مالی قربانی پیش کرنے والوں کے ایمان افروز واقعات اور تحریک جدید ۲۰۱۴ء

خطبہ جمعہ 7؍ نومبر 2014ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّحَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۔ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْ ئٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ (آل عمران: 93)

تم ہرگز نیکی کو پا نہیں سکو گے یہاں تک کہ تم ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن سے تم محبت کرتے ہو اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو تو یقینا اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس بارے میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

’’دنیا میں انسان مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے۔ اسی واسطے علم تعبیر الرؤیا میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص دیکھے (خواب میں یہ دیکھے) کہ اس نے جگر نکال کر کسی کو دیا ہے تو اس سے مراد مال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی اتقاء اور ایمان کے حصول کے لئے فرمایا: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّحَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ کہ حقیقی نیکی کو ہرگز نہ پاؤ گے جب تک کہ تم عزیز ترین چیز نہ خرچ کروگے۔ کیونکہ مخلوق الٰہی کے ساتھ ہمدردی اور سلوک کا ایک بڑا حصہ مال کے خرچ کرنے کی ضرورت بتلاتا ہے اور ابنائے جنس اور مخلوق الٰہی کی ہمدردی ایک ایسی شے ہے جو ایمان کا دوسرا جزو ہے جس کے بدُوں ایمان کامل اور راسخ نہیں ہوتا۔ جب تک انسان ایثار نہ کرے دوسرے کو نفع کیونکر پہنچا سکتا ہے۔ دوسرے کی نفع رسانی اور ہمدردی کے لئے ایثار ضروری شے ہے اور اس آیت میں لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّحَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۔ میں اسی ایثار کی تعلیم اور ہدایت فرمائی گئی ہے۔

پس مال کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا بھی انسان کی سعادت اور تقویٰ شعاری کا معیار اور محک ہے۔ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ کی زندگی میں للہی وقف کا معیار اور محک وہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضرورت بیان کی اور وہ کل اثاث البیت لے کر حاضر ہوگئے۔‘‘ (ملفوظات جلد2 صفحہ 95-96۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی جنہوں نے ہماری اعتقادی اور علمی اصلاح جہاں اللہ تعالیٰ کے احکامات اور اس کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق کی وہاں روحانی ترقی اور تزکیہ کے بھی قرآنی تعلیم کے مطابق اسلوب سکھائے۔ حقوق اللہ کی طرف بھی توجہ دلائی اور حقوق العباد کی طرف بھی توجہ دلائی۔ جان، مال، وقت اور اولاد کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے قربان کرنے کی روح بھی پیدا فرمائی۔ اپنی جماعت کے ہر فرد سے یہ توقع رکھی کہ وہ اپنی حالتوں کو مکمل طور پر خدا تعالیٰ کی تعلیمات کے مطابق بنائیں تبھی وہ حقیقی احمدی کہلا سکتے ہیں۔ پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اپنی زندگیوں کو آپ کی توقع اور خواہش کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔ یہ اقتباس جو میں نے پڑھا ہے یہ اس آیت کی وضاحت میں ہے جس کی میں نے پہلے تلاوت کی تھی۔ جیسا کہ میں نے بتایا اس میں اللہ تعالیٰ ہمیں ہماری روحانی ترقی کے لئے جو ذمہ داریاں ہیں، ایک مومن کی جو ذمہ داریاں ہیں ان کی طرف توجہ دلا رہا ہے یعنی ان میں سے ایک ذمہ داری یعنی مالی قربانی کی طرف۔ گو اس میں یہ وسیع مضمون ہے لیکن اس وقت مالی قربانی کے حوالے سے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مال کی قربانی بھی اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اس لحاظ سے اس آیت میں جو مالی قربانی کا پہلو ہے اس کے حوالے سے میں بیان کروں گا۔ حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے بھی اور اشاعت دین کے کام کے لئے بھی مالی قربانی کی ضرورت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباس کا یہ نچوڑ ہے اور مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں یہ کام اپنی انتہا کو پہنچنے تھے اور آج ہم احمدی ان خوش قسمتوں میں شامل ہیں جو اس کام کی تکمیل میں حصہ لے رہے ہیں تا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنیں۔ آج دنیا مال کی محبت میں پتا نہیں کیا کچھ کر رہی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم اور تربیت کا اثر ہے کہ احمدیوں کی بہت بڑی اکثریت اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی اشاعت کے لئے اپنے پسندیدہ مال میں سے خرچ کرتے ہیں بلکہ بعض ایسے ہیں کہ اگر کبھی مال خرچ کرنے کی یہ توفیق کسی وجہ سے کم ہو جائے تو بے چین ہو جاتے ہیں، روتے ہیں۔ پس یہ دلوں کی حالت اور مالی قربانی کی روح بلکہ بعض دفعہ جان کی قربانی کی روح بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی اشاعت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا ہے اور اب اسلام کی ترقی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ سے ہی اللہ تعالیٰ نے مقدر فرمائی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ ہی مومنین کے دلوں میں مالی جہاد کے لئے مالی قربانی کی روح بھی پیدا فرماتا ہے اور اسی طرح باقی دوسری قسم کی قربانیاں بھی ہیں۔ اس وقت مَیں چند واقعات بیان کروں گا کہ اس زمانے میں بھی کس طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں قربانی کی روح پیدا کرنے کی تحریک پیدا کرتا ہے اور یہ نہیں کہ یہ کسی خاص طبقے یا خاص ملک میں یا خاص لوگوں میں ہے بلکہ دنیا کے ہر خطے میں ہر وہ شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف منسوب ہوتا ہے اس کے دل میں اللہ تعالیٰ اس کی تحریک پیدا کرتا ہے چاہے وہ افریقہ کے دور دراز ممالک ہوں یا یورپ میں رہنے والے لوگ ہوں یا جزائر میں رہنے والے ہوں۔ امیر صاحب برکینا فاسو نے یہ لکھا کہ فادا شہر کے صدر صاحب جماعت کہتے ہیں کہ اس سال جب عید الاضحی آئی تو میرے پاس اتنی رقم بھی نہیں تھی کہ گھر کھانا بھی پک سکتا۔ اس لئے قربانی کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا یعنی عید پر بکرے کی جو قربانی کی جاتی ہے۔ کہتے ہیں کہ ان دنوں تحریک جدید کے بارے میں مربی صاحب بھی درس دیتے تھے۔ مالی قربانی کے بارے میں بھی اور تحریک جدید کے بارے میں انہوں نے توجہ دلائی۔ چنانچہ کہتے ہیں میں نے برکت کے لئے دوہزار فرانک اس میں دے دیا اور خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ میری ضروریات پوری کر دے گا۔ بہر حال ایسا معجزہ ہوا کہ اگلے دن ہی ان کے چھوٹے بھائی نے ان کو آئیوری کوسٹ سے غیر معمولی طور پر بڑی رقم بھجوائی جس کی انہیں کوئی امیدنہیں تھی جس سے عید کی قربانی کا بھی انتظام ہو گیا اور اُن کے گھر کے اخراجات کے لئے جو ضرورت تھی وہ بھی پوری ہو گئی۔ وہ کہتے ہیں چند گھنٹے میں یہ دیکھ کر میرے ایمان میں مزید اضافہ ہوا۔

پھر برکینا فاسو کے مربی صاحب لکھتے ہیں کہدِدْگُوکی جگہ کے ایک خادم تراولے آدم صاحب نے کپاس کا بیج خریدا (وہاں کپاس کی فصل کاشت کی جاتی ہے) کہ اس کو بیچ کر گزارہ کروں گا۔ لیکن ایسا ہوا کہ کوئی گاہک نہیں ملا۔ ان کوبڑی تشویش ہوئی کہ اگر بیج فروخت نہ ہوا تو گھر کا نظام کیسے چلے گا۔ بہر حال ایک دن پریشانی میں یہ مربی صاحب کے پاس آئے تو انہوں نے ان کو یہی کہا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو اللہ تعالیٰ پریشانیاں دور کرتا ہے۔ تم بھی یہ نسخہ آزما کے دیکھ لو۔ کہتے ہیں اس تحریک پر میں نے تحریک جدید کا چندہ دے دیا اور یہ عہد کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور جلد ہی انتظام ہو گیا تو دس ہزار مزید دوں گا۔ وہ خادم کہتے ہیں کہ رسید کٹانے کے بعد ہی فوری طور پر اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا کہ اتنے گاہک آئے کہ چند دنوں میں بیج بِک گیا اور اُن کی توقع سے جو زیادہ آمد ہوئی اُس کی وجہ سے انہوں نے دس ہزار مزید چندہ میں دیا۔

اسی طرح برکینا فاسو کی ایک اور جگہ ہے۔ دوسری ریجن ہے وہاں کے ایک دوست لاجی (Laji) صاحب نے گزشتہ سال ہی بیعت کی تھی۔ جب ان کو یہ پتا لگا کہ میں نے عموماً یہ تحریک کی ہے کہ نو مبائعین کو کم از کم کسی نہ کسی تحریک میں شامل کریں تا کہ مالی قربانی کی روح ان میں پیدا ہو اور یہ نہ دیکھیں کہ چندہ کتنا بڑھتا ہے۔ رقم کتنی آتی ہے۔ صرف یہ ہے کہ عادت ڈالنے کے لئے ہر احمدی کو مالی قربانی میں حصہ لینا چاہئے اور نومبائعین کو خاص طور پر اس طرف توجہ دلائیں۔ بہر حال جب ان کو توجہ دلائی گئی کہ چاہے ایک پنس دیں یا ایک فرانک دیں تو ان نو مبائع نے بھی اس طرف توجہ کی۔ وہاں رواج یہ ہے کہ گاؤں کے دیہاتی لوگ ہیں، زمیندارہ کرتے ہیں۔ کاشت کرتے ہیں تو بجائے رقم کے وہ اپنی جنس دیتے ہیں اور جنس دینے کے لئے وہ جماعت کو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں بوریاں یا کوئی چیز دے دو تا کہ ہم اس میں جنس بھر کے پہنچا دیں۔ تو ان کو بھی مربی صاحب نے یا جو بھی جماعت کا نظام تھا انہوں نے دو خالی بوریاں دیں۔ ان کو خیال آیا کہ مَیں احمدی تو اب ہوا ہوں ساری زندگی مَیں مسلمان رہا ہوں۔ چندہ کی تحریک تو کبھی میرے سامنے نہ ہوئی اور نہ میں نے کبھی چندہ دیا۔ اب یہ کہتے ہیں کہ خلیفۂ وقت نے کہا ہے کہ ضرور چندے میں شامل ہونا چاہئے۔ تو مَیں دیکھتا ہوں کہ اس میں کیا فائدہ ہوتا ہے۔ بہر حال انہوں نے وہ اناج دیا جو بائیس ہزار فرانک کا تھا اور اس کے بعد جب فصل آئی تو انہوں نے آ کے بتایا کہ اس سال میری فصل گزشتہ سال سے دوگنی ہو گئی۔ چنانچہ اگلے سال وہ دوگنی جنس دینے کے لئے بوریاں لے کر گئے۔

لائبیریا کے امیر صاحب بیان کرتے ہیں کہ وہاں کے مربی کیپ ٹاؤن کاؤنٹی کے دورے پر گئے۔ جاتے ہوئے ایک جماعت نگبینا (Nagbina) ہے۔ ان کو پیغام دیتے گئے کہ نماز مغرب کے وقت ہم آئیں گے۔ لیکن اگلی جو جماعت تھی ولور (Vilor) یہاں کافی بڑی جماعت ہے اور بڑی فعال جماعت ہے۔ چندہ دینے والے بھی ہیں۔ وہاں غیر معمولی تاخیر ہو گئی۔ انہوں نے بھی سوچا کہ یہ نگبینا (Nagbina) کی جماعت جو ہے یہ عموماً کمزور جماعت ہے۔ قربانی کے لحاظ سے بھی کمزور ہے تو ان کو کہہ کر تو گئے تھے کہ مغرب کے وقت پہنچیں گے لیکن جس جماعت میں گئے ہوئے تھے وہ بڑی بھی تھی اور وہاں مصروفیت بھی زیادہ ہو گئی، اس لئے دیر ہو گئی تو عشاء کی نماز ہو گئی۔ جب عشاء کے وقت پہنچے ہیں تو کہتے ہیں کہ اس جماعت میں بھی پہلی بار یہ دیکھنے میں آیا کہ 170 احباب انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپ نے کہا تھا کہ خلیفہ وقت نے کہا ہے کہ تمام کو شامل ہونا چاہئے تو ہم احباب یہاں تحریک جدید کا چندہ دینے کے لئے بیٹھے ہیں۔ تو جماعت کے افراد کی یہ روح ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ چندہ دینے والے نہیں یا کمزور ہیں لیکن جب صحیح رنگ میں ایک تحریک کی جائے۔ ان کو بتایا جائے۔ اہمیت بتائی جائے کہ مالی قربانی کی کیا اہمیت ہے؟ کیا کیا کام ہیں؟ جب لوگوں پر یہ واضح ہو جائے تو پھر ہر وقت وہ قربانی کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ پس اگر کمزوری ہے تو نظام میں کمزوری ہوتی ہے۔ لوگوں کے ایمان میں اللہ کے فضل سے کوئی کمزوری نہیں ہے۔ پھر لائبیریا کے ہی امیر صاحب لکھتے ہیں کہ بلاور (Blavor) کے گاؤں میں اس سال نئی جماعت بنی ہے۔ اس گاؤں کی کوئی سڑک نہیں ہے بلکہ کچا راستہ بھی نہیں جاتاایک پگڈنڈی جاتی ہے اور اس پر بھی جگہ جگہ نالوں کے اوپر درخت کے تنوں سے پُل بنے ہوئے ہیں اور ان درختوں کے اوپر سے گزرنا پڑتا ہے۔ کہتے ہیں ہمارے لوکل معلم وہاں دورے پر گئے۔ نئی جماعت تھی۔ اس کو بتایا کہ مالی قربانی کیا ہوتی ہے اور تحریک جدید کا تعارف کروایا کہ اگلے ہفتے پھر آئیں گے۔ تو وہاں کے لوگوں نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم بڑی دور دراز کی جماعت ہیں۔ جنگل میں رہتے ہیں۔ غریب لوگ ہیں لیکن راستہ ایسا ہے کہ تمہیں دوبارہ آنے کی تکلیف کی ضرورت نہیں۔ ہمیں سمجھ آگئی ہے کہ چندے کی اور مالی قربانی کی کیا اہمیت ہے تو جو بھی ہمارے پاس ہے، ہم سے ابھی لے کر جاؤ۔ بجائے اس کے کہ دوبارہ آؤ اور پھر دوبارہ اس رستے کی تنگیاں اور تکلیفیں تمہیں برداشت کرنی پڑیں۔ تو یہ دیکھیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ان دوردراز لوگوں کے دلوں میں بھی ڈال رہا ہے جن میں ابھی احمدیت آئی ہے اور حقیقت میں ان کو پوری طرح اس تعلیم کا اور اہمیت کا اندازہ ہی نہیں ہوا لیکن باوجود اس کے قربانیوں میں وہ پہلے دن سے ترقی کر رہے ہیں۔ پھر بینن کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ پورتونووو کے ایک مشہور احمدی مشہودی صاحب ہیں۔ انہوں نے ایک ہزار پاؤنڈ سے زیادہ کی قربانی کی۔ اب افریقہ کے ملکوں میں اتنی بڑی قربانی بہت بڑی چیز ہے۔ جب ان کو مبلغ نے کہا کہ اتنی قربانی آپ کر رہے ہیں۔ وقف جدید کا بھی چندہ ہے اور دوسرے چندے بھی ہیں تو انہوں نے کہا کہ بیشک ہوں گے لیکن اس میں سے مَیں کم نہیں کروں گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے لئے اور سامان پیدا فرما دے گا۔ تو یہ وہ روح ہے جو اِن لوگوں میں پیدا ہو رہی ہے۔

بہرحال یہ مربی نے بھی صحیح کیا کہ ان کو بتا دیا کیونکہ مقصد رقم اکٹھی کرنا نہیں ہے۔ مقصد وہ روح پیدا کرنا ہے جو ایک قربانی کی روح ہے۔ مالی قربانی کی روح ہے تا کہ اس کے ذریعہ سے تزکیہ نفس بھی ہو۔

گزشتہ دنوں ربوہ میں ختم نبوت کانفرنس ہو رہی تھی۔ ہر سال ہوتی ہے، یہاں بھی ہوتی ہے۔ تو وہاں پہلے تو ایک مولوی صاحب نے بڑی دھوآں دار تقریر کی کہ جماعت احمدیہ کو بڑی بڑی طاقتیں اور حکومتیں فنڈ کرتی ہیں جس کی وجہ سے یہ ترقی کر رہی ہے۔ لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد خود ہی اللہ تعالیٰ نے ان کی زبان سے نکلوا دیا اور وہ جوش میں یہ بھی کہہ گئے کہ دیکھو جماعت احمدیہ اس لئے ترقی کر رہی ہے کہ ان کے غریب بھی مالی قربانی کرتے ہیں اور یہ ان کا چندہ ہے جس کی وجہ سے دنیا میں وہ تبلیغ ِاسلام کر رہے ہیں اور ہم سے وہ بہت آگے نکل گئے ہیں۔ بہر حال کسی حکومت کی نہ ہمیں مدد کی ضرورت ہے اور نہ لی جاتی ہے۔ یہ جماعت کے افراد کا اخلاص اور قربانی کی روح ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ برکت ڈالتا ہے۔

پھر بینن سے ہمارے ساوے ریجن کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک نومبائع جماعت پیل (Peulh) میں تربیتی اجلاس منعقد کیا گیا تو تحریک جدید کا تاریخی پس منظر بیان کیا گیا اور مالی قربانی کے بارے میں توجہ دلائی۔ اجلاس کے آخر پر دوستوں نے اپنا اپنا چندہ پیش کیا۔ ایک دوست نے پوچھا کہ میرے پاس رقم تو نہیں لیکن چندہ دینے کی خواہش ہے۔ اس پر وہاں کے مقامی مبلغ نے اس کی رہنمائی کی کہ حسب استطاعت جو کچھ ہے وہ پیش کریں۔ اس پر وہ دوست گئے۔ بڑے غریب تھے۔ گھر سے مرغی کے دو انڈے لے کر آئے کہ اس وقت میرے پاس یہ ہیں۔ تو ان کو اور جماعت کو بھی بتایا گیا کہ یہ ان کی حیثیت کے مطابق بہت بڑی قربانی ہے اور خدا تعالیٰ کی نظر میں کوئی قربانی چھوٹی نہیں۔ بس نیت نیک ہونی چاہئے۔ یہ باتیں جوافریقہ کے دور دراز ممالک میں ہو رہی ہیں اس طرف بھی توجہ پھیرتی ہیں جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں تحریک پر غریب عورتیں اسی طرح مرغیاں اور انڈے لے کے آ جایا کرتی تھیں اور یہ اس لئے ہے کہ دین اسلام کی اشاعت کی تڑپ ان لوگوں میں ہے۔

پھر مالی کی ایک رپورٹ ہے۔ ایک پرانے احمدی ابوبکر جارہ صاحب نے کسی وجہ سے چندہ دینا چھوڑ دیا اور آہستہ آہستہ جماعتی پروگراموں میں بھی آنا چھوڑ دیا۔ اس پر انہیں کافی سمجھایا مگر کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ ایک عرصے کے بعد وہ ایک دن مشن آئے اور اپنا چندہ ادا کیا اور بتایا کہ آج رات انہوں نے خواب میں دیکھا ہے کہ وہ بہت گہرے پانی میں ڈوب رہے ہیں اور کوئی ان کی مدد کے لئے نہیں آ رہا۔ اتنے میں وہ ایک کشتی دیکھتے ہیں جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سوار ہیں۔ حضور نے ان کا ہاتھ پکڑا اور کشتی میں اپنے ساتھ بٹھا لیا اور فرمایا کہ آئندہ کبھی بھی چندہ دینے میں سستی نہ کرنا۔ اس خواب کے بعد انہوں نے جماعت سے پختہ وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی بھی وہ چندہ دینے میں سستی نہیں کریں گے اور نہ ہی وہ جماعتی کاموں میں غفلت برتیں گے۔

پس جہاں یہ چندے کی اہمیت کا ثبوت ہے، وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کا بھی ثبوت ہے کہ دور دراز کے ایک ملک میں اور اس ملک کے بھی ایک دور دراز علاقے میں ایک شخص احمدیت قبول کرتا ہے۔ پھر پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اس کی رہنمائی پھر خواب کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔

بینن کے ریجن کوتونو کے ایک زون کے ایک داعی الی اللہ شافیو صاحب بتاتے ہیں کہ جب وہ فطرانہ وصول کرنے کے لئے گئے تو اپنے علاقے کے ایک گھر میں پہنچے اور گھر کے سربراہ سے جب فطرانہ پوچھا گیا تو کہنے لگے کہ میرے سارے گھر میں صرف یہ پندرہ سو فرانک سیفا ہی ہیں اور ایک دو روز میں میری بیوی کی ڈیلوری ہونے والی ہے، بچہ پیدا ہونے والا ہے۔ اس کے لئے مجھے ساڑھے چار ہزار فرانک سیفا چاہئے اور آج ہی میرا مالک مکان بھی کرائے کے ساڑھے تین ہزار فرانک وصول کرنے آیا ہے اور ناراض ہو کر گیا ہے کہ میں اسے کرایہ نہ دے سکا تو میرے پاس تو دینے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ بہر حال شافیو صاحب جو لوکل سیکرٹری ہیں۔ انہوں نے ان کو سمجھایا۔ گو ایسی حالت میں یہ نہیں کہنا چاہئے کہ چندہ دو لیکن بہر حال انہوں نے اپنے حالات کے مطابق انہیں سمجھایا کہ ایسی حالت میں بھی اگر تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں دو تو پھل لگتا ہے۔ بلکہ ایسے حالات میں تو ہمارے وہاں کے مبلغین کو چاہئے کہ ان لوگوں کی مدد کریں۔ لیکن بہر حال جو آگے واقعہ آتا ہے اس سے پتا لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی مسیح موعود کی جماعت میں شامل ہونے والوں کی کس طرح مدد فرماتا ہے اور ان کے الفاظ کی کس طرح لاج رکھتا ہے۔ جب سیکرٹری صاحب نے ان کو کہا کہ اللہ تعالیٰ مدد کرے گا اور خدا کی راہ میں قربانی خوب پھل لاتی ہے تو اس نے ایک ہزار فرانک سیفا جو ہے وہ فطرانہ اور باقی پانچ سو تحریک جدید میں دے دیا۔ ابھی تین دن نہیں گزرے تھے کہ اسی آدمی نے بڑی خوشی سے بتایا کہ اس روز جب آپ ان سے چندہ وصول کر کے آئے تو ایک آدمی آیا اور مجھے دس ہزار فرانک سیفا دے کر کہنے لگا کہ یہ رقم اس فلاں آدمی نے بھجوائی ہے جس نے کبھی مجھ سے بارہ ہزار فرانک ادھار لئے تھے اور کئی مرتبہ مانگنے کے باوجود وہ قرض واپس نہیں کر رہا تھا۔ لیکن بغیر مانگے ہی چندہ دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس قرض لینے والے کے دل میں ڈالا اور اس نے وہ رقم لوٹا دی۔ کہتے ہیں کہ مالک مکان کا کرایہ بھی ادا ہو گیا اور خیرو خوبی سے میری بیوی کے ڈیلوری بھی ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اولاد سے بھی نوازا۔

دارالسلام تنزانیہ کے ایک احمدی دوست عیسیٰ صاحب بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے نوے کی دہائی میں احمدیت قبول کی تھی۔ اس سے پہلے وہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے لیکن احمدیت قبول کرنے کے بعد ایمان میں کافی ترقی کی۔ اب ماشاء اللہ موصی ہیں اور مالی قربانی کرنے والے ہیں۔ ہمیشہ اپنی اور اپنی فیملی کا چندہ وعدے سے زیادہ ادا کرتے ہیں۔ جماعتی تعلیمات کو بجا لانے میں پرانے احمدیوں سے بہت آگے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دارالسلام تنزانیہ کے ریجنل پریذیڈنٹ ہیں۔ کہتے ہیں کہ جب سے مَیں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی شروع کی ہے، اللہ تعالیٰ کے بہت سے افضال اپنے اوپر نازل ہوتے دیکھے ہیں۔ اتنی برکات نازل ہوئی ہیں کہ جو بیشمار ہیں۔ مثال کے طور پر کہتے ہیں کہ خاکسار کا پہلے ایک گھر تھا۔ لیکن اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے تین گھروں کا مالک ہوں۔ میری اولاد بھی بہترین جگہ پر تعلیم حاصل کر رہی ہے۔

اسی طرح الاڈا ریجن کے مبلغ صاحب کہتے ہیں ایک مرتبہ سویو (Soyo) جماعت کے دورے پر گئے تو سات سال کی ایک بچی رشیدہ یا راشدہ، اب دیکھیں بچوں کے دل میں بھی کس طرح اللہ تعالیٰ ڈالتا ہے، ٹماٹر اور مرچیں اور مالٹے لے کر آئی اور کہا کہ وہ یہ سب تحریک جدید کے چندہ کے لئے لائی ہے۔ وہاں کے صدر صاحب نے بتایا کہ وہ ہر ماہ چندہ دیتی ہے اور اگر اس کی ماں چندے کے پیسے نہ دے تو وہ روتی ہے۔ جب معلم صاحب چندہ لینے آئے تو وہ سکول گئی ہوئی تھی۔ آج ہمیں دیکھ کر وہ گھر گئی اور پیسے نہ ملے تو اپنے کھیت کی یہ چند چیزیں بطور چندہ کے لے کے آئی ہے۔ پس یہ قربانی کی وہ روح ہے جو اللہ تعالیٰ بچوں میں بھی پیدا کر رہا ہے۔

نائیجیریا کی ایک جماعت اوکینے (Okene) کے صدر صاحب کہتے ہیں۔ خاکسار کچھ عرصہ مالی مشکلات کا شکار رہا اس کی وجہ سے کافی پریشانی ہوئی۔ پھر ایک دن مجھے خیال آیا کہ خاکسار نے تین ماہ سے چندہ ادا نہیں کیا۔ ممکن ہے اسی سبب خاکسار اس مالی پریشانی میں مبتلا ہو۔ اس پر مَیں نے تین ماہ بعد چار ہزار نائرہ چندہ ادا کیا۔ خدا تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ اسی ماہ خاکسار نے ایک قطعہ زمین بیچا جس پر میرے مولیٰ کریم نے آٹھ لاکھ نائرہ کا منافع عطا فرمایا۔ اس وقت میرے ایمان کو جہاں مزید تقویت ملی وہیں یہ بات بھی سمجھ میں آئی کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کا سچا ہے۔ اگر اس کی راہ میں قربانی کرو گے تو وہ ضرور کئی گنا بڑھا کر تمہیں واپس لوٹائے گا۔ اب انہوں نے کوگی (Kogi) سٹیٹ کے کیپیٹل لوکوجا (Lokoja) میں جماعت کو مسجد اور مشن ہاؤس کے لئے ایک بہت بڑا پلاٹ بھی شہر کے علاقے میں لے کر دیا ہے۔

تنزانیہ سے ایک احمدی مارونڈا صاحب لکھتے ہیں کہ میری تعلیم میٹرک ہے۔ ایک عرصے سے بیروزگار تھا۔ مجھے ایک گیس کمپنی میں سیکیورٹی گارڈ کی ملازمت مل گئی۔ چھپن ہزار شلنگ تنخواہ مقرر ہوئی۔ میں نے اسی وقت خدا سے عہد کیا کہ مَیں اپنی تنخواہ پر چندہ جات شرح کے مطابق ادا کروں گا۔ خواہ مجھے کیسے ہی مسائل درپیش ہوں میں چندے میں سستی نہیں کروں گا۔ چنانچہ اس خادم نے اپنے اس عہد کو نبھایا۔ کہتے ہیں کہ مَیں آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسی مالی قربانی کے باعث اس گیس کمپنی میں سینیئر فیلڈ گیس آپریٹر کے عہدے پر فائز ہوں اور مجھے ڈیڑھ ملین شلنگ تنخواہ مل رہی ہے۔ میری علمی قابلیت صرف معمولی دسویں پاس ہی ہے۔ کمپنی کے قوانین کے مطابق میں اس عہدے کا اہل بھی نہیں ہوں۔ لیکن محض خدا تعالیٰ کے فضل سے شرح کے مطابق مالی قربانی کرنے کی یہ برکتیں ہیں کہ میں اس عہدے پر فائز ہوں اور آج بھی شرح کے مطابق چندہ ادا کرتا ہوں۔ پس یہ لوگ اخلاص و وفا میں بڑھ رہے ہیں اور وَاَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِکُمْ (التغابن: 17) اور اپنے مال اس کی راہ میں خرچ کرتے رہو تو یہ تمہاری جانوں کے لئے بہتر ہے، اس مضمون کو سمجھنے والے ہیں۔ اس راز کو یہ لوگ سمجھنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ پھر ان کو نوازتا بھی ہے۔

شہاب الدین صاحب انڈیا کے انسپکٹر تحریک جدید لکھتے ہیں کہ ایک صاحب جو جڈ چرلہ کے صف اوّل کے مجاہد ہیں ان کا کاروبار متاثر ہو گیا۔ Real اسٹیٹ کا کاروبار تھا۔ کئی ماہ سے بہت پریشان تھے اور فون کر کے وہ چندوں کی ادائیگی کے لئے دعا کی درخواست بھی کرتے رہے۔ مجھے بھی انہوں نے لکھا۔ ایک دن رات کو یہ انسپکٹر شہاب صاحب کہتے ہیں کہ مجھے ان کا فون آیا۔ اپنے مالی حالات کی وجہ سے بڑے فکر مند تھے۔ انہوں نے ان کو کہا کہ آپ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں۔ دو رکعت نفل پڑھیں اور سو جائیں۔ کہتے ہیں تھوڑی دیر کے بعد دوبارہ فون آیا اور کہنے لگے کہ میری خاطر آپ تھوڑی دیر جاگتے رہیں میں آپ سے ملنے آ رہا ہوں۔ جب موصوف آئے تو ایک بڑی رقم ان کے ہاتھ میں تھی۔ کہنے لگے کہ جب میں یہ دعا کر رہا تھا تو ایک ایسا شخص جس کا بڑا کاروبار تھا اس کا فون آیا جس کے ذمّے میری بہت بڑی رقم قابل ادا تھی اور جس کے ملنے کی امید بھی نہیں تھی۔ اس نے مجھے فون کیا کہ فوراً آ کر اپنی رقم لے جاؤ۔ تو کہتے ہیں کہ کیونکہ میری چندہ کی نیت تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے فوراً یہ انتظام کر دیا۔

اسی طرح بشیر الدین صاحب قادیان کے نائب وکیل المال ہیں یہ کہتے ہیں کہ جماعت کے ایک مخلص دوست نے اڑھائی گنا اضافے کے ساتھ اپنا وعدہ لکھوایا اور اپنے آفس کے لئے روانہ ہو گئے۔ جب یہ وہاں گئے۔ کچھ ہی دیر کے بعد موصوف نے سیکرٹری صاحب تحریک جدید کو فون کیا اور بتایا کہ وعدہ لکھوا کر مسجد سے باہر نکلتے ہی مجھے اپنے کاروبار میں مزید منافع ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ زائد منافع یقینا اللہ تعالیٰ کے خاص فضل اور تحریک جدید کی برکت سے ہوا ہے۔ لہٰذا آپ میرا وعدہ دوگنا کر دیں۔ اڑھائی گنا اضافہ پہلے ہی وہ کر چکے تھے اب اس کو بھی دوگنا کر دیا اور اللہ کے فضل سے مکمل ادائیگی کر دی۔

اسی طرح کیرالہ انڈیا کے مربی صاحب لکھتے ہیں کہ ایک جماعت کے ایثار پیشہ مخلص دوست نے گزشتہ سال اپنا تحریک جدید کا چندہ دوگنا اضافے کے ساتھ ادا کیا تھا اور بفضل تعالیٰ امسال بھی غیر معمولی اضافے کے ساتھ ادائیگی کی ہے۔ موصوف نے بتایا کہ انہوں نے سات سال قبل تیس ہزار روپے کے سرمائے اور صرف تین مزدوروں کے ساتھ کام شروع کیا تھا جبکہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے میری انڈیا، دبئی اور انڈونیشیا میں Ruber Wood Furniture کی آٹھ فیکٹریاں ہیں جن میں پانچ سو سے زائد کاریگر کام کرتے ہیں۔ یہ ترقی جو آپ دیکھ رہے ہیں یہ محض چندوں کی باشرح ادائیگی کی برکت سے ہے۔ موصوف کہتے ہیں کہ مَیں جب بھی چندہ ادا کرتا ہوں خدا تعالیٰ مجھے شام تک اس سے کہیں زیادہ عطا کر دیتا ہے اور مالی تنگی کا سوال ہی نہیں کہ کبھی میں نے محسوس کی ہو۔

وہاں ربوہ میں نائب وکیل المال عزیزم طلحہ احمدہیں۔ کہتے ہیں۔ کراچی کے دورے پر میں گیا تو کلفٹن کے رہنے والے ایک خادم ہیں ان کو تحریک جدید کی تحریک کی۔ تو انہوں نے کہا آپ خود اضافہ کر دیں۔ بتائیں کتنا اضافہ کروں؟ مَیں نے کہا میرے سامنے تو آپ کے حالات نہیں ہیں۔ صرف حلقے کا ٹارگٹ ہے کہ اتنا ہونا چاہئے۔ جو کچھ آپ بہتر سمجھتے ہیں اپنی آمد کے لحاظ سے اضافہ کر دیں۔ اور ان کو واقعہ سنایا کہ وکیل المال صاحب سندھ دورے پر گئے تھے تو انہوں نے ایک شخص سے اسی طرح کہا تو انہوں نے بھی ان کو یہی کہا تھا کہ آپ اپنے حالات کے مطابق کریں۔ اگر میں کہہ دوں کہ پانچ لاکھ کر دیں تو آپ پانچ لاکھ دے دیں گے؟ بہر حال اس نوجوان نے کہا کہ کیونکہ اس شخص کی مثال دے کے پانچ لاکھ آپ کے منہ سے نکلا ہے تو مَیں پانچ لاکھ روپیہ تحریک جدید میں دیتا ہوں۔ اور ان کے ہاں بچے کی پیدائش ہونے والی تھی۔ پھر بعد میں آئے اور متوقع بچے کی طرف سے بھی ایک لاکھ روپیہ ادا کر گئے۔

اسی طرح ہماری عورتیں بھی کس طرح قربانیاں دیتی ہیں، امیر صاحب لاہور لکھتے ہیں کہ ایک خاتون نے اپنے کانوں کے طلائی بُندے تحریک جدید میں پیش کئے۔ معاشی تنگی کی وجہ سے پہلے ہی ان کا سب زیور بک چکا تھا اور ان کی بہن نے ان کو بڑے چاؤ سے یہ بُندے بنوا کر دئیے تھے اور وعدہ لیا تھا کہ کسی گھریلو ضرورت کے لئے تم یہ فروخت نہیں کروگی۔ لیکن موصوفہ نے یہ چندہ تحریک جدید میں دینے کے بعد کہا کہ میں نے اپنی ضرورت کے لئے تو نہیں کئے خدا کی راہ میں دئیے ہیں اور اللہ تعالیٰ سب ضروریات پوری کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کرے ان کے مال میں بھی برکت پڑے اور ان کی قربانی قبول ہو۔ ویسے انتظامیہ کو بھی ایسے لوگوں کا خیال رکھنا چاہئے ان کے جیسے حالات ہوں ان کو اتنا مجبور بھی نہیں کرنا چاہئے۔ بعض دفعہ سیکرٹریان مال بھی یا سیکرٹریان تحریک جدید بھی لوگوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ ان کے حالات دیکھ کے ان سے وصول کیا کریں۔ نیشنل سیکرٹری تحریک جدید جماعت جرمنی نے ایک مقروض دوست کا واقعہ لکھا ہے کہ انہوں نے تحریک جدید میں خصوصی وعدہ کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے اتنی آمد بڑھا دی کہ قرض بھی ادا ہو گیا اور انہیں نیا مکان خریدنے کی بھی توفیق عطا فرمائی جو ان کے لئے بظاہر ناممکن تھا اور کہتے ہیں کہ میں پینتیس سال سے جرمنی میں رہ رہا ہوں کبھی اتنی آمدنہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف مجھے قرض سے نجات عطا فرمائی بلکہ اڑھائی ماہ میں چالیس ہزار یورو آمد بھی بڑھ گئی۔ آمد بھی عطا ہوئی۔ منافع بھی عطا ہوا۔

تحریک جدید کے سیکرٹری صاحب ایک خاتون کا لکھتے ہیں کہ میں تحریک جدید میں کچھ نہایت عاجزی سے پیش کرتی ہوں اور یہ ہے کہ میرا نام کسی کو نہ بتایا جائے کہ میں نے کیا دیا۔ (یہ نام نہ ظاہر کریں لیکن ان کی قربانی تو بہر حال ہے) کہ مَیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتی ہوں۔ اور بہت سا زیور اور نقدی انہوں نے پیش کی۔ اور یہ کہا کہ دعا کریں کہ مجھے اپنے بیٹے کے لئے جو نیک خواہشات ہیں اللہ تعالیٰ وہ پوری کرے۔ اللہ تعالیٰ ان کی خواہشات پوری فرمائے۔

سوئٹزرلینڈ سے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ بیٹم ریڈزیپی (Betim Redzepi) صاحبہمارے ایک مقدونین نژاد سوئس ہیں۔ پچھلے سال انہوں نے اکتوبر میں بیعت کی تھی۔ تحریک جدید کے سال ختم ہونے میں صرف پانچ دن باقی تھے۔ جماعت میں داخل ہوتے ہی انہوں نے ایک ہزار سوئس فرانک کی غیر معمولی رقم بغیر وعدے کے تحریک جدید میں ادا کر دی اور اگلے سال کا وعدہ بھی ایک ہزار لکھوا دیا۔ پھر دوران سال جب انہیں مالی قربانی کی اہمیت کا پتا چلا تو انہوں نے اپنا وعدہ دوگنا کر دیا اور تحریک جدید کے ساتھ ساتھ وقف جدید میں بھی دوہزار فرانک کا وعدہ لکھوا دیا۔ موصوف جس کمپنی میں کام کرتے ہیں اس نے انہیں ایک ایسے کورس کی آفر کر دی جو بہت مہنگا ہوتا ہے۔ یہ کمپنی بالعموم صرف ان ملازمین کو ہی کورس کرواتی ہے جن کے پاس تجربہ ہو اور جن کی عمر 35 سال سے زائد ہو۔ اور بہت سے لوگ یہ کورس کرنے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن انہیں یہ موقع نہیں ملتا۔ وہ کہتے ہیں کہ میری عمر تئیس سال ہے اور میں نے اس کورس کے بارے میں سوچا بھی نہ تھا لیکن کمپنی نے خود مجھے یہ کورس کروانے کی آفر کر دی۔ یقینا یہ مالی قربانی کی برکت کا پھل ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمایا۔

پس یہ جو یورپ میں بھی نئے آنے والے ہیں ان کو بھی اللہ تعالیٰ اس طرح اپنی ہستی کا یقین دلاتا ہے۔

اسی طرح ایک مقدونین سوئس احمدی بیکم (Bekim) صاحب ہیں۔ کہتے ہیں مَیں جس کمپنی میں کام کرتا ہوں اس کا مالک بہت بخیل اور تنگدل انسان ہے۔ کسی کو پیسے دینا اس کے لئے بہت مشکل ہے۔ ورکرز (Workers) کو بہت تھوڑی تنخواہ دیتا ہے اور ورکر اکثر تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں اور یا تو وہ مطالبات نظر انداز کر دیتا ہے یا ٹال مٹول سے کام لیتا ہے۔ کہتے ہیں ایک دفعہ اس مالک نے مجھے اپنے دفتر بلایا اور کہا کہ مَیں تمہاری تنخواہ بڑھانا چاہتا ہوں۔ اس پر میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ آپ تو اس معاملے میں بڑا سخت رویہ رکھتے ہیں۔ پھر آپ نے از خود میری تنخواہ بڑھانے کا کیوں سوچا ہے۔ اس پر مالک کہنے لگا مجھے نہیں علم لیکن یہ بات میرے دل میں بڑے زور سے آئی ہے اور کافی عرصے سے مَیں نے تمہاری تنخواہ نہیں بڑھائی۔ اس لئے مجھے تمہاری تنخواہ میں اضافہ کر دینا چاہئے۔ یہ کہتے ہیں کہ بغیر کسی ظاہری وجہ کے میری تنخواہ میں اضافہ ہو گیا۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ صرف اور صرف مالی قربانی کا نتیجہ ہے۔

یہاں نصیردین صاحب لندن کے ریجنل امیر ہیں۔ یہ ایک دوست کا واقعہ لکھتے ہیں کہ ایک احمدی دوست نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ سے بہت دعا کی کہ چندہ تحریک جدید کے سلسلے میں میری مدد فرما۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خیال میرے دل میں ڈالا گیا کہ دفتر جاتے ہوئے ٹرین پر جانے کی بجائے بس پر سفر کیا کروں۔ اس طرح مجھے مفت سفر کی سہولت ملے گی اور کافی بچت بھی ہو جائے گی۔ بس میں سفر کرنے میں اگرچہ نصف گھنٹہ زیادہ لگتا ہے لیکن میں نے فوری طور پر اس کے مطابق عمل شروع کر دیا۔ اس طرح روزانہ دو پاؤنڈ کی بچت ہونے لگی اور سال بھر میں وہ ایسا کرتے رہے اور کُل چار سو پاؤنڈ کی بچت ہوئی جو تحریک جدید میں چندہ ادا کر دیاتو اس طرح بھی لوگ سوچتے ہیں۔ یہیں لندن میں ہی ایک صاحب کے گھر ڈکیتی ہوئی سارا گھر کا مال لوٹ لیا گیا۔ لیکن ایک ہزار پاؤنڈ جو انہوں نے چندہ تحریک جدیدکے لئے رکھا ہوا تھا وہ محفوظ رہا۔ وہ انہوں نے آ کر ادا کر دیا کہ یہ کیونکہ چندے کی رقم تھی جو چوری ہونے سے بچ گئی اس لئے مَیں پیش کر رہا ہوں۔ پس چوروں سے احتیاط بھی ضروری ہے کیونکہ آجکل پولیس بھی خاص طور پر ایشینز کو ہوشیار کر رہی ہے کہ گھر میں زیور وغیرہ نہ رکھا کریں۔ لیکن بعض لوگ ضرورت سے زیادہ احتیاط کرتے ہیں۔ گھروں کو، کھڑکیوں کو، روشن دانوں کو، دروازوں کو تالے لگا کر چابیاں بھی چھپا دیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے پھر جب خود ان کو باہر نکلنے کی ضرورت پڑتی ہے تو مَیں نے سنا ہے کہ بعض بیوی بچے پھر مشکل میں گرفتار ہوتے ہیں کہ کس طرح باہر نکلیں۔ تو اتنی بھی احتیاط ضروری نہیں۔ احتیاط بیشک کریں لیکن ایک مناسب طور پر۔

اسی طرح آسٹریلیا کے مشنری انچارج صاحب لکھتے ہیں کہ گزشتہ دنوں خدام الاحمدیہ کا اجتماع تھاوہاں میں نے خدام اطفال کو تحریک جدید کی طرف توجہ دلائی۔ اطفال کو وہاں واؤچرز کی صورت میں انعامات بھی دئیے گئے۔ تو ارسلان اور عاطف اور کامران یہ تین اطفال قابل ذکر ہیں۔ ان کو 89ڈالر کے واؤچر انعام ملے۔ کہتے ہیں کہ تحریک کے بعد ان اطفال نے اپنے جیب خرچ میں سے گیارہ ڈالر کی مزید رقم ملا کے سو ڈالر بنا کر فوری طور پر تحریک جدید میں ادا کر دئیے۔

تو یہ چند واقعات میں نے بہت سے واقعات میں سے بیان کئے ہیں اور صرف پرانے احمدی قربانیاں نہیں دے رہے بلکہ نومبائعین بھی، بچے بھی اور عورتیں بھی جیسا کہ مَیں نے کہا افریقہ میں بھی، یورپ میں بھی حیرت انگیز طور پر قربانیاں دے رہے ہیں اور ان کی قربانی کے اس جذبے کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔

ایک مربی صاحب نے مجھے لکھا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب چندہ عام لیا جاتا ہے تو پھر یہ تحریک جدید، وقف جدید کے چندوں کی کیا ضرورت ہے۔ خود ہی مربی صاحب نے یہ بھی لکھ دیاکہ یہ جو اعتراض کرنے والے تھے عموما ً چندہ عام میں بھی کمزور ہیں اور مسجد میں بھی بہت کم آنے والے ہیں اور چندے بھی نہ دینے والوں میں سے ہیں۔ تو اس کا جواب تو اسی میں آ گیا۔ ایسے لوگ ہیں جو اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں۔ لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ چندہ عام یقینا پہلی ترجیح ہے اور ہر کمانے والے کو یہ دینا چاہئے۔ اس کے بعد پھر حسب توفیق تحریک جدید اور وقف جدید یا دوسری تحریکات کے چندے دیں۔ لیکن نومبائعین کو عادت ڈالنے کے لئے اور بچوں کو عادت ڈالنے کے لئے، نہ کمانے والے مردوں اور عورتوں کو یہ جو عام مالی قربانی ہے اس میں حصہ ڈالنے کے لئے یہ تحریکات ہیں کیونکہ چندہ عام ان کے لئے ضروری نہیں ہے۔ لیکن یہ بھی واضح ہو کہ اشاعت اسلام کے کاموں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے وسعت پیدا ہو رہی ہے اور ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اس کے لئے بہر حال ہمیں مالی قربانیوں کی طرف بھی توجہ دینی پڑے گی اور دینی چاہئے۔ یہ ایک آدھ معترضین جو ہوتے ہیں بعض دفعہ کسی جماعت میں بھی دوسروں کے دماغوں میں بھی زہر بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی معلومات کے لئے صرف مَیں اتنا بتا دیتا ہوں کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایم ٹی اے نے دنیا کے تمام ممالک کو کور (cover) کیا ہوا ہے اور دس سیٹلائٹس کے ذریعہ سے ایم ٹی اے کی نشریات نشر ہو رہی ہیں۔ صرف ان سیٹلائٹس کا خرچ علاوہ ایم ٹی اے کے دوسرے اخراجات سٹوڈیو، عملہ، سامان وغیرہ کے اتنے زیادہ ہیں کہ جب غیروں کے سامنے یہ بتایا جائے کہ اس طرح ہمارے سیٹلائٹس چل رہے ہیں اور بغیر کسی اشتہار کے چل رہے ہیں اور مالی قربانیوں سے چل رہے ہیں تو ان کے لئے ایک حیرت ہوتی ہے کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ گو ایم ٹی اے کے لئے بھی بعض جماعتیں چندہ دیتی ہیں، لوگ بھی دیتے ہیں لیکن اخراجات کے مقابلے میں وہ آمد بالکل معمولی ہے اور دوسری مدّات سے پھر(ضروریات) پوری کی جاتی ہیں۔ اسی طرح ہم ایم ٹی اے کے لئے اب مختلف ممالک میں سٹوڈیوز بھی بنا رہے ہیں۔ پھر اس سال صرف جو مساجد اور سکول اور ہاسپٹل تعمیر کئے گئے یا مرکزی طور پر ان کے اخراجات کئے گئے، مقامی طور پر نہیں، جو مقامی اخراجات ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں، مرکزی طور پر جو اخراجات کئے گئے ہیں وہی تقریباً اس کُل رقم کے برابر ہیں جو اس سال تحریک جدید کی رقم ہے۔ چندہ عام اور وقف جدید علیحدہ ہے۔ صرف تعمیری اخراجات اور دوسرے بے شمار اخراجات ہیں۔ بہر حال یہ تو میں نے ایک معمولی سا خاکہ کھینچا ہے۔ اگر کسی کے دل میں اعتراض ہے تو بیشک ہوتا رہے۔ ہمیں پتا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے نظام کے تحت اخراجات کئے جاتے ہیں اور کوشش کی جاتی ہے کہ جتنا بچایا جائے رقم بچائی جائے اور صحیح طور پر خرچ ہو۔ جماعتوں کو بھی مزید احتیاط کرنی چاہئے تا کہ ہم زیادہ سے زیادہ بچت کر کے اللہ تعالیٰ کے کاموں کو مزید وسعت دے دیں۔ کم سے کم رقم میں زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔ جیسا کہ مَیں نے بتایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ خود مومنین کے دل میں ڈالتا ہے کہ قربانی کرو۔ یہ چند مثالیں مَیں نے دی تھیں۔ ہماری کوشش تو اس کا عُشر عشیر بھی نہیں ہوتی۔ یہ تحریک اللہ تعالیٰ اس لئے فرماتا ہے کیونکہ اسے پتا ہے کہ دینی ضروریات کیا ہیں اور خود تیار کرتا ہے جیسا کہ میں نے مثال بھی دی تھی کہ افریقہ کے ایک دور دراز ملک میں بیٹھے ہوئے شخص کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود توجہ دلائی ہے۔ اللہ تعالیٰ تو ہمیں ثواب میں حصہ دار بنا رہا ہے اور ایک نیکی جو ہے اسی سے پھر اگلی نیکیوں کے رستے بھی کھلتے چلے جاتے ہیں۔

جیسا ہم جانتے ہیں تحریک جدید کا سال نومبر میں شروع ہوتا ہے اب میں اس وقت گزشتہ سال کی رپورٹ اور نئے سال کا اعلان کروں گا۔ یہ سال تحریک جدید کا اسّی واں (80) سال تھا جو 31؍اکتوبر 2014ء کو ختم ہوا اور رپورٹس کے مطابق اس سال میں چوراسی لاکھ ستّر ہزار آٹھ سو پاؤنڈ کی مالی قربانی جماعت نے دی۔ الحمد للہ۔ یہ وصولی گزشتہ سال کے مقابلے پہ چھ لاکھ ایک ہزار کچھ سو زیادہ ہے۔ اور پاکستان باوجود اپنے حالات کے اس دفعہ بھی پہلے نمبر پر ہی ہے۔ پاکستان والے مالی قربانیوں میں بھی بڑھے ہوئے ہیں اور جان کی قربانیوں میں بھی بڑھے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے حالات ایسے کرے کہ اللہ تعالیٰ جلد آسانیاں پیدا فرمائے اور انہیں سکون نصیب فرمائے اور وہاں بھی ایسے حالات پیدا ہوں کہ جماعت کی تبلیغ کے بھی راستے مزید کھلتے چلے جائیں۔ پاکستان کے علاوہ باہر کی جو دس جماعتیں ہیں ان میں جرمنی پہلے نمبر پر ہے۔ برطانیہ دوسرے نمبر پر۔ پچھلے سال یو۔ کے کا تیسرا نمبر تھا۔ اب دوسرے نمبر پر آ گئے ہیں۔ امریکہ تیسرے نمبر پر۔ کینیڈا چوتھے پہ، انڈیا پانچویں پہ، آسٹریلیا چھٹے پہ، انڈونیشیا ساتویں پہ، آسٹریلیا بھی ایک نمبر اوپر آ گیا اور انڈونیشیا پیچھے چلا گیا۔

اس کے علاوہ مڈل ایسٹ کی دو جماعتیں ہیں۔ پھر سوئٹزر لینڈ، گھانا اور نائیجیریا ہیں۔ پہلی دس جماعتوں میں کرنسی کے لحاظ سے وصولی میں جو اضافہ ہے وہ گھانا نمبر ایک پہ ہے۔ انہوں نے مقامی کرنسی کے حساب سے تقریباً پچاس فیصد اضافہ کیا ہے۔ آسٹریلیا نمبر دو پر ہے۔ انہوں نے چوالیس فیصد۔ پھر کچھ مڈل ایسٹ کی جماعتیں ہیں سترہ فیصد۔ سوئٹزر لینڈ تقریباً پندرہ فیصد۔ پاکستان چودہ فیصد۔ یوکے تقریباً پونے چودہ فیصد۔ انڈونیشیا ہے۔ پھر بھارت اور جرمنی برابر ہیں۔ کینیڈا ان دس جماعتوں میں آخری نمبر پہ ہے۔

فی کس ادائیگی کے لحاظ سے امریکہ پہلے نمبر پر اور سوئٹزرلینڈ دوسرے نمبر پر اور آسٹریلیا تیسرے نمبر پہ ہے۔

گزشتہ چند سالوں سے، دو تین سال سے میں توجہ دلا رہا ہوں کہ تحریک جدید میں اور وقف جدید میں تعداد میں اضافہ ہونا چاہئے۔ یہ نہ دیکھیں کہ رقم بڑھتی ہے کہ نہیں۔ رقم تو خود بخود بڑھ جاتی ہے، مخلصین کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہئے۔ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال یہ کل تعداد بارہ لاکھ گیارہ ہزار سات سو ہو گئی ہے اور گزشتہ چار سال میں اس تعداد میں جو نئے شامل ہوئے ہیں تقریباً چھ لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ اور ان میں بھی بعض جماعتیں اچھا کام کر رہی ہیں جن میں کبابیر نمبر ایک پر ہے۔ بینن ہے۔ نائیجر ہے۔ گیمبیا ہے۔ سینیگال ہے۔ کیمرون ہے۔ گنی کناکری ہے۔

افریقہ میں مجموعی وصولی کے لحاظ سے گھانا نمبر ایک پر ہے۔ اس کے بعدنائیجیریا۔ پھر ماریشس۔ برکینا فاسو۔ تنزانیہ۔ بینن۔ گیمبیا۔ کینیا۔ سیرالیون۔ یوگنڈا ہے۔

دفتر اوّل کے کھاتے: اللہ کے فضل اس میں سے پانچ ہزار نو سو ستائیس افراد ہیں۔ دفتر کے ریکارڈ کے مطابق ایک سو پانچ اللہ تعالیٰ کے فضل سے حیات ہیں۔ باقی وفات یافتگان کے پانچ ہزار آٹھ سو بائیس کھاتے ان کے ورثاء یا دوسرے جماعتی مخلصین نے جاری کئے ہوئے ہیں۔ قربانی کے لحاظ سے پاکستان میں جو تین بڑی شہری جماعتیں ہیں ان میں اوّل لاہور ہے۔ دوم ربوہ ہے۔ سوم کراچی ہے۔

پاکستان کے جو اضلاع ہیں ان میں دس اضلاع۔ سیالکوٹ نمبر ایک ہے۔ فیصل آباد۔ پھر سرگودھا۔ گوجرانوالہ۔ عمر کوٹ۔ گجرات۔ بدین۔ نارووال۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ۔ قصور اور ننکانہ صاحب۔

جرمنی کی جو پہلی دس جماعتیں ہیں ان میں روئیڈر مارک۔ نوئیس۔ فلؤرزہائم۔ مہدی آباد۔ درائے ایش۔ وُرس برگ۔ نیڈا۔ بروخسال۔ مارک برگ۔ نوئے ویڈ۔ لوکل عمارتیں جو ہیں ان میں ہیمبرگ۔ فرینکفرٹ۔ گراس گراؤ۔ ڈارمشٹڈ۔ ویزبادن۔ من ہائیم۔ آفن باخ۔ ڈیٹسن باخ۔ موئرفیلڈن۔ والڈورف۔ ریڈشٹڈ۔

وصولی کے لحاظ سے برطانیہ کی پہلی دس جماعتیں۔ مسجد فضل۔ ووسٹر پارک۔ نیو مالڈن۔ ویسٹ ہل۔ ماسک ویسٹ۔ برمنگھم سینٹرل۔ چیم۔ رینز پارک۔ جلنگھم۔ بیت الفتوح نمبر دس پہ ہے۔ چھوٹی جماعتوں والے کہتے ہیں ہمارا بھی بتایا کریں تولمنگٹن سپا نمبر ایک پر ہے۔ پھر بورن متھ ہے۔ وولور ہیمپٹن ہے۔ سپین ویلی ہے اور کوئنٹری ہے۔

مجموعی وصولی کے لحاظ سے برطانیہ کی پانچ ریجنز لنڈن۔ مڈ لینڈز۔ نارتھ ایسٹ۔ ساؤتھ۔ اور مڈل سیکس ہیں۔ مجموعی وصولی کے لحاظ سے امریکہ کی پہلی پانچ جماعتیں سلیکون ویلی۔ لاس اینجلس ایسٹ۔ ڈیٹرائٹ۔ سی ایٹل(Seattle)۔ ہیرس برگ ہیں۔ کینیڈا کی لوکل امارات میں نمبر ایک کیلگری۔ پیس ویلج۔ وان اور وینکوور۔ اور وصولی کے لحاظ سے پانچ قابل ذکر جماعتیں ایڈمنٹن۔ آٹوا۔ ڈرہم۔ سسکاٹون۔ ساؤتھ ملٹن۔ جارج ٹاؤن اور لائیڈ منسٹر ہیں۔ انڈیا کے پہلے دس صوبہ جات۔ کیرالہ نمبر ایک۔ تامل ناڈو۔ کرناٹک۔ آندھرا پردیش۔ جموں وکشمیر۔ اڑیسہ۔ بنگال۔ پنجاب۔ دہلی اور لکشدیپ۔ پہلی دس جماعتیں۔ نمبر ایک کیرولائی۔ نمبر دو کالی کٹ۔ پھر حیدر آباد۔ پھر قادیان۔ کنانور ٹاؤن۔ پینگاڈی۔ سولور۔ کولکتہ۔ چنائی۔ بنگلور۔

آسٹریلیا کی پہلی دس جماعتیں۔ بلیک ٹاؤن۔ ملبرن۔ ایڈیلیڈ۔ مارزڈن پارک۔ کینبرا۔ ماؤنٹ ڈرواِٹ۔ برسبین۔ تسمانیا۔ پرتھ اور ڈارون۔

اللہ تعالیٰ ان سب کی مالی قربانیاں قبول فرمائے۔ ان کے اموال و نفوس میں بے انتہا برکت عطا فرمائے اور جماعتی نظام کو بھی توفیق عطا فرمائے کہ ان اموال کو صحیح رنگ میں خرچ کرنے والے ہوں۔

نمازوں کے بعد مَیں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو ہمارے مقامی معلم اور مبلغ مکرم الحاج یوسف ایڈوسئی صاحب گھانا کا ہے جو 2؍نومبر کی شب پونے بارہ بجے کماسی میں بقضائے الٰہی وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ 2؍نومبر کی صبح یہ بولگاٹانگا (Bolgatanga) جماعت کی دعوت پر ان کی ریجنل مسجد کی تعمیر میں رہنمائی کی غرض سے کماسی سے کافی فاصلے پر بولگا گئے۔ کوئی پانچ چھ سو کلو میٹر ہے۔ پھر ٹمالہ ریجن میں نومبائعین کے لئے ایک زیر تعمیر مسجد کا دورہ کیا۔ پھر اب آپ نے ٹمالے میں رات گزارنی تھی لیکن آپ نے اصرار کیا کہ واپس کماسی جانا ہے۔ کماسی میں رہتے ہیں۔ اور وہاں شہر میں داخل ہونے سے پہلے ان کو کچھ پیشاب کی حاجت ہوئی۔ تکلیف ہوئی لیکن ضعف بڑھ گیا تھا۔ ڈرائیور نے بڑی مشکل سے ان کی کار سے اُترنے میں مدد کی۔ بہرحال اس کے بعد انہوں نے کہا کہ مجھے پیٹ میں درد ہے اور جلدی چلو۔ اپنے گھر پہنچ گئے۔ گھر پہنچ کے بجائے کمرے میں جانے کے وہیں برآمدے میں ہی تکیہ منگوا کے لیٹ گئے اور پیٹ درد کی دوبارہ شکایت کی۔ گھر والے ان کو فوراً ہسپتال لے گئے۔ اس وقت آپ ہوش میں تھے۔ ڈاکٹر کو کہنے لگے کہ مجھے سلا دو۔ لیکن جب معائنہ شروع کیا تو اس وقت ان پر نزع کی کیفیت طاری ہو چکی تھی اور اسی دوران آپ کی وفات ہو گئی جس پر ڈاکٹر نے بچوں کو کہا کہ میں آپ کے والد کو پہلے سے نہیں جانتا لیکن ان کی موت کو دیکھ کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ ایک عظیم انسان تھے۔

15؍دسمبر 1942ء کو کماسی میں عیسائی گھر میں پیدا ہوئے اور مذہب کی طرف بچپن سے غیر معمولی رجحان تھا۔ کہتے ہیں ایک مرتبہ ویسٹ ریجن میں اپنے چچا کے ہمراہ رہتے ہوئے وہیں تعلیم حاصل کر رہے تھے کہ خیال آیا کہ اگر دنیا کی تمام رنگینیاں اور دولت حاصل کر لوں تو مجھے کیا فائدہ ہو گا اگر خدا مجھ سے راضی نہ ہو۔ بہرحال چچا کا کیونکہ سینما کا کاروبار تھا اور اس کی وجہ سے ان کو بھی فلمیں وغیرہ دیکھنے کی عادت پڑ رہی تھی تو اس پہ ان کو بڑی کراہت آئی اور چھوڑ کے آگئے۔

پھر رومن کیتھولک چرچ میں جا کر انہوں نے دعا کی کہ اے خدا! اگر میرا جینا تیری ناراضگی کا باعث ہو گا تو جس وقت تو مجھ سے راضی ہو گا اس وقت میری جان لے لینا۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی دعا ایسی قبول کی۔ پھر ان کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔ لگتا ہے وہیں موقع پر اللہ تعالیٰ نے دعا قبول کی۔ کہتے ہیں کہ دعا سے فارغ ہو کے جب باہر نکلے تو ایک دوست ان کو باہر ملا اور کہنے لگا جوزف! (ان کا پہلا نام جوزف تھا) کہ مجھے ایک جماعت کی تبلیغ سننے کا اتفاق ہوا ہے جو مجھے پسند آئی ہے اور اب میں اس جماعت میں داخل ہونے کے لئے مشن ہاؤس جا رہا ہوں۔ یوسف ایڈوسئی صاحب کو انہوں نے کہا کہ تم بھی میرے ساتھ جانا پسند کرو گے تو چلو۔ انہوں نے کہا ہاں۔ چنانچہ یہ دونوں کماسی مشن ہاؤس آ گئے جہاں ان کی ملاقات مبلغ سلسلہ سے ہوئی۔ مبلغ نے ان دونوں سے پوچھے بغیر کہ کون بیعت کرنے آیا ہے دونوں کو شرائط بیعت پڑھ کر سنائیں۔ پھر اس کے بعد پوچھا کہ کون بیعت کرنے آیا ہے۔ تو اس کو سنتے ہی یوسف ایڈوسئی صاحب نے بلا تاملؔ کہا کہ ہم دونوں بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ آپ احمدیت میں شامل ہو گئے۔ اس وقت آپ کی عمر سولہ سال تھی اور اس کے بعد آپ کو اپنے والدین کی مخالفت کا خاص طور پر باپ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن آپ اس بیعت پر قائم رہے اور حق سے پیچھے نہیں ہٹے بلکہ بعد میں معلم بن کے بلکہ اس سے بھی پہلے اپنے والد کو اتنی تبلیغ کی کہ انہوں نے بھی احمدیت قبول کر لی۔

بیس سال کی عمر میں انہوں نے جامعۃ المبشرین گھانا سے تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد ان کی امینہ ایڈوسئی صاحبہ سے شادی ہوئی۔ احمدیت قبول کرنے کے بعد مسلسل روحانی منازل طے کرتے رہے۔ چالیس سال کی عمر میں آپ شدید بیمار ہو گئے اور ڈاکٹروں نے متفقہ طور پر آپ کو ٹانگ کاٹنے کا مشورہ دیا کہ اس کے علاوہ کوئی حل نہیں۔ بلکہ بعض ڈاکٹروں نے کہا کہ یہ لاعلاج مرض ہے تم زیادہ دیر زندہ بھی نہیں رہ سکتے۔ آخر کہتے ہیں کہ ڈاکٹر علاج کرنے سے تنگ آ جاتے تو کئی مرتبہ مَیں خود درد کا ٹیکہ لگاتا۔ متاثرہ ٹانگ کو دیکھتا اور کہتا کہ اے میری ٹانگ! میں خدا کا بندہ اور مسیح موعود کا خادم ہوں۔ مَیں نے مختلف جگہوں پر جا کر تبلیغ کرنی ہے اور تُو اس راہ میں روک نہیں بن سکتی۔ میں نے خود بھی ان کو دیکھا ہے تبلیغ کا بے انتہا شوق تھا۔

پھر ان کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے علاج کی غرض سے امریکہ بھجوا دیا اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے ڈاکٹر صاحب کو جو خط لکھا وہ یہ تھا کہ آپ خوش نصیب ہیں کہ آپ یوسف کے علاج میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ مت خیال کریں کہ یوسف آپ کے پاس آئے ہیں بلکہ سمجھیں کہ مَیں خود آپ کے پاس آ گیا ہوں کیونکہ یوسف صاحب مجھے بہت عزیز ہیں اور اس لئے ان کا اتنا ہی خیال رکھیں جتنا آپ میرا رکھ سکتے تھے۔

بہر حال ان کے چار آپریشن تجویز ہوئے جوڈاکٹر حمید الرحمن صاحب نے کرنے تھے۔ تیسرے آپریشن کے بعد یوسف صاحب نے کہا کہ میں نے آپریشن نہیں کرانا۔ پھر ڈاکٹر صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کو لکھا کہ آپریشن نہیں کروانا چاہتے تو انہوں نے کہا کہ نہیں کروانا چاہتے تو ٹھیک ہے نہ کروائیں۔ لیکن انہوں نے اس سے پہلے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی خدمت میں ایک خط لکھ دیا تھا کہ انہوں نے خواب دیکھی ہے۔ اس بناء پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے بھی کہا کہ اگر یہ نہیں کروانا چاہتے تو نہ کروائیں لیکن یہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے شفا یاب ہو جائیں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا دی۔ یوسف صاحب کہتے ہیں کہ مَیں اپنے کمرے میں تھا کہ کشفاً دیکھا کہ کمرے کی دیوار پر ایک آیت لکھی جا رہی ہے اور اس کے پیچھے ایک نامعلوم آواز میں اس آیت کی تلاوت کی آواز آ رہی ہے کہ اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا (حم السجدۃ: 31)  تلاوت کے بعد ایک اجنبی آدمی کمرے میں داخل ہوا اور اس نے آپ کے پاس بیٹھ کر آپ کی ٹانگ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ یوسف فکر مت کرو۔ یہ بیماری تو ختم ہونے ہی والی ہے اور تم جلد شفایاب ہو جاؤ گے۔ کہتے ہیں نو سال تک بیماری میں مبتلا تھے مگر اس کے بعد ایسا معجزہ ہوا کہ آخر تک، اب تک ان کو دوبارہ اس کے کوئی آثار ظاہر نہیں ہوئے۔ بلکہ مبلغ کوثر صاحب بتاتے ہیں کہ قادیان میں 2005ء میں مجھے ملے۔ کیونکہ انہوں نے امریکہ میں ان کی حالت دیکھی ہوئی تھی تو چھلانگیں لگا کر دکھایا کہ دیکھو میری ٹانگ بالکل ٹھیک ہے۔ کوئی اثر نہیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ ملا تھا کہ 63 سال کی عمر میں وفات پا جائیں گے۔ لہٰذا جب 63 سال کے ہونے والے تھے تو اپنی اولاد کو بتایا اور قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی کہ اَمْ کُنْتُمْ شُھَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ اِذْ قَالَ لِبَنِیْہِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِیْ (البقرۃ: 134) تو کہتے ہیں کہ میں نے اولاد کو جمع کر کے پوچھا کہ میرے بعد تم کس خدا کی پرستش کرو گے؟ جس طرح یعقوب نے پوچھا تھا اسی طرح اب میں سب سے پوچھتا ہوں کہ کس رب کی عبادت کرو گے؟ اولادنے جواباً کہا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے۔ آپ نے کہا کہ میری زندگی تمہارے سامنے ہے۔ میں نے اپنی ساری زندگی جماعت کے لئے صَرف کر دی۔ اب میری موت کا وقت قریب آنے والا ہے اور میرا سچا وارث وہی ہو گا جو سب سے زیادہ متقی ہو گا۔ اس کے کچھ دن بعد انہوں نے اپنے بھائی الحاج شریف صاحب کو بتایا کہ جس دن میں 63 سال کا ہوا تھا تو اس دن واقعۃً ملک الموت آیا تھا مگر میں نے کچھ مہلت مانگی اور فرشتے نے کہا ٹھیک ہے۔ کچھ مہلت دے دی جائے گی۔ آپ نے مزید بتایا کہ اگرچہ فرشتہ نے معین طور پر کچھ نہیں بتایا لیکن انہیں لگتا ہے کہ ستّر سال کی عمر کے لگ بھگ انہیں مہلت دے دی جائے گی۔ جب مولانا وہاب آدم صاحب مبلغ انچارج بیمار ہوئے ہیں اور وہاب آدم صاحب کا انتقال ہوا ہے تو پھر کہتے تھے اب عنقریب میری باری آنے والی ہے۔ گھانا کے یہ مخلصین جا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ ان سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ جماعت کو مزید مخلصین عطا فرمائے۔ یہاں جلسے پر بھی اس سال آئے ہوئے تھے۔ کچھ بیمار بھی تھے۔ علاج کے لئے ان کو میں نے ڈاکٹروں کو یہاں دکھوایا بھی تھا تو ان کی جلدی یہی تھی کہ نہیں اب میرا خیال ہے مَیں واپس چلا جاؤں تو بہر حال ڈاکٹروں نے بھی یہی کہا کہ علاج تو وہیں بھی ہو سکتا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے ایک دفعہ یہاں یوکے میں جلسے پرتقریر کے دوران آپ کو بلایا اور آپ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سٹیج پر فرمایا تھا کہ یوسف مجھے پتا ہے کہ آپ پسندنہیں کرتے کہ آپ کے نیک اعمال سب کے سامنے بیان کئے جائیں مگر آپ کے اعمال خود بخود ظاہر ہو گئے ہیں اور مَیں جماعت کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ بہت نیک اور متقی انسان ہیں۔ اور اس عرصے میں یہ باتیں سن کے مستقل رو رہے تھے۔ جب مَیں پہلی دفعہ 2004ء میں دورے پر گیا ہوں تو وہاں بھی مالی قربانی میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے پیش پیش تھے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ایک دوائی انہوں نے ایجاد کی تھی۔ جس کی بہت زیادہ مارکیٹنگ ہوئی اور ان کو اس سے کافی منافع ملتا تھا۔ اس سے انہوں نے بہت ساری مساجد تعمیر کروائی ہیں۔ گھانا میں تقریباً چالیس پینتالیس مساجد تعمیر کروائی ہوں گی اور بعض اچھی اچھی مساجد ہیں۔ بڑی وسیع مساجد ہیں اور اسی طرح تبلیغی سینٹر بھی ہے۔ اس وقت انہوں نے مجھے دکھایا کہ یہ تبلیغ سینٹر بھی ہے اور یہ بھی انہوں نے تعمیر کروایا تھا۔ اس وقت میں نے ان کو کہا تھا کہ آپ دوسروں کو بھی خدمت کا موقع دیں، ہر چیز آپ خود ہی لئے چلے جا رہے ہیں تو بڑی عاجزی سے انہوں نے کہا کہ جب تک اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے رہا ہے اس وقت تک میں کوشش کرتا رہوں گا۔ بہت سادہ، کشادہ دل، مخلص، متقی، صاحبِ کشف، تہجد گزار، نرم خو، اعلیٰ اخلاص سے متصف تھے۔ خلافت سے بیحد محبت کرنے والے انسان تھے۔ کھانے کی بھی بچت کیا کرتے تھے۔ گھر میں ایک دن بہت زیادہ کھانا ضائع ہوگیا۔ انہوں نے دیکھا تو نماز پڑھتے ہوئے رو پڑے۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں رزق دیا ہے اور ہم نے اسے ضائع کر دیا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے۔ ان کا ایک بیٹا حافظ اسماعیل احمد ایڈوسئی جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل میں شاہد کے سات سالہ کورس میں پڑھ رہا ہے۔ کہتا ہے کہ میں حفظ قرآن مکمل کر کے گھر واپس آیا تو خاکسار کا غیر معمولی احترام کرتے تھے۔ کہتے ہیں ایک دفعہ میرے سے کوئی ایسی حرکت ہو گئی جس سے آپ ناخوش ہوئے تو یوسف صاحب اپنے بیٹے کو مخاطب کر کے کہنے لگے کہ جو قرآن آپ کی یادداشت میں ہے اس قرآن کا احترام کرتے ہوئے میں آپ کو ڈانٹ نہیں سکتا مگر آپ کو بھی چاہئے کہ اس قرآن کا احترام کرتے ہوئے ایسی حرکتیں نہ کریں۔ کہتے ہیں اگر مجھے ڈانٹ دیتے تو مجھ پر اتنا اثر نہ ہوتا جتنا اس بات نے مجھ پر اثر چھوڑا۔ کہتے ہیں میرے والد اور والدہ نے میری تربیت کی کہ مبلغ بنوں اور جب کبھی پیسے لینے جاتا تو تھوڑے پیسے دیتے اور مجھے کہتے کہ تم نے مبلغ بننا ہے اور ہر مبلغ کو چاہئے کہ تھوڑے پیسوں میں اکتفا کرے اور فضول خرچی سے اجتناب کرے۔ باریک باریک باتوں کی طرف مجھے توجہ دلاتے۔ ایک مرتبہ آپ کے ساتھ وضو کر رہا تھا۔ آپ نے مجھ سے پہلے وضو کر لیا اور کہا کہ حافظ صاحب! آپ نے مبلغ بننا ہے اور مبلغین کی بہت ذمہ داریاں ہوتی ہیں اور وقت کم ہوتا ہے اس لئے تھوڑے وقت میں زیادہ کام کرنے کی عادت ڈالیں۔ تو یہ مبلغین کے لئے بھی ایک نمونہ تھے۔ جیسا کہ میں نے کہا تبلیغ بے انتہا کیا کرتے تھے۔ تبلیغ کا بہت شوق، لگن اور تڑپ تھی۔ سادگی بے انتہا کی تھی۔ یہ میں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ فراخی بھی عطا فرمائی اور اس سے انہوں نے جماعت پر خرچ کیا۔ مساجد تعمیر کروائیں اور یہ جو آخری سفر تھا یہ بھی جیسا کہ بیان ہوا ہے مسجد کی تعمیر کے لئے ہی اختیار کیا۔ قرآن کریم سے بھی ان کو عشق تھا۔ گھانا کی جو ایک علاقائی زبان چُوئی (Twi) ہے اس میں قرآن کریم کے ترجمے کی بھی ان کو توفیق ملی۔ مالی قربانی میں تو خیر صف اول میں تھے ہی۔ وہاب آدم صاحب کے بیٹے نے لکھا ہے اور بہر حال یہ غیر معمولی انسان تھے اور سلسلے کا غیر معمولی درد رکھنے والے تھے اور خدمت کا جذبہ اور شوق رکھنے والے تھے۔ ان کے پسماندگان میں اہلیہ اور تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔ اللہ کے فضل سے سب کا جماعت اور خلافت سے مضبوط تعلق ہے۔ انتہائی اخلاص اور وفا کا تعلق ہے۔ ایک بیٹی ان کی فاتحہ صاحبہ تعلیم الاسلام انٹرنیشل سکول اکرا (Accra) کی ہیڈ ٹیچر ہیں۔ چھوٹا بیٹا جیسا کہ میں نے بتایا جامعہ انٹرنیشنل میں تیسرے سال میں پڑھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی اخلاص و وفا میں بڑھاتا چلا جائے۔ نماز کے بعد جیسا کہ میں نے کہا ان کی نماز جنازہ غائب ادا کی جائے گا۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 7؍ نومبر 2014ء شہ سرخیاں

    تحریک جدید میں مالی قربانی پیش کرنے والوں کے ایمان افروز واقعات کا روح پرور بیان۔

    آج دنیا مال کی محبت میں پتا نہیں کیا کچھ کر رہی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم اور تربیت کا اثر ہے کہ احمدیوں کی بہت بڑی اکثریت اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی اشاعت کے لئے اپنے پسندیدہ مال میں سے خرچ کرتے ہیں بلکہ بعض ایسے ہیں کہ اگر کبھی مال خرچ کرنے کی یہ توفیق کسی وجہ سے کم ہو جائے تو بے چین ہو جاتے ہیں، روتے ہیں۔ پس یہ دلوں کی حالت اور مالی قربانی کی روح بلکہ بعض دفعہ جان کی قربانی کی روح بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی اشاعت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا ہے اور اب اسلام کی ترقی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ سے ہی اللہ تعالیٰ نے مقدر فرمائی ہے۔

    تحریک جدید کے 81 ویں سال کے آغاز کا اعلان۔ گزشتہ سال میں جماعت نے 84لاکھ 70ہزار 800 پاؤنڈز کی مالی قربانی دی۔

    پاکستان باوجود اپنے حالات کے اس دفعہ بھی پہلے نمبر پر رہا۔ پاکستان سے باہر کی جماعتوں میں جرمنی اوّل۔ برطانیہ دوم اور امریکہ تیسرے نمبر پر رہا۔ مختلف پہلوؤں سے نمایاں قربانی کرنے والے ممالک اور جماعتوں کا تذکرہ۔

    اللہ تعالیٰ ان سب کی مالی قربانیاں قبول فرمائے۔ ان کے اموال و نفوس میں بے انتہا برکت عطا فرمائے اور جماعتی نظام کو بھی توفیق عطا فرمائے کہ ان اموال کو صحیح رنگ میں خرچ کرنے والے ہوں۔

    مقامی معلم اور مبلغ مکرم الحاج یوسف ایڈوسئی صاحب آف گھانا کی وفات۔ مرحوم کا ذکرِ خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 07؍نومبر 2014ء بمطابق07نبوت 1393 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور