دین کو دنیا پر مقدم رکھنا

خطبہ جمعہ 17؍ اکتوبر 2014ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

جماعت احمدیہ میں ایک فقرہ ہر مرد عورت، چھوٹا بڑا جانتا ہے اور وہ ہے کہ ’’میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا‘‘۔ (ملفوظات جلد 2صفحہ70۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ہمیں اس طرف بہت توجہ دلائی ہے۔ خلفاء کی تقریروں میں عموماً اور ہمارے مقررین کی بھی اکثر تقریروں تحریروں میں، اس فقرے کا استعمال ہوتا ہے۔ شرائط بیعت کا بھی خلاصہ یہی ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھا جائے گا۔ اسی طرح تمام ذیلی تنظیموں کے جو عہد ہیں ان کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔ اسی طرح بیعت کے الفاظ میں بھی ہم ان الفاظ کو دہراتے ہیں۔ غرض کہ یہ فقرہ ایک احمدی کا عہد ہے جس پر اس کی بیعت کا انحصار ہے۔ خلافت سے اور نظام سے جڑے رہنے کا انحصار ہے۔ اگر یہ نہیں تو پھر بیعت کا دعویٰ غلط ہو جاتا ہے۔ نظام سے جڑے رہنے کا، خلافت سے وابستگی کا دعویٰ غلط ہو جاتا ہے۔ اور بیعت کا اعلان اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی باتیں صرف منہ کی باتیں رہ جاتی ہیں۔ اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ ’’اگر کوئی بیعت میں تو اقرار کرتا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کروں گا مگر عمل سے وہ اس کی سچائی اور وفائِ عہد ظاہر نہیں کرتا تو خدا کو اس کی کیا پرواہ ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد 4صفحہ71 حاشیہ۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس ہم میں سے ہر ایک کو اس بات کو ہر وقت اپنے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ اس فقرے سے واضح ہے کہ دین کے معاملے میں کوئی دنیاوی چیز روک نہیں بننی چاہئے۔ اور دین کیا ہے؟ دین اللہ تعالیٰ کے احکامات کے تابع ہو کر اپنی زندگیاں گزارنا ہے۔ اپنے ہر قول و فعل سے خدا تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم میں سے بڑی تعداد یہ کوشش کرتی ہے کہ دین کے راستے میں جو چیز روک بن رہی ہو اُسے دُور کرے۔ لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ ہر ایک کی کوشش ایک جیسی نہیں ہو سکتی کیونکہ ہر انسان کی علمی صلاحیت بھی مختلف ہوتی ہے اور دوسری استعدادیں اور صلاحیتیں بھی مختلف ہوتی ہیں۔ ہاں اللہ تعالیٰ کیونکہ ہماری نیّتوں کو بھی جانتا ہے اس لئے ہر ایک کی صلاحیت کے مطابق اس سے معاملہ کرتا ہے۔ پس اس عہد کو پورا کرنے کے لئے بنیادی چیز نیک نیّتی ہے۔ اس میں کسی قسم کے عذر اور بہانے نہیں ہونے چاہئیں۔ دنیاوی معاملات میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہر انسان کا دائرہ مختلف ہوتا ہے۔ کسی کی کوشش محدود دائرے میں ہوتی ہے کیونکہ اس کا علم اور صلاحیت اس چیز کو حاصل کرنے کے لئے محدود ہے یا بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ دوسری ترجیحات اس کے کام میں روک بن رہی ہوتی ہیں جو اسے محدود کر دیتی ہیں اور کسی کی کوشش بہت زیادہ ہوتی ہے اور صحیح رنگ میں ہوتی ہے۔ جس مقصد کو حاصل کرنا ہو صرف اسی پر نظر ہوتی ہے اور پھر وہ اسے مکمل حاصل ہو بھی جاتا ہے۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اس مضمون کو بیان فرمایا ہے۔ اس سے استفادہ کرتے ہوئے اور اس کی روشنی میں مَیں کچھ بیان کروں گا۔ خاص طور پر واقعات ہیں۔ محدود دائرے کی کوشش اور مقصود کے مطابق کوشش کی ایک عام سی مثال آپ نے اس طرح دی ہے کہ بعض لوگ خواہ کتنا ضروری کام کیوں نہ ہو چلتے وقت اس بات کا خیال رکھتے ہیں، اپنے لباس کے بارے میں بڑے کانشس (Conscious) ہوتے ہیں کہ ان کے لباس ٹھیک ہوں پتلون کی کریز خراب نہ ہو جائے۔ کوٹ میں کہیں بدصورت قسم کی سِلوَٹ یا شِکن نہ پڑ جائے۔ انہوں نے کہیں جلدی بھی پہنچنا ہو تو تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنے لباس کا جائزہ لیتے ہیں اور اس وجہ سے بعض دفعہ جلدی پہنچنے کی کوشش محدود ہو جاتی ہے۔ یہ اُس زمانے کی بات نہیں ہے۔ آج بھی ایسی مثالیں نظر آجاتی ہیں اور خاص طور پر ہمارے ایشین معاشرے میں مردوں اور عورتوں کی یہ حالت ہے کہ بعض دفعہ اپنے لباس کے بارے میں بہت زیادہ کانشس ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس کے مقابلے پر کچھ ایسے بھی ہیں جو بیشک فیشن بڑے شوق سے کرتے ہیں، بڑے شوقین ہوتے ہیں لیکن جب ان کے سامنے کوئی مقصد ہو تو وہ اپنے رکھ رکھاؤ اور فیشن کو قربان کر دیتے ہیں۔ اگر مقصد کے حصول کے لئے اپنے لباس کے رَکھ رکھاؤ کے باوجود انہیں دوڑنا پڑے تو وہ دوڑ بھی لیں گے۔ کسی جگہ بیٹھنا پڑے تو بیٹھ بھی جائیں گے۔ حتی کہ گردو غبار میں بھی اگر ضرورت ہو تو بغیر کسی تکلّف کے اس میں چل پڑیں گے۔ کیوں؟ اس لئے کہ اصل چیز ان کا مقصود اور مدعا ہوتا ہے کہ ہم نے یہ چیز حاصل کرنی ہے، یہ مقصد حاصل کرنا ہے۔ اس لئے وہ کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتے۔ اعلیٰ سوٹ یا سفید لباس ان کے مقصد کے حصول میں روک نہیں بنتا۔

اس پر مزید روشنی ڈالنے کے لئے کہ لوگ مقصد کے حصول کے لئے کس طرح ظاہری چیز کو قربان کر دیتے ہیں۔ ایک مثال حضرت مصلح موعودنے یہ بھی دی ہے۔ یہ تاریخ انگلستان کے ایک واقعہ کی مثال ہے۔ تاریخ میں واقعہ آتا ہے کہ ملکہ الزبتھ اوّل، (یہ ملکہ نہیں) ، 1558ء میں غالباً اس کو تاج ملا تھا۔ تقریباً 45سال تک ملکہ رہی ہے۔ ایک بہت مشہور ملکہ تھی۔ بلکہ انگلستان کی عظمت اور طاقت کی بنیاد بھی اسی زمانے میں ہوئی ہے۔ اس ملکہ کے متعلق مشہور تھا کہ وہ اپنے درباریوں میں خوش پوشاک اچھے لباس پہننے والے اور خوش وضع لوگوں کو دیکھنا پسند کرتی تھی۔ اور جس کا لباس اعلیٰ اور قیمتی نہ ہو وہ دربار میں نہیں آ سکتا تھا۔ اس لئے کہا جاتاہے کہ اس کے ارد گرد خوش وضع اور خوش لباس نوجوانوں کا جمگھٹا لگا رہتا تھا۔ ایک دفعہ وہ اپنے قریبیوں کے ساتھ پیدل کہیں جا رہی تھی۔ راستے میں جاتے ہوئے ایک جگہ کچھ کیچڑ آ گیا۔ اب تو یہاں بڑی پکّی سڑکیں ہیں۔ ایک زمانے میں یہاں کافی کچی گلیاں بھی ہوا کرتی تھیں۔ بہر حال جہاں بھی وہ جا رہی تھی کیچڑ آیا۔ اس وقت اس کے ساتھ انگلستان کی بحریہ کا کمانڈر اِن چیف تھا، سربراہ تھا جو ملکہ کا بڑا قریبی اور وفادار تھا اور بڑا خوش پوشاک اچھا لباس پہننے والا نوجوان تھا۔ جب راستے میں وہ کیچڑ آیا تو اس نے اپنا ایک بڑا قیمتی کوٹ پہنا ہوا تھا بلکہ وہ کوٹ تھا جو دربار کے لئے خاص ہوتا ہے۔ خاص موقعوں پر پہنا جاتا ہے۔ اس نے کیچڑ دیکھ فوراً اپنا کوٹ اتارا اور اس کیچڑ کی جگہ جو بالکل تھوڑی سی جگہ تھی اس پر ڈال دیا۔ ملکہ کو یہ دیکھ کر بڑا عجیب لگا کہ اتنا قیمتی کوٹ ہے اور اس نے یہ کیچڑ پر ڈال دیا ہے۔ اس نے بڑے حیران ہو کر اس سے پوچھا۔ ان کا نام ریلےؔ (Raleigh) تھا۔ ریلےؔ یہ کیا ہے؟ سر والٹر ریلے (Sir Walter Raleigh) اس کمانڈر کا نام تھا۔ تو اس افسر نے فوراً جواب دیا کہ ریلے کا کوٹ خراب ہونا اس سے بہتر ہے کہ ملکہ کا پیر یا جوتی خراب ہو۔ ملکہ کو یہ بات بڑی پسند آئی۔ اس کے بعد پھر اس افسر پر اور نوازشات بڑھتی چلی گئیں۔ وہ عروج پر پہنچایا گیا۔ گو بعد میں جیمز اول کے زمانے میں اس افسر پر غدّاری کا الزام بھی لگا اور پھر اس کو سزائے موت بھی دی گئی۔ لیکن بہرحال باوجود اس کے کہ اس نے اس بادشاہ کے زمانے میں بھی ملک کے لئے بڑا کام کیا تھا۔ جنوبی امریکہ میں مہمات کی تھیں۔ اسے سزا ہوئی۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 12 صفحہ 78-79 خطبہ جمعہ بیا ن فرمودہ 29؍مارچ 1929)

تو اس مثال سے یہ سبق ملتا ہے کہ ریلے (Raleigh) جو افسر تھا، باوجود خوش پوشاک اور وضع دار ہونے کے جب ملکہ کا معاملہ آیا تو اس نے اپنا فیشن اور رواداری اس پر قربان کر دی۔ پس اگر ایک دنیادار ملکہ کی خوشنودی کے لئے فیشن چھوڑ سکتا ہے اپنا بہترین کوٹ قربان کر سکتا ہے جو اس کے لئے بڑی قیمتی چیز تھی۔ وضع قطع چھوڑ سکتا ہے تو پھر یہ سوچنا چاہئے کہ دین کی ترقی کے لئے، اسلام کی اشاعت کے لئے، مذہب کی مضبوطی کے لئے اور اس کے قیام کے لئے اور اپنے پیدا کرنے والے خدا کی رضا کے حصول کے لئے کیا کچھ نہیں کیا جانا چاہئے۔

پس کیا ہمیں یہ مقصد اتنا بھی پیارا نہیں ہونا چاہئے جتنا ریلے (Raleigh) کو ملکہ کی خوشنودی پیاری تھی۔ دنیاوی بادشاہ کو خوش کرنے کے بعد خدمات کے باوجود جیسا کہ مَیں نے بتایا اس کا انجام دردناک ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ کو خوش کر کے، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر کے تو انسان اس دنیا میں بھی انعامات کا وارث بنتا ہے اور انجام بھی بہترین ہوتا ہے۔

ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ مقاصد کا اعلیٰ اور عمدہ ہونا کافی نہیں ہے جب تک قربانی اور فدائیت بھی اس کے مطابق نہ ہو۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا اس وقت ملے گی جب دنیا ہمارے دین پر حاوی نہیں ہو گی بلکہ دین دنیا پر حاوی ہو گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے دنیا کمانے سے منع نہیں کیا۔ دنیا کی کوئی چیز جسے خدا تعالیٰ نے حرام نہیں کیا، ناجائز نہیں ہے۔ اعلیٰ لباس پہننا، عمدہ قسم کے کھانے کھانا، عمدہ مکانوں میں رہنا اور ان کی سجاوٹ کرنا ان میں سے کوئی چیز بھی ناجائز نہیں ہے۔ سب جائز ہیں۔ لیکن ان چیزوں کا اسلام کی ترقی میں روک ہو جانا ناجائز ہے۔ لوگ شادیاں کرتے ہیں شریعت یہ نہیں کہتی کہ تم بدصورت عورت تلاش کر کے شادی کرو۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ صرف دنیا دیکھنے کی بجائے عورت کی دینی حالت بھی دیکھ لیا کرو۔ (صحیح البخاری کتاب النکاح باب الاکفاء فی الدین حدیث نمبر5090)

شریعت یہ کہتی ہے کہ عورت تمہاری عبادت کے راستے میں روک نہ ہو۔ عورتیں تمہیں نمازوں سے غافل نہ کریں۔ اگر ہمارے لڑکے اور لڑکیاں اس بات کا خیال رکھیں بلکہ ان کے ماں باپ بھی تو دین مقدم کرنے سے گھروں کے مسائل بھی حل ہو جائیں گے اور وہ مقصد بھی حاصل ہو جائے گا جو ایک مومن کا مقصد ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔

اسی طرح لباس ہے۔ یہ ہرگز منع نہیں کہ عمدہ لباس نہ پہنو لیکن اس سے ضرور روکا گیا ہے کہ ہر وقت اتنے فیشن میں ڈوبے نہ رہو کہ دینی کام سے غافل ہو جاؤ۔ ہر جگہ تمہیں یہ احساس رہے کہ فلاں جگہ میں جاؤں گا تو میرا لباس گندہ ہو جائے گا۔ گویا کسی وقت بھی دینی کام سے انسان غافل نہ ہو۔ اسی طرح نمازوں کی طرف توجہ کے بجائے اچھا لباس پہنا ہوا ہے، استری کیا ہوا لباس پہنا ہوا ہے، تو صرف اپنے کپڑوں کی شکنوں کی طرف نظر نہ رہے۔

پس اسلام یہ کہتا ہے کہ کبھی بھی تم دینی کام سے غافل نہ ہو تبھی دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا حق ادا کر سکتے ہو۔ اسی طرح اعلیٰ کھانے ہیں ان سے دین نہیں روکتا لیکن ان کا دین کے راستے میں حائل ہو جانا ناجائز ہے۔ پس ہمیں ہمیشہ اپنے کاموں میں ان باتوں کو سامنے رکھنا چاہئے کہ جو چیزیں دین کے معاملے میں روک ہوں انہیں دُور کیا جائے۔

اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’دیکھو دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ جو اسلام قبول کر کے دنیا کے کاروبار اور تجارتوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ شیطان ان کے سر پر سوار ہو جاتا ہے۔‘‘ بالکل دنیا میں پڑ جاتے ہیں۔ فرمایا: ’’میرا یہ مطلب نہیں کہ تجارت کرنی منع ہے۔ نہیں۔ صحابہ تجارتیں بھی کرتے تھے مگر وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتے تھے۔ انہوں نے اسلام قبول کیا تو اسلام کے متعلق سچا علم جو یقین سے ان کے دلوں کو لبریز کر دے انہوں نے حاصل کیا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ کسی میدان میں شیطان کے حملے سے نہیں ڈگمگائے۔ کوئی امر ان کو سچائی کے اظہار سے نہیں روک سکا‘‘۔ فرمایا کہ ’’جو بالکل دنیا ہی کے بندے اور غلام ہو جاتے ہیں۔ گویا دنیا کے پرستار ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر شیطان اپنا غلبہ اور قابو پا لیتا ہے۔ دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جو دین کی ترقی کی فکر میں ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ گروہ ہوتا ہے جو حزبُ اللہ کہلاتا ہے اور جو شیطان اور اس کے لشکر پر فتح پاتا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد 3صفحہ193-194۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

اور جیساکہ شروع میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس مَیں نے پیش کیا تھا کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے سے بیعت کا مقصد پورا ہوتا ہے اور اس کا فہم حاصل کرنے کے لئے دنیاوی کاموں کے ساتھ دینی علم کا حاصل کرنا اور پھر اس کو اپنے پر لاگو کرنا بھی ضروری ہے۔ دینی علم حاصل کئے بغیر پتا ہی نہیں چل سکتا کہ دین ہے کیا، جسے میں نے دنیا پر مقدم کرنا ہے۔

اب نماز اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے لیکن بہت سے مسلمان ہیں بلکہ شاید اسّی فیصد سے بھی زائد ایسے ہوں جو نمازیں نہیں پڑھتے اور اگر کبھی ایک آدھ پڑھ بھی لیں تو اس طرح بڑی تیزی میں اور جلدی جلدی جیسے زبردستی کوئی مکروہ کام کر رہے ہیں۔ اس لئے حضرت مصلح موعودنے لکھا ہے کہ بڑے بڑے آدمی ایسے بھی ہیں جو نمازوں میں سست ہیں بلکہ نواب اور رؤوسا کے لئے تو لکھتے ہیں کہ باجماعت نماز ایسی ہے جیسے ایک عام مسلمان کے لئے سؤر کھانا۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 12صفحہ 80 خطبہ جمعہ بیا ن فرمودہ 29؍مارچ 1929)

یعنی بڑی کراہت سے پڑھتے ہیں اور یہ صرف اُس زمانے کی بات نہیں۔ آج بھی یہ حالت ہے جیسا کہ مَیں نے کہا امراء کی اکثریت بلکہ جن کے پاس تھوڑی سی بھی کشائش آ جائے، ان کو کشائش ہو جائے تو وہ بھی نمازوں سے غافل ہو جاتے ہیں اور اگر نمازیں پڑھ بھی لیں تو جو حالت نماز پڑھنے والے کی ہونی چاہئے اس سے وہ غافل ہیں۔ نمازیں پڑھنے والے تو انسانی اقدار کے محافظ ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ نمازیں پاک تبدیلیاں تمہارے اندر پیدا کرتی ہیں۔ آجکل کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں غیراحمدیوں کی مساجد کی آبادی بہت بڑھ رہی ہے۔ لیکن اگر آبادی بڑھ رہی ہے تو ان نمازوں نے ان کے اندر کیا انقلاب پیدا کیا ہے؟ مُلّاں اور خطیب جن کے پیچھے نمازیں پڑھتے ہیں وہ انہیں سوائے نفرتوں کے درس دینے کے اور کیا دیتے ہیں؟ اسی لئے ان نمازیوں کی تعداد میں اضافے کے باوجودنفرتوں کی آگیں مزید بھڑک رہی ہیں۔ ہمارے خلاف تو جو کرتے ہیں کرتے ہیں، خود آپس میں بھی یہ ایک دوسرے پر کچھ کم ظلم نہیں کر رہے۔ اس لئے کہ یہ عبادتیں دین کو مقدم کرنے کے لئے نہیں ہیں بلکہ دنیا کے حصول کے لئے ہیں۔ بظاہر ایک اعلیٰ مقصد کے لئے مسجد میں جاتے ہیں لیکن باطن میں اس کے پیچھے دنیاوی ادنیٰ مقاصد ہوتے ہیں۔ پس اعلیٰ مقصد کے حصول کے لئے سوچ کو بھی اعلیٰ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور قربانی ذاتی مفاد کے لئے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہوتی ہے۔ پس یہ مساجد کی آبادی اگر اعلیٰ مقصد کو پیش نظر رکھ کر نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حق کے ساتھ انسانیت کے حق قائم کئے جائیں، دین کی اشاعت اور اسلام کا قیام ہو تو سب بے فائدہ ہے۔ اور عام مسلمانوں کی یہ تکلیف دہ صورتحال ہمیں، ہم جو احمدی ہیں، پہلے سے بڑھ کر اس طرف توجہ دلانے والی ہونی چاہئے کہ ہم نے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا جو عہد یا مضمون ہے کس طرح سمجھا ہے یا ہمیں سمجھنا چاہئے۔

ہم نے اللہ تعالیٰ کا حق قائم کرنے کے ساتھ انسانیت کے حقوق بھی ادا کرنے ہیں اور دین اسلام کی اشاعت اور قیام کے لئے کوشش بھی کرنی ہے پھر جتنا چاہے ہم دنیاوی نعمتوں سے فائدہ اٹھائیں ہمارے لئے جائز ہے۔ اسلام کا خوبصورت پیغام دنیا کو پہنچانے کی ذمہ داری ہمارے سپرد کی گئی ہے۔ اسے ہم نے ادا کرنا ہے۔ قرآن کریم کی مختلف زبانوں میں اشاعت ہمارے ذمہ کی گئی ہے تو اس کا حق ہم نے ادا کرنا ہے۔ مساجد کی تعمیر ہم نے ہر جگہ کرنی ہے تا کہ ہم حقیقی عبادت گزار بنانے والے بن سکیں تو اس کا حق ادا کرنے کے لئے دنیا کے ہر ملک میں ہم نے منصوبہ بندی کرنی ہے۔ انسانیت کی قدروں کو ہم نے اعلیٰ ترین نمونوں پر قائم کرنا ہے۔ اگر یہ سب کچھ ہم دنیا کمانے کے ساتھ کر رہے ہیں تو دنیا کمانا بھی ہمارا دین ہے۔ اگر یہ نہیں تو ہمارے جائز کام بھی اللہ تعالیٰ کی نظر میں ناجائز ہیں۔ اگر نیا آئی فون آ گیا ہے یا کسی کے پاس کوئی پیسے آئے تو کار خریدنی ہے یا اور سوٹ خریدنا ہے اور ان چیزوں کی خاطر ہم اپنے چندوں کو پیچھے ڈال رہے ہیں تو یہ جائز چیزیں ہونے کے باوجود ہمارے لئے ناجائز بن جاتی ہیں۔ اگر ایک جگہ پر مسجد کی تعمیر کے لئے کوشش ہو رہی ہے وہاں ہم اپنی دوسری ترجیحات کو فوقیت دے رہے ہیں تو باوجود اس کے کہ وہ ہمارے لئے یا ایک عام آدمی کے لئے یا عام حالات میں جائز چیزیں ہیں لیکن ایسے وقت میں پھر ناجائز ہو جاتی ہیں۔ جنگ اُحد میں جب یہ مشہور ہو گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں تو اس وقت ایک صحابی جو کئی دن سے فاقے سے تھے۔ جنگ لڑ کے ہٹے تھے۔ اس وقت فتح کی حالت پیدا ہو چکی تھی۔ ان کے پاس کچھ سوکھی کجھوریں تھیں۔ وہ سوکھی کھجوریں کھا رہے تھے۔ یہ اس وقت ان کا کھانا تھا جب یہ بات انہوں نے سنی۔ یہ اطلاع ان کو پہنچی تو فوراً انہوں نے کھجوریں پھینک دیں اور فوراً جنگ میں کود پڑے اور جاکر شہید ہو گئے۔ اس وقت انہوں نے اپنے پیٹ کی اور بھوک کی فکر نہیں کی بلکہ ان کھجوروں کا کھانا بھی گناہ سمجھا کیونکہ اس وقت دین یہ تقاضا کر رہا تھا کہ کھجوریں کھانا گناہ ہے۔ پس جو کام دین کے راستے میں روک ہے وہ خواہ کتنا ہی اعلیٰ اور عمدہ کیوں نہ ہو، ناجائز ہے اور جو دین کے راستے میں روک نہیں وہ خواہ کتنا ہی آرام و آسائش والا ہو تو وہ برا نہیں، وہ جائز بن جاتا ہے۔ پس ہمیں وہ روح پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو ہمارے دلوں کی کیفیت کو اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا بنائے۔

اللہ تعالیٰ تو دلوں کے حال جانتا ہے اور دلوں کے حال جاننے کے بارے میں یہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار مسجد میں بیٹھے تھے۔ لوگ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ اسی اثناء میں تین آدمی سامنے آئے۔ دو آدمی تو سیدھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آ گئے اور ایک ان میں سے چلا گیا۔ وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے۔ ان میں سے ایک جو تھا اس نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب حلقے میں خالی جگہ پڑی ہے وہ جلدی سے بڑھ کے آگے آیا اور آپ کے قریب آ کے بیٹھ گیا۔ دوسرا جو تھا وہ لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا۔ جہاں کھڑا تھا وہیں اس کو تھوڑی سی جگہ ملی تو بیٹھ گیا۔ تیسرا جو تھا وہ سمجھا کہ جگہ نہیں ہے وہ پیٹھ پھیر کر چلا گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطاب سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ان تین آدمیوں کی حالت نہ بتاؤں۔ ان میں سے ایک نے تو اللہ کے پاس جائے پناہ لی اور اللہ نے اسے پناہ دی جو میرے قریب ہو کے بیٹھ گیا تھا اور وہ جو دوسرا تھا اس نے شرم کی اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے شرم کی یعنی اس کا وہاں اس مجلس میں بیٹھنا اس کے گناہوں کی دوری کا باعث بنا۔ اس نے حیا کی اللہ تعالیٰ نے بھی اس کے گناہوں کو معاف کیا اور حیا کی۔ اور جو تیسرا تھا اس نے منہ پھیر لیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا۔ (بخاری۔ کتاب العلم بَابُ مَنْ قَعَدَ حَیْثُ یَنْتَھِی بِہٖ الْمَجْلِسُ حدیث نمبر66)

اب بظاہر تو یہ تین آدمیوں کا آنا، بیٹھنا اور ان میں سے ایک کا چلے جانا معمولی بات ہے کیونکہ اس تیسرے شخص کے خیال میں تھا کہ یہ آواز مجھ تک نہیں پہنچ رہی اس لئے بیٹھنے کا فائدہ نہیں ہے۔ لیکن چونکہ یہ افعال، ان تینوں کے جو یہ کام تھے، یہ جو فعل تھا اس کا معاملہ دل سے تھا، دل سے پیدا ہوئے تھے، دل کی کیفیت کا اظہار تھا اور اللہ تعالیٰ کی نظر بھی دل پر ہوتی ہے اور اس کے انعامات دل کی حالت کے مطابق ہوتے ہیں۔ اس لئے دل کی حالت جزا اور نتیجے کے لحاظ سے بڑی اہم ہے۔ یہ چیز یاد رکھنے والی ہے۔ پس یہاں بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ نے معاملہ کیا۔ اللہ تعالیٰ تو دلوں کے حال جانتا ہے اس نے ان کی دل کی حالت سے دیکھ لیا کہ کون دل کے معاملے میں کس حد تک آگے بڑھا ہے اور کس نے سستی دکھائی ہے۔ پہلے دو کو ان کے درجے کے مطابق انعام ملا اور تیسرا محروم رہا بلکہ ناراضگی کا مورد بنا۔

پس مومن کو چاہئے کہ دیکھ لے کہ اس کے سامنے جو مقصد ہے اس کے لئے اس نے کس حد تک قربانی کی ہے۔ اگر وہ اس حد تک قربانی کر دے جس کی ضرورت ہے تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کی نصرت کا اور اس جزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ قربانی ہمیشہ یا تو طاقت کے مطابق ہوتی ہے یا ضرورت کے مطابق۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر دفعہ طاقت کے مطابق قربانی دی جائے۔ بعض دفعہ شریعت صرف اتنی قربانی کا تقاضا کرتی ہے جتنی ضرورت ہے۔ مثلاً اگر کوئی مسافر آیا ہے۔ چند آدمی کھڑے ہیں اور وہ سو پاؤنڈ کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ضرورت جائز ہے تو ان میں سے بعض لوگوں نے یا جو بھی کھڑے تھے انہوں نے اپنی جیب کے لحاظ سے ضرورت پوری کر دی لیکن پھر بھی دس پاؤنڈ کی کمی رہ گئی تو اتنے میں کوئی اور شخص آتا ہے جو صاحب حیثیت ہے۔ اگر وہ چاہے تو وہ اکیلا ہی اس کی ضرورت پوری کر سکتا ہے لیکن ضرورت کے مطابق اس وقت صرف دس پاؤنڈ چاہئے تھے تو اس نے وہ دے دئیے تو یہ چیز ایسی ہے جس سے مطالبہ ہی اتنا کیا جا رہا ہے، بیشک اس کی حیثیت زیادہ ہے لیکن ضرورت کے مطابق اس نے وہ پوری کردی۔ یہ ضرورت کے مطابق قربانی ہے جو نیک نیتی سے اس صاحب حیثیت نے کر دی تو اس کا اسے ثواب ہے۔ اسی طرح کسی تحریک کے لئے اگر چندے کا مثلاً کہا جا رہا ہے تو لوگ سینکڑوں ہزاروں میں دے رہے ہیں لیکن ایک غریب اپنی حیثیت کے مطابق چند روپے یا پاؤنڈ دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ جو دلوں پر نظر رکھتا ہے اس کے اس فعل کو نواز دیتا ہے اور ایسا انسان اپنے مقصد کو پا لیتا ہے۔ اس امیر نے بھی مقصد کو پا لیا کہ ضرورت کے وقت اپنے لحاظ سے معمولی سی رقم دی۔ اس غریب کی مدد کر دی اور غریب نے بھی اپنے مقصد کو پا لیا کہ اپنی حیثیت کے مطابق یا اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خرچ کر لیا۔

اس لئے ایک حدیث میں بھی آتا ہے کہ ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ ایک درہم والا لاکھ درہم پر اس لئے سبقت لے گیا کہ ایک شخص نے دو درہم میں سے ایک دیا اور ایک شخص کے پاس لاکھوں تھا اس نے اس میں سے صرف لاکھ دیا جو اس کی حیثیت کے مطابق بہت کم تھا۔ (سنن النسائی کتاب الزکاۃ باب جھد المقل حدیث نمبر2527)

پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہونی چاہئے اور اس خرچ کے معاملے میں ان دونوں کا مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا ہی تھی۔

پس مومن کا اصل کام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے اپنے دل کی کیفیت کو ڈھالے۔ مقصود اس کا اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہو اور اس میں اس کی فلاح اور کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنے دل کی کیفیت کو اس کے مطابق ڈھالتا ہے تو اسی میں اس کی فلاح اور کامیابی ہے۔ اور یہی دین کو دنیا پر مقدم کرنا ہے۔ ہمارے ذمّہ جیسا کہ مَیں نے کہا بہت بڑے کام لگائے گئے ہیں اور جان مال وقت اور عزت قربان کرنے کے لئے ہم عہد بھی کرتے ہیں۔ اس کے لئے ہمیں ہمیشہ سنجیدگی سے غور کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے کہ کس طریق سے ہم اپنے عہد کو پورا کرتے ہوئے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے لئے اپنی صلاحیتیں اور استعدادیں بروئے کار لائیں۔ انصاراللہ کا اجتماع بھی آج سے ہو رہا ہے۔ شوریٰ بھی ہو رہی ہے۔ ان کو بھی اپنی شوریٰ میں غور کرنا چاہئے اور ان دنوں میں اپنے جائزے بھی لینے چاہئیں کہ کس حد تک ہم اپنے معیار دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے لئے بڑھا سکتے ہیں اور بڑھانے چاہئیں بلکہ حاصل کرنے چاہئیں۔ انصار اللہ کی عمر تو ایسی ہے جس میں ان کو نمونہ بننا چاہئے۔

اللہ تعالیٰ کو ہماری کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو اس کا احسان ہے، اس کی عطا ہے کہ ہمیں یہ کہہ کر کہ تم دین کو دنیا پر مقدم رکھو تو میری رضا حاصل کرو گے ہمیں نوازا ہے ورنہ مال کی میں نے مثالیں دی ہیں اس کی خدا تعالیٰ کو ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارا یا کسی کا بھی محتاج نہیں ہے۔ یہ تمام وسائل، ذخائر، سونا چاندی، زمینیں اس نے پیدا کی ہیں۔ اگر وہ چاہتا تو دین کا کام کرنے والوں کو یہ سب کچھ بانٹ دیتا، خود مہیا کر سکتا تھا لیکن ہمیں وہ ہمارے مقاصد سے آگاہ فرما کر پھر اس کے حصول کے لئے قربانی کی طرف توجہ دلاتا ہے تا کہ ہم اس کی رضا حاصل کرنے والے بن سکیں۔ صرف مال ہی نہیں اس نے ہمیں اولاد بھی دی ہے۔ اللہ تعالیٰ اولاد کی تربیت کے اور طریقے بھی ایجاد فرما سکتا تھا لیکن اس نے ماں باپ کو کہا کہ ان بچوں کی تربیت کرو۔ ان پر اپنی حیثیت کے مطابق اعلیٰ مقصد کے حصول کے لئے خرچ کرو تا کہ یہ دین کے کام آ سکیں۔ پس ایک احمدی ماں باپ کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کی اس طرح تربیت کریں کہ وہ دین کے کام آ سکیں اور تبھی دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی بات پوری ہوتی ہے، عہد پورا ہوتا ہے۔ ان بچوں کی ایسی تربیت کرو کہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا اِدراک انہیں بچپن سے حاصل ہو جائے۔ پس اللہ تعالیٰ یہ چیزیں ہمارے سپرد کر کے ہماری آزمائش بھی کرتا ہے اور ہمیں نوازتا بھی ہے۔

یہاں مَیں ہر سطح کے عہدیداروں کو بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے عہد کو نبھانے کی ذمہ داری دوسروں سے بڑھ کر ان کو اپنی سمجھنی چاہئے۔ ایک مقصد کے حصول کے لئے ان کی ذمہ داری لگائی گئی ہے جس کے لئے انہیں اپنی قربانی کے معیار کو اونچا کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ہر سطح کا عہدیدار چھوٹی سے چھوٹی سطح سے لے کر، محلّے سے لے کر مرکزی سطح تک اپنی حیثیت کا صحیح اندازہ کر کے اپنے عہد کو پورا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے اور کرنی چاہئے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر دلوں پر ہے اور اللہ تعالیٰ تڑپ کے ساتھ کام کرنے والوں کے اخلاص کو برکت بخشتا ہے اور انہیں قرب میں جگہ دیتا ہے اور ایک عہدیدار کو اس مقام کو حاصل کرنے کے لئے اپنی بھرپور کوشش کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہر سطح کے عہدیدار کو بھی اور ہر احمدی کو بھی، مجھے بھی، آپ کو بھی سب کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے عہد کا صحیح اِدراک بھی حاصل کریں اور اس پر عمل کرنے والے بھی ہوں۔

آج بھی ایک افسوسناک خبر ہے۔ پاکستان میں ایک شہادت ہوئی ہے۔ مکرم لطیف عالم بٹ صاحب ابن مکرم خورشید عالم بٹ صاحب آف کامرہ ضلع اٹک کو 15؍اکتوبر کی رات کو تقریباً سات بجے ان کے گھر کے قریب دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔ اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ واقعہ یہ ہوا کہ گھر کے قریب ہی ان کی ایک سٹیشنری کی دکان ہے۔ معمول کے مطابق واپس آ رہے تھے اپنے گھر کے قریب گلی میں پہنچے تھے کہ پیچھے سے دو نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے انہیں بٹ صاحب کہہ کے آواز دی۔ جیسے ہی یہ واپس مڑے ہیں تو ایک شخص نے ان پر فائر کر دیا اور فائرنگ کے نتیجے میں چار پانچ گولیاں شہید مرحوم کے سینے میں لگیں۔ فائرنگ کے بعد ان کے بیٹے ذیشان بٹ صاحب کو کسی نے اطلاع دی تو وہ فوری موقع پر پہنچے۔ بہرحال ریسکیو والے بھی پہنچ گئے تھے۔ لطیف بٹ صاحب اس وقت ہوش میں تھے مگر سول ہسپتال اٹک جاتے ہوئے راستے میں جام شہادت نوش فرمایا۔ اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

لطیف عالم بٹ صاحب کے خاندان کا تعلق کامونکی ضلع گوجرانوالہ سے تھا۔ شہید مرحوم کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ ان کے والد مکرم خورشید عالم بٹ صاحب کے ذریعہ ہوا جن کو 1934ء میں بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شامل ہونے کی توفیق ملی۔ شہید مرحوم اپریل 1952ء میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ایف۔ اے تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایئر فورس میں بھرتی ہو گئے۔ شہید مرحوم کامرہ ایئر فورس سے کارپورل (Corporal) ٹیکنیشن کے رینک سے 1991ء میں ریٹائر ہوئے۔ اب ان کا بڑا بیٹا عزیزم خرم بٹ بھی ایئر فورس میں ملازمت کر رہا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد شہید مرحوم کتابوں کا کاروبار کرتے تھے۔ زیادہ قانونی کتابوں کاتھا اور پاکستان کی مختلف کچہریوں میں وکلاء کو کتب دیا کرتے تھے اور بڑے مشہور تھے۔ غیر احمدی وکلاء بھی ان کے بڑے معترف تھے۔ شہید مرحوم شہادت کے وقت بطور ناظم اشاعت انصاراللہ کے عہدے پر خدمت کی توفیق پا رہے تھے۔ اس کے علاوہ شہید مرحوم کو ضلعی سطح پر سیکرٹری ضیافت اور خدام الاحمدیہ میں ناظم صحت جسمانی کے طور پر بھی خدمت کی توفیق ملی۔ شہید مرحوم کا گھر لمبے عرصے سے نماز سینٹر ہے۔ اس کے علاوہ جماعت کے دیگر پروگرام جلسے اجلاسات اور میٹنگز بھی ان کے گھر منعقد ہوتی تھیں۔ شہید مرحوم ہمیشہ جماعتی خدمت کے لئے تیار رہتے اور جو کام بھی سپرد کیا جاتا اسے بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیا کرتے۔ کبھی انکار نہیں کرتے تھے۔ شہید مرحوم بہت مہمان نواز تھے۔ خلافت سے انتہائی محبت اور عشق کا تعلق، اطاعت کا غیر معمولی جذبہ رکھتے تھے۔ پنجوقتہ نمازوں کے علاوہ نماز جمعہ کا بڑا خیال رکھتے تھے۔ نماز جمعہ سے یہ دو گھنٹے قبل ہی مسجد میں چلے جایا کرتے تھے۔ مرحوم بہت دلیر اور نڈر انسان تھے۔ 2007-08ء میں بھی ان پر نامعلوم افرادنے حملہ کی کوشش کی تھی۔ حملہ آور نے ان پر فائر کیا مگر گولی پِسٹل میں پھنس گئی اور انہوں نے اس وقت ایک حملہ آور کو پکڑ لیا اور کافی مزاحمت ہوئی لیکن بہر حال وہ بعد میں بھاگ گیا۔ شہید مرحوم اعلیٰ اخلاق اور بارعب شخصیت کے مالک تھے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کا بہت شوق تھا۔ شہادت کے وقت ان کی عمر 62 سال تھی۔ وصیت کا فارم انہوں نے فِل (fill) کر دیا تھا اور وصیت ابھی پراسس (Process) میں تھی لیکن اب کارپرداز کو ان کی وصیت کو منظور کر لینا چاہئے۔ بہرحال ان کی وصیت مَیں منظور کرتا ہوں اس لئے بحیثیت موصی ان کے ساتھ جو بھی کارروائی کرنی ہے کارپرداز کرے۔

مکرم امیر صاحب ضلع نے بتایا کہ شہید مرحوم میں عہدیداران اور نظام کی اطاعت کا غیر معمولی جذبہ تھا اور جماعتی پروگراموں اور اجلاسات میں ہمیشہ شامل ہوتے۔ کبھی کسی پروگرام سے غیر حاضر نہیں ہوئے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی عزیزہ ارم وسیم اہلیہ مکرم سید وسیم احمد صاحب اور چار بیٹے خرم بٹ جو ایئرفورس میں ملازم ہیں۔ ذیشان بٹ یہ بھی تعلیم کے بعد والد کے ساتھ ہی کاروبار کر رہے تھے، عمر بٹ الیکٹریکل انجینئرنگ میں زیر تعلیم ہیں اور ایک علی بٹ صاحب ہیں جو ملازمت کر رہے ہیں۔ یہ سوگوار چھوڑے ہیں۔ وہاں محمود مجیب اصغر صاحب ایک زمانے میں امیر ضلع رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایئر فورس سے ریٹائر ہونے کے بعد وہیں مستقل رہائش اختیار کر لی تھی اور اس نیت سے کی تھی کہ وہاں مستقل رہنے والا کوئی نہیں کیونکہ ایئرفورس کے آفیسر یا ایئر فورس میں فیکٹری میں کام کرنے والے لوگ آتے ہیں اور ٹرانسفر ہو کے چلے جاتے ہیں۔ جماعت نہیں تھی۔ اس لئے انہوں نے وہاں اپنا گھر بھی بنایا تھا کہ نماز سینٹر بھی وہاں بنے گا اور جماعت بھی قائم ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس نیت کو پھل لگائے اور اللہ کرے کہ اس شہادت کے بدلے اللہ تعالیٰ ہمیں سینکڑوں ہزاروں احمدی وہاں اس علاقے میں عطا فرمائے اور جماعت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔ ان کے لواحقین کو بھی صبر اور ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے۔ پاکستان میں افراد جماعت کو اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے محفوظ رکھے۔ دشمن جو ہے اپنی دشمنی میں اب بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ جلد ہمارے لئے امن اور سکون کے حالات پیدا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 17؍ اکتوبر 2014ء شہ سرخیاں

    جماعت احمدیہ میں ایک فقرہ ہر مرد عورت چھوٹا بڑا جانتا ہے اور وہ ہے کہ ’’میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا‘‘۔ یہ فقرہ ایک احمدی کا عہد ہے جس پر اس کی بیعت کا انحصار ہے۔ خلافت سے اور نظام سے جڑے رہنے کا انحصار ہے۔ اگر یہ نہیں تو پھر بیعت کا دعویٰ غلط ہو جاتا ہے۔ نظام سے جڑے رہنے کا، خلافت سے وابستگی کا دعویٰ غلط ہو جاتا ہے۔ اور بیعت کا اعلان اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی باتیں صرف منہ کی باتیں رہ جاتی ہیں۔ اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ اگر کوئی بیعت میں تو اقرار کرتا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کروں گا مگر عمل سے وہ اس کی سچائی اور وفائے عہد ظاہر نہیں کرتا تو خدا کو اس کی کیا پرواہ ہے۔ پس ہم میں سے ہر ایک کو اس بات کو ہر وقت اپنے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے

    ہمارے ذمّہ بہت بڑے کام لگائے گئے ہیں اور جان مال وقت اور عزت قربان کرنے کے لئے ہم عہد بھی کرتے ہیں۔ اس کے لئے ہمیں ہمیشہ سنجیدگی سے غور کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے کہ کس طریق سے ہم اپنے عہد کو پورا کرتے ہوئے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے لئے اپنی صلاحیتیں اور استعدادیں بروئے کار لائیں۔ ایک احمدی ماں باپ کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کی اس طرح تربیت کریں کہ وہ دین کے کام آ سکیں۔ ان بچوں کی ایسی تربیت کرو کہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا اِدراک انہیں بچپن سے حاصل ہو جائے۔

    یہاں مَیں ہر سطح کے عہدیداروں کو بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے عہد کو نبھانے کی ذمہ داری دوسروں سے بڑھ کر ان کو اپنی سمجھنی چاہئے۔ ایک مقصد کے حصول کے لئے ان کی ذمہ داری لگائی گئی ہے جس کے لئے انہیں اپنی قربانی کے معیار کو اونچا کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ہر سطح کا عہدیدار چھوٹی سے چھوٹی سطح سے لے کر، محلے سے لے کر مرکزی سطح تک اپنی حیثیت کا صحیح اندازہ کر کے اپنے عہد کو پورا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے اور کرنی چاہئے۔

    مکرم لطیف عالم بٹ صاحب ابن مکرم خورشید عالم بٹ صاحب آف کامرہ ضلع اٹک کی شہادت۔ شہید مرحوم کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 17؍اکتوبر 2014ء بمطابق17اخاء 1393 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور