برکاتِ خلافت

خطبہ جمعہ 29؍ مئی 2015ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ فرمایا کہ تم میں نبوت قائم رہے گی اس وقت تک جب تک اللہ تعالیٰ چاہے۔ پھر اس کے بعد خلافت علی منہاج نبوت قائم ہو گی۔ وہ خلافت قائم ہو گی جو نبی کے طریق پر چلنے والی ہو گی۔ اس کے ذاتی مفادات نہیں ہوں گے۔ وہ نبی کے کام کو آگے بڑھانے والی ہو گی۔ لیکن ایک عرصے کے بعد یہ خلافت جو راشد خلافت ہے ختم ہو جائے گی۔ یہ نعمت تم سے چھینی جائے گی۔ پھر ایسی بادشاہت قائم ہو جائے گی جس سے لوگ تنگی محسوس کریں گے۔ پھر اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت ہو گی۔ پھر اللہ تعالیٰ کا رحم جوش میں آئے گا اور پھر خلافت علی منہاج نبوت قائم ہو گی۔ (مسند احمد بن حنبل جلد 6صفحہ285 مسند النعمان بن بشیر حدیث: 18596 عالم الکتب بیروت 1998ء)

ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ اسلام کی تاریخ میں مختلف ادوار میں آنے والے مسلمان سربراہان حکومت اپنے آپ کو خلفاء کہلاتے رہے۔ یہ بتاتے رہے کہ ان کا مقام خلیفہ کا مقام ہے لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کی اکثریت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے جو پہلے چار خلفاء ہیں ان کو ہی خلفائے راشدین کا مقام دیتی ہے۔ انہی کا دور خلافت راشدہ کا دَور کہلاتا ہے۔ یعنی وہ دَور جو ہدایت یافتہ اور ہدایت پھیلانے والا دَور تھا جو اپنے نظام کو اس طرح چلاتے رہے جس طرح انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چلاتے دیکھا۔ قرآنی تعلیمات کے مطابق اس نظام کو چلایا۔ خاندانی بادشاہت نہیں رہی بلکہ مومنین کی جماعت کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے خلافت کی رداء انہیں پہنائی۔ لیکن ان کے علاوہ باقی خلفاء خاندانی بادشاہت کو ہی قائم رکھتے رہے اور حرف بہ حرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔ جب پہلی دو باتوں میں یہ پیشگوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی تو جو آخری بات آپ نے بیان فرمائی اس میں بھی ہمارے آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول نے ہی پورا ہونا تھا کہ اس دنیا داری اور مسلمانوں کے بگڑے ہوئے حالات کو دیکھ کر وہ خدا جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تاقیامت قائم رہنے والی شریعت کے ساتھ بھیجا تھا اس کا رحم جوش مارتا اور خلافت علی مہاج نبوت کو دنیا میں دوبارہ قائم فرماتا۔ اور ہم احمدی یہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے گئے وعدے کے مطابق اپنے رحم کو جوش دلایا۔ اس کا رحم جو ش میں آیا اور ہمارے آقا و مولیٰ کی بات کو پورا فرماتے ہوئے مسیح موعود اور مہدی معہود کے ذریعہ خلافت علی منہاج نبوت کو قائم فرمایا۔ آپ کو جہاں امّتی نبی ہونے کا مقام عطا فرمایا وہاں خاتم الخلفاء کے مقام سے بھی نوازا کہ اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلۂ خلافت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق اور خاتم الخلفاء کے ذریعہ سے ہی جاری ہونا ہے۔ پس ہم خوش قسمت ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خوشخبری سے حصہ پانے والوں میں شامل ہیں جو آپ نے خلافت علی منہاج نبوت کے قیام کی ہمیں عطا فرمائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ جمعہ کی آیت وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ(الجمعۃ: 4)۔ کی وضاحت میں جن بعد میں آنے و الوں کو پہلوں سے ملایا تھا ان میں ہم شامل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جس پیارے کے بارے میں فرمایا تھا کہ وہ ایمان ثریّا سے زمین پر لے کر آئے گا (صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ الجمعہ باب قولہ وَآخَرِیْنَ مِنْھُمْ4897) ہمیں اس کے ماننے والوں میں شامل فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مسیح و مہدی کو اپنا سلام پہنچانے کے لئے کہا تھا (مسند احمد بن حنبل جلد 3صفحہ182 مسند ابی ہریرۃ حدیث: 7957 عالم الکتب بیروت 1998ء) ہمیں اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ یہ فرض ادا کرنے والوں میں شامل ہوں اور پھر جماعت احمدیہ مبائعین پر یہ بھی اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ آپ کے بعد جاری سلسلۂ خلافت کی بیعت میں بھی شامل فرمایا۔

پس اللہ تعالیٰ کے یہ تمام فضل ہر احمدی سے تقاضا کرتے ہیں کہ اس کا شکر گزار بنتے ہوئے اپنی حالتوں میں وہ تبدیلی لائیں جو اللہ تعالیٰ کے اس فرستادہ کے ماننے والوں کا فرض ہے۔ تبھی اس بیعت کا حق ادا کر سکیں گے۔ مسیح موعود اور مہدی معہودنے ایمان کو ثریا سے زمین پر لانا تھا اور اپنے ماننے والوں کے دلوں کو اس سے بھرنا تھا اور ہر احمدی یقینا اس بات کا گواہ ہے کہ آپ نے یہ کام کر کے دکھایا۔ لیکن اس ایمان کا قائم کرنا صرف آپ کی زندگی تک محدودنہیں تھا یا چند دہائیوں تک محدودنہیں تھا بلکہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت علی منہاج نبوت کی خوشخبری دے کر خاموشی اختیار کی تو پھر اس کا مطلب تھا کہ اس ایمان کو تاقیامت زمین پر اپنی شان و شوکت سے قائم رہنا ہے اور ہر وہ شخص جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں شمار کرتا ہے اس کا فرض ہے کہ اس ایمان کو اپنے دلوں میں بٹھا کر اس پر ہمیشہ قائم رہے۔ یہ ان ماننے والوں کا فرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد آپ کے طریق پر چلنے والے نظام خلافت کے ساتھ جُڑ کر اس ایمان کے مظہر بنتے ہوئے اسے دنیا کے کونے کونے میں پھیلائیں اور توحید کو دنیا میں قائم کریں۔ اس کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تھا اور اس کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کے غلامِ صادق کو بھیجا ہے۔ اور اسی کام کی سرانجام دہی کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت کے تاقیامت رہنے کی پیشگوئی فرمائی تھی۔ اور اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کو اپنے اس دنیا سے جانے کی غمناک خبر کے ساتھ یہ خوشخبری بھی دی تھی اور فرمایا تھا کہ’’قدیم سے سنّت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھاوے۔ سو اب ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے‘‘۔ فرمایا ’’کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا‘‘۔ (رسالہ الوصیت۔ روحانی خزائن جلد 20صفحہ305)

پس ایمان کو زمین پر قائم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد اس دوسری قدرت کو جاری فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ مخالفینِ دین خوش ہوں کہ دین دوبارہ دنیا سے ختم ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ شیطان دندناتا پھرے۔ اللہ تعالیٰ نے مخالفین کی جھوٹی خوشیوں کو پامال کرنا ہے۔ اس لئے اس نے ایمان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد جاری نظام خلافت کی مدد کرتے ہوئے دنیا میں قائم رکھنا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا بھی فرض قرار دیا ہے جو اس نظام سے جڑنے کا دعویٰ کرتے ہیں کہ اس ایمان کو دنیا میں قائم رکھنے کے لئے خلافت کے مددگار بنیں اور اپنے عہد بیعت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ مصمّم ارادہ کریں کہ ہم نے اپنے ایمان کی بھی حفاظت کرنی ہے اور دوسروں کو بھی ایمان کی روشنی سے آشکار کرنا ہے۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سے سنّت ہے کہ وہ دو قدرتیں دکھلاتا ہے اور ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ دوسری قدرت نظام خلافت ہے۔ پس نظام خلافت کا دینی ترقی کے ساتھ ایک اہم تعلق ہے اور شریعت اسلامیہ کا یہ ایک اہم حصہ ہے۔ دینی ترقی بغیر خلافت کے ہو ہی نہیں سکتی۔ جماعت کی وحدت خلافت کے بغیر قائم رہ ہی نہیں سکتی۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم میں سے ہر ایک جو خلافت سے وابستہ ہے اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ خلافت کا جماعت میں جاری رہنا ایمان کا حصہ ہے اور اس بات کو وہ لوگ بھی جانتے تھے جو جماعت میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات پر فتنہ اٹھانے والوں کی باتوں کو رد کر کے خلافت سے وابستہ رہنا چاہتے تھے۔ ان کو پتا تھا کہ ہمارا ایمان قائم رہ ہی نہیں سکتا اگر ہم میں نظام خلافت نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ان لوگوں کی قربانیوں کی وجہ سے ان لوگوں کے ایمان میں پختگی کی وجہ سے آج ہم میں سے بہت سے جو اُن بزرگوں کی نسلوں میں سے ہیں نظام خلافت کے فیض سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ کوشش اور قربانی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے کی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی پر الزام لگانے والوں نے بڑے بڑے الزام لگائے لیکن جو آپ کے دل کی کیفیت نظام خلافت کو بچانے کے لئے تھی اس کی ایک جھلک مَیں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے الفاظ میں ہی آپ کے سامنے رکھتا ہوں کیونکہ یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے اور فتنوں سے بچنے کے لئے ہمیں تاریخ پر بھی نظر رکھنی چاہئے۔ اسی طرح ایمان میں مضبوطی کے لئے بھی یہ ضروری ہے۔ یہ مضبوطی کا ذریعہ بنتا ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں کہ جہاں حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے وفات پائی تھی یعنی اس گھر میں جس گھر میں اس کے ایک کمرے میں میں نے مولوی محمد علی صاحب کو بلا کر کہا کہ خلافت کے متعلق کوئی جھگڑا پیش نہ کریں کہ ہونی چاہئے یا نہ ہونی چاہئے اور اپنے خیالات کو صرف اس حد تک محدود رکھیں کہ ایسا خلیفہ منتخب ہو جس کے ہاتھ میں جماعت کے مفاد محفوظ ہوں اور جو اسلام کی ترقی کی کوشش کر سکے۔ چونکہ صلح ایسے ہی امور میں ہو سکتی ہے جن میں قربانی ممکن ہو۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی فرماتے ہیں کہ میں نے مولوی صاحب سے کہا جہاں تک ذاتیات کا سوال ہے میں اپنے جذبات کو آپ کی خاطر قربان کر سکتا ہوں لیکن اگر اصول کا سوال آیا تو مجبوری ہو گی کیونکہ اصول کا ترک کرنا کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔ ہمارے اور آپ کے درمیان یہی فرق ہے کہ ہم خلافت کو ایک مذہبی مسئلہ سمجھتے ہیں اور خلافت کے وجود کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ مگر آپ خلافت کے وجود کو ناجائز قرار نہیں دے سکتے کیونکہ ابھی ابھی ایک خلیفہ کی بیعت سے آپ کو آزادی ملی ہے۔ یعنی مراد تھی کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی بیعت تو آپ لوگوں نے کی تھی اور اب ان کی وفات ہوئی ہے۔ آپ کو اس سے آزادی ملی ہے یعنی کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے بعد اب آپ کہتے ہیں کہ ہمیں خلافت نہیں چاہئے اور ہم خلافت سے آزاد ہو گئے۔ حضرت مصلح موعودنے انہیں کہا کہ چھ سال تک آپ نے بیعت کئے رکھی اور جو چیز چھ سال تک جائز تھی وہ آئندہ بھی حرام نہیں ہو سکتی اور وہ چیز جسے اللہ تعالیٰ کا حکم ہو وہ تو بالکل بھی نہیں ہو سکتی۔ آپ کی اور ہماری پوزیشن میں یہ ایک فرق ہے کہ آپ اگر اپنی بات کو چھوڑ دیں تو آپ کو وہی چیز اختیار کرنی پڑے گی جسے آپ نے اب تک اختیار کئے رکھا۔ یعنی خلیفۃ المسیح الاول کی بیعت کئے رکھی۔ لیکن ہم اگر اپنی بات چھوڑیں تو وہ چھوڑنی پڑے گی جسے چھوڑنا ہمارے عقیدہ اور مذہب کے خلاف ہے اور جس کے خلاف ہم نے کبھی عمل نہیں کیا۔ پس انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ آپ وہ راہ اختیار کر لیں جو آپ نے آج تک اختیار کئے رکھی تھی اور ہمیں ہمارے مذہب اور اصول کے خلاف مجبور نہ کریں۔ باقی رہا یہ سوال کہ جماعت کی ترقی اور اسلام کے قیام کے لئے کون مفید ہو سکتا ہے سو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے حضرت مولوی محمد علی صاحب کو کہا کہ جس شخص پر آپ متفق ہوں گے اسے ہم خلیفہ مان لیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی اکثریت یہ چاہتی تھی کہ نظام خلافت قائم ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا واضح ارشاد جماعت کے سامنے تھا۔ جب یہ میٹنگ زیادہ لمبی ہو گئی۔ مولوی محمد علی صاحب ضد کرتے چلے گئے تو لوگوں نے دروازے پیٹنے شروع کر دیئے اور شور مچایا کہ جلدی فیصلہ کریں اور ہماری بیعت لیں۔ بہر حال حضرت خلیفۃ المسیح الثانی فرماتے ہیں کہ مولوی صاحب کو میں نے کہا کہ آپ کے خدشات میں نے دُور کر دئیے ہیں اس لئے آپ کے سامنے اب یہ سوال ہونا چاہئے کہ خلیفہ کون ہو۔ یہ نہیں کہ خلیفہ ہونا نہیں چاہئے۔ اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ میں جانتا ہوں اس لئے آپ زور دے رہے ہیں کہ آپ کو پتا ہے کہ خلیفہ کون ہوگا۔ حضرت مصلح موعودنے کہا لیکن میں نے ان سے کہا کہ مجھے تو نہیں پتا کہ کون ہو گا۔ خلیفہ ثانی نے فرمایا کہ میں اس کی بیعت کر لوں گا جسے آپ یعنی مولوی محمد علی صاحب چنیں گے جب میں آپ کے منتخب کردہ کی بیعت کر لوں گا تو پھر کیونکہ خلافت کے مؤید یعنی خلافت کی تائید کرنے والے میری بات مانتے ہیں مخالفت کا خدشہ پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ لیکن مولوی صاحب نے نہ ماننا تھا نہ مانے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔ میں نے انہیں کہا کہ آپ جو بدظنیاں کرتے رہتے ہیں میرے پے۔ میں اپنا دل چیر کر آپ کو کس طرح دکھاؤں۔ میں تو جو قربانی میرے امکان میں ہے کرنے کو تیار ہوں اور پھر تھوڑی دیر بعد جب یہ دروازہ کھولا گیا باہر نکلے تو مولوی محمد احسن امروہی صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کا نام پیش کیا اور جماعت نے آپ کو مجبور کیا کہ آپ بیعت لیں۔ آپ نے بڑا کہا کہ مجھے تو بیعت کے الفاظ بھی یادنہیں۔ مولوی سرور شاہ صاحب نے غالباً کہا کہ میں پڑھتا جاتا ہوں اور یوں اس دوسری قدرت کے قائم ہونے میں یہ جو فتنہ پردازوں نے فتنہ ڈالنے کی کوشش کی تھی اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو پورا کرتے ہوئے ناکام و نامراد کر دیا اور خلافت علی منہاج نبوت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد دوسری مرتبہ پھر قائم فرما دی۔ اور جو خلافت سے دور ہٹے ہوئے تھے وہ بڑے دینی عالم بھی تھے، دنیاوی عالم بھی تھے، پڑھے لکھے بھی تھے، تجربہ کار بھی تھے، صاحب ثروت و حیثیت بھی تھے، انجمن کے تمام خزانے کو بھی اپنے قبضے میں کئے ہوئے تھے لیکن وہ لوگ ناکام و نامراد ہی ہو تے گئے۔ مولوی صاحب خلافت ثانیہ کے انتخاب کے بعدنہ صرف وہاں سے، قادیان سے چلے گئے بلکہ ان غیر مبائعین نے نظام خلافت کو ختم کرنے کے لئے بعد میں بھی بڑی فتنہ پردازیاں جاری رکھیں۔ لیکن ہمیشہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ کیوں؟ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ خلافت کے نظام کو جاری رکھنے کا تھا۔ جب یہ لوگ ہر طرح سے ناکام ہو کر قادیان چھوڑ کر جا رہے تھے اور خزانہ بھی بالکل خالی کر گئے تھے۔ جاتے ہوئے تعلیم الاسلام سکول کی عمارت کی طرف اشارہ کر کے کہہ رہے تھے کہ دس سال نہیں گزریں گے کہ ان عمارتوں پر آریوں اور عیسائیوں کا قبضہ ہو گا۔ (ماخوذ ازخطبات محمود جلد18صفحہ72تا75)

لیکن دیکھیں اللہ تعالیٰ کس شان سے اپنے وعدے پورے فرماتا ہے۔ کس طرح اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو پورا کرتا ہے۔ کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ دی گئی خوشخبری کو نہ صرف پورا فرماتا ہے بلکہ آج تک ہر روز ایک نئی شان سے پورا فرماتا چلا جا رہا ہے۔ وہ دس سال کی بات کرتے تھے کہ اس سے پہلے ہی آریہ اور عیسائی یہاں قبضہ کر لیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کے کاموں کی اپنی شان ہے۔ وہ دس سال بھی گزر گئے اور اس کے بعد بھی کئی دہائیاں گزر گئیں اور آج اس بات کو 101سال ہو گئے ہیں لیکن نہ صرف انتہائی نامساعد حالات کے باوجود قادیان ترقی کر رہا ہے جس میں پارٹیشن کا واقعہ بھی شامل ہے جب جماعت کو وہاں سے نکلنا پڑا اور صرف چند سو درویشوں کو وہاں درویشی کی زندگی گزارنے کے لئے چھوڑ دیا گیا۔ اور اب تو قادیان میں نئی سے نئی جدید عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں۔ ایک سکول پر قبضہ کرنے کی بات کرتے تھے۔ کئی کروڑ روپے کی لاگت سے نئے سکول بن رہے ہیں۔ تبلیغ کے کام بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں بہت وسعت اختیار کر چکے ہیں اور پھر قادیان ہی نہیں دنیا کے بہت سے ممالک میں خلافت احمدیہ کے ساتھ وابستہ جماعت کی کئی کئی منزلہ عمارتیں اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کا ثبوت دے رہی ہیں۔ دنیا کے ہر مذہب کے افراد تک اسلام کی خوبصورت تعلیم پہنچ رہی ہے۔ پس یہ تائید ہے اللہ تعالیٰ کی خلافت احمدیہ کے ساتھ جس کے نظارے ہم روز دیکھ رہے ہیں۔ جرمنی بھی ان فیوض سے خالی نہیں ہے جو خلافت احمدیہ سے جڑنے والے لوگوں کو اللہ تعالیٰ پہنچا رہا ہے۔ ابھی چند دن پہلے جماعت جرمنی کی دو ذیلی تنظیموں انصار اللہ اور لجنہ اماء اللہ نے مل کر پانچ منزلہ عمارت خریدی جو ایک اعشاریہ سات ملین یا سترہ لاکھ یورو کی خریدی گئی۔ وہ خزانہ جس میں خلافت کے مخالفین نے ایک روپے سے بھی کم رقم چھوڑی تھی اور ہنستے تھے کہ دیکھیں اب کس طرح نظام چلے گا۔ اس خلافت سے وابستہ ایک ملک کی دو ذیلی تنظیموں نے آج ایک پانچ منزلہ وسیع عمارت تقریباً انیس کروڑ روپے سے بھی زیادہ مالیت خرچ کر کے خریدی ہے۔ اب یہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور خلافت احمدیہ کی تائیدنہیں تو اور کیا ہے۔ جو خلافت سے علیحدہ ہوئے ان کا مرکزی نظام بھی درہم برہم ہو گیا۔ ان کے نیک فطرت اس وقت بھی جب ان کو احساس ہوا اور آج بھی جب ان کو یا ان کی نسلوں کو احساس ہوتا ہے تو ان میں سے بھی جماعت احمدیہ مبائعین میں شامل ہو رہے ہیں اور خلافت کے جھنڈے تلے آ رہے ہیں۔ پھر آج دنیا میں تبلیغ اسلام کا کام خلافت احمدیہ کے نظام کے تحت ہی ہو رہا ہے۔ جب دنیا میں اسلام کا نام بدنام کیا جا رہا ہے تواسلام کی خوبصورت تصویر جماعت احمدیہ ہی دکھا رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ خود بھی خلافت احمدیہ کی سچائی دنیا پر ثابت کر رہا ہے۔ بعض واقعات حیرت انگیز ہوتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کو جماعت کی سچائی کے ساتھ خلافت کے ساتھ اپنی تائید و نصرت کے بارے میں بھی بتاتا ہے۔ صرف جماعت احمدیہ کی سچائی ہی نہیں بلکہ خلافت کے ساتھ بھی جو تائید و نصرت اللہ تعالیٰ دکھا رہا ہے وہ بھی غیروں کو دکھاتا ہے اور یوں سعید فطرتوں کے سینے کھولتا ہے۔ ایک دو باتوں کا، واقعات کا مَیں یہاں ذکر کر دیتا ہوں۔ نائیجر افریقہ کا ایک ملک ہے وہاں کے ہمارے مبلغ نے لکھا کہ نومبائعین کی ٹریننگ کلاس میں دس امام حضرات کے ساتھ ساتھ ایک گاؤں ووگونہ (Ougna) کے چیف بھی حاضر ہو گئے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ امام صاحب کے بجائے آپ خود کیوں آ گئے ہیں؟ یہ کلاس تو امام حضرات کی ٹریننگ کے لئے ہے تو انہوں نے بتایا کہ مَیں جانتا ہوں کہ یہ اماموں کی کلاس ہے لیکن کل رات جب میں نے امام صاحب کو کلاس میں شامل ہونے کا پیغام دیا تو اس نے انکار کر دیا اور بتایا کہ مجھے شہر کے سنّی علماء جو وہابی تھے انہوں نے بتایا ہے کہ احمدی کافر ہیں۔ یہ چیف کہتے ہیں کہ مجھے بڑی حیرانی ہوئی اور دکھ بھی ہؤا کہ احمدی کافر کیسے ہو سکتے ہیں اور یہ کہ اگر یہ کافر ہیں تو ان کو گاؤں میں تبلیغ کرنے کی اجازت تو بحیثیت چیف میں نے دی ہے۔ اس لئے میں تو دوگنا کافر ہو گیا۔ اس لئے میں نے رات کو بہت دعا کی۔ لوگ کہتے ہیں کہ افریقہ کے رہنے والے اَن پڑھ لوگ ہیں، عقل نہیں۔ گاؤں میں رہنے والے یہ چیف زیادہ پڑھے لکھے بھی نہیں ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ کا خوف تھا سعید فطرت ہیں۔ کہتے ہیں میں نے رات بہت دعا کی اور اللہ تعالیٰ سے رہنمائی کی دعا کرتے کرتے سو گیا۔ اس بات کی بڑے بڑے علماء کو سمجھ نہیں آتی۔ پھر انہوں نے حلفیہ بیان دیا کہ رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے گھر میں پہلے آسمان سے ستارے اتر آئے ہیں اور پھر ان کے پیچھے پیچھے چاند۔ میں ان کو پاس سے دیکھ رہا ہوں مگر ان میں روشنی نہیں ہے اور پھر اچانک آسمان سے ایک سفید کپڑوں میں ملبوس شخصیت میرے گھر میں اترتی ہے اور اس گھر میں داخل ہوتے ہی یعنی اس شخص کے داخل ہوتے ہی ستارے اور چاند حیرت انگیز طور پر روشن ہو گئے اور سارا گھر روشنیوں سے جگمگا اٹھا اور میرے دل میں یہ بات زور سے داخل ہو گئی کہ یہ تو احمدیوں کی کوئی شخصیت ہے اور میں آگے بڑھ کر اسے سوال کرتا ہوں کہ آپ احمدیوں کے مربی ہیں یا خلیفہ۔ اَور میری آنکھ کھل گئی۔ مربی صاحب نے ان کو تصویریں دکھائیں۔ البم دکھایا تو انہوں نے فوری طور پر اپنی انگلی میری تصویر پہ رکھ کر کہا اور بار بار قسمیں کھا کر کہا کہ انہی کو میں نے اپنے گھر میں آسمان سے اترتے دیکھا تھا اور انہی کی آمد سے میرا گھر روشن ہو گیا تھا۔

پھر گیمبیا سے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ سامباباین (Samba Mbayen) ایک گاؤں ہے۔ جب وہاں تبلیغ کی گئی تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کے بارے میں بتایا گیا اور آپ کی جماعت میں شامل ہونے کے لئے شرائط بیعت پڑھ کر سنائی گئیں تو گاؤں کے امام اور گاؤں کی ترقیاتی کمیٹی کے چیئرمین نے برجستہ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام مہدی کی آمد کی پیشگوئی فرمائی تھی اور آج وہ پہلی مرتبہ امام مہدی کی آمد کا سن رہے ہیں اور جب سے احمدیت کو دیکھا ہے بہت متأثر ہیں۔ پھر کہنے لگے کہ صرف احمدی ہی حقیقی مسلمان ہیں کیونکہ ان کے پاس خلافت کی طاقت ہے جو سب کو ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہے۔ اور جب ان کو میرے بارے میں انہوں نے بتایا، تصویر دکھائی تو کہنے لگے کہ ہم اسے دیکھتے ہیں اور اس شخص کو مَیں روز ٹی وی پر دیکھتا ہوں اور پھر سارے افرادنے جو تقریباً تین سو پچاس کے قریب تھے بیعت کر کے احمدیت میں شمولیت اختیار کر لی۔ جب انہوں نے قرآن کریم کا ترجمہ تین مقامی زبانوں میں دیکھا تو کہا کہ احمدیت ہی سچا اسلام ہے۔ کسی اور فرقے کو یہ سعادت نصیب نہیں ہوئی جیسا کہ احمدی کر رہے ہیں اور آخر پر کہا کہ وہ انشاء اللہ تعالیٰ احمدیت پر قائم رہیں گے اور پیچھے نہیں ہٹیں گے کیونکہ سچا اسلام تو یہی ہے اور دوسرے مولوی ہمیں دھوکہ دیتے ہیں۔ پھر اب اسی دورے میں آخن (Aachen) کی اس مسجد کے افتتاح کے موقع پر اور ہناؤ (Hanau) کی مسجد کے افتتاح کے موقع پر مقامی لوگوں نے جو مختلف طبقات کے تھے، سیاستدان بھی تھے، کاروباری بھی تھے، ٹیچر بھی تھے اور دوسرے پڑھے ہوئے لوگ بھی تھے۔ مرد بھی تھے اور عورتیں بھی تھیں۔ ان میں سے بہت سوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ایک نے کہا کہ میری بہت سے احمدیوں سے واقفیت ہے اور احمدیت کے بارے میں مَیں سمجھتی تھی کہ بہت سمجھتی ہوں اور مجھے اس واقفیت کی وجہ سے بہت کچھ پتا ہے لیکن کہنے والے کو انہوں نے کہا کہ جو تمہارے خلیفہ کی باتیں سن کر مجھ پر اثر ہؤا ہے وہ پہلے نہیں ہؤا۔ مجھے اسلام کے متعلق حقیقت اب صحیح طور پر پتا چلی ہے جو دل میں اتری ہے۔ تو یہ فضل ہیں اللہ تعالیٰ کے جو خلافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ مَیں تو ایک عاجز انسان ہوں۔ اپنی حالت کا مجھے علم ہے میری کوئی خوبی نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے خلافت سے تائید کا وعدہ فرمایا ہے، نصرت کا وعدہ فرمایا ہے اور خدا تعالیٰ یقینا سچے وعدوں والا ہے وہ ہمیشہ خلافت کی تائید و نصرت فرماتا رہا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ بھی فرماتا رہے گا۔

جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے۔ یہ دوسری قدرت خدا تعالیٰ کی قائم کردہ ہے اور اس کی تائید کے اظہار ہم دیکھتے رہتے ہیں۔ پس جو اپنے ایمان میں مضبوط رہیں گے وہ نشانات اور تائیدات دیکھتے رہیں گے۔ پس اپنے ایمانوں کو مضبوط کرتے رہیں۔ خلافت احمدیہ سے اپنے تعلق کو جوڑیں اور اس حق کی ادائیگی کی طرف توجہ بھی دیں جس کا خدا تعالیٰ نے خلافت کا انعام حاصل کرنے والوں سے وعدہ فرمایا ہے۔ خلافت کی نعمت اسلام کے اوّل دور میں اُس وقت چِھن گئی تھی جب دنیاداری زیادہ آ گئی تھی۔ اب انشاء اللہ تعالیٰ یہ فیض تو خدا تعالیٰ جاری رکھے گا لیکن اس فیض سے وہ لوگ محروم ہو جائیں گے جو دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے عہد کو پورا نہیں کریں گے۔ اگر ان شرائط پر عمل نہیں کریں گے جو خلافت کے انعام کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے رکھی ہیں تو وہ محروم ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے خلافت کے ذریعہ خوف کو امن میں بدلنے کا وعدہ فرمایا ہے لیکن ان لوگوں سے جو اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے والے ہوں اور پہلا حق یہ ہے کہ یَعْبُدُوْنَنِیْ۔ وہ میری عبادت کریں گے۔ پس اگر اس نعمت سے فائدہ اٹھانا ہے تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کریں۔ پانچ وقت اپنی نمازوں کی حفاظت کریں اور احسن رنگ میں ادائیگی کی طرف توجہ دیں۔ پھر فرمایا لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئًا۔ کسی چیز کو میرا شریک نہیں بنائیں گے۔

پس اس دنیا میں جہاں انسان کی مختلف ترجیحات ہیں اور خاص طور پر ان ترقی یافتہ ممالک میں جہاں مادیت کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ان مادیت کی چیزوں کو بعض لوگوں نے خدا تعالیٰ کے احکامات پر ترجیح دینی شروع کر دی ہے یا دیتے ہیں۔ دنیاوی فائدہ کے اٹھانے کے لئے غلط بیانی اور جھوٹ سے بھی کام لیتے ہیں۔ یہ بھی ایک قسم کا شرک ہے۔ پس ایسے لوگ خلافت سے صحیح فیضیاب نہیں ہو سکتے۔ یہاں جرمنی سے مجھے کسی نے خط لکھا کہ ان کا ایک زیر تبلیغ دوست تھا وہ سب مسائل اور صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قائل ہو گیا۔ جب اس شخص نے اپنے دوست کو یہ کہا کہ پھر بیعت کر کے جماعت میں آ جاؤ تو کہنے لگا کہ میں بہت سے احمدیوں کو جانتا ہوں بعض میرے ارد گرد جو میرے قریبی ہیں جو ٹیکس چوری بھی کرتے ہیں۔ جو جھوٹ سے بھی کام لیتے ہیں، جو اور بھی غلط کاموں میں ملوث ہیں۔ تو میں تو بہر حال یہ سب غلط کام نہیں کرتا۔ میں ٹیکس بھی پورا ادا کرتا ہوں۔ اگر ٹیکسی چلاتا ہوں تو اس کے بھی پیسے پورے دیتا ہوں تو پھر مَیں کس طرح ان میں آ جاؤں۔ اس لئے ان سے بہتر ہوں باوجود اس کے کہ باقی تمہارے عقائد مان لیتا ہوں۔ گو اس کا یہ جواب غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کو نہ مان کر وہ خود ملزم بن گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو اسے یہی کہنا ہے کہ تمہارے سامنے جو حقیقت آ گئی تو تم نے چند لوگوں کو دیکھ کر اس کا انکار کیوں کیا۔ تمہیں جو میرا حکم تھا تم نے وہ کیوں نہ مانا۔ لیکن ایسے احمدی اپنے غلط رویّوں سے دوہرے گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ خود بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے محروم رہیں گے اور ہو رہے ہیں اور دوسروں کو بھی دُور ہٹا رہے ہیں اور ایسے لوگوں کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ یہ لوگ ہماری طرف منسوب ہو کر ہمیں بدنام کرنے والے ہیں۔ پس جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام کو بدنام کرنے والے ہیں تو انہوں نے پھر آپ کی جاری خلافت کے فیض سے کیا حصہ لینا ہے۔ پس ایسے لوگوں کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح کام کرنے والوں اور عہدیداروں سے بھی میں یہی کہتا ہوں کہ یہ برکت جو آپ کے کام میں ہے یا جو آپ کو اللہ تعالیٰ کام کی توفیق دے رہا ہے یہ صرف اور صرف خلافت سے وابستگی میں ہے۔ اس سے علیحدہ ہو کر کوئی ایک کوڑی کا بھی کام نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی بعض کاموں کے اچھے نتائج کو دنیاوی علم اور عقل اور محنت کی وجہ سمجھتا ہے تو یہ محض اس کی خوش فہمی ہے۔ دین کے نام پر کئے جانے والے کام میں خلافت سے علیحدہ ہو کر ایک ذرہ کی بھی برکت نہیں پڑے گی۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ علیحدہ ہونے والوں نے نتیجہ دیکھ لیا۔ روزبروز ان کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ ان کی مرکزیت ختم ہو رہی ہے۔ ان کا نظام بے سہارا ہو رہا ہے۔ پس یہ خلافت کے ساتھ محبت اور اطاعت ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کر رہی ہے اور بہتر نتائج نکل رہے ہیں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا قائم کردہ نظام ہے اس لئے دین کی ترقی کے لئے ہر کوشش کو اس نے خلافت سے وابستہ کر دیا۔

پس اگر کسی عہدیدار کے دل میں کبھی مَیں آئے یا خود پسندی پیدا ہو تو اسے استغفار کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔ پس جماعت احمدیہ کی ترقی میں نہ علماء کی علمیت کام دے رہی ہے، نہ عقلمند کی عقل کام دے رہی ہے، نہ دنیاوی علم رکھنے والے کا علم و ہنر کام دے رہا ہے۔ اگر کسی دینی علم رکھنے والے، اگر کسی عقلمند کی عقل، اگر کسی دنیاوی علم والے کی علمیت، اگر ماہرین کے ہنر جماعت کے کاموں میں غیر معمولی نتائج پیدا کر رہے ہیں تو یہ محض اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور خلافت کے ساتھ وابستہ رہنے کی وجہ سے ہے کیونکہ اس وابستگی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا ان نتائج کا وعدہ ہے اور اس لئے وہ عطا فرما رہا ہے۔ دنیا داروں میں یا دنیاداری میں بیشک علم عقل اور ہنر کام دے سکتا ہے لیکن جماعت میں رہنے والے کو بہر حال بہترین نتائج کے لئے جماعتی کاموں میں خاص طور پر اپنے آپ کو خلافت کا تابع فرمان کرنا ہو گا۔

اسی طرح علماء کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہے یعنی نئے ماننے والے اور نئے نوجوان اور بچے جنہیں خلافت کے ساتھ حقیقی تعلق کا اِدراک نہیں ہے تو وہ انہیں اس سے آگاہ کریں، اس بارے میں بتائیں۔ اسی طرح عہدیدار بھی ذمہ دار ہیں۔ بعض عہدیدار ایسے ہیں جو منتخب ہو کر عہدیدار تو بن جاتے ہیں لیکن دین کا انہیں کچھ پتا نہیں ہوتا۔ وہ اپنے عہدے کو بھی دنیاوی عہدے کی طرح سمجھتے ہیں۔ میرے سامنے جب بعض لوگ کہتے ہیں کہ میرے پاس فلاں عہدہ ہے تو میں انہیں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ عہدہ نہ کہو خدمت کہو اور اگر خدمت دین کا اللہ تعالیٰ نے موقع دے دیا ہے تو اپنے دینی علم کو بھی بڑھائیں اور اپنے اخلاص اور وفا کو بھی بڑھائیں، اپنے تقویٰ کو بھی بڑھائیں اور خلافت کے ساتھ اپنے تعلق کو بھی بڑھائیں۔ ایسے عہدیدار بھی ہیں یا ہوتے ہیں جو اپنی اہمیت کی طرف تو توجہ دلانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں کہ ہم عہدیدار ہیں لیکن خلافت کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ سال میں ایک یوم خلافت منا کر ہم نے فرض ادا کر دیا۔ میں نے پہلے بھی ایک دفعہ بتایا تھا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے کہ جتنا زور جماعت کو خلافت سے تعلق کے بارے میں دیا جانا چاہئے اتنا نہیں دیا جاتا۔ اب میرے کہنے پر بعد میں جلسوں میں تقاریر تو شروع ہو گئی ہیں لیکن اس بات کو راسخ کرنے کی بہت ضرورت ہے کہ خلیفۂ وقت کی باتوں کو سنو اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔ اپنا خلافت سے تعلق بڑھاؤ۔ جو لوگ اس بات کو سمجھتے ہیں وہ اپنی حالتوں میں بھی غیر معمولی تبدیلی محسوس کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں کینیڈا سے تقریباً سو سے اوپر خدام اور امریکہ سے دو سو سے اوپر خدام مختلف عمروں کے مجھے لندن ملنے کے لئے آئے۔ ان میں نئے بیعت کرنے و الے بھی شامل تھے۔ تین دن رہے ہیں۔ اس کے بعد ان کے تأثرات بالکل مختلف تھے۔ عجیب اخلاص اور وفا کا اظہار ان سے ہو رہا تھا جس کو دیکھ اور سن کر حیرت ہوتی ہے اور بعد میں جا کر بھی انہوں نے ان باتوں کا اظہار کیا اور اپنی ان حالتوں کی تبدیلی کا اظہار کیا۔ یہ عہد کیا کہ ہم نمازوں میں باقاعدگی رکھیں گے۔ یہ عہد کیا کہ جماعت کے ساتھ وابستگی میں باقاعدگی رکھیں گے۔ یہ عہد کیا کہ خلافت سے اپنے تعلق کو بڑھاتے چلے جائیں گے۔ اس سے پہلے نہ ان کو خلافت کے تعلق کے بارے میں اتنا بتایا گیا تھا، نہ ان کو تجربہ تھا۔ بیشک ذاتی ملاقات سے دونوں طرف سے ایک تعلق اور محبت کا خاص رنگ پیدا ہوتا ہے لیکن مختلف واقعات کے ذریعہ علماء اور عہدیدار خلافت کی اہمیت کو جماعت میں وقتاً فوقتاً بیان کرتے رہیں تو ایمانوں میں مضبوطی اور مزید جِلاء پیدا ہوتی ہے۔ عہدیدار خلافت کے نمائندے کے نام پر اپنی اہمیت تو واضح کرنا چاہتے ہیں۔ جہاں کہیں عہدیدار کھڑا ہو گا وہ کہے گا مَیں خلافت کا نمائندہ ہوں اور ان عہدیداروں میں مرد بھی شامل ہیں اور لجنہ کی صدرات بھی شامل ہیں اَور عہدیدار بھی شامل ہیں لیکن خلافت سے تعلق کو اس طرح انہوں نے ذہنوں میں نہیں ڈالا جس طرح ڈالنا چاہئے۔ اگر یہ عہدیدار خلافت کی اہمیت اور تعلق کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں گے تو ان عہدیداروں کی اہمیت خود بخود بڑھ جائے گی۔ پس یہ علماء کی ذمہ داری ہے۔ اس میں سب لوگ شامل ہیں چاہے وہ مربیان ہیں، عہدیداران ہیں یا دین کا علم رکھنے والے ہیں کہ خلیفۂ وقت کا دست و بازو بنیں۔ اپنے عمل کو بھی خلیفۂ وقت کے تابع کریں اور دوسروں کو بھی نصیحت کریں۔ یہ تصور غلط ہے کہ ایک دفعہ کہہ دیا تو بات ختم ہو گئی۔ یہ نصیحت اور تعلق کے اظہار کا بار بار ذکر ہونا چاہئے۔

ایک خطبہ میں اس سلسلہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مربیان اور علماء کو ایک بڑی اہم نصیحت فرمائی تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ ہر مومن جو دین کا درد اور سلسلہ سے اخلاص رکھتا ہے اور جو چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا سلسلہ نیک نامی کے ساتھ دنیا میں قائم رہے اور اسلام کو وہی عزت پھر حاصل ہو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوئی تھی اور اس کام کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کوششیں باطل اور رائیگاں نہ جائیں تو اس کا فرض ہے کہ خلیفہ کے ساتھ دن رات تعاون کر کے اس کام میں لگ جائے کہ ذہنی طور پر بھی جماعت کی اصلاح ہو جائے۔ ایسے لوگوں کا فرض ہے کہ جس طرح شادی کے موقع پر لوگ اپنی جھولیاں پھیلا دیتے ہیں (بعض جگہوں پہ رواج ہوتا ہے چھوارے بانٹے جاتے ہیں اور لوگ اپنی جھولیاں پھیلا دیتے ہیں ) کہ اس میں چھوارے گریں۔ اسی طرح جب خلیفہ جماعت کی اصلاح کے لئے کچھ کہے تو اسے لیں اور افراد جماعت کے سامنے اسے دہرائیں اور دہرائیں اور دہرائیں حتی کہ کند ذہن سے کند ذہن آدمی بھی سمجھ جائے اور دین پر صحیح طور پر چلنے کے لئے رستہ پا لے۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 18صفحہ 215-214)

اللہ تعالیٰ افراد جماعت کو بھی اور علماء اور عہدیداران کو بھی یہ توفیق دے کہ خلافت کی باتوں کو نہ صرف سننے والے ہوں بلکہ عمل کرنے والے بھی ہوں۔ یہ لوگ یوم خلافت پر صرف وفا کا اظہار کر دینا یا وفا کا اظہار کر کے یوم خلافت کی مبارکباد دے کر اپنے آپ کو فرض ادا کرنے والے نہ سمجھیں۔ اللہ کرے کہ اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق ہم خلافت کے انعام کو سنبھالنے والے ہوں۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 29؍ مئی 2015ء شہ سرخیاں

    ہم احمدی یہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے گئے وعدے کے مطابق مسیح موعود اور مہدی معہود کے ذریعہ خلافت علی منہاج نبوت کو قائم فرمایا۔ آپ کو جہاں امّتی نبی ہونے کا مقام عطا فرمایا وہاں خاتم الخلفاء کے مقام سے بھی نوازا کہ اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلۂ خلافت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق اور خاتم الخلفاء کے ذریعہ سے ہی جاری ہونا ہے۔ پس ہم خوش قسمت ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خوشخبری سے حصہ پانے والوں میں شامل ہیں جو آپ نے خلافت علی منہاج نبوت کے قیام کی ہمیں عطا فرمائی تھی۔

    آج دنیا میں تبلیغ اسلام کا کام خلافت احمدیہ کے نظام کے تحت ہی ہو رہا ہے۔

    اسلام کی خوبصورت تصویر جماعت احمدیہ ہی دکھا رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ خود بھی خلافت احمدیہ کی سچائی دنیا پر ثابت کر رہا ہے۔

    اللہ تعالیٰ لوگوں کو جماعت کی سچائی کے ساتھ خلافت کے ساتھ اپنی تائید و نصرت کے بارے میں بھی بتاتا ہے۔ صرف جماعت احمدیہ کی سچائی ہی نہیں بلکہ خلافت کے ساتھ تائید و نصرت بھی جو اللہ تعالیٰ دکھا رہا ہے وہ بھی غیروں کو دکھاتا ہے اور یوں سعید فطرتوں کے سینے کھولتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے خلافت سے تائید کا وعدہ فرمایا ہے، نصرت کا وعدہ فرمایا ہے اور خدا تعالیٰ یقینا سچے وعدوں والا ہے وہ ہمیشہ خلافت کی تائید و نصرت فرماتا رہا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ بھی فرماتا رہے گا۔

    خلافت کی نعمت اسلام کے اوّل دور میں اُس وقت چِھن گئی تھی جب دنیاداری زیادہ آ گئی تھی۔

    اب انشاء اللہ تعالیٰ یہ فیض تو خدا تعالیٰ جاری رکھے گا لیکن اس فیض سے وہ لوگ محروم ہو جائیں گے جو دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے عہد کو پورا نہیں کریں گے۔

    اللہ تعالیٰ نے خلافت کے ذریعہ خوف کو امن میں بدلنے کا وعدہ فرمایا ہے لیکن ان لوگوں سے جو اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے والے ہوں اور پہلا حق یہ ہے کہ یَعْبُدُوْنَنِیْ۔ وہ میری عبادت کریں گے۔ پس اگر اس نعمت سے فائدہ اٹھانا ہے تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کریں۔ پانچ وقت اپنی نمازوں کی حفاظت کریں اور احسن رنگ میں ادائیگی کی طرف توجہ دیں۔ پھر فرمایا لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئًا۔ کسی چیز کو میرا شریک نہیں بنائیں گے۔

    اگر خدمت دین کا اللہ تعالیٰ نے موقع دے دیا ہے تو اپنے دینی علم کو بھی بڑھائیں اور اپنے اخلاص اور وفا کو بھی بڑھائیں، اپنے تقویٰ کو بھی بڑھائیں اور خلافت کے ساتھ اپنے تعلق کو بھی بڑھائیں۔ اپنے عمل کو بھی خلیفۂ وقت کے تابع کریں اور دوسروں کو بھی نصیحت کریں۔ جب خلیفہ جماعت کی اصلاح کے لئے کچھ کہے تو اسے لیں اور افراد جماعت کے سامنے اسے دہرائیں اور دہرائیں اور دہرائیں حتی کہ کند ذہن سے کند ذہن آدمی بھی سمجھ جائے اور دین پر صحیح طور پر چلنے کے لئے رستہ پا لے

    فرمودہ مورخہ 29؍مئی 2015ء بمطابق 29ہجرت 1394 ہجری شمسی،  بمقام فرینکفرٹ جرمنی

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور