سورج اور چاند گرہن

خطبہ جمعہ 20؍ مارچ 2015ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

آج یہاں سورج گرہن تھا۔ اسی طرح بعض اور ممالک میں بھی گرہن لگا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر خاص طور پر دعاؤں، استغفار، صدقہ خیرات اور نماز پڑھنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ (صحیح البخاری کتاب الکسوف باب الصلوٰۃ فی کسوف الشمس حدیث: 1044، صحیح مسلم کتاب الکسوف وصلاتہ باب ذکر النداء بصلاۃ الکسوف…حدیث: 2117)

اس لحاظ سے جماعت کو جہاں جہاں بھی گرہن لگنے کی خبر تھی ہدایت کی گئی تھی کہ نماز کسوف ادا کریں۔ ہم نے بھی یہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق یہ نماز ادا کی۔

احادیث میں اللہ تعالیٰ کے خاص نشانوں میں سے ایک نشان سورج اور چاند گرہن کو قرار دیا گیا ہے۔ (صحیح البخاری کتاب الکسوف باب صلاۃ النساء مع الرجال فی الکسوف حدیث: 1035)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق مسیح موعود کی آمد کی نشانیوں میں سے ایک بڑی زبردست نشانی سورج اور چاند گرہن تھا جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مشرق اور مغرب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تائید میں پورا ہوا۔ پس اس لحاظ سے گرہن کی نشانی کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور جماعت سے ایک خاص تعلق ہے۔

آج کا یہ گرہن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے نشان کے طور پر تو نہیں کہا جا سکتا۔ جو گرہن لگتے ہیں اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے نشان ہے مخصوص تو نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یہ گرہن اُس طرف توجہ ضرور پھیرتا ہے جو گرہن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کی نشانی کے طور پر ظاہر ہوا۔ اور پھر آج اِس دن کا گرہن اس لحاظ سے بھی اُس نشان کی طرف توجہ پھیرنے کا باعث ہے کہ آج جمعہ کا دن ہے اور جمعہ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آمد سے بھی ایک خاص نسبت ہے۔ پھر مارچ کا مہینہ ہونے کی وجہ سے بھی توجہ ہوتی ہے کیونکہ تین دن بعد اسی مہینہ کو 23؍مارچ کو یوم مسیح موعود بھی ہے۔ دعویٰ بھی ہوا۔ گویا یہ مہینہ، یہ دن اور یہ گرہن مختلف پہلوؤں سے جماعت کی تاریخ کو یاد کروانے والے ہیں۔ اس لئے میں نے جب نماز کسوف کے خطبے کے لئے حوالے لئے تو خیال آیا کہ جمعہ کے خطبے میں بھی گرہن کے حوالے سے ہی بات کروں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی چاند سورج گرہن کی پیشگوئی (جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی تھی) کے بارے میں آپ کے اقتباسات پیش کروں یا ایک آدھ اقتباس پیش کروں۔ اور اسی طرح صحابہ کے چند واقعات بھی جنہوں نے اس گرہن کو دیکھ کر سلسلے میں شمولیت اختیار کی اور اپنے ایمان کو صیقل کیا۔

جیسا کہ مَیں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گرہنوں کو خاص طور پر بڑی اہمیت دی ہے۔ اسی لئے جب ایک دفعہ آپ کی زندگی میں گرہن لگا تو اس حوالے سے بہت سی احادیث ہیں۔ تو پہلے ایک حدیث مَیں سامنے رکھتا ہوں۔ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جب سورج گرہن ہوا تو میں حضرت عائشہ کے پاس آئی تو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہی ہیں۔ مَیں نے کہا لوگوں کو کیا ہوا ہے اس وقت کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ حضرت عائشہ نے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور سبحان اللہ کہا۔ میں نے پوچھا کہ کیا کوئی نشان ہے؟ انہوں نے سر ہلا کر اشارے سے کہا: ہاں۔ اسماء کہتی ہیں کہ میں بھی کھڑی ہو گئی یہاں تک کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی۔ (یعنی نماز اتنی لمبی تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی۔) کہتی ہیں مجھے غشی طاری ہونے لگی تو میں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بھی ایسی چیز نہیں کہ جسے میں نے اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا مگر اپنی اس جگہ پر کھڑے کھڑے اسے دیکھ لیا۔ یہاں تک کہ جنت اور آگ کو بھی۔ اور مجھے وحی کی گئی ہے کہ تم قبروں میں آزمائے جاؤ گے دجّال کے فتنے کی طرح یا اس کے قریب۔

پھر فرمایا تم میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا۔ اس سے پوچھا جائے گا کہ اس شخص یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تجھے کیا علم ہے؟ تو مومن یا یقین رکھنے والا جو ہے، (اسماء کہتی ہیں دونوں میں سے کوئی ایک لفظ استعمال ہوا) کہے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ہمارے پاس نشانات اور ہدایت لے کر آئے ہم نے آپ کو قبول کیا اور ایمان لائے اور آپ کی پیروی کی۔ اسے کہا جائے گا تو عمدہ نیند سو جا۔ ہمیں پتا ہے کہ تو یقینا ایمان رکھنے والا تھا۔ اور جو شخص منافق یا شبہ رکھنے والا تھا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے بارے میں کہے گا مَیں نہیں جانتا، کیا ہیں۔ میں نے تو لوگوں کو سنا وہ ایک بات کہتے تھے مَیں نے بھی ہاں کہہ دی۔ (صحیح البخاری کتاب الکسوف باب صلاۃ النساء مع الرجل حدیث: 1035)

اسی طرح آپ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے۔ اس کا کسی کی زندگی اور موت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس میں دعا کرنی چاہئے۔ استغفار کرنا چاہئے۔ (صحیح مسلم کتاب الکسوف وصلاتہ باب ذکر النداء بصلاۃ الکسوف… حدیث: 2117)

اب میں چاند سورج گرہن کی پیشگوئی کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اقتباس پیش کرتا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں کہ:

’’مجھے بڑا تعجب ہے کہ باوجودیکہ نشان پر نشان ظاہر ہوتے جاتے ہیں مگر پھر بھی مولویوں کو سچائی کے قبول کرنے کی طرف توجہ نہیں۔ وہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ ہر میدان میں اللہ تعالیٰ ان کو شکست دیتا ہے اور وہ بہت ہی چاہتے ہیں کہ کسی قسم کی تائید الٰہی ان کی نسبت بھی ثابت ہو مگر بجائے تائید کے دن بدن ان کا خذلان اور ان کا نامراد ہونا ثابت ہوتا جاتا ہے۔ (یعنی ان کی بدنصیبی اور نامرادی ثابت ہوتی ہے۔ ) مثلاً جن دنوں میں جنتریوں کے ذریعہ سے یہ مشہور ہوا تھا کہ حال کے رمضان میں سورج اور چاند دونوں کو گرہن لگا تھا اور لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ یہ امام موعود کے ظہور کا نشان ہے تو اس وقت مولویوں کے دلوں میں یہ دھڑکا شروع ہو گیا تھا کہ مہدی اور مسیح ہونے کا مدّعی تو یہی ایک شخص میدان میں کھڑا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ لوگ اس کی طرف جھک جائیں۔ تب اس نشان کے چھپانے کے لئے اوّل تو بعض نے یہ کہنا شروع کیا کہ اس رمضان میں ہرگز کسوف خسوف نہیں ہو گا بلکہ اس وقت ہو گا کہ جب ان کے امام مہدی ظہور فرما ہوں گے۔ اور جب رمضان میں خسوف کسوف ہو چکا تو پھر یہ بہانہ پیش کیا کہ یہ کسوف خسوف حدیث کے لفظوں کے مطابق نہیں کیونکہ حدیث میں یہ ہے کہ چاند کو گرہن اوّل رات میں لگے گا اور سورج کو گرہن درمیان کی تاریخ میں لگے گا‘‘۔ فرمایا ’’حالانکہ اس کسوف خسوف میں چاند کو گرہن تیرھویں رات میں لگا اور سورج کو گرہن اٹھائیس تاریخ کو لگا۔ اور جب ان کو سمجھایا گیا کہ حدیث میں مہینے کی پہلی تاریخ مرادنہیں اور پہلی تاریخ کے چاند کو قمر نہیں کہہ سکتے اس کا نام تو ہلال ہے اور حدیث میں قمر کا لفظ ہے نہ ہلال کا لفظ۔ سو حدیث کے معنی یہ ہیں کہ چاند کو اس پہلی رات میں گرہن لگے گا جو اُس کے گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات ہے۔ یعنی مہینے کی تیرھویں رات۔ اور سورج کو درمیان کے دن میں گرہن لگے گا یعنی اٹھائیس تاریخ جو اس کے گرہن کے دنوں میں سے درمیانی دن ہے۔ تب یہ نادان مولوی اس صحیح معنے کو سن کر بڑے شرمندہ ہوئے اور پھر بڑی جانکاہی سے یہ دوسرا عذر بنایا کہ حدیث کے رجال میں سے ایک راوی اچھا آدمی نہیں ہے۔ (یعنی جو روایت کرنے والے تھے ان میں سے ایک راوی اچھا نہیں تھا۔ ) تب ان کو کہا گیا کہ جبکہ حدیث کی پیشگوئی پوری ہو گئی تو وہ جرح جس کی بناء شک پر ہے اس یقینی واقعے کے مقابل پر جو حدیث کی صحت پر ایک قوی دلیل ہے کچھ چیز ہی نہیں۔ یعنی پیشگوئی کا پورا ہونا یہ گواہی دے رہا ہے کہ وہ صادق کا کلام ہے اور اب یہ کہنا کہ وہ صادق نہیں بلکہ کاذب ہے بدیہیات کے انکار کے حکم میں ہے اور ہمیشہ سے یہی اصول محدثین کا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ شک یقین کو رفع نہیں کر سکتا۔ پیشگوئی کا اپنے مفہوم کے مطابق ایک مدعی مہدویت کے زمانے میں پوری ہو جانا اس بات پر یقینی گواہی ہے کہ جس کے منہ سے یہ کلمات نکلے تھے اس نے سچ بولا ہے۔ لیکن یہ کہنا اس کی چال چلن میں ہمیں کلام ہے۔ (یعنی مدّعی کے) یہ ایک شکّی امر ہے اور کبھی کاذب بھی سچ بولتا ہے(یعنی کبھی جھوٹا بھی سچ بول سکتا ہے۔ ) ماسوا اس کے یہ پیشگوئی اور طُرق سے بھی ثابت ہے اور حنفیوں کے بعض اکابر نے بھی اس کو لکھا ہے تو پھر انکار شرط انصاف نہیں ہے بلکہ سراسر ہٹ دھرمی ہے۔ اور اس دندان شکن جواب کے بعد انہیں یہ کہنا پڑا کہ یہ حدیث تو صحیح ہے اور اس سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ عنقریب امام موعود ظاہر ہو گا مگر یہ شخص امام موعودنہیں ہے (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) بلکہ وہ اَور ہو گا جو بعد میں اس کے عنقریب ظاہر ہو گا۔ مگر یہ ان کا جواب بھی بودا اور باطل ثابت ہوا کیونکہ اگر کوئی اور امام ہوتا تو جیسا کہ حدیث کا مفہوم ہے وہ امام صدی کے سر پر آنا چاہئے تھا مگر صدی سے بھی پندرہ برس گزر گئے اور کوئی امام ان کا ظاہر نہ ہوا۔ اب ان لوگوں کی طرف سے آخری جواب یہ ہے کہ یہ لوگ کافر ہیں۔ ان کی کتابیں مت دیکھو۔ ان سے ملاپ مت رکھو۔ ان کی بات مت سنو کہ ان کی باتیں دلوں میں اثر کرتی ہیں۔ لیکن کس قدر عبرت کی جگہ ہے کہ آسمان بھی ان کے مخالف ہو گیا اور زمین کی حالت موجودہ بھی مخالف ہو گئی۔ یہ کس قدر ان کی ذلّت ہے کہ ایک طرف آسمان ان کے مخالف گواہی دے رہا ہے اور ایک طرف زمین صلیبی غلبے کی وجہ سے گواہی دے رہی ہے۔ (ضرورۃ الامام، روحانی خزائن جلد 13صفحہ 507تا509)

اور ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ: ’’ہمارے لئے کسوف خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور صدہا آدمی اس کو دیکھ کر ہماری جماعت میں داخل ہوئے اور اس کسوف خسوف سے ہم کو خوشی پہنچی اور مخالفوں کو ذلّت۔ کیا وہ قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ ان کا دل چاہتا تھا کہ ایسے موقع پر جو ہم مہدی موعود کا دعویٰ کر رہے ہیں کسوف خسوف ہو جائے اور بلاد عرب میں اس کا نام و نشان نہ ہو اور پھر جبکہ خلاف مرضی ظاہر ہو گیا تو بیشک ان کے دل دکھے ہوں گے اور اس میں اپنی ذلّت دیکھتے ہوں گے۔ (انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد 9صفحہ 33)

اس کے بعد اب میں بعض صحابہ کے واقعات بیان کرتا ہوں۔ حضرت غلام محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خاکسار کے گاؤں میں پہلے پہل ایک صاحب مولوی بدرالدین صاحب نامی تھے۔ ان دنوں میں فدوی کی عمر قریباً پندرہ برس کی ہو گی۔ بندہ مولوی بدرالدین صاحب کے گھر کے سامنے ان کے ہمراہ کھڑا تھا کہ دن میں سورج کو گرہن لگا اور مولوی صاحب نے فرمایا: سبحان اللہ! مہدی صاحب کے علامات ظہور میں آ گئے اور ان کی آمد کا وقت آ پہنچا۔ بعد کچھ عرصہ گزرنے کے مولوی صاحب احمدی ہو گئے۔ مولوی صاحب بہت ہی مخلص اور نیک فطرت اور پُر اخلاص تھے۔ انہوں نے اپنے والدین اور بیوی کو ایک سال کی کوشش کر کے احمدی کیا۔ (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ، جلد 6صفحہ 305، 306روایت حضرت غلام محمد صاحبؓ والد علی بخش صاحب سکنہ قادرآباد ضلع امرتسر)

پھر حافظ محمد حیات صاحب آف لالیاں نے ایک مضمون لکھا تھا ’’لالیاں میں احمدیت‘‘۔ وہ لکھتے ہیں۔ نشان کسو ف و خسوف سے دلوں میں تحریک پیدا ہوئی۔ کہتے ہیں: اسی طرح 1894ء میں سورج اور چاند گرہن کے نشان کے پورا ہونے کی وجہ سے بھی لوگوں کے دلوں میں یہ جستجو پیدا ہوئی کہ امام مہدی کا ظہور ہو چکا ہے اور قیامت قریب ہے۔ روایات سے پتا چلتا ہے کہ لوگوں کے دلوں میں گھبراہٹ کا عالَم طاری تھا کہ اب کیا ہوگا۔ قیامت آ پہنچی ہے۔ اسی زمانے میں ان نشانات کا اکثر تذکرۃ تھا۔ چنانچہ حافظ محمد لکھوکے نے اپنی ’احوال الآخرۃ‘ میں امام مہدی کے ظہور کے نشانات کا اپنے پنجابی کلام میں ذکرکیا تھا۔ اسی طرح لالیاں کے ایک سجادہ نشین اور صوفی شاعر میاں محمد صدیق لالی نے بھی انہی نشانات کا اپنے کلام میں ذکر کیا۔ (یعنی ان نشانیوں کے بارے میں اس میں لکھا تھا۔ ) تیرھویں چن اور چاند کو اور ستائیسویں سورج کو گرہن لگے گا۔ ستائیسویں لکھا گیا اٹھائیسویں سورج ہونا چاہئے۔ یہ پنجابی کے ان شعروں کا ترجمہ ہے۔ بہرحال کہتے ہیں ان نشانیوں کے بارے میں گھر گھر تذکرہ ہوتا تھا اور عام لوگوں میں امام وقت کی جستجو تھی۔ ان حالات میں مولانا تاج محمود صاحب اور دیگر چند بزرگوں نے باہمی مشورہ کیا اور ایک وفد تشکیل دیا جو قادیان جا کر مہدی علیہ السلام کو دیکھیں اور تمام نشانات جو مہدی موعود کے متعلق مختلف روایات میں ہیں ان کے پورا ہونے کا بغور جائزہ لیں اور اگر وہ نشانات پورے ہوں تو ان کی بیعت کر لی جائے۔ اس وفد میں جن اشخاص کا انتخاب ہوا اُن میں سر فہرست تین اشخاص تھے۔ شیخ امیر الدین صاحب، میاں صاحب دین صاحب اور میاں محمد یار صاحب۔ یہ وفد پیدل روانہ ہوا۔ زادِ راہ کے طور پر ان دونوں کے پاس اس وقت کی رائج کرنسی کے مطابق صرف ڈیڑھ روپیہ تھا۔ (بعض روایات میں ہے دو آدمیوں کا وفد گیا تھا۔ صرف میاں صاحب دین اور شیخ امیر الدین۔ تو بہر حال یہ کہتے ہیں ان دونوں آدمیوں کے پاس صرف ڈیڑھ روپیہ تھا) اور مارچ کا مہینہ تھا۔ گندم پکنے کے قریب تھی۔ یہ لوگ پیدل ہی روزانہ دس بارہ میل کا سفر کرتے تھے۔ جب بھوک لگتی تھی تو وہاں زمینداروں کی جو گندم پکی ہوئی ہوتی تھی ان سے سٹّے لے لئے اور سٹّے بھون کے کھاتے تھے اور گزارہ کرتے تھے۔ اگر کوئی آبادی یا ڈیرہ قریب ہوتا تو وہاں رات بسر کرتے۔ بہر حال سینکڑوں کوس کی مسافت طے کرتے ہوئے (تقریباً ڈیڑھ پونے دو سو میل کے قریب تو سفر بنتا ہوگا) جب یہ دونوں ساتھی، (بعض روایتوں کے مطابق تینوں ساتھی) بٹالہ کے قریب پہنچے تو وہاں پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے شاگردوں نے آ لیا۔ ان سے قادیان کا راستہ دریافت کیا گیا۔ انہوں نے قادیان جانے کی وجہ پوچھی۔ مقصد معلوم ہونے پر ان کے شاگردوں نے قادیان جانے سے منع کیا اور کہا کہ جس شخص نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہؤا ہے وہ تو نعوذ باللہ جھوٹا ہے کیونکہ اس نے ایک نہیں سات دعوے کئے ہوئے ہیں۔ تم کس کس دعوے پر ایمان لاؤ گے۔ لہٰذا یہیں سے واپس چلے جاؤ۔ یہ سن کر شیخ امیر الدین صاحب نے جواب دیا (پڑھے لکھے نہیں تھے لیکن جواب بڑا دیا۔ کہنے لگے) کہ اگر اس نے سات مختلف دعوے کئے ہیں تو بھی وہ سچا ہے۔ اس نے تو ابھی اور بھی دعوے کرنے ہیں۔ اور دلیل انہوں نے اپنے مطابق یہ دی کہ مثلاً یہاں پر تم سب سات آدمی ہو اور مَیں اکیلا ہوں۔ تم سب میرے ساتھ مقابلہ کرو اور کشتی کرو۔ اگر میں تم سب کو پچھاڑ دوں تو پھر میں ایک ہوا یا سات۔ یعنی سات پر بھاری ہو گیا اور فرمایا کہ امام الزماں نے تو ساری دنیا کے مختلف مذاہب کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس لئے ان کے اور بھی دعوے ہوں گے۔ اس پر وہ سب لاجواب ہو گئے اور کہا میاں تم اپنی راہ لو لیکن راستہ پھر بھی نہیں بتایا۔

کہتے ہیں تھوڑی دور آگے ہم گئے۔ کسی سکھ کا چائے کا کھوکھا تھا۔ اس سکھ نے چائے وغیرہ بنا دی۔ بسکٹ وغیرہ پیش کئے۔ شیخ صاحب نے بٹالوی صاحب کے شاگردوں کا واقعہ اور رویّہ سکھ سے بیان کیا جس پر اس نے افسوس کا اظہار کیا۔ سکھ نے کہا کہ میں تمہیں راستہ بتاتا ہوں۔ آپ ضرور قادیان جائیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے دعوے میں سچا ہے۔ (حضرت مسیح موعود کے بارے میں فرمایا۔ ) پھر کہنے لگا کہ ہم مرزا صاحب کو جانتے ہیں۔ چنانچہ وہ سکھ دُور تک ساتھ گیا اور راستے پر چھوڑا جو سیدھا قادیان جاتا تھا۔ اس وقت قادیان کا کوئی پختہ راستہ نہیں تھا۔ جب یہ دونوں ساتھی قادیان پہنچے تو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں تشریف فرما تھے۔ مجلس لگی تھی۔ چند غیر از جماعت علماء اور گدی نشین اس مجلس میں بیٹھے تھے جن سے حضرت اقدس مکالمہ مخاطبہ فرمارہے تھے اور ان کے سوالات کے جوابات ارشاد فرما رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ تحریر میں بھی مصروف تھے۔ یہ بھی ایک نشان تھا کہ آپ ایک طرف تحریر فرما رہے تھے اور قلم چل رہا تھا جیسے کوئی غیب سے مضمون دل میں اتر رہا ہے اور دوسری طرف مجلس میں بیٹھے لوگوں سے گفتگو فرما رہے ہیں۔ قلم میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی تھی۔

ان ساتھیوں کا تعارف حضور سے کروایا گیا۔ شیخ صاحب نے عرض کیا کہ حضور ہم لالیاں سے آئے ہیں۔ حضور نے پوچھا کہ لالیاں کہاں ہے؟ (اکثر لوگ تو جانتے ہوں گے۔ جو نہیں جانتے ان کی اطلاع کے لئے بتادوں کہ لالیاں ربوہ سے تقریباً آٹھ میل کے فاصلے پر اب ایک قصبہ بلکہ شہر بن چکا ہے۔ بہرحال یہ اس زمانے میں یہاں سے گئے تھے۔ ) اس وقت مجلس میں حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب بیٹھے ہوئے تھے جن کا تعلق بھیرہ سے تھا۔ اس لئے لالیاں کے بارے میں وہ جانتے تھے۔ انہوں نے عرض کیا حضور! لالیاں کڑانہ اور لک بار کے پاس ہے۔ جس پرحضور نے فرمایا کہ ہاں ہاں وہ لک اور لالی۔ (کیونکہ لالی کا شعر سن چکے تھے۔ شاید اس لئے علم میں ہو۔ ) حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب نے عرض کیا کہ حضور یہ ہمارے پڑوسی ہیں۔ چونکہ شیخ صاحب اور صاحب دین صاحب اَن پڑھ تھے اس لئے وہ بولے ہاں حضور ہم بھی (پنجابی میں کہنے لگے) ان کے گواڈھی ہیں۔ پھر سفر کے تمام حالات اور واقعات حضور کے سامنے عرض کئے۔ جب حضور نے بٹالوی صاحب کے شاگردوں کا واقعہ سنا تو حضور نے فرمایا۔ دیکھو یہ کیسا اَن پڑھ شخص ہے۔ اس نے کیسا جواب دیا۔ لاجواب کر دیا۔ اس کو کس نے سکھایا۔ اس کو خدا نے سکھایا۔ یہ الفاظ حضور نے تین مرتبہ دہرائے۔ حضور نے پھر ان کو ارشاد فرمایا کہ آپ چند دن ہمارے پاس رہیں۔ تین دن تک یہ حضور کی مجلس میں رہے۔ حضور کے ساتھ سیر پر بھی جاتے رہے۔ وہ نشانیاں جو لالیاں کے علماء نے بتائی تھیں ان کا جائزہ بھی لیا۔ اپنی آنکھوں سے ان نشانیوں کو پورا ہوتے دیکھا۔ آخر کار واپسی سے پہلے مسجد میں حاضر ہو کے حضور کو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام (جو اپنے مہدی کو پہنچانے کی تاکید فرمائی تھی) عرض کیا اور بیعت کی درخواست کی۔ اس پر حضور نے فرمایا ابھی کچھ دن اور ہمارے پاس رہیں۔ یہ سن کر شیخ صاحب آبدیدہ ہو گئے اور اپنے پاؤں آگے کر کے حضور کو دکھائے اور عرض کی کہ حضور اتنی لمبی مسافت سے ہمارے پاؤں سوج گئے ہیں۔ اتنی تکلیف ہم نے برداشت کی ہے اور ہم نے آپ کو سچا مہدی پایا ہے۔ نہ جانے زندگی ساتھ دے یا نہ دے۔ ہماری بیعت قبول فرمائیں۔ چنانچہ پھر وہاں مسجد مبارک میں ان کی دستی بیعت ہوئی۔ (ماخوذ ازماہنامہ انصاراللہ ربوہ جون 1995صفحہ 32تا34)

اسد اللہ قریشی صاحب حضرت قاضی محمد اکبر صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں تحریر کرتے ہیں کہ ’’حضرت قاضی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حلقہ بگوش احمدیت ہونے سے قبل اہلحدیث تھے۔ حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلمی سے مراسم تھے۔ اپنے علاقے کے امام تھے۔ علاقے کے لوگوں کی دینی تعلیم اور تدریس میں مشغول تھے کہ کسوف خسوف کا نشان آسمان پر ظاہر ہوا۔ آپ اس امر سے پہلے ہی آگاہ تھے کہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کا زمانہ قریب ہے۔ کسوف خسوف کے عظیم الشان نشان کے ظاہر ہونے پر اپنے طلباء اور حلقہ احباب میں تذکرہ ہونے لگا۔ بشیر احمد صاحب جو اُن کے پوتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ بیان میاں منگا صاحب سے سنا ہے کہ ہم قاضی صاحب سے پڑھتے تھے کہ سورج اور چاند گرہن کا نشان رمضان میں ظاہر ہوا تو قاضی صاحب نے فرمایا کہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کا نشان تو ظاہر ہوگیا ہے ہمیں ان کی تلاش کرنی چاہئے۔ ان ایام میں چارکوٹ کے لوگ سودا سلف کے لئے جہلم جایا کرتے تھے۔ قاضی صاحب نے جہلم آنے والے احباب کے سپرد یہ کام کیا کہ حضرت مولوی برہان الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کریں۔ ان سے پوچھ کر آئیں کہ سورج چاند گرہن کا یہ نشان تو ظاہر ہو گیا آپ امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔ چنانچہ وہ لوگ حضرت مولوی صاحب سے ملے۔ حضرت مولوی صاحب نے چند کتب اور ایک خط حضرت قاضی صاحب کی طرف بھیجا۔ خط اور کتب کی وصولی سے قبل آپ نے رؤیا میں دیکھا۔ کسی نے آپ کو تین کتابیں پڑھنے کے لئے دی ہیں۔ ان میں سے پہلی کتاب پڑھنے کے لئے آپ نے کھولی تو اس کے اندر گند بھرا ہوا تھا اور بدبو آ رہی تھی۔ اس پر آپ نے وہ کتاب پھینک دی۔ پھر دو کتابوں کو دیکھا کہ ان سے نور کے شعلے نکل رہے ہیں۔ حضرت مولوی برہان الدین صاحب رضی اللہ عنہ کی بھجوائی ہوئی کتب کی وصولی پر آپ کا رؤیا اس طرح پورا ہو گیا کہ حضرت مولوی صاحب نے جو کتب آپ کو بھجوائیں ان میں ایک کتاب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی کی تردید کے متعلق تھی۔ آپ نے پہلے اسی کو پڑھنا شروع کیا۔ جب اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق دلآزار الفاظ دیکھے تو اس کو پڑھنا ترک کر دیا اور پرے پھینک دیا اور دوسری دو کتب اور خط پڑھے تو انہیں اپنی رؤیا کے عین مطابق پایا اور آپ کو تحقیقات کی مزید تحریک ہوئی۔ چنانچہ آپ نے تحقیقات کے لئے تین افراد پر مشتمل وفد قادیان بھجوایا اور ان تینوں نے قادیان پہنچ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کی سعادت حاصل کی۔ اور یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے جس طرح کہ روایات میں آتا ہے اور ہر جگہ ہر ایک کے ساتھ ہی ہوتا ہے کہ جب یہ وفد بٹالہ پہنچا تو مولوی محمد حسین بٹالوی نے انہیں بھی روک لیا۔ کچھ خاطر مدارات بھی کی اور کہا آپ لوگ خوامخواہ کئی دنوں کے پیدل سفر کی تکالیف برداشت کر کے قادیان جاتے ہیں۔ آپ چونکہ دور دراز علاقے کے رہنے والے ہیں اس لئے آپ کو علم نہیں۔ مرزا صاحب کا سارا کاروبار جھوٹا ہے۔ اس لئے آپ لوگ واپس چلے جائیں۔ چنانچہ مولوی صاحب نے انہیں نہ صرف یہ کہا بلکہ واپس شہر کے کنارے تک، باہر تک چھوڑ کر گئے۔ مگر ان سے رخصت ہونے کے بعد یہ تینوں پھر بجائے واپس جانے کے قادیان پہنچ گئے اور وہاں آ کر اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعت کر لی۔ اس کے بعد قاضی صاحب نے پہلے تحریری بیعت کی اور پھر قادیان پہنچ کر دستی بیعت کا شرف حاصل کیا۔ (ماخوذ از تاریخ احمدیت جموں وکشمیر مرتبہ اسداللہ قریشی صاحب صفحہ 57تا59)

پھر حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کے دادا قاضی مولا بخش صاحب تحصیل نواں شہر ضلع جالندھر کے معروف اہلحدیث خطیب تھے۔ جب نشان کسوف و خسوف ظاہر ہوا تو انہوں نے ایک خطبے میں رمضان المبارک کی تیرہ اور اٹھائیس تاریخ کو بالترتیب چاند گرہن اور پھر سورج گرہن کا تفصیل کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ امام مہدی کے ظہور کا نشان ہے۔ اب ہمیں انتظار کرنا چاہئے کہ امام موعود کب اور کہاں سے ظاہر ہوتا ہے؟ اس خطبے کا خاطر خواہ اثر ہوا۔ چنانچہ محترم قاضی صاحب کو (یعنی قاضی مولا بخش صاحب کو جو مولانا ابوالعطاء جالندھری کے دادا تھے) اگرچہ خود قبول کرنے کی صورت پیدا نہ ہوئی مگر ان کے بڑے بیٹے یعنی مولانا ابوالعطاء صاحب کے والد حضرت میاں امام الدین صاحب کو مدعی کا علم ہوا اور کچھ مطالعہ اور غور و فکر کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصدیق اور بیعت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ (ماخوذ از ماہنامہ الفرقان اکتوبر 1967صفحہ43۔ بحوالہ ماہنامہ انصاراللہ ربوہ مئی 1994ء صفحہ 84)

حضرت غلام مجتبیٰ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ’’1901ء میں درّثمین میری نظر سے گزری جبکہ میں ہانگ کانگ میں ملازم تھا۔ چونکہ زمانہ تقاضا کر رہا تھا کہ مصلح دنیا میں ظاہر ہو کیونکہ اختلافات اس قسم کے علمائے زمانہ میں پائے جاتے تھے کہ ہر ایک عقل سلیم رکھنے والا ان اختلافات سے بیزار ہو کر مصلح کی تلاش میں تھا۔ درّثمین کے اشعار پڑھ کر میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ اگر یہ شخص سچا ہے تو زہے قسمت ورنہ اس شخص نے جھوٹ میں کمال ہی کر دیا ہے۔ (ایسی اعلیٰ کتاب ہے۔ ) اسی دوران ’ازالۂ اوہام‘ میری نظر سے گزرا مگر یہ معلوم نہ ہو سکا کہ کس نے یہ کتابیں ہانگ کانگ میں پہنچائیں۔ میں نے ’ازالۂ اوہام‘ کو تمام کا تمام پڑھا اور پھر میں اس طریق پر امام مسجد ہانگ کانگ سے بحث و مباحثہ کرتا رہا۔ امام مسجد ہانگ کانگ کے پاس قصیدہ نعمت اللہ ولی اللہ کا فارسی میں تھا اس کے پڑھنے سے ہمیں بہت سی مدد ملتی کہ زمانہ تو عنقریب ہے کہ مہدی کا ظہور ہو بلکہ یہی زمانہ ہے۔ نیز میرے والد صاحب مرحوم فقیہی تھے جب سورج کو گرہن رمضان میں لگا اور چاند کو بھی تو میرے والد صاحب نے فرمایا کہ مہدی علیہ السلام پیدا ہو گیا ہے۔ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ، جلد7صفحہ 116روایت حضرت غلام مجتبیٰ صاحبؓ سکنہ رسول پور تحصیل کھاریاں ضلع گجرات)

مولانا ابراہیم صاحب بقاپوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ’’دو شخص جو باپ بیٹے تھے مولوی عبدالجبار کے پاس آ کر کہنے لگے کہ وہ حدیث جس میں کسوف و خسوف کا ذکر امام مہدی کے ظہور کے لئے آیا ہے صحیح ہے؟ مولوی صاحب نے کہا کہ حدیث تو صحیح ہے مگر مرزا صاحب کے پھندے میں نہ پھنس جانا کیونکہ وہ اس کو اپنے دعوے کی تصدیق میں پیش کرتے ہیں اور یہ حدیث امام مہدی کی پیدائش کے متعلق ہے نہ کہ دعوے کی دلیل کے لئے ہے۔ باپ نے کہا مولوی صاحب! جو بات میں نے آپ سے پوچھی اس کا جواب آپ نے دے دیا ہے۔ باقی رہا یہ کہ وہ کس پر چسپاں ہوتی ہے تو اس کے متعلق عرض ہے کہ میری ساری عمر مقدمہ جات میں گزری ہے مگر مجھے سرکار نے کبھی گواہ لانے کے لئے نہیں کہا تھا جبتک کہ میں پہلے دعویٰ نہ کرتا۔ یہی حال مرزا صاحب کا ہے کہ ان کا دعویٰ تو پہلے سے ہی ہے اور اب یہ کسوف و خسوف ان کے دعوے کی دلیل کے طور پر ہیں۔ اس پر مولوی صاحب خاموش ہو گئے اور دونوں باپ بیٹا اپنے گاؤں چلے گئے۔ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ، جلد 8صفحہ 4روایت حضرت مولانا ابراہیم صاحب بقاپوریؓ)

اللہ تعالیٰ نے ان کو قبولیت کی توفیق دی۔ اور دلیلیں بھی اللہ تعالیٰ فوراً سکھاتا ہے۔

سیدنذیر حسین شاہ صاحب بیان فرماتے ہیں کہ ’’جب سورج اور چاند کو گرہن لگا تو اس وقت میں اپنے گھر تھا۔ میرے والد صاحب یہ کہہ رہے تھے کہ یہ حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا نشان ہے۔ اس بات کا بھی مجھ پر اثر ہوا‘‘۔ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ، جلد 10صفحہ 237روایت حضرت سیّدنذیر حسین شاہ صاحبؓ گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ)

چنانچہ قبولیت کی توفیق بھی ملی۔

سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ’’اس زمانے میں اس بات کا عام چرچا تھا کہ مسلمان برباد ہو چکے ہیں اور تیرھویں صدی کا آخر ہے اور یہ وہ زمانہ ہے جس میں حضرت امام مہدی تشریف لائیں گے اور ان کے بعد حضرت عیسیٰ بھی تشریف لائیں گے۔ چنانچہ حضرت والدہ صاحبہ اس مہدی اور عیسیٰ کی آمد کا ذکر بڑی خوشی سے کیا کرتی تھیں کہ وہ زمانہ قریب آ رہا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کرتی تھیں کہ چاند گرہن اور سورج گرہن کا ہونا بھی حضرت مہدی کے زمانے کے لئے مخصوص تھا اور وہ ہو چکا ہے۔‘‘ (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ، جلد 11صفحہ 142، 143روایت حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحبؓ سکنہ سہالہ ضلع راولپنڈی)

بہرحال اللہ تعالیٰ نے پھر سارے خاندان کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔

حضرت مرزا ایوب بیگ صاحب فرماتے تھے کہ ’’رمضان کے مہینے میں چاند اور سورج گرہن لگنے کی پیشگوئی دارقطنی وغیرہ احادیث میں بطور علامت مہدی بیان ہوئی۔ مارچ 1894ء میں پہلے چاند ماہ رمضان میں گہنایا۔ جب اسی رمضان میں سورج کو گرہن لگنے کے دن قریب آئے تو دونوں بھائی اس ارادے سے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ یہ نشان دیکھیں اور کسوف کی نماز ادا کریں، ہفتے کی شام کو لاہور سے روانہ ہو کر قریباً گیارہ بجے رات بٹالہ پہنچے۔ اگلے دن علی الصبح گرہن لگنا تھا۔ (اب ان نوجوانوں کا بھی شوق دیکھیں کتنا ہے۔ ) آندھی چل رہی تھی بادل گرجتے اور بجلی چمکتی تھی۔ ہوا مخالف تھی اور مٹّی آنکھوں میں پڑتی تھی۔ (بٹالہ سے قادیان پیدل جا رہے تھے۔) قدم اچھی طرح نہیں اٹھتے تھے۔ اور راستہ صرف بجلی کے چمکنے سے نظر آتا تھا۔ ساتھ آپ کے اہل وطن دوست مولوی عبدالعلی صاحب بھی تھے۔ (کُل تین آدمی تھے۔) سب نے ارادہ کیا کہ خواہ کچھ بھی ہو راتوں رات قادیان پہنچنا ہے۔ (احمدیت تو قبول کر چکے تھے۔ نماز کسوف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ادا کرنا چاہتے تھے۔) چنانچہ تینوں نے راستے میں کھڑے ہو کر نہایت تضرّع سے دعا کی کہ اے اللہ! جو زمین و آسمان کا قادر مطلق خدا ہے ہم تیرے عاجز بندے ہیں۔ تیرے مسیح کی زیارت کے لئے جاتے ہیں اور ہم پیدل سفر کر رہے ہیں۔ سردی ہے۔ تُو ہی ہم پر رحم فرما۔ ہمارے لئے راستہ آسان کر دے اور اس باد مخالف کو (یعنی جو الٹی ہوا چل رہی تھی اس کو) دُور کر۔ (کہتے ہیں کہ) ابھی آخری لفظ دعا کا منہ میں ہی تھا کہ ہوا نے رُخ بدلا اور بجائے سامنے کے پُشت کی طرف سے چلنے لگی اور ممد سفر بن گئی۔ (یعنی پیچھے سے اتنی تیز چل رہی تھی کہ ان کا سفر آسان ہو گیا۔ قدم بڑے ہلکے اٹھنے لگے۔) ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہوا میں اڑے جا رہے ہیں۔ تھوڑی ہی دیر میں نہر پر پہنچ گئے۔ اس جگہ کچھ بوندا باندی شروع ہوئی۔ نہر کے (پانی کے) پاس ایک کوٹھا تھا اس میں داخل ہو گئے۔ ان ایام میں گورداسپور کے ضلع کے اکثر سڑکوں پر ڈکیتی کی وارداتیں ہوتی تھیں۔ دیا سلائی جلا کر دیکھا تو کوٹھا خالی تھا اور اس میں دو اوپلے اور ایک موٹی اینٹ پڑی تھی۔ ہر ایک نے ایک ایک سرہانے رکھی اور زمین پر سو گئے۔ کچھ دیر بعد آنکھ کھلی تو ستارے نکلے ہوئے تھے آسمان صاف تھا اور بادل اور آندھی کا نام و نشان نہ تھا۔ چنانچہ پھر روانہ ہوئے اور سحری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دستر خوان پر کھائی۔ (رمضان کا مہینہ تھا ناں یہ) صبح حضرت اقدس کے ساتھ کسوف کی نماز پڑھی جو کہ مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے مسجد مبارک کی چھت پر پڑھائی۔ قریباً تین گھنٹے یہ نماز وغیرہ جاری رہی۔ (نماز خطبہ وغیرہ۔) کئی دوستوں نے شیشے پر سیاہی لگائی ہوئی تھی جس میں سے وہ گرہن دیکھنے میں مشغول تھے۔ ابھی خفیف سی سیاہی شیشے پر شروع ہوئی تھی (یعنی سورج کا حلقہ سا شروع ہوا تھا) کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کسی نے کہا کہ سورج کو گرہن لگ گیا ہے۔ آپ نے اس شیشے میں سے دیکھا تو نہایت ہی خفیف سی سیاہی معلوم ہوئی یعنی ابھی ہلکا سا گرہن لگنا شروع ہوا تھا۔ حضور نے فرمایاکہ اس گرہن کو ہم نے تو دیکھ لیا ہے مگر یہ ایسا خفیف ہے کہ عوام کی نظر سے اوجھل رہ جائے گا اور اس طرح ایک عظیم الشان پیشگوئی کا نشان مشتبہ ہو جائے گا۔ حضور علیہ السلام نے کئی بار اس کا ذکر کیا۔ لیکن تھوڑی دیر بعد ہی سورج پہ جو سیاہی تھی، گرہن تھا وہ بڑھنا شروع ہوا حتی کہ آفتاب کا زیادہ حصہ تاریک ہوگیا۔ تب حضور نے فرمایا کہ ہم نے آج خواب میں پیاز دیکھا تھا اس کی تعبیر غم ہوتی ہے۔ سو شروع میں سیاہی کے خفیف رہنے سے تھوڑا ہلکا سا غم ہوا لیکن اللہ تعالیٰ نے خوشی دکھائی۔‘‘ (ماخوذاز اصحاب احمد جلد 1صفحہ 92تا94روایت حضرت مرزا ایوب بیگ صاحبؓ)

حضرت مولوی غلام رسول صاحب بیان فرماتے ہیں کہ ’’1894ء میں جب سورج گرہن اور چاند گرہن ہوا اس وقت میں لاہور میں مولوی حافظ عبدالمنان صاحب سے ترمذی شریف پڑھتا تھا۔ علماء کی پریشانی اور گھبراہٹ نے میرے دل پر اثر کیا۔ گو علماء لوگوں کو طفل تسلیاں دے رہے تھے مگر دل میں سخت خائف تھے کہ اس سچے نشان کی وجہ سے لوگوں کا بڑی تیزی سے حضرت اقدس کی طرف رجوع ہو گا۔ ان دنوں حافظ محمد صاحب لکھوکے والے پتھری کا آپریشن کروانے کے لئے لاہور آئے ہوئے تھے۔ میں بھی ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان سے جب عوام نے دریافت کیا کہ یہ نشان آپ نے اپنی کتاب ’احوال الاٰخرۃ‘ میں واضح طور پر لکھا ہے اور مدّعی حضرت مرزا صاحب بھی موجود ہیں اور اس نشان کو اپنا مؤید قرار دے رہے ہیں۔ آپ اس بارے میں کیا مسلک اختیار فرماتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں بیمار اور سخت کمزور ہوں۔ صحت کی درستی کے بعد کچھ کہہ سکوں گا۔ البتہ اپنے لڑکے عبدالرحمن محی الدین کو حضرت مرزا صاحب کی مخالفت سے روکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے راز عجیب ہوتے ہیں۔ لیکن (بہرحال) وہ زندہ نہ رہ سکے اور جلد ہی راہیٔ ملک عدم ہو گئے۔ (یہ لکھنے والے کہتے ہیں ) ان باتوں سے گو میرا دل حضرت اقدس کی سچائی کے بارے میں مطمئن ہو چکا تھا لیکن علم حدیث کی تکمیل کی خاطر امرتسر چلا گیا اور وہاں دو تین سال رہ کر دورۂ حدیث سے فراغت حاصل کر کے میں دارالامان میں حاضر ہو کر حضرت اقدس کی بیعت سے مشرف ہوا۔‘‘ (ماخوذ از اصحاب احمد جلد 10صفحہ 178روایت حضرت مولوی غلام رسول صاحبؓ)

حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی بیان فرماتے ہیں کہ ’’1894ء کے رمضان المبارک میں مہدی آخرالزمان کے ظہور کی مشہور علامت کسوف و خسوف پوری ہو گئی۔ وہ نظارہ آج تک میری آنکھوں کے سامنے ہے اور وہ الفاظ میرے کانوں میں گونجتے سنائی دیتے ہیں جو ہمارے ہیڈ ماسٹر مولوی جمال الدین صاحب نے اس علامت کے پورا ہونے پر مدرسے کے کمرے کے اندر ساری جماعت کے سامنے (یعنی کلاس کے سامنے) کہے تھے کہ مہدی آخر الزمان کی اب تلاش کرنا چاہئے۔ وہ ضرور کسی غار میں پیدا ہو چکے ہیں کیونکہ ان کے ظہور کی بڑی علامت آج پوری ہو چکی ہے۔ کہتے ہیں مَیں بھی جماعت میں موجود تھا۔ وہ کمرہ، وہ مقام اور لڑکوں کا حلقہ اب تک میری نظروں کے سامنے ہے۔ وہ کرسی جس پر بیٹھے ہوئے مولانا نے یہ الفاظ کہے تھے، وہ میز جس پر ہاتھ مار کر لڑکوں کو یہ خبر سنائی تھی خدا کے حضور ضرور اس بات کی شہادت دیں گے کہ مولوی صاحب موصوف پر اتمام حجت ہو چکی۔ باوجود اس نشان کا اعلان کرنے کے خود قبول مہدی آخر الزماں سے محروم ہی چلے گئے۔ (بھائی عبدالرحمن صاحب یہ کہتے ہیں کہ) ’مہدی آخر الزمان‘ میرے کان ابھی تک اس نام سے ناآشنا تھے۔ ان کا ’’کسی غار میں پیدا ہونا‘‘، ’’ان کے ظہور کی بڑی علامت‘‘، یہ الفاظ میرے واسطے اور بھی اچنبھا تھے۔ میں مڈل میں تعلیم پاتا تھا۔ طبیعت میں ٹوہ کی خواہش پیدا ہوئی۔ استاد سے بوجہ حجاب اور ادب نہ پوچھ سکا۔ آخر ہم جماعتوں سے (اپنے کلاس فیلوز سے) اس معمّے کا حل چاہا جنہوں نے اپنے مروّجہ عقیدہ اور خیال کے مطابق سارا قصہ کہہ سنایا۔ میرے دل میں جو تأثرات ان قصوں کو سن کر پیدا ہوئے اور جنہوں نے میری روحانیت میں اور اضافہ کیا وہ یہ تھے۔ (آٹھویں کلاس کے طالبعلم کا ذہن دیکھیں کتنا زرخیز ہے۔ فرمایا کہ) نمبر ایک یہ کہ تیرہ سو سال قبل ایک واقعہ کی خبر دینا جو دوست دشمن میں مشہور ہو چکی ہو اور پھر اس کا عین وقت کے مطابق پورا ہو جانا۔

دوسری بات یہ ذہن میں آئی کہ وہ واقعہ انسانی کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ آسمان پر ہؤا جہاں انسان کی پہنچ نہیں اور نہ ہی انسان کا کسی قسم کا اس میں دخل ہے۔

تیسری بات یہ آئی کہ مہدی آخر الزمان کی شخصیت، اس کا کفر کو مٹانا، اسلام کو بڑھانا اور اسلامی لشکر تیار کر کے کافروں کو تلوار کے گھاٹ اتارنا اور مسلمانوں کی فتوحات کے خیالات۔

چوتھی بات یہ کہ دعا اور اس کی حقیقت۔ خدا کا بندوں کی دعاؤں کو سننا اور قبول کرنا کیونکہ اولیائے امت محمدیہ مہدی آخرالزمان کے لئے دعائیں کرتے رہے ہیں۔ آخر وہ قبول ہوئیں۔ پانچویں یہ کہ یہ باتیں اسلام کی صداقت کی واضح اور بیّن دلیل ہیں اور اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو خدا کو پیارا اور خدا تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔

کہتے ہیں یہ پنجگانہ امور اپنی مجمل سی کیفیت کے ساتھ میرے دل پر اثر انداز ہوئے اور اس واقعہ نے میرے ایمان میں ترقی و تازگی اور روحانیت میں اضافہ کر دیا اور میں بھی مہدی آخرالزمان کو پانے کے لئے بیتاب ہونے لگا جس کے حصول کے لئے مجھے دعاؤں کی عادت ہو گئی۔ میں راتوں کو بھی جاگتا اور دن میں بھی بیقرار رہتا اور مہدی آخر الزمان کی تلاش کا خیال بعض اوقات ایسا غلبہ پاتا کہ باوجود کم سنی کے، چھوٹی عمر کے مَیں دیوانہ وار ان بھیانک کھنڈرات میں نکل جایا کرتا اور پکار پکار کر اور بعض اوقات رو رو کر بھی اللہ تعالیٰ کے حضور اس مقدس وجود کے پانے کے لئے التجائیں کیا کرتا تھا۔‘‘(ماخوذ از اصحاب احمد جلد 9صفحہ 11تا13روایت حضرت بھائی عبدالرحمٰن صاحب قادیانیؓ )۔ آخر اللہ تعالیٰ نے دعاؤں کو قبول کیا اور قبولیت کی توفیق پائی۔ ابھی اَور بھی واقعات ہیں۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ایک صحابی جن کا نام حضرت شیخ نصیر الدین صاحب ہے 1858ء میں مکندپور ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔ ایک خواب کی بناء پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت سے مشرف ہوئے۔ اہلحدیث مسلک سے تعلق رکھتے تھے لیکن سکون قلب حاصل نہ تھا۔ مسجدوں میں علماء سے ’’احوال آخرت‘‘ پیشگوئیوں کی مشہور کتاب سنتے تو دل گواہی دیتا کہ آنے والے کا وقت تو یہی معلوم ہوتا ہے لیکن امام مہدی کا ظہور کیوں نہیں ہو رہا۔ اسی طرح ایک دن ایک مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے۔ ایک مولوی صاحب بڑی پریشانی کے عالم میں اپنی رانوں پر ہاتھ مار مار کر سورج اور چاند گرہن کا ذکر کر کر کے کہہ رہے تھے کہ اب تو لوگوں نے مرزا صاحب کو مان لینا ہے کیونکہ پیشگوئی کے مطابق گرہن تو لگ چکا ہے۔ آپ کے (یعنی مولوی شیخ نصیرالدین صاحب کے) کان میں یہ آواز پڑی تو پریشانی اور بڑھی کہ مولوی صاحب کیا کہہ رہے ہیں؟ اگر پیشگوئی پوری ہو گئی ہے تو بڑی خوشی کی بات ہے۔ چنانچہ آپ نے بڑی آہ و زاری سے دعائیں شروع کر دیں کہ مولیٰ کریم تُو ہی میری رہنمائی فرما۔ اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی۔ آپ نے خواب میں دیکھا کہ ایک بہت بڑی بلا آپ پر حملہ کرتی ہے لیکن آپ نے بندوق سے اس پر فائر کیا اور وہ دھوئیں کی طرح غائب ہو گئی۔ پھر آپ ایک اونچی جگہ مسجد میں نماز باجماعت میں شامل ہو گئے۔ یہ خواب آپ نے ایک مولوی صاحب سے بیان کی۔ اس نے تعبیر بتائی کہ آپ اپنے شیطان پر غلبہ حاصل کر لیں گے اور ایک صالح جماعت میں شامل ہو جائیں گے۔ اسی دوران آپ نے حضرت مسیح موعود کے دعوے کے بارے میں سنا اور قادیان پہنچ کر اپنے خواب کی طرح صورتحال دیکھ کر بلا چون و چرا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کر لی۔ اس طرح سورج چاند گرہن کی پیشگوئی (اور مولوی کی وہ باتیں ) آپ کی رہنمائی کے لئے اہم محرّک ثابت ہوئیں۔‘‘ (ماخوذ از تاریخ احمدیت ضلع راولپنڈی۔ مرتّبہ خواجہ منظور صادق صاحب صفحہ 163، 164)

اللہ تعالیٰ دنیا کو بھی اور آجکل کے جو مسلمان ہیں ان کو بھی عقل دے اور بجائے زمانے کے امام کی مخالفت کرنے کے آپ کو ان کو ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔

نمازوں کے بعد مَیں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔ یہ عزیزم احمد یحییٰ باجوہ ابن مکرم نعیم احمد باجوہ صاحب جرمنی کا ہے۔ یہ جامعہ احمدیہ کے طالبعلم تھے۔ 11؍مارچ 2015ء کو ایک حادثے میں 27سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ یہ جامعہ میں پہلے داخل ہوئے پھر کچھ بیماری کی وجہ سے پڑھائی چھوڑ دی اور چلے گئے۔ پھر دو سال بعد دوبارہ انہوں نے خواہش کا اظہار کیا کہ میں نے داخل ہونا ہے۔ اس لئے زیادہ عمر کے باوجود بھی ان کو داخلہ دے دیا گیا۔ اب یہ رابعہ میں تھے اور بڑے ہونہار اور عاجز اور وقف کی حقیقی روح رکھنے والے طالبعلم تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا پیارا وجود تھے۔ اپنے ساتھیوں کو بھی سمجھانے کا ان کا بڑا اچھا انداز تھا۔ ان کے جو اکثر کلاس فیلو ہیں، نئے پرانے سب کے مجھے خط آئے ہیں ہر ایک نے ان کی تعریف کی ہے اور یہی مشترک چیز ہے کہ انتہائی عاجزی۔ کبھی کسی سے لڑائی نہیں کرنی۔ لڑرہے ہوں تو ان کو سمجھانا، اصلاح کی کوشش کرنا بلکہ جامعہ کے ایک سٹاف ممبر(جو دوسرے کارکن تھے۔ ٹیچنگ سٹاف نہیں۔ اساتذہ میں سے نہیں بلکہ عام جو عملہ تھا اس میں سے ایک صاحب) کو سگریٹ نوشی کی عادت تھی۔ ایسے انداز سے انہوں نے ان سے بات کی کہ ان کی کوشش سے انہوں نے سگریٹ نوشی ترک کر دی۔ اور یہ ہر لحاظ سے بڑے پیار سے سمجھانے والے تھے۔ اور ہر ایک سے ان کا ایک پیار اور محبت کا تعلق تھا۔ بڑی دوستی کا تعلق تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ رحم اور مغفرت کا سلوک فرمائے۔ جیسا کہ مَیں نے کہا ابھی میں انشاء اللہ ان کا نماز جنازہ پڑھاؤں گا۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 20؍ مارچ 2015ء شہ سرخیاں

    آج یہاں سورج گرہن تھا۔ اسی طرح بعض اور ممالک میں بھی گرہن لگا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر خاص طور پر دعاؤں، استغفار، صدقہ خیرات اور نماز پڑھنے کی ہدایت فرمائی ہے۔

    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق مسیح موعود کی آمد کی نشانیوں میں سے ایک بڑی زبردست نشانی سورج اور چاند گرہن تھا جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مشرق اور مغرب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تائید میں پورا ہوا۔ پس اس لحاظ سے گرہن کی نشانی کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور جماعت سے ایک خاص تعلق ہے۔

    آج کا یہ گرہن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے نشان کے طور پر تو نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن یہ گرہن اُس طرف توجہ ضرور پھیرتا ہے جو گرہن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کی نشانی کے طور پر ظاہر ہوا۔ اور پھر آج اِس دن کا گرہن اس لحاظ سے بھی اُس نشان کی طرف توجہ پھیرنے کا باعث ہے کہ آج جمعہ کا دن ہے اور جمعہ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد سے بھی ایک خاص نسبت ہے۔ پھر مارچ کا مہینہ ہونے کی وجہ سے بھی توجہ ہوتی ہے کیونکہ تین دن بعد اسی مہینہ کو 23؍مارچ کو یوم مسیح موعود بھی ہے۔ دعویٰ بھی ہوا۔ گویا یہ مہینہ، یہ دن اور یہ گرہن مختلف پہلوؤں سے جماعت کی تاریخ کو یاد کروانے والے ہیں۔

    مسیح موعود کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی چاند اور سورج گرہن کی جو پیشگوئی تھی اس کے بارہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے اقتباسات اور اس نشان کے نتیجہ میں سلسلہ میں شامل ہونے والے صحابہ کے ایمان افروز واقعات کا روح پرور تذکرہ۔

    عزیزم احمد یحییٰ باجوہ (طالب علم جامعہ احمدیہ) ابن مکرم نعیم احمد باجوہ صاحب آف جرمنی کی وفات۔ مرحوم کا ذکرِ خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 20؍مارچ 2015ء بمطابق20امان 1394 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور