شرائط بیعت کی صحیح پابندی

خطبہ جمعہ 11؍ اگست 2017ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

ہر احمدی جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں شامل کرتا ہے وہ روحانی اخلاقی علمی اعتقادی بہتری کے لئے ایک عہد کرتا ہے اور اس دور میں جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایم ٹی اے کی نعمت سے نوازا ہوا ہے اور جماعتی پروگرام جلسے، خطبات اور سب سے بڑھ کر بیعت کے حوالے سے عالمی بیعت میں تو ایم ٹی اے اور انٹرنیٹ کے ذریعہ لاکھوں احمدی شامل ہوتے ہیں اس لئے ہر وہ احمدی جو پیدائشی احمدی ہے یا خود بیعت کر کے احمدیت میں شامل ہوا ہے یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہمیں تو بیعت کے عہد کا پتا نہیں ہے۔

پس اگر ضرورت ہے تو اس چیز کی کہ ہم بیعت کرنے کے بعد اس کی تفصیلات جاننے کی کوشش کریں اور بیعت کے عہد کو سامنے رکھیں۔ اگر ہم بیعت کی شرائط میں بیان کردہ اخلاقی بہتری کی شرائط کو ہی سامنے رکھیں تو ہمارے اخلاقی معیار، معاشرتی تعلقات، کاروباری معاملات اور روزمرّہ کے لین دین کے معاملات، گھریلو اور عائلی معاملات، ان سب میں ایک غیر معمولی بہتری اور بلندی پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو ان معیاروں سے بھی بہت دُور ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہم میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس تعلق سے اپنی شرائط میں جن باتوں کی طرف آپ نے توجہ دلائی ہے ان میں سے چند ایک یہ ہیں۔ مثلاً

کہ جھوٹ نہیں بولنا، ظلم نہیں کرنا، خیانت سے بچنا ہے۔ نفسانی جوشوں سے مغلوب نہیں ہونا۔ عام دنیا کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں کی وجہ سے ہاتھ یا زبان سے تکلیف نہیں دینی۔ تکبر نہیں کرنا۔ عاجزی اختیار کرنی ہے۔ ہمیشہ خوش خلقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زندگی بسر کرنی ہے۔ عموماً بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرنی ہے۔ (ماخوذ از ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 563-564)

ہم اگر ان باتوں پر توجہ دیں تو جیسا کہ مَیں نے کہا ہم نہ صرف اخلاق کے اعلیٰ معیار حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ان کی بلندیوں کو چھو سکتے ہیں۔ اپنے اخلاق کے معیار بڑھا سکتے ہیں، اپنے اندر اعلیٰ اخلاق پیدا کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم جائزہ لیں تو ہمارے اندر بھی ایک قابل فکر تعداد ایسی ہے جو باوجود بیعت کے عہد کے ان باتوں پر عمل نہیں کرتی۔ جب تک ہم ذاتی طور پر ایسی صورتحال سے نہیں گزرتے جہاں ہمیں اپنے حقوق قربان کر کے یا اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر اپنے اعلیٰ اخلاق کو اختیار کرنا ہو، ہم بڑے زور و شور سے یہ کہتے ہیں کہ یقیناً ان اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ ہمیں کرنا چاہئے اور جو یہ نہیں کرتا وہ بڑا ظلم کرتا ہے۔ لیکن جب ہم براہ راست متأثر ہو رہے ہوں تو ہم میں سے اکثریت ان اخلاق کو بھول جاتی ہے۔ اگر ضرورت پڑتی ہے تو اپنی بات کو اس طرح توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں کہ اس میں سچائی نہیں رہتی بلکہ وہ جھوٹ کے قریب پہنچ جاتی ہے۔ اپنے حق کے حاصل کرنے کے لئے بعض دفعہ ظلم بھی کر جاتے ہیں۔ بعض لوگ بعض دفعہ خیانت کے مرتکب ہو جاتے ہیں اور جھوٹی گواہیاں اپنے آپ کو خیانت سے بچانے کے لئے پیش کر دیتے ہیں۔ اگر ہاتھ سے نہیں تو زبان سے تو اکثر اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لئے دوسروں کو تکلیف دے دیتے ہیں۔ عاجزی دکھانے کی بجائے اَنا غالب آ جاتی ہے اور بسا اوقات تکبر کا کم یا زیادہ اظہار بھی ہو جاتا ہے۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ قضا کے بعض معاملات جب میرے سامنے آتے ہیں تو جھوٹ اور سچ کو ثابت کرنے کی بجائے، حق لینے کی بجائے، ہٹ دھرمی اور ضد کا ایسا اظہار ہوتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ کاروباروں میں سچائی پر بنیاد کی بجائے ذاتی مفادات حاصل کرنے کی طرف زیادہ توجہ رہتی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ فریقین نے جو وکیل کئے ہوتے ہیں وہ اپنی پیشہ وارانہ مہارت دکھانے کے لئے اور اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش میں ایسی غلط بیانیاں کرتے ہیں جو جھوٹ ہوتا ہے۔ چاہے وہ لین دین کے معاملات ہوں یا میاں بیوی کے جھگڑے کے یا کسی بھی قسم کے معاملات ہوں وکیلوں کی وجہ سے طُول پکڑ جاتے ہیں۔ پس احمدی وکیلوں کو بھی چاہئے اور فریقین کو بھی کہ وہ اپنے عہد بیعت اور اللہ تعالیٰ کے خوف کو اپنے مفادات پر ترجیح دیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ جھگڑے ہوتے ہی اس وقت ہیں جب صحیح طور پر یا غلط، جائز یا ناجائز شکوے اور شکایتیں پیدا ہونی شروع ہوتی ہیں، بدظنیاں پیدا ہونی شروع ہوتی ہیں، ایسے وقت میں ایک مومن کا کام ہے کہ جھگڑوں کو طُول دینے کی بجائے، اپنی ضدوں پر اَڑنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنے اندر نرمی پیدا کر کے جماعتی نظام یا قضا میں اپنے معاملات لائیں اور کوشش یہ ہو کہ ہم آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ہم نے ان غلط فہمیوں یا جائز ناجائز شکایتوں کو دُور کر کے آپس میں پیار اور محبت سے زندگی گزارنی ہے۔ لیکن اگر جس کے ذمہ حق بنتا ہے اور جس کا حق بنتا ہے دونوں ضدّی طبیعت کے مالک ہوں تو پھر چاہے جماعتی نظام ہے یا قضا ہے یا ملکی عدالت بھی ہے یہ سب جیسے بھی انصاف پر مبنی فیصلہ کریں کبھی بھی معاملہ انجام کو نہیں پہنچتا۔ ایک عدالت کے بعد دوسری عدالت میں اپیلیں ہوتی رہتی ہیں اور پھر اگر قضا میں آئے ہوئے فریق کا پانچ رکنی قضا کا بورڈ بھی فیصلہ کر دے تو پھر بھی جس کے ذمہ حق بنتا ہے بعض دفعہ وہ حق مار جاتا ہے اور حق نہیں دیتا یا فیصلہ تسلیم نہیں کرتا ہے یا پھر مجھے لکھ دیتے ہیں کہ ہم پر بڑا ظلم ہوا ہے آپ خود اس معاملے کو دیکھیں۔ اور یہ شکوے کبھی ختم نہیں ہوتے۔ اور حقیقت میں جیسا کہ مَیں نے کہا کہ یہ اظہار اَنا اور ضد کی وجہ سے ہوتا ہے۔

پس اگر جھگڑوں کو ہم نے احسن رنگ میں نپٹانا ہے تو ضدوں کو چھوڑنے کی ضرورت ہے بلکہ بعض اوقات جھگڑوں کو ختم کرنے کے لئے حق اگر بنتا بھی ہے تو اس حق کے لینے میں دوسرے فریق کو سہولت دینے کی ضرورت ہوتی ہے اور بعض دفعہ کچھ حد تک حق چھوڑنا بھی پڑ جاتا ہے۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ ہمیں کیا تعلیم دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاِنْ کَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیْسَرَۃٍ وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(البقرۃ281: )  اور اگر کوئی تنگ حال ہو کر آئے تو آسائش ہونے تک اسے مہلت دینی چاہئے اور اگر تم اپنے قرض معاف کر دو، خیرات کر دو تو یہ بہت اچھا ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔ تمہیں پتا ہونا چاہئے کہ تم پر بھی ایسے حالات آ سکتے ہیں جب مجبوریاں ہوں۔ اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمارے بہت سے معاملات میں چھوٹ دیتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ جو تمام طاقتوں کا مالک ہے ہمیں ہمارے معاملات میں پکڑنے لگ جائے تو ہمارا کوئی ٹھکانہ نہ رہے۔ پس ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کے معاملات میں نرمی اور سہولت کا سلوک کریں۔ یہ ایک اصولی ہدایت ہے روزمرہ کے معاملات میں بھی، کاروباروں کے معاملات میں بھی، قرضوں کے لین دین کے معاملات میں بھی یہ چیزیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہئیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مومنوں کو بار بار توجہ دلائی ہے کہ تم دنیا میں رحم اور نرمی سے کام لو تو آسمان پر خدا تعالیٰ بھی تم سے رحم کا سلوک کرے گا۔ (سنن ابو داؤد کتاب الأدب باب فی الرحمۃ حدیث 4941)

ورنہ ہمیں ہر وقت یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارا بھی ایک دن حساب ہو گا۔ اگر اللہ تعالیٰ صرف حق پر فیصلہ کرنے لگے تو بخشش بڑی مشکل ہو جائے۔ پس اللہ تعالیٰ کے رحم اور بخشش کو جذب کرنے کے لئے ہمیں دنیا میں اپنے معاملات میں نرمی اور رحم کا سلوک ایک دوسرے سے کرنا چاہئے نہ کہ صرف سختی اور پکڑ اور صرف اپنے حق کی فکر ہو۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قرض وصول کرنے والوں کو قرض دینے والے سے نرمی کا سلوک کرنے پر ثواب کی خوشخبری دی ہے۔ چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی سے قرض کی رقم لینی ہو اور وہ اس کو مقررہ میعاد گزرنے کے بعد مہلت دیتا ہے تو ہر وہ دن جو مہلت کا گزرتا ہے وہ اس کے لئے صدقہ ہو گا۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الصدقات باب انظار المعسر حدیث 2418)۔

اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ فرمایا کہ صدقہ و خیرات تمہاری بلاؤں اور مشکلات کو اور مصیبتوں کو دُور کرتے ہیں۔ (کنز العمال جلد 6صفحہ 148 حدیث 15978مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 2004ء)

پس کیا ہی اعلیٰ سودا ہے کہ اپنے بھائی کو سہولت دینا ثواب کا مستحق بھی بنا رہا ہے اور بہت سی بلاؤں اور مشکلوں سے بھی ہمیں بچا رہا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ تھوڑی سی بھی نیکی کو اجر کے بغیر نہیں چھوڑتا۔ اگر ہم قرآن کریم کی اس سنہری ہدایت کو یاد رکھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو سامنے رکھیں تو ایک پُر امن معاشرے کا قیام عمل میں آئے۔ بے چینیاں پھر نہ پھیلیں۔ کبھی رنجشیں لمبی نہ چلتی چلی جائیں۔ فیصلوں پر عمل درآمد کرانے والے اداروں کا بھی حرج نہ ہو۔ وہ ان جھگڑوں کو نپٹانے کی بجائے کسی تعمیری کام کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔ قضا کا بھی حرج نہ ہو گو قضا اسی مقصد کے لئے بنائی گئی ہے کہ فیصلے ہوں لیکن اگر فیصلوں کو ماننے میں دونوں فریق نرمی کا رویّہ رکھیں تو بلا وجہ کا حرج نہ ہو۔ اور بعض دفعہ ایک ہی معاملے کے لمبا چلنے کی وجہ سے بعض دوسرے معاملات متاثر ہوتے ہیں وہ متاثر نہ ہوں اور خود فریقین کو جو قضا میں آنے یا عدالتوں میں جانے اور وکیل کرنے کے اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں ان سے بھی بچت ہو جائے۔ بعض دفعہ تو ایسے ضدی ہوتے ہیں کہ وہ اپنا نقصان برداشت کر لیتے ہیں لیکن یہی چاہتے ہیں کہ فیصلہ ہمارے حق میں ہو اور اس کے لئے جہاں تک جایا جا سکتا ہے جایاجائے۔ اور پھر جیساکہ مَیں نے کہا کہ بعض لوگ، بعض فریق مجھے بھی لکھتے ہیں کہ اب آپ اس معاملے کو دیکھیں۔ سو اگر ضدّیں نہ ہوں، اَنائیں نہ ہوں تو پھر میرا وقت بھی ان فضولیات میں ضائع ہونے سے بچ جائے۔ میں بعض دفعہ معاملات دیکھنے کے بعد جب فریقین کو جواب دیتا ہوں لیکن اگر ان کی مرضی کا جواب نہیں ہوتا تو پھر بھی وہ اپنی بات پر، ضد پر قائم رہتے ہیں، اڑے رہتے ہیں کہ نہیں ہم ہی ٹھیک ہیں اور یہی ضد ہوتی ہے کہ فیصلہ بھی ہمارے حق میں ہو اور سہولت بھی ہم نے دوسرے فریق کو کوئی نہیں دینی۔ میرے واضح طور پر لکھنے کے باوجود بعض دفعہ نہایت ڈھٹائی سے تیسرے چوتھے مہینے خط لکھ جاتے ہیں کہ ہم نے اپنے معاملے کے بارے میں لکھا تھا اور ہم حق پر ہیں اس دفعہ فیصلہ کو دوبارہ دیکھا جائے اور ہمیں ہمارا حق دلوایا جائے۔

مَیں یہ نہیں کہتا کہ قضا کے فیصلے سو فیصد درست ہوتے ہیں لیکن اَسّی پچاسی فیصد بہرحال درست ہوتے ہیں اور جو شواہد اور ثبوت پیش کئے جاتے ہیں ان کی روشنی میں وہ صحیح ہوتے ہیں۔ اگر غلط بھی ہوتے ہیں تو نیّت پر شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ اپنی طرف سے نیک نیتی سے یہ لوگ فیصلے کرتے ہیں۔ پس اگر ایک فریق کے خیال میں اس کا حق بنتا ہے لیکن فیصلہ اس کے خلاف ہو جاتا ہے تو اس پر قضا پر یا قاضی پر الزام نہیں لگانا چاہئے۔ بعض لوگوں کو یہ الزام لگانے کی عادت بھی پڑ جاتی ہے۔ انہوں نے حقائق کے مطابق ہی فیصلہ کیا ہوتا ہے۔ اگر کسی فیصلہ میں کوئی ابہام ہو یا دوسرےفریق کے خیال میں اس فیصلہ میں ابہام ہے تو اس فریق کی درخواست پر بعض دفعہ مَیں بھی فائل منگوا کر دیکھ لیتا ہوں۔ لیکن جیسا کہ مَیں نے کہا کہ اکثر فیصلے صحیح ہوتے ہیں اور صرف بدظنیوں کی وجہ سے شکوک و شبہات دل میں پیدا کئے جاتے ہیں۔ پس بدظنیوں سے بچنا چاہئے۔ بدظنی پھر ایک اور برائی کا راستہ کھول دیتی ہے۔

قضا کے معاملات براہ راست لین دین کے ہوں، کاروباری ہوں یا عائلی ہوں، ہر معاملے میں وہ براہ راست یا بالواسطہ مالی لین دین کا معاملہ بن جاتا ہے۔ کہیں حق مہر کی ادائیگی ہے۔ کہیں سامان کی ادائیگی ہے میاں بیوی کے جھگڑوں میں اور لین دین کے معاملوں میں تو اکثر دفعہ مالی معاملات ہی ہوتے ہیں۔ تو بہرحال مالی معاملات ہر جھگڑے میں کسی نہ کسی ذریعہ سے involve ہو جاتے ہیں اور سہولت دینے والا جو اصول ہے کہ سہولت دی جائے یہ ہر جگہ کچھ نہ کچھ حد تک ضرور چلتا ہے۔ عائلی معاملات میں بھی نقد رقم کا مطالبہ، لین دین کے معاملات میں بھی اکثر رقم کا مطالبہ ہوتا ہے۔ عائلی معاملات میں مثلاً جیسا کہ میں نے کہا حق مہر کی ادائیگی ہے۔ یہ بھی یقیناً ایک قرض ہے جو خاوند کے ذمہ ہے۔ لیکن بسا اوقات لڑکی والے لڑکے کی حیثیت سے زیادہ حق مہر بھی رکھوا لیتے ہیں۔ ایک طرف تو لڑکا پابند ہے کہ قرض کو ادا کرے۔ حق مہر ایک قرض ہے۔ دوسری طرف لڑکی والے بھی زیادتی کر جاتے ہیں کہ حق مہر زیادہ رکھوا لیتے ہیں تا کہ کسی طرح لڑکے کو باندھ لیا جائے جو لڑکے کے لئے ادا کرنا مشکل ہوتا ہے اور صرف مشکل نہیں ہوتا بلکہ دوسرا فریق اس کو ادا کرنے کی توفیق ہی نہیں رکھتا۔ اگر قضا لڑکے کے حالات کو دیکھ کر حق مہر کم کر دے تو اس پر بھی فریق ثانی کو اعتراض شروع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح براہ راست قرض کے لین دین کے معاملات ہیں۔ ان میں اگر قضا حالات دیکھ کر قسطیں مقرر کر دے تو اس پر بھی دوسرے فریق کو اعتراض ہو جاتا ہے۔

ہم احمدی ایک پُر امن معاشرے کے بارے میں جب دنیا کو کہتے ہیں تو ہمیں بھی اپنے ہر معاملے میں معاشرے میں امن قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ صحابہ آپس کے معاملات میں کیسے رویّے رکھتے تھے اس کی ایک جھلک ایک واقعہ سے ملتی ہے۔

حضرت ابو قتادۃ کے بارے میں آتا ہے کہ ایک مسلمان کے ذمّہ ان کا کچھ قرض تھا۔ جب بھی یہ اس کے پاس قرض کا تقاضا کرنے جاتے تو وہ چھپ جایا کرتا تھا۔ ایک دن یہ گئے تو اس کے بیٹے سے پتا چلا کہ وہ گھر میں ہی ہے۔ انہوں نے باہر سے آواز دی اور کہا کہ مجھے پتا چل گیا ہے کہ تم گھر میں ہی ہو۔ اس لئے اب چھپنا بے فائدہ ہے۔ باہر آؤ اور مجھ سے بات کرو۔ جب وہ شخص باہر آیا تو انہوں نے اس سے چھپنے کی وجہ معلوم کی تو اس نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ میں آجکل بہت زیادہ تنگ دست ہوں۔ میرے مالی حالات بڑے بُرے ہیں۔ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ عیالدار ہوں۔ بچے بہت ہیں۔ ان کے بھی اخراجات پورے کرنے ہیں۔ اس پر ابوقتادۃ نے کہا کہ واقعی ایسا ہے جیسا تم کہہ رہے ہو؟ تو اس نے کہا کہ خدا کی قسم میرا یہی حال ہے۔ اس پر انہوں نے اس کا سارا قرض معاف کر دیا۔ (صحیح مسلم کتاب المساقاۃ باب فضل انظارالمعسر حدیث 4000)

تو یہ ہے وہ رویّہ جو مومنوں میں ایک دوسرے کے لئے نرم رویّے اور محبت اور پیار پھیلانے والا ہے جس سے امن کی فضا قائم ہوتی ہے۔ لیکن اس میں قرض دینے والے کی حالت کا بھی بیان ہے۔ وہ ضدی اور رقم ہضم کرنے والا نہیں تھا بلکہ اسے احساس اور شرمندگی ہے کہ قرض ادا نہیں کر سکتا اس لئے چھپتا پھرتا تھا۔ لیکن یہ نہیں کہا کہ دینا نہیں ہے۔ جبکہ آجکل ایسے معاملات بھی سامنے آ جاتے ہیں جو اس سے بالکل الٹ رخ کے ہیں کہ قرض لے لیتے ہیں اور پھر یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم نے نہیں لیا تھا۔ پس امن کا معاشرہ دونوں فریقین کے رویّے سے قائم ہوتا ہے۔ قرض دینے والے یا جس کا حق بنتا ہے اس کی طرف سے سہولت دینے سے اور قرض ادا کرنے والے یا جس کے ذمہ حق کی ادائیگی ہے اس کی طرف سے احساس ذمہ داری اور ادائیگی کے احساس کی وجہ سے اور فکر کی وجہ سے۔

پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں آ کر ہمیں بھی اس طرح کے احساسات پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ قضا چاہے سہولت دے یا نہ دے یا قضا کسی کو ادائیگی کے لئے پابند کرے یا نہ کرے حق لینے والے کو اپنے نرم جذبات کا اظہار کرنا چاہئے اور حق دینے والے کو ادائیگی کی ذمہ داری کا احساس کر کے پھر اس ادائیگی کے لئے بھرپور کوشش کرنی چاہئے۔

حق ادا نہ کرنا اور پھر ڈھٹائی دکھانا اس کا ایک واقعہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ایک شخص کے مکان کا مقدمہ تھا۔ قادیان میں کرایہ دار اس کا مکان خالی نہیں کر رہے تھے۔ وہ شخص جس کا مکان تھا وہ قادیان میں نہیں رہتا تھا بلکہ فوج میں ملازمت کرتا تھا اور سال میں چند دن کے لئے قادیان آیا کرتا تھا۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ میں نے اسے کہا کہ تم فوج میں ملازم ہو۔ تم قادیان صرف سال میں پندرہ بیس دن کے لئے آتے ہو۔ اتنا عرصہ تم مہمان خانے میں بھی رہ سکتے ہو۔ لنگر خانے میں، دارالضیافت میں رہ سکتے ہو یا اپنے کسی دوست کے پاس بھی ٹھہر سکتے ہو۔ اس وقت یہاں مکانوں کی کمی ہے اگر تم نے کرایہ دار کو صرف اپنے چند روز قیام کے لئے نکالا تو اسے بڑی تکلیف ہو گی۔ پھر آپ نے اسے مثال دی کہ دیکھو صحابہ نے تو باہر سے آنے والوں کو اپنی جائیدادیں بھی دے دیں لیکن تم دس پندرہ دن کے قیام کے لئے ساڑھے گیارہ مہینے رہنے والے کو گھر سے نکالنا چاہتے ہو۔ آپ فرماتے ہیں کہ میری اس بات کا اس پر بڑا اثر ہوا۔ کہنے لگا کہ حضور آپ صحیح فرماتے ہیں اسے تنگ کرنا میری غلطی ہے لیکن آپ اس کرایہ دار سے بھی تو پوچھیں کہ اس نے گزشتہ آٹھ نو ماہ سے میرا کرایہ نہیں دیا جس کی وجہ سے میں نے سوچا ہے کہ اس سے گھر خالی کروا لوں۔ حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ اس پر مَیں نے اس مالک مکان سے کہا کہ یہ معقول وجہ ہے اور تمہارا کوئی قصور نہیں ہے۔ اسی کا ہے جو اپنا مقدمہ پیش کر رہا ہے اور یہ بھی نہیں بتا رہا کہ میں نے اتنے مہینے سے کرایہ بھی نہیں دیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس وقت میری عجیب حالت تھی کہ مَیں نے جو مالک مکان تھا اس کے دل کو نرم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس نے ایک ایسی بات کر دی جس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اگر دوسرے فریق نے کرایہ ادا کیا ہوتا تو فرماتے ہیں کہ میں نے میدان مار لیا تھا۔ پھر میں جو فیصلہ کرنا چاہتا تھا وہ ہو جاتا لیکن اس نے تو کرایہ بھی ادا نہیں کیا تھا اور پھر قبضہ بھی جمائے رکھنا چاہتا تھا۔ آپ فرماتے ہیں کہ میری حالت اس وقت ویسی ہی ہو گئی جیسے کہتے ہیں کہ ایک پٹھان تھا اس نے کہیں سے سن لیا کہ اگر کسی کو کلمہ پڑھایا جائے تو انسان جنت میں چلا جاتا ہے۔ اس نے ایک ہندو کو پکڑ لیا کہ کلمہ پڑھو۔ ہندو نے کہا کہ میں ہندو ہوں۔ مجھے کلمہ سے کیا غرض ہے۔ اس نے کہا نہیں پڑھو اور تلوار نکال لی کہ ورنہ مَیں تمہیں قتل کردوں گا۔ آخر ہندو نے کہا اچھا پڑھاؤ مجھے کلمہ۔ پٹھان کہنے لگا تم خود پڑھو۔ میں نے نہیں پڑھانا۔ ہندو کہنے لگا میں کس طرح پڑھ سکتا ہوں مجھے کیا پتا کلمہ کیا چیز ہے۔ تم مسلمان ہو تم مجھے پڑھاؤ تمہیں آتا ہو گا۔ پٹھان کہنے لگا مجھے تو نہیں آتا۔ آج قسمت خراب ہے ورنہ آج میں نے تمہیں کلمہ پڑھا کے جنت میں چلے جانا تھا۔ آپ فرماتے ہیں کہ اسی طرح میں نے نصیحت کر کے مالک مکان کا دل نرم کیا۔ جب دل نرم ہو گیا تو اس نے ایسی بات کی کہ میرا کلمہ وہیں کا وہیں رہ گیا۔ اگر دوسرے فریق نے کرایہ ادا کیا ہوتا، حق نہ مارا ہوتا تو میں مالک کو کلمہ پڑھا لیتا۔ (ماخوذ از مسلمانوں نے اپنے غلبہ کے زمانہ میں اخلاق کا اعلیٰ نمونہ دکھایا، انوار العلوم جلد 18 صفحہ 220-221)

پس مومنوں کو ایک دوسرے کا حق ادا کرنے میں چستی دکھانی چاہئے۔ اور یہ صرف ایک واقعہ نہیں اکثر واقعات ہیں۔ اس لئے جب معاملات قضا میں بھی آتے ہیں یا خلیفۂ وقت کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں تو ساری بات سچائی پر مبنی ہونی چاہئے بجائے اس کے کہ اپنی بات کرکے بعد میں خلیفۂ وقت کو شرمندہ ہونا پڑے۔ اس کو شرمندگی سے بھی بچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

آج جیسا کہ مَیں نے کہا بہت سے معاملات ایسے بھی ہیں کہ حق لینے والے کے رویّے کو ہم نرم کر بھی لیں تو حق دینے والے کا رویّہ معاملہ آگے نہیں بڑھنے دیتا اور پھر یہ بھی شکوہ ہوتا ہے کہ ہمارے ساتھ نرمی نہیں کی گئی۔

اس حوالے سے کہ حسین معاشرے کے قیام کے لئے کیسی باتیں ہونی چاہئیں؟ کس قسم کا حسین معاشرہ ہونا چاہئے؟ مسلمانوں میں دونوں طرف جو فریقین ہیں ان کو کس طرح اپنے حق ادا کرنے چاہئیں؟ اس سلسلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ارشادات پیش کرتا ہوں۔ آپؐ ایک موقع پر آپس کے معاملات میں نرمی پیدا کرنے والے کو دعا دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ آسانی پیدا کرنے والے آدمی پر رحم فرمائے جب وہ خرید و فروخت کرتا ہے اور جب وہ قرضے کی واپسی کا تقاضا کرتا ہے۔ (صحیح البخاری کتاب البیوع باب السہولۃ والسماحۃ فی الشراء والبیع … الخ حدیث 2076)

پھر آپ نے آسانیاں پیدا کرنے والوں کو خوشخبری دیتے ہوئے اور دوسروں کو اس کی ترغیب دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو جنت میں داخل کیا جو خریدتے وقت اور بیچتے وقت اور قرض دیتے وقت اور قرض کا تقاضا کرتے وقت آسانی پیدا کرتا تھا۔ اس بات پہ ہی اس کو جنت میں داخل کیا۔ (صحیح البخاری کتاب احادیث الانبیاء باب ما ذکر عن بنی اسرائیل حدیث 3451)

پھر ایک روایت میں آتا ہے آپؐ نے فرمایا کہ جس شخص نے تنگ دست مقروض کو قرضہ کی ادائیگی میں مہلت دی یا معاف کر دیا تو قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے عرش کے نیچے سایہ عطا فرمائے گا۔ (سنن الترمذی ابواب البیوع باب ما جاء فی انظار المعسر والرفق بہ حدیث 1306)

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بخشش کے سلوک کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا۔ اگر وہ کسی تنگ دست شخص کو دیکھتا تو اپنے ملازموں کو کہتا کہ اس سے صرفِ نظر کرو۔ شاید اللہ تعالیٰ ہم سے بھی صَرف نظر فرمائے۔ آپ فرماتے ہیں کہ چنانچہ اس کے اس عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس سے صَرفِ نظر فرمایا۔ (صحیح البخاری کتاب البیوع باب من انظر معسرا حدیث 2078)

پس جن کو توفیق ہو ان کو چاہئے کہ جس حد تک ممکن ہو سہولت مہیا کریں بجائے اس کے کہ لڑائی جھگڑوں اور عدالتوں میں فضول وقت ضائع کریں اور رقم خرچ کریں۔ لیکن اسلام صرف یہی نہیں کہتا کہ قرض دینے والے اور حق لینے والے یہ سہولتیں دیں۔ اسلام ایک ایسا معاشرہ قائم کرتا ہے اور ہر ایک فریق کو اس کے فرائض کی طرف توجہ دلاتا ہے جس سے دلوں کی نفرتیں دور ہوں اور امن بھی قائم ہو۔ اس لئے جس کے ذمہ حق کی ادائیگی ہے انہیں بھی بڑی تلقین کرتا ہے۔ اب حضرت مصلح موعودنے جو مثال دی اور بہت سی مثالیں سامنے آ جاتی ہیں کہ لوگ بغیر کسی مجبوری کے حق کی ادائیگی میں لیت و لعل سے کام لیتے ہیں اور ایسے لوگوں کا کبھی نظام ساتھ نہیں دیتا اور نہ دے سکتا ہے۔ اگر ایسے لوگوں کا ساتھ دینے لگ جائیں تو پھر حقوق غصب کرنے والوں کو کھلی چھٹی مل جائے گی اور امن کے بجائے معاشرے میں فتنہ و فساد برپا ہو جائے گا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شرائط بیعت میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ فساد سے بچنے کی کوشش کروں گا۔ (ماخوذ از ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 564)

چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں بھی ہمیں ہدایت سے نوازا ہے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دولت مند کا قرض ادا نہ کرنے میں ٹال مٹول کرناظلم ہے۔ اگر تم میں سے کسی کو ٹال مٹول کرنے والے کا پیچھا کرنے کو کہا جائے تو چاہئے کہ اس ٹال مٹول کرنے والے کا پیچھا کرے یعنی پھر مجبور کر کے اس سے دوسروں کا حق دلوایا جائے قرض ادا کروایا جائے۔ (صحیح البخاری کتاب الحوالات باب الحوالۃ وھل یرجع فی الحوالۃ؟ حدیث 2287)

یہاں کوئی نرمی نہیں۔ کسی سہولت کی ضرورت نہیں کیونکہ اس دوسرے فریق کو توفیق ہے۔ بلکہ جیسا کہ مَیں نے کہا اگر یہ نہیں کریں گے تواس سے تو غاصبوں کو اور حق مارنے والوں کو جرأت پیدا ہوتی چلی جائے گی۔

پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ فرمایا کہ قرض ادا کرنے والے کا ٹال مٹول کرنا اس کی آبرو اور اس کی سزا کو حلال قرار دیتا ہے۔ (سنن ابو داؤد کتاب الاقضیۃ باب فی الدین ھل یحبس بہ حدیث 3628)

پس نظام جماعت کا فرض ہے کہ ایسے حقوق غصب کرنے والوں کو اگر وہ تعاون نہیں کرتے تو سزا دے۔ پس جب قضا کے فیصلوں کے مطابق تعمیل نہ کرنے والوں اور حق مارنے والوں کو سزا ملتی ہے تو پھر انہیں شور نہیں مچانا چاہئے کہ ہم سے نرمی کا سلوک نہیں کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کے رسول نے اسے سزا دئیے جانے کا حق نظامِ جماعت کو دیا ہے۔ ملکی قانون بھی ایسے لوگوں کو سزا دیتا ہے۔

پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بڑے انذار کا اور خوف دلانے والا ارشاد ہے جو آپ نے حق ادا نہ کرنے والوں کو فرمایا ہے اگر حق مارنے والے اسے اپنے سامنے رکھیں تو کبھی کسی کا حق مارنے کا نہ سوچیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ جس شخص نے لوگوں سے واپسی کرنے کی نیت سے مال لیا یا قرض لیا اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادائیگی کروا دے گا اور فرمایا کہ جو شخص مال کھانے اور تلف کرنے کی نیت سے لے گا اللہ تعالیٰ اسے تلف کر دے گا۔ (صحیح البخاری کتاب فی الاستقراض واداء الدیون … الخ باب من اخذ اموال الناس یرید اداء ھا أو اتلافھا حدیث 2387)

پس اگر نیت نیک ہو تو اللہ تعالیٰ وسائل اور ذرائع پیدا فرما دیتا ہے یا قرض دینے والے کے دل میں نرمی کے جذبات پیدا کر دیتا ہے۔ لیکن اگر نیت ہی نیک نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ بھی اسے سزا دیتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو عموماً ایسے شخص کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے جس کے ذمہ قرض ہو اور اس کی جائیداد یا موجود رقم اس قرض کی ادائیگی کی کفایت نہ کرتی ہو۔ (صحیح البخاری کتاب الحوالات باب ان احال دین المیت علی رجل جاز حدیث 2289)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قرض سے بچنے کی دعا بھی کیا کرتے تھے بلکہ قرض اور کفر کو آپ نے ملایا ہے۔ چنانچہ ایک روایت ہے۔ صحابی کہتے ہیں کہ مَیں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مَیں کفر اور قرض سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! قرض کا معاملہ کفر کے برابر کیا جائے گا؟ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ (سنن النسائی کتاب الاستعاذۃ باب الاستعاذۃ من الدین حدیث 5475)

اس بارے میں مزید وضاحت حضرت عائشہؓ کی ایک روایت سے بھی ملتی ہے۔ آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں گناہوں اور قرض سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ کسی کہنے والے نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! آپ اللہ تعالیٰ سے قرض کے بارے میں کتنی ہی زیادہ پناہ طلب کرتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص جب مقروض ہو جاتا ہے تو بات کرتے ہوئے جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کر کے خلاف ورزی کرتا ہے۔ (صحیح البخاری کتاب الأذان باب الدعاء قبل السلام حدیث 832)

پس یہ وجہ ہے کہ پناہ مانگنی چاہئے اور براہ راست قرض لینے والے بھی حتی الوسع قرض لینے سے بچیں۔ ان کو بچنا چاہئے اور اگر لے لیا ہے تو پھر ادائیگی کی فکر بھی کرنی چاہئے اور حقوق کی ادائیگی جو قرض کی طرح ہی ہے اس کی ادائیگی کی طرف بھی سنجیدگی سے توجہ دینی چاہئے۔

قضا کے فیصلوں کے بعد اگر حقوق اور قرض معاف کروانے ہوں تو پھر فریق ثانی سے معاف کروانے چاہئیں۔ جس کا حق ادا کرنا ہے وہی اپنا حق معاف کر سکتا ہے یا اس میں سہولت دے سکتا ہے۔ پس افراد جماعت کو اس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔

قرضوں کی ادائیگی کے بارے میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک نسخہ بتایا۔ بہت سارے لوگ قرضوں کے بارے میں لکھتے ہیں تو وہ اس پر عمل کر کے دیکھیں۔ آپ نے فرمایا کہ ایک تو استغفار بہت زیادہ کیا کرو۔ دوسرے یہ کہ فضول خرچی چھوڑ دو۔ اکثر قرضے لوگ اس لئے لیتے ہیں کہ فضول خرچی کر رہے ہوتے ہیں۔ خواہشات بڑھا رہے ہوتے ہیں۔ اور تیسرے آپ نے فرمایا کہ اگر ایک پیسہ بھی ملے تو قرض خواہ کو دے دو۔ (ماخوذ از بدر جلد 11 نمبر 2,3 مورخہ 9 نومبر 1911 صفحہ 3)

تھوڑی تھوڑی رقمیں بھی اگر کہیں سے تمہارے پاس آتی ہیں اور اپنے خرچ کرنے کے بعد جس حد تک تم اس کی ادائیگی کے متحمل ہو سکتے ہو تو وہ ادائیگی کرنے کی طرف توجہ کرو۔ جمع کرتے جاؤ یا ویسے قسطوں میں ادا کرتے جاؤ۔ بہرحال ایک فکر ہونی چاہئے کہ چھوٹی سے چھوٹی رقم بھی اگر آتی ہے، اس کو بچت ہوتی ہے اور اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کے بچت کرنی ہے، تو اس سے قرض کی ادائیگی ہونی چاہئے۔

بعض لوگ شوق میں قرض لے لیتے ہیں یہ فضول خرچی ہے۔ کسی نے مجھے لکھا کہ میرے پاس کار تو ہے لیکن فلاں کار مجھے بڑی پسند ہے اور پیسے نہیں ہیں۔ کیا میں بنک سے قرض لے کر وہ کار خرید سکتا ہوں۔ اگر ایک دفعہ انسان قرض لے لے تو پھر قرضوں میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ پس ان فضول خواہشات سے بچنا چاہئے۔ اسی طرح بہت سارے لوگوں نے کاروبار کرنے شروع کئے۔ کوئی تجربہ نہیں ہے۔ نوجوان ہیں اور کاروبار کے نام پر لوگوں سے رقمیں لے لیں۔ تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے سارا کاروبار ختم ہو گیا۔ خود بھی محتاج ہو گئے اور لوگوں کے پیسے بھی لے ڈوبے۔ تو ایسے لوگوں کو بھی احتیاط کرنی چاہئے اور دینے والوں کو بھی بجائے اس کے کہ بعد میں شکوے پیدا ہوں اور مقدمے کریں۔ پہلے ہی سوچ سمجھ کر کسی کو قرضے دینے چاہئیں۔ اگر کاروبار میں بھی لگانا ہے تو کیونکہ ان کی اپنی بھی رقم ڈوبتی ہے اور جس شخص کو دیا ہوتا ہے وہ بیچارہ بھی، بیچارہ تو نہیں ہوتا بعض دفعہ تو شرارت سے لوگ کر رہے ہوتے ہیں یا نیت ہی نیک نہیں ہوتی اور اس وجہ سے پھر مقدمہ بازی میں پھنس کے ذلیل و رسوا بھی ہوتے ہیں۔ بہرحال ان چیزوں سے ہمیں بچنا چاہئے تا کہ ایک پُرامن معاشرہ ہمارے اندر ہمیشہ قائم رہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگیوں میں ایک حقیقی مومنانہ رنگ پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ایک پُرامن معاشرہ ہم قائم کرنے والے ہوں اور جو اعلیٰ اخلاق ہیں، اخلاق کے اعلیٰ معیار ہیں جن کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہم سے توقع رکھی ہے جن کا قرآن کریم میں بھی ذکر ہے، جن پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی توجہ دلائی ان کو ہم اپنانے والے ہوں۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 11؍ اگست 2017ء شہ سرخیاں

    ہر احمدی جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں شامل کرتا ہے وہ روحانی اخلاقی علمی اعتقادی بہتری کے لئے ایک عہد کرتا ہے اور اس دور میں جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایم ٹی اے کی نعمت سے نوازا ہوا ہے اور جماعتی پروگرام جلسے، خطبات اور سب سے بڑھ کر بیعت کے حوالے سے عالمی بیعت میں تو ایم ٹی اے اور انٹرنیٹ کے ذریعہ لاکھوں احمدی شامل ہوتے ہیں اس لئے ہر وہ احمدی جو پیدائشی احمدی ہے یا خود بیعت کر کے احمدیت میں شامل ہوا ہے یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہمیں تو بیعت کے عہد کا پتا نہیں ہے۔ پس اگر ضرورت ہے تو اس چیز کی کہ ہم بیعت کرنے کے بعد اس کی تفصیلات جاننے کی کوشش کریں اور بیعت کے عہد کو سامنے رکھیں۔ اگر ہم جائزہ لیں تو ہمارے اندر بھی ایک قابل فکر تعداد ایسی ہے جو باوجود بیعت کے عہد کے ان باتوں پر عمل نہیں کرتی۔

    احمدی وکیلوں کو بھی چاہئے اور فریقین کو بھی کہ وہ اپنے عہد بیعت اور اللہ تعالیٰ کے خوف کو اپنے مفادات پر ترجیح دیں۔ ایک مومن کا کام ہے کہ جھگڑوں کو طُول دینے کی بجائے اپنی ضدوں پر اَڑنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنے اندر نرمی پیدا کر کے جماعتی نظام یا قضا میں اپنے معاملات لائیں اور کوشش یہ ہو کہ ہم آپس میں بھائی بھائی ہیں ہم نے ان غلط فہمیوں یا جائز ناجائز شکایتوں کو دُور کر کے آپس میں پیار اور محبت سے زندگی گزارنی ہے۔

    اگر جھگڑوں کو ہم نے احسن رنگ میں نپٹانا ہے تو ضدوں کو چھوڑنے کی ضرورت ہے بلکہ بعض اوقات جھگڑوں کو ختم کرنے کے لئے اگر حق بنتا بھی ہے تو اس حق کے لینے میں دوسرے فریق کو سہولت دینے کی ضرورت ہوتی ہے اور بعض دفعہ کچھ حد تک حق چھوڑنا بھی پڑ جاتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ کے رحم اور بخشش کو جذب کرنے کے لئے ہمیں دنیا میں اپنے معاملات میں ایک دوسرے سے نرمی اور رحم کا سلوک کرنا چاہئے نہ کہ صرف سختی اور پکڑ اور صرف اپنے حق کی فکر ہو۔

    باہمی لین دین اور قرضوں کے حصول اور ادائیگی کے معاملات میں سچائی اور دیانت سے معاملات طے کرنے اور قضا کے فیصلوں کو تسلیم کرنے اور ضدّوں اور اَناؤں کو چھوڑنے کی بابت قرآن مجید اور احادیث نبویہﷺ کے حوالہ سے اسلامی تعلیم کا تذکرہ اور افراد جماعت کو اہم نصائح۔

    فرمودہ مورخہ 11؍اگست 2017ء بمطابق11؍ظہور 1396 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور