حضرت مسیح موعودؑ سے متعلق حضرت مصلح موعودؓ کی بیان فرمودہ بعض روایات

خطبہ جمعہ 22؍ جولائی 2016ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ-بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محنت و مشقت کی عادت اور صحت کے قائم رکھنے اور جسم کو چست رکھنے کے لئے کیا آپ کا معمول تھا۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ سست ہرگز نہ تھے بلکہ نہایت محنت کش تھے اور خلوت کے دلدادہ ہونے کے باوجود مشقت سے نہ گھبراتے تھے اور بارہا ایسا ہوتا تھا کہ آپ کو جب کسی سفر پر جانا پڑتا تو سواری کا گھوڑا نوکر کے ہاتھ آگے روانہ کر دیتے اور آپ پاپیادہ بیس پچیس میل کا سفر طے کر کے منزل مقصود پر پہنچ جاتے بلکہ اکثر اوقات آپ پیادہ ہی سفر کرتے۔ پیدل سفر کرتے تھے اور سواری پر کم چڑھتے اور یہ عادت پیادہ چلنے کی آپ کو آخر عمر تک تھی اور ستّر سال سے متجاوز عمر میں جبکہ بعض سخت بیماریاں آپ کو لاحق تھیں اکثر روزانہ ہواخوری کے لئے جاتے اور چار پانچ میل روزانہ پھر آتے اور بعض اوقات سات میل پیدل پھر لیتے تھے اور بڑھاپے سے پہلے کا حال آپ بیان فرمایا کرتے تھے کہ بعض اوقات صبح کی نماز سے پہلے اٹھ کر سیر کے لئے چل پڑتے تھے اور وڈالہ تک پہنچ کر (جو بٹالہ کی سڑک پر قادیان سے تقریباً ساڑھے پانچ میل پر ایک گاؤں ہے وہاں جا کر) صبح کی نماز کا وقت ہوتا۔ (ماخوذاز ریویو آف ریلیجنز اردو نومبر 1916ء جلد 15 نمبر 11 صفحہ 402)

پس یہ نمونہ ہے ہمارے لئے، خاص طور پر واقفین زندگی کے لئے جن کے سپرد جماعت کی خدمت کا کام ہے جن میں مربیان پہلے نمبر پر ہیں کہ اپنی صحت کے قائم رکھنے اور سخت جانی پیدا کرنے کے لئے ورزش یا سیر کی باقاعدہ عادت ڈالیں۔ اگر وقت کی کمی کی وجہ سے یا کسی بھی وجہ سے سیر نہیں کر سکتے تو کچھ وقت ورزش کے لئے ضرور نکالنا چاہئے۔ بعض مربیان جو ابھی نوجوان ہیں ان کے جسم بتا رہے ہوتے ہیں کہ ورزش نہیں کرتے۔ جب پوچھو تو کہتے ہیں کہ ورزش کرتے تھے۔ کچھ عرصے سے چھوڑی ہوئی ہے۔ جتنے بڑے کام ہمارے مبلغین کے سپرد ہیں، مربیان کے سپرد ہیں انہیں اپنے آپ کو چست اور صحتمند رکھنے کے لئے ورزش کی طرف باقاعدہ توجہ دینی چاہئے۔ ہمارے باہر کے جامعات کے مربیان اپنی تعلیم مکمل کر کے کچھ عرصہ ٹریننگ کے لئے ربوہ بھی جاتے ہیں وہاں ان کے طبی معائنے بھی ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر نوری صاحب جو وہاں دل کے سپیشلسٹ ہیں انہوں نے مجھے لکھا کہ ماشاء اللہ ہر لحاظ سے بڑے اچھے مربیان ہیں لیکن ان میں بہت سے ایسے تھے جو وزن کے لحاظ سے خطرناک حد تک زائد وزن رکھتے ہیں۔ ان کو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔ میدان عمل میں جا کر تو اور بھی زیادہ اس لحاظ سے عدم توجہ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پس ایک تو ہمارے مربیان اور واقفین زندگی کو کسی نہ کسی قسم کی ورزش ضرور کرنی چاہئے اور دوسرے ان مغربی ممالک میں غیر صحت مند غذا بھی بڑی عام ہے جس کو یہ لوگ خود بھی جنک فوڈ (junk food) کہتے ہیں۔ اس سے پرہیز کرنا چاہئے۔ پس اس کا بھی خیال رکھیں۔ اگر اکیلے ہیں اگر فیملیاں ساتھ نہیں بھی تو بعض دفعہ جہاں جہاں مشن ہاؤس میں ہیں وہاں اتنا وقت تو مل ہی جاتا ہے کہ تھوڑا بہت کھانا پکانا بھی مربی کو آنا چاہئے۔ بہرحال اس طرف توجہ دینی چاہئے۔ یہ میں صرف آپ کو نصیحت نہیں کر رہا بلکہ مَیں خود بھی اللہ کے فضل سے باقاعدہ ورزش کرتا ہوں۔ سائیکل ایکسرسائز پہ یا دوسری مشینوں پہ۔ خدا تعالیٰ ابھی تک تو توفیق دے رہا ہے۔ بہرحال ہمیں صحتمند واقفین زندگی اور مربیان چاہئیں۔ اس لحاظ سے انہیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ اپنی صحت کے حوالے سے لاپرواہ اور سست نہ ہوں تا کہ اپنے کام کو احسن رنگ میں سرانجام دے سکیں۔ ایک اور واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے حضرت مصلح موعودنے بیان کیا ہے۔ آجکل تو لاؤڈ سپیکر وغیرہ کے ذریعہ سے ہم اپنی آواز ہر جگہ پہنچا لیتے ہیں اور اس وجہ سے ہم میں سے بہت سوں کو زیادہ اونچا بولنے کی عادت نہیں رہی یا ایک حد تک اونچا بول سکتے ہیں۔ خاص طور پر جو واعظین ہیں، مربیان ہیں جب میدان عمل میں جاتے ہیں تو بعض دفعہ تبلیغ کرنی پڑتی ہے ان کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان کو اونچا بولنے کی پریکٹس کرنی چاہئے۔ بعض دفعہ ساؤنڈ سسٹم مہیا نہیں ہوتے خاص طور پر غریب ممالک میں۔ پرانے زمانے میں آواز پہنچانے کا ذریعہ نہیں تھا۔ مجمع کو آواز پہنچانے کے لئے بڑی کوشش کرنی پڑتی تھی۔ بڑا مشکل تھا۔ اور اس لئے لوگ پریکٹس بھی کرتے تھے تا کہ آواز اونچی کریں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام عام حالات میں تو بڑا دھیمی آواز میں مخاطب ہوا کرتے تھے لیکن بوقت ضرورت جب دنیا کو اسلام کی تعلیم سے آگاہ کرنا ہو اس وقت آپ کی کیا کیفیت ہوتی تھی اس کا ایک نقشہ حضرت مصلح موعودنے یہ بیان فرمایا ہے کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام لاہور میں جب تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو لاہور کا سب سے وسیع ہال (جہاں لیکچر دینا تھا) آدمیوں سے بھرا ہوا تھا اور اس قدم اژدہام تھا کہ دروازے کھول دئیے بلکہ باہر قناتیں لگائی گئیں اور وہ بھی سامعین سے بھر گئیں۔ فرماتے ہیں کہ شروع میں تو جیسا کہ عام قاعدہ ہے آپ کی آواز ذرا مدھم تھی اور بعض لوگوں نے کچھ شور بھی کیا مگر بعد میں جب آپ بول رہے تھے تو ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے آسمان سے کوئی بگل بجایا جا رہا ہے اور لوگ مبہوت بنے بیٹھے تھے۔ تو فرماتے ہیں کہ آواز کی بلندی دینی خدمات کے اہم حالات میں سے ہے۔‘‘ (الفضل 2 مارچ 1960ء جلد 46/14 نمبر 49صفحہ 2)

بعض دفعہ دینی خدمت کے لئے آواز کو بلند کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے اس لحاظ سے بھی جن کے سپرد یہ کام ہے ان کو اس طرف خاص طور پر توجہ دینی چاہئے۔ بعض دفعہ بعض لوگ بڑی فکر کا اظہار کرتے ہیں کہ ہماری نیکی کی حالت ایک جیسی نہیں رہتی۔ بڑی فکر ہے یہ اس لحاظ سے بڑی اچھی بات ہے کہ انسان اپنا جائزہ لیتا رہے کہ یہ حالت جو مجھ میں نیکی کی کمی کی ہے یا نیکی میں جو شوق یا عبادات میں جو شوق پہلے تھا اس میں جو کمی ہے اس کا یہ جائزہ لیتا رہے کہ یہ کیوں ہوئی اور یہ فکر ہو کہ زیادہ دیر نہ رہے اور اس کے علاج کی فکر کرے۔ تو بہرحال یہ بڑی اچھی بات ہے۔ لیکن بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ یہ کوئی برائی نہیں ہوتی بلکہ زیادہ نیکی اور کم نیکی کی جو حالت ہے وہ آتی جاتی رہتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی ایک شخص آیا۔ آپ کے ایک صحابی آئے۔ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! میں تو منافق ہوں۔ میں جب آپ کے پاس مجلس میں بیٹھتا ہوں تو میری حالت اور ہوتی ہے اور جب آپ کی مجلس سے اٹھ کر چلا جاتا ہوں تو میری حالت اور ہوتی ہے۔ یعنی نیکی کی اور دلی پاکیزگی کی حالت وہ نہیں رہتی جو آپ کی صحبت میں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی تو مومن کی علامت ہے۔ تم منافق نہیں ہو۔ (ماخوذ از سنن الترمذی ابواب القیامۃ والرقائق باب منہ حدیث 2514)

تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا جو اثر ہے ظاہر ہے آپ کی قوت قدسی اور آپ کی صحبت نے وہ اثر تو ڈالنا تھا اور ڈالا کہ آپ کے پاس بیٹھنے والے جو پاک دل ہو کر آ کر بیٹھتے تھے، کچھ سیکھنے کے لئے بیٹھتے تھے، اللہ تعالیٰ سے تعلق کے درجے بلند کرنے کے لئے بیٹھتے تھے ان پر اثر ہوتا تھا۔ اور پھر باہر جا کر اس میں کمی بھی ہوتی تھی۔ لیکن بہرحال ان صحابی کے دل میں خدا تعالیٰ کا خوف تھا۔ اخلاص تھا۔ اس لئے ان کو فکر پیدا ہوئی کہ نیکی میں کمی کی حالت کہیں لمبی نہ ہوتی چلی جائے اور ہوتے ہوتے مجھے دین سے دور نہ کر دے۔ میرے اندر کوئی منافقت نہ پیدا ہو جائے۔ یہ سوچ تھی صحابہ کی اور جب یہ احساس ہوتا ہے تو پھر انسان دعا اور استغفار سے اپنی حالت بہتر کرنے کی طرف توجہ کرتا ہے۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے ایک جگہ فرمایا کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ بعض بچوں کی صحت عموماً ماؤں کے وہم کی وجہ سے ٹھیک رہتی ہے۔ بچے کو ذرا سی بھی تکلیف ہو تو ماں اسے انتہائی سمجھ لیتی ہے کہ پتا نہیں کیا ہو گیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کا توجہ سے علاج کرواتی ہے اور بچہ بیماری کے مزمن ہو جانے سے بچ جاتا ہے۔ (زیادہ بڑھنے سے اور خطرناک ہونے سے بچ جاتا ہے۔) لیکن بعض مائیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں بچہ کی بیماری کا اس وقت علم ہوتا ہے جب وہ مزمن شکل اختیار کر لیتی ہے اور علاج مشکل ہو جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ غرض ماں کا وہم بھی بچے کی صحت کے لئے بہت مفید ہوتا ہے۔ اسی طرح اپنی ذات میں اس قسم کا وہم کہ شاید یہ کوئی بیماری نہ ہو بہت مفید ہے۔ (مثلاً روحانیت کا جہاں تک تعلق ہے اگر روحانیت میں کوئی کمی پیدا ہوتی ہے، عبادات میں کمی پیدا ہوتی ہے، کسی نیکی کے کرنے میں کمی پیدا ہوتی ہے اور یہ وہم ہو جائے کہ مَیں خدا تعالیٰ سے بالکل دُور تو نہیں ہٹ رہا تو ایسا وہم بھی مفید ہوتا ہے۔) فرمایا کہ اس طرح انسان خطرے کے مقابلے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور اپنے آپ کو اس کے حملے سے محفوظ کر لیتا ہے۔‘‘ (ماخوذ ازالفضل 7 اگست 1949ء جلد 3 نمبر 180 صفحہ 4)

پس حقیقت میں نیکیوں میں بڑھنے والے اور اپنی حالتوں کو اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق قائم رکھنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو ماں کی طرح فکر مند رہتے ہیں کہ ان کی نمازوں میں دعاؤں میں کمی کہیں ان کی کسی کمزوری اور معصیت کے نتیجہ میں نہ ہو۔ اس وجہ سے انہیں ایسا روحانی مریض نہ بنا دے جو ناقابل علاج ہو جس کی بیماری بہت پھیل چکی ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تو وہ خوش قسمت تھے کہ جب اپنی حالت پر غور کر کے فکر مند ہوتے تو آپ کی صحبت میں چلے جاتے تھے اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی کی وجہ سے اپنا علاج کر لیتے تھے۔ لیکن ہمیں تو اس فکر میں رہتے ہوئے اپنی عبادتوں، دعاؤں اور استغفار کے ذریعہ کو ہمیشہ اختیار کئے رکھنا چاہئے اور اس ذریعہ سے اپنا علاج کرتے رہنا چاہئے۔ اگر ہمارا وہم بھی ہو تو یہ وہم بھی لاپرواہی کی نسبت بہتر ہے کیونکہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ لاپرواہی خدا تعالیٰ سے دور لے جاتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ دین سے بھی ہم دور ہٹ جاتے ہیں۔ پھر ناقابل علاج روحانی مریض بن جاتے ہیں۔ پس اس لحاظ سے بہت توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دفعہ یہ مضمون بیان فرما رہے تھے کہ خوشی اور غمی کا تعلق احساسات سے ہے۔ مثلاً اگر کسی گھر میں شادی ہے تو وہ شادی کی اس خوشی کے لئے اگر قرض بھی لینا ہو تو قرض لے کر وہ خوشی کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے قریبی بھی اس خوشی میں شامل ہوتے ہیں۔ لیکن جن کو اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ان کے لئے اس شخص کا خوشی کرنا یا اس کے خاندان والوں کا خوشی کرنا یا اس کے قریبیوں کا خوشی کرنا اور اس کے لئے اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالنا یا قرض لینا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ان کو اس سے کیا غرض ہے کہ کوئی خوشی مناتا ہے یا نہیں یا قرض لے کے مناتا ہے یا نہیں مناتا۔ اسی طرح کوئی شخص اپنے خاندان کا کفیل ہو اگر وہ مر جائے تو گھر میں ایک ماتم ہوتا ہے لیکن دوسرے جن کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ان کے لئے اس کا فوت ہونا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہزاروں لوگ روزانہ مرتے ہیں، وفاتیں ہوتی ہیں، اطلاعیں آتی ہیں لیکن جن کو ہم جانتے نہیں باوجود ان کے بارے میں علم میں آنے کے ان کا احساس نہیں ہوتا۔ جبکہ اپنا اگر کوئی قریبی فوت ہو تو بڑی شدت سے اس کا احساس ہوتا ہے۔ پھر بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو لوگوں کے لئے بڑی تکلیف کا باعث بنے ہوتے ہیں۔ ظالم ڈاکو ہیں، دہشت گرد ہیں جن کے مرنے سے ایک طبقے کو افسوس کے بجائے خوشی ہو رہی ہوتی ہے لیکن ان کے قریبیوں کو اس کا غم بھی ہوتا ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ’’یہ احساسات کا عجیب سلسلہ ہے اس پر غور کرنے سے عجیب کیفیت طاری ہوتی ہے۔ ایک بات ایک کے لئے خوشی کی گھڑی اور راحت کی واحدساعت ہوتی ہے مگر دوسرے کے لئے ماتم کا اثر رکھتی ہے اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو نہ کسی کی خوشی میں حصہ ہوتا ہے نہ غم میں۔ (فرماتے ہیں کہ) یہ مضمون مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک فقرے میں سکھایا تھا۔ (فرماتے ہیں کہ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام باقاعدہ اخبار پڑھا کرتے تھے۔ (اس میں بھی ہمارے ان لوگوں کے لئے جن کے سپرد دین کے کاموں کی ذمہ داری ہے ایک سبق یہ بھی ہے کہ ان کو باقاعدہ اخبار بھی پڑھنے چاہئیں اور چھوٹی چھوٹی خبروں کو بھی دیکھ لینا چاہئے۔ بہرحال فرماتے ہیں آپ باقاعدہ اخبار پڑھا کرتے تھے۔) ایک دن 1907ء کی بات ہے۔ اخبار پڑھتے ہوئے مجھے آواز دی۔ ’’محمود!‘‘ یہ آواز اس طرح دی کہ جیسے کوئی جلدی کا کام ہوتا ہے۔ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مصلح موعود کو آواز دی اور ایسی آواز تھی جیسے کوئی جلدی کا کام ہوتا ہے۔ کہتے ہیں ) جب میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے خبر سنائی۔ ایک شخص (مجھے اس کا نام یادنہیں کہ وہ) مر گیا ہے۔ (حضرت مصلح موعود کہتے ہیں) اس پر میری ہنسی نکل گئی اور میں نے کہا مجھے اس سے کیا۔ حضرت صاحب نے فرمایا اس کے گھر میں تو ماتم پڑا ہو گا اور تم کہتے ہو مجھے کیا؟۔ (حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں) اس کی کیا وجہ ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جس کے ساتھ تعلق نہ ہو اس کے رنج کا اثر نہیں ہوتا‘‘۔ اور اسی طرح اگر کوئی خوشی کی بات ہے تو اس خوشی کا اثر نہیں ہوتا۔ یہ بات حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب بیان فرمائی تو یہ اس موقع کی بات ہے جب حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے بیٹے میاں عبدالسلام صاحب کے نکاح کا موقع تھا اور پھر حضرت مصلح موعودنے اپنے جذبات کا اظہار اس طرح فرمایا کہ اگر حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ زندہ ہوتے تو کس طرح خوشی مناتے۔ خود کس قدر دعائیں کرتے اور اس وجہ سے دوسروں کو بھی کس قدر دعاؤں کی تحریک ہوتی۔ فرمایا یہ موقع اور یہ سوچ ہمارے دلوں میں خاص حرکت پیدا کرتی ہے۔ کسی پیارے کے قریبی کی خوشی کا موقع ہو تو یہ خاص حرکت پیدا کرتی ہے۔ یہ سوچ خاص حرکت پیدا کرتی ہے۔ کس طرح وہ ہمارا پیارا اپنے قریبیوں کے لئے دعا کرتا ہو گا اور فرماتے ہیں کہ یہ بات خوشی کی لہر ہمارے جسم میں سر سے پیر تک دوڑاتی ہے۔ (الفضل 2 نومبر 1922ء جلد 10 نمبر35 صفحہ 5)

پس اس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ اپنے محسنوں اور ان کی اولادوں کے لئے خاص طور پر دعائیں کرنی چاہئیں۔ خوشی اور غمی کے موقع پر ان کو محسوس کرنا چاہئے اور افراد جماعت کے لئے عمومی طور پر بھی ہمارے خوشی اور غمی کے اظہار ہونے چاہئیں کیونکہ جماعت بھی ایک وجود ہے اور اسی وقت احساس پیدا ہوتا ہے جب ہم ہر فرد جماعت کے درد کو اور اس کی خوشی کو محسوس بھی کریں اور یہ چیز ہے جو جماعت میں اکائی پیدا کرنے کا بھی ذریعہ ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی اطاعت کا ایک واقعہ بیان فرماتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ’’حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق مجھے یاد ہے (کہ) وہ عبدالحکیم مرتد پٹیالوی سے جب وہ احمدی تھا بہت محبت کیا کرتے تھے اور وہ بھی آپ سے بہت تعلق رکھتا تھا یہاں تک کہ جب اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مخالفت کی تو اس وقت بھی اس نے یہی لکھا کہ آپ کی جماعت میں (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں ) سوائے مولوی نورالدین صاحب کے اور کوئی نہیں جو صحابہ کا نمونہ ہو۔ یہ شخص بیشک ایسا ہے جو جماعت کے لئے قابل فخر ہے۔ (حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ) عبدالحکیم پٹیالوی نے ایک تفسیر بھی لکھی تھی اور اس میں بہت کچھ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھ کر لکھا تھا۔ جب عبدالحکیم نے اپنے ارتداد کا اعلان کیا تو میں نے دیکھا آپ نے گھبرا کر اپنے شاگردوں کو بلایا (یعنی حضرت خلیفہ اول نے فوری طور پر اس کے ارتداد کے اعلان پہ اپنے شاگردوں کو بلایا) اور ان سے فرمایا کہ جاؤ اور جلدی میرے کتب خانے میں سے عبدالحکیم کی تفسیر نکال دو۔ (جو تفسیر اس نے لکھی تھی وہ آپ کی لائبریری میں پڑی ہوئی تھی ان سے کہا وہاں سے فوراً نکال دو۔ فرمایا کہ) ایسا نہ ہو کہ اس کی وجہ سے مجھ پر خدا کی ناراضگی نازل ہو۔ (حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ) حالانکہ وہ قرآن کریم کی تفسیر تھی اور اس کی بہت سی آیات کی تفسیر اس (شخص) نے خود آپ سے (یعنی حضرت خلیفہ اول سے) پوچھ کر لکھی تھی مگر اس وجہ سے کہ اس پر خدا کا غضب نازل ہوا (اس نے ارتداد اختیار کیا) اس کی لکھی ہوئی تفسیر کو بھی آپ نے اپنے کتب خانے سے نکلوا دیا اور اپنے ذوق کے مطابق سمجھا کہ یہ کتاب دوسری کتب کے ساتھ مل کر ان کو پلید کر دے گی۔‘‘ (الفضل 21 جون 1944ء جلد 22 نمبر 143 صفحہ 1)

پس یہ دینی غیرت اور خدا تعالیٰ کا خوف ہے جو ہمارے لئے ایک نمونہ ہے۔

پھر بعض لوگ اعتراض کر دیتے ہیں کہ جماعتی طور پر مثلاً کسی کو سزا ملی ہے یا کسی شخص کے خلاف کارروائی ہوئی ہے تو وہ اپنے متعلق کہتا ہے کہ میرے خلاف جو فلاں کارروائی ہوئی ہے غلط ہوئی ہے اور فلاں شخص کے خلاف نہیں ہوئی اور اس کی حمایت کی گئی ہے۔ اس قسم کے اعتراض کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ ہر زمانے میں ایسے اعتراض ملتے ہیں۔ آج بھی یہ لوگ کرتے ہیں۔ پہلے بھی کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ایسے ہی لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ

’’حقیقت یہ ہے کہ نظام کی درستی کے لئے اتحاد خیالات کا ایک دائرہ ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک اختلاف بڑا نظر آئے لیکن اگر وہ کسی فتنے کا موجب نہ ہو تو اس اختلاف رکھنے والے کو جماعت میں شامل ہونے کی اجازت دے دی جائے۔ لیکن ایک دوسرا شخص خواہ اس سے کم اختلاف رکھتا ہو لیکن اس کا اختلاف کسی فتنے کا موجب ہو تو اسے جماعت سے نکال دیا جائے۔ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ایک دفعہ ایک دوست نے پوچھا کہ میں ابھی شیعیت سے نکل کر (شیعہ تھا میں۔ اور شیعیت سے نکل کر) آیا ہوں اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے افضل سمجھتا ہوں (کیونکہ میرے پہ شیعیت کا اثر زیادہ ہے۔) پس کیا اس عقیدے کے ہوتے ہوئے مَیں آپ کی بیعت کر سکتا ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں لکھا کہ آپ بیعت کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے مقابلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ چند آدمیوں کو (سزا کے طور پر) قادیان سے باہر چلے جانے کا حکم دے دیا اور ان کے بارے میں اشتہار بھی شائع کیا مگر وجہ صرف یہ تھی کہ وہ پنجوقتہ نماز میں حاضر نہیں ہوتے تھے اور بعض ایسے تھے کہ ان کی مجلسوں میں حقہ نوشی اور فضول گوئی کا شغل رہتا تھا۔‘‘ (حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ) اب بتاؤ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے افضل سمجھنے اور حقہ پینے میں کونسی بات بڑی ہے۔ لازماً ہر شخص یہی کہے گا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے افضل سمجھنا بڑی بات ہے اور حقہ پینا چھوٹی بات ہے۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک بڑا اختلاف رکھنے کے باوجود ایک شخص کو اپنی بیعت کی اجازت دے دی اور حقہ پینے اور ہنسی ٹھٹھا میں مشغول رہنے پر دوسروں کو مرکز سے چلے جانے کی ہدایت فرمائی۔ حالانکہ (آپ بیان فرماتے ہیں) ایک دعوت کے موقع پر خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا انتظام کیا تھا۔ چنانچہ ترکوں کا سفیر حسین کامی جب قادیان میں آیا اور اس کے لئے دعوت کا انتظام کیا گیا۔ (حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ) میں اس وقت چھوٹا تھا مگر مجھے خوب یاد ہے کہ ایک مجلس میں مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے ذکر کیا کہ یہ لوگ سگریٹ کے عادی ہوتے ہیں۔ اگر ہم نے کوئی انتظام نہ کیا تو اسے تکلیف ہو گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ ایسی حرام چیزوں میں سے نہیں جیسے شراب وغیرہ ہوتی ہے۔ پس آپ نے وہ چیز جو اس قسم کی حرمت نہیں رکھتی جیسی شراب اپنے اندر حرمت رکھتی ہے استعمال کرنے پر تو ایک شخص کو جماعت سے خارج کر دیا اور وہ جس نے یہ کہا تھا کہ میں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت علی کو افضل سمجھتا ہوں باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے افضل ہیں اسے بیعت کرنے کی اجازت دے دی۔ (آپ فرماتے ہیں کہ) درحقیقت بعض باتیں وقتی فتنے کے لحاظ سے بڑی ہوتی ہیں حالانکہ وہ اصل میں چھوٹی ہوتی ہیں اور بعض باتیں وقتی فتنے کے لحاظ سے چھوٹی ہوتی ہیں حالانکہ اصل میں وہ بڑی ہوتی ہیں۔ پس وقتی فتنے کے لحاظ سے کبھی بڑی بات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور چھوٹی بات پر ایکشن لے لیا جاتا ہے مگر ان لوگوں نے (جو اعتراض کرنے والے ہیں) کبھی عقل سے کام نہیں لیا۔ ان کا مقصد صرف اعتراض کرنا ہوتا ہے۔‘‘ (الفضل 13 ستمبر 1961ء جلد 50/15نمبر 211صفحہ 4)

اور بہت سارے لوگ دوسرے کے لئے کہہ دیتے ہیں۔ ان کے کچھ حمایتی پیدا ہو جاتے ہیں جن کو سزا ملتی ہے۔ ان کو پتا نہیں ہوتا کہ اصل بات کیا ہے کس وجہ سے سزا مل رہی ہے؟ تو اس لحاظ سے بلاوجہ دخل اندازیاں نہیں کرنی چاہئیں یا کسی کی سفارشیں نہیں کرنی چاہئیں۔ ہاں جب نظام سمجھتا ہے جائزہ لیا جاتا ہے تو پھر ان کی معافی بھی ہو جاتی ہے۔ اس قسم کے معترضین جیسا کہ میں نے کہا آجکل بھی ہیں۔ غلط کام کرتے ہیں اور سزا ملے تو بجائے اصلاح کے مزیدنظام کے خلاف بھی بولتے ہیں اور پھر یہ بھی مطالبہ ہوتا ہے کہ ہم جیسے بھی ہیں ویسے ہی رہیں گے اس کے باوجودنظام جماعت ہمیں اپنا حصہ بنائے، ہم نے اصلاح نہیں کرنی۔

یہاں دوبارہ بھی واضح کر دوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیشک ترک سفیر کے لئے تو اس کی ضرورت کی چیز منگوا دی جو حرام تو نہیں جیسا کہ واقعہ میں بھی لکھا ہوا ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو حقہ نوشی وغیرہ بڑی ناپسند تھی اور بعض دفعہ آپ نے اس سے بڑی نفرت کا اظہار کیا ہے۔

تبلیغ کے لئے کیا ذرائع استعمال کرنے چاہئیں اور کس طرح کرنی چاہئے اس بارے میں ایک موقع پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ’’اس وقت نظارت دعوت و تبلیغ پمفلٹ کے ذریعہ تبلیغ کرتی ہے۔ (پمفلٹ تقیسم کئے جاتے ہیں، بروشر تقسیم کئے جاتے ہیں ) لیکن پمفلٹ ایسی چیز ہے جس کا بوجھ زیادہ دیر تک نہیں اٹھایا جا سکتا۔‘‘ آپ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں تبلیغ اشتہارات کے ذریعہ ہوتی تھی۔ وہ اشتہارات دو چار صفحات پر مشتمل ہوتے تھے اور ان سے ملک میں تہلکہ مچ جاتا تھا۔ ان کی کثرت سے اشاعت کی جاتی تھی۔ اس زمانے کے لحاظ سے کثرت کے معنی ایک دو ہزار کی تعداد کے ہوتے تھے۔ بعض اوقات دس دس ہزار کی تعداد میں بھی اشتہارات شائع کئے جاتے تھے لیکن (فرماتے ہیں کہ) اب ہماری جماعت بیسیوں گنا زیادہ ہے۔ اب اشتہاری پروپیگنڈہ یہ ہو گا کہ اشتہارات پچاس پچاس ہزار بلکہ لاکھ لاکھ کی تعداد میں شائع ہوں پھر دیکھو کہ یہ اشتہارات کس طرح لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اب تو بعض جگہ بعض خبریں کئی کئی لاکھ تک پہنچ جاتی ہیں، ملینز تک پہنچ جاتی ہیں اور اس کا اثر دوسرے ملکوں پر بھی ہوتا ہے۔ اب امریکہ سے ہی ایک اطلاع تھی کہ سویڈن کی نیوز ایجنسی ہے یا ٹیلیویژن ہے انہوں نے وہاں ہمارے نمائندے سے رابطہ کیا کہ سویڈن میں اسلام کے بارے میں اب کافی توجہ پیدا ہو رہی ہے تو ہم نے بھی اس لحاظ سے آپ کا انٹرویو لینا ہے کہ سنیں یہ کیا چیز ہے۔ یہ کس وجہ سے ہے؟ یہ بھی اللہ جانتا ہے۔ تو اس طرح بھی توجہ پیدا ہو رہی ہے۔ میرے دورے کے دوران بھی وہاں لاکھوں لوگوں تک پیغام پہنچا۔ تو بہرحال اشتہارات کے ذریعہ سے یا خبروں کے ذریعہ سے یا پریس کے ذریعہ سے بہت وسیع پیمانے پر پیغام پہنچتا ہے جو عام لٹریچر کے ذریعہ سے (انسان) نہیں پہنچا سکتا۔

حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ’’اگر اشتہارات پہلے سال میں بارہ دفعہ شائع ہوتے تھے تو اب خواہ سال میں تین دفعہ کر دیا جائے اور صفحات دو چار پر لے آئیں لیکن وہ لاکھ لاکھ دو دو لاکھ کی تعداد میں شائع ہوں تو پتا لگ جائے گا کہ انہوں نے کس طرح حرکت پیدا کی ہے‘‘۔ (الفضل 11 جنوری 1952 جلد 40/6نمبر 10صفحہ 4)

اور اب ہم دیکھتے بھی ہیں کہ لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوتے ہیں تو حرکت پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے بعض لوگ جو بعض دفعہ کہہ دیتے ہیں کہ اخباروں میں اشتہار دینے کا کیا فائدہ؟۔ (انہیں بتا رہا ہوں کہ) اشتہار دینے کا فائدہ ہوتا ہے کیونکہ ان اخباروں کی سرکولیشن سے جماعت کا تعارف لوگوں میں پہنچتا ہے جبکہ لٹریچر آپ بڑی مشکل سے دو مہینے میں جتنا تقسیم کرتے ہیں ایک اخبار سے ایک دن میں وہ خبر بعض دفعہ اس سے زیادہ لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ آجکل اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخباروں کے ذریعہ جماعت کا تعارف ہوتا ہے اور جیسا کہ میں نے کہا بہت جگہ پہ ہورہا ہے۔

جماعت کا پریس اور میڈیا کا جو شعبہ ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس میں بڑا کردار ادا کر رہا ہے اور یہ وسیع پیمانے پر دنیا میں ہر جگہ ہو رہاہے۔ پس شعبہ تبلیغ کا بھی کام ہے کہ اس تعارف سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اسلام کے حقیقی پیغام کو اس ذریعہ سے پھر آگے پہنچاتے رہیں۔ یہ نہ ہو کہ ایک دفعہ اخبار میں آگیا اور ختم ہو جائے بلکہ آگے پھر شعبہ تبلیغ کا بھی کام ہے کہ اس ذریعہ کو تبلیغ کے لئے بھی استعمال کریں۔ اس تعارف کو تبلیغ کے لئے بھی استعمال کریں اور اس کے لئے نئے نئے راستے ڈھونڈیں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دفعہ بچوں کی تربیت کے لئے ایک مضمون لکھا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک کہانی کا ذکر کیا۔ آپ لکھتے ہیں کہ ’’جناب امام ہمام علیہ الصلوٰۃ والسلام نے 5؍ستمبر 1898ء کو بعدنماز عصر میری درخواست پر مجھے مندرجہ ذیل کہانی سنائی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ کرنا اور سچا تقویٰ انسان کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ خود اس کا کفیل ہو جاتا ہے اور ایسے طور اس کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے کہ کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ چنانچہ حضرت (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام) نے فرمایا کہ ایک بزرگ کہیں سفر پر جا رہے تھے اور ایک جنگل میں ان کا گزر ہوا جہاں ایک چور رہتا تھا اور جو ہر آنے جانے والے مسافر کو لُوٹ لیا کرتا تھا۔ اپنی عادت کے موافق اس بزرگ کو بھی لُوٹنے لگا۔ بزرگ موصوف نے اسے فرمایا کہ وَفِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ (الذاریات: 23)‘‘ (یعنی آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جس کا تم وعدہ دئیے جاتے ہو بشرطیکہ نیکیوں پہ قائم رہو۔) فرمایا کہ ’’تمہارا رزق آسمان پر موجود ہے۔ تم خدا پر بھروسہ کرو اور تقویٰ اختیار کرو۔ چوری چھوڑ دو خدا تعالیٰ خود تمہاری ضرورتوں کو پورا کر دے گا۔ چور کے دل پر اثر ہوا۔ اس نے بزرگ موصوف کو چھوڑ دیا اور ان کی بات پر عمل کیا۔ (آگے کہانی کا قصہ یہ ہے کہ) یہاں تک کہ سونے چاندی کے برتنوں میں اسے عمدہ عمدہ قسم کے کھانے ملنے لگے۔ (کہاں تو وہ چوریاں کیا کرتا تھا اور کہاں چوری چھوڑ کے جب اللہ تعالیٰ پر توکّل کیا تو کہانی یہ ہے کہ سونے چاندی کے برتنوں میں اسے کھانا ملنے لگا۔) وہ کھانے کھا کر برتنوں کو اپنی جھونپڑی کے باہر پھینک دیتا تھا۔ اتفاقاً پھر وہی بزرگ کبھی ادھر سے گزرے تو اس چور نے جو اَب بڑا نیک بخت اور متقی ہو گیا تھا اس بزرگ سے ساری کیفیت بیان کی اور کہا کہ مجھے کوئی اور آیت بتلاؤ۔ تو بزرگ موصوف نے فرمایا کہ فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ اِنَّہُ لَحَق (الذاریات: 24) کہ یعنی آسمان اور زمین کے ربّ کی قسم یقینا یہ حق ہے۔ یہ پاک الفاظ سن کر اس پر ایسا اثر ہوا کہ خداتعالیٰ کی عظمت و جلال کا خیال کر کے تڑپ اٹھا اور اسی میں جان دے دی۔‘‘

تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آٹھ دس سال کے ایک بچے کو یہ کہانی سنائی اور پھر وہ آگے مضمون میں بچوں کو ہی یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’تقویٰ اختیار کرنے سے کیسی دولت نصیب ہوتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ جو زمین اور آسمان کے رہنے والوں کی پرورش کرتا ہے کیا اس کے ہونے میں کوئی شک ہے۔ وہ پاک اور سچا خدا ہے جو ہم سب کو پالتا ہے پوستا ہے۔ پس اسی خدا سے ڈرو۔ اس پر بھروسہ کرو اور نیک بختی اختیار کرو۔‘‘ (الحکم 6، 13 ستمبر 1898ء جلد 2 نمبر 26-27 صفحہ 11)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں بچوں کی یہ حالت تھی کہ ان کو یہ سبق دئیے جاتے تھے جو آجکل کے بڑوں کے لئے سمجھنے میں مشکل ہیں۔ پس ہمیشہ ہم میں سے ہر ایک کو یاد رکھنا چاہئے کہ تقویٰ پر چلنے کی کوشش کریں اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر اتنا یقین ہو اور اس پر قائم ہوں کہ وہی ہے جو ہماری پرورش کرنے والا ہے۔ وہی ہے جو ہمیں پالتا پوستا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہی پاک اور سچا خدا ہے اور اسی سے ہمیں ڈرنا چاہئے اور اسی سے ہر وقت ہمیں مانگنا چاہئے اور اسی کے آگے ہمیں جھکنا چاہئے اور اسی پر ہمیں ہمیشہ بھروسہ کرنا چاہئے اور یہی نیکی ہے جو ایک مسلمان کے لئے اختیار کرنا ضروری ہے اور جس پر ایمان لانا ضروری ہے اور جس پر عمل کرنا ضروری ہے۔

پس بڑوں کے لئے بھی اس سبق کی بچوں سے زیادہ اہمیت ہے۔ آجکل کے دور میں جب ہم ان باتوں کو بھولتے جا رہے ہیں اور تقویٰ سے بعض دفعہ بعض لوگ جو دُور ہٹ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پہ بھروسہ کے بجائے لوگوں پہ بھروسہ زیادہ ہو جاتا ہے ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ اصل بھروسہ خدا تعالیٰ کی ذات پر ہونا چاہئے۔ پس اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم میں سب میں یہ تقویٰ پیدا ہو۔

نماز کے بعد میں دو جنازے غائب پڑھاؤں گا۔ ایک جنازہ مکرم الحاج ڈاکٹر ادریس بنگورا صاحب نائب امیر اول سیرالیون کا ہے جو 3؍مئی 2016ء کو مختصر علالت کے بعد وفات پا گئے تھے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ نے بوؔ(Bo) شہر کے سکول میں دوران تعلیم احمدیت قبول کی۔ 1966ء میں مجلس عاملہ کے ممبر بنے اور تاوفات کسی نہ کسی عہدے پر جماعتی خدمت کی توفیق پائی۔ لمبا عرصہ بطور ڈپٹی امیر اول خدمات بجا لا رہے تھے۔ کامیاب مبلغ تھے۔ بہت سے لوگوں کو آپ کے ذریعہ احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔ مسجد سے گھر دور ہونے کے باوجود فجر اور مغرب و عشاء کی نمازیں مسجد میں آ کر ادا کیا کرتے تھے۔ چھٹی والے دن صبح سے عصر تک کا وقت مسجد میں گزارتے اور قرآن شریف کی تلاوت اور نوافل میں وقت صرف کرتے۔ نماز جمعہ کے پابند اور ایم ٹی اے اور خلیفۂ وقت کا خطبہ بڑی باقاعدگی سے سنتے۔ ہر وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی نہ کوئی کتاب زیرمطالعہ رکھتے۔ مدد کے طالب ہر شخص کی مدد کرتے۔ پیشہ کے لحاظ سے میڈیکل ڈاکٹر تھے لیکن اس کے باوجود جماعت کے لئے انہوں نے ہمہ وقت زندگی ایک لحاظ سے وقف ہی کی ہوئی تھی۔ عقیل احمد صاحب ریجنل مشنری بوؔ نے لکھا ہے کہ کسی بھی وقت احباب جماعت مدد کی درخواست لے کر آتے اور بجٹ میں گنجائش نظر نہ آتی تو آپ یعنی مشنری ایسے لوگوں کو ڈاکٹر صاحب کے پاس لے جاتے اور کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی آپ کے پاس مدد کے لئے آیا ہو اور اس کی مددنہ کی ہو۔ مرحوم نہایت شفیق و مہربان انسان تھے۔ واقفین زندگی کا بڑی توجہ سے علاج کرتے۔ جو دوائیں میسر ہوتیں اپنے پاس سے دے دیتے اور انہیں دعا کے لئے کہتے۔ غرباء کا مفت علاج کرتے بلکہ آنے جانے کا خرچ بھی خود ادا کیا کرتے تھے۔ بہت سے مریضوں کے ہرنیا کے آپریشن مفت کئے۔ جب صحت ٹھیک نہ رہی اور کوئی مریض آ جاتا تو اسے ہسپتال بھیجتے اور فیس خود ادا کرتے تھے۔ آپ کے ذریعہ ایک مخلص احمدی ڈاکٹر الحاج شیخو تامو صاحب نے بیعت کی اور جماعت کو زمین کا ٹکڑا بطور تحفہ پیش کیا۔ جب ڈاکٹر بنگورا صاحب کو پتا چلا کہ یہ بعد میں آ کر قربانی میں آگے بڑھ گئے ہیں تو شہر کے درمیان میں مسجد کے لئے ایک جگہ جماعت کو دی۔ اسی طرح مسجد کی تعمیر کے لئے پینتیس ملین لیون کی خطیر رقم بھی دی۔ مرحوم احمدیت کے عاشق اور خلفاء احمدیت کے لئے نہایت اخلاص سے دعائیں کرنے والے بزرگ انسان تھے۔ مرحوم موصی تھے اور دیگر تحریکات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دور دراز ملکوں میں رہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے جب ایمان لائے تو اس میں ترقی کرتے چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کی نسلوں میں بھی احمدیت کو قائم رکھے اور ہمیشہ وفا کا تعلق رکھے۔

دوسرا جنازہ مکرمہ منصورہ بیگم صاحبہ اہلیہ خالد سیف اللہ خان صاحب نائب امیر آسٹریلیا کا ہے جو 21؍جولائی 2016ء کو آسٹریلیا میں وفات پا گئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ نمازوں کی پابند، دعا گو، تہجدگزار، احمدیت کے لئے غیرت رکھنے والی، خلافت سے انتہائی پیار کا تعلق رکھنے والی، نیک بزرگ خاتون تھیں۔ ہسپتال میں بھی نماز کی فکر رہتی تھی۔ آخری بیماری کی وجہ سے نماز بھول جاتی تھیں تو اپنے خاوند کو کہا کہ میرے ساتھ دہرا دیا کریں (اور اس طرح نماز) پڑھ لیا کرتی تھیں۔ آپ کو بطور صدر لجنہ اماء اللہ آسٹریلیا، صدر لجنہ اماء اللہ لیبیا، اسی طرح پاکستان میں تربیلا اور حلقہ سول لائن لاہور میں خدمت کی توفیق ملی۔ اپنی ٹیم بنا کے کام کیا کرتی تھیں۔ قرآن کریم سے پیار تھا۔ باقاعدگی سے تلاوت کیا کرتی تھیں۔ اپنے بچوں کے علاوہ غیر احمدی بچوں کو بھی قرآن کریم پڑھانے کی توفیق ملی۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ بڑی فکر سے اپنا چندہ ادا کیا کرتی تھیں۔ حصہ جائیداد اور حصہ آمد جولائی 2016ء تک ادا شدہ تھا۔ پسماندگان میں خاوند کے علاوہ دو بیٹے اور تین بیٹیاں یادگار چھوڑی ہیں۔ سبھی مختلف رنگ میں خدمت دین میں مصروف ہیں۔ ان کے ایک بیٹے عمر خالد صاحب یہاں رہتے ہیں اور لندن کے ایک حلقے کے صدر جماعت بھی ہیں۔ ان کے ایک بیٹے آسٹریلیا میں نیشنل سیکرٹری وقف جدید ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ ان کی نسلوں میں بھی ہمیشہ اخلاص و وفا قائم رہے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 22؍ جولائی 2016ء شہ سرخیاں

    واقفین زندگی جن کے سپرد جماعت کی خدمت کا کام ہے جن میں مربیان پہلے نمبر پر ہیں اپنی صحت کے قائم رکھنے اور سخت جانی پیدا کرنے کے لئے ورزش یا سیر کی باقاعدہ عادت ڈالیں۔ دوسرے ان مغربی ممالک میں غیر صحتمند غذا بھی بڑی عام ہے جس کو یہ لوگ خود بھی junk food کہتے ہیں۔ اس سے پرہیز کرنا چاہئے۔

    بہرحال ہمیں صحتمند واقفین زندگی اور مربیان چاہئیں۔ اس لحاظ سے انہیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ اپنی صحت کے حوالے سے لاپرواہ اور سست نہ ہوں تا کہ اپنے کام کو احسن رنگ میں سرانجام دے سکیں۔ بعض دفعہ دینی خدمت کے لئے آواز کو بلند کرنا پڑتا ہے اس لئے اس لحاظ سے بھی جن کے سپرد

    یہ کام ہے ان کو اس طرف خاص طور پر توجہ دینی چاہئے۔ حقیقت میں نیکیوں میں بڑھنے والے اور اپنی حالتوں کو اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق قائم رکھنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو ماں کی طرح فکر مند رہتے ہیں کہ ان کی نمازوں میں، دعاؤں میں کمی کہیں ان کی کسی کمزوری اور معصیت کے نتیجہ میں نہ ہو۔ اس وجہ سے انہیں ایسا روحانی مریض نہ

    بنا دے جو ناقابل علاج ہو جس کی بیماری بہت پھیل چکی ہو۔

    اس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ اپنے محسنوں اور ان کی اولادوں کے لئے خاص طور پر دعائیں کرنی چاہئیں۔ خوشی اور غمی کے موقع پر ان کو محسوس کرنا چاہئے اور افراد جماعت کے لئے عمومی طور پر بھی ہمارے خوشی اور غمی کے اظہار ہونے چاہئیں کیونکہ جماعت بھی ایک وجود ہے اور اسی وقت احساس پیدا ہوتا ہے جب ہم ہر فرد جماعت کے درد کو اور اس کی خوشی کو محسوس بھی کریں اور یہ چیز ہے جو جماعت میں اکائی پیدا کرنے کا بھی ذریعہ ہے۔

    بعض لوگ بعض دفعہ کہہ دیتے ہیں کہ اخباروں میں اشتہار دینے کا کیا فائدہ۔ اشتہار دینے کا فائدہ ہوتا ہے کیونکہ ان اخباروں کی سرکولیشن سے جماعت کا تعارف لوگوں میں پہنچتا ہے جبکہ لٹریچر آپ بڑی مشکل سے دو مہینے میں جتنا تقسیم کرتے ہیں بعض دفعہ ایک اخبار سے ایک دن میں وہ خبر اس سے زیادہ لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ آجکل اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخباروں کے ذریعہ جماعت کا تعارف ہوتا ہے جیسا کہ میں نے کہا بہت جگہ پہ ہو رہا ہے۔

    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی بیان فرمودہ بعض روایات کا تذکرہ اور اسی حوالہ سے احباب کو نصائح۔

    مکرم ڈاکٹر ادریس بنگورا صاحب نائب امیر اوّل سیرالیون اور مکرمہ منصورہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم خالد سیف اللہ خان صاحب نائب امیر آسٹریلیا کی وفات۔ مرحومین کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 22؍جولائی 2016ء بمطابق22وفا 1395 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن۔ لندن۔

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور