حضرت مصلح موعودؓ کے بیان فرمودہ متفرق واقعات

خطبہ جمعہ 27؍ مارچ 2015ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی آمد کے مقصد کی جن پانچ شاخوں کا ذکر فرمایا ہے ان میں سے ایک شاخ اشتہارات کی اشاعت بھی ہے۔ یعنی تبلیغ اور اتمام حجت کے لئے اشتہارات کی اشاعت۔

ایک جگہ آپ فرماتے ہیں۔ ’’آج میں نے اتمام حجت کے لئے ارادہ کیا ہے کہ مخالفین اور منکرین کی دعوت میں چالیس اشتہار شائع کروں تا قیامت کو میری طرف سے حضرت احدیت میں یہ حجت ہو کہ میں جس امر کے لئے بھیجا گیا تھا اس کو میں نے پورا کیا۔‘‘ (اربعین نمبر1 روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 343)

اور پھر یہ چند اشتہار نہیں یا ایک مرتبہ نہیں بلکہ اگر دیکھا جائے تو اپنے دعویٰ سے پہلے سے لے کر وصال تک بیشمار اشتہارات آپ نے شائع فرمائے۔ یہ سب مذہبی دنیا کا ایک خزانہ ہیں۔ آپ کی ایک تڑپ تھی کہ مسلمانوں کو بھی، عیسائیوں کو بھی اور دوسرے مذہب والوں کو بھی تباہ ہونے سے بچائیں۔ آپ اکیلے یہ کام کرتے تھے اور اس کے لئے سخت محنت کرتے ہیں۔ بڑی بڑی تصنیفات تو آپ کی ہیں ہی۔ آپ کی ہمدردیٔ خلق کی تڑپ چھوٹے اشتہارات کے ذریعہ سے بھی دنیا کی اصلاح کا درد ظاہر کرتی ہے۔ دنیا کی اصلاح کے اس درد کو قائم رکھنا اور آگے چلانا یہ آپ کی جماعت کے افراد کا بھی فرض ہے۔ اس لئے اس طرف توجہ دیتے رہنا چاہئے۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس درد اور اس کے لئے غیر معمولی محنت کے بارے میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ باوجود بیماری کے آپ رات دن لگے رہتے تھے اور اشتہار پر اشتہار دیتے رہتے تھے۔ لوگ آپ کے کام کو دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے۔ ایک اشتہار دیتے تھے اس کا اثر دُور نہیں ہوتا تھا اور اس کی وجہ سے مخالفت میں جو جوش پیدا ہوتا تھا وہ بھی کم نہ ہوتا تھا کہ دوسرا اشتہار آپ شائع کر دیتے تھے۔ حتی کہ بعض لوگ کہتے تھے کہ ایسے موقع پر کوئی اشتہار دینا طبائع پر بُرا اثر ڈالے گا مگر آپ اس کی پرواہ نہ کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ لوہا گرم ہی کوٹا جا سکتا ہے۔ اور ذرا سا جوش ٹھنڈا ہونے لگتا تو فوراً دوسرا اشتہار شائع فرما دیتے تھے جس کی وجہ سے پھر مخالفت کا شور بپا ہو جاتا۔ آپ نے رات دن اسی طرح کام کیا اور یہی ذریعہ کامیابی کا ہے۔ اگر ہم یہ ذریعہ اختیار کر لیں تو کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اس بات کا خیال نہ کرنا چاہئے کہ مخالفت کم ہونے دی جائے۔‘‘ (روزنامہ الفضل قادیان مؤرخہ 9 نومبر 1943ء صفحہ2 جلد31 نمبر 263)

مخالفت ہوتی رہے تو ساتھ ساتھ اشتہار بھی آتے رہیں تب ہی اثر بھی ہوتا ہے۔

پھر حضرت مصلح موعود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کا ہی ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں تبلیغ اشتہارات کے ذریعے ہوتی تھی۔ وہ اشتہارات دو چار صفحات پر مشتمل ہوتے تھے اور ان سے ملک میں تہلکہ مچا دیا جاتا ہے۔ ان کی کثرت سے اشاعت کی جاتی تھی۔ اس زمانے کے لحاظ سے کثرت کے معنی ایک دو ہزار کی تعداد کے ہوتے تھے۔ بعض اوقات دس دس ہزار کی تعداد میں بھی اشتہارات شائع کئے جاتے تھے لیکن اب ہماری جماعت بیسیوں گنا زیادہ ہے۔ اب اشتہاری پروپیگنڈا یہ ہو گا کہ اشتہارات پچاس پچاس ہزار بلکہ لاکھ لاکھ کی تعداد میں شائع ہوں۔ پھر دیکھو کہ اشتہارات کس طرح لوگوں کو اپنی طرف توجہ کھینچ لیتے ہیں۔ اگر اشتہارات پہلے سال میں بارہ دفعہ شائع ہوتے تھے اور اب خواہ سال میں دو تین دفعہ ہی کر دیا جائے اور صفحات دو چار پر لے آئیں لیکن وہ لاکھ لاکھ، دو دو لاکھ کی تعداد میں شائع ہوں تو پتا لگ جائے گا کہ انہوں نے کس طرح حرکت پیدا کی ہے۔‘‘ (خطبات محمود جلد33 صفحہ 6-5۔ الفضل 11جنوری 1952ء)

تین چار سال پہلے مَیں نے جماعتوں کو کہا تھا کہ ورقہ دو ورقہ بنا کر تبلیغ کا کام کریں اور اس کا ٹارگٹ بھی دیا تھا کہ لاکھوں کی تعداد میں ہونا چاہئے جس سے اسلام کی خوبصورت تعلیم کا بھی دنیا کو پتا لگے۔ دنیا کو یہ پیغام ملے کہ اسلام کی حقیقت کیا ہے۔ دنیا کو پیغام ملے کہ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیج کر پھر سے اسلام کی نشأۃ ثانیہ فرمائی ہے اور حقیقی تعلیم کو جاری فرمایا ہے۔ یہ دنیا کو پتا لگے کہ اب بھی خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو شیطان سے بچانے کے لئے اپنے فرستادوں کو بھیجتا ہے۔ بہر حال جن جماعتوں نے اس سلسلے میں کام کیا وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے مثبت نتائج نکلے ہیں۔ سپین میں جامعہ کے طلباء کو میں نے بھیجا تھا انہوں نے وہاں بڑا کام کیا اور تقریباً تین لاکھ کے قریب مختلف پمفلٹ تقسیم کئے۔ اسی طرح اب جامعہ کینیڈا کے طلباء نے سپینش ممالک میں اور میکسیکو میں جا کر یہ اشتہارات تقسیم کئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سے تبلیغ کے میدان بھی بڑے وسیع ہوئے ہیں اور بیعتیں بھی ہوئی ہیں۔ پس اس کے لئے ایک کے بعد دوسرا دو ورقہ شائع ہوتے رہنا چاہئے اور اس کو تقسیم کرتے چلے جانا چاہئے بجائے اس کے کہ بڑی بڑی کتابیں تقسیم کی جائیں۔ حضرت مصلح موعودؓ نے اشتہارات کی اشاعت کے بارے میں ہی کہ کس طرح ہونی چاہئے، اظہار خیال فرماتے ہوئے ایک جگہ ضمناً یہ بھی فرمایا کہ بعض لوگ چاہتے ہیں کہ خود ہی اشتہار شائع کریں۔ اُس زمانے میں بھی چاہتے تھے۔ اب بھی گو اس تعداد میں تو نہیں کر سکتے لیکن بہر حال اپنے طور پر کچھ نہ کچھ لوگ چاہتے ہیں۔ اس بارے میں حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ:

’’چاہئے یہ کہ جو اشتہارات مرکز سے شائع کئے جائیں انہیں تقسیم کیا جائے اور ان کی اشاعت بڑھائی جائے۔ خود اشتہارات شائع کرنے میں بعض اوقات خود پسندی بھی آ جاتی ہے کہ میرا نام بھی نکلے اور یہ ایسا سخت مرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کے متعلق ایک قصّہ بیان فرمایا کرتے تھے۔ (یعنی خود پسندی یا اپنا اظہار کرنے کا، اپنی پروجیکشن (projection) کا بعض لوگوں کو شوق ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک قصہ بیان فرماتے تھے کہ) ایک عورت تھی اس نے انگوٹھی بنوائی مگر کسی عورت نے اس کی تعریف نہ کی۔ ایک دن اس نے اپنے گھر کو آگ لگا دی اور جب لوگ اکٹھے ہوئے تو کہنے لگی صرف یہ انگوٹھی بچی ہے اور کچھ نہیں بچا۔ کسی نے پوچھا یہ کب بنوائی ہے؟ کہنے لگی اگر یہ کوئی پہلے پوچھ لیتا تو میرا گھر ہی کیوں جلتا۔ غرض شہرت پسندی ایسا مرض ہے کہ جس کو لگ جائے اسے گُھن کی طرح کھا جاتا ہے اور ایسے انسان کو پتا ہی نہیں لگتا۔‘‘ (اہم اور ضروری امور، انوار العلوم جلد13 صفحہ 340)

یہ صرف اشتہاروں کی بات نہیں ہے۔ باقی معاملات میں بھی جب خود پسندی اور شہرت کی بات دماغ میں سماجائے اور انسان اس کے لئے کوشش کرے تو پھر اس کا فائدہ کوئی نہیں ہوتا بلکہ نقصانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اب تو تبلیغ کے میدان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اتنی وسعت پیدا ہو چکی ہے کہ اگر کوئی انفرادی طور پر پمفلٹ شائع کرے تو وہ بہت معمولی ہو گا لیکن بہر حال اپنے حلقے میں ہی خود پسندی کا تھوڑا بہت اظہار ہو جاتا ہے لیکن اگر نیک نیتی سے ہو، یہ بھی نہیں کہ ہر کوئی صرف خود پسندی کی خاطر کر رہا ہوتا ہے بعض نیک نیت بھی ہوتے ہیں تو جہاں خود شائع کر رہے ہوں اگر ان کے خیال میں وہ اچھی چیز ہے تو پھر اسے وسعت بھی دینی چاہئے، پھیلانا چاہئے۔ اس لئے اگر کوئی فائدہ مند خیال کسی کے دل میں آتا ہے جس سے اشتہار بہتر طور پر بن سکے اور جاذب نظر بھی ہو۔ لوگوں کی توجہ کھینچنے والا بھی ہو، مضمون بھی اس میں اچھا ہو تو وہ جماعتی نظام کو پھر دے دینا چاہئے۔ اگر اس قابل ہو تو پھر جماعتی نظام اس کو شائع کرتا ہے۔

اب حضرت مصلح موعود کے حوالے سے بعض متفرق قسم کی باتیں جو صحابہ کے یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق ہیں وہ پیش کرتا ہوں۔ ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ ’’جب شہدائے افغانستان پر پتھر پڑتے تھے تووہ گھبراتے نہیں تھے بلکہ استقامت اور دلیری کے ساتھ ان کو قبول کرتے تھے اور جب بہت زیادہ ان پر پتھر پڑے تو صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید، نعمت اللہ خان صاحب اور دوسرے شہداء نے یہی کہا کہ یا الٰہی! ان لوگوں پر رحم کر اور انہیں ہدایت دے۔ بات یہ ہے کہ جب عشق کا جذبہ انسان کے اندر ہو تو اس کا رنگ ہی بدل جاتا ہے۔ اس کی بات میں تاثیر پیدا ہو جاتی ہے اور اس کے چہرے کی نورانی شعاعیں لوگوں کو کھینچ لیتی ہیں۔‘‘حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ’’مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃوالسلام کے زمانے میں یہاں (یعنی قادیان میں ) ہزاروں لوگ آئے اور انہوں نے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیکھا تو یہی کہا کہ یہ منہ جھوٹوں کا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے ایک لفظ بھی آپ کے منہ سے نہ سنا اور ایمان لے آئے۔‘‘ (اللہ تعالیٰ کے راستہ میں تکالیف، انوار العلوم جلد 13 صفحہ 96)

یہ مثالیں تو آجکل بھی ہمیں نظر آتی ہیں۔ مجھے کئی خطوط آتے ہیں جن میں یہ ذکر ہوتا ہے کہ جب ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دیکھی تو دیکھ کر ہی یہ کہا کہ یہ منہ جھوٹے کا نہیں ہو سکتا اور بیعت کر لی۔

پھر حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے تھے کہ تین قسم کے لوگ ہماری جماعت میں شامل ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ’’میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بارہا سنا ہے آپ فرمایا کرتے تھے کہ ہماری جماعت میں تین قسم کے لوگ ہیں۔ ایک تو وہ ہیں جو میرے دعوے کو سمجھ کر اور سوچ کر احمدی ہوئے ہیں۔‘‘ (اس زمانے میں اسلام کی حالت کافی خراب تھی اور مسلمانوں کا شیرازہ بالکل بکھرا ہوا تھا اس لئے مختلف قسم کی طبائع پیدا ہو چکی تھیں اور ان مختلف طبائع نے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے کو سنا اور جماعت کو بنتا دیکھا تو قبول کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان لوگوں کی حالتوں کا ذکر فرما رہے ہیں کہ یہ تین قسم کے لوگ ہیں۔ یعنی پہلی قسم تو وہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ) … جو میرے دعوے کو سمجھ کر اور سوچ کر احمدی ہوئے ہیں۔ ’’وہ جانتے ہیں کہ میری بعثت کی کیا غرض ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ جس رنگ میں پہلے انبیاء کی جماعتوں نے قربانیاں کی ہیں اسی رنگ میں ہمیں بھی قربانیاں کرنی چاہئیں۔ مگر ایک اور جماعت ایسی ہے جو صرف حضرت مولوی نورالدین صاحب کی وجہ سے ہمارے سلسلے میں داخل ہوئی ہے۔‘‘ (ان کو بعثت کی غرض نہیں پتا لیکن وہ صرف اس لئے داخل ہوئے کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی۔ فرماتے ہیں کہ) ’’وہ ان کے استاد تھے۔ انہیں معزز اور عقلمند سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب مولوی صاحب احمدی ہو گئے ہیں تو آؤ ہم بھی احمدی ہو جائیں۔ پس ان کا تعلق ہمارے سلسلے سے مولوی صاحب کی وجہ سے ہے۔ سلسلے کی غرض اور میری بعثت کی حکمت اور غایت کو انہوں نے نہیں سمجھا۔

اس کے علاوہ ایک تیسری جماعت بعض نوجوانوں کی ہے جن کے دلوں میں گو مسلمانوں کا درد تھا مگر قومی طور پر نہ کہ مذہبی طور پر وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کا کوئی جتھا ہو‘‘۔ (یعنی مذہبی طور پر کوئی دردنہیں تھا لیکن مسلمانوں کی حالت دیکھ کر چاہتے تھے کہ کوئی جتھا ہو، ایک اکٹھ ہو۔ تو ایسے لوگ بھی جماعت میں شامل ہوئے اور پھر بعد میں جب انہوں نے دیکھا کہ مذہب پر زیادہ زور ہے تو ان میں سے بہت سارے پھر مختلف وقتوں میں علیحدہ بھی ہوگئے۔ خلافت ثانیہ میں ان میں سے بہت سے علیحدہ ہوئے۔

آجکل بھی جو مسلمانوں میں، نوجوانوں میں جوش ہے جو غلط طور پر جا کر بعض دہشتگرد تنظیموں میں شامل ہوجاتے ہیں وہ صرف یہ سمجھتے ہیں کہ قومی طور پر ہمارا ایک جتھا ہونا چاہئے یا ایک ایسا گروہ ہونا چاہئے جس سے مسلمانوں کی قومیت کا احساس پیدا ہو اور مذہبی طور پر وہ کچھ بھی نہیں جانتے۔ اور بعض رپورٹس جو وہاں سے، عراق اور سیریا سے آتی ہیں ان میں یہی ہے کہ بہت سارے کام ان کے ایسے ہیں جب ان سے پوچھو کہ یہ قرآن اور حدیث کے مطابق نہیں ہے تو وہ یہی کہتے ہیں کہ ہمیں اس کا نہیں پتا۔ ہمیں تو جو کچھ بتایا گیا ہے اور یہ جو ہماری ایک انفرادیت قائم ہو رہی ہے اس کو ہم نے اسلام کے نام پر قائم کرنا ہے تو اس طرح کے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ بہرحال حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ قومی طور پر وہ چاہتے ہیں کہ ہم اکٹھے ہوں۔ ) ’’ان میں کچھ تنظیم ہو۔ ان میں انجمنیں قائم ہوں اور مدرسے جاری ہوں۔‘‘ (بعض قومی طور پریہ نیک کام کرنا چاہتے ہیں۔) ’’مگر چونکہ عام مسلمانوں کا کوئی جتھا بنانا ان کے لئے ناممکن تھا اس لئے جب انہوں نے ہماری طرف ایک جتھا دیکھا تو وہ ہم میں آئے اور اب وہ چاہتے ہیں کہ مدرسے قائم کریں اور لوگ ڈگریاں حاصل کریں۔ اسی وجہ سے وہ ہمارے سلسلے کو ایک انجمن سمجھتے ہیں، مذہب نہیں سمجھتے۔ تو دنیا میں ترقیات کے جو ذرائع سمجھے جاتے ہیں وہ بالکل اَور ہیں اور دین میں جو ترقیات کے ذرائع سمجھے جاتے ہیں وہ بالکل اَور ہیں۔ انجمنیں اَور طرح ترقی کرتی ہیں اور دین اَور طرح۔ دین کی ترقی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اخلاق کی درستی کی جائے۔‘‘ (دین کی ترقی کے لئے ضروری چیز ہے کہ اخلاق درست ہوں۔ اعلیٰ اخلاق ہوں۔ ) ’’قربانی اور ایثار کا مادہ پیدا کیا جائے۔ نمازیں پڑھی جائیں‘‘ (تا کہ روحانیت میں ترقی ہو۔) ’’روزے رکھے جائیں۔ اللہ تعالیٰ پر توکّل پیدا کیا جائے۔ اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کا عہد کیا جائے۔ اگر ہم یہ تمام باتیں کریں گے تو گو دنیا کی نگاہ میں ہم پاگل قرار پائیں گے مگر خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ہم سے زیادہ عقلمند اور کوئی نہیں ہو گا۔ قرآن کریم میں آتا ہے کہ مسلمان جب مالی قربانیاں کرتے ہیں تو منافق کہا کرتے ہیں کہ یہ مسلمان تو احمق ہیں۔ بس روپیہ برباد کیئے چلے جا رہے ہیں۔ انہیں کچھ ہوش نہیں کہ اپنے روپیہ کو کسی اچھے کام پر لگائیں۔ اسی طرح جب وہ اوقات کی قربانی کرتے تو پھر وہ کہتے کہ یہ تو پاگل ہیں۔ اپنا وقت برباد کر رہے ہیں۔ انہوں نے ترقی خاک کرنی ہے۔ گویا مسلمانوں کو یا وہ احمق قرار دیتے یا ان کا نام مجنون رکھتے۔ یہی دو نام انہوں نے مسلمانوں کے رکھے ہوئے تھے۔ مگر دیکھو کہ پھر وہی احمق اور مجنون دنیا کے عقلمندوں کے استاد قرار پائے۔ پس ہماری جماعت جب تک وہی احمقانہ رویّہ اختیار نہیں کرے گی جس کو کافر اور منافق احمقانہ قرار دیتے تھے اور ہماری جماعت جب تک وہی مجنونانہ رویّہ اختیار نہیں کرے گی جس کو کافر اور منافق مجنونانہ رویہ قرار دیتے تھے اس وقت تک اسے کبھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ اگر تم چاہو کہ تم ضرورت کے موقع پر جھوٹ بھی بول لیا کرو۔ اگر تم چاہو کہ تم ضرورت کے موقع پر دھوکہ فریب کر بھی لیا کرو۔ اگر تم چاہو کہ تم ضرورت کے موقع پر چالبازی سے کام لے لیا کرو۔ اگر تم چاہو کہ تم ضرورت کے موقع پر غیبت اور چغلی سے بھی کبھی کبھی فائدہ لے لیا کرو اور پھر یہ امید رکھو کہ تمہیں کامیابی حاصل ہو جائے تو یاد رکھو تمہیں ہرگز وہ کامیابی حاصل نہیں ہو گی جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے فرمایا ہے۔ یہ چیزیں دنیا کی انجمنوں میں بیشک کام آیا کرتی ہیں۔‘‘ (دھوکہ بھی، فریب بھی، غیبت بھی، چغلی بھی ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنا بھی) ’’مگر دین میں ان کی وجہ سے برکت نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی لعنت اترا کرتی ہے۔‘‘ (خطبات محمود جلد 19 صفحہ 688-686۔ الفضل 27 ستمبر 1938ء صفحہ 3)

اس لئے تمام اعلیٰ اخلاق، روحانیت میں ترقی، یہ چیزیں دینی جماعتوں میں ہونی چاہئیں۔ پس ہر احمدی کو اپنے ایمانداری کے معیاروں کو، روحانیت کے معیاروں کو بہت بلند کرنے کی ضرورت ہے۔

پھر ایک واقعہ آپ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے قیام کا پس منظر اور ضرورت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک وہ زمانہ تھا جب تعلیم الاسلام کالج کا آغاز ہوا۔ اس وقت یہ سوچ ہو رہی تھی کہ اتنے لاکھ روپیہ ہمیں فوری طور پر چاہئے اور اتنے لاکھ سالانہ آمد چاہئے تا کہ کالج جاری رکھا جائے اور بڑے بڑے منصوبے لاکھوں میں بن رہے تھے۔ تو اس وقت آپ فرماتے ہیں کہ: ’’ایک وہ زمانہ تھا کہ ہمارے لئے ہائی کلاسز کو جاری کرنا بھی مشکل تھا۔ یہاں (قادیان میں ) آریوں کا مڈل سکول ہوا کرتا تھا‘‘۔ ’’شروع شروع میں اس میں ہمارے لڑکے جانے شروع ہوئے تو آریہ ماسٹروں نے ان کے سامنے لیکچر دینے شروع کئے کہ تم کو گوشت نہیں کھانا چاہئے۔‘‘ (ہندو گوشت نہیں کھاتے۔ ) ’’گوشت کھانا ظلم ہے۔ وہ اس قسم کے اعتراضات کرتے جو کہ اسلام پر حملے تھے۔ لڑکے سکول سے آتے اور یہ اعتراضات بتلاتے۔‘‘ (فرماتے ہیں کہ) ’’یہاں (قادیان میں) ایک پرائمری سکول تھا اس میں بھی اکثر آریہ مدرس‘‘ (ٹیچر) ’’آیا کرتے اور یہی باتیں سکھلایا کرتے تھے۔ پہلے دن جب میں سرکاری پرائمری سکول میں پڑھنے گیا‘‘ (یعنی حضرت مصلح موعود اپنا بیان فرما رہے ہیں کہ جب میں اس سرکاری پرائمری سکول میں پڑھنے گیا) ’’اور دوپہر کو میرا کھانا آیا تو میں سکول سے باہر نکل کر ایک درخت کے نیچے جو پاس ہی تھا کھانا کھانے کے لئے جابیٹھا۔ مجھے خوب یاد ہے کہ اس روز کلیجی پکی تھی اور وہی میرے کھانے میں بھجوائی گئی۔ اس وقت میاں عمر دین صاحب مرحوم جو میاں عبداللہ صاحب کے والد تھے وہ بھی اسی سکول میں پڑھا کرتے تھے لیکن وہ بڑی جماعت میں تھے اور میں پہلی کلاس میں تھا۔ میں کھانا کھانے بیٹھا تو وہ بھی آ پہنچے اور دیکھ کر کہنے لگے۔ ’ہیں ماس کھاندے او ماس‘۔ حالانکہ وہ مسلمان تھے۔ اس کی یہی وجہ تھی کہ آریہ ماسٹر سکھلاتے تھے کہ گوشت خوری ظلم ہے اور بہت بری چیز ہے۔ ماس کا لفظ میں نے پہلی دفعہ ان سے سنا تھا۔ اس لئے میں سمجھ نہ سکا کہ ماس سے مراد گوشت ہے۔ چنانچہ میں نے کہا یہ ماس تو نہیں کلیجی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماس گوشت کوہی کہتے ہیں۔ پس میں نے ماس کا لفظ پہلی دفعہ ان کی زبان سے سنا اور ایسی شکل میں سنا کہ گویا ماس خوری بری ہوتی ہے اور اس سے بچنا چاہئے۔ غرض آریہ مدرّس اس قسم کے اعتراضات کرتے رہتے اور لڑکے گھروں میں آ کر بتاتے کہ وہ یہ اعتراض کرتے ہیں۔ آخر یہ معاملہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا جس طرح بھی ہو سکے جماعت کو قربانی کر کے ایک پرائمری سکول قائم کر دینا چاہئے۔ چنانچہ پرائمری سکول کھل گیا اور یہ سمجھا گیا کہ ہماری جماعت نے انتہائی مقصد حاصل کر لیا۔ اس عرصے میں ہمارے بہنوئی نواب محمد علی خان صاحب مرحوم مغفور ہجرت کر کے قادیان آ گئے۔ انہیں سکولوں کا بڑا شوق تھا۔ چنانچہ انہوں نے ملیر کوٹلے میں بھی ایک مڈل سکول قائم کیا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اس سکول کو مڈل کر دیا جائے‘‘ (یعنی قادیان والے کو)۔ ’’میں وہاں سکول کو بند کر دوں گا اور وہ امداد یہاں دے دیا کروں گا۔ چنانچہ قادیان میں مڈل سکول ہو گیا۔ پھر بعد میں کچھ نواب محمد علی صاحب اور کچھ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شوق کی وجہ سے فیصلہ کیا گیا کہ یہاں ہائی سکول کھولا جائے۔ چنانچہ پھر یہاں ہائی سکول کھول دیا گیا۔ لیکن یہ ہائی سکول پہلے نام کا تھا کیونکہ اکثر پڑھانے والے انٹرنس پاس تھے اور بعض شاید انٹرنس فیل بھی لیکن بہرحال ہائی سکول کا نام ہو گیا۔ زیادہ خرچ کرنے کی جماعت میں طاقت نہ تھی اور نہ ہی خیال پیدا ہو سکتا تھا لیکن آخر یہ وقت بھی آ گیا کہ گورنمنٹ نے اس بات پر خاص زور دینا شروع کیا کہ سکول اور بورڈنگ بنائے جائیں نیز یہ کہ سکول اور بورڈنگ بنانے والوں کو امداد دی جائے گی۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے عہد خلافت میں یہ سکول بھی بنا اور بورڈنگ بھی۔ پھر آہستہ آہستہ عملے میں اصلاح شروع ہوئی اور طلباء بڑھنے لگے۔ پہلے ڈیڑھ سو تھے، پھر تین چار سو ہوئے، پھر سات آٹھ سو ہو گئے اور مدتوں تک یہ تعداد رہی۔ اب تین چار سالوں میں آٹھ سو سے ایک دم ترقی کر کے سکول کے لڑکوں کی تعداد سترہ سو ہو گئی ہے اور میں نے سنا ہے کہ ہزار سے اوپر لڑکیاں ہو گئی ہیں۔ گویا لڑکے اور لڑکیاں ملا کر تقریباً تین ہزار بن جاتی ہیں۔ پھر مدرسہ احمدیہ بھی قائم ہوا اور کالج بھی۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے مدرسہ احمدیہ میں بھی میری گزشتہ تحریک کے تحت طلباء بڑھنے شروع ہوئے ہیں اور پچیس تیس طلباء ہر سال آنے شروع ہو گئے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ بڑھتا رہا تو مدرسہ احمدیہ اور کالج کے طلباء کی تعداد بھی چھ سات سو تک یا اس سے بھی زیادہ تک پہنچ جائے گی اور اس طرح ہمیں سو مبلغ ہر سال مل جائے گا۔ جب تک ہم اتنے مبلغین ہر سال حاصل نہ کریں ہم دنیا میں صحیح طور پر کام نہیں کر سکتے۔‘‘ (یعنی یہ کم از کم تھا۔ اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سینکڑوں میں ہو رہے ہیں۔) ’’1944ء میں مَیں نے کالج کی بنیاد رکھی تھی کیونکہ اب وقت ہو گیا تھا کہ ہماری آئندہ نسل کی اعلیٰ تعلیم ہمارے ہاتھ میں ہو۔ ایک زمانہ وہ تھا کہ ہماری جماعت میں بہت چھوٹے عہدوں اور بہت چھوٹی آمدنیوں والے لوگ شامل تھے۔‘‘ (بیشک اس سے جماعت کی تاریخ کا بھی پتا لگتا ہے کہ) ’’بیشک کچھ لوگ کالجوں میں سے احمدی ہو کر جماعت میں شامل ہوئے لیکن وہ حادثے کے طور پر سمجھے جاتے تھے ورنہ اعلیٰ مرتبوں والے اور اعلیٰ آمدنیوں والے لوگ ہماری جماعت میں نہیں تھے سوائے چند محدود لوگوں کے۔ ایک تاجر سیٹھ عبدالرحمن حاجی اللہ رکھا صاحب مدراسی تھے لیکن ان کی تجارت ٹوٹ گئی۔ ان کے بعد شیخ رحمت اللہ صاحب ہوئے۔ ان کے سوا کوئی بھی بڑا تاجر ہماری جماعت میں نہیں تھا اور نہ کوئی بڑا عہدیدار ہماری جماعت میں شامل تھا یہاں تک کہ حضرت خلیفہ اول ایک دفعہ مجھے فرمانے لگے۔ دیکھو میاں قرآن کریم اور احادیث سے پتا لگتا ہے کہ انبیاء پر ابتداء میں بڑے لوگ ایمان نہیں لاتے۔ چنانچہ یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کا ایک ثبوت ہے کہ ہماری جماعت میں کوئی بڑا آدمی شامل نہیں۔ چنانچہ کوئی ای اے سی ہماری جماعت میں داخل نہیں۔ گویا اس وقت کے لحاظ سے ای اے سی‘‘ (یہ گورنمنٹ سروس کے جو اسسٹنٹ کمشنر ہیں ان کو شاید کہتے ہیں۔ ) ’’بہت بڑا آدمی ہوتا تھا۔‘‘ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں ’’مگر دیکھو اب کئی ای اے سی یہاں گلیوں میں پھرتے ہیں اور ان کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔ لیکن ایک وقت میں اعلیٰ طبقے کے لوگوں کا ہماری جماعت میں اس قدر فقدان تھا کہ حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ ہماری جماعت میں کوئی بڑا آدمی داخل نہیں۔ چنانچہ کوئی ای اے سی ہماری جماعت میں داخل نہیں۔ گویا اس وقت کے لحاظ سے ہماری جماعت ای اے سی کو بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی۔‘‘ (خطبات محمود جلد 27 صفحہ 150تا 153)

آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا میں سینکڑوں سکول اور کالج جماعت کے چل رہے ہیں اور آج دنیا کے مختلف ممالک میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے بڑے ماہرین اور افسران بھی جماعت میں شامل ہیں۔ ملکی پارلیمنٹوں کے ممبر احمدی ہیں اور اخلاص میں بھی بڑھے ہوئے ہیں۔ یہ نہیں کہ صرف دنیا داری ان میں آئی ہوئی ہے بلکہ افریقہ میں تو بعض ملکوں میں بعض اہم وزارتوں پر بھی احمدی فائز ہیں تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے ایک فضل ہے۔ کس طرح اللہ تعالیٰ ترقی دے رہا ہے۔

ابتدائی احمدیوں پر سختیوں اور پھر بہت ابتدائی زمانے میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ: ’’ایک زمانہ تھا جبکہ احمدی جماعت پر چاروں طرف سے سختی کی جاتی تھی‘‘۔ ’’مولویوں نے فتویٰ دیا کہ احمدیوں کو قتل کر دینا، ان کے گھروں کو لوٹ لینا، ان کی جائیدادوں کو چھین لینا، ان کی عورتوں کا بِلا طلاق دوسری جگہ پر نکاح کر دینا جائز ہی نہیں موجب ثواب ہے۔‘‘ (اور یہ چیز تو آج بھی ہے لیکن اس زمانے میں تو بہت غریب لوگ تھے اور بڑی سختی کی جاتی تھی تو یہ رویّہ تو مولویوں میں ہمیشہ سے رہا ہے اور آج تک قائم ہے لیکن بہر حال اس زمانے میں سختی کی شدت بھی بہت تھی کیونکہ جماعت بہت تھوڑی تھی۔ فرماتے ہیں کہ) ’’اور شریر اور بدمعاش لوگوں نے جو اپنی طمع اور حرص کے اظہار کے لئے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں اس فتوے پر عمل کرنا شروع کر دیا‘‘ (کہ بغیر نکاح کے عورتوں کو جائز کر لیا۔ یعنی احمدیوں سے طلاق دلوا کر اپنے سے نکاح کروا لیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ) ’’احمدی گھروں سے نکالے اور ملازمتوں سے برطرف کئے جا رہے تھے۔‘‘ (احمدی گھروں سے نکالے جا رہے تھے اور ملازمتوں سے برطرف کئے جا رہے تھے۔) ’’ان کی جائدادوں پر جبراً قبضہ کیا جاتا تھا اور کئی لوگ ان مخمصوں سے خلاصی کی کوئی صورت نہ پا کر ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے تھے اور چونکہ ہجرت کی جگہ ان کے لئے قادیان ہی تھی، ان کے قادیان آنے پر مہمان داری کے اخراجات اور بھی ترقی کر گئے تھے‘‘، (بڑھ گئے تھے۔) ’’اس وقت جماعت ایک دو ہزار آدمیوں تک ترقی کر چکی تھی مگر ان میں سے ہر ایک دشمن کے حملوں کا شکار ہو رہا تھا۔‘‘ (جماعت کی تعداد ایک دو ہزار تک پہنچ گئی تھی لیکن ہر ایک دشمن کے حملوں کا شکار تھا۔) ’’ایک دو ہزار آدمی جو ہر وقت اپنی جان اور اپنی عزت اور اپنی جائیداد اور اپنے مال کی حفاظت کی فکر میں لگے ہوئے ہوں اور رات دن لوگوں کے ساتھ مباحثوں اور جھگڑوں میں مشغول ہوں ان کا تمام دنیا میں اشاعت اسلام کے لئے روپیہ بہم پہنچانا اور دین سیکھنے کی غرض سے قادیان آنے والوں کی مہمان داری کا بوجھ اٹھانا اور پھر اپنے مظلوم مہاجر بھائیوں کے اخراجات برداشت کرنا ایک حیرت انگیز بات ہے۔‘‘ (یہ تاریخ بھی ہمیں پتا ہونی چاہئے۔ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔) ’’سینکڑوں آدمی دونوں وقت جماعت کے دسترخوان پر کھانا کھاتے تھے اور بعض غرباء کی دوسری ضروریات کا بھی انتظام کرنا پڑتا تھا۔ ہجرت کے لئے آنے والوں کی کثرت اور مہمانوں کی زیادتی سے مہمان خانے کے علاوہ ہر ایک گھر (قادیان میں) مہمان خانہ بنا ہوا تھا‘‘۔ ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر کی ہر ایک کوٹھڑی ایک مستقل مکان تھا۔‘‘ (یعنی ہر کمرہ جو تھا اس میں خاندان آباد تھے۔ یعنی ایک ایک کمرہ جو تھا ایک ایک خاندان کو ملا ہوا تھا اور مکان بن گیا تھا) ’’جس میں کوئی نہ کوئی مہمان یا مہاجر خاندان رہتا تھا۔ غرض بوجھ انسانی طاقتِ برداشت سے بہت بڑھا ہوا تھا۔ ہر صبح جو چڑھتی اپنے ساتھ تازہ تازہ ابتلاء اور تازہ ذمہ داریاں لاتی اور ہر شام جو پڑتی اپنے ساتھ ساتھ تازہ ابتلاء اور تازہ ذمہ داریاں لاتی مگر اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ کی نسیم سب فکروں کو خس و خاشاک کی طرح اڑا کر پھینک دیتی اور وہ بادل جو ابتدائے سلسلہ کی عمارت کی بنیادوں کو اکھاڑ کر پھینک دینے کی دھمکی دیتے تھے تھوڑی ہی دیر میں رحمت اور فضل کے بادل ہو جاتے اور ان کی ایک ایک بوند کے گرتے وقت اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ کی ہمت افزا آواز پیدا ہوتی۔‘‘ (دعوۃ الامیر، انوار العلوم جلد7 صفحہ566-565)

یعنی اتنی سختی تھی لیکن پھر بھی یہ یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے کافی ہے اور انشاء اللہ حالات بدلیں گے۔

آج بھی گو پاکستان میں خاص طور پر اور بعض دوسرے ممالک میں مسلمانوں میں کچھ شدت ہے۔ پاکستان میں تو زیادہ ہے، باقی ممالک میں کچھ حد تک احمدیوں کے حالات تنگ ہیں لیکن اس کے باوجود کسمپرسی کی وہ حالت نہیں ہے۔ مالی لحاظ سے بھی بہتر ہیں اور باقی انتظامات بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے بہت بہتر ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا اظہار کر رہے ہیں۔ دنیا کے کونے کونے میں اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت پہنچ چکی ہے۔ ہجرت کر کے صرف ایک جگہ نہیں اکٹھے ہوتے بلکہ احمدی دنیا میں نکل چکے ہیں۔ اگر تنگی ہے تو باہر نکل گئے ہیں اور باہر اللہ تعالیٰ کے فضل سے مزید کشائش پیدا ہو رہی ہے اور اگر بعض مشکلات ہوتی بھی ہیں تواَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ کی آواز آج بھی ہمارا سہارا بنتی ہے۔ دنیا کے کونے کونے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لنگر قائم ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے، اگر ہم اس کے ساتھ چمٹے رہیں تو، نہ کبھی ہمیں چھوڑا ہے، نہ کبھی چھوڑے گا۔ انشاء اللہ۔ قربانیاں بیشک دینی پڑتی ہیں اور احمدی اللہ تعالیٰ کے فضل سے دیتے ہیں لیکن ہر قربانی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو لئے ہوئے ایک نیا رستہ ہمیں دکھاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے دینے میں کبھی کمی نہیں کرتا۔

پھر حضرت مصلح موعودؓ حفاظتِ الٰہی کے معجزہ کے بارے میں ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ: ’’ایک مثال حفاظت الٰہی کی مَیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں سے پیش کرتا ہوں۔ کنور سین صاحب جو لاء کالج لاہور کے پرنسپل ہیں ان کے والد صاحب سے حضرت صاحب کو بڑا تعلق تھا حتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کبھی روپیہ کی ضرورت ہوتی تو بعض دفعہ ان سے قرض بھی لے لیا کرتے تھے۔ (یہ کنور سین صاحب ہندو تھے۔) ان کو بھی حضرت صاحب سے بڑا اخلاص تھا۔ جہلم کے مقدمے میں انہوں نے اپنے بیٹے کو تار دی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے وکالت کریں۔ اس اخلاص کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ایام جوانی میں جب وہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام مع چند اور دوستوں کے سیالکوٹ میں اکٹھے رہتے تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کئی نشانات دیکھے تھے۔ چنانچہ ان نشانات میں سے ایک یہ ہے کہ ایک رات آپ دوستوں سمیت سو رہے تھے کہ آپ کی (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی) آنکھ کھلی۔ اور دل میں ڈالا گیا کہ مکان خطرے میں ہے۔ آپ نے ان سب دوستوں کو جگایا اور کہا کہ مکان خطرے میں ہے اس میں سے نکل چلنا چاہئے۔ سب دوستوں نے نیند کی وجہ سے پرواہ نہ کی اور یہ کہہ کر سو گئے کہ آپ کو وہم ہو گیا ہے۔ مگر آپ کا احساس برابر ترقی کرتا چلا گیا۔ آخر آپ نے پھر ان کو جگایا اور توجہ دلائی کہ چھت میں سے چڑچڑاہٹ کی آواز آتی ہے۔ مکان خالی کر دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا معمولی بات ہے ایسی آواز بعض جگہ لکڑی میں کیڑا لگنے سے آیا ہی کرتی ہیں۔ آپ ہماری نیند کیوں خراب کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پھر اصرار کیا کہ اچھا آپ لوگ میری بات مان کر ہی نکل چلیں۔ آخر مجبور ہو کر لوگ نکلنے پر رضا مند ہوئے۔ حضرت صاحب کو چونکہ یقین تھا کہ خدا میری حفاظت کے لئے مکان (کے) گرنے کو روکے ہوئے ہے۔ میری حفاظت کی وجہ سے مکان کے گرنے کو روکے ہوئے ہے اس لئے آپ نے انہیں کہا کہ پہلے آپ نکلو پیچھے میں نکلوں گا۔ جب وہ نکل گئے اور بعد میں حضرت صاحب نکلے تو آپ نے ابھی ایک ہی قدم سیڑھی پر رکھا تھا کہ چھت گر گئی۔ دیکھو آپ انجینئر نہ تھے کہ چھت کی حالت کو دیکھ کر سمجھ لیا ہو کہ گرنے کو تیار ہے۔ علاوہ ازیں جب تک آپ اصرار کر کے لوگوں کو اٹھاتے رہے اس وقت تک چھت اپنی جگہ پر قائم رہی اور جب تک آپ نہ نکل گئے تب تک بھی نہ گری۔ مگر جونہی کہ آپ نے پاؤں اٹھایا چھت زمین پر آ گری۔ یہ امر ثابت کرتا ہے کہ یہ بات کوئی اتفاقی بات نہ تھی بلکہ اس مکان کو حفیظ ہستی اس وقت تک روکے رہی جب تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن کی حفاظت اس حفیظ کے مدِّنظر تھی اس مکان سے نہ نکل آئے۔ پس صفت حفیظ کا وجود ایک بالارادہ ہستی پر شاہد ہے اور اس کا ایک زندہ گواہ ہے۔‘‘ (ماخوذ از ہستی باری تعالیٰ، انوار العلوم جلد6 صفحہ325-324)

پھر اسی طرح اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ سلوک کا ایک اور واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں امرتسر سے یکے پر سوار ہو کر روانہ ہوا۔ ایک بہت موٹا تازہ ہندو بھی میرے ساتھ ہی یکّے پر سوار ہوا۔ وہ مجھ سے پہلے یکّے کے اندر بیٹھ گیا اور اپنے آرام کی خاطر اپنی ٹانگوں کو اچھی طرح پھیلا لیا حتی کہ اگلی سیٹ جہاں میں نے بیٹھنا تھا وہ بھی بند کر دی۔ (اس میں بھی روک ڈال دی۔ ) چنانچہ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ) میں تھوڑی سی جگہ میں بیٹھا۔ ان دنوں دھوپ بہت سخت پڑتی تھی کہ انسان کے ہوش باختہ ہو جاتے تھے۔ مجھے دھوپ سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے (کیا انتظام کیا کہ) ایک بدلی بھیجی جو ہمارے یکّے کے ساتھ ساتھ سایہ کرتی ہوئی بٹالے تک آئی۔ یہ نظارہ دیکھ کر وہ ہندو کہنے لگا کہ آپ تو خدا تعالیٰ کے بڑے بزرگ معلوم ہوتے ہیں۔ (خطبات محمود جلد17 صفحہ535-534)

پس اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ایسا سلوک کرتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے مگر عبودیت شرط ہے اور ایسے انسان کا انجام ضرور بخیر ہو گا بظاہر وہ دنیا کی ظاہر بین نظروں میں ذلیل ہوتا نظر آ رہا ہو گالیکن انجامکار اس کو عزت حاصل ہو گی۔ بظاہر وہ بدنام بھی ہو رہا ہو گا لیکن انجامکار نیک نامی اسی کو حاصل ہو گی۔ گویا اس شخص کی ابتدا عبودیت سے اور انجام استعانت پر ختم ہو گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا صحیح عابد بن کر اس کی عبادت کی جائے، اس کی بندگی اختیار کی جائے تو اللہ تعالیٰ کی مدد پھر شامل حال رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ ہر شر کے خلاف پھر مدد فرماتا ہے۔

ایک عام پِیر اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرستادے کے نیک اثر ڈالنے اور نیکیاں بانٹنے اور اپنے مریدوں کی اصلاح کرنے اور انسانیت کے لئے درد میں کیا فرق ہوتا ہے؟ اس کی ایک مثال دیتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت منشی احمد جان صاحب لدھیانہ والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعوے سے پہلے ہی وفات پا گئے تھے مگر ان کی روحانی بینائی اتنی تیز تھی کہ انہوں نے دعوے سے پہلے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو لکھا کہ

ہم مریضوں کی ہے تمہی پہ نگاہ تم مسیحا بنو خدا کے لئے

انہوں نے (یعنی منشی احمد جان صاحب) نے اپنی اولاد کو نصیحت کی تھی کہ میں تو اب مر رہا ہوں مگر اس بات کو اچھی طرح یاد رکھنا کہ مرزا صاحب نے ضرور ایک دعویٰ کرنا ہے اور میری وصیت تمہیں یہی ہے کہ مرزا صاحب کو قبول کر لینا۔ غرض اس پائے کے وہ روحانی آدمی تھے۔ انہوں نے اپنی جوانی میں بارہ سال تک وہ چکّی جس میں بیل جویا جاتا ہے اپنے پِیر کی خدمت کرنے کے لئے چلائی۔ (پیر صاحب نے جو بیل لگتا ہے اس کی جگہ ان کو ایک چکّی پر لگا دیا تھا تا کہ وہ چکّی چلے) اور بارہ سال تک اس کے لئے آٹا پیستے رہے۔ تب انہوں نے روحانیت کے سبق ان کو سکھائے۔‘‘ (یعنی بارہ سال تک جب وہ بیل کی طرح چکّی پیستے رہے تب پِیر صاحب نے ان کو روحانیت کے کچھ سبق دئیے۔ ) فرماتے ہیں ’’تو وہ لوگ جو روحانی کہلاتے تھے (اس زمانے میں جو پیر تھے، جو لوگ روحانی کہلاتے تھے) وہ بھی لوگوں کو روحانی باتیں بتانے میں سخت بخل سے کام لیا کرتے تھے۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نہ صرف وہ ساری باتیں دنیا کو بتا دیں بلکہ اس سے ہزاروں گنا زیادہ اَور باتیں بھی ایسی بتائیں جو پہلے لوگوں کو معلوم نہیں تھیں اور اس طرح علوم کو آپ نے ساری دنیا میں بکھیر دیا۔ مگر جیسا کہ حدیثوں میں خبر دی گئی تھی دنیا نے اس کی قدر نہ کی۔ (خطبات محمود جلد25 صفحہ24-23)

پس بظاہر روحانی لوگ اس شخص کا مقابلہ نہیں کر سکتے جس کو خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے مامور کیا ہو کہ دنیا کی اصلاح کرنی ہے، اس کی روحانیت میں اضافہ کرنا ہے، اسے خدا تعالیٰ کے قریب لانا ہے جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ’’وہ کام جس کے لئے خدا نے مجھے مامور فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدامیں اور اس کی مخلوق کے رشتے میں جو کدورت واقع ہو گئی ہے اس کو دور کر کے محبت اور اخلاص کے تعلق کو دوبارہ قائم کروں۔‘‘

پھر آپ نے فرمایا کہ ’’دینی سچائیاں جو دنیا کی آنکھ سے مخفی ہو گئی ہیں ان کو ظاہر کر دوں۔ اور وہ روحانیت جو نفسانی تاریکیوں کے نیچے دب گئی ہے اس کا نمونہ دکھلاؤں۔‘‘

فرمایا: ’’اور سب سے زیادہ یہ کہ وہ خالص اور چمکتی ہوئی توحید جو ہر ایک شرک کی آمیزش سے خالی ہے جو اب نابود ہو چکی ہے اس کا دوبارہ قوم میں دائمی پودا لگا دوں۔‘‘ (لیکچر لاہور۔ روحانی خزائن جلد20 صفحہ180)

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ بیعت کا حق ادا کرتے ہوئے خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے والے ہوں۔ دینی سچائیوں کو پہچان کر ان پر عمل کرنے والے ہوں۔ روحانیت میں ترقی کرنے والے ہوں اور توحید کی حقیقی چمک سے حصہ پانے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ دنیا کو بھی اس پہچان کی توفیق عطا فرمائے اور خاص طور پر مُسلم اُمّہ کو یہ توفیق دے کہ وہ مسیح اور مہدی معہود علیہ السلام کے درد کو سمجھتے ہوئے اس کی بیعت میں آنے کی توفیق پائیں۔

نمازوں کے بعد مَیں دو جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔ ایک تو مکرم نعمان احمدنجم صاحب ابن مکرم چوہدری مقصود احمد صاحب ملیر رفاہِ عام سوسائٹی کراچی کا ہے۔ مکرم نعمان احمد صاحب نجم کو کراچی میں مخالفین احمدیت نے مؤرخہ 21؍مارچ 2015ء کو شام تقریباً پونے آٹھ بجے ان کی دکان پر آ کر فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا۔ انّا لِلّٰہ و انّا الیہ راجعون۔ اس روز شام پونے آٹھ بجے شہید مرحوم اپنے سٹور پر تھے۔ دو مسلح افرادنے سٹور پر آکر فائرنگ کر دی۔ ایک گولی سینے میں لگی اور دل کو چھوتی ہوئی آر پار ہو گئی۔ قریبی دکانداروں نے ان کے بھائی مکرم عثمان احمد صاحب کو فون کر کے اطلاع دی۔ پھر ریسکیو والوں کو بھی اطلاع دی۔ وہ فوری طور پر دکان پر آئے۔ نعمان صاحب کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال لے جا رہے تھے لیکن راستے میں ہی وہ شہید ہو گئے۔ انّا لِلّٰہ و انّا الیہ راجعون۔

شہید مرحوم کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ ان کے دادا مکرم چوہدری منظور احمد صاحب ابن مکرم چوہدری کریم الدین صاحب کے ذریعے ہوا تھا جنہوں نے خلافت ثانیہ کے دور میں بیعت کی تھی۔ چوہدری منظور احمد صاحب کے والدین چھوٹی عمر میں وفات پا گئے تھے۔ والدین کی وفات کے بعد چوہدری منظور صاحب قادیان چلے گئے جہاں بیعت کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ابتدائی تعلیم بھی قادیان میں حاصل کی۔ وہیں پر محترمہ صفیہ صادقہ صاحبہ بنت مکرم مبارک علی صاحب کے ساتھ شادی ہوئی۔ پھر قیام پاکستان کے بعد ہڑپہ ساہیوال میں آگئے۔ شہید مرحوم کے والد مکرم مقصود احمد صاحب ربوہ میں ہی پیدا ہوئے۔ پھر یہ وہاں ربوہ سے بھی شفٹ کر گئے۔ شہید مرحوم کے دادا نے گوجرانوالہ میں ملازمت کی وجہ سے1968ء میں مع فیملی رہائش اختیار کر لی۔ 1974ء میں جب گوجرانوالہ میں ہنگامے ہوئے تو احمدیہ بیت الذکر کی حفاظت کرتے ہوئے شہید مرحوم کے دادا مکرم چوہدری منظور احمد صاحب، چچا مکرم محمود احمد صاحب اور پھوپھا مکرم سعید احمد صاحب بھی شہید ہو گئے۔ ان سے پہلے اس خاندان میں یہ تین شہداء تھے۔ ان حالات کی بناء پر یہ خاندان 1976ء میں کراچی شفٹ ہو گیا۔

نعمان احمدنجم صاحب 26؍ جنوری 1985ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ آپ کی تعلیم ایم بی اے تھی۔ اس کے بعد انہوں نے 2008ء میں اپنے کمپیوٹر ہارڈویئر کا بزنس شروع کر دیا۔ مرحوم اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ نہایت ایماندار، نیک دل، نیک سیرت، شریف النفس اور ملنسار تھے۔ نہایت مخلص اور فدائی نوجوان تھے۔ ملازمین کو بھی چھوٹے بھائیوں کی طرح رکھا ہوا تھا۔ نگرپارکر مٹھی میں جماعت کے زیر انتظام قائم شدہ کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ اور مشن ہاؤس کے لئے کچھ کمپیوٹر اور متعلقہ سامان تحفے کے طور پر پیش کیا۔ وہاں سسٹم خود انسٹال (install) کر کے آئے۔ شہید مرحوم کی خواہش تھی کہ اپنے دادا مکرم چوہدری منظور احمد صاحب شہید کے نام سے ایک کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ بنائیں تا کہ ان کے شہید دادا کا نام ہمیشہ زندہ رہے اور اسی لئے انہوں نے مٹھی میں کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ کو کچھ سامان اور کمپوٹر وغیرہ تحفہ بھی دئیے تھے۔ بڑی ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ غیر از جماعت لوگ بھی کہتے تھے کہ یہ ایک فرشتہ ہے۔ اس وقت رفاہِ عام سوسائٹی میں بحیثیت قائد مجلس خدمت کی توفیق پا رہے تھے۔ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے اور جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کے حصہ لینے والے تھے۔ مخالفین کی طرف سے ان کو دھمکیاں ملتی رہتی تھیں لیکن اپنے چھوٹے بھائیوں کو ہمیشہ محتاط رہنے کی تلقین کرتے تھے۔ چھ ماہ قبل شہید مرحوم اپنا کاروباری سامان لے کر آ رہے تھے کہ اس وقت ان کو نامعلوم افرادنے روک کر سامان بھی لے لیا اور رقم بھی لوٹ لی اور ساتھ یہ بھی کہا کہ ہم آئے تو تم کو مارنے تھے مگر چونکہ رقم مل گئی ہے اس لئے چھوڑ رہے ہیں۔ شہید مرحوم کے پسماندگان میں والد مکرم چوہدری مقصود احمد صاحب، والدہ محترمہ صفیہ صادقہ صاحبہ اور دو بھائی ذیشان محمود اور عثمان احمد ہیں۔ اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند کرے اور ان کے لواحقین کو، والدین کو، بھائیوں کو حوصلہ دے۔

خرم احمد صاحب معلم سلسلہ ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ شہید بڑے نرم گو تھے۔ محبت کرنے والے تھے۔ جماعتی خدمت کا جذبہ رکھنے والے نوجوان تھے اور بڑی محنت سے انہوں نے وہاں انسٹال کیا جیسا کہ پہلے ذکر ہوا ہے۔ کئی دفعہ وہاں نگر پارکر میں آتے تھے جو سندھ کا بڑا دور دراز علاقہ ہے۔ کئی بار جب وہاں پہنچتے تو ان کو کہا جاتا کہ آپ تھکے ہوئے ہیں آرام کر لیں، پھر کام کریں لیکن ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ ہم مجاہد ہیں۔ ہمیں شہری دیکھ کر یہ نہ سمجھیں کہ ہم نازک مزاج ہیں۔ اور ہمیشہ خدمت کے لئے تیار رہتے۔ سابق قائد علاقہ منصور صاحب ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں ان کو اس وقت سے جانتا ہوں جب یہ بارہ سال کے تھے اور اطفال میں تھے۔ ہمیشہ بڑے شوق اور جوش اور ولولے سے جماعتی کاموں میں، مقابلوں میں حصہ لیا کرتے تھے۔ ہمیشہ پوزیشن لیتے تھے اور کہتے تھے میری پوزیشن ہمیشہ اوّل ہی آتی ہے۔ اسی کے لئے کوشش کرتے۔ کبھی دوم اور سوم پوزیشن پر راضی نہیں ہوتے تھے۔ سکول کے بعد اپنے والد صاحب کی دوکان پر ان کا ہاتھ بٹاتے لیکن ساتھ ہی جماعتی ذمہ داریوں کو بھی انجام دے رہے ہوتے اور یوں لگتا تھا کہ وہ اپنے گھر یا ذاتی کاموں کو اتنا وقت نہیں دیتے جتنا وقت وہ جماعت کو دیا کرتے تھے۔ اَور نوجوانوں کی طرح کبھی اپنے وقت کو انہوں نے ضائع نہیں کیا۔ انتہائی عاجزی اور انکساری کے ساتھ بات کرنے والے تھے۔ ٹومی کالون صاحب کے بھی رشتے دار ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے خاندان نے کوشش کی کہ وہ پاکستان سے باہر آ جائیں بڑا اصرار کیا لیکن وہ پاکستان چھوڑنے پر راضی نہیں تھے۔

عمران طاہر صاحب مربی سلسلہ ہیں وہ کہتے ہیں کہ میرے عزیز بھی تھے۔ بیس سال کے عرصہ میں میں نے انہیں ایک دفعہ بھی کسی پر چلّاتے نہیں دیکھا۔ سختی سے بات کرتے نہیں دیکھا۔ عاجزی، مسکینی اور حلم کی تصویر تھے۔ نہایت باادب اور محبت کرنے والے انسان تھے۔ کینیڈا میں ان کی ایک خالہ زاد عزیزہ ہیں وہ کہتی ہیں (جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا) کراچی کے حالات کے پیش نظر ان سے ہجرت کرنے کے لئے کہا جاتا لیکن انہوں نے ہمیشہ ہر قسم کے حالات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی والدہ کے ساتھ پاکستان رہنا ہی پسند کیا۔ اپنی والدہ کی ہر خواہش اور ضرورت کا خیال رکھنے والے تھے۔

مشہود حسن خالد صاحب مربی ہیں کہتے ہیں کہ ایک دن خاکسار شہید مرحوم کے ساتھ بیٹھا باتیں کر رہا تھا کہ شہید مرحوم نے کہا کہ وہ کون خوش نصیب لوگ ہوتے ہیں جو شہید ہوتے ہیں۔ شاید ان کی یہ تمنا ہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ مقام دیا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔

دوسرا جنازہ مکرم انجینئر فاروق احمد خان صاحب نائب امیر جماعت ضلع پشاور کا ہے۔ فاروق احمد خان صاحب مکرم محمود احمد خان صاحب کے بیٹے تھے۔ یہ شوریٰ کے بعد ربوہ سے پشاور جا رہے تھے۔ گاڑی کا ٹائر برسٹ (burst) ہو گیا جس کی وجہ سے حادثہ پیش آیا اور چکوال کے قریب گاڑی سے باہر سڑک پر آگرے جس کی وجہ سے زیادہ چوٹیں آئیں۔ ہائی وے پولیس نے ان کو فوری طور پر چکوال ہسپتال پہنچایا لیکن جانبر نہ ہوسکے۔ اِنّالِلّٰہ وانّا اِلَیہ راجعون۔

فاروق صاحب کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ ان کے دادا مکرم احمد گل صاحب کے ذریعہ سے ہوا جنہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی لیکن خلافت ثانیہ میں پھر یہ غیر مبائعین میں چلے گئے۔ بعد میں فاروق خان صاحب نے خود 1989ء (Eighty nine) میں بیعت کی اور جماعت احمدیہ مبائعین میں شامل ہوئے۔ پھر اس کے بعد ان کے دو بھائیوں نے بھی بیعت کر لی۔ 1954ء میں یہ پیدا ہوئے تھے۔ مائننگ انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کی۔ پھر حکومت کے مائننگ ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتے رہے۔ 1985ء میں ایک احمدی خاندان میں ان کی شادی ہوئی اور بڑے ملنسار، نیک سیرت، شریف النفس تھے۔ جماعت احمدیہ پشاور کے سیکرٹری اصلاح و ارشاد کی حیثیت سے بھی انہوں نے کام کیا۔ مرحوم خدا تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور ان کے پسماندگان کو بھی اللہ تعالیٰ صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔ ان کی اہلیہ دو بیٹے بعمر 25سال اور 17 سال اور ایک بیٹی سوگوار ہیں۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 27؍ مارچ 2015ء شہ سرخیاں

    تین چار سال پہلے مَیں نے جماعتوں کو کہا تھا کہ ورقہ دو ورقہ بنا کر تبلیغ کا کام کریں اور اس کا ٹارگٹ بھی دیا تھا کہ لاکھوں کی تعداد میں ہونا چاہئے جس سے اسلام کی خوبصورت تعلیم کا بھی دنیا کو پتا لگے۔ دنیا کو یہ پیغام ملے کہ اسلام کی حقیقت کیا ہے۔ دنیا کو پیغام ملے کہ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیج کر پھر سے اسلام کی نشأۃ ثانیہ فرمائی ہے اور حقیقی تعلیم کو جاری فرمایا ہے۔ یہ دنیا کو پتا لگے کہ اب بھی خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو شیطان سے بچانے کے لئے اپنے فرستادوں کو بھیجتا ہے۔ بہر حال جن جماعتوں نے اس سلسلے میں کام کیا اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے مثبت نتائج وہاں نکلے ہیں۔ پس اس کے لئے ایک کے بعد دوسرا دو ورقہ شائع ہوتے رہنا چاہئے اور اس کو تقسیم کرتے چلے جانا چاہئے۔

    آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا میں سینکڑوں سکول اور کالج جماعت کے چل رہے ہیں اور آج دنیا کے مختلف ممالک میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے بڑے ماہرین اور افسران بھی جماعت میں شامل ہیں۔ ملکی پارلیمنٹوں کے ممبر احمدی ہیں اور اخلاص میں بھی بڑھے ہوئے ہیں۔ دنیا کے کونے کونے میں اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت پہنچ چکی ہے۔ دنیا کے کونے کونے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لنگر قائم ہیں۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ چمٹے رہیں تو اس نے نہ کبھی ہمیں چھوڑا ہے، نہ کبھی چھوڑے گا۔ انشاء اللہ۔ قربانیاں بیشک دینی پڑتی ہیں اور احمدی اللہ تعالیٰ کے فضل سے دیتے ہیں لیکن ہر قربانی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو لئے ہوئے ایک نیا رستہ ہمیں دکھاتی ہے۔

    حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے بیان فرمودہ متفرق واقعات کا ایمان افروز بیان جن سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت اور جماعتِ احمدیہ کی تاریخ پر روشنی پڑتی ہے۔

    عزیزم نعمان احمدنجم ابن مکرم چوہدری مقصود احمدباجوہ صاحب آف کراچی کی شہادت اور مکرم انجنیئر فاروق احمد خان صاحب نائب امیر جماعت پشاور کی وفات۔ مرحومین کا ذکرِ خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 27؍مارچ 2015ء بمطابق27امان 1394 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور