جلسہ سالانہ جرمنی: اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نظارے

خطبہ جمعہ 12؍ جون 2015ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

’’یاد رکھو کہ انسان کو چاہئے کہ ہر وقت اور ہر حالت میں دعا کا طالب رہے اور دوسرے اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ (الضحیٰ: 11) پر عمل کرے۔‘‘ فرمایا: خدا تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی تحدیث کرنی چاہئے۔ اس سے خدا تعالیٰ کی محبت بڑھتی ہے اور اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لئے ایک جوش پیدا ہوتا ہے۔‘‘ (تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد4 صفحہ649بحوالہ الحکم 10اپریل 1903ء صفحہ 2-1جلد7نمبر13)

اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نظارے تو ہم روز دیکھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل اور نعمتوں کی طرف توجہ دلانے والے ہونے چاہئیں اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں اضافہ کرنے والے بھی ہونے چاہئیں۔ لیکن جب مَیں سفر پر جاتا ہوں تو اللہ تعالیٰ کے فضل کئی گنا زیادہ بڑھ کر ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے پروگراموں میں برکت ڈالتا ہے اور تبلیغ اور اسلام کا حقیقی پیغام بھی بڑی کثرت سے لوگوں کو پہنچتا ہے اور پھر لوگوں پر اس کا اثر بھی ہوتا ہے۔

گزشتہ دنوں جب جرمنی کے دورے پر گیا ہوں تو اصل مقصد تو جلسہ سالانہ جرمنی میں شمولیت تھی لیکن اس کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ خود ہی ایسے پروگرام بھی کروا دیتا ہے جو اسلام کے حقیقی تعارف اور تعلیم کو لوگوں تک پہنچانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ انسان کو ہر حالت میں دعا کا طالب رہنا چاہئے۔ یقینا اس کے بغیر تو ہمارا ایک قدم بھی اٹھانا محال ہے۔ اللہ تعالیٰ سے خالص ہو کر دعا مانگنی چاہئے اللہ تعالیٰ اس کی توفیق بھی دیتا رہے۔ اور پھر فرمایا کہ دعا کے ساتھ جب اللہ تعالیٰ کے فضل ہوں یا اللہ تعالیٰ خود ہی اپنی صفات کے جلوے دکھاتے ہوئے اپنے فضلوں کو اس سے کئی گنا بڑھ کر عطا کر رہا ہو جتنی ہماری دعا اور کوشش ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہلے سے بڑھ کر یاد کرنا اور ان کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ اور یہی چیز پھر مومنین کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرتی ہے۔ اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کا ایک جوش پیدا ہوتا ہے تا کہ اس طرح سے اللہ تعالیٰ کے فضل اور انعامات مزید بڑھیں۔ پس جس طرح جرمنی کے جلسے اور دوسرے پروگراموں میں اللہ تعالیٰ کے فضل ہوئے اور جس طرح اسلام احمدیت کا پیغام ان دنوں میں وسیع پیمانے پر ملک کے وسیع حصے میں پھیلا ہے یا اس تک پہنچا ہے یہ ہمیں اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا ذکر کیا جائے اور خاص طور پر جرمنی جماعت کو بہت زیادہ شکر گزار ہونا چاہئے اور اسے ان فضلوں پر شکر گزاری کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور مزید جھکنا چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل بڑھتے چلے جائیں۔ دلوں تک پہنچنا تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے بغیر ممکن نہیں۔ کوئی انسان کسی کے دل تک نہیں پہنچ سکتا اگر اللہ تعالیٰ کی مرضی نہ ہو۔ انسان چاہے لاکھ کوشش کرے اگر اللہ تعالیٰ کی مرضی نہ ہو تو کوئی پیغام اثر نہیں کرتا۔ بعض دفعہ پُرجوش مقررین کی تقریریں بھی اثر نہیں کرتیں لیکن ایک سادہ اور عام فہم انداز میں بات اثر کر جاتی ہے۔ پس اس کے نظّارے ہمیں جلسے پر نظر آئے۔ وہاں جو غیر مہمان آئے ہوئے تھے ان کے تأثرات میں اس کا اظہار ہوا۔ ان کا مختصر ذکر مَیں اس وقت آپ کے سامنے کروں گا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جرمنی میں مشرقی یورپ اور ہمسایہ ممالک سے بہت سے لوگ جلسے میں شمولیت کے لئے آئے تھے۔ بہت سے غیر از جماعت اور غیر مسلم ہوتے ہیں جو احمدیوں کے تعلقات کی وجہ سے حقیقت جاننے کے لئے آ جاتے ہیں اور پھر ان پر ایسا اثر ہوتا ہے کہ زمانے کے امام کے غلاموں میں شامل ہو جاتے ہیں، بیعت کر لیتے ہیں۔ اس سال بھی جلسہ سالانہ جرمنی میں شمولیت کے لئے میسیڈونیا، بوسنیا، کوسووو، مونٹی نیگرو، بلغاریہ، البانیا، لیٹویا، رشیا، ہنگری، لتھوینیا، کروشیا اور سلوینیا کے ممالک سے وفود آئے تھے۔ اسی طرح ہمسایہ یورپی ملک جو ہیں بیلجیم، ہالینڈ، فرانس، سویڈن، سپین، اٹلی یہاں سے بھی نو مبائعین اور غیر از جماعت مہمان آئے۔ اسی طرح جرمنی میں آباد رشین ممالک کے احمدی اور غیر از جماعت احباب اور اسی طرح ترکی کے احمدی اور غیر از جماعت احباب بھی بڑی تعداد میں شامل ہوئے۔ ان سب کے ساتھ ملاقاتیں بھی ہوئیں، سوال جواب بھی ہوئے۔ چند ایک کے تأثرات میں پیش کرتا ہوں۔ البانیا سے سولہ افراد آئے ہوئے تھے۔ دو نے جلسے کی کارروائی دیکھ کر بیعت بھی کر لی۔ ایک دوست ایڑوین جیپا (Ervin Xhepa) صاحب اپنی اہلیہ کے ساتھ جلسہ میں شامل ہوئے۔ یہ دونوں قانون کے شعبے سے منسلک ہیں۔ یہ خود تو احمدی ہیں لیکن ان کی اہلیہ نے جلسے میں شمولیت سے پہلے بیعت نہیں کی تھی لیکن الحمد للہ کہ جلسے میں شامل ہو کر اور بعد میں ملاقات کر کے انہوں نے بھی بیعت کر لی اور یہ کہنے لگیں کہ جلسے کے تجربات نہایت غیر معمولی تھے جس سے محبت، اخلاص اور بے لوث خدمت کا مظاہرہ انہوں نے دیکھا۔ کہتی ہیں اس کا میرے دل پر بڑا غیر معمولی اثر ہوا۔ یہ بھی قانون دان ہیں، یہ بھی وکیل ہیں۔ کہتی ہیں کہ میرے خاوندنے مجھے بہت تبلیغ کی تھی اور کافی عرصے سے احمدیت کی خوبصورتی میرے دل میں بیٹھ چکی تھی لیکن آج کامل یقین سے جماعت احمدیہ کو قبول کرتی ہوں۔ اور ملاقات کے دوران بھی وہ مستقل روتی رہیں۔ یہ بھی نہیں کہ بڑی عمر کی ہیں۔ نوجوان ہیں اور نوجوانوں میں بھی حقیقی اسلام پہچاننے کی طرف بہت توجہ پیدا ہو رہی ہے۔

اسی طرح ایک دوست ابراہیم تُڑشِلا (Ibrahim Turshilla) صاحب ہیں۔ ملاقات کے دوران انہوں نے اعلان کیا کہ میں بھی احمدی ہوتا ہوں اور بیعت کر کے شامل ہو گئے۔ کہتے ہیں میں نے یہ فیصلہ کرنے میں بڑی دیر کی ہے لیکن پھر بھی آج پورے یقین سے شامل ہوتا ہوں اور میرا یہ فیصلہ بڑا صحیح ہے۔

کوسووو سے آنے والے ایک دوست اگرون (Agron) صاحب ہیں۔ کہتے ہیں مَیں پچھلے سال بھی آیا تھا لیکن گزشتہ سال کے مقابلے پر جلسے کے انتظامات میں غیر معمولی وسعت اور نمایاں تبدیلی محسوس کی ہے۔ پس یہ وسعت اور تبدیلی اور بہتری اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہے۔ اور اس بات کو انتظامیہ کو اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بنانے میں مزید کردار ادا کرنا چاہئے اور ان کی شکر گزاری بڑھنی چاہئے۔

میسیڈونیا سے بھی 62افراد پر مشتمل وفد آیا تھا جن میں سے چودہ عیسائی تھے۔ ستائیس غیر احمدی مسلمان تھے اور یہ تقریباً دو ہزار کلو میٹر کا طویل سفر کر کے 36گھنٹے کے سفر کے بعد پہنچا تھا۔ ان میں دو ٹی وی چینلز کے دو صحافی بھی تھے اور مختلف مناظر بھی فلماتے رہے۔ انہوں نے مختلف لوگوں کے انٹرویو بھی لئے اور کہتے ہیں کہ وہاں جا کے ہم ایک ٹی وی پروگرام بنائیں گے اور اس میں یہ دکھائیں گے۔

میسیڈونیا سے آنے والے ایک مہمان نے کہا کہ جلسے میں شامل ہو کر اس کی یادوں کے ساتھ واپس جا رہا ہوں۔ جلسے کے انتظامات کا کام ایسا ہے کہ کوئی بھی ادارہ مشکل سے سرانجام دے سکتا ہے بلکہ میں کہوں گا کہ ایک بڑا ملک بھی اس معیار کا پروگرام منعقدنہیں کر سکتا۔

پھر میسیڈونیا کے ایک صاحب ہیں وہ کہتے ہیں زندگی میں پہلی دفعہ اتنے اچھے لوگوں سے ملا ہوں۔ مجھے سب سے زیادہ متأثر اسلام کے پیغام نے کیا ہے جو مجھے اب یہاں سے ملا۔ آپ کے پاس دیواروں پر جو پیغام لکھا ہؤا ہے وہ صرف الفاظ نہیں ہیں بلکہ حقیقت میں آپ لوگ اس پر عمل کرتے ہیں۔ ان باتوں نے میرے دل پر بڑا گہرا اثر کیا ہے۔

پھر میسیڈونیا سے ہی ایک مہمان ٹونی (Toni) صاحب ہیں۔ کہتے ہیں بطور صحافی مَیں دنیا کے مختلف پروگراموں میں شامل ہؤا ہوں لیکن یہ سب سے اچھا پروگرام تھا۔ سب کچھ اچھے طریقے سے آرگنائز کیا گیا تھا۔ یہاں ڈسپلن تھا۔ مجھے اس بات نے سب سے زیادہ متأثر کیا کہ سب لوگ خدا کے نزدیک برابر ہیں۔ سب افراد میں برداشت ہے۔ مذہب، قوم، زبان کی وجہ سے آپس میں اختلافات نہیں ہیں۔ ایک غیر مسلم کی حیثیت سے یہ بات میرے لئے بہت اہم ہے۔

پھر میسیڈونیا سے آنے والے ایک مہمان کہتے ہیں کہ جلسے پر پہلی بار شامل ہؤا ہوں اور میرے لئے سب کچھ نیا تھا۔ مَیں نہیں جانتا تھا کہ اسلام میں ایسی جماعت بھی موجود ہے۔ اس جلسے میں شامل ہونے کے بعد اب اپنے آپ کو علمی طور پر بہتر محسوس کر رہا ہوں۔ مجھے احمدیت کے بارے میں زیادہ علم حاصل ہؤا ہے اور تجربہ بھی۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ مَیں اس جماعت کا ہی حصہ ہوں۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا اکٹھا ہونا اور سب کی ضروریات کا خیال رکھنا یہ بہت بڑا کام ہے۔

پھر ان کی مجھ سے ملاقات بھی ہوئی۔ اس کے بعد یہ کہنے لگے کہ جو کچھ میں نے آپ سے سنا ہے اس کے بارے میں غور کروں گا کہ ہمارے اور احمدیوں کے درمیان کیا فرق ہے۔ ان کا سوال یہی تھا کہ احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟ کہتے ہیں جو کچھ مَیں نے آپ سے سنا مجھے بہت اچھا لگا ہے۔ میرا پیغام جماعت کو یہ ہے کہ میرے ملک اور دیگر ممالک جہاں بھی جماعت قائم نہیں ہے وہاں احمدیت کے مشنری بھجوائے جائیں جو وہاں لوگوں کو بتائیں کہ احمدیت کیا ہے۔ اور یہ مطالبے اِکّا دُکّا نہیں، بہت ساری جگہوں سے آتے ہیں۔ میسیڈونیا کے وفد کے ایک مہمان دراگان (Dragan) صاحب تھے۔ کہتے ہیں میرا مسلمانوں سے پہلی مرتبہ اس طرح اتنا قریبی تعارف ہوا ہے اور ایسی تقاریر سنی ہیں جو اسلامی تعلیم کے بارے میں تھیں۔ یہاں مسلمانوں نے ہمارا استقبال ایسے کیا جیسے وہ ہمیشہ سے ہمیں جانتے ہوں۔ بوسنیا کے ایک صاحب کہتے ہیں۔ پہلے ان کا جماعت کے ساتھ اتنا مضبوط تعلق نہیں تھا لیکن امام جماعت احمدیہ سے ملاقات کے بعد ان میں ایک غیر معمولی تبدیلی پیدا ہوئی ہے اور جماعت اور خصوصاً خلیفۃ المسیح کے لئے ان کے دل میں احترام بہت زیادہ ہو گیا ہے۔

سویڈن سے ایک رشین فیملی آئی تھی۔ ان کے ایک اَور دوست آئی تورے صاحب تھے۔ اپنی فیملی کے ساتھ جلسے میں شامل ہوئے۔ انہوں نے 2013ء میں احمدیت قبول کی تھی مگر مجھ سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ مجھ سے ملاقات کے بعد بڑے جذباتی تھے اور بڑے پُرجوش تھے اور بار بار اس بات کا اظہار کرتے رہے کہ میرا خیال نہیں تھا کہ مصروفیت کی وجہ سے ملاقات ہو گی لیکن موقع پیدا ہو گیا۔ مربی صاحب نے لکھا کہ آتے ہوئے تو ہر دو گھنٹے بعد رکنے کا کہتے تھے تا کہ پھر کے اپنی ٹانگ تھوڑی سی strech کر کے درست کر سکیں لیکن واپسی پر سترہ گھنٹے کا سفر انہوں نے بغیر رُکے کیا۔ اور جب ان سے گھر پہنچ کے پوچھا کہ اس دفعہ آپ رستے میں رکے نہیں۔ کہنے لگے کہ جلسے کی برکات ہیں۔ مجھے تو احساس ہی نہیں رہا کہ میری ٹانگ میں کوئی تکلیف تھی۔

پھر کروشین وفد تھا۔ اس کی ایک رکن یاسیپا (Josipa) صاحبہ نے کہا کہ جلسہ سالانہ پر آنے سے قبل میں نے جماعت کے موجودہ سربراہ کی کتاب World crisis and the pathway to peace کا مطالعہ کیا۔ اس طرح سال 2014 ء اور 15ء میں امن کے بارے میں سمپوزیم میں خلیفۃ المسیح کے دونوں خطابات کا بھی مطالعہ کیا۔ میرے ذہن میں یہ تاثر تھا کہ جماعت کے سربراہ بعض معاملات میں سخت موقف رکھتے ہوتے ہیں اور سخت مزاج ہوں گے تا ہم یہ تاثر ملاقات کے بعد زائل ہوگیا اور اس کے بعد انہوں نے مزید تحقیق جماعت کے بارے میں کرنی شروع کی۔

ہنگری کے ایک دوست مے زے ای (Mezei) صاحب جلسے میں شامل ہوئے۔ پولیس کے محکمے میں مختلف عہدوں پر کام کرتے رہے ہیں۔ اب ہنگری کے ایک انقلابی وزیر اعظم کے نام پر ایک فنڈ قائم ہؤا ہے اس کے ذریعے یہ انسانیت کی خدمت کے کام کرتے ہیں۔ یہ مذہباً عیسائی ہیں۔ وہ اپنے جذبات کا اظہار اس طرح کرتے ہیں کہ چھوٹا بڑا ہر کوئی ایک دوسرے کو سلام کر رہا تھا۔ پیار سے مل رہا تھا۔ مجھے ان لوگوں کی زبان تو سمجھ نہیں آئی لیکن ان کے چہرے کے تأثرات سے لگ رہا تھا کہ یہ لوگ پیار بانٹ رہے ہیں۔ میں نے دنیا دیکھی ہے اور مشرق سے لے کر مغرب تک اس قسم کا نظارہ نہیں دیکھا۔ مجھ پر اس جلسے کا عجیب اثر ہؤا ہے۔ یقینا مَیں اپنے دوستوں کو، جاننے والوں کو بھی جماعت احمدیہ کے جلسے کے متعلق بتاؤں گا۔

پھر ہنگری کے ہی ایک گابور پیٹر (Gabor Peter) صاحب ہیں۔ یہ مذہباً یہودی ہیں۔ ہمارے جو مبلغ ہیں انہوں نے بتایا کہ جلسے میں شامل ہونے سے پہلے جب ان سے اسلام اور یہودیت کے حوالے سے بات ہوتی تھی تو بسا اوقات کج بحثی بھی کرتے لیکن جب ان کی ملاقات مجھ سے ہوئی تو کہنے لگے کہ آپ لوگ Love for all, hatred for none پر صرف ایمان نہیں لاتے بلکہ میں نے خود دیکھ لیا ہے کہ آپ لوگ اس ماٹو پر عمل کرتے ہیں اور اب انہوں نے کہا ہے کہ جماعت کو ہنگری میں کسی بھی قسم کے معاملے میں کوئی بھی ضرورت ہو تو وہ تعاون کریں گے۔ پس یہ تبدیلیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ پیدا فرماتا ہے۔

ہنگری سے آنے والے وفد میں ایک دوست اسماعیل صاحب شامل تھے۔ ان کا تعلق ویسے برکینا فاسو سے ہے لیکن ہنگری میں مقیم ہیں۔ ان کی اہلیہ ہنگیرین ہیں۔ وہاں کچھ عرصہ پہلے بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو گئے۔ ان کی دو بچیاں ہیں ان کے ساتھ آنا چاہتے تھے۔ لیکن اہلیہ نے کہا کہ بچیوں کو علیحدہ میں نہیں جانے دوں گی۔ پتا نہیں کن مسلمانوں میں تم جا رہے ہو۔ اس لئے بچیوں کی نانی ساتھ آئی تھی اور یہاں آ کے ان پہ تو جو اثر ہونا تھا ہؤا۔ پہلے تو جلسے کی مختلف کارروائی دیکھی۔ One comunity, one leader جو ویڈیو ہے وہ بھی دکھائی گئی۔ اس کا بھی ان پر خاص اثر ہؤا اور جلسہ گاہ پہنچنے سے پہلے کہنے لگیں کہ مَیں سر ڈھانکنے کے لئے کچھ نہیں لائی۔ بہر حال پھر ساتھ والی عورتوں سے دوپٹہ مانگا، سکارف مانگا اور سر ڈھانکا اور ملاقات کے دوران بھی بڑی جذباتی تھیں کہ یہ بالکل اَور دنیا ہے جو مَیں دیکھ رہی ہوں۔ ہمارے جو تحفظات تھے بالکل دُور ہو گئے ہیں۔ پھر جرمنی میں ایک دوست سلیمان صاحب ہیں۔ سینٹرل ریپبلک آف افریقہ سے ان کا تعلق ہے۔ کہتے ہیں مجھے جلسے کی دعوت ملی تو میرا خیال تھا کہ پچاس یا سو لوگوں کی تبلیغی نشست ہو گی جس میں تھوڑی بہت باتیں ہوں گی اور کھانا پینا ہو گا۔ پھر سارے لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں گے۔ لیکن یہاں آنے کے بعد تو میرا نظریہ یکسر بدل گیا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں افراد جمع تھے۔ مَیں تو جلسے کے نظارے کے اس سحر سے باہر نہیں نکل سکا۔ یہاں کی ہر چیز ہی مسحورکن ہے اور آپ کا تبلیغ کرنے کا انداز ہی نرالا ہے۔ اگر اسی طرز پر تبلیغ کی جائے تو کوئی بدقسمت ہی ہو گا جو انکار کرے۔

مونٹینیگرو سے آنے والے ایک صاحب راغب شپتافی (Ragip Shaptafi) صاحب کہتے ہیں کہ مَیں نے تقاریر سنیں، انتظامات دیکھے، غیر معمولی چیزیں تھیں۔ اسی طرح راغب صاحب نے بتایا کہ مونٹینیگرو میں مسلمانوں کے نزدیک عموماً یہی مشہور ہے کہ جماعت احمدیہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول نہیں کرتی لیکن جو شخص جماعت کو قریب سے دیکھتا ہے تو اس پر فی الفور واضح ہو جاتا ہے کہ یہ محض جھوٹ ہے جو مولویوں نے پھیلایا ہوا ہے۔

پھر مراکش کے ایک دوست جو بیلجیم میں رہتے ہیں، کہتے ہیں کہ اپنے جذبات کو بیان نہیں کر سکتا۔ ایسا روحانی نظارہ ہے جس نے میری روح کی گہرائی تک اثر کیا ہے۔ اسلام کی صحیح تصویر مجھے یہاں نظر آئی ہے۔ کہتے ہیں خلیفۂ وقت کو دیکھ کر اور آپ کی تقاریر سن کر میرا نظریہ احمدیت کے بارے میں تبدیل ہو گیا ہے اور اللہ تعالیٰ مجھے ایسی بیعت کی توفیق دے کہ مَیں دین کا خادم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے والا بنوں۔ ایک جرمن دوست ہیکو فرہینکل (Heiko Fahnicke) صاحب کہتے ہیں۔ یہ میرا پہلا موقع تھا کہ میں احمدیت کے بارے میں کچھ جان سکوں۔ پھر میرے بارے میں انہوں نے کہا کہ جو بھی انہوں نے کہا سچ کہا۔ اگر تمام انسان اس پر عمل کرنا شروع کر دیں تو پوری دنیا میں امن پھیل جائے۔ میں نے اپنی توقعات سے بڑھ کر اسلام کے بارے میں یہاں سے سیکھا ہے اور مجھے بہت مزا آیا ہے۔

فرانس کے ایک نومبائع آن لی آنفان (Anly Anfane) صاحب جزائر کموروز کے رہنے والے ہیں۔ تین ہفتے پہلے ہی انہوں نے بیعت کی تھی۔ کہتے ہیں میں مسلمان تو تھا مگر استقامت نہیں ملتی تھی۔ کل جب خلیفۃ المسیح کے پیچھے جمعہ پڑھا تو مجھے بہت مزا آیا اور زندگی میں پہلی بار نماز میں رونا آیا۔ جماعت میں داخل ہونے سے قبل میرے سارے کام پھنسے ہوئے تھے لیکن جب سے احمدی ہؤا ہوں میرے سارے کام آسان ہو گئے ہیں اور روزانہ خدا تعالیٰ کے نشان نظر آ رہے ہیں۔ ایک طالبعلم ایڈگروس (Edgaras) کہتے ہیں کہ یہاں آنے سے قبل میرے ذہن میں الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ اسلام کے بارے میں بہت غلط تصور قائم تھا۔ لیکن خطابات سن کر اور جلسے کے پروگرام دیکھ کر سب کچھ مختلف لگا۔ لوگوں کا رویہّ بہت مثبت تھا اور آج حقیقی اسلام کو آپ لوگوں کی صورت میں دیکھ رہا ہوں۔ اسی طرح بہت سارے لوگوں کے تأثرات ہیں۔ لتھوینیا سے آنے والے ایک وکیل نے کہا کہ مَیں جلسے میں شامل ہو کر بہت متأثر ہوا ہوں۔ میں نے آپ کے خلیفہ کے خطابات سنے۔ اسلام کے بارے میں یہ میرے لئے نیا تجربہ ہے۔ یہاں آ کر مجھے اسلام کی حقیقی تعلیم کا علم ہؤا ہے۔ میں آپ کا شکرگزار ہوں اور ایک وکیل ہونے کی حیثیت سے اب لتھوینیا میں آپ کی جماعت کی ایکٹویٹیز (activities) میں قانونی طور پر پوری مدد اور کوشش کروں گا اور آپ کا ساتھ دوں گا۔

بوسنیا سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے کہا کہ خلیفۃ المسیح نے ایک زندہ خدا کے بارے میں تصور پیش کیا۔ اس وقت صرف جماعت احمدیہ ایک ایسی جماعت ہے جو یہ دعویٰ کرتی ہے اور دکھاتی بھی ہے کہ خدا تعالیٰ آج بھی زندہ ہے۔ اور یہ بات ہمیں آپ نے بڑے آسان الفاظ میں مگر عمدہ رنگ میں بیان کر کے سکھائی۔

پھر ایک صاحب ہیں جو جرمنی اور بیلجیم کے بارڈر پر رہتے ہیں۔ پہلے سے مسلمان ہیں۔ کہتے ہیں جلسہ جرمنی پر آنے سے پہلے تک میں مذہب اور جماعت کو سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا لیکن جلسے میں شامل ہو کر میرے جذبات کی کایا پلٹ گئی ہے۔ جس جماعت کو میں سنجیدہ نہیں لیتا تھا اسی جماعت نے میری زندگی کے بہترین دن مجھے جلسہ سالانہ کی شکل میں دکھائے۔ پھر انہوں نے اپنی ایک لمبی خواب کا بھی ذکر کیا ہوا ہے۔

اسی طرح ایک جرمن نو احمدی پیٹرک (Patrick) صاحب کہتے ہیں کہ مجھے آج بیعت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی ہے اور اس کی وجہ خلیفۃ المسیح کا جرمن مہمانوں سے خطاب تھا (جو انگلش میں ہوتا ہے)۔ مجھے احمدیہ مسلم جماعت میں خلافت کے ذریعے سچی محبت نظر آئی ہے۔ میرا دل محبت اور نور سے پُر ہے۔

عبداللہ صاحب ایک سیرین ہیں۔ ان کے والد کئی سالوں سے احمدی تھے۔ یہ اپنے والد کے ساتھ رشیا میں رہتے تھے لیکن اب پڑھائی کے سلسلے میں ہالینڈ میں مقیم ہیں۔ ان کے والد صاحب کے ذریعے انہیں تبلیغ تو ہوتی رہی لیکن ابھی انہوں نے بیعت نہیں کی تھی۔ جلسے میں شرکت کے بعد باوجود اس کے کہ جلسے سے پہلے مبلغ صاحب کے ساتھ صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں ان کے روز سوال و جواب ہوتے تھے اور یہ نہیں مان رہے تھے۔ پھر آخرمبلغ نے ان کو کہا کہ پھر یہی ہے کہ آپ دعا کریں۔ کہتے ہیں میں دعا بھی کرتا ہوں۔ تو ان کو بتایا کہ آپ درد سے اور الحاح سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی رہنمائی کرے۔ جلسے کے دوسرے روز جو میرا خطاب تھا اور اس کے بعد تبلیغی مہمانوں کے ساتھ میٹنگ تھی۔ پتا نہیں یہ اس میں شامل تھے کہ نہیں بہر حال خطاب والے روز ہی کہتے ہیں ہمارے مبلغ سے کہا کہ مجھے قرآن کریم سے مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی صرف ایک دلیل دے دیں۔ ہمارے مبلغ نے ان کو دلیل دی اور بعض پیشگوئیاں اور جماعت کی ترقی کے بارے میں بھی بات کی۔ کہنے لگے مَیں بیعت کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نشان دکھا دیا ہے۔ کہنے لگے کہ رات میں نے اللہ تعالیٰ سے بڑے تضرع اور الحاح سے دعا کی اور رات کو جب سویا تو خواب میں دیکھا کہ بڑی سی دیوار پر جلی حروف میں اَلْاَحْمَدِیّۃ لکھا ہوا ہے اور اس میں غیر معمولی نور پھوٹ رہا ہے۔ اور اسی طرح جب میں جرمن سے خطاب کر رہا تھا تو کہتے ہیں کہ اس دوران ہی میں نے دل میں نشان مانگا تھا۔ تو کہتے ہیں کہ اس دوران ہی میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کاش خلیفۃ المسیح کے ساتھ اور آپ کے قرب میں کھڑے ہونے کا موقع ہوتا یا اس وقت مجھے موقع مل جائے تو کہتے ہیں کچھ دیر کے بعد ایسے محسوس ہؤا جیسے ایک لمحے کے لئے مجھ پر غنودگی سی طاری ہوئی ہے اور میں نے دیکھا کہ میں سٹیج میں خلیفۃ المسیح کے پہلو میں کھڑا ہوں اور اس کے بعد کہتے ہیں کہ حق میرے پر کھل گیا۔ کہتے ہیں قرآن شریف کی دلیل تو میں نے محض انشراح، اطمینان کے لئے مانگی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ دعا کے بعد اور اس خواب کے بعد میری تسلی ہو گئی تھی۔ چنانچہ انہوں نے بیعت کر لی۔

اسی طرح الجزائر کے ایک دوست ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہر بار جلسے میں شرکت میرے ایمان میں غیر معمولی اضافے کا سبب بنتی ہے اور ہر بار خدا تعالیٰ کی بے بہا نصرتوں کے نظارے دیکھتا ہوں۔ جلسے میں مجھے محسوس ہؤا جیسے میں جنت میں ہوں۔ یہاں زبانوں اور طبیعتوں اور قوموں کے اختلاف کے باوجود ہر طرف سے السلام علیکم کی آواز اہل جنت کے بارے میں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کا قول ہے تَحِیَّتُھُمْ فِیْھَا سَلَام۔ اس کی یاد دلاتی ہے۔

اٹلی سے آنے والے ایک عیسائی مہمان تھے۔ یہ اٹلی کی ایک تنظیم ہے Religion for peace، اس کے جنرل سیکرٹری ہیں اور ویٹیکن سٹی میں کافی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ کیتھولک تھیالوجی کے بارے میں مختلف کتب بھی لکھ چکے ہیں۔ یہ بڑا اچھا اثر لے کر گئے بلکہ انہوں نے واپس اٹلی جا کر مضمون لکھا۔ ان کا ایک اپنا رسالہ ہے جسے ہزاروں کی تعداد میں لوگ پڑھتے ہیں۔ مضمون میں انہوں نے تحریر کیا کہ مجھے اعتراف کرنا پڑے گا کہ جلسہ سالانہ کا منظر نہایت حیران کن تھا۔ انسان کی نظر جب بڑے بڑے حروف میں لکھے پیغام ’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں‘ پر پڑتی ہے تو پہلا سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ کیا یہ لوگ واقعی مسلمان ہیں؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ واقعی مسلمان ہیں۔ وہاں کا ماحول عجیب محبت اور یگانگت سے پُر ہؤا ہؤا تھا۔ مَیں نے خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا کہ ہزاروں کی تعداد میں مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے جوان، بوڑھے، بچے اور فیملیاں ایک نہایت منظم جماعت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اس بات نے بھی مجھے بہت متأثر کیا کہ وہاں پر سینکڑوں لوگ بغیر کسی معاوضہ کے رضاکارانہ طور پر کام کر رہے ہیں بلکہ جو شخص مجھے کار میں ہوٹل سے جلسہ گاہ لے کر جاتا اس نے مجھے بتایا کہ اس نے اپنی ملازمت سے اس جلسے کے لئے بغیر تنخواہ کے دو ہفتے کی رخصت لی ہے۔ پھر میرے بارے میں کہتے ہیں کہ ان کی تقاریر سے بڑا متأثر ہوا ہوں۔ سیدھے راستے کی طرف ہدایت دینے والی تھیں۔ ان الفاظ میں پیار، بھائی چارہ، اتحاد اور یگانگت ملی۔ تو یہ ایک تفصیلی مضمون بھی انہوں نے وہاں شائع کر دیا۔

ایک سیرین ڈاکٹر جو جلسے میں شامل تھے کہتے ہیں کہ ایسی منظم تنظیم میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھی۔ ہم تو چھ بندوں کو نہیں سنبھال سکتے اور یہاں چالیس ہزار کے قریب لوگ جمع ہیں اور کوئی دھکّم پیل نہیں۔ مَیں تَہ دل سے حضرت مرزا صاحب اور آپ کے خلیفہ کا احترام اور عزت کرتا ہوں۔ کہتے ہیں مَیں نے براہین احمدیہ مکمل پڑھی ہے۔ خدا کی قسم انیسویں صدی میں، نہ عرب میں اور نہ کسی اور ملک میں اسلام کے دفاع میں ایسی کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔ اللہ تعالیٰ ان کا سینہ بھی کھولے اور قبولیت کی توفیق بھی عطا فرمائے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسے کی برکات غیر معمولی ہوتی ہیں۔ غیر معمولی اثرات ہوتے ہیں۔ بہت کم میں نے بیان کئے ہیں اور جو بیان کئے ہیں ان کو بھی خلاصۃً بیان کیا ہے۔

اسی طرح بعض مہمانوں نے اپنے بعض تحفظات کا بھی ڈرتے ڈرتے ذکر کیا۔ خوبیاں تو بیان کرتے ہیں لیکن جو بعض باتیں توجہ دلانے والی ہوتی ہیں اس طرف مہمان عموماً شرم کی وجہ سے توجہ نہیں دلاتا۔ لیکن یہاں دو خواتین ایسی بھی تھیں جن میں ایک البانیا کی ہیں جنہوں نے اس طرف توجہ دلائی کہ عورتوں میں مَیں نے دیکھا کہ سالن اور روٹی کا ضیاع بہت ہو رہا تھا۔ تو جہاں بہت ساری خوبیاں ہیں اس کمزوری کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ جرمنی کی جو انتظامیہ ہے خاص طور پر لجنہ ان کو چاہئے کہ کھانے والیوں کو توجہ دلاتی رہیں کہ کھانا اور روٹی ضائع نہ کیا کریں۔ اسی طرح میسیڈونیا سے آنے والی ایک خاتون نے رہائش کے بارے میں کہا کہ رہائش بہت دور تھی اور ہمیں بڑا سفر کر کے آنا پڑتا تھا۔ اس کی وجہ سے تھکاوٹ ہو جاتی تھی تو ایسے لوگوں کے لئے بھی جرمنی کی انتظامیہ کو قریب انتظام کرنا چاہئے۔

اسی طرح افسر جلسہ سالانہ نے بھی بعض باتیں نوٹ کی ہیں اور اپنی باتیں خودنوٹ کرنا ہی اصل میں بہتری کی طرف لے جاتا ہے۔ اس طرف بھی آئندہ توجہ دینی چاہئے۔ ایک تو لوگوں کا گند پھینکنا، صفائی کا خیال نہ رکھنا، اس طرف آئندہ لوگوں کو خیال رکھنا چاہئے اور ہر ایک کو ایک دوسرے کو صفائی کی طرف توجہ دلاتے رہنا چاہئے۔ پھر کھانے کے بارے میں بھی بعضوں نے کہا۔ جبکہ لنگر خانوں میں جو کھانا پکتا ہے وہ ایک طرح کا ہی پک سکتا ہے۔ بعضوں کو اعتراض پیدا ہؤا کہ پاستہ (Pasta) وغیرہ نہیں ہے، وہ ہونا چاہئے۔ یہاں اصل چیز تو روحانی غذا ہے جو کھانے کے لئے احمدی آتے ہیں۔ اس لئے احمدیوں کو اس قسم کی بات نہیں کرنی چاہئے۔ جو بھی کھانا ملتا ہے وہ کھا لینا چاہئے۔ اور اسی طرح ہو گا کہ ایک ہی کھانا پکے گا۔

پھر بعض دفعہ بعض کارکن بعض معاملات میں سخت ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے تو یہ دیکھ لیا کریں کہ اگر کوئی ضرورتمند ہے اور اس کی ضرورت جائز ہے تو قواعد سے ہٹ کر بھی اگر اس کی کوئی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے تو کر دینی چاہئے۔ کارکنوں کو ہمیشہ نرمی اور سہولت کا سلوک کرنا چاہئے۔

بہرحال مجموعی طور پر اس دفعہ جلسہ سالانہ کے انتظامات بڑے اچھے تھے۔ افسر جلسہ سالانہ اور ان کی ٹیم نے گزشتہ سالوں کی نسبت بہت بہتر کام کیا ہے۔ بعض چھوٹی چھوٹی کمیاں بڑے انتظام میں رہ جاتی ہیں ان پر بھی نظر رکھیں تو آئندہ انشاء اللہ تعالیٰ مزید بہتری پیدا ہو گی۔ اللہ تعالیٰ تمام کارکنان کو جزا دے جنہوں نے بڑی محنت سے کام کیا۔ باوجود اس کے کہ توقع سے زیادہ مہمان آگئے تھے ان کے لئے بستر بھی مہیا کر دئیے گئے۔ پہلے ایک رات مسئلہ پڑا تھا لیکن اگلے دن ٹھیک ہو گیا اور بڑے اچھے طریقے سے حل ہو گیا۔ باقی پچھلے سال میں آواز وغیرہ کے معاملے میں جو کمزوریاں تھیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے دُور ہو گئیں۔ بہرحال جیسا کہ میں کارکنان کا شکریہ ادا کیا کرتا ہوں ان سب کا شکریہ۔

اس کے علاوہ دورہ کے دوران بعض مساجد کے افتتاح بھی ہوئے۔ ان کا بھی مَیں مختصر ذکر کر دیتا ہوں۔ آخن میں مسجد کا افتتاح ہوا تو وہاں آخن شہر کے ایک رہائشی اس تقریب میں شامل ہوئے۔ کہنے لگے دو تین سال پہلے مَیں نے یورپین پارلیمنٹ میں بھی خلیفۃ المسیح کا خطاب سنا تھا۔ آج میں درحقیقت اس غرض سے آیا تھا تا کہ یہ دیکھوں اور موازنہ کروں کہ کیا آپ کے خلیفہ صرف بڑی شخصیات کے سامنے اور اہم پلیٹ فارم پر ہی امن کی تعلیم پیش کرتے ہیں یا پھر دوسرے چھوٹے پروگراموں میں بھی جہاں کم اقتدار رکھنے والے لوگ شامل ہوں وہاں بھی امن کی بات ہی پیش کرتے ہیں۔ یہ دیکھنے لگے تھے کہ دوغلی پالیسی تو نہیں ہو رہی۔ چنانچہ آج میں نے خلیفہ کا خطاب سنا ہے۔ آپ نے وہی تعلیم پیش کی ہے جو یورپین پارلیمنٹ میں کی تھی۔ آپ نے سب کو ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے، رواداری اختیار کرنے، صبر کا برتاؤ کرنے اور حوصلہ دکھانے اور آپس میں نیکی سے پیش آنے کی تلقین کی ہے۔ ان سب باتوں نے مجھے بہت متأثر کیا ہے۔

اسی طرح شہر کے میئر صاحب اور دوسرے لوگ تھے سب نے اظہار کیا۔ وہاں صوبہ ہیسن (Hessen) میں ہناؤ میں بھی مسجد بیت الواحد کا افتتاح ہوا تھا۔ وہاں کے ضلعی کمشنر جو ممبر پارلیمنٹ بھی ہیں انہوں نے بھی اپنے تأثرات کا اظہار کیا۔ کہتے ہیں کہ خلیفۂ وقت کی تقریر نے ہم پر بہت اچھا اثر چھوڑا ہے۔ آپ غیر مسلمان شہریوں سے براہ راست مخاطب ہوئے اور تمام انسانوں کو توجہ دلائی کہ وہ ایک خدا کی طرف سے ہیں اس لئے ایک دوسرے کی عزت نفس کا خیال رکھیں اور مسائل کو امن کی راہوں پر چلتے ہوئے حل کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس تقریر کو انٹرنیٹ پر بھی مہیا کرنا چاہئے۔ وہاں انہوں نے سکرپٹ(script) کا فوری مطالبہ بھی کیا۔ پھر جرمنی کی ایک خاتون ممبر پارلیمنٹ تھیں۔ کہتی ہیں کہ آج مجھے بہت خوشی ہے کہ اس مسجد کے افتتاح میں شامل ہو رہی ہوں۔ اس سے قبل میں فلورس ہائم شہر کی مسجد کے افتتاح کے موقع پر بھی موجود تھی۔ آج کل جب کہ اسلام کی تعلیم کے بارے میں خدشات پائے جاتے ہیں تو پھر یہ ضروری ہے کہ ہم سب مل کر امن کا پیغام دیں اور آج یہاں جماعت احمدیہ کی مسجد کی تعمیر بتاتی ہے کہ ہم سب مل کر امن اور محبت اور بھائی چارے کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور یہ مسجد اس بات کا بھی واضح اظہار ہے کہ یہ احمدیوں کا وطن ہے۔

پھر بہت سارے اور تأثرات بھی ہیں۔ ایک مہمان نے کہا کہ میرے لئے بہت مشکل تھا کہ اسلام کے بارے میں کوئی اچھی رائے بناؤں۔ مگر آج خلیفۃ المسیح نے جو اسلام پیش کیا ہے اس اسلام کو دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ اسلام امن اور رحم کی تعلیم دینے والا مذہب ہے اور اسلام کا یہ تصور قرآن کے مفہوم کے عین مطابق ہے۔

ایک انجنیئر نے مسجد کی تعمیر میں کام بھی کیا ہے وہ میرے متعلق کہتے ہیں کہ انہوں نے جتنی بھی باتیں کیں مَیں ان سب سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میرا خیال تھا کہ یہ تقریب چرچ کی تقریبوں کی طرح ہو گی جن میں زیادہ دکھاوا ہوتا ہے لیکن ایک سادہ اور بہت اچھی تقریب تھی۔

الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ سے ان سارے پروگراموں کی کوریج بھی بہت ہوئی ہے۔ مجموعی طور پر مختلف اخبارات میں تقریباً اٹھاسی خبریں شائع ہوئیں۔ اسی طرح آٹھ مختلف ریڈیو سٹیشن اور چار مختلف ٹی وی چینلز پر خبریں نشر ہوئیں۔ ان اخبارات، ریڈیو سٹیشن اور ٹی وی چینلز کے ذریعہ سے کل ایک سو چھ یا ایک سو سات ملین لوگوں تک پیغام پہنچا۔ جلسہ سالانہ جرمنی کے حوالے سے مختلف اخبارات میں کل چھتیس خبریں شائع ہوئیں اور ان اخبارات کی رِیڈرشپ (readership) کل بتیس ملین کے قریب بتائی جاتی ہے۔ تین مختلف ریڈیو سٹیشنوں نے بھی جلسہ کے حوالے سے خبر نشر کی۔ ان کے ریڈیو سٹیشن کافی مشہور ہیں۔ اسی طرح چار مختلف ٹی وی چینل نے بھی جلسہ سالانہ کے حوالے سے خبریں نشر کیں۔ اس کے علاوہ جلسے کے آخری دن ایک خاتون صحافی نے میرا ایک انٹرویو لیا تھا وہ دو حصوں میں بطور فلم شائع ہونا ہے۔ یہ جرمنی کا سب سے بڑا آن لائن اخبار ہے۔ ان کی اشاعت ساڑھے سترہ ملین سے زیادہ ہے۔ گویا دونوں خبروں کی مجموعی اشاعت چونتیس ملین ہو گی۔

پھر مساجد کے افتتاح کے حوالے سے مختلف اخبارات میں پچاس کے قریب خبریں آئیں۔ ان اخبارات کی رِیڈرشِپ کی کُل تعداد باسٹھ ملین کے قریب بنتی ہے۔ دو ریڈیو سٹیشنوں نے بھی بیت الواحد ہناؤ کی مسجد کے افتتاح کے حوالے سے خبر نشر کی۔ اس کے علاوہ جرمنی کے مشہور ٹی وی چینل آر ٹی ایل (RTL) نے بھی افتتاحی تقریب کے موقع پر ایک انٹرویو لیا تھا اور اسی روز شام کو دو منٹ اور تیئس سیکنڈ کی خبر دی۔

پھر آخن کی مسجد کے بارہ میں تین اخبارات میں خبر چھپی جو وہاں لوکل اخبارات ہیں۔ تقریباً ایک لاکھ سولہ ہزار ان کے پڑھنے والے ہیں۔ پھر ایک مسجد کا سنگِ بنیاد تھا وہاں کے اخبارات نے جو خبریں شائع کیں ان کے پڑھنے والوں کی تعداد چھ ملین بتائی جاتی ہے۔

فیشٹا (Vechta) میں مسجد کا افتتاح تھا۔ اخبارات میں چار خبریں شائع ہوئیں۔ ان اخبارات کی کل ریڈرِ شپ (readership) قریباً چھبیس لاکھ ہے۔ وہاں ایک اخبار دی سائٹ(Die Zeit) ہے۔ اس میں میرا ایک انٹرویو شائع ہوا۔ اور یہ ہفت روزہ اخبار ہے جو 1946ء سے ہر جمعرات کو شائع ہوتا ہے۔ اوسطاً پانچ لاکھ کی تعداد میں فروخت ہوتا ہے اور اس کے پڑھنے والوں کی تعداد ڈیڑھ ملین تک بتائی جاتی ہے۔ اسی طرح اس اخبار کے آن لائن ایڈیشن کو انٹرنیٹ پر دیکھنے والوں کی تعداد پانچ ملین کے قریب ہے۔ یہ احمدی صحافی ہیں جنہوں نے انٹرویو لیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی بھی اب میڈیا میں آ رہے ہیں اور اسلام کا حقیقی پیغام اب اس ذریعہ سے پہنچا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے علم و فراست میں اور برکت عطا فرمائے۔

پس جلسہ سالانہ جہاں اپنوں کے لئے روحانی اور تربیتی ترقی کا باعث بنتا ہے جس کا اظہار احباب و خواتین مجھے اپنے خطوں میں کرتے رہتے ہیں وہاں غیروں کو بھی اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرنے کا باعث بنتا ہے اور اس طرح سے بیعتیں بھی ہوتی ہیں۔ کئی لوگ جو انتظامیہ کے علم کے مطابق پہلے بیعت کے لئے تیار نہیں تھے، میرے سے ملاقات اور چند سوال پوچھنے کے بعد بیعت کے لئے تیار ہو گئے۔ پس کس کس فضل اور احسان کا انسان شکر ادا کرے۔ کس کس انعام کا شکر ادا کرے جو اللہ تعالیٰ ہم پر فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ اب جماعتیں ان فضلوں کو سنبھالنے والی بھی ہوں اور یہ نئی بیعتیں کرنے والے جو لوگ ہیں ان کو بھی صحیح رنگ میں اپنے اندر سمو سکیں اور جلسے کی یہ برکات وسیع تر پھیلتی چلی جائیں۔ اللہ تعالیٰ تمام افراد جو شامل ہوئے ان کو بھی ان برکات سے مستقل فائدہ اٹھانے کی توفیق عطافرمائے اور ہم سب کو حقیقی شکر گزار بنائے۔

نماز کے بعد ایک جنازہ غائب بھی پڑھوں گا جو مکرمہ رشیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم محمد دین صاحب بدرؔ درویش قادیان کا ہے۔ یکم جون 2015ء کو 77سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پا گئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کا تعلق دیودرگ کرناٹک سے تھا۔ آپ کی شادی مکرم محمد دین صاحب بدر سے ہوئی جو تین سو تیرہ قدیمی درویشان میں سے تھے۔ مرحومہ اپنے بچوں کو ہمیشہ نیکی، تقویٰ سے زندگی بسر کرنے اور خلافت سے وابستہ

رہنے کی نصائح کیا کرتی تھیں۔ درویشانہ تنگ دستی اور کثیر عیال کے باوجود صبر اور رضائے الٰہی پر ہمیشہ قائم رہیں۔ آپ نے چار بیٹے اور چار بیٹیاں یادگار چھوڑی ہیں۔ آپ کے دو بیٹے سلسلے کی خدمت میں مصروف ہیں۔ مکرم مبشر احمد صاحب بدر نائب صدر عمومی اور لوکل مربی اور مکرم طاہر احمد صاحب بدر نائب ناظر بیت المال خرچ مقرر ہیں جبکہ ایک داماد مکرم منیر احمد صاحب حافظ آبادی وکیل اعلیٰ تحریک جدید ہیں اور دوسرے داماد مکرم شمس الدین صاحب معلم کے طور پر خدمت بجا لا رہے ہیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ بہشتی مقبرہ قادیان میں ان کی تدفین ہوئی۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ سے مغفرت کا سلوک فرمائے، درجات بلند فرمائے، اپنی رضا کی جنتوں میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 12؍ جون 2015ء شہ سرخیاں

    اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نظارے تو ہم روز دیکھتے ہیں لیکن جب کہیں سفر پر جاتا ہوں تو اللہ تعالیٰ کے فضل کئی گنا زیادہ بڑھ کر ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے پروگراموں میں برکت ڈالتا ہے اور تبلیغ اور اسلام کا حقیقی پیغام بھی بڑی کثرت سے لوگوں کو پہنچتا ہے اور پھر لوگوں پر اس کا اثر بھی ہوتا ہے۔

    جس طرح جرمنی کے جلسے اور دوسرے پروگراموں میں اللہ تعالیٰ کے فضل ہوئے اور جس طرح اسلام احمدیت کا پیغام ان دنوں میں وسیع پیمانے پر ملک کے وسیع حصّے میں پھیلا ہے یہ ہمیں اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا ذکر کیا جائے اور خاص طور پر جرمنی جماعت کو بہت زیادہ شکر گزار ہونا چاہئے اور اسے ان فضلوں پر شکر گزاری کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور مزید جھکنا چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ کے فضل بڑھتے چلے جائیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جرمنی میں مشرقی یورپ اور ہمسایہ ممالک سے بہت سے لوگ جلسہ میں شمولیت کے لئے آئے تھے۔ ان میں بہت سے غیر از جماعت اور غیر مسلم ہوتے ہیں۔ ان میں بعض بیعت بھی کر لیتے ہیں۔ مختلف ممالک سے آنے والے مہمانوں کے جلسہ سالانہ اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطابات کے بارہ میں نہایت خوشکن اور گہرے اثرات پر مشتمل تأثرات کا اجمالی تذکرہ۔

    مجموعی طور پر اس دفعہ جلسہ سالانہ کے انتظامات بڑے اچھے تھے۔ اللہ تعالیٰ تمام کارکنان کو جزادے جنہوں نے بڑی محنت سے کام کیا۔

    اس دورہ کے دوران بعض مساجد کے افتتاح بھی ہوئے۔ ان مواقع پر بھی مہمانوں نے اپنے تأثرات کا اظہار کیا۔ مساجد کے افتتاح کے حوالہ سے الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات میں وسیع کوریج۔

    ریڈیو، ٹی وی، اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں جلسہ سالانہ اور دیگر مختلف پروگراموں کی وسیع پیمانے پر تشہیر۔ کئی ملین افراد تک ان ذرائع سے اسلام احمدیت کا پیغام پہنچا۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ جماعتیں ان فضلوں کو سنبھالنے والی ہوں اور جلسے کی برکات وسیع تر پھیلتی چلی جائیں۔

    مکرمہ رشیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم محمد دین صاحب بدرؔ درویش قادیان کی وفات۔ مرحومہ کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 12؍جون 2015ء بمطابق 12احسان 1394 ہجری شمسی،  بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور