دورۂ کینیڈا 2016ء

خطبہ جمعہ 18؍ نومبر 2016ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

جیسا کہ سب جانتے ہیں گزشتہ دنوں مَیں کینیڈا کے دورے پر تھا۔ تقریباً چھ ہفتے کا پروگرام تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ دورہ ہر لحاظ سے، جماعتی پروگراموں کے لحاظ سے بھی اور غیروں کے ساتھ پروگراموں کے لحاظ سے بھی بابرکت رہا۔ کینیڈا کے جلسہ سالانہ کے بعد وہاں کے جلسہ کے تعلق سے لوگوں کے تأثرات اور انتظامی باتیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر شکر کا ذکر تو میں نے وہیں جلسہ سے اگلے خطبہ میں کر دیا تھا۔ آج جو باقی مصروفیات اور پروگرام رہے ان کا کچھ ذکر کروں گا۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے کینیڈا کی جماعت بھی دنیا کی بہت سی دوسری جماعتوں کی طرح اخلاص و وفا میں آگے قدم بڑھانے والی جماعتوں میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے نوجوان لڑکے بھی اور لڑکیاں بھی جماعتی کاموں کے لئے آگے بڑھنے کی روح لئے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر پریس اور میڈیا کے حوالے سے نوجوانوں نے بہت کام کیا ہے۔ وسیع پیمانے پر تعارف کی کوشش کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی ان کوششوں کو پھل بھی لگایا۔ سیاستدانوں اور حکومتی اہلکاروں سے تو پہلے بھی وہاں تعارف تھا اور اچھے تعلقات بھی تھے۔ ان میں بھی انہوں نے اضافہ کیا۔ لیکن اس دفعہ میڈیا سے تعلق میں واضح فرق نظر آیا۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ خالصۃً اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا ہے۔ ان لوگوں نے تو انگلی لگائی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس میں بے انتہا برکت ڈالی۔ بلکہ یہ کام کرنے والے لڑکے خود اعتراف کرتے ہیں کہ ہماری توقعات سے بہت بڑھ کر ہمیں رسپانس ملی ہے۔ یا تو یہ کوشش ہوتی تھی کہ پریس میں ہماری کوئی خبر آ جائے، کوئی ذکر آ جائے تاکہ جماعت کا تعارف بھی ہو، اسلام کا تعارف بھی ہو لیکن پریس اور میڈیا بڑے نخرے کیا کرتا تھا۔ یا اس دفعہ یہ حالت تھی کہ میڈیا والے پیچھے پھرتے تھے کہ ہمیں وقت دو۔ ہم نے امام جماعت احمدیہ کا انٹر ویو لینا ہے۔ ان سے بات کرنی ہے۔ لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے مجبوری تھی اس وجہ سے میڈیا کے ساتھ جتنا رابطہ یا انٹرویو ہو سکا اتنا ہی ہو سکا۔ باقیوں سے معذرت کرنی پڑی۔ ہماری وہاں جو میڈیا ٹیم ہے ان کو بھی چاہئے کہ جن لوگوں سے معذرت کی گئی تھی اب ان سے تعلق بھی رکھیں اور مل کر بھی معذرت کریں یا تحریری معذرت کریں۔ یہ اگلے رابطوں کے لئے ضروری چیز ہے۔

بہرحال اب میں خلاصۃً مختلف فنکشنز کے بعض تأثرات پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں تین نئی مساجد بنائی ہیں لیکن دو کا ایسا فنکشن تھا جس میں غیروں کو بلایا گیا تھا۔ پارلیمنٹ میں بھی ایک فنکشن ہوا۔ York یونیورسٹی میں بھی خطاب ہوا۔ ٹورانٹو میں پِیس سمپوزیم ہوا۔ کیلگری میں پِیس سمپوزیم ہوا جن میں غیروں کے سامنے اسلامی تعلیمات پیش کرنے کا موقع ملا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر جگہ لوگوں نے اسلامی تعلیمات کی خوبصورتی کا اعتراف کیا۔

پہلے مَیں مختصراً ٹورانٹو میں میڈیا کوریج کا ذکر کر دیتا ہوں۔ ٹورانٹو میں تین انٹرویوز کے علاوہ جو خصوصی مصروفیت تھی، وہ یونیورسٹی کا ایڈریس ہے۔ اس کا ذکر تو آگے آ جائے گا۔ جو تین انٹرویو ہوئے ان میں ایک گلوبل نیوز ٹورانٹو کا تھا۔ یہ کینیڈا کا ایک مشہور نیوز نیٹ ورک ہے اور یہ انٹرویو نشر کیا گیا اور تقریباً تین لاکھ افرادنے دیکھا۔ اور جب تک یہ رپورٹ آئی ایک لاکھ افراد اس کو آن لائن بھی دیکھ چکے ہیں۔ اسی طرح دوسرا انٹرویو سی۔ بی۔ سی (CBC) کا تھا جو وہاں کا نیشنل نیوز چینل ہے اس کا ایک بہت مشہور جرنلسٹ، چیف کارسپانڈنٹ پیٹرز مین برج ہیں۔ انہوں نے انٹرویو لیا۔ لیا تو یہ پہلے گیا تھا لیکن دو ہفتے بعد انہوں نے اپنے پروگرام میں دیا اور تقریباً آدھے گھنٹے کا یہ پروگرام تھا جو نیشنل ٹیلیویژن پر دکھایا گیا۔ جیسا کہ میں نے کہا یہ وہاں کے سب سے سینئر جرنلسٹ ہیں اور بڑے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ اسلام کے بارے میں، دنیا کے حالات کے بارے میں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کے بارے میں اور آجکل جو شدت پسندوں نے اسلام کو بدنام کیا ہوا ہے اس کے بارے میں بہت ساری باتیں ہوئیں جس کا کچھ حصہ انہوں نے دیا اور کچھ نہیں۔ لیکن بہرحال ایک اچھی کوریج ہو گئی تھی۔

اسی طرح گلوب اینڈ میل ایک نیشنل اخبار ہے۔ یہ جو پہلے میں نے انٹرویو کا ذکر کیا ہے جو سی۔ بی۔ سی (CBC) کا تھا اس سے ان کاا ندازہ ہے کہ دس ملین کینیڈین افراد تک پیغام پہنچا۔ ا ور یُوٹیوب چینل پر بھی آیا اس کے ذریعہ سے بھی ایک ملین افراد تک خبر پہنچی۔ اور پھر اخبار کے ذریعہ سے جس میں بڑی تفصیلی خبریں شائع ہوئیں۔ پھر یونیورسٹی میں لیکچر تھا۔ اس لیکچر کے حوالے سے اخبارات اور رسائل نے خبر دی۔ اور اس کی کوریج بھی تقریباً پانچ لاکھ افراد تک ہوئی۔

اب میں اگلے پروگرام کا ذکر کرتا ہوں۔ جلسے کے بعد پہلا پروگرام آٹوا میں ہوا جو اُن کا کیپیٹل ہے وہاں پارلیمنٹ میں تقریباً سارا دن پروگرام رہا۔ مختلف مصروفیات رہیں۔ لوگوں سے ملنا جلنا رہا۔ وزیراعظم سے علیحدہ ملاقات بھی ہوئی۔ پھر ان کے کچھ وزراء کے ساتھ بڑے اچھے ماحول میں بیٹھ کے ملاقات ہوئی۔ اور ان کا جو تعاون ہمیشہ جماعت کے ساتھ رہا ہے اس کا شکریہ بھی میں نے ادا کیا۔

پھر وہاں پارلیمنٹ ہاؤس کے ایک ہال میں جو تقریب تھی اُس میں وہاں کینیڈین گورنمنٹ کے چھ وزیر شامل ہوئے۔ ستاون (57) نیشنل ممبران پارلیمنٹ شامل ہوئے۔ گیارہ مختلف ممالک کے ایمبیسیڈرز شامل ہوئے اور امریکہ کی ایمبیسی کے فرسٹ سیکرٹری اور لیبیا کی ایمبیسی کے نمائندگان شامل ہوئے۔ صوبہ اونٹاریو کے منسٹر بھی موجود تھے۔ تیس سے زائد اہم شخصیات پروگرام میں شامل ہوئیں جس میں چیف آف سٹاف اور منسٹرز شامل تھے۔ پھر evangelical fellowshipکے ڈائریکٹر تھے۔ کینیڈین ریڈ کراس کے چیف کمیونیکیشن آفیسر شامل تھے۔ آر۔ سی۔ ایم۔ پی کے اسسٹنٹ کمشنر شامل تھے۔ یونیورسٹی آف آٹوا کے اور کارلٹن یونیورسٹی (carleton university) کے پروفیسر شامل تھے۔ بعض dean اور وائس پریذیڈنٹ بھی تھے۔ کینیڈین کونسل فار مسلم کے ڈائریکٹر شامل تھے۔ یُو ایس گورنمنٹ کے نمائندگان اور بعض think tank کے ممبر شامل تھے۔ گویا وہاں ان لوگوں کی ایک بڑی اچھی gathering تھی جو اپنے آپ کو دنیا کے معاملات چلانے والا سمجھتے ہیں۔ وہاں اسلام کی تعلیم کی روشنی میں بیان کرنے کا موقع ملا اور اسی طرح جو اِن کا کردار ہے اور یہ لوگ جو دو عملی دکھاتے ہیں اس کو بھی میں نے واضح کیا کہ صرف مسلمانوں پہ الزام نہ دو بلکہ تمہارے اپنے جو کام ہیں ان کی طرف بھی دیکھو اور تم لوگوں کی وجہ سے بعض دفعہ دنیا میں بعض فساد پیدا ہوئے ہیں۔ بہرحال بعد میں اس کے جو تاثرات تھے وہ پیش کرتا ہوں۔ ممبر پارلیمنٹ ہیں جوڈی سیگرو (Judi Sgro)۔ انہوں نے کہا کہ امام جماعت کا یہ خطاب ان نصائح سے پُر تھا کہ ہم کس طرح تیسری جنگ عظیم سے بچ سکتے ہیں۔ یہ بالکل واضح تھا کہ ہمیں اس تباہی سے بچنے کے لئے ایک دوسرے سے تعاون اور محنت کی ضرورت ہے۔ یہ کہتی ہیں کہ یہ پیغام جو اس وقت دیا گیا یہ ساری دنیا تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔

پھر ایک ممبر پارلیمنٹ کیون وا (Kevin Waug) ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختصر الفاظ میں بہت سے عناوین پر روشنی ڈالی۔ میں خاص طور پر اس بات سے متاثر ہوں کہ امام جماعت نے اپنے خطاب میں قرآن کریم کے بہت سے حوالہ جات پیش کئے۔ یہ امر خاص طور پر مجھ جیسے شخص کے لئے جس کا دینی علم بہت کم ہے نہایت خوشکن تھا۔ اس سے میرے علم میں بھی اضافہ ہوا۔

ہر ایک نے اپنی اپنی سوچ کے مطابق بیچ میں سے پوائنٹ نکالے اور تبصرے بھی کئے۔

اسی طرح اسرائیلی سفیر بھی وہاں موجود تھے۔ یہ کہتے ہیں کہ امن کے لئے اہم پیغام تھا اور یہ کہ تمام مذاہب کو کس طرح ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہئے۔ کہتے ہیں کہ آج اسلام کے بارے میں میری سوچ بدل گئی ہے اور اس کی قدردانی بھی بڑھ گئی ہے۔ اس خطاب کو شائع کرنا چاہئے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا چاہئے۔ اور اگر لوگ اس پیغام کی پیروی کریں تو دنیا کے گھمبیر سے گھمبیر مسائل بھی حل ہو سکتے ہیں۔ مجھے اس خطاب میں برداشت کا پہلو بہت پسند آیا اور یہ کہ تمام لوگوں کے حقوق ادا کئے جانے چاہئیں، چاہے وہ مسلمان ہوں یا یہودی ہوں، سب کے حقوق ادا ہونے چاہئیں۔ پھر سینیئر امیگریشن جج اور وہاں جو ’سرظفر اللہ خان ایوارڈ‘ دیا جاتا ہے، اس سال اس کے حاصل کرنے والی لوئس آربر (Louise Arbour) نے اپنے خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہایت صاف زبان میں امام جماعت نے ہماری کمیوں اور کمزوریوں کی طرف توجہ دلائی اور ساتھ ساتھ مغربی معاشرے کے مسائل پر بھی روشنی ڈالی اور یہ کہ بعض دفعہ ان کے عملوں میں منافقت نظر آتی ہے اور اقلیتوں کے حقوق ادا نہیں کرتے۔

پھر ممبر پارلیمنٹ راج سینی (Raj Saini) نے کہا کہ اسلام کے بارے میں بتایا کہ امن پسند مذہب ہے اور جو مسلمان اس امن کے پیغام کی پیروی نہیں کرتے وہ سچے مسلمان نہیں۔ اس طرح پارلیمنٹ کے ایک ممبر ماجد جواہری ہیں۔ غالباً کسی عرب ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے آج پیغام میں سنا کہ دنیا میں قیام امن کس طرح ہو سکتا ہے؟ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور اس کو ہم نے مل جل کر حل کرنا ہے۔ اور بھی بہت سے چیلنج ہیں جیسے معاشی بحران، دہشتگردی۔ ان سب کے لئے ہمیں سخت محنت اور مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

کرسٹی ڈنکن (Kirsty Duncan) صاحبہ ممبر پارلیمنٹ ہیں اور سائنس کی وزیر بھی ہیں۔ یہ کہتی ہیں کہ ایک بات جو خاص طور پر میرے دل کو لگی وہ یہ(ان سے ویسے بھی باتیں ہوتی رہی تھیں۔ یہ ذاتی تبصرہ انہوں نے کیا) کہ ایک بار جو دوست بن جائے وہ ہمیشہ کے لئے دوست ہو جاتا ہے۔ خطاب میں کئی پہلو بیان کئے مثلاً عدل و انصاف، امن، نوجوان، اقوام متحدہ اور ہم سب کو مل کر انسانیت کی بہتری کے لئے کوشش کرنا۔ کہتی ہیں کہ احمدیہ جماعت میرے لئے ایک مہربان فیملی کی طرح ہے۔

اسی طرح ممبر پارلیمنٹ نکولا ڈی اور یو (Nicola Di Iorio) نے اپنے خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بڑی اچھی تقریر تھی جس میں تمام دنیاوی مسائل کو اختصار کے ساتھ پیش کیا۔ آپ نے مذہب کے پس منظر میں دنیا کے مسائل پر روشنی بھی ڈالی۔ جماعت احمدیہ ایک زبردست جماعت ہے اور مذہبی تنظیموں کے لئے ایک مثال ہے۔ آپ نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ مذہبی معاملات میں برداشت ہونی چاہئے اور یہ کہ جارحیت کا نتیجہ مزید جارحیت ہی ہوتا ہے۔ اگر ہم برداشت جیسی ایک صفت کو ہی اختیار کر لیں تو ہم ایک بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میرا خیال تھا کہ امام جماعت احمدیہ یہاں آئیں گے اور رسمی قسم کی باتیں کر کے چند الفاظ شکر گزاری کے ادا کر کے بیٹھ جائیں گے۔ لیکن جو خطاب ہوا تو کہتے ہیں کہ شاید ہی میں نے اس سے بہتر کوئی ایڈریس سنا ہو۔ انہوں نے تمام مسائل پر روشنی ڈالی جن کا تمام دنیا کو سامنا ہے۔ جیسے آب و ہوا میں تبدیلی، اقتصادی مسائل، خانہ جنگی۔ بنیادی وجہ ناانصافی بھی بیان کیا۔ دور حاضر کے مسائل کے حل بھی بیان کئے۔ اور یہ بھی کہا کہ مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ یہ بھی کہا کہ اسلحے کی خرید و فروخت نہیں ہونی چاہئے جو مغربی ممالک کرتے ہیں۔ کہتے ہیں مجھے اس پروگرام میں شامل ہو کر بیحد خوشی ہوئی کہ کسی امن پہ بات کرنے والے کو سنا۔ کہتے ہیں یہ جس طرح تمام دنیا کو اسلام سے متعارف کرا رہے ہیں یہی اصل طریقہ ہے۔

جرمن سفیر ورنر وینٹ (Werner Wnendt) نے کہا کہ امام جماعت احمدیہ نے مستقبل کی تصویر کشی کی ہے۔ ہم سب بھی ایسا ہی پُرامن مستقبل چاہتے ہیں۔ ان کے خطاب سے ہمیں پتا چلا کہ اسلام پُرامن مذہب ہے اور ہم سب یورپ میں آنے والوں کے ساتھ مل کر رہ سکتے ہیں۔ اس تقریر کا سب سے اہم پیغام یہ تھا کہ ہم سب کو دنیا کی بہتری کے لئے کوشش کرنی ہو گی اور اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ عوام الناس کو انفرادی طور پر اپنی زندگیاں گزارنے کی اجازت ہو۔

یہ بھی مَیں نے کہا تھا کہ حکومتوں کو مذہب کے معاملے میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہئے اور بھی بعض مسائل ہیں حجاب ہے یا مسجدیں ہیں تو اس قسم کی چیزوں کے بارہ میں یورپ میں سوال اٹھتے رہتے ہیں۔ یہ ایسے سوال ہیں جو فتنہ پیدا کریں گے۔

اسی طرح ایک چیف امام اور سکالر محمد جبار جو غالباً کسی عرب ملک سے ہیں۔ وہاں ایک مسجد کے امام ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں ایک سنی امام ہوں اور مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ اس تقریر نے دنیا میں قیام امن کی بنیاد رکھی ہے۔ اس تقریر کی آج دنیا کو اشد ضرورت ہے۔ امام جماعت کی تقریر حکمت سے پُر تھی کیونکہ آپ نے کسی ایک فریق پہ الزام نہیں لگایا بلکہ یہ کہا کہ دنیا کی بے چینی تمام گروہوں کی کمزوریوں کی وجہ سے ہے۔ ہمیں اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو قبول کرنا چاہئے اور پھر بہتری کی طرف قدم اٹھانا چاہئے۔ اس میں آپ نے اس اسلامی تعلیم کی طرف توجہ دلائی کہ کوئی انسان غلطیوں سے پاک نہیں ہے۔ کہتے ہیں بڑا اچھا خطاب تھا اور وہ سب مضمون بیان ہوئے جن کی ضرورت تھی اور قانون ساز لوگوں کو متبادل حل بھی بتائے۔ پھر یہ کہتے ہیں کہ اسلامی نظریے کو نہایت خوبصورت رنگ میں پیش کیا اور بہت سے مشکل پہلوؤں کو اس خوبصورت انداز میں بیان کیا کہ لوگوں کے جذبات کو بھی ٹھیس نہ پہنچے۔

پھر ایک مہمان گارنیٹ جینس (Garnett Genuis) کہتے ہیں کہ پیغام بہت اچھا تھا کہ کس طرح مذہب اور مذہبی رہنما معاشرے میں قیام امن اور عصر حاضر کے مسائل حل کر سکتے ہیں۔ یہ بات بھی اجاگر کی کہ کس طرح اسلحہ کی خرید و فروخت کو کنٹرول کر کے ہم ایک دوسرے کے ساتھ امن سے رہ سکتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ عموماً ہم ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہتے ہیں لیکن امام جماعت نے وضاحت کی کہ کس طرح مغرب اور دوسرے ممالک اپنے اپنے کردار ادا کرتے ہوئے دنیا کی حالت بہتر بنا سکتے ہیں۔ ایک سکھ مہمان نے کہا کہ ایک مغربی پارلیمنٹ میں آ کر کہا کہ دنیا کی بے چینی میں مغربی ممالک کا بھی ہاتھ ہے۔ مثلاً انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ جو اسلحہ مغربی ممالک بیچتے ہیں وہ دہشت گردوں کے ہاتھ میں کیسے پہنچ جاتا ہے۔ اس بات کو بھی واضح کیا کہ جو کینیڈین لوگ دہشتگردی کے لئے جاتے ہیں ان میں سے بیس فیصد خواتین ہوتی ہیں اور وہ آنے والی نسلوں کو بھی اس رنگ میں رنگین کر دیں گی۔ کہتے ہیں کہ میں نے اس بارے میں کبھی نہیں سوچا تھا۔ کہتے ہیں یہ بات بھی مجھے اچھی لگی کہ انہوں نے قرآن کے حوالے سے بھی بات کی کہ ہمیں اپنے عہد اور امانتیں پوری کرنے کی ضرورت ہے اور بڑے خوبصورت انداز میں یہ کہا کہ حکومت بھی ایک امانت ہے اور حکومتی عہدیداران کو اپنے ان عہدوں کو کما حقہٗ ادا کرنا چاہئے۔ پھر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امام جماعت نے یہ بھی کہا کہ مسلمان علماء نے عوام کو گمراہ کیا ہے اور اس وجہ سے فساد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مغربی ممالک کو بھی چیلنج کیا کہ وہ اس بات کے دعویدار ہیں کہ وہ آزادیٔ ضمیر اور آزادیٔ حقوق کو قائم کرتے ہیں۔ اس لئے اب ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ان دعووں پر عمل کر کے دکھائیں اور مذہبی امور میں مداخلت نہ کریں جیسے حجاب پر پابندی یا عبادتگاہوں پر پابندی۔ کہتے ہیں بڑے عمدہ طریقے سے مغرب کو توجہ دلائی۔

یہ چند مثالیں میں نے دی ہیں۔ اس طرح کے بیشمار تبصرے منسٹروں کے بھی اور دوسروں کے بھی تھے۔

اسی طرح پارلیمنٹ ہِل میں جو فنکشن تھا اس کی جو میڈیا کوریج ہوئی۔ ایک تو پہلے خود وزیراعظم صاحب نے اپنے ٹویٹ اکاؤنٹ پر لکھا کہ مجھے آج آٹوا میں جماعت احمدیہ کے خلیفہ مرزا مسرور احمد سے مل کر خوشی ہوئی اور ساتھ انہوں نے تصویر بھی دی اور پھر یہ ٹویٹ چلتی رہی۔ اسی طرح اس سارے فنکشن کی خبر کی اخباروں کے ذریعے سے جو کوریج تھی یہ مختلف ذریعوں سے تقریباً ساڑھے چار ملین افراد تک پہنچی ہے۔

اسی طرح ٹورانٹو میں ایوان طاہر میں ایک پیس سمپوزیم تھا جس میں 614 غیر از جماعت اور غیر مسلم مہمان شامل ہوئے جن میں مختلف علاقوں کے میئرز، کونسلرز، اخبارات کے صحافی، ڈاکٹرز، پروفیسرز، ٹیچرز، وکلاء اور زندگی کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔

presbyterian church کے پادری پیس سمپوزیم سن کے کہتے ہیں کہ آج امام جماعت کے خطاب سے مجھے بڑا اثر ہوا کیونکہ یہ پیغام امن، محبت اور امید کا پیغام تھا جس کا رنگ ونسل، شرق و غرب یا کسی خاص وقت یا جگہ سے تعلق نہیں بلکہ تمام دنیا کے لئے تھا۔ اس خطاب کی اہمیت یہ بھی ہے کہ دنیا میں بہت سی غلط فہمیاں اور خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔ لیکن آج کے پیغام میں یہ بات واضح تھی کہ ہمارے درمیان مشترک چیزیں زیادہ ہیں اور اختلاف کی باتیں کم۔ یہ ایک بہت بڑی خوشخبری ہے جسے لوگوں کو سننے کی ضرورت ہے۔

ایک مہمان گریگ کینیڈی (Greg Kennedy) جن کی بہن نے حال ہی میں اسلام قبول کیا ہے، کہتے ہیں کہ میں آج اپنی بہن کے ساتھ آیا ہوں کیونکہ اس نے ماضی قریب میں اسلام قبول کیا ہے اور ہم دیکھنا چاہتے تھے کہ جماعت احمدیہ کی کیا تعلیمات ہیں اور امام جماعت کا پیغام سن کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ میری بہن اتنی محبت کرنے والے اور ساتھ دینے والے اور لوگوں کی خدمت کرنے والے لوگوں میں شامل ہوئی ہے۔ جو باتیں میں نے آج سیکھی ہیں میں ان سے بہت خوش ہوں۔ اس پِیس سمپوزیم میں بھی میں نے امن کے ساتھ جماعت کی دنیا میں جو خدمات ہیں ان کا بھی ذکر کیا تھا۔

اسی طرح ایک محمد الحلاواجی (Muhammad al halawaji) صاحب جو پارلیمنٹ میں تھے اور نائل ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ آج کا پیغام نہایت واضح تھا کہ ہم سب کو محبت کے ساتھ رہنا چاہئے اور ہمیں کسی سے نفرت کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے سے نفرت کرتے رہیں گے تو امن قائم نہیں ہو سکتا۔ کہتے ہیں کہ جب میں نے پارلیمنٹ میں امام جماعت کا خطاب سنا تو مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ پارلیمنٹ میں اس طریق پر کوئی مسلمان رہنما اس طرح خطاب کر سکتا ہے۔ خوف کی کوئی جھلک نظر نہیں آئی اور نہایت نڈر طریق پر اپنی تقریر کی اور لوگوں کو یقین ہو گیا کہ یہی اسلام کا صحیح اور سچا پیغام ہے۔ جو جنگیں ہو رہی ہیں ان کے پیچھے کچھ لوگ ہیں جو اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اور پھر کہتے ہیں آج کے خطاب میں بھی ’’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں‘‘ کے حوالے سے بات کی اور یہی ہمارا لائحہ عمل ہونا چاہئے اور یہی سچ ہے۔

پھر زمیتا (Zumita) کمیٹی کے ممبر ابو یوسف صاحب ہیں۔ کہتے ہیں آج جو میں نے سنا اور دیکھا اس سے میں بہت متأثر ہوا۔ امام جماعت نے اپنے خطاب میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی مثالیں پیش کیں اور ہمیں توجہ دلائی کہ ہمیں ان پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ امام جماعت احمدیہ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ سے یہ بھی ثابت کیا کہ انہوں نے جبراً کبھی بھی کسی کو اسلام میں داخل نہیں کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح تمام انسانیت کی خدمت کی۔ قرآن کریم کے حوالے سے بھی اسلامی تعلیم پر روشنی ڈالی جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے۔ لَااِکْرَاہَ فِی الدِّیْن۔ اور کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائی، یہودی، ہندو یا کسی بھی مذہب کے ماننے والے کو ان کے حقوق دئیے اور توجہ دلائی کہ بحیثیت انسان ہم سب ایک ہیں۔ پھر تیسرا فنکشن یارک یونیورسٹی میں ہوا۔ اور اس یارک یونیورسٹی کا شمار کینیڈا کی بڑی یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔ اس میں گیارہ فیکلٹیز ہیں اور اس کا جو مین کیمپس ہے اس میں ترپّن (53) ہزار سے زائد طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس یونیورسٹی میں اساتذہ کی تعداد سات ہزار کے قریب ہے۔ اس یونیورسٹی سے اب تک تین لاکھ کے قریب طلباء تعلیم سے فارغ ہو چکے ہیں۔ مَیں نے چانسلر سے پوچھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کینیڈا کی تیسری بڑی یونیورسٹی ہے۔

اس تقریب میں ایک دوست شامل ہوئے کیٹ کورئیر (Cat Courier) صاحب جو یونیورسٹی آف ٹورانٹو کے Indigenous ایلڈر ممبر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آج کا دن ایک تحفہ تھا۔ ایسی باتیں سن کر بہت لطف آیا کہ ہم سب مل کر دنیا کے امن کے لئے کام کر رہے ہیں جو پرانے مقامی لوگ ہیں ان لوگوں کے بھی حقوق مارے گئے ہیں۔ کم از کم یہ ان کا خیال ہے کہ حکومت کو جو ہمارے ساتھ کرنا چاہئے تھا، ان کا وہ حق ادا نہیں ہو رہا۔ تو کہتے ہیں کہ جو بات مجھے خاص طور پر پسند آئی وہ یہ تھی کہ امام جماعت احمدیہ نے جو کچھ بھی کہا وہ دل کی گہرائی سے کہا۔ جب کوئی سچائی کی باتیں دل سے کرتا ہے تو ہمیشہ یادگار رہتی ہیں۔ وہ دنیا کی دوسری طرف سے آ کر وہی پیغام پیش کر رہے ہیں جسے ہم پسند کرتے ہیں۔ اور پھر اسی طرح ایک طالبہ شیرل کریس (Sheryl Cress) جو تھیں۔ یہ کہتی ہے کہ بہت اچھا موقع تھا جس میں ہم سب کو اسلام کی بعض حقیقی تعلیمات کا پتا لگا۔ اب مجھے اسلام کا کچھ علم حاصل ہو گیا ہے۔ اب میں صرف گمان پر نہیں چل رہی بلکہ امام جماعت نے امن کے حوالے سے خوب اچھی باتیں کی ہیں۔ یہ باتیں خاص طور پر تعریف کے لائق ہیں کہ امام جماعت نے سمجھایا کہ ہم میں بہت ساری باتیں تعلیمات کے حوالے سے ملتی جلتی ہیں اور یہ مجھے بہت اچھا لگا کہ ہماری اور آپ کی یعنی جماعت کی بنیادی اقدار ایک ہی ہیں۔ ایک دوسری یونیورسٹی کے جرنلزم ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر نے اپنے سارے سٹوڈنٹ وہاں لیکچر سننے کے لئے بھیجے ہوئے تھے۔ ایک خاتون صحافی یوسر البارانی (Yousar Albrani) کہتی ہیں کہ یہ بات مجھے بہت پسند آئی کہ امام جماعت نے آپس میں صلح کے ساتھ رہنے کے بارے میں بتایا۔ ایک جرنلسٹ ہونے کے لحاظ سے میں اکثر امن اور عورتوں کے حقوق کے بارے میں لکھتی ہوں۔ لیکن جب ایک مذہبی لیڈر اس بارے میں بات کرے تو وہ ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔ امام جماعت نے بڑی وضاحت سے اسلامی دنیا کے مسائل کو بیان کیا کہ ان کے پیچھے دوسری حکومتوں کا ہاتھ ہے۔ یہ سن کر بہت اچھا لگا کہ امام جماعت جب دنیا کے حالات کے بارے میں پڑھتے ہیں تو انہیں دکھ ہوتا ہے۔

پھر ایک پادری صاحب کہتے ہیں کہ جو باتیں قرآن کریم سے پیش کیں وہ نہایت آسان زبان میں سمجھ آگئیں اور یہ بات خاص طور پر مجھے پسند آئی کہ دنیامیں جو مختلف جنگیں ہو رہی ہیں وہ کسی خاص طاقت کی مدد یا اس کی سرپرستی میں ہو رہی ہیں اور اگر بڑی حکومتیں امداد کرنا چھوڑ دیں تو یہ سب کچھ ختم ہو سکتا ہے۔

پھر ہم سسکاٹون (Saskatchewan) گئے تھے۔ وہاں بھی کچھ پریس کانفرنسیں ہوئیں۔ جماعتی پروگرام بھی تھے۔ غیروں کے ساتھ پروگرام تو نہیں تھا لیکن وہاں بھی مختلف ریڈیو اور پریس کے ذریعہ سے مجموعی طور پر تقریباً 1.78 ملین لوگوں تک پیغام پہنچا۔

پھر مسجد محمود رجائنا کا افتتاح تھا۔ وہاں بھی جمعہ کے بعد شام کو مسجد کے حوالے سے ہی ایک ہوٹل میں ریسیپشن تھی جس میں دو سو مہمان شامل ہوئے۔ اس میں سسکاٹون (Saskatchewan) صوبہ کے وزیراعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ، رجائنا سٹی کے میئر، منسٹر برائے پبلک سیفٹی، اپوزیشن کے ڈپٹی ہاؤس لیڈر، قریبی شہروں کے موجودہ اور سابق میئرز، یونیورسٹی آف سسکا ٹون کے صدر اور نائب صدر، یونیورسٹی آف رجائنا کے ریلیجس سٹڈیز کے ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ، پروفیسرز، پادری، پولیس چیف اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مہمان شامل ہوئے۔

مذاہب عالم کے ایک پروفیسر صاحب رجائنا کی مسجد کے افتتاح کے موقع پر ایڈریس سننے کے بعد کہتے ہیں کہ نہایت پُرمعارف اور دلکش خطاب تھا۔ ان تمام خطابات میں سے نمایاں تھا جو میں نے مذاہب عالم کے پروفیسر کے طور پر سنے ہیں۔ امام جماعت کی جو بات مجھے بہت اچھی لگی وہ آپ کا واضح اور قابل عمل پیغام تھا کہ اگر دنیا میں سب امن چاہتے ہیں تو یہ ان غریبوں کو نظر انداز کر کے نہیں حاصل ہو سکتا جو تکالیف میں مبتلا ہیں۔ میرے خیال میں یہ پیغام بہت ہی واضح تھا۔ پھر کہتے ہیں کہ میرے خیال میں موجودہ حالات کے پیش نظر جبکہ دنیا کے مسائل کے اسلامی حل پر لوگ کچھ غلط فہمیوں میں الجھے ہوئے ہیں، ان کا پیغام بہت ضروری ہے یعنی جو مَیں نے کہا۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے ان خدشات کو دور کرنے کا ذمہ لیا اور ان کا پیغام ہمارے اس ملٹی کلچرل اور ملٹی ریلیجس سوسائٹی میں باہمی تعاون، اتفاق اور احترام کو ترویج دینے کے لئے بہت اہم تھا۔

پھر لیجسلیٹو اسمبلی سسکاٹون (Saskatchewan)کے ممبر پال میری مین (Paul Merryman) ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سیاسی اور دنیاوی فنکشنز مختلف ہوتے ہیں۔ وہاں پر لوگ زور لگا کر اپنے خیالات کو ظاہر کرتے ہیں اور لوگوں پر اثر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن امام جماعت احمدیہ میں کوئی ایسی بات نظر نہیں آئی۔ مجھے لگا کہ وہ بہت ہی محبت سے اپنی طرف بلا رہے ہیں اور سب سے محبت کرنے کے لئے تیار اور مستعد ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مذہب اور روحانیت اصل میں اسی بات کا نام ہے یعنی اپنے ہمسایوں سے محبت کرنا اور دوسروں کی مدد کرنا۔ (ہمسایوں سے سلوک کی جو اسلامی تعلیم ہے اس کا بھی مَیں نے وہاں ذکر کیا تھا اس کی طرف ان کا اشارہ ہے۔) پھر کہتے ہیں کہ نہایت ضروری ہے کہ ایک ایسی جماعت مسجد بنائے جو اسلام کی حقیقی تعلیم کو پھیلانے والی ہو کیونکہ سسکاٹون(Saskatchewan) کے تمام لوگ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہیں اور سب کو ایک دوسرے سے احترام اور رواداری کا سلوک اختیار کرنا چاہئے۔

پھر سسکاٹون (Saskatchewan) کے لیڈر آف اپوزیشن Trent Weatherspoon کہتے ہیں کہ آج ایک خوبصورت اجتماع تھا۔ امام جماعت احمدیہ کا پیغام طاقتور اور ضروری پیغام تھا جس نے ہمارے مذاہب میں قدر مشترک باتوں کی نشاندہی کی۔ ہمیں بتایا کہ کینیڈا کے احمدی انسانیت کو ترجیح دینے کے عقیدے کو فوقیت دیتے ہیں۔ امام جماعت احمدیہ کا پیغام کہ ہم دوسروں کے لئے وہی پسند کریں جو ہم اپنے لئے پسند کرتے ہیں ہم سب کے لئے اہم ہے۔ پھر یہ کہتے ہیں کہ پیغام یہ تھا کہ باہمی رواداری اور امن قائم ہو۔ امام جماعت نے ان اقدار کی نشاندہی کی جس پر ہم سب کو چلنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ یہ اقدار نہ صرف ہمارے شہر رجائنا یا ہمارے صوبے سسکاٹون (Saskatchewan) کو مضبوط کرنے کے لئے بلکہ ہمارے ملک اور ہماری دنیا کو مضبوط کرنے کے لئے ہیں۔ پھر رجائنا میں رجائنا کی مسجد کے افتتاح کے بعد جو میڈیا کوریج ہوئی، اس میں مختلف ٹی وی اور اخباروں کے ساتھ پریس کانفرنس بھی ہوئی اور انفرادی انٹرویو بھی ہوئے اور ٹی وی، ریڈیو، اخبارات اور پریس کے، مختلف میڈیا کے تقریباً چھ سات لوگ تھے۔ اس طرح رجائنا کی اس مسجد کے افتتاح کی وجہ سے اور پریس کانفرنس کے نتیجہ میں جو خبریں آئیں ان سے تقریباً 1.97 ملین لوگوں تک اسلام کا پیغام پہنچا۔

اسی طرح وہاں رجائنا کے بعد لائڈ منسٹر ’’مسجد بیت الامان‘‘ کا افتتاح ہوا۔ وہ چھوٹی سی جگہ ہے اور زیادہ تر تیل کا کاروبار کرنے والے لوگ وہاں جاتے ہیں۔ 49 غیر از جماعت مہمانوں نے شرکت کی جس میں سسکاٹون (Saskatchewan) کی legislative assemblyکے ممبر اور سابق ممبران پارلیمنٹ، نئے منتخب شدہ میئر، قریبی علاقوں کے میئرز، ڈپٹی میئرز، کونسلر، پروفیسرز، ٹیچرز، صحافی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔

سابق منسٹر برائے امیگریشن اینڈ ڈیفینس Jason Kenney ان کے ہمارے پرانے تعلقات ہیں۔ جماعت سے اور مجھ سے بھی ذاتی طور پر ان کا کافی تعلق ہے۔ وہ بھی وہاں آئے ہوئے تھے اور کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ ایک چھوٹی جماعت ہے لیکن بہت بڑھ چڑھ کر کام کرتی ہے اور اسلام کا روشن چہرہ دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہے۔ اس وقت جو دنیا کے حالات ہیں اور انتہا پسندی کے بارے میں غلط تصورات ہیں کہ اسلام انتہا پسندی کی اجازت دیتا ہے ایسی صورتحال میں جماعت احمدیہ ایک اکسیر کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ وہ اسلام ہے جو کینیڈا کی تہذیب کے عین مطابق ہے اور امن کا ضامن ہے۔ اور کہتے ہیں میرے خیال میں مسجد کا افتتاح اور امام جماعت احمدیہ کا دورہ اس پورے علاقے کے لئے علم میں اضافے کا باعث ہو گا اور لوگوں کے سامنے اسلام کا خوبصورت چہرہ پیش کیا جائے گا۔ پھر کہتے ہیں کہ آج کے خطاب میں امام جماعت احمدیہ نے ان تمام منفی تصورات کا جواب دیا جو لوگوں کے دلوں میں اسلام اور مسجدکے بارے میں آ سکتے ہیں۔ مسجد کا افتتاح ایک نہایت مثبت قدم ہے اور ہماری مذہبی آزادی کی اقدار کے عین مطابق ہے۔

میں نے یہ بتایا ہے کہ ان کا تعلق ہے۔ لاہور میں دارالذکر اور ماڈل ٹاؤن کی جو شہادتیں ہوئی تھیں اس وقت یہ منسٹر تھے۔ سب سے پہلے ان کا مجھے تعزیت کا فون آیا تھا اور اس کے بعد انہوں نے یہ بھی وعدہ کیا کہ ہم شہداء کی فیملیوں کو کینیڈا میں آباد کرنے کی کوشش کریں گے اور اس لحاظ سے انہوں نے وعدہ پورا بھی کر دیا۔ اللہ کے فضل سے تقریباً تمام شہداء کی فیملیاں وہاں جا چکی ہیں۔ تقریب میں شامل ایک مہمان جان گورملے (John Gormley) جو ریڈیو پر ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔ کہتے ہیں کہ مسجد کے کردار کے حوالے سے بہت سے اہم نکات پیش کئے ہیں۔ پھر میرے حوالے سے بات کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ مسجد صرف عبادت ہی کے لئے نہیں ہے بلکہ ہیومینٹی کے جمع ہونے کی بھی جگہ ہے اور جماعت احمدیہ اس حوالے سے بہت کام کر رہی ہے۔ جب بھی کوئی دہشتگردی کا واقعہ ہوتا ہے تو جماعت احمدیہ ہی سب سے پہلے آپس کے تعلقات بڑھانے اور مختلف مذاہب کو اکٹھا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ پھر یہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ پیغام بھی دیا کہ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ یہ اسلام کی تعلیم ہے۔ جماعت احمدیہ کے لوگ پوری طرح معاشرے کا حصہ ہیں اور جہاں کہیں بھی آباد ہیں وہاں بھرپور طور پر لوگوں میں گھل مل گئے ہیں۔ جہاں بھی جماعت کے لوگ ہیں وہ وہاں کی کمیونٹی کو مضبوط کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ پھر اس کے بعد کیلگری بڑا شہر ہے وہاں جماعت بھی بڑی ہے اور ہماری مسجد بھی بہت بڑی اور خوبصورت ہے۔ وہاں 11نومبر کو جمعہ کے بعد پِیس سمپوزیم تھا۔ اس میں تقریباً 644 مہمانوں نے شرکت کی اور ان مہمانوں میں کینیڈا کے سابق وزیر اعظم بھی شامل ہوئے جو ابھی چند مہینے پہلے وزارت عظمیٰ سے ہٹے ہیں اور نئے وزیراعظم آئے ہیں۔ البرٹا کے منسٹر برائے ہیومن سروسز شامل ہوئے۔ کیلگری کے سابق اور موجودہ میئر شامل ہوئے۔ سابق وزیر Jason Kenney جن کا پہلے ذکر ہو چکا ہے وہ بھی وہاں آئے۔ یونیورسٹی آف کیلگری کے ڈین اور وائس چانسلر بھی آئے۔ بعض قریبی علاقوں کے میئرز اور ڈپٹی میئرز بھی آئے۔ ریڈ ڈیئر (Red Dear) کالج کے پریذیڈنٹ، legislative assembly کے ممبران اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہوئے اور چھ سو سے اوپر کی حاضری تھی۔ پڑھے لکھے لوگوں کی اچھی gathering تھی۔

کینیڈا کے سابق وزیر اعظم سٹیفن ہارپر (Stephen Harper) نے یہاں اپنے خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے امام جماعت احمدیہ کو متعدد مقامات پر خطاب کرتے ہوئے سنا ہے اور انہوں نے ہمیشہ اسلام کا پُر امن پیغام دنیا تک پہنچایا ہے اور پھر خطاب کے بعد اپنا تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آج شام بھی یہی کیا۔ یہ ایک عظیم الشان پیغام ہے جو اُن کی جماعت کے تمام ممبران کا عکس بھی ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ میرے خیال میں امام جماعت کے ریمارکس بہت ہی ضروری اور اہم ہیں اور ہر ایک کو ان کو سننے کی ضرورت ہے کیونکہ آج کے دور میں انتہا پسند عناصر اسلام کو بدنام کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور عام لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ یہی اصل اسلام ہے۔ اور پھر کہتے ہیں خلیفۃ المسیح نے یہ کہا کہ اسلام کا مطلب ہی امن ہے۔ اسلام کا مطلب اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق سے محبت ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ امام جماعت نے تمام مسائل پر اور دنیا کے دیگر مسائل، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے موضوع پر نہایت پر حکمت روشنی ڈالی۔ پھر یہ کہتے ہیں یہ بہت ہی مشکل امر تھا لیکن انہوں نے بڑی دانشمندی کے ساتھ اس پر بحث کی۔ مَیں تمام لوگوں کو اس بات کی تلقین کروں گا کہ اگر انہوں نے امام جماعت کا خطاب نہیں سنا تو وہ ضرور اسے سنیں۔ اسی طرح ناہیدنینشی (Naheed Nenshi) صاحب جو کیلگری کے میئر ہیں، کہتے ہیں کہ بڑا اچھا خطاب تھا۔ بڑی جرأت کے ساتھ اسلام کی پرامن تعلیم کو پیش کیا اور کہا کہ اسلام میں کسی بھی قسم کی شدت پسندی کی گنجائش نہیں۔ مسلمانوں کی نمائندگی میں ایسی بات سننا خوش آئند ہے۔ وہاں کے یہ میئر آغا خانی ہیں۔ پھر یونیورسٹی آف کیلگری کے ایک پروفیسر اپنی اہلیہ کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔ کہتے ہیں کہ یہ پیغام امن کا پیغام تھا جو بہت ضروری ہے۔ ہم بنیادی طور پر ڈچ ہیں اور ہمارے ہاں کہاوت ہے کہ unknown is unloved۔ یعنی جس چیز کا علم ہی نہیں اس سے محبت کیسے ہو سکتی ہے؟ یہی حال اسلام کا ہے جب اسلام کی حقیقت کا پتا چلتا ہے تو اچھا لگنے لگتا ہے۔ ہمیں آج امام جماعت کو سننے کا موقع ملا ہے۔ آج سے اسلام کو ہم بہتر سمجھیں گے اور اسلام سے پہلے سے زیادہ محبت کریں گے۔

پھر لیڈر آف دی البرٹا پارٹی اور کیلگری ایلبو (Elbow) کی legislative assembly کے ممبر گرین کلارک (Gren Clark) نے کہا کہ بڑا متاثر کرنے والا پیغام تھا۔ بروقت اور دنیا کے موجودہ حالات کے مطابق تھا۔ کیلگری اور کینیڈا کے لوگوں کو پتا چلا ہے کہ اسلام ایک پُرامن مذہب ہے۔ یہ بات ہمیں دوسروں تک بھی پہنچانی چاہئے کہ اسلام ایک پُرامن مذہب ہے اور حقیقت یہی ہے۔

پھر برائن لٹل شیف (Bryan Little Chief) اپنے تأثر کا اظہار کرتے ہیں کہ امام جماعت نے امن کے قیام پر اپنے خطاب کو مرکوز رکھا۔ یہ بہت ہی اچھا انداز تھا۔ میں اسلام کے بارے میں بہت کم جانتا تھا۔ ڈرتا تھا اور میڈیا میں منفی کوریج کی وجہ سے مخمصے کا شکار تھا۔ میں سوچا کرتا تھا کہ کیا قرآن واقعی فساد کی تعلیم دیتا ہے۔ آج بالآخر مجھے اپنے سوالات کا جواب مل گیا ہے۔ امام جماعت نے قرآن کریم کے حوالے پیش کئے اور ثابت کیا ہے کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ پہلے میں جب بھی سفر کے دوران کسی مشرق وسطی سے تعلق رکھنے والے فرد سے ملتا تو ڈرتا تھا کہ وہ دہشتگرد حملہ نہ کر دے لیکن آج مجھے معلوم ہوا ہے کہ اسلامی تعلیم سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ امام جماعت نے جو پیغام دیا ہے ہمیں اس پیغام کی بہت ضرورت ہے کیونکہ دنیا میں بہت فساد پیدا ہو چکا ہے اور امام جماعت احمدیہ نے سب کو بتایا کہ ہمیں نفرت کا مقابلہ ہمدردی اور پیار سے کرنا ہے۔

پھر کیلے (Kelly) صاحبہ ایک خاتون ہیں کہتی ہیں کہ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ کس قدر اہم پروگرام میں شرکت کرنے جا رہی ہوں۔ کہتی ہیں میں تو صرف اپنے ایک دوست کو خوش کرنے آئی تھی جس نے مجھے دعوت دی تھی کہ ضرور شامل ہونا۔ یہ بھی بڑی پڑھی لکھی خاتون ہیں۔ لیکن میں بہت ہی خوش ہوں کہ میں آ گئی۔ میں نے کبھی ایسا پروگرام نہیں دیکھا جس میں ہر طرف مثبت سوچ ہو۔ جماعت احمدیہ کے امام کا پیغام بہت ہی اعلیٰ ہے۔ مجھ جیسے کم علم کو بھی یہ بات اچھی طرح سمجھ آ گئی کہ اسلام ایسا مذہب ہے کہ ہر قوم، نسل اور مذہب کو خوش آمدید کہتا ہے۔ چنانچہ ہمیں ہرگز اسلام سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ ضرورت ہے تو اس بات کی کہ ہم مسلمانوں کو بہتر طور پر جاننے کی کوشش کریں۔ پھر کہتی ہیں کہ غیر مسلم سکالرز کے جو حوالہ جات پیش کئے گئے۔ (یہاں میں نے کچھ اور ئینٹلسٹس (Orientlists) کے، سٹینلے پول (Stanley Pool) وغیرہ کے حوالے پیش کئے تھے) جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تھے کہ آپ نے کس طرح امن قائم کیا اور کس طرح اس وقت برداشت تھی۔ اس کے حوالے سے یہ بات کر رہی ہیں کہ غیر مسلم سکالرز کے جو حوالے پیش کئے گئے وہ مجھے بہت اچھے لگے ہیں۔ کس طرح انہوں نے اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے اسلام کے پیغمبر کو امن پسند ثابت کیا ہے۔

صرف واقفیت کی وجہ سے ایک فنکشن پر تو یہ لے آئے لیکن احمدیوں کو بھی چاہئے کہ جن سے واقفیت ہے ان کو اسلام کی خوبصورت تعلیم کے بارے میں بھی بتایا کریں اور اسی طرح پھر آہستہ آہستہ باتوں سے ہی تبلیغ کے راستے کھلتے ہیں۔ یہ نہیں کہ عام دنیاوی باتیں ہوتی جائیں اور اسلام کے بارے میں کچھ پتا نہ ہو۔ اب یہ پرانی دوست تھی جس کو یہ خیال تو آیا کہ اپنے دوست کی خاطر فنکشن میں شامل ہوں لیکن جو احمدی دوست تھی اس نے اس کو اسلام کے بارے میں کبھی بتایا نہیں ہوا تھا۔ اس بارے میں ہمارے نوجوان لڑکوں، لڑکیوں کو توجہ دینی چاہئے۔

کیلگری پولیس کے ایک آفیسر باب رچی (Bob Richie) کہتے ہیں کہ نہایت دلچسپ خطاب تھا۔ امام جماعت نے بتایا کہ اسلام کس طرح ملٹی کلچر ازم کو فروغ دیتا ہے۔ کہتے ہیں ہماری سوسائٹی میں اس چیز کی بہت ضرورت ہے اور امام جماعت تمام لوگوں کو یکجا کر رہے ہیں اور بین المذاہب ڈائیلاگ کو فروغ دے رہے ہیں۔ امام جماعت کی باتیں میرے دل کو جا کر لگی ہیں – بالخصوص جب انہوں نے عالمی تعلقات کے حوالے سے بات کی اور بتایا کہ ان مسائل کا کیسے حل نکل سکتا ہے اور انہوں نے قرآن کریم کے حوالے دے کر ثابت کیا کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور مسلمانوں کو ہر حال میں صلح کی طرف ہاتھ بڑھانے کی تعلیم دی گئی ہے خواہ دوسرے فریق کی نیت خراب کیوں نہ ہو۔

ایک مہمان انیلہ لی یوان (Anila Lee Yeun) صاحبہ کہتی ہیں کہ مجھے بہت اچھا لگا کہ امام جماعت نے کینیڈا کے سابق وزیراعظم کے سامنے مغربی دنیا کو بتایا کہ انہیں انصاف کرنا چاہئے اور دنیا کے مسائل میں اپنے کردار پر غور کرنا چاہئے۔ امام جماعت نے بالکل درست کہا کہ دنیا کے مسائل کا ذمہ دار کسی ایک فریق کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

کینیڈا کی Indigenous community جو ہے۔ وہاں کے جو پرانے مقامی لوگ ہیں اپنے اپنے قبیلوں میں رہتے ہیں، اکثر شہروں میں بھی آتے ہیں لیکن بہرحال یہ فرسٹ نیشن کہلاتی ہے اور مقامی ہیں۔ ان میں ایک لی کرو شیلڈ (Lee Crowchild) کہتے ہیں مجھے بہت اچھا لگا کہ امام جماعت نے نہایت ایمانداری اور جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلام پر لگائے جانے والے اعتراض کہ اسلام دہشتگردی کی تعلیم دیتا ہے کا مقابلہ کیا۔ مجھے یہ بھی بہت اچھا لگا کہ امام جماعت نے اسلامی صحیفے سے یعنی قرآن شریف سے حوالہ جات دے کر ثابت کیا کہ ایسے اعتراضات غلط ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ امام جماعت نے جس طرح مغربی ممالک کو کہا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں ہتھیار مہیا کر رہے ہیں وہ بھی بالکل سچ ہے۔ امام جماعت نے اسلامی جنگوں کی حکمت بیان کرتے ہوئے ایک فقرہ کہا کہ to stop hand of oppressor۔ کہتے ہیں یہ فقرہ مجھے بہت پسند آیا۔ مَیں اسے ہمیشہ یاد رکھوں گا۔ یعنی اسلامی جنگیں اس لئے لڑی گئیں کہ to stop hand of oppressor۔ کہتے ہیں میں جانتا ہوں کہ آپ کے خلیفہ ظلم اور تشدد کا مطلب بڑی اچھی طرح سمجھتے ہیں اس لئے میں نے محسوس کیا کہ خلیفہ ہماری تکلیف کو بڑی اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ ان کے مختلف قبیلے ہیں۔ ان کے بھی دس لیڈر وہاں آئے ہوئے تھے ان سے بھی ملاقات ہوئی اور یہاں بھی ہم تبلیغ کے پروگرام بنائیں گے۔ انشاء اللہ۔ رستے بھی کھلیں گے۔

کیلگری میں ٹی وی، ریڈیو کے مختلف نیوز چینل اور میڈیا کے ذریعہ سے جو کوریج ہوئی ہے اس میں آٹھ دس چینلز نے اور اخباروں نے خبریں دیں جن میں نیشنل لیول کے بڑے بڑے اخبار بھی تھے۔ اس طرح کیلگری میں جو انٹرویو اور پریس کانفرنس وغیرہ ہوئی ہیں اس کے ذریعہ سے مجموعی طورپر پانچ ملین لوگوں تک پیغام پہنچا ہے۔

کینیڈا کے دورے کے دوران جو مجموعی طور پر میڈیا کی کوریج ہوئی ہے اس میں 32 ٹی وی چینلز نے پانچ زبانوں میں خبریں نشر کیں جن کے ذریعہ چالیس ملین افراد تک پیغام پہنچا۔ مجموعی طور پر چھ زبانوں میں مختلف ریڈیو سٹیشنز پر تیس خبریں نشر ہوئیں اور ان کے ذریعہ سے آٹھ لاکھ لوگوں تک پیغام پہنچا۔

مجموعی طور پر 227 اخبارات میں بارہ مختلف زبانوں میں خبریں اور انٹرویو شائع ہوئے جن کے ذریعہ سے 4.8 ملین افراد تک پیغام پہنچا۔

سوشل میڈیا جو دوسرا میڈیا ہے اس میں الیکٹرانک میڈیا وغیرہ کے ذریعہ 14.6 ملین افراد تک پیغام پہنچا۔ اس طرح وہاں لوگوں کا اندازہ ہے کہ تمام ذرائع اگر ملا لئے جائیں تو مجموعی طور پر ساٹھ ملین سے زائد افراد تک پیغام پہنچا ہے۔ الحمد للہ۔

پس یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ اس فضل کی ہمیں قدر بھی کرنی چاہئے اور اسے سنبھالنا بھی چاہئے اور خاص طور پر کینیڈا کے احمدیوں کو اس طرف توجہ دینی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل مزید بڑھیں۔ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارے ہر کام میں احمدیت اور حقیقی اسلام کا پیغام پہنچانے کی نیت ہونی چاہئے۔ توحید کو دنیا میں قائم کرنے کی نیت ہونی چاہئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کو دنیا میں لہرانے کی نیت ہونی چاہئے۔ اگر یہ ہو گا تو اللہ تعالیٰ ہمارے کاموں میں برکت بھی عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق بھی عطا فرمائے۔

اب میں پِیس ویلیج (Peace Village) والے اور ابوڈ آف پیس (Abode of Peace) کے رہنے والے جو احمدی ہیں، وہاں کی زیادہ تر اکثریت تقریباً ننانوے فیصد آبادیاں، شاید زیادہ ہی ہوں، احمدی ہیں۔ ان احمدیوں کو بھی مَیں کہتا ہوں کہ وہاں اپنا احمدی ماحول پیدا کریں اور قائم کریں اور زیادہ سے زیادہ کوشش کریں کہ صحیح اسلام کا نمونہ آپ قائم کرنے و الے ہوں اور خلافت کے ساتھ جس طرح محبت اور اخلاص کا اظہار وہاں میری موجودگی میں کرتے رہے بعد میں بھی اس میں اضافہ کرنے والے ہوں اور بڑھتے چلے جائیں اور اپنے اصل مقصد کو نہ بھولیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا ہے اور اس کی عبادت میں ہمیں کبھی سست نہیں ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ان کو بھی، آپ کو بھی، مجھے بھی، سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 18؍ نومبر 2016ء شہ سرخیاں

    گزشتہ دنوں مَیں کینیڈا کے دورے پر تھا۔ تقریباً چھ ہفتے کا پروگرام تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ دورہ ہر لحاظ سے، جماعتی پروگراموں کے لحاظ سے بھی اور غیروں کے ساتھ پروگراموں کے لحاظ سے بھی بابرکت رہا۔

    اللہ تعالیٰ کے فضل سے کینیڈا کی جماعت بھی دنیا کی بہت سی دوسری جماعتوں کی طرح اخلاص و وفا میں آگے قدم بڑھانے والی جماعتوں میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے نوجوان لڑکے بھی اور لڑکیاں بھی جماعتی کاموں کے لئے آگے بڑھنے کی روح لئے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر پریس اور میڈیا کے حوالے سے نوجوانوں نے بہت کام کیا ہے۔ وسیع پیمانے پر تعارف کی کوشش کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی ان کوششوں کو پھل بھی لگایا۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ خالصۃً اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا ہے۔ ان لوگوں نے تو انگلی لگائی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس میں بے انتہا برکت ڈالی۔ بلکہ یہ کام کرنے والے لڑکے خود اعتراف کرتے ہیں کہ ہماری توقعات سے بہت بڑھ کر ہمیں رسپانس ملی ہے۔

    اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں تین نئی مساجد بنائی ہیں لیکن دو کا ایسا فنکشن تھا جس میں غیروں کو بلایا گیا تھا۔ پارلیمنٹ میں بھی ایک فنکشن ہوا۔ York یونیورسٹی میں بھی خطاب ہوا۔ ٹورانٹو میں پِیس سمپوزیم ہوا۔ کیلگری میں پِیس سمپوزیم ہوا جن میں غیروں کے سامنے اسلامی تعلیمات پیش کرنے کا موقع ملا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر جگہ لوگوں نے اسلامی تعلیمات کی خوبصورتی کا اعتراف کیا۔

    ٹورانٹو میں تین انٹرویوز ہوئے۔ جن میں ایک گلوبل نیوز ٹورانٹو کا تھا۔ دوسرا انٹرویو CBC کا تھا جو وہاں کا نیشنل نیوز چینل ہے۔ اسی طرح گلوب اینڈ میل ایک نیشنل اخبار کا انٹرویو ہے۔

    پارلیمنٹ ہِل اور دیگر مختلف پروگراموں کی کسی قدر تفصیل اور ان میں شامل ہونے والے معزز مہمانوں کے تأثرات کا دلچسپ اور روح پرور تذکرہ۔

    کینیڈا کے دورے کے دوران جو مجموعی طور پر میڈیا کی کوریج ہوئی ہے اس میں 32 ٹی وی چینلز نے پانچ زبانوں میں خبریں نشر کیں جن کے ذریعہ چالیس ملین افراد تک پیغام پہنچا۔ مجموعی طور پر چھ زبانوں میں مختلف ریڈیو سٹیشنز پر تیس خبریں نشر ہوئیں اور ان کے ذریعہ سے آٹھ لاکھ لوگوں تک پیغام پہنچا۔ مجموعی طور پر 227 اخبارات میں بارہ مختلف زبانوں میں خبریں اور انٹرویو شائع ہوئے جن کے ذریعہ سے 4.8 ملین افراد تک پیغام پہنچا۔ سوشل میڈیا جو دوسرا میڈیا ہے اس میں الیکٹرانک میڈیا وغیرہ کے ذریعہ 14.6 ملین افراد تک پیغام پہنچا۔ اس طرح وہاں لوگوں کا اندازہ ہے کہ تمام ذرائع اگر ملا لئے جائیں تو مجموعی طور پر ساٹھ ملین سے زائد افراد تک پیغام پہنچا ہے۔ الحمدللہ۔

    پس یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ اس فضل کی ہمیں قدر بھی کرنی چاہئے اور اسے سنبھالنا بھی چاہئے اور خاص طور پر کینیڈا کے احمدیوں کو اس طرف توجہ دینی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل مزید بڑھیں۔ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارے ہر کام میں احمدیت اور حقیقی اسلام کا پیغام پہنچانے کی نیت ہونی چاہئے۔ توحید کو دنیا میں قائم کرنے کی نیت ہونی چاہئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کو دنیا میں لہرانے کی نیت ہونی چاہئے۔ اگر یہ ہو گا تو اللہ تعالیٰ ہمارے کاموں میں برکت بھی عطا فرمائے گا۔

    پِیس ویلیج (Peace Village) والے اور ابوڈ آف پیس (Abode of Peace) کے رہنے والے احمدیوں کو خاص طور پر تاکیدی نصیحت کہ وہاں اپنا احمدی ماحول پیدا کریں اور قائم کریں اور زیادہ سے زیادہ کوشش کریں کہ صحیح اسلام کا نمونہ آپ قائم کرنے و الے ہوں اور خلافت کے ساتھ جس طرح محبت اور اخلاص کا اظہار وہاں میری موجودگی میں کرتے رہے بعد میں بھی اس میں اضافہ کرنے والے ہوں اور بڑھتے چلے جائیں اور اپنے اصل مقصد کو نہ بھولیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا ہے اور اس کی عبادت میں ہمیں کبھی سست نہیں ہونا چاہئے۔

    فرمودہ مورخہ 18نومبر 2016ء بمطابق 18نبوت1395 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور