عبادت، اعلیٰ اخلاق اور جھگڑوں سے بچنا

خطبہ جمعہ 10؍ اکتوبر 2014ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

اللہ تعالیٰ نے ایک مومن کو عابد بننے اور اعلیٰ اخلاق اپنانے کی طرف بہت توجہ دلائی ہے کیونکہ ان کے بغیر ایک ایمان کا دعویٰ کرنے والا مومن نہیں کہلا سکتا۔ جہاں مومن کی یہ نشانی ہے کہ وہ عبادت کرنے والا ہو وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ وہ لغو باتوں سے اعراض کرنے والا ہو۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص مومن بھی ہو اور پھر اس سے بداخلاقیاں بھی سرزد ہو رہی ہوں۔ عموماً بداخلاق انسان اس وقت ہوتا ہے جب اس میں تکبر ہو۔ اسی لئے رحمان خدا کے بندوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ  یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ھَوْنًا (الفرقان: 64) یعنی زمین پر وہ نہایت عاجزی سے چلنے والے ہیں۔ اور جس انسان میں عاجزی ہو وہ نہ صرف جھگڑوں اور فسادوں سے بچتا ہے بلکہ صُلح جوئی کی طرف رجحان رکھتا ہے اور دوسرے اعلیٰ اخلاق بھی اس میں پائے جاتے ہیں۔ اور جب اعلیٰ اخلاق کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا بھی پیش نظر ہو اور اس کی رضا کے حصول کے لئے اعلیٰ اخلاق کے ساتھ وہ خدا تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو پھر ہی یہ کیفیت جو ہے وہ حقیقی مومن کی کیفیت ہوتی ہے۔ گویا حقیقی مومن عابد اور عاجز ہوتا ہے۔

ہاں یہ بھی صحیح ہے کہ ہر انسان کی استعدادیں مختلف ہیں۔ جسمانی حالت مختلف ہے۔ بعض عارضی حالات ایسے پیدا ہو جاتے ہیں جو روک بن جاتے ہیں۔ اس لئے ہر شخص ہر وقت اور ہر حالت میں اپنے اخلاقی معیار کو ایک طرح نہیں رکھ سکتا۔ اسی طرح اپنی روحانی ترقی کے لئے بھی اپنی عبادتوں اور اپنی نمازوں کے وہ معیار نہیں رکھ سکتا جو ایک مومن سے متوقع ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے مومنین کو حالات کے مطابق سہولتیں بھی مہیا فرمائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ضرورت سے زیادہ بوجھ انسان پر نہیں ڈالتا۔ یا انسان کی حالت اور صلاحیت سے زیادہ بوجھ اس پر نہیں ڈالتا۔ پس یہ کہنا کہ بعض کام ایسے ہیں جو انسان کے لئے ناممکن ہیں اس لئے کئے نہیں جا سکتے۔ یہ بات کم از کم دین اسلام کے بارے میں غلط ہے۔ یہ صحیح نہیں۔ نمازوں کے بارے میں جب اللہ تعالیٰ مومن کو کہتا ہے کہ یہ تم پر فرض ہیں انہیں ادا کرو تو ساتھ ہی بہت سی سہولتیں بھی دے دیں۔ مثلاً جو کسی وجہ سے کھڑا ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا اسے کہہ دیا کہ بیٹھ کر پڑھ لو۔ اور جو بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتا بعض بیماریوں کی وجہ سے، کمزوری کی وجہ سے کیونکہ بیٹھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے تو اسے کہہ دیا کہ لیٹ کر پڑھ لو۔ پھر لیٹنے میں بھی کوئی شرط نہیں ہے کہ کسی خاص انداز میں لیٹنا ہے۔ جس طرح انسان لیٹا ہوا ہے وہیں نماز پڑھ سکتا ہے۔ بیمار ہے کمزور ہے، سفر یا اور کوئی وقتی مجبوری ہے تو کہہ دیا کہ قصر کر لو، جمع کر لو۔ پس کوئی شخص اپنی کسی مجبوری کی وجہ سے یہ کہہ ہی نہیں سکتا کہ نماز پڑھنا اس کے لئے ممکن نہیں بلکہ ایسے لوگ جو اس قسم کے کام کرتے ہوں جن میں بظاہر ان کے کپڑے گندے ہوئے ہوں ان کو بھی یہی حکم ہے کہ اگر صاف کپڑے نہیں ہیں تو جیسے بھی پہنے ہوئے ہیں ان میں ہی نماز پڑھ لو لیکن نماز ضرور پڑھو۔ اسی طرح اگر پانی نہیں ہے تو پھر وضو کے بجائے تیمم کر لو۔ غرض کہ کوئی عقلمند کسی کا یہ بہانہ تسلیم نہیں کر سکتا کہ نماز پڑھنا اس کے لئے ممکن نہیں ہے۔ جب تک ہوش و حواس قائم ہیں نماز پڑھنا ضروری ہے۔ پس نماز کے بارے میں یہ کہنا کہ بعض حالات میں ہمارے لئے ناممکن ہے یہ انتہائی غلط بات ہے۔ بہت سے لوگوں سے پوچھو تو مختلف قسم کے بہانے بناتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ ایسے بہانے کر کے ایمان سے دور ہٹ رہے ہوتے ہیں۔ پس اس طرف ہم میں سے ہر ایک کو توجہ دینی چاہئے۔

آئر لینڈ میں جب میں نے مسجد کے افتتاح پر خطبہ دیا اور عبادتوں کی طرف توجہ دلائی تو امریکہ سے ہمارے ایک مربی صاحب نے لکھا اور پھر بعض اور جگہوں سے بھی خط آئے کہ خطبے کے بعد مسجدوں میں حاضری بڑھ گئی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مسجد میں نمازوں پر نہ آنا کسی کی مجبوری کی وجہ سے یا نا ممکنات کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ سستی تھی اور جب توجہ دلائی گئی تو اثر ہوا لیکن اس اثر کو مستقل قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔ جو ایک مومن کا خاصہ ہے کہ اگر توجہ دلائی جائے تو پھر اس پر عمل کرتا ہے۔ خدام الاحمدیہ اور لجنہ کو خاص طور پر کوشش کرنی چاہئے کہ نوجوانوں میں نمازوں کی پابندی کی عادت ڈالیں۔ اس عمر میں صحت ہوتی ہے اور عبادتوں کا حق ادا ہو سکتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں اس طرف خاص طور پر توجہ دلائی ہے کہ جوانی اور صحت کی عبادتیں ہی حق ادا کرتے ہوئے ادا کی جا سکتی ہیں۔ بڑھاپے میں تو مختلف عوارض کی وجہ سے انسان وہ حق ادا ہی نہیں کر سکتا جو عبادت کا حق ہے۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد4 صفحہ258۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

بہر حال انسان کو سوچنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ فرائض تو طبیعت پر جبر کر کے بھی اگر ادا کرنے پڑیں تو ادا کرنے چاہئیں۔ کجا یہ کہ سہولتوں کے باوجود یہ ادا نہ کئے جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے جب صحت دی ہے تو صحت کا شکرانہ بھی خدا تعالیٰ کا حق ادا کرنے کے لئے ضروری ہے اور یہ حق عبادت سے ادا ہوتا ہے۔ صحت کی حالت کے شکرانے کے طور پر عبادتیں بجا لانے کی ضرورت ہے، نمازوں کی ادائیگی کی ضرورت ہے۔ پس اس طرف توجہ دینے کی ہمیں بہت زیادہ کوشش کرنی چاہئے اس کے بغیر ہمارا ایمان کامل نہیں ہو سکتا۔

اب میں دوسری بات کی طرف آتا ہوں یعنی اچھے اخلاق۔ اعلیٰ اخلاق رکھنے والوں کا ایک بہت بڑا وصف سچائی کا اظہار ہے اور سچائی پر قائم رہنا ہے۔ ایک مومن کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ ہمیشہ سچائی پر قائم رہے اور جھوٹ کے قریب بھی نہ پھٹکے۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ اگر جھوٹ سے انتہائی نفرت ہو۔ لیکن عملاً ہم دنیا میں کیا دیکھتے ہیں کہ مختلف موقعوں پر جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ میرا ارادہ تو نہیں تھا لیکن غلطی سے میرے منہ سے جھوٹ نکل گیا۔ اسائلم کے لئے یہاں درخواستیں دیتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں وہ تو میرے منہ سے فلاں بات غلطی سے نکل گئی۔ میرا ارادہ نہیں تھا۔ لیکن اگر عادت نہ ہو تو غلطی سے بھی بات نہیں نکلا کرتی۔ بہر حال اللہ تعالیٰ تو بخشنے والا ہے، ایسے لوگوں کو معاف کر دیتا ہے جن کو غلطی کا احساس ہو لیکن اس صورت میں انہیں اپنے اس عمل پر اظہار ندامت کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص جھوٹ بولے اور پھر اس پر ندامت بھی محسوس نہ کرے اور اس کے جھوٹ سے اگر کسی کو نقصان ہوا ہے تو اس کا ازالہ کرنے کی کوشش نہ کرے بلکہ الٹا ضد پر آ کر جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرے یا یہ کہے کہ اس جھوٹ کے بغیر گزارہ ہی نہیں ہو سکتا تھا تو ایسا شخص نہ تو ایمان پر قائم ہے نہ ہی اچھے اخلاق والا کہلا سکتا ہے۔ یقینا ایسے شخص کو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ صحیح راستے پر نہیں ہے۔

پھر اخلاق کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرۃ: 84) کہ لوگوں کے ساتھ نرمی اور اچھے طریق سے پیش آؤ۔ ان سے اچھے طریق سے بات کیا کرو۔ اب عام طور پر انسان دوسروں سے اکّھڑ پن سے بات نہیں کرتا باوجود اس کے کہ بعض طبائع میں خشونت اور اکھڑ پن ہوتا ہے لیکن وہ ہر وقت اس کا اظہار نہیں کرتے۔ تو جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لوگوں سے بات کرو تو ان سے نرمی اور ملاطفت سے پیش آؤ تو ایسے ہی لوگوں کو کہتا ہے کہ اپنی اس خشونت اور اکھڑ پن کی طبیعت میں نرمی پیدا کرو اور کبھی بھی تمہارے سے ایسی بات نہیں ہونی چاہئے جو دوسرے کو تکلیف پہنچانے والی ہو۔ ذرا ذرا سی بات پر مغلوب الغضب نہ ہو جایا کرو۔ لیکن بعض انسان اپنی طبیعت کی وجہ سے جیسا کہ مَیں نے کہا طبائع ہوتی ہیں، یکدم بھڑک بھی جاتے ہیں تو ایسے لوگ اگر سخت بات کہنے کے بعد اپنی سختی پر افسوس کریں اور جو جذباتی یا کسی بھی قسم کی تکلیف ان سے دوسروں کو پہنچی ہو اس کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں، توبہ اور استغفار کریں تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میں نے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہوا ہے اور ان کی توبہ قبول بھی ہو جاتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر توجہ نہ دینے والے بے جا تشدد اور سختی کرتے چلے جانے والے اور کسی قسم کی بھی ندامت محسوس نہ کرنے والے تو وہ لوگ ہیں جو نہ صرف اخلاق سے گر رہے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی نفی کر کے گنہگار بھی ہو رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کی عبادتیں بھی ان کے کسی کام نہیں آتیں۔ پس اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو اپنی مغفرت کی امید دلاتا ہے جو کسی خاص جوش یا غصے کے ماتحت ایک فعل کر دیں لیکن بعد میں ہوش آ جانے پر اپنے اس فعل پر نادم ہوں، شرمندہ ہوں اور اس کے ازالے کی کوشش کریں۔ لیکن جو شخص نادم نہ ہو، ہوش آ جانے پر بھی کسی قسم کی ندامت یا افسوس کا اظہار نہ کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کوئی عذر نہیں پیش کر سکتا۔ پس ہمیں اپنے جائزے لینے چاہئیں۔ بہت سے معاملات میرے سامنے آتے ہیں۔ میاں بیوی کے جھگڑوں کے، لین دین کے معاملات ہیں کہ لوگ ایسے مغلوب الغضب ہوتے ہیں کہ کچھ نہیں دیکھتے کہ کیا کہہ رہے ہیں، کیا کر رہے ہیں۔ عورتوں کو جذباتی تکلیف بھی دیتے ہیں، ہاتھ بھی اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے معاملات ہیں۔ آپس میں غلط قسم کے رویے ہیں۔ پھر یہ سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ اصلاحی کمیٹی کوشش کرے یا قضا کوشش کرے تو یہ لوگ اپنی بات پر اَڑے رہتے ہیں تو پھر تعزیر ہوتی ہے اور جب کسی فریق پر تعزیر ہو جائے تو پھر ان کو تھوڑی سی ہوش آتی ہے۔ پھر معافی کے لئے بھی لکھتے ہیں اور پھر جو زیادتیاں انہوں نے کی ہیں اس کا مداوا کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ ٹھیک ہے ایسے لوگ سزا کے بعد معافی لے کر اپنے انجام کو بچا لیتے ہیں لیکن تعزیر کا داغ ان پر لگ جاتا ہے۔ اگر اپنی اَنا کے چکر میں نہ پڑتے تو پہلے سے ہی افہام و تفہیم سے معاملہ طے ہو سکتا ہے۔ پس ایسے لوگوں کو اپنے ایمانوں کو بچانے کی فکر کرنی چاہئے۔ بعض ایسے ہیں جو کسی بھی صورت میں نہیں مانتے وہ تو بالکل ہی دُور ہٹ جاتے ہیں۔ دنیا اور اس کے فوائد اور اس کی سہولتیں چند روزہ ہیں۔ اپنے انجام کی ہمیں فکر کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو ہم کس طرح حاصل کرنے والے بن سکتے ہیں۔ جماعت کو مَیں اکثر توجہ دلاتا رہتا ہوں کہ ہمیں اپنے اخلاقی معیار بلند کرنے چاہئیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی اَناؤں کے جال میں نہیں پھنسنا چاہئے۔ جماعت کے ہر فرد کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اخلاق اور انسانیت کا معیار بنیں۔ بے شک بعض اوقات ہم جذبات کا اظہار بھی کر دیتے ہیں، غصہ آ جاتا ہے یہ انسانی طبیعت ہے لیکن ایک مومن کو اللہ تعالیٰ نے کچھ حکم بھی دئیے ہوئے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں اور اللہ تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت انہیں خرچ کریں۔ مَیں نے میاں بیوی کے معاملات کی مثال دی ہے تو دیکھیں خطبہ نکاح میں پڑھی جانے والی آیات میں کس طرح اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف احکام دئیے ہیں جن پر میاں بیوی دونوں کو عمل کرنا ضروری ہے لیکن اکثر لوگ ان باتوں کو سامنے نہیں رکھتے۔ سمجھتے ہیں نکاح ہو گیا شادی ہو گئی اور بس۔ پس جو لوگ اپنی باتوں پر اڑے رہتے ہیں بلکہ ان پر فخر رکھتے ہیں۔ سامنے رکھنا تو ایک طرف رہا جب مسائل اٹھتے ہیں تو اپنی بات پر ہی اڑے رہتے ہیں اور یہ فخر ہوتا ہے کہ ہم اس طرح اپنی بات پر قائم رہے۔ ہم نے فلاں کو کس طرح نیچا دکھا دیا۔ اپنے جذبات کو صحیح سمجھتے ہیں اور دوسرے کے جذبات کی پرواہ نہیں کرتے اور یہی کہتے ہیں کہ ہم نے جو کچھ کیا وہ صحیح ہے کیونکہ ان کے خیال میں دوسرے شخص کا علاج ہی یہ تھا جو انہوں نے سوچا اور جو انہوں نے کیا۔ اس کے علاوہ ان کے نزدیک اور کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ اگر ایسے لوگوں کی بات مان لی جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مذہب جسے انہوں نے مانا ہے وہ جھوٹا ہے کیونکہ مذہب کچھ کہتا ہے وہ کچھ اور کہہ رہے ہیں۔ یہ بیشک وہ کہہ سکتے ہیں کہ مذہب کا یہ حکم ایسا ہے جس پر ہمارے سے عمل مشکل ہے لیکن یہ کہنا کہ اس حکم کو توڑے بغیر اور جو کچھ ہم نے کیا ہے اس کے کئے بغیر گزارہ ہی نہیں ہو سکتاتھا، مذہب کو جھوٹا کہنے والی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ غصّہ دباؤ۔ حسن اخلاق سے پیش آؤ۔ اپنی غلطیوں پر ضدنہ کرو۔ بندوں کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرو بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو ہمیں یہاں تک فرمایا ہے کہ جو بندوں کے حق ادا نہیں کرتا، ان اخلاق کے مطابق اپنا نمونہ نہیں دکھاتا جو خدا تعالیٰ نے ہمیں بتائے ہیں جن کا اپنانا ایک مومن کے لئے ضروری ہے تو پھر ایسے لوگ خدا تعالیٰ کا بھی حق ادا نہیں کرتے۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد7 صفحہ350۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) ان کی نمازیں اور عبادتیں بھی صرف دکھاوے کی ہیں کیونکہ ان عبادتوں نے ان کے اندر وہ تبدیلی پیدا نہیں کی جو ایک مومن کا خاصہ ہے۔ ان میں وہ عاجزی نہیں آئی جو انہیں خدا تعالیٰ کا قرب دلانے والی ہے۔ اگر غصے کی حالت میں انسان اپنی ویڈیو بنوا لے۔ آج کل تو ویڈیو بڑی آسانی سے ہر جگہ میسر ہے تو ایک عقلمند انسان ہوش کی حالت میں اسے دیکھ کر خود ہی شرمندہ ہو جائے کہ اس کی کیا حالت تھی۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں اس بارے میں جو نصائح فرمائی ہیں وہ مَیں پیش کرتا ہوں کہ مغلوب الغضب ہونے والوں کی کیفیت کیا ہو جاتی ہے۔ ان کے دماغ عقل اور حکمت سے خالی ہو جاتے ہیں۔ بعض دفعہ پاگل پن تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ اس بارے میں فرماتے ہوئے کہ جوش اور غصہ جو ہے جب بڑھ جائے تو عقل ماری جاتی ہے اس لئے صبر کی طرف توجہ دلائی کیونکہ صبر سے عقل اور فکر کی قوتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ:

’’یاد رکھو کہ عقل اور جوش میں خطر ناک دشمنی ہے۔ جب جوش اور غصّہ آتا ہے تو عقل قائم نہیں رہ سکتی۔ لیکن جو صبر کرتا ہے اور بردباری کا نمونہ دکھاتا ہے اس کو ایک نور دیا جاتا ہے جس سے اس کی عقل و فکر کی قوتوں میں ایک نئی روشنی پیدا ہو جاتی ہے اور پھر نور سے نور پیدا ہوتا ہے۔ غصّہ اور جوش کی حالت میں چونکہ دل و دماغ تاریک ہوتے ہیں اس لئے پھر تاریکی سے تاریکی پیدا ہوتی ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد3 صفحہ180۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر ذرا ذرا سی بات پر غصے میں آنے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کا دل حکمت سے عاری ہو جاتا ہے۔ فرمایا:

’’یاد رکھو جو شخص سختی کرتا اور غضب میں آ جاتا ہے اس کی زبان سے معارف اور حکمت کی باتیں ہرگز نہیں نکل سکتیں۔ وہ دل حکمت کی باتوں سے محروم کیا جاتا ہے جو اپنے مقابل کے سامنے جلدی طیش میں آ کر آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ گندہ دہن اور بے لگام کے ہونٹ لطائف کے چشمہ سے بے نصیب اور محروم کئے جاتے ہیں‘‘۔ پھر اس سے اچھی اور نیک باتیں نہیں نکلتیں۔ محروم رہ جاتا ہے۔ ’’غضب اور حکمت دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔ جو مغلوب الغضب ہوتا ہے اس کی عقل موٹی اور فہم کند ہوتا ہے۔ اس کوکبھی کسی میدان میں غلبہ اور نصرت نہیں دئیے جاتے۔ غضب نصف جنون ہے جب یہ زیادہ بھڑکتا ہے تو پورا جنون ہو سکتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد5 صفحہ 126-127۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر آپ فرماتے ہیں کہ:

’’دو قوتیں انسان کو منجر بہ جنون کر دیتی ہیں‘‘۔ یعنی جنون کی طرف لے جانے والی بناتی ہیں۔ ’’ایک بدظنی اور ایک غضب جب کہ افراط تک پہنچ جاویں۔‘‘

جب انسان ضرورت سے زیادہ ہر وقت اسی سوچوں میں پڑا ہو، غصے میں رہے، بدظنیاں کرتا رہے تو پھر پاگل پن کی کیفیت ہو جاتی ہے۔ ’’… پس لازم ہے کہ انسان بدظنی اور غضب سے بہت بچے۔‘‘ (ملفوظات جلد6 صفحہ104۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

ایک مومن کی تعریف کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ مومن کو کیسا ہونا چاہئے؟ اس کو کسی بھی حالت میں عقل و خرد کو ہاتھ سے نہیں دینا چاہئے ورنہ پھر جیساکہ پہلے ذکر آیا پاگل پن کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ:

’’مرد کو چاہئے کہ اپنے قُویٰ کو برمحل اور حلال موقع پر استعمال کرے۔ مثلاً ایک قوت غضبی ہے جب وہ اعتدال سے زیادہ ہو تو جنون کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ جنون میں اور اس میں بہت تھوڑا فرق ہے۔ جو آدمی شدید الغضب ہوتا ہے اس سے حکمت کا چشمہ چھین لیا جاتا ہے بلکہ اگر کوئی مخالف ہو تو اس سے بھی مغلوب الغضب ہو کر گفتگو نہ کرے۔‘‘ (ملفوظات جلد5 صفحہ208۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر آپ مومن کی نشانی بتاتے ہیں کہ کس طرح مومن کو غصہ پر ضبط ہونا چاہئے یا غصے پر ضبط ہو تو حقیقی مومن کہلاتا ہے۔ فرمایا: ’’وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ  (آل عمران: 135) یعنی مومن وہ ہیں جو غصہ کھا جاتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ عفو اور درگزر کے ساتھ پیش آتے ہیں۔‘‘ فرمایا ’’اگرچہ انجیل میں بھی عفو اور درگزر کی تعلیم ہے… مگر وہ یہودیوں تک محدود ہے۔ دوسروں سے حضرت عیسیٰ نے اپنی ہمدردی کا کچھ واسطہ نہیں رکھا اور صاف طور پر فرما دیا کہ مجھے بجز بنی اسرائیل کے دوسروں سے کچھ غرض نہیں خواہ وہ غرق ہوں خواہ نجات پاویں۔ (چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد23صفحہ395)

پس حضرت مسیح کا عفو و درگزر بنی اسرائیل تک محدود تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو مسیح محمدی بن کر آئے ہیں آپ کا دائرہ عفو و درگزر تو ساری دنیا تک پھیلا ہوا ہے۔ اس لئے ہمیں بھی اپنے عفو اور درگزر کو وسیع تر کرنے کی ضرورت ہے۔ پس یہ ہیں وہ معیار جو ہمیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

اگر اللہ تعالیٰ کے نور سے فیض پانا ہے تو صبر حوصلہ اور بردباری کا وصف بھی اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے منہ سے معارف اور حکمت کی باتیں نکلیں، لوگ ہماری طرف متوجہ ہوں، ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو آگے بڑھانے والے ہوں تو ہمیں اپنے گھریلو اور روزمرہ کے معاملات میں سختی اور غضب کی حالت میں رہنے سے اپنے آپ کو بچانا ہو گا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنی ذہنی صلاحیتوں اور استعدادوں کو کبھی بھی تباہ و بربادنہ ہونے دیں تو بدظنی اور غضب سے اپنے آپ کو بچانا ہو گا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ حقیقی مومن بنیں تو اپنی صلاحیتوں کو برمحل اور برموقع اور مناسب رنگ میں ادا کرنا ہوگا۔ غصہ کی کیفیت اگر کبھی پیدا بھی ہو تو جنونی ہو کے نہیں ہونی چاہئے بلکہ صرف اصلاح کی حد تک ہونی چاہئے۔ غصے اور بے لگام جذبات کا اظہار انسان کو جنونی بنا دیتے ہیں۔ پس ان میں اعتدال کی ضرورت ہے۔ اگر غصہ ہے تو اس حد تک جیسا کہ مَیں نے کہا جہاں اصلاح کے لئے ضروری ہے۔ اپنی اَناؤں کی تسکین کے لئے نہیں، اپنی بڑائی ثابت کرنے کے لئے نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ جو اس سے زیادہ غصے کا اظہار کرتا ہے وہ اپنا ایمان ضائع کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اسلام کی خوبصورتی یہی ہے کہ اعلیٰ اخلاق کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے غیر ضروری غصے کو دبانے اور عفو سے کام لینے کی تلقین کرے۔ پس یہ خُلق ہر ایک کو اپنانے کی بہت زیادہ ضرورت ہے کیونکہ اس کے بغیر حقیقی مومن بننا مشکل ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے متواتر مختلف تحریرات اور ارشادات میں فرمایا ہے کہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا چاہئے۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد2 صفحہ48۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

لیکن ہمارے اندر کمزوری ہے کہ ہم اس پر اس طرح عمل نہیں کرتے جس طرح کرنا چاہئے۔ اس میں عام احمدی بھی شامل ہے اور عہدیداران بھی شامل ہیں۔ ایسے لوگ جو دوسروں کو تو آپؑ کی باتیں سناتے ہیں اور جذبات کو قابو میں رکھنے کی تلقین کرتے ہیں لیکن خود اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ سچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو۔ (کشتی نوح روحانی خزائن جلد19 صفحہ12) بلکہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض تو جھوٹے ہو کر سچے اور ظالم ہو کر اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر کس طرح ایسے لوگوں کے بارے میں سمجھا جائے کہ ایمان کا ایک ذرہ بھی ان میں ہے۔ کیونکہ ایمان کا تقاضا تو یہ ہے کہ بجائے ضد کرنے کے ہوش میں آنے پر وہ اپنے ظلم کا ازالہ کرے۔ اگر کسی کو کوئی جذباتی تکلیف پہنچائی ہے تو اس کا مداوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کم از کم اپنے اندر ندامت اور شرمندگی محسوس کرتے ہیں کہ میں نے کیا کیا؟ ہمیں جائزہ لینا چاہئے کہ ہم میں سے کتنے ہیں جو یہ سوچ رکھتے ہیں یا اس طرح سوچتے ہیں۔ اگر ظلم وقتی جوش کے تحت ہو گیا ہے تو جوش کا وقت گزر جانے پر ایک مومن کو اس کا ازالہ کرنا چاہئے۔ اگر یہ ازالہ نہیں کرتے اور ندامت محسوس نہیں کرتے بلکہ سارے حالات گزر جاتے ہیں اور پھر بھی اثر نہیں ہوتا تو پھر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے یہ حقیقی ایمان نہیں۔ یہ دکھاوے کا ایمان ہے۔ پانی کے اس بلبلے کی طرح ہے جس کے اوپر پانی ہے اور اندر صرف ہوا ہے۔ اگر تمام پانی ہوتا تو پھر وہ پانی کی کیفیت میں ہوتا، پھر اس میں ہوا نہیں ہوتی۔ پس جیسا کہ مَیں نے کہا ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ ہم دیکھیں کہ کتنی دفعہ ہم پر اگر زیادتی بھی ہوئی ہے تو ہم نے برداشت کیا ہے اور مغلوب الغضب ہو کر جواب نہیں دیا یا اگر عہدیدار ہیں تو کتنی دفعہ ایسے مواقع پیدا ہوئے ہیں کہ دوسرے نے زیادتی کی اور انہوں نے انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے فیصلہ دیا۔ اس زیادتی کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ برداشت یہ نہیں ہے کہ کسی طاقتور کا مقابلہ ہو اور جواب نہ دیا ہو اور کہہ دیا کہ ہماری بڑی برداشت ہے بلکہ برداشت یہ ہے کہ سزا دے سکے اور پھر سزا نہ دے۔

یہاں یہ بھی واضح ہو کہ انتظامیہ انصاف اور شریعت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اگر کسی کو سزا کی سفارش کرتی ہے، تعزیری کارروائی کرتی ہے تو یہ اس زمرہ میں نہیں آتا۔ کیونکہ اگر کسی کی غلطی ہے اور اُس کو اس کی وجہ سے سزا مل رہی ہے تو اس قسم کا جو عفو ہے وہ یہاں گناہ بن جاتا ہے۔ اگر کوئی اپنے معاملات میں دست درازی کرتا ہے، ظلم کا مرتکب ہوتا ہے تو حاکم یا قاضی سزا دیتا ہے جس طرح بچوں کو ماں باپ یا استاد سزا دیتے ہیں۔ یہ سزا کسی جرم میں کسی کو ملتی ہے تو اس لئے کہ اس نے شریعت کے حکم کی نافرمانی کی یا دوسروں کے حقوق تلف کئے۔ یہ وضاحت اس لئے ضروری ہے کہ بعض لوگ زیادتی بھی کرتے ہیں، شریعت کے قوانین کی پابندی بھی نہیں کرتے، دوسروں کے حقوق بھی غصب کرتے ہیں اور پھر نظام جماعت جب اُن پر تعزیر کرتا ہے تو میری یہ باتیں سن کر، پہلے بھی کئی دفعہ مَیں کہہ چکا ہوں، اس بارے میں پھر مجھے لکھنا شروع کر دیتے ہیں اور اب بھی شاید شروع کر دیں گے کہ آپ نے عفو اور درگزر پر خطبہ دیا ہے۔ ہمارے ساتھ یہ سلوک کیا جائے، ہمیں بھی معاف کر دیا جائے۔ تو اس بارے میں پہلے بھی کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ میری کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ بعض مجھے گالیوں سے بھرے ہوئے خطوط بھی لکھ دیتے ہیں ان کے لئے بھی کبھی میرے دل میں غصہ نہیں آیا، کبھی غصے کے جذبات پیدا نہیں ہوئے۔ ایسے لوگ عموماً اپنے نام نہیں لکھتے یا فرضی نام لکھتے ہیں۔ اگر وہ نام لکھ بھی دیں تو تب بھی مَیں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ اس بارے میں ان پر کوئی کارروائی نہیں ہو گی بے شک گالیاں دیں۔ ہاں ان پہ رحم ضرور آتا ہے اور مزید استغفار کا مجھے موقع مل جاتا ہے۔ میرے لئے تو یہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ سزا یا تعزیر تو دوسروں کے حقوق غصب کرنے یا شریعت کے حکم کی نافرمانی کرنے پر ملتی ہے اور بڑے دکھ سے یہ سزا دی جاتی ہے، کوئی خوشی سے سزا نہیں دی جاتی۔ جس دن میری ڈاک میں نظارت امور عامہ یا امراء ممالک کی طرف سے کسی کی تعزیر کی معافی کی سفارش ہوتی ہے، جو غلطی کی تھی اس کا مداوا ان لوگوں نے کر دیا ہوتا ہے تو اس دن سب سے زیادہ میری خوشی کا دن ہوتا ہے۔ پس جہاں میرے فرائض میرے ہاتھ باندھے ہوئے ہیں وہاں مجھے مجبور نہ کریں۔ ہاں مَیں یہ بھی ضرور کہوں گا کہ فریقین اپنے معاملات جب قضا میں لاتے ہیں اور قضا یا انتظامیہ واقعات کی روشنی میں ان کا فیصلہ کرتے ہیں اور ایک فریق پر ذمہ داری ڈالی جاتی ہے کہ حقوق ادا کرے یا اس حد تک ذمہ داری ڈالی جاتی ہے کہ اگر مالی معاملہ ہے تو اتنی رقم ادا کرو یا دوسری ذمہ داریاں ادا کرو تو جس فریق نے بھی رقم وصول کرنی ہو، جس نے حق لینا ہو وہ دوسرے فریق کے مالی حالات کی تنگی کی وجہ سے جو زیادہ سے زیادہ سہولت دے سکتا ہے اس کو دینی چاہئے وہاں پہ ضدّیں نہیں کرنی چاہئیں۔ یہی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حکم ہے کہ بلا وجہ کسی انا میں پڑ کر ظلم نہیں کرنا چاہئے

بہر حال ہمیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا اس بات پر شکرگزار ہونا چاہئے اور یہ سوچنا چاہئے کہ ہم لوگ اس شخص کی اتباع کرنے والے ہیں جس کا نام مسیح رکھا گیا ہے۔ یہ سوچنے والی بات ہے کہ حضرت مسیح موعود کو مسیح کہا گیا ہیتو کیوں کہا گیا۔ وہ کون سی چیز ہے جو مسیح کو دوسرے انبیاء سے ممتاز کرتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں تمام باتیں، تمام خصوصیات، تمام صفات دوسرے تمام انبیاء سے زیادہ ہیں۔ ان کی معراج پر پہنچے ہوئے ہیں کیونکہ آپ کامل انسان اور آپ کی شریعت کامل اور مکمل شریعت ہے۔ لیکن آپ کے علاوہ جب ہم باقی انبیاء میں دیکھتے ہیں تو ہر نبی میں کوئی نہ کوئی بات ایسی ہے جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ پس مسیح کی جو خاص امتیازی چیز ہے وہی مسیح موعود علیہ السلام کی مسیح سے تشبیہ کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ اس کی وضاحت جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کی ہے وہ بڑی دل کو لگنے والی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی خصوصیت وہ نرمی کی تعلیم ہے جو حضرت مسیح نے پیش کی اور بائبل تو یہاں تک کہتی ہے کہ ’’شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے اور اگر کوئی تجھ پر نالش کر کے تیرا کُرتا لینا چاہے تو چوغہ بھی اسے لے لینے دے۔ اور جو کوئی تجھے ایک کوس بیگار میں لے جائے اس کے ساتھ دو کوس چلا جا۔‘‘ (انجیل متی باب5 آیت39تا41) پس بے شک تمام انبیاء نے نرمی کی تعلیم دی ہے لیکن حضرت مسیح نے اپنے زمانے کے حالات کو دیکھتے ہوئے نرمی پہ بہت زیادہ زور دیا ہے۔

پس یہ خاص تعلیم ہے جو حضرت مسیح لائے اور جب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام مسیح رکھا یا آپ کو مسیح سے تشبیہ دی تو اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ کو بھی خاص طور پر نرمی کی تعلیم دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ گو کہ آپ کا نام مسیح رکھنے کی یہ بھی وجہ ہے کہ آپ عیسائیوں کی ہدایت کے لئے بھی آئے اور اس لحاظ سے مسیح کہلائے۔ گو آپ دوسرے مذاہب کی طرف بھی آئے۔ ہندوؤں کی طرف مبعوث ہونے کہ وجہ سے آپ کا نام کرشن بھی رکھا گیا اور اسی طرح مسلمانوں اور تمام اقوام عالم کی طرف آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور نیابت میں آئے۔ بہر حال مسیح کے نام پر زور ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی نرمی کی بہت تعلیم دی ہے اور سختی کو دور کرنے کی نصیحت فرمائی ہے۔ آپ علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

’’خدا چاہتا ہے کہ تمہاری ہستی پر پورا پورا انقلاب آوے اور وہ تم سے ایک موت مانگتا ہے جس کے بعد وہ تمہیں زندہ کرے گا۔ تم آپس میں جلد صلح کرو اور اپنے بھائیوں کے گناہ بخشو کیونکہ شریر ہے وہ انسان کہ جو اپنے بھائی کے ساتھ صلح پر راضی نہیں۔ وہ کاٹا جائے گاکیونکہ وہ تفرقہ ڈالتا ہے۔ تم اپنی نفسانیت ہر ایک پہلو سے چھوڑ دو اور باہمی ناراضگی جانے دو اور سچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلل کروتا تم بخشے جاؤ۔ نفسانیت کی فربہی چھوڑ دو کہ جس دروازے سے تم بلائے گئے ہو اس میں سے ایک فربہ انسان داخل نہیں ہو سکتا۔‘‘ (کشتی نوح روحانی خزائن جلد19 صفحہ12)

اگر ہم اس خصوصیت کو مدّنظر نہ رکھیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اگر ہم خود اس تعلیم پر عمل نہیں کرتے تو ہمیں دوسروں کو اس کی طرف بلانے کا کیا حق ہے۔ پس ہمیں اپنی اصلاح کی بہت ضرورت ہے۔ ہمیں وہ نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے جس سے دنیا سمجھے کہ ہم نے اپنے جذبات پر پورا پورا قابو پا لیا ہے۔

آئر لینڈ کی مسجد کے افتتاح پر بھی مَیں نے کہا تھا کہ جب ہم تبلیغ کریں گے تو لوگ پوچھیں گے کہ باقی مسلمانوں کے بارے میں تو تم کہتے ہو کہ انہوں نے مسیح موعود کو نہیں مانا، اس لئے ہدایت سے خالی ہیں۔ تم نے تو مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہوا ہے تو تم نے اپنے نفسوں میں کیا انقلاب پیدا کیا ہے۔ پس ہمارے نمونے ہماری تعلیم سے مطابقت رکھنے والے ہونے چاہئیں۔ دوسرے مذاہب کو ماننے والے سارے تو اخلاق سے گری ہوئی حرکات نہیں کرتے۔ سوچنا چاہئے کہ کیا سارے عیسائی یا سارے ہندو یا تمام دوسرے مذاہب کو ماننے والے یا نہ ماننے والے بھی لڑتے رہتے ہیں؟ نہیں۔ ان میں بھی بہت سارے صلح جُو ہیں اور انصاف پسند بھی ہیں۔ اگر ہم میں سے بھی بعض صلح جُو اور بعض لڑاکے ہیں یا اخلاق سے گری ہوئی حرکات کرنے والے ہیں تو ہم میں اور دوسروں میں امتیاز کیا رہ گیا۔ امتیاز تو تب ہو گا جب اس تعلیم پر عمل کرتے ہوئے جھگڑے فساد کی عادت ہم میں سے بالکل مٹ جائے گی یا کم از کم اتنی کم ہو جائے کہ کسی کو نظر نہ آئے۔ اور ایسے فساد کرنے والے جو تھوڑے سے ہوں بھی تو اُن سے ہم پوری طرح کراہت کرنے والے ہوں۔ بدی کو مٹانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد ہے کہ’’اگر کسی بدی کو دیکھو اور طاقت ہو تو اسے ہاتھ سے ختم کر دو۔ اگر ہاتھ سے ختم نہ کر سکو تو زبان سے روکو۔ اگر اتنی بھی طاقت نہ ہو تو دل میں برا مناؤ۔‘‘ (صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان… حدیث نمبر177)

پس احمدی معاشرے میں بھی غلط حرکات اور بداخلاقی کو برا سمجھنے روکنے اور منانے کا احساس ہونا چاہئے یا ترتیب کے لحاظ سے روکنے اور سمجھانے اور اس کو ختم کرنے کا احساس پیدا ہونا چاہئے یا برا منانے کا احساس پیدا ہونا چاہئے اور جب سب کو یہ احساس ہو تو پھر چند ایک بھی اخلاق سے نہیں گرتے۔ پھر ہر ایک اپنا معیار اونچا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کسی ظالم کا ہمیں ساتھ نہیں دینا چاہئے۔ ہمیں وہ طریق اختیار کرنا چاہئے جس کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے۔ جس پر اس زمانے میں خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے زور دیا ہے۔ ہمیں عفو نرمی اور درگزر اور محبت سے کام لینا چاہئے۔ اگر کسی کو ظلم کرتا دیکھیں تو سمجھیں کہ اس نے مظلوم پر حملہ نہیں کیابلکہ ہم پر حملہ کیا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر حملہ کیا ہے کیونکہ جس کام کے لئے آپ مبعوث ہوئے تھے اس نے اس کی تحقیر کی ہے۔ پس ایسے حملہ آوروں کو روکنا ہمارا کام ہے۔ ہاتھ سے نہیں روک سکتے تو زبان سے روکیں۔ دل میں برا منائیں اور مظلوم کے ظالم سے بچنے کے لئے دعائیں کریں۔ پس اگر ہم اخلاق سوز حرکتوں پر برا منائیں، ہمارا معاشرہ برا منائے تو خود بخود یہ ظلم اور یہ حرکتیں ہم میں سے ختم ہو جائیں گی۔ لیکن دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ بعض دفعہ خاص طورپر عائلی معاملات میں ظلموں میں ماں باپ بہن بھائی شامل ہو جاتے ہیں اور پھر صرف یہی نہیں کہ یہ شامل ہوتے ہیں، دوستی کے نام پر بعض دوسرے بھی شامل ہو جاتے ہیں بجائے اس کے کہ سمجھائیں۔ پس ہمیں معاشرے کی اصلاح کے لئے ان ظلموں میں شامل ہونے کی بجائے مظلوم پر حملے کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر حملہ سمجھنا چاہئے۔ اگر یہ ہو گا تو پھر دیکھیں ہمارا معاشرہ کس طرح ٹھیک ہوتا ہے اور ہمارے یہ رویے اور عمل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقصد کو پورا کرنے والے ہوں گے۔

اللہ کرے کہ ہم عبادتوں کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کے نمونے قائم کرنے والے اور قائم کروانے والے ہوں نہ کہ جھگڑوں اور فسادوں میں پڑ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بدنام کرنے والے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کی نفسانیت سے بچائے۔

آج بھی نماز جمعہ کے بعد مَیں ایک جنازہ حاضر پڑھاؤں گا جو مکرمہ آسیہ بیگم صاحبہ اہلیہ چوہدری محمد عبدالرحمن صاحب مرحوم اِنر پارک (Inner Park) کا ہے۔ یہ 3؍اکتوبر2014ء کو 69 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پا گئیں۔ اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ حضرت احمد یار صاحب اور حضرت مہتاب بی بی صاحبہ آف لویری والے کی پوتی تھیں۔ صوم و صلوٰۃ کی پابند، تہجد گزار، دعا گو۔ کثرت سے ذکر الٰہی اور صدقہ و خیرات کرنے والیں صابر اور شاکر تھیں۔ چندہ جات میں باقاعدہ اور مالی قربانی کرنے والی نیک مخلص خاتون تھیں۔ 1978ء میں جب آپ کے خاوند کو مخالفین نے ایک جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا تو آپ نے بڑی بہادری اور صبر سے یہ عرصہ گزارا۔ مرحومہ موصیہ تھیں اور وصیت کرنے کے ساتھ ہی اپنے حصہ جائیداد کی ادائیگی بھی کر دی تھی۔ ان کے پسماندگان میں پانچ بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ ان کے ایک بیٹے اشتیاق احمد صاحب مربی سلسلہ ہیں جو آجکل پاکستان میں ہیں اور دوسرے اعجاز الرحمن۔ یہ یہاں حفاظت خاص کے عملے میں شامل ہیں۔ آپ ماسٹر عبدالقدوس صاحب شہید کی پھوپھی بھی تھیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے۔ مغفرت کا سلوک فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

نماز کے بعدمَیں باہر جا کر نماز جنازہ پڑھاؤں گا۔ احباب یہیں مسجد میں صفیں درست کر لیں۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 10؍ اکتوبر 2014ء شہ سرخیاں

    اللہ تعالیٰ نے ایک مومن کو عابد بننے اور اعلیٰ اخلاق اپنانے کی طرف بہت توجہ دلائی ہے کیونکہ ان کے بغیر ایک ایمان کا دعویٰ کرنے والا مومن نہیں کہلا سکتا۔

    جس انسان میں عاجزی ہو وہ نہ صرف جھگڑوں اور فسادوں سے بچتا ہے بلکہ صُلح جوئی کی طرف رجحان رکھتا ہے اور دوسرے اعلیٰ اخلاق بھی اس میں پائے جاتے ہیں۔ خدام الاحمدیہ اور لجنہ کو خاص طور پر کوشش کرنی چاہئے کہ نوجوانوں میں نمازوں کی پابندی کی عادت ڈالیں۔ اس عمر میں صحت ہوتی ہے اور عبادتوں کا حق ادا ہو سکتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے جب صحت دی ہے تو صحت کا شکرانہ بھی خدا تعالیٰ کا حق ادا کرنے کے لئے ضروری ہے اور یہ حق عبادت سے ادا ہوتا ہے۔ صحت کی حالت کے شکرانے کے طور پر عبادتیں بجا لانے کی ضرورت ہے، نمازوں کی ادائیگی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے اخلاقی معیار بلند کرنے چاہئیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی اَناؤں کے جال میں نہیں پھنسنا چاہئے۔

    جو بندوں کے حق ادا نہیں کرتا، ان اخلاق کے مطابق اپنا نمونہ نہیں دکھاتا جو خدا تعالیٰ نے ہمیں بتائے ہیں جن کا اپنانا ایک مومن کے لئے ضروری ہے تو پھر ایسے لوگ خدا تعالیٰ کا بھی حق ادا نہیں کرتے۔ ان کی نمازیں اور عبادتیں بھی صرف دکھاوے کی ہیں کیونکہ ان عبادتوں نے ان کے اندر وہ تبدیلی پیدا نہیں کی جو ایک مومن کا خاصہ ہے۔

    مکرمہ آسیہ بیگم صاحبہ اہلیہ چوہدری محمد عبدالرحمن صاحب مرحوم(لندن) کی وفات۔ مرحومہ کا ذکر خیر اور نماز جنازہ حاضر۔

    فرمودہ مورخہ 10؍اکتوبر 2014ء بمطابق10اخاء 1393 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور