نماز کی اہمیت، حکمت، نمازوں کی پابندی اور نمازوں میں لذت و سرور

خطبہ جمعہ 15؍ اپریل 2016ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

قرآن کریم میں نمازوں کی ادائیگی کی طرف کئی جگہ توجہ دلائی گئی ہے۔ کہیں نمازوں کی حفاظت کا حکم ہے۔ کہیں اس میں باقاعدگی اختیار کرنے کا حکم ہے۔ کہیں اس کی وقت پر ادائیگی کا حکم ہے اور پھر اس کے لئے اوقات بھی بتا دئیے کہ نماز کی ادائیگی کے لئے فلاں فلاں اوقات ہیں جن پر مومن کو عمل کرنا چاہئے، اس کی پابندی کرنی چاہئے۔ غرض کہ نمازوں کی ادائیگی اور اس کی فضیلت کے بارے میں بار بار خدا تعالیٰ نے ایک مومن کو تلقین فرمائی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ فرمایا کہ انسانی پیدائش کا مقصد ہی عبادت ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (الذَّاریات: 57) کہ جنّ و اِنس کی پیدائش کا مقصد ہی عبادت ہے لیکن انسان اس مقصد کو پہچانتا نہیں اور اس سے دُور ہٹا ہوا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

’’خدا تعالیٰ نے تمہاری پیدائش کی اصلی غرض یہ رکھی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ مگر جو لوگ اپنی اس اصلی اور فطری غرض کو چھوڑ کر حیوانوں کی طرح زندگی کی غرض صرف کھانا پینا اور سو رہنا سمجھتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے دُور جا پڑتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی ذمہ داری اُن کے لئے نہیں رہتی‘‘۔ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 182۔ ایڈیشن1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس یہ غرض ہے جو ایک ایمان کا دعویٰ کرنے والے کو اپنی تمام تر توجہ سے پوری کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے وارث بنتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرتے رہیں۔ اور عبادت کی غرض کس طرح پوری ہوتی ہے۔ اس کے لئے اسلام نے ہمیں پانچ وقت کی نمازوں کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔ ایک روایت ایک حدیث میں ہے کہ نماز عبادت کا مغز ہے۔ پس اس مغز کو حاصل کر کے ہی ہم عبادت کا مقصد پورا کر سکتے ہیں۔ ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ہم نے اس زمانے کے امام کو مانا ہے جنہوں نے ہمیں عبادتوں کے صحیح طریقے سکھائے۔ ہمیں حکمت سکھائی کہ کس لئے عبادتیں کرنی ضروری ہیں۔ بار بار متعدد موقعوں پر اپنی جماعت کو نمازوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس کی تفصیلات اور جزئیات بتائی ہیں۔ اس کی حکمت اور ضرورت بتائی ہے تا کہ ہم اپنی نمازوں کی اہمیت کو سمجھیں اور اس میں حسن پیدا کر سکیں۔ اِس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض اقتباسات اس حوالے سے پیش کروں گا۔ بعض دفعہ موسم کی شدت یا راتیں چھوٹی ہونے کی وجہ سے خاص طور پر فجر کی نماز میں سستی ہو جاتی ہے۔ عمومی طور پر ظہر عصر کی نمازیں لوگ یا جمع کر لیتے ہیں یا بعض لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ کام کی زیادتی کی وجہ سے صحیح طرح ادا ہی نہیں کرتے۔ تو چاہے موسم کی شدت ہو، راتوں کی نیند پوری نہ ہونا ہو، کام میں مصروفیت ہو، اس وجہ سے لوگ نمازیں یا تو چھوڑ دیتے ہیں یا پھر بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو بعض دفعہ کہتے ہیں کہ جی ہم نے تین نمازیں جمع کر لیں۔ آجکل یہاں ان ملکوں میں بڑی تیزی سے نماز کا وقت پیچھے آ رہا ہے اور اب فجر کی نماز پہ بھی نظر آتا ہے کہ ایک ڈیڑھ صف کی کمی ہونی شروع ہو گئی ہے۔ بعض لوگ جو باہر سے آئے ہوئے ہیں ان کی وجہ سے کبھی کبھی تعداد زیادہ بھی ہو جاتی ہے لیکن مقامی لوگوں کو جو مساجد کے قریب رہتے ہیں یا جن کے حلقے ہیں اس طرف توجہ کرنی چاہئے کہ اپنی اپنی مساجد میں یا اپنے نماز سینٹروں میں باقاعدہ نماز کی ادائیگی کے لئے اور خاص طور پر فجر کی ادائیگی کے لئے جایا کریں۔ اور صرف یہاں نہیں بلکہ دنیا کے ہر ملک میں اس کے لئے کوشش ہونی چاہئے کہ مسجدوں کو آباد کریں۔ خاص طور پر اگر عہدیدار اور جماعتی کارکنان، واقفین زندگی اس طرف توجہ دیں تو نمازوں کی حاضری بہت بہتر ہو سکتی ہے۔

نمازوں کو باقاعدہ اور التزام سے پڑھنے کے بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں۔ ایک مجلس میں آپ نے فرمایا کہ:

’’نمازوں کو باقاعدہ التزام سے پڑھو۔ بعض لوگ صرف ایک ہی وقت کی نماز پڑھ لیتے ہیں۔ وہ یاد رکھیں کہ نمازیں معاف نہیں ہوتیں یہاں تک کہ پیغمبروں تک کو معاف نہیں ہوئیں۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نئی جماعت آئی۔ انہوں نے نماز کی معافی چاہی (کہ ہماری مصروفیات ہیں، کام کی زیادتی ہے ہمیں نماز معاف کر دیں۔) آپ نے فرمایا کہ جس مذہب میں عمل نہیں وہ مذہب کچھ نہیں۔ اس لئے اس بات کو خوب یاد رکھو اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق اپنے عمل کرلو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک یہ بھی نشان ہے کہ آسمان اور زمین اس کے امر سے قائم رہ سکتے ہیں۔ بعض دفعہ وہ لوگ جن کی طبائع طبیعیات کی طرف مائل ہیں کہا کرتے ہیں کہ نیچری مذہب قابل اتباع ہے کیونکہ اگر حفظ صحت کے اصولوں پر عمل نہ کیا جائے تو تقویٰ اور طہارت سے کیا فائدہ ہو گا؟‘‘۔ (دنیا دار اس بات کی بحث کرتے ہیں کہ بہت سارے اصول ہیں ان پر عمل کرنا چاہئے۔ صحت کے بارے میں جو دنیاوی اصول ہیں اگر وہ ہوں مثلاً یہ کہ اِن اِن چیزوں پر عمل کرنا ہے اگر اس پہ عمل نہیں کرو گے تو صحت نہیں ہوگی۔ وہ تقویٰ اور طہارت کس طرح قائم رہ سکتی ہے اور صرف تقویٰ قائم رکھنے کا کیا فائدہ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: ’’سو واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے یہ بھی ایک نشان ہے کہ بعض وقت ادویات بے کار رہ جاتی ہیں اور حفظ صحت کے اسباب بھی کسی کام نہیں آ سکتے۔ نہ دوا کام آسکتی ہے، نہ طبیب حاذق۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ کا امر ہو تو الٹا سیدھا ہو جایا کرتا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلدنمبر 1 صفحہ 263۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس اللہ تعالیٰ کا فضل اصل چیز ہے۔ یہ خیال غلط ہے کہ صحت ہے تو سب کچھ ہے یا فلاں فلاں کام کرنے سے صحت قائم رہے گی یا بیمار ہوں گا تو فلاں دوائی لینے سے صحت ہو جائے گی۔ یہ سب چیزیں جو ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے چلتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم اگر نہیں ہو گا تو سب بیکار ہیں۔ پس جس کے حکم سے یہ سب چیزیں چل رہی ہیں اس کے آگے ہمیں جھکنے کی ضرورت ہے۔ اس کی عبادت کی ضرورت ہے۔ اس سے تعلق پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ پس نمازیں جہاں مقصد پیدائش کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہیں وہاں ہمیں آفات اور مشکلات سے بھی بچاتی ہیں کیونکہ بہت سارے کام ایسے ہیں جو بظاہر ناممکن ہوتے ہیں لیکن اللہ سے تعلق ہو تو اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کے وہ ممکن بن جاتے ہیں۔ پس جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہئے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

’’اصل بات یہی ہے کہ خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ ویرانہ کو آبادی اور آبادی کو ویرانہ بنا دیتا ہے۔ شہر بابل کے ساتھ کیا کیا۔ جس جگہ انسان کا منصوبہ تھا کہ آبادی ہو وہاں مشیّتِ ایزدی سے ویرانہ بن گیا اور اُلّوؤں کا مسکن ہو گیا۔ اور جس جگہ انسان چاہتا تھا کہ ویرانہ ہو وہ دنیا بھر کے لوگوں کا مرجع ہو گیا۔ (یعنی مکّہ۔ خانہ کعبہ۔) پس خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوا اور تدبیر پر بھروسہ کرنا حماقت ہے۔ اپنی زندگی میں ایسی تبدیلی پیدا کر لو کہ معلوم ہو کہ گویا نئی زندگی ہے۔ استغفار کی کثرت کرو۔ جن لوگوں کو کثرتِ اشغالِ دنیا کے باعث کم فرصتی ہے ان کو سب سے زیادہ ڈرنا چاہئے‘‘۔ (جو سمجھتے ہیں کہ دنیا کے مشاغل ہمیں بہت ہیں۔ مصروفیات بہت ہیں اور عبادتوں کی، نمازوں کی فرصت نہیں ان کو سب سے زیادہ ڈرنا چاہئے۔) ’’ملازمت پیشہ لوگوں سے اکثر فرائض خداوندی فوت ہو جاتے ہیں۔ اس لئے مجبوری کی حالت میں ظہرو عصر اور مغرب و عشاء کی نمازوں کا جمع کر کے پڑھ لینا جائز ہے‘‘۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’مَیں یہ بھی جانتا ہوں کہ اگر حُکّام سے نماز پڑھنے کی اجازت طلب کر لی جائے تو وہ اجازت دے دیا کرتے ہیں۔‘‘ (جہاں انسان نوکری کرتا ہے، ملازمت کرتا ہے اگر ان افسروں پر اچھا اثر ہو اور ان سے اجازت لی جائے نمازوں کی تو نماز پڑھنے کی اجازت دے دیتے ہیں۔) فرمایا ’’نیز اعلیٰ حُکّام کی طرف سے ماتحت افسروں کو اس بارے میں خاص ہدایات ملی ہوئی ہوتی ہیں۔‘‘ (بعض جگہ ہدایات ہوتی بھی ہیں۔ ) فرمایا کہ ’’ترکِ نماز کے لئے ایسے بیجا عذر بجز اپنے نفس کی کمزوری کے اور کوئی نہیں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد میں ظلم و زیادتی نہ کرو۔ اپنے فرائض منصبی نہایت دیانتداری سے بجا لاؤ۔‘‘ (ملفوظات جلدنمبر 1 صفحہ 265۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر صرف نمازیں ہی نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر آپ ہم سے توقع رکھتے ہیں اور اس بارے میں نوافل اور تہجد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ:

’’اس زندگی کے کُل انفاس اگر دنیاوی کاموں میں گزر گئے تو آخرت کے لئے کیا ذخیرہ کیا؟‘‘ (اگر سارے وقت، ہر سانس، ہر لمحہ انسان نے دنیاداری کے کمانے میں صَرف کر دیا تو آخرت کے لئے کیا جمع کیا۔ ) فرمایا کہ ’’تہجد میں خاص کر اُٹھو اور ذوق اور شوق سے ادا کرو۔ درمیانی نمازوں میں بہ باعث ملازمت کے ابتلا آ جاتا ہے۔‘‘ فرمایا کہ ’’رازق اللہ تعالیٰ ہے۔ نماز اپنے وقت پر ادا کرنی چاہئے۔ ظہروعصر کی کبھی کبھی جمع ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ضعیف لوگ ہوں گے اس لئے یہ گنجائش رکھ دی۔ مگر یہ گنجائش تین نمازوں کے جمع کرنے میں نہیں ہو سکتی۔ جبکہ ملازمت میں اور دوسرے کئی امور میں لوگ سزا پاتے ہیں (اور موردِ عتابِ حُکّام ہوتے ہیں) تو اگر اللہ تعالیٰ کے لئے تکلیف اٹھاویں تو کیا خوب ہے‘‘۔ (ملفوظات جلدنمبر 1 صفحہ 6۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

آخر دنیاوی ملازمتوں میں، دنیاوی کاموں میں بھی لوگ بعض دفعہ سزا پاتے ہیں اور تکلیف اٹھاتے ہیں تو نمازیں پڑھنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی خاطر اگر تھوڑی سی تکلیف اٹھا لی تو یہ تو فائدہ ہی فائدہ ہے۔ پس ایک مومن کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔ اب راتیں چھوٹی آ رہی ہیں۔ نہ چھوٹی راتوں کی وجہ سے نماز قضاء ہو۔ اورنہ ہی چھوٹی راتیں نمازادا کرنے سے روکیں اور نہ دنیاوی کاموں کی مصروفیات اس کے رستے میں روک بنیں۔ پس اس لحاظ سے ہمیں ہر وقت اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔

ہم میں سے بہت سے نماز ایک فرض سمجھ کر تو ادا کرتے ہیں لیکن اس کی حقیقت کو صحیح طور پر نہیں جانتے۔ اس کی وضاحت فرماتے ہوئے ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ:

’’نماز کیا ہے؟ یہ ایک خاص دعا ہے مگر لوگ اس کو بادشاہوں کا ٹیکس سمجھتے ہیں‘‘۔ (مجبوری سے دے رہے ہیں، ادا کر رہے ہیں گویا کہ ٹیکس لگا ہوا ہے۔) ’’نادان اتنا نہیں جانتے کہ بھلا خدا تعالیٰ کو ان باتوں کی کیا حاجت ہے۔ اس کے غنائِ ذاتی کو اس بات کی کیا حاجت ہے کہ انسان دعا، تسبیح اور تہلیل میں مصروف ہے بلکہ اس میں انسان کا اپنا ہی فائدہ ہے کہ وہ اس طریق پر اپنے مطلب کو پہنچ جاتا ہے‘‘۔ فرمایا: ’’مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ آجکل عبادات اور تقویٰ اور دینداری سے محبت نہیں ہے۔ اس کی وجہ ایک عام زہریلا اثر رسم کا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی محبت سرد ہو رہی ہے اور عبادت میں جس قسم کا مزا آنا چاہئے وہ مزا نہیں آتا۔ دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس میں لذّت اور ایک خاص حظّ اللہ تعالیٰ نے نہ رکھا ہو‘‘۔ فرمایا کہ ’’جس طرح پر ایک مریض ایک عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ چیز کا مزہ نہیں اٹھا سکتا اور وہ اسے تلخ یا بالکل پھیکا سمجھتا ہے‘‘۔ (بعض دفعہ منہ بدمزہ ہو جاتا ہے بیماری کی وجہ سے۔ )’’اسی طرح وہ لوگ جو عبادت الٰہی میں حظّ اور لذت نہیں پاتے ان کو اپنی بیماری کا فکر کرنا چاہئے کیونکہ جیسا مَیں نے ابھی کہا ہے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس میں خدا تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی لذّت نہ رکھی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس عبادت میں اس کے لئے لذّت اور سرور نہ ہو‘‘۔ (ایک طرف اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے پیدا ہی عبادت کے لئے کیا ہے پھر اس میں کوئی لذت بھی نہیں رکھی۔) فرمایا کہ ’’لذت اور سرور تو ہے مگر اس سے حظّ اٹھانے والا بھی تو ہو۔‘‘ (اس سرور کو کوئی حاصل کرنے والا بھی تو ہو۔) ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (الذَّاریات: 57) اب انسان جبکہ عبادت ہی کے لئے پیدا ہوا ہے۔ ضروری ہے کہ عبادت میں لذت اور سرور بھی درجہ غایت کا رکھا ہو۔ اس بات کو ہم اپنے روز مرہ کے مشاہدہ اور تجربے سے خوب سمجھ سکتے ہیں‘‘۔ (ہر کام میں اللہ تعالیٰ نے لذّت و سرور رکھا ہے اور روزمرہ کے جو کام ہیں ان سے اس کا پتا چلتا ہے، مشاہدے میں باتیں آتی ہیں۔ ) پھر فرمایا کہ ’’مثلاً دیکھو اناج اور تمام خوردنی اور نوشیدنی اشیاء‘‘ (جو بھی کھانے پینے والی چیزیں ہیں ) ’’انسان کے لئے پیدا ہوئی ہیں تو کیا ان سے وہ ایک لذت اور حظ نہیں پاتا ہے؟‘‘ (بڑے مزیدار کھانے پکے ہوں تو بڑا مزہ آتا ہے۔) ’’کیا اس ذائقہ، مزے اور احساس کے لئے اس کے منہ میں زبان موجودنہیں؟ کیا وہ خوبصورت اشیاء دیکھ کر نباتات ہوں یا جمادات۔ حیوانات ہوں یا انسان حظّ نہیں پاتا؟‘‘ (کھانے کا مزا بھی لیتا ہے اور خوبصورتی کا مزا بھی۔ خوبصورت چیز دیکھ کے آنکھوں کے ذریعہ سے اس کا لطف اٹھاتا ہے۔) ’’کیا دل خوش کن اور سریلی آوازوں سے اس کے کان محظوظ نہیں ہوتے؟‘‘ (اللہ تعالیٰ نے کان رکھے ہیں۔ اب کانوں میں سریلی آوازیں پہنچیں تو اس سے دل خوش ہوتا ہے۔ ) ’’پھر کیا کوئی دلیل اَور بھی اس امر کے اثبات کے لئے مطلوب ہے کہ عبادت میں لذت نہیں‘‘۔ (ان ساری چیزوں میں تو لذت ہے۔ ان سے تو سرور ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیں لیکن عبادت میں اگر لذت نہیں ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ یہ ساری باتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یقینا عبادت میں بھی اللہ تعالیٰ نے لذت رکھی ہے۔) فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے عورت اور مرد کو جوڑا پیدا کیا اور مرد کو رغبت دی ہے اب اس میں زبردستی نہیں کی بلکہ ایک لذّت بھی دکھلائی ہے۔ اگر محض توالد و تناسل ہی مقصود بالذات ہوتا تو مطلب پورا نہ ہو سکتا‘‘۔ فرمایا ’’خدا تعالیٰ کی علّت غائی بندوں کا پیدا کرنا تھا اور اس سبب کے لئے ایک تعلق عورت مرد میں قائم کیا اور ضمناً اس میں ایک حظّ رکھ دیا جو اکثر نادانوں کے لئے مقصود بالذات ہو گیا ہے۔‘‘ (بعض لوگ دنیا دار صرف یہی سمجھتے ہیں کہ یہی ہمارا مقصد ہے۔ ) فرمایا کہ ’’اسی طرح سے خوب سمجھ لو کہ عبادت بھی کوئی بوجھ اور ٹیکس نہیں۔ اس میں بھی ایک لذت اور سرور ہے اور یہ لذت اور سرور دنیا کی تمام لذتوں اور تمام حظوظ نفس سے بالا تر اور بلند ہے‘‘۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’جیسے ایک مریض کسی عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ غذا کی لذت سے محروم ہے اسی طرح پر، ہاں ٹھیک ایسا ہی وہ کم بخت انسان ہے جو عبادت الٰہی سے لذت نہیں پا سکتا‘‘۔ (ملفوظات جلدنمبر 1 صفحہ 159-160۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

اگر ایک مریض ایک اچھی غذا اپنے مرض کی وجہ سے بیماری کی وجہ سے منہ کڑوا ہونے کی وجہ سے اس کو پسندنہیں آتی اس کا ذائقہ محسوس نہیں ہوتا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ کھانا خراب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مریض ہے۔ اسی طرح جو نماز اور عبادت سے حظ نہیں اٹھاتا اس کا مطلب یہ نہیں کہ نمازوں میں حظ نہیں ہے یا اللہ تعالیٰ نے لطف نہیں رکھا۔ رکھا ہے لیکن انسان کی اپنی طبیعت بیماری، بدذوقی اس سے لطف نہیں اٹھاتی۔

پس ہمیں ایسی عبادتوں کی تلاش کرنی چاہئے جس میں لذت و سرور ہو، نہ کہ صرف ایک بوجھ سمجھ کر گلے سے اتارا جائے۔ جب ایسی صورت ہو گی تو پھر جیسا کہ مَیں نے کہا بعض لوگ لمبی راتوں میں تو فجر کی نماز پہ آجاتے ہیں۔ اب چھوٹی راتیں ہوں تو فجر کی نماز پہ آنا چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کی توجہ پھر اس طرف رہے گی تا کہ سرور حاصل ہو اور باقی نمازوں کی ادائیگی کا بھی خیال رہے گا۔

پھر لذت و سرور کے مضمون کو مزید بیان فرماتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: ’’غرض مَیں دیکھتا ہوں کہ لوگ نمازوں میں غافل اور سست اس لئے ہوتے ہیں کہ ان کو اس لذت و سرور سے اطلاع نہیں جو اللہ تعالیٰ نے نماز کے اندر رکھا ہے اور بڑی بھاری وجہ اس کی یہی ہے‘‘ (کہ ان کو اس کا پتا نہیں۔) ’’پھر شہروں اور گاؤں میں تو اور بھی سستی اور غفلت ہوتی ہے۔ سو پچاسواں حصہ بھی تو پوری مستعدی اور سچی محبت سے اپنے مولیٰ حقیقی کے حضور سر نہیں جھکاتا۔ پھر سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیوں ان کو اس لذت کی اطلاع نہیں اور نہ کبھی انہوں نے اس مزہ کو چکھا۔ اور مذاہب میں ایسے احکام نہیں ہیں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے کاموں میں مبتلا ہوتے ہیں اور مؤذن اذان دے دیتا ہے۔ پھر وہ سننا بھی نہیں چاہتے۔ گویا ان کے دل دکھتے ہیں‘‘۔ (یعنی اذان کی آواز سنی تو سننا بھی نہیں چاہتے کہ او ہو اب تو نماز پہ جانا پڑے گا۔ یا توجہ ہی نہیں دیتے۔) ’’یہ لوگ بہت ہی قابل رحم ہیں۔ بعض لوگ یہاں بھی ایسے ہیں کہ ان کی دکانیں دیکھو تو مسجدوں کے نیچے ہیں مگر کبھی جا کر کھڑے بھی تو نہیں ہوتے۔ پس مَیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ سے نہایت سوز اور ایک جوش کے ساتھ یہ دعا مانگنی چاہئے کہ جس طرح پھلوں اور اشیاء کی طرح طرح کی لذتیں عطا کی ہیں۔ نماز اور عبادت کا بھی ایک بار مزا چکھا دے‘‘۔ (فرمایا کہ کھانے کا، پھلوں کا، باقی چیزوں کا زبان میں مزا آتا ہے ناں اسی طرح اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمیں نماز کا بھی مزا چکھا دے۔) فرمایا کہ ’’کھایا ہوا یاد رہتا ہے۔ دیکھو اگر کوئی شخص کسی خوبصورت کو ایک سرور کے ساتھ دیکھتا ہے تو وہ اسے خوب یاد رہتا ہے اور پھر اگر کسی بدشکل اور مکروہ ہیئت کو دیکھتا ہے تو اس کی ساری حالت باعتبار اس کے مجسّم ہو کر سامنے آ جاتی ہے‘‘۔ (خوبصورتی بھی یاد رہتی ہے، بدصورتی بھی یاد رہتی ہے۔) ’’ہاں اگر کوئی تعلق نہ ہو تو کچھ یادنہیں رہتا۔ اسی طرح بے نمازوں کے نزدیک نماز ایک تاوان ہے کہ ناحق صبح اٹھ کر سردی میں وضو کر کے خوابِ راحت چھوڑ کر کئی قسم کی آسائشوں کو کھو کر پڑھنی پڑتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اسے بیزاری ہے۔ وہ اس کو سمجھ نہیں سکتا۔ اس لذّت اور راحت سے جو نماز میں ہے اس کو اطلاع نہیں ہے۔ پھر نماز میں لذت کیونکر حاصل ہو۔‘‘ فرمایا کہ ’’مَیں دیکھتا ہوں کہ ایک شرابی اور نشے باز انسان کو جب سرور نہیں آتا تو وہ پَے در پَے پیالے پیتا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کو ایک قسم کا نشہ آ جاتا ہے۔ دانشمند اور بزرگ انسان اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے‘‘۔ (یہ جو نصیحت ہے نشے باز کا بھی جو یہ نمونہ ہے اس سے بھی ایک عقلمند انسان فائدہ اٹھا سکتا ہے) ’’اور وہ (کیا فائدہ اٹھائے) یہ کہ نماز پر دوام کرے اور پڑھتا جاوے۔‘‘ (مزا آتا ہے یا نہیں آتا۔ اس کوشش میں ہو کہ مجھے مزا آئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرے اور باقاعدگی اختیار کرے، پڑھتا جائے۔) ’’یہاں تک کہ اس کو سرور آ جاوے اور جیسے شرابی کے ذہن میں ایک لذت ہوتی ہے جس کا حاصل کرنا اس کا مقصود بالذات ہوتا ہے اسی طرح سے ذہن میں اَور ساری طاقتوں کا رجحان نماز میں اسے سرور کا حاصل کرنا ہو اور پھر ایک خلوص اور جوش کے ساتھ کم از کم اس نشے باز کے اضطراب اور قلق وکرب کی مانند ہی ایک دعا پیدا ہو کہ وہ لذّت حاصل ہو‘‘۔ (ایک کرب پیدا ہو، ایک قلق پیدا ہو، اس کی وجہ سے دعا ہو۔ ) فرمایا کہ ’’تومَیں کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں کہ یقینا یقینا وہ لذت حاصل ہو جاوے گی۔ پھر نماز پڑھتے وقت ان مفاد کا حاصل کرنا بھی ملحوظ ہو جو اس سے ہوتے ہیں اور احسان پیش نظر رہے‘‘۔ فرمایا کہ ’’اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ(ھود: 115) نیکیاں بدیوں کو زائل کر دیتی ہیں۔ پس ان حسنات کو اور لذات کو دل میں رکھ کر دعا کرے کہ وہ نماز جو کہ صدیقوں اور محسنوں کی ہے وہ نصیب کرے‘‘ (یہ دعا ہو۔) فرمایا کہ ’’یہ جو فرمایا ہے اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ (ھود: 115) یعنی نیکیاں یا نماز بدیوں کو دور کرتی ہیں یا دوسرے مقام پر فرمایا ہے نماز فواحش اور برائیوں سے بچاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ باوجودنماز پڑھنے کے پھر بدیاں کرتے ہیں‘‘۔ (یہ بھی دنیا میں نظر آتا ہے کہ بظاہر بڑی نمازیں بھی پڑھ رہے ہوتے ہیں، لیکن بدیاں کرتے ہیں۔) فرمایا ’’اس کا جواب یہ ہے کہ وہ نمازیں پڑھتے ہیں مگر نہ روح اور راستی کے ساتھ‘‘۔ (سچائی کے ساتھ اور دل لگا کر اور روح کی گہرائی سے نمازنہیں پڑھتے۔) ’’وہ صرف رسم اور عادت کے طور پر ٹکّریں مارتے ہیں۔ ان کی روح مردہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام حسنات نہیں رکھا اور یہاں جو حسنات کا لفظ رکھا، اَلصَّلوٰۃ کا لفظ نہیں رکھا باوجویکہ معنی وہی ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ تا نماز کی خوبی اور حسن و جمال کی طرف اشارہ کرے کہ وہ نماز بدیوں کو دور کرتی ہے جو اپنے اندر ایک سچائی کی روح رکھتی ہے اور فیض کی تاثیر اس میں موجود ہے۔ وہ نماز یقینا یقینا برائیوں کو دُور کرتی ہے۔ نماز نشست و برخاست کا نام نہیں ہے۔ نماز کا مغز اور روح وہ دعا ہے جو ایک لذت اور سرور اپنے اندر رکھتی ہے۔‘‘ (ملفوظات جلدنمبر 1 صفحہ 162 تا 164۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر نماز کی مختلف حالتوں کی حکمت اور جو اثر ان کا ہم پہ ہونا چاہئے، اس کی تفصیل بیان فرماتے ہوئے ایک جگہ ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ: ’’یاد رکھو صلوٰۃ میں حال اور قال دونوں کا جمع ہونا ضروری ہے‘‘۔ (یعنی اپنی ایسی کیفیت بھی پیدا ہو، ایسی حالت پیدا ہو جو نماز کی حالت ہونی چاہئے اور دوسرے یہ بھی احساس ہو کہ انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہے اس سے باتیں کر رہا ہے۔ ) فرمایا کہ ’’بعض وقت اعلام تصویری ہوتا ہے‘‘۔ (یعنی تصویری حالت پیدا ہوتی ہے۔ ایسی شکل پیدا ہوتی ہے جس کو تصویری شکل دی جاتی ہے۔ )فرمایا ’’ایسی تصویر دکھائی جاتی ہے جس سے دیکھنے والے کو پتا ملتا ہے کہ اس کا منشاء یہ ہے۔ ایسا ہی صلوٰۃ میں منشائے الٰہی کی تصویر ہے‘‘۔ (نمازیں جو ہیں، اس کی جو مختلف حالتیں ہیں اس میں اللہ تعالیٰ انسان سے کیا چاہتا ہے اس کا ایک تصویری نمونہ قائم کیا گیا ہے۔ ) فرمایا کہ ’’نماز میں جیسے زبان سے کچھ پڑھا جاتا ہے ویسے ہی اعضاء و جوارح حرکات سے کچھ دکھایا بھی جاتا ہے‘‘۔ (نماز میں جو ہم منہ سے پڑھتے ہیں، ہماری جو حرکتیں ہیں ان کا اظہار بھی ان الفاظ کے ساتھ ہونا چاہئے۔ ) فرمایا ’’جب انسان کھڑا ہوتا ہے اور تحمید و تسبیح کرتا ہے اس کا نام قیام رکھا۔ اب ہر ایک شخص جانتا ہے کہ حمد و ثنا کے مناسب حال قیام ہی ہے‘‘۔ (جب انسان کھڑا ہو، تسبیح و تحمید کر رہا ہو، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کر رہا ہو تو کھڑا ہو کے کرتا ہے۔ )فرمایا کہ دیکھو ’’بادشاہوں کے سامنے جب قصائد سنائے جاتے ہیں تو آخر کھڑے ہو کر ہی پیش کرتے ہیں۔ تو اِدھر ظاہری طور پر قیام رکھا ہے اور اُدھر زبان سے حمد و ثنا بھی رکھی ہے۔ مطلب اس کا یہی ہے کہ روحانی طور پر بھی اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہو‘‘۔ (جب سامنے کھڑا ہو اور سورۃ فاتحہ پڑھ رہا ہو اور حمد و ثنا کر رہا ہو تو روحانی طور پر بھی یہ قیام نظر آنا چاہئے، دل پہ اثر ہونا چاہئے۔) فرمایا کہ ’’حمد ایک بات پر قائم ہو کر کی جاتی ہے۔ جو شخص مُصدّق ہو کر کسی کی تعریف کرتا ہے تو وہ ایک رائے پر قائم ہو جاتا ہے‘‘۔ (جھوٹی تعریفیں تو نہیں ہوتیں جب کسی کی تعریف کی جاتی ہے۔ اگر حقیقی سچا انسان ہے تو کسی کی تصدیق کر کے ہی تعریف کرتا ہے۔) فرمایا کہ ’’اس اَلْحَمْدُلِلّٰہ کہنے والے کے واسطے یہ ضروری ہوا کہ وہ سچے طور پر اَلْحَمْدُلِلّٰہ اسی وقت کہہ سکتا ہے کہ پورے طور پر اس کو یقین ہو جائے کہ جمیع اقسام محامد کے اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں‘‘۔ (تمام قسم کی جو تعریفیں ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں۔) ’’جب یہ بات دل میں انشراح کے ساتھ پیدا ہو گئی تو یہ روحانی قیام ہے۔‘‘ (جب دل میں یہ بات پیدا ہو جائے گی کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں۔ وہی سب تعریفوں کے قابل ہے اور اسی کی تعریف کرنی چاہئے اور اس کے علاوہ کوئی اور دوسرا نہیں جس کی تعریف کی جائے تو یہ صرف ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا، قیام نہیں بلکہ یہ روحانی قیام ہو جائے گا۔ پھر) ’’کیونکہ دل اس پر قائم ہو جاتا ہے اور پھر سمجھا جاتا ہے کہ وہ کھڑا ہے۔ حال کے موافق کھڑا ہو گیا تا کہ روحانی قیام نصیب ہو۔‘‘ (یہ اس کی حالت ہے جو دلی حالت ہے اس کے مطابق کھڑا ہو گیا۔ ) ’’پھر رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم کہتا ہے۔ قاعدہ کی بات ہے کہ جب کسی کی عظمت مان لیتے ہیں تو اس کے حضور جھکتے ہیں۔ عظمت کا تقاضا ہے کہ اس کے لئے رکوع کرے۔ پس سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم زبان سے کہا اور حال سے جھکنا دکھا یا۔‘‘ (زبان نے اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اظہار کیا، اس کی پاکیزگی بیان کی اور اس کے ساتھ ہی انسان رکوع میں چلا گیا، جھک گیا۔) ’’یہ اس قول کے ساتھ حال دکھایا‘‘۔ (یعنی وہ بات منہ سے نکلی اور ساتھ ہی جب حالت طاری ہو گئی تو وہ جھکنے کی تھی رکوع کی تھی۔)

’’پھر تیسرا قول ہے سُبْحَانَ رَبِّی الْاَعْلیٰ۔ اعلیٰ اَفْعَلُ تفضیل ہے۔‘‘ (یعنی فضیلت دینے کی عملی شکل ہے یہ سجدے کی حالت ہے۔ مطلب ہے یہ فضیلت کا اعلیٰ ترین اظہار ہے۔) ’’یہ بالذّات سجدہ کو چاہتا ہے‘‘ (جب اللہ تعالیٰ کی فضیلت بیان کرنے کا، اس کی پاکیزگی بیان کرنے کا اور بڑائی بیان کرنے کا یہ اعلیٰ ترین اظہار ہو تو پھر یہ اس چیز کو چاہتی ہے کہ سجدہ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور بالکل جھک جایا جائے۔) ’’اس لئے اس کے ساتھ حالی تصویر سجدہ میں گرنا ہے۔‘‘ (اب ظاہری تصویر اس حالت کی یہ ہو گی کہ انسان سجدے میں گر جائے۔) اس اقرار کے مناسب حال ہیئت فی الفور اختیار کر لی‘‘۔ (یعنی جب اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور اس کا اعلیٰ ہونا اور اس کی سب پر فضیلت کا دل سے اقرار کیا تو ساتھ ہی زمین پر سجدہ میں ماتھا ٹکا دیا۔ یہ اس کا اختیار ہے۔ یہ جو حالت ہے اس کا اظہار ہے۔) فرمایا کہ ’’اس قال کے ساتھ تین حال جسمانی ہیں۔ ایک تصویر اس کے آگے پیش کی گئی۔ ہر ایک قسم کا قیام بھی کیا گیاہے۔ زبان جو جسم کا ٹکڑا ہے اس نے بھی کہا اور وہ شامل ہوگئی۔ تیسری چیز اَور ہے وہ اگر شامل نہ ہو تو نماز نہیں ہوتی۔ وہ کیا ہے؟ وہ قلب ہے‘‘۔ (دل ہے۔) ’’اس کے لئے ضروری ہے کہ قلب کا قیام ہو۔ اور اللہ تعالیٰ اس پر نظر کر کے دیکھے کہ درحقیقت وہ حمد بھی کرتا ہے اور کھڑا بھی ہے اور روح بھی کھڑا ہوا حمد کرتا ہے۔ جسم ہی نہیں بلکہ روح بھی کھڑا ہے‘‘۔ (یعنی کہ دل سے۔ اللہ تعالیٰ تو دل کی حالت جانتا ہے اس کو پتا لگ رہا ہے کہ جسم کے ساتھ روح بھی کھڑی حمد کر رہی ہے یا جھک رہی ہے یا سجدہ کر رہی ہے) ’’اور جب سُبْحَانَ رَبِّی الْعَظِیْم کہتا ہے تو دیکھے کہ اتنا ہی نہیں کہ صرف عظمت کا اقرار ہی کیا ہے۔ نہیں، بلکہ ساتھ ہی جھکا بھی ہے اور اس کے ساتھ ہی روح بھی جھک گیا ہے۔ پھر تیسری نظر میں خدا کے حضور سجدہ میں گرا ہے۔ اس کی علُوّ شان کو ملاحظہ میں لا کر اس کے ساتھ ہی دیکھے کہ روح بھی اُلُوہیت کے آستانہ پر گری ہوئی ہے‘‘ (روح بھی گر جائے ساتھ ہی۔ یعنی کہ دل بھی اسی طرح سجدے میں چلا جائے۔) ’’غرض یہ حالت جب تک پیدا نہ ہو لے اس وقت تک مطمئن نہ ہو کیونکہ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃ کے معنی یہی ہیں۔ اگر یہ سوال ہو کہ یہ حالت پیدا کیونکر ہو،‘‘ (کس طرح پیدا کی جائے) ’’تو اس کا جواب اتنا ہی ہے کہ نماز پر مداومت کی جاوے‘‘۔ (باقاعدگی اختیار کرو نمازیں پڑھنے میں) ’’اور وساوس اور شبہات سے پریشان نہ ہو۔‘‘ (نماز پڑھتے ہوئے وسوسے بھی آتے ہیں۔ شبہات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ ان سے پریشان نہ ہو بلکہ باقاعدگی سے نمازیں پڑھتے چلے جاؤ۔ ) ’’ابتدائی حالت میں شکوک و شبہات سے ایک جنگ ضرور ہوتی ہے۔‘‘ (شروع شروع میں جو شکوک و شبہات ہیں، وسوسے ہیں ان سے انسان کی ایک جنگ رہتی ہے۔ شیطان حملے کرتا ہے۔ شیطان سے جنگ جاری رہتی ہے۔) ’’اس کا علاج یہی ہے کہ نہ تھکنے والے استقلال اور صبر کے ساتھ لگا رہے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگتا رہے۔ آخر وہ حالت پیدا ہوجاتی ہے جس کا (فرمایا کہ) مَیں نے ابھی ذکر کیا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلدنمبر 1 صفحہ 433 تا 435۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس مستقل مزاجی شرط ہے۔ اگر انسان میں پیدا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ دوڑ کر پھر اپنے بندے کی طرف آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے فضل بھی نازل ہوتے ہیں۔ لیکن اس حقیقت کو بہت سے لوگ سمجھتے نہیں۔ جلد بازی میں خداتعالیٰ کے در کو چھوڑ دیتے ہیں یا اس کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔ کم اہمیت سمجھتے ہیں اور دنیا کے داروں کی طرف بھی پھر دوڑ لگا دیتے ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’پھر یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یہ نماز جو اپنی اصلی معنوں میں نماز ہے دعا سے حاصل ہوتی ہے۔ غیر اللہ سے سوال کرنا مومنانہ غیرت کے صریح اور سخت مخالف ہے کیونکہ یہ مرتبہ دعا کا اللہ ہی کے لئے ہے۔‘‘ (ایک دوسرے سے عام واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ سوال ہوتے ہیں لیکن ایسے سوال جن کا تعلق صرف خدا تعالیٰ سے ہے خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی سے امید رکھنا اور صرف اسی پر انحصار کرنا یہ چیز غلط ہے۔) فرمایا کہ ’’جب تک انسان پورے طور پر خفیف ہو کر اللہ تعالیٰ ہی سے سوال نہ کرے اور اسی سے نہ مانگے، سچ سمجھو کہ حقیقی طور پر وہ سچا مسلمان اور سچا مومن کہلانے کا مستحق نہیں۔ اسلام کی حقیقت ہی یہ ہے کہ اس کی تمام طاقتیں اندرونی ہوں یا بیرونی، سب کی سب اللہ تعالیٰ ہی کے آستانے پر گری ہوئی ہوں۔ جس طرح پر ایک بڑا انجن بہت سی کَلوں کو چلاتا ہے‘‘۔ (بہت سے پُرزوں کو چلاتا ہے) ’’پس اسی طور پر جب تک انسان اپنے ہر کام اور ہر حرکت و سکون کو اسی انجن کی طاقت عظمیٰ کے ماتحت نہ کر لیوے وہ کیونکر اللہ تعالیٰ کی اُلوہیت کا قائل ہو سکتا ہے اور اپنے آپ کو اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ۔ کہتے وقت واقعی حنیف کہہ سکتا ہے؟ جیسے منہ سے کہتا ہے ویسے ہی ادھر کی طرف متوجہ ہو تو لَاریب وہ مُسلم ہے، وہ مومن اور حنیف ہے۔‘‘ (جس طرح منہ سے کہا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ بھی ہو جائے تو مسلمان بھی ہے، وہ مومن بھی ہے اور وہ حنیف بھی ہے، موحّد بھی ہے۔) ’’لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا غیراللہ سے سوال کرتا ہے اور ادھر بھی جھکتا ہے۔‘‘ (یعنی ایک طرف اللہ تعالیٰ کی طرف جھک رہا ہے یا اللہ تعالیٰ کے علاوہ اس طرف جھک رہا ہے یا اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی ملا رہا ہے)، ’’وہ یاد رکھے کہ بڑا ہی بدقسمت اور محروم ہے کہ اس پر وہ وقت آ جانے والا ہے کہ وہ زبانی اور نمائشی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف نہ جھک سکے‘‘۔ (یعنی پھر اللہ تعالیٰ اس سے پرے ہٹ جاتا ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ ظاہری طور پر بھی جھکنے والا نہیں ہوتا۔) فرمایا کہ ’’ترک نماز کی عادت اور کسل کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ کیونکہ جب انسان غیر اللہ کی طرف جھکتا ہے تو روح اور دل کی طاقتیں اس درخت کی طرح (جس کی شاخیں ابتداء ًایک طرف کردی جاویں اور اس طرف جھک کر پرورش پالیں) اُدھر ہی جھکتا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک سختی اور تشدد اس کے دل میں پیدا ہو کر اسے منجمد اور پتھر بنا دیتا ہے۔‘‘ (درختوں کی شاخیں اگر باندھ کر ایک طرف کر دی جائیں تو ادھر ہی چلتی جاتی ہیں۔ اس لئے اگر انسان بھی پھر بندوں کی طرف جھکتا ہے تو پھر بندوں کی طرف ہی چلا جاتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی اس کا دل سخت ہو جاتا ہے۔) فرمایا کہ ’’جیسے وہ شاخیں۔ (جو ایک طرف جھکتی ہیں) پھر دوسری طرف مڑ نہیں سکتا۔ اسی طرح پر دل اور روح دن بدن خدا تعالیٰ سے دُور ہوتی جاتی ہے۔ پس یہ بڑی خطرناک اور دل کو کپکپا دینے والی بات ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے سے سوال کرے۔ اسی لئے نماز کا التزام اور پابندی بڑی ضروری چیز ہے تا کہ اولاً وہ ایک عادت راسخہ کی طرح قائم ہو اور رجوع الی اللہ کا خیال ہو۔ پھر رفتہ رفتہ وہ وقت خود آ جاتا ہے جب کہ انقطاع کُلّی کی حالت میں انسان ایک نور اور ایک لذّت کا وارث ہو جاتا ہے۔ (پہلے تو کوشش کر کے نماز پڑھنی پڑتی ہے اور آہستہ آہستہ جب عادت پڑ جائے، خالص ہو کے جب اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتا چلا جائے تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بن جاتا ہے۔ ) فرمایا کہ ’’مَیں اس امر کو پھر تاکید سے کہتا ہوں۔ افسوس ہے کہ مجھے وہ لفظ نہیں ملے جس میں غیراللہ کی طرف رجوع کرنے کی برائیاں بیان کر سکوں۔ لوگوں کے پاس جا کر منت خوشامد کرتے ہیں۔ یہ بات خدا تعالیٰ کی غیرت کو جوش میں لاتی ہے کیونکہ یہ تو لوگوں کی نماز ہے۔ پس وہ اس سے ہٹتا اور اُسے دور پھینک دیتا ہے۔ مَیں موٹے الفاظ میں اس کو بیان کرتا ہوں۔ گو یہ امر اس طرح پر نہیں ہے مگر سمجھ میں خوب آ سکتا ہے۔‘‘ (یہ باتیں اس طرح تو نہیں لیکن ایک دنیاوی مثال ہے وہ سمجھانے کے لئے بیان کرتا ہوں) ’’کہ جیسے ایک مردِ غیّور کی غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اپنی بیوی کو کسی غیر کے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہوئے دیکھ سکے اور جس طرح پر وہ مرد ایسی حالت میں (یہ بھی صورت ہو جاتی ہے کہ) اس نابکار عورت کو واجب القتل سمجھتا‘‘۔ (بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں۔) پس فرمایا کہ ’’عبودیت اور دعا خاص اسی ذات کے مدّمقابل ہیں۔‘‘ (یعنی کہ عبودیت و دعا صرف اللہ تعالیٰ سے کرنی چاہئے۔ کیونکہ) ’’وہ (اللہ تعالیٰ) پسندنہیں کرسکتا کہ کسی اور کو معبود قرار دیا جاوے یا پکارا جاوے۔ پس خوب یاد رکھو اور پھر یاد رکھو کہ غیر اللہ کی طرف جھکنا خدا سے کاٹنا ہے۔ نماز اور توحید کچھ ہی کہو کیونکہ توحید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے اس وقت بے برکت اور بے سُود ہوتی ہے جب اس میں نیستی اور تذلّل کی روح اور حنیف دل نہ ہو۔‘‘ (ملفوظات جلدنمبر 1 صفحہ 166-167۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم بہت روئے۔ بہت نماز پڑھیں لیکن کچھ حاصل نہ ہوا۔ ایسے لوگوں کی بات کی نفی کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’بعض لوگوں کا یہ خیال کہ اللہ تعالیٰ کے حضور رونے دھونے سے کچھ نہیں ملتا(۔ یہ بات) بالکل غلط اور باطل ہے۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کے صفات قدرت و تصرف پر ایمان نہیں رکھتے۔ اگر ان میں حقیقی ایمان ہوتا تو وہ ایسا کہنے کی جرأت نہ کرتے۔ جب کبھی کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے حضور آیا ہے اور اس نے سچی توبہ کے ساتھ رجوع کیا ہے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اس پر اپنا فضل کیا ہے۔ یہ کسی نے بالکل سچ کہا ہے کہ

عاشق کہ شد کہ یار بحالش نظر نہ کرد

اے خواجہ دردنیست وگرنہ طبیب ہست‘‘

(یعنی وہ عاشق ہی کیا کہ محبوب جس کی طرف نظر ہی نہ کرے۔ اے صاحب! درد ہی نہیں ہے وگرنہ طبیب تو موجود ہے۔ یہ غلط ہے کہ تمہیں درد ہے۔) ’’خدا تعالیٰ تو چاہتا ہے کہ تم اس کے حضور پاک دل لے کر آجاؤ۔ صرف شرط اتنی ہے کہ اس کے مناسب حال اپنے آپ کو بناؤ۔‘‘ (یہ بہت بڑی بات ہے کہ اس کے مناسب حال اپنے آپ کو بناؤ۔ جس طرح اس نے کہا ہے اس طرح چلو۔) ’’اور وہ سچی تبدیلی جو خدا تعالیٰ کے حضور جانے کے قابل بنا دیتی ہے اپنے اندر کر کے دکھاؤ۔ مَیں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ میں عجیب در عجیب قدرتیں ہیں اور اس میں لاانتہا فضل و برکات ہیں مگر ان کے دیکھنے اور پانے کے لئے محبت کی آنکھ پیدا کرو۔‘‘ (اللہ تعالیٰ سے سچی محبت پیدا کرو۔) فرمایا کہ ’’اگر سچی محبت ہو تو خدا تعالیٰ بہت دعائیں سنتا ہے اور تائیدیں کرتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلدنمبر1 صفحہ 352-353۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس اپنی حالت ہمیں ایسی بنانے کی ضرورت ہے کہ خد اتعالیٰ ہماری سنے۔ جو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سنتا نہیں ان میں سے اکثریت تو نمازیں بھی پانچ وقت پوری نہیں پڑھتی۔ صرف نماز کا خیال اس وقت آتا ہے جب کوئی دنیاوی مشکل ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ضرور سنوں گا لیکن تم میرے حکموں پر چلو۔ اور ہر ایک اپنا جائزہ لے لے کہ کیا وہ خدا تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ سے شکوہ ہے تو پہلے اس بات کا جواب دے کہ کتنے ہیں جو (حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ جو لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قرآن کریم میں سات سو حکم ہیں کہ) ان سات سو حکموں پر عمل کرتے ہیں۔ اگر یہی مقابلہ کرنا ہے تو پھر وہاں بھی مقابلہ آ گیا۔ یہ تو خدا تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس کے باوجود اپنے بندوں پر رحم کرتے ہوئے ان سے صرفِ نظر کرتا ہے۔ ان کی بہت ساری باتوں سے ان کی بعض دعاؤں کو سن بھی لیتا ہے۔ کئی لوگ ہیں جو شایدنمازیں باقاعدہ بھی نہیں پڑھنے والے لیکن ان کی بعض دعائیں سنی گئیں تو یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے بلکہ اللہ تعالیٰ تو دعاؤں کے بغیر ہی اپنی دوسری صفات کے تحت ان کی ضروریات پوری کر دیتا ہے۔ پس شکوہ کرنے کا تو کوئی مقام ہی نہیں ہے۔ پس ہمیں اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس کے مطابق اپنی عبادتوں اور نمازوں اور دوسرے فرائض کو ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’جب تک انسان کامل طور پر توحید پر کاربندنہیں ہوتا اس میں اسلام کی محبت اور عظمت قائم نہیں ہوتی‘‘۔ فرمایا کہ ’’نماز کی لذت اور سرور اسے حاصل نہیں ہو سکتا۔ مدار اسی بات پر ہے کہ جب تک بُرے ارادے، ناپاک اور گندے منصوبے بھسم نہ ہوں اَنانیت اور شیخی دُور ہو کر نیستی اور فروتنی نہ آئے خدا کا سچا بندہ نہیں کہلا سکتا‘‘۔ فرمایا کہ ’’عبودیت کاملہ کے سکھانے کے لئے بہترین معلّم اور افضل ترین ذریعہ نماز ہی ہے‘‘۔ اگر صحیح کامل عبودیت حاصل کرنی ہے تو اس کے لئے بہترین سکھانے والی چیز جو ہے، معلّم جو ہے وہ نماز ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ’’مَیں پھر تمہیں بتلاتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ سے سچا تعلق، حقیقی ارتباط قائم کرنا چاہتے ہو تو نماز پر کاربند ہو جاؤ اور ایسے کاربند بنو کہ تمہارا جسم، نہ تمہاری زبان بلکہ تمہاری روح کے ارادے اور جذبے سب کے سب ہمہ تن نماز ہو جائیں‘‘۔ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 170۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

اللہ تعالیٰ ہمیں یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنی نمازوں کی اس طرح حفاظت کرنے والے ہوں کہ ہماری روح اور ہمارے جذبے نماز کا حق اداکرنے والے بن جائیں۔

نماز کے بعد مَیں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو محترمہ اصغری بیگم صاحبہ اہلیہ شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم سابق امیر جماعت کراچی کا ہے۔ 27؍مارچ کو امریکہ میں مختصر علالت کے بعد 90سال کی عمر میں ان کی وفات ہو گئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ 1943ء میں شیخ رحمت اللہ صاحب کے ساتھ ان کا نکاح ہوا تھا۔ اپنے خاوند سے پہلے 1944ء میں لاہور میں انہوں نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر احمدیت قبول کی اور تمام عمر خلافت کے ساتھ اپنے عہد بیعت کو بڑے صدق و صفا سے نبھایا۔ اولاد کو بھی ہمیشہ خلافت سے وابستہ رکھنے کی تلقین فرماتی رہیں۔ خلافت کا انتہائی احترام کرنے والی تھیں۔ جب سے ایم ٹی اے شروع ہوا اس کو دیکھنا آپ کا محبوب ترین مشغلہ تھا۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ نہایت صابرہ اور شاکرہ، دعاگو، تہجدگزار اور پابند صوم و صلوٰۃ تھیں۔ تلاوت قرآن کریم آپ باقاعدگی سے کرتیں۔ جب خاوند کو کراچی میں خدمت کا موقع ملا تو اپنے خاوند کے ساتھ شانہ بشانہ آپ بھی جماعت کی خدمت کرتی رہیں۔ مہمان نوازی آپ کا نمایاں وصف تھا۔ جب شیخ صاحب امیر جماعت کراچی تھے تو ان کی بہت مصروفیات تھیں۔ اس زمانے میں مہمان داری بھی اس میں بڑی ہوتی تھی۔ اس کی ذمہ داری بھی آپ نے خوب نبھائی۔ حضرت مصلح موعودؓ، حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ، حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی میزبانی کا ان کو شرف حاصل ہوا۔ مالی قربانی میں بھی بہت بڑھی ہوئی تھیں۔ 1950ء میں ایک وقت جماعت پر مالی تنگی کا آیا تو اس وقت حضرت مصلح موعودنے خصوصی تحریک کی تھی جس میں ان کے خاوند شیخ صاحب اپنی آمد کا بڑا حصہ جماعت کے لئے قربان کرتے رہے اور یہ بھی قربانی میں ان کے ساتھ باقاعدہ تھیں۔ نہایت سادہ زندگی گزارنے والی، تکلفات سے پاک خاتون تھیں۔ ان کے بیٹے لکھتے ہیں کہ اکثر خلیفۃ المسیح کی خدمت میں دعا کا خط لکھنے کی بچوں کو تلقین کرتی رہتی تھیں۔ آپ نے پیچھے پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں اور تینتالیس نواسے نواسیاں، پوتے پوتیاں چھوڑے ہیں۔ آپ کے ایک بیٹے مکرم ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ صاحب نائب امیر جماعت امریکہ ہیں اور ہماری جو ویب سائٹ ہے alislam.org اس کے انچارج بھی ہیں۔ اسی طرح آپ کے داماد رحمانی صاحب یہاں رہتے ہیں وہ بڑا لمبا عرصہ سیکرٹری وصیت بھی رہے ہیں۔ ان کی بیگم جمیلہ رحمانی بھی اپنے حلقے کی سیکرٹری مال اور دوسری خدمات کرتی رہی ہیں یا کر رہی ہیں۔ ایک بیٹے ان کے فرحت اللہ شیخ صاحب نائب امیر فیصل آباد شہر پاکستان میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد اور نسلوں کو بھی جماعت اور خلافت سے وابستہ رکھے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 15؍ اپریل 2016ء شہ سرخیاں

    قرآن کریم میں نمازوں کی ادائیگی کی طرف کئی جگہ توجہ دلائی گئی ہے۔ کہیں نمازوں کی حفاظت کا حکم ہے۔ کہیں اس میں باقاعدگی اختیار کرنے کا حکم ہے۔ کہیں اس کی وقت پر ادائیگی کا حکم ہے اور پھر اس کے لئے اوقات بھی بتا دئیے کہ نماز کی ادائیگی کے لئے فلاں فلاں اوقات ہیں جن پر مومن کو عمل کرنا چاہئے، اس کی پابندی کرنی چاہئے۔ غرض کہ نمازوں کی ادائیگی اور اس کی فضیلت کے بارے میں بار بار خدا تعالیٰ نے ایک مومن کو تلقین فرمائی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ فرمایا کہ انسانی پیدائش کا مقصد ہی عبادت ہے۔

    ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ہم نے اس زمانے کے امام کو مانا ہے جنہوں نے ہمیں عبادتوں کے صحیح طریقے سکھائے۔ ہمیں حکمت سکھائی کہ کس لئے عبادتیں کرنی ضروری ہیں۔ بار بار متعدد موقعوں پر اپنی جماعت کو نمازوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس کی تفصیلات اور جزئیات بتائی ہیں۔ اس کی حکمت اور ضرورت بتائی ہے تا کہ ہم اپنی نمازوں کی اہمیت کو سمجھیں اور اس میں حسن پیدا کر سکیں۔

    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کے حوالہ سے نماز کی اہمیت، حکمت اور نمازوں کی پابندی اور نمازوں میں لذت و سرور وغیرہ امور کے حاصل کرنے سے متعلق نہایت اہم تاکیدی نصائح

    جو مساجد کے قریب رہتے ہیں وہ اپنی اپنی مساجد میں یا اپنے نماز سینٹروں میں باقاعدہ نماز کی ادائیگی کے لئے اور خاص طور پر فجر کی ادائیگی کے لئے جایا کریں۔ اور صرف یہاں نہیں بلکہ دنیا کے ہر ملک میں اس کے لئے کوشش ہونی چاہئے کہ مسجدوں کو آباد کریں۔ خاص طور پر اگر عہدیدار اور جماعتی کارکنان، واقفین زندگی اس طرف توجہ دیں تو نمازوں کی حاضری بہت بہتر ہو سکتی ہے۔

    یہ خیال غلط ہے کہ صحت ہے تو سب کچھ ہے یا فلاں فلاں کام کرنے سے صحت قائم رہے گی یا بیمار ہوں گا تو فلاں دوائی لینے سے صحت ہو جائے گی۔ یہ سب چیزیں جو ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے چلتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم اگر نہیں ہو گا تو سب بیکار ہیں۔ پس جس کے حکم سے یہ سب چیزیں چل رہی ہیں اس کے آگے ہمیں جھکنے کی ضرورت ہے۔ اس کی عبادت کی ضرورت ہے۔ اس سے تعلق پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ پس نمازیں جہاں مقصد پیدائش کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہیں وہاں ہمیں آفات اور مشکلات سے بھی بچاتی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کے بہت سارے کام ایسے ہیں جو بظاہر ناممکن ہوتے ہیں لیکن اللہ سے تعلق ہو تو وہ ممکن بن جاتے ہیں۔ مکرمہ اصغری بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم سابق امیر جماعت کراچی کی وفات۔ مرحومہ کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ15 اپریل 2016ء بمطابق 15 شہادت 1395 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن۔ لندن۔

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور