نماز اور فقہی مسائل

خطبہ جمعہ 22؍ اپریل 2016ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دفعہ یہ مضمون بیان فرما رہے تھے کہ انسان کے لئے دو چیزوں کی صفائی بہت ضروری ہے جن میں سے ایک سوچ اور فکر ہے اور دوسری لطیف جذبات، نیکی کے جذبات ہیں اور انسان کے گہرے جذبات یعنی جذبات کی حس نہ کہ عارضی جذبے جو قلوب کی صفائی سے پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی مستقل رہنے والے نیک اور پاکیزہ جذبے اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب دل مکمل طور پر صاف ہو۔ اور افکار کی صفائی، یعنی خیال، سوچ اور غور کا ہمیشہ صاف رہنا جسے عربی میں تنویر کہتے ہیں، دماغ کی صفائی سے حاصل ہوتی ہے۔ تنویر اس بات کو کہتے ہیں کہ انسان کے اندر ایسا نور پیدا ہو جائے کہ ہمیشہ صحیح خیال پیدا ہو۔ تنویر کوشش کر کے پاک خیال پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ ایسا ملکہ پیدا ہو جائے کہ ہمیشہ صحیح خیالات پیدا ہوتے رہیں۔ کبھی کوئی غلط قسم کے خیالات آئیں ہی نہ۔ اور ظاہر ہے یہ باتیں مسلسل کوشش اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔ بہرحال اس بارے میں آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے بیان فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے میں نے خود سنا ہے۔ بعض دفعہ جب آپ سے کوئی فقہی مسئلہ پوچھا جاتا تو چونکہ یہ مسائل زیادہ تر انہی لوگوں کو یاد ہوتے ہیں جو ہر وقت اسی کام میں لگے رہتے ہیں۔ بسا اوقات آپ فرمایا کرتے کہ جاؤ مولوی نور الدین صاحب سے پوچھ لو یا مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کا نام لیتے کہ ان سے پوچھ لو یا مولوی سید احسن صاحب کا نام لے کر فرماتے کہ ان سے پوچھ لو یا کسی اور مولوی کا نام لے لیتے۔ اور بعض دفعہ جب آپ دیکھتے کہ اس مسئلے کا حل کسی ایسے امر سے متعلق ہے جہاں بحیثیت مامور آپ کے لئے دنیا کی رہنمائی کرنا ضروری ہے تو آپ خود وہ مسئلہ بتا دیتے۔ مگر جب کسی مسئلے کا جدید اصلاحات سے تعلق نہ ہوتا تو آپ فرما دیتے کہ فلاں مولوی صاحب سے پوچھ لیں۔ اور اگر وہ مولوی صاحب مجلس میں ہی بیٹھے ہوئے ہوتے تو ان سے فرماتے کہ مولوی صاحب یہ مسئلہ کس طرح ہے۔ مگر بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا کہ جب آپ کہتے کہ فلاں مولوی صاحب سے یہ مسئلہ دریافت کر لو تو ساتھ ہی آپ یہ بھی فرماتے کہ ہماری فطرت یہ کہتی ہے کہ یہ مسئلہ یوں ہونا چاہئے۔ اور پھر فرماتے کہ ہم نے تجربہ کیا ہے کہ باوجود اس کے کوئی مسئلہ ہمیں معلوم نہ ہو تو اس کے متعلق جو آواز ہماری فطرت سے اٹھے بعد میں وہ مسئلہ اسی رنگ میں حدیث اور سنّت سے ثابت ہوتا ہے۔

حضرت مصلح موعو دفرماتے ہیں کہ یہ چیز ہے جو تنویر کہلاتی ہے۔ تو تنویر اس بات کو کہتے ہیں کہ انسانی دماغ میں جو خیالات بھی پیدا ہوں وہ بھی درست ہوں۔ جس طرح ایک تندرستی تو یہ ہوتی ہے کہ انسان کہے کہ میں اس وقت تندرست ہوں اور ایک تندرستی یہ ہوتی ہے کہ انسان آگے بھی تندرست رہے۔ تو تنویر وہ فکر کی درستی ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں آئندہ جو خیالات بھی پیدا ہوں درست ہی ہوں۔ آپ فرماتے ہیں کہ روحانی ترقی کے لئے تنویرِ فکر ضروری ہوتی ہے۔ اسی طرح روحانی ترقی کے لئے تقویٰ و طہارت کی ضرورت ہوتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ جو تنویر کے معنی دماغ کی نسبت سے ہیں وہی تقویٰ کے معنی دل کی نسبت سے ہیں۔ لوگ عام طور پر نیکی اور تقویٰ کو ایک چیز سمجھتے ہیں حالانکہ نیکی وہ نیک کام ہے جو ہم کر چکے ہیں یا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان کے اندر آئندہ جو جذبات بھی پیدا ہوں وہ نیک ہوں۔ تو جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ فکر، سوچ اور غور جن کا دماغ سے تعلق ہے، یہ تنویر ہے اور جذبات کا نیکی پر ہمیشہ قائم رہنا تقویٰ ہے۔ اس کا معاملہ دل سے ہے۔ جب بھی کسی انسان کو تنویرِ افکار اور تقویٰ قلب حاصل ہو جائے تو وہ پھر بدی کے حملے سے محفوظ رہتا ہے اور جب بدی کے حملے سے محفوظ رہے تو پھر ایسا انسان اللہ تعالیٰ کے فضل کے نیچے آ جاتا ہے۔ (ماخوذ از الفضل 9 مارچ 1938 صفحہ 2 جلد 26 شمارہ 55)

جیسا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ عام معاملات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعض سوالات کرنے والوں کو سلسلہ کے دوسرے علماء کی طرف بھیج دیا کرتے تھے لیکن بہت سے سوالات ہیں جو بظاہر بہت چھوٹے ہیں اس میں آپ سلسلہ کے علماء کی بھی اصلاح فرمایا کرتے تھے۔ مثلاً سفروں میں نماز کے قصر کرنے کا معاملہ ہے۔ اس سوال پر کہ کس کو سفر سمجھا جائے اور قصر نماز کے حکم پر عمل کیا جائے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میرا مذہب یہ ہے کہ انسان بہت دقّتیں اپنے اوپر نہ ڈال لے، (مشکلیں اپنے اوپر نہ ڈالے)۔ عُرف میں جسے سفر کہتے ہیں خواہ وہ دو تین میل ہی ہو اس میں قصر اور سفر کے مسائل پر عمل کرے۔ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔ فرمایا کہ بعض دفعہ ہم دو دو تین میل اپنے دوستوں کے ساتھ سیر کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں مگر کسی کے دل میں خیال نہیں آتا کہ ہم سفر میں ہیں۔ لیکن جب انسان اپنی گٹھڑی اٹھا کر سفر کی نیت سے چل پڑتا ہے، اپنا سامان اٹھا کر چل پڑتا ہے تو وہ مسافر ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ شریعت کی بناء دقّت پر نہیں ہے۔ جس کو تم عُرف میں سفر سمجھو وہی سفر ہے۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد دوم صفحہ 211۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

تو یہ بات اس سے واضح ہو جاتی ہے کہ سفر وہ ہے جو آپ سفر کی نیت سے سفر کریں۔ گزشتہ دنوں مَیں یہاں ایک مسجد کے افتتاح، غالباً لیسٹر (Leicester) کی مسجدکے افتتاح کے لئے گیا تھا۔ وہاں میں نے عشاء کی نماز پوری پڑھائی۔ اس پر بعض لوگوں کو سوال پیدا ہوا کہ قصر نہیں کروائی گئی۔ اس وقت میرے ذہن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہی ارشاد تھا کہ گٹھڑی اٹھا کر سفر کی نیت سے جب سفر کیا جاتا ہے تو وہ سفر ہے اور کیونکہ اس قسم کا سفر نہیں تھا اور اسی وقت میں نے واپس آ جانا تھا اسی لئے میں نے قصر نہیں کی تھی۔ پھر اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ کوبھی سامنے رکھیں۔ اگر یہ سامنے ہو تو نہ ہی انسان زیادہ دقتیں اپنے اوپر ڈالتا ہے، نہ ضرورت سے زیادہ سہولت کی تلاش کرتاہے بلکہ مقصد اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکموں پر عمل کرنا ہوتا ہے۔

اس کو مزید کھولتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ہاں … اپنی نیت کو خوب دیکھ لو۔ ایسی تمام باتوں میں تقویٰ کا بہت خیال رکھنا چاہئے۔ اگر کوئی شخص ہر روز معمولی کاروبار یا سفر کے لئے جاتا ہے تو وہ سفر نہیں ہے بلکہ سفر وہ ہے جسے انسان خصوصیت سے اختیار کرے اور صرف اسی کام کے لئے گھر چھوڑ کر جائے اور عُرف میں وہ سفر کہلاتا ہو۔ دیکھو یوں تو ہم ہر روز سیر کے لئے دو دو میل نکل جاتے ہیں مگر یہ سفر نہیں ہے۔ ایسے موقع پر دل کے اطمینان کو دیکھ لینا چاہئے کہ اگر وہ بغیر کسی خلجان کے فتویٰ دے کہ یہ سفر ہے تو قصر کرو۔ اِسْتَفْتِ قَلْبَکَ (کہ اپنے دل سے فتویٰ حاصل کرو)پر عمل چاہئے۔ پھر فرمایا کہ ہزار فتویٰ ہو پھر بھی مومن کا نیک نیتی سے قلبی اطمینان عمدہ شئے ہے۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد دہم صفحہ 99-100۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) پس نیت اور اپنے دل کا فتویٰ بھی بعض موقع پر لے لینا چاہئے۔ نیت نیک ہونی چاہئے اور اس نیت نیک کے ساتھ دل سے فتویٰ لیا جائے۔

کسی نے سوال کیا کہ جو شخص یہاں مرکز میں آتا ہے وہ قصر کرے یا نہ؟ یہ سوال حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیا گیا اور اب بھی بعض لوگ کرتے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مرکز میں جانے پہ قصر نہیں ہے۔ قادیان یا ربوہ جب جاتے تھے یا یہاں بعض لوگ آتے ہیں۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص تین دن کے واسطے یہاں آوے اس کے لئے قصر جائز ہے۔ میری دانست میں جس سفر میں عازم سفر ہو پھر خواہ وہ تین چار کوس ہی کا سفر کیوں نہ ہو اس میں قصر جائز ہے۔ ہاں اگر امام مقیم ہو تو اس کے پیچھے پوری نماز پڑھنی پڑے گی۔ تو مقامی طور پہ جہاں بھی جا رہے ہیں، مرکز ہے یا کہیں بھی امام نماز پڑھا رہا ہے اور وہ وہاں کا رہنے والا امام ہے تو بہرحال وہ پوری نماز پڑھائے گا اور مسافر بھی اس کے پیچھے پوری نماز پڑھے گا۔ فرمایا کہ حکام کا دورہ سفر نہیں ہوتا۔ جو لوگ دَوروں پر جاتے ہیں، افسران ہیں اُن کا سفر، سفر نہیں ہوتا۔ وہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی اپنے باغ کی سیر کرتا ہے۔ خواہ مخواہ سفر کا تو کوئی وجود ہی نہیں۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد پنجم صفحہ 311۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے صحابہ کی بعض دفعہ مسائل کے بارے میں کس طرح اصلاح فرما دیا کرتے تھے، اس بارے میں قاضی امیر حسین صاحب بیان فرماتے ہیں کہ مَیں شروع میں اس بات کا قائل تھا کہ سفر میں قصر نماز عام حالات میں جائز نہیں بلکہ صرف جنگ کی حالت میں فتنہ کے خوف سے جائز ہے اور اس معاملے میں حضرت خلیفہ اول کے ساتھ بہت بحث کیا کرتا تھا۔ قاضی صاحب فرماتے ہیں کہ جن دنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا گورداسپور میں مقدمہ تھا ایک دفعہ مَیں بھی وہاں گیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ وہاں مولوی صاحب یعنی حضرت خلیفۃ المسیح الاول اور مولوی عبدالکریم صاحب بھی تھے۔ مگر ظہر کی نماز کا وقت آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے فرمایا کہ آپ نماز پڑھائیں۔ یعنی قاضی صاحب کو کہا۔ کہتے ہیں کہ میں نے دل میں پختہ ارادہ کیا کہ آج مجھے موقع ملا ہے۔ میں قصر نہیں کروں گا بلکہ پوری پڑھوں گا تو اس مسئلہ کا کچھ فیصلہ بھی ہو جائے گا۔ جب پڑھ لوں گا تو آپ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام فتویٰ فرمائیں گے۔ قاضی صاحب بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے یہ فیصلہ کر کے اللہ اکبر کہنے کے لئے ابھی ہاتھ اٹھائے ہی تھے اور اس نیت کے ساتھ اٹھائے تھے کہ قصر نہیں کروں گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میرے پیچھے دائیں طرف کھڑے تھے۔ آپ فوراً قدم بڑھا کر آگے آئے اور میرے کان کے پاس منہ کر کے فرمایا۔ قاضی صاحب! دو ہی پڑھیں گے ناں؟ تو میں نے عرض کیا حضور دو ہی پڑھوں گا۔ قاضی صاحب کہتے ہیں بس اس وقت سے ہمارا مسئلہ حل ہو گیا اور میں نے اپنا خیال ترک کر دیا۔ (ماخوذ از سیرت المہدی جلد اول صفحہ 24-25 روایت نمبر 33) تو اس طرح صحابہ کا عمل تھا۔ کس طرح شرح صدر کے ساتھ فوری طور پر فیصلے ختم کر دیا کرتے تھے۔

ضمناً یہ بھی بتا دوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مختلف مواقع پر فقہی مسائل بیان فرمائے ہوئے ہیں۔ یہ نہیں کہ ہر مسئلے کو آپ علماء کی طرف پھیر دیا کرتے تھے، خود بھی بیان فرمایا کرتے تھے۔ ان تمام مختلف موقعوں پر، مختلف مجالس میں آپ نے جو فقہی مسائل بیان فرمائے ہیں ان کو اب نظارت اشاعت پاکستان نے بڑی محنت سے بعض علماء کے ذریعہ سے یکجا کیا ہے جن میں جامعہ کے فقہ کے پروفیسرز اور طلباء بھی شامل ہیں۔ یہ کتاب ’’فِقْہُ الْمَسِیْح‘‘ کے نام سے یہاں چھپ گئی ہے اور احباب جماعت کو بھی بہت سارے جو مختلف مسائل ہیں ان سے آگاہی کے لئے یہ کتاب لینی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی جزا دے جنہوں نے یہ تمام باتیں یا ایسے فقہی مسائل یکجا کئے ہیں اور بڑے اچھے انداز میں جمع اور تدوین کئے ہیں۔ بہرحال وقتاً فوقتاً مجھے بھی موقع ملا تو یہ مسائل بیان کرتا رہوں گا۔

جمعہ کی نماز کے ساتھ اگر عصر کی نماز جمع کی جائے تو پھر جمعہ کی نماز سے پہلے سنتیں پڑھنی چاہئیں۔ اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ مجھ سے ایک سوال کیا گیا ہے۔ حضرت مصلح موعود سفر میں تھے تو وہاں سوال کیا گیا کہ ابھی جمعہ کی نماز کے وقت بعض دوستوں میں اختلا ف ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فتویٰ ہے کہ اگر نمازیں جمع کی جائیں تو پہلی پچھلی اور درمیان کی سنتیں معاف ہوتی ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ جب نماز ظہر و عصر جمع ہو تو پہلی اور درمیانی سنتیں معاف ہوتی ہیں یا اگر نماز مغرب اور عشاء جمع ہو تو درمیانی اور آخری سنتیں معاف ہو جائیں گی۔ لیکن آپ فرماتے ہیں کہ اختلاف یہ کیا گیا ہے کہ ایک دوست نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ ایک سفر میں میرے ساتھ تھے یعنی حضرت مصلح موعود کے۔ میں نے جمعہ اور عصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھائیں اور جمعہ کی پہلی سنتیں بھی پڑھیں۔ یہ دونوں باتیں صحیح ہیں۔ نمازوں کے جمع ہونے کی صورت میں سنتیں معاف ہو جاتی ہیں یہ بات بھی صحیح ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز سے قبل جو سنتیں ہیں وہ پڑھا کرتے تھے۔ میں نے وہ سفر میں پڑھی ہیں اور پڑھتا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جمعہ کی نماز سے پہلے جو نوافل پڑھے جاتے ہیں وہ نماز ظہر کی پہلی سنّتوں سے مختلف ہیں۔ ان کو دراصل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے اعزاز میں قائم فرمایا ہے۔

سفر میں جمعہ کی نماز پڑھنا بھی جائز ہے اور چھوڑنا بھی جائز ہے۔ یعنی اگر انسان سفر میں ہو تو جمعہ کی نماز بھی پڑھ سکتا ہے اور چھوڑ بھی سکتا ہے اور چھوڑنے کا مطلب یہ نہیں کہ نماز چھوڑ دی بلکہ ظہر کی نماز پڑھے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سفر میں جمعہ پڑھتے بھی دیکھا ہے اور چھوڑتے بھی دیکھا ہے۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک مقدمے کے موقع پر گورداسپور تشریف لے گئے ہوئے تھے اور وہاں مصروفیت تھی۔ آپ نے فرمایا کہ آج جمعہ نہیں ہو گا کیونکہ ہم سفر پر ہیں۔ ایک صاحب جن کی طبیعت میں بے تکلفی تھی وہ آپ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ سنا ہے حضور نے فرمایا ہے آج جمعہ نہیں ہو گا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول یوں تو ان دنوں گورداسپور میں ہی تھے مگر اس روز کسی کام کے لئے قادیان آئے ہوئے تھے تو اُن صاحب نے خیال کیا کہ شاید جمعہ نہ پڑھے جانے کا ارشاد آپ نے اس لئے فرمایا ہے کہ مولوی صاحب یہاں نہیں ہیں۔ وہ جمعہ پڑھایا کرتے تھے اس لئے کہا کہ حضور! مجھے بھی جمعہ پڑھانا آتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہاں آتا ہو گا مگر ہم تو سفر پر ہیں اس لئے آج ظہر کی نماز پڑھ رہے ہیں۔ ان صاحب نے کہا کہ حضور! مجھے اچھی طرح جمعہ پڑھانا آتا ہے اور میں نے بہت دفعہ پڑھایا بھی ہے۔ اس پر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے جب دیکھا کہ ان صاحب کو جمعہ پڑھانے کی بہت خواہش ہے تو فرمایا کہ اچھا آج جمعہ ہو جائے۔

حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سفرکے موقع پر جمعہ پڑھتے بھی دیکھا ہے اور چھوڑتے بھی دیکھا ہے اور جب سفر میں جمعہ پڑھا جائے تو مَیں پہلی سنتیں پڑھا کرتا ہوں اور میری رائے یہی ہے کہ وہ پڑھنی چاہئیں اور یہی عمومی طور پر فتویٰ ہے کیونکہ وہ عام سنت سے مختلف ہیں اور جمعہ کے احترام کے طور پر ہیں۔ (الفضل مورخہ 24 جنوری 1942ء صفحہ 1 جلد 20 شمارہ 21) پس اگر جمعہ پڑھا جا رہا ہے تو پھر جمعہ اور عصر جمع ہونے کی صورت میں بھی دو رکعت سنت جو جمعہ سے پہلے پڑھی جاتی ہیں وہ پڑھنی چاہئیں۔ انسانی زندگی میں خوشی کے مواقع ذاتی بھی آتے ہیں، جماعتی بھی آتے ہیں اور ملکی بھی آتے ہیں اور خوشی کے موقعوں پر ان کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ لیکن بعض لوگ اس میں افراط اور تفریط کا شکار ہو جاتے ہیں یا خوشی کے اظہار پر بے انتہا خرچ کیا جاتا ہے یا مذہب کے حوالے سے یا کسی اور نام سے ظاہری اظہار کو بالکل ہی گناہ سمجھا جاتا ہے۔ اسلام دونوں صورتوں کی نفی کرتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو اس زمانے میں ہمیں اسلامی تعلیم کے مطابق میانہ روی کے راستوں پر چلانے آئے آپ نے ہمیں ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کے بارے میں، دینی معاملات میں بھی اور دنیاوی معاملات میں بھی رہنمائی فرمائی۔ نماز کا تو مَیں ذکر کر آیا ہوں۔ اب ایک ظاہری دنیاوی خوشی کے موقع پر کس طرح اظہار ہونا چاہئے اس بارے میں آپ علیہ السلام نے کیا رہنمائی فرمائی اس کے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عمل کو ہمارے سامنے رکھا ہے مَیں پیش کرتا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے چراغاں ثابت ہے۔ یعنی جب کوئی خاص موقع ہو تو اس پہ چراغاں کیا جاتا ہے اور اس چراغاں کے بیان کرنے کی وجہ یہ بنی کہ ملکہ وکٹوریہ کی جوبلی پر یا کسی اور موقع پر لوگوں نے چراغاں کیا تو اس پر حضرت مصلح موعودنے فرمایا کہ ملکہ وکٹوریہ کی جوبلی پر بھی چراغاں کیا گیا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے چراغاں ثابت ہے۔ آپ نے دو بار، ملکہ وکٹوریہ اور غالباً شاہ ایڈورڈ کی جوبلیوں پر چراغاں کرایا یا شاید دونوں جوبلیاں ملکہ وکٹوریہ کی ہی تھیں اور مجھے خوب یاد ہے کہ دونوں مواقع پر چراغاں کیا گیا۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں چونکہ بچپن میں ایسی باتیں اچھی لگتی ہیں اس لئے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مسجد مبارک کے کناروں پر چراغ جلائے گئے اور بنولے ختم ہوئے۔ اس زمانے میں بنولے جلائے جاتے تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آدمی بھیجا کہ جا کر اور لائے۔ ان میں تیل ہوتا ہے وہ تیل پھر کافی دیر تک جلتا رہتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ہمارے مکان پر بھی، مسجد میں بھی اور مدرسے پر بھی چراغ جلائے گئے اور میر محمد اسحق صاحب نے بھی اس کی شہادت دی ہے۔ اس لئے خالی چراغاں کی مخالفت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بعض لوگ کہتے ہیں جی چراغاں غلط چیز ہے۔ ایسی کوئی بات نہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ میرا عقیدہ ہے کہ حکم و عدل ہونے کی حیثیت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام قرآنی نص کے خلاف کوئی بات نہ کرتے تھے اور چراغاں آپ سے ثابت ہے۔ اس کے متعلق گواہیاں بھی موجود ہیں اور الحکم اخبار میں بھی یہ درج ہے۔ اس لئے خاص چراغاں کے متعلق کسی بحث کی ضرورت نہیں کہ کیوں کیا جائے اور کس لئے نہ کیا جائے اور کب کیا جائے۔ فضول خرچی ہے یا فلاں فلاں (باتیں ہیں)۔ بہرحال آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس رنگ میں جو خوشی کا اظہار کیا وہ اپنے اندر ایک حکمت رکھتا ہے جیسا کہ مومن کی ہر بات اپنے اندر حکمت رکھتی ہے۔ چراغاں خصوصاً جب وسیع پیمانے پر کیا جائے اور ہر گھر میں کرنا ضروری قرار دیا جائے اس پر اتنا زیادہ خرچہ آ جاتا ہے کہ اس کے مقابلے میں اس کا کوئی حقیقی فائدہ نظر نہیں آتا۔ ہاں جہاں اس کی ملکی اور سیاسی ضرورت ہو یا جہاں زیادہ روشنی کی ضرورت ہو وہاں اگر کیا جائے تو کوئی حرج نہیں جیسا کہ حضرت میر محمد اسحق صاحب نے بتایا کہ روایتوں میں آتا ہے کہ حضرت عمر کی طرف سے مسجد میں زیادہ روشنی کا انتظام کیا گیا تو میر صاحب نے اس کی مثال دی کہ مسجد میں ضرورت سے زیادہ روشنی کا اہتمام کیا گیا تھا اور آپ فرماتے ہیں کہ مسجد ایک ایسی جگہ ہے جہاں زیادہ روشنی کی ضرورت ہے کیونکہ لوگ وہاں قرآن شریف پڑھتے ہیں یا اَور دینی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں۔ پس اگر حضرت عمر نے مسجد میں زیادہ روشنی کا انتظام کیا تو اس میں حکمت تھی۔ ورنہ جہاں تک ہم دیکھتے ہیں اسلام میں خوشیاں ایسے رنگ میں منائی جاتی ہیں کہ بنی نوع انسان کو اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچ سکے۔ مثلاً عید ہے اس میں قربانی کرنے سے غریبوں کو گوشت ملتا ہے۔ عید الفطر پر فطرانہ سے غریبوں کو مدد دی جاتی ہے۔ تو اسلام میں جہاں بھی خوشی منانے کا حکم دیا ہے اس بات پرزوردیا ہے کہ اسے ایسے رنگ میں منایا جائے کہ ملک اور بنی نوع انسان کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے لیکن چراغاں کی صورت میں کوئی ایسا فائدہ نہیں ہو سکتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چراغاں کرایا تو وہ ایک سیاسی مصلحت پر مبنی تھا۔ اور اسی طرح بعض اوقات آپ ہمیں آتش بازی بھی لے دیا کرتے تھے تا کہ بچوں کا دل خوش ہو اور فرمایا کرتے تھے کہ گندھک کے جلنے سے جراثیم ہلاک ہو جاتے ہیں۔ صرف بچوں کا دل خوش کرنے کے لئے نہیں بلکہ آتش بازی میں گندھک ہوتی ہے اس کے جلنے سے فضا صاف ہوتی ہے۔ چنانچہ آپ نے کئی دفعہ ہمیں انار اور پھلجھڑیاں وغیرہ منگوا کر دیں۔ گویا ایک قسم کا ضیاع ہے مگر اس میں وقتی فائدہ بھی ہے گوایسا نمایاں نہیں۔ مگر اس سے بچوں کا دل خوش ہو جاتا تھا اور بچوں کے جذبات کو دبانے سے جو نقصان پہنچ سکتا ہے اس سے بچاؤ ہو جاتا تھا۔ مگر آپ نے ساری جماعت کو آتش بازی چلانے کا حکم نہیں دیا۔ (رپورٹ مجلس مشاورت 7 تا 9 اپریل 1939ء صفحہ 74-75) آپ نے جماعت کو یہ نہیں کہا کہ آتش بازیاں کیا کرو۔ اگر بچے کبھی کبھی کر لیں تو کوئی حرج نہیں اور اس نیت سے بھی کیا جائے کہ فضا بھی صاف ہو گی تو دونوں چیزیں مل جاتی ہیں۔ بچے بھی خوش ہو جاتے ہیں اور فضا بھی صاف ہو جاتی ہے۔ بچے اگر تھوڑی سی تفریح کر لیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ ان کے جذبات کو بالکل دبایا نہ جائے۔ بچوں میں یہ احساس بھی رہے کہ ان کی جو کھیل کود کی عمر ہے اس میں اسلام ان کے جائز مطالبات کو ردّ نہیں کرتا۔ مثلاً چراغاں ہے، آتش بازی ہے یہ باتیں جہاں انہیں ملک کی مجموعی خوشی میں شامل کرتی ہیں وہاں ان سے ملک سے ایک تعلق کا اظہار بھی ہوتا ہے اور بچوں کی تفریح بھی ہو جاتی ہے۔ پس موقع محل کے لحاظ سے اور اعتدال میں رہتے ہوئے کوئی تقریب کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن یہ بچوں پر بچپن سے ہی واضح کر دینا چاہئے کہ اسلامی تعلیم کے دائرے اور ملکی قانون کے دائرے کے اندر رہ کر ہی ہم یہ ساری باتیں کرتے ہیں اور کریں گے۔

حضرت مصلح موعود اپنے بچپن کے دو واقعات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مجھے ہمیشہ یاد رہتا ہے میں چھوٹا بچہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ ملتان تشریف لے گئے۔ مَیں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ میری عمر اس وقت سات آٹھ سال کی تھی۔ اس سفر کے صرف دو واقعات مجھے یاد ہیں۔ آپ فرماتے ہیں یوں تو بعض واقعات مجھے اُس وقت کے بھی یاد ہیں جب میری عمر صرف دو سال کی تھی بلکہ ایک دوست نے ایک واقعہ کی طرف یاددہانی کرائی اور مجھے وہ یاد آ گیا اس وقت میری عمر صرف ایک سال تھی۔ پس آپ فرماتے ہیں کہ مجھے چھوٹی عمر کے بھی بعض واقعات یاد ہیں لیکن اس سفر کی صرف دو باتیں میرے ذہن میں ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ واپسی پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لاہور ٹھہرے۔ وہاں ان دنوں مومی تصویریں دکھائی جا رہی تھیں یعنی موم سے تصویریں بنائی جاتی تھیں یا مجسمے سے بنائے جاتے تھے جن سے مختلف بادشاہوں اور ان کے درباروں کے حالات بتائے جاتے تھے۔ شیخ رحمت اللہ صاحب مالک انگلش ویئر ہاؤس جو اُن دنوں بمبئی ہاؤس کہلاتا تھا انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عرض کیا کہ یہ ایک علمی چیز ہے۔ ایسی معلوماتی چیز ہے کہ تاریخ کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ آپ اسے دیکھنے کے لئے تشریف لے چلیں۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے مجھ پر زور دینا شروع کر دیا کہ میں چل کر وہ مومی مجسمے دیکھوں۔ میں چونکہ بچہ تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیچھے پڑ گیا کہ مجھے یہ مجسمے دکھائے جائیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میرے اصرار پر مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ مختلف بادشاہوں کے حالات تصویروں کے ذریعہ دکھائے گئے تھے جن میں بعض کی موتوں اور بعض کی بیماریوں وغیرہ کا نقشہ کھینچا گیا تھا۔ پس فرمایا ایک تو یہ واقعہ مجھے یاد ہے۔ اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حامی بھی اس لئے بھری اور صرف اس لئے لے کر گئے کہ بہت سے لوگوں نے اس کی تعریف کی تھی کہ یہ ایک علمی اور تاریخی چیز ہے۔ اسے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ صرف بچے کی ضد کو دیکھ کر نہیں چلے گئے تھے۔ اگر آپ سمجھتے کہ یہ ایک ایسی بات ہے جو اسلامی تعلیم کے خلاف ہے تو بیشک بچہ ضد کرتا لیکن نہ جاتے۔ پس ایک علمی چیز تھی اس لئے آپ بچے کو ساتھ لے کے دیکھنے کے لئے چلے گئے۔

حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ دوسرا واقعہ جو مجھے یاد ہے وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لاہور کے اندر کسی نے دعوت کی اور آپ اس میں شامل ہونے کے لئے تشریف لے گئے۔ کچھ اثر میرے دل پر بھی ہے کہ دعوت نہیں تھی بلکہ مفتی محمد صادق صاحب یا ان کا کوئی بچہ بیمار تھا اور آپ اسے دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ بہرحال شہر کے اندر سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام واپس آ رہے تھے کہ سنہری مسجد کی سیڑھیوں کے پاس مَیں نے ایک بڑا ہجوم دیکھا جو گالیاں دے رہا تھا اور ایک شخص ان کے درمیان کھڑا تھا۔ ممکن ہے وہ کوئی مولوی ہو اور جیسے مولویوں کی عادت ہوتی ہے وہ شاید اپنی طرف سے بے موقع چیلنج دے رہا ہو۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی گاڑی پاس سے گزری تو ہجوم کو دیکھ کر میں نے سمجھا کہ یہ بھی کوئی میلہ ہے۔ چنانچہ میں نے نظارہ دیکھنے کے لئے گاڑی سے اپنا سر باہر نکالا۔ اس وقت کا یہ واقعہ آج تک مجھے نہیں بھولا کہ میں نے دیکھا کہ ایک شخص جس کا ہاتھ کٹا ہوا تھا اور جس پر ہلدی کی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں، وہ بڑے جوش سے اپنے ٹنڈے ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مار کر کہتا جا رہا تھا کہ مرزا دوڑگیا، مرزا دوڑ گیا۔

یہ واقعہ ایک اور حوالے سے مَیں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں لیکن یہاں فرماتے ہیں کہ دیکھو ایک شخص زخمی ہے اس کے ہاتھ پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں مگر وہ مخالفت کے جوش میں یہ سمجھتا ہے کہ میں اپنے ٹنڈے ہاتھ سے ہی نعوذ باللہ احمدیت کو ختم کر دوں گا یا احمدیت کو دفن کر آؤں گا۔ یہ کیسی خطرناک دشمنی ہے جو لوگوں کے قلوب میں پائی جاتی ہے اور کس کس طرح انہوں نے زور لگایا کہ لوگ قادیان میں نہ آئیں اور احمدیت کو قبول نہ کریں۔ ایسے کئی لوگ احمدیوں میں موجود ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں قادیان آنے کے ارادے سے بٹالے تک آئے مگر پھر ان کو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے واپس کر دیا۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ مَیں نے سنا ہے کہ مولوی عبدالماجد صاحب بھاگلپوری بھی اسی لئے شروع میں احمدیت قبول کرنے سے محروم رہ گئے۔ جب وہ بٹالہ میں آئے تو مولوی محمد حسین بٹالوی نے ان کو ورغلا کر واپس کر دیا اور یہی مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا روزانہ مشغلہ رہتا تھا۔ وہ ہر روز ریلوے سٹیشن پر جا پہنچتے اور جب بعض لوگ قادیان جانے کے ارادے سے اترتے تو وہ انہیں کہتے کہ وہاں جا کر کیا لو گے۔ وہاں گئے تو ایمان خراب ہو جائے گا۔ اور کئی لوگ انہیں عالم سمجھ کر واپس چلے جاتے اور خیال کرتے کہ مولوی محمد حسین صاحب جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ سچ ہی ہو گا۔ (ماخوذ از الفضل 24 جنوری 1943 صفحہ 3 جلد 31 شمارہ 21) تو یہ سب کچھ مولویوں کی مخالفت کی وجہ سے تھا۔ انہوں نے عوام کو بھی اس حد تک بھڑکا دیا تھا کہ وہ ٹنڈا بھی بیچارہ نعرے لگا رہا تھا۔ علماء کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو مخالفت ہے یہ سب کچھ ان کی جہالت اور ذاتی مفادات کے لئے تھی اور آج تک یہ علماء جو ہیں لوگوں کو بھڑکاتے ہیں۔ لیکن لوگوں کو وہ مذہب کے نام پر اکسا کر اپنے مقصد پورے کر رہے تھے حالانکہ جس بات کو مخالفت کا ذریعہ بنایا جا رہا تھا یا بنایا جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے ہی اس بات کو قائم کرنے کے لئے تھے یعنی اسلام کی حقیقی تعلیم بتانا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام ختم نبوت کو قائم کرنا۔ آپ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق تھے اور غلام صادق تھے۔ آپ تو آئے ہی اس لئے تھے کہ دنیا کو بتائیں کہ اب دنیا کی نجات اس آخری نبی اور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہی ہے لیکن ان نام نہاد علماء کی یہ بدقسمتی ہے کہ بجائے اس عاشق رسول کے ساتھ جُڑنے کے، اس کی بات ماننے کے، وہ اس پر الزام لگا رہے ہیں کہ نعوذ باللہ یہ ختم نبوت کے منکر ہیں یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے رتبے کو بڑا سمجھتے ہیں۔ جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عمل اور تعلیم کا ان باتوں سے دُور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ آپ علیہ السلام نے ہر مذہب والے کو چیلنج دیا کہ اب راہ نجات صرف اسلام کے ماننے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں ہے۔

بہرحال یہ علماء کوشش کرتے رہے اور جماعت بڑھتی رہی۔ اب بھی یہ کوشش کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کی یہ تقدیر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس غلام صادق کی جماعت نے بڑھنا ہے اور بڑھ رہی ہے اور بڑھتی رہے گی۔ انشاء اللہ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم اپنے اندر وہ حقیقی تبدیلی پیدا کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم میں چاہتے ہیں اور حقیقی مسلمانوں کا نمونہ بنیں۔ اپنے خیالات اور سوچوں میں بھی روشنی پیدا کریں اور اپنے دلوں کو بھی تقویٰ سے بھریں۔ آج بھی جمعہ کے بعد مَیں ایک جنازہ غائب پڑھاؤں گا جو مکرمہ امۃ الحفیظ رحمن صاحبہ اہلیہ مکرم ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب سابق امیر ضلع ساہیوال کا ہے۔ 15؍اپریل 2016ء کو ان کی وفات ہوئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

آپ حضرت میاں عظیم اللہ صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہو اور حضرت شیخ حسین بخش صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نواسی تھیں۔ آپ کے والد محترم ملک محمد خورشید صاحب تعمیر کمیٹی ربوہ کے ابتدائی سیکرٹری تھے۔ لمبا عرصہ بطور صدر لجنہ ساہیوال خدمت کی توفیق پائی۔ بڑی متوکّل، دعا گو، عبادت گزار، مہمان نواز، غریب پرور، مالی قربانی کرنے والی، خلافت سے وفا کا تعلق رکھنے والی، صابر شاکر خاتون تھیں۔ ساہیوال میں اسیران کے جب واقعات ہوئے ہیں تو اس وقت ان کے میاں امیر ضلع تھے اور بہت سے لوگ ملاقات کے لئے ان کے پاس آتے تھے تو ان کی مہمان نوازی کرتیں۔ ان کے شوہر ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب تقریباً چالیس سال تک جماعتی خدمات سرانجام دیتے رہے اور انہوں نے بڑی خوش اسلوبی سے ان کا ہاتھ بٹایا۔ مرکز سے آنے والے مہمانوں کا بھی بڑا خیال رکھتیں۔ ساری اولاد کی اس رنگ میں تربیت کی ہے کہ سب خلافت کے ساتھ اخلاص اور فدائیت کا گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ اللہ کے فضل سے موصیہ تھیں۔ ان کے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اولاد کو بھی نیکیوں پر قائم کرے اور آئندہ نسلوں کو بھی جماعت کے لئے مفید وجود بنائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 22؍ اپریل 2016ء شہ سرخیاں

    مختلف فقہی امور سے متعلق سوالات کرنے والوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود بھی جواب عطا فرمایا کرتے تھے اور بعض دفعہ دوسرے علماء کی طرف بھی بھیج دیا کرتے تھے۔ لیکن بہت سے سوالات ہیں جو بظاہر بہت چھوٹے ہیں اس میں آپ سلسلہ کے علماء کی بھی اصلاح فرمایا کرتے تھے۔ اور بعض دفعہ جب آپ دیکھتے کہ اس مسئلے کا حل کسی ایسے امر سے متعلق ہے جہاں بحیثیت مامور آپ کے لئے دنیا کی رہنمائی کرنا ضروری ہے تو آپ خود وہ مسئلہ بتا دیتے۔

    مختلف موقعوں پر مختلف مجالس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے جو فقہی مسائل بیان فرمائے ہیں ان کو نظارت اشاعت پاکستان نے بڑی محنت سے بعض علماء کے ذریعہ سے یکجا کیا ہے اور یہ کتاب ’’فِقْہُ الْمَسِیْح‘‘ کے نام سے یہاں چھپ گئی ہے۔ احبابِ جماعت کو ان مختلف مسائل سے آگاہی کے لئے یہ کتاب لینی چاہئے۔

    سفر میں قصر نماز، نماز جمعہ کے ساتھ عصر کی نماز جمع کرنے کی صورت میں جمعہ کی نماز سے پہلے سنتوں کے پڑھنے، سفر میں جمعہ کی ادائیگی، خاص مواقع پر چراغاں کرنے اور آتش بازی وغیرہ امور سے متعلق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی عطا فرمودہ رہنمائی کا تذکرہ۔

    مکرمہ امۃ الحفیظ رحمان صاحبہ اہلیہ مکرم ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب (مرحوم) سابق امیر ضلع ساہیوال کی وفات۔ مرحومہ کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ22 اپریل 2016ء بمطابق 22 شہادت 1395 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن۔ لندن۔

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور