جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۱۷ء اور ہماری ذمہ داریاں

خطبہ جمعہ 21؍ جولائی 2017ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

جلسہ سالانہ یوکے انشاء اللہ تعالیٰ اگلے جمعہ سے شروع ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ میں شمولیت کے لئے دوسرے ممالک سے مہمانوں کی آمد شروع ہو چکی ہے اور جوں جوں جلسے کے دن قریب آتے جائیں گے قریب و دور کے ممالک سے مہمانوں کی آمد میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ اسی طرح برطانیہ کے دوسرے شہروں سے بھی مہمان آنے شروع ہو جائیں گے۔

جلسہ کے مہمانوں میں علاوہ احمدیوں کے جو جلسہ کی برکات سے فیض یاب ہونے کے لئے آتے ہیں اب برطانیہ کے علاوہ بعض دوسرے ممالک سے غیر از جماعت اور غیر مسلم مہمان بھی تشریف لاتے ہیں جن میں بعض ممالک کے حکومتی نمائندے یا سرکاری افسر یا پڑھا لکھا طبقہ جو صاحب اثر و رسوخ ہے وہ شامل ہوتا ہے۔ اسی طرح پریس اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی تعدادمیں بھی اب اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اور یہ سب آنے والے جو غیر ہیں یہ بڑی گہری نظر سے ہماری ہر چیز دیکھتے ہیں اور عموماً متأثر ہوتے ہیں اور خاص طور پر جب ہمارے نظام کو دیکھتے ہیں جو تمام رضاکارانہ نظام ہے تو یہ چیز پھر تبلیغ کے مزید راستے کھولتی ہے، مزید تعارف ہوتا ہے، مزید احمدیت کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ پس ان دنوں میں ہمارے کام کرنے والے والنٹیئرز مرد عورتیں، لڑکے لڑکیاں، بچے ایک خاموش تبلیغ کر رہے ہوتے ہیں اور پریس کے ذریعہ احمدیت کا تعارف دنیا کے طول و عرض میں بڑے وسیع پیمانے پر پھیلتا ہے۔ اب جبکہ پریس کی توجہ عام دنوں میں بھی بعض اوقات بعض واقعات کی وجہ سے جماعت کی طرف ہو رہی ہے مثلاً یہاں یورپ میں بعض دہشتگردی کے واقعات کے بعد جماعت کے افرادنے جن میں عورتیں بھی شامل تھیں، مرد بھی شامل تھے، جنہوں نے ان واقعات کے بعد اسلام کا صحیح پیغام دنیا کو دینے کی کوشش کی اور ہمارے پریس سیکشن نے بھی اس میں بڑا کردار ادا کیا، ہمارے مربیان کے بھی بڑے انٹرویو آتے رہے۔ جماعت کو اسلام کی امن پسند تعلیم کے حوالے سے دنیا کی پریس نے دنیا میں وسیع پیمانے پر متعارف کروایا ہے۔ جوں جوں یہ واقعات بڑھ رہے ہیں جماعت کا تعارف بھی مزید بڑھ رہا ہے۔ تو بہرحال جلسہ کے دنوں میں بھی اللہ تعالیٰ اس ذریعہ سے یعنی جلسہ کے ذریعہ اسلام کا تعارف کروانے کے وسیع سامان مہیا فرما رہا ہے۔

جلسہ کے پروگراموں تقریروں وغیرہ کے ذریعہ جہاں احمدی روحانیت میں ترقی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سیکھنے کے لئے آتے ہیں وہاں غیر از جماعت مہمان اور پریس علمی اور اعتقادی لحاظ سے ہماری تعلیم کو سننے کے ساتھ ساتھ عمومی طور پر جلسہ کے ماحول اور احمدی عورتوں مردوں کی رضاکارانہ خدمت اور مہمان نوازی کے جذبے سے انہیں کام کرتا ہوا دیکھ کر اسلام کی خوبصورت تعلیم کا عملی مشاہدہ بھی کر لیتے ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ بہت بڑا تبلیغ کا ذریعہ ہے۔ پس رضاکار کارکنان کا ایک بہت بڑا کردار ہے اور کارکنان جہاں اور جس پوزیشن میں بھی کام کر رہے ہیں ان کی ایک اپنی اہمیت ہے اور اس اہمیت کو ایک عام معاون کارکن سے لے کر افسر تک ہر ایک کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ ایک عام معاون کارکن چاہے وہ چھوٹا سا پانی پلانے والا بچہ ہی ہو اس کا رویّہ اور ایک لگن سے بے نفس ہو کر کام کرنا جہاں اسے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا حاصل کرنے والا بنا رہا ہوتا ہے وہاں غیروں کو بھی متأثر کر رہا ہوتا ہے جس کا جلسہ میں شامل ہونے والے مہمان اظہار بھی کرتے ہیں۔ اسی طرح معاونین کے علاوہ افسران جو ہیں ان کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ صرف اپنے کارکنان اور معاونین کو ہی خدمت کرنے والا سمجھ کر ان سے کام نہ لیں بلکہ خود بھی عاجزی کے ساتھ ایک معاون اور ایک عام کارکن کی طرح کام کرنے کی کوشش کریں۔ اپنے کارکنوں سے اور دوسرے لوگوں سے بھی مہمانوں سے بھی اپنے رویّے نرم اور تعاون کرنے والے رکھیں۔ چہرے پر عاجزی اور نرمی کے تأثرات نظر آتے ہوں۔ زبان میں نرمی اور اخلاق کے اعلیٰ اظہار کے معیار قائم ہو رہے ہوں۔ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ مہمان نوازی ایک بہت اہم شعبہ ہے اور مہمان نوازی صرف کھانا کھلانا، پانی پلانا یا زیادہ سے زیادہ رہائش کا انتظام کر دینا ہی نہیں ہے بلکہ جلسہ سالانہ کا ہر شعبہ ہی مہمان نوازی ہے چاہے اسے کوئی بھی نام دیا گیا ہو۔ جلسہ پر جو بھی آتا ہے وہ مہمان ہے اور اس کی ضروریات کا خیال اپنے میسّر وسائل کے ساتھ رکھنا ہر اس شخص کا جو جلسہ سالانہ کی کسی بھی ڈیوٹی پہ متعین ہے ضروری ہے۔ اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے جذبات کا ایک جگہ اظہار فرمایا جو ہمارے لئے اصولی لائحہ عمل ہے۔ آپ علیہ السلام نے ایک موقع پر فرمایا کہ: ’’میرا ہمیشہ خیال رہتا ہے کہ کسی مہمان کو تکلیف نہ ہو بلکہ اس کے لئے ہمیشہ تاکید کرتا رہتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے مہمانوں کو آرام دیا جاوے‘‘۔ فرمایا کہ’’مہمان کا دل مثل آئینہ کے نازک ہوتا ہے اور ذرا سی ٹھیس لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 5صفحہ 406۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس اس بات کو ہمیں یاد رکھنا چاہئے اور اگر بعض دفعہ کوئی ایسے حالات پیدا ہوں تو اپنی طبیعتوں پر جبر کر کے بھی ہمیں مہمان کو آرام اور سہولت پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے اور ہر شعبہ کے افسران سے میں کہوں گا کہ اگر ان کا رویّہ نرم ہے، ان کے اخلاق اچھے ہیں، ان میں صبر کا مادہ ہے، ان میں نامناسب بات سننے کا بھی حوصلہ بڑھا ہوا ہے تو ان کے نائبین اور معاونین بھی ایسے ہی رویّے مہمانوں کے ساتھ دکھائیں گے، ان کا اظہار کریں گے اور مہمان نوازی کے عمدہ نمونے قائم کریں گے۔ لیکن اگر افسران کے چہروں پر سختی، باتوں میں کرختگی اور بات کو غور سے نہ سننے اور برداشت نہ کرنے کی عادت ہے تو ان کے نائبین بھی اور معاونین بھی ویسے ہی رویّے دکھانے والے ہوں گے۔ پس مہمان نوازی کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کے لئے ہر شعبہ کے افسران اپنی حالت کا جائزہ لیتے رہیں اور عاجزی اور انکساری کو انتہا تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ جیسا کہ مَیں نے کہا کہ ایک دو شعبہ ہی مہمان نوازی کے تحت نہیں آتے بلکہ جلسہ سالانہ کا ہر شعبہ ہی مہمان نوازی کا شعبہ ہے۔ چاہے وہ رہائش کا شعبہ ہے یا کھانے پکانے کا شعبہ ہے یا کھانا کھلانے کا انتظام ہے یا ٹرانسپورٹ کا انتظام ہے یا صفائی اور غسل خانوں کا انتظام ہے یا ڈاکٹر اور پیرامیڈیکس پر مشتمل صحت کی نظامت ہے یا راستوں کی رہنمائی کرنے والے خدام ڈیوٹی پر یا دوسرے لوگ یا سیکیورٹی کا شعبہ ہے اور اس کے علاوہ دوسرے شعبے، ہر ایک اپنے اپنے دائرے میں میزبان ہے۔

رہائش کے انتظام والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اجتماعی قیامگاہوں میں بھی اور خیموں میں بھی عورتوں بچوں کی بیڈنگ وغیرہ کا خاص طور پر خیال رکھیں۔ بیشک آجکل گرمیوں کے دن ہیں لیکن رات کو موسم ایک دم ٹھنڈا بھی ہو سکتا ہے اور حدیقۃ المہدی میں جہاں جلسہ ہونا ہے انشاء اللہ تعالیٰ، لندن کی نسبت ویسے بھی چار پانچ ڈگری ٹمپریچر کم رہتا ہے اس لئے جو لوگ اپنے سونے وغیرہ کا انتظام کر کے آتے ہیں، بعض لوگ اپنے ٹینٹ بھی لے آتے ہیں انہیں اس بات کو سامنے رکھنا چاہئے کہ رات کے لئے بستروں کا باقاعدہ اچھا انتظام ہو۔

گزشتہ سال کا تجربہ یہی ہے کہ بچوں والے بعض دفعہ موسم ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے رات کو پریشان ہوتے رہے۔

اسی طرح کھانا کھلانے والے ہیں جن کا براہ راست مہمانوں سے واسطہ ہے انہیں مَیں ہمیشہ یاددہانی کرواتا ہوں کہ کھانا دیتے ہوئے پلیٹ میں ڈالتے ہوئے مہمان کی پسند کو بھی دیکھ لیا کریں گو اس میں کافی دقّت اور مشکل پیش آتی ہے لیکن بہرحال کوشش کریں جس حد تک دیکھ سکتے ہیں دیکھیں اور اگر کوئی مجبوری ہو تو پھر بجائے سختی سے جواب دینے کے احسن رنگ میں اس کو جواب دیں، جس سے دوسرے کے جذبات کو تکلیف نہ ہو۔

اس سال جلسہ کے انتظام کے تحت جو کھانے کی پلیٹیں ہیں وہ بھی بدلی گئی ہیں۔ جو پہلے پلیٹیں استعمال ہوتی تھیں ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ایک خاص ٹمپریچر سے زیادہ کا کھانا ان پلیٹوں میں نہیں دینا چاہئے کیونکہ بعض زہریلے کیمیکل اس میں سے نکلتے ہیں اور ہمارا کھانا تو کافی گرم ہوتا ہے اس لئے افسر جلسہ سالانہ نے مجھے اس سال استعمال ہونے والی پلیٹس دکھائی ہیں وہ خاص قسم کے کاغذ کی ہوں گی اس لئے کھانا ڈالنے والے جو لوگ ہیں وہ بھی احتیاط کریں کہ شاید پتلی ہوں تو دو پلیٹیں جوڑ کر استعمال کریں۔ کھانا تقسیم کرنے والوں کی بھی اس بارے میں جو جلسہ سالانہ کا شعبہ ہے ان کی صحیح رہنمائی ہونی چاہئے۔

پھر ٹرانسپورٹ کا نظام بھی ایک بہت اہم نظام ہے اور اس مرتبہ دُور پارکنگ کی وجہ سے زیادہ تر شٹل بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور اسے بھی جلسہ سالانہ کے نظام کو زیادہ سے زیادہ فعّال کرنا ہو گا تا کہ لوگ بروقت جلسہ پر پہنچ سکیں اور کاروں پر آنے والے مہمانوں کو بھی یہ خیال رکھنا چاہئے کہ ان کی پارکنگ دُور ہو سکتی ہے اور جلسہ گاہ سے کافی فاصلہ پر بھی ہو سکتی ہے اس لئے وقت کا مارجن (Margin) رکھ کر اپنا سفر شروع کریں۔ اسی طرح دوسرے شعبے ہیں ہر ایک کو اپنے کام کے طریق اور اپنے کارکنوں کی تربیت مہمانوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت مہیا کرنے کی سوچ کے ساتھ کرنی چاہئے۔

خدمت خلق اور سیکیورٹی کے کارکنان کو بھی پہلے سے زیادہ ہوشیار ہو کر کام کرنا ہو گا جو دنیا کے آجکل کے حالات ہیں۔ ساتھ ہی مہمانوں کی عزت نفس اور جذبات کا خیال رکھتے ہوئے یہ سارا کام کرنا ہے۔ کارڈ چیک کرنے اور دوسری چیکنگ، سکیننگ وغیرہ میں پہلے دن سے لے کر آخری دن تک پوری توجہ دینی ہو گی، پوری توجہ سے چیک کرنا ہو گا اور ہر مرتبہ اگر کوئی شخص باہر جاتا ہے تو اندر آنے پر اس کو چیک کرنا ہو گا۔ لیکن یہ بھی خیال رکھنا ہے کہ ان کو کسی طرح اس قسم کا احساس نہ ہو کہ صرف انہی پر نظر ہے یا کوئی بُرا سلوک کیا جا رہا ہے۔

بہرحال جلسہ کے انتظامات ایسے انتظامات ہیں جو ہم عارضی کرتے ہیں اور مجھے اچھی طرح احساس ہے کہ جلسہ کا جو یہ عارضی انتظام ہے، عارضی انتظام ہونے کی وجہ سے غلطیوں اور کمیوں سے خالی نہیں ہو سکتا بلکہ مستقل انتظاموں میں بھی کمیاں اور خامیاں پیدا ہو جاتی ہیں لیکن ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جس حد تک ہم اپنی صلاحیتوں، استعدادوں اور وسائل کو استعمال کر کے مہمانوں کو سہولت پہنچانے کا انتظام کر سکتے ہیں، کریں۔ جلسہ سالانہ پر شامل ہونے والا ہر شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مہمان ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مہمان ہونے کی وجہ سے ہم نے ہر مہمان کو خاص مہمان سمجھنا ہے اور اس کی مہمان نوازی میں بھرپور کوشش کرنی ہے گو کہ جلسہ سالانہ کے انتظام کے تحت ایک شعبہ ایسا بھی ہوتا ہے جو نگرانی وغیرہ کا شعبہ ہے جو مختلف شعبوں کا معائنہ بھی کرتا ہے جس کے کارکنان شعبوں کا جائزہ لے کر کمیوں اور خامیوں کی طرف اپنے افسر کے ذریعہ سے جلسہ سالانہ کے نظام کو توجہ دلاتے ہیں لیکن ہر شعبہ کے افسر کو بھی چاہئے کہ اپنے شعبہ سے متعلقہ کمیوں کو دیکھنے کے لئے کچھ لوگوں کی ڈیوٹی لگا دیں جو اپنے شعبے کے کاموں کی کمی بیشی کا جائزہ لے کر شام کو اپنے افسر کو رپورٹ دیں۔ اس سے جلسہ کے دوران بھی اور آئندہ سال کے جلسہ میں بھی بہتری پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جائزہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ لنگر کے مہتمم کو مہمانوں کی ضروریات کا جائزہ لیتے رہنا چاہئے لیکن کیونکہ وہ اکیلا آدمی ہے اس لئے بعض دفعہ خیال نہیں رہتا۔ بعض باتیں نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں اس لئے دوسرا شخص یاد دلا دے۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 7صفحہ 220۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) اور یاددہانی کے لئے بہترین طریق یہی ہے کہ افسر خود کسی کو اس یاد دہانی کے لئے مقرر کریں جو جائزہ لیتا رہے کہ کہاں کہاں کمی ہے۔

امیر غریب کی یکساں مہمان نوازی ہونی چاہئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہماری رہنمائی کے لئے بعض چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف بھی رہنمائی فرمائی ہے اور بڑی باریکی سے مہمان نوازی کے طریق سمجھائے ہیں۔ چنانچہ ایک موقع پر فرمایا کہ: ’’جو نئے ناواقف آدمی ہیں‘‘ یعنی آنے والے مہمان جو پوری طرح واقفیت نہیں رکھتے، یہاں بھی کئی نئے مہمان دوسرے ملکوں سے آتے ہیں فرمایا کہ’’تویہ ہمارا حق ہے کہ ان کی ہر ایک ضرورت کو مدّنظر رکھیں‘‘۔ فرمایا کہ’’بعض وقت کسی کو بیت الخلا کا ہی پتہ نہیں ہوتا تو اسے سخت تکلیف ہوتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مہمانوں کی ضروریات کا بڑا خیال رکھا جاوے۔‘‘ آپ نے فرمایا کہ’’جن لوگوں کو ایسے کاموں کے لئے قائمقام کیا ہے (یا مقرر کیا ہے) یہ ان کا فرض ہے کہ کسی قسم کی شکایت نہ ہونے دیں۔ کیونکہ لوگ صدہا اور ہزارہا کوس کا سفر طے کر کے صدق اور اخلاص کے ساتھ تحقیق حق کے واسطے آتے ہیں۔‘‘ (ملفوظات جلد 7صفحہ 220۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

گو یہ بات آپ نے غیر لوگوں کے حوالے سے بھی بیان فرمائی ہے لیکن اپنوں کو بھی مہمان نوازی اور جلسہ کی مہمان نوازی کے بارے میں بھی ایسے ارشادات ملتے ہیں جہاں آپ نے بہت توجہ دلائی ہے۔ اور پھر جیسا کہ مَیں نے کہا جو غیر از جماعت مہمان یا پریس کے نمائندے ہمارے جلسہ میں شامل ہوتے ہیں وہ عمومی رویّوں کا بھی جائزہ لے رہے ہوتے ہیں۔ پس ہر شعبہ کے کارکن کے حُسنِ اخلاق کا معیار بہت وسیع ہونا چاہئے۔

پھر ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ: ’’میرے اصول کے موافق اگر کوئی مہمان آوے اور سبّ و شتم تک بھی نوبت پہنچ جاوے تو اس کو گوارا کرنا چاہئے‘‘۔ (ملفوظات جلد 5صفحہ 91۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس مہمان کا سخت رویہ بھی برداشت کرنا چاہئے چاہے وہ غیر ہیں یا اپنے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمان نوازی کا معیار کا ذکر لکھنے والے نے اس طرح ایک دفعہ کا ذکر لکھا ہے کہ ’’اعلیٰ حضرت حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مہمان نوازی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اعلیٰ اور زندہ نمونہ ہیں‘‘۔ یہ لکھتے ہیں کہ ’’جن لوگوں کو کثرت سے آپ کی صحبت میں رہنے کا اتفاق ہوا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ کسی مہمان کو (خواہ وہ سلسلہ میں داخل ہو یا نہ ہو)‘‘ یعنی احمدی ہے یا نہیں ہے ’’ذرا سی بھی تکلیف حضور کو بے چین کر دیتی ہے۔‘‘ لکھتے ہیں کہ’’مخلصین احباب کے لئے تو اَور بھی آپ کی روح میں جوش اور شفقت ہوتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 7 صفحہ101۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)۔ جو احمدی ہیں، مخلصین ہیں ان کے لئے بڑا جوش اور شفقت ہوتا ہے۔ پس یہ جوش اور شفقت ہمیں جلسہ پر آنے والے مہمانوں کے لئے زیادہ سے زیادہ دکھانا چاہئے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہمان کی اہمیت اور احترام کے بارے میں ہمیں کیا ارشاد فرمایا ہے؟ اس بارے میں ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان کے لئے تین باتوں کا کرنا ضروری ہے۔ یہ کہ اچھی بات کہو یا خاموش رہو۔ اپنے پڑوس کی عزت کرو اور تیسرے یہ کہ اپنے مہمان کا احترام کرو۔ (صحیح مسلم کتاب الایمان باب الحث علی اکرام الجار والضیف … الخ حدیث 173) پس مہمان کا احترام بھی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان کی شرطوں میں سے ایک شرط ہے۔ اس کے علاوہ اور بہت سی شرائط ہیں۔ یا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک مومن کے ایمان کے اعلیٰ معیار کے لئے مہمان نوازی بھی ایک شرط ہے۔

مہمان نوازی کے ضمن میں یہ بھی بتا دوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مہمانوں کی دینی حالت کی بہتری اور تربیت کا بھی خیال فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ نے آئے ہوئے مہمانوں کو کھانا وغیرہ کھلانے کے بعد ان کو ان کی خواہش کے مطابق مسجد میں سونے کے لئے بھیج دیا اور پھر صبح فجر کی نماز کے لئے سب کو جگایا۔ (مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحہ 351-352 حدیث 15628 حدیث طخفۃ بن قیس الغفاریؓ مطبوعہ عالم الکتب بیروت 1998ء) تو جلسہ میں جو شعبہ تربیت ہے وہ بھی اس لئے قائم کیا گیا ہے کہ مہمانوں کو نماز کے لئے بھی توجہ دلاتے رہیں اور فجر اور تہجد کے لئے جگائیں لیکن نرمی اور پیار سے۔ بہرحال یہ چند باتیں تھیں جو مہمانوں کے حوالے سے مَیں نے کہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کارکنان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مہمانوں کی احسن رنگ میں خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

نمازوں کے بعد مَیں دو جنازے غائب بھی پڑھاؤں گا۔ پہلا ہے مکرم سید محمد احمد صاحب ابن حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جو 13؍جولائی کو قریباً 92 سال کی عمر میں لاہور میں وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب کے سب سے بڑے بیٹے تھے اور اس طرح حضرت اُمّ المومنین، امّاں جان آپ کی پھوپھی تھیں۔ آپ کی شادی حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کی چھوٹی بیٹی سے ہوئی۔ اس طرح آپ ان کے سب سے چھوٹے داماد بھی تھے۔ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے دو شادیاں کی تھیں۔ پہلی شادی حضرت شوکت سلطان صاحبہ کے ساتھ تھی جو 1906ء میں ہوئی تھی ان سے کوئی اولادنہیں ہوئی اور ان کی دوسری شادی امۃ اللطیف بیگم صاحبہ سے 1917ء میں ہوئی جو حضرت مرزا محمد شفیع صاحب دہلوی محاسب صدر انجمن احمدیہ کی بیٹی تھیں۔ ان سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے سات بیٹیاں اور تین بیٹے پیدا ہوئے۔ (ماخوذ از حضرت میر محمد اسماعیل رضی اللہ عنہ از سید حمید اللہ نصرت پاشا صفحہ 94 طبع دوم 2009ء قادیان) میر محمد احمد صاحب نے قادیان سے 1939ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیااور پھر گورنمنٹ کالج لاہور سے بی ایس سی کا امتحان دیا۔ پھر آپ 1943ء میں رائل انڈین ائیر فورس میں بطور فلائٹ کیڈٹ کے شامل ہو گئے۔ آپ کی بیگم مکرمہ امۃ اللطیف صاحبہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی بیٹی ہیں اور ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ ایک بیٹے ہاشم اکبر صاحب یہاں ہمارے ہارٹلے پول کے صدر جماعت بھی ہیں اور ایک بیٹی ڈاکٹر عائشہ ہیں۔ یہ امریکہ میں ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بارہ میں انہوں نے خود بھی ایک دفعہ اپنے حالات لکھے تھے۔ 1943ء میں فلائٹ کیڈٹ بھرتی ہوئے اور جنگ عظیم میں فائٹر پائلٹ کے طور پر برطانیہ کی طرف سے جنگ میں شامل ہوئے۔ جنگ کے دوران برما فرنٹ پر 1945ء میں آپ کے جہاز کو ایک دفعہ کریش لینڈنگ بھی کرنی پڑی۔ جہاز تباہ ہو گیا لیکن آپ معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ پھر 1947ء میں آپ کی ٹرانسفر سول ایوی ایشن کے محکمہ میں ہو گئی۔ انڈین نیشنل ایئر بیس میں فلائنگ ڈیوٹی ادا کرتے رہے اور اس وقت 1947ء میں حالات خراب تھے۔ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب کی وفات بھی 1947ء میں ہوئی تھی لیکن حالات کی وجہ سے آپ ان کے جنازے میں شامل نہیں ہو سکے اور دو دن بعد قادیان پہنچے۔

ان کے جو تاریخی لحاظ سے جماعت کے ساتھ وابستہ واقعات ہیں وہ یہ ہیں کہ جب ایئر فورس میں تھے تو اس وقت پارٹیشن کے وقت حضرت مصلح موعودؓ کی ہدایت پر جماعت نے دو چھوٹےجہاز خریدے تھے۔ پائلٹ کی ضرورت تھی۔ کہتے ہیں ایک رات مجھے پیغام ملا کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بلایا ہے کہ فوراً آ جاؤ تو یہ اسی وقت قادیان روانہ ہو گئے اور وہاں جا کے طے پایا کہ جہاز کے انچارج حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب، خلیفۃ المسیح الثالث، جو اُس وقت صدر خدام الاحمدیہ تھے وہ ہوں گے اور ان کے تحت یہ کام کریں گے۔ بہرحال اس وقت یہ بہت سا ضروری سامان پاکستان پہنچاتے رہے۔

ایک دلچسپ واقعہ جو انہوں نے لکھا ہے جو ایک بڑا تاریخی اور بڑا اہم واقعہ ہے وہ یہ ہے کہ ایک دن صبح مجھے مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قصر خلافت کے دفتر میں بلایا اور مجھے کہا کہ تمہیں اپنی آج سب سے قیمتی چیز مَیں دے رہا ہوں جو تم نے لاہور لے کر جانی ہے اور شیخ بشیر احمد صاحب کے سپرد کرنی ہے اور اس چیز کی حفاظت اور احتیاط کے بارے میں تم نے شیخ صاحب کو انہی الفاظ میں بیان کرنا ہے جیسا مَیں تمہیں بتا رہا ہوں اور ان سے وصولی کی رسید بھی لینی ہے جو پھر تم نے واپس آ کر مجھے دینی ہے۔ تو میر صاحب کہتے ہیں کہ میرا ناپختہ ذہن تھا اس وقت یہ خیال مجھے آیا کہ شاید حضور مجھے کوئی جماعت کا خزانہ یا جواہرات اور ہیروں کا بکس دیں گے جو مَیں نے لے کر جانا ہے۔ لیکن تھوڑی دیر بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی اپنی جگہ سے اٹھے اور ایک میلا سا چھوٹا ٹریول بیگ لا کر مجھے دیا۔ بیگ کینوس کا تھا اور زِپ (zip) بھی اُس کا ٹوٹا ہوا تھا۔ بیگ کاغذات سے بھرا ہوا تھا۔ آپ نے وہ بیگ میرے سامنے رکھا اور فرمایا کہ میری قرآن شریف کی لکھی ہوئی تفسیر کا کچھ حصہ تو چھپ چکا ہے۔ کچھ حصہ لکھا جا چکا ہے مگر ابھی چھپا نہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے فرمایا کہ مگر ابھی بہت سے حصہ کی تفسیر لکھنے کا کام باقی ہے۔ چونکہ میری زندگی کا ایک بڑا مشن اس تفسیر کو مکمل کرنا ہے اس لئے میری عادت ہے کہ دن ہو یا رات، چلتا پھرتا ہوں یا کوئی اور کام کر رہا ہوں مگر جو بھی کر رہا ہوں اگر قرآن شریف کی کسی آیت کے بارے میں میرے ذہن میں کوئی نیا مطلب آئے تو مَیں فوراً اس پوائنٹ کو ایک سادہ کاغذ پر لکھ کر اس بیگ میں ڈال کر محفوظ کر لیتا ہوں تا کہ بوقت ضرورت کام آ سکے۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ ضروری نہیں کہ ان کاغذات پر لکھے ہوئے نوٹس میں کوئی ترتیب ہو مگر میرے لئے یہ بہت بڑا سرمایہ ہے۔ تو میر صاحب کہتے ہیں مَیں نے حضور سے بیگ لیا، اسے سنبھالا اور ہوائی جہاز پر رکھ کر لاہور لے گیا اور وہاں جا کے ایئر پورٹ سے فون کر کے شیخ بشیر احمد صاحب کو بلایا اور ان کے یہ سپرد کر دیا اور ان سے رسید لی۔ یہ کافی لمبا واقعہ ہے اور ایک تاریخی واقعہ ہے کہ حضرت مصلح موعودؓ کے اہم قیمتی نوٹس جو تھے وہ یہ لے کر آئے۔ اس بارے میں حضرت مصلح موعودنے خاص تاکید فرمائی تھی۔ بہرحال 1950ء میں پھر حضرت مصلح موعودنے ان کو کہہ دیا کہ ٹھیک ہے اب تم ایئر فورس واپس جا سکتے ہو جہاں انہوں نے 1965ء تک ایئر فورس میں ملازمت کی اور وِنگ کمانڈر کے عہدے تک پہنچے اور اس دوران میں انہوں نے بعض بڑے کورسز بھی کئے۔ انگلینڈ میں بھی کورسز کئے۔ 1960ء سے تریسٹھ تک کوئٹہ میں آرمی کمانڈ اینڈ سٹاف کالج میں بطور انسٹرکٹر بھی رہے۔ وار پلاننگ (war planning) کے انچارج بھی رہے اور جب یہ 1953ء میں کچھ فضائیہ کے ٹریننگ کورس کرنے کے لئے یہاں آئے تھے اس وقت مکرم چوہدری ظہور باجوہ صاحب یہاں مشنری تھے تو کہتے ہیں کہ اپنی ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد کیونکہ میرے واپسی کے چند دن باقی تھے اس لئے یہاں مشن ہاؤس میں باجوہ صاحب کے پاس مَیں ٹھہر گیا۔ اس وقت کہتے ہیں مجھے باجوہ صاحب کے ذریعہ سے کرنل ڈگلس صاحب سے ملاقات کا موقع پیدا ہوا۔ باجوہ صاحب نے انہیں میرا تعارف کروایا۔ کہتے ہیں کہ کرنل ڈگلس صاحب کے پاس گئے تو ان سے میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس مقدمہ کے بارے میں پوچھا جو قتل کا مقدمہ تھا۔ کہتے ہیں کرنل صاحب نے کہا کہ مَیں اس وقت گورداسپور کا ڈپٹی کمشنر تھا۔ کہتے ہیں کہ کیپٹن ڈگلس صاحب نے کہا کہ جب یہ قتل کا مقدمہ میرے پاس پیش ہوا اس سے چند سال پہلے کا ایک واقعہ ہے جہاں سے میں تمہیں سنانا شروع کرتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ میں اس زمانے میں بٹالہ کا اسسٹنٹ کمشنر تھا۔ ایک روز میں امرتسر سے بٹالہ ٹرین میں واپس آ رہا تھا۔ کرنل ڈگلس نے ان کو بتایا (یہ بھی ایک تاریخی واقعہ ہے) کہ آخری بوگی کے فرسٹ کلاس میں سوا رتھا تو امرتسر سے چلنے سے پہلے وہ کہتے ہیں کہ مجھے گورداسپور کے اسسٹنٹ کمشنر کا پیغام ملا کہ مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے اس لئے میں تمہیں بٹالہ کے سٹیشن پر ملوں گا۔ کرنل ڈگلس کہتے ہیں جب ٹرین بٹالہ پہنچی تو اسسٹنٹ کمشنر گورداسپور سٹیشن پر موجودنہیں تھا۔ اس خیال سے کہ شاید ٹرین کی سب سے اگلی بوگی والے فرسٹ کلاس میں مجھے ڈھونڈ رہا ہو گا۔ میں جلدی سے ٹرین سے اترا اور پلیٹ فارم کے جنگلے کے ساتھ ساتھ جلدی جلدی قدم بڑھاتے ہوئے ٹرین کے سب سے اگلے حصہ کی طرف روانہ ہوا۔ پھر کرنل ڈگلس نے ان کو بتایا کہ جب مَیں پلیٹ فارم کا قریباً دو تہائی حصہ عبور کر چکا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے سے ایک شخص چلا آ رہا ہے نگاہیں نیچی ہیں بے حدنورانی چہرہ ہے اس کے چہرے میں ایک ایسی کشش تھی کہ میرا دل اور دماغ ہل کر رہ گئے۔ کرنل صاحب کہتے ہیں کہ لگتا تھا کہ اسے دنیا سے کوئی رغبت ہی نہیں اور وہ آہستہ آہستہ چلا آ رہا تھا۔ میرے لئے ممکن ہی نہ رہا کہ اتنے نورانی چہرے سے اپنی نگاہیں اٹھا سکوں چنانچہ میں ٹکٹکی باندھے اس کے چہرے کی طرف دیکھتا رہا۔ وہ شخص میرے پاس سے گزر گیا تو پھر بھی مَیں اسے دیکھتا رہا اور آہستہ آہستہ گھومتا گیا اور آخر کار میں الٹے پاؤں چلنے لگ گیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دوسری طرف جا رہے تھے یہ دوسری طرف جا رہے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھنے کے لئے انہوں نے اپنا رخ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف کر لیا اور الٹے پاؤں جس طرف جا رہے تھے اس طرف چلنا شروع کر دیا تا کہ میں اس شخص کو دیکھتا رہوں۔ تو کہتے ہیں اس عرصے میں اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر جو انڈین تھا وہ بھی اپنی جھنڈیاں لے کر آ گیا لیکن اس نے مجھے نہیں دیکھا۔ الٹا چلتے ہوئے ہماری ٹکر ہو گئی جس کی وجہ سے وہ گر گیا حالانکہ قصور میرا تھا لیکن کیونکہ اس وقت انگریزوں کی حکومت تھی وہ اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر مجھ سے معافیاں مانگنے لگ گیا۔ اس سے میں نے کہا نہیں تمہارا قصور نہیں، میرا ہے۔ خیر میں نے اس سے پوچھا کہ یہ جو شخص جا رہا ہے یہ کون ہے؟ تو اس اسٹیشن ماسٹر نے کہا آپ نہیں جانتے؟ یہ قادیان کے مرزا صاحب ہیں۔ تو کہتے ہیں مَیں اس وقت جذباتی طور پہ بڑا مغلوب ہو چکا تھا۔ ایسا نورانی چہرہ میں نے ساری عمر کبھی نہیں دیکھا تھا اور یہ اثر مجھ پر کافی عرصے تک قائم رہا۔ پھر آہستہ آہستہ بھول گیا۔ کہتے ہیں کہ پھر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فائل آئی اور مَیں جج مقرر ہو کے آیا تو اس وقت میں نے دیکھا کہ فائل بڑی مکمل ہے۔ جو کیس بنایا گیا ہے یہ بڑا صحیح طریقے سے بنایا گیا ہے اور کوئی اس میں سقم نہیں ہے اور ملزم کو سزا بہرحال دینی پڑے گی۔ لیکن کہتے ہیں مگر جب میں نے یہ پڑھا کہ ملزم مرزا غلام احمد آف قادیان ہے تو مجھے ایک سخت دھچکا لگا۔ وہ کئی سال پہلے کی پرانی بات مجھے یاد آ گئی اور میرا دل ہرگز یہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھا کہ جو چہرہ میں نے بٹالہ کے اسٹیشن پر چند سال پہلے دیکھا تھا وہ ایسا کام کرے بلکہ ایسا سوچ بھی سکے۔ کہتے ہیں کہ مَیں بہت پریشان ہوا اور متواتر پریشان رہا اور کئی بار فائل میں سے کوئی غلطی نکالنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ وہ سکا۔ اس پریشانی کی حالت میں کہتے ہیں میں نے انگریز ڈی ایس پی کو اپنے دفتر میں بلوایا تا کہ اس کے ساتھ کیس کے بارے میں مشورہ کروں۔ ڈی ایس پی سے پوچھا کہ عبدالحمید جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پہ الزام لگایا تھا کہ نعوذ باللہ آپ نے اس کو قتل کے لئے بھیجا ہے کیا وہ پولیس کے قبضہ میں ہے یا ابھی چرچ کے پاس ہے۔ تو اس سوال پر کہتے ہیں انگریز ڈی ایس پی چونکا کیونکہ اسے اچانک احساس ہوا کہ پولیس نے ایک بہت بڑی غلطی کی ہے کیونکہ پولیس نے عبدالحمید کو اپنی حراست میں نہیں رکھا بلکہ چرچ کے پاس ہی رہنے دیا اور کہتے ہیں وہ اسی وقت بھاگتا ہوا گیا کہ میں ابھی آتا ہوں۔ کچھ دیر کے بعد جب وہ انگریز ڈی ایس پی واپس آیا تو اس نے کہا کہ ہم سے بڑی غلطی ہو گئی تھی کہ ہم نے عبدالحمید کو چرچ کے پاس ہی رہنے دیا۔ اب ہم نے اسے اپنے قبضہ میں لے لیا ہے اور وہ مان گیا ہے کہ یہ کیس بالکل جھوٹا ہے اور میں نے چرچ سے رقم لینے کے لئے لالچ میں یہ کہانی گھڑی ہے۔ چنانچہ کیس چلا اور سب گواہیاں سننے کے بعد کرنل ڈگلس صاحب کہتے ہیں کہ میں نے مرزا صاحب کو باعزت طور پر بری کر دیا۔ فیصلہ سنانے کے بعد میں نے مرزا صاحب سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو استغاثہ کرنے والوں پر آپ ہرجانہ کا کیس کر سکتے ہیں۔ مگر انہوں نے فرمایا کہ نہیں ہمارا مقدمہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے مجھے کوئی ہرجانہ نہیں چاہئے۔ (ماخوذ از الفضل مورخہ 26 اگست 2010ء صفحہ 3 تا 5، مورخہ 27 اگست 2010ء صفحہ 3-4، مورخہ 30 اگست 2010ء صفحہ 5، مورخہ 18 مئی 2009ء صفحہ 3-4)

تو یہ دو تاریخی واقعات ان کے ہیں۔ ایک تو پارٹیشن کے وقت حضرت مصلح موعودؓ کا سامان لانے کا اور ایک یہ کرنل ڈگلس کی کہانی۔ باقی واقعہ تو سنا ہی ہوا ہے لیکن یہ اتنا حصہ جو پہلے تھا وہ بہت کم لوگوں نے سنا یا پڑھا ہے۔

آپ جیسا کہ میں نے بتایا حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب کے سب سے بڑے بیٹے تھے اور اس لحاظ سے جو انتخاب خلافت کمیٹی ہے، صحابی کے بڑے بیٹے ہونے کی حیثیت سے اس کے ممبر بھی تھے اور خلافت ثالثہ، رابعہ اور خامسہ میں انتخاب خلافت کمیٹی میں شامل ہوئے اور انہوں نے یہی کہا کہ انتخاب کے وقت جو جذبات اور احساسات ہوتے ہیں اس سے مَیں گواہی دے سکتا ہوں کہ جو خلافت ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے کیونکہ بعض دفعہ آدمی کچھ اور سوچ رہا ہوتا ہے لیکن جس کو اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنانا ہوتا ہے اس کے لئے ہی دل میں تحریک پیدا کرتا ہے۔ بہت نیک، دعا گو تھے لیکن خاموش دعا گو انسان تھے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو عشق اور محبت تھی ان کے بارے میں ان کی بیٹی لکھتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گہری محبت تھی اور مجھے بھی یہی کہتے تھے کہ اللہ کی عظمت کو ہر دن محسوس کرنے کی کوشش کرو۔ محض رسمی عبادت کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ پھر وہ لکھتی ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک سیرت کا مطالعہ کرتے تو آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔ بڑی محبت اور جذبات کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کیا کرتے تھے۔ اور کہتی ہیں دنیاوی سرگرمیاں بھی ہوں چاہے تیراکی ہے یا سیر ہے اس میں ہر وقت ذکر الٰہی اور اللہ تعالیٰ کی یاد کو ہمیشہ سامنے رکھتے۔ اور باپ ہونے کے لحاظ سے بھی بڑے شفیق باپ تھے۔ سارے بچوں کا خیال رکھا۔ بچوں کو سمجھاتے رہے۔ خلافت سے تعلق بھی ان کا بہت مضبوط تھا۔ میرے ساتھ بھی خلافت کے بعد انہوں نے خاص تعلق رکھا اور اسے بڑھایا اور بڑا اخلاص و وفا کا اظہار کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، مغفرت کا سلوک فرمائے اور ان کے بچوں کو بھی ان کی نیکیوں پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

دوسرا جنازہ مکرمہ محمودہ بیگم صاحبہ اہلیہ چوہدری محمد صدیق بھٹی صاحب کا ہے جو ہمارے مبلغ سلسلہ نائیجر اصغر علی بھٹی صاحب کی والدہ ہیں۔ یہ 16؍جولائی کو 73 سال کی عمر میں وفات پا گئیں اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ان کے خاندان میں احمدیت 1928ء میں آئی جبکہ آپ کے دادا چوہدری سرور خان صاحب مرحوم نے احمدیت قبول کی۔ ان کے بیٹے لکھتے ہیں کہ آپ نے کفایت شعاری اور خودداری سے زندگی گزاری۔ خوددار خاتون تھیں۔ بارعب تھیں۔ ساری عمر صبر اور دعا سے آپ کی زندگی عبارت تھی۔ خلافت سے بے پناہ محبت تھی۔ جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔ انتہائی سادہ اور غریب پرور خاتون تھیں۔ نماز اور قرآن سے عشق تھا۔ صبح تین بجے تہجد کے لئے بلا ناغہ اٹھ جاتیں اور کہتی تھیں کہ تہجد مَیں نے شادی سے پہلے شروع کی تھی اور مجھے نہیں یاد کہ کبھی سستی کی وجہ سے میں نے تہجد چھوڑی ہو۔ لکھتے ہیں کہ ناشتہ وغیرہ اور گھر کے دوسرے کاموں سے جلدی جلدی فارغ ہوکر اشراق کی نماز کے لئے کھڑی ہو جاتیں۔ ان کے میاں 28 سال تک اپنی جماعت کے صدر رہے اس عرصہ میں جو بھی آنے والے لوگ تھے ان کی مہمان نوازی انہوں نے بہت بڑھ چڑھ کے کی اور ان کے بیٹے لکھتے ہیں کہ مالی حالت اچھی نہ ہونے کے باوجود غریبوں کی مدد بھی کرتی تھیں۔ اگر کوئی پریشانی یا مالی تنگی ہوتی تو نماز شروع کر دیتی تھیں اور تنگی کے باوجود بچوں کو تعلیم دلوائی۔ بچوں کی خاطر تعلیم کی خاطر اپنا زیور اور مویشی تک بیچ دئیے۔ اپنے بھائیوں اور والدین کی وفات کے صدمے برداشت کرنے پڑے لیکن کبھی شکوہ نہیں کیا۔ اسی طرح ان کی دو پوتیاں بھی وفات پا گئیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں اور پسماندگان میں میاں کے علاوہ دو بیٹیاں اور چھ بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا ان کے بیٹے اصغر علی بھٹی نائیجر میں مشنری ہیں اور یہ اپنے تبلیغ کے میدان میں مصروفیت کی وجہ سے جنازے میں شامل نہیں ہوسکے تھے۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد کے لئے تمام دعاؤں کو قبول فرمائے۔ ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 21؍ جولائی 2017ء شہ سرخیاں

    جلسہ کے پروگراموں تقریروں وغیرہ کے ذریعہ جہاں احمدی روحانیت میں ترقی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سیکھنے کے لئے آتے ہیں وہاں غیر از جماعت مہمان اور پریس علمی اور اعتقادی لحاظ سے ہماری تعلیم کو سننے کے ساتھ ساتھ عمومی طور پر جلسہ کے ماحول اور احمدی عورتوں مردوں کی رضاکارانہ خدمت اور مہمان نوازی کے جذبے سے انہیں کام کرتا ہوا دیکھ کر اسلام کی خوبصورت تعلیم کا عملی مشاہدہ بھی کر لیتے ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ بہت بڑا تبلیغ کا ذریعہ ہے۔ پس رضاکار کارکنان کا ایک بہت بڑا کردار ہے اور کارکنان جہاں اور جس پوزیشن میں بھی کام کر رہے ہیں ان کی ایک اپنی اہمیت ہے اور اس اہمیت کو ایک عام معاون کارکن سے لے کر افسر تک ہر ایک کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔

    ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ مہمان نوازی ایک بہت اہم شعبہ ہے اور مہمان نوازی صرف کھانا کھلانا، پانی پلانا یا زیادہ سے زیادہ رہائش کا انتظام کر دینا ہی نہیں ہے بلکہ جلسہ سالانہ کا ہر شعبہ ہی مہمان نوازی ہے چاہے اسے کوئی بھی نام دیا گیا ہو۔ جلسہ پر جو بھی آتا ہے وہ مہمان ہے اور اس کی ضروریات کا خیال اپنے میسّر وسائل کے ساتھ رکھنا ہر اس شخص کا جو جلسہ سالانہ کی کسی بھی ڈیوٹی پہ متعین ہے ضروری ہے۔

    مہمان نوازی کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کے لئے ہر شعبہ کے افسران اپنی حالت کا جائزہ لیتے رہیں اور عاجزی اور انکساری کو انتہا تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ جو لوگ اپنے سونے وغیرہ کا انتظام کر کے آتے ہیں، بعض لوگ اپنے ٹینٹ بھی لے آتے ہیں انہیں اس بات کو سامنے رکھنا چاہئے کہ رات کے لئے بستروں کا باقاعدہ اچھا انتظام ہو۔

    جلسہ سالانہ پر شامل ہونے والا ہر شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مہمان ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مہمان ہونے کی وجہ سے ہم نے ہر مہمان کو خاص مہمان سمجھنا ہے اور اس کی مہمان نوازی میں بھرپور کوشش کرنی ہے۔

    ہر شعبہ کے افسر کو بھی چاہئے کہ اپنے شعبہ سے متعلقہ کمیوں کو دیکھنے کے لئے کچھ لوگوں کی ڈیوٹی لگا دیں جو اپنے شعبے کے کاموں کی کمی بیشی کا جائزہ لے کر شام کو اپنے افسر کو رپورٹ دیں۔ اس سے جلسہ کے دوران بھی اور آئندہ سال کے جلسہ میں بھی بہتری پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

    جلسہ سالانہ پر تشریف لانے والے مہمانوں کی خدمت کے سلسلہ میں احادیث نبویہ اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے ارشادات کی روشنی میں کارکنان اور رضاکاران کو نہایت اہم تاکیدی نصائح۔

    مکرم سید محمد احمد صاحب ابن حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب رضی اللہ عنہ اور مکرمہ محمودہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم چوہدری محمد صدیق بھٹی صاحب کی وفات۔ مرحومین کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 21؍جولائی 2017ء بمطابق21؍وفا 1396 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور