رمضان کی برکات اور اللہ تعالیٰ کی ستّاری اور مغفرت کے حصول کے لئے عملی کوشش

خطبہ جمعہ 19؍ جون 2015ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

آج جمعہ کا بابرکت دن ہے اور رمضان کے بابرکت مہینے کا پہلا روزہ ہے۔ پس آج کا دن بے شمار برکتوں سے شروع ہونے والا دن ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے بابرکت دن ہونے کی اہمیت کے بارے میں یہ خبر دی اور ہمیشہ کے لئے یہ خبر ہے کہ اس دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں مومن اپنے رب کے حضور جو دعا کرے وہ قبول کی جاتی ہے۔ (صحیح البخاری کتاب الجمعۃ باب الساعۃ التی فی یوم الجمعۃ حدیث 935)

اور پھر رمضان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں۔ (سنن الترمذی کتاب الصوم باب ما جاء فی فضل شھر رمضان حدیث682)

پس اللہ تعالیٰ کی رحمت اس مہینے میں خاص جوش میں آتی ہے اور مومنوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور فضلوں کی بارش ہوتی ہے۔

لیکن ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان فضلوں کو جذب کرنے کے لئے بعض شرائط بیان فرمائیں کہ نہ ہی ان دنوں میں بیہودہ باتیں ہوں، نہ شور و شر ہو، نہ ہی گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑا ہو۔ ہر برائی کے جواب میں روزہ دار کا یہ جواب ہونا چاہئے کہ میں روزہ دار ہوں۔ (صحیح البخاری کتاب الصوم باب فضل الصوم حدیث 1894) اور مَیں خدا تعالیٰ کی خاطر ان تمام شرور سے بچتا ہوں اور جب یہ حالت ہو گی تو حقیقی رنگ میں روزہ ہو گا کہ انسان خدا تعالیٰ کی خاطر کوشش سے اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق اپنی زندگی گزارے۔

پھر اس بات کو کہ رمضان کے مہینے کی کیا اہمیت ہے؟ کن پر روزے فرض ہیں؟ کس طرح رکھنے چاہئیں؟ کیا پابندیاں ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے اس کو قبولیت دعا کے مضمون کے ساتھ اس طرح باندھا ہے کہ فرمایا کہ وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ۔ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْالِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ (البقرۃ: 187) کہ جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق پوچھیں تو بتا دے کہ میں ان کے پاس ہوں۔ جب دعا کرنے والا مجھے پکارے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔ سو چاہئے کہ وہ دعا کرنے والے بھی میرے حکم کو قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں تا وہ ہدایت پائیں۔ پس فرمایا کہ رمضان کے دن اس قدر مبارک ہیں کہ ان دنوں کی عبادتوں کے بعد جب میرے بندے میرے متعلق سوال کریں تو کہہ دے میں بالکل قریب ہوں۔ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ۔ جب پکارنے والا پکارتاہے تو مَیں اس کی دعا کو قبول کرتا ہوں۔ پس رمضان کے مہینے میں جو جمعے آتے ہیں ان کی اہمیت دوگنی ہو جاتی ہے۔ دن بھی قبولیت دعا کے دن ہیں اور راتیں بھی قبولیت دعا کی راتیں ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں نہیں پتا کہ کون سی گھڑی قبولیت دعا کی گھڑی ہے اس لئے دن بھی اور راتیں بھی دعاؤں میں گزارو۔ پس ان دنوں سے ہمیں زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہئے۔ ایک تو رمضان میں عموماً کہ اس میں شیطان کو باندھ کر خدا تعالیٰ نے جنت کے دروازے کھول دئیے ہیں اور بندوں کے قریب آ گیا ہے اور پھر رمضان کے جمعوں سے بھی بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے لیکن سب سے اہم دعا جو اِن دنوں میں کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ انتہائی عاجزی سے اور خالص ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے انسان یہ دعا کرے کہ اے اللہ مجھے صرف رمضان میں ہی نہیں بلکہ عام حالات میں بھی ان لوگوں میں شامل کر لے جن کی دعائیں رات کو بھی قبول ہوتی ہیں اور دن کو بھی قبول ہوتی ہیں تا کہ رمضان ایک پاک تبدیلی پیدا کرنے والا ہو۔ تقویٰ پر چلانے والا ہو۔ مَیں مستقل ہدایت پانے والوں میں شامل ہو جاؤں۔ جو آیت مَیں نے پڑھی ہے اس سے پہلی آیات میں جب اللہ تعالیٰ نے روزوں کی فضیلت کا ذکر فرمایا کہ روزہ پہلی قوموں پر بھی فرض کیا گیا ہے اس طرح تم پر بھی فرض کیا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ کیونکہ پہلی قومیں روزہ رکھتی تھیں اس لئے تم بھی رکھو۔ بلکہ (مطلب) یہ ہے جو اس آیت کے آخر میں کہا گیا کہ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔ تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو اور روحانی اور اخلاقی کمزوریوں سے بچو۔

پھر اس جگہ اس آیت کے آخر میں جو مَیں نے پڑھی، فرمایا کہ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ۔ تا کہ رُشد حاصل کرو۔ رُشد کا مطلب ہے صحیح اور سیدھا راستہ۔ صحیح عمل اور رہنمائی کا راستہ، صحیح اخلاق۔ عقل و ذہانت کی بلوغت اور صحیح راستے پر اس کا استعمال اور اپنی اس حالت میں ہمیشگی اور پختگی حاصل کرنا۔ پس جب انسان خدا تعالیٰ کے آگے خالص ہو کر جھکتا ہے تو جہاں دعاؤں کی قبولیت کا نظارہ کرتا ہے وہاں تقویٰ اور نیکی پر قائم رہتے ہوئے اپنے ایمان و ایقان میں بھی مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے اور یوں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والا بنتا ہے۔

پس رمضان بے شمار برکتوں کا مہینہ ہے لیکن یہ برکتیں انہیں ملتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکموں کو قبول کریں اور ایمان میں بڑھیں۔ اگر صرف یہی نیّت ہے کہ رمضان کے جمعوں پر باقاعدگی اختیار کر لو اور بعد میں چاہے عبادتوں کی طرف توجہ ہو یا نہ ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو قبول نہ کرنا ہے اور ایمان میں کمزوری دکھانا ہے۔ اور اگر اس طرح کی کمزور حالت ہے تو پھر ہمیں خدا تعالیٰ سے یہ شکوہ بھی نہیں ہونا چاہئے کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ پس ایک حقیقی بندہ کو جو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کے لئے بے چین ہے انتہائی عاجزی اور انکساری سے اور اپنی کمزوریوں اور غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے یہ دن دعاؤں میں گزارنے چاہئیں۔ رمضان کے مہینے میں یہ جمعوں پر حاضری اور نمازوں پر حاضری عارضی نہ ہو۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَیں ان دنوں میں قریب آ جاتا ہوں اس لئے ان دنوں کی عبادت ہی کافی ہے۔ یہ اپنے نفس کو دھوکے میں ڈالنے والی بات ہے۔ پس اس سے ہمیں بچنا چاہئے۔ کامل عاجزی سے خدا تعالیٰ کا عبد بنتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے قرب کو پانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ تو کبھی بھی دور نہیں وہ تو ہر جگہ اور ہر وقت ہے لیکن بندے کی اپنی حالت سے اس قربت کا اظہار اس وقت ہوتا ہے جب وہ خالص ہو کر غیر اللہ کو چھوڑ کر صرف اور صرف خدا تعالیٰ کے آگے ہی جھکتا ہے۔ اور جب یہ حالت ہو گی پھر ہماری دعائیں بھی قبول ہوں گی اور ہمیں وہ سب کچھ ملے گا جو اللہ تعالیٰ سے ہم مانگتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کی نظر میں ہمارے لئے بہترین ہے۔

پس ہمیں یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ نیکی اور تقویٰ پر قائم ہو کر ہی ہم اپنے مقصود کو پا سکتے ہیں اور ذاتی طور پر بھی اور جماعتی طور پر بھی ہمیں وہ پھل ملیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے مقدر کئے ہوئے ہیں۔ انشاء اللہ۔ اور جیسا کہ میں نے کہا ہم عاجزی اور انکساری دکھائیں گے، اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ کو پانے کی کوشش کریں گے تو پھر پھل بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے لگیں گے۔ انسان میں غلطیاں بھی ہوں۔ گناہگار بھی ہو، وہ قصوروار بھی ہو مگر جب تک اس کے دل میں خدا تعالیٰ کا خوف رہے، غلطیوں کا اعتراف کرتا رہے، تقویٰ دل میں ہو تو اللہ تعالیٰ گناہوں کو ڈھانپتا چلا جاتا ہے اور آخر کار ایک دن اسے توبہ کی توفیق دے دیتا ہے۔

پس سب سے زیادہ ان دنوں میں اپنے لئے، اپنے رشتہ داروں کے لئے، افراد جماعت کے لئے یہ دعا ہمیں کرنی چاہئے کہ ہم میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ نصیب ہو۔ ایک دوسرے کے لئے جب ہم درد سے دعائیں کریں گے تو فرشتے بھی ہمارے لئے دعاؤں میں شامل ہو جائیں گے اور رمضان کی برکات کے حقیقی اور مستقل نظارے بھی ہم دیکھنے والے ہوں گے۔

تقویٰ کیا ہے؟ تقویٰ خدا تعالیٰ کی خشیت اور خوف ہے اور جب تک ہم میں خدا تعالیٰ کا خوف اور خشیت رہے گی ہماری کمزوریوں اور گناہوں کی بھی خدا تعالیٰ پردہ پوشی فرماتا رہے گا اور ہم اس کی حفاظت میں رہیں گے سوائے اس کے کہ ہم گناہوں پر اتنے دلیر ہو جائیں (خدا نہ کرے کوئی ہم میں سے ہو) کہ اللہ تعالیٰ کا خوف ہمارے دلوں سے مٹ جائے یا کسی کے دل سے بھی مٹ جائے۔ لیکن اگر ہماری کمزوری کی وجہ سے گناہ سرزد ہوتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا ہوتا ہے اور خشیت پیدا ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خشیت کے معنی ہی خدا تعالیٰ کی محبت کے ہیں۔ پس جب تک ہم اس محبت کے اظہار کرتے رہیں گے یا اگر اپنے دل میں بھی ہم یہ محبت رکھتے ہوں گے تو تباہی سے بچے رہیں گے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ سچی محبت ہو، دھوکہ نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ دلوں کا حال جانتا ہے اسے دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔ اگر دل میں بھی محبت ہے تو کبھی نہ کبھی اس کا اظہار ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا خوف بعض چیزوں سے روکے رکھتا ہے۔ اس محبت کی وجہ سے گرتے پڑتے اس کے حکموں پر ہم عمل کرتے رہیں گے تو خدا تعالیٰ جو اپنے بندوں کی محبت کی غیرت رکھتا ہے وہ بندے کو پھر ضائع نہیں ہونے دیتا اور اسے توبہ کی توفیق دے دیتا ہے۔ لیکن اگر انسان جیسا کہ میں نے کہا بالکل ہی گناہوں پر دلیر ہو جائے اور تقویٰ کا بیج بالکل اپنے دل سے نکال کر ضائع کر دے تو پھر سزا ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا۔ آپ نے بار بار جماعت کے افراد کو تقویٰ پر قائم رہنے کی نصیحت فرمائی ہے۔ پھر ایسا روحانی نظام اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمایا جو تقویٰ کے بیج کو قائم رکھنے کے لئے توجہ دلاتا رہتا ہے۔ پھر رمضان کا مہینہ ہر سال میں اس بیج کے پنپنے کے لئے، پنپنے کے سامان کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے مقرر فرما دیا اور پھر ہمیں اس بیج کے نشوونما کے طریق بتاتے ہوئے اسے پھلدار بنانے کی خوشخبری بھی دے دی۔

پس اس مہینے کی برکات سے فیض اٹھانے کے لئے ہم میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کا عبد بننے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اگر ہماری نااہلیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کو کچھ دیر کے لئے ٹالتا بھی ہے تو اس مہربان ماں کی طرح جو بچے سے اس کی اصلاح کی خاطر تھوڑی دیر کے لئے روٹھ جاتی ہے اور اس میں پھر سخت غصہ نہیں ہوتا۔ لیکن جب بچہ ماں کی محبت کی وجہ سے اس کی طرف جاتا ہے تو ماں گلے بھی لگا لیتی ہے بلکہ اس سے پہلے کئی دفعہ کنکھیوں سے دیکھتی بھی رہتی ہے کہ بچہ کس قسم کی حرکت کر رہا ہے، میرے پاس آتا بھی ہے کہ نہیں۔ بہر حال جب بچہ جاتا ہے تو ناراضگی دُور ہو جاتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ جو ماؤں سے بھی زیادہ بخشنے والا ہے وہ تو یہ دیکھتا ہے کہ کب میرے بندے میری طرف توبہ کرتے ہوئے آئیں اور مَیں انہیں معاف کروں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کی قسم اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ پر اتنا خوش ہوتا ہے کہ اتنا خوش وہ شخص بھی نہیں ہوتا جسے جنگل بیابان میں اپنی گمشدہ اونٹنی مل گئی۔ (صحیح البخاری کتاب الدعوات باب التوبۃ حدیث 6309)

پس یہ رمضان کا مہینہ بھی اس لئے ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں رکھتے ہوئے اگر سارے سال کی کمزوریوں اور غلطیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کی طرف اس نیت سے آئے کہ وہ اس کی توبہ قبول کرے تو اللہ تعالیٰ دوڑ کر اس کو گلے لگاتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص بالشت بھر میرے قریب ہوتا ہے میں اس سے گز بھر ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھ سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں اس سے دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں۔ اور جب وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔ (صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اللہ تعالیٰ و یحذرکم اللّٰہ نفسہ حدیث 7405)

پس ایسا خدا جو ماؤں سے بھی زیادہ مہربان ہے اور جس نے توبہ قبول کرنے اور اپنے بندے سے خوش ہونے کے مختلف سامان کئے ہوئے ہیں اگر بندہ ان سے فائدہ نہ اٹھائے تو پھر یہ بندے کی بدقسمتی ہے اور اس کی سخت دلی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بندے سے محبت کا نقشہ گو ان مثالوں سے کھینچا گیا ہے لیکن حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا نقشہ ان مثالوں سے بہت عظیم ہے۔ اللہ تعالیٰ جس پیار اور محبت سے بندے کی طرف دیکھتا ہے اس کا نقشہ ہم کھینچ ہی نہیں سکتے۔ ان حدیثوں سے بھی واضح ہے کہ مثال دینے کے باوجود کہ حقیقت میں یہ مثالیں گو محبت کا ایک بلند ترین تصور قائم کرتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی بندے سے محبت اس دنیاوی مثال کے تمہارے تصور سے بہت اعلیٰ و ارفع ہے اور اس کا احاطہ کرنا حقیقتاً مشکل ہے۔ انسان تو بہت کمزور اور محدود علم کا حامل ہے۔ اللہ تعالیٰ تو بہت بلند و بالا ہستی ہے۔ ہم تو اپنے جیسے بندوں کی بھی دلی کیفیت کو نہیں سمجھ سکتے۔ کسی کے ظاہری اعمال پر ہم اپنی رائے قائم کر سکتے ہیں لیکن کسی کے دل میں کسی کی محبت کی کیا کیفیت ہے یا اس کے دل میں کیا ہے یہ بیان کرنا اور جاننا بہت مشکل ہے۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس نکتے کو کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کی کیفیت کو سمجھنے کی انسان میں کتنی صلاحیت ہے بڑے خوبصورت انداز میں اس طرح پیش فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ جس کے افعال کو بھی ہم نہیں سمجھ سکتے اس کی کیفیت محبت کو ہم کہاں سمجھ سکتے ہیں۔ اس کی ظاہری چیزوں کو بھی نہیں سمجھ سکتے تو محبت کی جو کیفیت ہے اس کو ہم کس طرح سمجھ سکتے ہیں۔ بہر حال جیسا کہ میں نے کہا اس کا احاطہ کرنا بہت مشکل ہے مگر پھر بھی مثالوں سے اس کی حقیقت کو قریب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اللہ تعالیٰ کی محبت کو مثالوں سے سمجھانے کی کوشش فرمائی ہے۔ پہلی دو مثالیں مَیں دے چکا ہوں۔ اس محبت کی ایک اور مثال پیش کرتا ہوں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی۔ بدر کی جنگ میں جب دشمن شکست کھا چکا تھا اور جنگ تقریباً ختم تھی اور کفار کے بڑے بڑے بہادر سپاہی اپنی سواریوں پر بیٹھ کر انہیں کوڑے مار کر جلد سے جلد میدان جنگ سے بھاگنے اور مسلمانوں سے دور پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے تو اس وقت ایک عورت میدان جنگ میں بغیر کسی خوف کے پھر رہی تھی اور اس پر ایک جوش اور جنون طاری تھا اور کبھی ایک بچے کو اٹھاتی اور کبھی دوسرے کو۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو دیکھا تو صحابہ سے فرمایا کہ اس عورت کا بچہ گم گیا ہے اور یہ اسے تلاش کر رہی ہے اور ماں کی محبت اس قدر غالب ہے کہ اس کو کوئی فکر نہیں کہ یہ میدان جنگ میں ہے اور یہاں ہر طرف تباہی مچی ہوئی ہے۔ وہ عورت اس طرح دیوانہ وار پھرتی رہی۔ جس بچے کو دیکھتی اسے گلے لگا لیتی لیکن جب غور کرتی تو اس کا بچہ نہ ہوتا۔ پھر اسے چھوڑ کر آگے بڑھ جاتی۔ آخر کار اسے اپنا بچہ مل گیا۔ اس نے اسے گلے لگایا، اپنے ساتھ چمٹایا، پیار کیا اور پھر دنیا جہاں سے غافل ہو کر وہیں اسے لے کر بیٹھ گئی۔ نہ اس کو یہ فکر تھی کہ یہ میدان جنگ ہے۔ نہ اسے یہ فکر تھی کہ یہاں لاشیں ہر طرف بکھری پڑی ہیں۔ اس کو یہ خیال بھی نہ آیا کہ ابھی پوری طرح جنگ ختم نہیں ہوئی اور اسے بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے دیکھا کہ جب اس کو اپنا بچہ مل گیا تو کس طرح اطمینان سے بیٹھ گئی۔ لیکن اس سے پہلے جب بچے کی تلاش میں تھی تو کس طرح اضطراب کا اظہار ہو رہا تھا اور بے قرار ہو ہو کر دوڑ رہی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی مثال اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں سے محبت کی ہے بلکہ وہ اس سے بھی زیادہ محبت رکھتا ہے۔ جو بندہ اپنے گناہوں اور غلطیوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کو کھو دیتا ہے تو خدا تعالیٰ کو اس کا ایسا دکھ ہوتا ہے جیسا اس عورت کو اپنے بچے کے کھوئے جانے کا اور پھر جب بندہ توبہ کر کے واپس آتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو اس سے زیادہ خوشی پہنچتی ہے جتنی اس عورت کو اپنے بچے کے ملنے سے پہنچی۔ تو ہمارا خدا ہمیشہ بخشنے کے لئے تیار ہے بشرطیکہ ہم بھی اس کی بخشش کو ڈھونڈھنے کے لئے تیار ہوں اور نکلیں۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ ہم کب اس کی طرف بڑھتے ہیں۔ اگر کوئی دیر ہے تو ہماری طرف سے ہے۔ کوتاہیاں صرف ہماری طرف سے ہیں۔ جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے، اس کے حضور توبہ کرتے ہوئے جاتا ہے، اس سے گناہوں کی معافی طلب کرتا ہے تو خدا تعالیٰ کی مغفرت اسے ڈھانپ لیتی ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے اس ضمن میں ایک جگہ یہ اہم بات بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی بخشش نہ صرف انسان کے گناہوں کو ڈھانپ لیتی ہے بلکہ اس کے گناہوں کو بھول جاتی ہے بلکہ صرف خودنہیں بھول جاتی ہے بلکہ دوسروں کو بھی بھلوا دیتی ہے۔ تبھی خدا تعالیٰ کا نام ساتر نہیں بلکہ ستّار ہے اور ستّار وہ ہوتا ہے جس میں صفت ستر کی تکرار اور شدت پائی جاتی ہے۔ بار بار جس میں بہت زیادہ شدت سے ستّاری کی کیفیت پائی جائے۔ دنیا صرف ساتر ہو سکتی ہے۔ یعنی یہ ہو سکتا ہے کہ اگر کسی کو کسی کے گناہ کا علم ہو تو وہ اسے بیان نہ کرے۔ پردہ پوشی کرے مگر دوسروں کے ذہن سے کوئی کسی کے گناہ کا علم نہیں نکال سکتا۔ لیکن خدا تعالیٰ کیونکہ تمام صفات کا جامع ہے اس لئے اس نے اپنی اس صفت کے بارے میں بھی کہا کہ میں ساتِر نہیں بلکہ سَتّار ہوں۔ یعنی صرف یہ نہیں کہ بندوں کے گناہ معاف کر دیتا ہوں بلکہ میں لوگوں کے ذہنوں سے بھی ان گناہوں کی یاد کو نکال دیتا ہوں اور انہیں یاد بھی نہیں رہتا کہ فلاں نے کبھی فلاں گناہ کیا تھا۔ اگر خدا تعالیٰ ستار نہ ہوتا تو گناہگار کے لئے جنت میں بھی امن نہ ہوتا۔ وہ ہر شخص کی طرف دیکھتا اور کہتا کہ اس کو میرے گناہ کا علم ہے۔

پس خدا تعالیٰ ستّار ہے۔ وہ فرماتا ہے مَیں نہ صرف لوگوں کے گناہ معاف کرتا ہوں بلکہ لوگوں کے حافظوں پر بھی تصرف رکھتا ہوں اور جب اللہ تعالیٰ کسی کی ستّاری فرمانا چاہتا ہے تو دوسروں کو کسی کا گناہ یاد ہی نہیں رہتا۔ اور اس کو لوگ ہمیشہ سے ہی نیک اور پاک صاف خیال کرتے ہیں جس کی اللہ تعالیٰ ستاری فرما دے۔ پس ہمارا خدا ستّار العیوب ہے اور غفّار الذنوب بھی خدا ہے۔ وہ نہ صرف ہمیں بخشنے والا ہے بلکہ ہماری کھوئی ہوئی عزت واپس دینے والا بھی ہے اور اس دنیا میں عزت کو قائم کرنے والا بھی ہے۔ (ماخوذ ازخطبات محمود جلد 18صفحہ 513 تا 515)

پس جب ایسا پیارا ہمارا خدا ہے تو کس قدر ہمیں قربانی کر کے اس کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔ کس قدر اس کا عبد بننے کی ضرورت ہے۔ پس اس بابرکت مہینے میں ہمیں اس ستّار العیوب اور غفّار الذنوب خدا کی طرف دوڑنے کی ضرورت ہے۔ اس کے آگے جھکنے کی بھرپور کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ شیطان ہر کونے پر کھڑا ہمیں اپنے لالچوں میں گرفتار کرنے کی کوشش میں لگاہؤا ہے لیکن ہم نے اس سے مقابلہ کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی پناہ کی کوشش کرتے ہوئے اس کے ہر حملے سے بچنا ہے اور اسے ناکام کرنا ہے اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بنانا ہے۔ تبھی ہم رمضان سے حقیقی رنگ میں فیضیاب ہو سکیں گے۔ اور جیسا کہ میں نے کہا کہ اس سے ہمیں جہاں ذاتی فوائد حاصل ہوں گے وہاں جماعتی ثمرات بھی ملیں گے۔ افراد جماعت کی اصلاح اور نیکیاں اور تقویٰ ہی جماعتی ترقیات پر منتج ہوتا ہے۔ جتنا زیادہ ہم اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والے ہوں گے اتنے زیادہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرتے ہوئے جماعتی ترقی میں بھی کردار ادا کرنے والے ہوں گے۔

یہ بھی ہم جانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میری ترقی اور فتوحات دعاؤں کے ذریعہ سے ہوں گی۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 9صفحہ58) پس جماعتی ترقیات مانگتے ہوئے بھی ہمیں خدا تعالیٰ کے آگے بہت زیادہ جھکنا چاہئے اور ان دعاؤں کے دنوں میں اس کے لئے بھی بھرپور طور پر دعائیں کرنی چاہئیں۔ ہم اپنی دعاؤں کو صرف اپنی ذات یا اپنے قریبیوں تک محدودنہ رکھیں بلکہ اس کو بہت زیادہ وسعت دینے کی ضرورت ہے تبھی ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں ہونے کا حق ادا کر سکتے ہیں۔ تبھی ہم اللہ تعالیٰ کے اس احسان کے شکر گزار ہو سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل فرما کر کیا ہے۔ ہمارا کام اپنے آپ کو اس جماعت میں شامل کر کے ختم نہیں ہو گیا۔ احمدی بننے کے بعد یہی کافی نہیں کہ ہم احمدی ہو گئے اور بیعت کر لی بلکہ بہت بڑی ذمہ داری خداتعالیٰ نے ہم پر ڈالی ہے اور اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کو دعاؤں کی طرف توجہ دلائی ہے تا کہ جماعتی ترقی میں ہم معاون و مددگار بن سکیں۔ ہم عاجز ہیں، کمزور ہیں، اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ اپنی نا اہلیوں کا بھی اعتراف کرتے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود ہم وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم الشان مقصد کے حصول کی ذمہ داری ڈالی ہے اور یہ ذمہ داری بغیر اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کئے ادا نہیں ہو سکتی۔ پس ہمیں دعاؤں کی طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اس مضمون کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک جگہ بڑے خوبصورت انداز میں بیان فرمایا ہے یا سمجھایا ہے کہ اگر واقعہ میں کمزور اور ناتواں ہیں اور اگر واقعہ میں جو کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے نہایت ہی اہم اور مشکل ہے تو سوال یہ ہے کہ ایسا کام ہم سے کس طرح سرانجام دیا جا سکتا ہے اور ادھر یہ کام اپنے اِتمام کے لئے یعنی اس کو پورا کرنے کے لئے ایک بہت بڑی طاقت چاہتا ہے اور ادھر ہم کمزور اور ناتواں ہیں۔ پس دو باتوں میں سے ہمیں ایک تسلیم کرنی پڑے گی۔ یا تو ہم یہ مانیں کہ ہمارے ان دو دعووں میں سے ایک دعویٰ غلط ہے یعنی یا ہمارا انکسار کا دعویٰ غلط ہے ہم اتنے عاجز تو نہیں ہیں یا کام مشکل ہونے کا دعویٰ غلط ہے۔ اور اگر یہ دونوں صحیح ہیں تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری کوششوں کے سوا بھی کوئی ذرائع مقرر فرمائے ہیں۔ یہ تو خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کا وعدہ ہے کہ یہ کام جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے اس نے ضرور ہو کر رہنا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جس مقصد کے لئے آئے یقینا اس مقصد کو پورا کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے پورا کروا کر رہنا ہے۔ اسلام اور احمدیت کا غلبہ دنیا پر ہو کر رہنا ہے انشاء اللہ اور اس میں ہمیں ذرہ بھر بھی شک نہیں۔ پس اس کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں دعا کا طریقہ سکھایا ہے کہ دعا کرو کہ اے اللہ! ہمارے ہاتھوں سے یعنی ہماری کوششوں سے تو یہ مقصد پورا ہونے والا نہیں ہے۔ ہم تو کمزور بھی ہیں، عاجز بھی ہیں، کام بہت بڑا ہے اور صرف ہماری کوششیں تو پورا نہیں کر سکتیں۔ ہاں ہم تیرے حکم کے ماتحت ہر قربانی کے لئے تیار ہیں۔ لیکن تُو بھی اپنے فضل سے ان مخفی ذرائع کو ظاہر کر اور ہماری تائید میں لگا دے جو تُو نے اس مقصد کے پورا کرنے کے لئے مقرر فرمائے ہیں تا کہ یہ ناممکن کام ممکن ہو جائے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ظاہری آلہ بنایاہے ورنہ اصل آلۂ کار جس نے دنیا کو فتح کرنا ہے وہ کوئی اور آلہ ہے لیکن ایک درد ان فتوحات کو حاصل کرنے کے لئے ہمارے دلوں میں بہر حال ہونا چاہئے اور وہ درد دعاؤں کی صورت میں ہمارے دلوں سے نکلنا چاہئے۔

حضرت مصلح موعودنے ایک مثال دی کہ ہماری مثال وہی ہے جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر اٹھا کر بدر کے دن پھینکے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی(الانفال: 18) کہ تمہارا کنکر پھینکنا تمہارا کنکر پھینکنا نہیں تھا بلکہ خدا تعالیٰ کا کنکر پھینکنا تھا۔ تمہارے پھینکے ہوئے کنکر تو تھوڑی دور جا کر گر پڑتے۔ مگر یہ تم نے نہیں پھینکے بلکہ ہم نے پھینکے تھے۔ اِدھرکنکر پھینکنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ چلا اُدھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے آندھی کو چلا دیا اور اس وجہ سے آندھی نے کروڑوں اور اربوں کنکر اٹھا کر کفّار کی آنکھوں میں ڈال دئیے۔ نتیجۃً ان کی آنکھیں بند ہو گئیں اور وہ حملہ میں ناکام ہوئے۔ غرض ان مٹھی بھر کنکروں کے پیچھے اصل طاقت خدا تعالیٰ کی قدرت تھی۔ پس ہماری حیثیت بھی بدر کے ان کنکروں کی سی ہے جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مٹھی میں لیا تھا اور کفّار کی طرف پھینکا تھا۔ اُن کنکروں نے کفّار کو اندھا نہیں کیا تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھینکے تھے بلکہ ان کنکروں نے اندھا کیا تھا جو آندھی کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے اڑائے تھے۔

پس ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہمارے سوا کوئی آلہ ہے جس نے یہ بڑا کام کرنا ہے اور اس کا بہترین نتیجہ نکالنا ہے اور ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس بہترین نتیجے کے لئے کوئی دوسرے سامان پیدا کئے گئے ہیں جنہوں نے اسلام کو دوسرے ادیان پر غالب کرنا ہے اور وہ آلہ اور وہ ہتھیار جن سے اسلام کو دنیا پر غالب کیا جا سکتا ہے بندے کی وہ دعائیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل کو اپنی طرف کھینچتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ناممکن کام ممکن ہو جاتا ہے۔ اور جیسا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے فرمایا کہ یہی چیز ہے جس پر ہماری کامیابی مقدر ہے۔

پس دعاؤں کے یہ دن جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں مہیا فرمائے ہیں ان میں ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے اور التزام سے یہ دعا کرنی چاہئے کہ وہ اسلام اور احمدیت کی فتح کے جلد سامان پیدا فرمائے۔ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مٹھی کے وہ کنکر بن جائیں جن کی مدد کے لئے اللہ تعالیٰ نے کروڑوں کنکروں کی آندھی چلا دی تھی اور کفار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اللہ تعالیٰ ہماری کمزوریوں کو دُور کر کے ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے چشم پوشی فرمائے اور اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا فرمائے کہ ہم اپنا مقصود پانے والے ہوں۔ اور ہماری کمزوریوں اور غفلتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا جلال پوشیدہ نہ ہو۔ ہماری کوتاہیاں غیروں کو خوشی کے مواقع فراہم کرنے والی نہ ہوں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اپنے جلال اور اپنی عزت کے ظہور کے لئے ہمارے کمزور ہاتھوں میں وہ طاقت پیدا کر دے جو اس کام کو سرانجام دینے کے لئے ضروری ہے۔ (ماخوذ ازخطبات محمود جلد 18صفحہ509تا511)

پس ان دنوں میں بہت دعائیں کریں۔ اپنے لئے بھی، ایک دوسرے کے لئے بھی اور جماعت کی ترقی کے لئے بھی اور دشمن کی ناکامیوں اور نامرادیوں کے لئے بھی۔ اللہ تعالیٰ کے جلال اور شان کے ظہور کے لئے بھی۔ دنیا خدا تعالیٰ کے وجود سے انکاری ہوتی جا رہی ہے، خدا کرے کہ اللہ تعالیٰ کو پہچاننے والی بنے۔ اللہ تعالیٰ ہماری کوتاہیوں اور غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہمارے اندر بھی ایسی طاقت پیدا کر دے جس سے کام لیتے ہوئے ہم اسلام کو دنیا کے تمام ادیان پر غالب کر سکیں اور ہم میں سے ہر ایک اسلام کا سچا خادم بن جائے اور دنیا کی خواہشات ہمارے لئے ثانوی حیثیت اختیار کر لیں۔ ہمارے دل اس جذبے سے لبریز ہوں کہ ہم نے دین کو بلند کرنے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال اور صلاحیتوں میں ایسی طاقت اور قوت پیدا فرما دے کہ دشمن کی طاقت اور قوت ہمارے مقابلہ میں ہیچ اور ذلیل ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ ہماری خطاؤں کو نہ صرف معاف کرے بلکہ ہمارے دلوں میں گناہوں سے ایسی نفرت پیدا کر دے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حکموں کو کبھی توڑنے والے نہ ہوں۔ ان لوگوں میں شامل ہوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم لوگ بھی میرے حکموں پر عمل کرو، مجھ پر ایمان کامل کرو۔ نیکیوں اور بھلائیوں سے ہمیں محبت پیدا ہو جائے۔ تقویٰ ہمارے دلوں میں مضبوطی سے قائم ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور عشق ہماری غذا بن جائے۔ ہمارا ہر عمل اور ہمارا ہر قول و فعل اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہو جائے اور جب ہم اس کے حضور حاضر ہوں تو وہ اپنی رضا کا پروانہ ہمیں دینے والا ہو۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ رمضان ہمیں حقیقت میں یہ سب کچھ حاصل کرنے والا بنا دے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 19؍ جون 2015ء شہ سرخیاں

    آج جمعہ کا بابرکت دن ہے اور رمضان کے بابرکت مہینے کا پہلا روزہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس مہینے میں خاص جوش میں آتی ہے اور مومنوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور فضلوں کی بارش ہوتی ہے۔

    ان دنوں سے ہمیں زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہئے۔ ایک تو رمضان میں عموماً کہ اس میں شیطان کو باندھ کر خدا تعالیٰ نے جنت کے دروازے کھول دئیے ہیں اور بندوں کے قریب آ گیا ہے اور پھر رمضان کے جمعوں سے بھی بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے لیکن سب سے اہم دعا جو اِن دنوں میں کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ انتہائی عاجزی سے اور خالص ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے انسان یہ دعا کرے کہ اے اللہ مجھے صرف رمضان میں ہی نہیں بلکہ عام حالات میں بھی ان لوگوں میں شامل کر لے جن کی دعائیں رات کو بھی قبول ہوتی ہیں اور دن کو بھی قبول ہوتی ہیں تا کہ رمضان ایک پاک تبدیلی پیدا کرنے والا ہو۔

    ایک حقیقی بندہ کو جو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کے لئے بے چین ہے انتہائی عاجزی اور انکساری سے اور اپنی کمزوریوں اور غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے یہ دن دعاؤں میں گزارنے چاہئیں۔ رمضان کے مہینے میں یہ جمعوں پر حاضری اور نمازوں پر حاضری عارضی نہ ہو۔

    سب سے زیادہ ان دنوں میں اپنے لئے، اپنے رشتہ داروں کے لئے، افراد جماعت کے لئے یہ دعا ہمیں کرنی چاہئے کہ ہم میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ نصیب ہو۔

    رمضان کی برکات کا تذکرہ اور اللہ تعالیٰ کی ستّاری اور مغفرت کے حصول کے لئے عملی کوششوں کی نصیحت۔

    خدا تعالیٰ کے آگے جماعتی ترقیات مانگتے ہوئے بھی ہمیں بہت زیادہ جھکنا چاہئے اور دعاؤں کے ان دنوں میں اس کے لئے بھی بھرپور طور پر دعائیں کرنی چاہئیں۔ اسلام اور احمدیت کا غلبہ دنیا پر ہو کر رہنا ہے انشاء اللہ اور اس میں ہمیں ذرہ بھر بھی شک نہیں۔ پس اس کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں دعا کا طریقہ سکھایا ہے کہ دعا کرو کہ اے اللہ! ہمارے ہاتھوں سے تو یعنی ہماری کوششوں سے تو یہ مقصد پورا ہونے والا نہیں ہے۔ ہم تو کمزور بھی ہیں، عاجز بھی ہیں، کام بہت بڑا ہے اور صرف ہماری کوششیں تو پورا نہیں کر سکتیں۔ ہاں ہم تیرے حکم کے ماتحت ہر قربانی کے لئے تیار ہیں۔ لیکن تُو بھی اپنے فضل سے ان مخفی ذرائع کو ظاہر کر اور ہماری تائید میں لگا دے جو تُو نے اس مقصد کے پورا کرنے کے لئے مقرر فرمائے ہیں تا کہ یہ ناممکن کام ممکن ہو جائے۔

    وہ آلہ اور وہ ہتھیار جن سے اسلام کو دنیا پر غالب کیا جا سکتا ہے بندے کی وہ دعائیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل کو اپنی طرف کھینچتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ناممکن کام ممکن ہو جاتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے ہمیں دعاؤں کے جو یہ دن مہیا فرمائے ہیں ان میں ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے اور التزام سے یہ دعا کرنی چاہئے کہ وہ اسلام اور احمدیت کی فتح کے جلد سامان پیدا فرمائے۔

    ان دنوں میں بہت دعائیں کریں۔ اپنے لئے بھی، ایک دوسرے کے لئے بھی اور جماعت کی ترقی کے لئے بھی اور دشمن کی ناکامیوں اور نامرادیوں کے لئے بھی۔ اللہ تعالیٰ کے جلال اور شان کے ظہور کے لئے بھی۔ اللہ تعالیٰ ہماری کوتاہیوں اور غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہمارے اندر بھی ایسی طاقت پیدا کر دے جس سے کام لیتے ہوئے ہم اسلام کو دنیا کے تمام ادیان پر غالب کر سکیں اور ہم میں سے ہر ایک اسلام کا سچا خادم بن جائے۔

    فرمودہ مورخہ 19؍جون 2015ء بمطابق 19احسان 1394 ہجری شمسی،  بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور