کو لوگ پسند کریں گے۔ پس بیشک ایمان جو ہے وہ جڑ کی طرح ہے۔ بیشک ایک مسلمان دعویٰ کرتا ہے کہ میرا ایمان مضبوط ہے۔ اس کا اظہار ہم اکثر مسلمانوں میں دیکھتے ہیں۔ بہت سے لوگ دین کی غیرت بھی رکھتے ہیں۔ اسلام کے نام پر مرنے مارنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ آجکل جو مختلف گروہ بنے ہوئے ہیں، تنظیمیں بنی ہوئی ہیں، یہ لوگ اپنے ایمان کی مضبوطی کے کیا کیا دعوے نہیں کرتے۔ لیکن کیا اس خوبصورت اور خوشنما درخت یا اس باغ کی طرح ہیں جو دنیا کو فائدہ دے رہا ہو؟ لوگ اس کی خوبصورتی دیکھ کر اس کی طرف کھنچے چلے جا رہے ہوں؟ جتنی شدت سے یہ متشدد گروہ یا لوگ اپنے دین کے نام پر شدت پسندی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اسی شدت سے دنیا اُن سے دُور بھاگ رہی ہے۔ وہ دین جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے اس نے تو دشمنوں کو بھی اپنی طرف کھینچ کر نہ صرف دوست بنا لیا تھا بلکہ شدید محبت میں گرفتار کر لیا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا یہ اثر تھا کہ جب مسلمان حکومت ایک موقع پر یہ سمجھی کہ اس وقت رومی حکومت کا مقابلہ مشکل ہے اور وہ مقبوضہ علاقہ جس میں عیسائی اور یہودی اکثریت تھی اسے مسلمانوں نے چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو عیسائی اور یہودی سب نے مل کر مسلمانوں کی فوج کو روتے ہوئے رخصت کیا اور کہا کہ ہم دعا کرتے ہیں کہ تم دوبارہ اس علاقے پر قابض ہو جاؤ تا کہ تمہارے شجر سایہ دار اور پھل دار سے ہم ہمیشہ فیض پاتے رہیں۔ جو سہولتیں تم نے ہمیں مہیا کی ہیں وہ تو ہماری ساری حکومتیں بھی ہمیں مہیا نہیں کر سکیں۔ (ماخوذ از فتوح البلدان صفحہ 87-88 باب یوم الیرموک مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 2000ء، ماخوذ از سیر الصحابہؓ جلد دوم حصہ اول مہاجرین صفحہ 171-172 ناشر ادارہ اسلامیات لاہور)

ان مسلمانوں کی یہ قدر اس لئے تھی کہ ان کے ایمان کے ساتھ ان کا ہر عمل فیض رساں تھا۔

پس نرے ایمان کے دعوے اور اظہار اور اس کی جڑ کی مضبوطی کا اعلان کسی کام کا نہیں جب تک اعمال صالحہ کی سرسبز شاخیں اور پھل خوبصورتی نہ دکھا رہی ہوں اور فیض نہ پہنچا رہی ہوں۔ اور جب یہ خوبصورتی اور فیض رسانی ہو تو پھر دنیا بھی متوجہ ہوتی ہے اور اس کے گرد جمع بھی ہوتی ہے اور ان کی حفاظت کے لئے پھر کوشش بھی کرتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کو صرف ایمان میں مضبوطی کا نہیں کہا بلکہ تقریباً ہر جگہ جہاں ایمان کا ذکر آیا ہے ایمان کو اعمال صالحہ کے ساتھ جوڑ کر مشروط کیا اور یہ حالت پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ انبیاء بھی بھیجتا ہے۔ یہ حالت مومنوں میں اس وقت پیدا ہوتی ہے جب زمانے کے نبی کے ساتھ تعلق بھی پیدا ہو۔ جیسا کہ مَیں نے کہا بڑے بڑے گروہ ہیں جو دین کے نام پر اور ایمان کے نام پر اپنی مضبوط جڑوں کا اظہار کرتے ہیں لیکن ہو کیا رہا ہے؟ ان کی نہ صرف آپس میں نفرتیں بڑھ رہی ہیں اور ایک گروہ دوسرے گروہ پر اپنی برتری ثابت کرنے کے لئے جو بھی کوشش ہو سکتی ہے جائز ناجائز طریقے سے، ظلم سے، وہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ غیر مسلم بھی پریشان ہو کر ان کی وجہ سے اسلام سے خوفزدہ ہو رہے ہیں۔ وہ مذہب جس نے غیر مسلموں کی محبتوں کو سمیٹا اور مسلمان حکومتوں کی حفاظت کے لئے غیر مسلم بھی مسلمانوں کی طرف سے لڑنے کے لئے تیار ہو گئے۔ اس کی یہ حالت ہے کہ غیروں کو تو کیا کھینچنا ہے خود مسلمانوں کی آپس کی حالت اعمال صالحہ کی کمی کی وجہ سے قُلُوْبُھُمْ شَتّٰی (الحشر: 15) کا نظارہ پیش کر رہی ہے۔ دل ان کے پھٹے ہوئے ہیں۔ آج ان صحیح اعمال کی تصویر پیش کرنا ہر احمدی کا کام ہے جس نے زمانے کے امام اور نبی کو مانا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت ہی وہ خدا تعالیٰ کا لگایا ہوا درخت ہے جس کی جڑیں مضبوط ہیں اور شاخیں بھی سرسبز، خوبصورت اور پھلدار ہیں جو دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اور یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں حقیقی اسلام کی تعلیم سے آشنا کیا ہے۔ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ پر چلنے کی طرف ترغیب دلائی، زور دیا، توجہ دلائی، اُس کی اہمیت واضح کی۔

پس یہ جماعت احمدیہ ہی ہے جس کی جڑیں بھی مضبوط ہیں اور شاخیں بھی سرسبز و خوبصورت ہیں اور پھلدار ہیں جو دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہ وہ درخت ہے جس کو دیکھ کر دنیا کے ہر خطے میں بسنے والے لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ کون سا اسلام ہے جو تم پیش کرتے ہو۔ بے شمار واقعات اب ایسے سامنے آتے ہیں کہ حقیقی اسلام کی خوبصورتی دیکھ کر لوگ حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔ افریقہ میں ایک جگہ ایک مسجد کا افتتاح ہو رہا تھا۔ وہاں کے چیف عیسائی تھے ان کو بھی دعوت تھی۔ وہ بھی شامل ہوئے۔ وہ کہنے لگے کہ مَیں یہاں تم لوگوں کی محبت میں نہیں آیا۔ مَیں تو صرف یہ دیکھنے آیا تھا کہ اس زمانے میں یہ کون سے مسلمان ہیں جنہوں نے اپنی مسجد کے افتتاح پر ایک غیر مسلم اور عیسائی کو بھی بلایا۔ یہاں آ کر یہ دیکھ کر مجھے اور بھی حیرت ہوئی کہ یہاں تو مختلف مذاہب کے لوگ جمع ہیں اور احمدی خود بھی مسلمان ہونے کے باوجود ایسے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس کی مثال نہیں۔ چھوٹا ہو بڑا ہو، امیر ہو غریب ہو، ہر ایک سے یہ لوگ محبت اور پیار سے پیش آ رہے ہیں۔ اور ایسے تعلقات ہیں اور یہاں ایسے اعلیٰ اخلاق ہیں جن کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے کہ جو کہیں بھی دیکھنے میں نہیں آتا۔ پھر وہ چیف کہنے لگے کہ ایسی مسجدیں اور ایسا اسلام تو وقت کی ضرورت ہے۔ پس انہوں نے کہا کہ میرے تمام شکوک و شبہات جو اسلام کے بارے میں تھے وہ دُور ہو گئے۔ اور پھر انہوں نے مزید کہا کہ آپ نے اس علاقے کو ایک نئی مسجدنہیں دی بلکہ ہمیں ایک نئی زندگی دی ہے۔ زندگی کی اعلیٰ قدروں کے اسلوب سکھائے ہیں۔ پس ایسے درخت ہوتے ہیں جن کے بارے میں قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ ان کی جڑیں بھی زمین میں مضبوط ہوتی ہیں اور ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے اگر انسانوں کو درختوں سے مثال دی جائے تو ان کی سرسبز شاخیں بھی آسمان کی بلندیوں کو چُھو رہی ہوتی ہیں۔ پس جیسا کہ مَیں نے کہا کہ زمانے کے امام کو ماننے کی وجہ سے ہر احمدی کا فرض ہے کہ ایمان کی مضبوطی کے ساتھ سرسبز شاخیں بن جائے۔ سرسبز شاخوں کے خوبصورت پتے بن جائے۔ اُن پر لگنے والے خوبصورت پھول اور پھل بن جائے۔ جو دنیا کو نہ صرف خوبصورت نظر آئے بلکہ فیض رساں بھی ہو۔ فیض پہنچانے والا بھی ہو۔ ورنہ ایمان و یقین میں کامل ہونا بغیر عمل کے بے فائدہ ہے۔ جیسا کہ مَیں نے بتایا کہ بظاہر ایمان و یقین میں کامل دنیا کے جو لوگ ہمیں نظر آتے ہیں وہ کہنے کو تو اپنے آپ کو ایمان و یقین میں کامل سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں لیکن دنیا کے لئے ٹھوکر کا باعث بن رہے ہیں۔ ہم احمدی ہونے کا حق اس وقت ادا کر سکتے ہیں جب ہم اپنے اعمال صالحہ کی وجہ سے ہر طرف اعلیٰ اخلاق دکھانے کا مظاہرہ کرنے والے ہوں۔ جب ہم اپنے محلے اور شہر اور اپنے ملک میں اعمال صالحہ کی وجہ سے اسلام کی خوبصورتی دکھانے والے بنیں۔ ہر قسم کے فسادوں، جھگڑوں، چغلی کرنے کی عادتوں، دوسروں کی تحقیر کرنے، رحم سے عاری ہونے، احسان کر کے پھر جتانے والے لوگوں میں شامل نہ ہوں بلکہ ان چیزوں سے بچنے والے ہوں اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنے والے ہوں۔ قرآن کریم بار بار ہمیں اعلیٰ اخلاق کو اپنانے اور نیک اعمال بجا لانے کی تلقین فرماتا ہے۔

بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ کسی وقتی جذبے کے تحت کسی پر احسان تو کر دیتے ہیں، مدد کر دیتے ہیں لیکن بعد میں کسی وقت اس کو جتا بھی دیتے ہیں کہ مَیں نے یہ احسان تم پر کیا یا یہ توقع رکھتے ہیں کہ اب ان کے احسان کا زیر بار انسان تمام عمر اُن کا غلام بنا رہے۔ اور اگر زیر احسان شخص توقع پر پورا نہ اترے تو پھر اسے تکلیفیں دینے سے بھی نہیں چُوکتے۔ یہ تو اسلامی تعلیم نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ تو قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْا َذٰی (البقرۃ۔ 265) کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو اپنے صدقات کو احسان جتا کر یا اذیّت دے کر ضائع نہ کیا کرو کیونکہ یہ حرکتیں تو وہ لوگ کرتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے، جن کے ایمان کمزور ہیں۔ نہ صرف کمزور ہیں بلکہ ایمان سے عاری ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد جگہ مختلف حوالوں سے ایک مومن کو بار بار یہ تلقین کی ہے کہ ایمان کے ساتھ عمل صالح ضروری ہے اور اس کے مختلف فوائد ہیں۔ پس جہاں اعمال صالحہ کے ساتھ ایک مومن دوسروں کے لئے نفع رساں وجود بنتا ہے وہاں وہ خود بھی اس کے میٹھے پھل کھا رہا ہوتا ہے۔ مثلاً جوایمان لانے والے اور اعمال صالحہ کرنے والے ہیں ان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مغفرت حاصل کرنے والے ہوں گے۔ یہ لوگ وہ ہوں گے جو جنتوں میں اعلیٰ مقام پائیں گے اور ایسی جنتوں میں ہوں گے جہاں نہریں چل رہی ہوں گی اور ان نہروں کے مالک ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایمان کے ساتھ نیک اعمال کرنے والوں کو ایسے ایسے بڑے اور احسن اجر ملیں گے جن کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ صرف ایمان کا دعویٰ احسن اجر کا حقدار نہیں ٹھہرا دیتا بلکہ اعمال صالحہ ہوں گے تو احسن اجر ملے گا، جنتیں ملیں گی، مغفرت ہو گی۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ ایمان کے ساتھ عمل صالح کرنے والوں کو خدا تعالیٰ پاکیزہ رزق دے گا۔ جو اس دنیا کا بھی رزق ہے اور آخرت کا بھی رزق ہے۔ عمل صالح کرنے والوں کو کوئی خوف نہیں ہو گا۔ وہ امن میں ہوں گے۔ کسی قسم کی پریشانی ان کو نہیں ہو گی۔ نہ دنیا کا خوف اور نہ اگلے جہان کا یہ خوف کہ میرے سے کوئی نیکیاں نہیں ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو تسکین عطا فرمائے گا۔ اور خوف ہو بھی کس طرح سکتا ہے۔ وہ عمل صالح کرنے والے تو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہر عمل کر کے اللہ تعالیٰ کی آغوش میں جا رہے ہوتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے کہ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا (مریم: 97)یقینا وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں خدائے رحمان ان کے لئے وُدّ پیدا کرے گا۔ وُدّ کے معنی ہیں کہ گہرا پیار اور تعلق۔ سطحی قسم کی محبت نہیں یا پیار نہیں۔ گہرا پیار اور تعلق۔ ایسا مضبوط تعلق جو کبھی کٹ نہ سکے۔ بلکہ اس طرح کا گہرا تعلق جس طرح کِلّا زمین پر گاڑ دیا جاتا ہے، مضبوط ہو جاتا ہے۔ اسی طرح وہ گاڑ دیا جائے گا۔ اس طرح یہ پیار دل میں گڑ جائے گا۔ پس اس آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ جو مضبوط ایمان اور اعمال صالحہ بجا لانے والے ہوں گے اللہ تعالیٰ ایسے مومنوں کے دل میں اپنی محبت کِلّے کی طرح گاڑ دے گا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والے ہوں گے اور پھر وہ ایمان اور اعمال صالحہ میں مزید بڑھتے چلے جائیں گے۔ یا یہ کہ خدا تعالیٰ خود ایسے مومنوں سے ایسی محبت کرے گا جو کبھی ختم نہیں ہو گی۔ پس اگر خدا تعالیٰ کی محبت ایک انسان کے دل میں گڑ جائے یا خدا تعالیٰ مومنوں سے ایسا پیار کرے کہ گویا خدا تعالیٰ کے دل میں ان کی محبت گڑ گئی ہے تو اس سے بڑا کامیاب شخص اور کون ہو سکتا ہے۔ وہ تو اپنی ذات میں ہی ایک ایسا خوبصورت اور سایہ دار درخت بن جاتا ہے جو دوسروں کو فیض پہنچانے والا ہوتا ہے کیونکہ اس کا ہر عمل خدا تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا ہو اور دوسروں کو فیض پہنچانے والا ہو۔

پھر اس آیت کا یہ بھی مطلب بنے گا کہ خداتعالیٰ ایمان لانے والے اور اعمال صالحہ بجا لانے والوں کے دلوں میں بنی نوع انسان کی محبت بھی مضبوطی سے گاڑ دے گا۔

پس ایک حقیقی مومن کبھی سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ کسی دوسرے انسان کو تکلیف پہنچائے۔ بنی نوع انسان سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ایک حقیقی مومن اسے ہمیشہ فیض پہنچانے کی فکر میں رہے۔ جیسا کہ مَیں پہلے بھی بیان کر آیا ہوں کہ یہ چیز اگر مسلمانوں میں پیدا ہو جائے تو ایک دوسرے کے حقوق تلف کرنے، ظلم کرنے اور غیروں کو، دوسروں کو قتل کرنے کے جو عمل حکومتوں میں بھی ہیں، نام نہاد تنظیموں میں بھی ہیں، عوام میں بھی ہیں، آجکل بڑے عام نظر آ رہے ہیں یہ کبھی نظر نہ آئیں۔ اللہ تعالیٰ کی تعلیم پر عمل ہی نہیں ہو رہا اس لئے سب کچھ ہو رہا ہے۔ لیکن ظلم یہ ہے کہ یہ سب ظلم اللہ تعالیٰ کے نام پر ہو رہا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ وُدّ پیدا کرو، محبت پیدا کرو۔ ایسی محبت پیدا کرو جو دلوں میں گڑ جائے۔ ایسے بنو جو دوسروں کو فیض پہنچانے والے ہوں۔ پس اگر حقیقی تعلیم پر عمل ہو تو کبھی یہ دکھ اور تکلیفیں جو ایک دوسرے کو دئیے جا رہے ہیں یہ نظر نہ آئیں۔ ایک خوبصورت تصور اسلام کے شجر سایہ دار کا دنیا کے ذہنوں میں ابھرے۔ پھر اس آیت کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ بنی نوع کے دل میں مسلمانوں کی محبت کِلّے کی طرح گڑ جائے۔ اللہ تعالیٰ یقینا قدرت رکھتا ہے کہ ایسا کر دے لیکن اس نے اس بات کے حصول کے لئے ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ کی شرط لگائی ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا پہلے مسلمانوں کے لئے جو قرون اُولیٰ کے تھے ان کے لئے لوگوں کے دلوں میں یہ محبت ہی تھی جو خدا تعالیٰ نے عیسائیوں کے دل میں اور یہودیوں کے دل میں پیدا کی تھی جو مسلمانوں کے علاقہ چھوڑنے پر روتے تھے، واپسی کی دعائیں کرتے تھے۔ بلکہ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ یہودی کہتے تھے کہ ہم جانیں دے دیں گے لیکن عیسائی لشکر کو شہر میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ تم یہیں رہو ہم حفاظت کریں گے۔ (ماخوذ از فتوح البلدان صفحہ 87-88 باب یوم الیرموک مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 2000ء، ماخوذ از سیر الصحابہؓ جلد دوم حصہ اول مہاجرین صفحہ 171-172 ناشر ادارہ اسلامیات لاہور)

پس یہ نیک اعمال کا اثر تھا جو ہر سطح پر مسلمانوں سے ظاہر ہوتا تھا۔ جس نے اس خوبصورت درخت کی طرف دنیا کو متوجہ کیا اور دنیا کو فیض پہنچایا۔

آج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق کے غلاموں کا یہ فرض ہے کہ ایمان کی جڑوں کو مضبوط کرنے کے ساتھ اعمال صالحہ کے وہ خوبصورت پتے، شاخیں اور پھل بنیں جو اسلام کی خوبصورتی کی طرف دنیا کو کھینچنے والی ہو۔ جو دنیا کو فیض پہنچانے والی ہو۔ اللہ تعالیٰ سے محبت پیدا کرنے والے بھی ہم ہوں اور اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے والے بھی ہم ہوں۔ بنی نوع انسان سے محبت بھی ہماری ترجیح ہواور بنی نوع انسان کی توجہ کھینچنے والے بھی ہم ہوں کیونکہ اس کے بغیر ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آنے کے مقصد کو پورا کرنے والے نہیں بن سکتے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کئی بار اپنی مختلف تحریروں میں، ارشادات میں، مجالس میں اس طرف ہمیں توجہ دلائی کہ اپنے اعمال صالحہ کی طرف توجہ کرو۔ اپنے اعمال کی طرف توجہ کرو۔ ایسے اعمال بجا لاؤ جو صالح عمل ہوں، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہوں، جو دنیا کو تکلیفوں سے بچانے والے ہوں۔ ایک اقتباس میں نے پہلے شروع میں پڑھا تھا۔ بعض اور اقتباسات آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ آپ نے ایک موقع پر فرمایا یعنی یہ کہ میری تعلیم کیا ہے اور اس کے موافق تمہیں عمل کرنا چاہئے۔ فرماتے ہیں:

’’ہماری جماعت میں وہی داخل ہوتا ہے جو ہماری تعلیم کو اپنا دستور العمل قرار دیتا ہے اور اپنی ہمت اور کوشش کے موافق اس پرعمل کرتا ہے۔ لیکن جو محض نام رکھا کر تعلیم کے موافق عمل نہیں کرتا وہ یاد رکھے کہ خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو ایک خاص جماعت بنانے کا ارادہ کیا ہے اور کوئی آدمی جو دراصل جماعت میں نہیں ہے محض نام لکھانے سے جماعت میں نہیں رہ سکتا۔ اس پر کوئی نہ کوئی وقت ایسا آجائے گا کہ وہ الگ ہو جائے گا۔ اس لئے جہاں تک ہو سکے اپنے اعمال کو اس تعلیم کے ماتحت کرو جو دی جاتی ہے۔ اعمال پَروں کی طرح ہیں۔ بغیر اعمال کے انسان روحانی مدارج کے لئے پرواز نہیں کرسکتا اور ان اعلیٰ مقاصد کو حاصل نہیں کرسکتا جو اُن کے نیچے اﷲ تعالیٰ نے رکھے ہیں۔ پرندوں میں فہم ہوتا ہے اگر وہ اس فہم سے کام نہ لیں تو جو کام ان سے ہوتے ہیں نہ ہو سکیں۔ مثلاً شہد کی مکھی میں اگر فہم نہ ہو تو وہ شہدنہیں نکال سکتی اور اسی طرح نامہ بر کبوتر جو ہوتے ہیں۔‘‘ (ایسے کبوتر جن کے ذریعہ سے پیغام پہنچائے جاتے ہیں) ’’ان کو اپنے فہم سے کس قدر کام لینا پڑتا ہے۔ کس قدر دُور دراز کی منزلیں وہ طے کرتے ہیں اور خطوط کو پہنچاتے ہیں۔ اسی طرح پر پرندوں سے عجیب عجیب کام لئے جاتے ہیں۔ پس پہلے ضروری ہے کہ آدمی اپنے فہم سے کام لے اور سوچے کہ جو کام مَیں کرنے لگا ہوں یہ اﷲ تعالیٰ کے احکام کے نیچے اور اس کی رضا کے لئے ہے یا نہیں۔ جب یہ دیکھ لے اور فہم سے کام لے تو پھر ہاتھوں سے کام لینا ضروری ہوتا ہے۔ سستی اور غفلت نہ کرے۔ ہاں یہ دیکھ لینا ضروری ہے کہ تعلیم صحیح ہو۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ تعلیم صحیح ہوتی ہے لیکن انسان اپنی نادانی اور جہالت سے یا کسی دوسرے کی شرارت اور غلط بیانی کی وجہ سے دھوکا میں پڑجاتا ہے۔ اس لئے خالی الذہن ہو کر تحقیق کرنی چاہئے۔‘‘ (ملفوظات جلد 4 صفحہ 439-440۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

آپ دوسروں کو بھی غیروں کو بھی اور اپنوں کو بھی فرما رہے ہیں۔ پھر آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ:

’’ہر شخص کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرے اور اللہ تعالیٰ کاخوف اس کو بہت سی نیکیوں کا وارث بنائے گا۔ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہی اچھا ہے کیو نکہ اس خوف کی وجہ سے اس کو ایک بصیرت ملتی ہے جس کے ذریعہ وہ گناہوں سے بچتا ہے۔ بہت سے لوگ تو ایسے ہو تے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات اور انعام اور اکرام پر غور کر کے شرمندہ ہو جاتے ہیں اور اس کی نافر مانی اور خلاف ورزی سے بچتے ہیں۔ لیکن ایک قسم لوگوں کی ایسی بھی ہے جو اس کے قہر سے ڈر تے ہیں۔ دراصل بات یہ ہے کہ اچھا اور نیک تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی پرکھ سے اچھا نکلے۔ بہت لوگ ہیں جو اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ ہم متقی ہیں۔ مگر اصل میں متقی وہ ہے جس کا نام اللہ تعالیٰ کے دفتر میں متقی ہو۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کے اسم ستّار کی تجلی ہے‘‘ (یعنی اس دنیا میں اللہ تعالیٰ ستاری فرما رہا ہے) ’’لیکن قیامت کے دن جب پردہ دری کی تجلی ہو گی اس وقت تمام حقیقت کھل جائے گی۔ اس تجلی کے وقت بہت سے ایسے بھی ہوں گے جو آج بڑے متقی اور پرہیز گار نظر آتے ہیں قیامت کے دن وہ بڑے فاسق فاجر نظر آئیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عمل صالح ہماری اپنی تجویز اور قرار داد سے نہیں ہوسکتا۔ اصل میں اعمال صالحہ وہ ہیں جس میں کسی نوع کاکوئی فسادنہ ہو کیونکہ صالح فساد کی ضد ہے۔ جیسے غذا طیب اس وقت ہو تی ہے کہ وہ کچی نہ ہو، نہ سڑی ہوئی ہو اور نہ کسی ادنیٰ درجہ کی جنس کی ہو بلکہ ایسی ہو جو فوراً جزوِ بدن ہو جانے والی ہو۔ اسی طرح پر ضروری ہے کہ عمل صالح میں بھی کسی قسم کا فسادنہ ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق ہو اور پھر نہ اس میں کسی قسم کا کسل ہو، نہ عُجب ہو، نہ ریا ہو، نہ وہ اپنی تجویز سے ہو۔ جب ایسا عمل ہو تو وہ عملِ صالح کہلاتا ہے اور یہ کبریتِ احمر ہے۔‘‘ (یعنی بہت بڑی نایاب چیز ہے۔)

اس بارے میں کہ شیطان کس طرح گمراہ کر رہا ہے، ہر وقت مومنوں کے پیچھے لگا رہتا ہے۔ اس لئے تمام لوگوں کو، ہر مومن کو، اس شیطان سے اپنے ایمان اور اعمال صالحہ کو بچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ آپ فرماتے ہیں کہ:

’’شیطان انسان کو گمراہ کر نے کے لیے اور اس کے اعمال کو فاسد بنا نے کے واسطے ہمیشہ تاک میں لگا رہتا ہے یہانتک کہ وہ نیکی کے کاموں میں بھی اس کو گمراہ کر نا چاہتا ہے‘‘۔ (یہ نہ سمجھیں کہ شیطان نیکی کے کاموں میں گمراہ نہیں کرتا) ’’اور کسی نہ کسی قسم کا فساد ڈالنے کی تدبیریں کرتا ہے۔ نماز پڑھتا ہے تو اس میں بھی ریا وغیرہ کوئی شعبہ فساد کاملاناچاہتا ہے۔‘‘ (یعنی دکھاوے کی نمازیں ) ’’ایک امامت کرانے والے کو بھی اس بلا میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ پس اس کے حملہ سے کبھی بے خوف نہیں ہو نا چاہئے کیونکہ اس کے حملے فاسقوں فاجروں پر تو کھلے کھلے ہو تے ہیں۔ وہ تو اس کا گو یا شکار ہیں لیکن زاہدوں پر بھی حملہ کرنے سے وہ نہیں چُوکتا اور کسی نہ کسی رنگ میں موقع پاکر ان پر بھی حملہ کر بیٹھتا ہے۔ جولوگ خدا کے فضل کے نیچے ہو تے ہیں اور شیطان کی باریک درباریک شرارتوں سے آگا ہ ہو تے ہیں وہ تو بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں لیکن جوابھی خام اور کمزور ہوتے ہیں وہ کبھی کبھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔‘‘ (ملفوظات جلد 6 صفحہ 425-426۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر عمل کی ضرورت کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ:

’’انسان سمجھتا ہے کہ نِرا زبان سے کلمہ پڑھ لینا ہی کافی ہے یا نِرا اَسْتَغْفِرُ اللّٰہ کہہ دینا ہی کافی ہے۔ مگر یادرکھو زبانی لا ف وگزاف کا فی نہیں۔ خواہ انسان زبان سے ہزار مر تبہ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہ کہے یا سَو مرتبہ تسبیح پڑھے اس کا کو ئی فائدہ نہیں ہو گا۔ کیو نکہ خدا نے انسان کو انسان بنا یا ہے، طوطا نہیں بنایا۔ یہ طوطے کا کام ہے کہ وہ زبان سے تکرار کرتا رہے اور سمجھے خاک بھی نہیں۔ انسان کا کام تو یہ ہے کہ جو منہ سے کہتا ہے اس کو سوچ کر کہے اور پھر اس کے موافق عملدرآمد بھی کرے۔‘‘ (جو کہہ رہے ہو اس کو سوچو اور پھر اس پر عمل بھی کرو) ’’لیکن اگر طوطا کی طرح بولتا جاتا ہے تو یادرکھو نری زبان سے کو ئی برکت نہیں ہے۔ جب تک دل سے اُس کے ساتھ نہ ہو اور اُس کے موافق اعمال نہ ہوں وہ نری باتیں سمجھی جائیں گی جن میں کو ئی خوبی اور برکت نہیں کیو نکہ وہ نرا قول ہے خواہ قرآن شریف اور استغفار ہی کیو ں نہ پڑھتا ہو۔ خدا تعالیٰ اعمال چاہتا ہے اس لیے بار بار یہی حکم دیا کہ اعمال صالحہ کرو۔ جب تک یہ نہ ہو خدا کے نزدیک نہیں جا سکتے۔ بعض نادان کہتے ہیں کہ آج ہم نے دن بھر میں قرآن کریم ختم کر لیا ہے۔ لیکن کو ئی اُن سے پو چھے کہ اس سے کیا فائد ہ ہؤا؟ نری زبان سے تم نے کا م لیا مگر باقی اعضاء کو بالکل چھوڑدیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمام اعضاء اس لیے بنا ئے ہیں کہ ان سے کام لیا جاوے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ بعض لوگ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور قرآن اُن پر لعنت کرتا ہے کیو نکہ ان کی تلاوت نراقول ہی قول ہوتا ہے اور اس پر عمل نہیں ہوتا۔ جو شخص کہ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود کے موافق اپنا چال چلن نہیں بناتا ہے وہ ہنسی کرتا ہے کیو نکہ پڑھ لینا ہی اللہ تعالیٰ کا منشاء نہیں، وہ تو عمل چاہتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 6 صفحہ 398-399۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر آپ نے فرمایا کہ:

’’اچھی طرح یادرکھو کہ نری لاف وگزاف اور زبانی قیل وقال کو ئی فائدہ اور اثر نہیں رکھتی جب تک کہ اس کے ساتھ عمل نہ ہو اور ہاتھ پاؤں اور دوسرے اعضاء سے نیک عمل نہ کئے جاویں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف بھیج کر صحابہؓ سے خد مت لی۔ کیا انہوں نے صرف اسی قدر کا فی سمجھا تھا کہ قرآن کو زبان سے پڑھ لیا یا اس پر عمل کرنا ضروری سمجھا تھا؟ انہوں نے اطاعت اور وفا داری دکھا ئی کہ بکریوں کی طرح ذبح ہو گئے اور پھر انہوں نے جو کچھ پایا اور خدا تعالیٰ نے اُن کی جس قدر قدر کی وہ پوشیدہ بات نہیں ہے۔‘‘

فرماتے ہیں: ’’خدا تعالیٰ کے فضل اور فیضان کو حاصل کرنا چاہتے ہو تو کچھ کر کے دکھاؤ ورنہ نکمّی شئے کی طرح تم پھینک دئیے جاؤ گے۔‘‘ فرماتے ہیں ’’کوئی آدمی اپنے گھر کی اچھی چیزوں اور سونے چاندی کو باہر نہیں پھینک دیتا بلکہ ان اشیاء کو اور تمام کارآمد اور قیمتی چیزوں کو سنبھال سنبھال کر رکھتے ہو۔ لیکن اگر گھرمیں کوئی چوہا مرا ہوا دکھائی دے تو اس کو سب سے پہلے باہر پھینک دوگے۔ اسی طرح پر خدا تعا لیٰ اپنے نیک بندوں کو ہمیشہ عزیزر کھتا ہے۔ ان کی عمر دراز کرتا ہے اور ان کے کاروبار میں ایک برکت رکھ دیتا ہے۔ وہ ان کو ضائع نہیں کرتا اور بے عزتی کی موت نہیں مارتا۔ اگر چاہتے ہو کہ خدا تعالیٰ تمہاری قدر کرے تو اس کے واسطے ضروری ہے کہ تم نیک بن جاؤ تا خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل قدر ٹھہرو۔ جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کے حکموں کی پابندی کرتے ہیں وہ ان میں اور ان کے غیروں کے درمیان ایک فرقان رکھ دیتا ہے۔ یہی راز انسان کے برکت پانے کا ہے کہ وہ بدیوں سے بچتا رہے۔ ایسا شخص جہاں رہے وہ قابل قدر ہوتا ہے کیونکہ اس سے نیکی پہنچتی ہے۔ وہ غریبوں سے سلوک کرتا ہے۔ ہمسایوں پر رحم کرتا ہے۔ شرارت نہیں کرتا۔ جھوٹے مقدمات نہیں بناتا۔ جھوٹی گواہیاں نہیں دیتا۔ بلکہ دل کو پاک کرتا ہے اور خدا کی طرف مشغول ہو تا ہے اور خدا کا ولی کہلاتا ہے۔‘‘

فرمایا کہ: ’’خدا کا ولی بننا آسان نہیں بلکہ بہت مشکل ہے کیونکہ اس کے لیے بدیوں کا چھوڑنا، بُرے ارادوں اور جذبات کو چھوڑنا ضروری ہے اور یہ بہت مشکل کام ہے۔ اخلاقی کمزوریوں اور بدیوں کو چھوڑنا بعض اوقات بہت ہی مشکل ہو جا تا ہے۔ ایک خونی خون کر نا چھوڑ سکتا ہے، چور چوری کرنا چھوڑ سکتا ہے لیکن ایک بداخلاق کوغصّہ چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے یا تکبر والے کو تکبر چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ اس میں دوسروں کو جو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے پھر خود اپنے آپ کو حقیر سمجھتا ہے۔ لیکن یہ سچ ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی عظمت کے لیے اپنے آپ کو چھوٹا بناوے گا خدا تعالیٰ اس کو خود بڑا بنادے گا۔ یہ یقینا یادرکھو کہ کوئی بڑانہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ آپ کو چھوٹا نہ بنائے‘‘ (یعنی اپنے آپ کو چھوٹا نہ بنائے) ’’یہ ایک ذریعہ ہے جس سے انسان کے دل پر ایک نور نازل ہو تا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف کھینچا جاتا ہے۔ جس قدر اولیاء اللہ دنیا میں گذرے ہیں اور آج لا کھوں انسان جن کی قدر و منزلت کرتے ہیں انہوں نے اپنے آپ کو ایک چیونٹی سے بھی کمتر سمجھا جس پر خدا تعالیٰ کا فضل ان کے شامل حال ہوا اور ان کو وہ مدارج عطا کئے جس کے وہ مستحق تھے۔ تکبر، بخل، غرور وغیرہ بداخلاقیاں بھی اپنے اندر شرک کا ایک حصّہ رکھتی ہیں اس لیے ان بداخلاقیوں کا مر تکب خدا تعالیٰ کے فضلوں سے حصہ نہیں لیتا بلکہ وہ محروم ہو جاتا ہے۔ برخلاف اس کے غربت وانکسار کر نے والا خدا تعالیٰ کے رحم کا مورد بنتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 6 صفحہ 400-401۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر تین اشخاص بیعت کے لئے آئے۔ بیعت کے بعد آپ نے انہیں نصیحت فرمائی کہ:

’’آدمی کو بیعت کر کے صرف یہی نہ ماننا چاہئے کہ یہ سلسلہ حق ہے اور اتنا ماننے سے اسے برکت ہوتی ہے۔‘‘ فرمایا: ’’صرف ماننے سے اﷲ تعالیٰ خوش نہیں ہوتا جب تک عمل اچھے نہ ہوں۔ کوشش کرو کہ جب اس سلسلہ میں داخل ہوئے ہوتو نیک بنو۔ متقی بنو۔ ہر ایک بدی سے بچو۔ یہ وقت دعاؤں سے گزارو۔ رات اور دن تضرع میں لگے رہو۔ جب ابتلا کا وقت ہوتا ہے تو خد اتعالیٰ کا غضب بھی بھڑکا ہوا ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں دعا، تضرع، صدقہ خیرات کرو۔ زبانوں کو نرم رکھو۔ استغفار کو اپنا معمول بناؤ۔ نمازوں میں دعائیں کرو۔ … نرا ماننا انسان کے کام نہیں آتا۔ اگر انسان مان کر پھر اسے پسِ پشت ڈال دے تو اسے فائدہ نہیں ہوتا۔ پھر اس کے بعد یہ شکایت کرنی کہ بیعت سے فائدہ نہیں ہوا بے سُود ہے۔ خدا تعالیٰ صرف قول سے راضی نہیں ہوتا۔‘‘ (ملفوظات جلد 4 صفحہ 274۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر عمل صالح کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ:

’’سمجھ لو کہ جب تک تم میں عمل صالح نہ ہو صرف ماننا فائدہ نہیں کرتا۔ ایک طبیب نسخہ لکھ کر دیتا ہے تو اس سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ جو کچھ اس میں لکھا ہے وہ لے کر اسے پیوے۔ اگر وہ ان دواؤں کو استعمال نہ کرے اور نسخہ لے کر رکھ چھوڑے تو اسے کیا فائدہ ہوگا۔‘‘ فرمایا کہ: ’’اب اِس وقت تم نے توبہ کی ہے۔ اب آئندہ خد اتعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ اس توبہ سے اپنے آپ کو تم نے کتنا صاف کیا ہے اب زمانہ ہے کہ خد اتعالیٰ تقویٰ کے ذریعہ سے فرق کرنا چاہتا ہے۔ بہت لوگ ہیں کہ خد اپر شکوہ کرتے ہیں اور اپنے نفس کو نہیں دیکھتے۔ انسان کے اپنے نفس کے ظلم ہی ہوتے ہیں ورنہ اﷲ تعالیٰ رحیم و کریم ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 4 صفحہ 275۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ:

’’وہ جو اس سلسلہ میں داخل ہو کر میرے ساتھ تعلق ارادت اور مریدی کا رکھتے ہیں اس سے غرض یہ ہے کہ تا وہ نیک چلنی اور نیک بختی اور تقویٰ کے اعلیٰ درجے تک پہنچ جائیں اور کوئی فساد اور شرارت اور بدچلنی ان کے نزدیک نہ آ سکے۔ وہ پنجوقتہ نماز کے پابند ہوں۔ وہ جھوٹ نہ بولیں۔ وہ کسی کو زبان سے ایذاء نہ دیں۔ وہ کسی قسم کی بدکاری کے مرتکب نہ ہوں اور کسی شرارت اور ظلم اور فساد اور فتنہ کا خیال بھی دل میں نہ لاویں۔ غرض ہر ایک قسم کے معاصی اور جرائم اور ناکردنی اور ناگفتنی اور تمام نفسانی جذبات اور بے جا حرکات سے مجتنب رہیں اور خدا تعالیٰ کے پاک دل، بے شر اور غریب مزاج بندے ہو جائیں۔ اور کوئی زہریلا خمیر ان کے وجود میں نہ رہے۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 220 اشتہار نمبر 191 بعنوان ’’اپنی جماعت کو متنبہ کرنے کے لئے ایک ضروری اشتہار‘‘)

پس یہ وہ نصائح ہیں جو ہمیں ہر وقت سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہی وہ باتیں ہیں جو ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درخت وجود کی سرسبز شاخیں بننے والا بنائیں گی۔ اسی سے ہمارے عہد بیعت کا مقصد بھی پورا ہو گا۔ یہی باتیں ہمیں اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے والا بھی بنائیں گی اور انہی اعمال صالحہ کے ذریعہ سے ہم دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے والا بھی بنا سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اُن حقیقی مومنوں میں بنائے جو ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے جانے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوتے ہیں۔

نماز جمعہ کے بعد مَیں ایک جنازہ حاضر پڑھاؤں گا۔ مکرم رشید احمد خان صاحب ابن مکرم اقبال محمد خان صاحب مرحوم Inner Park لندن میں رہتے تھے۔ 16؍ستمبرکو 91 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آگرہ انڈیا میں یہ پیدا ہوئے تھے۔ قادیان میں انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ پھر 1955ء میں یہاں انگلستان آ گئے تھے۔ یہاں پر برٹش نیوی میں چیف انجنیئر کے طور پر کام کرتے رہے۔ 1980ء میں ریٹائر ہوئے۔ جب 1984ء میں اسلام آباد کی جگہ خریدی گئی تو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے آپ کو وہاں نگران مقرر کیا تھا جہاں آپ نے بڑی محنت سے خدمت سرانجام دی۔ وہاں کے ابتدائی مکینوں میں آپ تھے۔ اسی طرح آپ کو سَپَنْ وَیلی (Spen Valley) یارک شائر میں لمبا عرصہ بطور سیکرٹری مال خدمت کی توفیق ملی۔ نیک مخلص انسان تھے۔ آپ کے والد اقبال محمد خان صاحب گوجرانوالہ کے تھے۔ وہ بھی بڑے مخلص تھے۔ انہوں نے اپنی بیگم کے نام پر جامعہ احمدیہ ربوہ میں حسن اقبال کے نام سے مسجد بھی بنائی۔ ان کی اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا شمیم احمد خان ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ مغفرت کا سلوک فرمائے اور ان کے بیٹے کو بھی جماعت کے ساتھ اخلاص و وفا کا تعلق رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ان دونوں کو اہلیہ کو اور بچے کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 19؍ ستمبر 2014ء شہ سرخیاں

    نرے ایمان کے دعوے اور اظہار اور اس کی جڑ کی مضبوطی کا اعلان کسی کام کا نہیں جب تک اعمال صالحہ کی سرسبز شاخیں اور پھل خوبصورتی نہ دکھا رہی ہوں اور فیض نہ پہنچا رہی ہوں۔ آج ان صحیح اعمال کی تصویر پیش کرنا ہر احمدی کا کام ہے جس نے زمانے کے امام اور نبی کو مانا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت ہی وہ خدا تعالیٰ کا لگایا ہوا درخت ہے جس کی جڑیں مضبوط ہیں اور شاخیں بھی سرسبز، خوبصورت اور پھلدار ہیں جو دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔

    ہم احمدی ہونے کا حق اس وقت ادا کر سکتے ہیں جب ہم اپنے اعمال صالحہ کی وجہ سے ہر طرف اعلیٰ اخلاق دکھانے کا مظاہرہ کرنے والے ہوں۔ جہاں اعمال صالحہ کے ساتھ ایک مومن دوسروں کے لئے نفع رساں وجود بنتا ہے وہاں وہ خود بھی اس کے میٹھے پھل کھا رہا ہوتا ہے۔

    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے ارشادات وتحریرات کے حوالہ سے اعمال صالحہ کی ضرورت و اہمیت اور اس طرف خصوصی توجہ کرنے کی تاکیدی نصائح۔

    مکرم رشید احمد خان صاحب آف لندن کی وفات۔ ان کا ذکر خیرا ور نمازِ جنازہ حاضر۔

    فرمودہ مورخہ 19؍ستمبر 2014ء بمطابق19 تبوک 1393 ہجری شمسی،  بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور