تربیت اولاد

خطبہ جمعہ 14؍ جولائی 2017ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

بہت سی عورتیں مرد لکھتے ہیں اور ملیں، ملاقات کریں تب زبانی بھی یہی کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں اولاد ہونے والی ہے اس کے لئے دعا کریں۔ یا یہ کہ ہم اس پیدا ہونے والی اولاد کے لئے کیا دعا کریں۔ یا پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ ہماری اولاد ہے، بچے ہیں اور بچپن سے جوانی کی طرف بڑھ رہے ہیں، اس میں قدم رکھنے و الے ہیں، ان کی تربیت کی فکر رہتی ہے ان کے لئے کیا دعا کریں؟ کس طرح ان کی تربیت کریں کہ ہمارے بچے صحیح راستے پر اور نیکیوں پر قائم رہیں؟

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی اکثریت یہ سوچ رکھتی ہے اور ان کو یہ توجہ ہے یا کم از کم فکر ہے کہ کس طرح اپنے بچوں کی تربیت کرنی ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کا ہم احمدیوں پر بہت بڑا فضل اور احسان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے کی وجہ سے ہماری سوچیں اس زمانے میں جبکہ دنیا کی خواہشات نے ہر ایک کو گھیرا ہوا ہے، یہ ہیں کہ ہم اپنی اولاد کے لئےصرف دنیا کی فکر نہیں کرتے بلکہ دین کی بہتری کا بھی خیال پیدا ہوتا رہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ہم مسلمانوں پر احسان فرمایا ہے بشرطیکہ مسلمان اس طرف توجہ دیتے ہوئے اس پر عمل کرنے والے ہوں کہ قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر بچوں کی پیدائش سے پہلے سے لے کر تربیت کے مختلف دَوروں میں سے جب بچہ گزرتا ہے تو اس کے لئے دعائیں بھی سکھائی ہیں اور تربیت کا طریق بھی بتایا ہے اور والدین کی ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ اگر ہم یہ دعائیں کرنے والے اور اس طریق کے مطابق اپنی زندگی گزارنے والے اور اپنے بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دینے والے ہوں تو ایک نیک نسل آگے بھیجنے والے بن سکتے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بچوں کی تربیت کوئی آسان کام نہیں اور خاص طور پر اس زمانے میں جب قدم قدم پر شیطان کی پیدا کی ہوئی دلچسپیاں مختلف رنگ میں ہر روز ہمارے سامنے آ رہی ہوں تو یہ بہت مشکل کام ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے جب دعائیں اور طریق بتائے ہیں تو اس لئے کہ اگر ہم چاہیں تو خود بھی اور اپنے بچوں کو بھی شیطان کے حملوں سے بچا سکتے ہیں لیکن اس کے لئے مسلسل دعاؤں، اللہ تعالیٰ کی مدد اور محنت اور کوشش کی ضرورت ہے۔ ایک مسلسل جہاد کی ضرورت ہے۔ اور حقیقی مومن سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جُڑ کر اپنے آپ کو بھی اور اپنی اولاد کو بھی شیطان کے حملوں سے بچائے نہ کہ مایوس ہو جائے یا تھک جائے اور خوفزدہ ہو کر منفی سوچوں کو اپنے اوپر طاری کر لے۔

منفی سوچ کی ایک فکر انگیز مثال گزشتہ دنوں ایک خط میں میرے سامنے آئی جب ایک شخص نے لکھا کہ آج کل کی دنیا میں پیسے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ غیر اخلاقی سرگرمیوں کی انتہا ہوئی ہوئی ہے۔ منشیات کی نئی نئی قسمیں اور ان کا استعمال عام ہو رہا ہے۔ معاشرے کی عمومی بے راہ روی بڑھتی چلی جا رہی ہے لکھنے والا کہتا ہے کہ اس وجہ سے میں نے سوچا کہ شادی تو بیشک کروں یا شادی ہوئی ہوئی ہے تو بہتر یہی ہے کہ بے اولاد رہوں۔ اولادنہ ہو۔ یہ انتہائی مایوس کن سوچ ہے۔ گویا شیطان سے ہار مان کر اس کو تمام طاقتوں کا منبع اور حامل سمجھ کر یہ بات کی جا رہی ہے۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ میں کوئی طاقت نہیں کہ اولاد کی تربیت کے لئے ہماری کوششوں میں، ہماری دعاؤں میں برکت ڈالے (نعوذ باللہ) اور ہماری اولاد کو اور ہمیں شیطان کے حملوں سے بچائے، چاہے جتنی بھی ہم کوشش کر لیں اور دعائیں کر لیں۔ گویا دوسرے لفظوں میں ہم شیطان کے چیلوں کو کھلی چھٹی دینے والے بن جائیں اور مومنین کی نسل آہستہ آہستہ ختم ہو جائے۔ یہ سوچ انتہائی خطرناک اور مایوس کُن سوچ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے والے کی ایسی سوچ نہیں ہوسکتی اور نہ ہونی چاہئے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام جس انقلاب کے پیدا کرنے کے لئے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے اس کا حصہ بننے کے لئے ہم نے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور استعدادوں کو استعمال کرنا ہے اور اپنی نسل میں بھی اس روح کو پھونکنا ہے۔ جو ہمارے مقاصد ہیں ان کے لئے دعائیں بھی کرنی ہیں۔ ان کی تربیت بھی کرنی ہے کہ معاشرے کے ان سب گندوں اور غلاظتوں کے باوجود ہم نے شیطان کو کامیاب نہیں ہونے دینا۔ اور دنیا میں خدا تعالیٰ کی حکومت قائم کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔

پس مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں بلکہ ایک عزم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نیک اولاد کے لئے ہمیں قرآن کریم میں دعائیں سکھائی ہیں جیسا کہ مَیں نے ذکر کیا۔

ایک جگہ حضرت زکریا علیہ السلام کے ذریعہ دعا سکھائی اور وہ دعا یہ ہے کہ رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً اِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ(آل عمران :39) اے میرے رب مجھے اپنی جناب سے پاکیزہ ذریّت، اولاد عطا کر۔ یقیناً تُو بہت دعائیں سننے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود یہ دعا سکھائی کہ مَیں دعائیں سننے والا ہوں۔ اس لئے تم بھی کہو کہ اے اللہ تُو دعا سننے والا ہے۔ اس لئے ہماری دعائیں قبول کر اور ہمیں پاک اولاد بخش۔

پس جب پاکیزہ اولاد کی خواہش ہو تو اس کے لئے دعا بھی ہونی چاہئے لیکن ساتھ ہی ماں باپ کو بھی ان پاکیزہ خیالات کا اور نیک اعمال کا حامل ہونا چاہئے جو نیکوں اور انبیاء کی صفت ہیں۔ ہر ماں اور باپ کو وہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ بعض دفعہ مائیں دینی امور کی طرف توجہ دینے والی ہوتی ہیں، عبادات کرنے والی ہوتی ہیں تو مردنہیں ہوتے۔ بعض جگہ مرد ہیں تو عورتیں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہیں۔ اولاد کے نیک ہونے اور زمانے کے بد اثرات سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ اولاد کی خواہش اور اولاد کی پیدائش سے بھی پہلے مرد عورت دونوں نیکیوں پر عمل کرنے والے ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابہ کے واقعات میں ایک واقعہ ملتا ہے جس میں اولاد ہونے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک شخص کے لئے دعا ہے۔ لیکن اس دعا کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مشروط کر دیا اور مشروط کیا اس شخص کے اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے سے۔ وہ شخص ابھی احمدی بھی نہیں تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں نہیں آیا تھا لیکن شاید اس کی کوئی نیکی تھی جس کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے لئے دعا کی۔ یہ منشی عطا محمد صاحب پٹواری ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں غیر احمدی تھا۔ دین سے دُور ہٹا ہوا تھا۔ ان کے ایک دوست تھے وہ انہیں احمدیت کی تبلیغ کیا کرتے تھے لیکن کہتے ہیں میں نے کبھی توجہ نہیں کی۔ ایک دن انہوں نے مجھے بہت زیادہ اس بارے میں کہا اور میرے پیچھے پڑ گئے کہ میری باتیں سنو اور ان پہ غور کرو۔ مَیں نے کہا اچھا اگر آپ یہی کہتے ہیں تو میں آپ کو ایک دعا کے لئے کہتا ہوں۔ اگر وہ سنی گئی تو پھر میں غور کروں گا۔ آپ کہتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں تو ان کو میرے لئے دعا کے لئے کہیں اور دعا اس بات کی ہے کہ میری تین بیویاں ہیں کسی کی اولادنہیں ہے۔ ایک کے بعد دوسری شادی مَیں نے کی تا کہ اولاد پیدا ہو۔ یہ دعا کریں کہ مجھے بیٹا عطا ہو اور بیٹا بھی پہلی بیوی سے ہو۔ کہتے ہیں یہ خط انہوں نے میری طرف سے لکھ دیا۔ کچھ عرصہ کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب کی طرف سے جواب آیا کہ حضور نے دعا کی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعا کی ہے اور فرمایا کہ آپ کو بیٹا عطا ہو گا لیکن شرط یہ ہے کہ آپ زکریا والی توبہ کریں۔ منشی صاحب کہتے ہیں مَیں ان دنوں میں سخت بے دین تھا۔ شرابی کبابی اور راشی ہوا کرتا تھا۔ رشوت لینا میرا عام کام تھا۔ مجھے کیا پتا ہونا تھا کہ زکریا والی توبہ کیا ہوتی ہے۔ کہتے ہیں میں یہ پتا کرنے کے لئے کہ زکریا والی توبہ کیا ہے مسجد میں گیا تو مسجد کا امام مجھے مسجد میں دیکھ کر حیران ہوا کہ یہ شرابی کبابی کہاں سے آ گیا۔ لیکن بہرحال جب مَیں نے سوال کیا تو میرے سوال کا وہ جواب نہیں دے سکا۔ کہتے ہیں پھر مَیں مولوی فتح دین صاحب احمدی کے پاس دوسرے گاؤں میں گیا۔ ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ زکریا والی توبہ بس یہ ہے کہ بے دینی چھوڑ دو۔ حلال کھاؤ۔ نماز روزے کے پابند ہو جاؤ اور مسجد میں زیادہ آیا کرو۔ کہتے ہیں یہ سن کر مَیں نے ایسا کرنا شروع کر دیا۔ شراب چھوڑ دی۔ رشوت لینی بند کر دی۔ نماز روزے کا پابند ہو گیا۔ کہتے ہیں چار پانچ مہینے کا عرصہ گزرا ہو گا کہ ایک دن میری بڑی بیوی رونے لگی۔ خیر اس کو دائی سے چیک کروایا تو اس نے جو بات کی اور وہ اس طرف شک کا اظہار تھا کہ شاید اولاد ہونے والی ہے۔ بہرحال اس کی بات سن کر میں نے اس سے کہا کہ میں نے مرزا صاحب سے دعا کروائی ہے۔ یہ اولاد ہونے کی نشانی ہے۔ شک والی کوئی بات نہیں۔ کہتے ہیں کچھ عرصہ بعد حمل کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو گئے تو مَیں نے لوگوں کو بتانا شروع کر دیا کہ میرے بیٹا پیدا ہو گا اور صحتمند اور خوبصورت بھی ہو گا۔ چنانچہ بیٹا پیدا ہوا۔ اور کہتے ہیں اس کے بعد میں نے بیعت کر لی اور اس علاقے کے بہت سے اَور لوگوں نے بھی بیعت کی۔ (ماخوذ ازسیرت المہدی جلد1 صفحہ220-221 روایت نمبر 241)

تو اللہ تعالیٰ کسی کا انجام بخیر کرنا چاہتا ہے تو اس طرح بھی ہوتا ہے کہ اولاد کی خواہش اور اولاد ہونا ان کی اصلاح اور پاک تبدیلی کا باعث بن گیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنی دعا کی قبولیت کو ان میں پاک تبدیلی کے ساتھ مشروط کیا تھا۔ تو بہرحال جہاں زکریا کی دعا ہم اپنی اولاد کے لئے کرتے ہیں وہاں ہمیں اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

لیکن اس ضمن میں یہ بھی بتا دوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس ایک اور شخص کا معاملہ پیش ہوا کہ وہ کہتا ہے کہ میرے لئے دعا کریں بیٹا پیدا ہو یا اولاد ہو تب مَیں احمدی ہو جاؤں گا۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا۔ خلاصہ یہ ہے کہ میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا ہے۔ مَیں نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ لوگوں کے ہاں بچے پیدا کروانے کے لئے مَیں آیا ہوں۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 9 صفحہ 115۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

اس کے حالات بالکل مختلف تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو بہرحال نبی تھے ان کی نظر اس کے بارہ میں وہاں تک پہنچی کہ یہ شرط ایسی ہے کہ جو ٹھوکر کا بھی موجب ہو سکتی ہے لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے اس شخص کا انجام بخیر بھی کرنا تھا اور کوئی نیکی بھی ہو گی تو یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعا کر کے اللہ تعالیٰ سے خبر پاکے اس کو بیٹے کی خبر بھی دے دی۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ہر چیز کو ہر چیز سے مشروط نہیں کیا جاتا۔ احمدی ہونے کو دعا سے مشروط نہیں کیا جاتا۔ بعض دفعہ لوگ مجھے بھی لکھتے ہیں کہ یہ ہو گا تو تب ہم احمدی ہوں گے۔ تو شرطیں لگا کے احمدی ہونا کوئی دین کو قبول کرنے والی بات نہیں ہے بلکہ اپنی شرائط پر اللہ تعالیٰ کو منوانا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ تو کسی کی شرطوں پر کسی کی ہدایت کا سامان پیدا نہیں کرتا۔ ہمیں ہدایت پہ چلنے کی ضرورت ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کو ہماری۔ بہرحال جیسا کہ میں نے کہا کہ جہاں ہم اپنی اولاد کے لئے دعا کرتے ہیں وہاں ہمیں اپنے اندر بھی پاک تبدیلی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

قرآن کریم میں حضرت زکریا کے حوالے سے سورۃ الانبیاء میں اس دعا کا بھی ذکر ملتا ہے کہ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًاوَّاَنْتَ خَیْرُ الْوَارِثِیْنَ(الانبیاء:90) کہ اے میرے رب مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تُو سب وارثوں سے بہتر ہے۔ اس دعا میں بھی جب اللہ تعالیٰ کو خیر الوارثین کہا ہے تو واضح ہے کہ اولاد کی دعا صرف اس لئے نہیں کہ اولاد ہو جائے اور وارث پیدا ہو جائیں جو دنیاوی معاملات کے وارث ہوں بلکہ ایسے وارث اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوں جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے ہوں اور ظاہر ہے ایسی دعا وہی لوگ مانگ سکتے ہیں جو خود بھی دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے ہیں۔ اگر دنیا داری میں انسان ڈوبا ہوا ہے تو نیک وارث کس طرح مانگے گا۔ اگر کوئی عورت صرف اس لئے اولاد کی خواہش کر رہی ہے کہ عورت کا اولاد کی خواہش کرناایک فطری تقاضا ہے یا پھر بعض اوقات اس لئے خواہش کر رہی ہے کہ خاوند کی خواہش ہوتی ہے تو ایسی اولاد پھر بعض دفعہ ابتلا کا موجب بن جاتی ہے۔ اولاد کی خواہش بڑی جائز خواہش ہے لیکن ساتھ ہی نیک وارث پیدا ہونے کی بھی دعا کرنی چاہئے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ اولاد کی خواہش صرف وارث بنانے کے لئے نہ کرو بلکہ نیک، صالح اور خادم دین وارث بنانے کے لئے کرو ورنہ اولاد بھی ابتلاء کا باعث بن سکتی ہے، ایک موقع پر فرماتے ہیں کہ :

’’اولاد کا ابتلا بھی بہت بڑا ابتلا ہے۔ اگر اولاد صالح ہو تو پھر کس بات کی پروا ہو سکتی ہے۔ خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے وَھُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیْنَ(الاعراف:197) یعنی اللہ تعالیٰ آپ صالحین کا متولّی اور متکفّل ہو تا ہے۔ (انسان) اگر بدبخت ہے تو خواہ لاکھوں روپیہ اس کے لئے چھوڑ جاؤ‘‘(یا اولاد بدبخت ہے تو لاکھوں روپیہ اس کے لئے چھوڑ جاؤ) ’’وہ بدکاریوں میں تباہ کر کے پھر قلّاش ہو جائے گی اور ان مصائب اور مشکلات میں پڑے گی جو اس کے لئے لازمی ہیں۔ جو شخص اپنی رائے کو خدا تعالیٰ کی رائے اور منشاء سے متفق کرتا ہے وہ اولاد کی طرف سے مطمئن ہو جاتا ہے‘‘۔ (اللہ تعالیٰ کی رائے اور منشا کیا ہے؟ یہی کہ دین کو دنیا پر مقدم کرو۔ اگر یہ ہو گا تو پھر آپ نے فرمایا کہ اولاد کی طرف سے پھر مطمئن ہو جاتا ہے کیونکہ پھر ایسا انسان اپنی اولاد کے لئے دعا بھی کرتا ہے اور اس کی تربیت کی کوشش بھی کرتا ہے۔) آپ فرماتے ہیں ’’اور وہ اسی طرح پر ہے کہ اس کی صلاحیت کے لئے کوشش کرے اور دعائیں کرے۔ اس صورت میں خود اللہ تعالیٰ اس کا تکفّل کرے گا اور اگر بدچلن ہے تو پھر جائے جہنم میں۔ اس کی پرواہ تک نہ کرے۔‘‘

پھر ایک جگہ آپ اسی اولاد کے ضمن میں (اسی مضمون) کو جاری رکھتے ہوئے) نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

’’پس خودنیک بنو اور اور اپنی اولاد کے لئے ایک عمدہ نمونہ نیکی اور تقویٰ کا ہو جاؤ اور اس کو متقی اور دیندار بنانے کے لئے سعی اور دعا کرو۔ جس قدر کوشش تم ان کے لئے مال جمع کرنے کی کرتے ہو اسی قدر کوشش اس امر میں کرو‘‘۔ (ملفوظات جلد8 صفحہ109۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

اولاد کو دین سکھانے اور دین سے منسلک رکھنے کے لئے، ان کی دینی تربیت کی طرف کم از کم اتنی کوشش تو انسان کی ہو جتنی دنیاوی کوششیں ہوتی ہیں۔ دنیا کی طرف زیادہ کوشش ہوتی ہے اور دین کی طرف بہت کم کوشش۔ اسی وجہ سے پھر بعض لوگوں کو ابتلاء بھی آتے ہیں۔ مشکلات میں بھی پڑتے ہیں۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو اولاد کی خواہش ہوتی ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ ’’بعض اوقات صاحب جائیداد لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ کوئی اولاد ہو جاوے جو اس جائیداد کی وارث ہو‘‘۔ گویا کہ اولاد کی خواہش صرف جائیداد کے لئے ہے ’’تا کہ جائیداد غیروں کے ہاتھ میں نہ چلی جاوے‘‘۔ آپ فرماتے ہیں ’’مگر وہ نہیں جانتے کہ جب مر گئے تو شرکاء کون اور اولاد کون؟‘‘ سبھی غیر بن جاتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ’’اولاد کے لئے اگر خواہش ہو تو اس غرض سے ہو کہ وہ خادمِ دین ہو۔‘‘ (ماخوذ از ملفوظات جلد8 صفحہ110۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں یہ بھی دعا سکھائی کہ وَاَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(الاحقاف: 16) کہ میرے لئے میری ذریّت کی بھی اصلاح کر دے۔ یقیناً مَیں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور بلا شبہ مَیں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ یہاں اولاد کی اصلاح کرنے کی دعا کی ہے تو ساتھ اس بات کا بھی اقرار کیا ہے کہ میں تیری طرف رجوع کرنے والوں اور فرمانبرداروں میں سے بنوں یا ہوں۔ پس اولاد کے لئے جب دعا ہو تو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل اور اللہ تعالیٰ کی کامل فرمانبرداری ضروری ہے تبھی دعا قبول ہوتی ہے۔ پس ماں کی بھی اور باپ کی بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ بچوں کی اصلاح کے لئے، ان کی تربیت کے لئے مستقل اللہ تعالیٰ سے اپنی اولاد کی بہتری کے لئے دعا مانگتے رہیں اور اپنے نمونے اولاد کے لئے قائم کریں۔ اگر اپنے نمونے اس تعلیم کے خلاف ہیں جو اللہ تعالیٰ نے دی ہے، اگر اپنے نمونے اس نصیحت کے خلاف ہیں جو ماں باپ بچوں کو کرتے ہیں تو پھر اصلاح کی دعا میں نیک نیتی بھی نہیں ہوتی۔ اور جب اس طرح کا عمل نہ ہو تو پھر یہ شکوہ بھی غلط ہے کہ ہم نے اپنی اولاد کے لئے بہت دعا کی تھی لیکن پھر بھی وہ بگڑ گئی یا ہمیں ابتلاء میں ڈال دیا۔

پھر اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایک بڑی جامع دعا بیان فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو شیطان کے حملوں سے بچنا چاہتے ہیں اور بچتے ہیں، جو رحمان خدا کے بندے بننا چاہتے ہیں ان کی جو بعض خصوصیات ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ یہ دعا کرتے ہیں کہ رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا (الفرقان:75) کہ اے ہمارے رب ہمیں اپنے جیون ساتھیوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کر اور ہمیں متقیوں کا امام بنا دے۔ یہ دعا اولاد کے لئے اور اپنے جیون ساتھیوں کے لئے مَردوں کو بھی کرنی چاہئے اور عورتوں کو بھی۔ جب عورت اور مردنیک اور صالح اولاد کی خواہش رکھتے ہوئے دعا کرتے ہیں تو پھر اولاد کی پیدائش کے بعد بھی ان کے کام ختم نہیں ہو جاتے بلکہ ماں بھی اور باپ بھی، بیوی بھی اور خاوند بھی اپنے اپنے دائرے میں نگران اور امام ہیں۔ اور یہ حق اسی وقت ادا ہو گا جب خود بھی تقویٰ پر چلنے والے ہوں گے اور بچوں کے لئے دعا کرنے والے ہوں گے اور اپنے اعمال کو بھی دیکھنے والے ہوں گے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس آیت کے حوالے سے بڑی تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: ’’نکاح سے ایک اور غرض بھی ہے جس کی طرف قرآن کریم میں یعنی سورۃ الفرقان میں اشارہ ہے اور وہ یہ ہے وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا (الفرقان:75) یعنی مومن وہ ہیں جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے خدا! ہمیں اپنی بیویوں کے بارے میں اور فرزندوں کے بارے میں دل کی ٹھنڈک عطا کر اور ایسا کر کہ ہماری بیویاں اور ہمارے فرزندنیک بخت ہوں اور ہم ان کے پیش رَو ہوں۔‘‘ (آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد10 صفحہ23)

پس یہاں پھر آپ نے ماں باپ کو اس دعا کے ساتھ اپنے عمل دکھانے کی ہدایت فرما دی کہ ہم ان کے پیش رَو ہوں۔ پیش رَو ہونے کامطلب ہی یہ ہے کہ ہم عملی نمونے قائم کرنے والے بنیں۔ پس قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ بار بار ہر دعا کے ساتھ اس بات کا اعادہ اور تلقین فرماتا ہے کہ اگر تمہیں صالح اولاد کی خواہش ہے تو اپنے عملوں کی طرف نظر رکھو۔

پھر اس بات کے ذکر میں کہ اولاد کی خواہش کیوں ہوتی ہے اور کیوں ہونی چاہئے اور انسان کی پیدائش کا جو مقصد ہے اس کو بھی اولاد کی خواہش کرتے ہوئے سامنے رکھنا چاہئے یا اولاد کی پیدائش کے وقت بھی سامنے رکھنا چاہئے اور اپنے اعمال پر بھی نظر رکھنی چاہئے، اپنی اصلاح کی بھی فکر ہونی چاہئے تا کہ اولاد بھی نیک صالح ہو، نہ کہ صرف دولت اور املاک کی وارث بنانے کے لئے اولاد پیدا کی جائے۔ اور یہ دعا کس ترتیب سے اور کس طرح کرنی چاہئے، ان سب باتوں کی تفصیل بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:

’’انسان کو سوچنا چاہئے کہ اسے اولاد کی خواہش کیوں ہوتی ہے؟ کیونکہ اس کو محض طبعی خواہش ہی تک محدودنہ کر دینا چاہئے کہ جیسے پیاس لگتی ہے یا بھوک لگتی ہے۔ لیکن جب یہ ایک خاص اندازے سے گزر جاوے تو ضرور اس کی اصلاح کی فکر کرنی چاہئے۔ خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے۔ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (الذاریات:57) اب اگر انسان خود مومن اور عبدنہیں بنتا ہے اور اپنی زندگی کے اصل منشاء کو پورا نہیں کرتا ہے اور پورا حقِّ عبادت ادا نہیں کرتا بلکہ فسق و فجور میں زندگی بسر کرتا ہے اور گناہ پر گناہ کرتا ہے تو ایسے آدمی کی اولاد کے لئے خواہش کیا نتیجہ رکھے گی۔ صرف یہی کہ گناہ کرنے کے لئے وہ اپنا ایک اَور خلیفہ چھوڑنا چاہتا ہے۔ خود کونسی کمی کی ہے جو اولاد کی خواہش کرتا ہے‘‘۔ فرمایا’’پس جب تک اولاد کی خواہش محض اس غرض کے لئے نہ ہو کہ وہ دیندار اور متقی ہو اور خدا تعالیٰ کی فرمانبردار ہو کر اس کے دین کی خادم بنے بالکل فضول بلکہ ایک قسم کی معصیت اور گناہ ہے اور باقیاتِ صالحات کی بجائے اس کا نام باقیاتِ سیّئات رکھنا جائز ہو گا‘‘۔ (نیک صالح اولادنہیں ہو گی جو پیچھے رہنے والی ہو بلکہ برائیاں کرنے والی چیز پیچھے چھوڑ کے جائیں۔) فرمایا’’لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مَیں صالح اور خدا ترس اور خادم دین اولاد کی خواہش کرتا ہوں‘‘ (بڑی اچھی خواہش ہے)’’تو اس کا یہ کہنا بھی نرا ایک دعویٰ ہی دعویٰ ہو گا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت میں ایک اصلاح نہ کرے۔‘‘ (خواہش تو نیک اولاد کی ہو لیکن خود اپنے عمل اس سے مختلف ہوں۔ بہت سارے لوگ ہیں، آتے ہیں اور کہتے ہیں دعا کریں۔ نیک اولاد ہو۔ صالح اولاد ہو۔ اپنی نمازوں کے بارے میں یہی ان کا جواب ہوتا ہے کہ کوشش کرتے ہیں کہ پوری نمازیں پڑھیں۔ جنہوں نے فرائض نماز بھی ادا نہیں کرنے ان کی نیکی کی کیا حالت ہو سکتی ہے۔) آپ فرماتے ہیں کہ’’اگر خود فسق و فجور کی زندگی بسر کرتا ہے اور منہ سے کہتا ہے کہ میں صالح اور متقی اولاد کی خواہش کرتا ہوں تو وہ اپنے اس دعویٰ میں کذّاب ہے۔‘‘ (جھوٹا ہے۔) ’’صالح اور متقی اولاد کی خواہش سے پہلے ضروری ہے کہ وہ خود اپنی اصلاح کرے اور اپنی زندگی کو متقیانہ زندگی بنا وے تب اس کی ایسی خواہش ایک نتیجہ خیز خواہش ہو گی اور ایسی اولاد حقیقت میں اس قابل ہو گی کہ اس کو باقیاتِ صالحات کا مصداق کہیں۔ لیکن اگر یہ خواہش صرف اس لئے ہو کہ ہمارا نام باقی رہے اور وہ ہمارے اَملاک و اسباب کی وارث ہو یا وہ بڑی نامور اور مشہور ہو اس قسم کی خواہش‘‘ (آپ فرماتے ہیں ) ’’میرے نزدیک شرک ہے۔‘‘

پھر اس کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ’’ایک اَور بات ہے کہ اولاد کی خواہش تو لوگ بڑی کرتے ہیں اور اولاد ہوتی بھی ہے مگر یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ وہ اولاد کی تربیت اور ان کو عمدہ اور نیک چلن بنانے اور خدا تعالیٰ کے فرمانبردار بنانے کی سعی اور فکر کریں۔ نہ کبھی ان کے لئے دعا کرتے ہیں اور نہ مراتب تربیت کو مدّنظر رکھتے ہیں‘‘۔ دعا کی طرف بھی بہت کم توجہ ہے۔ تربیت کی طرف جو توجہ ہونی چاہئے وہ بھی نہیں ہے۔) فرمایا کہ ’’میری اپنی تو یہ حالت ہے‘‘ اپنے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ’’میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں مَیں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا‘‘۔ فرمایا کہ’’بہت سے والدین ایسے ہیں جو اپنی اولاد کو بری عادتیں سکھا دیتے ہیں۔ ابتدا میں جب وہ بدی کرنا سیکھنے لگتے ہیں تو ان کو تنبیہ نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دن بدن دلیر اور بیباک ہوتے جاتے ہیں‘‘۔ اگر اولاد کو شروع میں نہیں روکیں گے، ان کو نہیں سمجھائیں گے۔ شروع شروع میں پیار سے بھی سمجھایا جاتا ہے تو پھر آہستہ آہستہ وہ برائیوں میں بڑھتی چلی جاتی ہے۔

پھر ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’لوگ اولاد کی خواہش تو کرتے ہیں مگر نہ اس لئے کہ وہ خادم دین ہو بلکہ اس لئے کہ دنیا میں ان کا کوئی وارث ہو اور جب اولاد ہوتی ہے تو اس کی تربیت کا فکر نہیں کیا جاتا۔ نہ اس کے عقائد کی اصلاح کی جاتی ہے۔‘‘ (دین سکھانا بھی ضروری ہے۔ یہ نہیں ہے کہ باہر سے وقت نہیں ملا۔ دنیاوی پڑھائی میں مصروف ہیں، دنیاوی کاموں میں مصروف ہیں اس لئے نہ خود دین سکھانے کی طرف توجہ دی، نہ بچوں کے لئے کوئی انتظام کیا۔ عقائد سکھانا دین سکھانا بڑا ضروری ہے۔) فرمایا ’’اور نہ اخلاقی حالت کو درست کیا جاتا ہے‘‘۔ اب اخلاق کے بھی معیار ہیں۔ یہاں اخلاق کے معیار کچھ اور ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جو دین میں اخلاقی معیار سکھائے ہیں وہ بہت اعلیٰ معیار ہیں۔ صرف دنیاوی اخلاقی معیار نہیں بلکہ وہ اخلاقی معیار ہمیں تلاش کرنے چاہئیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھائے ہیں، جو اسلام ہمیں سکھاتا ہے، جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے ثابت کر کے ہمیں دکھایا ہے۔ اور وہ اخلاقی معیار ہیں جو ہم نے آگے اپنی نسلوں میں قائم کرنے ہیں۔)

آپ نے فرمایا کہ: ’’یاد رکھو کہ اس کا ایمان درست نہیں ہو سکتا جو اَقرب تعلقات کو نہیں سمجھتا۔ جب وہ اس سے قاصر ہے تو اور نیکیوں کی امید اس سے کیا ہو سکتی ہے‘‘۔ فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے اولاد کی خواہش کو اس طرح پر قرآن میں بیان فرمایا ہے۔ رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا(الفرقان:75) یعنی خدا تعالیٰ ہم کو ہماری بیویوں اور بچوں سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرماوے اور یہ تب ہی میسر آ سکتی ہے کہ وہ فسق و فجور کی زندگی بسر نہ کرتے ہوں بلکہ عباد الرحمن کی زندگی بسر کرنے والے ہوں اور خدا کو ہر ایک شئے پر مقدم کرنے والے ہوں۔ اور آگے کھول کر کہہ دیا وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا۔ اولاد اگر نیک اور متقی ہو تو یہ ان کا امام ہی ہو گا۔ اس سے گویا متقی ہونے کی بھی دعا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 2صفحہ 370تا 373۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) یعنی اپنے آپ کے متقی ہونے کے لئے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں تقویٰ پر چلنے والا بنائے اور آگے پھر اولاد کے بھی متقی ہونے کی دعا ہے۔

پھر آپ فرماتے ہیں کہ اولاد کی پرورش’’محض رحم کے لحاظ سے کرے، نہ کہ جانشین بنانے کے واسطے۔ بلکہ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا کا لحاظ ہو کہ یہ اولاد دین کی خادم ہو‘‘۔ آپ فرماتے ہیں: ’’لیکن کتنے ہیں جو اولاد کے واسطے یہ دعا کرتے ہیں کہ اولاد دین کی پہلوان ہو۔ بہت ہی تھوڑے ہوں گے جو ایسا کرتے ہوں‘‘۔ فرمایا کہ’’اکثر تو ایسے ہیں کہ وہ بالکل بے خبر ہیں کہ وہ کیوں اولاد کے لئے یہ کوششیں کرتے ہیں اور اکثر ہیں جو محض جانشین بنانے کے واسطے۔ اَور کوئی غرض ہوتی ہی نہیں۔ صرف یہ خواہش ہوتی ہے کہ کوئی شریک یا غیر ان کی جائیداد کا مالک نہ بن جاوے۔ مگر یاد رکھو کہ اس طرح پر دین بالکل برباد ہو جاتا ہے۔ غرض اولاد کے واسطے صرف یہ خواہش ہو کہ وہ دین کی خادم ہو۔‘‘ (ملفوظات جلد6 صفحہ381-382۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) اور خاص طور پر واقفین نَو کے والدین کو بہت زیادہ توجہ دینی چاہئے کہ اپنے بچوں کو دین کی طرف توجہ دلائیں۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ: ’’مَیں دیکھتا ہوں کہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ محض دنیا کے لئے کرتے ہیں۔ محبت دنیا ان سے کراتی ہے۔ خدا کے واسطے نہیں کرتے۔ اگر اولاد کی خواہش کرے تو اس نیّت سے کرے وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا پر نظر کرکے کرے کہ کوئی ایسا بچہ پیدا ہو جائے جو اعلائے کلمۃالاسلام کا ذریعہ ہو۔ جب ایسی پاک خواہش ہو تو اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ زکریا کی طرح اولاد دیدے۔ مگر مَیں دیکھتا ہوں کہ لوگوں کی نظر اس سے آگے نہیں جاتی کہ ہمارا باغ ہے یا اَور مِلک ہے وہ اس کا وارث ہو اور کوئی شریک اس کو نہ لے جائے۔ مگر وہ اتنا نہیں سوچتے کہ کمبخت جب تُو مر گیا تو تیرے لئے دوست دشمن، اپنے بیگانے سب برابر ہیں‘‘۔ فرماتے ہیں کہ’’مَیں نے بہت سے لوگ ایسے دیکھے اور کہتے سنے ہیں کہ دعا کرو کہ اولاد ہو جائے جو اس جائیداد کی وارث ہو۔ ایسا نہ ہو کہ مرنے کے بعد کوئی شریک لے جاوے۔ اولاد ہو جائے خواہ وہ بدمعاش ہی ہو۔ یہ معرفت اسلام کی رہ گئی ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد6 صفحہ351-352۔ ایڈیشن 1985ءمطبوعہ انگلستان)

عام مسلمانوں میں تو یہ بڑا عام ہے۔ اور اسی وجہ سے خاص طور پر لڑکوں کی پیدائش کے لئے بڑی توجہ دی جاتی ہے کہ لڑکا پیدا ہو جائے اور لڑکے جو ہیں وہ اپنی بہنوں کو اور اپنے والدین، اپنی بیٹیوں کو جائیدادنہیں دیتے اور ساری جائیداد کا وارث لڑکوں کو بنا دیتے ہیں جو اسلام کی تعلیم کے خلاف ہے اور پھر وہ لڑکے بھی اس جائیداد کو ضائع کر دیتے ہیں۔ تو یہ تو دنیا میں ہم دیکھتے ہیں اور آج بھی مثالیں ملتی ہیں۔ بہرحال جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ خاص طور پر جو واقفین نو کے ماں باپ ہیں ان کو اپنے بچوں کی تربیت کی طرف خاص طور پر توجہ دینی چاہئے اور ان کے لئے دعا بھی اس مقصد کے لئے کرنی چاہئے کہ وہ بڑے ہو کر دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے ہوں۔ وقف کرنے والے ہوں۔ یہ نہیں کہ صرف وقف نو کا ٹائٹل لگا دیا اور بڑے ہو کر کہہ دیا کہ ہم تو اپنے کام کر رہے ہیں۔ بلکہ جو واقفین نَو ہیں وہ پہلے جماعت سے پوچھیں کہ جماعت کو ضرورت ہے کہ نہیں اور اگر جماعت ان کو اپنے کام کرنے کی اجازت دیتی ہے تو کریں ورنہ ان کو خالصتاً اپنے عہد کو پورا کرتے ہوئے اور والدین کے عہد کو پورا کرتے ہوئے اپنے آپ کو وقف کے لئے پیش کرنا چاہئے۔

پس اولاد کے لئے دعا اور خواہش اس سوچ کے ساتھ اور اس دعا کے ساتھ ہونی چاہئے کہ ایسی اولاد ہو جو دین کو دنیا پر مقدم کرنے والی ہو۔ جو ہماری یعنی ماں باپ کی اور خاندان کی عزت قائم کرنے والی ہو۔ اپنے دادا پڑدادا کے نام کی عزت قائم کرنے والی ہو۔ بہت سے ایسے خاندان ہیں جن کے باپ دادا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے۔ صرف ان کی اولاد ہونا ہی کافی نہیں۔ بڑے لوگ بڑے فخر سے بتاتے ہیں۔ اچھی بات ہے۔ لیکن فخر تب ہونا چاہئے کہ وہ نیکیاں بھی جاری ہوں۔ اولاد ہونا کافی نہیں ہے بلکہ ماں باپ کا یہ بھی کام ہے کہ اپنی اولاد کے لئے یہ بھی دعا کریں کہ وہ ان کی نیکیاں، باپ دادا کی نیکیاں قائم کرنے والے بھی ہوں اور جب یہ دعا ماں باپ کر رہے ہوں گے تو اپنے پر بھی نظر رکھیں گے کیونکہ ہم اپنے باپ دادا کے نام کو زندہ رکھنے والے تبھی بن سکتے ہیں جب ہم اپنے اعمال پر بھی نظر رکھنے والے ہوں۔ پس اپنے جائزوں کے ساتھ ہر ایک کو آخری وقت تک بچوں کی نیک فطرت اور صالح ہونے کے لئے دعائیں کرتے رہنا چاہئے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:

’’خدا تعالیٰ کی نصرت انہی کے شامل حال ہوتی ہے جو ہمیشہ نیکی میں آگے ہی آگے قدم رکھتے ہیں۔‘‘ فرمایا’’ایک جگہ ٹھہر نہیں جاتے اور وہی ہیں جن کا انجام بخیر ہوتا ہے۔‘‘ اور انجام بخیر کے لئے آپ نے فرمایا کہ ’’اپنے لئے اور اپنے بیوی بچوں کے لئے مستقل دعا کرتے رہنا چاہئے۔‘‘

پھر آپ ہمیں نصیحت فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ’’وہ کام کرو جو اولاد کے لئے بہترین نمونہ اور سبق ہو۔‘‘ (یہ والدین کا کام ہے۔) فرمایا ’’اور اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے اوّل خود اپنی اصلاح کرو۔ اگر تم اعلیٰ درجہ کے متقی اور پرہیز گار بن جاؤ گے اور خدا تعالیٰ کو راضی کر لو گے تو یقین کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے ساتھ بھی اچھا معاملہ کرے گا‘‘۔ فرمایا کہ ’’قرآن شریف میں خضر اور موسیٰ علیہما السلام کا قصہ درج ہے کہ ان دونو نے مل کر ایک دیوار کو بنا دیا جو یتیم بچوں کی تھی۔ وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَکَانَ اَبُوْھُمَا صَالِحًا (الکہف:83) ان کا والد صالح تھا۔ یہ ذکر نہیں کیا کہ وہ آپ کیسے تھے۔‘‘ (بچے کیسے تھے، بلکہ ماں باپ کا ذکر کیا۔) فرمایا کہ’’پس اس مقصد کو حاصل کرو۔ اولاد کے لئے ہمیشہ اس کی نیکی کی خواہش کرو‘‘ (ملفوظات جلد8 صفحہ110۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) تو پھر اللہ تعالیٰ اولاد کی بہتری کے لئے اور ان کے رزق کے لئے بھی سامان پیدا فرماتا رہے گا۔

پس یہ وہ بنیادی اصول ہے جس کی طرف بار بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے توجہ دلائی ہے اور یہ قرآنی تعلیم کی ہی وضاحت ہے کہ ماں باپ کا اپنا نمونہ ہی بچوں کی تربیت میں کردار ادا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم میں سے ہر ایک اولاد کے لئے بہترین نمونہ بننے والے ہوں۔ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے عہد کو پورا کرنے والے ہوں۔ بعض لوگوں کی عادتیں ہوتی ہیں کہ دوسروں کی طرف دیکھتے رہتے ہیں کہ وہ کیسا ہے تو دوسروں کی طرف نظر رکھنے کی بجائے اپنی اصلاح کی طرف توجہ دینے والے ہوں اور تقویٰ پر چلنے والے ہوں۔ تبھی ہم آگے نیک نسل بھی چلا سکتے ہیں۔ اپنی اولاد کے لئے مستقل دعائیں کرنے والے ہوں تا کہ اللہ تعالیٰ ہماری اولاد کو بھی ہمیشہ ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے رکھے اور پھر یہ سلسلہ آگے بھی چلتا چلا جائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 14؍ جولائی 2017ء شہ سرخیاں

    اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی اکثریت یہ سوچ رکھتی ہے اور ان کو یہ توجہ ہے یا کم از کم فکر ہے کہ کس طرح اپنے بچوں کی تربیت کرنی ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کا ہم احمدیوں پر بہت بڑا فضل اور احسان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے کی وجہ سے ہماری سوچیں اس زمانے میں جبکہ دنیا کی خواہشات نے ہر ایک کو گھیرا ہوا ہے، یہ ہیں کہ ہم اپنی اولاد کے لئے صرف دنیا کی فکر نہیں کرتے بلکہ دین کی بہتری کا بھی خیال پیدا ہوتا رہتا ہے۔ قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر بچوں کی پیدائش سے پہلے سے لے کر تربیت کے مختلف دَوروں میں سے جب بچہ گزرتا ہے تو اس کے لئے دعائیں بھی سکھائی ہیں اور تربیت کا طریق بھی بتایا ہے اور والدین کی ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ اگر ہم یہ دعائیں کرنے والے اور اس طریق کے مطابق اپنی زندگی گزارنے والے اور اپنے بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دینے والے ہوں تو ایک نیک نسل آگے بھیجنے والے بن سکتے ہیں۔ اولاد کے نیک ہونے اور زمانے کے بد اثرات سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ اولاد کی خواہش اور اولاد کی پیدائش سے بھی پہلے مرد عورت دونوں نیکیوں پر عمل کرنے والے ہوں۔ اولاد کے لئے جب دعا ہو تو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل اور اللہ تعالیٰ کی کامل فرمانبرداری ضروری ہے تبھی دعا قبول ہوتی ہے۔ پس ماں کی بھی اور باپ کی بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ بچوں کی اصلاح کے لئے، ان کی تربیت کے لئے، مستقل اللہ تعالیٰ سے اپنی اولاد کی بہتری کے لئے دعا مانگتے رہیں اور اپنے نمونے اولاد کے لئے قائم کریں۔ اگر اپنے نمونے اس نصیحت کے خلاف ہیں جو ماں باپ بچوں کو کرتے ہیں تو پھر اصلاح کی دعا میں نیک نیتی بھی نہیں ہوتی۔ اور جب اس طرح کا عمل نہ ہو تو پھر یہ شکوہ بھی غلط ہے کہ ہم نے اپنی اولاد کے لئے بہت دعا کی تھی لیکن پھر بھی وہ بگڑ گئی یا ہمیں ابتلاء میں ڈال دیا۔

    واقفین نَو کے والدین کو بہت زیادہ توجہ دینی چاہئے کہ اپنے بچوں کو دین کی طرف توجہ دلائیں۔ جوواقفین نَو ہیں وہ پہلے جماعت سے پوچھیں کہ جماعت کو ضرورت ہے کہ نہیں اور جماعت اگر ان کو اپنے کام کرنے کی اجازت دیتی ہے تو کریں ورنہ ان کو خالصتاً اپنے عہد کو پورا کرتے ہوئے اور والدین کے عہد کو پورا کرتے ہوئے اپنے آپ کو وقف کے لئے پیش کرنا چاہئے۔

    فرمودہ مورخہ 14؍جولائی 2017ء بمطابق14؍وفا 1396 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور