تقویٰ، توکل علی اللہ اور ذکر الٰہی

خطبہ جمعہ 4؍ ستمبر 2015ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

ایک دنیا دار شخص کو جب یہ کہا جائے کہ اگر کسی میں حقیقی تقویٰ پیدا ہو جائے تو اسے دنیا جہان کی سب نعمتیں مل جاتی ہیں تو وہ یقینا یہ کہے گا کہ یہ سب فضول باتیں ہیں اور مذہب کے نام پر اپنے ارد گرد لوگوں کو جمع کرنے کے لئے لوگ یہ باتیں کرتے ہیں۔ ہاں یہ بھی ٹھیک ہے کہ آجکل مذہب کے نام پر بعض لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں اور ان کے ذاتی مفاد ہوتے ہیں لیکن نہ تو ان میں خود تقویٰ ہوتا ہے اور نہ ہی ان کے پیچھے چلنے والوں میں تقویٰ ہوتا ہے۔ لیکن اس کے مقابلے پر ہم دیکھتے ہیں کہ انبیاء اور ان کی جماعتیں، حقیقی تعلیم پر چلنے والے یہ لوگ تقویٰ کا ادراک رکھتے ہیں۔ اس دنیا میں رہتے ہوئے دنیا کے کاروباروں میں لگے ہونے کے باوجود تقویٰ کی تلاش کرتے ہیں اور تقویٰ پر چلتے ہیں۔ مجھے سینکڑوں خط آتے ہیں جن میں اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم میں اور ہماری اولادوں میں تقویٰ پیدا کرے۔ یہ تبدیلی یقینا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے اور اپنا عہد بیعت نبھانے کے احساس کی وجہ سے ہے۔ اس خواہش نے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کی خشیت اور خوف نے انہیں دنیا کی چیزوں سے بے پرواہ تو کیا ہے لیکن دنیا کی نعمتوں سے وہ محروم نہیں رہے۔ اللہ تعالیٰ انبیاء کو بھی اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے اور ان کے حقیقی ماننے والوں اور تعلیم پر چلنے والوں کو بھی ان دنیاوی نعمتوں سے نوازتا ہے۔ بعض دفعہ بعض عارضی تنگیاں ہوتی ہیں لیکن پھر اللہ تعالیٰ کے فضل ہوتے ہیں اور حالات بہتر ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح متقی میں قناعت بھی ہوتی ہے اور قناعت کی وجہ سے وہ معمولی تنگیوں کو برداشت بھی کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے جو فضل ہوتے ہیں، جو نعمت ملتی ہے اس پہ اظہار بھی کرتا ہے۔ پھر جو اللہ تعالیٰ اس کو دیتا ہے اس کے تھوڑے پر بھی متقی کو خدا تعالیٰ کے شکر کی عادت پیدا ہوتی ہے اور جب خدا تعالیٰ کے شکر کی عادت پیدا ہو جائے تو پھر اللہ تعالیٰ مزید فضل فرماتا ہے اور انہی فضلوں کو دیکھتے ہوئے ایک حقیقی مومن پھر قربانیوں کے لئے تیار بھی رہتا ہے اور کرتا بھی ہے۔ آج اس زمانے میں اس مضمون کا حقیقی ادراک ہم احمدیوں کو ہے جن کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بھی ہے اور آپؐ کے غلامِ صادق کا زمانہ اور اسوہ بھی ہے۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بات کو بیان کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

’’دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے سب کچھ چھین لیا اور اسی طرح صحابہ رضوان اللہ علیہم سے بھی چھین لیا مگر خدا تعالیٰ کے مقابلے میں انہوں نے کسی بات کی پرواہ نہ کی۔ آخر خدا تعالیٰ نے ان کو سب کچھ دیا۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی خدا تعالیٰ کے لئے سب کچھ چھوڑا اور باوجود اس کے کہ اپنے خاندان میں (جائیداد کے) نصف حصے کے مالک تھے آپ کی بھاوج جنہیں خدا تعالیٰ نے بعد میں احمدی ہونے کی توفیق دی، سمجھتی تھیں کہ آپ مفت خورے ہیں۔ (اور بڑی تنگیاں ہوتی تھیں ) مگر (پھر بھی) خداتعالیٰ نے آپ کو سب کچھ دیا۔ اس حالت کا نقشہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ایک شعر میں اس طرح کھینچا ہے کہ

لُفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ کَانَ اُکُلِیْ

وَصِرْتُ الْیَوْمَ مِطْعَامَ الْاَھَالِیْ

کہ ایک زمانہ تھا جب میں دوسروں کے ٹکڑوں پر بسر اوقات کرتا تھا مگر اب خدا نے مجھے یہ توفیق دی ہے کہ ہزاروں لوگ میرے دستر خوان پر کھانا کھاتے ہیں۔‘‘ (ماخوذ ازخطبات محمود جلد 11صفحہ 313-314)

آج ہم احمدیوں کا ایمان یقینا اس بات سے بڑھتا ہے جب ہم آپ کے ابتدائی زمانے اور بعد کے زمانے کو دیکھتے ہیں۔ اس حالت کا مزیدنقشہ کھینچتے ہوئے ایک جگہ حضرت مصلح موعودؓ نے اس طرح بھی بیان فرمایا کہ:

’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جب پیدا ہوئے تو آپ کے ماں باپ نے آپ کی پیدائش پر خوشی کی ہو گی مگر جب آپ کی عمر بڑی ہو گئی اور آپ کے اندر دنیا سے بے رغبتی پیدا ہو گئی تو آپ کے والد آپ کی اس حالت کو دیکھ کر آہیں بھرا کرتے تھے کہ ہمارا بیٹا کسی کام کے قابل نہیں۔ حضرت مصلح موعودنے ایک واقعہ سنایا۔ اس کا پہلے بھی میں ذکر کر چکا ہوں کہ ایک سکھ نے آپ کو بتایا تھا کہ ہم دو بھائی تھے۔ حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کے پاس جایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے ہمارے والد صاحب سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں کہا کہ ان کے پاس آپ جاتے آتے رہتے ہیں انہیں سمجھائیں۔ تو یہ کہتے ہیں کہ جب مَیں مرزا غلام احمد صاحب کے پاس گیا اور ان کو کہا کہ آپ کے والد صاحب کو اس خیال سے بہت دکھ ہوتا ہے کہ ان کا چھوٹا لڑکا اپنے بڑے بھائی کی روٹیوں پر پلے گا، (کوئی کام نہیں کرتا)۔ اسے کہو کہ میری زندگی میں کوئی کام کر لے اور میں کوشش کر رہا ہوں کہ اچھی نوکری مل جائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد صاحب نے کہا کہ مَیں اگر مر گیا تو پھر سارے ذرائع بند ہو جائیں گے۔ حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ اس سکھ نے بتایا کہ جب ہم حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے پاس گئے اور آپ کے والد صاحب کے خیال کا اظہار آپ کے سامنے کیا کہ آپ کی حالت دیکھ کے انہیں بہت دکھ ہوتا ہے اور یہ بھی کہ حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب نے کہا کہ اگر میں مر گیا تو غلام احمد کا کیا بنے گا؟ تو یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کہا کہ آپ اپنے والد کی بات کیوں نہیں مان لیتے؟ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد کپور تھلہ کی ریاست میں کوشش کر رہے تھے اور کپورتھلے کی ریاست نے آپ کو ریاست کا افسر تعلیم مقرر کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ افسر تعلیم مقرر کرنے کی ایک آفر بھی آگئی تھی۔ وہ سکھ کہنے لگے کہ جب ہم نے یہ بات کہی کہ آپ اپنے والد صاحب کی بات کیوں نہیں مانتے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جواب دیا کہ میرے والد صاحب تو یونہی غم کرتے رہتے ہیں، انہیں میرے مستقبل کی کیوں فکر ہے۔ مَیں نے تو جس کی نوکری کرنی تھی کر لی ہے۔ کہتے ہیں ہم واپس آ گئے اور مرزا غلام مرتضی صاحب سے آ کر یہ ساری بات کہہ دی۔ مرزا صاحب نے کہا کہ اگر اس نے یہ بات کہی ہے تو ٹھیک کہا ہے کیونکہ وہ جھوٹ نہیں بولا کرتا۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ابتدا تھی اور پھر ابھی انتہا نہیں ہوئی لیکن جو عارضی انتہا نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کی وفات کے وقت ہزاروں ہزار آدمی آپ پر قربان ہونے والا موجود تھا اور پھر اس شعر کا ذکر کیا جو پہلے بھی میں نے پڑھا ہے کہ

لُفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ کَانَ اُکُلِیْ

وَصِرْتُ الْیَوْمَ مِطْعَامَ الْاَھَالِیْ

کہ ایک ایسا زمانہ تھا جب بچے ہوئے ٹکڑے مجھے ملا کرتے تھے اور آج میرا یہ حال ہے کہ میں سینکڑوں خاندانوں کو پال رہا ہوں۔ حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ آپ کی ابتدا کتنی چھوٹی تھی مگر آپ کی انتہا ایسی ہوئی کہ علاوہ ان لوگوں کے جو خدمت کرتے تھے لنگر میں روزانہ دو اڑھائی سو آدمی کھانا کھاتے تھے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ اپنے والد کی جائداد میں اپنے بھائی کے برابر کے شریک تھے لیکن زمینداروں میں یہ عام دستور ہے، اس زمانے میں یہ زیادہ تھا کہ جو کام کرے وہ تو جائیداد میں شریک سمجھا جاتا تھا اور جو کام نہیں کرتا وہ جائداد میں شریک نہیں سمجھا جاتا تھا۔ لوگ عموماً کہہ دیتے ہیں کہ جو کام نہیں کرتا اس کا جائداد میں کیا حصہ ہو سکتا ہے۔ شروع زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جب کوئی ملاقاتی آتا اور اپنی بھاوجہ کو کھانے کے لئے کہلا بھیجتے تو وہ آگے سے کہہ دیتیں کہ وہ یونہی کھا پی رہا ہے۔ کام کاج تو کوئی کرتا نہیں۔ اس پر آپ اپنا کھانا اس مہمان کو کھلا دیتے اور خود فاقہ کر لیتے یا تھوڑے سے چنے چبا کر گزارا کر لیتے۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ خدا کی قدرت ہے وہی بھاوجہ جو اس وقت آپ کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتی تھی بعد میں میرے ہاتھ پر احمدیت میں داخل ہوئیں۔ غرض اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب کوئی کام شروع کیا جاتا ہے تو اس کی ابتدا بڑی نظر نہیں آیا کرتی لیکن اس کی انتہا پر دنیا حیران ہوجاتی ہے۔‘‘ (مأخوذ از تفسیر کبیر جلد 7صفحہ 102-101)

آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ قادیان ہی نہیں بلکہ قادیان سے باہر بھی دنیا کے کئی ممالک میں آپ کا لنگر چل رہا ہے۔ اُس وقت تو شاید دو تین تنوروں پرروٹی پکتی ہو اور لنگر چل رہا تھا اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کے لنگروں میں روٹی کے پلانٹ لگے ہوئے ہیں۔ قادیان میں بھی، ربوہ میں اور یہاں لنگر میں بھی لاکھوں روٹیاں ایک وقت میں پکتی ہیں۔ اللہ کے فضل سے یہاں جلسہ پر جو انتظامات ہیں ان میں بڑا وسیع لنگر کا انتظام ہے۔ جیسا کہ مَیں پہلے پچھلے جمعہ ذکر کر چکا ہوں، اس دفعہ بہت سارے جرنلسٹ بھی آئے ہوئے تھے۔ اخباری نمائندے آئے ہوئے تھے۔ وہ لنگر کے انتظام کو دیکھ کے، کھانا پکتے دیکھ کے، روٹی پلانٹ کو دیکھ کے بڑے متاثر ہوئے ہیں۔ مشین کی روٹی ساروں کو پسند آئی۔ ایک جرنلسٹ جو دیکھ رہے تھے انہوں نے وہاں کھڑے کھڑے کھانے کی خواہش کی۔ انہیں روٹی دی گئی تو ان کو بڑی پسند آئی اور کھا گئے۔ پھر انہوں نے کہا اور کھا سکتا ہوں؟ تو احمدی نے جو اُن کے ساتھ تھے کہا کہ بیشک کھائیں، جتنی مرضی کھائیں کیونکہ یہ مسیح کا لنگر ہے یہاں کوئی کمی نہیں ہے۔

پس کیا وہ زمانہ تھا کہ ایک مہمان آتا تھا تو آپ اپنا کھانا اسے دے دیتے تھے اور خود فاقہ کرتے تھے اور کہاں آج کہ دنیا کے مختلف ممالک میں ہزاروں لوگ آپ کے دستر خوان سے کھانا کھا رہے ہیں اور یہ بھی انتہا نہیں ہے۔ ابھی تو ان لنگروں نے دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلنا ہے۔ انشاء اللہ۔ لاکھوں لوگوں نے، کروڑوں لوگوں نے آپ کے دستر خوان سے کھانا کھانا ہے۔ اسی طرح لاکھوں اور کروڑوں نے آپ کو ماننے کے بعد تقویٰ میں بھی بڑھنا ہے۔

آج ہمیں دنیا کمانے والے احمدیوں میں قربانی کے جو معیار نظر آتے ہیں یہ بھی کوئی انتہا نہیں ہے۔ اس میں بھی انشاء اللہ تعالیٰ اضافہ ہوتا چلا جانا ہے۔ پس اگر کوئی غور کرنے والا ایک لنگر کے نظام کو ہی دیکھ لے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی حالات کو، زمانے کو سامنے رکھے تو یہی آپ کی صداقت کا ایک نشان بن جاتا ہے۔ بہت بڑا نشان ہے اور ہمارے ایمانوں میں تو یقینا یہ اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اگر اس سارے نظام کو چلانے کے لئے مالی قربانی کی روح افراد جماعت میں پیدا ہوئی ہے تو یہ بھی اسی تقویٰ کا نتیجہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے جُڑ کر ہم میں پیدا ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو حقیقی تقویٰ پیدا کرنے کی طرف مزید توجہ پیدا کرنے کی توفیق دے۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے مختلف پہلوؤں اور بعض واقعات پر روشنی ڈالتے ہیں، ان کو بیان کرتے ہیں اور جس طرح بیان کرتے ہیں اور بعض دفعہ آپ جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں وہ بھی آپ کا ایک خاصّہ ہے۔ ایک عام آدمی کسی واقعے کی ظاہری حالت سے لطف تو اٹھا سکتا ہے اور لطف اٹھا کر گزر جاتا ہے لیکن حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ اس میں سے جس طرح بڑے باریک نکات نکالتے ہیں وہ بھی ہمارے ایمان میں زیادتی کا باعث بنتا ہے اور معرفت میں ترقی ہوتی ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کھانے کے انداز اور ڈھنگ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ ٔؓ فرماتے ہیں کہ:

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کھانے کا ڈھنگ بالکل نرالا تھا۔ میں نے کسی اور کو اس طرح کھاتے نہیں دیکھا۔ آپ پھلکے سے پہلے ایک ٹکڑا علیحدہ کرتے (یعنی باریک روٹی، چپاتی جو ہوتی ہے)۔ پھر لقمہ بنانے سے پہلے آپ انگلیوں سے اس کے ریزے بناتے جاتے اور منہ سے سبحان اللہ سبحان اللہ کہتے جاتے اور پھر ان میں سے ایک چھوٹا سا ریزہ لے کر سالن سے چُھو کر منہ میں ڈالتے۔ یہ آپ کی عادت ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ دیکھنے والے تعجب کرتے اور بعض لوگ تو خیال کرتے کہ شاید آپ روٹی میں سے حلال ذرّے تلاش کر رہے ہیں۔ لیکن دراصل اس کی وجہ یہی جذبہ ہوتا تھا کہ ہم کھانا کھا رہے ہیں اور خدا کا دین مصائب سے تڑپ رہا ہے۔ ہر لقمہ آپ کے گلے میں پھنستا تھا اور سبحان اللہ سبحان اللہ کہہ کر آپ گویا اللہ تعالیٰ کے حضور معذرت کرتے تھے کہ تو نے یہ چیز (یعنی کھانا کھانا) ہمارے ساتھ لگا دی ہے (اور خوراک انسان کی ضرورت ہے)۔ ورنہ دین کی مصیبت کے وقت ہمارے لئے یہ ہرگز جائز نہ تھا۔ حضرت مصلح موعود کہتے ہیں وہ غذا بھی (جو آپ کی تھی) ایک مجاہدہ معلوم ہوتا تھا۔ یہ ایک لڑائی ہوتی تھی ان لطیف اور نفیس جذبات کے درمیان جو اسلام اور دین کی تائید کے لئے اٹھ رہے ہوتے تھے اور ان مطالبات کے درمیان جو خدا تعالیٰ کی طرف سے قانون قدرت کے پورا کرنے کے لئے قائم کئے گئے تھے۔‘‘ (ماخوذ ازخطبات محمود جلد17 صفحہ 270-269)

یعنی جو جذبات دین کی تائید کے لئے آپ کے دل میں تھے ان کے درمیان اور جو انسانی ضروریات ہیں، کھانا کھانا انسان کی ضرورت ہے، پینا انسان کی ضرورت ہے، ان کے درمیان ایک لڑائی چل رہی ہوتی تھی۔ آپ کا کھانا کھانا بھی ایک مجبوری تھی۔ اصل فکر آپ کو دین کی تائید کی تھی، اسلام کی ترقی کی تھی۔

پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نمونہ ہمیں اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو جب استعمال کریں تو اس کا شکر کریں۔ ایک تو اس کی تسبیح کریں تو ساتھ ہی دین کی حالت کے درد کو بھی محسوس کریں۔ اس کے لئے کوشش کریں کہ کس طرح ہم نے اشاعت دین اور تبلیغ دین میں حصہ ڈالنا ہے۔ پھر کھانے کے اس انداز سے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تھا تسبیح کے مضمون کی مزید وضاحت فرمائی اور قرآن کریم کے اس حصہ آیت سے کہ یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ(التغابن: 2) زمین و آسمان کی ہر چیز خدا تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے یہ نکتہ نکالا ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب کھانا کھایا کرتے تھے جیسا کہ پہلے بھی ذکر آیا ہے کہ بمشکل ایک پھلکا آپ کھاتے تھے اور جب اٹھتے تو روٹی کے ٹکڑوں کا بہت سا چورا آپ کے سامنے سے نکلتا۔ آپ کی عادت تھی جس طرح پہلے بتایا کہ روٹی کے ٹکڑے کرتے جاتے پھر کوئی ٹکڑا اٹھا کر منہ میں ڈال لیتے اور باقی ٹکڑے دستر خوان پر رکھے رہتے۔ فرماتے ہیں کہ معلوم نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایسا کیوں کرتے تھے مگر کئی دوست کہا کرتے تھے کہ حضرت صاحب یہ تلاش کرتے ہیں کہ ان روٹی کے ٹکڑوں میں سے کون سا تسبیح کرنے والا ہے اور کون سا نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اس قسم کی بات سننی مجھے اس وقت یادنہیں مگر یہ یاد ہے کہ لوگ یہی کہا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ کہ زمین و آسمان میں سے تسبیحوں کی آواز اٹھ رہی ہے۔ اب کیوں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز تسبیح کر رہی ہے جبکہ ہم اس تسبیح کی آواز کو سن ہی نہیں سکتے۔ اور جس چیز کو ہم سن نہیں سکتے اس کے بتانے کی ہمیں ضرورت کوئی نہیں تھی کہ کر رہی ہے۔ جس کو ہم سن نہیں سکتے تو ہمیں کیا پتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے بتانے کا مقصد کیا تھا۔ کیا قرآن کریم میں کہیں یہ لکھا ہے کہ جنت میں فلاں شخص مثلاً عبدالرشیدنامی دس ہزار سال سے بیٹھا ہوا ہے۔ چونکہ ہمارے لئے اس کے ذکر سے کوئی فائدہ نہیں تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسی باتیں نہیں بتائیں۔ پھر جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ۔ کہ زمین و آسمان کی ہر چیز تسبیح کر رہی ہے تو اس کا یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ اے لوگو تم اس تسبیح کو سنو۔ جب ہم کہتے ہیں کہ چاندنکل آیا تو اس کا مطلب یہ ہؤا کرتا ہے کہ لوگ آئیں اور دیکھیں یا جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص گا رہا ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ چلو اور اس کا راگ سنو۔ اسی طرح جب خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ۔ کہ زمین و آسمان کی ہر چیز تسبیح کر رہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اس تسبیح کو سنو۔ پس معلوم ہوا کہ یہ تسبیح ایسی ہے جسے ہم سن بھی سکتے ہیں۔ ایک سننا تو ادنیٰ درجے کا ہے اور ایک اعلیٰ درجے کا۔ مگر اعلیٰ درجے کا سننا انہی لوگوں کو میسر آ سکتا ہے جن کے ویسے ہی کان اور آنکھیں ہوں۔ اسی لئے مومن کو یہ کہا جاتا ہے کہ جب وہ کھانا شروع کرے تو بسم اللہ الرحمن الرحیم کہے۔ کھانا ختم کرے تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے۔ کپڑا پہنے یا کوئی اور نظارہ دیکھے تو اسی کے مطابق تسبیح کرے۔ گویا مومن کا تسبیح کرنا کیا ہے؟ وہ ان چیزوں کی تسبیح کی تصدیق کرنا ہے۔ وہ کپڑے کی تسبیح اور کھانے کی تسبیح اور دوسری چیزوں کی تسبیح کی تصدیق کرتا ہے۔ جب انسان کھانا کھاتے ہوئے بِسْمِ اللّٰہ پڑھتا ہے۔ کھانا ختم کر کے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ پڑھتا ہے۔ کپڑا پہنتے ہوئے دعا کرتا ہے اور اللہ کو یاد رکھتا ہے تو یہ چیزیں جو انسان خود کر رہا ہوتا ہے یہی اصل میں تسبیح ہے جو ان چیزوں کی طرف سے ہو رہی ہوتی ہے۔ ان کو دیکھ کے جب انسان شکرگزاری کرتا ہے تو یہی تسبیح ان چیزوں کی طرف سے بھی ہو رہی ہے۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں اَور کتنے ہیں جو اس پر عمل کرتے ہیں۔ وہ رات دن کھاتے اور پیتے ہیں۔ پہاڑوں پر سے گزرتے ہیں، دریاؤں کو دیکھتے ہیں، سبزہ زاروں کا مشاہدہ کرتے ہیں، درختوں اور کھیتوں کو لہلہاتے ہوئے دیکھتے ہیں، پرندوں کو چہچہاتے ہوئے سنتے ہیں، مگر ان کے دلوں پر کیا اثر ہوتا ہے۔ کیا ان کے دلوں میں بھی ان چیزوں کے مقابلے میں تسبیح پیدا ہوتی ہے۔ اگر نہیں پیدا ہوتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ان چیزوں کی تسبیح کو نہیں سنا۔ مگر تم کہو گے کہ ہمارے کانوں میں تسبیح کی آواز نہیں آتی۔ میں اس کے لئے تمہیں بتاتا ہوں کہ کئی آوازیں کان سے نہیں بلکہ اندر سے آتی ہیں۔ (ماخوذ ازخطبات محمود جلد 16صفحہ 150-149)

پس ہر شکرگزاری جو ہے جب وہ انسان کسی چیز کی کرتا ہے یا اللہ تعالیٰ کی قدرت کو دیکھتا ہے تو سبحان اللہ پڑھتا ہے تو انسان کی جو تسبیح ہے وہ اصل میں ان چیزوں کی جو تسبیح ہے اس کا اظہار انسان کے منہ سے ہو رہا ہوتا ہے۔ اس نکتے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پس تسبیح کے اس انداز کو بھی ہمیں اپنانے کی کوشش کرنی چاہئے بلکہ تقویٰ تو یہی ہے کہ اس قسم کی تسبیح ہمارا معمول بن جائے۔

اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اسلام پر حملہ کرنے والوں کے منہ بند کرنے کے لئے اور اسلام کی خوبصورتی ظاہر کرنے کے لئے بھیجا ہے۔ اس تعلق میں بھی ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ:

ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک عیسائی آیا اور اس نے کہا کہ آپ تو کہتے ہیں کہ قرآن کریم کی زبان اُمّ الالسنۃ ہے حالانکہ میکس مولر (Max Muller) وغیرہ نے لکھا ہے کہ جو زبان اُمّ الالسنۃ ہوتی ہے وہ مختصر ہوتی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ لوگ اس کو پھیلا دیتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔ ہم تو میکس مولر کے اس فارمولے کو نہیں مانتے کہ ام الالسنۃ مختصر ہوتی ہے مگر چلو بحث کو چھوٹا کرنے کے لئے ہم اس فارمولے کو مان لیتے ہیں۔ (بحث ختم کرنے کے لئے ہم اس فارمولے کو مان لیتے ہیں ) اور عربی زبان کو دیکھتے ہیں کہ آیا وہ اس معیار پر پوری اترتی ہے یا نہیں۔ اس شخص نے یہ بھی کہا تھا کہ انگریزی زبان عربی زبان کے مقابلے میں نہایت اعلیٰ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام انگریزی نہیں جانتے تھے لیکن آپ نے فرمایا اچھا آپ بتائیں کہ انگریزی میں ’’میرے پانی‘‘ کو کیا کہتے ہیں۔ اس نے کہا مائی واٹر (my water)۔ آپ نے فرمایا عربی میں تو صرف مَائِيْ کہنے سے ہی یہ مفہوم ادا ہوجاتا ہے۔ اب آپ بتائیں کہ مائی واٹر (my water) زیادہ مختصر ہے یا مَائِيْ۔ اب اگرچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام انگریزی نہیں جانتے تھے لیکن خدا تعالیٰ نے آپ کی زبان پر ایسے الفاظ جاری کر دئیے کہ معترض آپ ہی پھنس گیا اور وہ سخت شرمندہ اور لاجواب ہو گیا اور کہنے لگا کہ پھر تو عربی زبان ہی مختصر ہوئی۔ یہی حال قرآن کریم کا ہے۔ اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ آپ کو دشمنوں کے حملوں سے بچائے گا یعنی ہمیشہ ایسے لوگ پیدا کرتا رہے گا جو قرآن کریم کو پڑھنے والے ہوں گے۔ اس سے سچا عشق رکھتے ہوں گے اور اس کی تفسیر کرنے والے ہوں گے۔ وہ دشمنوں کو ان کے حملوں کا ایسا جواب دیں گے کہ ان کا منہ بند ہو جائے گا۔ دوسرے اس نے قرآن کریم کے اندر ایسا مادہ رکھ دیا ہے کہ معترض جو بھی اعتراض کریں اس کا جواب اس کے اندر موجود ہوتا ہے۔

حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ سرسید احمد خاں نے بھی اپنے زمانے میں عیسائیوں کے اعتراضات کے جواب دئیے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کھڑا کر دیا جنہوں نے اتنے لمبے عرصے تک دشمن کا مقابلہ کیا کہ آپ کی وفات پر دشمنوں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ آپ نے اسلام کا دفاع ایسے شاندار رنگ میں کیا ہے کہ آپ سے پہلے کسی مسلمان عالم نے اس طرح اسلام کا دفاع نہیں کیا۔ یہ وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ (المائدۃ: 68) کا ہی کرشمہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ تھا کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہر حال بچانا ہے۔ جب دشمن نے تلوار سے حملہ کیا تو اس نے اس کی تلوار کو کند کر دیا۔ (دشمن کی تلواریں ٹوٹ گئیں۔ ) اور جب اس نے تاریخ سے حملہ کیا تو خدا تعالیٰ نے ایسے مسلمان کھڑے کر دئیے جنہوں نے تاریخی کتب کی چھان بین کر کے دشمن کے اعتراضات کو ردّ کر دیا اور خود مخالفین کے بزرگوں کی کتابیں کھول کر بتایا کہ وہ جو اعتراضات اسلام پر کر رہے ہیں وہ ان کے اپنے مذہب پر بھی پڑتے ہیں۔ اور جو حصہ قرآن کریم اور احادیث سے تعلق رکھتا تھا اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صاف کر دیا۔ (ماخوذ ازالفضل 22نومبر 1956ء صفحہ 2۔ 4 جلد 45/10 نمبر 274)

پس آج بھی جو لوگ اسلام پر اعتراض کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا علم کلام جو ہے اسی سے ہم ان کا منہ بند کر سکتے ہیں۔ اس لئے اس طرف ہمیں توجہ دینی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی تائید میں خود ہی نشانات بھی دکھاتا ہے اور دلائل بھی بتاتا ہے۔ بعض لوگ جو علمی ذوق رکھتے ہیں ان کے سینے بھی مزید کھولتا ہے۔ لیکن بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کم علمی کے باوجود عالم بننے کے شوق میں غیر ضروری باتیں کر جاتے ہیں اور جن سے بعض دفعہ مشکلات پیدا ہوتی ہیں بلکہ مخالفین کو استہزاء کا موقع ملتا ہے۔ ایسے ہی ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ لوگ نئے نئے مسائل مذہب میں داخل کر رہے ہیں اور انہیں یہ بھی محسوس نہیں ہوتا کہ یہ کتنی شرم کی بات ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں ایک دوست تھے وہ بٹالہ کے رہنے والے تھے۔ بعد میں تو نہایت مخلص احمدی ہوئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ مسئلہ بیان کیا تھا (پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے) کہ عربی زبان جو ہے وہ اُمّ الالسنۃ ہے یعنی سب زبانیں اسی سے نکلی ہیں۔ تو یہ صاحب جو تھے انہوں نے اس مسئلے کو لے لیا اور اسی کام میں مشغول ہوگئے کہ ہم ہر لفظ کا عربی زبان سے نکلا ہوا ثابت کریں۔ (لیکن زیادہ علم نہیں تھا۔ عربی کی زیادہ شدھ بدھ نہیں تھی تو وہ اسی کوشش میں لگ گئے۔) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تو لغت کے واقف تھے۔ صَرف و نحو کے واقف تھے۔ زبان کے واقف تھے۔ آپ جو مسئلہ نکالتے تھے علم کی بناء پر نکالتے تھے۔ جب آپ نے یہ کہا کہ سب کچھ قرآن کریم میں موجود ہے تو اس سے آپ کی یہ مراد تو نہیں تھی کہ قرآن کریم میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ بڑھئی کا کام کس طرح کیا جائے یا اس میں یہ بھی ذکر آتا ہے کہ کھیتی باڑی کے کیا اصول ہیں۔ سب کچھ سے مراد یہ تھا کہ تمام ضروریات دینیہ قرآن کریم میں موجود ہیں۔ لیکن ان صاحب نے خیال کر لیا کہ سب کچھ قرآن کریم میں موجود ہے۔ چنانچہ جب بہت زیادہ شور مچانے لگ گئے۔ ہر جگہ ہر طبقے میں بیٹھ کے یہ باتیں کرنے لگ گئے کہ سب کچھ قرآن کریم میں موجود ہے تو کسی سرپھرے نے یہ کہہ دیا کہ آلو اور مرچوں کا قرآن کریم میں کہیں ذکر نہیں۔ اب انہوں نے بھی اپنی دلیل تو دینی تھی۔ کہنے لگے کہ اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَان۔ (اس کے معنی اصل میں تو موتی اور مونگے کے ہیں) اس کا مطلب آلو اور مرچیں ہی ہیں۔ پس (حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ) ایک طرف تو اتنا اندھیر ہے کہ بعض کے نزدیک خدا تعالیٰ کے قول کی طرح فقہاء کا قول بھی نہیں بدلتا۔ (بعض لوگ فقہاء کے قول کوبہت ترجیح دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جو ایک فیصلہ ہو گیا، کسی فقیہ نے فیصلہ کر دیا وہ آخری فیصلہ ہے اور اس کو بدلہ نہیں جا سکتا) اور دوسری طرف لوگ تغیر و تبدل کرتے رہتے ہیں اور اندھیر مچا دیتے ہیں۔ (مأخوذ از خطبات محمود جلد 33صفحہ 310-309)

اس سے مجھے یاد آ گیا، فیصل آبادمیں ایک دفعہ جب چوہتّر (1974ء) کے فسادات ہو رہے تھے تو ایک مولوی صاحب تقریر کر رہے تھے اور قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَد کی تشریح فرما رہے تھے کہ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَد قرآن کریم میں لکھا ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ احمدی کافر ہیں۔ اس سے انہوں نے یہ استدلال کر لیا۔ بہرحال حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ایسے لوگ جو ہیں دونوں طرف افراط و تفریط کرتے ہیں۔ کوئی اصول اور قاعدہ نہیں ہوتا۔ حالانکہ اصل طریق وسطی ہے۔ انسان کو تغیر قبول کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے لیکن تغیر پیدا کرنا خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور وہ جب چاہتا ہے تغیر پیدا کرتا ہے اور جب وہ تغیر پیدا کرنا چاہتا ہے تو پھر دنیا اسے تغیر سے روک نہیں سکتی۔

پھر بعض لوگوں کی غلط سوچیں جو ہیں ان کے بارے میں بھی حضرت مصلح موعودنے بیان کیا۔ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ایک شخص قادیان آیا۔ اس نے کہا کہ اگر مرزا صاحب کو کہا جاتا ہے کہ آپ ابراھیم ہیں، نوح ہیں، موسیٰ ہیں، عیسیٰ ہیں، محمد ہیں (صلی اللہ علیہ وسلم) تو (وہ کہنے لگا کہ) مجھے بھی خدا تعالیٰ ہر وقت کہتا ہے کہ تُو محمد ہے۔ لوگ اسے سمجھانے لگے تو اس نے کہا کہ خدا تعالیٰ کی آواز مجھے آتی ہے۔ وہ خود مجھے کہتا ہے کہ تُو محمد ہے۔ تمہاری دلیلیں مجھ پر کیا اثر کر سکتی ہیں۔ (کوئی اثر نہیں ہوگا) جب لوگ سمجھاتے سمجھاتے تھک گئے تو انہوں نے خیال کیا کہ بہتر ہے کہ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں پیش کیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے درخواست کی کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ذکر کر کے وقت لے دیں۔ حضرت خلیفہ اولؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عرض کیا۔ آپ نے فرمایا اچھا اس شخص کو بلا لو۔ چنانچہ وہ شخص حضور کی خدمت میں لایا گیا اور اس نے کہا کہ خدا تعالیٰ مجھے ہر وقت یہ کہتا ہے کہ تم محمد ہو۔ آپ نے فرمایا مجھے تو خدا تعالیٰ ہر وقت یہ نہیں کہتا کہ میں ابراہیم ہوں، میں موسیٰ ہوں، عیسیٰ ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا لیکن جب وہ مجھے کہتا ہے کہ تم عیسیٰ ہو تو عیسیٰ والی صفات مجھے دیتا ہے اور جب وہ کہتا ہے کہ تم موسیٰ ہو تو موسیٰ والے نشانات مجھے دیتا ہے اور اگر آپ کو اللہ تعالیٰ ہر وقت محمد کہتا ہے تو کیا وہ آپ کو قرآن کریم کے معارف اور لطائف اور حقائق بھی دیتا ہے یا نہیں۔ اس نے کہا دیتا تو کچھ نہیں۔ تو آپ نے فرمایا دیکھو سچے اور جھوٹے میں یہی فرق ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص سچے طور پر کسی کو مہمان بناتا ہے تو وہ اسے کھانے کو دیتا ہے لیکن اگر کوئی کسی سے مذاق کرتا ہے تو وہ یونہی اسے بلا کر اس کے سامنے کھانے کے خالی برتن رکھ دیتا ہے اور کہتا ہے یہ پلاؤ ہے، یہ زردہ ہے۔ خدا تعالیٰ مذاق نہیں کرتا۔ شیطان مذاق کرتا ہے۔ اگر آپ کو محمد کہا جاتا ہے اور پھر قرآن کریم کے معارف اور لطائف اور حقائق نہیں دئیے جاتے تو ایسا کہنے والا شیطان ہے، خدا نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ اگر کچھ کہتا ہے تو اس کے مطابق چیز بھی انسان کے آگے رکھ دیتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر آپ کے سامنے کوئی چیز نہیں رکھی جاتی تو آپ یقین کر لیں کہ آپ کو محمد کہنے والا خدا نہیں، شیطان ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تغیر خدا تعالیٰ پیدا کرتا ہے۔ (مأخوذ از خطبات محمود جلد 33صفحہ 311-310)

پس وہ لوگ جو بعض دفعہ بعض خوابوں کی وجہ سے غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کرنے لگ جاتے ہیں وہ اصل میں شیطان کے زیر اثر ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ تو جب کسی کو کچھ دیتا ہے تو اس کی چمک بھی دکھاتا ہے۔ اپنی تائیدات کا اظہار بھی کرتا ہے۔ نشانات ظاہر ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت اس کے ساتھ کام کر رہی ہوتی ہے۔ یہی ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ دیکھا اور یہی آپ کی پیشگوئی دربارہ مصلح موعود جو تھی اسے خلیفۃ المسیح الثانی کے حق میں پورے ہوتے دیکھا اور یہی خلافت احمدیہ کے قیام کی جو خوشخبری آپ نے دی تھی اس میں اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت سے اس کو ہم نے پورا ہوتے دیکھا۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کے ایمان و ایقان میں ترقی عطا فرمائے اور وہ ان باتوں کو سمجھنے والا ہو۔

نماز کے بعد مَیں ایک جنازہ بھی پڑھاؤں گا جو مکرمہ صاحبزادی امۃ الباری صاحبہ کا ہے۔ 31؍اگست اور یکم ستمبر 2015ء کی درمیان رات کو 87 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔ مکرمہ امۃ الباری بیگم صاحبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پوتی، حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی بیٹی اور حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی نواسی تھیں۔ اور سیدۃ امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ اور نواب عبداللہ خان صاحب کی بہو تھیں۔ ان کے میاں مکرم عباس احمد خان صاحب مرحوم تھے۔ اور وہ میری پھوپھی بھی تھیں۔ 17؍اکتوبر 1928ء کو قادیان میں ان کی پیدائش ہوئی تھی۔ 29؍دسمبر 1944ء کو جب میاں عباس احمد خان صاحب کے ساتھ ان کا نکاح ہوا تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے جمعہ کے دن جمعہ کا خطبہ شروع کرنے سے پہلے چندنکاحوں کا اعلان کیا۔ آپ نے فرمایا کہ چندنکاحوں کا اعلان کرنا چاہتا ہوں اور میں یہ بات کئی دفعہ ظاہر کر چکا ہوں کہ کچھ عرصے تک میں ایسے لوگوں کے نکاح پڑھا سکوں گا جو یا تو میرے عزیز ہوں یا ان سے میرے تعلقات عزیزوں کی طرح ہوں مثلاً دین کے لئے وہ زندگی وقف کر چکے ہوں۔ اس کے علاوہ کسی دوسرے کا نکاح اس صورت میں پڑھا سکوں گا جبکہ ایسے موقع پر وہ درخواستیں پیش کی جائیں گی جب ایسے عزیزوں کا نکاح ہو۔ بہرحال آپ نے فرمایا کہ آج میں عزیزم عباس احمد خان کے نکاح کا اعلان کرنا چاہتا ہوں جو میری چھوٹی بہن اور میاں عبداللہ خان صاحب کے لڑکے ہیں اور لڑکی عزیزم میاں شریف احمد صاحب کی ہے۔ گویا لڑکا میرا بھانجا ہے اور لڑکی میری بھتیجی ہے۔ پھر آپ نے مختلف نصائح فرمائیں اور وقف زندگی کا ذکر کیا اور اس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کا نام لیا کہ اس وقت خاندان کے لڑکوں میں سے جو سب سے زیادہ اس وقف کے لئے پیش کر چکے ہیں ان کا نام لیا کہ آپ ہیں اور اَوروں کو بھی توجہ دلائی۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آج سے ساٹھ ستّر سال پہلے یہ الہام شائع فرمایا تھا کہ تَریٰ نَسْلاً بَعِیْدًا۔ اور ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس نشان کو ایسے رنگ میں پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں کہ روز بروز نشان کی اہمیت اور عظمت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ بعض نشان اس قسم کے ہوتے ہیں کہ جس وقت وہ شائع کئے جاتے ہیں تو بڑے ہوتے ہیں اور ان کی عظمت زیادہ ہوتی ہے مگر جوں جوں زمانہ گزرتا جاتا ہے اس نشان کی عظمت میں آہستہ آہستہ کمی ہوتی چلی جاتی ہے۔ لیکن بعض نشان اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ابتدا میں چھوٹے ہوتے ہیں مگر زمانے کے ساتھ ساتھ وہ بڑے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ جوں جوں زمانہ گزرتا ہے انکی عظمت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ چنانچہ جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یہ الہام ہوا کہ تَریٰ نَسْلاً بَعِیْدًا۔ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صرف دو بیٹے تھے اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کے ہاں کچھ اور بیٹے بیٹیاں پیدا ہوئیں اور پھر خدا تعالیٰ نے ان کو وسیع کیا اور اب ان بیٹوں اور بیٹیوں کی نسلیں الہام الٰہی کے ماتحت شادیاں کر رہی ہیں اور تَریٰ نَسْلاً بَعِیْدًا کے نئے نئے ثبوت مہیا کر رہی ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ دنیا میں نسلیں تو پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ ایک معترض کہہ سکتا ہے کہ یہ کونسا نشان ہے نسلیں تو دنیا میں اکثر آدمیوں کی چلتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کتنے آدمیوں کی نسلیں ہیں جو ان کی طرف منسوب بھی ہوتی ہوں اور منسوب ہونے میں فخر محسوس کرتی ہوں۔ اکثر آدمیوں کی نسلیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر ان سے پوچھا جائے کہ تمہارے پردادا کا کیا نام تھا تو ان کو پتا نہیں ہوتا مگر تَریٰ نَسْلاً بَعِیْدًا کا الہام بتا رہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسل آپ کی طرف منسوب ہوتی چلی جائے گی اور لوگ انگلیاں اٹھا اٹھا کر کہیں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسل آپ کی پیشگوئیوں کے ماتحت آپ کی صداقت کا نشان ہے۔ پس تَریٰ نَسْلاً بَعِیْدًامیں صرف یہی پیشگوئی نہیں کہ آپ کی نسل کثرت سے ہو گی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عظمت شان کا بھی اس جگہ اس رنگ میں اس پیشگوئی میں ذکر ہے کہ آپ کا مرتبہ اتنا بلند اور آپ کی شان اتنی ارفع ہے۔ آپ کی نسل ایک منٹ کے لئے بھی آپ کی طرف منسوب نہ ہونا برداشت نہیں کرے گی اور آپ کی طرف منسوب ہونے میں ہی ان کی شان اور ان کی عظمت بڑھے گی۔ پس اس پیشگوئی میں خالی اس بات کا ذکر نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد کثرت سے ہو گی بلکہ یہ بھی ذکر ہے کہ روز بروز بڑھے گی اور وہ خواہ کتنے ہی اعلیٰ مقام اور اعلیٰ مرتبے تک جا پہنچے اور خواہ ان کو بادشاہت بھی حاصل ہو جائے پھر بھی وہ اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف منسوب کرنے میں ہی فخر محسوس کرے گی۔ پس تَریٰ نَسْلاً بَعِیْدًا کے یہی معنی ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تیری نسل تجھے کبھی اپنی آنکھوں سے اوجھل نہیں کرے گی اور تیری نسل کبھی اپنے دادا کو بھلانے کی کوشش نہیں کرے گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس الہام کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ غموں کا ایک دن اور چار شادی۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ بیشک آپ کی نسل میں سے بعض لوگ مریں گے بھی جیسا کہ خدا تعالیٰ کی سنّت ہے مگر آپ کی نسل کم نہیں ہو گی بلکہ بڑھتی چلی جائے گی۔ اگر ایک مرے گا تو چار پیدا ہوں گے اور جہاں ایک مرے گا اور چار پیدا ہوں گے لازمی بات ہے کہ وہ نسل بڑھتی چلی جائے گی۔

پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عظمت اور آپ کے درجے کی بلندی کا ہمیشہ نشان رہے گی اور ہمیشہ اپنے آپ کو آپ کی طرف منسوب کرنے میں فخر محسوس کرے گی اور جب وہ آپ کی طرف منسوب کرنے میں فخر محسوس کرے گی تو دوسرے لفظوں میں اس کے معنی ہیں کہ وہ اولاد اپنے دادا کی بڑائی اور عظمت کا اقرار کرتی ہے اور دنیا اس اقرار کی عظمت کو تسلیم کرتی ہے۔ (ماخوذ ازخطبات محمود جلد 3صفحہ 605تا 608)

یہ تفصیلی ذکر مَیں نے اس لئے کر دیا کہ یہ بات خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد پر بھی بہت بڑی ذمہ داری ڈالتی ہے کہ اپنی اس ذمہ داری کو بھی سمجھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ ارشاد بھی ہمیشہ ہر وقت سامنے رکھیں کہ ’ہماری طرف منسوب ہو کر پھر ہمیں بدنام نہ کرو‘۔ (مأخوذ از ملفوظات جلد7 صفحہ188)

پس صرف نسل ہونا ہی بڑائی نہیں بلکہ آپ کی تعلیم پر عمل کرنا اور آپ کے ساتھ منسوب ہو کر آپ کی عزت و احترام اور جو مقام ہے اس کو قائم کرنا بھی سب کا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ اس خاندان کو اس کی بھی توفیق عطا فرمائے، ہمیں بھی اس کی توفیق عطا فرمائے۔

جب تقسیم ہند ہوئی ہے، پاکستان بنا ہے اس وقت آپ کو اسی بس میں سفر کرنے کا اعزاز ملا جس میں حضرت امّاں جان اور خاندان کی بعض دوسری خواتین سفر کر رہی تھیں اور پھر لاہور پہنچ کر ابتدائی دنوں میں رتن باغ میں ان کا قیام رہا جہاں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قیام تھا۔ اس کے بعد بھی آپ ہمیشہ لاہور ہی رہیں۔ آپ کی بہت بڑی خصوصیت غریب پروری اور مہمان نوازی تھی اور بڑی بے تکلف طبیعت کی مالک تھیں۔ ان کا گھر جو تھا اکثر مہمانوں سے ہر وقت بھرا رہتا تھا۔ کسی بھی قسم کا کوئی مہمان آ جائے چاہے وہ عزیز رشتے دار ہو، کوئی دوست ہو، غیر ہو، غریب ہو، بہترین طریقے سے اس کی مہمان نوازی کیا کرتی تھیں اور یہ ان میں بہت بڑا وصف تھا اور بڑی عزت و احترام سے پیش آیا کرتی تھیں۔ پھر اسی طرح آپ کا حلقہ بڑا وسیع تھا۔ خاندان کے علاوہ بھی لوگوں سے، جماعت کے ہر فرد سے بڑے وسیع تعلقات تھے۔ جن جن سے ان کا واسطہ پڑا وہ ان کا گرویدہ ہو گیا۔ پھر اسی طرح مالیر کوٹلہ کے جو غیر احمدی رشتے دار تھے ان سے بھی آپ نے ہمیشہ تعلق رکھا اور نبھایا۔ بعض تو عارضی مہمان آتے ہیں۔ پھر مستقل مہمان بھی، خاندان کے افراد بھی، نوجوان لڑکے لڑکیاں جب لاہور میں کالج میں، یونیورسٹیوں میں پڑھتے تھے اور اسی طرح بہت سارے دوسرے بھی میں نے دیکھا ہے آپ کے گھر رہتے تھے اور آپ کی مہمان نوازی باقاعدہ ان کے لئے بھی بڑے کھلے دل کے ساتھ چلتی تھی۔ اور یہ نہیں کہ کوئی (خاص) وقت ہے جب بھی پہنچ جاؤ فوری طور پر مہمان نوازی کے لئے تیار ہوتی تھیں۔ اسی طرح حضرت مصلح موعود کی زندگی کے بہت سارے تاریخی واقعات بھی آپ کے علم میں تھے جو آپ اپنے عزیزوں کو سناتی تھیں اور یہ محفوظ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کشائش عطا فرمائی تو اس کو آپ نے ہمیشہ غریبوں کی خدمت میں، غریبوں کے لئے استعمال کیا۔ بہت سارے بچوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت کئے۔ شادیوں پہ بڑے کھلے دل سے دیا کرتی تھیں۔ اسی طرح اپنے میاں عباس احمد خان صاحب کی وفات کے بعدنظارت تعلیم کی وساطت سے ان کے نام پر ایک مستقل وظیفے کا اجراء آپ نے کیا۔ آپ گر گئی تھیں جس کی وجہ سے ٹانگ میں فریکچر تھا اور اس کی وجہ سے دو تین آپریشن بھی ہوئے۔ کچھ عرصے سے بڑی تکلیف میں تھیں۔ لیکن بڑے صبر اور حوصلے سے برداشت کرتی رہیں۔ اور آخر 31؍ اگست کو اور یکم ستمبر کی درمیانی رات دل کا دورہ پڑا اور اپنے خالق حقیقی کے حضور حاضر ہو گئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

چندوں میں بہترین معیاری چندے دینے والی تھیں۔ اپنا حصہ جائداد، حصہ آمد، حصہ وصیت وغیرہ سارا کچھ اپنی زندگی میں ادا کیا۔ 1958ء سے لے کر 94ء تک ضلع لاہور میں لجنہ کی مختلف حیثیتوں میں آپ کارکن رہیں، سیکرٹری رہیں، خدمت کرتی رہیں۔ ایک زمانے میں لجنہ لاہور کی جنرل سیکرٹری بھی رہی ہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا ہے غریبوں سے بڑی ہمدردی کرنے والی، ان کا خیال رکھنے والی تھیں۔ اور جس طرح مَیں نے ان کو ہر ایک کے خوشی، غم میں اپنا سمجھ کر شریک ہوتے ہوئے دیکھا ہے چاہے وہ غیر ہو، اپنا ہو، کسی اَور کو نہیں دیکھا۔ پھر اگر کسی نے کوئی ایسی بات کی جو ان کو پسند آئی یا ان کی کسی طرح کسی رنگ میں بھی خدمت کی ہے تو اس کو اجر دیتی تھیں۔ منیر حافظ آبادی صاحب قادیان کے ہیں، لکھتے ہیں کہ یہ 1989ء کے جوبلی جلسے میں قادیان آئی تھیں تو منیر حافظ آبادی صاحب کو کچھ خدمت کا موقع ملا تو انہیں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پگڑی کے کپڑے کا تبرک دیا۔ اسی طرح اس دفعہ لوگوں نے، افراد جماعت نے دیکھا ہو گا کہ عالمی بیعت کے وقت مَیں نے ایک مختلف رنگ کا کوٹ پہنا ہوا تھا۔ یہ سبز نہیں تھا ذرا دوسرے رنگ کا تھا۔ یہ کوٹ بھی مجھے انہوں نے بھجوایا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کوٹ تھا جو حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے پاس تھا۔ پھر ان کے حصے میں آیا تو انہوں نے مجھے بھیج دیا کہ یہ میں تمہیں دیتی ہوں۔ پھر یہ ہے کہ خلافت سے تعلق انتہا کا تھا اور بڑا عزت اور احترام کا تعلق تھا۔ ہمیشہ مجھے فون کرتی تھیں۔ اس بات کی بڑی خواہش ظاہر کیا کرتی تھیں کہ بات ہوجائے۔ پھر ہمیشہ ان کو یہ فکر تھی کہ میری اولاد کو بھی اللہ تعالیٰ نیکیوں کی توفیق دے اور آپس میں ایک ہو کے رہیں۔ اللہ کرے کہ ان کی اولاد ہمیشہ ان کی نیکیوں کو بھی جاری رکھنے والی ہو اور آپس میں بھی مل جل کر رہنے والی ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور مغفرت کا سلوک فرمائے۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ نمازکے بعد میں ان کا جنازہ غائب ادا کروں گا۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 4؍ ستمبر 2015ء شہ سرخیاں

    مجھے سینکڑوں خط آتے ہیں جن میں اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم میں اور ہماری اولادوں میں تقویٰ پیدا کرے۔ یہ تبدیلی یقینا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے اور اپنا عہد بیعت نبھانے کے احساس کی وجہ سے ہے۔ اس خواہش نے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کی خشیت اور خوف نے انہیں دنیا کی چیزوں سے بے پرواہ تو کیا ہے لیکن دنیا کی نعمتوں سے وہ محروم نہیں رہے۔ اللہ تعالیٰ انبیاء کو بھی اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے اور ان کے حقیقی ماننے والوں اور تعلیم پر چلنے والوں کو بھی ان دنیاوی نعمتوں سے نوازتا ہے۔ بعض دفعہ بعض عارضی تنگیاں ہوتی ہیں لیکن پھر اللہ تعالیٰ کے فضل ہوتے ہیں اور حالات بہتر ہو جاتے ہیں۔ آج اس زمانے میں اس مضمون کا حقیقی ادراک ہم احمدیوں کو ہے جن کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بھی ہے اور آپؐ کے غلامِ صادق کا زمانہ اور اسوہ بھی ہے۔

    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی حیات طیبہ سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے ایمان افروز واقعات کا تذکرہ۔

    کیا وہ زمانہ تھا کہ ایک مہمان آتا تھا تو آپ اپنا کھانا اسے دے دیتے تھے اور خود فاقہ کرتے تھے اور کہاں آج کہ دنیا کے مختلف ممالک میں ہزاروں لوگ آپ کے دستر خوان سے کھانا کھا رہے ہیں اور یہ بھی انتہا نہیں ہے۔ ابھی تو ان لنگروں نے دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلنا ہے۔ انشاء اللہ۔ لاکھوں لوگوں نے، کروڑوں لوگوں نے آپ کے دستر خوان سے کھانا کھانا ہے۔ اسی طرح لاکھوں اور کروڑوں نے آپ کو ماننے کے بعد تقویٰ میں بھی بڑھنا ہے۔

    ایک لنگر کے نظام کو ہی اگر کوئی غور کرنے والا دیکھ لے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی حالات کو، زمانے کو سامنے رکھے تو یہی آپ کی صداقت کا ایک نشان بن جاتا ہے۔

    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نمونہ ہمیں اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو جب استعمال کریں تو اس کا شکر کریں۔ ایک تو اس کی تسبیح کریں تو ساتھ ہی دین کی حالت کے درد کو بھی محسوس کریں۔ اس کے لئے کوشش کریں کہ کس طرح ہم نے اشاعت دین اور تبلیغ دین میں حصہ ڈالنا ہے۔

    جب انسان کھانا کھاتے ہوئے بِسْمِ اللّٰہ پڑھتا ہے۔ کھانا ختم کر کے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ پڑھتا ہے۔ کپڑا پہنتے ہوئے دعا کرتا ہے، اللہ کو یاد رکھتا ہے تو یہ چیزیں جو انسان خود کر رہا ہوتا ہے اصل میں یہی تسبیح ہے جو ان چیزوں کی طرف سے ہو رہی ہوتی ہے۔

    اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اسلام پر حملہ کرنے والوں کے منہ بند کرنے کے لئے اور اسلام کی خوبصورتی ظاہر کرنے کے لئے بھیجا ہے۔

    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جو علم کلام ہے اسی سے ہم ان لوگوں کا منہ بند کر سکتے ہیں جو آج بھی اسلام پر اعتراض کرتے ہیں۔ اس لئے اس طرف ہمیں توجہ دینی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی تائید میں خود ہی نشانات بھی دکھاتا ہے اور دلائل بھی بتاتا ہے۔

    حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی پھوپھی مکرمہ صاحبزادی امۃ الباری صاحبہ اہلیہ مکرم نواب عباس احمد خان صاحب مرحوم کی وفات۔ مرحومہ کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 04؍ستمبر 2015ء بمطابق 04تبوک 1394 ہجری شمسی،  بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور