خداتعالیٰ کی رضا کے حصول کیلئے قربانی۔ تحریک جدید کا نیا سال

خطبہ جمعہ 6؍ نومبر 2015ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّحَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۔ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْئٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ (آل عمران: 93) تم ہرگز نیکی کو پا نہیں سکو گے یہاں تک کہ تم ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن سے تم محبت کرتے ہو اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو تو یقینا اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔

ہر مومن کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ نیکی کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مومنین کو یہ توجہ دلائی کہ اگر تم نیکی کرنے کی خواہش رکھتے ہو تا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکو تو یاد رکھو کہ نیکی قربانی کو چاہتی ہے۔ پس خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے قربانی کرو۔ اس چیز کی قربانی کرو جو تمہیں بہت زیادہ عزیز ہے۔ اس چیز کی قربانی کرو جس سے تم فائدہ اٹھا رہے، ہو نفع حاصل کر رہے ہو۔ اس چیز کی قربانی کرو جو تمہیں آرام اور سہولت مہیا کر رہی ہے۔ اس چیز کی قربانی کرو جو بظاہر تمہاری نسلوں کے مستقبل کو سنوارنے کا بھی تمہارے نزدیک ذریعہ ہے۔ پس یہ تمام قسم کی قربانیاں کوئی معمولی قربانیاں نہیں ہے۔ مال تو ہمیشہ انسان کو پیارا رہا ہے۔ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے کہ سونا چاندی جانور جائیداد کھیت باغات یہ سب انسان کو بہت پیارے ہیں اور انسان کے لئے فخر کا باعث ہیں۔ یہ ان پر فخر کرتا ہے۔ لیکن آجکل کے مادّی دور میں جبکہ نئی ٹیکنالوجی نے دنیا کے مختلف ممالک میں رہنے والے انسانوں کو نہ صرف بہت قریب کر دیا ہے بلکہ اس ٹیکنالوجی اور معاشی نظام نے خواہشات کو بھی بہت بڑھا دیا ہے۔ قطع نظر اس کے کہ کسی کے پاس وافر دولت ہے یا نہیں خواہشات کی بھڑک اور روپے سے محبت اور اس کے حصول کے لئے کوشش انتہا تک پہنچی ہوئی ہے تا کہ ان تمام سہولتوں سے فائدہ اٹھایا جائے اور تمام عیاشی کی چیزوں تک پہنچ ہو جو دنیا میں کسی بھی ملک میں میسر ہیں۔ خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک میں تو اس کی انتہا ہوئی ہوئی ہے۔ اگر خدانخواستہ ان ملکوں کے حالات خراب ہوئے یا جنگ کی صورتحال ہوئی تو جو حالت یہاں کے رہنے والوں کی ہو گی وہ تصور سے باہر ہے۔ بہرحال یہ تو ضمنی بات تھی لیکن ہر طبقے میں دولت سے محبت اور ضرورتِ زندگی کے نام پر نئی سے نئی چیز کی خواہش انتہا پر پہنچی ہوئی ہے اور میڈیا کی وجہ سے اور تجارتوں کی وسعت کی وجہ سے غریب یا کم ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ملکوں میں رہنے والوں کو بھی ان سہولتوں کا علم ہے جو ترقی یافتہ ممالک میں ہیں اور ان ملکوں میں بھی اگر بہت غریب نہ سہی تو کم از کم اوسط درجے کے شہریوں کی خواہشات اور ترجیحات نئی سے نئی چیزیں حاصل کرنے کی طرف ہو گئی ہیں۔ بہرحال مادّیت اپنے عروج پر ہے۔ ایسے حالات میں یہ باتیں کرنا عام دنیادار کے لئے عجیب سی بات ہے کہ نیکی کے حصول کے لئے ان چیزوں کو خرچ کرو جن سے تمہیں محبت ہے۔ اپنی خواہشات کو قربان کرو، اپنی سہولتوں کو قربان کرو۔ اور ایک دنیا دار یہی کہے گا کہ یہ پرانے زمانے کی فرسودہ باتیں ہیں یا یہی کہے گا کہ ٹھیک ہے تم غریبوں کے لئے خرچ کرو۔ ان کی کچھ مدد کر دو۔ کچھ چیریٹی میں دے دو۔ لیکن یہ کہنا کہ جو چیز تمہیں سب سے زیادہ محبوب ہے اسے خرچ کرو، اپنی خواہشات کو کچل دو اور دوسروں کی خواہشات کے لئے قربانی کرو یا دین کے لئے قربانی کرو یہ عجیب مضحکہ خیز بات ہے۔

لیکن دنیا کو پتا نہیں کہ اس زمانے میں بھی ایسے لوگ ہیں جو قرآن کریم کی اس تعلیم کا ادراک رکھتے ہیں۔ اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس زمانے میں بھی ایسے لوگ ہیں جواَلْبِرّ کے حصول کی کوشش کرتے ہیں یعنی ایسی نیکی کی کوشش کرتے ہیں جو دوسروں کے لئے قربانی کی انتہا ہے۔ اس نیکی کی کوشش کرتے ہیں جو دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہر وقت بے چین رکھتی ہے۔ اس نیکی کی کوشش کرتے ہیں جو دین کے پھیلانے کے لئے اپنے مال جان اور وقت قربان کرنے کے معیار قائم کرتی ہے۔ اس نیکی کی کوشش کرتے ہیں جو اطاعت میں بڑھاتی ہے اور اس اطاعت پر عمل کرنے کے لئے یہ نہیں دیکھتے کہ مجھے کیا چیز پیاری ہے۔ اس وقت سب سے پیاری چیز صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت ہے۔ اس نیکی کی کوشش کرتے ہیں جو تقویٰ میں بڑھانے والی ہو۔ دنیا کا بہت سا حصہ نہیں جانتا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق اور زمانے کے امام سے جڑ کر حقیقی نیکی کو پانے کا اِدراک حاصل کیا۔ جنہوں نے نیکی کو پانے کے لئے نیکی کے ان روشن میناروں سے صحیح راستوں کی راہنمائی حاصل کی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض پانے والے تھے۔ جن کی قربانیوں کے معیار بھی عجیب تھے۔

ایک حدیث میں آتا ہے جب یہ آیت اتری کہ لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّحَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ تو حضرت ابوطلحہ انصاریؓ جو مدینے کے انصار میں سے مالدار شخص تھے۔ ان کے کھجوروں کے باغات تھے جن میں سے سب سے زیادہ عمدہ باغ بیروحاء کے نام کا ایک باغ تھا اور یہ حضرت ابوطلحہؓ کو بہت پسند تھا اور یہ مسجدنبوی کے بھی بالکل قریب تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس باغ میں اکثر جاتے تھے۔ بہرحال اس آیت کے نازل ہونے پر حضرت ابوطلحہؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میری سب سے پیاری جائیداد بیروحاء کا باغ ہے۔ مَیں اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیتا ہوں۔ (صحیح البخای کتاب التفسیر باب لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون حدیث نمبر 4554)

تو یہ وہ لوگ ہیں جو روشن ستارے تھے اور نیکیوں کے راستے متعین کرنے والے تھے۔ پس ان صحابہ کی مثالیں دیتے ہوئے ہمیں اس زمانے کے امام نے بار بار توجہ دلائی۔ آپ علیہ السلام نے اپنے متعدد ارشادات میں قرآن کریم کی تعلیمات اور احکامات کو کھول کر بیان کیا۔ نیکیوں کے حصول کا فہم و ادراک دیا۔ قربانیوں کے معیاروں کے بارے میں بتایا۔ ان نمونوں پر قائم ہونے کی تلقین فرمائی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے قائم فرمائے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ مسیح موعود کے ماننے والوں کے لئے ان نمونوں کو اپنانا ضروری ہے۔ چنانچہ ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:

’’بیکار اور نکمّی چیزوں کے خرچ سے کوئی آدمی نیکی کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ نیکی کا دروازہ تنگ ہے۔ پس یہ امر ذہن نشین کر لو کہ نکمّی چیزوں کے خرچ کرنے سے کوئی اس میں داخل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ نصّ صریح ہے لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّحَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ (آل عمران: 93)  جب تک عزیز سے عزیز اور پیاری سے پیاری چیزوں کو خرچ نہ کرو گے اُس وقت تک محبوب اور عزیز ہونے کا درجہ نہیں مل سکتا۔ اگر تکلیف اٹھانا نہیں چاہتے اور حقیقی نیکی کو اختیار کرنا نہیں چاہتے تو کیونکر کامیاب اور بامراد ہو سکتے ہو؟ کیا صحابہ کرامؓ مفت میں اس درجے تک پہنچ گئے جو اُن کو حاصل ہوا۔ دنیاوی خطابوں کے حاصل کرنے کے لئے کس قدر اخراجات اور تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی ہیں تب کہیں جا کر ایک معمولی خطاب جس سے دلی اطمینان اور سکینت حاصل نہیں ہو سکتی ملتا ہے۔ پھر خیال کرو کہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ کا خطاب جو دل کو تسلی اور قلب کو اطمینان اور مولیٰ کریم کی رضا مندی کا نشان ہے کیا یونہی آسانی سے مل گیا؟ بات یہ ہے کہ خداتعالیٰ کی رضا مندی جو حقیقی خوشی کا موجب ہے حاصل نہیں ہو سکتی جب تک عارضی تکلیفیں برداشت نہ کی جاویں۔ خدا ٹھگا نہیں جاسکتا۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو رضائے الٰہی کے حصول کے لئے تکلیف کی پروا نہ کریں کیونکہ ابدی خوشی اور دائمی آرام کی روشنی اس عارضی تکلیف کے بعد مومن کو ملتی ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ 75,76۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر ایک مجلس میں احباب جماعت کو نصیحت فرماتے ہوئے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ:

’’دنیا میں انسان مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے۔ اسی واسطے علم تعبیر الرؤیاء میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص دیکھے (خواب میں دیکھے) کہ اس نے جگر نکال کر کسی کو دے دیا ہے تو اس سے مراد مال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی اتّقاء اور ایمان کے حصول کے لیے فرمایا لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّحَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ (آل عمران: 93)  حقیقی نیکی کو ہرگز نہ پاؤ گے جب تک تم عزیز ترین چیز نہ خرچ کرو گے۔ کیونکہ مخلوقِ الٰہی کے ساتھ ہمدردی اور سلوک کا ایک بڑا حصہ مال کے خرچ کرنے کی ضرورت بتلاتا ہے اور ابنائے جنس اور مخلوقِ خدا کی ہمدردی ایک ایسی شئے ہے جو ایمان کا دوسرا جُزو ہے جس کے بِدُوں ایمان کامل اور راسخ نہیں ہوتا۔ جب تک انسان ایثار نہ کرے دوسرے کو نفع کیونکر پہنچا سکتا ہے۔ دوسرے کی نفع رسانی اور ہمدردی کے لئے ایثار ضروری شئے ہے اور اس آیت لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّحَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ میں اسی ایثار کی تعلیم اور ہدایت فرمائی گئی ہے۔ پس مال کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا بھی انسان کی سعادت اور تقویٰ شعاری کا معیار اور محک ہے۔ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ کی زندگی میں للّٰہی وقف کا معیار اور محک وہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضرورت بیان کی اور وہ کُل اَثاثُ البیت لے کر حاضر ہوگئے۔‘‘ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 95-96۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو جماعت پیدا کی اس نے صرف یہ نہیں کیا کہ ان باتوں کو صرف سن لیا اور منہ دوسری طرف کر لیا اور توجہ پھیر لی بلکہ ان باتوں کو سننے کے بعد قربانیوں کے معیار بھی قائم کئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود بھی کئی جگہ، کئی مجالس میں اس بات کا ذکر فرمایا ہے۔

ایک موقع پر آپؑ نے جماعت کے معیار قربانی کو دیکھتے ہوئے فرمایا کہ ’’مَیں دیکھتا ہوں کہ صدہا لوگ ایسے بھی ہماری جماعت میں شامل ہیں جن کے بدن پر مشکل سے لباس بھی ہوتا ہے۔ مشکل سے چادر یا پاجامہ بھی ان کو میسر آتا ہے۔ ان کی کوئی جائیدادنہیں مگر ان کے لا انتہا اخلاص اور ارادت سے، محبت اور وفا سے طبیعت میں ایک حیرانی اور تعجب پیدا ہوتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد دہم صفحہ 306۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر ایک موقع پر آپ نے فرمایا: ’’جو کچھ ترقی اور تبدیلی ہماری جماعت میں پائی جاتی ہے وہ زمانہ بھر میں اِس وقت کسی دوسرے میں نہیں ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد دہم صفحہ 243۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس آپ سے براہ راست فیض پانے والوں نے یہ مقام حاصل کیا اور آپ سے خوشنودی کی سند حاصل کی۔ لیکن کیا یہ اخلاص و وفا وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہو گیا۔ یقینا نہیں۔ جیسا کہ مَیں نے کہا کہ آج بھی ایسے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں مَردوں میں سے بھی، عورتوں میں سے بھی اور بچوں میں سے بھی ہیں جو اخلاص و وفا میں بڑھے ہوئے ہیں۔ چند ایک اور چند مخصوص جگہوں پر نہیں بلکہ ہزاروں ایسی مثالیں ہیں اور دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں جو لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّحَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ کا صحیح ادراک رکھتے ہیں۔ جو قربانیوں میں بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ جن میں پرانے بھی ہیں اور وہ نئے شامل ہونے والے بھی ہیں جن کو احمدیت قبول کئے تھوڑا عرصہ ہوا ہے بلکہ ایسے بھی ہیں جن کو شاید چند ماہ ہوئے ہوں۔ جن کی ترجیحات احمدیت قبول کرنے سے پہلے دنیاوی خواہشات تھیں لیکن احمدیت قبول کرنے کے بعد وہ دین کی خاطر اپنا محبوب مال یا جو کچھ بھی پاس ہے قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ یہ انقلاب ہے جو اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیدا فرمایا۔ لوگوں کی ترجیحات بدل دی ہیں۔ اور آج بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ ان پر صادق آتے ہیں کہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کی قربانیوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ ان مخلصین کی قربانیوں کے چندنمونے مَیں اس وقت پیش کرتا ہوں۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مشکل سے بدن پر لباس ہوتا ہے لیکن اخلاص و وفا میں بڑھے ہوئے ہیں اس کی ایک مثال دیتا ہوں۔ یہ مثال ایک عورت کی ہے اور عورت بھی وہ جو نابینا ہے۔

سیرالیون سے ہمارے مبلغ سلسلہ لکھتے ہیں کہ یہاں ایک جماعت پیمبارو (Kpangbaru) ہے جہاں ایک نابینا عورت رہتی ہیں جنہوں نے تحریک جدید کے چندے کا وعدہ دو ہزار لیون(Leone) لکھوایا۔ چندہ کے حصول کے لئے جب ان کے پاس گئے تو کہنے لگیں کہ مجھے چندے کی ادائیگی کی پہلے فکر ہو رہی تھی مگر نابینا ہونے کی وجہ سے میرا ذریعہ آمدنی اتنا نہیں کہ میں کوئی چندہ ادا کر سکتی۔ دو ہزار لیون چندہ دینا میرے لئے بہت مشکل ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ بہرحال میں نے وعدہ کیا ہے مَیں ادا کروں گی۔ چندہ دینے کے لئے انہوں نے ارادہ کیا کہ اپنی ایک غیر احمدی بہن سے ادھار رقم لے لیں۔ لیکن بہن نے انکار کر دیا کہ تم نابینا ہو تمہارے پاس ذرائع بھی ایسے نہیں ہیں پتا نہیں مجھے واپس بھی کر سکو گی یا نہیں۔ اس پر وہ نابینا عورت بڑی فکر مند ہوئیں اور جو سیکرٹری تحریک جدید یا مال چندہ لینے گئے تھے انہیں کہنے لگیں کہ کچھ دیر ٹھہر کے واپس آئیں۔ چنانچہ وہ دعا میں مصروف ہو گئیں۔ اسی دوران ایک اجنبی شخص گاؤں میں آیا اور ان کے پاس سے گزرا۔ گھر کے باہر بیٹھی ہوئی تھیں۔ تو انہوں نے اس آدمی کو آواز دی۔ اس سے کہنے لگیں کہ میرے پاس اس وقت ایک سر پر لینے والا کپڑا ہے وہ دو ہزار لیون میں تم خرید لو۔ یہ کہتے ہیں کہ حالانکہ وہ کپڑا دس سے پندرہ ہزار لیون کا تھا۔ اس آدمی نے حیران ہو کر پوچھا کہ اتنا سستا کیوں بیچ رہی ہو۔ اس پر اس خاتون نے بتایا کہ میں نے چندہ تحریک جدید ادا کرنا ہے اور میرے پاس اس وقت رقم نہیں ہے۔ اس اجنبی نے وہ کپڑا خرید لیا اور دو ہزار لیون نابینا عورت کو دے دئیے۔ شریف آدمی تھا اور بعد میں وہ کپڑا بھی واپس کر دیا اور کہا یہ میری طرف سے آپ رکھ لیں۔ تو افریقہ کے دور دراز علاقے میں رہنے والی ایک اَن پڑھ نابینا خاتون کا یہ اخلاص ہے۔ یقینا یہ اخلاص اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیدا کردہ ہیں۔ پھر بعض اَور واقعات پیش کرتا ہوں۔ راجھستان انڈیا کے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ یہاں ایک جماعت ’بولابالی‘ ہے۔ وہاں دورے پر گئے تو وہاں ایک دوست جن کی عمر 65سال کے قریب ہے۔ اکثر بیمار رہتے ہیں اور ان کی کوئی آمدنہیں ہے۔ سال میں صرف سو دن سرکاری مزدوری کا کام ملتا ہے۔ ان کی اہلیہ گھر کے گزارے کے لئے کام کرتی ہیں۔ گھر کی حالت بھی بہت خستہ تھی۔ انہیں جب مالی قربانی کی طرف توجہ دلائی گئی کہ ٹوکن کے طور پر معمولی سی قربانی کر دیں کیونکہ یہ بھی مومنین کے لئے فرض ہے تو ایک ہزار پچاس روپے چندہ کے ادا کر دئیے۔ اس پر انہوں نے بڑا حیران ہو کر ان سے پوچھا کہ آپ کے گھر کے حالات اتنے اچھے نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود اتنی بڑی رقم دے رہے ہیں۔ یہ سیکرٹری جو بھی (چندہ) لینے گئے تھے کہتے ہیں کہ مَیں نے ان سے کہا کہ آپ اس رقم میں سے کچھ رکھنا چاہتے ہیں تو رکھ لیں۔ اس پر وہ موصوف رونے لگے اور کہنے لگے کہ یہ رقم میں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر جمع کی تھی اور یہ اللہ تعالیٰ ہی کی رقم ہے۔ میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے صحت دے تا کہ میں اس سے زیادہ اپنے رب کے حضور پیش کر سکوں۔ پھر اخلاص و وفا میں بڑھے ہوئے ایک اور مخلص کا واقعہ سنیں۔ یقینا امراء کو یہ جھنجھوڑنے والا ہے۔

بینن کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ انہوں نے یہاں کوتونو جماعت کے صدر صاحب کو تحریک جدید کے چندہ کی ادائیگی کرنے والے افراد کی جنہوں نے وعدے کئے ہوئے تھے فہرست بھجوائی تو ایک پرانے احمدی دوست کا نام چندہ دہندگان میں لکھا ہوا تھا۔ جب انہیں توجہ دلائی گئی تو اگلے روز مشن ہاؤس آئے اور کہنے لگے کہ کیا آپ نے کسی کو دیکھا ہے جس نے ایک ہفتے سے کھانا نہ کھایا ہو۔ کہتے ہیں غربت کا یہ حال ہے کہ مَیں ساری رات روتا رہا ہوں کہ میں نے چندہ تحریک جدید ادا کرنا ہے اور میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ شاید اللہ تعالیٰ میری آزمائش کر رہا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے معمولی سی رقم تحریک جدید کی مدّ میں ادا کی اور کہا کہ اس وقت میرے پاس یہی کچھ ہے۔ اور شاید وہ رقم بھی کہیں سے قرض لے کر آئے ہوں۔ انہوں نے اپنی بھوک مٹانے کے لئے (رقم) استعمال نہیں کی بلکہ چندہ دیا۔ اس پر یہ جو لینے والے صاحب گئے تھے کہتے ہیں خاکسار نے ان کو کچھ رقم مدد کے طور پر دی کہ آپ کی تو یہ حالت ہے۔ چندہ کیا دینا ہے؟ آپ کی مدد کر رہا ہوں۔ اور ان کو مدد کے طور پر رقم دی تو انہوں نے دس ہزار فرانک سیفا اسی وقت واپس کر دیا اور کہا کہ ابھی میرا چندہ عام بقایا ہے۔ آپ اس رقم میں سے میرا چندہ کا بقایا کاٹ لیں۔ تو یہ ہے اخلاص و وفا جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ بدن پہ کپڑے نہیں لیکن اخلاص میں بڑھے ہوئے ہیں۔ پھرقادیان سے نائب وکیل المال تحریر کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کوڈیاتھور (یا جو بھی لفظ ہے) میں خطبہ جمعہ میں تحریک جدید کی اہمیت بیان کی گئی اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ کی آواز پر والہانہ لبیک کرنے والے مخلصین کی بعض قربانیوں کا ذکر کیا گیا۔ اس پر وہاں کی جماعت کی صدر لجنہ اماء اللہ جمعہ کے بعد گھر گئیں اور جا کر اپنے سونے کا ایک وزنی کنگن اتار کر تحریک جدید میں پیش کر دیا۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی خواتین میں بھی دینی ضروریات کی خاطر اپنا زیور پیش کرنے کی بے شمار مثالیں ہر جگہ نظر آتی ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں رہنے والی احمدی خواتین کی یہ روح، یہ قدر مشترک ہے کہ دین کی خاطر اپنا پسندیدہ زیور قربان کرنا ہے اور یہ آج صرف احمدی خواتین کا ہی خاصّہ ہے۔

جرمنی کے نیشنل سیکرٹری تحریک جدید لکھتے ہیں کہ یہاں ایک جماعت ہناؤ (Hanau) میں تحریک جدید کے حوالے سے ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ سیمینار ختم ہوتے ہی ایک دوست اپنی بیگم کا زیور لے کر دفتر تحریک جدید آ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ سیمینار ختم ہونے کے بعد ہم واپس گھر جا رہے تھے تو مَیں نے اپنی بیگم سے کہا کہ میں نے تو اپنا وعدہ لکھوا دیا ہے۔ کیا تم نے بھی کوئی وعدہ لکھوایا ہے؟ اس پر وہ کہنے لگی کہ میں نے قرآن کریم کی تعلیم لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّحَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ کے مطابق قربانی پیش کی ہے۔ چنانچہ ان کی اہلیہ نے اپنی شادی کا زیور تحریک جدید میں دے دیا۔

لاہور کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک خاتون کا تحریک جدید کا وعدہ معیاری تھا۔ امیر تھیں، صاحب حیثیت تھیں لیکن پھر بھی جب انہیں ٹارگٹ پورا کرنے کے حوالے سے مزید دینے کی درخواست کی تو فوراً اٹھ کر کمرے میں گئیں اور زیورات کا ایک ڈبّہ لے آئیں اور کہنے لگیں کہ یہ سب خدا تعالیٰ کی راہ میں ہی دینا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس میں سے وزنی کڑے نکالے اور تحریک جدید میں پیش کئے۔

اب دیکھیں ایک عورت ہندوستان کے جنوب میں رہتی ہے۔ مختلف قبیلے، مختلف لوگ، مختلف قوم، زبان مختلف، ایک پنجاب پاکستان میں رہتی ہے، تیسری جرمنی میں رہتی ہے لیکن قربانی کرنے کی روح اور سوچ ایک ہے۔ یہ اِکائی ہے۔ یہ قربانی کے معیار ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت میں پیدا فرمائے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں جو احمدیوں پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

افریقہ کے ملک مالی کے ایک مخلص کا واقعہ بیان کرتے ہوئے وہاں کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ان کی پوسٹنگ مالی کے ریجن سیگو (Segou) میں ہوئی۔ ایک دن نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد معلم صاحب نے ایک شخص کو خاکسار سے ملوایا کہ یہ مولویوں کے سب سے بڑے خاندان سے ہیں اور انہوں نے بیعت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں چندہ دینے آیا ہوں کیونکہ میں نے آج ریڈیو میں خلیفۃ المسیح کا خطبہ چندہ کے متعلق سنا ہے۔ کہتے ہیں خاکسار نے انہیں انفاق فی سبیل اللہ کی برکات بتانے کے لئے آیت لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّحَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۔ سنائی تو وہ بہت حیران ہوئے اور کہنے لگے کہ میں نے ریڈیو پر جو خطبہ سنا تھا اس میں بھی یہی آیت سنی تھی۔ سوچا تھا کہ پانچ ہزار سیفا چندہ دوں مگر بعد میں شیطان نے دل میں وسوسہ ڈال دیا کہ صرف دو ہزار سیفا ہی کافی ہے لیکن اب جب آپ نے یہی آیت دوبارہ سنائی ہے تو میرے دل کو یقین ہو گیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ہی نظام ہے اور اب میں پانچ ہزار سیفہ ہی چندہ دوں گا۔ چنانچہ انہوں نے پانچ ہزار سیفا چندہ دیا تو اللہ کے فضل سے نومبائعین مالی قربانی میں بھی اب بہت آگے بڑھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قربانی کرنے والوں پر جس طرح فضل فرماتا ہے اور جس طرح قربانی کو پھل لگتے ہیں اور پھر اس کے نتیجہ میں ان کے ایمان میں اور اخلاص میں مزید ترقی ہوتی ہے اس کی چند مثالیں پیش کرتا ہوں۔ کانگو سے ابراہیم صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں ایک زمیندار ہوں اور کھیتی باڑی کرتا ہوں۔ پہلے میں مالی قربانی کم کرتا تھا مگر جب سے میں نے چندہ ادا کرنا شروع کیا ہے میری فصل کی پیداوار میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ چندے کی اہمیت مجھ پر واضح ہو گئی ہے اور مَیں نے اب باقاعدگی سے چندے کی ادائیگی شروع کر دی ہے جس کی وجہ سے میری یہ زندگی تبدیل ہو گئی ہے۔

پھر کانگو کی ایک خاتون مریم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ مَیں بھی کھیتی باڑی کرتی ہوں۔ اب میں نے ہر دفعہ فصل کی کٹائی کے بعد چندہ ادا کرنا شروع کر دیا ہے اور میرا تجربہ ہے کہ چندہ ادا کرنے کے بعد میری آمدنی دوگنی ہو جاتی ہے۔

پھر کانگو سے ہمارے مبلغ لکھتے ہیں ایک احمدی دوست احمد صاحب ہیں ان کو چندہ کی تحریک کی گئی۔ انہوں نے اپنے تحریک جدید کا وعدہ مبلغ بیس ہزار فرانک لکھوایا حالانکہ ان دنوں یہ بیروزگار تھے لیکن وعدہ لکھوانے کے ایک ہفتہ بعد ہی ان کو ملازمت مل گئی اور آج کل یہ اپنی فیلڈ میں مینجر کے طور پر کام کر رہے ہیں اور باقاعدگی سے چندہ ادائیگی کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ سب چندہ کی برکت ہے۔

پھر نائب وکیل المال قادیان سے تحریر کرتے ہیں کہ کیرالہ کی ایک جماعت پتھ پیریم کے ایک دوست نے فون پر بتایا اور میرا کہا کہ انہوں نے گزشتہ سال تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان کیا اور مخلصین کا ذکر کیا تھا (خطبہ میں مَیں نے افریقہ کی مثالیں دی تھیں) جنہوں نے غربت کے باوجود چندہ تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ہم تو پھر بھی صاحب استطاعت ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ اس دوست نے کہا اس لئے میرا چندہ تحریک جدید کا وعدہ دو لاکھ روپے بہت کم ہے اسے بڑھا کر پانچ لاکھ روپے کر دیں۔ یہ کہہ کر موصوف نے رونا شروع کر دیا اور کہتے ہیں کہ انہوں نے وعدہ پورا کرنے کے لئے مجھے دعائیہ خط بھی لکھا۔ نائب وکیل المال کہتے ہیں کچھ عرصہ کے بعد صوبہ کیرالہ کا دورہ کرتے ہوئے موصوف سے ملاقات ہوئی تو موصوف نے اپنا چندہ مکمل ادا کر دیا اور کہنے لگے کہ تحریک جدید کے وعدے میں اضافہ کرنے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے میرے کام میں بے انتہا برکت ڈالی اور اب میرے پاس اس قدر کام ہے کہ سنبھالنا مشکل ہو رہا ہے۔

پھر ابراہیم صاحب کرناٹک میں انسپکٹر تحریک جدید ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جماعت گلبرگہ کے ایک خادم نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی ایک ماہ کی آمد تہتر ہزار چھ سو روپے تحریک جدید کے چندے میں لکھوائی لیکن ادائیگی کے وقت موصوف نے غیر معمولی اضافے کے ساتھ ایک لاکھ پانچ سو گیارہ روپے کی ادائیگی کی۔ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک معجزہ دکھایا کہ ایک شخص کے ذمہ ان کی ایک بڑی رقم قابل ادا تھی۔ موصوف بارہا تقاضا کرنے کے بعد تھک ہار کر اس رقم کی واپسی سے بالکل مایوس ہو چکے تھے۔ لیکن ایک دن وہ شخص غیر متوقع طور پر آیا اور معذرت کرتے ہوئے ساری رقم ادا کر دی۔

مالی قربانی سے اللہ تعالیٰ ایمان میں کس طرح مضبوطی پیدا فرماتا ہے۔ دنیا میں مختلف جگہوں پر اس کے بھی نظارے نظر آتے ہیں۔ ازبکستان کے ایک نو مبائع دوست واحدووچ صاحب ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اتنے لمبے عرصے سے ماسکو میں مقیم ہوں اور ایک معمول کے مطابق مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ اس سال مجھے کتنی آمد ہو گی۔ لیکن اس سال جب سے میں نے بیعت کی ہے اور چندہ دینا شروع کیا ہے میری آمدنی میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے تیرہ سال میں مجھے اتنی آمدنی نہیں ہوئی جتنی اس سال میں ہوئی ہے اور اب مجھے اس بات کا کامل یقین ہو گیا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی ہی برکت ہے۔

بورکینا فاسو کے کایا ریجن کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک گاؤں تاپگو (Tapgo) کی جماعت کے ایک ممبر ایک دن وہاں کے معلم صاحب کے پاس آئے اور کہا کہ وہ حج کرنے کی خواہش رکھتے ہیں مگر ان کے پاس ابھی وسائل نہیں ہیں۔ اس پر معلم صاحب نے انہیں کہا کہ آپ اپنے چندے میں باقاعدہ ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے مالی حالات خود ہی ٹھیک کر دے گا اور حج پر جانے کے سامان بھی پیدا کر دے گا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنا چندہ باقاعدہ ادا کرنا شروع کر دیا۔ کچھ عرصہ کے بعد آ کر انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری خواہش پوری کر دی ہے اور حج پر جانے کے لئے انتظام ہو گیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ یہ سب چندے کی برکت سے ہوا ہے۔ اب وہ حج کر کے واپس بھی آ چکے ہیں اور اپنے چندے میں باقاعدہ ہیں۔ بورکینا فاسو کی ایک جماعت کے صدر صاحب نے بتایا کہ ایک شخص کے گھر میں بہت مالی تنگی تھی۔ ایک پراجیکٹ بھی شروع کرنا چاہا مگر پیسوں کی کمی کے باعث مکمل نہ ہو سکا۔ انہی دنوں جلسہ سالانہ بورکینا فاسو جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں پر مالی قربانی کے بارے میں سن کر ارادہ کیا کہ گھر پہنچ کر ضرور چندوں میں شامل ہوں گا۔ جو بقایا جات ہیں وہ بھی ادا کروں گا۔ چنانچہ واپس آتے ہی سب سے پہلے اپنا بقایا چندہ ادا کیا اور آئندہ سے چندہ وقت پر ادا کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ یہ کہتے ہیں کہ اس پر ابھی ایک ماہ بھی پورا نہ گزرا تھا کہ تمام گھریلو پریشانیاں حل ہونی شروع ہو گئیں اور پراجیکٹ بھی خدا کے فضل سے مکمل ہو گیا اور یہ تمام تر برکت چندے ادا کرنے کی بدولت ہوئی۔

کینیڈا کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دوست کا کچھ سال پہلے بعض مالی معاملات میں دو اڑھائی لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا۔ انہیں توجہ دلائی گئی کہ آپ اپنے لازمی چندہ جات باقاعدگی سے ادا کیا کریں۔ اس سے آپ کے اموال میں برکت پڑے گی۔ (یہ بھی واضح ہو کہ جو چندہ عام وغیرہ ہیں یہ بھی دینے ضروری ہیں۔) اس کے بعد انہوں نے باقاعدگی سے لازمی چندہ جات ادا کرنا شروع کر دئیے۔ وہ کہتے ہیں کچھ عرصہ قبل میں نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد پڑھا کہ تحریک جدید کا چندہ ابتدائی مہینوں میں ادا کرنا چاہئے۔ تو میں نے اس ارشاد پر عمل کرتے ہوئے سال کے شروع میں ہی چندہ ادا کرنا شروع کر دیا اور گزشتہ تین سال سے سال کے آغاز میں ہی چندہ ادا کر رہا ہوں۔ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ایسا فضل نازل فرمایا کہ میرا سارا قرض اتر گیا اور نہ صرف قرض اتر گیا بلکہ مالی کشائش میں بھی اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے اللہ تعالیٰ ضرور فضل فرماتا ہے۔

امیر صاحب کینیڈا ہی لکھتے ہیں کہ ایک دوست نے اپنا بزنس شروع کیا اور ایک ہزار ڈالر کا وعدہ تحریک جدید میں لکھوایا۔ اس پر انہیں تحریک کی گئی کہ اگلے سال آپ نے اپنا وعدہ بڑھا کر کم از کم پانچ ہزار ڈالر لکھوانا ہے۔ نیز کہا کہ دعا کے لئے مجھے خط بھی لکھتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو وعدہ پورا کرنے کی توفیق دے۔ چنانچہ سال کے اختتام پر جب سیکرٹری مال صاحب چندہ کی وصولی کے لئے ان کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے کاروبار میں بہت برکت ڈالی ہے اور میں بجائے اگلے سال کے اِسی سال پانچ ہزار ڈالر ادا کروں گا اور اگلے سال بڑھانے کی مزید کوشش کروں گا۔

امریکہ کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ جماعت سیئٹل (Seattle) کے ایک دوست بیان کرتے ہیں کہ پاکستان میں 1974ء میں بھی اور پھر 1984ء میں ہمارے کاروبار جلا دئیے گئے۔ مگر جب بھی ہمارے کاروبار کو نقصان پہنچایا گیا ہر بار خدا تعالیٰ نے خاص فضل فرماتے ہوئے ہمارے اموال میں کئی گنا برکت ڈالی۔ چنانچہ موصوف نے اس سال ایک لاکھ ڈالر کا وعدہ لکھوایا اور بتایا کہ اللہ کے فضل سے اب اتنے وسیع پیمانے پر کاروبار کر رہے ہیں جس کا پہلے سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔

اسی طرح ایک ممبر شکاگو سے چیک لے کر آئے جس پر اڑتیس ہزار چار سو پندرہ ڈالر لکھا ہوا تھا۔ جب اس ممبر سے پوچھا گیا کہ یہ خاص رقم کیوں لکھی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میرے اکاؤنٹ میں جتنی بھی رقم تھی ساری کی ساری یہ لکھ دی اور پیش کرتا ہوں۔ ایسے بھی لوگ ان ملکوں میں ہیں جو اس ترقی یافتہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی دین کی خاطر قربانیاں کرنے والے ہیں اور سب کچھ دینے والے ہیں۔ نئے آنے والے بھی اخلاص و وفا میں بڑھ رہے ہیں۔ عرب ملک کے ایک دوست ہیں جنہوں نے نومبر 2011ء میں بیعت کی تھی لیکن پچھلے سال ان کی اہلیہ نے بھی بیعت کی ہے۔ سیکرٹری مال سے ان کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ دونوں میاں بیوی آپس میں گفتگو کرتے تھے کہ جماعت احمدیہ ہی ہے جو سب سے اچھے طریق سے خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتی ہے۔ اس لئے انہی کے ذریعہ خدا کی راہ میں خرچ کرنا چاہئے۔ ان کی اہلیہ پہلے احمدی نہیں تھیں۔ اب وہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گئی ہیں اور اس سال دونوں میاں بیوی نے قریباً چودہ ہزار پاؤنڈ تحریک جدید میں چندہ کی ادائیگی کی ہے جو اُن کی مقامی جماعت میں سے کسی بھی فیملی کی طرف سے کی جانے والی سب سے زیادہ بڑی قربانی ہے۔

لندن ریجن کے امیر لکھتے ہیں کہ وُوسٹر پارک کی جماعت کو تحریک جدید کا ٹارگٹ پورا کرنے کے لئے تحریک کی گئی۔ وہاں ایک فیملی نے اپنی چھٹیوں پر جانے کے لئے جو پیسے جمع کئے تھے انہیں چندے کی تحریک کی گئی تو انہوں نے وہ پیسے تحریک جدید میں ادا کر دئیے اور چھٹیوں کے دوران کہیں جانے کی بجائے گھر میں رہ کر چھٹیاں گزارنے کو ترجیح دی۔

مالی قربانی کے مردوں عورتوں اور بچوں کے بیشمار واقعات سامنے آتے ہیں۔ اس زمانے میں جیسا کہ میں نے کہا دنیا کی ترجیحات، دنیاوی لذات اور سہولت کی طرف ہیں۔ لیکن احمدی اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر قربانی کرتے ہیں۔ یوگنڈا سے اِگانگا ریجن کے ایک مبلغ لکھتے ہیں کہ ہم نے جماعت بوسو کے ایک ممبر کو تحریک جدید کا وعدہ پورا کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ بیچاروں کے پاس اَور کچھ نہیں تھا۔ ایک مرغا گھر میں تھا انہوں نے اسی وقت اس کی قیمت جو ان کے وعدے کے برابر تھی پیش کر دی۔ وہ کہنے لگے کہ اس وقت تو میرے پاس کوئی اَور رقم نہیں ہے۔ بچوں کی سکول فیس بھی ادا کرنی ہے۔ لیکن وہ مَیں اب بعد میں کروں گا۔ پہلے آپ میرا اور میری فیملی کا چندہ لیں۔ امریکہ کے نیشنل سیکرٹری تحریک جدید لکھتے ہیں کہ ایک گیارہ سال کا بچہ ایک ویڈیو گیم خریدنے کے لئے پیسے جمع کر رہا تھا۔ عموماً اس عمر میں بچے ویڈیو گیمز کے بہت شوقین ہوتے ہیں اور ویڈیو گیمز کے علاوہ ان کو کچھ اور نظر نہیں آتا۔ لیکن عزیزم کو جب تحریک جدید کے چندے کی تحریک کی گئی تو اس نے ویڈیو گیم خریدنے کے لئے جو ایک سو ڈالر جمع کئے ہوئے تھے وہ چندے میں ادا کر دئیے۔ اس طرح اس بچے نے دین کو دنیا پر ترجیح دینے کا وعدہ ایفاء کر کے دکھایا۔ اس کے علاوہ بہت سے بچوں نے جیب خرچ کے لئے دی گئی رقم جمع کی اور تحریک جدید کے چندے میں ادا کر دی۔ اب امریکہ جیسے ملک میں رہتے ہوئے بچوں کی یہ سوچ یقینا قابل تعریف ہے اور ان کے ماں باپ کو اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ اور شکرگزاری کا طریق یہ ہے کہ اپنی عبادتوں اور قربانیوں کے معیار بلند کریں۔ یوگنڈا سے اگانگا ریجن کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ہمارے ریجن کی ایک جماعت ناچیرے کے ایک طفل نے نماز سیکھی اور اب وہاں اپنی جماعت میں نماز پڑھاتا ہے اور جمعہ بھی پڑھاتا ہے۔ امیر صاحب نے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اسے کچھ انعام دیا تو اس نے وہ پیسے تحریک جدید میں ادا کر دئیے۔ اس کے کچھ عرصے بعد یہ طفل ایک جنازے میں شرکت کے لئے گیا تو وہاں نماز کا وقت ہو گیا اور اس طفل نے بڑی خوش الحانی سے اذان دی۔ اس پر وہاں ایک شخص نے خوش ہو کر اسے انعام دیا تو اس نے وہ بھی تحریک جدید میں چندے کے طور پر پیش کر دیا۔ اس طفل کو دیکھ کر اس جماعت کے دوسرے اطفال میں بھی چندہ دینے کا شوق پیدا ہوا اور بعض اطفال نے کہا کہ ہم کھدائی کا کام کر کے چندہ ادا کریں گے۔ غریب تھے۔ چھوٹا سا گاؤں ہے۔ غریب لوگ ہیں۔ چنانچہ اس سال اس جماعت کے چھ اطفال نے اپنے وعدہ جات سے زائد چندوں کی ادائیگی کی توفیق حاصل کی۔

پس دنیا کے ہر کونے میں اللہ تعالیٰ ایسے مخلص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرما رہا ہے جو قربانی کی روح کو سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ یہ روح ہمیشہ ترقی کرتی رہے اور سب تقویٰ میں بھی بڑھتے چلے جانے والے ہوں۔ اس وقت مَیں تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان کرتے ہوئے مختصراً گزشتہ سال کی رپورٹ پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے 31؍اکتوبر کو تحریک جدید کا اکیاسیواں (81) سال ختم ہوا اور بیاسیواں (82) سال شروع ہو گیا۔ اس میں ہم داخل ہو گئے ہیں اور اب تک جو رپورٹس آئی ہیں ان کے مطابق اس سال تحریک جدید کے مالی نظام میں کل وصولی بانوے لاکھ سترہ ہزار آٹھ سو پاؤنڈ ہوئی ہے۔ الحمد للہ۔ یہ وصولی گزشتہ سال کی نسبت سات لاکھ سینتالیس ہزار پاؤنڈزیادہ ہے۔

پاکستان میں مخدوش حالات کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے وہاں قربانی کا جو معیار رکھا ہوا ہے اس پر قائم ہیں اور ان کا نمبر پہلا ہی ہے۔

اس کے بعد باہر کے ممالک میں جرمنی پہلے نمبر پر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جرمنی میں مالی قربانی کرنے کی روح بہت زیادہ ہے۔ وہاں مساجد کی تعمیر کے سلسلے میں بھی وہ قربانیاں کر رہے ہیں اور بڑھ چڑھ کر قربانی کر رہے ہیں۔ اور ان کی کوشش ہے، ہر جگہ سے بے چین ہو کر لوگ خط لکھتے ہیں کہ یہ دعا کریں ہماری مسجد جو ہے جلدی بن جائے اور اس کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار ہیں۔ لیکن باقی قربانیوں میں بھی مکمل اور پورا حصہ لے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔

دوسرے نمبر پر برطانیہ ہے۔ تیسرے نمبر پر امریکہ۔ چوتھے پر کینیڈا۔ پانچویں پر آسٹریلیا۔ چھٹے پر بھارت۔ ساتویں پر مڈل ایسٹ کی ایک جماعت ہے۔ آٹھویں نمبر پر انڈونیشیا۔ پھر نویں نمبر پر پھر مڈل ایسٹ کی ایک جماعت ہے۔ دسویں نمبر پر گھانا۔ گھانا پیچھے سے بہت اوپر آیا ہے اور سوئٹزرلینڈ جو دسویں نمبر پر ہوا کرتا تھا وہ گیارھویں نمبر پر چلا گیا ہے۔ اور گھانا کی جماعت کے ممبران نے اس سال فیصد مقامی کرنسی کے لحاظ سے سب سے زیادہ وصولی کی ہے یا ادائیگی کی ہے۔ انہوں نے ساٹھ فیصد اضافہ کیا ہے۔ آسٹریلیا کے لوگ دوسرے نمبر پر وصولی میں بڑھے ہیں۔ اور پھر عرب ممالک کے لوگ ہیں۔ پھر کینیڈا اور باقی لوگ ہیں۔ باقی جماعتیں ہیں۔ فی کس ادائیگی کے اعتبار سے نمایاں ادائیگی کرنے والوں میں دو عرب ممالک کے علاوہ پہلے نمبر پر سوئٹزرلینڈ ہے۔ پہلے یہ پہلے نمبر پر ہوا کرتا تھا لیکن اب عرب ممالک میں قربانی کی روح اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی بڑھتی جا رہی ہے۔ فی کس قربانی کے لحاظ سے امریکہ چوتھے نمبر پر ہے۔ آسٹریلیا پانچویں پہ اور یوکے (UK) چھٹے پہ۔ جرمنی ساتویں نمبر پہ۔ ناروے میں بھی ترقی ہو رہی ہے نویں نمبر پر ہے۔

پھر چھوٹی جماعتوں میں سنگاپور، فن لینڈ، جاپان اور مڈل ایسٹ کی چار جماعتیں قابل ذکر ہیں۔ افریقن ممالک میں مجموعی طور پر نمایاں وصولی کرنے والے گھانا، نائیجیریا، ماریشس، بورکینا فاسو، تنزانیہ، گیمبیا، بینن ہیں۔ مجموعی تعداد کے بارے میں مَیں ہمیشہ بہت زور دیتا ہوں کہ اس کو بڑھائیں۔ چاہے کوئی تھوڑا سا ٹوکن کے طور پر ہی دے۔ اس کے لئے جماعتوں کو ٹارگٹ بھی دئیے گئے تھے۔ اس سال اللہ کے فضل سے تحریک جدید میں شاملین کی تعداد تیرہ لاکھ گیارہ ہزار ہو گئی ہے۔ اور اس سال ایک لاکھ نئے شامل ہوئے ہیں۔ آسٹریلیا نے اس میں کافی ترقی کی ہے۔ شامل کرنے کے لئے کوشش کی ہے اور تقریباً چورانوے فیصد لوگوں کو شامل کر لیا ہے۔ کینیڈا نے بہت کوشش کی ہے اکانوے فیصد کو شامل کیا ہے۔ بھارت نے بھی اس بارے میں کافی کام کیا ہوا ہے۔ لگتا ہے ان کی رپورٹ نہیں آئی۔ میرا خیال ہے وہ بھی اس کے برابر ہی ہیں۔ اگر رپورٹ نہیں بھیجی تو بھجوا دیں۔ اس کے علاوہ افریقہ کے ملکوں میں اس بارے میں کافی کام کیا گیا ہے۔ مالی نے اس سال کافی کام کیا ہے۔ بورکینا فاسو، کانگو برازاویل، گنی کناکری، کیمرون، گھانا، سینیگال، ساؤتھ افریقہ۔ پہلے سے بڑھ کر انہوں نے شامل کرنے میں کوشش کی ہے۔

دفتر اول کے شامل افراد کے پانچ ہزار نو سو ستائیس کھاتے ہیں جس میں سے پچاسی خدا کے فضل سے حیات ہیں اور اپنے چندے خود ادا کر رہے ہیں۔ باقی پانچ ہزار آٹھ سو بیالیس وفات شدگان کے کھاتے بھی ان کے ورثاء نے جاری کر دئیے ہیں۔ پاکستان کی تین بڑی جماعتیں جنہوں نے قربانی کی۔ پہلے نمبر پر لاہور ہے۔ دوسرے نمبر پر ربوہ۔ تیسرے پہ کراچی۔

اور وصولی کے اعتبار سے قربانی کرنے والے اسلام آباد، ملتان، کوئٹہ، پشاور، حیدرآباد، میر پور خاص، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، بہاولنگر اور جھنگ ہیں۔ دس اضلاع جو بڑے ہیں جنہوں نے قربانی کی۔ سیالکوٹ نمبر ایک، فیصل آباد دو۔ سرگودھا تین۔ عمر کوٹ چوتھے نمبر پر۔ گوجرانوالہ اور گجرات پانچویں پر۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ چھٹے پر۔ میر پور آزاد کشمیر ساتواں۔ اوکاڑہ آٹھ۔ ننکانہ صاحب اور سانگھڑ۔

گزشتہ سال کی نسبت درج ذیل جماعتوں نے زیادہ کارکردگی پیش کی۔ جو چھوٹی جماعتیں ہیں ان میں ایک حیدرآباد کی صابن دستی۔ پھر گھٹیالیاں خورد ہے۔ شہدادپور۔ کھوکھرغربی۔ کنری۔ چک نوپنیار۔ ساہیوال۔ بشیرآبادسٹیٹ۔ عنایت پوربھٹیاں۔ جرمنی کی دس جماعتیں نوئس اور رؤڈرمارک، فلورزہائم، کولون، نِیدا، مہدی آباد، نوئز ن برگ، فریڈبرگ، درائے آئش اور کوبلنز۔

دس لوکل امارتیں ہیمبرگ، فرینکفرٹ، گروس گراؤ، ڈارم شٹڈ، وِیزبادن، من ہائم، موئرفیلڈن والڈورف، ڈیٹسن باخ، ریڈ شٹڈ، آفن باخ۔

امریکہ کی جماعتیں ہیں سلیکون ویلی، ڈیٹرائٹ، لاس اینجلس ایسٹ، سیاٹل، سینٹرل ورجینیا، یارک ہیرس برگ۔

برطانیہ کے پہلے پانچ ریجن لندن اے۔ نمبر دو لندن بی۔ مڈلینڈز۔ نارتھ ایسٹ اور ساؤتھ ہیں۔ فی کس ادائیگی کے لحاظ سے برطانیہ کے ریجن میں اسلام آبادنمبر ایک پہ۔ مڈ لینڈز۔ ساؤتھ ویسٹ۔ نارتھ ایسٹ اور سکاٹ لینڈ ہیں۔ وصولی کے لحاظ سے برطانیہ کی پہلی دس بڑی جماعتیں مسجد فضل نمبر ایک پہ۔ پھر رینز پارک۔ پھر وُوسٹر پارک، نیو مالڈن، جلنگھم، برمنگھم ساؤتھ، تھارنٹن ہیتھ، ومبلڈن پارک، بریڈ فورڈ اور گلاسگو ہیں۔ چھوٹی جماعتوں میں نمبر ایک پہ لیمنگٹن سپا، وولور ہیمپٹن، سپین ویلی، کاونٹری، نیو کاسل ہیں۔ ادائیگی کے لحاظ سے جو چھوٹی جماعتیں ہیں ان میں ڈیون اینڈ کانوال، لیمنگٹن سپا، سپین ویلی، سوان زی اور وولور ہیمپٹن۔

کینیڈا کی جماعتیں کیلگری نمبر ایک پہ۔ پیس ویلیج۔ ٹورانٹو۔ وان۔ وینکوور ہیں۔ وصولی کے لحاظ سے پانچ قابل ذکر جماعتیں۔ ایڈمنٹن۔ ڈرہم۔ سسکاٹون ساؤتھ۔ ملٹن جارج ٹاؤن اور آٹوا ویسٹ ہیں۔ آسٹریلیا کی پہلی دس جماعتیں ہیں کاسل ہِل، میلبرن ساؤتھ، برزبین ساؤتھ، ACTکینبرا، ایڈیلیڈ ساؤتھ، پلمپٹن، بلیک ٹاؤن، ماؤنٹ ڈریواِٹ، مارزڈن پارک ہیں۔ انڈیا کی دس جماعتیں کیرولائی(کیرالہ)، حیدرآباد، کالی کٹ(کیرالہ)، قادیان، پتھہ پیریم (کیرالہ)، کنانور ٹاؤن(کیرالہ) اور پنگاڈی(کیرالہ)، کلکتہ(بنگال)، بنگلور(کرناٹک)، سولور(تامل ناڈو) ہیں۔ اور قربانی کے لحاظ سے انڈیا کے جو دس صوبہ جات ہیں وہ کیرالہ، تامل ناڈو، کرناٹک، آندھرا پردیش، جموں و کشمیر، اڑیسہ، پنجاب، بنگال، دہلی اور مہاراشٹر ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام شاملین کے اموال و نفوس میں بے انتہا برکت ڈالے اور انہیں اخلاص و وفا میں بڑھاتا رہے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 6؍ نومبر 2015ء شہ سرخیاں

    ہر مومن کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ نیکی کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت (آل عمران: 93) میں مومنین کو یہ توجہ دلائی کہ اگر تم نیکی کرنے کی خواہش رکھتے ہو تا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکو تو یاد رکھو کہ نیکی قربانی کو چاہتی ہے۔ پس خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے قربانی کرو۔ اس چیز کی قربانی کرو جو تمہیں بہت زیادہ عزیز ہے۔

    آجکل کے مادّی دور میں جبکہ نئی ٹیکنالوجی نے دنیا کے مختلف ممالک میں رہنے والے انسانوں کو نہ صرف بہت قریب کر دیا ہے بلکہ اس ٹیکنالوجی اور معاشی نظام نے خواہشات کو بھی بہت بڑھا دیا ہے۔ قطع نظر اس کے کہ کسی کے پاس وافر دولت ہے یا نہیں خواہشات کی بھڑک اور روپے سے محبت اور اس کے حصول کے لئے کوشش انتہا تک پہنچی ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں یہ باتیں کرنا عام دنیادار کے لئے عجیب سی بات ہے کہ نیکی کے حصول کے لئے ان چیزوں کو خرچ کرو جن سے تمہیں محبت ہے۔ اپنی خواہشات کو قربان کرو، اپنی سہولتوں کو قربان کرو۔

    دنیا کو پتا نہیں کہ اس زمانے میں بھی ایسے لوگ ہیں جو قرآن کریم کی اس تعلیم کا ادراک رکھتے ہیں۔ اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس زمانے میں بھی ایسے لوگ ہیں جواَلْبِرّ کے حصول کی کوشش کرتے ہیں یعنی ایسی نیکی کی کوشش کرتے ہیں جو دوسروں کے لئے قربانی کی انتہا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق اور زمانے کے امام سے جڑ کر حقیقی نیکی کو پانے کا اِدراک حاصل کیا۔ جنہوں نے نیکی کو پانے کے لئے نیکی کے ان روشن میناروں سے صحیح راستوں کی راہنمائی حاصل کی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض پانے والے تھے۔

    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو جماعت پیدا کی اس نے صرف یہ نہیں کیا کہ ان باتوں کو صرف سن لیا اور منہ دوسری طرف کر لیا اور توجہ پھیر لی بلکہ ان باتوں کو سننے کے بعد قربانیوں کے معیار بھی قائم کئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود بھی کئی جگہ، کئی مجالس میں اس بات کا ذکر فرمایا ہے۔

    آج بھی ایسے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں مَردوں میں سے بھی، عورتوں میں سے بھی اور بچوں میں سے بھی ہیں جو اخلاص و وفا میں بڑھے ہوئے ہیں۔ چند ایک اور چند مخصوص جگہوں پر نہیں بلکہ ہزاروں ایسی مثالیں ہیں اور دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں جو لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّحَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ کا صحیح اِدراک رکھتے ہیں۔ جو قربانیوں میں بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ جن میں پرانے بھی ہیں اور وہ نئے شامل ہونے والے بھی ہیں جن کو احمدیت قبول کئے تھوڑا عرصہ ہوا ہے

    دنیا کے مختلف ممالک میں اخلاص و وفا میں بڑھے ہوئے احمدیوں کی مالی قربانی کے نہایت ایمان افروز واقعات کا روح پرور بیان۔

    دنیا کے ہر کونے میں اللہ تعالیٰ ایسے مخلص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرما رہا ہے جو قربانی کی روح کو سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ یہ روح ہمیشہ ترقی کرتی رہے اور  سب تقویٰ میں بھی بڑھتے چلے جانے والے ہوں۔ تحریک جدید کے 82ویں مالی سال کے آغاز کا اعلان۔

    گزشتہ سال تحریک جدید کے مالی نظام میں 92 لاکھ 17ہزار 800 پونڈز کی وصولی ہوئی۔

    مالی قربانی میں پاکستان پہلے نمبر پررہا۔

    بیرون پاکستان میں جرمنی پہلے نمبر پر، برطانیہ دوسرے نمبر پر اور امریکہ تیسرے نمبر پر رہے۔

    مقامی کرنسی کے لحاظ سے افریقن ممالک میں گھانا نے سب سے زیادہ وصولی کی

    تحریک جدید کے مالی نظام میں شاملین کی تعداد 13لاکھ 11ہزار ہو گئی ہے۔

    اس سال ایک لاکھ نئے افراد شامل ہوئے۔

    تحریک جدید کی مالی قربانی میں مختلف پہلوؤں سے ممالک اور جماعتوں کے جائزے۔

    اللہ تعالیٰ تمام شاملین کے اموال و نفوس میں بے انتہا برکت ڈالے اور انہیں اخلاص و وفا میں بڑھاتا چلا جائے۔

    فرمودہ مورخہ 06؍نومبر 2015ء بمطابق 06؍نبوت 1394 ہجری شمسی،  بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور