ایک مثالی نوجوان: عزیزم رضا سلیم متعلّم جامعہ احمدیہ یوکے

خطبہ جمعہ 16؍ ستمبر 2016ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

ہر انسان جو دنیا میں آتا ہے ایک دن اس نے اس دنیا سے رخصت ہونا ہے بلکہ کسی چیز کو بھی ہمیشگی نہیں ہے۔ بعض انتہائی بچپن میں اللہ تعالیٰ کے پاس چلے جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس بلا لیتا ہے۔ بعض جوانی میں، بعض بڑی عمر میں ہو کر اور بعض لوگ اپنی عمر کے انتہائی حصہ کو پہنچتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اَرْذَلِ الْعُمُر کہا ہے، جس عمر میں پہنچ کر پھر دوبارہ ان کی بچپنے کی، محتاجی کی اور بے علمی کی حالت ہو جاتی ہے۔ آخر وہ بھی اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ ہر ایک کے قریبی رشتہ دار کو اپنے قریبیوں کے دنیا سے رخصت ہونے کا صدمہ ہوتا ہے چاہے وہ کسی بھی عمر میں رخصت ہوا ہو۔ لیکن بعض وجود ایسے ہوتے ہیں جن کے اس دنیا سے رخصت ہونے پر، وفات پانے پر، افسوس کرنے والوں کا دائرہ بڑا وسیع ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی ایسی پسندیدہ شخصیت نوجوانی میں اور اچانک اس دنیا سے رخصت ہو جائے تو دکھ اور افسوس بہت بڑھ جاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہر تکلیف اور مشکل اور افسوس اور صدمہ کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کی دعا سکھائی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ہی ہیں اور اسی کی طرف لَوٹنے والے ہیں۔ اور جب اس دنیا سے رخصت ہونے والے کے قریبی انتہائی صبرکا مظاہرہ کرتے ہیں، یہ دعا پڑھتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ جہاں مرحوم کے درجات بلند کرتا ہے وہاں پیچھے رہنے والوں کے تسکین کے سامان بھی پیدا فرماتا ہے۔

پچھلے دنوں ہمارے ایک بہت ہی پیارے عزیز، جامعہ احمدیہ کے طالبعلم رضا سلیم کی ایک حادثے کے نتیجہ میں تئیس (23) سال کی عمر میں وفات ہوئی۔ اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ایک عزیز نے مجھے بتایا کہ ان کے دوست اپنی اہلیہ کے ساتھ اطلاع ملنے کے دو گھنٹے کے اندر ہی مرحوم کے والدین کے پاس افسوس کے لئے گئے تو کہتے ہیں کہ میری بیوی کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب عزیز مرحوم کی والدہ نے کہا کہ وہ میرا بہت ہی پیارا بیٹا تھا لیکن اس کو بلانے والا اس سے بھی پیارا ہے۔ یہ مومنانہ شان کا وہ جواب ہے جو ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے والوں میں نظر آتا ہے۔ کوئی چیخنا چِلّانا نہیں، ہاں افسوس ہوتا ہے۔ اس میں انسان روتا بھی ہے۔ صدمہ کی انتہائی حالت بھی ہوتی ہے۔ اور ماں سے زیادہ کس کو جوان بچے کی وفات کا احساس ہو سکتا ہے۔ اس سے زیادہ کس کو تکلیف ہو سکتی ہے۔ یا باپ سے زیادہ کس کو اپنے جوان بچے کے رخصت ہونے کا احساس ہو سکتا ہے۔ باپ کے متعلق مجھے یہی بتایا گیا کہ حادثہ کی اطلاع ملتے ہی انتہائی صدمہ کی حالت میں تھے۔ روئے بھی اور دعا بھی کر رہے ہوں گے لیکن جب صورتحال واضح ہو گئی، اور تھوڑی دیر بعد ہی جب یہ اطلاع ملی کہ وفات ہو گئی ہے تو اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھ کر پُرسکون ہو گئے۔ پس یہی حقیقی مومنانہ شان ہے۔ جوان بچے کی اچانک موت کو اتنی جلدی بھلایا تو نہیں جا سکتا لیکن ایک مومن اپنے درد اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر بیان کرتا ہے۔ روتا بھی ہے اور تسکین قلب اور مرحوم کے درجات کی بلندی کے لئے دعا بھی کرتا ہے۔

مَیں جرمنی کے سفر پر تھا۔ واپسی کا سفر اس دن شروع ہوا تھا۔ سفر شروع کرنے سے پہلے ہی مجھے اطلاع ملی کہ حادثہ ہو گیا ہے اور پھر راستے میں وفات کی اطلاع بھی ملی۔ عزیز بچے کا چہرہ بار بار میرے سامنے آتا رہا۔ دعا کی توفیق بھی ملتی رہی۔ بڑا ہی پیارا بچہ تھا۔ جامعہ یوکے (UK) کے بچے باقاعدگی سے کیونکہ مجھے ملتے رہتے ہیں اس لئے ہر ایک سے ایک ذاتی تعلق بھی ہے اور ان سے واقفیت بھی ہے۔ ملاقات کے دوران اگر میرے پاس کچھ وقت ہو تو سوال و جواب بھی کر لیتے ہیں۔ اس بچے کی آخری ملاقات جب میرے ساتھ ہوئی تو کچھ سوال اس کے ذہن میں تھے۔ اس کے جواب میں کچھ وقت لگا۔ کافی تفصیل سے میں نے اس کو بتایا۔ مجھے تو یہ اس کے والد کے کہنے پر یاد آیا کہ اس ملاقات کے بعد عزیزم رضا بڑا خوش تھا کہ آج کم و بیش پندرہ سولہ منٹ کی ملاقات میں میرے سوال کا تفصیلی جواب مجھے ملا۔ ہمیشہ اس کی آنکھوں میں خلافت کے لئے ایک خاص پیار اور چمک ہوتی تھی۔ جب عزیز جامعہ میں داخل ہوا ہے تو میرا خیال تھا کہ شاید اس کو کھیل کود میں زیادہ دلچسپی ہو اور اخلاص و وفا بھی جیسا ہر احمدی کا ہوتا ہے ویسا ہی ہو گا اور اتنی بچپن کی عمر میں تو جو بچوں کا ہوتا ہے وہی ہوگا۔ لیکن اس بچے نے میرے اندازے کو بالکل غلط ثابت کر دیا۔ پڑھائی میں بھی ہوشیار نکلا۔ بیشک کھیلوں میں دلچسپی تھی۔ اور اخلاص و وفا میں بھی بہت بڑھا ہوا تھا۔ ایک جذبہ تھا کہ خلافت اور دین کی حفاظت کے لئے مَیں ننگی تلوار بن جاؤں اور جیسا کہ بعض حالات اس کے دوستوں نے لکھے ہیں اس نے یہ کر کے بھی دکھایا۔ بیشمار لکھنے والے اس کے دوستوں نے، اس کے کلاس فیلوز نے، جامعہ کے طلباء نے، بہن بھائی اور والدین نے مجھ سے اس کی خوبیوں کا ذکر کیا۔ ایک بات تو تقریباً ہر ایک نے لکھی کہ عاجزی، خوش خلقی، دین کی غیرت، خلافت سے تعلق اور محبت، مہمان نوازی، جذبات کا احترام یہ اس کے خاص وصف تھے۔ ایسے لوگ جن کی ہر ایک تعریف کرتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ان لوگوں میں شامل ہوتے ہیں جن پر جنّت واجب ہو جاتی ہے۔ اور یہ بچہ تو دین کی خدمت کا ایک خاص جذبہ رکھتا تھا اور شاید کھیلوں اور ہائیکنگ وغیرہ میں بھی اس لئے حصہ لیتا تھا کہ صحتمند جسم دین کی خدمت کے لئے ضروری ہے۔ اس کے کوائف لکھنے والوں نے اس پیارے بچے کے بارے میں جو اظہار کئے ہیں وہ ہر ایک اظہار ایسا ہے جو اس کی خوبیوں کو ظاہر کرتا ہے۔

عزیزم رضا سلیم جو ہمارے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے کارکن سلیم ظفر صاحب کے بیٹے تھے 10؍ستمبر 2016ء کو اٹلی میں ہائیکنگ کے دوران ایک حادثہ میں وفات پا گئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ یہ 27؍ ستمبر 1993ء کو گلفورڈ، یوکے (UK) میں پیدا ہوئے تھے۔ وقفِ نَو کی تحریک میں شامل تھے۔ ان کے خاندان میں احمدیت ان کے پڑدادا محترم الہ دین صاحب کے ذریعہ آئی جن کا تعلق قادیان کے قریب ایک گاؤں سے تھا۔ انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ عزیز نے 2012ء میں جامعہ احمدیہ یوکے میں داخلہ لیا۔ وہ اپنے خاندان میں پہلے مربی بن رہے تھے اور درجہ ثالثہ پاس کر چکے تھے اور رابعہ میں جانے والے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ وصیت کا فارم انہوں نے فِل کر دیا ہوا تھا اور کارروائی ہو رہی تھی جس پر مَیں نے کارپرداز کو لکھا کہ وصیت ان کی منظور ہے۔ والدین کے علاوہ ان کے دو بہنیں اور دو بھائی بھی ہیں۔ حافظ اعجاز احمد صاحب جو جامعہ احمدیہ یوکے (UK) کے استاد ہیں اور ہائیکنگ کے انچارج بھی ہیں وہ ساتھ گئے ہوئے تھے۔ وہ اس واقعہ کی کچھ تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ہم نے ایک روز قبل پہاڑ کی چوٹی مکمل کی اور رات تقریباً پانچ سو میٹر نیچے ایک hut میں گزاری۔ اوپر سے نیچے آ گئے تھے۔ جو مشکل رستہ تھا وہ طے کر چکے تھے۔ جہاں ہمارے ساتھ تقریباً دس کے قریب دیگر ہائیکرز بھی تھے۔ صبح تقریباً 8 بجے ہم hut سے واپسی کے لئے روانہ ہوئے۔ اس وقت موسم بھی بالکل صاف تھا۔ ہم سب قطار میں اکٹھے جا رہے تھے کہ یکدم عزیزم رضا سلیم کا پاؤں پھسلا یا کسی پتھر سے ٹکرایا جس کی وجہ سے وہ سنبھل نہ سکے اور تیز رفتاری سے ڈھلوان ہونے کی وجہ سے آگے کی طرف بھاگے مگر قابو نہ رکھ سکے اور سر کے بل نیچے گرے انہوں نے سر پر ہیلمٹ پہن رکھا تھا مگر اس کے باوجودنیچے گرنے کی وجہ سے سر پہ چوٹ آئی۔ ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ گرنے کے دوران میں یا پہلے ہی بیہوشی کی کیفیت تھی یا چوٹ لگنے سے پہلے ہی سانس رُک گیا تھا کیونکہ سیدھے گرے تھے۔ بہرحال کہتے ہیں کہ اتنے میں خاکسار نے ان کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ پھر ایک اور طالبعلم عزیزم ہمایوں جو آگے جا رہے تھے ان کو آواز دی انہوں نے بھی پکڑنے کی کوشش کی۔ عزیزم ہمایوں کا ہاتھ ان کو لگا بھی مگر وہ پکڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ عزیزم رضا سلیم گہرائی کی طرف گر گئے۔ حادثہ دیکھ کر بعض دوسرے طالبعلموں نے بھی ان کو بچانے کے لئے نیچے جانے کی کوشش کی۔ مگر کہتے ہیں مَیں نے ان کو منع کر دیا کیونکہ اس وقت شاک (shock) کی وجہ سے کسی میں بھی چلنے کی ہمت نہیں تھی۔ دوسرے اس سے بڑے نقصان کا خطرہ تھا۔ بعد ازاں اس وقت راستہ پر چلنے والے دوسرے افراد کی مدد سے باقی تمام طلباء کو اوپر لے کے آیا۔ جو باقی طلباء ساتھ تھے یہ لوگ بھی کافی نیچے اتر گئے تھے۔ حادثہ کے فوراً بعد ایمرجنسی سروس کو فون پر اطلاع دی گئی اور بیس منٹ کے اندر ہیلی کاپٹر آ گیا۔ عزیزم رضا سلیم ہماری نظر کے سامنے تھا۔ ہم نے ہیلی کاپٹر کو جگہ کا بتایا جہاں انہوں نے ہیلی کاپٹر کی مدد سے اپنا آدمی اتار دیا۔ جب تک سارا گروپ ہیلی پیڈ تک نہیں پہنچ گیا اس وقت تک انہوں نے عزیزم رضا سلیم کی وفات کے متعلق کوئی اطلاع نہ دی۔ جب تمام طلباء ہیلی پیڈ کے پاس بخیریت پہنچ گئے تو ایمر جنسی سروس والوں نے عزیزم رضا سلیم کی وفات کنفرم کی۔ اس کے بعد ایک گھنٹے کے اندر اندر قریبی شہر میں تمام طلباء کو ہیلی کاپٹر کے ذریعہ پہنچا دیا گیا۔ اس حادثے کے وقت موسم بالکل صاف تھا اور جس ٹریک پر ہم چل رہے تھے اس کا نام ہی نارمل ٹریک ٹُو پِیک ہے۔ رضا سلیم کے والد سلیم صاحب بھی وہاں گئے تھے۔ انہوں نے بھی مجھے بتایا کہ وہاں کے لوگ ملے اور لوگ تو کہتے تھے کہ بالکل نارمل ٹریک تھا۔ کوئی مشکل نہیں تھا۔ ہمارے بچے بھی یہاں سے گزرتے تھے۔ اور ایک بوڑھا آیا اس نے بھی بتایا کہ مَیں روزانہ یہاں سیر کرتا تھا۔ کہتے ہیں عمومی طور پر بچے بڑے سب اس ٹریک پر چلتے ہیں۔ وہاں پر موجود لوکل لوگوں میں سے جس کو بھی اس حادثے کی خبر ملی انہوں نے کہا کہ بظاہر اس ٹریک میں کوئی خطرہ نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہی معلوم ہوتی ہے۔

بہرحال یہ ساری تفصیل تو اس لئے بھی مَیں نے بتائی ہے کہ بعض لوگ فونوں پر، پیغامات اور واٹس اَیپ یا دوسرے ذریعوں سے بعض غلط قسم کے تبصرے بھی کر رہے ہیں کہ شاید اکیلا باہر چلا گیا تھا۔ موسم خراب تھا۔ پورے انتظامات نہیں تھے۔ لباس نہیں پہنا ہوا تھا۔ حالانکہ وہاں کے لوکل اخبار نے جو خبر لکھی ہے اس نے بھی بتایا کہ پورے طور پر جو ضروری سامان ہوتا ہے، لباس ہوتا ہے وہ ان لوگوں نے پہنا ہوا تھا۔ ایسے تبصرے کرنے والے لوگوں کو بھی عقل سے کام لینا چاہئے۔ ایسے موقعوں پر فضول تبصروں کے بجائے ہمدردی کے جذبات کا اظہار ہونا چاہئے۔ اس میں نہ انتظامیہ کا قصور ہے۔ اور نہ ہی کسی کا قصور ہے۔ بس اللہ تعالیٰ نے وقت رکھا ہوتا ہے۔ آئی تھی، پتھر پھسلا ہے یا کیا ہوا، کس طرح گرا، چکّر آیا یا جو بھی وجہ ہوئی لیکن بہرحال ایک تقدیر تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی زندگی اتنی ہی رکھی تھی۔ جو باقی بچے ساتھ تھے وہ بھی صدمہ میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں بھی ہمت اور حوصلہ دے اور اپنی عام زندگی میں وہ جلد واپس آ جائیں۔ یادیں تو بھلائی نہیں جا سکتیں جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا۔ دوستوں میں ذکر چلتے بھی رہیں گے لیکن جامعہ کے طلباء کو بھی اس سے کسی بھی قسم کی مایوسی پیدا نہیں ہونی چاہئے، خوف پیدا نہیں ہونا چاہئے۔

سلیم ظفر صاحب لکھتے ہیں کہ میرا بہت ہی پیارا بیٹا تھا۔ بہت سی خوبیوں کا مالک تھا۔ کہتے ہیں چند ایک کا ذکر کرتا ہوں۔ ہمیشہ سچ بولتا تھا۔ اگر کوئی غلطی ہو گئی ہے تو چھپاتا نہیں تھا۔ اگر ڈانٹ بھی پڑے تو اس کی پرواہ نہیں کرتا تھا۔ اپنی غلطی کو تسلیم کرنا اور سچ پر قائم رہنا اس کی عادت میں شامل تھا۔ بچوں سے بڑا پیار کرنے والا تھا۔ اپنی بہن کے بچوں سے بہت پیار کرتا۔ اگر وہ بہن اپنے بچوں کو ڈانٹتی تو یہ اتنا حسّاس تھا کہ خود رو پڑتا اور یہ کہا کرتا تھا کہ بچوں کی اصلاح مارنے سے نہیں ہو جاتی۔ میرے سے ملاقات کا پہلے ذکر کیا ہے۔ انہوں نے بھی لکھا ہے کہ جب بھی ملاقات ہوتی بڑا خوش ہو کے فون پہ بتایا کرتا تھا کہ آج میری ملاقات ہوئی ہے اور کہتے ہیں ہمیں بھی ان خوشیوں میں شامل کرتا۔ اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ملاقات سے پہلے دفتر میں نیل کٹر (Nail Cutter) ضرور مانگتا تھا کہ میں اندر جا رہا ہوں، مصافحہ کرتے ہوئے کہیں میرا ناخن نہ لگ جائے۔ کتنے ہیں جو اس باریکی سے احساس کرنے والے ہیں۔ دوسروں کو چیزیں دے کر خوشی محسوس کرتا تھا۔ کہتے ہیں بچپن سے ہی ہم اس کے لئے چاکلیٹ یا دوسری چیزیں وغیرہ لے کر آتے تھے تو ہفتہ کا سامان لاتے تھے اور وہ اگر پہلے دن ہی اس کے ہاتھ لگ گئیں ہیں تو لے جا کے اپنے سٹوڈنٹ میں بانٹ دیا کرتا تھا۔ جامعہ میں تعلیم کے دوران بھی جو لڑکے لندن سے باہر سے آئے ہوتے تھے، weekend پہ اپنے گھروں کو نہیں جا سکتے تھے تو اپنی امی کو یا بہن کو بتا دیا کرتا تھا کہ میرے ساتھ اتنے دوست آ رہے ہیں اس لئے وہ ہمارے ساتھ کھانا کھائیں گے کھانا تیار رکھیں۔ اگر کوئی چیز کھانے کے لئے اس کو دیتے کہ ہوسٹل میں جا رہے ہو یہ رکھ لو تو اگر تو وہ وافر ہوتی تو لے کر جاتا کہ میرے رُوم میٹ (Room mate) جو ہیں ان کو پوری آ جائے ورنہ چھوڑ جاتا کہ میں چھپ چھپ کے کھانے نہیں کھا سکتا۔ کہتے ہیں اپنے دوستوں کے کپڑے بھی بعض دفعہ گھر لے آتا تھا کہ میرے دوست کے کپڑے ہیں ان کو دھو کر استری کر دیں۔ بہن بھائیوں سے بھی بہت پیار کا تعلق تھا۔ پوری ذمہ داری سے ہر ایک کے کام کرنا، خدمت کرنا۔ اپنی ذات کے لئے تو بیشک ہاتھ روکتا تھا، اسے کنجوسی تو نہیں کہنی چاہئے، لیکن اسراف نہیں تھا۔ دوسروں کے لئے بہت کھلا ہاتھ تھا اور وصیت بھی جیسا کہ مَیں نے کہا اس کی اللہ کے فضل سے منظور ہو گئی ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلافت سے بے پناہ محبت تھی اور اس کے خلاف کبھی کوئی بات نہیں سنتا تھا اور بات سن کے کبھی خاموش نہیں رہتا تھا۔ اگر کوئی ایسی بات سنے چاہے کوئی بھی ہو، کہتے ہیں ہمیشہ چہرہ سرخ ہو جایا کرتا تھا۔ کہتے ہیں کہ کیونکہ بہت صابر تھا، کبھی مانگتا نہیں تھا اس لئے ہمیں اس کی ضروریات کا خود ہی خیال رکھنا پڑتا تھا۔ پڑھائی کے دوران ہمیشہ ان لڑکوں کی انگلش میں بڑی مدد کیا کرتا تھا جو یوکے (UK) سے باہر کے، خاص طور پر یورپ سے آنے والے تھے۔ بعض لڑکوں نے بھی مجھے لکھا، بڑے سینیئر لڑکوں نے بھی لکھا کہ انگلش کے پرچے کے دوران پڑھانے کی ہماری بڑی مدد کیا کرتا تھا۔ غصّہ نام کی تو کوئی چیز اس میں نہیں تھی۔ ہمیشہ اس کو ہنستے مسکراتے دیکھا اور یہ ہر ایک نے یہی لکھا ہے۔ پاکیزہ مذاق خود بھی کرتا تھا اور اس سے لطف اندوز ہوتا تھا۔ نماز کا انتہائی پابند۔ وقف نو میں تو تھا ہی۔ والد کہتے ہیں اس کے واقف زندگی ہونے کا اعزاز بھی اللہ تعالیٰ نے دیا۔ ہمیشہ سچ بول کر صفت صدیقی کو اپنایا اور اپنی توفیق کے مطابق اس میں حصہ پایا۔ کہتے ہیں میری دیرینہ خواہش تھی کہ یہ مربی بن کر سلسلہ کی خدمت کی توفیق پائے۔ انہوں نے مجھے بھی کہا تو میں نے ان کو یہی کہا تھا کہ یہ بچہ تو جامعہ کی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی مربی بن چکا تھا۔ اور بعض واقعات بتاؤں گا کس طرح اس کو تربیت کا بھی، تبلیغ کا بھی شوق تھا۔ اور یہ جو سفر تھا یہ بھی جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ اس نے صحتمند جسم کے لئے یقینا یہ سفر کیا اس نے اور اس لحاظ سے اس کو بھی ایک دینی سفر ہی کہنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ اس کے درجات بھی بلند فرماتا رہے اور قریبیوں میں جگہ بھی دے۔ ان کے والد صاحب لکھتے ہیں مانچسٹر وقف عارضی پر گیا ہوا تھا جس دن واپس آنا تھا وہاں سے کسی نے ایک لفافہ اس کی جیب میں ڈال دیا۔ اس نے اسے کھول کر دیکھا تو اس میں کچھ رقم تھی۔ رضا نے شکریہ کے ساتھ واپس کی اور کہا کہ انکل ہمیں یہ لینا منع ہے۔ اسی شخص نے چند دن بعد مجھے بھی خط لکھا کہ ایک چھوٹا سا بچہ جو مربی بن رہا ہے وہ یہاں آیا تھا اور ہمیں حیران کر گیا۔ اگر ایسے بچے مربی بنیں گے تو یقینا جماعت میں روحانی تبدیلی آئے گی کیونکہ (مجھے لکھا کہ) اس طرح اسے دیا گیا اور اس نے لینے سے انکار کر دیا اور انتہائی محنت سے اپنے کام کو سرانجام دیا۔ ان کی والدہ لکھتی ہیں کہ میرا بیٹا اپنے والدین اور جماعت کی اطاعت کرنے والا تھا۔ میرے ساتھ اس کا محبت کا تعلق تھا۔ ویسے تو ہر بچے کا والدین سے محبت کا تعلق ہوتا ہے لیکن اس کا پیار کا انداز بہت نرالا تھا۔ خیال رکھنے والا، بات ماننے والا، ہر چھوٹے سے چھوٹے معاملہ میں بڑے ہی اچھے انداز سے بات کرتا۔ چھوٹوں اور بڑوں سے بڑے پیار سے پیش آتا۔ جب بھی گھر میں ہوتا میرے گھر کے کاموں میں مدد کرتا۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد پوچھتا کہ آپ تھک گئی ہیں، کوئی مدد کر دوں۔ کبھی مجھے پریشان نہیں دیکھ سکتا تھا اور یہی کہتا تھا کہ آپ کی آنکھوں میں آنسو نظر نہ آئیں۔ جامعہ سے واپس آتے ہی گھر میں سب لوگوں کا پوچھتا کہ پورے ہفتہ سب کیسے رہے؟ بڑی فکر سے سب کا پوچھتا۔ چھوٹا تھا تو اس وقت جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ اسلام آباد جایا کرتے تھے تو سکول سے آتے ہی بھاگ جاتا تھا کہ مَیں حضور کو ملنے جا رہا ہوں اور ساتھ سیر بھی کرنی ہے۔ ڈاکٹر نصرت جہاں صاحبہ جو ربوہ کی ہیں اور آجکل یہاں کافی بیمار ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو بھی صحت دے، ان کا ان کے گھر سے کافی تعلق تھا، کہا کرتا تھا کہ میں ان کے لئے بڑی دعا کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ ان کو صحت دے۔ اللہ تعالیٰ اس کی دعائیں بھی ان کے لئے قبول کرے۔ یہ لکھتی ہیں کہ میں نے جمعہ کی رات خواب میں دیکھا کہ میرے گھر بڑے لوگ آ رہے ہیں اور بڑی تصویریں بن رہی ہیں۔ میں ڈر کر اٹھی اور اپنے شوہر کو کہا کہ مجھے خواب آئی ہے جس سے میں ڈر گئی ہوں۔ اس خواب کا مجھے اچھا تاثر نہیں ہے توصبح ہوتے ہی صدقہ دے دیں۔ انہوں نے کہا کہ دفتر جاؤں گا تو صدقہ دے دوں گا۔ لیکن اس سے پہلے ہی یہ افسوسناک اطلاع آ گئی۔ والدہ کہتی ہیں کہ جب بھی کوئی کپڑا لا کر میں دیتی تو آرام سے پہن لیتا اور بڑی تعریف کرتا۔ مہمان نوازی میں تو بہت ہی بڑھا ہوا تھا۔ اگر کوئی ایک دفعہ اس کی دعوت کر لیتا تو پھر بھولتا نہیں تھا اور جب کبھی وہ کہیں ملتے یا اسلام آباد آتے تو فوراً گھر آ کر کہتا کہ فلاں فلاں لوگ آئے ہوئے ہیں کھانا بنائیں۔ ان کو کھانے پہ بلائیں۔ پھر یہ کہتی ہیں کہ اپنے ٹرپ پر جانے سے پہلے مجھے فون پر اردو میں لکھنا سکھاتا رہا کہ آپ کو دوسرے بہن بھائیوں سے حال پوچھنا پڑتا ہے تو آپ مجھے اردو میں لکھیں اور خود میں آپ کو جواب دیا کروں گا۔ کہتی ہیں جو بھی میں نے نصیحت کی اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرتا اور یہی اس نے دوستوں کو بھی بتایا۔ خلافت کے ساتھ تعلق قائم رکھا۔ نظام جماعت کے ہر چھوٹے سے چھوٹے حکم پر عمل کرنے کی کوشش کرتا۔ اس کی والدہ کہتی ہیں کہ ایک دفعہ مجھے کہا کہ امی میرا دل کرتا ہے کہ میں اتنا اچھا مربی بنوں کہ جماعت کی بہت تبلیغ کروں اور اتنے احمدی بناؤں کہ آپ کو مجھ پر فخر ہو۔ ان کی بہن رفیعہ صاحبہ کہتی ہیں بڑا ہی پیارا بھائی تھا۔ چھوٹا تھا مگر اس کی سوچ بڑی گہری تھی۔ چھوٹا ہو کر سب کا خیال رکھنے والا اور ہر عمر کے لوگوں کے ساتھ ان کی عمر کے مطابق ہو کر بات کرتا اور آج تک کبھی اس نے کسی کا دل نہیں دکھایا۔ ہر بات کو بڑے آرام سے سنتا اور بڑی عزت کے ساتھ جواب دیتا۔

اسلام آباد میں کام کرنے کے لئے جو ورکر لوگ جاتے تھے، پہلے بعض مرمتیں وغیرہ ہوتی تھیں یا لجنہ ہال بن رہا تھا تو وہاں بھی ان کا خیال رکھنا۔ چائے پہنچانا یا دوسری کھانے پینے کی چیزیں دینا، ہر وقت ان کی خدمت کرتا تھا اور لوگ کہتے تھے کہ صرف یہ لڑکا ہی ہے جو ہمیں پوچھتا ہے۔

اس کے بھائی اسد سلیم کہتے ہیں کہ بہت سادہ مزاج کا حامل تھا۔ صاف اور سیدھی بات کرتا۔ ہم نے حال ہی میں عزیزم کے لئے ایک نئی گاڑی خرید کردی اور اسے سرپرائز دیا۔ دونوں بھائی اچھے کام کرتے ہیں انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو گاڑی خرید کر دی۔ کہتے ہیں سب سے پہلی بات جو عزیزم نے اس گاڑی کے متعلق پوچھی وہ اس کی قیمت تھی اور کہا کہ بطور مربی مجھے سادہ زندگی گزارنی چاہئے اور بیش قیمت چیزیں نہیں لینی چاہئیں۔ ان کی ہمشیرہ امۃالحفیظ صاحبہ لکھتی ہیں۔ ایک خوبی اس میں یہ تھی کہ کسی شخص کی برائی سننا پسندنہیں کرتا تھا اور اس میں یہ صلاحیت تھی کہ لوگوں کے منفی خیالات کو اچھے رنگ میں بدل دیتا تھا۔ اس کا کہنا یہی ہوتا تھا کہ ہمیں لوگوں کی اچھائیوں پر نظر رکھنی چاہئے اور ان کی برائیوں کے متعلق باتیں کرنے کی بجائے ان کے متعلق دعا کرنی چاہئے۔ طبیعت میں سادگی کی ایک مثال یہ ہے کہ والدہ صاحبہ اس کو عید پر نئے کپڑے خرید کر دیتیں تو وہ کپڑے پہن کر بہت فکرمند رہتا، کہیں ان کپڑوں میں ضرورت سے زیادہ تکلف اور دکھاوا نہ ہو جائے۔ اس لئے اپنی کوئی پرانی چیز، کوئی جیکٹ وغیرہ اوپر پہن لیتا۔

قدوس صاحب استاد جامعہ احمدیہ ہیں وہ بھی ساتھ تھے کہتے ہیں کہ میں بچپن سے رضا سلیم کو جانتا ہوں۔ جامعہ میں داخلہ لیا تو اس وقت میں شاہد کلاس میں تھا اس لحاظ سے کہتے ہیں خاکسار نے جامعہ میں ایک ہی سال ان کے ساتھ گزارا ہے۔ لیکن خدام الاحمدیہ کی تربیتی کلاسز، اجتماعات اور جلسہ سالانہ کی ڈیوٹیاں اکٹھے دینے کا موقع ملتا رہا۔ صدر خدام الاحمدیہ نے بھی مجھے بتایا کہ وہاں خدام الاحمدیہ کے اجتماعات پہ لڑکوں کے ساتھ سوال جواب میں یہ بڑا اچھا کام کرتا رہا ہے۔ قدوس صاحب لکھتے ہیں عزیزم رضا سلیم کی ڈیوٹی hygiene کے شعبہ میں لگتی تھی۔ یہاں hygiene کہتے ہیں۔ لفظ بڑا چنا ہوا ہے لیکن اصل چیز یہی ہے کہ صفائی وغیرہ کا خیال رکھنا تو کبھی بھی انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اس شعبہ میں ان کی ڈیوٹی کیوں لگائی گئی ہے بلکہ وہ یہ ڈیوٹی بہت محنت، لگن اور مستقل مزاجی سے سرانجام دیا کرتا تھا۔ یہ کہتے ہیں کہ مجھے جامعہ میں پڑھانے کا بھی موقع ملا۔ بہت لائق طالبعلم تھا۔ کلاس میں سب سے آگے attentively بیٹھتا اور ہمیشہ مسکرا کر بات کرتا۔ مجھے یادنہیں ہے کبھی اس نے کسی قسم کے غصہ کا اظہار کیا ہو بلکہ دوسروں کی مدد کرنے کی ہمیشہ کوشش کرتا۔ کرکٹ کا بھی شوق تھا لیکن اگر سکور وغیرہ دیکھنا ہوتا تو ہمیشہ ٹیچر سے پوچھ کے جاتا۔ کہتے ہیں کہ اس ہائیک (Hike) کے دوران ہم نے ایک رات hut میں گزاری جس کے غسل خانے کے دروازے کا لاک (Lock) نہیں تھا۔ سب نے اسے کہا کہ وہ دروازے پر کھڑا رہے تو بڑی خوشی سے اس نے یہ کام کیا اور یہ بھی کہا کہ اگر رات کو کسی کو جانا پڑے تو اس وقت مجھے بیشک اٹھا دینا۔ اپنے ہائیک کے دوران اپنے کلاس میٹ عزیزم ظافر کے ساتھ ہائیکنگ کے بعد کروشیا جانا تھا۔ وہاں ظافر کی آنکھ پہ چوٹ لگ گئی تو بار بار فکر کا اظہار کیا کہ فارغ ہو کر ہائیک سے نیچے جا کر انشاء اللہ تمہیں ہسپتال سے چیک اپ کروائیں گے۔ یہ لکھتے ہیں کہ رضا سلیم بہت ہی مخلص واقف زندگی تھے۔ محنت، مستقل مزاجی اور ہر ایک سے اخلاق سے پیش آنا اس کے نمایاں اوصاف تھے۔

اسی طرح ظہیر خاں صاحب ایک ٹیچر ہیں۔ جامعہ احمدیہ کے استاد ہیں۔ وہ بھی لکھتے ہیں کہ گذشتہ دو سالوں سے عزیزم رضا کی کلاس کو پڑھانے کی توفیق پا رہا تھا۔ خاکسار نے اس بچہ میں ایک منفرد خوبی یہ دیکھی تھی کہ جو کام اس کے سپرد کیا جاتا اسے وہ نہایت محنت، لگن اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ کرتا۔ بعض اوقات میں نے دیکھا کہ اس کام پر مامور باقی بچے اگر اِدھر اُدھر چلے گئے ہیں تو یہ اکیلا اس کام کو سرانجام دے رہا ہوتا تھا اور جب تک کام مکمل نہ ہو جاتا اپنی بساط کے مطابق اس پر جتا رہتا تھا۔ رضا سلیم کی ایک بہت پیاری عادت یہ تھی کہ کبھی غیر ضروری سوال نہیں پوچھتا تھا اور جب کبھی سوال پوچھتا تو وہ عموماً مغربی دنیا میں اسلام اور احمدیت کے بارے میں ہونے والے اعتراضات پر مبنی ہوتے اور بعض اوقات بتاتا کہ اس کی کسی غیر مسلم یا غیر احمدی دوست سے بات ہوئی اور اس نے یہ سوال پوچھا تھا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں اسلام اور احمدیت کے دفاع اور ان پر ہونے والے اعتراضات کے جواب دینے کی ایک جوت جلا رکھی تھی۔ کہتے ہیں عزیزم رضا ایک دو مرتبہ میرے ساتھ گاڑی پر بیٹھا۔ لفٹ لی اور دو مرتبہ اس کی یو ایس بی سٹک (USB Stick) جیب سے گاڑی میں گر گئی اور وہ سٹک حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کی آڈیو ریکارڈنگ پر مشتمل ہوتی تھی۔ کوئی اُوٹ پٹانگ چیز نہیں ہوتی تھی۔ اسی طرح وہاں کے استاد سید مشہود احمد لکھتے ہیں کہ ٹیوٹوریل گروپ میں شامل تھا۔ نصابی سرگرمیوں کے ساتھ علمی اور ورزشی مقابلہ جات میں بھی غیر معمولی دلچسپی لیا کرتا تھا۔ عزیزم کا جنرل نالج دیگر طلباء کے مقابلہ پر بہت اچھا تھا۔ اور اسی طرح کہتے ہیں گزشتہ سال مقابلہ بیت بازی میں حصہ لینے کے لئے عزیزنے تقریباً پانچ سو سے زائد اشعار یاد کئے تھے اور یہ خوبی بڑی نمایاں تھی کہ اشعار کو یاد کرنے سے پہلے یہ صرف رٹّا نہیں مار لیتا تھا بلکہ ان کا مضمون سمجھا کرتا تھا اور جس کے لئے سینئر طلباء اور اساتذہ سے رہنمائی لیا کرتا تھا۔ کہتے ہیں رضا سلیم کو تبلیغ کا بہت شوق تھا۔ گزشتہ سال عزیزم کو وقف عارضی کے لئے وولور ہیمپٹن کی جماعت میں بھجوایا گیا جہاں عزیزم نے لیف لیٹس کی تقسیم کے علاوہ مقامی احباب جماعت کے ساتھ مل کر متعدد تبلیغی سٹال بھی لگائے اور اس دوران ان کی ملاقات ایک انگریز سے ہوئی جو مذہباً ایک فعّال عیسائی تھا۔ عزیزم نے جب انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیان فرمودہ تحقیق کی روشنی میں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے صلیب سے نجات پانے اور کشمیر کی طرف ہجرت کرنے کے بارے میں بتایا تو وہ بہت حیران ہوا۔ بعد ازاں اس کے ساتھ اس کو مسجد کا وزٹ بھی کروایا۔ اس کو دعوت دی اور اس کے بعد بھی اس سے مستقل تبلیغی رابطہ رکھا۔ اسی طرح مقامی جماعت اسلام آباد اور جامعہ احمدیہ کے ساتھ لیف لیٹس کی تقسیم اور تبلیغی سٹال کے لئے ہمیشہ تیار رہتا۔ گزشتہ سال یہاں سے ان کی کلاس کے کچھ طلباء یا جامعہ کے طلباء گرمیوں میں سپین گئے تھے اور وہاں انہیں مَیں نے کہا تھا کہ کم از کم پچاس ہزار لیف لیٹس، پمفلٹس تقسیم کر کے آنے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس گروپ نے وہاں پچاس ہزار پانچ سو لیف لیٹ تقسیم کئے۔

اسی طرح منصور ضیاء صاحب جامعہ کے استاد ہیں، لکھتے ہیں کہ بڑے ہی دھیمے مزاج کے طالبعلم تھے۔ کبھی میں نے ان کے چہرے پر تیوری یا غصہ کے آثار نہیں دیکھے۔ خلافت اور جماعتی عقائد پر ناحق اعتراض جب کسی نے کئے۔ تو اس موقع پر کہتے ہیں کہ میں نے عزیز کے چہرے پر شدید غصہ دیکھا اور کہتے ہیں یہ باتیں یہ بیّن ثبوت تھیں کہ عزیزم کے رگ و ریشہ میں خلافت سے محبت اور اس کے لئے غیرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ کہتے ہیں خلافت سے وابستگی کی ایک مثال یہ بھی ہے اور اسی طرح دینی علم سیکھنے کی بھی کہ جب بھی میں نے کلاس میں میرے خطبات کے بارے میں ذکر کیا اور خطبہ کے حوالہ سے کوئی جائزہ لیا تو عزیزم کو بہت سی باتیں یاد ہوتی تھیں۔ بڑے غور سے سننے والا تھا۔ پھر یہ بھی وہی کہتے ہیں جو سارے لکھ رہے ہیں کہ مشاہدہ کیا کہ عزیزم کو تبلیغ کا بہت شوق تھا۔ سوشل میڈیا پر غیر احمدیوں کو تبلیغ کرنا عزیزم کا معمول تھا اور اساتذہ کرام کی رہنمائی میں بڑی محنت کے ساتھ غیر احمدی احباب کے اعتراضات کے مدلّل جواب تیار کیا کرتا تھا۔

پھر ان کے ایک ہم مکتب عزیزم سفیر احمد لکھتے ہیں کہ میرا تعلق بیلجیم سے ہے اور ان کو پتا تھا کہ میں وہاں سے ہوں اور weekend پہ گھر نہیں جاتا تو ہمیشہ weekend پہ مجھے اپنے گھر کا پکا ہوا کھانا کھلانے کے لئے ضرور لے کر جاتا۔ اسی طرح انگریزی ہماری کمزور ہے تو ہمیشہ انگریزی کو سمجھا کر پھر امتحان کی تیاری کرواتا۔

اسی طرح شاہ زیب اطہر ہے وہ بھی کہتا ہے عزیز بڑا نرم مزاج اور خوشی سے دوسروں کوملنے والا شخص تھا۔ ہر وقت دوسروں کی مدد کے لئے تیار رہنا۔ کہتے ہیں جب ہمیں وقف عارضی کے لئے بھیجا گیا اور بازار میں ہم نے تبلیغی سٹال لگایا تو دو عیسائی لوگ آئے۔ رضا نے بہت احسن رنگ میں جماعت کا پیغام پہنچایا۔ مرحوم کا علم بہت وسیع تھا اور تبلیغ کرنے کا بہت جذبہ تھا۔ کبھی غصہ سے بات نہیں کرتا تھا۔ لڑکوں کو اکٹھا کرتا اور پھر دوسری تفریحات کا پروگرام بھی بناتا۔ کہتے ہیں ایک واقعہ خاکسار کو یاد ہے۔ 2014ء کے اگست کی وقف عارضی کے دوران خاکسار اور رضا سلیم مرحوم نے تبلیغی سٹال لگایا ہوا تھا۔ جانے سے تھوڑی دیر پہلے بریٹن فرسٹ (Britain First) والے آ گئے۔ یہ لوگ اسلام کے خلاف ہیں، لیف لیٹنگ کر رہے تھے۔ جب وہ ہمارے پاس پہنچے تو رضا سلیم سے غصہ کے انداز سے سوالات پوچھتے رہے لیکن انہوں نے حلم اور نرمی سے تمام سوالات کے جواب دئیے تو آخر پر ان کو پتا لگ گیا کہ یہ ان مسلمانوں میں سے نہیں ہے جو شدّت پسند ہیں۔ اسی طرح جامعہ میں ان کے ایک پڑھنے والے ظافر کہتے ہیں کہ کلاس روم میں ان کے ساتھ بیٹھا تھا تو ایک دم بورڈ مارکر ہاتھ میں لیا اور کہا کہ ظافر ہم جامعہ میں بہت وقت ضائع کر رہے ہیں اور ٹائم ٹیبل لکھنے لگا۔ فارغ وقت کو ہائی لائٹ کر کے کہتا تھا کہ ہمیں اس وقت بھی کچھ نہ کچھ کرنا چاہئے اور اس وقت کو بھی بجائے وقت ضائع کرنے کے پروڈکٹو (Productive) بنانا چاہئے۔

اسی طرح انہوں نے فارغ وقت میں اساتذہ کے ساتھ بیٹھ کے مختلف subjects کے پڑھنے کا ارادہ کیا تھا۔ پھر یہی لڑکا ہے جس کی آنکھ کا پہلے ذکر ہو چکا ہے۔ ہلکی سی زخمی ہو گئی تھی۔ کہتے ہیں مجھے چوٹ لگی تھی اور بار بار آخر وقت تک مجھے کہتا تھا کہ ظافر جیسے ہی ہم نیچے پہنچیں گے تو ہسپتال جائیں گے تا تمہارا صحیح علاج ہو سکے اور پھر یہ کہتے ہیں کہ حادثہ سے پہلے پہاڑ سے نیچے آتے ہوئے اگر کبھی میرا پاؤں پھسلا۔ (ظافر کا پاؤں پھسلا کرتا تھا) تو مرحوم کو بڑی فکر ہوتی تھی اور کہا کرتا تھا کہ دھیان سے چلو۔ اسی طرح کہتے ہیں گزشتہ سال ہائیکنگ کے دوران مجھے اونچائی کی وجہ سے تکلیف ہو گئی جسے altitude sickness کہتے ہیں تو بار بار مجھے تسلی دیا کرتا، حال پوچھا کرتا لیکن یہ نہیں پتا تھا کہ تقدیر کو کچھ اور منظور ہے۔ پھر weekend سے واپس آ کر ہمیشہ جماعت پر ہونے والے اعتراضات یاد کر کے آتا اور اپنے اساتذہ سے ان کے جواب طلب کرتا۔

اسی طرح ایک اور طالبعلم جامعہ حافظ طٰہٰ ہیں۔ کہتے ہیں کہ خلافت کا فدائی تھا۔ خلیفہ وقت سے بے انتہا محبت رکھنے والا تھا۔ کسی سے خلیفہ وقت کے، نظام خلافت کے خلاف کوئی بات برداشت نہ کرتا تھا۔ ایک دفعہ کسی ایسے شخص نے جو جماعت سے دور ہو گیا تھا خلافت کے متعلق کوئی غلط بات منہ سے نکالی تو رضا نے اسے کہا کہ میں تمہاری ساری باتیں تو سن سکتا ہوں مگر خلافت کے متعلق یا خلافت کے خلاف کوئی بات میں برداشت نہیں کر سکتا۔

پھر ایک طالبعلم دانیال لکھتے ہیں کہ پچھلے سال کی جو ہائیکنگ تھی اس کے بعد ہم سب حافظ اعجاز صاحب سے اگلی ہائیک پہ جانے کے لئے ہائیکنگ کاlesson لے رہے تھے تو یہ بہت خوش تھا اور سب ہم مل کر فون پر ویڈیو بنا کر بھیج رہے تھے۔ ہمیشہ ہمیں خوش رکھنے کی کوشش کرتا۔ یہ کوشش ہوتی کہ وقت ضائع نہ ہو۔ ہر ہفتہ کسی نئی کتاب کا مطالعہ کر رہا ہوتا۔ مرحوم کی کوشش یہی رہتی کہ تہجد کا پابند رہے اور اپنے دوستوں کو بھی کہتا کہ تہجد کے وقت اگر وہ سویا ہو تو اسے سختی سے جگا دیا جائے۔ جامعہ کی پڑھائی کے علاوہ دنیاوی علوم حاصل کرنے کا بھی شوق رکھتا تھا۔ جنرل نالج اور شعر و شاعری کا بھی بڑا شوق تھا اس میں حصہ لیتا تھا۔ غرض کہ بیشمار واقعات لوگوں نے مجھے لکھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور اپنے پیاروں کے قدموں میں جگہ دے۔ وہ بچہ جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی کہا کہ جامعہ پاس کرنے سے پہلے ہی بہترین مربی اور بہترین مبلغ تھا اور خلافت کے لئے بے انتہا غیرت رکھنے والا تھا۔ اللہ تعالیٰ دنیا کے جامعات کے تمام طلباء کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ بھی اخلاص و وفا میں بڑھنے والے ہوں اور فرائض کو ادا کرنے والے ہوں۔ عزیزم کے دوست صرف اس کی خوبیاں بیان کرنے والے نہ ہوں بلکہ دوستی کا حق تو یہ ہے کہ اسے اب اس طرح ادا کریں کہ اس کی خوبیاں اپنا کر اپنی تمام تر صلاحیتیں دین کی خدمت کے لئے استعمال کریں اور مجھے بھی اور آئندہ آنے والے خلفاء کو بھی ہمیشہ بہترین مددگار اور سلطان نصیر ملتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ والدین کو بھی اور بہن بھائیوں کو بھی سکونِ قلب عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے ان لوگوں نے جس صبر کا اظہار کیا ہے اس پر ہمیشہ یہ قائم بھی رہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے ہوں اور آئندہ ہر ابتلا اور مشکل سے اللہ تعالیٰ ان سب کو بچائے۔ نماز کے بعد انشاء اللہ نماز جنازہ ہو گی۔ جنازہ حاضر ہے۔ مَیں باہر جا کر نماز جنازہ پڑھاؤں گا احباب یہیں صفیں درست کر لیں۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 16؍ ستمبر 2016ء شہ سرخیاں

    ہر انسان جو دنیا میں آتا ہے ایک دن اس نے اس دنیا سے رخصت ہونا ہے بلکہ کسی چیز کو بھی ہمیشگی نہیں ہے۔ بعض انتہائی بچپن میں اللہ تعالیٰ کے پاس چلے جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس بلا لیتا ہے۔ بعض جوانی میں، بعض بڑی عمر میں ہو کر اور بعض لوگ اپنی عمر کے انتہائی حصہ کو پہنچتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اَرْذَلِ الْعُمُر کہا ہے، جس عمر میں پہنچ کر پھر دوبارہ ان کی بچپنے کی، محتاجی کی اور بے علمی کی حالت ہو جاتی ہے۔ آخر وہ بھی اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہر تکلیف اور مشکل اور افسوس اور صدمہ کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کی دعا سکھائی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ہی ہیں اور اسی کی طرف لَوٹنے والے ہیں۔ اور جب اس دنیا سے رخصت ہونے والے کے قریبی انتہائی صبرکا مظاہرہ کرتے ہیں، یہ دعا پڑھتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ جہاں مرحوم کے درجات بلند کرتا ہے وہاں پیچھے رہنے والوں کے تسکین کے سامان بھی پیدا فرماتا ہے۔

    عزیزم رضا سلیم (ابن مکرم سلیم ظفر صاحب) متعلّم جامعہ احمدیہ یوکے کی اٹلی میں ہائیکنگ کے دوران ایک حادثہ میں ناگہانی وفات۔ مرحوم کا ذکرخیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 16ستمبر 2016ء بمطابق6 تبوک1395 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور