سیرت حضرت مسیح موعودؑ: حضرت مصلح موعودؓکے بیان فرمودہ بعض واقعات

خطبہ جمعہ 15؍ جنوری 2016ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

اللہ تعالیٰ اپنے ولیوں اور نیکی پر قائم رہنے والوں کی اولاد در اولاد اور نسلوں کی بھی حفاظت فرماتا ہے اور انہیں نوازتا ہے بشرطیکہ وہ اولاد اور نسل بھی نیکی پر قائم رہنے والی ہو۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی مثال دیتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی رسالت کے ابتدائی ایام میں اپنے خاندان کے لوگوں کو پیغام حق پہنچانے کے لئے دعوت کی تو پہلی دعوت میں کھانا کھا چکنے کے بعد جب اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے آپ کھڑے ہوئے اور ابھی بات شروع ہی کی تھی تو ابولہب نے سب کو منتشر کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اس حرکت پر بڑے حیران ہوئے لیکن مایوس نہیں ہوئے۔ چنانچہ آپ نے دوبارہ حضرت علی سے فرمایا کہ دعوت کا دوبارہ انتظام کرو۔ چنانچہ دوسری دفعہ آپ نے اسلام کا پیغام پہنچایا تو سب مجلس سنّاٹے میں آ گئی۔ سب خاموش تھے۔ کوئی نہیں بولا۔ آخر حضرت علیؓ کھڑے ہوئے اور عرض کی کہ جو بھی لوگ اس مجلس میں بیٹھے ہوئے ہیں گو مَیں عمر میں ان سب سے چھوٹا ہوں لیکن آپ نے جو فرمایا ہے مَیں اس بارے میں آپ کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہوں اور عہد کرتا ہوں کہ ہمیشہ ساتھ دوں گا۔ بہرحال اس کے بعد مکہ میں مخالفت عروج پہ پہنچ گئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کرنی پڑی۔ اُس وقت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہی اللہ تعالیٰ نے اس قربانی کی توفیق دی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو اپنے بستر پر لٹایا اور فرمایا تم یہاں لیٹے رہو تا کہ دشمن سمجھے کہ مَیں لیٹا ہوا ہوں۔ اُس وقت حضرت علیؓ نے یہ نہیں کہا کہ یا رسول اللہ! دشمن باہر گھیرا ڈال کے کھڑا ہے صبح جب انہیں پتا چلے گا تو بعیدنہیں کہ مجھے قتل کر دیں۔ بلکہ بڑے اطمینان کے ساتھ حضرت علیؓ آپ کے بستر پر سو گئے۔ اور صبح جب کفّار کو پتا چلا تو انہوں نے حضرت علیؓ کو بہت مارا پیٹا۔ لیکن بہرحال اُس وقت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر چکے تھے۔ حضرت علیؓ کی اس قربانی نے انہیں بعد میں کس قدر انعامات سے نوازا یا نوازنا تھا۔ یہ حضرت علیؓ کے علم میں نہیں تھا۔ کسی انعام کے لئے یا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے کے لئے انہوں نے قربانی نہیں دی تھی بلکہ خالصۃً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں، عشق میں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے قربانی دی تھی۔ اُس وقت یہ صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ انہیں اس قربانی کے بدلے میں کس قدر عزت ملنے والی ہے۔ اور نہ صرف حضرت علیؓ کو بلکہ نیکیوں پر قائم رہنے والی آپ کی اولاد کو اور نسلوں کو بھی اللہ تعالیٰ عزت سے نوازے گا۔

حضرت علیؓ پر پہلا فضل تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دامادی کا شرف حاصل ہوا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر حضرت علیؓ کے مختلف کاموں کی وجہ سے بڑی تعریف فرمائی۔ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کے لئے کسی جگہ تشریف لے جا رہے تھے تو حضرت علیؓ کو مدینے میں رہنے کا حکم دیا۔ حضرت علیؓ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑ کے جا رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا اے علیؓ ! کیا تمہیں یہ پسندنہیں کہ تمہاری میری نسبت وہ ہو جو ہارونؑ کی موسیٰ ؑ سے تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ ہارونؑ کو پیچھے چھوڑ کر گئے تھے۔ اس سے ہارون کی عزت کم نہیں ہوئی تھی۔ پس حضرت علیؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بھی اللہ تعالیٰ نے عزت اس طرح قائم فرمائی اور پھر آپ تک ہی نہیں بلکہ اسلام میں جو اکثر اولیاء اور صوفیاء گزرے ہیں وہ حضرت علی کی اولاد میں سے ہی ہیں یا تھے اور ان اولیاء کو بھی اللہ تعالیٰ نے معجزات اور اپنی تائیدات عطا فرمائیں۔ حضرت مصلح موعودؓ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے بیان فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے میں نے ایک واقعہ سنا ہوا ہے اور وہ واقعہ یہ ہے کہ ہارون الرشیدنے امام موسیٰ رضا کو کسی وجہ سے قید کر دیا اور ان کے ہاتھوں اور پاؤں میں رسّیاں باندھ دیں۔ اس زمانے میں سپرنگ دار گدیلے تو نہ تھے۔ عام روئی کے گدیلے ہوتے تھے۔ ہارون الرشید اپنے محل میں آرام سے ان آرام دہ گدیلوں پر سویا ہوا تھا کہ اس نے خواب میں دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غضب کے آثار ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ہارون الرشید! تم ہم سے محبت کا دعویٰ کرتے ہو مگر تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم آرام دِہ گدیلوں پر گہری نیند سو رہے ہو اور ہمارا بچہ شدت گرما میں ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے قید خانے کے اندر پڑا ہے۔ یہ نظارہ دیکھ کر ہارون الرشید بیتاب ہو کر اٹھ بیٹھا اور اپنے کمانڈروں کو ساتھ لے کر اسی جیل خانے میں گیا اور اپنے ہاتھ سے امام موسیٰ رضا کے ہاتھوں اور پاؤں کی رسّیاں کھولیں۔ انہوں نے ہارون الرشید سے کہا کہ آپ تو میرے اتنے مخالف تھے۔ اب کیا بات ہوئی ہے کہ خود چل کر یہاں آ گئے۔ ہارون الرشیدنے اپنا خواب سنایا اور کہا مَیں آپ سے معافی چاہتا ہوں۔ مَیں اصل حقیقت کو نہ جانتا تھا۔

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں۔ اب دیکھو اس زمانے میں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علیؓ کے زمانے میں کتنا بڑا فاصلہ تھا۔ ہم نے کئی بادشاہوں کی اولادوں کو دیکھا ہے کہ وہ در بدر دھکے کھاتی پھرتی ہیں۔ فرماتے ہیں کہ مَیں نے خود دِلّی میں ایک سقّہ دیکھا جو پانی کی مشکیں اٹھایا کرتا تھا، پانی پلایا کرتا تھا جو شاہان مغلیہ کی اولاد میں سے تھا۔ وہ لوگوں کو پانی پلاتا پھرتا تھا مگر اس میں اتنی حیا ضرور تھی کہ وہ مانگتا نہیں تھا اور محنت کر رہا تھا۔ لیکن بہرحال وہ بادشاہ کی اولاد ہونے کے باوجود ایک عام مزدور کی حیثیت سے رہ رہا تھا۔ دوسری طرف دیکھو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد کو کہ اتنی پشتیں گزرنے کے بعد بھی خدا تعالیٰ ایک بادشاہ کو رؤیا میں ڈراتا ہے اور ان سے حسن سلوک کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ اگر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس اعزاز کا پتا ہوتا اور ان کو غیب کا علم ہوتا اور وہ محض اس عزت افزائی کے لئے اسلام قبول کرتے تو ان کا ایمان صرف سودا اور دوکانداری رہ جاتا، کسی انعام کا موجب نہ بنتا۔‘‘ (ماخوذ از تفسیر کبیر۔ جلد 7 صفحہ 26)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ ایک ولی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ جہاز میں سوار تھا سمندر میں طوفان آ گیا۔ قریب تھا کہ جہاز غرق ہو جاتا۔ اس کی دعا سے بچا لیا گیا۔ اور دعا کے وقت اس بزرگ کو الہام ہوا کہ تیری خاطر ہم نے سب کو بچا لیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا دیکھو یہ باتیں نری زبانی جمع خرچ سے حاصل نہیں ہوتیں بلکہ اس کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنا پڑتا ہے۔ نیکیوں کو جاری رکھنا پڑتا ہے جو اپنے آباء کی نیکیاں ہیں۔ پس نیکوں کی نسل ہونا، ولیوں کی نسل ہونا، بزرگوں کی نسل ہونا بھی اُسی وقت فائدہ دیتا ہے جب خود بھی نیکیوں پر انسان قائم ہو اور اللہ تعالیٰ سے تعلق ہو۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت مسیح موعودؑ کے بارے میں بیان کردہ بعض اور باتیں بھی اس وقت آپ کے سامنے پیش کروں گا۔ حضرت مصلح موعودؓ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نماز باجماعت کی پابندی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نماز اتنی پیاری تھی کہ جب کبھی بیماری وغیرہ کی وجہ سے آپ تشریف نہ لا سکتے اور گھر میں ہی نماز ادا کرنی پڑتی تھی تو والدہ صاحبہ یا گھر کے بچوں کو ساتھ ملا کر نماز باجماعت پڑھا کرتے تھے۔‘‘ (خطبات محمود جلد 13 صفحہ 538)۔ صرف نماز نہیں پڑھتے تھے بلکہ باجماعت نماز پڑھتے تھے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود ایک موقع پر نماز باجماعت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ تمام انسانوں کو ایک نفس واحد کی طرح بنا دے۔ اس کا نام وحدت جمہوری ہے۔ آپ نے فرمایا کہ مذہب سے بھی یہی منشاء ہوتا ہے کہ تسبیح کے دانوں کی طرح وحدت جمہوری کے ایک دھاگے میں سب پروئے جائیں۔ مذہب وہی ہے جو سب کو اکٹھا کر دے، ایک بنا دے۔ فرمایا کہ یہ نمازیں باجماعت جو ادا کی جاتی ہیں وہ بھی اس وحدت کے لئے ہی ہیں تا کہ کُل نمازیوں کا ایک وجود شمار کیا جاوے اور آپس میں مل کر کھڑے ہونے کا حکم اس لئے ہے کہ جس کے پاس زیادہ نور ہے وہ دوسرے کمزور میں سرایت کر کے اسے قوت دیوے۔ یعنی نمازی ایک دوسرے سے قوت حاصل کریں۔ فرمایا اس وحدت جمہوری کو پیدا کرنے اور قائم رکھنے کی ابتدا اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے کی ہے کہ اوّل یہ حکم دیا کہ ہر ایک محلہ والے پانچ وقت نمازوں کو باجماعت محلّے کی مسجد میں ادا کریں تا کہ اخلاق کا تبادلہ آپس میں ہو اور انوار مل کر کمزوری کو دور کریں اور آپس میں تعارف ہو کر اُنس پیدا ہو جاوے۔ فرمایا کہ تعارف بہت عمدہ شئے ہے کیونکہ اس سے اُنس بڑھتا ہے جو کہ وحدت کی بنیاد ہے۔

پس باجماعت نماز کا جہاں انسان کو ذاتی فائدہ ہوتا ہے، وہاں جماعتی فائدہ بھی ہے اور جو نمازوں پر مسجد میں نہیں آتے یا بعض ایسے بھی ہیں کہ آکر آپس میں رنجشوں کو دُور کر کے اُنس اور تعلق پیدا نہیں کرتے انہیں نمازیں پھر کوئی فائدہ نہیں دیتیں۔ کیونکہ ایک نماز کا عبادت کے علاوہ جو مقصد ہے ایک وحدت پیدا ہونا آپس میں اُنس اور محبت پیدا ہونا وہ حاصل نہیں ہوتا۔

پس اس سوچ کے ساتھ ہمیں اپنی نمازوں کی حفاظت بھی کرنی چاہئے اور اس سوچ کے ساتھ مسجد میں آنا چاہئے تا کہ ہم ایک ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور مقبول نمازیں ادا کرنے والے بنیں اور اس کی رضا حاصل کرنے والے بنیں۔ نمازوں کے ضائع ہونے کا ایک واقعہ حضرت امیر معاویہؓ کا ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے بیان فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ حضرت معاویہ کی صبح کے وقت آنکھ نہ کھلی اور کھلی تو دیکھا کہ نماز کا وقت گزر گیا ہے۔ اس پر وہ سارا دن روتے رہے۔ دوسرے دن انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک آدمی آیا اور نماز کے لئے اٹھاتا ہے۔ انہوں نے پوچھا تُو کون ہے؟ اس نے کہا شیطان ہوں جو تمہیں نماز کے لئے اٹھانے آیا ہوں۔ انہوں نے کہا تجھے نماز کے لئے اٹھانے سے کیا تعلق؟ یہ بات کیا ہے؟ اس نے کہا کہ کل جو میں نے تمہیں سوتے رہنے کی تحریک کی اور تم سوتے رہے اور نماز نہ پڑھ سکے اس پر تم سارا دن روتے رہے، فکر کرتے رہے۔ خدا نے کہا کہ اسے نماز باجماعت پڑھنے سے کئی گنا بڑھ کر ثواب دے دو۔ (یعنی اس رونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو کئی گنا ثواب دینے کا حکم دیا) تو مجھے اس بات کا بڑا صدمہ ہوا۔ (شیطان کہتا ہے کہ مجھے اس بات کا بڑا صدمہ ہوا) کہ نماز سے محروم رکھنے پر تمہیں اور زیادہ ثواب مل گیا۔ آج میں اس لئے جگانے آیا ہوں کہ آج بھی کہیں تم زیادہ ثواب نہ حاصل کر لو۔ تو آپ فرماتے ہیں کہ شیطان تب پیچھا چھوڑتا ہے جب کہ انسان اس کی بات کا توڑ کرتا ہے، اس سے وہ مایوس ہو جاتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ (ماخوذ از ملائکۃاللہ۔ انوارالعلوم۔ جلد 5صفحہ 552)

پس ہمیں چاہئے کہ ہم بھی ہر موقع پر شیطان کو مایوس کریں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی حتی المقدور کوشش کریں اور اس کے حکموں پر چلنے کی کوشش کریں۔ اپنی نمازوں کی حفاظت کریں اور وقت پر ادا کرنے کی کوشش کیا کریں۔ بعض دفعہ بعض لوگ جلدبازی سے کام لیتے ہوئے کسی بات کی گہرائی میں جائے بغیر اپنی رائے قائم کر لیتے ہیں اور پھر بعض کمزور طبائع اس وجہ سے ٹھوکر بھی کھا جاتی ہیں۔ ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’ایک دعوت میں مَیں نے ایک شخص کو بائیں ہاتھ سے پانی پینے سے روکا۔ (بائیں ہاتھ سے پانی پی رہاتھا۔ میں نے اسے کہا کہ اگر کوئی جائز عذر نہیں ہے تو دائیں ہاتھ سے پانی پیو۔ تو اس نے کہا کہ حضرت صاحب (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) بھی بائیں ہاتھ سے پانی پیا کرتے تھے۔ حالانکہ حضرت صاحب کے ایسا کرنے کی ایک وجہ تھی اور وہ یہ کہ آپ بچپن میں گر گئے تھے جس سے ہاتھ میں چوٹ آئی تھی اور ہاتھ اتنا کمزور ہو گیا تھا کہ اس سے گلاس تو اٹھا سکتے تھے مگر منہ تک نہیں لے جا سکتے تھے۔ مگر (یہ نہیں کہ سنّت کی پابندی نہیں کرتے تھے) سنّت کی پابندی کے لئے آپ گو بائیں ہاتھ سے گلاس اٹھاتے تھے مگر نیچے دائیں ہاتھ کا سہارا بھی دے لیا کرتے تھے۔‘‘ (ماخوذ از الفضل 17؍اگست 1922ء۔ صفحہ 3 جلد 10 نمبر 13)

اپنے ہاتھ کی کمزوری کو خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ایک جگہ بیان فرمایا ہے۔ فرمایا کہ ایک دفعہ مَیں کچھ غیروں کے سامنے(احمدی نہیں تھے یا میرے مخالف تھے جو بحث کے لئے آئے ہوئے تھے) میں نے گلاس یا پیالی چائے کی اٹھائی تو سامنے بیٹھے ہوئے غیر نے اعتراض کر دیا کہ آپ سنّت پر عمل نہیں کرتے اور بائیں ہاتھ سے برتن پکڑ کر پینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود فرماتے ہیں کہ جلدبازی نے اور بدظنی نے اس کو اس پر مجبور کر دیا کہ مجھ پر اعتراض کرے۔ حالانکہ میرا ہاتھ چوٹ کی وجہ سے کمزور ہے اور مَیں دائیں ہاتھ سے پکڑ کر پیالی منہ تک نہیں لے جا سکتا لیکن نیچے دایاں ہاتھ ضرور رکھ لیتا ہوں۔ تو دشمن کو جہاں جلد بازی بدظنی کروا رہی ہے اور وہاں اپنے جو ہیں ان کی نا سمجھی اور جلد بازی کی سوچ اس بات پر حاوی ہو گئی ہے کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنّت کے خلاف یہ حرکت کر رہے ہیں حالانکہ ان کو وجہ معلوم کرنی چاہئے تھی اور جب حضرت مصلح موعودنے روکا تو رُک جانا چاہئے تھا اور پوچھنا چاہئے تھا اس کی کیا وجہ تھی؟ بہرحال یہ جلدبازیاں ہی ہیں جو پھر غلط قسم کی بدعات بھی پیدا کر دیتی ہیں۔ غلط قسم کی خود ہی تفسیریں کر کے انسان خود غلط نتائج اخذ کر لیتا ہے۔

اب ایک اور واقعہ توکّل کے حوالے سے بیان کرتا ہوں۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنے ہوئے ایک واقعہ کا ذکر فرماتے ہیں۔ فرمایا کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک بات مَیں نے بارہا سنی ہے۔ آپ ترکیہ کے سلطان عبدالحمید خان کا جو معزول ہو گئے تھے ذکر کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ سلطان عبدالحمید خان کی ایک بات مجھے بڑی ہی پسند ہے۔ جب یونان سے جنگ کا سوال اٹھا تو اس سلطان کے وزراء نے بہت سے عذرات پیش کئے۔ دراصل سلطان عبدالحمید خان کا منشاء تھا کہ جنگ ہو، مگر وزراء کا منشاء نہیں تھا اس لئے انہوں نے بہت سے عذرات پیش کئے۔ آخر انہوں نے کہا کہ جنگ کے لئے یہ چیز بھی تیار ہے اور وہ چیز بھی تیار ہے لیکن اہم چیز کا ذکر کرکے کہہ دیا کہ فلاں امر کا انتظام نہیں ہو سکا جو جنگ کے لئے ضروری ہے۔ (وزراء یہ مشورے دے رہے تھے۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں) مثلاً یوں سمجھ لو کہ انہوں نے کہا اور غالباً یہی کہا ہو گا کہ تمام یورپین طاقتیں اس وقت اس بات پر متحد ہیں کہ یونان کی امداد کریں اور اس کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ جب وزراء نے اپنا مشورہ پیش کیا اور مشکلات بتائیں اور کہا کہ فلاں چیز کا انتظام نہیں تو سلطان عبدالحمیدنے جواب دیا کہ کوئی خانہ تو خدا کے لئے بھی چھوڑنا چاہئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سلطان عبدالحمید کے اس فقرے سے بہت ہی لطف اٹھاتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اس کی یہ بات بہت ہی پسند ہے۔ تو مومن کے لئے اپنی کوششوں میں سے ایک خانہ خدا کے لئے بھی چھوڑنا ضروری ہوتا ہے۔ اور درحقیقت سچی بات یہ ہے کہ مومن کبھی بھی ایسے مقام پر نہیں پہنچتا بلکہ دراصل کوئی شخص بھی ایسے مقام پر نہیں پہنچتا جب وہ کہہ سکے کہ اب کوئی رستہ کمزوری کا باقی نہیں رہا اور ہر چیز میں ایک پرفیکشن (perfection) پیدا ہو گئی ہے۔ اگر کوئی انسان کہے کہ مَیں اپنا کام ایسا مکمل کر لوں کہ اس میں کوئی رخنہ اور سوراخ باقی نہ رہے تو یہ حماقت ہو گی۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں مگر اسی طرح یہ بھی حماقت ہے کہ انسان اسباب کو بالکل نظر انداز کر دے کہ ظاہری چیزوں کا انتظام نہ کرے۔ آپ نے فرمایا کہ اس وقت یورپین قومیں پہلی حماقت میں مبتلا ہیں یعنی خدا کا خانہ بالکل چھوڑ دیا ہے اور مسلمان دوسری حماقت میں‘‘۔ (ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 6صفحہ 542)۔ کہ غلط قسم کا توکّل کر کے ہاتھ پیر ہلانے چھوڑ دئیے ہیں۔ عموماً مغربی قومیں خدا کو بھول گئی ہیں اور مسلمان بھی عموماً اپنے معاملات میں عملاً اللہ کے توکّل کے نام پر محنت نہیں کرتے یا غلط قسم کے استنباط کرنے لگ جاتے ہیں۔ اس لئے عموماً نوجوانوں کے ذہنوں میں یہاں بھی یہ سوال اٹھتے رہتے ہیں کہ ترقی یافتہ قومیں خدا سے دور جا کر شاید ترقی کر رہی ہیں اور مسلمان مذہب کی وجہ سے انحطاط کا شکار ہو رہے ہیں۔ جبکہ حقیقتاً مسلمان اپنے نکمّے پَن اور توکّل کے غلط تصور کی وجہ سے اپنی ساکھ کھو بیٹھے ہیں اور کمزوری کا شکار ہو رہے ہیں اور جہاں کچھ کرتے ہیں وہاں بھی ان کی بالکل غلط approachہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کی آیت ہے کہ وَفِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ  (الذاریات: 23) اور آسمان میں تمہارا رزق بھی ہے اور جو کچھ وعدہ کیا جاتا ہے وہ بھی ہے۔ فرمایا اس سے ایک نادان دھوکہ کھاتا ہے اور تدابیر کے سلسلے کو باطل کر دیتا ہے۔ مسلمان سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے وہ ملے گا۔ اس لئے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ خود ہی سب کچھ بھیج دے گا۔ فرمایا حالانکہ سورۂ جمعۃ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ (الجمعۃ: 11)۔ تم زمین میں منتشر ہو جاؤ اور خدا کے فضل کو تلاش کرو اور خدا کا فضل تلاش کرنا یہی ہے کہ محنت کرو اور اپنے قویٰ کو استعمال میں لاؤ۔ فرمایا کہ یہ نہایت نازک معاملہ ہے کہ ایک طرف تدابیر کی رعایت ہو، دوسری طرف توکّل بھی پورا ہو۔ فرمایا اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ تدابیر بھی پوری ہوں۔ جو اسباب ہیں ظاہری ان کو بھی پوری طرح کرو اور پھر اللہ تعالیٰ پر توکّل کرو۔ یہ حقیقی مومن کی نشانی ہے اور فرمایا کہ اس کے اندر شیطان کو وساوس کا بڑا موقع ملتا ہے۔ یعنی تدابیر کرنا اور اللہ پہ توکّل کرنا ان دونوں چیزوں کے درمیان جو فرق ہے بڑا ضروری ہے اور دونوں چیزیں کرنی انتہائی ضروری ہیں اور شیطان ان دونوں کے بیج میں آ کے رخنہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے، ایمان خراب کرتا ہے۔ اس لئے اس بات کا خیال رکھو۔ فرمایا کہ بعض لوگ ٹھوکر کھا کر اسباب پرست ہو جاتے ہیں اور بعض لوگ خدا کے عطا کردہ قُویٰ کو بیکار محض خیال کرنے لگ جاتے ہیں۔ فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کو جاتے تو تیاری کرتے تھے۔ گھوڑے ہتھیار بھی ساتھ لیتے تھے۔ بلکہ آپ بعض اوقات دو دو زرہیں پہن کر جاتے تھے۔ تلوار بھی کمر سے لٹکاتے تھے۔ حالانکہ ادھر خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا کہ وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ(المائدۃ: 68)  اور اللہ تجھے لوگوں کے حملوں سے محفوظ رکھے گا۔ پس تدبیر پوری کر کے پھر توکّل کا حکم ہے۔ اسی طرح ہر معاملے میں محنت کر کے پھر توکّل کا حکم ہے۔ اس کے بغیر خدا تعالیٰ کی مددنہیں آتی۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے کہ ’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے‘۔

اس کی ایک بڑی خوبصورت تشریح حضرت مصلح موعودؓ نے فرمائی ہے جو مَیں بیان کرتا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’اس نے خود (یعنی اللہ تعالیٰ نے خود) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام فرمایا ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اور جب وہ وقت آئے گا کہ بادشاہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے تو وہ کونسے احمق ہوں گے (آپ اپنے سامنے بیٹھے ہوؤں کو مخاطب ہو کر فرما رہے ہیں ) جو تم سے برکت حاصل نہیں کریں گے۔ کپڑے تو بے جان چیز ہیں اور تم جاندار ہو۔ (اس وقت سامنے آپ کے بعض صحابہ بھی ہوں گے۔ بعض تابعی بھی ہوں گے۔ تبع تابعین بھی ہوں گے) فرمایا کون سے احمق ہوں گے جو تم سے برکت حاصل نہیں کریں گے۔ کپڑے تو بے جان چیز ہیں اور تم جاندار ہو۔ جب وہ وقت آئے گا کہ بادشاہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے تو آپ کے صحابہ اور تابعین اور پھر تبع تابعین سے بھی ان کے درجات کے مطابق برکت حاصل کی جائے گی۔ کیا تم نے دیکھا نہیں کہ حضرت امام ابوحنیفہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کتنے فاصلے پر تھے۔ (یعنی کتنی دیر بعد پیدا ہوئے) لیکن بغداد کے بادشاہ ان سے برکت ڈھونڈتے تھے بلکہ صرف انہی سے برکت نہیں ڈھونڈتے تھے بلکہ ان کے شاگردوں سے بھی برکت ڈھونڈتے تھے۔ پس تم اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہو کہ طاقت مل جانے کے بعد تم کہیں ظلم نہ کرنے لگ جاؤ اور تمہاری امن پسندی (محاورہ ہے کہ) ’عصمت بی بی از بے چادری‘ والی نہ ہو۔ یعنی مجبوری کی نیکی نہ ہو۔ وہ ایسی نیکی نہ ہو کہ جس کے کئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے بلکہ حقیقت میں تمہاری نیکیاں ہو رہی ہوں۔ فرمایا کہ اگر تم طاقت ملنے پر ظالم بن جاؤ گے تو تمہاری آج کی نرمی بھی ضائع ہو جائے گی اور خدا تعالیٰ کہے گا کہ پہلے تو تمہارے ناخن ہی نہیں تھے اس لئے تم نے سر کھجلانا کیسے تھا۔ اب میں نے تمہیں ناخن دئیے ہیں تو تم نے سر کھجلانا بھی شروع کر دیا ہے۔ پس تم خوشی منانے کے ساتھ ساتھ استغفار بھی کرتے رہو اور اپنے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی دعائیں کرو‘‘۔

یہ بڑی ضروری چیز ہے کہ آج ہم امن امن کی باتیں کرتے ہیں، سلامتی کی باتیں کرتے ہیں جب سب کچھ ملے، جب بادشاہ احمدی مسلمان ہوں اور برکت حاصل کرنے کی کوشش کریں اس وقت ہمارا جو امن اور سلامتی کا پیغام ہے وہ پھیلنا چاہئے۔ اس وقت محبت اور پیار پھیلنا چاہئے۔ نہیں تو پھر آج کل تو مجبوری کی باتیں ہوں گی۔

فرمایا کہ ’’اور وہ دن دُور نہیں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ الہام پورا ہو گا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ بادشاہتیں تو آہستہ آہستہ ختم ہی ہو رہی ہیں لیکن ملک کا پریذیڈنٹ بھی اور صدر بھی بادشاہ ہی ہوتا ہے۔ اگر روس کا وزیر اعظم اور صدر مسلمان ہو جائیں تو وہ بھی بادشاہ سے اپنی حیثیت سے کم نہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ لیکن وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑوں سے اسی وقت برکت ڈھونڈیں گے جب تم آپ (علیہ السلام) کی کتابوں سے برکت ڈھونڈنے لگ جاؤ۔‘‘

یہ ایک تعلق ہے۔ وہ بادشاہ اس وقت برکت ڈھونڈیں گے جب تم لوگ جو پرانے احمدی ہو، پہلے احمدی ہو، صحابہ کی اولاد کہلاتے ہو، تابعین ہو، تبع تابعین ہو یا بہرحال ان بادشاہوں سے بہت پہلے احمدیت قبول کرنے والے ہو، تم لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں سے برکت ڈھونڈو۔ اور کتابوں سے برکت ڈھونڈنا یہ ہے کہ آپ کی کتابوں کو پڑھو، علم حاصل کرو، ان مسائل کو جانو جو حقیقی اسلام کے بارے میں ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ’’جب تم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب سے برکت ڈھونڈنے لگ جاؤ گے تو خدا تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر دے گا جو کہ آپ کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے‘‘۔ تبلیغ ہو گی۔ پھیلے گی۔ بادشاہتیں آئیں گی تب وہ کپڑوں سے برکت ڈھونڈھنے کی کوشش بھی کریں گے۔ لیکن پھر آپ نے انجمن کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تبرکات ہیں کپڑے ہیں ان کو صحیح طرح رکھنے کا انتظام نہیں ہے۔ اب تبرکات کے لئے اللہ کے فضل سے ربوہ میں بھی، قادیان میں بھی کام ہو رہا ہے۔ کافی حد تک اس پہ کام ہو چکا ہے اور محفوظ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بہرحال آپ نے انجمن کو توجہ دلائی کہ اس کا کام ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کپڑوں کے تبرکات کو محفوظ کیا جائے اور فرمایا کہ بعض ماہر ڈاکٹروں کو یا سپیشلسٹ کو بلایا جائے جو اس بات پر غور کریں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کپڑے کس طرح محفوظ کئے جا سکتے ہیں۔ ان کپڑوں کو شیشوں میں بند کر کے اس طرح رکھا جائے کہ وہ کئی سو سال تک محفوظ رہتے چلے جائیں یا انہیں ایسے ممالک میں بھیجا جائے جہاں کپڑوں کو کیڑا نہیں لگتا مثلاً امریکہ ہے۔ وہاں یہ کپڑے بھیج دئیے جائیں تا کہ انہیں محفوظ رکھا جا سکے اور آئندہ آنے والی نسلیں اس سے برکت حاصل کر سکیں۔ فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد والدہ صاحبہ کی خواہش تھی کہ عمر میں بڑا ہونے کی وجہ سے آپ کی اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ والی انگوٹھی مجھے ملے۔ ہم تین بھائی تھے اور تین ہی انگوٹھیاں تھیں۔ مگر باوجود خواہش کے حضرت اُمُّ المومنین حضرت اماں جان نے قرعہ ڈالا اور حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ عجیب بات یہ ہے کہ قرعہ تین بار ڈالا اور تینوں دفعہ اَلَیْسَ اللّٰہ والی انگوٹھی میرے نام نکلی اور غَرَسْتُ لَکَ بِیَدِیْ رَحْمَتِیْ وَقُدْرَتِیْ والی انگوٹھی میاں بشیر احمد صاحب کے نام نکلی جو حضرت مصلح موعودؓ کے دوسرے بھائی تھے اور تیسری انگوٹھی جو وفات کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ میں پہنی ہوئی تھی اس پر ’مولیٰ بس‘ لکھا ہوا تھا تینوں دفعہ میاں شریف احمد صاحب کے نام نکلی۔ اب دیکھو کتنا خدائی تصرف ہے کہ ایک بار قرعہ ڈالنے میں غلطی ہو سکتی ہے لیکن تین بار ڈالا گیا اور تینوں دفعہ میرے نام اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ کی انگوٹھی نکلی اور میاں بشیر احمد صاحب کے نام غَرَسْتُ لَکَ بِیَدِیْ رَحْمَتِیْ وَقُدْرَتِیْ والی انگوٹھی نکلی۔ اور میاں شریف احمد صاحب کے حصے میں وہ انگوٹھی آئی جس پر ’مولیٰ بس‘ لکھا ہوا تھا۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ میں نے نیت کی ہوئی تھی کہ میں اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ والی انگوٹھی جماعت کو دے دوں گا لیکن میں اس وقت تک اسے کس طرح دے دوں۔ (جب آپ فرما رہے ہیں اس وقت) کہ انتظام ہی نہیں تمہارے پاس اس کو محفوظ کرنے کا جب تک کہ وہ (جماعت) اس کی نگرانی کی ذمہ داری نہ لے لے۔ اگر وہ انگوٹھی میرے بچوں کے پاس رہے تو وہ کم سے کم اسے اپنی ملکیت سمجھ کر اس کی حفاظت تو کریں گے لیکن میرا دل چاہتا ہے کہ میں یہ انگوٹھی اپنے بچوں کو نہ دوں بلکہ جماعت کو دے دوں۔ اس کے لئے میں نے ایک اور تجویز بھی کی ہے کہ اس انگوٹھی کا کاغذ پر عکس لے لیا جائے اور بعد میں اسے زیادہ تعداد میں چھپوا لیا جائے پھر نگینے والی انگوٹھیاں تیار کی جائیں لیکن نگینہ لگانے سے پہلے گڑھے میں اس عکس کو دبا دیا جائے اس طرح ان انگوٹھیوں کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی انگوٹھی سے براہ راست تعلق ہو جائے گا۔ گویا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ۔ نگ بھی ہو گا اور وہ عکس بھی نگ کے نیچے دبا ہوا ہو گا۔ پھر اس قسم کی انگوٹھیاں مختلف ممالک میں بھیج دی جائیں۔ مثلاً ایک انگوٹھی امریکہ میں رہے۔ ایک انگلینڈ میں رہے۔ ایک سوئٹزرلینڈ میں رہے۔ اس طرح ایک ایک انگوٹھی دوسرے ممالک میں بھیج دی جائے تا اس طرح ہر ملک میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تبرک محفوظ رہے۔ (بعد میں پھر آپ نے یہی فیصلہ فرمایا کہ اَلَیْسَ اللّٰہ والی انگوٹھی خلافت کو دے دی جائے اور آپ نے فرمایا کہ میرے بعد جو بھی خلیفہ ہو اس کو میری یہ انگوٹھی دے دی جائے۔ اس طرح وہ آگے چلتی جا رہی ہے۔) فرماتے ہیں کہ پچھلے دنوں مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک پرانی تحریر ملی تھی۔ مَیں نے وہ تحریر انڈونیشیا بھیج دی تا اس امانت کو وہاں محفوظ رکھا جائے اور اس سے وہاں کی جماعت برکت حاصل کرے۔‘‘ (اب انڈونیشیا والے ہی بتا سکتے ہیں کہ کیا وہ تحریر ان کے پاس محفوظ ہے یا نہیں۔) فرمایا کہ مگر الہام میں کپڑوں کا ذکر ہے یعنی خدا تعالیٰ نے آپ کو یہ الہام فرمایا تھا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ اس لئے چاہئے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑوں کو ایسی جگہ بھجوا دیں جہاں کیڑا نہیں لگتا تا کہ وہ زیادہ لمبے عرصے تک محفوظ رہیں۔ پھر آپ نے نوجوانوں کو فرمایا کہ نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ آگے آئیں اور اپنی ذمہ داری کو سمجھیں (کیونکہ نئی نئی چیزیں، نئے انتظامات نوجوان زیادہ بہتر رنگ میں کر سکتے ہیں کیونکہ وہ نئی روشنی کے لحاظ سے، نئی تعلیم کے لحاظ سے، سائنس کے لحاظ سے پڑھے لکھے بھی ہوں گے اور فرمایا کہ اس کو پھر اسلام کی خدمت کے لئے استعمال کریں تا کہ آپ کو بھی یہ دن دیکھنا نصیب ہو کہ ان کی وجہ سے ملکوں کے ملک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ہیں۔‘‘

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جن کتب کا ذکر ہوا۔ ابتداء میں یہ کتب کس طرح شائع کی جاتی تھیں اس بارے میں کچھ بیان کردوں۔ ابتدائی زمانہ تھا جب کتب تحریر فرما رہے تھے تو وسائل بہت کم تھے اس وقت کی تصویر کشی کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کاتبوں کے نخرے برداشت کرتے تھے اور کس طرح معیار اچھا رکھنے کی کوشش فرماتے تھے۔ اس بارے میں آپ حضرت میر مہدی حسن صاحب کے بارے میں فرماتے ہیں۔ (پہلے یہ احمدی نہیں تھے۔ جس زمانے کا ذکر ہے اس زمانے میں یہ احمدی نہیں تھے) کہ میر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں چھپوائی کے انچارج تھے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کسی کتاب کی کاپی چھپتی تو وہ بڑے غور سے پڑھتے تھے۔ (یہ بعد کا زمانہ ہے) مثلاً اگر کہیں فل سٹاپ بھی غلط جگہ لگا ہوتا تو اس کاپی کو تلف کر دیتے اور نئی لکھواتے۔ اس طرح کام کرنے والے دو چار دن تک جب تک کہ نئی کاپی تیار نہ ہوتی یونہی بیٹھے رہتے۔ (اس زمانے کا پریس کا بھی اور لکھنے کا انتظام بھی اَور طرح کا تھا۔ آجکل کی طرح نہیں کہ کمپیوٹر پر بیٹھے اور فوراً پرنٹنگ کر دی۔ اس کے باوجود بیشمار غلطیاں آجکل بھی ہوتی ہیں۔ بہرحال کہتے ہیں ) پھر جب وہ تیار ہوتی تو پھر وہ دیکھتے اور اگر کوئی غلطی دیکھتے تو پھر اسے تلف کر دیتے اور اس وقت تک کتاب چھپنے نہ دیتے جب تک کہ انہیں یقین نہ آتا کہ اب اس میں کوئی غلطی نہیں ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دریافت فرماتے کہ کتاب چھپنے میں اتنی دیر کیوں لگی تو وہ کہتے کہ حضور ابھی پروف میں بڑی غلطیاں ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی صاف اور اچھی چیز چاہتے تھے۔ اس لئے آپ کبھی بھی اس بات کا خیال نہ فرماتے کہ مزدور اور کام کرنے والے یونہی بیٹھے ہیں اور مفت کی تنخواہیں کھا رہے ہیں۔ (اس بات کی فکر نہیں تھی کہ جو لکھنے والے ہیں یا دوسرے کام کرنے والے وہ یونہی بیٹھے ہیں بلکہ کیونکہ اچھی کوالٹی چاہئے تھی اس لئے آپ کہتے تھے ٹھیک ہے معیار اچھا ہونا چاہئے اگر یہ چند دن فارغ بیٹھ کر تنخواہ بھی لے لیں تو کوئی حرج نہیں )۔ بلکہ آپ کی بھی یہی خواہش ہوتی تھی کہ لوگوں کے سامنے اچھی چیز پیش ہو۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ بھی عادت تھی کہ کتاب میں ذرا نقص ہوتا تو اس کو پھاڑ دینا اور فرمانا دوبارہ لکھو۔ کاتب نے پھر کتاب لکھنی اور اگر کہیں ذرا بھی نقص ہوتا تو اسے پھاڑ دینا اور جب تک اچھی کتابت نہ ہوتی اس وقت تک مضمون چھپنے کے لئے نہ دینا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن سے کتابت کرواتے تھے وہ شروع میں تو احمدی نہیں تھے لیکن بعد میں احمدی ہو گئے۔ ان کا لڑکا بھی احمدی ہو گیا۔ جو کتابت کرنے والیتھے ان میں یہ خوبی تھی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قدر پہچانتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان کی قدر پہچانتے تھے۔ باوجود غیر احمدی ہونے کے جب بھی حضرت صاحب کو کتابت کی ضرورت ہوتی تو (جن سے بھی کتابت کرواتے تھے) انہیں قادیان بلایا جاتا۔ فرمایا کہ اس زمانے میں تنخواہیں کم ہوتی تھیں۔ پچیس روپیہ ماہوار اور روٹی کے لئے الاؤنس ملتا تھا۔ ان کی (کتابت کرنے والے کی) یہ عادت تھی کہ جب کام ختم ہونے کے قریب پہنچتا تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آنا اور کہنا حضور سلام عرض کرنے آیا ہوں مجھے اب گھر جانے کی اجازت دے دیں۔ تو آپ نے فرماناکہ کیوں اتنی جلدی کیا پڑی ہے۔ ابھی تو کتابیں چھپ رہی ہیں۔ ہمیں کاتبوں کی، کتابت کی ضرورت ہے۔ تو انہوں نے کہنا حضور ضرور جانا ہے۔ آپ نے فرمانا ابھی تو کچھ کتابت باقی ہے۔ کہنا حضور یہاں تو روٹی پکانی پڑتی ہے۔ اس پر سارا دن صَرف ہو جاتا ہے اور روٹی پکایا کروں یا کتابت کیا کروں۔ سارا دن روٹی پکانے میں لگ جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمانا اچھا آپ کی روٹی کا مَیں لنگر سے انتظام کروا دیتا ہوں۔ اس طرح ان کو پینتیس روپے تنخواہ بھی مل جاتی اور روٹی بھی مفت مل جاتی۔ کچھ دن کے بعد انہوں نے پھر حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنا کہ حضور سلام عرض کرنے آیا ہوں، جانے کی اجازت چاہتا ہوں۔ حضرت صاحب نے پوچھنا کیوں کیا بات ہے۔ کہنا حضور لنگر کی روٹی بھی کوئی روٹی ہے۔ دال الگ ہے پانی الگ ہے اور نمک ہے ہی نہیں۔ (یہاں بھی آجکل بعض دفعہ اس طرح ہی پک جاتی ہے) اور کسی وقت اتنی مرچیں ڈال دینی کہ آدمی کو سوکھی روٹی کھانی پڑتی ہے۔ یہ روٹی کھا کر کوئی انسان کام نہیں کرسکتا۔ آپ نے فرمانا اچھا تو بتاؤ کیا کروں پھر۔ تو انہوں نے کہنا اس کے لئے کچھ رقم الگ دے دیا کریں اس مصیبت سے تو خود روٹی پکانے کی مصیبت اٹھانا بہتر ہے۔ مَیں خود روٹی پکا لیا کروں گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دس روپے اور بڑھا دینے اور کہنا لو اب آپ کو پینتالیس روپے ملا کریں گے۔ پچیس روپے سے شروع ہوئے پینتالیس تک آ گئے۔ پھر انہوں نے دس دن کے بعد آ جانا اور کہنا حضور سلام عرض کرنے آیا ہوں۔ مجھے گھر جانے کی اجازت دیں۔ یہاں سارا دن روٹی پکاتا رہتا ہوں کام کیا کروں۔ آپ نے فرمانا پھر کیا کریں۔ کہنا حضور لنگر خانے میں انتظام کروا دیں۔ آپ نے فرمانا اچھا تمہیں پینتالیس روپے ملتے رہیں گے اور کھانا بھی لنگر خانے سے مَیں لگوا دیتا ہوں۔ انہوں نے واپس آ کر پھر کام شروع کر دینا۔ کچھ دنوں کے بعد پھر آجانا اور کہنا حضور سلام عرض کرنے آیا ہوں۔ جانے کی اجازت چاہتا ہوں۔ حضور نے پوچھنا بات کیا ہے۔ کہنا حضور لنگر کی روٹی تو مجھ سے نہیں کھائی جاتی۔ بھلا یہ بھی کوئی روٹی ہے۔ آپ مجھے دس روپے روٹی کے لئے دے دیں مَیں خود انتظام کر لوں گا۔ حضرت صاحب نے دس روپے بڑھا کر پچپن روپے کر دئیے۔ چونکہ وہ حضرت صاحب کی طبیعت سے واقف تھے۔ انہوں نے اپنے لڑکے کو سکھایا ہوا تھا کہ مَیں تیرے پیچھے ڈنڈا لے کر بھاگوں گا اور تُو شور مچاتے ہوئے حضرت صاحب کے کمرے میں گھس جانا اور اس طرح کہنا۔ چنانچہ باپ نے ڈنڈا لے کر اس کے پیچھے بھاگنا اور اس نے شور مچاتے اور چیختے چلّاتے ہوئے حضرت صاحب کے کمرے میں گھس جانااور کہنا حضور مار دیا مار دیا۔ اتنے میں والدنے بھی آ جانا اور کہنا باہر نکل تیری خبر لیتا ہوں۔ حضرت صاحب نے یہ حالت دیکھ کر پوچھنا کہ کیا بات ہے۔ کیوں چھوٹے بچے کو مارتے ہو؟ کہنا حضور سات آٹھ دن ہوئے اس کو جوتی لے کر دی تھی وہ اس نے گم کر دی ہے۔ اس وقت مَیں خاموش رہا۔ پھر لے کر دی وہ بھی گم کر دی۔ اب مجھ میں طاقت کہاں ہے کہ اس کو اَور جوتی لے کر دوں۔ میں اسے سزا دوں گا۔ اگر آج سزا نہ دی تو کل پھر جوتی گم کر دے گا۔ حضرت صاحب نے بتانا میاں بتاؤ جوتی کتنے کی آتی ہے؟ کہنا حضور تین روپے کی۔ حضرت صاحب نے فرمانا اچھا تین روپے لے لو اور اس کو کچھ نہ کہو۔ تین روپے لے کر واپس آ جانا۔ چار دن بھی نہیں گزرے ہوں گے پھر لڑکے نے شور مچانا۔ حضرت صاحب کے کمرے میں گھس جاتا تھا۔ شور مچاتا ہوا۔ انہوں نے پھر لاٹھی لے کر اس کے پیچھے پیچھے آنا اور کہنا باہر نکل۔ اس دن حضرت صاحب کے کہنے پر چھوڑ دیا تو آج تجھے نہیں چھوڑوں گا۔ یہ اسے کہتے۔ حضرت صاحب نے پوچھنا کیا بات ہوئی۔ آج کیوں بچے کو مارتے ہو؟ اس نے کہنا حضور اس دن تو میں نے آپ کے کہنے پر چھوڑ دیا تھا۔ آج اسے نہیں چھوڑنا۔ آج پھر یہ جوتی گم کر آیا ہے۔ حضرت صاحب نے فرمانا اسے نہ مارو جوتی کی قیمت مجھ سے لے لو۔ پھر انہوں نے جو رقم بتانی وصول کر کے لے جانی اور کہنا حضور میں نے اس دفعہ چھوڑنا تو نہیں تھا لیکن آپ کے فرمانے پر چھوڑ دیتا ہوں۔ غرض اس طرح انہوں نے کرتے رہنا لیکن کتابت ایسی اچھی کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام انہی سے اپنی کتابیں لکھوایا کرتے تھے اور یہ پسندنہیں کرتے تھے کہ کسی معمولی کاتب سے کتاب لکھوا کر خراب کی جائے کیونکہ اس طرح کتاب کا معیار لوگوں کی نظر میں کم ہو جاتا ہے۔ (ماخوذ از انوارالعلوم۔ جلد 18 صفحہ 227 تا 230)

بہرحال یہ تو ایک لطیفہ تھا کہ جوتی کا ذکر کیا یا تنخواہ بڑھانے کا ذکر کیا لیکن اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اپنی کتب کی چھپوائی کے بارے میں جو ایک خاص فکر نظر آتی ہے اس کا پتا چلتا ہے کہ غیروں کے سامنے بھی اسلام کے دفاع اور اس کی خوبصورتی کے بارے میں جو ممکنہ عمدہ چیز پیش ہو سکتی ہے وہ کی جائے اور اپنوں کے علم میں اضافے کے لئے بھی بہترین شکل میں اسلام کی تعلیم سامنے آئے۔

پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو ہمیں خاص طور پر پڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے انہی سے ہمارا دینی علم بھی بڑھے گا اور ہمیں تبلیغ کا شوق بھی پیدا ہو گا۔ ہمارے علم میں برکت بھی پڑے گی اور دنیا کو ہم اسلام کے جھنڈے تلے لانے کے قابل ہوں گے۔ اصل برکت تو یہ ہے کہ بادشاہوں کو اسلام کا حقیقی علم حاصل ہو اور وہ اس کے مطابق اپنی زندگیاں ڈھالیں ورنہ تو بہت سے بلکہ اکثریت بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ اِلّا ماشاء اللہ اس وقت سب کے سب جو مسلمان بادشاہ ہیں اور جو لیڈر ہیں وہ اسلام کی تعلیم کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ منہ پر تو اسلام کا نام ہے اور دل ذاتی مفادات کے حصول کے پیچھے ہیں۔ ان سے ظلم ہو رہے ہیں۔ پس جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے اسلام پھیلنا ہے اور آپ کے ذریعہ سے، کپڑوں سے لوگوں نے برکت حاصل کرنی ہے۔ جو بادشاہ آئیں گے وہ آپ کے ذریعہ سے اسلام کی حقیقی تعلیم کو سمجھ کر آئیں گے اور یہی حقیقی برکت ہے اور اس کے لئے ہمیں بھی اس حقیقی تعلیم کا علم ہونا چاہئے اور اس کے مطابق تبلیغ ہونی چاہئے اور نوجوانوں کو بھی اس طرف توجہ دینی چاہئے۔ تبھی الہام ’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے‘‘ کی صحیح حقیقت آشکار ہو سکے گی اور اس کی ہمیں سمجھ بھی آئے گی اور ہم تبلیغ کے اعلیٰ معیار پیدا کر سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو سمجھنے کی ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔

جمعہ کی نماز کے بعد مَیں بعض جنازے بھی پڑھاؤں گا جن میں سے دو جنازہ حاضر ہیں۔ ایک غائب ہے۔

ایک جنازہ مکرم چوہدری عبدالعزیز ڈوگر صاحب کا ہے جو یہاں کوونٹری (Coventry) میں کچھ عرصے سے رہ رہے تھے۔ 11؍جنوری 2016ء کو 87سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ ماسٹر چراغ دین صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ قادیان کے قریب کھارا ان کا گاؤں تھا۔ ان کو (ماسٹر چراغ دین صاحب کو) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کلاس فیلو ہونے کا بھی شرف حاصل تھا۔ آپ کے والد صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر دستی بیعت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کے گاؤں کھارا میں احمدیت آپ کے دادا حضرت چوہدری امیر بخش صاحب کے ذریعہ سے آئی تھی۔ (ان کے والد کی بات ہو رہی ہے چوہدری عزیز ڈوگرصاحب کے)۔

چوہدری عبدالعزیز ڈوگر صاحب کو بھی ساری عمر جماعت کی خدمت کرنے کی توفیق ملی۔ ابتدا میں آپ نے تقریباً 31سال تک حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ دوا خانہ خدمت خلق میں کام کیا۔ اور یہ حضرت مصلح موعود کا دواخانہ تھا اس میں کام کیا اور ساتھ میں حضور نے ہی خود ان کو طب سکھائی تھی۔ اور خلافت رابعہ میں پھر مرکز نے آپ کو گیمبیا اور جرمنی وغیرہ ممالک میں مختلف تعمیراتی کاموں کی نگرانی کرنے کے لئے بھیجا۔ اس طرح آپ کو جماعتی عمارات بنانے کی توفیق ملی۔ ربوہ کے قیام کے دوران خدام الاحمدیہ میں آپ مہتمم مقامی بھی رہے۔ پھر چند سال تحریک جدید میں بھی خدمت کی توفیق پائی۔ 1974ء میں آپ کو اسیر راہ مولیٰ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ چیئرمین احمدی اطبّا ایسوسی ایشن اور صدر احمدی تجّار ایسوسی ایشن کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ 1999ء میں لندن سے کوونٹری شفٹ کر گئے جہاں وفات تک سیکرٹری تربیت اور سیکرٹری وصایا کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ کافی بیماریاں ان کو آئیں اور بیماری کے باوجوداللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر تقریب میں شرکت کرنے کی کوشش کرتے تھے اور جرمنی وغیرہ یورپ کے دورے میں جہاں بھی مَیں جاؤں مَیں نے دیکھا ہے وہاں پہنچے ہوتے تھے۔ پچھلے دنوں بیمار بھی تھے اس کے باوجود یہ بڑی کوشش کر کے ہالینڈ میں پارلیمنٹ میں جو فنکشن ہوا تھا وہاں بھی پہنچے ہوئے تھے۔ ان کو بعض کتب کی اشاعت کی بھی توفیق ملی جس میں سیرت حضرت امّاں جان اور سیرت حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعائیں اور دوسرے اقوال زرّیں اور چوہدری ظفراللہ خان صاحب کی ایک کتاب ہے جو شائع کرنے کی توفیق ملی۔ نہایت شریف النفس، ملنسار اور مخلص انسان تھے۔ خلافت کے ساتھ گہرا محبت اور اخلاص کا تعلق تھا، وفا کا تعلق تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ آپ کی چار بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں اور بیٹے بھی جرمنی میں خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔ بیٹی بھی یہاں مڈلینڈ کی لجنہ کی صدر ہیں۔ آپ کے بھائی حلیم طیب صاحب کہتے ہیں کہ 1947ء میں جب ہجرت کی تو والدہ صاحبہ کو ان کی بیماری کی حالت میں قادیان سے سیالکوٹ تک اپنے کندھوں پر اٹھا کر لائے اور اس خدمت کا ذکر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے ایک خطبہ میں بھی فرمایا تھا۔ ان کا گاؤں کھارا قادیان سے قریب ہی تھا۔ پارٹیشن کے وقت وہاں حفاظت کا انتظام، ڈیوٹیاں دیتے رہے اور بڑی بہادری سے مستورات کی حفاظت کا سامان کرتے رہے۔ حضرت مصلح موعودنے درویشان قادیان کی حفاظت اور اسیران کی رہائی کے لئے بعض امور کے لئے حُکّام سے ملنے کے لئے ہندوستان میں بھی ایک وفد تشکیل دیا تھا۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ان کے قائد تھے اس میں یہ بھی شامل تھے۔

الیاس منیر صاحب کہتے ہیں کہ مختلف منصوبوں کے نگران اور انچارج ہوتے تھے مگر میں نے آپ کو مزدوروں کی طرح کام کرتے بھی دیکھا ہے۔ اسی طرح تعمیراتی سامان خریدتے وقت کم سے کم قیمت پر بہترین کوالٹی کی تلاش میں مختلف مارکیٹوں میں جا کر چکر لگا کر جماعت کے پیسے بچانے کی کوشش کرتے تھے۔ خلافت سے محبت اور عقیدت ان کا بنیادی حصہ تھی۔ ایک دفعہ آپ کے گھٹنے میں تکلیف تھی تو پھر کہتے کہ یہ عارضی تکلیف ہے۔ مستقل نہیں ہو سکتی کیونکہ میرے دائیں گھٹنے پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دفعہ پاؤں رکھ کر گھوڑے پر سوار ہوئے تھے۔ اس لئے اس کی برکت سے امید ہے کہ اس کو تکلیف نہیں ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے چلتے پھرتے رہے۔ ایک زمانے میں ان پر بعض مشکل حالات بھی آئے، ابتلاء بھی آئے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی وفا سے انہوں نے وقت گزارا اور اپنے ایمان کو محفوظ رکھا۔ اللہ تعالیٰ آپ سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور اپنے پیاروں کے قدموں میں جگہ دے۔ ان کی اولاد کو بھی ہمیشہ خلافت سے اور جماعت سے وفا کا تعلق نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔

دوسرا جنازہ اقبال نسیم عظمت بٹ صاحبہ کا ہے جو غلام سرور بٹ صاحب کی اہلیہ تھیں۔ 13؍جنوری کو 94 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت کرم الٰہی صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کڑیاں والے کی پوتی، حضرت میراں بخش صاحب کی نواسی اور حضرت شیخ محمد بخش صاحب رئیس اعظم کڑیاں والے کی بہو تھیں جن کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نظم ’’اک نہ اک دن پیش ہو گا تو فنا کے سامنے‘‘ لکھ کر بھجوائی تھی۔ مرحومہ نہایت نیک، صالحہ، نمازوں کی پابند، ملنسار، مہمان نواز، ہر ایک کی مدد کرنے والی خاتون تھیں۔ خلافت کے ساتھ عقیدت کا تعلق تھا۔ موصیہ تھیں۔ اپنے پیچھے تین بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ نسیم افضل بٹ ان کے بھتیجے ہیں جو ریجنل امیر ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔

ایک جنازہ غائب ہے۔ یہ مکرمہ مریم صدیقہ صاحبہ اہلیہ قریشی محمد شفیع عابد صاحب درویش قادیان کا ہے۔ یہ 6؍جنوری 2016ء کو طویل علالت کے بعد 89 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت منشی مہردین صاحب پٹواری صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پوتی اور حکیم عبید اللہ صاحب کی بیٹی تھیں۔ شادی تقسیم ملک سے پہلے ہوئی تھی۔ بعد ازاں کچھ عرصے کے لئے، چند سالوں کے لئے پاکستان ہجرت کر گئیں اور پھر پہلے قافلے میں قادیان واپس آ گئیں اور اپنے شوہر کے ساتھ ہمیشہ درویشی کی زندگی گزاری۔ نہایت سادہ تھیں اور سادگی سے زندگی گزاری۔ اپنا یہ زمانہ صبر اور شکر اور توکّل اور وفا کے ساتھ گزارا۔ موصیہ تھیں۔ اس کے علاوہ باوجود اتنی زیادہ کشائش نہ ہونے کے مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتیں۔ تہجد گزار، تقویٰ شعار خاتون تھیں۔ محلے کے بچوں کو قرآن کریم پڑھاتی تھیں۔ خلافت سے محبت اور وفا کا تعلق تھا۔ ان کے پسماندگان میں دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔ ایک بیٹے قریشی محمد فضل اللہ صاحب قادیان میں نائب ناظر اشاعت ہیں۔ ایک بیٹے قریشی محمد رحمت اللہ صاحب اس وقت دفتر آڈیٹر میں خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔ تین داماد قادیان میں سلسلہ کی خدمت کر رہے ہیں۔ ایک داماد لاہور میں مربی سلسلہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی وفا سے خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 15؍ جنوری 2016ء شہ سرخیاں

    اللہ تعالیٰ اپنے ولیوں اور نیکی پر قائم رہنے والوں کی اولاد در اولاد اور نسلوں کی بھی حفاظت فرماتا ہے اور انہیں نوازتا ہے بشرطیکہ وہ اولاد اور نسل بھی نیکی پر قائم رہنے والی ہو۔

    نیکوں کی نسل ہونا، ولیوں کی نسل ہونا، بزرگوں کی نسل ہونا بھی اُسی وقت فائدہ دیتا ہے جب خود بھی نیکیوں پر انسان قائم ہو اور اللہ تعالیٰ سے تعلق ہو۔

    اس سوچ کے ساتھ ہمیں اپنی نمازوں کی حفاظت بھی کرنی چاہئے اور اس سوچ کے ساتھ مسجد میں آنا چاہئے تا کہ ہم ایک ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور مقبول نمازیں ادا کرنے والے بنیں اور اس کی رضا حاصل کرنے والے بنیں۔ اپنی نمازوں کی حفاظت کریں اور وقت پر ادا کرنے کی کوشش کیا کریں۔ بعض دفعہ بعض لوگ جلد بازی سے کام لیتے ہوئے کسی بات کی گہرائی میں جائے بغیر اپنی رائے قائم کر لیتے ہیں اور پھر بعض کمزور طبائع اس وجہ سے ٹھوکر بھی کھا جاتی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو ہمیں خاص طور پر پڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے انہی سے ہمارا دینی علم بھی بڑھے گا اور ہمیں تبلیغ کا شوق بھی پیدا ہو گا۔ ہمارے علم میں برکت بھی پڑے گی اور دنیا کو ہم اسلام کے جھنڈے تلے لانے کے قابل ہوں گے۔

    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالنے والے واقعات کا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ارشادات کے حوالہ سے تذکرہ اور احباب کو ضروری نصائح۔

    مکرم چوہدری عبد العزیز ڈوگر صاحب (یوکے)۔ مکرمہ اقبال نسیم عظمت بٹ صاحبہ اہلیہ غلام سرور بٹ صاحب (یوکے) اور مکرمہ مریم صدیقہ صاحبہ اہلیہ قریشی محمد شفیع عابد صاحب مرحوم درویش قادیان کی وفات۔ مرحومین کا ذکر خیر اور نماز جنازہ حاضر و غائب۔

    فرمودہ مورخہ 15؍جنوری 2016ء بمطابق15صلح 1395 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن۔ لندن۔

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور