حضرت مولانا حکیم نور الدین خلیفۃ المسیح الاوّلؓ

خطبہ جمعہ 13؍ نومبر 2015ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو عشق اور محبت کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تھا اسے ہر وہ احمدی جس نے آپ کے بارے میں کچھ نہ کچھ پڑھا ہو یا سنا ہو جانتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے محض لِلّٰہ عقدِ اخوت اور محبت کی کوئی مثال اگر دی جا سکتی ہے تو وہ حضرت مولانا حکیم نور الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مثال ہے۔ اقرارِ اطاعت کرنے کے بعد اگر اس کے انتہائی معیاری نمونے دکھا کر اس پر قائم رہنے کی مثال کوئی دی جا سکتی ہے تو وہ حضرت مولانا نورالدینؓ کی ہے۔ تمام دنیوی رشتوں سے بڑھ کر بیعت کا حق ادا کرتے ہوئے اگر کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے رشتہ جوڑا تو اس کی اعلیٰ ترین مثال حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی ہے۔ خادمانہ حالت کا بیمثال نمونہ اگر کسی نے قائم کیا تو وہ حضرت حکیم الامّت مولانا نورالدینؓ نے قائم کیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے عجز و انکسار میں اگر ہمیں کوئی انتہائی اعلیٰ مقام پر نظر آتا ہے تو جماعت احمدیہ کی تاریخ میں اس کا بھی اعلیٰ معیار حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے قائم کیا اور پھر امام الزمان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وہ اعزاز پایا جو کسی اور کو نہ مل سکا۔ آپ علیہ السلام نے حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے بارے میں فرمایا کہ ’’چہ خوش بُودے اگر ہر یک زِ اُمّت نورِ دیں بودے‘‘۔ (نشانِ آسمانی روحانی خزائن جلد 4صفحہ411)

پس یہ ایک زبردست اعزاز ہے جو کہ زمانے کے امام نے اپنے ماننے والوں کے لئے ہر چیز کا معیار حضرت مولانا نورالدین کے معیار کو بنا دیا کہ اگر ہر ایک نور الدین بن جائے تو ایک انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت حکیم مولانا نور الدین خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کے بعض واقعات بیان فرمائے ہیں۔ ان واقعات کو پڑھ کر آقا و غلام، مرشد و مرید کے دو طرفہ تعلق اور محبت کے نمونے نظر آتے ہیں۔ عاجزی اور انکساری کے نمونے بھی نظر آتے ہیں۔ اخلاص و وفا کے نمونے بھی نظر آتے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کی قربانیوں کے معیار اور اطاعت کے اعلیٰ ترین نمونے کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا کہ ایک دفعہ جب آپ قادیان آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا مجھے آپ کے متعلق الہام ہوا ہے کہ اگر آپ اپنے وطن گئے تو اپنی عزت کھو بیٹھیں گے۔ اس پر آپ نے وطن واپس جانے تک کا نام تک نہ لیا۔ اس وقت آپ اپنے وطن بھیرہ میں ایک شاندار مکان بنا رہے تھے۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ جب میں بھیرہ گیا ہوں تو میں نے بھی یہ مکان دیکھا تھا۔ اس میں آپ ایک شاندار ہال بنوا رہے تھے تا کہ اس میں بیٹھ کر درس دیں اور مطب بھی کیا کریں۔ حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ موجودہ زمانے کے لحاظ سے (یعنی اس زمانے میں جب یہ بیان ہو رہا ہے) تو وہ مکان زیادہ حیثیت کا نہ تھا لیکن جس زمانے میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ نے قربانی کی تھی اس وقت جماعت کے پاس زیادہ مال نہیں تھا۔ اس وقت اس جیسا مکان بنانا بھی ہر شخص کا کام نہیں تھا۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد کے بعد آپ نے واپس جا کر اس مکان کو دیکھا تک نہیں۔ بعض دوستوں نے کہا بھی کہ آپ ایک دفعہ جا کر مکان تو دیکھ آئیں۔ لیکن آپ نے فرمایا کہ میں نے اسے خدا تعالیٰ کے لئے چھوڑ دیا ہے اب اسے دیکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ (ماخوذ از مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات، انوارالعلوم جلد25 صفحہ 419-420)

پھر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں۔ جب انجمن کے بعض عمائدین اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھنے لگ گئے تھے اور دنیا داری کا رنگ ان پر غالب آ رہا تھا۔ بہت سے معاملات جب انجمن میں پیش ہوتے تو عموماً حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ اور حضرت مصلح موعودؓ کی رائے ایک ہوتی تھی اور بعض دوسرے بڑے سرکردہ ممبران کی مختلف ہوتی تھی۔ بہرحال ایک ایسے ہی موقع پر ایک مجلس میں تعلیم الاسلام ہائی سکول کو بند کرنے کا معاملہ پیش ہوا۔ حضرت مصلح موعودؓ اس کو بند کرنے کے خلاف تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی رائے بھی یہی تھی کہ اس کو بندنہ کیا جائے۔ اس پر بڑی زور دار بحث ہو رہی تھی۔ آخر فیصلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہونا تھا۔ بہرحال اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے ایام میں بعض لوگوں نے کوشش کی کہ اس سکول کو توڑ کر صرف عربی کا ایک مدرسہ قائم رکھا جائے کیونکہ جماعت دو سکولوں کے بوجھ برداشت نہیں کر سکتی اور اس پراتفاق جماعت اتنا زبردست تھا (یعنی وہ جو ممبران تھے)۔ حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں جہاں تک مَیں سمجھتا ہوں شاید ڈیڑھ آدمی سکول کی تائید میں رہ گیا تھا۔ ایک تو حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ تھے اور حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ آدھا مَیں اپنے آپ کو کہتا ہوں کیونکہ اُس وقت میں بچہ تھا لیکن مَیں سمجھتا ہوں کہ جو جوش مجھے اس وقت سکول کے متعلق تھا وہ دیوانگی کی حد تک پہنچا ہوا تھا اور حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ چونکہ ادب کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے بات نہ کرسکتے تھے اس لئے آپ نے مجھے اپنا ذریعہ اور ہتھیار بنایا ہوا تھا۔ وہ مجھے بات بتا دیتے اور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پہنچا دیتا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ہمیں کامیابی عطا کی اور باوجودیکہ بعض جلد باز دوستوں نے قریباً ہم پر کفر کا فتویٰ لگا دیا کہ اگر یہ سکول بندنہ کیا تو گویا کہ تم لوگ کفر کر رہے ہو اور کہا یہ دنیادار لوگ ہیں۔ حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ کو بھی اور حضرت مصلح موعود کو بھی کہنے لگے یہ لوگ دنیادار ہیں کیونکہ انگریزی تعلیم کی تائید کرتے ہیں۔ پھر بھی فیصلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمارے حق میں کیا۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد13صفحہ 480-481)

اس واقعہ سے سکول کے جاری رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں جو باتیں ہیں وہ تو ہیں لیکن حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے بات کرنے کے ادب اور احترام کا بھی پتا چلتا ہے۔ شاید آپ کو یہ بھی خیال ہو کہ معاملہ کو پیش کرتے وقت جوش میں کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ادب کے خلاف ہو۔

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کی فراست کا ذکر کرتے ہوئے، آپ کے ایمان کا ذکر کرتے ہوئے اور یہ بیان کرتے ہوئے کہ قومیں کس طرح بنتی ہیں حضرت مصلح موعودؓ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ افراد سے قومیں بنتی ہیں اور قوموں سے افراد بنتے ہیں۔ اعلیٰ دماغوں کے مالک ذہین اور نیک انسان قوموں کو بہت زیادہ فائدہ پہنچاتے ہیں اور اعلیٰ اور نیک مقاصد اچھے اور ہوشیار لوگوں کے ہاتھ آکر بہت زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ اور پھر یہ بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی جماعت قائم کی۔ آپ کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ نے یہی سلوک کیا کہ آپ کے دعویٰ کے ابتدا میں ہی بعض ایسے افراد آپ علیہ السلام پر ایمان لائے جو کہ ذاتی جوہر کے لحاظ سے بہترین خدمات سرانجام دینے والے تھے اور اس کام میں آپ کی مدد کرنے والے تھے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے سپرد کیا تھا اور ان میں ایک حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل بھی تھے۔ حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ واقعہ میں وہ لوگ بہترین مددگار اور معاون ثابت ہوئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ نبوت سے پہلے ہی حضرت خلیفہ اول مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی توجہ آپ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف پھری اور آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھنی شروع کیں۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعویٰ مسیحیت کیا تو نبوت کے متعلق بعض مضامین اپنی ابتدائی کتب فتح اسلام اور توضیح مرام میں بیان فرمائے۔ ایک شخص نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بدظنی رکھتا تھا ان کتابوں کے پروف کسی طرح دیکھے۔ پریس میں شاید پڑھے ہوں۔ وہ جمّوں گیا اور اس نے کہا آج میں نے مولوی نورالدین صاحب کو مرزا صاحب سے ہٹا دینا ہے۔ اس وقت حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر چکے تھے۔ دعویٔ مسیحیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فتح اسلام اور توضیح مرام کی اشاعت کے زمانے میں کیا جو بیعت سے قریبًا دو سال بعد ہوا اور انہی میں مسئلہ اجرائے نبوت کی بنیاد رکھی۔ جب اس شخص نے آپ کی کتب میں نبوت کے جاری ہونے کے متعلق پڑھا تو اس نے کہا اب تو یقینا مولوی نور الدین صاحب مرزا صاحب کو چھوڑ دیں گے کیونکہ مولوی صاحب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شدید محبت رکھتے ہیں۔ جب وہ یہ سنیں گے کہ مرزا صاحب نے یہ کہا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی نبی آ سکتا ہے تو وہ مرزا صاحب کے مریدنہیں رہیں گے۔ چنانچہ اس شخص نے اپنے ساتھ ایک پارٹی لی، کچھ لوگ لئے اور خراماں خراماں حضرت مولوی صاحب کی طرف چلے۔ جب آپ کے پاس پہنچے تو اس شخص نے حضرت مولوی صاحب سے کہا کہ میں آپ سے ایک بات دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے کہا فرمائیے کیا پوچھنا چاہتے ہیں۔ اس شخص نے کہا کہ اگر کوئی شخص کہے کہ میں اس زمانے کے لئے نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت محمدیہ میں نبوت جاری ہے تو آپ اس کے متعلق کیا خیال کریں گے۔ اس شخص نے تو یہ خیال کیا تھا کہ گویا میں ایک مولوی کے پاس جا رہا ہوں لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ میں ایک مولوی کے پاس نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کے پاس جا رہا ہوں جس سے اللہ تعالیٰ اپنے سلسلے کا کام لینا چاہتا ہے۔ حضرت خلیفہ اوّل نے فرمایا کہ اس سوال کا جواب تو دعویٰ کرنے والے کی حالت پر منحصر ہے کہ آیا وہ اس دعوے کا مستحق ہے یا نہیں۔ اگر یہ دعویٰ کرنے والا انسان راستباز نہ ہو گا تو ہم اسے جھوٹا کہیں گے اور اگر دعویٰ کرنے والا کوئی راستباز انسان ہے تو مَیں یہ سمجھوں گا کہ غلطی میری ہے، حقیقت میں نبی آ سکتا ہے۔ حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ اس شخص نے جب میرا یہ جواب سنا تو وہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ چلو جی اے بالکل خراب ہوگئے۔ اب ان سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ اس پر میں نے اس سے کہا کہ مجھے یہ تو بتا دو کہ بات کیا تھی تو اس نے کہا بات یہ ہے کہ آپ کے مرزا صاحب نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا الہام نازل ہوتا ہے اور میں ایک نبی کے مشابہ ہوں۔ حضرت خلیفہ اول نے اس کی یہ بات سن کر فرمایا کہ بیشک مرزا صاحب نے جو کچھ لکھا ہے وہ درست ہے اور مجھے اس پر ایمان ہے۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 28صفحہ 209-210)

ایک واقعہ جو براہِ راست حضرت خلیفہ اول سے تعلق تو نہیں رکھتا لیکن رکھتا بھی ہے ان کی بہن کا واقعہ ہے جس کو حضرت خلیفہ اول نے ایک پیر صاحب سے سوال جواب کی رہنمائی کی تھی۔ ان کی بہن نے احمدیت قبول کی اور وہ کسی ایک پیر کی مرید تھیں اور پیر نے انہیں بیعت کے بعد ورغلانے کی کوشش کی۔ آج بھی یہی آجکل کے پیروں کا حال ہے۔ اس کو بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک بہن ایک پیر صاحب کی مرید تھیں۔ وہ قادیان میں آئیں۔ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر لی۔ جب واپس گئیں تو ان کے پیر صاحب کہنے لگے کہ تجھے کیا ہو گیا کہ تُو نے مرزا صاحب کی بیعت کر لی۔ معلوم ہوتا ہے کہ نورالدین نے تجھ پر جادو کر دیا ہے۔ وہ آئیں تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انہوں نے اس کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا اگر پھر کبھی پیر صاحب سے ملنے کا اتفاق ہو تو انہیں کہنا کہ آپ کے عمل آپ کے ساتھ ہیں اور میرے عمل میرے ساتھ ہیں۔ میں نے تو مرزا صاحب کو اس لئے مانا ہے کہ اگر آپ کو نہ مانا تو قیامت کے دن مجھے جوتیاں پڑیں گی۔ آپ بتائیں کہ آپ اس دن کیا کریں گے۔ پیر صاحب سے پوچھنا۔ جب وہ واپس گئیں تو انہوں نے پیر صاحب سے یہی بات کہہ دی۔ وہ پیر کہنے لگا کہ یہ نورالدین کی شرارت معلوم ہوتی ہے اسی نے تجھے یہ بات سمجھا کر میرے پاس بھیجا ہے مگر تمہیں اس بارے میں کسی گھبراہٹ کی ضرورت نہیں۔ جب قیامت کا دن آئے گا اور پُل صراط پر سب لوگ اکٹھے ہوں گے تو تمہارے گناہ مَیں خود اٹھا لوں گا اور تم دگڑ دگڑ کرتے ہوئے جنت میں چلے جانا۔ انہوں نے کہا پیر صاحب ہم تو جنت میں چلے گئے پھر آپ کا کیا بنے گا۔ وہ کہنے لگے جب فرشتے میرے پاس آئیں گے تو میں انہیں لال لال آنکھیں دکھا کر کہوں گا کہ کیا ہمارے نانا امام حسین کی شہادت کافی نہیں تھی کہ آج قیامت کے دن ہمیں بھی ستایا جا رہا ہے۔ پس یہ سنتے فرشتے شرمندہ ہو کر دوڑ جائیں گے اور ہم بھی چھلانگیں مارتے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ (ماخوذ از الفضل 27جون 1957ء صفحہ 3جلد46/11نمبر152)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی سادگی اور اطاعت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ہم نے خود حضرت خلیفہ اول کو دیکھا ہے آپ مجلس میں بڑی مسکنت سے بیٹھا کرتے تھے۔ ایک دفعہ مجلس میں شادیوں کا ذکر ہو رہا تھا۔ ڈپٹی محمد شریف صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابی ہیں وہ سناتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول اکڑوں بیٹھے ہوئے تھے یعنی آپ نے اپنے گھٹنے اٹھائے ہوئے تھے اور سر جھکا کر گھٹنوں میں رکھا ہوا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا مولوی صاحب جماعت کے بڑھنے کا ایک ذریعہ کثرت اولاد بھی ہے اس لئے میرا خیال ہے کہ اگر جماعت کے دوست ایک سے زیادہ شادیاں کریں تو اس سے بھی جماعت بڑھ سکتی ہے۔ حضرت خلیفہ اول نے گھٹنوں پر سر اٹھایا اور فرمایا کہ حضور میں تو آپ کا حکم ماننے کے لئے تیار ہوں لیکن اس عمر میں مجھے کوئی شخص اپنی لڑکی دینے کے لئے تیار نہیں ہو گا۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہنس پڑے۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں دیکھو یہ انکسار اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ادب تھا جس کی وجہ سے انہیں یہ رتبہ ملا۔ (ماخوذ از الفضل27 مارچ 1957ء صفحہ 5جلد46/11نمبر74)

آجکل بعض لوگ شادیوں کے شوقین ہیں لیکن وہ اس وجہ سے شوقین نہیں ہوتے۔ اگر تو کوئی جائز وجوہ ہوں تو شادی کرنے کی اجازت ہے۔ لیکن بعض لوگ اپنے گھروں کو برباد کر کے شادیاں کرتے ہیں ان کو اس چیز سے بچنا چاہئے اور اس بارے میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی سختی سے منع فرمایا ہے۔

پھر حضرت خلیفہ اول کی یہ بات بیان کرنے کے بعد حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ ذکر کیا کہ آپ کے بچوں میں سے بعض نے خلافت اور جماعت کے بارے میں غلط رویہ اختیار کیا لیکن اب بھی جماعت آپ کا یعنی حضرت خلیفہ اول کا احترام کرنے پر مجبور ہے اور آپ کے لئے دعائیں کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے دلوں میں اس انکسار اور محبت کی جو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے تھی وہ عظمت ڈالی ہے کہ باوجود اس کے کہ بعض بیٹوں نے غلط رویہّ اختیار کیا پھر بھی ان کے باپ کی محبت ہمارے دلوں سے نہیں جاتی۔ پھر بھی ہم انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند کرے کیونکہ انہوں نے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مانا جب ساری دنیا آپ کی مخالف تھی۔ پس حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا ایک مقام ہے جو ہمیشہ قائم رہے گا۔ (ماخوذ از الفضل 27 مارچ 1957ء صفحہ 5جلد46/11نمبر74)

اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیان کردہ یہ بات کہ جماعت کی تعداد بڑھانے کا ایک ذریعہ کثرت اولاد بھی ہے اس کے بارے میں حضرت مصلح موعود کا یہ بھی بیان ہے جو اُن کے اپنے بارے میں یا حضرت مسیح موعود کی اولاد کے بارے میں ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب ہماری شادیوں کی تجویز فرمائی تو سب سے پہلے یہ سوال کرتے تھے کہ فلاں صاحب کے ہاں کتنی اولاد ہے؟ وہ کتنے بھائی ہیں؟ آگے ان کی کتنی اولاد ہے؟ حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ جس جگہ میاں بشیر احمد صاحب کی شادی کی تحریک ہوئی اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دریافت فرمایا کہ اس خاندان کی کس قدر اولاد ہے اور جب آپ کو معلوم ہوا کہ سات لڑکے ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اَور تمام باتوں پر غور کرنے سے پہلے فرمانے لگے کہ بہت اچھا ہے یہیں شادی کی جائے۔ فرماتے ہیں کہ میری اور میاں بشیر احمد صاحب کی شادی کی تجویزاکٹھی ہی ہوئی تھی۔ ہم دونوں کی شادی کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہی دریافت فرمایا کہ معلوم کیا جائے کہ جہاں رشتے تجویز ہوئے ہیں ان کے ہاں اولاد کتنی ہے۔ کتنے لڑکے ہیں۔ کتنے بھائی ہیں۔ تو جہاں آپ نے اور باتوں کو دیکھا وہاں وُلُوْدًا کو مقدم رکھا۔ حضرت مصلح موعود کہتے ہیں اب بھی بعض لوگ جب مجھ سے مشورہ لیتے ہیں مَیں ان کو یہی مشورہ دیتا ہوں کہ یہ دیکھو جہاں رشتے تجویز ہوئے ہیں ان کے ہاں کتنی اولاد ہے۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد3 صفحہ 396-397)

آجکل کی دنیا میں فیملی پلاننگ پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ لیکن ایسے ممالک جہاں اس پر بہت زور دیا گیا ان میں اب یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ یہ غلط ہے۔ جب انسان قانون قدرت سے لڑنے کی کوشش کرتا ہے تو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ایک لمبے عرصے تک چین نے اپنے شہریوں پر پابندی لگا دی تھی کہ ایک سے زیادہ بچہ نہ ہو ورنہ جرمانہ یا سزا بھی ہو گی اور وہاں ایسے بھی واقعات ہوئے کہ لوگوں نے یا اپنے بچے ضائع کر دئیے یاان کو پیدائش کے وقت مار دیا۔ لیکن اب اس کا احساس ان لوگوں میں پیدا ہوا ہے اور اب انہوں نے اس پابندی کو اٹھایا ہے۔ اور بعض دوسرے ممالک بھی ہیں جہاں یہ پابندی ہے اور اب یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر یہ پابندی جاری رہی تو ان ملکوں میں کچھ عرصے کے بعد افرادی قوت بالکل ختم ہو جائے گی۔ ان کو کام کرنے والے نہیں ملیں گے۔ آئندہ نسل جو ہے اس میں اتنا بڑا گیپ (gap) آ جائے گا کہ بیچ میں اس وقفے کو غیروں کے ذریعہ سے پُر کرنا پڑے گا۔ چنانچہ اب یہ اپنی پالیسیاں بدل رہے ہیں۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کے قانون سے انسان لڑنے کی کوشش کرے اور اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھے۔ اب ان کو یہ فکر پیدا ہو گئی ہے کہ ہماری نسلوں میں ایک نسل سے دوسری نسل تک اتنا خلا پیدا ہو جائے گا کہ اس کو پتا نہیں کس طرح پُر کیا جائے گا اور اس کی وجہ سے پھر قوموں کو نقصان ہو گا۔ بہرحال یہ ضمنی بات بیچ میں آئی۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے اخلاص، عاجزی اور سادگی کا ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ خدمت کے لئے مختلف سامانوں کی ضرورت ہوتی تھی۔ کھانا پکوانے کی ضرورت ہوتی تھی۔ شروع شروع میں جب قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس مہمان آتے تھے سودا وغیرہ لانے کی ضرورت ہوتی تھی اور یہ ظاہر ہے کہ یہ کام صرف ہمارے خاندان کے افرادنہیں کر سکتے تھے۔ اکثر یہی ہوا کرتا تھا کہ جماعت کے افراد مل ملا کر وہ کام کر دیا کرتے تھے۔ اس وقت طریق یہ تھا لنگر خانے کا باقاعدہ انتظام تو نہیں تھا کہ اگر ایندھن آ جاتا اور وہ اندر ڈالنا ہوتا یعنی سٹور میں رکھنا ہوتا تو گھر کی خادمہ آواز دے دیتی کہ ایندھن آیا ہے کوئی آدمی ہے تو وہ آ جائے اور ایندھن اندر ڈال دے۔ آگ جلانے کے لئے جو سامان آیا ہے۔ پانچ سات آدمی جو حاضر ہوتے وہ آ جاتے اور ایندھن اندر ڈال دیتے۔ دو تین دفعہ ایسا ہوا کہ کام کے لئے باہر خادمہ نے آواز دی مگر کوئی آدمی نہ آیا۔ ایک دفعہ لنگر خانے کے لئے اوپلوں کا ایک گڈا آیا۔ (وہ جو جلانے کے لئے اوپلے استعمال کئے جاتے ہیں) بادل بھی آیا ہوا تھا۔ خادمہ نے آواز دی تا کوئی آدمی مل جائے تو وہ اوپلوں کو اندر رکھوا دے مگر اس کی آواز کی طرف کسی نے توجہ نہ کی۔ حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ مَیں نے دیکھا کہ حضرت خلیفہ اول اُس وقت مسجد اقصیٰ سے قرآن کریم کا درس دے کر واپس تشریف لا رہے تھے۔ آپ اس وقت خلیفہ نہیں تھے مگر علم ِدینیات، تقویٰ اور طب کی وجہ سے آپ کو جماعت میں ایک خاص پوزیشن حاصل تھی اور لوگوں پر آپ کا بہت اثر تھا۔ آپ درس سے فارغ ہو کر گھر جا رہے تھے کہ خادمہ نے آواز دی اور کہا کہ کوئی آدمی ہے تو وہ آ جائے۔ بارش ہونے والی ہے ذرا اوپلے اٹھا کر اندر ڈال دے۔ لیکن کسی نے توجہ نہ کی۔ آپ نے جب دیکھا کہ خادمہ کی آواز کی طرف کسی نے توجہ نہیں کی تو آپ نے فرمایا اچھا آج ہم ہی آدمی بن جاتے ہیں۔ یہ کہہ کر آپ نے اوپلے اٹھائے اور اندر ڈالنے شروع کر دئیے۔ ظاہر ہے کہ جب شاگرد استاد کو اوپلے اٹھاتے دیکھے گا تو وہ بھی اس کے ساتھ ہی وہی کام شروع کر دے گا۔ چنانچہ اور لوگ بھی آپ کے ساتھ شامل ہو گئے۔ کام کرنے لگے اور اوپلے اندر ڈال دئیے۔ حضرت مصلح موعود کہتے ہیں مجھے یاد ہے مَیں نے دو تین مختلف مواقع پر آپ کو ایسا کرتے دیکھا اور جب بھی آپ ایسے اٹھانے لگتے اَور لوگ بھی آپ کے ساتھ شامل ہو جاتے۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 29 صفحہ 326-327)

پھر حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جو عشق تھا اس کی مثال دیتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادت تھی جب آپ بہت خوش ہوتے اور محبت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ذکر کرتے تو مرزا کا لفظ استعمال کرتے اور فرماتے کہ ’ہمارے مرزا‘ کی یہ بات ہے۔ ابتدائی ایام میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ابھی دعویٰ نہیں تھا چونکہ آپ کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعلقات تھے اسی لئے اس وقت سے یہ لفظ آپ کی زبان پر چڑھے ہوئے تھے۔ کئی نادان اس وقت اعتراض کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ حضرت مولوی صاحب کے دل میں نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ادب نہیں ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں آپ کو یعنی خلیفہ اوّل کو لوگ عام طور پر مولوی صاحب یا بڑے مولوی صاحب کہا کرتے تھے۔ حضرت مصلح موعود کہتے ہیں میں نے خود کئی دفعہ یہ اعتراض لوگوں کے منہ سے سنا ہے اور حضرت مولوی صاحب کو اس کا جواب دیتے ہوئے بھی سنا ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ اسی مسجد میں (یعنی مسجد اقصیٰ میں ) حضرت خلیفہ اول جبکہ درس دے رہے تھے آپ نے فرمایا بعض لوگ مجھ پر اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ادب نہیں کرتا حالانکہ میں محبت اور پیار کی شدت کی وجہ سے یہ لفظ بولا کرتا ہوں۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ظاہری الفاظ کو نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ ان الفاظ کے اندر حقیقت جو مخفی ہو اس کو دیکھنا چاہئے۔ (ماخوذ از الفضل 30 جون 1938ء صفحہ 3جلد26 نمبر147)

پھر دوطرفہ اخلاص و محبت کی ایک اور مثال ہے۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں حضرت خلیفۃ المسیح الاول میں جس قدر اخلاص تھا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ لیکن انہیں تیز چلنے کی عادت نہیں تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب سیر کے لئے تشریف لے جاتے تو حضرت خلیفۃ المسیح الاول بھی ساتھ ہوتے مگر تھوڑی دُور چل کر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تیز قدم کر لینے تو حضرت خلیفہ اول نے قصبہ کے مشرقی طرف باہر ایک بَڑ کا درخت تھا اس کے نیچے بیٹھ جانا۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سیر سے واپس آنا تو پھر آپ کے ساتھ ہو لینا۔ کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ذکر کیا کہ حضرت مولوی صاحب سیر کے لئے نہیں جاتے۔ آپ نے فرمایا وہ تو روز جاتے ہیں۔ اس پر آپ کو بتایا گیا کہ وہ سیر کے لئے ساتھ تو چلتے ہیں لیکن پھر بڑ کے نیچے بیٹھ جاتے ہیں اور واپسی پر ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ حضرت خلیفہ اول کو اپنے ساتھ سیر میں رکھتے اور جب آپ نے تیز ہو جانا اور حضرت خلیفہ اوّل نے بہت پیچھے رہ جانا تو آپ نے چلتے چلتے ٹھہر جانا اور فرمانا مولوی صاحب فلاں بات کس طرح ہے۔ مولوی صاحب تیز تیز چل کر آپ کے پاس پہنچتے اور ساتھ چل پڑتے تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھوڑی دیر کے بعد پھر تیز چلنا شروع کرتے آگے نکل جاتے تھوڑی دور جا کر پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٹھہر جاتے اور فرماتے مولوی صاحب فلاں بات اس اس طرح ہے۔ مختلف باتیں ہوتیں۔ مولوی صاحب پھر تیزی سے آپ کے پاس پہنچتے اور تیز تیز چلنے کی وجہ سے ہانپنے لگ جاتے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام آپ کو اپنے ساتھ رکھتے۔ تیس چالیس گز چل کر مولوی صاحب پیچھے رہ جاتے اور آپ پھر کوئی بات کہہ کر مولوی صاحب کو مخاطب فرماتے اور وہ تیزی سے آپ سے آ کر مل جاتے۔ حضرت مسیح موعود کی غرض یہ تھی کہ اس طرح مولوی صاحب کو تیز چلنے کی عادت ہو جائے۔ یہ صرف تیز چلنے کی مشق نہ ہونے کا نتیجہ تھا کہ مولوی صاحب آہستہ چلتے تھے۔ چونکہ طب کا پیشہ ایسا ہے کہ اس میں عموماً انسان کو بیٹھا رہنا پڑتا ہے اور اگر باہر کسی مریض کو دیکھنے کے لئے جانے کا اتفاق ہو تو سواری موجود ہوتی ہے اس لئے حضرت خلیفۃ المسیح الاول کو تیز چلنے کی مشق نہ تھی ورنہ اخلاص آپ میں جس قدر تھا اس کے متعلق خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ’’چہ خوش بُودے اگر ہر یک زِ اُمّت نور دیں بودے‘‘۔ (ماخوذ از تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت، انوارالعلوم جلد 14صفحہ 126-127)

پھر ایک اور مثال ہے جس سے حضرت خلیفہ اول کا اخلاص بھی ظاہر ہوتا ہے اور توکّل بھی۔ حضرت مصلح موعود بیان کرتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ مطب میں بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دلّی میں تھے۔ وہاں حضرت میر صاحب سخت بیمار ہو گئے۔ قولنج کا اتنا سخت حملہ ہوا کہ ڈاکٹروں نے کہا کہ آپریشن ہونا چاہئے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ بعض یونانی دواؤں سے بغیر آپریشن کے بھی آرام ہو جاتا ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تار دے دیا کہ جس حالت میں بھی ہوں آ جائیں۔ آپ مطب میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کوٹ بھی نہیں پہنا ہوا تھا، پیسے بھی پاس نہ تھے۔ آپ نے غالباً حکیم غلام محمد صاحب مرحوم امرتسری کو ساتھ لیا اور اسی طرح اٹھ کر چل پڑے۔ حکیم غلام محمد صاحب نے کہا کہ میں گھر سے پیسے وغیرہ لے آؤں مگر آپ نے کہا کہ نہیں حکم یہی ہے کہ جس حالت میں ہو چلے آؤ۔ سب لوگ جانتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول چلنے میں کمزور تھے جیسا پہلے واقعہ بیان ہو چکا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کو جاتے تو آپ پیچھے رہ جاتے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کھڑے ہو کر فرماتے کہ مولوی صاحب کہاں ہیں اور حضرت خلیفہ اول بعد میں آکر ملتے۔ اس طرح پھر پیچھے رہ جاتے۔ پھر کھڑے ہو کر انتظار فرماتے جیساکہ میں نے واقعہ سنایا۔ مگر آپ غالباً حکیم غلام محمد صاحب کو ساتھ لے کر پیدل بٹالہ پہنچے۔ سٹیشن پر جا کر بیٹھے۔ چلنے میں کمزور تھے لیکن اس کے باوجود کیونکہ حکم آیا کہ فوراً پہنچو اسی طرح پیدل چل کر بٹالہ پہنچ گئے۔ اب دیکھیں یہ اخلاص اور اطاعت ہے کہ زیادہ چلنے میں آپ کو دقّت ہوتی تھی لیکن حکم ہوا تو بٹالے تک تقریباً گیارہ میل کا فاصلہ پیدل پہنچے ہیں۔ حکیم صاحب نے کہا کہ اب کرائے وغیرہ کا کیا انتظام ہو گا۔ حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ یہاں بیٹھو اللہ تعالیٰ خود ہی کوئی انتظام کر دے گا۔ توکّل کی یہ مثال ہے۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور دریافت کیا کہ کیا آپ حکیم نور الدین صاحب ہیں۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ وہ شخص کہنے لگا کہ ابھی گاڑی آنے میں دس پندرہ منٹ باتی ہیں اور میں نے سٹیشن ماسٹر سے کہہ بھی دیا ہے کہ وہ آپ کا انتظار کرے۔ مَیں بٹالے کا تحصیل دار ہوں میری بیوی بہت سخت بیمار ہے آپ ذرا چل کر اسے دیکھ آئیں۔ آپ گئے، مریضہ کو دیکھ کر نسخہ لکھا اور سٹیشن پر واپس آ گئے۔ وہ شخص تحصیل دار بھی ساتھ آیا اور کہا کہ آپ چل کر گاڑی میں بیٹھیں مَیں ٹکٹ لے کر آتا ہوں اور وہ سیکنڈ کلاس کا ایک ٹکٹ اور ایک تھرڈ کلاس کا لے آیا اور ساتھ پچاس روپے نقد دئیے اور کہا کہ یہ حقیر ہدیہ ہے اسے قبول فرمائیں۔ آپ دہلی پہنچے اور جا کر میر ناصر نواب صاحب کا علاج کیا۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ یہ صحیح توکل کا مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ میرے بندے کا توکّل صحیح ہے یا نہیں۔ ممکن ہے اس آزمائش کے لئے بعض دفعہ وہ فاقے بھی دے۔ توکّل میں یہ نہیں ہوتا کہ ہر دفعہ پورا ہو جائے۔ بعض دفعہ آزمائش آتی ہے۔ فاقے بھی ہوتے ہیں۔ ننگا بھی کر دے۔ موت کے قریب کر دے تا بندوں کو بتائے کہ میرے اس بندے کا انحصار توکّل پر ہے۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ لنگوٹی باندھنی پڑتی ہے، دھجیاں لٹکنے لگتی ہیں اور بعض کو اس کی مدد کے لئے اس طرح ننگا دکھا کر الہام کرتا ہے۔ بعض کو لفظی الہام سے بھی مدد کا حکم دیتا ہے مگر بعض کو اس کی حالت دکھا کر تحریک کرتا ہے۔ مگر توکّل کے صحیح مقام پر جو لوگ ہوتے ہیں وہ کسی سے منہ سے مانگتے نہیں۔ (ماخوذ از الفضل 8 نومبر 1939ء صفحہ 7-6 جلد 27 نمبر 256)

اللہ تعالیٰ لوگوں کی توجہ اس طرف پھیر دیتا ہے اور انتظام کر دیتا ہے لیکن وہ خود جن کو اللہ پہ توکّل ہوتا ہے وہ خود کسی کے پاس نہیں جاتے بلکہ اللہ تعالیٰ ان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے خود بھیجتا ہے۔ تو یہ توکّل کا بہت اعلیٰ مقام ہے جو آپ کو حاصل تھا۔

ایک جگہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا جو مقام تھا بہت بالا مقام تھا، بہت بلند مقام تھا، بڑے ولی اللہ تھے لیکن اس میں غلو بھی نہیں ہونا چاہئے۔ یہ نہ ہو کہ اس کو اتنا بڑھا دو کہ انتہائی ایسے مقام پر لے جاؤ جہاں مبالغہ ہونا شروع ہو جائے۔ آپ فرماتے ہیں حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کی اولاد میں سے بعض نے مبالغہ کرنے کی کوشش کی اور بعض غیر مبائع بھی مبالغہ کرتے ہیں۔ لیکن غیر مبائعین جو ہیں یہ آپ کی محبت میں نہیں کرتے بلکہ ان کا مقصد تو اپنا مقصد حاصل کرنا ہے۔ لیکن حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سچائی کے اظہار سے بھی نہیں رکنا چاہئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سچائی کا اظہار بھی کیا ہے اور آپ کے مقام کو بھی بلند کیا ہے۔ چنانچہ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ بیشک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بڑی تعریف فرمائی۔ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کی بڑی تعریف فرمائی۔ مگر قرآن اس لئے نہیں اترا تھا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عزت قائم کی جائے۔ نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں یہ کہیں ذکر آتا ہے کہ ہم نے تجھے اس لئے مبعوث کیا ہے کہ تُو نور الدین کی عزت قائم کرے۔ ہاں جو سچائی اور حقیقت تھی اس کا آپ نے اظہار کر دیا۔ مثلاً آپ نے فرمایا ’’چہ خوش بُودے اگر ہر یک ز ِاُمّت نورِ دیں بودے‘‘۔ مگر یہ تو ایک سچائی ہے جو کہنی چاہئے تھی۔ حضرت خلیفہ اول نے بڑی قربانیاں کی ہیں۔ اب جس نے قربانی کی ہو اس کی قربانی کا اظہار نہ کرنا ناشکری ہوتی ہے۔ حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ ایک مریض آیا اور اس نے ذکر کیا کہ مولوی صاحب سے مَیں نے علاج کروایا تھا جس سے مجھے بڑا فائدہ ہوا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُس دن بیمار تھے مگر جب آپ نے یہ بات سنی تو آپ اسی وقت اٹھ کر بیٹھ گئے اور حضرت امّاں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمانے لگے کہ اللہ تعالیٰ ہی مولوی صاحب کو تحریک کر کے یہاں لایا ہے اور اب ہزاروں لوگ ان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اگر مولوی صاحب یہاں نہ آتے تو ان لوگوں کا کس طرح علاج ہوتا۔ پس مولوی صاحب کا وجود بھی خدا تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے۔ یہ شکر گزاری تھی لیکن غلو نہیں تھا۔ (ماخوذ از الفضل 2اگست 1956ء صفحہ 2جلد45/10نمبر179)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی عاجزی کی جو انتہا تھی اس کا ذکر ایک صحابی کے حوالے سے حضرت مصلح موعودنے کیا ہے۔ ایک صحابی کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملنے کے لئے آیا آپ مسجد مبارک میں بیٹھے تھے اور دروازے کے پاس جوتیاں پڑی تھیں۔ ایک آدمی سیدھے سادے کپڑوں والا آ گیا اور آ کر جوتیوں میں بیٹھ گیا۔ یہ صحابی کہتے ہیں کہ میں نے سمجھا کہ یہ کوئی جوتی چور ہے۔ چنانچہ میں نے اپنی جوتیوں کی نگرانی شروع کر دی کہیں وہ لے کر بھاگ نہ جائے۔ کہنے لگے اس کے کچھ عرصے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فوت ہو گئے اور میں نے سنا کہ آپ کی جگہ کوئی اور شخص خلیفہ بن گیا ہے اس پر میں بیعت کرنے کے لئے آیا۔ جب میں نے بیعت کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ وہی شخص تھا جس کو میں نے اپنی بیوقوفی سے جوتی چور سمجھا تھا (یعنی حضرت خلیفہ اول) اور میں اپنے دل میں سخت شرمندہ ہوا۔ آپ کی عادت تھی کہ آپ جوتیوں میں آ کر بیٹھ جاتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام آواز دیتے تو آپ ذرا آگے آ جاتے۔ پھر جب کہتے کہ مولوی نورالدین صاحب نہیں آئے تو پھر کچھ اور آگے آ جاتے۔ اس طرح بار بار کہنے کے بعد کہیں وہ آگے آتے تھے۔ تو یہ صحابی پھر بیان کرتے ہیں کہ میں ان کی اولاد کو بھی کہا کرتا تھا کہ یہ مقام جو انہوں نے حاصل کیا اس طرح عاجزی سے حاصل کیا تھا۔ (ماخوذ از الفضل27مارچ 1957ء صفحہ 5جلد 46/11نمبر74)

بہرحال یہ تو تھی آپ کی عاجزی، اس شخص کی عاجزی جو علم و معرفت میں بھی انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔ جو ہندوستان کے چوٹی کے حکماء میں سے تھا۔ جس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بہت بڑے عظیم اعزاز سے نوازا۔ لیکن ان سب باتوں نے آپ کو عجز میں اور زیادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرماتا چلا جائے اور آپ کے نام پر فساد پیدا کرنے والوں کو بھی عقل دے اور سمجھ دے اور ہمیں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش کے مطابق اس نمونے سے سبق حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آج ماریشس کا جلسہ سالانہ بھی ہو رہا ہے اور ماریشس میں جماعت احمدیہ کو قائم ہوئے ایک سو سال ہو چکے ہیں۔ وہ اپنی سینٹنری (centenary) منا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کا یہ جلسہ بھی ہر لحاظ سے بابرکت کرے اور یہ سو سال آئندہ وہاں نئی ترقیات کا پیش خیمہ ثابت ہوں اور نئے سے نئے منصوبے کریں وہاں بعض فسادی لوگ بھی ہیں اللہ تعالیٰ ان سے بھی جماعت کو محفوظ رکھے اور ہر شر سے بچائے اور ہر لحاظ سے جلسے کو اور ان کے پروگراموں کو بابرکت فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 13؍ نومبر 2015ء شہ سرخیاں

    حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو عشق اور محبت کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تھا اسے ہر وہ احمدی جس نے آپ کے بارے میں کچھ نہ کچھ پڑھا ہو یا سنا ہو جانتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے محض لِلّٰہ عقدِ اخوت اور محبت کی کوئی مثال اگر دی جا سکتی ہے تو وہ حضرت مولانا حکیم نور الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مثال ہے۔ اقرارِ اطاعت کرنے کے بعد اگر اس کے انتہائی معیاری نمونے دکھا کر اس پر قائم رہنے کی مثال کوئی دی جاسکتی ہے تو وہ حضرت مولانا نورالدینؓ کی ہے۔ تمام دنیوی رشتوں سے بڑھ کر بیعت کا حق ادا کرتے ہوئے اگر کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے رشتہ جوڑا تو اس کی اعلیٰ ترین مثال حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی ہے۔ خادمانہ حالت کا بیمثال نمونہ اگر کسی نے قائم کیا تو وہ حضرت حکیم الامّت مولانا نورالدینؓ نے قائم کیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے عجز و انکسار میں اگر ہمیں کوئی انتہائی اعلیٰ مقام پر نظر آتا ہے تو جماعت احمدیہ کی تاریخ میں اس کا بھی اعلیٰ معیار حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے قائم کیا اور پھر امام الزمان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وہ اعزاز پایا جو کسی اور کو نہ مل سکا۔ آپ علیہ السلام نے حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے بارے میں فرمایا کہ ’’چہ خوش بُودے اگر ہر یک زِ اُمّت نورِ دیں بودے‘‘۔ پس یہ ایک زبردست اعزاز ہے جو کہ زمانے کے امام نے اپنے ماننے والوں کے لئے ہر چیز کا معیار حضرت مولانا نورالدینؓ کے معیار کو بنا دیا کہ اگر ہر ایک نور الدین بن جائے تو ایک انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔

    حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے محبت و اطاعت، اخلاص و وفا، عجزوانکسار، فہم و فراست، سادگی اور توکّل جیسے اخلاق فاضلہ کا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی بیان فرمودہ روایات کے حوالہ سے ایمان افروز تذکرہ۔

    آج ماریشس کا جلسہ سالانہ بھی ہو رہا ہے اور ماریشس میں جماعت احمدیہ کو قائم ہوئے ایک سو سال ہو چکے ہیں۔ وہ اپنی سینٹنری (centenary) منا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کا یہ جلسہ بھی ہر لحاظ سے بابرکت کرے اور یہ سو سال آئندہ وہاں نئی ترقیات کا پیش خیمہ ثابت ہوں اور نئے سے نئے منصوبے کریں وہاں بعض فسادی لوگ بھی ہیں اللہ تعالیٰ ان سے بھی جماعت کو محفوظ رکھے اور ہر شر سے بچائے اور ہر لحاظ سے جلسے کو اور ان کے پروگراموں کو بابرکت فرمائے۔

    فرمودہ مورخہ 13؍نومبر 2015ء بمطابق 13؍نبوت 1394 ہجری شمسی،  بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور